Al-Hashr
سورہ حشر
یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۲۴ آیات ہیں۔
سورہ حشر کے مضامین
یہ سُورہ زیادہ تر مسلمانوں اور یہود بنی نضیر کی لڑائی سے متعلق بیانات پر مشتمل ہے اور آخرکار ان کے مدینہ سے اخراج، یعنی ان کے وجود سے اس مقدس سرزمین کے پاک ہو جانے پر ختم ہوتا ہے۔ اس لیے یہ قرآن مجید کے بیدار کرنے والی اور جھنجوڑنے والی اہم سورتوں میں سے ایک ہے اور یہ گزشتہ سورہ کی آخری آیات سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے جن میں حزب اللہ سے کامیابی کا وعدہ کیا گیا ہے اور فی الحقیقت یہ کامیابی کا ایک واضح نمونہ ہے۔ اس سورہ کے مشمولات کو چھ حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلے حصّہ میں صرف ایک آیت ہے جو اِس سورہ کے مختلف مباحث کے لیے دیباچہ کی حیثیت رکھتی ہے، اس میں پروردگار علیم و حکیم کی اس تسبیح کے بارے میں گفتگو ہے جو تمام موجودات بجا لاتے ہیں۔ دوسرے حصّہ میں (آیت ۲ تا ۱۰) کل نو آیتیں ہیں جو مسلمانوں کی مدینہ کے عہد شکن یہودیوں سے لڑائی کے واقعہ کو بیان کرتی ہیں۔ تیسرا حصّہ (آیت ۱۱ تا ۱۷) منافقین کے بارے میں ہے جو اس اقدام میں یہودیوں سے سازباز رکھتے تھے۔ چوتھا حصّہ، جو چند آیتوں سے زیادہ نہیں، تمام مسلمانوں کے لیے پند و نصائح کے ایک سلسلہ پر مشتمل ہے اور درحقیقت مندرجہ بالا واقعہ سے نتیجہ اخذ کرنے کے مترادف ہے۔ پانچویں حصّہ میں صرف ایک آیت ہے۔ اس میں قرآن کی توصیفِ بلیغ ہے اور پاکبازی میں رُوح کی تاثیر کا بیان ہے۔ چھٹے اور آخری حصّہ میں (آیت ۲۲ تا ۲۴) تین آیتیں ہیں۔ اس میں خدا کے اوصافِ جلال و جمال اور اس کے اسمائے حُسنیٰ کے اہم حصّہ کا بیان ہے۔ یہ حصّہ اللہ کی معرفت کے سلسلہ میں انسان کی نہایت عمدہ انداز میں مدد کرتا ہے۔ اس سورہ کا نام اس کی دوسری آیت سے ماخوذ ہے جس میں مدینہ سے یہودیوں کے کوچ کرنے کے لیے جمع ہونے اور مسلمانوں کے اس امر کے لیے جمع ہونے کا ذکر ہے کہ یہودیوں کو مدینہ سے نکالا جائے۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس "حشر" (جمع ہونے) کا قیامت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے اس سورہ کا نام "سورہ بنی نضیر" بتایا ہے کیونکہ اس کا زیادہ حصّہ انہی کے بارے میں ہے۔ بالآخر، یہ سورہ بھی "مُسبِّحات" میں سے ایک ہے، یعنی اُن سورتوں میں سے ایک ہے جو خدا کی تسبیح سے شروع ہوتی ہیں اور یہ ایک حُسنِ اتفاق ہے کہ اس سورہ کا اختتام بھی تسبیحِ الٰہی پر ہوا ہے۔ اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت: اس سورہ کی تلاوت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ منجملہ دیگر فضیلتوں کے، ایک فضیلت کے بارے میں ہمیں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ملتی ہے: "من قرأ سورة الحشر لم یبق جنة ولا نار ولا عرش ولا کرسی ولا حجاب ولا السماوات السبع ولا الأرضون السبع والهوام والریاح والطیر والشجر والدواب والشمس والقمر والملائكة إلا صلّوا علیه واستغفروا له، وإن مات من یومه أو لیلته مات شهیداً۔" "جو شخص سورہ حشر پڑھے تو جنّت و دوزخ، عرش و کرسی، حجاب، ساتوں آسمان، ساتوں زمینیں، حشرات الارض، ہوائیں، پرندے، درخت، چلتے پھرتے جاندار، چاند اور سورج اور ملائکہ سب اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے اور وہ اگر اس دن یا رات میں فوت ہو جائے تو شہید شمار ہو گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۵۵، ۲۵۶ پہلی حدیث کو قرطبی نے بھی اسی سورہ کے آغاز میں تحریر کیا ہے]۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "من قرأ إذا أمسى الرحمن والحشر وكلّ الله بداره ملكاً شاهراً سیفه حتی یصبح۔" "جو شخص سورہ الرحمن اور سورہ حشر غروبِ آفتاب کے وقت پڑھے تو خدا ایک فرشتے کو ننگی تلوار کے ساتھ اس کے گھر کی حفاظت پر مامور کرے گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۵۵، ۲۵۶ پہلی حدیث کو قرطبی نے بھی اسی سورہ کے آغاز میں تحریر کیا ہے]۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تمام آثار اس سورہ کے مضامین میں غور و فکر کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ غور و فکر اس کی قراءت کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے اور انسانی زندگی پر اپنا عکس ڈالتا ہے۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سورہ کی تلاوت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ منجملہ دیگر فضیلتوں کے، ایک فضیلت کے بارے میں ہمیں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ملتی ہے: "من قرأ سورة الحشر لم یبق جنة ولا نار ولا عرش ولا کرسی ولا حجاب ولا السماوات السبع ولا الأرضون السبع والهوام والریاح والطیر والشجر والدواب والشمس والقمر والملائكة إلا صلّوا علیه واستغفروا له، وإن مات من یومه أو لیلته مات شهیداً۔" "جو شخص سورہ حشر پڑھے تو جنّت و دوزخ، عرش و کرسی، حجاب، ساتوں آسمان، ساتوں زمینیں، حشرات الارض، ہوائیں، پرندے، درخت، چلتے پھرتے جاندار، چاند اور سورج اور ملائکہ سب اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے اور وہ اگر اس دن یا رات میں فوت ہو جائے تو شہید شمار ہو گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۵۵، ۲۵۶ پہلی حدیث کو قرطبی نے بھی اسی سورہ کے آغاز میں تحریر کیا ہے]۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "من قرأ إذا أمسى الرحمن والحشر وكلّ الله بداره ملكاً شاهراً سیفه حتی یصبح۔" "جو شخص سورہ الرحمن اور سورہ حشر غروبِ آفتاب کے وقت پڑھے تو خدا ایک فرشتے کو ننگی تلوار کے ساتھ اس کے گھر کی حفاظت پر مامور کرے گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۵۵، ۲۵۶ پہلی حدیث کو قرطبی نے بھی اسی سورہ کے آغاز میں تحریر کیا ہے]۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تمام آثار اس سورہ کے مضامین میں غور و فکر کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ غور و فکر اس کی قراءت کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے اور انسانی زندگی پر اپنا عکس ڈالتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9مفسرین و محدثین و اربابِ تاریخ نے ان آیات کے بارے میں ایک مفصل شانِ نزول بیان کی ہے، جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔ مدینہ میں یہودیوں کے تین قبیلے رہتے تھے: بنی نظیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اصلاً اہلِ حجاز نہ تھے، لیکن چونکہ اپنی مذہبی کتب میں انہوں نے پڑھا تھا کہ ایک پیغمبر مدینہ میں ظہور کرے گا، لہٰذا انہوں نے اس سرزمین کی طرف کوچ کیا اور وہ اس عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتظار میں تھے۔ اس وقت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ عدمِ تعرض کا عہد باندھا، لیکن جب بھی موقع ملا، انہوں نے یہ عہد توڑا۔ دوسری عہد شکنیوں کے علاوہ یہ کہ جنگِ اُحد کے بعد (جنگ اُحد ہجرت کے تیسرے سال واقع ہوئی) کعب ابن اشرف چالیس سواروں کے ساتھ پہنچا۔ وہ اور اس کے ساتھی سب قریش کے پاس گئے اور ان سے عہد کیا کہ سب مل کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ کریں۔ اس کے بعد ابو سفیان چالیس مکّی افراد کے ساتھ اور کعب بن اشرف چالیس یہودیوں کے ساتھ مسجد الحرام میں وارد ہوئے اور انہوں نے خانہ کعبہ کے پاس اپنے عہد و پیمان کو مستحکم کیا۔ یہ خبر بذریعہ وحی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مل گئی۔ دوسرے یہ کہ ایک روز پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چند بزرگ اصحاب کے ساتھ قبیلہ بنی نظیر کے پاس آئے۔ یہ لوگ مدینہ کے قریب رہتے تھے، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کا مقصد یہ تھا کہ بنی عامر کے دو مقتدیوں کی دیت ادا کرنے کے سلسلے میں، جو عمر بن امیہ (ایک صحابی) کے ہاتھوں قتل ہو گئے تھے، ان سے مدد قرض لینا۔ غالباً پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کا مقصدِ حقیقی یہ تھا کہ آپ اس طرح بنی نظیر کے حالات قریب سے دیکھنا چاہتے تھے، اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان غفلت کا شکار ہو کر دشمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود کے قلعہ کے باہر تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کعب بن اشرف سے اس سلسلے میں بات کی، اسی دوران یہودیوں کے درمیان سازش ہونے لگی۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ایسا عمدہ واقعہ اس شخص کے سلسلے میں دوبارہ ہاتھ نہیں آئے گا، اب جب کہ یہ تمہاری دیوار کے پاس بیٹھا ہے، ایک آدمی چھت پر جائے اور ایک بہت بڑا پتھر اس پر پھینک دے اور ہمیں اس سے نجات دلا دے۔ ایک یہودی، جس کا نام عمر بن حجاش تھا، نے آمادگی ظاہر کی وہ چھت پر جائے گا۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذریعہ وحی باخبر ہوئے اور وہاں سے اٹھ کر مدینہ آ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے کوئی بات نہیں کی، ان کا خیال تھا کہ پیغمبر لوٹ کر نہیں جائیں گے۔ انہیں معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ پہنچ گئے، چنانچہ وہ بھی مدینہ پلٹ آئے۔ یہ وہ منزل تھی جہاں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہودیوں کی بدعہدی واضح اور ثابت ہو گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار ہو جانے کا حکم دیا۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ بنی نظیر کے ایک شاعر نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بدگوئی بھی کی۔ ان کی پیمان شکنی کی یہ ایک اور دلیل تھی۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وجہ سے کہ ان پر پہلے سے ایک کاری ضرب لگائیں، محمد بن مسلمہ کو جو کعب بن اشرف سے آشنائی رکھتا تھا، حکم دیا کہ وہ کعب کو قتل کر دے، اس نے کعب کو قتل کر دیا۔ کعب بن اشرف کے قتل ہو جانے سے یہودیوں کو متزلزل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ہر عہدشکن قوم سے جنگ کرنے کے لیے چل پڑے۔ جس وقت وہ اس حال سے باخبر ہوئے تو انہوں نے اپنے مضبوط و مستحکم قلعوں میں پناہ لی اور دروازے بند کر لیے۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ چند کھجوروں کے درخت جو قلعوں کے قریب ہیں، کاٹ دیے جائیں۔ یہ کام غالباً اس مقصد کے پیش نظر ہوا کہ یہودی اپنے مال و اسباب سے بہت محبت رکھتے تھے۔ وہ اس نقصان کی وجہ سے قلعوں میں باہر نکل کر آمنے سامنے جنگ کریں گے۔ مفسرین کی طرف سے یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ کاٹے جانے والے کھجوروں کے یہ درخت مسلمانوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالتے تھے۔ لہٰذا انہیں کاٹ دیا جانا چاہیے تھا۔ بہرحال، اس پر یہودیوں نے فریاد کی۔ انہوں نے کہا: "اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہمیشہ اس قسم کے کاموں سے منع کرتے تھے، یہ کیا سلسلہ ہے"؟ تو اس سورہ کی مندرجہ بالا آیات میں سے پانچویں آیت نازل ہوئی۔ انہیں جواب دیا کہ یہ ایک مخصوص حکمِ الٰہی تھا۔ محاصرہ نے کچھ دن طول کھینچا اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خون ریزی سے پرہیز کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ مدینہ کو خیر باد کہہ دیں اور کہیں دوسری جگہ چلے جائیں۔ انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا، کچھ سامان اپنا لے لیا اور کچھ چھوڑ دیا۔ ایک جماعت "اذرعات" شام کی طرف اور ایک مختصر سی تعداد خیبر کی طرف چلی گئی۔ ایک گروہ حیرہ کی طرف چلا گیا۔ ان کے چھوڑے ہوئے اموال، زمینیں، باغات اور گھر مسلمانوں کے ہاتھ لگے، چلتے وقت جتنا ان سے ہو سکا، انہوں نے اپنے گھر توڑ پھوڑ دیے۔ یہ واقعہ جنگِ اُحد کے چھ ماہ بعد اور ایک گروہ کے نظریے کے مطابق جنگِ بدر کے چھ ماہ بعد ہوا۔ [بحوالہ: مجمع البیان، تفسیر علی بن ابراہیم، تفسیر قرطبی، نور الثقلین اور ذیل آیات زیر بحث (تلخیص کے ساتھ)]۔
تفسیر: یہودِ بنی نظیر کی مدینہ میں سازش کا خاتمہ
یہ سورہ خدا کی تسبیح و تنزیہ اور اس کی عزّت و حکمت کے بیان سے شروع ہوتا ہے۔ خداوندِ عالم فرماتا ہے: "جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، خدا کی تسبیح کرتا ہے اور وہ عزیز و حکیم ہے۔(سَبَّحَ لِلّٰہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاَرْضِ وَ ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)۔ یہ درحقیقت یہود بنی نظیر کی سرگزشت کے بیان کی تمہید ہے۔ یہ لوگ خدا اور اس کی صفات کی معرفت کے سلسلے میں انواع و اقسام کی تحریفوں کا شکار تھے۔ انہیں اپنی قوّت و عزّت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ یہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو گئے۔ زمین و آسمان کے موجودات کی عمومی تسبیح، عام اس سے کہ تسبیح کرنے والے فرشتے ہوں یا انسان، یا حیوانات و جمادات و نباتات، ممکن ہے کہ زبانِ قال کے ساتھ ہو یا پھر زبانِ حال کے ساتھ۔ اس لیے کہ حیران کُن نظام، جو ہر ذرّہ کی تخلیق میں مصروفِ کار ہے، وہ زبانِ حال سے خدا کے علم و قدرت اور اس کی عظمت کو بیان کرتا ہے۔ پھر علماء کی ایک جماعت کے نظریے کے مطابق ہر موجود اپنے وجود میں عقل و ادراک و شعور کا ایک حصّہ رکھتا ہے، اگرچہ ہم اس سے آگاہ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام وجود اپنی زبان سے خدا کی تسبیح کرتے ہیں، اگرچہ ہمارے کان ان کے سننے کی صلاحیّت نہیں رکھتے۔ تمام عالم میں اس کی تسبیح و حمد کا غلغلہ ہے، اگرچہ ہم اس سے بےخبر ہیں۔ لیکن وہ جو صحیح معنی میں زندہ ہیں اور پتھر نہیں ہیں، ان کو غیب کے سلسلے میں ایک چشمِ بینا عطا ہوئی ہے۔ وہ عالم کے تمام موجودات کے رازدار ہیں۔ وہ پانی اور مٹی کے نطق کو اچھی طرح سنتے ہیں۔ یہ نطق اہلِ دل کو محسوس ہوتا ہے۔ بہ ذکرش ہَر چہ خواہی در خروش است دلے داند چنیں معنی کہ گوش است نہ بُلبُل برگلش تسبیح خوان است کہ ہر خارے بہ توحیدش زبان است جس کو تُو دیکھے گا، وہ اس کی تسبیح میں مصروف ہے، لیکن اسے وہ سن سکتا ہے جسے خدا نے کان عطا کیے ہیں۔ نہ صرف بُلبل اپنے پھول کو دیکھ کر تسبیح کر رہا ہے بلکہ ہر خار اس کی توحید کی زبان ہے۔ اس سلسلے میں مزید تشریح سورہ اسریٰ کی آیت ۴۴ کے ذیل میں آچکی ہے (جلد ۶، صفحہ ۵۷۵ تا ۵۸۲)۔ اس تمہید کو بیان کرنے کے بعد مدینہ کے بنو نظیر کے نکلنے کی داستان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کفّار کو مسلمانوں کے مقابلہ میں پہلے اجتماع میں ہی ان کے گھروں سے نکالا۔(ہُوَ الَّذِی أَخْرَجَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ)۔ "حشر" اصل میں کسی گروہ کو میدانِ جنگ یا اسی قسم کی کسی دوسری جگہ کی طرف بھیجنے کے معنی میں ہے۔ یہاں اس سے مراد مسلمانوں کا اجتماع اور مدینہ سے یہودیوں کے قلعوں کی طرف چل پڑنا ہے، یا یہودیوں کا مسلمانوں سے لڑنے کے لیے اکٹھا ہونا ہے۔ چونکہ اپنی نوعیّت کے اعتبار سے اور یہ پہلا اجتماع تھا، لہٰذا قرآن میں اسے "لِأَوَّلِ الْحَشْرِ" کا عنوان دیا گیا ہے۔ اور یہ خود ایک لطیف اشارہ ہے یہودِ بنی نظیر اور یہودِ خیبر سے مقابلہ کی طرف۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کے سلسلے میں کئی ایسے احتمالات پیش کیے ہیں جو آیت کے نفسِ مضمون سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ دوسرے احتمالات میں سے ایک یہ ہے کہ "حشر اوّل" سے مراد روزِ قیامت کا حشر ہے، جب قبروں سے محشر کی طرف رجوع ہو گا۔ زیادہ عجیب یہ ہے کہ بعض نے اس آیت کو اس امر کی دلیل قرار دیا ہے کہ قیامت میں حشر سرزمینِ شام میں واقع ہو گا، کیونکہ یہودی مدینہ سے نکل کر شام کی طرف گئے تھے۔ یہ تمام ضعیف احتمال لفظ "حشر" سے پیدا ہوئے ہیں، حالانکہ یہ لفظ قیامت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق ہر قسم کے اجتماع، قرارگاہ سے نکلنے اور میدان میں حاضر ہونے پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورہ نمل کی آیت ۱۷ میں ہم پڑھتے ہیں: وَ حُشِرَ لِسُلَیْمَانَ جُنُودُہُ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ۔ "سلیمان علیہ السلام کا لشکر جن و انس اور پرندوں میں سے ان کے پاس جمع ہوا۔" اسی طرح فرعونی جادوگروں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مبارزہ کے مشاہدہ کے لیے اجتماع کے بارے میں ہمیں ملتا ہے: وَ أَنْ یُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی۔ "ہماری قرارداد یہ ہے کہ جس وقت دن چڑھے، سب لوگ جمع ہوں۔" (طٰہٰ: ۵۹) اس کے بعد مزید کہتا ہے: "تم ہرگز یہ گمان نہ کرتے تھے کہ وہ اس مقام سے چلے جائیں گے اور وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ ان کے مستحکم قلعے انہیں شکست اور عذابِ الٰہی سے محفوظ رکھیں گے۔" ما ظَنَنتُمْ أَنْ یَخْرُجُوا وَ ظَنُّوا أَنَّھُمْ مانِعَتُھُمْ حُصُونُھُمْ مِنَ اللّٰہِ۔ وہ اس طرح مغرور اور اپنی ذات سے رضامند تھے کہ ان کی تکیہ گاہ ان کے مضبوط قلعے اور ان کی ظاہری قوت تھی۔ آیت کا یہ اندازِ بیان بتاتا ہے کہ بنو نضیر کے یہودی مدینہ میں وسیع وسائل کے حامل تھے اور ان کے پاس بہت ساز و سامان تھا۔ اس طرح نہ وہ خود باور کرتے تھے کہ آسانی کے ساتھ مغلوب ہوں گے، نہ دوسرے لوگ۔ لیکن چونکہ خدا چاہتا تھا کہ سب پر واضح کر دے کہ اس کے ارادہ کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، یہاں تک کہ یہ واقعہ ہوئے بغیر اُنہیں اس سرزمین سے نکال دیا۔ اس لیے اس آیت کو جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے: "لیکن خدا نے جہاں سے انہیں گمان نہیں تھا، ان کو آ لیا اور ان کے دل میں خوف ڈالا، اس طرح سے کہ وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے ویران کرتے تھے۔" (فَأَتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوا وَ قَذَفَ فِی قُلُوبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُونَ بُیُوتَھُمْ بِأَیْدِیہِمْ وَ أَیْدِی الْمُؤْمِنِینَ)۔ جی ہاں! خدا نے اس غیر مرئی (نظر نہ آنے والے) لشکر، یعنی خوف کے لشکر کو، جو بہت سی جنگوں میں مؤمنین کی مدد کے لیے بھیجتا تھا، ان کے دلوں پر مسلط کر دیا اور ان سے ہر قسم کے مقابلہ کی طاقت چھین لی۔ انہوں نے اپنے آپ کو بیرونی لشکر کے مقابلہ کے لیے تیار کیا تھا، وہ اس سے بےخبر تھے کہ خدا ان کے اندر سے ایک لشکر ان کے لیے بھیجے گا اور اس طرح انہیں ایک تنگ گلی میں بند کر دے گا کہ وہ خود دشمن سے مل کر ہی تخریب کاری اور ویرانی میں مدد کریں گے۔ ٹھیک ہے کہ ان کے رئیس کعب بن اشرف کے مارے جانے نے اس واقعہ سے پہلے ان کے دلوں میں ایک طرح کی وحشت پیدا کر دی تھی، لیکن یہ طے ہے کہ آیت سے مراد یہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے گمان کیا ہے، بلکہ یہ ایک قسم کی روحانی امداد تھی جو بارہا اسلامی جنگوں میں مسلمانوں کو مدد کے لیے سامنے آئی ہے۔ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس طرح ہوا کہ ان کے گھر مسلمانوں کے ہاتھ نہ آئیں۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کے استحکام کا ویران ہونا تھا۔ اس آیت کے بارے میں کچھ اور تفاسیر بھی پیش کی گئی ہیں: ایک یہ کہ یہودی اندر سے اپنے مکانوں کی دیواروں کو توڑتے تھے کہ بھاگ کھڑے ہوں اور مسلمان باہر سے توڑتے تھے کہ ان پر قبضہ کر سکیں (لیکن یہ احتمال بعید ہے)۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت کا معنی کنایۃً رکھا گیا ہے، جیسے کہ ہم کہیں کہ فلاں شخص نے اپنا گھر اور اپنی زندگی اپنے ہاتھ سے تباہ کی، یعنی نادانیوں اور کج فہمیوں کی وجہ سے اپنی زندگی کے برباد ہونے کا سبب بنا۔ یا یہ کہ یہودیوں کا بعض گھروں کو ویران کرنے سے مقصد یہ تھا کہ قلعوں کے اندر کے کوچوں کے دھانے بند کر دیں تاکہ مسلمان اندر نہ آ سکیں اور آئندہ یہاں رہائش اختیار نہ کر سکیں۔ یا یہ کہ قلعوں کے اندر کے کچھ گھر انہوں نے خراب کیے تاکہ اگر قلعہ کے اندر کا حصہ میدانِ جنگ بن جائے تو جنگ کرنے کے لیے کافی جگہ موجود ہو۔ یا یہ کہ بعض گھروں کی تعمیر میں گراں قیمت اشیاء صَرف ہوئی تھیں، انہوں نے گھروں کو خراب کیا تاکہ جو کچھ اٹھانے کے قابل ہو، اسے اٹھا کر لے جائیں۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے۔ آیت کے آخر میں ایک مجموعی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پس عبرت حاصل کرو اے آنکھوں والو۔" (فَاعْتَبِرُوا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ)۔ "اعتبروا"، "اعتبار" کے مادّہ سے، اصل میں "عبور" سے لیا گیا ہے۔ اس کے معنی ایک چیز سے گزر کر دوسری چیز کی طرف جانا ہے۔ یہ جو اشکِ چشم کو "عَبرہ" کہا جاتا ہے، آنسوؤں کے قطروں کے آنکھ کو عبور کرنے کی بنا پر ہے۔ اور "عبارت" کو اس بنا پر "عبارت" کہتے ہیں کہ وہ مفاہیم کو ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل کرتی ہے۔ اور خواب کے مفہوم پر "تعبیرِ خواب" کا اطلاق اس بنا پر ہے کہ وہ انسان کو اُس کے ظاہر سے اُس کے باطن کی طرف منتقل کرتی ہے۔ اسی مناسبت سے وہ حوادث جو انسان کو نصیحت کا سرمایہ دیتے ہیں، انہیں "عبرت" کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ انسان کی کلی تعلیمات کے ایک سلسلہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور ایک مطلب سے دوسرے مطلب کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ "أُولِی الْأَبْصَارِ" کی تعبیر (آنکھوں والے) ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو حوادث کو اچھی طرح دیکھتے ہیں اور اپنی بصیرت سے ان کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ "بصر" کا لفظ عام طور پر بینائی کے عضو اور "بصیرتِ باطنی" یعنی ادراک و آگاہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ [بحوالہ: مفرداتِ راغب]۔ حقیقت میں "أُولِی الْأَبْصَارِ" وہ لوگ ہیں جو درسِ عبرت حاصل کرنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔ اسی لیے قرآن انہیں تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس حادثہ سے ضرور سبق حاصل کریں۔ اس میں شک نہیں کہ عبرت پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ مشابہ حوادث، جو حکمِ عقلی کے لحاظ سے یکساں ہیں، ان کا ایک دوسرے پر قیاس کریں۔ مثلاً دوسرے کفّار اور ان کی عہد شکنیوں کی حالت کا بنو نضیر کے یہودیوں کے احوال پر قیاس کریں۔ مثلاّ دوسرے کفار اور ان کی عہدشکنیوں کی حالت کا بنو نظیر کے یہودیوں کے احوال پر قیاس کریں لیکن یہ جملہ ہرگز "قیاساتِ ظنی" سے تعلق نہیں رکھتا، جن سے بعض لوگ احکامِ دینی کے استنباط میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ بعض فقہائے اہلِ سنت نے اس مقصد کے اثبات کے لیے مندرجہ بالا آیت سے استفادہ کیا ہے، جب کہ بعض دوسروں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ "عبرت" اور "اعتبار" سے مراد مندرجہ بالا آیت میں ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف منطقی اور قطعی انتقال ہے، نہ یہ کہ خیال و گمان پر عمل کرنا۔ بہرحال، واقعی، اس قومِ یہود کی سرگزشت، باوجود اس قوت، عظمت، شوکت کے اور باوجود وسائل و امکانات و استحکامات کے، عبرت انگیز تھی۔ یہاں تک کہ بغیر اس کے کہ سلاح کو ہاتھ لگائیں، مسلمانوں کی ایسی جمعیت کے مقابلہ میں، جو بظاہر ہرگز ان کے مقابلہ کے قابل نہیں تھی، سرِتسلیم خم کر دیا اور ہتھیار ڈال دیے۔ اپنے گھر اپنے ہاتھوں برباد کیے اور اپنے مال ضرورت مند مسلمانوں کے لیے چھوڑ گئے اور مختلف علاقوں میں بکھر گئے۔ حالانکہ تاریخوں کے حوالوں کے مطابق ابتدا میں انہوں نے مدینہ میں اس لیے سکونت اختیار کی تھی کہ جس پیغمبر کی آمد کا ان کی کتابوں میں وعدہ کیا گیا تھا اور اس کو حاصل کریں اور اس کے اصحاب کی صفِ اول میں قرار پائیں۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ: "کان أکثر عبادة أبی ذر التفکر و الاعتبار۔" "ابوذر کی زیادہ تر عبادت غور و فکر کرنا اور عبرت حاصل کرنا تھی۔" [بحوالہ: کتابِ خصال، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۷۴]۔ لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دردناک حوادث کو خود آزمائیں اور شکستوں کا تلخ مزہ خود چکھیں، لیکن کوئی عبرت حاصل نہ کریں۔ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں: "السعید من وُعِظ بغیره۔" "سعادت مند وہی ہے جو دوسروں سے وعظ و نصیحت حاصل کرے۔" [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۸۶]۔ اس کے بعد والی آیت کہتی ہے: "اگر یہ نہ ہوتا کہ خدا نے ان کے لیے مقرر کر رکھا تھا کہ جلاوطن ہو جائیں اور اس جگہ کو چھوڑ دیں تو ان پر اسی دنیا میں عذاب نازل کرتا۔" "وَلَوْلَا أَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا۔" اس میں شک نہیں کہ جلا وطنی اور ان عمدہ سرمایوں کا چھوڑ جانا، جن کے جمع کرنے میں انہوں نے ایک عمر صرف کی تھی، خود ان کے لیے ایک دردناک عذاب تھا۔ اسی بنا پر اوپر والے جملہ سے مراد یہ ہے کہ اگر یہ عذاب ان کے لیے مقدر نہ کیا گیا ہوتا، تو دوسرا عذاب ان پر نازل ہوتا، یعنی مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوتے اور قتل ہو جاتے۔ خدا چاہتا تھا کہ وہ دنیا میں دربدر مارے مارے پھریں اور یہ دربدر ہونا ان کے لیے بسا اوقات زیادہ دردناک تھا۔ اس لیے کہ جس وقت وہ اپنے ان تمام قلعوں، سجے سجائے گھروں، کھیتوں اور باغات کو یاد کرتے، جو اب دوسروں کے قبضہ میں تھے اور وہ خود عہدشکنی اور پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازشیں کرنے کی وجہ سے دوسرے علاقوں میں محروم و سرگرداں تھے، تو وہ بہت زیادہ تکلیف اور روحانی عذاب میں گرفتار ہوتے تھے۔ جی ہاں! خدا یہ چاہتا تھا کہ یہ مغرور، فریب کار اور عہدشکن گروہ اس قسم کے دردناک عذاب سے دوچار ہو۔ لیکن یہ صرف ان کا دنیوی عذاب تھا، اس لیے آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "اور ان کے لیے آخرت میں بھی جہنم کا عذاب ہے۔" (وَلَهُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ۔ یہ ہے دنیا و آخرت ان لوگوں کی جو حق و انصاف کو ٹھکرا دیتے ہیں اور غرور و خود پرستی کے رہوار پر سوار ہوتے ہیں۔ چونکہ اس واقعہ کا بیان، علاوہ اس کے کہ پروردگار کی قدرت اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقانیت کا بیان ہے، تمام لوگوں کو تنبیہ کرتا ہے جو یہود بنی نضیر جیسے اعمال کے حامل ہیں تاکہ مسئلہ انہی تک محدود نہ رہے، لہٰذا بعد والی آیت میں ایک بامقصد تعلیم دیتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "یہ دنیا و آخرت کا عذاب اس بناء پر نازل ہوا کہ وہ خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمن بن گئے۔" (ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللّٰهَ وَرَسُولَهُ)۔ "اور جو شخص خدا کی دشمنی اختیار کرے تو وہ اس پر عذاب نازل کرتا ہے، اس لیے کہ وہ شدید العقاب ہے": (وَمَنْ یُشَاقِقِ اللّٰهَ فَإِنَّ اللّٰهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔ [تشریحی نوٹ: "مَن" شرطیہ ہے اور اس کی جزا محذوف ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے کہ: "مَن یُشاقِ اللّٰہَ یُعاقِبہُ، فَإِنَّ اللّٰہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ"]۔ "شاقوا" مادہ "شقاق" سے ہے، اصل میں دو چیزوں کے درمیان شگاف پڑنے اور جدائی کے معنوں میں ہے اور چونکہ دشمن ہمیشہ مدمقابل قرار پاتا ہے اور اپنے آپ کو الگ کر لیتا ہے، لہذا اس کے عمل کو شقاق کہتے ہیں۔ بعینہ یہی آیت بہت جزوی اختلاف کے ساتھ سورہ انفال کی آیت ۱۳ میں جنگِ بدر کے واقعہ اور مشرکین کے شکست کھانے کے واقعہ کے بعد آئی ہے جو ہر لحاظ سے اس کے مضمون کو بیان کرتی ہے۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ پروردگارِ عالم آغازِ آیت میں خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی کو پیش کرتا ہے، جب کہ آیت کے ذیل میں صرف خدا کی دشمنی کی بات کرتا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ رسولِ خدا سے دشمنی بھی خدا کی دشمنی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ "شَدِیدُ الْعِقَابِ" کی تعبیر "أرحم الراحمین" ہونے کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی۔ اس لیے کہ جہاں عفو و رحمت کا مقام ہے، وہاں وہ "أرحم الراحمین" ہے اور جہاں عذاب، سزا اور عقوبت کا مقام ہے، وہاں وہ "أشد المعاقبین" ہے۔ جیسا کہ دعا میں آیا ہے: "وَأَیقَنتُ أَنَّكَ أَنتَ أرحمُ الرّاحمینَ فِی موضعِ العفوِ والرّحمةِ، وأشدُّ المُعاقبینَ فِی موضعِ النَّكالِ والنّقمةِ۔" [بحوالہ: دعائے افتتاح، از ادعیۂ ماہِ مبارک رمضان]۔ مجھے یقین ہے کہ تو عفو و رحمت کے مقام پر "أرحم الراحمین" ہے اور عذاب و سزا کی منزل میں "أشد المعاقبین" ہے۔ زیرِ بحث آیات کی آخری آیت میں خداوندِ عالم ایک اعتراض کا جواب پیش کرتا ہے جو بنو نضیر کے یہود نے، جیسا کہ ہم شانِ نزول میں بھی کہہ چکے ہیں، اُس موقع پر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا کہ یہودیوں کے قلعوں کے پاس کی کھجوروں کے کچھ درخت کاٹ دیے جائیں (تاکہ جنگ کے لیے جگہ کھلی ہو جائے یا اس لیے کہ یہودی پریشان ہوں اور قلعوں سے باہر نکل کر جنگ کریں)۔ انہوں نے کہا تھا کہ: "اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا وہ آپ ہی نہیں تھے جو اس قسم کے کاموں سے منع کرتے تھے"؟ تو یہ آیت نازل ہوئی اور کہا: "کھجور کے جس قیمتی درخت کو تم نے کاٹا تھا یا اسے اپنی حالت پر رہنے دیا ہے، یہ سب کچھ خدا کے حکم سے تھا۔" "مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِیْنَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللّٰه۔" [تشریحی نوٹ: اوپر والی آیت میں "ما" شرطیہ ہے اور "فَبِإِذْنِ اللّٰہِ" اس کی جزا ہے]۔ "مقصد یہ تھا کہ فاسقین کو ذلیل و رسوا کرے۔" "وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ۔" "لِینَة"، "لون" کے مادہ سے ہے اور اس کے معنی کھجور کے درخت کی ایک اعلیٰ نوع کے ہیں۔ بعض مفسرین نے اسے "لین" کے مادہ سے کھجور کے درخت کی ایک نوع کی نرمی کے معنوں میں تفسیر کی ہے۔ یہ درخت نرم ہوتا ہے اور اس کی شاخیں زمین کے قریب ہوتی ہیں۔ اس درخت میں لگنے والی کھجوریں نرم اور لذیذ ہوتی ہیں اور کبھی "لینة" کی تفسیر "الوان" کے حوالے سے ہوتی ہے جس کے معنی کھجور کے درخت کی مختلف انواع ہیں۔ اس کی تفسیر "نخل کریمہ" بھی کی گئی ہے۔ یہ سب تفسیریں ایک ہی نوعیت کی ہیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت بعض مسلمانوں نے کاٹے، جبکہ دوسرے مسلمان مخالف تھے۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور نزاع کو ختم کیا۔ [بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد ۱۱، صفحہ ۹۳ یہی معنی تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۸۸ پر بیان ہوئے ہیں]۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت اصحاب میں سے دو افراد کے عمل سے متعلق ہے، جن میں سے ایک کھجور کے اچھے درخت کاٹ رہا تھا تاکہ یہودی غصہ میں آ کر قلعوں سے باہر نکل آئیں۔ دوسرا کم قیمت درختوں کو کاٹتا تھا تاکہ جو قیمتی درخت ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس بنا پر ان کے درمیان اختلاف ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا کہ دونوں کام اللہ کے حکم سے تھے۔ [بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۹، صفحہ ۲۸۳]۔ لیکن آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے "لینة" — اچھی قسم کے درختوں کو — کاٹا اور ان میں سے بعض کو چھوڑ دیا۔ یہ چیز یہودیوں کے اعتراض کا سبب بنی اور قرآن نے اس کا جواب دیا تاکہ واضح ہو جائے کہ یہ کام ہوائے نفس کے نتیجے میں نہیں تھا بلکہ اس سلسلہ میں ایک حکمِ الٰہی صادر ہوا تھا کہ محدود طریقہ پر اس کام کو کیا جائے تاکہ نقصان زیادہ نہ ہو۔ بہرصورت، یہ حکم اسلام کے ایک مشہور قانون کا استثناء تھا، جو یہ کہتا ہے کہ دشمن پر حملے کے وقت درختوں کو نہیں کاٹنا چاہیے، جانوروں کو ذبح نہیں کرنا چاہیے اور کھیتیوں میں آگ نہیں لگانی چاہیے۔ یہ استثناء صرف ایسے موقف سے تعلق رکھتا تھا کہ جہاں دشمن کو قلعہ سے باہر نکالنے یا میدانِ جنگ بنانے کی ضرورت تھی۔ ہر قانونِ کلّی میں ضروری جزوی استثنا عام طور پر موجود ہوتے ہیں جیسا کہ اصل کلی مردار کا گوشت نہ کھانا ہے لیکن مجبوری اور اضطرار کی صورت میں "اکلِ میتہ" یعنی مردار کا کھانا جائز ہے۔ "وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ" "تاکہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے۔" یہ جملہ بتاتا ہے کہ اس کا ایک محدود مقصد یہ تھا کہ دشمن کو ذلیل کیا جائے اور ان کے حوصلوں کو پست کیا جائے۔
چند اهم نکات: ۱۔ خدا کے غیر مرئی لشکر
اہلِ دنیا کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی ظاہری اور مادی قوتوں پر انحصار کرتے ہیں، لیکن خدا پرستوں کا انحصار خدائی مدد پر ہوتا ہے۔ اس کا ایک نمونہ ہم نے بنو نظیر کے شکست کھانے اور مدینہ سے باہر نکلنے کے سلسلہ میں مندرجہ بالا آیتوں میں دیکھا ہے۔ ان آیتوں میں ہم نے پڑھا ہے کہ کامیابی کا ایک مؤثر سبب وہی خوف تھا جو خدا نے یہودیوں کے دلوں میں ڈالا تھا، یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے توڑنے لگے اور اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ اپنے اموال کو نظرانداز کر دیں اور اس علاقہ سے باہر نکل جائیں۔ ان معانی کی نظیر قرآنی آیات میں چند مرتبہ آئی ہے۔ منجملہ دوسرے مواقع کے، ایک موقع پر جب کہ مسلمان بنو قریظہ سے جنگِ احزاب میں آمنے سامنے ہوئے تھے، خداوندِ عالم فرماتا ہے: ﴿وَ أَنْزَلَ الَّذِینَ ظَاهَرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَیَاصِیهِمْ وَ قَذَفَ فِی قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیقًا تَقْتُلُونَ وَ تَأْسِرُونَ فَرِیقًا﴾۔ "خدا نے اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کو، جس نے مشرکینِ عرب کی حمایت کی، اس کے محکم قلعوں سے نیچے اتارا اور ان کے دل میں خوف ڈال دیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک گروہ کو تم نے قتل کیا اور ایک گروہ کو اسیر کیا۔" (احزاب: ۲۶) یہی مفہوم جنگِ بدر کے واقعہ میں بھی موجود ہے، جہاں کہا گیا ہے: ﴿سَأُلْقِی فِی قُلُوبِ الَّذِینَ كَفَرُوا الرُّعْبَ﴾۔ "میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔" اسی رعب کا ایک حصہ جو خدا کے ایک غیر مرئی لشکر کا حکم رکھتا ہے، طبیعی ہے، اگرچہ اس کا ایک حصہ پراسرار ہے اور اس کے روابط عام وسائل کے ذریعہ ہم پر منکشف نہیں ہیں۔ جو چیز طبعی و فطری ہے وہ یہ کہ مومنین ہمیشہ ہر حالت میں اپنے آپ کو کامیاب سمجھیں، چاہے قتل ہو کر شہید ہو جائیں یا چاہے دشمن کی سرکوبی کریں۔ جس کی یہ منطق ہو، وہ خوف اور وحشت کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیتا بلکہ اس قسم کا عجیب انسان اپنے دشمن کے لیے باعثِ خوف و وحشت ہوتا ہے۔ جیسا کہ دنیا میں ہم بڑے بڑے ممالک کو دیکھتے ہیں کہ باوجود جدید ترین ہتھیار رکھنے کے اور بہت عظیم ہونے کے، سچے مومنوں کے ایک چھوٹے گروہ سے ڈرتے ہیں اور ان سے جنگ کرنے کے لیے خوف کا باعث ہوتا ہے اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان سے نہ اُلجھیں۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہمیں ملتی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: «نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَهْرٍ»۔ "میری خدا کی جانب سے ایک ماہ کے فاصلے سے خوف و وحشت سے مدد کی گئی ہے۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۶، صفحہ ۵۱۹ (آل عمران کی آیت ۱۵۱ کے ذیل میں)]۔ یعنی نہ صرف وہ لوگ جو میدانِ جنگ میں میرے سامنے ہوتے ہیں مجھ سے خوف کھاتے ہیں بلکہ جن علاقوں میں دشمن مجھ سے ایک ماہ کے فاصلے پر ہوتے ہیں، ان پر بھی وحشت و اضطراب طاری رہتا ہے۔ حضرت مہدی علیہ السلام کی فوج کے بارے میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ تین لشکر آپ کی مدد کریں گے: «الملائکة، والمؤمنون، والرعب»۔ "فرشتے، مومن اور خوف۔" [بحوالہ: اثبات الہداة، جلد ۷، صفحہ ۱۲۴]۔ حقیقت میں وہ تو کوشش کرتے ہیں کہ انہیں باہر سے کوئی ضرب نہ لگے، لیکن خدا انہیں اندر سے ضرب لگاتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ اندرونی ضرب زیادہ جانکاہ اور ناقابلِ تلافی ہوتی ہے، اس لیے کہ اگر تمام دنیا کے ہتھیار اور لشکر کسی کے قبضہ میں ہوں لیکن اس میں جنگ کرنے کا جذبہ اور حوصلہ نہ ہو تو اُسے ضرور شکست ہو گی۔
٢۔ موجودہ زمانے میں یہودیوں کی سازشیں
تاریخِ اسلام اپنے آغاز ہی سے یہودیوں کی سازشوں سے بھری پڑی ہے۔ اور ہم بہت سے دردناک حوادث میں میدان کے اندر یا پس منظر میں ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ پیغمبرِ موعود کے عشق و محبت میں سرزمینِ حجاز میں آئے تھے، لیکن ان کے عظیم ظہور کے بعد بدترین دشمن ہو گئے اور موجودہ زمانے میں بھی اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں میں ہم یہودیوں کو منظر یا پس منظر میں دیکھتے ہیں اور یہ صاحبانِ بصیرت کے لیے سامانِ عبرت ہے۔ جیسا کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تاریخ بتاتی ہے، یہودیوں کو پسپا کرنے کا واحد راستہ ان سے براہِ راست مقابلہ کرنا ہے، خصوصاً صیہونیت جس کی لغت میں عدل و انصاف اور نرمی کا کوئی لفظ ہی نہیں ہے، طاقت ان کی زبان ہے، سوائے قوت و طاقت کے ان سے بات نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے باوجود وہ سچے مومنین سے بہت ڈرتے ہیں۔ اگر موجودہ زمانے کے مسلمان اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح ایمان و استقامت سے کافی حد تک بہرہ ور ہوں، تو ان کا خوف خوار دشمنوں پر آ جائے اور اسی لشکرِ خدائی کے ذریعہ یہودیوں کو مقبوضہ علاقوں سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ یہ ایسا درس ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں چودہ سو سال پہلے دیا تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9چونکہ یہ آیتیں گزشتہ آیتوں کی تکمیل ہیں جو یہود بنی نظیر کی شکستوں کو بیان کر رہی تھیں، لہٰذا ان کی شانِ نزول بھی اُسی شانِ نزول کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ بنی نظیر کے یہودیوں کے مدینہ سے چلے جانے کے بعد ان کے باغات، زمینیں، زراعتیں، گھر اور دوسرے اموال کا کچھ حصّہ مدینہ میں رہ گیا، مسلمانوں کے سرداروں کی ایک جماعت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور زمانۂ جاہلیت کے قانون کے مطابق جو بات ان کے دل میں تھی وہ انہوں نے عرض کی اور وہ یہ کہ اس مالِ غنیمت کا منتخب حصّہ اور باقی کی ایک چوتھائی آپ لے لیجیے اور باقی ہمیں دے دیجیے تاکہ اسے ہم اپنے درمیان تقسیم کر لیں، پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور صراحت کے ساتھ کہا کہ چونکہ ان اموالِ غنیمت کے لیے جنگ نہیں ہوئی اور مسلمانوں نے کوئی زحمت و مشقت برداشت نہیں کی، لہٰذا یہ تمام مال و اسباب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملکیت ہیں۔ جس طرح ان کی مصلحت ہو گی وہ تقسیم کریں گے اور جیسا کہ ہم بعد میں دیکھیں گے، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ اموال ان مہاجرین کے درمیان، جو مدینہ میں مال و دولت نہ رکھتے تھے اور انصار کی وہ تھوڑی سی تعداد جنہیں مال کی شدید احتیاج تھی، ان کے درمیان تقسیم کر دیے۔ [بحوالہ: مجمع البیان اور دوسری تفاسیر در ذیل آیتِ زیر بحث]۔
تفسیر: ان اموال غنیمت کے بارے میں حکم جو جنگ کے بغیر ہاتھ لگیں
یہ آیتیں جیسا کہ ہم نے کہا ہے، بنو نظیر کے اموالِ غنیمت کے بارے میں جو حکم ہے اسے پیش کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ان تمام اموالِ غنیمت کے سلسلہ میں ایک قانونِ کلی کو بھی واضح کرتی ہیں، جو مال بغیر کسی زحمت و مشقت کے اسلامی معاشرہ کو ملے، اسے فقہِ اسلامی میں "فے" کہتے ہیں۔ خداوندِ عالم فرماتا ہے: "جو کچھ خدا نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان سے پلٹایا، وہ ایسی چیز ہے جس کے حصول کے لیے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ۔" (وَ ما أَفاءَ اللّٰہُ عَلیٰ رَسُولِہِ مِنْھُمْ فَما أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَ لا رِکَاب)۔ [تشریحی نوٹ: "ما" ما افاء اللہ میں موصولہ ہے اور مبتدا اور "ما" فما اوجفتم میں نافیہ ہے اور یہ سارا جملہ خبر ہے۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ پہلا "ما" شرطیہ اور دوسرا اس کے بعد والے جملہ کے ساتھ جواب شرط ہو، فا کا انا اس خبر پر جو شرط کے مشابہ ہو کوئی معنی نہیں رکھتا]۔ "أفاء"، "فیء" کے مادّہ سے اصل میں رجوع و بازگشت کے معنی میں ہے اور یہ جو اموالِ غنیمت پر اس کا اطلاق ہوا ہے شاید اسی بنا پر ہے کہ خدا نے اس جہان کی تمام نعمتیں اصل میں مومنین کے لیے اور سب سے پہلے اپنے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پیدا کی ہیں، جو اشرفِ کائنات و فخرِ موجودات ہیں اور غیر مومن و گنہگار افراد حقیقت میں ان اموال کے غاصب ہیں (اگرچہ وہ حسبِ قوانینِ شرعی و عرفی مالک شمار ہوں)۔ جس وقت یہ اموال حقیقی مالکوں کی طرف لوٹیں تو "فیء" ان کے لیے بہترین عنوان ہے۔ "أوجفتم"، "إیجاف" کے مادّہ سے تیزی سے ہانکنے کے معنی میں ہے، جس کا عام طور پر جنگوں میں اتفاق ہوتا ہے۔ "خیل" کے معنی گھوڑے ہیں (یہ ایسی جمع ہے جس کا مفرد خود اس کی جنس میں سے نہیں ہے)۔ [تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "خَیْل" اصل میں "خیال" کے مادہ سے خیالات اور ذہنی تصورات کے معنی میں ہے اور "خِیَلآء" تکبر اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کے معنی میں ہے، اس لیے کہ ایک قسم کا تخیل فضیلت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور چونکہ انسان جب گھوڑے پر سوار ہوتا تو عام طور پر ایک قسم کا غرور محسوس کرتا ہے، لہٰذا لفظ "خَیْل" کا گھوڑے پر اطلاق ہوا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "خیل" گھوڑوں اور سواروں دونوں کے لیے بولا جاتا ہے]۔ "رکاب"، "رکوب" کے مادّہ سے ہے، عام طور پر سواری کے اونٹوں کے لیے آتا ہے۔ پورے جملے سے مقصود یہ ہے کہ وہ تمام مواقع جن میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے سلسلے میں کوئی جنگ واقع نہ ہو، وہاں مالِ غنیمت جنگجو افراد میں تقسیم نہیں ہو گا اور وہ مکمل طور پر رئیسِ مسلمین کے اختیار میں ہو گا اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق بعد والی آیت میں بیان شدہ مصارف میں سے کسی مصرف میں صرف کرے گا۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "اس طرح نہیں کہ کامیابیاں ہمیشہ تمہاری جنگوں کا نتیجہ ہوں، لیکن خدا اپنے رسولوں کو جس پر چاہے تسلط عطا کر دیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔" (وَ لکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہُ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ وَ اللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر)۔ جی ہاں! یہودِ بنی نظیر جیسے قوی دشمن پر کامیابی خدا کی مدد کے نتیجے میں ممکن ہوئی، تاکہ تم جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے اور چشمِ زدن میں ایک طاقتور قوم کو زبوں حال بنا سکتا ہے اور ایک گروہ کو ان پر مسلط کر سکتا ہے اور پہلے گروہ کے تمام امکانات و وسائل دوسرے گروہ کو منتقل کر سکتا ہے۔ یہ وہ منزل ہے کہ مسلمان اس قسم کے میدانوں میں اللہ کی معرفت کا درس بھی لے سکتے ہیں اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقانیت کی نشانیاں بھی دیکھ سکتے ہیں اور ذاتِ پاکِ خدا سے خلوص اور اسی پر انحصار کو مشعلِ راہ بنا سکتے ہیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود بنی نظیر کے اموال غنیمتِ جنگ کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں آئے، بلکہ انہوں نے لشکر کشی کی اور یہودیوں کے قلعوں کا محاصرہ کیا، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ کسی حد تک تلوار بھی چلی۔ جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بنو نظیر کے قلعے، جیسا کہ مؤرخین نے کہا ہے، مدینہ سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں تھے (بعض مفسرین نے یہ فاصلہ دو میل یا تین کلومیٹر سے کم بیان کیا ہے)، مسلمان پیادہ قلعوں کی طرف آئے، اس وجہ سے انہوں نے کوئی مشقت برداشت نہیں کی۔ باقی رہی تلواروں کی جنگ تو وہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے، محاصرہ نے بھی زیادہ طول نہیں کھینچا، اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت میں وہ چیز جسے جنگ کا نام دیا جا سکے، واقع نہیں ہوئی اور کوئی قطرہ خون زمین پر نہیں گرا۔ بعد والی آیت وضاحت کے ساتھ "فیء" کا مصرف بتاتی ہے جو گزشتہ آیت میں آیا تھا۔ خداوندِ عالم ایک قاعدہ کلی کے طور پر فرماتا ہے: "جو کچھ خدا نے ان آبادیوں والے لوگوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پلٹایا ہے، وہ خدا، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، اس کے ذوی القربیٰ، یتیموں، مسکینوں اور راستوں میں درماندہ لوگوں کے لیے ہے۔" (ما أَفاءَ اللّٰہُ عَلیٰ رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُریٰ فَلِلّٰہِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِی الْقُرْبیٰ وَ الْیَتَامیٰ وَ الْمَسَاکِینِ وَ ابْنِ السَّبِیلِ)۔ یعنی مسلح جنگ کے اموالِ غنیمت کی مانند نہیں، جن کا صرف پانچواں حصہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے حاجت مندوں کے اختیار میں ہے، باقی چار حصہ جنگجو افراد کے لیے ہیں۔ نیز اگر گزشتہ آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام کا تمام رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق ہے تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ سارے کا سارا اپنے شخصی اور ذاتی مصارف میں صرف کریں، بلکہ اس لیے کہ وہ اسلامی حکومت کے سربراہ ہیں اور خصوصاً حاجت مندوں کے حقوق کے محافظ ہیں، لہٰذا وہ اس کا زیادہ حصہ ان پر خرچ کریں گے۔ اس آیت میں کلی طور پر "فیء" کے لیے چھ مصرف بیان ہوئے ہیں: 1۔ سہمِ خدا: واضح ہے کہ خدا ہر چیز کا مالک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے، یہ ایک قسم کی نسبت تشریعی و اعزازی ہے، تاکہ دوسرے گروہ جو اس کے بعد بیان ہوئے ہیں کسی قسم کی حقارت محسوس نہ کریں اور اپنا حصہ خدا کے حصے کا سلسلہ خیال کریں۔ اس طرح ان کی شخصیت عام افراد کے ذہنوں میں کسی نقص کا شکار نہ ہو۔ 2۔ سہمِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): جس سے فطری طور پر ان کی ذاتی ضرورتیں، اس کے بعد مقامی حاجتیں اور وہ توقعات جو لوگ ان سے رکھتے ہیں، وہ سب اس سے پوری ہوں۔ 3۔ سہمِ ذوی القربیٰ: اس میں شک نہیں کہ اس سے یہاں مراد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذوی القربیٰ ہیں اور بنی ہاشم ہیں، جو زکوٰۃ لینے سے محروم ہیں، جو عام مسلمانوں کے اموال کا جز ہے۔ [تشریحی نوٹ: یہ تفسیر نہ صرف شیعہ مفسرین نے بلکہ بہت سے اہلِ سنت مفسرین نے بھی تحریر کی ہے، مثلاً: فخر رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں، برسوئی نے روح البیان میں، سید قطب نے فی ظلال میں، مراغی نے اپنی تفسیر میں، اور آلوسی نے روح المعانی میں]۔ اصولی طور پر اس کے کوئی معنی نہیں کہ اس سے مراد عام لوگوں کے ذوی القربیٰ ہوں، کیونکہ اس صورت میں تمام مسلمانوں کو بغیر کسی استثناء کے شامل کرنا پڑے گا، کیونکہ تمام لوگ ایک دوسرے کے عزیز و اقربا ہیں۔ اب رہا یہ کہ ذوی القربیٰ میں احتیاج و فقر شرط ہے یا نہیں، اس پر مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، اگرچہ وہ قرائن جو اس آیت کے آخر میں اور بعد والی آیت میں ہیں، اس کا شرط ہونا زیادہ صحیح نظر نہیں آتا۔ ۴، ۵، ۶۔ یتیموں، مسکینوں اور سفر میں درماندہ افراد کا حصہ ہے۔ یہ کہ یہ تینوں گروہ بنی ہاشم میں سے ہونے چاہئیں یا عام یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا اس میں حصہ ہے، مفسرین کے درمیان اس میں اختلاف ہے۔ زیادہ تر فقہائے اہلِ سنت اور ان کے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ عمومیت رکھتا ہے، جبکہ وہ روایتیں جو طرقِ اہلِ بیت سے ہم تک پہنچی ہیں، وہ اس سلسلہ میں مختلف ہیں۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حصہ بنی ہاشم کے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہے، لیکن بعض روایات میں تصریح ہوئی ہے کہ یہ حکم عمومیت رکھتا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے اس طرح مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "کان أبی یقول: لنا سهم رسول اللّٰہ وسہم ذی القربیٰ ونحن شرکاء الناس فیما بقی۔" "ہمارے لیے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ذوی القربیٰ کا حصہ ہے اور ہم ان باقی ماندہ حصوں میں لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۶۱ — وسائل الشیعہ، جلد ۶، صفحہ ۳۶۸ (حدیث ۱۲، باب ۱، ابواب انفال)]۔ اس سورہ کی آیت ۸، ۹ جو اس آیت کی وضاحت کرتی ہیں، گواہی دیتی ہیں کہ یہ حصہ بنی ہاشم کے لیے مخصوص نہیں ہے، کیونکہ ان میں عام فقراء مہاجرین و انصار کے بارے میں گفتگو ہے۔ علاوہ ازیں مفسرین نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نظیر کے واقعہ کے بعد ان اموال کو، جو وہ چھوڑ گئے تھے، مہاجرین میں، جو عام طور پر مدینہ میں سخت حالات میں زندگی گزار رہے تھے اور انصار کے تین گروہوں میں، جو بہت زیادہ حاجت مند تھے، تقسیم کر دیے۔ اور یہ امر آیت کے مفہوم کی عمومیّت کی دلیل ہے۔ اب اگر بعض روایات اس کی تائید نہ کرتی ہوں تو ظاہر قرآن کو ترجیح دینی چاہیے۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۶، صفحہ ۳۵۶ (حدیث ۴، باب ۱، ابواب انفال)]۔ اس کے بعد اس حساب شدہ تقسیم کے فلسفہ کو پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "یہ اس بنا پر ہے کہ یہ عظیم اموال تمہارے امیر لوگوں کے درمیان دست بہ دست گردش نہ کرتے رہیں اور حاجت مند ان سے محروم نہ ہوں": (کَیْ لا یَکُونَ دُوْلَةً بَیْنَ الْأَغْنِیَاءِ مِنْکُمْ)۔ [تشریحی نوٹ: "دُولَة" (دال کے زبر اور پیش کے ساتھ) ایک ہی معنی میں ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان کے درمیان فرق کیا ہے کہ پہلے اموال کے ساتھ مخصوص اور دوسرے کو جنگ و مقام کے ساتھ مربوط جانا ہے، یا پہلے کو اسمِ مصدر اور دوسرے کو مصدر شمار کیا ہے۔ بہرحال "تداول" کے مادہ سے دست بہ دست کرنے کے معنی میں دونوں ایک ہی ہیں]۔ مفسرین نے اس جملہ کے لیے خصوصیت کے ساتھ ایک شانِ نزول بیان کی ہے جس کی طرف پہلے بھی اجمالاً اشارہ ہو چکا ہے اور وہ یہ کہ رؤساء مسلمین کی ایک جماعت واقعہ بنی نظیر کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئی اور عرض کیا: "جس کو آپ خود منتخب کریں وہ اور ان اموالِ غنیمت کا چوتھا حصہ آپ لے لیجئے اور بقایا ہمارے اختیار میں دے دیجئے تاکہ ہم اپنے درمیان تقسیم کر لیں، جیسا کہ اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں تھا۔" تو مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں متنبہ کیا کہ یہ اموال اغنیاء میں دست بدست گردش نہ کرنے پائیں۔ یہ آیت اقتصادِ اسلامی کے ایک بنیادی اصول کو بیان کرتی ہے اور وہ یہ کہ اسلام کے اقتصادی نظام کا مزاج یہ ہے کہ باوجود شخصی اور خصوصی ملکیت کے احترام کے، سلسلہ کار یوں استوار رکھا جائے کہ مال و دولت ایک مخصوص گروہ میں محدود ہو کر نہ رہ جائیں اور ایسا نہ ہو کہ صرف انہیں کے درمیان گردش کریں۔ البتہ اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم اپنی طرف سے قوانین وضع کر لیں اور مال و دولت ایک گروہ سے لے کر دوسرے گروہ کے حوالے کر دیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر دولت کے حصول کے سلسلہ میں اسلام کے مقررہ کیے ہوئے اصول، سرکاری مالیات مثلاً خمس، زکوٰۃ اور اخراج وغیرہ کے احکام اور بیت المال و انفال کے احکام ٹھیک طرح سے عملی جامہ پہن لیں تو خودبخود یہ نتیجہ نکل آئے گا کہ باوجود انفرادی کوششوں کے احترام کے، اجتماعی مصلحتیں بھی پوری ہو جائیں گی اور معاشرہ میں نہ بہت امیر طبقہ رہے گا نہ بہت غریب، بلکہ دولت کی معتدل تقسیم بروئے کار آئے گی۔ خداوند تعالیٰ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "جو کچھ خدا کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لیے لایا ہے اُسے لے لو اور جس سے اس نے تمہیں منع کیا ہے اس سے باز رہو اور تقویٰ اختیار کرو، اس لیے کہ خدا شدید العقاب ہے۔" (وَ ما آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ ما نَہاٶکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیدُ الْعِقَاب)۔ یہ جملہ اگرچہ بنو نظیر کے اموالِ غنیمت کے بارے میں نازل ہوا ہے، لیکن یہ مسلمانوں کے تمام کاروبارِ زندگی میں ایک حکمِ عمومی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ چیز سنتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجت ہونے کی ایک واضح دلیل ہے۔ اس اصولِ اساسی کے پیشِ نظر تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوامر و نواہی کو گوشِ دل سے سنیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں، خواہ وہ حکومتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے مسائل کے بارے میں ہوں یا اقتصادی مسائل سے متعلق ہوں، یا حقوقِ بندگان کے بارے میں ہوں یا ان سے علیحدہ ہوں۔ یہ حقیقت خصوصیت کے ساتھ پیشِ نظر رکھنی چاہیئے کہ جو لوگ مخالفت کریں گے، ان کو شدید عذاب کی وعید سنائی گئی ہے
ایک نکتہ: 1۔ فیء کا مصرف
(وہ اموالِ غنیمت جو بغیر جنگ کے حاصل ہوں ان کا مصرف) وہ اموال جو فیء کے عنوان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبضہ میں سربراہِ حکومتِ اسلامی کی حیثیت سے آتے تھے، وہ ان تمام اموال پر مشتمل ہوتے تھے جو بغیر جنگ مسلمانوں کے ہاتھ لگتے تھے۔ یہ اموال اسلامی معاشرہ میں اعتدالِ ثروت کے سلسلہ میں اہم کردار انجام دے سکتے تھے، کیونکہ زمانۂ جاہلیت کی رسم کے خلاف یہ اموال کبھی بھی اقوام و قبائل کے دولت مندوں میں تقسیم نہیں ہوتے تھے، بلکہ براہِ راست مسلمانوں کے سربراہِ اعلیٰ کے اختیار میں ہوتے تھے۔ اور وہ بھی سب سے زیادہ استحقاق کے اصول کو پیشِ نظر رکھ کر تقسیم کیے جا سکتے تھے۔ جیسا کہ انفال کی بحث میں ہم نے کہا ہے کہ فیء، انفال کا ایک حصہ ہے اور اس کا دوسرا حصہ وہ تمام اموال ہیں جن کا مالک مشخص نہیں ہوتا۔ اس کی تشریح فقہِ اسلامی میں ہو چکی ہے اور اس سے متعلق زیادہ موضوعات میں، اس طرح الٰہی نعمتوں کا زیادہ حصہ حکومتِ اسلامی کے قبضہ میں جاتا اور اس کے بعد ضرورت مندوں کو ملتا۔ [تشریحی نوٹ: "انفال" کے بارے میں مختلف موضوعات اس طرح ہیں: (ا) وہ زمینیں جن کے مالکوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے اور وہ وہاں سے چلے گئے (بنی نظیر کے یہودیوں کی زمینوں کی طرح)۔ (٢) وہ زمینیں جن کے مالکوں نے انہیں اپنی مرضی سے مسلمانوں کے سربراہ کے سپرد کر دیا (فدک کی طرح)۔ (٣) اراضیِ موات (غیر آباد زمینیں)۔ (٤) سمندروں کے کنارے۔ (٥) پہاڑوں کی چوٹیاں۔ (٦) درّے۔ (٧) جنگلات۔ (٨) بادشاہوں کے منتخب اموال جو جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔ (٩) جو کچھ مسلمانوں کا پیشوا اموالِ غنیمت میں سے اپنے لیے رکھے۔ (١٠) وہ اموالِ غنیمت جو ان جنگوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ہاتھ لگیں جو سربراہِ مسلمین کی اجازت کے بغیر لڑی گئی ہوں۔ (١١) معدنیات۔ (١٢) اس شخص کی میراث جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ (مذکورہ بالا بعض موارد میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے لیکن اکثریت ان موارد کو قبول کرتی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے کتبِ فقہ کی طرف رجوع کیا جائے)]۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ پہلی اور دوسری آیت کے درمیان، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، کوئی تضاد نہیں ہے، اگرچہ پہلی آیت بظاہر فیء کو خود پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں دیتی ہے اور دوسری آیت میں اس کے چھ مصرف بیان ہوئے ہیں۔ اور وہ اس لیے کہ یہ چھ مصرف ان شدید استحقاق رکھنے والوں سے متعلق ہیں جن کا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خصوصیت سے خیال رکھنا چاہیئے۔ بالفاظِ دیگر، پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان تمام اموال کو اپنی ذات کے لیے اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ حکومتِ اسلامی کے سربراہ و امیر کی حیثیت سے جن شعبوں میں ضرورت محسوس کرتے ہیں، صَرف فرماتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ حق پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آئمہ معصومین کو اور ان کے بعد ان کے نائبین کو، یعنی مجتہدینِ جامع الشرائط کو پہنچتا ہے کیونکہ اسلامی احکام کبھی معطّل نہیں ہوتے اور حکومتِ اسلامی ان اہم ترین مسائل میں سے ہے جس سے مسلمان سروکار رکھتے ہیں اور اس حکومت کی بنیاد کا ایک حصہ اقتصادی مسائل پر منحصر ہے اور اصلی اسلامی اقتصادی مسائل یہی ہیں۔
2. ایک سوال کا جواب
یہاں ہو سکتا ہے یہ سوال پیش ہو کہ خدا نے یہ حکم کس طرح دیا ہے کہ تمام افراد بغیر کسی استثنا کے جو کچھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں، اسے بلا حیل و حجت قبول کر لیں؟ لیکن اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معصوم کہتے ہیں اور یہ حق صرف ان کے لیے اور ان کے معصوم جانشینوں کے لیے ہے، اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بہت سی روایتوں میں اس مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اگر خدا نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قسم کے اختیارات دیے ہیں، تو یہ اس لیے ہیں کہ خدا نے اسے مکمل طور پر آزمایا ہے اور وہ حد سے زیادہ اخلاقِ حسنہ کا مالک ہے، خُلُقِ عظیم کا مصداق ہے۔ یہ وہ وجہ ہے کہ یہ حق اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منجانب اللہ تفویض کیا گیا ہے۔ [بحوالہ: وہ روایات جو اس بحث کو اچھی طرح پیش کرتی ہیں، ان کے لیے تفسیر نور الثقلین کی جلد ۵، صفحہ ۲۷۹ سے لے کر صفحہ ۲۸۳ تک ملاحظہ کیے جائیں]۔
فدک کی غم انگیز داستان
فدک اطراف مدینہ میں تقریباً ایک سو چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر خیبر کے نزدیک ایک آباد قصبہ تھا۔ جب سات ہجری میں خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے افواجِ اسلامی نے فتح کر لیے اور یہودیوں کی مرکزی قوت ٹوٹ گئی، تو فدک کے رہنے والے یہودی صلح کے خیال سے بارگاہِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی آدھی زمینیں اور باغات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر دیے اور آدھے اپنے پاس رکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے کی زمینوں کی کاشتکاری بھی اپنے ذمہ لی۔ اپنی کاشتکاری کی زحمت کی اُجرت وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وصول کرتے تھے۔ اس سورہ کی آیت فیء کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ زمین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیتِ خاص تھی۔ ان کی آمدنی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مصرف میں لاتے تھے یا ان مدات میں خرچ کرتے تھے جن کی طرف اس سورہ کی آیت ۷ میں اشارہ ہوا ہے۔ لہٰذا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ساری زمینیں اپنی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو عنایت فرما دیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے بہت سے شیعہ اور اہل سنت مفسرین نے تصریح کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ منجملہ دیگر مفسرین کے، تفسیر الدر المنثور میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت آیت "فآتِ ذا القُربىٰ حقَّهُ" )رو،: 38( نازل ہوئی، تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو فدک عنایت فرمایا: "أقطع رسولُ اللهِ فاطمةَ فدكاً۔" [بحوالہ: دار المنثور جلد ۴ ص ۱۷۷]۔ کتاب کنز العمال، جو مسند احمد کے حاشیہ پر لکھی گئی ہے، میں صلۂ رحم کے عنوان کے ماتحت ابو سعید خدری سے منقول ہے کہ جب مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی، تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو طلب کیا اور فرمایا: "یا فاطمہ لکِ فدک" — اے فاطمہ! فدک تیری ملکیت ہے۔ [بحوالہ: کنز العمال جلد ۲ ص ۱۵۸]۔ حاکم نیشاپوری نے بھی اپنی تاریخ میں اس حقیقت کو تحریر کیا ہے۔ [بحوالہ: شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۶ ص ۲۰۹ سے آگے]۔ ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی نہج البلاغہ کی شرح میں داستانِ فدک تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے، اور اسی طرح بہت سے دیگر مؤرخین نے بھی۔ لیکن وہ افراد جو اس اقتصادی قوت کو حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کے قبضے میں رہنے دینا اپنی سیاسی قوت کے لیے مضر سمجھتے تھے، انہوں نے مصمم ارادہ کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کے یار و انصار کو ہر لحاظ سے کمزور اور گوشہ نشین کر دیں۔ حدیثِ مجہول "نحن معاشر الأنبیاء لا نورث" کے بہانے انہوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا قانونی طور پر اس پر متصرف تھیں اور کوئی شخص، "ذوالید" 'جس کے قبضے میں مال ہو'، اس سے گواہ کا مطالبہ نہیں کرتا۔ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے گواہ طلب کیے گئے۔ بی بی نے گواہ پیش کیے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود انہیں فدک عطا فرمایا، لیکن انہوں نے ان تمام چیزوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ بعد میں آنے والے خلفاء میں سے جو کوئی اہلِ بیت سے محبت کا اظہار کرتا تو وہ فدک انہیں لوٹا دیتا، لیکن زیادہ دیر نہ گزرتی کہ دوسرا خلیفہ اس کو چھین لیتا اور دوبارہ اس پر قبضہ کر لیتا۔ خلفاءِ بنی امیہ اور خلفاءِ بنی عباس بارہا یہ اقدام کرتے رہے۔ واقعۂ فدک اور اس سے تعلق رکھنے والے مختلف النوع حوادث جو صدرِ اسلام میں اور بعد کے ادوار میں پیش آئے، بہت زیادہ دردناک اور غم انگیز ہیں اور وہ تاریخِ اسلام کا ایک عبرت انگیز حصہ بھی ہیں، جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ کا متقاضی ہے تاکہ تاریخِ اسلام کے مختلف حوادث نگاہوں کے سامنے آ سکیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: تین گروہ، مہاجرین، انصار، تابعین اور ان کے نمایاں اوصاف
Tafsīr Nemūna · Vol. 9یہ آیتیں گزشتہ آیتوں کے مباحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں جو مالِ فَیْء کی چھ مصارف کے بارے میں تھیں اور جو حقیقت میں یتیموں، مسکینوں اور درماندہ مسافروں کی تفسیر ہیں اور سب سے زیادہ ابن السبیل کی تفسیر ہیں کیونکہ مسلمان مہاجرین کی زیادہ تر تعداد انہی پر مشتمل تھی جو اپنے وطن اور شہر میں تو مسکین نہیں تھے لیکن ہجرت کی بنا پر تہی دست ہو گئے تھے۔ خداوندِ عالم فرماتا ہے: "یہ اموال ان مہاجرین کے لیے ہیں جو اپنے گھروں سے باہر نکالے گئے ہیں۔" (لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ أَمْوَالِهِمْ) ۔ [تشریحی نوٹ: لِلْفُقَرَاءِ بدل ہے اور ابن السبیل کی تفسیر ہے]۔ "وہ خدا کے فضل اور اس کی رضا کو طلب کرتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کرتے ہیں اور وہ سچّے ہیں۔" (يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَ رِضْوَانًا وَ يَنصُرُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ)۔ یہاں مہاجرین کے تین اہم اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو اخلاص، جہاد اور صدق پر منحصر ہیں۔ سب سے پہلے "ابتغائے فضلِ خدا و رضائے خدا" کو پیش کرتا ہے جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ان کی ہجرت دنیا اور ہوائے نفس کے لیے نہیں تھی بلکہ پروردگار کی خوشنودی اور اس سے حاصل ہونے والے ثواب کے لیے تھی۔ اس بنا پر فضل یہاں ثواب کے معنی میں ہے اور رضوان خوشنودیِ پروردگارِ عالم ہے، جو تمنائے ثواب کا بلند ترین مرحلہ ہے، جیسا کہ متعدد آیاتِ قرآنی میں بھی یہی معنی آئے ہیں۔ منجملہ دیگر آیات کے سورہ فتح کی آیت ٢٩ میں جہاں اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس عبارت کے ساتھ توصیف کرتا ہے: (تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَ رِضْوَانًا)۔ "تو ان کو ہمیشہ رکوع و سجود میں دیکھے گا جب کہ وہ خدا کے فضل اور اس کی رضا کو طلب کرتے ہیں۔" فضل کی تعبیر ممکن ہے اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ وہ اپنے اعمال کو اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ اسے مستحقِ ثواب ہی نہیں سمجھتے بلکہ ثواب کو وہ ایک انعامِ الٰہی شمار کرتے ہیں۔ مفسّرین کی ایک جماعت نے فضل کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد دُنیاوی رزق ہے، کیونکہ بعض دوسری آیاتِ قرآنی میں یہی معانی آئے ہیں۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ مہاجرین کے اخلاص کے بیان کا مقام ہے، یہ معنی مناسب نہیں ہیں بلکہ مناسب وہی اجرِ خداوندی ہے۔ البتہ یہ احتمال بعید نہیں ہے کہ فضل سے جنّت کی جسمانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہو اور رضوان معنوی اور روحانی نعمتوں کی طرف۔ اور اس راہ میں جہاد کرنے سے ایک لمحہ کے لیے بھی دستبردار نہیں ہوتے۔ (توجہ رکھنی چاہیئے کہ یَنصُرُونَ کا جملہ فعل مضارع اور استمرار کی دلیل ہے)۔ تو اس طرح وہ صرف زبانی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ انہوں نے اپنے اعمال کو مستقل جہاد سے ثابت کیا ہے۔ تیسرے مرحلہ میں خداوندِ عالم ان کی سچّائی کے عنوان کے تحت تعریف کرتا ہے جس کے وسیع مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان کی صداقت کو ہر چیز میں منعکس کرتا ہے۔ وہ ایمان کے دعویٰ میں بھی سچّے ہیں، رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کے دعویٰ میں بھی اور دینِ حق کی طرف داری کے سلسلہ میں بھی۔ بغیر اظہار کیے یہ بات واضح ہے کہ یہ صفات اصحابِ پیغمبر میں ان آیات کے نزول کے زمانے میں تھیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان کے اندر کچھ ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے راستہ بدل لیا اور اس آیت کے عظیم اعزازات و افتخارات سے اپنے آپ کو محروم کر لیا۔ ان لوگوں کی طرح جنہوں نے بصرہ میں جنگِ جمل کی آگ اور شام میں صفین کی آگ بھڑکائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس خلیفۂ برحق کے مقابلہ میں، جس کی باتفاقِ مسلمین، اطاعت واجب تھی، آمادۂ جدال و قتال ہوئے اور اس طرح انہوں نے ہزاروں مسلمانوں کا خونِ ناحق بہایا۔ اور پھر انہی جیسے دوسرے افراد بھی انہی کے زمرہ میں ہیں۔ بعد والی آیت میں ان اموال کے ایک اور مصرف کو پیش کرنے کے ضمن میں گروہِ انصار کی ایک بہت ہی جاذبِ توجہ، عمدہ اور بلیغ توصیف پیش کرتا ہے۔ اور وہ بحث جو گزشتہ آیت میں مہاجرین سے متعلق تھی، اس کی تکمیل کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور وہ لوگ جو دارالہجرۃ میں (مدینہ میں) اور ایمان کے گھر میں مہاجرین سے پہلے سکونت پذیر تھے۔" (وَالَّذِينَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ)۔ قابلِ توجہ یہ امر ہے کہ "تَبَوَّؤُ"، "بواء" (بر وزن دواء) کے مادّہ سے اصل میں اجزائے مکان کی مساوات کے معنی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں مکان کو صاف ستھرا اور مرتب رکھنے کے لیے "بواء" آتا ہے۔ یہ تعبیر ایک لطیف کنایہ ہے اس اعتبار سے کہ انصارِ مدینہ اس سے پہلے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مہاجرین اس شہر میں وارد ہوں، ہجرت کے لیے راہ ہموار کر چکے تھے اور جیسا کہ تاریخ کہتی ہے وہ دو مرتبہ عقبہ (مکّے کے قریب ایک گھاٹی ہے) میں آئے اور پوشیدہ طور پر انہوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی اور مبلّغین کی شکل میں مدینہ لوٹ گئے، یہاں تک کہ مکّے کے مسلمانوں میں سے ایک شخص مصعب ابن عُمیر کو مبلّغ کی حیثیت سے وہ مدینہ اپنے ہمراہ لے گئے تاکہ عوام کے ذہنوں کو پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے لیے آمادہ کریں۔ اس وجہ سے نہ صرف یہ کہ انہوں نے اپنے ظاہری گھروں کو مہاجرین کی پذیرائی کے لیے آمادہ کیا بلکہ اپنے خانۂ دل کو اور شہر کے ماحول کو بھی جتنا ہو سکتا تھا مہاجرین کے استقبال کے لیے سازگار بنایا۔ "مِن قَلْبِهِمْ" کی تعبیر بتاتی ہے کہ یہ سب مکّے کے مسلمانوں کی ہجرت سے پہلے ہو چکا تھا اور یہی چیز اہم ہے۔ اس تفسیر کے مطابق مدینہ کے انصار بھی ان اموال کے مستحقین میں سے تھے۔ یہ چیز اس سے تضاد نہیں رکھتی جو پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گروہِ انصار میں سے صرف دو یا تین افراد کو اموالِ بنی نضیر میں سے کچھ عنایت فرمایا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ انصارِ مدینہ میں ان چند کے علاوہ مسکین و فقیر نہ ہوں، جبکہ ان اموال کے استحقاق کی بنیادی شرط فقر ہے۔ مہاجرین کی صورتِ حال اس کے بالکل برعکس تھی، اگر وہ فقیر کے مصداق نہ بھی ثابت ہوتے تو ابن السبیل ضرور تھے۔ اس کے بعد تین اور ایسے اوصاف، جو انصار کے جذبات و احساسات کو بیان کرتے ہیں، پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ لوگ اس طرح ہیں جو ہر اس مسلمان کو، جو ان کی طرف ہجرت کر کے آئے، دوست رکھتے ہیں۔" (يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ)۔ اور اس سلسلہ میں ان کی نظر میں تمام مسلمان برابر ہیں، بلکہ ان کے نزدیک ایمان و ہجرت اہم مسئلہ ہے۔ یہ دوست رکھنا ان کی ایک مستقل خصوصیت ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنے سینہ میں، اس کے بارے میں جو مہاجرین کو دیا گیا ہے، کسی قسم کی احتیاج محسوس نہیں کرتے۔ (وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا)۔ نہ ان اموالِ غنیمت پر ان کی آنکھ ہے جو انہیں دیے گئے ہیں اور نہ وہ ان سے حسد کرتے ہیں، حتیٰ کہ جو چیزیں مہاجرین کو عطا ہوئی ہیں، ان کے متعلق اپنے دل میں کوئی احتیاج محسوس نہیں کرتے۔ یہ چیز انصار کی انتہائی عظمت اور بلند نظری پر دلالت کرتی ہے۔ تیسرے مرحلہ میں مزید فرماتا ہے: "وہ مہاجرین کو خود پر مقدم سمجھتے ہیں اور انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود بہت زیادہ فقر میں مبتلا ہیں۔" (وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "خصاصة"، خصاص کے مادّہ سے (بر وزن أساس) ان شگافوں کے معنی میں ہے جو گھر کی دیوار میں پڑ جاتے ہیں۔ چونکہ فقر و فاقہ انسان کی زندگی میں شگاف پیدا کر دیتا ہے، لہٰذا اسے خصاصہ کہا گیا ہے]۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر انصار کی تین نمایاں خصوصیات ہیں: ایک محبت، دوسرے بلند نظری اور تیسرے ایثار۔ مفسرین نے اس آیت کی شانِ نزول میں متعدد داستانیں بیان کی ہیں۔ ابنِ عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی نضیر کے یہودیوں کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے دن انصار سے فرمایا: "اگر پسند کرو تو اپنے مال اور گھر مہاجرین میں تقسیم کر دو، اور ان اموالِ غنیمت میں ان کے ساتھ شریک ہو جاؤ اور اگر چاہو تو تمہارے اموال اور گھر تمہارے ہی رہیں، اور ان اموال میں سے تمہیں کوئی چیز نہ دی جائے۔" اس پر انصار نے کہا: "ہم اپنے اموال اور گھر بھی مہاجرین میں تقسیم کر دیتے ہیں اور اموالِ غنیمت میں سے بھی کچھ نہیں لیتے، ہم مہاجرین کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں" — اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور ان کے اس اعلیٰ جذبہ کی تعریف کی۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۶۰]۔ ایک اور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایک شخص خدمتِ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آیا اور عرض کیا: "میں بھوکا ہوں۔" پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا: "میرے گھر سے اس کے لیے کھانا لے آئیں۔" لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں کھانا نہیں تھا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "کون شخص ہے جو آج رات اس شخص کو مہمان رکھے"؟ انصار میں سے ایک شخص نے آمادگی ظاہر کی۔ وہ اسے اپنے گھر لے گیا۔ اس کے گھر میں تھوڑی سی غذا کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور وہ بھی اس کے بچوں کے لیے تھی۔ اُس نے زوجہ سے کہا کہ مہمان کے لیے کھانا لے آئے اور چراغ گل کر دے اور جس طرح ممکن ہو بچوں کو سُلا دے۔ اس کے بعد شوہر اور بیوی دونوں دسترخوان پر بیٹھ گئے اور بغیر اس کے کہ کھانے میں سے کچھ کھائیں، وہ اپنا منہ چلاتے رہے۔ مہمان نے خیال کیا کہ وہ بھی اس کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔ اس نے سیر ہو کر کھانا کھایا، وہ دونوں میاں بیوی اس رات بھوکے سوئے۔ صبح کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے اور بغیر اس کے کہ وہ کچھ کہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مندرجہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی اور ان کے ایثار کی تعریف کی۔ ان روایات میں جو طُرق اہل بیت علیہم السلام سے پہنچتی ہیں، آیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے چھوٹے چھوٹے میزبان تھے اور جس نے بچوں کو بھوکا سُلا دیا وہ بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تھیں۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۶۰]۔ توجہ کرنی چاہیئے کہ ہو سکتا ہے پہلی داستان آیت کی شانِ نزول ہو، لیکن دوسری صورتِ حال پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس قسم کی تطبیق ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ایثار پر مبنی مہمانی کے بارے میں آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس وجہ سے انصار کے لیے میں آیات کا نزول حضرت علی علیہ السلام کے میزبان ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ آیت اُحد کے جنگ جُو غازیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جن میں سے سات افراد بہت زیادہ پیاسے تھے اور زخمی تھے۔ کوئی شخص ایک آدمی کے پیاس بجھانے کی مقدار کے برابر پانی لے کر آیا، وہ جس کے پاس لے کر گیا اُس نے دوسرے کا حوالہ دیا اور اُسے اپنے اوپر ترجیح دی۔ آخرکار اس نے پیاس کی حالت میں جان دے دی اور خدا نے اس کے اس ایثار کی تعریف و توصیف کی۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۶۲]۔ لیکن واضح رہے کہ یہ آیت بنی نضیر کے واقعہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے، جب کہ اپنے مفہوم کی عمومیت کی بنا پر یہ آیت مشابہ موارد پر تطبیق ہے۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے، مذکورہ اوصافِ کریمہ کی بنا پر اور نتیجے کے بیان کے طور پر مزید فرماتا ہے: "وہ لوگ جن کو خدا نے بخل و حرص سے روکا، وہی رستگار ہیں۔" وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ "شح" جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے، ایسے بخل کے معنی میں ہے جس میں حرص شامل ہو اور جو عادت بن چکا ہو۔ "یُوقَ"، "وقایة" کے مادّہ سے اگرچہ فعل مجہول کی شکل میں ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اس کا فاعل یہاں خدا ہے، یعنی جس شخص کو خدا اس عیب سے محفوظ رکھے، وہ کامیاب ہے۔ ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا: "اَتَدْرِي مَا الشَّحِيح"؟ "کیا تم جانتے ہو کہ شحیح کون ہے"؟ اُس نے جواب میں عرض کیا: "هو البخيل" تو امام علیہ السلام نے فرمایا: "الشُّحُّ أشدُّ من البُخل، إنّ البخيلَ يَبْخَلُ بما في يده، والشحيحُ يَشُحُّ بما في أيدي الناس، وعلى ما في يده، حتّى لا يرى في أيدي الناس شيئاً إلّا تمنّى أن يكون له بالحلال والحرام، ولا يَقْنَعُ بما رزقه الله عزّ وجلّ۔" شح، بخل سے زیادہ سخت ہے۔ بخیل وہ ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہو، اس کے متعلق بخل کرے۔ لیکن شحیح وہ ہے جو اس کے بارے میں بھی بخل کرتا ہو جو لوگوں کے پاس ہو اور جو کچھ اس کے اپنے پاس ہو، اس میں بھی۔ یہاں تک کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے، وہ آرزو کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ آ جائے، چاہے حلال طریقہ سے، چاہے حرام سے۔ اور جو رزق اسے خدا نے دیا ہے، اس پر کبھی قناعت نہیں کرتا۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۹۱، حدیث ۶۴]۔ ایک اور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں: "لا يجتمع الشُّحُّ والإيمانُ في قلبِ رجلٍ مسلم، ولا يجتمع غُبارٌ في سبيل الله ودُخانُ جهنّمَ في جوفِ رجلٍ مسلم۔" "بخل و حرص اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے، جس طرح راہِ جہاد کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں ایک مردِ مسلمان کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔" مختصر یہ کہ مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بخل و حرص ترک کرنا انسان کو فلاح و کامیابی تک پہنچاتا ہے، جب کہ اس عیب سے آلودگی، سعادتِ انسانی کے قصر کو ڈھا دیتی ہے اور اسے ویران کر دیتی ہے۔ آخری زیرِ بحث آیت، مسلمانوں کے تیسرے گروہ کے بارے میں گفتگو کرتی ہے، جو قرآن مجید کے الہام و ہدایت کی بنا پر ہمارے درمیان تابعین کے نام سے معروف ہیں۔ وہ مہاجرین و انصار کے بعد، جن کے متعلق گزشتہ آیات میں گفتگو آئی تھی، مسلمانوں کے تیسرے عظیم گروہ کو تشکیل دیتے ہیں۔ خداوندِ عالم فرماتے ہے: "اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے ہیں، وہ کہتے ہیں: پروردگارا! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو، جنہوں نے ایمان میں ہم پر سبقت حاصل کی ہے، بخش دے، اور ہمارے دلوں میں مومنین کے لیے کوئی حسد و کینہ نہ رہنے دے۔ پروردگارا! تو مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔" (والذین جاءو من بعدھم یقولون رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالْإِیمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِی قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوفٌ رَّحِیمٌ۔) اگرچہ بعض مفسرین نے اس جملے کا مفہوم ان لوگوں میں محدود کر دیا جو اسلام کی کامیابی اور فتحِ مکہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ آ ملے، لیکن اس محدودیت کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ قیامت تک کے تمام مسلمان اس میں شامل ہیں۔ (وَالَّذِینَ جَاءُوا...) کا جملہ بظاہر لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِینَ پر عطف ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اموالِ فَیء مہاجرین و انصار کے مساکین کے لیے ہی نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمان بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ یہ ایک مستقل جملہ ہے (اس طرح سے والذین جاؤوا مبتدا ہے اور یقولون خبر ہے)۔ لیکن گزشتہ آیات سے اس کی ہم آہنگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ یہاں بھی ان ہی کے تین اوصاف بیان کیے گئے ہیں: 1. پہلی صفت یہ کہ وہ اپنی اصلاح، طلبِ آمرزش اور بارگاہِ خدا میں توبہ کی فکر میں رہتے ہیں۔ 2. دوسری صفت یہ کہ وہ ایمان کی طرف سبقت کرنے والوں کو بڑے بھائی کی طرح دیکھتے ہیں، جو ہر لحاظ سے قابلِ احترام ہوتے ہیں اور ان کے لیے بھی بارگاہِ خدا سے بخشش و مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ 3. تیسری صفت یہ کہ ان کی کوشش ہے کہ ہر قسم کا کینہ، دشمنی اور حسد اپنے دل سے باہر نکال دیں اور اس راہ میں خداوندِ رؤف و رحیم سے مدد طلب کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے: • اپنی شخصیت کی تعمیر، • ایمان کی طرف سبقت کرنے والوں کا احترام، • کینہ و حسد سے دُوری۔ ان کی خصوصیات ہیں۔ "غِلّ" (بروزنِ سِلّ) جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے، اصل میں کسی چیز کے پوشیدہ طور پر نفوذ کے معنی میں ہے اسی لیے درختوں کے درمیان جاری رہنے والے پانی کو "غلل" کہتے ہیں اور چونکہ حسد، عداوت اور دشمنی پوشیدہ طور پر انسان کے دل میں نفوذ کرنے کو کہتے ہیں، اس لیے اسے "غل" کہا جاتا ہے۔ اس بناء پر غل صرف حسد کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک وسیع مفہوم ہے، جس میں بہت سے عیوب اور قبیح عادات شامل ہیں۔ "اخوان" (بھائی) کی تعبیر اور آیت کے آخر میں خداوندِ رؤف و رحیم سے مدد طلب کرنا، روحِ محبت و اخوت کا ترجمہ ہے، جسے سارے اسلامی معاشرے پر فرماں روا ہونا چاہیے۔ اور جو شخص کسی نیکی کو چاہتا ہے، وہ صرف اپنے لیے نہ چاہے بلکہ تمام کوششیں اجتماعی شکل میں سب کے لیے انجام پانی چاہئیں اور ہر قسم کا کینہ، بُغض، عداوت، دشمنی، بخل، حرص اور حسد سینوں سے دھو دینا چاہیے۔
ایک نکتہ: صحابہ قرآن و تاریخ کی میزان میں
یہاں بعض مفسرین ان اوصاف کی طرف توجہ کیے بغیر، جو مہاجرین، انصار اور تابعین میں سے ہر ایک کے لیے مندرجہ بالا آیت میں آئے ہیں، یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ تمام صحابہ کو بغیر کسی استثناء کے پاک و منزّہ شمار کریں اور وہ غلط کام جو بعض اوقات خود زمانۂ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یا اس کے بعد ان میں سے بعض سے سرزد ہوئے ہیں، ان سے چشم پوشی کی جائے اور جو شخص بھی مہاجرین، انصار و تابعین کی صف میں قرار پایا ہے، ہمیں آنکھیں بند کر کے اُسے مقدّس و محترم سمجھنا چاہیے۔ حالانکہ مندرجہ بالا آیت ان افراد کو دندان شکن جواب دیتی ہے اور سچّے مہاجرین، انصار و تابعین کے ضوابط کو باریک بینی کے ساتھ معیّن کرتی ہے۔ مہاجرین میں پروردگارِ عالم اخلاص، جہاد اور صدق کو بیان فرماتا ہے۔ اور انصار میں مہاجرین کی بہ نسبت ایثار اور ہر قسم کے بُخل و حرص سے پرہیز کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور تابعین میں شخصی تعمیر، ایمان میں سبقت کرنے والوں کا احترام، ہر قسم کے کِینہ و حسد سے پرہیز جیسی صفات کو بیان کرتا ہے۔ ان حالات میں ہم اُن افراد کو کس طرح محترم شمار کریں جو جنگِ جمل میں موجود تھے اور انہوں نے اپنے امام و رہبر کے خلاف تلوار کھینچی؟ انہوں نے نہ تو اخوّتِ اسلامی کی رعایت کی، نہ اپنے سینوں کو غِل، حسد اور بُخل سے پاک کیا اور نہ حضرت علی علیہ السلام کی سبقتِ ایمانی کا احترام کیا۔ ہم کس طرح ان پر ہر قسم کی تنقید کو بند سمجھیں اور آنکھیں بند کر کے ان کے اور ان کی باتوں کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیں؟ اس بنا پر خطِ ایمان کی طرف سبقت کرنے والوں کے احترام کو مدّ نظر رکھتے ہوئے، ان کے ایمان کے معاملے کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے حوالے سے اور ان شدید طوفانوں میں جو آپ کے بعد اسلامی معاشرے کو لاحق ہوئے، ان کے حوالے سے باریک بینی اور دقّتِ نظر کے ساتھ زیرِ مطالعہ رکھیں گے۔ اور ان معیاروں پر، جو ہمیں قرآن کی آیات سے معلوم ہوئے ہیں، ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ اور اپنا تعلق ان کے ساتھ مستحکم رکھیں گے، اپنے عہد و پیمان پر قائم رہیں گے۔ اور ان سے، جنہوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں یا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اپنا رابطہ آپ سے توڑ لیا، ہم رشتہ توڑ لیں گے۔ یہ ہے صحیح اور حکمِ قرآن و عقل سے ہم آہنگ منطق۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9مندرجہ بالا آیت کے لیے بعض مفسرین نے ایک شان نزول بیان کی ہے جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔ منافقینِ مدینہ کے ایک گروہ، عبداللہ بن ابی وغیرہ نے پوشیدہ طور پر کسی کو بنی نظیر کے یہودیوں کے پاس بھیجا اور کہا کہ تم آرام سے بیٹھے رہو، اپنے گھروں سے باہر نہ نکلو، اپنے قلعوں کو مستحکم کر لو۔ ہمارے پاس دو ہزار افراد ہیں جو آخر دم تک تمہاری مدد کے لیے تیار ہیں۔ بنی قریظہ اور تمہارے حلیف قبیلہ غطفان کے لوگ بھی تمہارا ساتھ دیں گے۔ یہی وہ محرک تھا جس نے بنی نظیر کے یہودیوں کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت پر اُبھارا۔ لیکن اسی دوران بنی نظیر کے ایک سردار، جس کا نام سلام تھا، اس نے حیی ابنِ اخطب سے، جو بنی نظیر کے لائحہ عمل کا نگرانِ خاص تھا، کہا: تُو عبداللہ بن ابی کا اعتبار نہ کر، وہ چاہتا ہے کہ تجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ پر اُبھارے اور خود اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور تجھے مصیبتوں کے حوالے کر دے۔ حیی نے کہا: "ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی اور اس سے جنگ کرنے کے علاوہ اور کسی چیز کو نہیں جانتے۔" سلام نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمیں آخرکار اس سرزمین سے نکلنا پڑے گا اور ہمارا مال و دولت، شرف و بزرگی، یہ سب برباد ہوں گے۔ ہمارے بچے قیدی بنائے جائیں گے اور ہمارے جوان قتل کر دیے جائیں گے۔[بحوالہ: روح البیان، جلد ٩، صفحہ ٤٣٩۔ یہی معنی کچھ اختلاف کے ساتھ تفسیر درالمنثور، جلد ٦، صفحہ ١٩٩ میں بھی آیا ہے]۔ مندرجہ بالا آیات اس واقعہ کو بیان کرتی ہیں: بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیات بنو نظیر کے واقعہ سے پہلے نازل ہوئیں اور اس کے بعد کے حوادث کو بیان کرتی ہیں اور اس وجہ سے انہیں قرآن کے اخبارِ غیب میں شمار کرتے ہیں۔ آیات کا لب و لہجہ، جو فعل مضارع کی شکل میں ہے، اگرچہ اس نظریہ کی تائید کرتا ہے لیکن گزشتہ آیات سے ان آیات کا جوڑ یہ بتاتا ہے کہ یہ بنو نظیر کے واقعہ کے بعد نازل ہوئیں، کیونکہ گزشتہ آیات بنو نظیر کی شکست کے واقعہ اور ان کی جلاوطنی کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ فعلِ مضارع کا استعمال حکایتِ حال کے طور پر ہے (غور فرمایئے)۔
تفسیر: یہودیوں کی فتنہ انگیزی اور اس میں منافقین کی شمُولیت
گزشتہ آیات میں یہود بنی نظیر کے واقعہ کو بیان کرنے اور مومنین کے تین گروہ یعنی مہاجرین، انصار اور تابعین کے حالات کی ہر ایک خصوصیت کی تشریح کے ساتھ پیش کرنے کے بعد پروردگارِ عالم زیر بحث آیات میں ایک گروہ یعنی منافقین اور ان کی اس واقعہ سے متعلق کارکردگی کو پیش کرتا ہے تاکہ تمام افراد کے حالات کی کیفیت ایک دوسرے کے موازنہ کے ساتھ واضح کر دے۔ اور یہ قرآن کا طریقِ کار ہے کہ وہ مختلف گروہوں کے تعارف کے لیے انہیں ایک دوسرے کے تقابل کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ پہلے رُوئے سخن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا تُو نے منافقین کو نہیں دیکھا جو اپنے بھائی اہل کتاب کفار سے یہ کہتے ہیں کہ اگر تمہیں تمہارے وطن سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہوں گے اور تمہارے بارے میں ہم کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔" (أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ)۔ اس طرح گروہِ منافقین نے طائفہ یہود سے تین باتوں کا وعدہ کیا، جبکہ وہ ہر بات پر جھوٹے تھے۔ پہلا یہ کہ اگر انہوں نے اس سرزمین سے تمہیں نکالا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ تمہارے بعد کسی خالی جگہ کو دیکھیں۔ دوسرا یہ کہ اگر کوئی حکم کسی شخص کی طرف سے تمہارے خلاف صادر ہو، نہ صرف اب بلکہ کبھی بھی تو ہم اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔ تیسرا یہ کہ اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم تمہارے دوش بدوش جنگ کریں گے اور تمہاری مدد کے سلسلے میں کسی تردد کا شکار نہیں ہوں گے۔ جی ہاں! یہ قول و قرار تھے جو منافقین نے اس واقعہ سے پہلے یہود سے کیے تھے لیکن بعد کے واقعات نے بتایا کہ یہ سب جھوٹ تھا۔ اسی بنا پر قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے: "خدا گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔" (وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ)۔ کیا لرزا دینے والا اندازِ کلام ہے جو نوع و اقسام کی تاکیدوں کے ساتھ ہے: خدا کا لفظ، "گواہ" کو جملہ اسمیہ کی شکل میں لانا، پھر "انَّ" اور "لام" کی تاکید — یہ سب باتیں جھوٹ اور نفاق اس طرح باہم ملے ہوئے ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے درمیان جدائی ممکن نہیں ہے۔ منافق ہمیشہ جھوٹے تھے اور زیادہ تر جھوٹے منافق ہوتے ہیں۔ "اخوانھم" (بھائی) کی تعبیر بتاتی ہے کہ منافقین اور کفار کے درمیان بہت نزدیکی رابطہ ہے۔ جیسا کہ گزشتہ آیات میں مومنین کے درمیان رابطہ اخوت پر زور دیا گیا تھا، فرق صرف یہ تھا کہ مومنین اپنی اخوت کے بارے میں سچے تھے، اس لیے کسی قسم کے ایثار اور قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ اس کے برعکس منافقین آپس میں کسی قسم کی وفاداری اور ہمدردی نہیں رکھتے اور سخت ترین لمحات میں اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ یہ مومنین اور کافرین کی اخوت میں فرق ہے۔ (وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا)۔ "ہم تمہارے معاملے میں کسی کی اطاعت نہیں کریں گے" — کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ ہم تمہارے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیتوں، نصیحتوں، تنبیہوں اور خطرات کے اشاروں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیں گے۔ اس کے بعد ان کی دروغ گوئی کے متعلق مزید وضاحت کے لیے اضافہ کرتا ہے: "اگر یہودیوں کو نکال دیں تو یہ منافقین ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔" (لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ)۔ "اور اگر ان کے ساتھ جنگ ہو تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔" (وَلَئِنْ قُوتِلُوا لَا يَنْصُرُونَهُمْ)۔ اور بالفرض اگر اپنے قول پر عمل کریں اور ان کی مدد کے لیے آمادہ ہو بھی جائیں تو جلد ہی میدان سے فرار کر جائیں گے۔ (وَلَئِنْ نَصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ)۔ "اور اس کے بعد ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔" (ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ)۔ ان آیات کا قاطع لب و لہجہ ہر منافق کو لرزہ بر اندام کر دیتا ہے۔ خصوصاً یہ کہ آیت اگرچہ ایک خاص مورد میں نازل ہوئی ہے لیکن طے شدہ طور پر اسی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ منافقین کے تمام دشمنانِ اسلام سے رابطے، ایک دوسرے سے مرتکب کار اور ان وعدوں کے سلسلے میں جو وہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں — یہ ایک اصلی کلی ہے، حالانکہ وہ تمام وعدے بےبنیاد ہوتے ہیں۔ صورتِ حال نہ صرف گزشتہ تاریخِ اسلام میں نظر آتی ہے بلکہ آج بھی اسلامی ممالک میں، منافقین کی دشمنانِ اسلام سے سازباز کے سلسلہ میں زندہ نمونے نظر آتے ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور یہ طے شدہ ہے کہ اگر سچے مومنین اپنی اسلامی ذمہ داریاں سمجھ لیں اور اپنا فرض ادا کریں تو ان کے مقابلہ میں کامیابی سے ہم کنار ہوں گے اور ان کے منصوبے نقش بر آب ثابت ہوں گے۔ بعد والی آیت میں اس شکست کے اسباب کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تمہارا خوف ان کے دلوں میں خدا کے خوف سے زیادہ ہے۔" (لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِي صُدُورِهِمْ مِنَ اللَّهِ)۔ چونکہ وہ خدا سے نہیں ڈرتے لہٰذا ہر چیز سے وحشت و خوف رکھتے ہیں۔ خصوصاً اے مومنو! تم جیسے سخت دشمن سے، یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک نادان گروہ ہے۔ (ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ)۔ "رھبة" اصل میں اس خوف کے معنوں میں ہے جس کے ساتھ اضطراب و احتیاط ہو۔ اور حقیقت میں یہ ایسا گہرا اور جڑیں رکھنے والا خوف اور وحشت ہے جس کے اثرات کردار میں منعکس ہوتے ہیں۔ اگرچہ مندرجہ بالا آیت یہود بنی نظیر اور مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کی شکست کے عوامل کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کا نفسِ مضمون ایک حکم کلی و عمومی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ انسان کے دل میں کبھی دو خوف جمع نہیں ہو سکتے: خوفِ خدا اور ماسوی اللہ کا خوف۔ اس لیے کہ تمام چیزیں حکمِ خدا کی تابع ہیں اور جو شخص خدا سے ڈرے اور اس کی قدرت سے آگاہ ہو، وہ اس کے غیر سے کبھی خائف نہیں ہو سکتا۔ ان سب بدبختیوں کا سرچشمہ جہالت، نادانی اور حقیقتِ توحید سے بےخبر ہونا ہے۔ اگر اس زمانے کے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان، مومن اور موحد ہوں تو وہ نہ صرف موجودہ دنیا کی فوجی اور صنعتی طاقتوں سے خائف نہ ہوں، بلکہ مذکورہ طاقتیں ان سے ڈریں، جیسا کہ ہم اس کے نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ طاقتیں باوجود ان ترقی یافتہ وسائل کے اور ان مہلک ہتھیاروں کے، ایک چھوٹی سی لیکن قربانی دینے کی صلاحیت رکھنے والی قوم سے خوف زدہ ہیں۔ اسی مفہوم کی ایک نظیر سورہ آل عمران کی آیت ۱۵۱ میں بھی آئی ہے: (سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ)۔ "عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس لیے کہ انہوں نے بغیر کسی دلیل کے کچھ چیزوں کو خدا کا شریک قرار دیا ہے۔" ان کے رہنے کی جگہ آگ ہے اور ظالموں کی قرار گاہ کیا ہی بُری ہے۔ اس کے بعد اس اندرونی خوف کی واضح نشانی کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ سوائے محکم قلعوں میں رہ کر یا پسِ دیوار ہو کر تم سے کبھی جنگ نہیں کر سکیں گے وہ تمہارے سامنے آنے سے گھبراتے ہیں۔" (لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَاءِ جُدُرٍ)۔ "قری" جمع ہے "قریہ" کی، جو آبادی کے معنی میں ہے، عام اس سے کہ شہر ہو یا گاؤں۔ کبھی ایک ہی جگہ جمع شدہ انسانوں کے بارے میں بھی یہ لفظ آتا ہے۔ "محصنة" کا مادّہ "حصن" (بروزنِ جسم) قلعہ کے معنی میں ہے۔ اس بنا پر "قری محصنة" ان آبادیوں کو کہا جاتا ہے جو برجوں اور قلعوں کے ذریعہ، یا خندق کھود کر یا اور دوسری رکاوٹیں کھڑی کرنے کی وجہ سے دشمن کی یلغار سے محفوظ ہوں۔ "جدر" جمع ہے "جدار" کی، دیوار کے معنی میں ہے۔ اس لفظ کے بنیادی معنی بلندی کے ہیں۔ جی ہاں، چونکہ وہ ایمان اور توکّل علی اللہ کی پناہ گاہ سے باہر ہیں، لہٰذا سوائے دیواروں اور قلعوں کی پناہ کے، مومنین سے جنگ کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: لیکن یہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ کمزور، ناتواں اور فنونِ جنگ سے ناواقف افراد ہیں۔ جب جنگ خود ان کے مابین واقع ہو تو نہایت شدید ہوتی ہے۔ (بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ)۔ لیکن تمہارے مقابلہ میں صورتِ حال بالکل بدل جاتی ہے اور خوف و وحشت سے ایک عجیب اضطراب ان پر مسلط ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ایک بنیادی حقیقت ہے کہ تمام بےایمان اقوام کی جب آپس میں جنگ ہو، اور اس کے مقابلہ میں جب مسلمانوں سے مقابلہ ہو، تو مذکورہ صورتِ حال پیش آتی ہے۔ اس کے نمونے ہم نے موجودہ زمانے میں بار بار دیکھے ہیں۔ جب خدا کی معرفت نہ رکھنے والے افراد ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، تو اس طرح ایک دوسرے کی سرکوبی کرتے ہیں کہ ان کی جنگجوئی میں کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا۔ لیکن جب ان کا مقابلہ مومنین اور شہادت فی سبیل اللہ کا شوق رکھنے والوں سے ہوتا ہے، تو وہ فوراً ہتھیاروں، محکم مورچوں اور قلعوں کی پناہ لے لیتے ہیں اور اضطراب انہیں چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے۔ اگر مسلمان واقعی اسلامی اقدار اختیار کریں تو وہ دشمنوں کے مقابلہ میں ازسرنو افضل و برتر ثابت ہوں۔ اسی آیت کو جاری رکھتے ہوئے، ان کی شکست اور ناکامی کے ایک اور سبب کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تو ان کے ظاہر کی طرف دیکھے تو انہیں متفق و متحد تصور کرے گا، حالانکہ ان کے دل پراگندہ ہیں، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جو عقل سے محروم ہیں۔" (تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ)۔ "شَتَّى" جمع ہے "شَتِیت" کی، یعنی متفرق۔ قرآن تحصیلِ مسائل میں فی الواقع بہت ہی دقیق اور الہام بخش ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ تفرقہ اور اندرونی نفاق، جہالت، بےخبری اور نادانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے کہ شرک کا سبب جہالت ہے اور پراگندگی و انتشار کا سبب شرک ہے اور انتشار کا نتیجہ شکست ہے۔ اس کے برعکس علم، جو ہے وہ عقیدۂ توحید، عملی اتفاق اور ہم آہنگی کو وجود میں لاتا ہے، اور بجائے خود کامیابیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس طرح بےایمان افراد کا ظاہری اجتماع، ان کے آپس کے معاہدے اور فوجی و اقتصادی وحدت سے ہمیں کبھی دھوکہ نہیں کھانا چاہیے، اس لیے کہ ان باہمی معاہدوں اور نعروں کے پیچھے وہ دل ہوتے ہیں جو انتشار کا شکار ہوں۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے: وہ اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے مادی مفاد کا محافظ ہوتا ہے، اور ہمیں معلوم ہے کہ مادی منفعتوں میں ہمیشہ تکرار ہوتا ہے۔ جب کہ مومنین کی وحدت اور ان کا اجتماع ایسے اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے جس میں تضاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ان کی وحدت کا اصول اصل ایمان، توحید اور الٰہی اقدار پر مبنی ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاں کہیں مسلمانوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑے، تو مندرجہ بالا آیات کے مطابق اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ حقیقتِ ایمانی سے محروم ہوتے ہیں۔ جب تک اس کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے، ان کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: شیطان کی بوسیدہ رسیوں کے ساتھ کنویں میں نہ جاؤ
Tafsīr Nemūna · Vol. 9یہ آیات اسی طرح یہود بنی نظیر اور منافقین کی داستان کے بارے میں بحث کو جاری رکھتے ہوئے ہیں اور دونوں گروہوں کی حیثیتوں کو عمدہ تشبیہوں کے ساتھ مشخص کرتی ہیں۔ خداوندِ عالم پہلے فرماتا ہے: "بنو نظیر کے یہودیوں کی داستان ایسے لوگوں کی داستان کی مانند ہے جو ماضی قریب میں ان سے پہلے تھے، وہی جنہوں نے اس دنیا میں اپنے کام کا تلخ انجام دیکھا تھا اور قیامت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔" (كَمَثَلِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ [تشریحی نوٹ: یہ جملہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے: مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم]۔ رہی یہ بات کہ وہ کون سا گروہ تھا جس کی بنو نظیر کے واقعہ سے پہلے عبرتناک سرگزشت تھی تو وہ اس طرح ہے کہ ان دو واقعات کے درمیان زیادہ وقفہ نہیں تھا۔ ایک جماعت تو انہی مشرکین مکہ کی تھی جنہوں نے جنگ بدر میں شکست کا تلخ مزہ اپنے پورے وجود کے ساتھ چکھا تھا اور مجاہدین اسلام کی ضربوں نے انہیں تہہ تیغ کر دیا تھا۔ بنو نظیر کا واقعہ، جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے، جنگ اُحد کے بعد پیش آیا اور واقعہ بدر اُحد سے ایک سال پہلے ہوا۔ اس وجہ سے ان دونوں واقعات کے درمیان کوئی خاص فاصلہ نہیں تھا۔ بہت سے مفسرین اسے یہود بنی قینقاع کے واقعہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو بدر کے واقعہ کے بعد ہوا اور یہود کے اس گروہ کے مدینہ سے نکالے جانے پر ختم ہوا۔ یہ تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ یہ یہود بنی نظیر کے ساتھ زیادہ مماثلت رکھتی ہے۔ یہود بنی قینقاع بھی یہود بنی نظیر کی مانند دولت مند، جنگجو اور مغرور افراد تھے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو اپنی قوت و طاقت کی بنا پر دھمکیاں دیتے تھے۔ نکات کے زیر عنوان ہم ان شاء اللہ اس کی تشریح پیش کریں گے۔ انہیں آخرکار سوائے بدبختی، دربدری اور آخرت کے عذابِ الیم کے اور کچھ نہ ملا۔ "وبال" کے معنی تلخ اور منحوس انجام کے ہیں اور اصل میں "وابل" شدید بارش کے معنی میں ہے، اس لیے کہ شدید بارشیں عام طور پر خطرناک ہوتی ہیں اور انسان ان کے تلخ نتائج سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کے پیچھے خطرناک سیلاب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد منافقین کے متعلق ایک تشبیہ پیش کرتے ہوئے خداوندِ عالم فرماتا ہے: "ان کی داستان شیطان کی داستان جیسی ہے جس نے انسان سے کہا: کافر ہو جا تاکہ میں تیری مشکلات کو حل کروں، لیکن جب وہ کافر ہو گیا تو اس نے کہا: میں تجھ سے بیزار ہوں، میں اس خدا سے جو عالمین کا پروردگار ہے، ڈرتا ہوں۔" (كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ)۔ [تشریحی نوٹ: اگرچہ "کَمَثَلِ" کی تعبیر اس آیت میں اور اس سے قبل والی آیت میں ایک دوسرے سے مشابہ ہے، اسی بنا پر بعض مفسرین دونوں کو ایک ہی گروہ پر ناظر سمجھتے ہیں، لیکن قرائن اچھی طرح گواہی دیتے ہیں کہ پہلی آیت بنو نضیر کی کیفیت کی طرف ناظر ہے اور دوسری منافقین کی کیفیت کی طرف۔ بہرحال یہ عبارت بھی مبتداء محذوف کی خبر ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے: مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ...]۔ یہ بات کہ اس آیت میں "انسان" سے کون مراد ہے؟ کیا مطلق طور پر انسان ہیں جو شیطان کے زیر اثر آ جاتے ہیں، اس کے جھوٹے دعوؤں سے دھوکہ کھاتے ہیں اور راہِ کفر اختیار کرتے ہیں اور شیطان آخرکار انہیں تنہا چھوڑ کر ان سے بیزاری اختیار کرتا ہے؟ یا پھر اس سے مراد کوئی خاص انسان ہے مثلاً ابوجہل اور اس کے پیروکار، جو جنگ بدر میں شیطان کے فریب دینے والے وعدوں سے سرگرمِ پیکار ہوئے اور آخرکار انہوں نے شکست کا تلخ مزہ چکھا۔ جیسا کہ سورہ انفال کی آیت ۴۸ میں ہم پڑھتے ہیں: (وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَكُمْ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكُمْ إِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ)۔ "اور یاد کرو اس وقت کو جب شیطان نے مشرکین کے اعمال کو ان کی نگاہ میں زینت دار بنایا اور کہا کہ آج تم پر کوئی شخص غالب نہیں آئے گا اور میں تمہارا ہمسایہ اور پناہ دینے والا ہوں۔ لیکن جب مجاہدین اسلام اور ان کے حامی فرشتوں کو دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور کہا: میں تم سے بیزار ہوں، میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ شدید العقاب ہے۔" یا پھر یہ کہ "انسان" سے مراد "برصیصا" بنی اسرائیل کا عابد ہے جس نے شیطان سے دھوکہ کھایا اور کافر ہو گیا اور پھر حساس لمحات میں شیطان نے اس سے بیزاری اختیار کی اور اس سے الگ ہو گیا۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ پہلی تفسیر آیت کے مفہوم کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے اور دوسری و تیسری تفاسیر ہو سکتا ہے اس کے وسیع مفہوم کے ایک مصداق کا بیان ہوں۔ بہر حال وہ عذاب جس سے شیطان اظہارِ وحشت کرے گا، بظاہر عذابِ دنیا ہے۔ اس بنا پر اس کا خوف واقعی اور پختہ ہے، کسی قسم کی شوخی اور مزاح نہیں ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو قریب کی سزا سے ڈرتے ہیں لیکن کافی مدت بعد کی سزا سے خائف نہیں ہوتے۔ جی ہاں! منافقین کی یہی حالت ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو جھوٹے وعدوں کا سہارا دے کر اور مکر و فریب سے کام لے کر میدانِ جنگ میں بھیج دیتے ہیں۔ پھر انہیں تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، اس لیے کہ نفاق میں وفاداری نہیں ہوتی۔ بعد والی آیت میں ان دونوں گروہوں یعنی شیطان اور اس کے پیروکار اور منافقین اور ان کے کافر دوست کے انجام کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں جہنم کی آگ میں ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ ہے ظالموں کی سزا۔" ﴿فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيهَا وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ﴾۔ [تشریحی نوٹ: عَاقِبَتُهُمَا، "کَانَ" کی خبر ہے یا منصوب ہے اور إِنَّهُمَا فِي النَّارِ "اسم کان" کی جگہ ہے اور خَالِدَيْنِ "هُمَا" کا حال ہے]۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ کفر و نفاق اختیار کرنے اور شیطان اور اس کے ساتھیوں کے شریک کار بننے کا انجام شکست و ناکامی سے دوچار ہونا ہے۔ عذابِ دنیا و آخرت اس پر مستزاد ہے، جبکہ مومنین اور ان کے دوستوں کا مستقل طور پر شریکِ کار بننا کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے اور دونوں جہانوں میں رحمتِ خدا جیسی عظیم نعمت سے انسان کو سرفراز کرتا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں خداوندِ عالم مومنین کو خطاب کر کے بنی نظیر، منافقین اور شیطان کے منحوس اور دردناک واقعہ سے ایک نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! خدا کی مخالفت سے ڈرو اور ہر انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے قیامت کے دن کے لیے کیا چیز آگے بھیجی ہے۔" ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾۔ [تشریحی نوٹ: یہ کہ "ما"، "ما قَدَّمَتْ لِغَدٍ" میں موصولہ ہے یا استفہامیہ — مفسرین نے دو احتمال تجویز کیے ہیں اور یہ آیہ شریفہ میں دونوں کی گنجائش ہے۔ اس وجہ سے استفہامیہ زیادہ مناسب نظر آتا ہے]۔ اس کے بعد دوبارہ تاکید کے لیے فرماتا ہے: "خدا سے ڈرو اس لیے کہ خدا اس کام سے جسے تم انجام دیتے ہو، آگاہ ہے۔" ﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾۔ جی ہاں! تقویٰ اور خوفِ خدا سبب بنتے ہیں کہ انسان روزِ قیامت کے لیے اپنے اعمال کو پاک و پاکیزہ کرے۔ تقویٰ کے حکم کی تکرار، جیسا کہ ہم نے کہا ہے، تاکید کے لیے ہے کیونکہ تمام نیک اعمال بجا لانے اور گناہوں سے پرہیز کرنے کا سبب یہی تقویٰ اور خدا کا خوف ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ تقویٰ کا پہلا حکم تو اچھے اعمال انجام دینے کا محرک ہے اور دوسرا حکم ان اعمال میں خلوص کی کیفیت پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔ یا یہ کہ پہلے حکم کی نظر اچھے کام انجام دینے کی طرف ہے (ما قدمت لغد کے جملے کے قرینے سے) اور دوسرا گناہوں اور معاصی سے پرہیز کی طرف اشارہ ہے۔ یا یہ کہ پہلا حکم گناہوں سے توبہ کرنے کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا آئندہ کے تقویٰ کے لیے ہے۔ لیکن آیات میں ان تفاسیر کے لیے کوئی قرینہ کلام موجود نہیں ہے، لہٰذا تاکید والی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ "غد" (کل) کی تعبیر قیامت کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ عمرِ دنیا کی سرعتِ رفتار کی طرف توجہ کرنے سے یہ چیز محسوس ہو جاتی ہے کہ قیامت بہت جلد آ جائے گی اور نکرہ کی صورت میں اس کا ذکر اس کی اہمیت کی بنا پر ہے۔ "نفس" (ایک شخص) کی تعبیر ہو سکتا ہے کہ ایک فرد کے معنی میں ہو، یعنی انسان اپنے کل کی فکر کرے اور بغیر اس کے کہ دوسروں سے توقع رکھے کہ وہ اس کے لیے کوئی کام انجام دیں گے، وہ جب تک اس دنیا میں ہے، جو کچھ بھیج سکتا ہے، آگے بھیجے۔ یہ تفسیر بھی اوپر والی تعبیر کے بارے میں کی گئی ہے اور یہ ان افراد کی قلت کی طرف اشارہ ہے جو قیامت کی فکر کرتے ہیں، بالکل اس طرح جیسے ہم کہیں: بس، ایک ہی شخص مل جائے جو اپنی نجات کی فکر میں ہو۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے اور "یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا" کا خطاب اور تقویٰ کے امر کی عمومیت اس کی دلیل ہے۔ اس کے بعد کی آیت تقویٰ اور معاد کی طرف توجہ کے امر کے بعد یادِ خدا کی تاکید کرتے ہوئے کہتی ہے: "ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے خدا کو بھلا دیا ہے اور خدا نے بھی انہیں خود فراموشی کا شکار بنا دیا ہے۔" ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ﴾۔ اصولی طور پر تقویٰ کی اصل حقیقت اور بنیاد دو چیزیں ہیں: ایک تو خدا کی یاد، یعنی خدا کی دائمی مراقبت اور اس کے ہر جگہ اور ہر حال میں حاضر و ناظر ہونے کا یقین اور یہ احساس کہ خدا عادل ہے۔ دوسرے، اعمال کی طرف توجہ، کہ کوئی چھوٹا بڑا کام ایسا نہیں ہے جو نامۂ اعمال میں مندرج نہ ہو۔ اس بنا پر یہی دو باتیں، مبدأ اور معاد کی طرف توجہ، انبیاء و اولیاء کے تربیتی لائحہ عمل کا عنوان قرار پاتی ہیں اور ان کی تاثیر فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح اور تزکیہ کی مکمل طور پر نگراں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن یہاں صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا کو بھلا دینا، خود فراموشی کا سبب ہوتا ہے۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ ایک طرف تو پروردگار کو بھول جانا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان مادی لذتوں اور حیوانی خواہشات میں ڈوب جائے اور اپنے مقصدِ خلقت کو بھلا دے اور اس کے نتیجے میں روزِ قیامت کے لیے نیک اعمال کا ذخیرہ کرنا بھول جائے۔ دوسری جانب خدا کو فراموش کرنا اس کی صفاتِ پاک کو فراموش کرنے کے مترادف ہے، اس لیے کہ ہستیِ مطلق، علمِ بےپایاں اور غیر متناہی استغنا و تونگری کے ساتھ مخصوص ہے، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے اس کی ذاتِ پاک کا محتاج ہے۔ ان حقائق کو بھُلا دینا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان خُود کو مستقل غنی اور بےنیاز کہنے لگے اور اس طرح اپنی حقیقت اور انسانی واقعیت کو فراموش کر دے۔ [بحوالہ: المیزان، جلد ١٩، صفحہ ٢٥٣]۔ اصولی طور پر انسان کی سب سے بڑی بدبختی اور مصیبت خود فراموشی ہے، اس لیے کہ وہ اپنی اس ذاتی قدر و قیمت، استعداد اور لیاقت کو جسے خدا نے اس کے وجود میں پوشیدہ رکھا ہے اور اسے باقی مخلوق سے ممتاز قرار دیا ہے، فراموشی کے سپرد کر دیتا ہے اور یہ اقدام اپنی انسانیت کو فراموش کر دینے کے مترادف ہے۔ اس قسم کا انسان ایک درندہ کی سطح تک گر جاتا ہے اور اس کا مقصد سوائے کھانے پینے، سونے جاگنے اور شہوت رانی کے اور کچھ نہیں رہتا، یہ باتیں فسق و فجور کا بنیادی سبب ہیں بلکہ یہ فراموشی فسق اور اطاعتِ خدا کے حلقہ سے نکل جانے کا بنیادی سبب ہے، اسی بنا پر آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "اس قسم کے فراموش کرنے والے انسان فاسق ہیں۔" (أُولئِکَ ہُمُ الْفاسِقُونَ)۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ نہیں فرماتا کہ "خدا کو نہ بھولو" بلکہ فرماتا ہے کہ "ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو خدا کو بھول گئے ہیں اور خدا نے انہیں خود فراموشی کا شکار بنا دیا ہے۔" یہ موقعہ حقیقت میں ایک واضح حِسی مصداق کی نشان دہی کرتا ہے جس میں لوگ خدا کو فراموش کرنے کا انجام دیکھ سکتے ہیں۔ یہ آیت بظاہر منافقین کے متعلق ہے جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا تھا یا یہود بنی نضیر کے متعلق ہے یا دونوں کے متعلق ہے۔ اس مضمون کی ایک آیت سورۂ توبہ کی آیت ۶۷ میں خصوصیت کے ساتھ منافقین کے بارے میں آ چکی ہے، جہاں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: الْمُنافِقُونَ وَ الْمُنافِقاتُ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمُنکَرِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَیَقْبِضُونَ أَیْدِیَہُمْ نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمْ إِنَّ الْمُنافِقِینَ ہُمُ الْفاسِقُونَ۔ یعنی: "منافق مرد اور عورتیں سب ایک ہی گروہ سے ہیں، وہ بُری چیز کا حکم دیتے ہیں اور اچھی چیز سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ انفاق و بخشش سے روکے رکھتے ہیں۔ وہ خدا کو بھول چکے ہیں، خدا نے بھی انہیں فراموش کر دیا ہے۔ منافقین یقیناً فاسق ہیں۔" اس فرق کے ساتھ کہ وہاں خدا کو فراموش کرنا اس کی رحمت کے منقطع ہونے کا سبب بیان ہوا ہے، اور یہاں خود فراموشی کا سبب ہے، جو دونوں ایک ہی نکتہ پر منتہی ہوتے ہیں (غور کیجئے گا)۔ آخری زیر بحث آیت میں ان دونوں گروہوں (مومنین، صاحبِ تقویٰ اور مبداء کی طرف متوجہ افراد، اور خدا کو فراموش کرنے والے افراد جو خود فراموشی کا شکار ہوئے ہیں) کے موازنہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اصحاب دوزخ اور اصحابِ بہشت یکساں نہیں ہیں۔" لَا یَسْتَوِی أَصْحَابُ النَّارِ وَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ۔ اس دنیا میں اور اس کے معارف میں، طرزِ فکر میں، انفرادی و اجتماعی طرزِ زندگی میں، اس کے مقاصد میں، آخرت اور اس کے عذاب و ثواب میں، ان دونوں گروہوں کا خطِ عمل ایک دوسرے سے بالکل جدا ہے۔ ایک یادِ خدا، قیامت، بلند انسانی اقدار کے تصورات میں محو اور زندگانی جاودانی کے لیے ذخائرِ حسنات جمع کرنے میں مصروف ہے اور دوسرا مادی خواہشات میں غرق، ہر نیکی کی فراموشی میں گرفتار اور ہر ہوا و ہوس کا قیدی ہے۔ [تشریحی نوٹ: "لَا یَسْتَوِي" کے متعلق کا حذف، عمومیت کی دلیل ہے]۔ اس طرح انسان دورواہے پر نظر آتا ہے؛ یا پہلے گروہ سے ملحق ہو جاءے یا دوسرے سے وابستہ ہو جائے۔ درمیان میں تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ آیت کے آخر میں ایک حکم قاطع کی شکل میں فرماتا ہے: "صرف اصحابِ جنت ہی کامیاب ہیں۔" أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ہُمُ الْفَائِزُونَ۔ نہ صرف قیامت میں رستگار و کامیاب ہیں بلکہ دنیا میں بھی کامیابی، آرام و سکون اور نجات انہی کے لیے ہے۔ اور شکست دونوں جہان میں ان کا مقدر ہے جو خدا کو فراموش کرنے والے ہیں۔ ایک اور حدیث رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ہمیں ملتی ہے، جس میں آپ نے اصحابِ جنت ایسے لوگوں کو قرار دیا جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کی اور ولایتِ جنابِ امیر (علیہ السلام) کو قبول کیا۔ لہٰذا اصحاب النّار وہ ہوئے جنہوں نے ولایتِ علی (علیہ السلام) کو قبول نہیں کیا، آپ (علیہ السلام) سے جنگ کی اور نقصِ عہد کیا۔ یہ آیت کے مفہوم کا ایک واضح مصداق ہے اور اس کی عمومیت میں اس سے کوئی کمی نہیں آتی۔
چند نکات: ١۔ اہلِ نفاق کے ساتھ بےمقصد شرکتِ عمل
جو کچھ مندرجہ بالا آیات میں منافقوں کی عہدشکنی اور اپنے دوستوں کو سخت لمحات میں تنہا چھوڑ دینے کے بارے میں آیا ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے نمونے ہم نے بارہا اپنی زندگی میں دیکھے ہیں۔ یہ لوگ گمراہ کرنے والے شیطان کی طرح ہر شخص کے دل میں وسوسہ ڈالتے ہیں، ان سے ہر قسم کی مدد کا وعدہ کرتے ہیں، انہیں میدانِ حوادث میں بھیجتے ہیں اور انواع و اقسام کے گناہوں میں آلودہ کرتے ہیں، لیکن بحرانی لمحات میں وسطِ میدان میں چھوڑ کر اپنی جان کی حفاظت اور مفادِ ذات کے لیے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سرگزشت ہے، جو منافقین کے شریک اور ان کے ساتھ عہدِ محبت استوار کرنے والے افراد ہیں۔ اس کا زندہ نمونہ ہمارے زمانے میں وہ عہد و پیمان ہیں جو سپر طاقتیں (ہمارے زمانے کے شیاطین) ان ممالک کے سربراہوں سے کرتے ہیں جو ان سے وابستہ ہیں اور ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ یہ وابستہ ممالک، جنہوں نے اپنی ساری بضاعت طبقِ اخلاص میں رکھ کر ان شیطان صفت حامیوں کے سامنے پیش کر دی ہے، سخت حوادث میں مکمل طور پر تنہا رہ جاتے ہیں اور ہر جگہ سے دھتکارے جاتے ہیں۔ یہ وہ منزل ہے جہاں ہم قرآن کے اس پیغام سے زیادہ شناسائی حاصل کر سکتے ہیں جو کہتا ہے: (كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ)۔ "ان کا کام شیطان کی مانند ہے جس نے انسان سے کہا: 'کافر ہو جا'، جب وہ کافر ہو گیا تو اس نے کہا: 'میں تجھ سے بیزار ہوں، میں اس خدا سے ڈرتا ہوں جو ربُّ العالمین ہے'۔"
٢۔ برصیصا عابد کی حیرت انگیز داستان
بعض مفسّرین اور اربابِ حدیث نے ان آیات کے ذیل میں ایک پُرمعنی روایت بنی اسرائیل کے برصیصا عابد کے بارے میں پیش کی ہے جو تمام افراد کے لیے درسِ عبرت ہو سکتی ہے، یعنی وہ یہ داستان سُن کر شیطان کے فریب سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ جو شخص ان کے بہکائے میں آتا ہے وہ عذابِ الٰہی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اس داستان کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے: بنی اسرائیل میں ایک نامی گرامی عابد تھا جس کا نام برصیصا تھا، جس نے طویل عرصہ تک عبادتِ پروردگار کی تھی، جس کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچ گیا تھا کہ جان بلب مریضوں کو اس کے پاس لاتے تھے اور اس کی دعا کے نتیجے میں انہیں دوبارہ صحت و سلامتی میسر ہو جاتی تھی۔ ایک دن ایک معقول گھرانے کی عورت کو اس کے بھائی اس کے پاس لائے اور طے پایا کہ کچھ عرصہ تک وہ عورت وہیں رہے تاکہ اس کو شفا حاصل ہو جائے۔ اب شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالنے کا پروگرام بنایا اور اس قدر اس کو اپنے دام میں اسیر کیا کہ اس عابد نے اُس عورت سے زیادتی کی۔ کچھ دنوں بعد یہ بات کھل گئی کہ وہ عورت حاملہ ہے (کیونکہ ہمیشہ ایک گناہ عظیم تر گناہوں کا سرچشمہ بنتا ہے)۔ اس نے عورت کو قتل کر دیا اور بیابان کے ایک گوشے میں دفن کر دیا۔ اس عورت کے بھائی اس واقعہ سے باخبر ہوئے کہ مردِ عابد نے اس قسم کے ظلمِ عظیم کا اقدام کیا ہے۔ یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئی، یہاں تک کہ امیرِ شہر کے کانوں تک جا پہنچی۔ وہ کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر چلا تاکہ حقیقتِ حال سے باخبر ہو۔ جب عابد کا ظلم ثابت ہو گیا تو اسے اس کی عبادت گاہ سے کھینچ کر باہر لے آئے۔ اقرارِ گناہ کے بعد حکم دیا گیا کہ اسے سُولی پر چڑھا دیا جائے۔ جس وقت وہ سُولی پر چڑھایا جانے لگا تو شیطان اس کے سامنے نمودار ہوا اور کہا: "وہ میں تھا جس نے تجھے اس مصیبت میں پھنسایا۔ اب اگر جو کچھ میں کہوں وہ مان لے تو میں تیری نجات کا سامان فراہم کرتا ہوں۔" عابد نے کہا: "میں کیا کروں"؟ اس نے کہا: "میرے لیے تیرا صرف ایک سجدہ کافی ہے۔" عابد نے کہا: "جس حالت میں تو مجھے دیکھ رہا ہے، اس میں سجدہ کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔" شیطان نے کہا: "اشارہ ہی کافی ہے۔" عابد نے چَشم یا ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس طرح شیطان کی بارگاہ میں سجدہ بجا لایا اور اسی وقت مر گیا اور دنیا سے کافر گیا۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٦٥، تفسیر قرطبی، جلد ٩، صفحہ ٦٥١٨ اور تفسیر رُوح البیان میں یہ واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، جلد ٩، صفحہ ٤٤٦]۔
٣۔ جو کچھ آگے بھیجنا چاہیئے
مندرجہ بالا آیات میں اس مسئلہ پر زور دیا گیا تھا کہ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے قیامت کے لیے کون سا ذخیرۂ اعمال جمع کیا ہے۔ (وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ ما قَدَّمَتْ لِغَدٍ)۔ درحقیقت میدانِ قیامت میں انسان کا سرمایۂ اصلی وہ اعمال و افعال ہیں جو اس نے آگے بھیجے ہیں۔ دوسرا کوئی شخص اس فکر میں نہیں ہے کہ اس کے لیے اس کی موت کے بعد کوئی چیز بھیجے اور اگر بھیجے بھی تو اس کی زیادہ قدر و قیمت نہیں ہے۔ ایک حدیث رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہمارے سامنے آتی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "راہِ خدا میں انفاق کرو چاہے تین سیر کھجوریں ہوں، یا اس سے بھی کم، یا مُٹھی بھر ہوں، یا اس سے بھی کم، یہاں تک کہ آدھا خرما ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر کسی کو یہ بھی نہ مل سکے، تو پھر وہ پاکیزہ باتوں سے دلوں کو خوش کرے۔ اس لیے کہ قیامت میں جب انسان بارگاہِ خدا میں پیش ہو گا تو خدا پوچھے گا: 'کیا میں نے تیرے متعلق ایسا اور ایسا نہیں کیا؟ کیا کان اور آنکھ تیرے اختیار میں نہیں دیے؟ کیا مال اور اولاد تجھ کو نہیں بخشے تھے'؟ بندہ عرض کرے گا: 'ہاں' تو اس وقت خداوند متعال کہے گا: تو پھر دیکھ کہ تُو نے اپنے آگے کے لیے کیا بھیجا ہے" (فینظر قدّامه وخلفه وعن یمینه وعن شماله، فلا یجد شیئاً یقی به وجهه من النّار)۔ "وہ اپنے آگے، پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا، اُسے کوئی چیز نہیں ملے گی جس کے ذریعے وہ اپنا چہرہ جہنم کی آگ سے محفوظ رکھ سکے۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٢٩٢]۔ ایک اور حدیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بعض اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ قبیلۂ مُضَر کا ایک گروہ وارد ہوا جن کی کمر پر تلوار لٹکی ہوئی تھی (وہ راہِ خدا میں جہاد کے لیے آمادہ تھے)، لیکن ان کے کپڑے اچھے نہیں تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاجت مندی اور بھوک کے آثار ان کے چہروں پر دیکھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرۂ مبارک کا رنگ متغیر ہو گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں آئے، منبر پر تشریف لے گئے اور خدا کی حمد و ثنا بجا لانے کے بعد ارشاد فرمایا: "خدا نے یہ آیت قرآن مجید میں نازل فرمائی ہے:" (یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ)... اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزید فرمایا: "راہِ خدا میں انفاق کرو اس سے پہلے کہ قوت و قدرت تم سے سلب ہو جائے اور راہِ خدا میں صدقہ دو قبل اس کے کہ اس میں کوئی مانع پیدا ہو جائے۔ جن کے پاس دینار ہے وہ دینار سے، جن کے پاس درہم ہے وہ درہم سے اور جو گندم و جَو رکھتے ہیں وہ گندم و جو سے انفاق کریں۔ اور کسی چیز کو کم تر خیال نہ کریں، خواہ خرمہ کا آدھا دانہ ہی کیوں نہ ہو۔" انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے ایک تھیلی پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی تو آثارِ سرور و انبساط آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرۂ مبارک پر ہویدا ہوئے۔ فرمانے لگے: "جو شخص سنّتِ حسنہ کی بنیاد رکھے اور لوگ اس پر عمل کریں تو اس کا اجر اور ان تمام لوگوں کا اجر جو اس پر عمل کرتے ہیں، اس ابتدا کرنے والے شخص کو نصیب ہو گا، بغیر اس کے کہ لوگوں کے اجر میں کوئی کمی واقع ہو۔ اور جو شخص بُری رسم کو جاری کرے، اس کا گناہ اور ان تمام لوگوں کا گناہ جو اس پر عمل کرتے ہیں، اس رسمِ قبیح جاری کرنے والے کے ذمے ہو گا، بغیر اس کے کہ دوسرے لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی ہو۔" لوگ کھڑے ہو گئے۔ جس کے پاس دینار تھا، وہ دینار لے آیا۔ جس کے پاس درہم تھا، وہ درہم لے آیا۔ جس شخص کے پاس جو چیز تھی، وہ خدمتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں لے آیا۔ اس طرح سے معقول قسم کی مدد، نقد اور بصورتِ اشیاء، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہو گئیں، جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا۔ [بحوالہ: تفسیر دُرالمنثور، جلد ۶، صفحہ ٢٠١]۔ یہی مفاہیم قرآن کی دوسری آیات میں بارہا آئے ہیں اور ان کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت ١١٠ میں ہم پڑھتے ہیں: (وَأَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُم مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّهِ إِنَّ اللّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ) "نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور جس کارِ خیر کو اپنے لیے تم آگے بھیجتے ہو، اسے خدا کے ہاں پاؤ گے۔ خدا تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔"
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: اگر قرآن پہاڑوں پر نازل ہوتا تُو وُہ ریزہ ریزہ ہو جاتے
Tafsīr Nemūna · Vol. 9گزشتہ آیتوں کے بعد، جو مختلف طریقوں سے انسانوں کے دلوں میں نفوذ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں اور جنہوں نے ان کے تقدیر ساز مسائل زندہ شکل میں پیش کیے، ان آیات میں، جو سورۂ حشر کی آخری آیات ہیں اور عام آیاتِ قرآنی پر روشنی ڈالتی ہیں، اس حقیقت کو منکشف کیا گیا ہے کہ قرآن کا نفوذ اس قدر گہرا ہے کہ اگر یہ پہاڑوں پر نازل ہوتا تو انہیں ہلا کر رکھ دیتا۔ لیکن تعجب ہے اس سنگدل انسان پر کہ وہ اسے سنتا تو ہے مگر اس پر لرزہ بھی طاری نہیں ہوتا۔ اور خداوندِ عالم پہلے فرماتا ہے: "اگر قرآن کو ہم پہاڑ پر نازل کرتے تو تُو مشاہدہ کرتا کہ وہ اس کے سامنے خشوع کر رہا ہے اور خوفِ خدا سے اس میں شگاف پڑ گئے ہیں۔" ( لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ )۔ "اور یہ ضرب الامثال جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں وہ اس لیے ہیں کہ لوگ ان میں غور و فکر کریں۔" ( وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ )۔ بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تشبیہ کی شکل میں تفسیر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پہاڑ، باوجود اس سختی کے جو ان میں ہے، اگر عقل و احساس بھی رکھتے اور یہ آیات انسانوں کی بجائے ان پر نازل ہوتیں تو وہ اس طرح لرزہ بر اندام ہو جاتے کہ ان میں شگاف پڑ جاتے۔ لیکن سخت دل انسانوں کا ایک گروہ اسے سنتا ہے اور بالکل متاثر نہیں ہوتا۔ اور اس جملہ کو ( وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ) مذکورہ تفسیر پر دلیل قرار دیا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے اس کے ظاہر پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اس جہان کے تمام موجودات، جن میں پہاڑ بھی شامل ہیں، اپنے اندر ایک قسم کا ادراک و شعور رکھتے ہیں اور اگر یہ آیات پہاڑوں پر نازل ہوتیں تو وہ یقینا ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ ان معانی پر سورۂ بقرہ کی آیت ۷۴ کو گواہ قرار دیتے ہیں: (ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ)۔ "پھر تمہارے دل اس واقعہ کے بعد پتھر کی طرح سخت ہو گئے یا اس سے بھی زیادہ سخت، کیونکہ پتھر ایسے ہیں جن میں شگاف پڑ جاتے ہیں اور ان میں سے نہریں جاری ہو جاتی ہیں، کچھ ایسے ہیں جن میں شگاف پڑ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور بعض خوفِ خدا کے باعث نیچے گِر جاتے ہیں۔" "مثل" کی تعبیر ہو سکتا ہے کہ "توصیف" کے معنی میں ہو، جیسا کہ یہ لفظ قرآن مجید میں بارہا اس معنی میں آیا ہے۔ اس بنا پر مذکورہ تعبیر اس تفسیر سے نہیں ٹکراتی۔ قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ پہلے فرماتا ہے کہ پہاڑ قرآن کے سامنے خاشع و خاضع ہو جاتے ہیں، پھر مزید فرماتا ہے کہ ان میں شگاف پڑ جاتے ہیں، جو اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن ان میں بتدریج نفوذ کرتا اور ہر زمانے میں قرآن کی تاثیر کے نئے آثار ان میں نمایاں ہوتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی قوت جواب دے دیتی ہے اور یہ عاشقِ بےقرار کی طرح دلدادہ و شیدا ہو جاتے ہیں اور پھر شگافتہ ہو جاتے۔ [تشریحی نوٹ: "متصدّع"، "صدع" کے مادہ سے ہے، سخت و محکم چیزوں میں شیشہ اور پتھر کی طرح شگاف پڑنے کے معنی میں ہے اور اگر دردِ سر کو "صداع" کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گویا انسان کا سر پھٹ رہا ہے]۔ لیکن بعد میں آنے والی آیات میں خدا کے اوصافِ جلال و جمال میں سے ایک اہم حصہ کا تذکرہ ہے، جس کی طرف توجہ کرنا تربیتِ نفس اور تہذیبِ قلوب کے لیے بڑا پُرتاثیر ہے۔ پروردگارِ عالم ان آیتوں میں سے تین آیات میں پندرہ صفتیں اور دوسرے الفاظ میں اٹھارہ اوصاف اپنی صفاتِ عظیمہ میں سے بیان کرتا ہے اور ہر آیت توحیدِ الٰہی اور اللہ کے مقدس نام کے بیان سے شروع ہوتی ہے اور انسان کی حق تعالیٰ کے اسماء و صفات کے نورانی عالم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ فرماتا ہے: "خدا وہی ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو غیب و شہود سے آگاہ ہے اور رحمن و رحیم ہے۔" ( هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ )۔ یہاں ہر چیز سے پہلے مسئلہ توحید، جو تمام اوصافِ جلال و جمال کی روح ہے، اس کی معرفت کو اس پر مبنی قرار دیتا ہے اور غیب و شہود کے بارے میں خدا کے علم و دانش پر انحصار کرتا ہے۔ شہادت و شہود، جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے، مشاہدہ کے ساتھ مشروط ہے، چاہے دل کی آنکھ سے ہو یا ظاہری آنکھ سے۔ اسی بنا پر ان کا ایسا علمی دائرۂ کار جو ہے وہ "عالمِ شہود" اور جو کچھ اس دائرہ سے باہر ہے وہ "عالمِ غیب" شمار ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب علم خدا کے لیے یکساں ہے اس لیے کہ اُس کا وجود بےپایاں ہے اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور کوئی جگہ بھی اس کے علم و حضور کی قلمرو سے باہر نہیں ہے، اسی لیے سورۂ انعام کی آیت ۵۹ میں ہمیں ملتا ہے: (وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ)۔ "غیب کی چابیاں صرف اس کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی شخص انہیں نہیں جانتا۔" اس شان کے خدا کے نام کی طرف توجہ کا سبب بنتی ہے کہ انسان اسے ہر جگہ حاضر و ناظر سمجھے اور تقویٰ اختیار کرے۔ اس کے بعد اُس کی رحمتِ عام پر، جو تمام مخلوقات کے شاملِ حال ہے، لفظِ رحمن کے حوالے سے اور اس کی رحمتِ خاص پر، جو مومنین کے لیے مخصوص ہے، لفظ رحیم کے حوالے سے انحصار ہوا ہے تاکہ وہ انسان کو اُمید دلائے اور اسے معرفتِ خدا اس طولانی راستے میں مدد دے جو اسے درپیش ہے۔ اس مرحلہ کا طے کرنا پروردگار کے لطف و کرم کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ راستہ ایک طرح کا ظلمات سے ہے اور اس میں گمراہی کا خطرہ ہے۔ اس طرح صفتِ توحید کے علاوہ اس کی عظیم صفتوں میں سے اس آیت میں تین عظیم صفتیں بیان کی ہیں۔ فرماتا ہے: "خدا وہی ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں" (هُوَ اللّٰہُ الَّذِی لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ)۔ "حاکم و مالک اصلی وہی ہے" (الْمَلِكُ)۔ "ہر عیب سے پاک و منزہ ہے" (الْقُدُّوسُ)۔ "کسی پر کسی قسم کا ظلم و ستم روا نہیں رکھتا اور اس کی طرف سے سب سلامتی میں ہیں" (السَّلَامُ)۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے "سلام" کو یہاں ہر قسم کے عیب و نقص و آفت سے سلامتی کے معنی میں لیا ہے، لیکن اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ معنی لفظ "قدوس" میں موجود ہیں، جو پہلے آ چکا ہے، اس کے علاوہ "سلام" عام طور پر قرآن مجید میں دوسروں کو سلامتی بخشنے کے مسئلہ میں آیا ہے۔ اور اصولی طور پر لفظ "سلام" جو ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت کہا جاتا ہے، وہ اظہارِ دوستی اور مدِّمقابل سے روابط کی سلامتی کے بیان کے لیے ہے۔ لہٰذا جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے وہ مناسب نظر آتا ہے]۔ اصولی طور پر "اس کی دعوت فکرِ سلامتی کی طرف لے جاتی ہے۔" (وَاللّٰہُ یَدْعُو إِلٰی دَارِ السَّلَامِ) (یونس: ۲۵) "اور اس کی ہدایت بھی سلامتی ہی کی طرف متوجہ ہے۔" (یَهْدِی بِهِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ) (مائدہ: ۱۶) "اور جو قرارگاہ مومنین کے لیے ہے وہ سلامتی کا گھر ہے۔" (لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَ رَبِّهِمْ)۔ "جنّتیوں کا درود و تحیّہ بھی سلام کے علاوہ اور کچھ نہیں۔" (إِلَّا قِیْلًا سَلَامًا سَلَامًا) (الواقعہ: ۲۶) اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "وہ اپنے دوستوں کو تحفظ بخشتا ہے اور ایمان عطا فرماتا ہے۔" (الْمُؤْمِنُ)۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہاں "مؤمن" کی "صاحبِ ایمان" کے معنی میں تفسیر کی ہے، جو اس طرف اشارہ ہے کہ وہ پہلا ہے جو خدا کی پاک ذات اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہے۔ وہ خود وہی ہے۔ لیکن جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ مناسب ہے]۔ "ہر چیز کا نگہبان" (الْمُهَیْمِنُ)۔ [تشریحی نوٹ: اس لفظ کے اصل کے بارے میں مفسرین اور اربابِ لغت کے درمیان دو قول موجود ہیں: بعض اسے "ھیمن" کے مادہ سے جانتے ہیں جس کے معنی نگہبان کے ہیں، اور بعض "ایمان" کے مادہ سے، کہ اس کا ہمزہ "ہ" میں بدل گیا ہے اور سکون و اطمینان دینے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ دو مرتبہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ایک دفعہ خود قرآن کے بارے میں (المائدہ: ۴۸) اور ایک دفعہ خدا کی تعریف و توصیف میں زیرِ بحث آیت میں استعمال ہوا ہے۔ اور دونوں مواقع پر وہی پہلے معنی مناسب ہیں۔ (لسان العرب، تفسیر فخر رازی، روح المعانی)۔ ابوالفتوح رازی زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ابوعبیدہ سے نقل کرتا ہے کہ: عربی زبان میں صرف پانچ نام ہیں جو اس وزن پر آئے ہیں: "مُهَیْمِن"، "مُسَیْطِر"، "مُبَیْطِر" (طبیب کا جانور)، "مُبَیْقِر" وہ شخص جو اپنا راستہ کھولتا ہو اور آگے بڑھتا ہو، "مُخَیْمِر" ایک پہاڑ کا نام ہے]۔ "وہ ایسا صاحبِ قدرت ہے جو کبھی مغلوب نہیں ہو گا" (الْعَزِیْزُ)۔ "وہ اپنے نفوذ والے ارادہ کے ساتھ ہر چیز کی اصلاح کرتا ہے" (الْجَبَّارُ)۔ یہ لفظ جو مادہ "جبر" سے لیا گیا ہے، کبھی قہر و غلبہ اور نفوذِ ارادہ کے معنوں میں آتا ہے۔ اور کبھی اصلاح کے معنوں میں۔ راغب دونوں معنوں کو آپس میں ملا کر کہتا ہے: "جبر" کی اصل کسی چیز کی غلبہ اور قوت سے اصلاح کرنا ہے۔ یہ لفظ جب خدا کے لیے استعمال ہو تو اس کی ایک عظیم صفت کو بیان کرتا ہے، یعنی وہ ارادہ کے نفوذ کے ساتھ اور کمالِ قدرت کے ساتھ ہر فساد کی اصلاح کرتا ہے۔ لیکن جب یہی لفظ خدا کے غیر کے لیے استعمال ہو تو مذمت کا باعث ہوتا ہے اور بقول راغب: ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنی کوتاہیوں کا ازالہ ایسے منصب کا دعویٰ کر کے کرے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ یہ لفظ قرآن مجید میں دس مواقع پر استعمال ہوا ہے، جن میں سے نو مواقع پر ظالم اور گردنیں کاٹنے والے مفسد افراد کے بارے میں ہے۔ صرف ایک موقع پر "قادر مطلق" کے لیے استعمال ہوا ہے، اور وہ اسی زیرِ بحث آیت میں ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "وہ بزرگی اور عظمت کے لائق ہے اور کوئی چیز اس سے برتر و بالا نہیں ہے" (المتکبّر)۔ متکبّر، تکبر کے مادّہ سے دو معانی پر دلالت کرتا ہے۔ ایک معنی ممدوح ہیں جو خدا کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ بزرگی، نیک کاموں اور بہت سی پسندیدہ صفتوں کا حامل ہونا ہے۔ دوسرے معنی مذموم ہیں جو غیر خدا کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ چھوٹے اور کم حیثیت افراد بزرگی اور عظمت کا دعویٰ کریں اور جن صفات کے وہ حامل نہیں ہیں ان کا دعویٰ کریں۔ اور چونکہ بزرگی و عظمت صرف خدا کو زیبا ہے، لہٰذا یہ لفظ اپنے ممدوح معنی میں صرف خدا کے لیے استعمال ہوتا ہے اور جب اس کے غیر کے لیے استعمال ہو تو مذموم معانی رکھتا ہے۔ آیت کے آخر میں دوبارہ مسئلہ توحید پر، جس سے ابتداء ہوئی تھی، زور دیتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا اس سے منزّہ ہے جسے اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔""سُبْحَانَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُونَ۔" جو وضاحت کی گئی ہے اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ کوئی موجود ان صفات میں، جو یہاں بیان ہوئی ہیں، اس کا شریک اور اس کی شبیہ و نظیر نہیں ہو سکتا۔ آخری زیر بحث آیت میں ان صفات کی تکمیل کے لیے چھ اور اوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ خدا ہے پیدا کرنے والا" (هُوَ اللّٰہُ الْخَالِق)، "وہ خدا جس نے مخلوقات کو بےکم و کاست اور بغیر کسی سابقہ نمونہ کے خلق کیا ہے" (الْبَارِئ)۔ [تشریحی نوٹ: "باری" مادہ "بر" (بروزن نقل) اصل میں صحت یابی اور ناخوشگوار امور سے رہائی کے معنی میں ہے۔ لہٰذا باری اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کو کمی بیشی کے بغیر مکمل اور موزوں طور پر ایجاد کرے۔ بعض نے اسے "بری" (بروزن نفی) کے مادّہ سے، لکڑی کو تراشنے کے معنی میں لیا ہے جو اسے موزوں بنانے کے مقصد کے لیے انجام دیا جاتا ہے۔ بعض اہلِ لغت نے تصریح کی ہے کہ باری وہ شخص ہے جو کسی چیز کو بغیر سابقہ نمونہ کے ایجاد کرے]۔ وہ خالق و آفریدگار جس نے ہر چیز کو ایک مخصوص شکل و صورت بخشی ہے (الْمُصَوِّر)۔ اور پھر چونکہ خدا کے اوصاف لامحدود ہیں بلکہ وہ اس کی رفعت و بلندی کی طرح لامتناہی ہیں، لہٰذا مزید فرماتا ہے: "اس کے لیے اچھے نام ہیں" (لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى)۔ اسی وجہ سے وہ ہر قسم کے عیب اور نقص سے مبرّا و منزّہ ہے اور وہ تمام موجودات جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسے ہر عیب و نقص سے پاک شمار کرتے ہیں: "یُسَبِّحُ لَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔" آخرکار تاکید مزید کے لیے نظامِ آفرینش پر اس کی صفات میں سے دو صفتوں کی طرف، جن میں سے ایک پہلے آ چکی ہے، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ عزیز و حکیم ہے" (وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ)۔ پہلی صفت ہر چیز پر کمالِ قدرت رکھنے اور ہر مانع پر غالب ہونے کی نشانی ہے، دوسری، نظامِ آفرینش، امرِ خلقت اور تدبیر کے معاملہ میں دقیق اور باریک بینی سے منظم لائحہ عمل کے متعلق علم و آگہی کی طرف اشارہ ہے۔ اس طرح ان تینوں آیتوں کے مجموعہ میں مسئلہ توحید کے علاوہ، جس کی دو مرتبہ تکرار ہوئی ہے، خدا کے اوصاف میں سے سترہ صفتیں آئی ہیں اور ان کی ترتیب یہ ہے: ١۔ عالم الغیب والشہادۃ ٢۔ رحمن ٣۔ رحیم ٤۔ ملک ٥۔ قدوس ٦۔ سلام ٧۔ مؤمن ٨۔ مہیمن ٩۔ عزیز ١٠۔ جبّار ١١۔ متکبر ١٢۔ خالق ١٣۔ باری ١٤۔ مصور ١٥۔ حکیم ١٦۔ اسمائے حسنیٰ کا مالک ١٧۔ عالم کے تمام موجودات جس کی تسبیح کرتے ہیں صفتِ توحید کے شامل ہونے سے یہ صفات اٹھارہ ہو جاتی ہیں۔ (توجہ کیجئے کہ "توحید" بھی دو مرتبہ اور "عزیز" بھی دو مرتبہ بیان ہوا ہے)۔ ان تین آیات میں ان تمام اوصافِ ذات میں سے بالکل عام صفت "علم" اور اوصافِ فعل میں سے بالکل عام صفت "رحمت" کا ذکر ہے جو تمام افعال کی اصل ہے۔ دوسری آیت میں اس کی حاکمیت اور اس کے کوائف کے بارے میں گفتگو ہے اور "قدوس"، "سلام"، "مؤمن"، "جبّار"، "متکبّر" جیسی صفات کا ان کے ان معانی کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں، ذکر ہے۔ یہ سب خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کی خصوصیات ہیں۔ آخری آیت میں مسئلہ خلقت اور جو چیزیں اس سے متعلق ہیں مثلاً تنظیم، تشکیل اور قدرت و حکمت کے بارے میں بحث ہے۔ اس طرح یہ آیات معرفتِ خدا کی راہ طے کرنے والوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو منزل بہ منزل آگے لے جاتی ہیں۔ اس کی ذاتِ پاک سے ابتداء کرتی ہیں اور پھر عالمِ خلقت کی طرف لے آتی ہیں اور پھر اسی سیرِ الی اللہ میں مخلوق سے خالق کی طرف لے جاتی ہیں۔ دل کو خدا کے اسماء و صفات کا مظہر اور انوارِ ربّانی کا مرکز قرار دیتے ہوئے ان معارف و انوار کے سلسلہ میں اس کی اصلاح و تربیت کرتی ہیں اور تقویٰ کے شگوفے اس کی شاخِ وجود پر ظاہر کر کے اُسے خدا کے قرب و جوار کے قابل بناتی ہیں تاکہ وہ عام ذرّاتِ عالم کے ساتھ ہی آواز ہو کر تسبیح کرتے ہوئے "سبوح قدوس" کا ترانہ سرائی کرے۔ اس لیے تعجّب کا مقام نہیں کہ روایاتِ اسلامی میں ان آیتوں کو حد سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جس کی طرف اِن شاء اللہ نکات کی بحث میں اشارہ ہو گا۔
چند نکات: ۱۔ قرآن کا حد سے زیادہ نفوذ
افکار اور دلوں میں قرآن کی تاثیر، ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے اور اسلام کی طویل تاریخ میں اس حقیقت کے بہت سے شواہد آتے ہیں اور یہ علمی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ سخت ترین دل چند آیاتِ قرآنی سننے کے بعد اس طرح نرم ہو جاتے تھے کہ فوراً اپنے آپ اسلام کے سپرد کر دیتے، صرف ہٹ دھرم اور کج فہم افراد اس اثر سے مستثنیٰ تھے۔ وہ ایسے افراد تھے جن کے وجود میں حصولِ ہدایت کی کوئی کمی ہی نہیں تھی۔ اسی لیے ہم نے اوپر نازل ہونے والی آیات میں پڑھا ہے کہ خدا فرماتا ہے: اگر یہ قرآن پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ خاضع ہوتے اور پَھٹ جاتے۔ یہ سب اس خدائی کلام کی قوّتِ جاذبہ کی نشانی ہے، جسے ہم بھی تلاوت کے موقع پر محسوس کرتے ہیں۔
۲۔ سورۂ حشر کی آخری آیات کی عظمت
اس سورہ کی آخری آیات، جو اسماء و صفاتِ الٰہی کے اہم حصہ پر مشتمل ہیں، حد سے زیادہ الہام بخش اور باعظمت آیات ہیں اور انسانوں کے لیے ایک بہت بڑا درسِ عبرت ہیں، کیونکہ خدا کہتا ہے: "اگر قربِ خدا طلب کرتے ہو اور عظمتِ کمال کے خواہاں ہو تو ان صفات کا ایک شعلہ اپنے وجود میں زندہ کر لو۔" بعض روایات میں ہے کہ خدا کا اسمِ اعظم سورۂ حشر کی آخری آیات میں ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٦٧]۔ ہمیں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں ملتا ہے: (مَن قرأ آخرَ الحشرِ غُفِرَ له ما تقدّم من ذنبِه وما تأخّر)۔ "جو شخص سورۂ حشر کے آخر کو پڑھے تو اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٢٩٣]۔ (مَن قرأ لو أنزلنا هذا القرآن... إلى آخرها، فمات من ليلته، مات شهيداً)۔ "جو شخص لو أنزلنا هذا القرآن کی آیات کو آخر تک پڑھے اور اسی رات مر جائے تو وہ شہید مرتا ہے۔" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٢٩٣]۔ ایک صحابی کہتا ہے: میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خدا کے اسمِ اعظم کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (علیک بآخر الحشر و أكثر قراءتها)۔ "تو سورۂ حشر کے آخری حصہ کو پڑھ اور زیادہ سے زیادہ پڑھ۔" میں نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ یہی جواب دیا۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٢٩٣]۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں آیا ہے: (إنها شفاء من كل داء إلا السام، والسام الموت)۔ "یہ آیات سوائے موت کے ہر بیماری کی دوا ہیں۔" [بحوالہ: تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ٢٠١]۔ خلاصہ یہ کہ اس سلسلہ میں شیعہ اور اہلِ سنت کی کتب میں بہت زیادہ روایات ہیں جو سب ان آیات کی عظمت اور ان کے نفسِ مضمون میں غور و فکر اور تدبر و تفکر پر زور دیتی ہیں۔ قابلِ توجہ یہ کہ یہ سورہ جس طرح خدا کی تسبیح اور عزیز حکیم کے نام سے شروع ہوتا ہے، اسی طرح عزیز حکیم کے نام پر ختم بھی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس سورہ کا مقصد خدا کی حقیقی معرفت، اس کی تسبیح اور اس کے مقدس اسماء و صفات سے آگاہی ہے۔ اسمائے حسنیٰ کے بارے میں، جن کی طرف مذکورہ بالا آیات میں اشارہ ہوا ہے، ایک تفصیلی بحث سورۂ اعراف کی آیت ١٨ میں گزر چکی ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ٤، صفحہ ٣٤٤ سے آگے]۔ "خدایا! تجھے اپنے اسمائے حسنٰی و صفاتِ مقدسہ کی عظمت کی قسم، ہمارے دلوں کو قرآن مجید کے سامنے خاضع و خاشع قرار دے۔" "پروردگارا! شیطان کا دامِ فریب سخت ہے۔ اگر تیرا لطف و کرم مددگار نہ ہو تو ہمارا اس سے بچنا مشکل ہے۔ ہمیں اپنے لطف و کرم کی پناہ میں شیاطین کے وسوسوں سے محفوظ رکھ۔" "بار الہٰا! ایثار و تقویٰ کی روح، ہر قسم کے بخل، کینہ اور حسد سے دور رکھ کر، ہمیں عطا فرما اور ہم کو خود پسندی و خود خواہی سے محفوظ رکھ۔" آمین یا ربّ العالمین۔