Sūra 67 · 30v
Chapter 6730 verses

Al-Mulk

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الملك
الملک

سُورہ ملک

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ٣٠ آیات ہیں۔

سورۂ مُلک کے مضامین

یہ سورہ جو قرآن مجید کے پارہ ٢٩ کی ابتداء ہے ان سوروں میں ہے جو مشہور قول کے مطابق سارے کے سارے مکّہ میں نازل ہُوئے، جیسا کہ اس پارہ کی زیادہ تر سورتوں مکّی ہی ہیں۔ بلکہ بعض مفسّرین کے قول کے مطابق تو اس پارے کی تمام سُورتیں مکّی ہیں، (بحوالہ: فی ظلال القرآن، جلد ٨، صفحہ ١٨٠) گزشتہ پارہ کی سُورتوں کے برعکس کہ جو مدنی تھیں۔ لیکن جیسا کہ ہم بیان کریں گے کہ سورہ دہر (یا سورة انسان) اس قاعدہ سے مستثنٰی ہے اور وہ مدینہ میں نازل ہُوئی ہے۔ سورة مُلک جس کا دوسرا نام "مُنجیّہ" (نجات بخشنے والی) اور تیسرا نام 'واقیہ' یا 'مانعہ' ہے (کیونکہ وہ اپنے تلاوت کرنے والے کو عذابِ الہٰی یا عذابِ قبر سے محفوظ رکھتی ہے) قرآن کی بہت ہی بافضیلت سورتوں میں سے ہے اس میں بہت سے مسائل پیش ہوئے ہیں جو زیادہ ترتین محوروں کے گرد گردش کرتے ہیں: ١: مبدأ، خدا کی صفات، خلقت کا شگفت انگیز نظام، خصوصاً آسمانوں اور ستاروں کی خلقت، زمین کی خلقت اور اس کی نعمتیں اور اسی طرح پرندوں کی خلقت، جاری ہونے والے پانی، نیز کان، آنکھ اور آلاتِ شناخت کی خلقت کے بارے میں بحث ہے۔ ٢: معاد و قیامت، دوزخ کا عذاب اور دوزخیوں کے ساتھ عذاب کے فرشتوں کی گفتگو اور اسی قسم کے امُور سے متعلّق مُباحث۔ ٣: کافروں اور ظالموں کو دُنیا و آخرت کے انواع و اقسام کے عذابوں سے اندار و تہدید، بعض کے قول کے مطابق تمام سورہ کا محور اصلی وہی خدا کی مالکیّت و حاکمیّت ہے، جو پہلی آیت میں آئی ہے۔ (بحوالہ: گزشتہ مدرک، صفحہ ١٨٤)۔

تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت میں پیغمبرؐ اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے بہُت سی روایات نقل ہُو ئی ہیں: منجملہ ان کے ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: "من قرأ سورة تبارک فکأنما احیا لیلة القدر۔" "جو شخص سورہ تبارک کو پڑھے تو ایسا ہے جیسا کہ اُس نے شبِ قدر بیدار رہ کر عبادت میں بسر کی ہو۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٢٠)۔ ایک اور حدیث میں آنحضرتؐ سے آیا ہے: "وددت ان تبارک الملک فی قلب کل مؤمن۔" "میں دوست رکھتا ہوں کہ سورہ تبارک تمام مومنین کے دل میں ثبت ہو جائے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٢٠)۔ ایک حدیث میں امام محمد بن علی الباقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "سورة الملک ھی المانعة تمنع من عذاب القبر و ھی مکتوبة فی التوراة سورة الملک و من قرأھا فی لیلة فقد اکثر، و اطاب و لم یکتب من الغافلین۔۔۔" "سورہ مُلک سورہ مانعہ ہے، یعنی عذابِ قبر سے بچاتی ہے اور توارت میں اسی نام کے ساتھ لکھّی ہُوئی ہے۔ جو شخص اِس کو رات کے وقت پڑھے تو اس نے بہت کچھ پڑھا اور خوب پڑھا ... وہ غافلین میں شمار نہیں ہو گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٢٠)۔ اس سلسلہ میں احادیث بہت زیادہ ہیں۔ البتّہ یہ سب عظیم آثار فکر و عمل کے بغیر پڑھنے سے مربُوط نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد ایسا پڑھنا ہے جس میں عمل کے لیے ہدایت ہو۔

1
67:1
تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
برکتوں والی (اور زوال نا پذیر) ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں سارے عالم ہستی کی حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
67:2
ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ
وہی وہ ذات ہے جس نے موت و حیات کو پیدا کیا، تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے بہترین عمل کو ن کرتا ہے، اور وہ شکست ناپذیر اور بخشنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
67:3
ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗاۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٖۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٖ
وہی جس نے سا ت آسمانوں کو ایک دوسرے کے اوپر پیداکیا۔ تم خدائے رحمن کی مخلوق میں کوئی تضاد اور کسی قسم کا عیب نہیں دیکھو گے۔ پھر نظر دوڑا کر دیکھو۔ کیا تمہیں کوئی شگاف یا خلل نظر آتا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
67:4
ثُمَّ ٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنقَلِبۡ إِلَيۡكَ ٱلۡبَصَرُ خَاسِئٗا وَهُوَ حَسِيرٞ
پھر دوبارہ (عالم ہستی کی طرف) نظر اٹھا کر دیکھو، انجام کار تیری نظر (خلل ونقص کی جستجو میں ناکام ہو کر) تیری طرف پلٹ آئے گی اور تھکی ہوئی ہوگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
67:5
وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ
ہم نے نچلے آسمان کو روشن چراغوں سے زینت دی ہے اور انہیں شیاطین کے لئے ( شہب) تیر قرار دیا ہے، اور ہم نے ان کے لئے دوزخ کا عذاب فراہم کیا ہے۔

تفسیر تم عالم ہستی میں کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

یہ سورہ خدا کی مالکیّت و حاکمیت اور اس کی ذاتِ پاک کے دوام اور ہمیشگی جیسے اہم مسئلہ سے شروع ہوتا ہے جو حقیقت میں اس سورہ کے تمام مباحث کی کلید ہے۔ فرماتا ہے: "برکتوں والی اور زوال ناپذیر ہے وہ ذات، جس کے قبضہ قدرت میں عالمِ ہستی کی حکومت ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔" (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ "تبارک"، "برکت" کے مادّہ سے اصل میں "برک" (بر وزن برگ) ہے جو اُونٹ کے سینہ کے معنی میں ہے۔ جب "برک البعیر" کہا جاتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اونٹ نے اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا، اس کے بعد یہ لفظ دوام، بقاء اور زوال ناپذیر کے معنی میں اور ہر اس نعمت کے معنی میں جو پائیداری و دوام رکھتی ہو، بولا جانے لگا۔ پانی کے خزانے کو بھی اس لیے 'برکہ' کہتے ہیں کیونکہ پانی ایک طویل مدّت تک اس میں باقی اور محفوظ رہتا ہے۔ اوپر والی آیت میں حقیقت میں خدا کی ذات پاک کے مبارک ہونے کی دلیل بیان کی گئی ہے، اور عالم پر اس کی مالکیّت و حاکمیّت اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے، اسی بناء پر وہ زوال ناپذیر اور برکت سے پُر وجُود ہے۔ بعد والی آیت میں انسان کی موت و حیات کی خلقت، جو خدا کی مالکیّت و حاکمیّت کے شئون میں سے ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "وہی تو ہے کہ جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے بہترین عمل کون کرتا ہے۔" (الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا)۔ "موت" اگر فنا اور نیستی کے معنی میں ہو تو مخلوق نہیں ہے۔کیونکہ خِلقت کا تعلّق اُمورِ وجُودی کے ساتھ ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ موت کی حقیقت ایک جہان سے دُوسرے جہان کی طرف انتقال ہے اور یہ یقیناً ایک وجُودی امر ہے جو مخلوق ہو سکتا ہے۔ اگر یہاں موت کا حیات سے پہلے ذکر ہُوا ہے تو اس کی وجہ وہ گہری تاثیر ہے جو حُسنِ عمل میں موت کی طرف توجّہ سے ہوتی ہے۔ اِس سے قطع نظر کہ موت زندگی سے پہلے بھی تھی۔ خدا کی آزمائش سے مُراد، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، ایک قسم کی تربیت ہے اس معنی میں کہ وہ انسانوں کو میدانِ عمل کی طرف کھینچتی ہے تاکہ تجربے اور آزمائش میں پاک و پاکیزہ ہو کر قربِ خدا کے لائق ہو۔ (تشریحی نوٹ: خدائی آزمائشوں کے بارے میں مزید تشریح کے لیے تفسیر نمونہ جلد ١، سورہ بقرہ کی ١٥٥ کے ذیل میں ملاحظہ کریں)۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ "آزمائش کا ہدف" حُسن عمل کو بتایا گیا ہے نہ کہ کثرتِ عمل کو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کیفیّت کو اہمیّت دیتا ہے کمیّت کو نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ عمل خالص ہو، خُدا کے لیے اور مفید و جامع ہو، اگرچہ کمیّت و مقدار کے لحاظ سے تھوڑا ہو۔ اِس لیے اس بارے میں کہ احسن عملاً سے کیا مُراد ہے؟ بعض اسلامی روایات میں پیغمبر گرامیؐ سے نقل ہُوا ہے کہ آپ نے فرمایا: "اتمکم عقلا، و اشدکم للہ خوفاً، و احسنکم فیما امراللہ بہ و نہی عنہ نظرا، و ان کان اقلکم تطوعا!" "اس سے مُراد یہ ہے کہ تم میں سے کِس کی عقل و خرد کامل اور خدا ترسی زیادہ ہے اور خدا کے اوامر و نواہی سے کون زیادہ آگاہی رکھتا ہے، چاہے تمہارے مُستحبی اعمال کم ہی ہوں۔" (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٢٢)۔ صاف ظاہر ہے کہ کامل عقل، عقل کو پاک تر، نیّت کو خالص تر اور اجر و پاداش کو زیادہ سے زیادہ کر دیتی ہے۔ ایک حدیث میں امامِ صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "لیس یعنی اکثر عملا، و لکن اصوبکم عملا، و انما الاصابة خشیة اللہ و النیة الصادقة، ثم قال الابقاء علی العمل حتی یخلص اشد من المعل، و العمل الخالص الصالح الذی لا ترید ان یحمدک علیہ احد الا اللہ عزوجل۔" یہ مراد نہیں ہے کہ تم میں سے کون زیادہ عمل کرتا ہے بلکہ مُراد یہ ہے کہ تم میں سے زیادہ صحیح عمل کون کرتا ہے عمل صحیح وہ ہے جس میں خدا پرستی اور پاک نیت شامل ہو۔ اس کے بعد فرمایا: عمل کو آلودگی سے محفوظ رکھنا خود عمل سے زیادہ سخت ہے۔ خالص و صالح عمل وہ ہوتا ہے جس میں تو یہ نہ چاہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس عمل پر تیری تعریف کرے۔" (تشریحی نوٹ: تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ انسان کی خِلقت کے ہدف کے بارے میں ہم سورہ ذاریٰت کی آیت ٥٦ میں "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" کے ذیل میں ایک تفصیلی بحث کر چکے ہیں، وہاں ہدف عبودیتِ خدا ذکر ہُوا ہے، اور یہاں حُسنِ عمل آزمائش یہ بات واضح ہے کہ آزمائش و امتحان کا مسئلہ عبودیّت کے مسئلہ سے الگ نہیں ہے، جیسا کہ کمال عقل، خدا ترسی اور نیّت خالص، جن کی طرف اوپر والی روایات میں اشارہ ہُوا ہے رُوحِ عبودیت ہیں۔ اِس طرح یہ دُنیا تمام انسانوں کے لیے ایک عظیم آزمائش کا میدان ہے۔آزمائش کا ذریعہ موت و حیات ہے اور اس عظیم آزمائش کا ہدف حسنِ عمل تک پہنچتا ہے۔ جس کا مفہوم تکامِل معرفت اخلاصِ نیّت اور ہر کارِ خیر کو انجام دینا ہے۔ اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بعض مفسّرین نے یہاں 'احسن عملا' کی تفسیر موت کو یاد کرنے یا موت کے لیے آ مادہ ہونے اور اسی قسم کے امُور سے کی ہے تو وہ حقیقت میں اس معنی کلّی کے مصادیق میں سے ہے۔ چُونکہ اس عظیم آزمائش کے میدان میں انسان بہت سی لغزشوں میں گرفتار ہو جاتا ہے، یہ لغزشیں اسے مایوس نہ کر دیں اور اس کی سعی و کوشِس سے اسے باز نہ رکھیں۔ لہٰذا آیت کے آخر میں بندوں کو مدد اور بخشش کا وعدہ دیتے ہُوئے کہتا ہے: "اور وہ شکست ناپذیر اور بخشنے والا ہے۔" (وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ)۔ ہاں! وہ ہر چیز پر قادر اور ہر توبہ کرنے والے اِنسان کو بخشنے والا ہے۔ موت و حیات کی نظام کو بیان کرنے کے بعد عالم کے نظامِ کلّی کو پیش کرتے ہُوئے انسان کو مجموعہ عالم ہستی کے مُطالعہ کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ اس طریقہ سے اپنے آپ کو اس عظیم آزمائش کے لیے آمادہ کرے، فرماتا ہے: "وہی خدا جِس نے سات آسمانوں کو ایک دُوسرے کے اُوپر پیدا کیا۔" (الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا)۔ سات آسمانوں کے بارے میں تو ہم اس سے پہلے تھوڑی سی بحث سورة طلاق کی آیت ١٢ کی تفسیر میں بھی کر چکے ہیں۔ یہاں "طباقا" کے بارے میں ہم کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ اس تعبیر کی بناء پر ساتوں آسمان ایک دُوسرے کے اوپر قرار پاتے ہیں، کیونکہ "مطابقة" کا معنی اصل میں یہ ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر قرار دیں۔ اب اگر ہم سات آسمانوں کو منظومہ ٔ شمسی کے سات کرّوں کی طرف اشارہ سمجھیں، جو بغیر کسِی آلہ کے دیکھے جا سکتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا سُورج کے ساتھ ایک معیّن فاصلہ ہے، اور ان میں سے ہر ایک دُوسرے کے اُوپر ہے۔ لیکن اگر ہم ان تمام ثوابت و سیّار ستاروں کو جنہیں ہم دیکھتے پہلے آسمان کی جُزء شمار کر لیں تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بالاتر مراحل میں کچھ دوسرے عوالم ہیں کہ جن میں سے ہر ایک دوسرے کے اوپر قرار پاتا ہے۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "تم خُدائے رحمن کی مخلوق میں کوئی تضاد اور کسِی قسم کا عیب نہیں دیکھو گے۔" (مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ)۔ عالم ہستی اِس ساری عظمت کے باوجود کچھ بھی ہے وہ نظم و نسق، استحکام و انسحام جچی تلی اور ٹھیک ٹھیک حساب شدہ ترکیبات اور دقیق قوانین ہیں۔ اگر اس عالم کے کسِی گوشہ میں بےنظمی واقع ہو جاتی تو وہ اسے نابود کر کے رکھ دیتی۔ اس عجیب و غریب نظام سے لے کر جو ایک ایٹم کے ذرّہ اور الیکڑون و پروٹوں کے ذرّات پر حاکم ہے، کل منظومہ ٔشمس اور دُوسرے منظوموں اور کہکشاؤں پر حاکم نظامات تک، سب کے سب دقیق قوانین کے زیر تسلّط ہیں جو انہیں ایک خاص راستہ پر چلا رہے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر جگہ قانون و حساب ہے اور ہر جگہ ایک نظم اور خاص ترکیب ہے۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے فرماتا ہے: "پھر نظر دوڑا کر دیکھو اور اس عالم کو غور سے دیکھو، کیا تمہیں اس میں کوئی شگاف یا خلل اور اختلاف نظر آتا ہے؟ (فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ)۔ "فطور"، "فطر" (بر وزن سطر) کے مادّہ سے، طول میں شگاف کرنے کے معنی میں ہے اور توڑنے کے معنی میں (مثلاً روزہ ک اافطار) اور اختلال و فساد کے معنی میں بھی آیا ہے۔ زیر بحث آیت میں اسی معنی میں ہے۔ مُراد یہ ہے کہ اِنسان عالمِ آ فرینش میں چاہے جتنا بھی غور کرے کم سے کم خلل اور ناموز و نیت بھی اس میں نہیں دیکھے گا۔ اِسی لیے بعد والی آیت میں اس معنی کی تاکید کے لیے مزید کہتا ہے: "پھر دوبارہ عالم ہستی کی طرف آنکھ کھول کر دیکھ، انجام کار تیری نظر خلل و نقص کی جستجو میں ناکام ہو کر اور تھک ہار کر تیری طرف پلٹ آئے گی۔" (ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَهُوَ حَسِيرٌ)۔ "کرتین"، "کر" (بر وزن شر) کے مادّہ سے کسِی چیز کی طرف توجّہ کرنے اور بازگشت کرنے کے معنی میں ہے کرة کا معنی تکرار بھی ہے اور "کرتین" اس کا تثنیہ ہے۔ لیکن بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ یہاں کرتین سے تثنیہ کا معنی مُراد نہیں، بلکہ اس سے مکّرر، بار بار، پےدرپے اور متعدّد مرتبہ توجہ کرنا مُراد ہے۔ اس بناء پر قرآن ان آیات میں لوگوں کو کم از کم تین مرتبہ عالمِ ہستی کی طرف نظر کرنے اور اسرارِ خِلقت و آفرینش کا مطالعہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ وہ ایک چیز میں باربار غور کریں۔ پھر جب اس عجیب و غیریب نظام میں معمولی سے معمُولی اور کم سے کم خلل اور نقص نہ دیکھیں تو اس کارخانۂ عالم کے پیدا کرنے والے خالق اور اس کے بےپایاں علم و قدرت سے زیادہ سے زیادہ آشنا ہوں۔ "خسیٔ"، "خسأ" اور "خسوء" (بر وزن مدح و خشوع) کے مّادہ سے۔ جب آنکھ کے لیے استعمال ہو تو خستہ اور ناتواں ہونے کے معنی میں ہے اور جب کتّے کے بارے میں استعمال ہو تو اسے دُور کرنے کے معنی میں ہے۔ حسر حسر (بر وزنِ قصر) کے مادّہ سے برہنہ کرنے کے معنی میں ہے، چونکہ اِنسان خستگی اور تکان کے وقت اپنی توانائی کھو بیٹھتا ہے اور گویا وہ اپنی توانائیوں سے برہنہ ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ خستگی اور ناتوانی کے معنی میں آیا ہے۔ اِس بناء پر اوپر والی آیت میں 'خاسیٔ' اور 'حسیر' دونوں ایک ہی معنی میں ہیں۔ یعنی عالم ہستی کے نظام میں کسِی نقص و عیب کے دیکھنے سے آنکھ کی درماندگی اور ناتوانی کے موضوع میں تاکید کے لیے آئے ہیں۔ بعض نے ان دونوں کے درمیان اس طرح فرق کیا ہے کہ "خاسئی" ناکام ہونے کے معنی میں، اور "حسیر" ناتواں کے معنی میں ہے۔ بہرحال؛ ان آیات سے دو اہم نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ قرآن راہِ حق کے تمام رہروں کو تاکیدی طور پر یہ حکم دیتا ہے کہ ان سے جتنا ہو سکتا ہے اِس عالِم ہستی کے اسرار اور جہانِ آفرینش کے عجائبات کا مطالعہ کرتے ہُوئے ان میں غور و خوض کریں۔ نیز یہ کہ ایک مرتبہ اور دو مرتبہ پر قناعت نہ کریں۔کیونکہ بہُت سے ایسے اسرار ہیں جو پہل یا دُوسری نگاہ میں اپنی نشان دہی نہیں کرتے۔ تیزبین نگاہیں کئی مرتبہ نظر دوڑانے کے بعد ہی اُن کو دیکھ پانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ انسان اس نظام میں جتنا زیادہ غور و خوض کرے گا اتنا ہی اس کے پردوں کو بہتر طور پر درک کر سکے گا۔ ایسا نظام، ساخت اور ترتیب جو ہر قسم کے نقص، خلل، کجی اور ٹیڑھے پن سے خالی ہے۔ اگر سطحی اور ابتدائی نظر میں اس جہان کے بعض موجودات، شرور و آفات اور فساد کے عنوان سے نظر آتے ہیں (مثلاً زلزے، سیلاب بیماریاں اور ناگوار حوادث، جو کبھی کبھی اِنسان کی زِندگی میں رُونما ہوتے رہتے ہیں) تو زیادہ دقیق مطالعات سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر بہت سے اہم اسرار و رُموز رکھتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے اس مطلب کی تشریح "اثبات وجُود خُدا"کے مباحث میں آفات و بلیات کے سلسلہ میں مادبین کے دلائل کے جواب میں کی ہے۔ کتاب "آفر یدگارِ جہاں" کی طرف رُجوع کریں)۔ یہ آیات بُرہان نظم کی طرف ایک واضح اشارہ ہے کہ جو کہتی ہیں: "ہر کارخانہ میں نظم کا وجُود، اس کارخانہ کی پُشت پر علم و قدرت کے وجود کی نشانی ہے۔ ورنہ اتّفاقی حوادث جو حساب شدہ نہ ہوں اندھے بہرے تصادفات نظام و حساب کا مبد، نہیں ہو سکتے، جیسا کہ حدیث مفضل میں امام صادق علیہ السلام سےآیا ہے: "ان الاھمال لا یأتی بالصواب، و التضاد لایأتی بالنظام۔" "مہمل کام کبھی درست نتیجہ نہیں دیتے، اور تضاد کسِی نظام کا مبداء نہیں ہو سکتا۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٣، صفحہ ٦٣)۔ آخری زیر بحث آیت نے صفحہ ٔآسمانی پر نگاہ ڈالی ہے جو خوبصورت اور چمکنے والے ستاروں کا ذکر کرتے ہُوئے کہتی ہے: "ہم نے نچلے آسمان کو چمکدار اور روشن ستاروں سے زینت بخشی ہے اور انہیں ہم نے شیٰطین کے لیے تیر قرار دیا ہے، اور ان کے لیے جہنم کی آگ کا عذاب فراہم کیا ہے۔" (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ)۔ ایک تاریک اور تاروں بھری رات میں آسمانوں کی طرف ایک نگاہ دُور تک دکھائی دینے والے عوالم کی طرف توجّہ اور ان نظاموں کا تصوّر جو ان پر حاکم ہے، اس خوب صورتی نفاست، عمدگی، عظمت ہیبت اور پُراسرار سکوت میں غور کہ جو ان کے اوپر سایہ فگن ہے۔ انسان کو ایک عرفان اور نورِ حق سے پُر جہان میں داخل کر دیتا ہے۔ اسے عشقِ پروردگار کے ان عوامل میں سیر کراتا ہے جن کی کسِی زبان سے تعریف و توصیف نہیں ہو سکتی۔ یہ آیت دوبارہ اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ وہ تمام ستارے جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں، سب پہلے آسمان کا حصّہ ہیں۔ وہ آسمان جو سات آسمانوں میں ہم سے زیادہ قریب ہے۔ اسی بناء پر اسے "السماء الدنیا" (نزدیک اور نچلے آسمان) کے عُنوان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ "رجُوم" (تیر) کی تعبیر ان شہابوں کی طرف اشارہ ہے جو تیر کی طرح آسمان کی ایک طرف سے دوسری طرف پھینکے جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ "شھب" ان ستاروں کے باقی ماندہ اجزاء ہیں جو بعض حوادث میں تباہ ہو گئے ہیں۔ اس بناء پر اگر وہ کواکب (ستاروں) کو شیاطین کے لیے تیر قرار دینے کی بات کہتا ہے، تو وہ انہیں مخصُوص سنگریزوں کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن شیاطین شہاب کے ان تیروں سے جو آسمانوں میں چھوٹے سرگرداں پتھر ہیں، کِس طرح نشانہ بنتے ہیں؟ ہم اس کی تشریح تفسیر نمونہ جلد ١١ (سورة حجر کی آیت ١٨ کے ذیل میں) اور جلد ١٩ (سورۂ صافات کی آیت ٢٠ کے ذیل میں) تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔

ایک نکتہ عالِم آفرینش کی عظمت

باوجودیکہ قرآن مجید عرب کے زمانہ جاہلیّت کے پسماندہ ماحول میں اُترا ، لیکن وہ اکثر تاکید کرتا ہے، کہ مُسلمان عالمِ ہستی کے باعظمت اسرار میں غور و فکر کریں۔ وہ مطلب جس کا زمانۂ جاہلیّت میں کوئی مفہُوم ہی نہیں تھا، یہ خود اس بات کی ایک واضح دلیل ہے کہ قرآن ایک دوسرے مبدء سے صادر ہُوا ہے۔ اب علم و دانش جس قدر آگے بڑھتے جا رہے ہیں، اس سلسلہ میں قرآنی تاکیدوں کی عظمت اسی قدر آشکار تر ہوتی جا رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کرّہ زمین جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں، اتنا بڑا ہونے کے باوجود منظومٔہ شمسی کے مرکز یعنی سُورج کی ٹکیہ کے مقابلہ میں اس قدر چھوٹی ہے کہ اگر بارہ لاکھ کرّہ زمین کو ایک دوسرے کے اوپر رکھیں تو پھر وہ سورج کی ٹکیہ کے برابر ہو گی۔ دوسری طرف سے ہمارا منظومٔہ شمسی ایک عظیم کہکشاں کا ایک جُزء ہے، وہی کہکشاں جسے راہ شیری MilkyWayکہتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: کہکشائیں ستاروں کے مجموعے ہیں جو ستاروں کے شہروں کے نام سے مشہور ہیں اور ایک دوسرے سے نزدیک ہونے کے باوجود بعض اوقات ان کے درمیان کئی ملین نوری سالوں کا فاصلہ ہوتا ہے)۔ ماہرین علم الافلاک کے حساب کے مطابق صرف ہماری کہکشاں میں ایک کھرب (١٠٠،٠٠٠،٠٠٠،٠٠٠) سے زیادہ ستارہ موجود ہیں، اور ہمارا سُورج اپنی تمام عظمت کے باجود، اس کے متوسط ستاروں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ تیسری طرف اس عظیم جہان میں اس قدر کہکشائیں موجُود ہیں جو حساب و کتاب اور شمار و قطار سے باہر ہیں۔ نیز ستاروں کو دیکھنے والی دوربینیں جتنی عظیم اور آراستہ ہوتی جا رہی ہیں اتنی ہی نئی سے نئی کہکشائیں کشف ہو رہی ہیں کِس قدر عظیم و برزگ ہے وہ خدا جس نے یہ عظیم مقصُومہ ایسے دقیق نظام کے ساتھ بنایا ہے۔

6
67:6
وَلِلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اور ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے پروردگار کا کفر کیا، جہنم کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
67:7
إِذَآ أُلۡقُواْ فِيهَا سَمِعُواْ لَهَا شَهِيقٗا وَهِيَ تَفُورُ
جس وقت وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس میں سے ایک وحشت ناک آواز سنیں گے اور وہ ہمیشہ جوش مار رہی ہوگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
67:8
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۖ كُلَّمَآ أُلۡقِيَ فِيهَا فَوۡجٞ سَأَلَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَذِيرٞ
قریب ہے کہ وہ شدت غضب سے پارہ پارہ ہوجائے۔ جس وقت اس میں کوئی گروہ ڈالا جاتا ہے تو دوزخ کے نگران (فرشتے) ان سے سوال کرتے ہیں کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
67:9
قَالُواْ بَلَىٰ قَدۡ جَآءَنَا نَذِيرٞ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ كَبِيرٖ
وہ کہیں گے، ہاں ! ڈرانے والا تو ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلایا اور یہ کہا کہ اللہ نے بالکل کوئی چیز نازل نہیں کی ہے اور تم ایک بہت بڑی گمراہی میں ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
67:10
وَقَالُواْ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ أَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيٓ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ
اور (یہ بھی) کہیں گے کہ اگر ( ان کی بات) سنتے یا سمجھتے تب تو (آج ) دوزخیوں میں نہ ہوتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
67:11
فَٱعۡتَرَفُواْ بِذَنۢبِهِمۡ فَسُحۡقٗا لِّأَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ
اس موقع پر وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے، دوزخی اس کی رحمت سے دور رہیں۔

تفسیر اگر ہم سننے والا کان اور بیدار فکر رکھتے تو دوزخ میں نہ ہوتے۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

گزشتہ آیات میں خدا کی عظمت و قدرت کی نشانیوں اور عالمِ آفرینش میں ان کے دلائل کے بارے میں گفتگو تھی، لہٰذا قرآن زیر بحث آیات میں ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے جنہوں نے ان دلائل کی پروا نہیں کی، انہوں نے کفر و شر کی راہ اختیار کر لی اور شیاطین کی طرح عذابِ الہٰی خرید بیٹھے۔ پہلے فرماتا ہے: "ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اپنے پروردگار کا کفر کیا عذابِ جہنم ہے اور وہ بُری جگہ ہے۔" (وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ)۔ اس کے بعد اس وحشتناک عذاب کے ایک گوشہ کی تشریح کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "جس وقت کفّار اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اس میں سے ایک وحشتناک صدا سُنیں گے اور وہ ہمیشہ جوش مارنے کی حالت میں رہتی ہے۔" (إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ)۔ ہاں! جس وقت انہیں انتہائی ذلّت و حقارت کے ساتھ اس میں پھینکا جائے گا تو جہنم کی وحشتناک اور طولانی صدا بلند ہو گی جو ان کے تمام وجُود کو وحشت میں غرق کر دے گی۔ "شھیق" اصل میں قبیح اور بُری آواز کے معنی میں ہے جیسا کہ گدھے کی آواز ہے۔ بعض اہل لغت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ "شھوق" کے مادے سے طولانی ہونے کے معنی میں لیا گیا ہے، (اسی لیے اُونچے اور بلند پہاڑ کو جبل 'شاہق' کہتے ہیں) اس بناء پر شحیق طولانی نالہ و فریاد کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ 'زفیر' تو اس آواز کو کہتے ہیں جو گلے میں پیچ کھاتی رہے، اور شھیق وہ آواز ہے جو سینہ میں آمد و رفت کرتی ہے، بہرحال؛ یہ وحشت انگیز اور بےچین کر دینے والی آوازوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد 'دُوزخ' کے غیظ و غضب کی شدّت کو مجسم کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "قریب ہے کہ وہ شدتِ غضب سے پارہ پارہ ہو جائے۔" (تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ)۔ (تشریحی نوٹ: تمیز متلاشی اور پراگندہ ہونے کے معنی میں ہے اور اصل میں تتمیز تھا)۔ ٹھیک اس عظیم برتن کی طرح جسے حد سے زیادہ تیز حرارت والی آگ کے اوپر رکھا ہوا ہو اور وہ اس طرح جوش مارتا ہو اور نیچے ہو رہا ہو کہ ہر لمحہ اس کے ٹکڑے ہو جانے کا خوف لگا رہتا ہو، یا اس غصہ میں بھرے ہُوئے انسان کی طرح جو چیخ چلّا رہا ہو اور اس طرح کی آ وازیں نکال رہا ہو جیسے ابھی پھٹ پڑے گا۔ ہاں! خدائی غضب کے اس مرکز، جہنّم کا منظر ایسا ہی ہے۔ پھر وہی بات جاری ہے۔ "جس وقت کافروں کا کوئی گروہ اس میں پھینکا جائے گا تو دوزخ کے نگہبان تعجب اور سرزنش کے طور پر اس سے سوال کریں گے کیا تمہارا کوئی رہبر و راہنما نہیں تھا؟ کیا خدا کی طرف سے کوئی ڈرانے والا تمہارے پاس نہیں آیا تھا؟ پھر تم اس بدبختی میں کیوں آن پڑے ہو؟" (كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ)۔ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں آئے گا کہ کوئی انسان جانتے بُوجھتے اور آسمانی رہبر کے ہوتے ہُوئے اِس قسم کی سرنوشت میں گرفتار ہو جائے۔ اور اپنے لیے اس قسم کی جگہ کا انتخاب کرے۔ لیکن وہ جواب میں کہیں گے: "ہاں ڈرانے والا تو ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اس کی تکذیب کی اور کہا کہ خُدا نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی، اور خدا نے کسِی پر وحی نہیں بھیجی ہے تاکہ ہم اپنی خواہش نفس کو جاری رکھیں۔ یہاں تک کہ ہم نے ان سے کہا کہ تم عظیم گمراہی میں مبتلا ہو۔" (قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ)۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے ان کی تصدیق نہیں کی اور ان کے حیات بخش پیغام پر کان نہیں دھرا، بلکہ ان کی مخالفت کے لیے کھڑے ہو گئے، ان روحانی طبیبوں کو گمراہ کہہ کر اپنے سے دور کر دیا۔ اِس کے بعد اپنی بدبختی اور گمراہی کی اصل دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہیں گے: "اگر ہم سننے والے کان رکھتے اور اپنی عقل کو کام میں لاتے تو ہرگز دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔" (وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ)۔ ہاں! اس موقع پر اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے۔ "دُور ہوں دوزخی خدا کی رحمت سے۔" (فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ)۔ ان آیات میں دوزخیوں کی وحشت ناک سرنوشت کے بیان کے ضمن میں ان کی بدبختی کی اصل علّت کی نشان دہی کرتے ہُوئے کہتا ہے: ایک طرف تو خدا نے سننے والے کان اور عقل و ہوش عطا کیا اور دوسری طرف واضح دلائل کے ساتھ اپنے پیغمبر بھیجے۔ اگر یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں تو انسان کی سعادت کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر انسان کان تو رکھتا ہے، مگر ان سے سنتا نہیں، آنکھیں رکھتا ہے مگر ان سے دیکھتا نہیں، اور عقل رکھتا ہے مگر اس سے سوچتا نہیں، تو اب اگر خُدا کے تمام کے تمام پیغمبر اور آسمانی کتابیں اس کے پاس آ جائیں تو اس پر کچھ اثر نہیں ہو گا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک گروہ نے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں ایک مسلمان کی مدح و ثنا کی تو رسول خداؐ نے فرمایا: "کیف عقل الرجل؟" "اس کی عقل کیسی ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہؐ ہم تو عبادت اور طرح طرح کے نیک کاموں میں اس کی جدّ و جہد کی بات کر رہے ہیں اور آپ اس کی عقل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ تب آپ نے فرمایا: "ان الاحمق یصیب بحمقہ اعظم من فجور الفاجر، و انما یرتفع العباد غداً فی الدرجات، و ینالون الزلقی من ربھم علی قدر عقولھم!" "احمق کی حماقت سے جو مصیبت آتی ہے وہ فاجروں کے فجور اور بدکاروں کے گناہ سے بدتر ہوتی ہے۔ کل قیامت کے دن خدا بندوں کو ان کی عقل و خرد کے مُطابق درجات عطا فرمائے گا اور وہ اسی بُنیاد پر قربِ خداوندی حاصِل کریں گے۔" "سحق" (بر وزن قفل) اصل میں پیسنے اور نرم کرنے کے معنی میں ہے اور پُرانے لباس کو بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہاں رحمتِ خُدا سے دوری کے معنی میں ہے تو اس بناء پر فسحقاً لاصحاب السعیر کا مفہُوم یہ ہے کہ دوزخی رحمتِ خُدا سے دُور رہیں، کیونکہ خدا کی نفرین تحقّقِ خارجی سے توام ہوتی ہے۔ تو یہ جُملہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ گروہ کلّی طور پر رحمتِ خُدا سے دُور ہو گا۔

ایک نکتہ عقل و خرد کی اونچی قدر و قیمت

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ قرآنِ مجید عقل و خِرد کی حد سے زیادہ قدر و قیمت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ نیز دوزخیوں کا بنیادی گناہ اور ان کی بدبختی کا اصلی عامل اس خُدائی قوّت سے کام نہ لینے کو شمار کرتا ہے۔ بلکہ جو شخص قرآن سے آشنائی رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُس نے مختلف مناسبتوں سے اس موضوع کی اہمیّت کو آشکار کیا ہے۔ اس نے ان لوگوں کی دوزخ بافیوں کے برخلاف، جو مذہب کو ماغوں کے مست اور سُست کرنے کا ذریعہ اور عقل و خِرد کی پروا نہ کرنے والا شمار کرتے ہیں، اِسلام خُدا شناسی اور سعادت و نجات کی اساس و بُنیاد عقل و خرد پر رکھتا ہے، بلکہ جگہ جگہ اس کا رُوئے سخن "اولوالالباب" (صاحبانِ عقل) اور "اولوالابصار" (صاحبانِ بصیرت) غور و فکِر کرنے والے عقلاء کی طرف ہے۔ اسلامی منابع میں اس سلسلہ میں اس قدر روایات وارد ہُوئی ہیں جو حساب و شمار سے باہر ہیں۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ مشہور کتاب کافی جو منابع حدیث میں سب سے زیادہ قابلِ اعتبار ہے وہ مختلف کتابوں پر مشتمل ہے اور اس کی پہلی کتاب کا نام کتابِ 'عقل و جہل' ہے۔ جو شخص ان روایات کو ملاحظہ کرے جو اس ضمن میں اس کتاب میں نقل ہُوئی ہیں، وہ اس سلسلہ میں اسلام کی نظر کی گہرائی کو پالے گا۔ ہم یہاں صرف دو روایات کے ذکر پر قناعت کریں گے۔ (اسی کتاب میں) امر المؤمنین امام علیؑ سے روایت آئی ہے کہ جبرئیل آدم علیہ السلام پر نازل ہُوئے اور ان سے کہا "مجھے حکم ہُوا ہے کہ میں آپ کو ان تین نعمتوں میں سے کسِی ایک کو اپنانے کا اختیار دوں، آپ ان میں سے کسِی ایک کا انتخاب کر لیں اور باقی دو کو چھوڑ دیں۔" آدم نے کہا: "وہ کون سی نعمتیں ہیں؟" جبرئیل نے جواب دیا: "عقل، حیا اور دین۔" آدم نے کہا: "میں نے عقل کا انتخاب کیا ہے۔" جبرئیل نے حیا اور دین سے کہا: "اسے چھوڑ دو، اور اپنا کام کرو۔" انہوں نے کہا: "ہم مامور ہیں کہ ہر جگہ عقل کے ساتھ رہے اور اس سے جُدا نہ ہوں۔" جبرئیل نے کہا: "اب جبکہ یہ بات ہے کہ تو پھر اپنی مامُوریّت پر عمل کرو اور اس کے بعد وہ آسمان کی طرف صعُود کر گئے۔ (بحوالہ: اصول کافی مطابق نقل نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ٣٨٢)۔ یہ ایک ایسی لطیف ترین تعبیر ہے جو عقل و خرد اور حیاء و دین سے اس کی نسبت کے بارے میں کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اگر عقل، دین سے جُدا ہو جائے تو وہ ذرا سی بات میں برباد ہو جائے گا یا انحراف کا شکار ہو جائے گا۔ باقی رہی حیاء کہ جو انسان کو بُرائیاں اور گناہوں کے ارتکاب سے روکتی ہے تو وہ بھی معرفت اور عقل و خِرد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ آدم علیہ السلام عقل کے ایک قابلِ ملاحظہ حصّہ کے مالک تھے جنہوں نے ان تین چیزوں کے درمیان اختیار کے موقع پر عقل کے بالاتر مرحلہ کو انتخاب کیا اور اس کے سائے میں دین کو بھی ساتھ رکھّا اور حیاء کو بھی۔ ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "من کان عاقلاً کان لہ دین، و من لہ دین دخل الجنّة۔" "جو عقلمند ہو گا وہ دیندار بھی ہو گا، اور جو دیندار ہو گا وہ جنّت میں داخل ہو گا۔" (اسی بناء پر جنّت عقلمندوں کی جگہ ہے)۔ (بحوالہ: اصول کافی مطابق نقل نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ٣٨٢)۔ البتّہ عقل یہاں سچی معرفت کے معنی میں ہے نہ کہ شیاطین کی وہ شیطنت جو دنیا کے جابر اور ظالم سیاستمداروں میں نظر آتی ہے کہ جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے قول کے مطابق: "شبیھۃ بالعقل، و لیست بالعقل" "عقل کے مشابہ ہے لیکن وہ عقل نہیں ہے۔" (بحوالہ: اصول کافی مطابق نقل نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ٣٨٢)۔

12
67:12
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ
وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے پوشیدہ طور سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
67:13
وَأَسِرُّواْ قَوۡلَكُمۡ أَوِ ٱجۡهَرُواْ بِهِۦٓۖ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
اپنی گفتگو کو پوشیدہ رکھو یا آشکار کرو (کچھ فرق نہیں ہے) وہ (اللہ) دلوں کی باتوں سے آگا ہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
67:14
أَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلۡخَبِيرُ
کیا وہ ہستی کہ جس نے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے ان کے حالات سے آگاہ نہیں ہے؟ جب کہ وہ دقیق اسرار سے باخبر اور ہر چیز کا عالم ہے۔

تفسیر کیا جہان کا خالق جہان کے اسرار سے آگاہ نہیں ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

ان مباحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں قیامت کے روز کفّار اور ان کی سرنوشت کے بارے میں بیان ہُوئے تھے، زیرِ بحث آیات میں قرآن مومنین اور ان کی عظیم جزاؤں کو بیان کر رہا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے پنہاں طور پر ڈرتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے۔" (إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ)۔ "غیب" کی تعبیر یہاں ممکن ہے کہ نادیدہ خدا کی معرفت یا نادیدہ معاد و قیامت یا ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ رہا ہو۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ شاید یہ پوشیدہ گناہوں کے بارے میں خدا کے خوف کی طرف اشارہ ہو۔ کیونکہ اگر انسان پوشیدگی میں بھی کوئی گناہ نہ کرے تو وہ بطریقِ اولیٰ آشکار گناہ نہیں کرے گا، یا یہ تعبیر گناہوں سے پرہیز کرنے اور اوامرِ الہٰی کے انجام دینے میں خلُوص نیّت کے مقام کی طرف اشارہ ہو کیونکہ پوشیدہ طور سے کیا ہوا عمل ریا اور دکھاوے سے دور ہوتا ہے۔ ان تفاسیر کے درمیان جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ "مغفرة" کی تعبیر کا نکرہ کی صورت میں ہونا اور اس طرح، اجر کبیر اس کی عظمت و اہمیّت کی طرف اشارہے۔ یعنی یہ مغفرت اور اجر و پاداش اتنی عظیم ہو گی جو سب کے لیے انجانی ہو گی۔ اس کے بعد تاکید کے لیے مزید کہتا ہے: اگر تم اپنی گفتگو پہناں طور پر آشکار کرو، خدا دلوں کی باتوں سے آگاہ ہے۔" (وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ)۔ بعض مفسّرین نے اِبن عباس سے اس آیت کی ایک شانِ نزول نقل کی ہے، کفّار منافقین کی ایک جماعت پیغمبر خداؐ کے پس پشت ناروا باتیں کرتی تھی۔ جبرئیل آ کر پیغمبرؐ کو خبر دے دیا کرتے تھے، تب ان میں سے بعض نے ایک دُوسرے سے کہا: "أَسِرُّوا قَوْلَكُمْ" اپنی باتیں پوشیدہ طور پر کیا کرو تاکہ محمدؐ کا خدا نہ سُن لے تو اوپر والی آیت نازل ہُوئی اور کہا: "چاہے آشکارا باتیں کرو یا پوشیدہ طور پر، خُدا اُن سے آگاہ ہے۔" (تشریحی نوٹ: "فخر رازی"جلد ٣، صفحہ٦٦، روح البیان، جلد ١٠، صفحہ ٨٦ زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ بعد والی آیت اس چیز کے لیے جو گزشتہ آیت میں بیان ہوئی ہے ایک دلیل کے طور پر آئی ہے۔ فرماتا ہے: "کیا وہ ذات جس نے موجُودات کو پیدا کیا ہے ان کے حالات سے آگاہ نہیں ہے؟ جبکہ وہ دقیق ترین اسرار سے باخبر اور ہر چیز کا عالم ہے۔" (أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ)۔ "أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ" کے جُملہ کی تفسیر میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں: بعض نے کہا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کیا وہ خدا جس نے دلوں کو پیدا کیا ہے، وہ ان کے اندر کے اسرار سے آگاہ نہیں ہے؟ یا یہ کہا ہے کہ وہ خدا جس نے بندوں کو پیدا کیا ہے، کیا وہ ان بندوں کے اسرار سے بےخبر ہے؟ یایہ کہا ہے کہ وہ خدا جس نے تمام عالمِ ہستی کو پیدا کیا ہے وہ تمام جہان کے اسرار سے آگاہ ہے تو کیا وہ انسان جو اس عظیم خلقت میں سے ایک موجود ہے، اس کے اسرار خدا سے پوشیدہ ہوں گے؟ بہرحال؛ اس حقیقت کو معلُوم کرنے کے لیے ہمیشہ اس نکتہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ خدا کی خلقت دائمی ہے۔ یعنی اس کی طرف سے فیضِ وجود ہر لحظہ مخلوقات کو پہنچ رہا ہے، معاملہ اِس طرح نہیں ہے کہ وہ انہیں پیدا کر کے ان کی حالت پر چھوڑ دے۔ اصولی طور پر تمام ممکنات (موجودات) اس کے وجود کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی ان کا رشتہ اس کی ذات پاک سے منقطع ہو جائے تو وہ فنا کی رہ اختیار کر لیں۔ اِس دائمی تعلّق اور خلقت کی طرف مسلسل توجہ، ہر زمانہ اور ہر مکان میں تمام موجُودات کے اسرار کے بارے میں علم خدا کی ایک بہترین دلیل ہے۔ 'لطیف' کے ساتھ خدا کی توصیف اِس لحاظ سے ہے کہ لطیف کے معنی میں ہے۔ اس بناء پر خدا کا لطیف ہونا خلقت کے دقیق و ظریف اسرار کے بارے میں اس کے علم کی طرف اشارہ ہے۔ یہ لفظ بعض اوقات اجسامِ لطیف خورد بینی ذرات اور ان سے مافوق کے معنی میں بھی آیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہاری دلی نیّتیں چاہے جتنی پوشیدہ ہوں اور تم اپنی باتوں کو محفلوں میں چاہے جتنا مخفی طور پر کہو یا غلط اعمال خلوت گاہوں میں انجام دو، خداوند لطیف و خبیر ان سب سے آگاہ ہے۔ بعض مفسّرین نے لطیف کی تفسیر میں کہا ہے: (ھوالذی یکلف الیسیر ویعطی الکثیر) "وہ ایسی ہستی ہے جو ذمّہ داری تو آسان ڈالتی ہے مگر اجر و پاداش فراواں و دقّت ہے۔" حقیقت میں یہ بھی رحمت میں ایک قسم کی ظرافت و دقّت ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ لطیف کے ساتھ خدا کی توصیف اس بناء پر ہے کہ وہ تمام چیزوں کے اندر نفوذ رکھتا ہے اور سارے جہان میں کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے۔ لیکن یہ سب باتیں ایک ہی حقیقت کی طرف لٹتی ہیں اور خدا کے علم اور گہرائی اور پوشیدہ و آشکار اسرار پر اس کے علم پر ایک تاکید ہے۔

15
67:15
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ ذَلُولٗا فَٱمۡشُواْ فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُواْ مِن رِّزۡقِهِۦۖ وَإِلَيۡهِ ٱلنُّشُورُ
وہی تو ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لئے تسخیر کر دیا۔ اس کے دوش پر چلو پھرو اور اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے کھاؤ اور تم سب کی باز گشت اسی (اللہ ہی) کی طرف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
67:16
ءَأَمِنتُم مَّن فِي ٱلسَّمَآءِ أَن يَخۡسِفَ بِكُمُ ٱلۡأَرۡضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ
جو آسمان پر حاکم ہے کیا تم اس کے عذاب سے خود کو امان میں سمجھتے ہو یا زمین اس کے حکم سے پھٹ جائے اور تمہیں نگل لے اور مسلسل لرزتی اور کانپتی رہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
67:17
أَمۡ أَمِنتُم مَّن فِي ٱلسَّمَآءِ أَن يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبٗاۖ فَسَتَعۡلَمُونَ كَيۡفَ نَذِيرِ
یا تم خداوند آسمان کے عذاب سے اپنے آپ کو امان میں سمجھتے ہو کہ وہ ایسی آندھی تم پر بھیج دے جو سنگریزوں سے بھری ہوئی ہو اور تم جلدی ہی جان لو گے کہ میری دھمکیاں کیسی ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
67:18
وَلَقَدۡ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ
وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے انہوں نے (آیات الٰہی کی) تکذیب کی تھی، لیکن (دیکھو) میرا عذاب کیسا تھا؟

تفسیر کوئی مجرم اس کے عذاب و سزا سے امان میں نہیں ہے۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

ان مباحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں دوزخیوں، جنّتیوں، کافروں اور مومنوں کے بارے میں گزرے ہیں، زیر بحث آیات میں جنّتیوں کی صفوں میں جا ملنے کی ترغیب و تشویق اور دوزخیوں کی راہ و رسم سے بچنے کے لیے چند خدائی نعمتوں کا ذکر اور پھر اس کے عذابوں کے ایک حصّہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فرماتا ہے: وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے رام کر دیا ہے۔" (هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا)۔ "پس تم زمین کے دوش پر چلو پھرو، اور پروردگار کی روزیوں میں سے کھاؤ، اور جان لو کہ سب کہ بازگشت اسی کی طرف ہے۔" (فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ)۔ "ذلول" رام ہونے کے معنی میں ایک جامع ترین تعبیر ہے جو زمین کے بارے میں ممکِن ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ تیز رو سواری بہت ہی تیز اور متعدّد حرکات رکھنے کے باوجود ایسی پُرسکون نظر آتی ہے گویا کہ مُطلقاً ساکن ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ زمین چودہ قسم کی مختلف حرکتیں رکھتی ہے۔ جن میں سے تین اقسام یعنی اس کی اپنے محور پر حرکت، سورج کے گرد و حرکت اور منظوُمہ شمسی کے ہمراہ کہکشاں کے اندر حرکت ہے۔ یہ حرکات جو بہت ہی زیادہ تیز ہیں ایسی نرم اور ملائم ہیں کہ جب تک زمین کی حرکت پر قطعی دلائل قائم نہیں ہوئے تھے، کوئی شخص باور ہی نہیں کرتا تھا کہ اس میں کوئی حرکت ہے۔ دوسری طرف زمین نہ تو اس کی سخت ہے کہ قابلِ زندگی ہی نہ ہو اور نہ ہی اس طرح کی ڈھیلی اور نرم ہے کہ قرار و آرام نہ پکڑتی ہو۔ بلکہ یہ مکمل طور پر انسانی زندگی کے لیے رام ہے، مثلاً اگر زمین زیادہ کیچڑ والی ہوتی جس میں ہر چیز دھنس جاتی، یا نرم ریت ہوتی کہ جس میں انسان کے پاؤں گھٹنوں تک دھنس جاتے یا تیز اور سخت پتھر ہوتے جو تھوڑا سا چلنے سے انسانی بدن کو زخمی کر دیتے تو اس سے زمین کی بےآرامی کے معنی واضح ہو جاتے۔ تیسری طرف اس کا فاصلہ سُورج سے نہ تو اتنا کم ہے کہ تمام چیزیں گرمی کی شدّت سے جل جائیں اور نہ ہی اتنا زیادہ ہے کہ ہر چیز سردی سے خشک ہو جائے۔ زمین پر ہوا کا دباؤ اس طرح سے ہے جو انسان کو سکون و آرام مہیّا کرتا ہے، وہ نہ تو اس قدر زیادہ ہے کہ انسان کا گلا گھونٹ دے اور نہ اس قدر کم ہے کہ وہ پارہ پارہ ہو جائے۔ زمین کی قوّت جاذبہ نہ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ ہڈیوں کو توڑ دے اور نہ ہی اس قدر کم ہے کہ ایک ہی حرکت سے انسان اپنی جگہ سے اکھڑ جائے اور فضا میں جا پڑے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ ہر لحاظ سے 'ذلول' اور انسان کے حکم کے آگے مسخر اور رام ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ زمین کے ذلول اور مطیع ہونے کی توصیف کے بعد حکم دیتا ہے کہ اس کے کندھوں چلوں۔ ہم جانتے ہیں کہ مناکب جمع منکب (بر وزن مغرب) کندھے کے معنی میں ہے، گویا انسان زمین کے کندھے پر قدم رکھتا ہے اور زمین ایسی پُرسکون ہے کہ وہ اپنے اعتدال کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب تک تم قدم نہ اٹھاؤ گے اور سعی و کوشش نہ کرو گے، زمین کی روزیوں سے بہرہ مند نہ ہو پاؤ گے۔ "رزق" کی تعبیر بھی ایک بہت ہی جامع تعبیر ہے جو زمین کے تمام مواد غذائی کو چاہے وہ حیوانی ہو یا نباتی یا معدنی، سب کو شامل ہے۔ لیکن جان لو کہ یہ تمہاری خلقت کا مقصد اصلی نہیں ہے۔ یہ سب کے سب تو تمہارے "نشور" قیامت اور حیاتِ ابدی کی راہ کے لیے وسائل و ذرائع ہیں۔ اس تشویق اور بشارت کے بعد تہدید و انذار کی بات کرتا ہے۔ مزید کہتا ہے: "جو آسمان پر حاکم ہے۔ کیا تم اس کے عذاب سے اپنے آپ کو امان میں سمجھتے ہو کہ زمین اس کے حکم سے پھٹ جائے، وہ تمہیں اپنے اندر نِگل لے اور ہمیشہ لرزتی اور کانپتی رہے۔" (أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ)۔ ہاں! اگر وہ حکم دے تو یہ مطیع و ساکن زمین سرکش ہو جائے، اور وحشی جانور کی صورت اختیار کر لے، زلزلے آنے شروع ہو جائیں، زمین میں شگاف پڑ جائیں اور وہ تمہیں، تمہار ے گھروں اور شہروں کو نِگل جائے اور پھر بھی لرزتی اور کانپتی رہے۔ "فَإِذَا هِيَ تَمُورُ" وہ ہمیشہ لرزتی ہے اور بےسکون رہے کا جُملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خدا یہ حکم دے سکتا ہے کہ زمین تمہیں نگل جائے اور تمہیں مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنے اندر ہی منتقل کرتی رہے۔ یہاں تک کہ تمہاری قبر بھی ساکن اور بغیر حرکت کے نہ ہو۔ یا یہ ہے کہ زمین اپنے سکون و آرام کو ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھے اور اس میں ہمیشہ زلزلے آتے رہیں۔ اس معنی کا ادراک ان لوگوں کے لیے آسان ہے جنہوں نے بعض زلزلہ خیز علاقوں میں زندگی بسر کی ہے۔ انہوں نے دیکھا ہو گا کہ بعض اوقات زمین کئی کئی دن اور راتیں بالکل بےسکون و بےآ رام رہتی ہے۔ تب ان سب کا کھانا پینا، سونا اور آرام کرنا ختم ہو جاتا ہے لیکن ہم لوگوں کے لیے جنہوں نے عادثا زمین کے آرام و سکون ہی کو دیکھا ہے اس کا سمجھنا مشکل ہے۔ "مَنْ فِی السَّماء" (وہ جو آسمان میں ہے) کی تعبیر خدا کی ذاتِ پاک کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی حاکمیّت زمین تو کیا آسمانوں پر بھی مُسلم ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ خدا کے فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جو آسمانوں میں ہیں اور اس کے فرمان کے اجراء پر مامُور ہیں۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے کہ: "ضروری نہیں ہے کہ حتمی طور پر زلزلے ہی تمہاری طرف آئیں، بلکہ وہ یہ فرمان تند آندھیوں کو دے سکتا ہے۔ کیا تم اپنے آپ کو امان میں سمجھتے ہو کہ آسمانوں کا حاکم خدا ایسی تیز آندھی جو سنگریزوں سے پُر ہو تم پر بھیج دے اور تمہیں اس پہاڑ کے نیچے دفن کر دے؟ (أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا)۔ "اور تم جلدی ہی جان لو گے کہ میری تہدیدی (اور دھمکیاں) کیسی ہیں۔" (فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ)۔ اس معنی کا ادراک ان لوگوں کے لیے بہت آسان ہے جنہوں نے جلتی ہوئی ریت اور 'حاصب' ہوائیں دیکھی ہیں۔ (یہ ہوائیں ریت کے جو تودے اپنے ساتھ لے جاتی ہیں انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہیں) وہ جانتے ہیں کہ چند ہی لمحوں کے اندر گھر اور آبادیاں رواں دواں ریت کے تودوں کے نیچے دفن ہو سکتی ہیں یا وہ قافلے جو بیابان کے وسط میں چل رہے ہوتے ہیں اس کے نیچے دفن ہو سکتے ہیں۔ حقیقت میں اوپر والی آیات اس معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ عذاب قیامت کی عذاب میں منحصر نہیں ہے۔ اس دنیا میں خدا زمین سی حرکت یا آندھیوں کے چلنے سے ان کی زندگی کو ختم کر سکتا ہے۔ اس امکان کی بہترین دلیل گزشتہ امتوں میں ان کا واقع ہونا ہے۔ لہٰذا آخری زیر بحث آیت میں کہتا ہے: "وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے انہوں نے خدا کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ لیکن دیکھو میری دی ہُوئی سزا اور عذاب ان کے حق میں کیسا تھا؟" (وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ) (تشریحی نوٹ: "نکیر" انکار کے معنی میں ہے اور یہاں عذاب و سزا سے کنایہ ہے کیونکہ خدا کا انکار ان قوموں کے افعال کے مقابلے میں ان کی سزا کے طریقہ سے صورت پذیر ہُوا، اس بات پر توجہ رہے کہ یہ لفظ نکیری تھا۔ جیسا کہ گزشتہ آیت میں لفظ نذیر نذیری تھا (میرا انکار اور میرا ڈرانا) "یاء" متکلم حذف ہو گئی اور زیر جو اس پر دلالت کرتی ہے باقی رہ گئی)۔ ایک گروہ کو تباہ کرنے والے زلزلے سے، کچھ قوموں کو بجلیوں سے اور ایک جماعت کو طوفان یا تیز آندھیوں کے ذریعہ سزا دی، اور ان کے تباہ شدہ خاموش شہروں کو ہم نے درسِ عبرت کے طور پر باقی رہنے دیا۔

19
67:19
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ فَوۡقَهُمۡ صَـٰٓفَّـٰتٖ وَيَقۡبِضۡنَۚ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱلرَّحۡمَٰنُۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَيۡءِۭ بَصِيرٌ
کیا انہوں نے ان پرندوں کی طرف نہیں دیکھا، جو ان کے سروں کے اوپر کبھی اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں ؟ خدائے رحمن کے سوا کوئی انہیں آسمان کی بلندی پر روکے ہوئے نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
67:20
أَمَّنۡ هَٰذَا ٱلَّذِي هُوَ جُندٞ لَّكُمۡ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ ٱلرَّحۡمَٰنِۚ إِنِ ٱلۡكَٰفِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ
کیا وہ جو تمہارا لشکر ہے وہ اللہ کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہے؟ لیکن کافر تو صرف دھوکہ میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
67:21
أَمَّنۡ هَٰذَا ٱلَّذِي يَرۡزُقُكُمۡ إِنۡ أَمۡسَكَ رِزۡقَهُۥۚ بَل لَّجُّواْ فِي عُتُوّٖ وَنُفُورٍ
کیا وہ جو تمہیں روزی دیتا ہے اگر وہ اپنی روزی روک لے ( تو تمہاری ضروریات کون پوری کر سکتا ہے) لیکن وہ تو سرکشی اور حقیقت سے فرار کرتے ہوئے ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں۔

تفسیر اپنے سر کے اوپر ان پرندوں کی طرف دیکھو

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

اس سورة کی ابتدائی آیات میں جب خدا کی قدرت اور مالکیّت کے بارے میں بحث تھی تو ساتوں آسمانوں، ان کے ستاروں اور کواکب کے بارے میں گفتگو تھی۔ لیکن یہاں پہلی زیر بحث آیت میں اسی مسئلہ قدرت کو عالم ہستی کے بظاہر ایک چھوٹے سے موجود کے ذکر کے ذریعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ فرماتا ہے: کیا انہوں نے ان پرندوں کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے سروں کے اوپر کبھی اپنے پروں کو پھیلائے ہُوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹے ہُوئے ہوتے ہیں؟" (أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ)۔ (تشریحی نوٹ: "الطیر"طائر کی جمع ہے۔ اسی لیے اس کا فعل اور صفت جمع کی صورت میں آیا ہے۔ بعض نے جو یہ تصور کیا ہے کہ طیر مفرد ہے تو یہ ارباب لغت کی تصریح کے خلاف ہے)۔ یہ سنگین جِسم قانون جاذبہ کے برخلاف زمین سے اُٹھتے ہیں اور آرام کے ساتھ آسمان کی بلندی پر گھنٹوں تک اور بعض اوقات ہفتوں اور مہینوں تک مسلسل اپنی سریع اور نرم حرکت کو جاری رکھتے ہیں، اور انہیں اس میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ پرواز کرتے وقت اکثر پرندے اپنے روں کو کھولے ہوئے ہوتے ہیں۔ "صافات" گویا ایک پُراسرار قوّت انہیں چلا رہی ہوتی ہے۔ جبکہ بعض ہمیشہ پر مارتے رہتے ہیں۔ (ممکن ہے یقبضن اسی معنی کی طرف اشارہ ہو)۔ بعض دوسرے کبھی پر مارتے ہیں اور کبھی پروں کو پھیلا لیتے ہیں۔ چوتھا گروہ ایک مدّت تک پر مارتا ہے اور جب تیری پکڑ لیتا ہے تو اپنے پروں کو کُلّی طور پر سمیٹ لیتا ہے اور فضا کے سمندر میں غوطہ لگا لیتا ہے (مثلاً چڑ یا) خلاصہ یہ ہے کہ باوجُودیکہ وہ سب پرواز کرتے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے۔ ان کے جسم کو کِس نے اِس طرح سے پیدا کیا ہے کہ وہ آرام و سکون کے ساتھ فضا میں سیر کرتے ہیں؟ ان کے پروں کو یہ قدرت کِس نے عطا کی اور انہیں پرواز کا علم سکھایا ہے؟ خصوصاً مُہاجر پرندوں کی پیچیدہ قسم کی اجتماعی پرواز جو بعض اوقات کئی کئی ماہ تک طول کھینچتی ہے اور ہزاروں کلو میٹر کا راستہ طے کر کے بہت سے ملکوں، پہاڑوں، درّوں، جنگلوں اور سمندروں کے اُوپر سے گزر کر اپنے تک پہنچتے ہیں، واقعتاً ایسی قوت اور آگاہی انہیں کِس نے عطا کی ہے؟ لہٰذا آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: خُدائے رحمن کے سوا کوئی انہیں آسمان کی بلندی پر روکے ہُوئے نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے اور ہر مخلُوق کی نیاز اور حاجت کو جانتا ہے۔" (مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ)۔ وہی تو ہے کہ جس نے انہیں پرواز کے لیے مختلف وسائل اور استعدادیں عطا کی ہیں۔ ہاں! خدائے رحمن جِس کی رحمت عامّہ نے تمام موجودات کو گھیرا ہُوا ہے، اسی نے پرندوں کو بھی ان کی ضرورت کی چیزیں بخشی ہیں۔ جو ہستی آسمان اور فضا میں پرندوں کو روکے ہُوئے ہے، وہی زمین اور دوسری موجودات کی بھی نگہدار ہے۔ جب وہ ارادہ کر لے تو نہ پرندہ پرواز کر سکتا ہے، اور نہ ہی زمین سکون کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ "صافات" و "یقبضن" (پروں کو پھیلاتے اور سمیٹتے ہیں) کہ تعبیر، ممکن ہے مختلف پرندوں کی طرف یا ایک ہی پرندہ کے مختلف حالات کی طرف اشارہ ہو۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "صافات" وصفی صورت میں اور یقبضن فعل مضارع کی صورت میں آیا ہے، ممکِن ہے یہ اس وجہ سے ہو کہ پروں کا پھیلانا ایک خاص انداز ہے جبکہ کھولنا اور بند کرنا پروں کی تکرار ہے)۔ ہم نے پرندوں کی دنیا اور ان کی پرواز کی عجائبات کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ٦ (سورة نحل کی آ یت ٧٩کے ذیل میں) تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ بعد والی آیت میں اس معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کفار خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کسِی قسم کا کوئی یار و مددگار نہیں رکھتے، فرماتا ہے: کیا وہ جو تمہارا لشکر ہے، وہ خدا کے مقابلہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ (أَمَّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَنِ)۔ (تشریحی نوٹ: "ام" اس جملہ میں حرفِ عطف ہے۔ "من" مبتداء "ھٰذا" دوسرا متبداء اور "الذی" اس کی خبر ہے۔ "ھوجند لکم" اس کا صلہ ہے اس کا صلہ ہے اور 'ینصر کم' ، 'جند' کی صفت اور جملہ کے پہلے مبتداء کی خبر ہے۔" (البیان فی غریب اعراب القرآن، جلد ٢، صفحہ ٤٥٩) لیکن مناسب یہ ہے کہ الذی عطف بیان ہو اور "ینصر کم" خبر ہو۔ کیونکہ اس کے بغیر جملہ ناقص ہے۔ (غور کیجیے))۔ نہ صِرف یہ کہ وہ مصیبتوں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے بلکہ اگر وہ چاہے تو انہیں کو تمہارے عذاب اور نابودی پر مقرر کر دے۔ کیا پانی، ہوا، مٹی اور آگ تمہارے خدمت اور تمہاری زندگی کے ارکان نہیں ہیں؟ لیکن خدا نے انہیں کو سرکش اقوام کی نابودی پر مامور کر دیا۔ نیز تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات محفوظ ہیں کہ بادشاہوں، فراعنہ اور سرکش حکمرانوں کے نزدیک افراد ہی ان کی موت کا سبب بن گئے، موجودہ زمانہ کی تاریخ میں بھی یہ ماجرا دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومتوں کی وفادار ترین طاقتوں نے ہی ان کے خلاف بغاوت کر دی، اور ان کی موت کا فرمان جاری کیا۔ "لیکن کافر صرف دھوکہ، فریب اور غفلت میں گرفتار ہیں۔" (إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ)۔ دھوکہ، فریب اور جہالت کے پردے ان کی عقلوں پر پڑے ہُوئے ہیں۔ وہ انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ تاریخ کے صفحات پر یا اپنی زندگی کے گوشہ و کنار میں یہ درس عبرت دیکھیں۔ 'جند' اصل میں ناہموار اور ایسی سخت زمین کے معنی میں ہے جس میں بہت زیادہ پتھّر جمع ہو گئے ہوں۔ اسی مناسبت سے بہت زیادہ لشکر کو بھی 'جند' کہتے ہیں۔ بعض مفسّرین زیر بحث آیت میں جند کو بتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ وہ قیامت میں مشرکین کی مدد پر ہرگز قدرت نہیں رکھتے۔لیکن ظاہر یہ ہے کہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اور وہ بُت بھی اس کا ایک مصداق ہو سکتے ہیں۔ پھر مزید تاکید کے لیے کہتا ہے: "کیا وہ ہستی جو تمہیں روزی دیتی ہے، اگر وہ اپنی روزی تم سے روک لے تو تمہیں کون بےنیاز کر سکتا ہے؟" (أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ)۔ (تشریحی نوٹ: آیت میں جزاء کی شرط محذوف ہے تقدیر میں اس طرح ہے ان امسک و زقہ من یرزقکم غیرہ۔" (اگر وہ اپنا رزق روک لے تو اس کے علاوہ کون تمہیں رزق دے گا))۔ اگر وہ آسمان کو حکم دے دے کہ وہ بارش نہ برسائے اور زمین سبزہ نہ اُگائے یا مختلف قسم کی نباتی آفات پھلوں کو نابود کر دیں تو کِس یہ طاقت ہے کہ تمہارے لیے کوئی غذا مہیّا کر دے؟ نیز اگر وہ معنوی روزیاں اور آسمانی وحی تم سے منقطع کر لے تو کِس میں یہ طاقت ہے کہ تمہاری راہنمائی کرے؟ یہ واضح حقائق ہیں، لیکن ہٹ دھرمی اور گستاخی انسان کے ادراک اور شعور کے آگے ایک حجاب بن جاتی ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "لیکن وہ تو سرکشی اور حقیقت سے فرار کرتے ہُوئے ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں۔" (بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ)۔ اِس موجودہ زمانہ میں بھی جبکہ انسان کی زندگی کے مختلف جہات میں، خصُوصاً غذائی مصنوعات میں بہت ہی ترقی ہو چکی ہے، اگر صرف ایک ہی سال کے لیے مطلقاً بارش نہ ہو تو ساری دُنیا میں کیسی مصیبت کھڑی ہو جائے گی، یا ٹڈی دل کا لشکر اور آفاتِ نباتی ہر جگہ کو گھیر لیں تو کیسی مصیبت واقع ہو جائے گی۔

ایک نکتہ انسانوں کی ناکامی کے چار عوامل

گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ سننے والا کان اور بیدار عقل کا نہ ہونا، وہ اہم ترین عامل ہے۔ جو دوزخیوں کو دوزخ کی طرف کی طرف کھینچ کر لے جائے گا۔ زیر بحث آیات میں یہ بیان ہُوا ہے کہ دوسرے چار عوامل یعنی "دھوکہ و فریب"، "ہٹ دھرمی"، "سرکشی" (عتو) اور حق سے دوری اختیار کرنا" (نفود) اِنسان کی بدبختی اور گمراہی کا سبب ہیں۔ اگر ہم صحیح طور پر غور کریں تو ہم دیکھ لیں گے کہ یہ عوامل گزشتہ عوامل کے ساتھ مربُوط ہیں۔ کیونکہ یہ بُری صفات انسان کے کان اور آنکھ پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور اس کے لیے حقائق کے اوراک سے مانع ہو جاتی ہیں۔

22
67:22
أَفَمَن يَمۡشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجۡهِهِۦٓ أَهۡدَىٰٓ أَمَّن يَمۡشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
کیا وہ شخص جو منہ کے بل گر ا ہوا چل رہا ہو ہدایت کے زیادہ نزدیک ہے یا وہ شخص جو راست قامت صراط مستقیم پر گامزن ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
67:23
قُلۡ هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَكُمۡ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ
کہہ دیجئے وہی تو ہے کہ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے، اور تمہارے لئے کان ، آنکھیں اور دل قرار دئیے، لیکن تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
67:24
قُلۡ هُوَ ٱلَّذِي ذَرَأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
کہہ دیجئے کہ وہی تو ہے کہ جس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا، اوراسی کی طرف تم لوٹ جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
67:25
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
67:26
قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡعِلۡمُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٞ
کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور میں تو صرف واضح و آشکار ڈرانے والا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
67:27
فَلَمَّا رَأَوۡهُ زُلۡفَةٗ سِيٓـَٔتۡ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقِيلَ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَدَّعُونَ
جس وقت اس وعدۂ الٰہی کو قریب سے دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے قبیح اور سیاہ ہو جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا، یہ وہی چیز ہے جس کا تم تقاضا کیا کرتے تھے۔

تفسیر شاہراہِ توحید کے راست قامت افراد

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

گزشتہ آیات کے بعد پہلی زیر بحث آیت میں کفار و مومنین کے ان دونوں گروہوں کی حالت کی کیفیت ایک عمدہ مثال کے ضمن میں منعکس کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "کیا وہ شخص جو منہ کے بل گرا ہوا چل رہا ہے، ہدایت کے زیادہ نزدیک ہے یا وہ شخص جو راست قامت صراطِ مستقیم پر قدم رکھتے ہُوئے آگے بڑھ رہا ہے۔" (أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)۔ یہاں بےایمان، ظالم، ہٹ دھرم اور فریبی لوگوں کو ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو ناہموار اور پیچ و خم سے پُر راہ سے گزر رہا ہو، وہ مُنہ کے بل گرا ہوا ہو، اور ہاتھ پاؤں سے یا سینہ کے بل چل رہا ہو، نہ ٹھیک طرح سے راستہ دیکھ سکتا ہو اور نہ ہی اپنے اُوپر نظر کر سکتا ہو، نہ رکاوٹوں سے باخبر ہو اور نہ ہی سرعت اور تیزی سے چل سکتا ہو، تھوڑا سا رستہ چلتا ہو اور پھر تھک جاتا ہو۔ لیکن مومنین کو ایسے راست قامت افراد سے تشبیہ دیتا ہے جو ہموار، صاف اور سیدھے راستے پر سُرعت، قدرت اور پوری آگاہی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہوں۔ کتنی عمدہ اور دقیق تشبیہ ہے۔ جس کے آثار ان دونوں گروہوں میں مکمل طور پر نمایاں ہیں اور ہم اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں۔ بعض نے ان دو گروہوں کا مظہر پیغمبر اسلامؐ اور ابو جہل کو شمار کیا ہے۔ یقیناً یہ دونوں اوپر والی آیت کے روشن اور واضح مصداق ہیں، لیکن آیت کے مفہوم کی عمومیت کو محدود نہیں کرتے۔ "مکتباً علی وجہ میں کئی ایک احتمال دئیے گئے ہیں: جو تفسیر اس کے لغوی مفہوم کے ساتھ زیادہ سازگار ہے وہ وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ یعنی وہ ایسا شخص ہے جو منہ کے بل گرا ہوا ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے سینہ کے بل چل رہا ہو۔ لیکن بعض نے کہا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ سیدھا چل رہا ہے لیکن سر نیچے کئے ہوئے ہے اور اپنے راستے کو کسی طرح سے نہیں دیکھتا۔ جبکہ بعض یہ کہتے ہیں کہ اس سے مُراد ایسا شخص ہے جو اپنے اعتدال کو مجفوظ نہیں رکھتا، چند قدم چلتا ہے اور زمین پر گر پڑتا ہے، پھر کھڑا ہو جاتا ہے اور مسلسل اسی کیفیت کی تکرار کرتا رہتا ہے۔ راغب کے مفردات میں بعض کلمات سے بھی یہی مفہوم نکلتا ہے، اس سے مراد ایسا شخص ہے جس کی پوری توجہ اپنی ہی وضع و کیفیّت کی طرف ہے اور وہ اپنے غیر سے غافل ہے لیکن پہلا معنی مومنین کی وضع کے مقابلہ کے قرینہ سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے کہ اس کی "سویا" سے تعبیر ہوئی ہے۔ بہرحال، کیا کافر و مومن کی یہ وضع و کیفیت آخرت میں ہوگی؟ یا دونوں جہانوں میں؟ آیت کے معنی کے محدود ہونے پر کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے۔ وہ دنیاوی زندگی میں بھی اسی طرح ہوں گے اور آخرت میں بھی۔ ہاں! بےایمان افراد چونکہ خود خواہ، خود پرست اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں اور اپنے مادی اور جلد گزر جانے والے منافع کے علاوہ اور کچھ نیہں دیکھتے۔ چونکہ ان کی راہ ایک ہوا پرست کی راہ ہے۔ لہذا وہ اس شخص کی مانند ہیں جو سنگلاخ زمین سے گزرتے ہیں اور سینہ کے بل ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے رینگتے ہیں، لیکن وہ لوگ جو ایمان کے سائے میں ہوائے نفس کی قید سے چھوٹ چکے ہیں وہ ایک گہری بصیرت اور صاف و واضح راستہ رکھتے ہیں۔ بعد والی آیت میں پیغمبرؐ کو مخاطب کر کے مزید کہتا ہے: "کہہ دیجئے، وہی تو ہے کہ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے، اور تمہارے لئے کان آنکھیں اور دل قرار دیئے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔" (قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ)۔ خدا نے مشاہدے اور تجربے کا ذریعہ اور وسیلہ (آنکھ) بھی تمہارے اختیار میں قرار دی۔ دوسروں کے افکار سے آگاہی کا ذریعہ (کان) اور علوم عقلیہ میں غور و فکر کرنے کا ذریعہ (قلب) بھی دیا۔ خلاصہ یہ کہ سب قسم کے عقلی و نقلی علوم سے آگاہی کے لیے تمام ضروری آ لات تمہارے اختیار میں دے دیئے ہیں۔ لیکن ان تمام عظیم نعمتوں کا بہت کم لوگ شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ شکرِ نعمت یہ ہے کہ ہر نعمت کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے۔کیا واقعاً سب لوگ کان، آنکھ اور عقل سے اسی طریقہ سے استفادہ کرتے ہیں۔؟ پھر دوبارہ پیغمبرؐ کو مخاطب کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "کہہ دیجئے وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے اور اسی کے پاس تم جمع ہو گئے۔" (قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ)۔ حقیقت میں پہلی آیت راستے کو مشخّص کرتی ہے اور دوسری آیت کام کے آلات و وسائل کو اور یہ آیة ہدف و مقصد کو کہ اسلام و ایمان کے سیدھے راستہ اور صراط مستقیم میں قدم آگے بڑھاؤ، معرفت اور شناخت کے تمام آلات سے فائدہ اٹھاؤ اور جاودانی زندگی کی طرف چل پڑو۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں انشأ کم کی تعبیر ہُوئی ہے اور اس آیت میں "ذَرَأَكُمْ" آیا، ممکِن ہے ان دونوں تعبیروں کا فرق اس بات میں ہو کہ پہلا جملہ تو انسان کو عدم سے وجود میں لانے کی طرف اشارہ ہو (یعنی تم نہیں تھے اور خدا نے تمہیں پیدا کیا ہے) نیز دوسرا جملہ مادۂ خاکی سے انسان کی پیدائش کی طرف اشارہ ہو۔ یعنی ہم نے تمہیں خاک سے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد اسی رابط میں منکر ین معاد کی گفتگو اور ان کا مُطالبہ پیش کرتے ہُوئے فرماتا ہے : "وہ استہزاء کے طور پر کہتے ہیں: اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ قیامت کا وعدہ کِس وقت پورا ہو گا۔" (وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)۔ تم اس کی کوئی یقینی تاریخ معیّن کیوں نہیں کرتے؟ اور اس لحاظ سے تم سب کی ذمّہ داری واضح کیوں نہیں کرتے؟ ھٰذا الوعد سے کیا مراد ہے۔ اِس کے دو احتمال بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا قیامت کا وعدہ، دُوسرا دنیا کی گوناگوں سزاؤں کا وعدہ، مثلاً زلزلے، صائقے، بجلیاں اور طوفان۔ لیکن گزشتہ آیت کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے اگرچہ دونوں معانی کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ بعد والی آیت میں انہیں اِس طرح جواب دیتا ہے: "کہہ دیجئے اس موضوع کا علم و آگہی تو خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور میں تو صرف واضح و آشکار انذار کرنے والا اور ڈرانے والا ہُوں۔" (قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ)۔ یہ تعبیر ٹھیک اسی چیز کے مشابہ ہے جو قرآن کی متعدّد آیات میں ہے۔ منجملہ سورۂ اعراف کی آیت ١٨٧میں آیا ہے: "قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي" کہہ دیجئے کہ قیامت کے وقوع کے زمانہ کا علم صرف میرے پروردگار کے پاس ہے۔ اور ایسا ہی ہونا چاہیے،کیونکہ اگر قیامت کی تاریخ معلوم ہوتی اور اس کا عرصہ اور فاصلہ زیادہ ہوتا تو لوگ غفلت میں پڑ جاتے اگر وہ عرصہ کم ہوتا تو اضطرار جیسی حالت پیدا کر لیتے اور دونوں حالتوں میں تربیّتی اہداف نامکمل رہ جاتے۔ آخری زیر بحث آیت میں مزید کہتا ہے: "جس وقت اس وعدۂ الہٰی اور عذاب کو قر یب سے مشاہدہ کریں گے تو کافروں کے چہرے قبیح اور سیاہ ہو جائیں گے۔" جیسا کہ غم و اندوہ کے آثار اُن سے برس رہے ہیں۔ (فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا)۔ اور ان سے کہا جائے گا: "یہ وہی چیز ہے جس کا تم تقاضا کیا کرتے تھے۔" (وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ)۔ "تدعون" دُعا کے مادہ سے ہے۔ یعنی تم ہمیشہ اصرار اور تقاضا کیا کرتے تھے کہ قیامت واقع ہو، اب وہ واقع ہو گئی ہے۔ اور اس سے راہِ فرار ممکِن نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: تدعون "باب افتعال" سے اور "دُعاء" کے مادّہ سے تقاضا کرنے کے معنی میں ہے یا دعوا کے مادہ سے تقاضا یا کسِی چیز سے انکار کرنے کے معنی میں ہے)۔ یہ مضمون حقیقت میں اسی چیز کے مشابہ ہے جو سورہ ذاریٰت کی آ یت ١٤ میں کفّار کو مخاطب کرتے ہُوئے آ یا ہے کہ قیامت کے دن ان سے کہا جائے گا: "هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ۔" "یہ وہی چیز ہے کہ جس کے لیے تم جلدی کیا کرتے تھے۔ بہرحال؛ یہ عذابِ قیامت کے بارے میں ہی بیان کر رہی ہے جیسا کہ اکثر مفسّرین نے کہا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ متی ھذ الوعد کا جملہ بھی قیامت کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے۔ حاکم ابو القاسم حسکانی کہتا ہے: "جب کافروں نے خدا کے ہاں امام علی علیہ السلام کے مقامات کو مشاہدہ کیا تو ان کے چہرے (غیظ و غضب کی شدت سے) سیاہ ہو گئے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٣٠)۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے بھی یہی مطلب نقل ہوا ہے کہ یہ آیت المیر المومنین علی علیہ السلام اور آپ کے یار و انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٨٥)۔ البتّہ یہ تفسیر جو شیعہ اور اہل سنّت کے طرق سے نقل ہُوئی ہے ایک قسم کی تطبیق کے قبیل سے ہے ورنہ آیت کا محِلّ و قوع معاد و قیامت کے ساتھ مربُوط ہے اور اس قسم کی تطبیقیں روایات میں کچھ کم نہیں۔

28
67:28
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَهۡلَكَنِيَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوۡ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلۡكَٰفِرِينَ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ
کہہ دیجئے: اگر اللہ مجھے اور ان تمام لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے تو بھی کافروں کو دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
67:29
قُلۡ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيۡهِ تَوَكَّلۡنَاۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
کہہ دیجئے: وہ (اللہ) رحمن ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے توکل کیا ہے، اور عنقریب تم جان لو گے کہ کون شخص واضح گمراہی میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
67:30
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭ
کہہ دیجئے: مجھے بتاؤ اگر تمہاری (سر زمین کے) پانی زمین کے اندر چلے جائیں تو کون تمہارے لئے جاری پانی لا سکتا ہے؟

تفسیر جاری پانی تمہارے اختیار میں کون دیتا ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

اوپر والی آیات جو سورة ملک کی آخری آیات میں اور وہ سب لفظ 'قل' جو پیغمبرؐ کو خطاب ہے شروع ہوتی ہیں، انہیں باتوں کو جاری رکھے ہُوئے جو گزشتہ آیات میں کفّار کے ساتھ ہُوئی ہیں اور ان کے دُوسرے پہلُو ان آیات میں بیان ہُوئے ہیں۔ سب سے پہلے ان لوگوں کے بارے میں جو غالباً پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اصحاب کی موت کے انتطار میں تھے۔ وہ یہ گُمان کرتے تھے کہ آپ کی وفات سے آپ کا دین ختم ہو جائے گا اور باقی کچھ نہ رہے گا۔ (عام طور پر شکست خُوردہ دشمن سچّے رہبروں کے بارے میں ہمیشہ یہی توقع رکھتے ہیں) فرماتا ہے: "کہہ دیجیے اگر خُدا مجھے اور ان تمام کو جو میرے ساتھ میں ختم کر دے یا ہم پر رحم کرے تو بھی کفّار کو درد ناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟" (قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ)۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ کفار مکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مُسلمانوں کے لیے بددعا (نفرین) کیا کرتے اور ان کی موت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، ان کا گمان یہ تھا کہ اگر آنحضرتؐ دنیا سے چلے جائیں تو آپ کی دعوت بھی ختم ہو جائے گی، تب اوپر والی آ یت نازل ہُوئی اور انہیں جواب دیا۔ اس معنی کے مشابہ سورة طُور کی آ یت ٣٠ میں بھی آیا ہے، جہان کہتا ہے کہ: أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ "وہ کہتے ہیں کہ محمدؐ ایک شاعر ہے جس کی موت کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔" وہ اس بات سے غافل ہیں کہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے الطاف حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ مر بھی جائیں تو اس سے حق کا پیغام نہیں مرے گا۔ ہاں! اس دین کی کامیابی اور تمام جہان پر اس کے غلبہ کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے، اور پیغمبر اکرمؐ کی حیات اور موت کسِی چیز کو نہیں بدلے گی۔ بعض نے اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے کہ خدا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ فرما رہا ہے: "کہہ دیجئے، ہم خدا پر ایمان رکھنے کی بناء، پر خوف و رجاء کے درمیان ہیں، تم اپنے بارے میں کیا سوچتے ہو؟ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔ اسی بات کو جاری رکھتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "ان سے کہہ دیجئے کہ وہ خدا رحمن ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے توکّل کیا ہے، اور عنقریب تم جان لو گے کہ واضح گمراہی میں کون ہے۔" (قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ)۔ یعنی اگر ہم خدا پر ایمان لے آئے ہیں اور اسے اپنا ولی، وکیل اور سرپرست سمجھا ہے تو اس کی دلیل واضح ہے، وہ خدائے رحمن ہے۔ اس کی رحمت عمومی ہر جگہ پہنچتی ہُوئی ہے اور اس کے انعام کے فیض نے دوست اور دشمن سب کو گھیر رکھا ہے کہ عالم ہستی اور صفحہ ٔزندگی پر مختصر سی نگاہ اس مُدّعا کی شاہد ہے۔ لیکن تمہارے معبودوں نے کون سا کام کیا ہے؟ اگرچہ تمہاری ضلالت و گمراہی اسی سے واضح ہے لیکن آخرت میں اور زیادہ واضح ہو جائے گی، یا اس دنیا میں جب اسلام خُدائی امدادوں سے لشکر ِکفر پر کامیاب ہو جائے گا تو اس معجزانہ کامیابی سے حقیقت اور زیادہ واضح ہو جائے گی۔ یہ آیت حقیقت میں پیغمبر اسلامؐ اور مومنین کے لیے ایک قسم کی تسلّی ہے کہ وہ یہ خیال نہ کریں کہ وہ حق و باطل کے اس مبارزہ میں تنہا ہیں، بلکہ بخشنے والا او رمہربان خدا ان کا یار و مددگار ہے۔ آخری آیت میں خدا کی رحمتِ عامّہ کے ایک مصداق کے ذکر کے عنوان سے کہ جس سے لوگ غافل ہیں،کہتا ہے: "کہہ دیجئے: مجھے بتاؤ وہ پانی جس سے تم استفادہ کر رہے ہو، اگر وہ زمین کے اندر دُور تہ میں چلا جائے تو کون تمہارے لیے جاری پانی لا سکتا ہے۔" (قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ)۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین دو قسم کے مختلف قشروں سے بنی ہے نفوذ پذیر قشر جو پانی کو اپنے اندر لے جاتا ہے اور اس کے نیچے "نفوذ ناپذیر" قشر ہے جو پانی کو وہیں محفوظ رکھتا ہے۔ تمام چشمے،کنوئیں، ندی، نالے اسی خاص ترکیب کی برکت سے وجود میں آئے ہیں۔ کیونکہ اگر تمام روئے زمین زیادہ گہرائیوں تک نفوذ پذیر قشر ہوتی تو پانی اتنا نیچے چلا جاتا کہ ہرگز اس تک کسِی کی رسائی نہ ہوتی۔ اگر وہ ساری کی ساری نفوذ ناپذیر ہوتی تو رُوئے زمین کے تمام پانی اس کے اوپر ہی کھڑے رہتے اور دلدل اور کیچڑ میں تبدیل ہو جاتے یا جلدی سمندروں میں جا پڑتے اور اس طرح سے پانی کے زیر زمین ذخیرے ہاتھ سے نکل جاتے۔ خدا کی رحمت کا یہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے کہ جس سے انسان کی موت و حیات شدّت کے ساتھ وابستہ ہے معین معن (بر وزن طعن) کے مادہ سے پانی کے جاری ہونے کی معنی میں ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ عین سے لیا گیا ہے اور اس کی میم زائدہ ہے۔ اِسی لیے بعض مفسّرین نے معین کو اس پانی کے معنی میں لیا ہے جو آنکھ سے دیکھا جا سکے اگرچہ وہ جاری نہ ہو۔ لیکن اکثر نے اس جاری پانی کے معنی میں ہی تفسیر کی ہے۔ اگرچہ وہ پانی جو پیا جاتا ہے وہ جاری پانی میں مُنحصر نہیں ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ جاری پانی ان کی بہترین قسم شمار ہوتا ہے، چاہے وہ دریا، نہروں، ندی، نالوں اور ابلنے والے کنوؤں کی صورت میں ہو۔ بعض مفسّرین نے نقل کیا ہے کہ جب ایک کافر نے یہ آیت سُنی جو یہ کہتی ہے: "اگر تمہارے استعمال میں آنے والا پانی زمین کی تہ میں چلا جائے تو کون تمہارے لیے آبِ جاری لا دے گا۔" تو اس نے کہا "رجال شداد و معاول حداد!" (طاقتور مرد اور تیز کدال) پانی کو زمین کی گہرائیوں میں سے نکال لائیں گے۔ لیکن رات کو جب وہ سویا تو اس کی آنکھ میں آبِ سیاہ (کالا موتیا) اتر آیا، اس حال میں اس نے ایک آواز سُنی جو کہہ رہی تھی: "ان قوی پنجر مردوں اور تیز کدالوں کو لے آتا کہ وہ اس پانی کو تیری آنکھ سے باہر نکا لیں۔" لیکن موجودہ زمانہ میں ہم جانتے ہیں کہ اگر زمین کا "نفوذ ناپذیر" قشر ختم ہو جائے تو کوئی قوی پنجہ انسان اور تیز کدال پانی کو نہیں نکال سکتا۔ (بحوالہ: ابو الفتوح رازی، جلد ١١، صفحہ ٢١٩)۔

ایک نکتہ

جو روایات کے ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہیں، ان میں اس آخری آیت کی حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور ان کے وسیع عالمی عدل کے ساتھ تفسیر ہُوئی، منجملہ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے: "نزلت فی الامام القائم(ع) یقول ان اصبح امامکم غائباً عنکم لا تدرون این ھو؟ فمن یأتیکم بامام ظاھر یأ تیکم باخبار السماوات و الارض و حلال اللہ و حرامہ، ثم قال واللہ ماجاء تأویل ھٰذہ الاٰیة ولا بد ان یجیء تأویلھا۔ "یہ آیت اس امام علیہ السلام کے بارے میں نازل ہُوئی ہے جو عدلِ الہٰی کے ساتھ قیام کرے گا (حضرت مہدیؑ) وہ کہتا ہے کہ اگر تمہارا امام غائب ہو جائے اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ وہاں کہاں ہے تو کون تمہارے لیے امام کو بھیجے گا جو آسمانوں اور زمین کی خبریں اور خدا کے حلال و حرام کو تمہارے لیے بیان کرے اس کے بعد فرمایا خدا کی قسم اس آیت کی تاویل ابھی تک نہیں آئی او ربآلاخر یہ آ کر رہے گی۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٨٧)۔ اِس سلسلہ میں روایات بہت زیادہ ہیں لیکن اس بات پر توجّہ رکھنی چاہیے کہ یہ سب تطبیق کے طور پر ہیں دوسرے لفظوں میں آیت کا ظاہر تو جاری پانی کے ساتھ ہی مربوط ہے جو زندہ موجودات کی حیات و زندگی کا باعث ہے مگر آیت کا باطن امام کے وجُود اور ان کے وسیع عالم و عدالت کے ساتھ مربوط ہے کیونکہ وہ بھی انسانی مُعاشرے کی حیات کا سبب ہے۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ آیاتِ قرآنی کے متعدّد معانی اور ان کا ظاہر و باطن ہوتا ہے لیکن ہم اس نکتہ کا بھی تاکید کے ساتھ تکرار کرتے ہیں کہ بطونِ آیات کی طے تک پہنچنا اور انہیں معلوم کرنا سوائے پیغمبرؐ اور امام معصُوم کے ممکِن نہیں اور کسِی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ کسِی چیز کو آیت کے باطن کے عنوان سے اپنی طرف، سے پیش کرے۔ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ آیات کے ظواہر کے ساتھ مربُوط ہے اور جو چیز بطون آیات کے ساتھ مربُوط ہے وہ ہمیں صرف معصُومؑ میں ہی سے سننا چاہیے۔ "سورہ ملک" خدا کی حاکمیت و مالکیت سے شروع ہوئی اور اس کی رحمانیّت پر کہ جو اس کی حاکمیّت اور مالکیّت کی ایک شاخ ہے، ختم ہو رہی ہے، اِس طرح سے اس کا آغاز و انجام مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ خداوندا! ہمیں اپنی عام اور خاص رحمت کا مشمول قرار دے اور اپنے اولیاء کی ولایت کے آبِ حیات سے سیراب فرما۔ پروردگارا! حضرت مہدیؑ کا ظہور جلد فرما کہ جو آبِ حیات کا سرچشمہ ہے۔ ہاں ان کے جمال کے متوالوں کو ان کے ظہور سے سیراب کر دے۔ بارالہٰا! تو نے ہمیں دیکھنے والی آنکھ، سننے والے کان اور سمجھنے والی عقلی مرحمت فرمائی ہے۔ پس خود خواہی اور غرور کے پردوں کو ان کے سامنے سے ہٹا دے تاکہ ہم حقیقت کے چہرے کو جس طرح کا وہ ہے اسی طرح سے دیکھ سکیں اور تیری ہدایت کے صراط مستقیم میں راست قامت ہو کر قدم بڑھائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

end of chapter
Al-Mulk (67) — Tafseer e Namoona