An-Najm
سوره النجــم
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۶۲ آیات ہیں۔
سورۃ النجم کے مطالب و مضامین
بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورہ وہ سب سے پہلا سورہ ہے جسے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دعوت کا اعلان کرنے کے بعد آشکار اور بلند آواز سے حرمِ مکہ میں تلاوت کیا اور مشرکین نے اُسے غور سے سنا اور اس دن تمام مومنین کے ساتھ مشرکین تک نے بھی سجدہ کیا۔ [بحوالہ: تفسیر روح البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٠٨]۔ یہ سورہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق، بعثت کے پانچویں سال ماہِ مبارک رمضان میں نازل ہوا۔ [بحوالہ: تفسیر روح البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٠٨]۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ پہلا سورہ ہے جس میں سجدۂ واجب کی آیت نازل ہوئی۔ [بحوالہ: تفسیر مراغی، جلد ۲۷، صفحہ ۴۱]۔ لیکن اس بات کے پیشِ نظر کہ مشہور روایت کے مطابق، سورۂ "اقرأ" اس سے پہلے نازل ہوا تھا اور اس کے آخر میں آیتِ سجدہ موجود ہے، یہ روایت بعید نظر آتی ہے۔ بہرحال، اس سورہ میں "مکی" ہونے کی بنا پر اصولِ عقائد کے مباحث خصوصاً نبوت و معاد کے بارے میں بیان ہوئی ہیں اور یہ سرکوبی کرنے والی تہدیدوں اور بار بار کے انذار اور عذابِ الٰہی سے ڈرانے کے باعث کفار کو بیدار کرتی ہے۔ اس سورہ کے مضامین و مطالب کو سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: 1. سورہ کے آغاز میں قرآن ایک پُرمعنی قسم کے بعد وحی کی حقیقت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیکِ وحی "جبرائیل" سے براہِ راست رابطہ اور تعلق کو واضح و روشن کرتا ہے۔ اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذاتِ اقدس کو اس بات سے کہ وہ وحیِ الٰہی کے علاوہ کوئی اور بات کرے، مبرا قرار دیتا ہے۔ 2. اس سورہ کے دوسرے حصے میں قرآن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معراج سے متعلق گفتگو کرتا ہے اور اس کے کچھ گوشوں کو مختصر اور پُرمعنی عبارتوں کے ساتھ مجسم کرتا ہے، کہ وہ بھی وحی کے ساتھ ایک مستقیم رابطہ ہے۔ 3. اس کے بعد بتوں کے سلسلہ میں مشرکین کے خرافات، فرشتوں کی عبادت اور دوسرے امور، جو ہوائے نفس کے سوا کچھ نہ تھے، پیش کرتے ہوئے ان کی سخت مذمت کرتا ہے اور ان کی پرستش سے ڈراتا ہے اور ایک قوی منطق کے ساتھ اس معنی کو ثابت کرتا ہے۔ 4. ایک دوسرے حصے میں ان مخرفین اور عام گنہگاروں پر توبہ کی راہ کھولتے ہوئے انہیں حق تعالیٰ کی "مغفرتِ واسعہ" کی نوید سناتا ہے اور تاکید کرتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہے اور کوئی بھی شخص دوسرے کے گناہ کا بار اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا۔ 5. ان مقاصد کی تکمیل کے لیے، اس سورہ کے ایک اور حصے میں مسئلۂ معاد کے کچھ گوشوں کو قرآن منعکس کرتا ہے اور اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ موجود ہے، اس سے اس مسئلے کے لیے ایک واضح دلیل قائم کرتا ہے۔ 6. حسبِ دستور گزشتہ اقوام کی دردناک سرنوشت کی طرف، جو حق سے دشمنی کے طریقے میں اصرار، ہٹ دھرمی اور عناد رکھتے تھے، (جیسے قومِ عاد، ثمود، نوح اور لوط) کچھ اشارے کرتا ہے، تاکہ بےخبر غافلوں کو اس طریقے سے بیدار کرے۔ 7. اور آخر میں پروردگار کی عبادت اور سجدہ کے امر کے ساتھ سورہ کو ختم کرتا ہے۔ اس سورہ کے امتیازات میں سے آیات کا مختصر ہونا اور ان آیات کا ایک خاص آہنگ اور طرز پر ہونا ہے، جو اس کے مفاہیم کو ایک گہرا اور عمیق اثر بخشتا ہے اور سوئے ہوئے لوگوں کے دل و روح کو بیدار کرتے ہوئے اپنے ساتھ آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔ ضمنی طور پر، اس سورہ کا نام "النجم" اسی سورہ کی پہلی آیت کی بنا پر ہے۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
روایات میں اس سورہ کی تلاوت کے بارے میں کئی ایک اہم فضائل بیان ہوئے ہیں: ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ أُعْطِيَ مِنَ الْأَجْرِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ بِعَدَدِ مَنْ صَدَّقَ بِمُحَمَّدٍ (ص) وَمَنْ جَحَدَ بِهِ "جو شخص سورۂ النجم کو پڑھے گا، خدا ان لوگوں کی تعداد کے مطابق جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے تھے اور ان لوگوں کی تعداد کے مطابق جنہوں نے آپ کا انکار کیا، دس نیکیاں اُسے عطا کرے گا۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ١٧٠]۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق بن محمد علیہ السلام سے منقول ہے: مَنْ كَانَ يُدْمِنُ قِرَاءَةَ وَالنَّجْمِ فِي كُلِّ يَوْمٍ، أَوْ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ، عَاشَ مَحْمُودًا بَيْنَ النَّاسِ، وَكَانَ مَغْفُورًا لَهُ، وَكَانَ مُحَبَّبًا بَيْنَ النَّاسِ۔ "جو شخص سورۂ النجم کو ہر دن اور ہر رات تلاوت کرے گا، وہ لوگوں کے درمیان ایک قابلِ تعریف اور شائستہ شخص سمجھا جائے گا، خدا اس کو بخش دے گا اور وہ لوگوں کے درمیان محبوب رہے گا۔" [بحوالہ: بحارالأنوار، جلد ٩٢، صفحہ ۳۰۵]۔ مسلمہ طور سے اتنی عظیم نعمتیں انہیں لوگوں کے لیے ہوں گی جو اس سورہ کی تلاوت کو غور و فکر، اور اس کے بعد عمل کا وسیلہ اور ذریعہ بنا لیں اور اس سورہ کی مختلف تعلیمات ان کی زندگی میں سایہ فگن ہوں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: النجم سے کیا مراد ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 8قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ سورہ سورۃ الطور، "النُّجُوم" (ستاروں) کے لفظ پر ختم ہوئی تھی، اور یہ سورہ النجم، "النجم" کے لفظ سے شروع ہو رہی ہے، جس کی خدا نے قسم کھائی ہے۔ فرماتا ہے: "وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ". "قسم ہے ستارے کی، جس وقت وہ غروب کرتا ہے۔" اس بارے میں کہ یہاں "النجم" سے کیا مراد ہے، مفسرین نے بہت سی آراء دی ہیں اور ہر ایک نے ایک الگ تفسیر پیش کی ہے۔ ایک جماعت اسے "قرآن مجید" کی طرف اشارہ سمجھتی ہے، چونکہ یہ بعد والی آیات کے مناسب ہے جو وحی کے بارے میں ہیں اور نجم کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ عرب اس چیز کو جو تدریجاً اور مختلف وقفے سے انجام پاتی ہے، نجوماً کہتے ہیں (قرضوں کی اقساط اور اس قسم کے دوسرے امور میں "نجوماً" کی تعبیر بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے)۔ اور چونکہ قرآن ۲۳ سال کے عرصے میں اور مختلف ٹکڑوں اور حصوں میں پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوا ہے، لہٰذا "نجم" کے عنوان سے اس کا ذکر ہوا ہے۔ اور إِذَا هَوَىٰ سے مراد اس کا رسولِ خداؐ کے قلبِ پاک پر نزول ہے۔ ایک دوسری جماعت نے اسے آسمان کے ایک ستارے "ثریا" [تشریحی نوٹ: "ثریا" ایک سات ستاروں کا مجموعہ ہے جن میں چھ ظاہر ہوتے ہیں اور ایک بہت ہی کم نور ہوتا ہے۔ عام طور پر لوگوں کی نظر کی طاقت جانچنے کے لیے اس کے ذریعے آزمائش کی کرتے ہیں۔ اس ستارہ کی قسم ہو سکتا ہے اس کی ہم سے زیادہ مسافت کی بنا پر ہو] یا "شعری" [تشریحی نوٹ: "شِعرٰی" آسمان کا ایک روشن ستارہ ہے، جس کا ذکر ہم ان شاء اللہ اسی سورہ کی آیت ۴۹ کے ذیل میں مزید تشریح کریں گے۔ اس کی قسم کھانے کی رمز ممکن ہے اس لحاظ سے ہو کہ وہ حد سے زیادہ روشن، درخشاں اور کئی خصوصیات کا حامل ہے] کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کیونکہ یہ ستارے خاص اہمیت کا حامل ہیں۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "النجم" سے مراد وہ شہاب ہیں جن کے ذریعہ شیاطین کو آسمان کے منظر سے بھگایا جاتا ہے اور عرب ان شہابوں کو بھی "نجم" کہتے ہیں۔ لیکن ان چاروں تفسیروں میں سے کوئی ایک بھی واضح دلیل نہیں رکھتی، بلکہ آیت کا ظاہر جیسا کہ لفظ "نجم" کے اطلاق کا تقاضا ہے۔ آسمان کے تمام ستاروں کی قسم ہے، جو خدا کی عظمت کی نشانیاں ہیں اور پروردگار کی حد سے زیادہ عظیم مخلوقات میں سے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قرآن جہانِ خلقت کے عظیم موجودات کی قسم کھا رہا ہے۔ دوسری آیات میں بھی سورج، چاند اور اس قسم کی چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ان کے غروب پر تکیہ کرنا، حالانکہ ان کا طلوع زیادہ پرکشش ہوتا ہے، اس بنا پر ہے کہ ستاروں کا غروب ان کے حدوث کی دلیل ہے اور ستارہ پرستوں کے عقیدہ کی نفی کی دلیل بھی ہے۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں آیا ہے: فلمّا جنّ عليه الليل رأى كوكبًا قال هذا ربي فلما أفل قال لا أحب الآفلين۔ "جس وقت رات کی تاریکی نے اسے چھپا لیا تو اس نے ایک ستارہ دیکھا اور کہا: کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ غروب ہوا تو کہا: میں غروب کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔" (سورۂ انعام، آیت ۷۶) یہ معنی بھی قابلِ توجہ ہے کہ مسئلۂ "طلوع"، "نجم" خود اس لفظ کے مادّہ میں موجود ہے، کیونکہ "مفردات" میں راغب کے قول کے مطابق اصل "نجم" وہی طلوع کرنے والا ستارہ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ زمین میں گیاہ کے اگنے اور منہ میں دانت کے نکلنے اور ذہن میں کسی نظریہ کے پیدا ہونے کو "نجم" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے خدا نے ستاروں کے طلوع ہونے کی بھی قسم کھائی ہے اور ان کے غروب کی بھی، کیونکہ یہ ان کے حدوث اور قوانینِ خلقت کے پابند ہونے کی دلیل ہے۔ [تشریحی نوٹ: اگر بعض روایات میں "نجم" ذات پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے تفسیر ہوا ہے اور "ھویٰ" ان کے شب معراج آسمان سے نزول ہے تو وہ حقیقت میں آیت کے بطون میں سے ایک ہے اور نہ کہ اس کا ظاہر]۔ لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ قسم کس لیے کھائی گئی ہے؟ بعد والی آیت اس طرح سے واضح کرتی ہے: "ہرگز تمہارا ساتھی اور دوست محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منحرف نہیں ہوا ہے اور اس نے اپنے مقصد کو کھویا نہیں ہے": "مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ۔" وہ ہمیشہ حق کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے اور اس کے گفتار و کردار میں معمولی سا بھی انحراف نہیں ہے۔ "صاحب" کی تعبیر، جو دوست اور ہمنشین کے معنی میں ہے، ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جو کچھ وہ کہتا ہے تمہاری محبت اور بھلائی کی بنا پر ہے۔ بہت سے مفسرین نے "ضَلَّ" اور "غَوَىٰ" کے درمیان کوئی فرق قرار نہیں دیا اور انہیں ایک دوسرے کی تاکید سمجھا ہے، لیکن بعض کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے درمیان فرق ہے۔ "ضلالت" یہ ہے کہ انسان کبھی مقصد کی طرف کوئی راہ ہی نہ پائے، لیکن "غوایت" یہ ہے کہ اس کی راہ مستقیم اور غلطی سے خالی نہ ہو۔ پہلی حالت کفر کی مانند ہے اور دوسری "فسق و گناہ" کی طرح۔ لیکن راغب "مفردات" میں "غی" کے معنی میں کہتا ہے کہ "وہ ایک ایسی جہالت ہے جو اعتقاد فاسد کے ساتھ ہو۔" اس بنا پر "ضلالت" کو مطلق جہالت، نادانی اور بےخبری کہا جا سکتا ہے، جبکہ "غوایت" ایسی جہالت ہے جو باطل عقیدے کے ساتھ ہو۔ بہرحال، خدا یہ چاہتا ہے کہ اس عبارت میں اپنے پیغمبر سے ہر قسم کے انحراف، جہالت، گمراہی اور غلطی کی نفی کرے اور وہ تہمتیں جو اس سلسلہ میں دشمنوں کی طرف سے آپ پر لگائی جاتی تھیں انہیں بےایمانی قرار دے۔ اس کے بعد، اس مطلب کی تاکید اور اسے ثابت کرنے کے لیے کہا گیا کہ وہ جو کچھ بھی کہتا ہے، خدا کی طرف سے کہتا ہے۔ وہ ہرگز بھی ہوائے نفس کی بنا پر بات نہیں کرتا: "وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ۔" یہ تعبیر اسی استدلال سے مشابہ ہے جو گزشتہ آیت میں ضلالت و غوایت کی نفی کے سلسلے میں بیان ہوئی ہے، کیونکہ عام طور پر گمراہیوں کا سرچشمہ ہوائے نفس کی پیروی ہی ہوتا ہے۔ سورہ ص کی آیت ۲۶ میں آیا ہے: "وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ"، "ہوائے نفس کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تجھے خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی۔" پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی مشہور حدیث میں بھی یہ آیا ہے: "أما اتباع الهوى فيصدّ عن الحق"، "باقی رہا ہوائے نفس کی پیروی کرنا تو وہ انسان کو راہِ حق سے روک دیتی ہے۔" [بحوالہ: نہج البلاغہ کلام ۴۲]۔ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ "ما ضل صاحبکم" کا جملہ پیغمبرؐ سے جنون کی نفی کو ظاہر کرتا ہے اور "وما غوی" کا جملہ شاعر ہونے کی نفی کو ظاہر کرتا ہے، یا شعر کے ساتھ ہر قسم کے ارتباط کی نفی کرتا ہے، کیونکہ سورۂ شعراء کی آیت ۲۲۴ میں آیا ہے: "وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ"، "شاعر وہی تو ہیں جن کی گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں۔" (خیال پرواز اور بےمقصد شعر کہنے والے) اور "وما ينطق عن الهوى" کا جملہ کہانت کی نسبت کی نفی کرتا ہے، کیونکہ کاہن حرص پرست اور ہوس پرست لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پوری صراحت کے ساتھ کہتا ہے: "وہ جو کچھ لے کر آیا ہے، وہ صرف وحی ہے جو خدا کی جانب سے اس کی طرف بھیجی گئی ہے": "إن هو إلا وحي يوحى۔" وہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتا اور قرآن اس کی فکر کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔ اس دعوے کی دلیل خود اسی میں چھپی ہوئی ہے۔ آیاتِ قرآنی کا اچھی طرح مطالعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کوئی بھی انسان، چاہے وہ کتنا ہی عالم و مفکر ہو—کجا وہ انسان جس نے کچھ لکھا پڑھا نہ ہو اور جس نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی ہو جو جہالت اور خرافات سے پر ہو—ہرگز بھی یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ ایسے مطالب سے بھرپور باتیں بیان کرے، جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی مفکرین کے لیے الہام بخش ہوں، اور وہ صالح، سالم، مومن اور پیش رفت کرنے والے معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔ ضمنی طور پر اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ یہ گفتگو صرف آیاتِ قرآنی کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ گزشتہ آیات کے قرینے سے سنتِ پیغمبرؐ بھی اس میں شامل ہے، کیونکہ وہ بھی وحیِ الٰہی کے مطابق ہے۔ یہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ ہوا و ہوس سے گفتگو نہیں کرتا، جو کچھ بھی کہتا ہے، وہی سے کہتا ہے۔ ذیل کی ایک حدیث اس مدعا کا دوسرا شاہد ہے۔ "سیوطی"، جو اہلِ سنت کے مشہور علماء میں سے ہیں، تفسیر "الدر المنثور" میں اس طرح نقل کرتے ہیں: "ایک دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ تمام دروازے جو پیغمبرؐ کی مسجد کے اندر کھلتے تھے، علیؑ کے گھر کے دروازے کے سوا بند کر دیے جائیں۔ یہ امر مسلمانوں پر گراں گزرا، یہاں تک کہ رسولؐ کے چچا حضرت حمزہؓ نے اس بات کا گلہ کیا کہ آپؐ نے اپنے چچا، ابوبکر، عمر اور عباس کے گھر کا دروازہ کیوں بند کروایا اور اپنے چچا زاد بھائی (علیؑ) کے گھر کا دروازہ کھلا کیوں رکھا، اور اس کو دوسروں پر ترجیح کیوں دی"؟ جب پیغمبرؐ اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ بات ان پر گراں گزری ہے، تو آپؐ نے لوگوں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی اور خدا کی تمجید و توحید میں ایک بےنظیر خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد مزید فرمایا: "اَیُّهَا النَّاسُ! مَا أَنَا سَدَدْتُهَا، وَلَا أَنَا فَتَحْتُهَا، وَلَا أَنَا أَخْرَجْتُكُمْ و أسكنتُه، ثم قرأ: وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ، مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ، وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ۔ "اے لوگوں! نہ تو میں نے دروازوں کو بند کیا ہے اور نہ ہی کھولا ہے، نہ ہی میں نے تمہیں مسجد سے نکالا ہے اور نہ ہی میں نے علیؑ کو ساکن کیا ہے۔ جو کچھ ہوا وہ فرمانِ الٰہی تھا۔ پھر آپؐ نے ان آیات کی تلاوت کی: وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ... إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ۔" [بحوالہ: تفسیر دار المنثور جلد ۶ ص ۱۲۲ کچھ تخلیص کے ساتھ]۔ یہ حدیث جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امیرالمؤمنین علیؑ کے تمام امتِ اسلامی کے درمیان مقامِ والا کو بیان کرتی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نہ صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات اور اقوال ہی وحی کے مطابق ہوتے ہیں بلکہ ان کے اعمال و کردار بھی اسی طرح کے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: دوست کا پہلا دیدار
Tafsīr Nemūna · Vol. 8گزشتہ آیات کے بعد، جو پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نزولِ وحی کی گفتگو کر رہی تھیں، ان آیات میں معلمِ وحی کے بارے میں گفتگو ہے۔ لیکن پہلے یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پہلی نظر میں ان آیات کو ابہام کا ایک ہالہ گھیرے ہوئے ہے، لہٰذا ان ابہامات کو دور کرنے کے لیے پوری دقت کے ساتھ، ان پر غور و فکر اور تحقیق کرنی چاہیے۔ پہلے ہم ان آیات کی اجمالی تفسیر پیش کرتے ہیں، پھر ان کی تفصیلی تحقیق پیش کریں گے۔ فرماتا ہے: "اُسے اُس ہستی نے تعلیم دی ہے، جو عظیم قدرت رکھتی ہے۔" (عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ) پھر مزید تاکید کے لیے اضافہ کرتا ہے: "وہی ذات جو حد سے زیادہ توانائی اور ہر چیز پر تسلط رکھتی ہے۔" (ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ) "(یہ تعلیم اسے اُس وقت دی) جب وہ افقِ اعلیٰ میں تھا۔" (وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ) "پھر وہ نزدیک ہوا، پھر اور نزدیک ہوا۔" (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ) "یہاں تک کہ اس کے اور اس کے معلم کے درمیان کا فاصلہ دو کمان یا اس سے بھی کچھ کم ہو گیا۔" (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ) "اور یہاں خدا نے جس چیز کی وحی کرنی تھی، وہ اپنے بندے کو وحی کی۔" (فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ) "پیغمبر کے دل نے جو کچھ دیکھا، وہ سچ تھا اور اس نے ہرگز جھوٹ نہیں بولا۔" (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ) "کیا تم اُس چیز کے بارے میں، جو اس نے دیکھی ہے، جھگڑتے ہو اور یقین نہیں کرتے۔" (أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ) ان آیات کی تفسیر میں دو مختلف نظریے موجود ہیں، جن میں سے ایک مشہور اور دوسرا غیر مشہور ہے، لیکن پہلے ضروری ہے کہ آیت کے مفردات اور بعض الفاظ کے معنی بیان کریں، اس کے بعد ان دونوں نظریوں کو پیش کریں۔ "مرة" جیسا کہ بہت سے اربابِ لغت اور مفسرین نے لکھا ہے، "لپٹے ہوئے" کے معنی میں ہے اور چونکہ رسی کو جتنا بہتر طریقے سے بٹا جائے، اتنی ہی زیادہ محکم ہوتی ہے، لہٰذا یہ لفظ قدرت، توانائی اور مادی یا معنوی استحکام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور بعض اسے "مرور" بمعنی "عبور" سمجھتے ہیں، لیکن یہ بات اس چیز سے، جو اہلِ لغت نے لکھی ہے، چنداں سازگار نہیں ہے۔ "تدلّٰی" مادہ "تدلی" (بروزن تجلی) سے ہے۔ "مفردات" میں راغب کے قول کے مطابق، "نزدیک ہونے" کے معنی میں ہے، تو اس بنا پر یہ جملہ "دنا" کی تاکید ہے، جو اس سے پہلے آیا ہے اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے، جبکہ بعض ان دونوں کے درمیان اختلاف کے قائل ہیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ "تدلّی" وابستگی، تعلق اور آویزاں ہونے کے معنی میں ہے، جس طرح پھل درخت سے وابستگی رکھتا ہے، لہٰذا ان پھلوں کو، جو ابھی درختوں کے ساتھ آویزاں ہیں، "دوالی" کہتے ہیں۔ ["اقتباس" از "روح البیان" زیرِ بحث آیات کے ذیل میں]۔ "قاب" اندازہ کے معنی میں ہے اور "قوس" کمان کے معنی میں، اس بنا پر "قاب قوسین" یعنی دو کمانوں کے اندازے کے مطابق۔ (کمان قدیم زمانہ کے تیراندازی کے ہتھیاروں میں سے ہے)۔ بعض نے "قوس" کو "قیاس" کے مادہ سے "مقیاس" کے معنی میں سمجھا ہے اور چونکہ عرب کی مقیاس "ذراع" کی مقدار تھا، (انگلیوں کے سر سے لے کر کہنی تک کا فاصلہ)، اس بنا پر "قاب قوسین" دو ذراع کے معنی میں ہو گا۔ بعض لغت کی کتابوں میں "قاب" ایک دوسرے معنی میں ذکر ہوا ہے اور وہ کمان کو درمیان سے پکڑنے کی جگہ سے کمان کی مڑی ہوئی نوک تک کا فاصلہ ہے۔ (کمانیں قوسی شکل کی ہوتی تھیں جن کے دونوں آخری سرے مڑے ہوئے ہوتے تھے)۔ اس بنا پر "قاب قوسین" کمان کے ٹیڑھے حصوں کے مجموعہ کے معنی میں ہے۔ (غور کیجئے۔) [تشریحی نوٹ: بعض نے کہا ہے کہ اس صورت میں کلام میں "قلب" (الٹ پھیر) واقع ہوا ہے اور اصل میں "قابِ قوس" تھا]۔ اب ہم دونوں تفسیروں کے بیان کی طرف لوٹتے ہیں۔ مفسرین کا مشہور نظریہ یہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معلم وہی "جبرئیلِ امین"، پیکِ وحیِ خدا تھا، جو حد سے زیادہ قدرت رکھتا تھا۔ وہی جو عام طور پر ایک خوبصورت انسان کی صورت میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ظاہر ہوا کرتا تھا اور پیغامِ الٰہی پہنچاتا تھا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پوری زندگی میں صرف دو مرتبہ اپنے اصلی قیافہ اور چہرے کے ساتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ظاہر ہوا۔ پہلی مرتبہ تو وہی ہے جو اوپر والی آیات میں آیا ہے، کہ وہ افقِ اعلیٰ میں ظاہر ہوا۔ (اور وہ تمام مشرق و مغرب کو ڈھانپے ہوئے تھا اور اس قدر باعظمت تھا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیجان میں آ گئے) اور وہ جبرئیل ہی تھا جو پیغمبر سے نزدیک ہوا تھا، انتہا درجے تک نزدیک، یہاں تک کہ ان کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ باقی نہ رہا تھا اور "قابَ قَوسَین" کی تعبیر انتہائی قرب اور نزدیکی سے کنایہ ہے۔ دوسری مرتبہ پیغمبر کے معراج کے واقعہ میں ہوا تھا، جس کے بارے میں آئندہ آیات میں گفتگو ہوئی ہے۔ اور ہم انشاءاللہ اس سلسلہ میں مزید بیان کریں گے۔ بعض مفسرین جنہوں نے اس نظریہ کو انتخاب کیا ہے، تصریح کی ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل کا اصلی صورت میں پہلا دیدار غارِ "حرا" کے پاس "جبل النور" میں کیا تھا۔ [تشریحی نوٹ: اس تفسیر کو کہ "شَدِيدُ الْقُوَى" سے مراد جبرئیل امین ہیں، ایک گروہِ کثیر نے اختیار کیا ہے، منجملہ ان کے: o طبرسی نے "مجمع البیان" میں o بیضاوی نے "أنوار التنزیل" میں o زمخشری نے "کشاف" میں o قرطبی نے اپنی تفسیر "روح البیان" میں o فخر رازی نے "تفسیر کبیر" میں o سید قطب نے "فی ظلال القرآن" میں o مراغی نے اپنی تفسیر میں o علامہ طباطبائی کی تعبیریں بھی "المیزان" میں زیادہ تر اسی طرف مائل ہیں]۔ لیکن یہ تفسیر اپنے تمام طرفداروں کے باوجود اشکالات سے خالی نہیں ہے، کیونکہ: 1. "فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ" (جو کچھ وحی کرنا تھی، اپنے بندے کی طرف وحی کی) کی آیت میں مسلمہ طور پر ضمیروں کا مرجع (خصوصاً "عبدہ" کی ضمیر کا مرجع) خدا ہے۔ لیکن اگر "شَدِيدُ الْقُوَىٰ" سے مراد جبرئیل ہو، تو پھر تمام ضمیروں کو اسی کی طرف لوٹنا چاہیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ خارجی قرائن سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس آیت کا معاملہ بقیہ آیات سے جدا ہے، لیکن آیات اور ضمیروں کے مرجع کی یکسان نیت کا ٹکراؤ مسلمہ طور پر ظاہر کے خلاف ہے۔ 2. "شَدِيدُ الْقُوَىٰ" ایسی ذات کے معنی میں ہے جس کی تمام قدرتیں حد سے زیادہ ہوں اور یہ صرف پروردگار کی ذات پاک کے ساتھ ہی مناسب ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ سورہ تکویر کی آیت ۲۰ میں جبرئیل کو "ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ" کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے، لیکن "شَدِيدُ الْقُوَىٰ" مفرد اور نکرہ کی صورت میں ذکر ہوا ہے اور ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ 3. بعد والی آیات میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے "سدرۃ المنتہیٰ" کے نزدیک (آسمانوں کی بلندی پر) دیکھا۔ اگر اس سے مراد جبرئیل ہو، تو وہ تو سفرِ معراج میں روئے زمین کے شروع سے ہی پیغمبر کے ساتھ تھا اور اسے صرف آسمان کی بلندی پر ہی نہیں دیکھا تھا۔ سوائے اس صورت کے کہ یہ کہا جائے کہ ابتدا میں تو اسے انسانی صورت میں دیکھا تھا اور آسمان میں اسے اس کی اصلی صورت میں، حالانکہ آیات میں اس مطلب پر کوئی قرینہ نہیں ہے۔ 4. "عَلَّمَهُ" یا اس کے مانند تعبیر کبھی بھی قرآن مجید میں جبرئیل کے لیے استعمال نہیں ہوئی۔ جبکہ یہ تعبیر خدا کے بارے میں پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے پیغمبروں کے لیے بہت زیادہ آئی ہے۔ اور دوسرے لفظوں میں، جبرئیل پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معلم نہیں تھا، بلکہ وہ وحی کا واسطہ تھا اور ان کا معلم صرف خدا ہے۔ 5. یہ ٹھیک ہے کہ جبرئیل ایک بلند مرتبہ فرشتہ ہے لیکن مسلمہ طور پر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بھی زیادہ والا تر مقام رکھتے ہیں۔ جیسا کہ معراج کے واقعہ میں آیا ہے، کہ جبرئیل معراج کی سیرِ صعودی میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور میں حاضر تھے، لیکن ایک مقام پر پہنچ کر وہ رک گئے اور کہا: "اگر میں ایک پور (انگلی کے برابر) بھی آگے بڑھوں، تو میرے پر و بال جل جائیں"لیکن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح سے اپنی سیر کو جاری رکھا۔ ان حالات میں جبرئیل کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کی کوئی ایسی اہمیت نہیں ہے جیسی کہ ان آیات میں دی گئی ہے۔ اور زیادہ سادہ لفظوں میں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس بات کی زیادہ اہمیت نہیں تھی کہ اس قسم کا دیدار انہیں حاصل ہو، حالانکہ یہ آیات اس دیدار کے لیے حد سے زیادہ اہمیت کی قائل ہوئی ہیں۔ 6. "مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ" (پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل نے جو کچھ دیکھا ہے وہ اس کے برخلاف نہیں کہتا) کا جملہ بھی ایک باطنی شہود کی دلیل ہے نہ کہ آنکھ کے ساتھ جبرئیل کا ایک حسی مشاہدہ۔ 7۔ ان سب سے قطع نظر متعدد روایات میں، جو منابعِ اہل بیت سے نقل ہوئی ہیں، ان آیات کی جبرئیل سے تفسیر نہیں ہوتی، بلکہ روایات دوسری تفسیر کے مطابق ہیں، جو یہ کہتی ہیں کہ ان آیات سے مراد خدا کی پاک ذات کا ایک خاص قسم کا باطنی شہود ہے، جو اس منظر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہوا تھا اور معراج میں اس کا دوبارہ تکرار ہوا اور رسول اللہ نے اس دیدار سے ایک معنوی جذبہ کا اثر لیا۔ [تشریحی نوٹ: دعائے ندبہ میں ایک تعبیر نظر آتی ہے جو اسی معنی کے ساتھ مناسب ہے، جہاں کہا گیا ہے: يَا ابْنَ مَنْ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى دُنُوًّا وَاقْتِرَابًا مِنَ الْعَلِيِّ الْأَعْلَى "اے اس کے فرزند! جو قریب سے قریب تر ہوا، یہاں تک کہ اس کا فاصلہ دو کمان یا اس سے بھی کم رہ گیا اور یہ نزدیکی خداوندِ علی اعلیٰ سے صورت پذیر ہوئی۔" اسی دعا کے ذیل میں خدا کا ایک لقب "شَدِيدُ الْقُوَى" بھی ذکر ہوا ہے، جہاں آیا ہے: "وَأَرَاهُ سِيدَهُ يَا شَدِيدَ الْقُوَى"]۔ مرحوم شیخ طوسی نے "امالی" میں ابن عباس کے واسطے سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے: "لَمَّا عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ دَنَوْتُ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ" "جب میں آسمان پر معراج کے لیے گیا، تو اپنے پروردگار کی ساحتِ قدس سے اتنا قریب ہوا کہ میرے اور اس کے درمیان دو کمانوں کا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۱۴۹]۔ مرحوم صدوق نے "علل الشرائع" میں اسی مضمون کو ہشام بن حکم کے واسطے سے امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ آپ ایک طولانی حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں: "فَلَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ (ص) وَكَانَ مِنْ رَبِّهِ كَقَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ، رُفِعَ لَهُ حِجَابٌ مِنْ حُجُبِهِ" "جس وقت پیغمبر کو معراج پر لے جایا گیا، تو ان کا فاصلہ ان کے پروردگار کی ساحتِ قدس سے دو کمانوں یا اس سے بھی کم کا رہ گیا، تو حجابوں میں سے ایک حجاب آپ کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھا دیا گیا تھا۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۱۴۹]۔ "تفسیر علی بن ابراہیم" میں بھی آیا ہے: "ثُمَّ دَنَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ" "پھر وہ قریب ہوئے، یعنی رسول اللہ خداوندِ تعالیٰ سے۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۱۴۸]۔ یہ معنی دوسری متعدد روایات میں بھی آیا ہے اور ان تمام روایات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ اہلِ سنت کی روایات میں بھی "الدر المنثور" کی ایک روایت میں یہی معنی ابن عباس سے دو طریقوں سے نقل ہوا ہے۔ [بحوالہ: الدر المنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۲۳]۔ یہ تمام قرائن سبب بنتے ہیں کہ ہم دوسری تفسیر کو، جو یہ کہتی ہے کہ "شَدِيدُ الْقُوَىٰ" سے مراد خدا ہے اور پیغمبر بھی اسی کی ذاتِ پاک سے نزدیک ہوئے تھے، انتخاب کریں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز جو زیادہ تر مفسرین کی اس تفسیر سے روگردانی اور پہلی تفسیر کی طرف جانے کا سبب بنی، یہ ہے کہ اس تفسیر سے تجسمِ خدا اور اس کے لیے مکان کی بو آتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ نہ وہ مکان رکھتا ہے اور نہ ہی جسم: "لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ" "آنکھیں اس کو نہیں دیکھتیں اور وہ تمام آنکھوں کو دیکھتا ہے۔"(الأنعام - 103) "فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ" "تم جس طرف بھی منہ کرو گے، وہیں پر خدا ہے۔"(البقرة - 115) "وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ" "تم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے۔"(الحديد - 4) اور شاید ان مسائل کا مجموعہ ہی اس بات کا سبب بنا ہے کہ بعض مفسرین ان آیات کی تفسیر سے عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اسرارِ غیب میں سے ہے جو ہم سب سے پوشیدہ و پنہاں ہیں۔ کہتے ہیں: "ایک عالم سے ان آیات کی تفسیر پوچھی گئی تو اس نے کہا: جہاں جبرئیل ناتواں ہو جائے، میں کون ہوں کہ اس معنی کے ادراک پر قادر ہوں"؟ [بحوالہ: "روح البیان"، جلد ۹، صفحہ ۲۱۹]۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن کتابِ ہدایت ہے اور انسانوں کے غور و فکر اور نصیحت کے لیے نازل ہوا ہے، اس معنی کو قبول کرنا بھی مشکل ہے۔ لیکن اگر ہم آیات کی دوسرے معنی کے ساتھ، یعنی ایک قسم کے شہود اور ایک خاص معنوی قرب کے ساتھ، تفسیر کریں، تو یہ تمام مشکلات ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ: بلاشبہ خدا کے لیے حسی رؤیت نہ تو دنیا میں امکان پذیر ہے اور نہ ہی آخرت میں، کیونکہ اس کا لازمہ جسمانیت اور مادی ہونا ہے اور اسی طرح اس کا لازمہ تبدیلی، ایک حالت سے دوسری حالت میں آنا اور فساد پذیر ہونا ہےاور زمان و مکان کا نیاز و احتیاج رکھنا ہے۔ جبکہ ذاتِ واجب الوجود ان تمام امور سے مبرا ہے۔ لیکن خدا کا مشاہدہ دل اور عقل کی نگاہ سے کیا جا سکتا ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کی طرف امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے "ذعلب یمانی" کے جواب میں اشارہ فرمایا تھا: لَا تُدْرِكُهُ الْعُيُونُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ وَلَكِنْ تُدْرِكُهُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْإِيمَانِ "آنکھوں نے حسی مشاہدہ کے ذریعے ہرگز اسے نہیں دیکھا، لیکن دلوں نے حقیقتِ ایمان کے ساتھ اسے پا لیا ہے۔" [بحوالہ: "نہج البلاغہ"، خطبہ ۱۷۹]۔ لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ باطنی نگاہ دو قسم کی ہوتی ہے: 1. "ایک نگاہِ عقلانی" جو طریقِ استدلال سے حاصل ہوتی ہے۔ 2. دوسری "شہود قلبی"، جو ادراکِ عقلی سے مافوق ایک درک ہے اور اس کی نگاہ سے ماوراء ایک نگاہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جسے مقامِ استدلال کا نام نہیں دینا چاہیے، بلکہ یہ مقام مشاہدہ ہے، لیکن ایک ایسا مشاہدہ جو دل کے ساتھ اور باطنی طریقے سے ہو۔ یہ وہ مقام ہے جو اولیاء اللہ کے لیے فرقِ مراتب کے ساتھ اور سلسلہ درجات سے حاصل ہوتا ہے، کیونکہ شہودِ باطنی بھی بہت سے مراتب و درجات رکھتا ہے۔ البتہ اس حقیقت کا ادراک ان لوگوں کے لیے مشکل ہے جو اس تک نہیں پہنچے۔ اوپر والی آیات سے ان قرائن کے ذریعے اس طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقامِ شہود پر فائز ہونے کے باوجود اپنی عمر مبارک کے دوران دو مرتبہ اتنی بلندی پر پہنچے کہ مقامِ شہودِ کامل پر سرفراز ہوئے۔ ایک احتمالاً آغازِ بعثت میں ہوا تھا اور دوسرا معراج کے موقع پر۔ اس طرح خدا کے قریب ہوئے اور اس کے بساطِ قرب پر قدم رکھا، کہ بہت سے فاصلے اور حجاب ختم کر دیے گئے۔ ایسا مقام جہاں جبرئیلِ امین، یعنی خدا کا مقرب ترین فرشتہ تک، پہنچنے سے عاجز تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ "فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى" جیسی تعبیریں سب کی سب کنایہ کی صورت میں اور شدتِ قرب کے بیان میں ہیں، ورنہ وہ اپنے بندوں سے مکانی فاصلہ نہیں رکھتا کہ اسے قوس اور زراع کے ساتھ ناپا جائے اور رؤیت سے مراد بھی ان آیات میں آنکھ سے دیکھنا نہیں ہے، بلکہ وہی شہودِ باطنی ہے۔ گزشتہ مباحث میں "لقاء اللہ" (پروردگار کی ملاقات) کی تفسیر میں، جو قرآن کی مختلف آیات میں روزِ قیامت کے مشخصات میں سے ایک کے عنوان سے بارہا آیا ہے، ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ ملاقات بھی، اس کے برخلاف جو بعض کوتاہ فکر لوگوں نے سمجھ لیا ہے، حسی ملاقات اور مادی مشاہدہ نہیں ہے، بلکہ ایک طرح کا شہودِ باطنی ہے، اگرچہ وہ کئی مرحلے نچلے درجہ میں ہے۔ اور وہ ہرگز بھی اولیاء و انبیاء کے مشاہدہ کے مرحلہ تک نہیں پہنچتا، چہ جائیکہ معراج کی شب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہودِ کامل کے مرحلہ تک پہنچے۔ اس وضاحت کی طرف توجہ کرتے ہوئے وہ اعتراضات جو اس تفسیر کے بارے میں نظر آتے تھے، برطرف ہو جائیں گے۔ اور اگر ان ماوراءِ مادی مسائل کی تشریح میں، ہمارے الفاظ و بیان کی تنگی کی بنا پر، کچھ خلافِ ظاہر باتیں دکھائی دیتی ہوں، تو وہ ان اشکالات کے مقابلہ میں جو پہلی تفسیر پر ہیں، حقیر اور معمولی نظر آتی ہیں۔ جو کچھ یہاں تک بیان کیا گیا ہے، اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیر بحث آیات پر اب نئے سرے سے ایک نظر ڈالتے ہیں اور آیات کے مضمون کا اس نئے زاویہ سے مطالعہ اور تحقیق کرتے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق، قرآن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نزولِ وحی کی اس طرح تشریح کرتا ہے: پرقدرت اور شَدِيدُ الْقُوَى خدا نے اسے تعلیم دی، درحالیکہ وہ مکمل صورت اور حدِ اعتدال میں آ گیا اور أُفُقِ الْأَعْلَى میں قرار پایا۔ [تشریحی نوٹ: "فَاسْتَوَى" کی ضمیر اور اسی طرح "هُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى" کی ضمیر ممکن ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف یا خدا کی ذاتِ پاک کی طرف لوٹے]۔ اس کے بعد وہ نزدیک ہوا اور زیادہ نزدیک ہوا، اس طرح سے کہ اس کے اور اس کے پروردگار کے درمیان دو کمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ رہا اور یہ وہ منزل تھی جہاں خدا نے جو وحی کرنی تھی، وہ اپنے بندے پر وحی کی۔ اور چونکہ یہ شہودِ باطنی ایک جماعت پر گراں گزرا تھا، لہٰذا تاکید کرتا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل نے جو کچھ دیکھا ہے، حقیقتاً و واقعتاً دیکھا ہے اور تمہیں اس بات کے خلاف اس سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں، ان آیات کی تفسیر خدا کی نسبت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہودِ باطنی کے ساتھ زیادہ صحیح ہے اور روایاتِ اسلامی کے ساتھ زیادہ موافق، نیز پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک برتر فضیلت اور زیادہ لطیف مفہوم ہے۔ (والله أعلم بحقائق الأمور) ۔ [تشریحی نوٹ: یہاں اس نکتہ کو بھی اجمالی طور پر نظر میں رکھیں کہ معراج کے بارے میں علماء کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ یہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ایک مرتبہ ہوئی یا دو مرتبہ۔ لہٰذا ممکن ہے کہ یہ آیات دونوں معراجوں میں دو شہودِ باطنی کی طرف اشارہ ہوں]۔ ہم اس بحث کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث اور علی (علیہ السلام) کے ایک ارشاد پر ختم کرتے ہیں۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگوں نے پوچھا: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ "کیا آپ نے کبھی اپنے پروردگار کو دیکھا ہے"؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا: رَأَيْتُهُ بِفُؤَادِي "میں نے اُسے دل کی آنکھ سے دیکھا ہے۔" [بحوالہ: بحار الأنوار، جلد ۱۸، صفحہ ۲۸۷ (ذیل مباحثِ معراج)]۔ اور نہج البلاغہ میں، اسی "ذعلب یمانی" والے خطبہ کے دوران آیا ہے کہ اس نے آنحضرت سے سوال کیا: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟! "اے امیرالمؤمنین! کیا آپ نے کبھی اپنے خدا کو دیکھا ہے"؟ آپ نے جواب میں فرمایا: أَفَأَعْبُدُ مَا لَا أَرَى؟! "تو کیا میں اس کی عبادت کرتا ہوں جسے میں نے دیکھا نہیں"؟ اس کے بعد آپ نے وہی تشریح پیش کی، جسے ہم پہلے نقل کر چکے ہیں، کہ یہ شہودِ باطنی کی طرف اشارہ ہے۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۹]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: دوسرا دیدار
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات، وحی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدا سے ارتباط اور اس کے شہود باطنی کے مسئلے کے بارے میں، اسی طرح سے گزشتہ آیات کی بحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فرماتا ہے: ایک مرتبہ پھر پیغمبر نے اس کا مشاہدہ کیا (وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ)۔ "اور یہ شہود سدرۃ المنتہىٰ کے پاس حاصل ہوا" (عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ)۔ "وہی کہ جنت المأوىٰ اور بہشت بریں اس کے پاس ہے" (عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ)۔ اس وقت جب کہ کسی چیز نے "سدرۃ المنتہىٰ کو گھیرا ہوا تھا اور ڈھانپ رکھا تھا" (إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ)۔ یہ وہ واقعات و حقائق تھے جن کا پیغمبر نے مشاہدہ کیا تھا "اور اس کی آنکھ نے ہرگز انحراف نہیں کیا تھا اور نہ ہی سرکشی کی تھی اور باطل تصوّرات کو حق کے لباس میں نہیں دیکھا تھا" (مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ)۔ "اس نے وہاں اپنے پروردگار کی عظیم اور بڑی آیات اور نشانیوں کا مشاہدہ کیا (لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ)۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں وہی ابہام، جس نے شروع میں گزشتہ آیات کو گھیرا ہوا تھا، اسی نے ان آیات پر بھی جو انہی مطالب کا دوسرا حصہ ہیں سایہ ڈالا ہوا ہے، لہٰذا ان آیات کے مفہوم کو واضح کرنے کے لیے ہر چیز سے پہلے ہم مفردات کو بیان کریں گے، اس کے بعد اس کے مجموعی مفہوم پر نظر ڈالیں گے۔ "نزلة" ایک مرتبہ نازل ہونے کے معنی میں ہے، اس بنا پر "نزلة أُخرىٰ" یعنی ایک مرتبہ اور نازل ہونے میں، [تشریحی نوٹ: بعض ارباب لغت اور مفسرین نے "نزلة" کو "مرة" کے معنی میں تفسیر کیا ہے، اس بنا پر اس میں نزول کا معنی نہیں ہے اور "نزلة اُخریٰ" صرف دوسری مرتبہ کے معنی میں ہے، لیکن معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے "نزلة" کے اصل مادہ کو کیوں چھوڑ دیا ہے، جب کہ دوسروں نے اسے محفوظ رکھا ہے اور ہمارے بیان کے مطابق تفسیر کی ہے (غور کیجیے)] اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول دو مرتبہ ہوا ہے اور یہ ماجرا دوسرے نزول سے مربوط ہے۔ "سِدْرَةُ" (بروزن حِرْفَةِ) مفسرین اور علماءِ لغت کے عمومی قول کے مطابق، ایک درخت ہے جو گھنے پتوں والا اور سایہ دار ہوتا ہے (بیری) اور "سدرۃ المنتہىٰ" کی تعبیر اس سایہ دار اور گھنے پتوں والے درخت کی طرف اشارہ ہے جو آسمان کی بلندی پر فرشتوں، ارواحِ شہداء، علوم انبیاء اور انسانوں کے اعمال کے بلند ہونے کی انتہا پر واقع ہے، وہ جگہ جس سے اوپر پروردگار کے فرشتے نہیں جاتے اور جبرئیل بھی سفرِ معراج میں جب اس جگہ پہنچے تو رک گئے۔ سدرۃ المنتہىٰ کے بارے میں اگرچہ قرآن مجید میں کوئی وضاحت نہیں آئی ہے، لیکن اسلامی روایات و اخبار میں اس کے بارے میں گوناگوں توصیفات بیان کی گئی ہیں اور وہ سب کی سب اس واقعیت اور حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ اس تعبیر کا انتخاب ایک قسم کی تشبیہ کے عنوان سے ہے اور اس قسم کے بزرگ واقعات کے بیانات ہماری لغات اور زبانوں کی کوتاہی کی بنا پر ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "رَأَيْتُ عَلَىٰ كُلِّ وَرَقَةٍ مِنْ أَوْرَاقِهَا مَلَكًا قَائِمًا يُسَبِّحُ اللَّهَ تَعَالَىٰ" "میں نے اس کے ہر پتے پر ایک فرشتہ کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہوا تھا اور خدا کی تسبیح کرتا تھا۔" [بحوالہ: "مجمع البیان" زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "انْتَهَيْتُ إِلَىٰ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَىٰ، وَإِذَا الْوَرَقَةُ مِنْهَا تُظِلُّ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ" "میں سدرۃ المنتہىٰ تک پہنچا تو دیکھا کہ اس کے ہر پتے کے سائے میں ایک امت قرار پائی ہے۔" [بحوالہ: "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ۱۵۵]۔ یہ تعبیرات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جیسے درخت ہم زمین پر دیکھتے ہیں ان کے مشابہ درخت ہرگز مراد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم سائبان کی طرف اشارہ ہے، جو رحمتِ حق کے قرب و جوار میں واقع ہے، جس کے پتوں پر فرشتے تسبیح کرتے ہیں اور مختلف امتوں کے نیک اور پاک لوگ اس کے سائے میں قرار رکھتے ہیں۔ "جنة المأوىٰ" اس بہشت کے معنی میں ہے جو جائے سکونت ہے۔ [تشریحی نوٹ: "ماویٰ" اصل میں محل انضمام (ملنے) کے معنی میں ہے اور چونکہ مکان میں لوگوں کی سکونت ان کے ایک دوسرے سے انضمام اور ملنے کا سبب ہے، اس لیے یہ لفظ محل سکونت پر بولا گیا ہے]۔ اور اس بارے میں کہ یہ کون سی بہشت ہے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے اسے وہی بہشتِ جاودانی "جنة الخلد" سمجھا ہے، جو تمام اہلِ ایمان اور پرہیزگاروں کے انتظار میں ہے اور وہ اس کی جگہ آسمان میں سمجھتے ہیں اور سورۃ سجدہ کی آیت ۱۹ کو اس پر شاہد سمجھتے ہیں: "فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَىٰ نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ" "صالح عمل والے مؤمنین کے لیے جنت کے باغات ہیں جن میں وہ قیام کریں گے اور یہ ان کے ان اعمال کے مقابلہ میں جنہیں وہ انجام دیا کرتے تھے، پذیرائی کا ایک ذریعہ ہے۔" کیونکہ یہ آیت بعد والی آیت کے قرینہ سے مسلمہ طور پر بہشت جاودانی کی بات کر رہی ہے۔ لیکن چونکہ ایک دوسری جگہ یہ بھی آیا ہے کہ: "وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ" "پروردگار کی مغفرت میں اور اس جنت کی طرف، جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ (آل عمران۔ ١٣٣)۔ لہٰذا بعض نے اس معنی کو بعید شمار کیا ہے، کیونکہ زیر بحث آیات کا ظاہر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ "جنة المأوىٰ" آسمان میں ہے اور یہ اس بہشت جاودانی کے علاوہ ہے جس کی وسعت تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ لہٰذا کبھی اس کی بہشت کی ایک مخصوص جگہ کے ساتھ تفسیر کی ہے جو سدرة المنتہیٰ کے پاس ہے اور جو خواص اور مخلصین کی جگہ ہے۔ اور بعض اوقات یہ کہا ہے کہ وہ برزخی جنت کے معنی میں ہے، جس میں شہداء اور مؤمنین کی ارواح وقتی طور پر جائے گی۔ آخری تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے اور وہ امور جو وضاحت کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتے ہیں یہ ہے کہ معراج کی بہت سی روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جنت میں ایک گروہ کو متنعم دیکھا، جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ کوئی شخص قیامت کے دن سے پہلے بہشت جاوداں میں وارد نہیں ہو گا، کیونکہ قرآنی آیات بخوبی دلالت کرتی ہیں کہ پرہیزگار قیامت میں حساب کتاب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے نہ کہ موت کے بعد بلافاصلہ اور ارواح شہداء بھی برزخی جنت میں ہی قرار رکھتے ہیں، کیونکہ وہ بھی قیامِ قیامت سے پہلے بہشت جاوداں میں وارد نہیں ہوں گے۔ "ما زاغَ الْبَصَرُ وَ ما طَغٰی" کی آیہ اس معنی کی طرف اشارہ ہے، کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھ اپنے مشاہدہ میں نہ تو دائیں بائیں ہوئی اور نہ ہی حد اور مقصد سے تجاوز کیا اور جو کچھ دیکھا ہے وہ عین واقعیت تھی، (کیونکہ "زاغ"، "زیغ" کے مادہ سے دائیں یا بائیں انحراف کے معنی میں ہے اور "طغیٰ"، "طغیان" کے مادہ سے حد سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کسی چیز کے مشاہدہ کے موقع پر جب خود اس چیز کی طرف توجہ نہیں کرتا، یا دائیں بائیں یا اس سے ہٹ کر دیکھنے لگتا ہے، تو اس وقت وہ غلطی میں پڑ جاتا ہے)۔ [تشریحی نوٹ: "تفسیر المیزان" میں پہلا لفظ "کسی چیز کے مشاہدے کی کیفیت میں خطا کرنے" کے معنی سے تفسیر ہوا ہے اور دوسرا لفظ "اصل دیکھنے میں خطا کرنے" کے معنی میں، لیکن اس فرق کے لیے کوئی واضح دلیل بیان نہیں کی گئی، بلکہ لغت میں جو کچھ آیا ہے، وہ وہی تفسیر ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے]۔ ہم آیات کے مفردات کی تفسیر سے فارغ ہو چکے تو اب آیات کی اجتماعی تفسیر پیش کرتے ہیں۔ یہاں پھر وہی دو نظریے، جو سابقہ آیات کی تفسیر میں تھے، بیان ہوئے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے آیات کو، دوبارہ جبرئیل سے اس کی اصلی صورت میں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات کی طرف واضح سمجھا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ رسول خدا نے معراج سے نزول کے وقت اسے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کی اصلی صورت میں دوبارہ دیکھا اور آپ کی آنکھ اس کے مشاہدہ سے کسی قسم کے اشتباہ اور غلطی میں گرفتار نہیں ہوئی، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں حق تعالیٰ کی بعض عظیم آیات کا مشاہدہ کیا، جس سے مراد یا تو وہی جبرئیل کی صورت واقعی ہے، یا آسمانوں کی عظمت کی آیات اور ان کے عجائبات، یا یہ دونوں۔ لیکن وہی اشکالات و اعتراف جو اس تفسیر کے لیے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں وہ اسی طرح سے باقی ہیں، بلکہ کچھ اور اعترافات کا ان پر اور اضافہ ہو گیا ہے، منجملہ۔ "نزلة اخریٰ" (ایک دوسرے نزول میں) کی تعبیر اس تفسیر کے مطابق کوئی واضح مفہوم نہیں رکھتی، لیکن دوسری تفسیر کے مطابق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دوسرے شہود باطنی میں آسمانوں کے اوپر معراج کے موقع پر خدا کی ذات پاک کا مشاہدہ کیا اور دوسرے لفظوں میں خدا نے ایک مرتبہ پھر ان کے پاک دل پر نزول فرمایا، (نزلة اخریٰ) اور شہود کامل حاصل ہو گیا، ایسے مقام پر جہاں بندوں کی طرف سے اللہ کی طرف قرب کی انتہا ہوتی ہے، سدرۃ المنتہیٰ کے قریب، جہاں جنت الماوٰی واقع ہے، ایسی حالت میں کہ سدرۃ المنتہی کو نور کے حجابوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کی نگاہ، اس شہود میں ہرگز غیر حق پر نہیں پڑی اور اس کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا اور وہیں پر خدا کی عظمت کی نشانیاں آفاق و انفس میں بھی مشاہدہ کیں۔ شہودِ باطنی کا مسئلہ جیسا کہ ہم پہلے بھی اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں، ایک قسم کا ایسا ادراک اور دیکھنا ہے جو نہ تو ادراکاتِ عقلی سے مشابہت رکھتا ہے اور نہ ہی ادراکاتِ حسی کے ساتھ، کہ جنہیں انسان حواس ظاہر کے ذریعہ درک کرتا ہے اور اسے کئی جہات سے انسان کے اپنے وجود اور اپنے افکار و تصورات کے علم کے مشابہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: ہم اپنے وجود کا یقین رکھتے ہیں، اپنے افکار کا ادراک کرتے ہیں اور اپنے ارادہ، خواہشات اور رجحانات سے باخبر ہیں، لیکن یہ آگاہی نہ تو طریق استدلال سے ہمیں حاصل ہوئی ہے اور نہ ہی مشاہدہ ظاہری کے طریق سے، بلکہ یہ ہمارے لیے ایک قسم کا شہود باطنی ہے، کہ ہم اس طریقہ سے اپنے وجود اور اپنی نفسیات سے واقف ہیں۔ اسی علمی دلیل کی بنا پر جو شہود باطنی کی طرف سے حاصل ہوتی ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی خطا واقع نہیں ہوتی، کیونکہ وہ نہ تو استدلال کے طریقے سے ہے کہ جس کے مقدمات میں کوئی غلطی واقع ہوئی ہو اور نہ ہی وہ حسی طریقہ سے ہے کہ حواس کے ذریعے اس میں کوئی خطا رونما ہو۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم اس شہود کی حقیقت کو، جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کی اس تاریخی رات میں خدا کی نسبت پیدا کی، نہیں پا سکتے، لیکن ہم نے ایک مناسب راہ سے نزدیک ہونے کے لیے ایک مثال دی ہے اور اسلامی روایات بھی ہمارے راستے کی راہ کشائی کر رہی ہیں۔
چند اهم نکات: ١۔معراج ایک مسلّمہ حقیقت ہے
علماء اسلام کے درمیان اصل مسئلہ معراج میں کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ قرآنی آیات بھی یہاں اور سورۂ اسراء کے آغاز میں اس پر گواہ ہیں اور متواتر روایات بھی زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ بعض لوگ پہلے سے کیے ہوئے فیصلوں کی بنا پر اس بات کو قبول نہیں کر سکے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جسم اور روح کے ساتھ پرواز کیا تھا، لہٰذا انہوں نے اس کی "معراج روحانی" اور حالت خواب سے مشابہ ایک چیز کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ حالانکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس جسمانی پرواز میں نہ تو کوئی عقلی اشکال ہے اور نہ ہی موجودہ زمانے کے علوم کی طرف سے اس پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے، جس کی تفصیل ہم سورۂ اسراء کی تفسیر میں مبسوط طریقہ پر بیان کر چکے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ۱۲، صفحہ ۴۰ اور اس کے بعد]۔ اس بنا پر استبعادات کی خاطر، ظاہر آیات اور صریح روایات کو ترک کرنے کے لیے کوئی دلیل اور جواز نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر، اوپر والی آیات کی تعبیریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایک گروہ اس مسئلے کے خلاف لڑنے جھگڑنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ تاریخ بھی یہی کہتی ہے کہ مسئلہ معراج نے مخالفین کے درمیان ایک شور و غوغا کھڑا کر دیا تھا۔ اگر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج روحانی اور خواب سے مشابہ کسی چیز کے مدعی ہوتے، تو اس کے استبعاد پر یہ شور و غوغا برپا نہ ہوتا۔
٢۔ معراج کا مقصد
پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شہود باطنی تک پہنچنا ایک طرف سے اور آسمان کی وسعتوں میں اسی ظاہری آنکھ سے خدا کی عظمت کو دیکھنا دوسری طرف سے تھا، جس کی طرف یہاں بھی آخری زیر بحث آیت میں (لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ) اور سورۂ اسراء کی آیت ایک میں بھی (لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا) اس کی طرف اشارہ ہوا ہے، اس کے علاوہ اور بہت سے دوسرے اہم مسائل، فرشتوں، اہلِ جنت، دوزخیوں اور ارواحِ انبیاء سے متعلق آگاہی حاصل کی، جو آپ کی عمرِ مبارک کے سارے عرصے میں خلقِ خدا کی تعلیم و تربیت میں آپ کے لیے الہام بخش تھی۔
٣۔معراج اور بہشت
زیر بحث آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شبِ معراج جنت کے قریب سے گزرے یا اس میں وارد ہوئے۔ یہ بہشت چاہے بہشتِ جاوداں اور "جنة الخلد" ہو، جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے، یا وہ جنتِ برزخ ہو، جسے ہم نے اختیار کیا ہے۔ بہرحال، آپ نے اس بہشت میں انسانوں کے مستقبل کے بہت سے اہم مسائل مشاہدہ فرمائے ہیں، جن کی تشریح و تفصیل اسلامی روایات میں آئی ہے اور ہم انشاء اللہ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔
۴۔معراجِ اسلامی روایات میں
ان مسائل میں سے، جو روایاتِ معراج بلکہ اس سارے ہی مسئلے کو بعض کی نظر میں قابلِ اعتراض بناتے ہیں، ان کے درمیان بعض ضعیف اور مجہول روایات کا وجود ہے، جب کہ "مجمع البیان" میں معروف مفسر مرحوم طبرسی کے قول کے مطابق، معراج کی روایات کو چار گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ الف: وہ روایات جو متواتر ہونے کی بنا پر قطعی و یقینی ہیں (مثلاً معراج کا اصل مسئلہ)۔ ب: وہ روایات جو معتبر منابع سے نقل ہوئی ہیں اور ایسے مسائل پر مشتمل ہیں جن کے قبول کرنے میں کوئی عقل مانع نہیں ہے، مثلاً وہ روایات جو آسمانوں میں عظمتِ خدا کی بہت سی آیات کے مشاہدے کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ج: وہ روایات جن کا ظاہر ان اصولوں کے ساتھ، جو آیاتِ قرآنی اور مسلم اسلامی روایات سے حاصل ہوئے ہیں، منافات رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کی توجیہ کی جا سکتی ہے، مثلاً وہ روایات جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبرِ گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنتیوں کے ایک گروہ کو جنت میں اور دوزخیوں کے ایک گروہ کو دوزخ میں دیکھا (تو اس کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہشت و دوزخ سے مراد برزخی بہشت و دوزخ ہیں، ان میں سے ایک میں تو مؤمنین اور شہداء کی ارواح رہتی ہیں اور دوسری میں کفار و مجرمین کی ارواح ٹھہرتی ہیں۔ [تشریحی نوٹ: قرآن کی بعض آیات میں آیا ہے کہ قیامت کے دن پرہیزگار گروہ گروہ جنت میں داخل ہوں گے اور کفار گروہ گروہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔ (سورہ زمر آیات ۷۱، ۷۳) دوسری آیات بھی اس معنی پر گواہی دیتی ہیں (مثلاً آیت ۷۰۔ زخرف، ۸۵ تا ۸۶، مریم ۴۷، دخان)]۔ د: وہ روایات جو ایسے باطل و بےبنیاد مطالب پر مشتمل ہیں، جو کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں ہیں اور ان کے مطالب ہی ان کے مجہول ہونے پر گواہ ہیں، مثلاً وہ روایات جو کہتی ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خدا کو ظاہری آنکھ کے ساتھ دیکھا، یا اس سے گفتگو کی اور اس کا مشاہدہ کیا۔ اس قسم کی روایات اور ان کی مانند قطعاً مجہول ہیں (مگر یہ کہ شہودِ باطنی کے ساتھ ان کی تفسیر کی جائے)۔ اس تقسیم بندی کی طرف توجہ کرتے ہوئے معراج کی روایات کا ایک اجمالی مطالعہ پیش کرتے ہیں۔ مجموعہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آسمانی سفر چند مرحلوں میں کیا۔ پہلا مرحلہ مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ کے درمیانی فاصلے کا مرحلہ تھا، جس کی طرف سورۂ اسراء کی پہلی آیت میں اشارہ ہوا ہے: سُبْحانَ الَّذی أَسْری بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ ِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی "منزہ ہے وہ خدا جو ایک رات میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک لے گیا۔" بعض معتبر روایات کے مطابق، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اثناءِ راہ میں جبرئیل کی معیت میں سرزمینِ مدینہ میں نزول فرمایا اور وہاں نماز پڑھی۔ [بحوالہ: بحارالانوار، جلد ۱۸، صفحہ ۳۱۹]۔ اور مسجد الاقصیٰ میں بھی ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم انبیاء کی ارواح کی موجودگی میں نماز پڑھی اور امام جماعت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ اس کے بعد وہاں سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آسمانی سفر شروع ہوا اور آپ نے ساتوں آسمانوں کو یکے بعد دیگرے عبور کیا اور ہر آسمان میں ایک نیا ہی منظر دیکھا۔ [تشریحی نوٹ: قرآن کی بعض آیات کے مطابق، مثلاً "إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ" "ہم نے نچلے آسمان کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے" (صافات۔ ۶)۔ ہم جو کچھ عالمِ بالا سے دیکھتے ہیں اور تمام ستارے اور کہکشائیں، یہ سب پہلے آسمان کا حصہ ہیں۔ اس بنا پر چھ اور آسمان ان کے اوپر کے عوالم ہیں؟] بعض آسمانوں میں پیغمبروں اور فرشتوں سے، بعض آسمانوں میں دوزخ اور دوزخیوں سے اور بعض میں جنت اور جنتیوں سے ملاقات کی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ہر ایک سے بہت سی تربیتی و اصلاحی قیمتی یادیں اپنی روح پاک میں ذخیرہ کیں اور بہت سے عجائبات کا مشاہدہ کیا جن میں سے ہر ایک عالم ہستی کے اسرار میں سے ایک سِر اور رمز تھا اور واپس آنے کے بعد ان کو صراحت کے ساتھ اور بعض اوقات کنایہ اور مثال کی زبان میں امت کی آگاہی کے لیے مناسب فرصتوں میں بیان فرماتے تھے اور تعلیم و تربیت کے لیے اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے تھے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس آسمانی سفر کا ایک اہم مقصد، ان قیمتی مشاہدات کے تربیتی و عرفانی نتائج سے استفادہ کرنا تھا اور زیر بحث آیات میں قرآن کی یہ پُر معنی تعبیر "لَقَدْ رَأی مِنْ آیاتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ" ان تمام امور کی طرف ایک اجمالی اور سربستہ اشارہ ہو سکتی ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ وہ بہشت اور دوزخ جس کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر معراج میں مشاہدہ کیا اور کچھ لوگوں کو وہاں عیش میں اور کچھ کو عذاب میں دیکھا، وہ قیامت والی جنت اور دوزخ نہیں تھیں، بلکہ وہ برزخ کی جنت اور دوزخ تھیں، کیونکہ ان آیات کے مطابق جن کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں، قرآن مجید کہتا ہے کہ قیامت والی جنت و دوزخ قیام قیامت اور حساب و کتاب سے فراغت کے بعد نیکوکاروں اور بدکاروں کو نصیب ہو گی۔ آخرکار آپ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے، وہاں نور کے بہت سے حجابوں کا مشاہدہ کیا، وہی جگہ جہاں "سدرة المنتہیٰ" اور "جنّة المأویٰ" واقع تھی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جہانِ سراسر نور و روشنی میں، شہودِ باطنی کی اوج اور قربِ الی اللہ اور مقام "قابَ قَوسَینِ أَو أَدنیٰ" پر فائز ہوئے اور خدا نے اس سفر میں آپ کو مخاطب کرتے ہوئے بہت سے اہم احکام دیے اور بہت سے ارشادات فرمائے جن کا ایک مجموعہ اس وقت اسلامی روایات میں "احادیث قدسی" کی صورت میں ہمارے لیے یادگار رہ گیا ہے۔ اور انشاء اللہ آئندہ فصل میں ہم اس کے ایک حصے کی طرف اشارہ کریں گے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بہت سی روایات کی تصریح کے مطابق پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عظیم سفر کے مختلف حصوں میں اچانک علی علیہ السلام کو اپنے پہلو میں دیکھا اور ان روایات میں کچھ ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں، جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد علی علیہ السلام کے مقام کی حد سے زیادہ عظمت کی گواہ ہیں۔ معراج کی ان سب روایات کے باوجود کچھ ایسے پیچیدہ اور اسرار آمیز جملے ہیں جن کے مطالب کو کشف کرنا آسان نہیں ہے اور اصطلاح کے مطابق وہ روایاتِ متشابہ کا حصہ ہیں، یعنی ایسی روایات جن کی تشریح کو خود معصومین کے سپرد کر دینا چاہیے۔ (روایاتِ معراج کے سلسلے میں مزید اطلاع کے لیے بحارالانوار کی جلد ۱۸ از ص ۲۸۲ تا ص ۴۱۰ رجوع فرمائیں)۔ ضمنی طور پر، معراج کی روایات اہلِ سنت کی کتابوں میں بھی تفصیل سے آئی ہیں اور ان کے راویوں میں سے تقریباً ۳۰ افراد نے حدیثِ معراج کو نقل کیا ہے۔ [بحوالہ: "تفسیر المیزان" جلد ۱۳، صفحہ ۲۹ (سورۂ اسراء کی پہلی آیات کے ذیل میں، بحث روائی)]۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے: یہ اتنا لمبا سفر طے کرنا اور یہ سب عجیب اور قسم قسم کے حادثات، اور یہ ساری لمبی چوڑی گفتگو اور یہ سب کے سب مشاہدات ایک ہی رات میں یا ایک رات سے بھی کم وقت میں کس طرح سے انجام پا گئے؟ لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ سفر معراج ہرگز ایک عام سفر نہیں تھا، کہ اسے عام معیاروں سے پرکھا جائے، نہ تو اصل سفر معمولی تھا اور نہ ہی آپ کی سواری معمولی اور عام تھی، نہ آپ کے مشاہدات عام اور معمولی تھے اور نہ ہی آپ کی گفتگو میں اور نہ ہی وہ پیمانے جو اس میں استعمال ہوئے ہمارے کرۂ خاکی کے محدود اور چھوٹے پیمانوں کے مانند تھے اور نہ ہی وہ تشبیہات جو اس میں بیان ہوئی ہیں ان مناظر کی عظمت کو بیان کر سکتی ہیں جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشاہدہ کیے۔ تمام چیزیں خارق العادت صورت میں اور اس مکان و زمان سے خارج کے پیمانوں میں - جس سے ہم آشنا نہیں- واقع ہوئیں۔ اس بنا پر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ یہ امور ہمارے کرہ زمین کے زمانی پیمانوں کے ساتھ ایک رات یا ایک رات سے بھی کم وقت میں واقع ہوئیں۔ (غور کیجئے)۔
۵۔ معراج کی رات خدا کی پیغمبر سے باتوں کا ایک گوشہ
کتبِ حدیث میں ایک روایت امیر المؤمنین علی کے واسطے سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں آئی ہے جو بہت ہی شرح کے ساتھ ہے اور طولانی ہے۔ ہم اس کے کچھ گوشوں کو یہاں پیش کرتے ہیں، ایسے مطالب جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تاریخی رات کی باتیں کس محور پر تھیں اور انہوں نے آسمانوں کی بلندی کی طرح کس طرح بلندی حاصل کی۔ حدیث کے شروع میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج پروردگار سبحان سے اس طرح سوال کیا: "یَا رَبِّ! أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ"؟ "پروردگارا! کون سا عمل افضل ہے"؟ خداوند تعالیٰ نے فرمایا: "لَيْسَ شَيْءٌ عِنْدِي أَفْضَلَ مِنَ التَّوَكُّلِ عَلَيَّ، وَالرِّضَا بِمَا قَسَمْتُ، يَا مُحَمَّدُ! وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَوَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَعَاطِفِينَ فِيَّ، وَوَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ، وَوَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَكِّلِينَ عَلَيَّ، وَلَيْسَ لِمَحَبَّتِي عِلْمٌ وَلَا غَايَةٌ وَلَا نِهَايَةٌ" "کوئی چیز میرے نزدیک مجھ پر توکل کرنے اور جو کچھ میں نے تقسیم کر کے دیا ہے، اس پر راضی ہونے سے برتر نہیں ہے۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! جو لوگ میری خاطر ایک دوسرے کو دوست رکھتے ہیں، میری محبت ان کے شامل حال ہو گی اور جو لوگ میری خاطر ایک دوسرے پر مہربان ہیں اور میری خاطر دوستی کے تعلقات رکھتے ہیں، میں انہیں دوست رکھتا ہوں، علاوہ ازیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے جو مجھ پر توکل کرتے ہیں، فرض اور لازم ہے اور میری محبت کے لیے کوئی حد، کنارہ اور نہایت نہیں ہے۔" اس طرح سے محبت کی باتیں شروع ہوتی ہیں، ایسی محبت جس کی کوئی انتہا نہیں ہے، جو کشادہ اور وسیع ہے اور اصولی طور پر عالم ہستی اسی محورِ محبت پر گردش کر رہا ہے۔ ایک اور دوسرے حصے میں یہ آیا ہے: "اے احمد! بچوں کی طرح نہ ہونا، جو سبز و زرد اور زرق و برق کو دوست رکھتے ہیں اور جب انہیں کوئی عمدہ اور شیریں غذا دی جاتی ہے تو وہ مغرور ہو جاتے ہیں اور ہر چیز کو بھول جاتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں ہر جگہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام "احمد" کے عنوان سے ذکر ہوا ہے، سوائے آغازِ حدیث کے کہ وہاں "محمد" ہے۔ ہاں! "محمد" آپ کا زمینی نام تھا اور "احمد" آسمانی نام۔ ایسا کیوں نہ ہوتا، "احمد" چونکہ "افعل تفضیل" کا صیغہ ہے، لہٰذا یہ زیادہ حمد و تعریف کو بیان کرتا ہے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس تاریخی رات میں اور قربِ خدا کے اس مرحلے میں "محمد" سے گزر کر "احمد" تک پہنچ جانا چاہیے، خصوصاً جبکہ "احمد" کا "احد" سے فاصلہ بہت کم ہے]۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس موقع پر عرض کیا: "پروردگارا! مجھے کسی ایسے عمل کی ہدایت فرما جو تیری بارگاہ میں قرب کا باعث ہو۔" فرمایا: "رات کو دن اور دن کو رات قرار دے"! عرض کیا: "کس طرح"؟! فرمایا: "اس طرح کہ تیرا سونا نماز ہو اور ہرگز اپنے شکم کو پورے طور پر سیر نہ کرنا۔" ایک اور حصہ میں آیا ہے: "اے احمد! میری محبت فقیروں اور محروموں کی محبت ہے، ان کے قریب ہو اور ان کی مجلس کے قریب بیٹھ، تاکہ میں تیرے نزدیک ہوں اور دنیا پرست ثروت مندوں کو اپنے سے دور رکھ اور ان کی مجالس سے بچتا رہ۔" ایک اور حصہ میں فرماتا ہے: "اے احمد! دنیا کے رزق و برق اور دنیا پرستوں کو مبغوض شمار کر اور آخرت اور اہل آخرت کو محبوب رکھ" عرض کرتے ہیں: "پروردگارا! اہل دنیا اور اہل آخرت کون ہیں"؟ فرمایا: "اہل دنیا تو وہ لوگ ہیں، جو زیادہ کھاتے ہیں، زیادہ ہنستے ہیں، زیادہ سوتے ہیں اور غصہ کرتے ہیں اور تھوڑا خوش ہوتے ہیں، نہ تو برائیوں کے مقابلے میں کسی سے عذر چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی عذر چاہنے والے کا عذر قبول کرتے ہیں، اطاعتِ خدا میں سست ہیں اور گناہ کرنے میں دلیر ہیں، لمبی چوڑی آرزوئیں رکھتے ہیں، حالانکہ ان کی اجل قریب آ پہنچی ہے مگر وہ ہرگز اپنے اعمال کا حساب نہیں کرتے، ان سے لوگوں کو بہت کم نفع ہوتا ہے، باتیں زیادہ کرتے ہیں، احساسِ مسئولیت نہیں رکھتے، کھانے پینے سے ہی غرض رکھتے ہیں۔ اہل دنیا نہ تو نعمت میں خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ ہی مصائب میں صبر کرتے ہیں۔ زیادہ خدمات بھی ان کی نظر میں تھوڑی ہیں (اور خود ان کی اپنی خدمات تھوڑی بھی زیادہ ہیں)، اپنی اس کام کے انجام پانے پر، جو انہوں نے انجام نہیں دیا ہے، تعریف کرتے ہیں اور ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو ان کا حق نہیں ہے۔ ہمیشہ اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کی بات کرتے ہیں اور لوگوں کے عیوب تو یاد دلاتے رہتے ہیں لیکن ان کی نیکیوں کو چھپاتے ہیں"، عرض کیا: "پروردگارا! کیا دنیا پرست اس کے علاوہ بھی کوئی عیب رکھتے ہیں"؟ فرمایا: "اے احمد! ان کا عیب یہ ہے کہ جہل اور حماقت ان میں بہت زیادہ ہے، جس استاد سے انہوں نے علم سیکھا ہے اس کی تواضع نہیں کرتے اور اپنے آپ کو عاقل سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ صاحبانِ علم کے نزدیک نادان اور احمق ہیں۔" اس کے بعد اہل آخرت اور بہشتیوں کے اوصاف کو یوں بیان کرتا ہے: "وہ ایسے لوگ ہیں جو باحیا ہیں، ان کی جہالت کم ہے، ان کے منافع زیادہ ہیں۔ لوگ ان سے راحت و آرام میں ہوتے ہیں اور وہ خود اپنے ہاتھوں تکلیف میں ہوتے ہیں اور ان کی باتیں سنجیدہ ہوتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے اعمال کا حساب کرتے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ خود کو زحمت میں ڈالے رہتے ہیں، ان کی آنکھیں سوئی ہوتی ہیں لیکن ان کے دل بیدار ہوتے ہیں، ان کی آنکھ گریاں ہوتی ہے اور ان کا دل ہمیشہ یادِ خدا میں مصروف رہتا ہے جس وقت لوگ غافلوں کے زمرے میں لکھے جا رہے ہوں وہ اس وقت ذکر کرنے والوں میں لکھے جاتے ہیں۔ نعمتوں کے آغاز میں حمدِ خدا بجا لاتے ہیں اور ختم ہونے پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں، ان کی دعائیں بارگاہِ خدا میں قبول ہوتی ہیں اور ان کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں، اور فرشتے ان کے وجود سے مسرور اور خوش ہیں۔ (غافل) لوگ ان کے نزدیک مردہ ہیں اور خدا ان کے نزدیک حیّی و قیوم و کریم ہے (ان کی ہمت اتنی بلند ہے کہ وہ اس کے سوا کسی اور پر نظر نہیں رکھتے)... لوگ تو اپنی عمر میں صرف ایک ہی دفعہ مرتے ہیں، لیکن وہ جہاد بالنفس اور ہوا و ہوس کی مخالفت کی وجہ سے ہر روز ستر مرتبہ مرتے ہیں (اور نئی زندگی پاتے ہیں)!... جس وقت عبادت کے لیے میرے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ایک فولادی بند اور بنیان مرصوص کے مانند ہوتے ہیں اور ان کے دل میں مخلوقات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ میں انہیں ایک پاکیزہ زندگی بخشوں گا اور عمر کے اختتام پر میں خود ان کی روح کو قبض کر لوں گا اور ان کی روح کی پرواز کے لیے آسمان کے دروازوں کو کھول دوں گا، تمام حجابوں کو ان کے سامنے سے ہٹا دوں گا اور حکم دوں گا کہ بہشت خود کو ان کے لیے آراستہ کرے"!... "اے احمد! عبادت کے دس حصے ہیں جن میں سے نو حصے طلبِ حلال میں ہیں، جب تیرا کھانا اور پینا حلال ہو گا تو تو میری حفظ و حمایت میں ہو گا۔" ایک اور حصہ میں آیا ہے: "اے احمد! کیا تو جانتا ہے کہ کون سی زندگی زیادہ گوارا اور زیادہ دوام رکھتی ہے"؟ عرض کیا: "خداوند! نہیں"! فرمایا: "گوارا زندگی وہ ہوتی ہے جس کا صاحب ایک لمحہ کے لیے بھی میری یاد سے غافل نہ رہے، میری نعمت کو فراموش نہ کرے، میرے حق سے بےخبر نہ رہے اور رات دن میری رضا کو طلب کرے۔ لیکن باقی رہنے والی زندگی وہ ہے جس میں اپنی نجات کے لیے عمل کرے، دنیا اس کی نظر میں حقیر ہو اور آخرت بڑی اور بزرگ ہو، میری رضا کو اپنی رضا پر مقدم شمار کرے اور ہمیشہ میری خوشنودی کو طلب کرے، میرے حق کو بڑا سمجھے اور اپنی نسبت میری آگاہی کی طرف توجہ رکھے۔ ہر گناہ اور معصیت پر مجھے یاد کر لیا کرے اور اپنے دل کو اس چیز سے جو مجھے پسند نہیں ہے پاک رکھے، شیطان اور شیطانی وسوسوں کو مبغوض رکھےاور ابلیس کو اپنے دل پر مسلط نہ کرے اور اسے راہ نہ دے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو میں ایک خاص قسم کی محبت کو اس کے دل میں ڈال دوں گا، اس طرح سے کہ اس کا سارا دل میرے اختیار میں ہو گا، اس کی فرصت اور مشغولیت، اس کا ہم و غم اور اس کی بات ان نعمتوں کے بارے میں ہو گی جو میں اہلِ محبت کو بخشتا ہوں۔ میں اس کی آنکھ اور دل کے کان کھول دیتا ہوں تاکہ وہ اپنے دل کے کان سے غیب کے حقائق کو سنے اور اپنے دل سے میرے جلال و عظمت کو دیکھے"! اور آخر میں یہ نورانی حدیث ان بیدار کرنے والے جملوں پر ختم ہو جاتی ہے: "اے احمد! اگر کوئی بندہ تمام اہلِ آسمان اور تمام اہلِ زمین کے برابر نماز ادا کرے اور تمام اہلِ آسمان و زمین کے برابر روزہ رکھے، فرشتوں کی طرح کھانا نہ کھائے اور (کوئی فاخرہ) لباس بدن پر نہ پہنے (اور انتہائی زہد اور پارسائی کی زندگی بسر کرے) لیکن اس کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیا پرستی یا ریاست طلبی یا زینتِ دنیا کا عشق ہو، تو وہ میرے جاودانی گھر میں میرے جوار میں نہیں ہو گا اور اپنی محبت کو اس کے دل سے نکال دوں گا! میرا سلام و رحمت تجھ پر ہو، (وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)" [بحوالہ: بحارالانوار، جلد ۷۷، صفحہ ۲۱ تا ۳۰ (تلخیص کے ساتھ)]۔ یہ عرشی باتیں جو انسانی روح کو آسمانوں کی طرف بلند کرتی ہیں اور معراجِ الہٰی کی طرف سیر کراتی ہیں اور آستانۂ عشق و شہود کی طرف کھینچتی ہیں، حدیثِ قدسی کا صرف ایک حصہ ہے۔ مزید برآں، ہمیں اطمینان ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ارشادات میں جو کچھ بیان فرمایا ہے، ان کے علاوہ بھی، اس شبِ عشق و شوق اور جذبہ و وصال کی شب میں، ایسی باتیں، اسرار و رموز اور اشارے آپ کے اور آپ کے محبوب کے درمیان ہوئے ہیں، جن کو نہ تو لوگ سننے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی عام افکار میں ان کے درک کی طاقت ہے اور اسی بنا پر وہ ہمیشہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل و جان کے اندر ہی مکتوم اور پوشیدہ رہے اور آپ کے خواص کے علاوہ کوئی بھی اُن سے آگاہ نہیں ہوا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مشرکین کے بیہودہ عقائد
Tafsīr Nemūna · Vol. 8"توحید" و "وحی" و "معراج" اور آسمانوں میں خدائے یگانہ کی عظمت سے مربوط مباحث کے بیان کے بعد، بتوں کے بارے میں مشرکین کے شرک اور بیہودہ عقائد کے بطلان کو پیش کرتا ہے۔ فرماتا ہے: خدا کی عظمت اور اس کی عظیم آیات اور نشانیوں کو جان لینے کے بعد، مجھے بتاؤ تو سہی کیا پھر بھی "لات" و "عزیٰ" بت ہی ... (أَفَرَأَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّیٰ)۔ اور اسی طرح سے "منات" جو ان کا تیسرا بت ہے، جسے ان کے بعد ذکر کرتے ہو، کیا یہ مورتیاں خدا کی بیٹیاں ہیں اور تمہیں کوئی فائدہ یا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ (وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَیٰ)۔ [تشریحی نوٹ: ان تینوں بتوں کے بارے میں ہم انشاء اللہ نکات کی بحث میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ جو چیز یہاں قابل توجہ ہے وہ "ثالثة"، "تیسرا" اور "أُخْرَى" (متأخر) کی تعبیر ہے، جو منات بت کے بارے میں آئی ہے۔ علماء نے ان دونوں تعبیروں کے لیے بہت زیادہ تفسیریں بیان کی ہیں، جن میں سے اکثر بےبنیاد تکلفات ہیں۔ جو کچھ زیادہ مناسب نظر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ مشرکینِ عرب کے نزدیک ان بتوں کی اہمیت اسی ترتیب کے ساتھ ہے جو آیت میں بتائی گئی ہے۔ تو اس بنا پر "منات" تیسرے مرحلہ میں قرار پاتا ہے اور "أُخْرَى" کے ساتھ اس کی توصیف اس کے رتبہ و مقام کے تأخر کی بنا پر ہے]۔ "کیا تمہارا حصہ تو بیٹے ہیں اور اس کا حصہ بیٹیاں"؟ (أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنثَیٰ) حالانکہ تمہارے خیال میں بیٹیاں، بیٹوں سے کم قدر و قیمت ہیں، یہاں تک کہ جب تم یہ سنتے ہو کہ تمہاری بیوی نے بیٹی جنی ہے تو تم غم و اندوہ کی شدت اور غصہ سے سیاہ ہو جاتے ہو۔ اگر اسی طرح ہے تو پھر یہ تقسیم ایک غیر عادلانہ تقسیم ہے، جو تم نے خود اپنے اور خدا کے درمیان روا رکھی ہے (تِلْکَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِیزَیٰ)۔ [تشریحی نوٹ: "ضِيزَىٰ" ناقص، ظالمانہ اور غیر معتدل کے معنی میں ہے]۔ کیونکہ خدا کے حصے کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہو۔ اس طرح قرآن ان کے گریہ و بےہودہ افکار کا مذاق اڑاتا ہے کہ تم ایک طرف تو بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے ہو، انہیں ننگ و عیب سمجھتے ہو اور دوسری طرف فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے ہو۔ تم نہ صرف خود ان کی پرستش کرتے ہو، بلکہ ان کے بےروح مجسمے بھی بتوں کی صورت میں تمہاری نظر میں اتنے محترم ہیں کہ ان کے سامنے سجدہ کرتے ہو، مشکلات میں ان سے پناہ مانگتے ہو اور اپنی حاجتیں ان سے طلب کرتے ہو، حقیقتاً یہ ایک مذاق اور شرم والی بات ہے۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کم از کم پتھر اور لکڑی کے بہت سے بت جن کی عرب پرستش کیا کرتے تھے، ان کے گمان میں فرشتوں کے مجسمے تھے، وہ فرشتے جنہیں وہ "ربُّ النوع" اور عالم ہستی کا مدیر و مدبر سمجھتے تھے اور خدا سے ان کی نسبت بیٹی اور باپ کی نسبت خیال کرتے تھے۔ جس وقت ان خرافات کا ایک دوسری بیہودگی کے ساتھ، جو وہ بیٹیوں کے بارے میں سمجھتے تھے، مقابلہ کیا جاتا ہے تو ان کا عجیب و غریب تضاد، خود ان کے عقائد و افکار کے بےبنیاد ہونے کا ایک بہترین گواہ بن جاتا ہے۔ اور کتنی عمدہ بات ہے کہ یہ چند مختصر سے جملوں کے ساتھ، قرآن ان سب پر خطِ بطلان کھینچتے ہوئے ان کے مذاق اور مسخرہ پن کو آشکار کر دیتا ہے۔ اور اسی سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن کا ہرگز منشا یہ نہیں ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے عربوں کے بیٹی اور بیٹے کے درمیان فرق کے بارے میں اعتقاد کو قبول کر لے، بلکہ وہ اس طریقہ سے مدِّ مقابل کے مسلمات کو اس کے خلاف پیش کرنا چاہتا ہے جسے منطق کی اصطلاح میں "جدل" کہتے ہیں، ورنہ اسلام کی منطق میں، انسانی قدر و منزلت کے لحاظ سے، نہ تو بیٹے اور بیٹیوں میں کوئی فرق ہے، اور نہ ہی فرشتے بیٹی یا بیٹا ہیں اور نہ اصلاً وہ خدا کی اولاد ہیں اور نہ ہی اصولاً خدا اولاد رکھتا ہے۔ یہ بےبنیاد مفروضے ہیں جن کی بنیاد دوسرے بےبنیاد مفروضوں پر ہے، لیکن یہ ان لغو بت پرستوں کے فکر و منطق کے ضعف و کمزوری کو ثابت کرنے کے لیے بہترین جواب ہے۔ آخری زیرِ بحث آیت میں قرآن قاطعیت کے ساتھ کہتا ہے، یہ تو فقط نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے ان کے رکھے ہوئے ہیں (ایسے نام جو بےمعنی اور اسمائے بےمسمّٰی ہیں)، اور خدا نے ہرگز کوئی دلیل اور حجت اس پر نازل نہیں کی ہے (إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ۔ [تشریحی نوٹ: "سُلْطَان" تسلط اور غلبہ کے معنی میں ہے اور زندہ و یقینی دلائل کو "سُلْطَان" کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ دشمن پر غلبہ کا سبب ہوتے ہیں]۔ نہ تو اس پر تم کوئی عقلی دلیل رکھتے ہو اور نہ ہی وحی کے طریق سے کوئی دلیل تمہارے پاس ہے، اور یہ مٹھی بھر اوہام و خرافات اور کھوکھلے الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آخر میں مزید کہتا ہے: وہ تو صرف بےبنیاد گمانوں اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور یہ موہوم باتیں سب کی سب خیال اور ہوائے نفس کی پیداوار ہیں (إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ)۔ [تشریحی نوٹ: "مَا تَهْوَى الْأَنفُسُ" میں "مَا" موصولہ ہے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ مصدر یہ ہو، البتہ نتیجہ کے لحاظ سے کچھ فرق نہیں ہے]۔ "حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے" (وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ)۔ لیکن وہ آنکھیں بند کر کے اس سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں اور ان اوہام کی ظلمتوں میں ڈوب جاتے ہیں۔
چند اہم نکات: ۱۔ عربوں کے تین مشہور بت
مشرکین عرب کے بہت سے بت تھے، لیکن بلاشک و شبہ ان میں سے تین بت "لات"، "عزیٰ" اور "منات" ایک خاص اہمیت اور شہرت رکھتے تھے۔ ان ناموں کے ساتھ ان تینوں کے نام رکھنے کے بارے میں اور اسی طرح سب سے پہلے ان بتوں کے بنانے والے کے متعلق اور ان کے مقام اور پرستش کرنے والے قبیلہ کے سلسلہ میں بہت سی باتیں اور اختلافات ہیں، اور ہم یہاں صرف اسی بات پر جو کتاب "بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب" میں آیا ہے، اکتفا کرتے ہیں۔ پہلا معروف بت، جسے عربوں نے انتخاب کیا، بت "منات" تھا، جو "عمرو بن لحی" کی طرف سے، بت پرستی کو شام سے حجاز کی طرف منتقل کرنے کے بعد بنایا گیا تھا۔ یہ بت بحر احمر کے پاس مدینہ اور مکہ کے درمیان کے علاقہ میں رکھا گیا تھا اور تمام عرب اس کا احترام کیا کرتے تھے اور وہ اس کے پاس قربانی کرتے تھے، لیکن سب سے زیادہ اسے دو قبیلے، "اوس" اور "خزرج" اہمیت دیتے تھے، یہاں تک کہ آٹھویں ہجری میں، جو فتح مکہ کا سال تھا، جس وقت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے مکہ کی طرف جا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر المومنین علی (علیہ السلام) کو بھیج کر اسے تڑوا دیا۔ زمانہ جاہلیت کے عربوں نے بت "منات" بنانے کے ایک مدت بعد "لات" کو بنایا، جو ایک چار کونوں والے پتھر کی صورت میں تھا اور سرزمین طائف میں رکھا گیا تھا، اس جگہ پر جہاں آج مسجد طائف کی بائیں طرف کا منارہ ہے۔ اس بت کے خادم زیادہ تر قبیلہ ثقیف میں سے تھے، جب وہ مسلمان ہو گئے، تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغیرہ کو بھیج کر اسے تڑوا دیا اور اس نے اُسے آگ میں پھینک کر جلا دیا۔ تیسرا بت جس کا زمانہ جاہلیت کے عربوں نے انتخاب کیا تھا، "عزّیٰ" تھا، جو مکہ سے عراق کے راستے میں ذات عرق کے قریب رکھا ہوا تھا اور قریش اس کا بہت ہی زیادہ احترام کیا کرتے تھے۔ وہ ان تینوں بتوں کو اتنی اہمیت دیا کرتے تھے، کہ وہ خانۂ خدا کے گرد طواف کرتے وقت کہتے تھے: وَاللّاتِ وَالْعُزَّیٰ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرٰی، فَإِنَّهُنَّ الْغَرَانِيقُ الْعُلْیٰ، وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجٰی۔ لات و عزیٰ اور منات خوبصورت اور بلند مقام پرندے ہیں کہ جن سے شفاعت کی امید کی جاتی ہے!! اور وہ انہیں خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے (ظاہر یہ ہے کہ وہ انہیں فرشتوں کی مورتیاں خیال کرتے تھے جنہیں وہ خدا کی بیٹیاں کہہ کر پکارتے تھے)۔ [بحوالہ: "بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب" جلد ۲، صفحہ ۲۰۲، ۲۰۳]۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کا نام رکھنے میں بھی غالباً انہوں نے خدا کے ناموں سے استفادہ کیا ہوا تھا، زیادہ سے زیادہ تانیث کی علامت کے ساتھ، تاکہ وہ اوپر والے عقیدہ کو ظاہر کرے، اس طرح سے کہ "اللّات" اصل میں "اللاہہ" تھا، اس کے بعد حرف "ہ" ساقط ہو گیا اور "اللّات" ہو گیا [تشریحی نوٹ: اس معنی کے مطابق اللات کو "اللَّاة" (گول تاء) کے ساتھ لکھا جانا چاہیے، لیکن چونکہ وقفی حالت میں (ھاء) کے ساتھ تبدیل ہو جاتی ہے اور ممکن ہے کہ لفظ "اللہ" کے ساتھ اشتباہ ہو جائے، لہٰذا اسے "اللّات" کی صورت میں لکھتے ہیں] اور "العزیٰ"، "أعز" کی مؤنث ہے اور "منات"، "منی اللہ الشیء"، کسی چیز کے خدا کی طرف سے مقدر ہونے سے لیا گیا ہے۔ بعض اسے "نوء" کے مادہ سے جانتے ہیں، جو ان ستاروں میں سے تھا جن کے بارے میں عربوں کا یہ عقیدہ تھا کہ جب وہ طلوع کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ہی بارش ہوتی ہے اور بعض اسے بروزن "سعی" کے مادہ سے خون بہانے کے معنی میں جانتے ہیں، کیونکہ وہ قربانی کے خون ان کے پاس بہایا کرتے تھے۔ [بحوالہ: پہلا احتمال کشاف میں اور دوسرا "بلوغ الارب" میں آیا ہے]۔ بہرحال، عرب ان بتوں کا اس قدر احترام کیا کرتے تھے، کہ بعض قبیلوں یا افراد کا نام "عبدالعزیٰ" اور "عبد مناف" کی طرح کے رکھا کرتے تھے۔ [بحوالہ: "بلوغ الارب" جلد ۲، صفحہ ۳۰۲]۔
٢۔ بےمسمّٰی اسم
شرک اور دو خداؤں یا کئی خداؤں کی پرستش کے قدیم ترین سرچشموں میں سے ایک، موجوداتِ عالم کا تنوع ہے، کیونکہ کوتاہ فکر افراد یہ باور نہیں کر سکتے تھے کہ یہ گوناگوں اور متنوع موجودات، جو آسمان اور زمین میں ہیں، ایک ہی خدا کی مخلوق ہوں۔ (کیونکہ انہوں نے اپنے اوپر قیاس کر لیا تھا، جو ہمیشہ ایک آدھ کام یا چند کاموں میں ہی مہارت رکھتے تھے) لہٰذا وہ موجودات کی ہر نوع کے لیے ایک علیحدہ خدا مانتے تھے، جسے وہ "ربّ النوع" سے تعبیر کرتے تھے، مثلاً: ربّ النوعِ دریا، ربّ النوعِ صحرا، ربّ النوعِ باران، ربّ النوعِ آفتاب، ربّ النوعِ جنگ اور ربّ النوعِ صلح۔ یہ خیالی خدا، جنہیں وہ بعض اوقات فرشتوں سے یاد کرتے تھے، ان کے عقیدے کے مطابق اس جہان کے حکمران تھے اور جس حصہ میں بھی کوئی مشکل پیدا ہوتی، تو وہ اسی کے "ربّ النوع" سے پناہ مانگتے تھے۔ اس کے بعد، چونکہ یہ سارے کے سارے موجودات کے "ربّ النوع" محسوس نہیں ہوتے تھے، لہٰذا ان کی مورتیاں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگے۔ یہ بیہودہ عقائد یونان سے دوسرے علاقوں کی طرف اور آخرکار حجاز کے علاقے کی طرف منتقل ہوئے، لیکن چونکہ عرب، توحیدِ ابراہیمی کی بنا پر، جو ان کے درمیان بطورِ یادگار رہ گئی تھی، اللہ کے وجود کے منکر نہیں ہوسکتے تھے، لہٰذا انہوں نے ان عقائد کو آپس میں ملا دیا اور خداوند تعالیٰ کے وجود کا عقیدہ برقرار رکھتے ہوئے، فرشتوں کا عقیدہ بھی اپنا لیا، جن کا وہ خدا کے ساتھ باپ اور بیٹی کا ربط سمجھتے تھے اور پتھر اور لکڑی کے بتوں کو ان کے مظہر اور ان کی مورتیاں سمجھتے تھے۔ قرآن، ایک مختصر لیکن جامع عبارت کے ساتھ، جو اوپر والی آیات میں بیان ہوئی ہے، کہتا ہے: یہ سب بےمعنی نام اور اسمائے بےمسمّٰی ہیں، جنہیں تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے بغیر کسی دلیل و مدرک کے انتخاب کر لیا ہے! نہ تو بارش کے خدا سے، جس کا تم نے یہ نام رکھا ہے، کوئی کام ہو سکتا ہے، اور نہ ہی سورج، دریا، جنگ اور صلح کے خیالی خداؤں سے کچھ ہو سکتا ہے۔ تمام چیزیں خدا ہی کی طرف سے ہیں اور سب عالمِ ہستی اسی کا مطیع ہے۔ اور ان مختلف موجودات کی ایک دوسرے سے ہم آہنگی ان کے خالق کی وحدت کی بہترین دلیل ہے، کیونکہ اگر کئی الٰہ اور بہت سے خدا ہوتے، تو نہ صرف یہ کہ یہ ہم آہنگی موجود نہ ہوتی، بلکہ اس کا انجام یہ ہوتا کہ سارا عالم تضاد اور فساد کا شکار ہو جاتا، جیسا کہ فرمایا گیا: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا" (الأنبياء: ۲۲)
٣۔ بت پرستی کا نفسیاتی اور فکری سرچشمہ
بت پرستی کے سرچشمے تو ہمیں معلوم ہو گئے ہیں، لیکن بت پرستی کے کچھ اور نفسیاتی اور فکری سرچشمے بھی ہیں، جن کی طرف اوپر والی آیات میں اشارہ ہوا ہے اور وہ بےبنیاد گمانوں اور ہوائے نفس کی پیروی ہے۔ وہ ایک ایسا خیال اور تصور ہے جو نادان افراد میں پیدا ہو جاتا ہے اور مقلدین آنکھیں اور کان بند کر کے ایک دوسرے سے لے لیتے ہیں اور پھر وہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ البتہ بت جیسا معبود، جو اپنے بندوں پر کسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں رکھتا اور نہ ہی کوئی معاد، قیامت اور حساب و کتاب رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی بہشت و دوزخ ہے، اس نے انہیں مکمل آزادی دے رکھی ہے۔ وہ صرف مشکلات میں اس کی طرف رخ کرتے ہیں اور اپنے خیال میں اس سے مدد طلب کرتے ہیں۔ یہ بات ان کی سرکش ہوا و ہوس کے ساتھ اچھی طرح سازگار ہے اور ان کی خواہشات کے لیے میدان کھول دیتی ہے۔ اصولی طور پر، ہوائے نفس خود ایک عظیم ترین اور خطرناک ترین بت ہے اور دوسرے بتوں کی پیدائش کا سرچشمہ ہے اور بت پرستی کے بازار کے گرم ہونے کا سبب ہے۔
۴۔ پھر بھی "غرانیق" کا افسانہ
اس بحث کے دوران، جو ہم نے عربوں کے تین بتوں لات، عزیٰ اور منات کے بارے میں تاریخی لحاظ سے بیان کی تھی، اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا تھا کہ وہ ان بتوں کو بلند پایہ "غرانیق" سمجھتے تھے، جن سے وہ شفاعت کی اُمید رکھتے تھے۔ (غرانیق، جمع غرنوق، بروزن مزدور، سفید یا سیاہ رنگ کے پانی کے ایک قسم کے پرندے کے معنی میں ہے) لہٰذا وہ بعض اوقات ان بتوں کے ناموں کے ذکر کے بعد "تلک الغرانیق العلیٰ وإن شفاعتهن لترتجی" کے جملوں کے ساتھ ان کی تعریف اور قصیدہ خوانی کیا کرتے تھے۔ بعض کتابوں میں اس جگہ ایک بےہودہ داستان بیان کی گئی ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب زیر بحث آیت أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى پر پہنچے، تو (معاذ اللہ) آپ نے ان دو جملوں کا خود سے اضافہ کر دیا: "تلک الغرانیق العلیٰ وإن شفاعتهن لترتجی" اور یہ چیز مشرکین کے خوش ہونے کا سبب بن گئی اور انہوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بت پرستی کے مسئلے کی طرف ایک قسم کا جھکاؤ سمجھا۔ اور اس سورہ کے آخر میں لوگوں کو سجدہ کی دعوت دی گئی تو مشرک بھی مسلمانوں کے ساتھ سجدے میں گر پڑے اور یہ خبر مشرکین کے اسلام لانے کے طور پر سب جگہ پھیل گئی، یہاں تک کہ حبشہ کے مہاجر مسلمانوں کے کانوں تک پہنچ گئی اور ان میں سے بعض اتنے خوش ہوئے اور امن کا احساس کیا کہ اپنی ہجرت گاہ حبشہ سے مکہ کی طرف پلٹ آئے۔ [بحوالہ: اس بیہودہ کہانی کو "طبری" نے اپنی تاریخ کی دوسری جلد کے صفحہ ٧٥ سے آگے تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے]۔ لیکن جیسا کہ ہم نے سورۂ حج کی آیت ۵۲ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، یہ ایک ایسی ناروا نسبت اور رسوا کن جھوٹ ہے، جس کے بطلان کو بہت سے دلائل اور قرائن واضح کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے یہ جھوٹ گھڑا، انہوں نے یہ بالکل نہیں سوچا کہ قرآن انہی زیر بحث آیات میں صراحت کے ساتھ بت پرستی کی سرکوبی کر رہا ہے اور اسے خیالِ خام اور ہوائے نفس کی پیروی شمار کرتا ہے۔ بعد والی آیات میں بھی صراحت اور پوری شدت کے ساتھ بت پرستوں کے عقائد کی مذمت کر رہا ہے، اور اسے ان کی بےایمانی، بےعلمی اور عدم آگاہی کی نشانی قرار دیتا ہے اور صراحت کے ساتھ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیتا ہے کہ اپنا معاملہ اُن سے الگ کر لیں اور ان سے منہ پھیر لیں۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ دو جملے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہوں، یا مشرکین اس قدر احمق ہوں کہ وہ یہ جملے تو سن لیں لیکن بعد والی آیات کو، جو صراحت کے ساتھ بت پرستی کی سرکوبی کرتی ہیں، نظر انداز کر دیں اور آخر میں خوش ہو جائیں اور سورہ کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ سجدے میں گر پڑیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس افسانے کو گھڑنے والوں نے بہت ہی ناتجربہ کاری اور کسی مطالعے کے بغیر اسے گھڑا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ پیغمبر کی طرف سے اس آیت أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى... کی قرائت کے وقت اچانک شیطان نے، یا حاضر گروہ مشرکین میں سے کسی شیطان صفت انسان نے، ان دو جملوں کا اضافہ کر دیا ہو۔ (کیونکہ یہ دونوں جملے ان کا شعار بن چکے تھے، جن کے ذریعے وہ ان تینوں بتوں کی تعریف کیا کرتے تھے) اور اس طرح سے ایک گروہ وقتی طور پر اشتباہ میں پڑ گیا ہو۔ لیکن اس سورہ کے آخر پر نہ تو ان کا سجدہ کرنا کوئی مفہوم رکھتا ہے اور نہ ہی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بت پرستی کے سلسلے میں جھکاؤ، جیسا کہ تمام آیاتِ قرآنی اور آپ کی تاریخِ زندگی اس حقیقت اور واقعیت پر گواہ ہیں کہ آپ نے کبھی بت پرستی کے مسئلے کے ساتھ مبارزہ کرنے میں کسی بھی شکل و صورت میں معمولی سے معمولی جھکاؤ نہیں دکھایا اور اس سلسلے میں آپ نے کسی بھی پیشکش کو قبول نہیں کیا، کیونکہ سارے اسلام کا خلاصہ توحید اور "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ" ہے۔ لہٰذا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی طرح بھی اسلام کے اصلی مطلب اور مفہوم پر معاملہ نہیں کر سکتے؟ ہم اس سلسلے میں مزید دلائل اور استدلالات سورۂ حج کی آیت ۵۲ (جلد ٧، صفحہ ۵۸۴) میں پیش کر چکے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: شفاعت بھی اسی کے اذن سے ہو گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات اسی طرح سے بت پرستی کی بیہودگی کو بیان کرتے ہوئے اس کی مذمت کر رہی ہیں اور گزشتہ آیات کے مضمون ہی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پہلے بت پرستوں کی بےبنیاد آرزوؤں اور ان توقعات کو جو وہ بتوں سے رکھتے تھے، بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "کیا جو کچھ انسان آرزو رکھتا ہے، وہ اسے مل جاتا ہے"؟ (أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّى)۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بےروح اور بےقدر و قیمت اجسام اس کی شفاعت کے لیے بارگاہِ خدا میں کھڑے ہو سکیں گے؟ یا اسے دنیا و آخرت کی مشکلات میں پناہ دے سکیں گے؟ حالانکہ دنیا و آخرت صرف خدا ہی کے لیے ہیں: "پس آخرت بھی اور دنیا بھی اللہ ہی کے لیے ہے۔" (فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَ الْأُولَى)۔ عالمِ اسباب اس کے ارادے کے محور پر گردش کر رہا ہے اور ہر موجود کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کے وجود کی برکت سے ہے۔ شفاعت بھی اسی کی طرف سے ہے اور مشکلات کا حل بھی اسی کے دستِ قدرت میں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلے آخرت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور اس کے بعد دنیا کے متعلق، کیونکہ وہ چیز جو سب سے زیادہ انسانی فکر کو اپنی طرف مشغول رکھے ہوئے ہے وہ آخرت کی نجات ہی ہے اور خدا کی حاکمیت دوسرے گھر میں اس گھر سے زیادہ آشکار ہے۔ اس طرح سے قرآن مشرکین کو بتوں کی شفاعت اور ان کے وسیلے سے مشکلات کے حل سے کلی طور پر مایوس اور ناامید کر رہا ہے اور یہ بہانہ ان سے چھین رہا ہے کہ ہم تو اس بنا پر ان کی پرستش کرتے ہیں کہ وہ بارگاہِ خدا میں ہماری شفاعت کریں: "اور وہ کہتے ہیں: یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے نزدیک۔" (وَ يَقُولُونَ هؤُلاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ) (یونس: ۱۸)۔ اوپر والی دو آیات میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ انسان، اپنی آرزوؤں اور خواہشات پر دسترس حاصل نہ کرنے کے طریقے سے، پروردگار کے وجود کی طرف توجہ کرتا ہے، کیونکہ پہلی آیت میں ایک استفہامِ انکاری کی صورت میں کہتا ہے: "کیا انسان اپنی تمام آرزوؤں کو پا لیتا ہے"؟ اور چونکہ اس سوال کا جواب قطعاً نفی میں ہے، یعنی انسان ہرگز اپنی اکثر آرزوؤں میں کامیاب نہیں ہوتا اور اصطلاح کے مطابق انہیں قبر میں اپنے ساتھ لے جاتا ہے، یہی چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس عالم کی تدبیر کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور صرف اس کا ارادہ اس جہان پر حاکم ہے، اس لیے دوسری آیت میں کہتا ہے: "جب یہ بات ہے تو آخرت اور دنیا خدا ہی کے لیے ہیں۔" یہ معنی اسی چیز کے مشابہ ہے جو علی علیہ السلام کی مشہور گفتگو میں آئی ہے: "میں نے خدا کو پختہ ارادوں کے ٹوٹنے، وعدوں کے ناتمام رہنے اور ہمتوں کے پست ہونے سے پہچانا ہے۔" [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، کلمہ ۲۵]۔ اس تفسیر اور سابقہ تفسیر کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں اس مسئلے پر اور زیادہ تاکید کے لیے مزید ارشاد ہوتا ہے: "آسمانوں میں کتنے ہی زیادہ فرشتے ایسے ہیں جن کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں دے گی، مگر جس کسی کے لیے خدا چاہے اور اس سے راضی ہو کر اس کی شفاعت کی اجازت دے دے۔" (وَ كَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَ يَرْضَى)۔ جہاں آسمان کے فرشتے اپنی ساری عظمت کے باوجود اجتماعی صورت میں بھی شفاعت پر قدرت نہیں رکھتے، جب تک کہ پروردگار کا اذن اور رضا نہ ہو، تو پھر ان بےشعور اور بےقدر و قیمت بتوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ جہاں تیز پرواز عقابوں کے پر و بال گر جاتے ہوں، وہاں ناتواں مچھروں سے کیا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ تم یہ کہتے ہو کہ ہم تو ان بتوں کی اس لیے پرستش کرتے ہیں تاکہ وہ بارگاہِ خدا میں ہمارے شفیع ہوں؟ "کم" (کتنے بہت سے) کی تعبیر یہاں عمومی کے معنی میں ہے، یعنی کوئی فرشتہ بھی اس کے اذن و رضا کے بغیر شفاعت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ تعبیر بعض اوقات لغتِ عرب میں ایک جمعیت کے معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورۂ اسراء کی آیت ۷۰ میں لفظ "کثیر" عموم کے معنی میں ہے: "اور ہم نے بنی آدم کو اپنی ساری مخلوقات پر فضیلت اور برتری بخشی ہے۔" (وَ فَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا)۔ اس کے علاوہ سورۂ شعراء کی آیت ۲۲۳ میں شیاطین کے بارے میں یہ آیا ہے کہ: "اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔" (وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ)۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ سب کے سب جھوٹے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: "شفاعتھم" میں جمع کی ضمیر باوجود اس کے "ملک" مفرد ہے، مفہوم کلام کی رعایت کی بنا پر ہے، جو جمع کا معنی رکھتا ہے]۔ باقی رہا "اذن" اور "رضا" میں فرق، تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ "اذن" اس مقام پر بولا جاتا ہے جہاں کوئی کسی کام کی اجازت دیتا ہے اور چونکہ بعض اوقات کوئی شخص اذن تو دیتا ہے، جب کہ وہ دل سے راضی نہیں ہوتا، لہٰذا اوپر والی آیت میں تاکید کے لیے "اذن" کے بعد "رضا" کا مسئلہ بھی آیا ہے۔ اگرچہ خداوندِ تعالیٰ کے بارے میں "اذن"، "رضا" سے جدا نہیں ہے اور اس کے بارے میں تقیہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔
چند اهم نکات: ١۔ آرزوؤں کے دامن کا پھیلاؤ
تمنا اور آرزو کا سرچشمہ انسان کی قدرت کا محدود ہونا اور اس کی ناتوانی ہے، کیونکہ جب کبھی اسے کسی چیز سے لگاؤ پیدا ہوا اور وہ اُسے حاصل نہ کر سکا، تو وہ آرزو اور تمنا کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اگر ہمیشہ کسی چیز کی خواہش کرتے ہی وہ چیز حاصل ہو جاتی اور جو کچھ وہ چاہتا تھا، وہ اسے فوراً مل گیا ہوتا، تو پھر آرزو کوئی معنی نہ رکھتی۔ البتہ بعض اوقات انسان کی تمنائیں سچی بھی ہوتی ہیں اور وہ اس کی بلند روح سے سرچشمہ حاصل کرتی ہیں اور وہ اپنی دانش، تقویٰ اور شخصیت میں تمام دنیا جہاں کے لوگوں سے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی یہ آرزوئیں جھوٹی ہوتی ہیں اور ٹھیک سچی آرزوؤں کے برعکس غفلت، بےخبری اور پس ماندگی کا سبب بنتی ہیں، مثلاً عمرِ جاوداں تک پہنچنے کی آرزو اور زمین پر ہمیشہ رہنے کی تمنا اور تمام اموال و ثروتوں پر قبضہ جمانا اور تمام انسانوں پر حکومت کرنا اور اسی طرح کے دوسرے موہومات۔ اسی بنا پر اسلامی روایات میں اس بات کا شوق دلایا گیا ہے کہ لوگ اچھی آرزوئیں کریں۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ: "مَن تَمَنَّى شَيْئًا وَهُوَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رِضًى لَمْ يَخْرُجْ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يُعْطَاهُ" "جو شخص کسی ایسی چیز کی تمنا کرے جو رضائے خدا کا موجب ہو، تو وہ دنیا سے اس وقت تک نہیں جاتا جب تک وہ پوری نہ ہو جائے۔" [بحوالہ: بحار الأنوار، جلد ۷۱، صفحہ ۲۶۱ (باب ثواب تمنی الخیرات)]۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ دنیا میں اُسے حاصل نہ ہو، تو اُسے اس کا اجر و ثواب ملے گا۔ [گزشتہ ماخذ]۔
٢۔ "شفاعت" کے بارے میں گفتگو
آخری آیت ان آیات میں سے ہے، جو فرشتوں کے ذریعے امکانِ شفاعت کی وضاحت کے ساتھ خبر دیتی ہے، جہاں وہ اذن و رضائے خدا سے شفاعت کا حق رکھتے ہیں۔ انبیاء اور اولیائے معصوم بطریقِ اولیٰ اس قسم کے حق کے حق دار ہیں۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اوپر والی آیت صراحت کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ: یہ شفاعت بےقید و شرط نہیں ہو گی، بلکہ یہ اذن و رضائے خدا کے ساتھ مشروط ہے۔ اور چونکہ اس کا اذن و رضا حجت و کتاب کے بغیر نہیں ہے، لہٰذا انسان اور اس کے درمیان رابط ہونا چاہیے تاکہ وہ اس کے لیے، اپنے مقربانِ درگاہ کو، شفاعت کی اجازت دے دے۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں امیدِ شفاعت، انسان کے لیے ایک تربیتی مکتب کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور خدا سے اس کے تمام رشتوں کے ٹوٹنے سے مانع ہو جاتی ہے۔ [تشریحی نوٹ: "مَن یَشَاءُ" کی تعبیر جو اوپر والی آیت میں آئی ہے، ممکن ہے ایسے انسانوں کی طرف اشارہ ہو جن کی شفاعت کی خدا اجازت دیتا ہے، یا اُن فرشتوں کی طرف اشارہ ہو جنہیں وہ شفاعت کی اجازت دیتا ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ظن و گمان ہرگز کسی کو حق تک نہیں پہنچاتے
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات مشرکین کے عقیدہ کی نفی کے سلسلے میں، اسی طرح گزشتہ آیات کے موضوع کو بیان کر رہی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ فرشتوں کو (خدا کی) بیٹیاں کہتے ہیں۔" (إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَى)۔ ہاں! یہ قبیح اور بےغیرتی کی گفتگو صرف انہیں لوگوں سے سرزد ہوتی ہے جو حساب و کتاب اور جزائے اعمال کا عقیدہ نہیں رکھتے، کیونکہ اگر وہ آخرت کا عقیدہ رکھتے تو اس طرح دیدہ دلیری کے ساتھ گفتگو نہ کرتے، ایسی گفتگو جس کے لیے کوئی معمولی سی دلیل بھی ان کے پاس نہیں ہے، بلکہ عقلی دلائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نہ تو خدا کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں۔ "تَسْمِيَةَ الْأُنْثَى" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے، جو گزشتہ آیات میں بیان ہو چکی ہے، کہ یہ باتیں بےمعنی نام اور اسمائے بےمسمّٰی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ برائے نام کی حد سے آگے کی کوئی بات نہیں، یعنی ان میں کوئی واقعیت اور حقیقت نہیں ہے۔ اس کے بعد اس نام رکھنے کے بطلان کی ایک واضح دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے: وہ اس بات کے بارے میں علم و یقین نہیں رکھتے، بلکہ وہ بےبنیاد ظن کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ گمان ہرگز انسان کو حق سے بےنیاز نہیں کرتا اور کسی کو حق تک نہیں پہنچاتا۔" (وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا)۔ یہ بات واضح ہے کہ ظن (گمان) کے دو مختلف معانی ہیں۔ کبھی تو یہ بےبنیاد گمانوں کے معنی میں آتا ہے، جو گزشتہ آیات کی تعبیروں کے مطابق ہوائے نفس اور اوہام و خرافات کے ہم پلہ اور ہم وزن ہے، زیرِ بحث آیات میں اس لفظ سے مراد یہی معنی ہے۔ دوسرا معنی وہ گمان ہے جو معقول اور پسندیدہ ہے اور اکثر اوقات واقع کے مطابق اور روز مرہ کی زندگی میں عقلاء کے کاموں کی بنیاد ہوتا ہے، مثلاً: • محکمہ عدالت میں گواہوں کی گواہی، • یا اہلِ خبرہ کا قول، • یا ظاہری الفاظ اور اسی قسم کی دوسری باتیں۔ اگر اس قسم کے گمانوں کو نوعِ بشر کی زندگی سے نکال لیں اور صرف قطعی یقین پر ہی تکیہ کریں، تو نظامِ زندگی کلی طور پر بکھر جائے گا۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کا ظن و گمان ان آیات میں مراد نہیں ہے اور خود انہی آیات میں اس معنی پر بہت سے شواہد موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، دوسری قسم حقیقت میں ایک قسم کا عرفی علم ہے، نہ کہ گمان و ظن۔ تو اس بنا پر جو لوگ اس آیت (إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا) اور اسی قسم کی دوسری آیات سے حجیتِ ظن کی کلی طور پر نفی کے لیے استدلال کرتے ہیں، وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ فقہاء اور اصولیین کی اصطلاح میں ظن "اعتقادِ راجح" کے معنی میں ہے (یعنی وہ اعتقاد جس میں احتمال کا ایک پہلو انسان کی نظر میں ترجیح رکھتا ہو)، لیکن لغت میں اس کا ایک وسیع مفہوم ہے، یہاں تک کہ یہ وہم اور ضعیف احتمالات پر بھی بولا جاتا ہے اور بت پرستوں کا ظن اسی طرح کا تھا۔ کوئی سی بیہودہ بات ایک ضعیف احتمال کی صورت میں ان کے دماغ میں ظاہر ہوتی تھی، اس کے بعد ہوائے نفس اس پر عمل کرنے کے لیے کھڑی ہو جاتی تھی اور اس کو زینت دیتی تھی اور دوسرا احتمال جو اس کے مقابلہ میں ہوتا تھا، وہ زیادہ قوی ہوتا تھا، مگر اسے بھلا دیتے تھے اور وہ آہستہ آہستہ ایک راسخ عقیدہ کی صورت اختیار کر لیتا تھا، حالانکہ اس کی کچھ بھی بنیاد نہیں ہوتی تھی۔ اس کے بعد یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ گروہ اہلِ استدلال و منطق نہیں ہے اور حبِ دنیا اور خدا کی یاد کو بھلا دینے نے انہیں ان موہومات اور خرافات کی گندگی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے، مزید کہتا ہے: "جب ایسا ہے تو تم بھی ان لوگوں سے، جنہوں نے ہماری یاد سے پہلو تہی کی ہے اور وہ دنیا کی مادی زندگی کے سوا اور کسی چیز کے طالب نہیں ہیں، منہ پھیر لو اور ان کی بالکل پروا نہ کرو، کیونکہ وہ گفتگو کرنے کے لائق ہی نہیں ہیں۔" (فَأَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّىٰ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا)۔ بعض مفسرین کے عقیدہ کے مطابق ذکرِ خدا سے مراد قرآن ہے اور کبھی یہ احتمال دیا گیا ہے کہ اس سے مراد منطق اور عقلی دلائل ہیں، جو انسان کو خدا تک پہنچاتے ہیں۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہی یادِ خدا ہے جو غفلت کا نقطۂ مقابل ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے، جس میں خدا کی طرف ہر قسم کی توجہ شامل ہے، چاہے وہ توجہ قرآن کے ذریعہ ہو، یا دلیلِ عقل سے ہو، چاہے سنّت کے طریق سے ہو، یا قیامت کی یاد کے ذریعہ ہو۔ ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یادِ خدا سے غفلت اور مادیات اور رزق و برقِ دنیا کی طرف متوجہ رہنے کے درمیان ایک رابطہ ہے اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے مقابل اثر و تأثیر ہے۔ خدا کی یاد سے غفلت، انسان کو دنیا پرستی کی طرف ہانک کر لے جاتی ہے، جس طرح دنیا پرستی انسان کو خدا کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اور یہ دونوں ہوا پرستی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور طبعی طور پر وہ خرافات، جو ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں، وہ انسان کی نظر میں جلوہ دکھاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک عقیدہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ شاید یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ اس گروہ سے منہ پھیر لینے کا حکم، تبلیغِ رسالت کے ساتھ، جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وظیفۂ اصلی ہے، ہرگز اختلاف نہیں رکھتا، چونکہ انذار، تبلیغ اور بشارت ایسے موقعوں کے ساتھ مخصوص ہیں جہاں اثر کرنے کا کچھ نہ کچھ احتمال ہو۔ جہاں اثر کے نہ ہونے کا یقین ہو، وہاں اپنی توانائیاں فضول صرف نہیں کرنی چاہیے اور اتمامِ حجت کے بعد اعراض کر لینا چاہیے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ حکمِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ راہِ حق کے تمام ندا دینے والوں کو شامل ہے تاکہ وہ اپنی قیمتی تبلیغی توانائیاں ایسے مقام پر صرف کریں جہاں اثر کی امید ہو، لیکن مغرور و سیاہ دل دنیا پرست، جن کی ہدایت کی کوئی امید نہ ہو، ان کو اتمامِ حجت کے بعد ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے، تاکہ خدا ان کے بارے میں فیصلہ کرے۔ آخری زیرِ بحث آیت میں اس گروہ کے فکری انحطاط کو ثابت کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "یہ ہے ان کی معلومات کی آخری حد!" (ذلِكَ مَبْلَغُهُم مِنَ العِلمِ) ہاں! ان کے افکار کی بلندی یہاں پر آ کر ختم ہو جاتی ہے، کہ ملائکہ کے بارے میں خدا کی بیٹیاں ہونے کا افسانہ گھڑیں اور اوہام و خرافات کی تاریکیوں میں ہاتھ پاؤں مارتے پھریں۔ اور یہ ہے ان کی ہمت کا آخری نقطہ کہ خدا کو بھلا کر دنیا کی طرف رخ کر لیں اور اپنے تمام انسانی شرف اور حیثیت کو درہم و دینار کے بدلے میں فروخت کر ڈالیں۔ آخر میں کہتا ہے: "تیرا پروردگار ان لوگوں کو، جو اس کے راستے سے گمراہ ہو گئے ہیں، اچھی طرح سے پہچانتا ہے اور ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی اچھی طرح سے جانتا ہے۔" (إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ)۔ "ذلِکَ مَبْلَغُھُمْ مِنَ الْعِلْم" کا جملہ ہو سکتا ہے کہ بت پرستی اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھنے جیسی خرافات کی طرف اشارہ ہو، یعنی اس گروہ کی آخری آگاہی اور علم یہی موہومات ہیں۔ یا دنیا پرستی اور ان کے مادیات کے چنگل میں اسیر ہونے کی طرف اشارہ ہو، یعنی ان کا انتہائی فہم اور شعور یہ ہے کہ انہوں نے خواب و خور، عیش و نوش، اور فانی و زودگذر متاع اور زرق و برقِ دنیا پر قناعت کر لی ہے۔ ایک مشہور دعا میں، جو ماہِ شعبان کے اعمال میں پیغمبرِ گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل ہوئی ہے، یہ آیا ہے: وَ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا "خداوندا! دنیا کو ہمارے لیے سب سے بڑی فکری مشغولیت اور ہمارے علم و آگاہی کی انتہا قرار نہ دے۔" [تشریحی نوٹ: یہ دعا، اس اشارہ کے بغیر کہ یہ ماہِ شعبان کے اعمال سے مربوط ہے، مجمع البیان اور بعض دوسری تفسیروں میں بھی زیرِ بحث آیت کے ذیل میں آئی ہے]۔ آیت کا اختتام اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا گمراہوں کو بھی اچھی طرح پہچانتا ہے اور ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی۔ ایک کو اپنے غضب کا مشمول بناتا ہے اور دوسرے کو اپنے لطف کا مشمول قرار دیتا ہے اور قیامت میں ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا دے گا۔
ایک نکتہ: دنیا پرستوں کا سرمایہ
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات میں، دنیا پرستوں کے لیے علم و آگاہی کا قائل ہونے کے باوجود، انہیں گمراہ شمار کرتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کی نگاہ میں وہ علوم، جن کا آخری اور اصلی مقصد صرف مادیات کا حصول ہو اور اس کے سوا کوئی اور بلند تر مقصد نہ ہو، وہ علم نہیں ہے، بلکہ وہ ضلالت و گمراہی ہے۔ اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ وہ تمام بدبختیاں جو موجودہ دنیا میں پائی جاتی ہیں تمام جنگیں، خونریزیاں، ظلم و ستم، تجاوزات، فسادات اور آلودگیاں انہی ضلالت آفرین علوم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے علم کی انتہا وہی حیاتِ دنیا ہے اور ان کی نگاہ کا افق حیوانی احتیاجات و ضروریات سے آگے نہیں جاتا۔ ہاں! جب تک علم بلند مقاصد کے لیے آلہ نہ بنے، جہالت ہے اور جب تک وہ نورِ ایمان کے لیے ایک سرچشمہ اور اس کی راہ کا ایک ذریعہ نہ ہو، وہ ضلالت و گمراہی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: خودستائی نہ کرو وہ تمہیں اچھی طرح پہچانتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 8چونکہ گزشتہ آیات میں گمراہوں اور ہدایت یافتہ لوگوں کی نسبت علمِ خدا کے بارے میں گفتگو تھی، زیر بحث آیات میں اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے: "جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب خدا کے لیے ہی ہے۔" (وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ)۔ عالمِ ہستی میں مالکیتِ مطلقہ اسی کے لیے ہے اور حاکمیتِ مطلقہ بھی اسی کے لیے ہے، اسی بنا پر عالمِ ہستی کی تدبیر بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور جب یہ بات ہے تو پھر اس کے علاوہ اور کوئی عبودیت و شفاعت کے لائق نہیں ہے۔ اس وسیع مخلوق کی خلقت سے اس کا سب سے بڑا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ انسان، یعنی عالمِ ہستی کے گلِ سرسبد کو تکوینی اور تشریعی پروگراموں اور انبیاء کی تعلیم و تربیت کے ذریعے تکامل و ارتقاء کی راہ میں آگے لے جائے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں اس مالکیت کے نتیجے کے عنوان سے فرماتا ہے: "غرض و مقصد یہ ہے کہ بدکاروں کو ان کے بُرے اعمال کی بنا پر سزا اور عذاب دے اور نیکوکاروں کو ان کے اچھے اعمال کے لیے اجر و پاداش عطا کرے۔" (لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَاؤُا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی)۔ [تشریحی نوٹ: "لِیَجْزِیَ" میں "لام"، "لامِ غایت" ہے، تو اس بنا پر جزا و سزا خلقت کی غایت و مقصد ہے، اگرچہ بعض نے اسے گزشتہ آیت کے لفظ "أعلم" کے متعلق سمجھا ہے، اور (لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ) کے جملے کو جملۂ معترضہ قرار دیا ہے، لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے]۔ اس کے بعد نیکوکاروں کے اس گروہ کی توصیف و تعریف کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "وہ وہی لوگ ہیں جو گناہانِ کبیرہ اور برے اعمال سے دوری اختیار کرتے ہیں اور اگر ان سے کوئی گناہ ہوتا بھی ہے تو وہ صرف صغیرہ ہوتا ہے۔" (اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبَائِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ)۔ "کبائر" جمع ہے "کبیرہ" کی اور "إِثْم" اصل میں اس عمل کو کہتے ہیں جو انسان کو خیر و ثواب سے دور کر دیتا ہے، لہٰذا عام طور پر گناہوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ "لمم" (بروزنِ قلم) "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق گناہ سے قریب ہونے کے معنی میں ہے، اور گناہانِ صغیرہ کو بھی "لمم" کہا جاتا ہے۔ اصل میں یہ لفظ "المام" کے مادہ سے لیا گیا ہے، جو کسی چیز کو انجام دیے بغیر اس کے قریب ہونے کے معنی میں ہے اور بعض اوقات قلیل اور کم اشیاء پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے (گناہِ صغیرہ پر اطلاق بھی اسی بنا پر ہے)۔ مفسرین نے بھی "لمم" کے لیے تقریباً اسی قسم کی تفسیریں بیان کی ہیں، بعض نے اس کی تفسیر "گناہِ صغیرہ" کے ساتھ کی ہے، بعض نے اسے معصیت کی نیت مگر اسے انجام دیے بغیر اور بعض نے "کم اہمیت والے معاصی" کے ساتھ کی ہے۔ بعض اوقات یہ بھی کہا گیا ہے کہ "لمم" ہر قسم کے گناہ کو شامل ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، لیکن اس کی عادت نہ پڑ گئی ہو اور وہ کبھی کبھار سرزد ہو جاتا ہو اور انسان متذکر ہو کر اس سے توبہ کر لے۔ اسلامی روایات میں بھی اس لفظ کے لیے گوناگوں تفسیریں آئی ہیں۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: هُوَ الذَّنْبُ یَلِمُّ بِهِ الرَّجُلُ فَیَمْکُثُ مَا شَاءَ اللّٰه، ثُمَّ یَلِمُّ بِهِ بَعْدَ "اس سے مراد وہ گناہ ہے جس میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے، پھر ایک مدت تک اس سے رُکا رہتا ہے، اور پھر دوبارہ اس سے آلودہ ہو جاتا ہے (لیکن یہ اس کا ہمیشہ کا عمل ہرگز نہیں ہے)۔" [بحوالہ: "الکافی"، جلد ۲، کتاب الایمان و الکفر، باب اللمم (صفحہ ۳۲۰)]۔ ایک اور حدیث میں اُسی امام علیہ السلام سے یہ منقول ہے کہ: اللمم الرَّجُلُ یَلِمُّ بِهِ الذَّنْبُ فَیَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ مِنْهُ "لمم یہ ہے کہ انسان کوئی گناہ کر بیٹھے اور پھر اس سے استغفار کرے۔" [بحوالہ: "الکافی"، جلد ۲، کتاب الایمان و الکفر، باب اللمم (صفحہ ۳۲۰)]۔ اور دوسری روایات بھی اسی مفہوم کی نقل ہوئی ہیں۔ آیت میں موجود قرائن بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ "لمم" ان گناہوں کے معنی میں ہے جو کبھی کبھار انسان سے سرزد ہو جاتے ہیں، پھر وہ متوجہ ہو کر انہیں چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ "کبائر" سے "لمم" کا استثناء (اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ استثناء کا ظاہر، استثناء متصل ہے) اس معنی پر ایک گواہ ہے۔ علاوہ ازیں، قرآن بعد والے جملے میں کہتا ہے: إِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ "بےشک، تیرا پروردگار وسیع مغفرت والا ہے۔" یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے جس کے لیے پروردگار کے غفران کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف قصد و نیت اور گناہ کو انجام دیے بغیر اس کے قریب ہونا۔ بہرحال، مراد یہ ہے کہ ممکن ہے نیکوکاروں سے کوئی لغزش ہو گئی ہو، گناہ ان کی طبیعت اور عادت کے برخلاف ہے، ان کی روح اور قلب ہمیشہ پاک رہتے ہیں اور آلودگیاں عارضی قسم کی ہوتی ہیں، لہٰذا گناہ کرتے ہی پشیمان ہو جاتے ہیں اور خدا سے بخشش کی التجا کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ اعراف کی آیت ۲۰۱ میں آیا ہے: إِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّیْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُوْنَ "پرہیزگار جس وقت شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں، جو ان کے وجود کے گرد گردش کر رہے ہیں، تو وہ خدا کو یاد کرتے ہیں اور بینا ہو جاتے ہیں (اور توبہ کر لیتے ہیں)۔" اسی معنی کی نظیر سورہ آل عمران کی آیت ۱۳۵ میں بھی آئی ہے، جہاں وہ "متقین اور محسنین" کی تعریف و توصیف میں فرماتا ہے: والذین اذا فعلوا فاحشۃ اوظلموا انفسھم ذکرواللہ فاستغفر والذنوبھم۔ "وہی لوگ تو ہیں کہ جس وقت وہ کسی برے کام کا ارتکاب کر لیتے ہیں، یا اہنے آپ پر کوئی ظلم کر لیتے ہیں، تو وہ خدا کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔" یہ سب باتیں اس تفسیر پر گواہ ہیں جو "لمم" کے لیے بیان کی گئی ہے۔ یہاں ہم امام صادق علیہ السلام کی ایک اور حدیث کے ساتھ اس بحث کو ختم کرتے ہیں، جو آپؑ نے زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کے جواب میں فرمائی: اللمام العبدُ الَّذِی یَلِمُّ بِالذَّنْبِ بَعْدَ الذَّنْبِ لَیْسَ مَا سَلِیْقَتُهُ، أَیْ مِنْ طَبِیْعَتِهِ "لمم کو انجام دینے والا وہ بندہ ہے جس سے کبھی کبھار گناہ سرزد ہو جاتا ہے لیکن اس کی طبیعت اور عادت ایسی نہیں ہوتی۔" [بحوالہ: "الکافی"، جلد ۲، کتاب الایمان و الکفر، باب اللمم (صفحہ ۳۲۰)]۔ آیت کے آخر میں اجر و ثواب اور سزا و عذاب کے مسئلے میں عدالتِ پروردگار کی تاکید کے لیے، اس کے بےپایاں علم کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے، جو تمام بندوں اور ان کے اعمال کو محیط ہے۔ وہ فرماتا ہے: "وہ تمہاری نسبت سب سے زیادہ آگاہ ہے، اسی وقت سے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جس وقت تم جنینوں کی صورت میں اپنی ماؤں کے شکم میں تھے۔" (هُوَ أَعْلَمُ بِکُمْ إِذْ أَنْشَأَکُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَ إِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِی بُطُونِ أُمَّهَاتِکُمْ) [بحوالہ: "الکافی"، جلد ۲، باب لمم، صفحہ ۳۲۱]، [تشریحی نوٹ: "أَجِنَّةٌ"، "جنین" کی جمع ہے، اس بچے کے معنی میں جو شکمِ مادر میں ہو]۔ انسان کی زمین سے خلقت یا تو اس کی پہلی تخلیق کے اعتبار سے ہے، جو حضرت آدمؑ کے طریقے سے ہوئی کہ وہ مٹی سے پیدا ہوئے تھے، یا اس اعتبار سے ہے کہ انسانی وجود کو تشکیل دینے والے تمام مادے زمین سے لیے گئے ہیں، جو تغذیہ کے ذریعے نطفہ کی ترکیب میں شامل ہوتے ہیں اور اس کے بعد جنین کی پرورش کے مراحل میں بھی اثر رکھتے ہیں۔ بہرحال، مقصد یہ ہے کہ خدا اسی وقت سے، جب تمہارے وجود کے ذرات زمین کی مٹی کے درمیان تھے اور اسی دن سے، جب کہ تم رحمِ مادر میں، رحم کے تاریک ظلمانی پردوں کے اندر، ایک ناچیز نطفہ تھے، تمہارے وجود کے تمام جزئیات سے آگاہ تھا۔ تو ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے بےخبر ہو؟ یہ تعبیر ضمنی طور پر بعد والی گفتگو کے لیے ایک مقدمہ ہے، جس میں وہ فرماتا ہے: "پس تم خودستائی نہ کرو اور اپنے پاک اور ظاہر ہونے کے بارے میں باتیں نہ بناؤ، کیونکہ وہ پرہیزگاروں کو سب سے بہتر طور پر جانتا ہے۔" (فَلا تُزَکُّوا أَنْفُسَکُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَی) نہ تو اسے تمہارے تعارف کی ضرورت ہے اور نہ ہی تمہارے نیک اعمال کی تشریح و تفصیل کی۔ وہ تمہارے اعمال سے بھی آگاہ ہے اور تمہاری نیت کے خلوص کی میزان سے بھی، یہاں تک کہ وہ تمہیں خود تم سے بہتر طور پر پہچانتا ہے اور تمہارے اندرونی صفات اور بیرونی اعمال سے بخوبی آگاہ ہے۔ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت ایسے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو نماز و روزہ ادا کرنے کے بعد اپنی تعریف کرنے لگتے تھے اور کہا کرتے تھے: "ہماری نماز اس طرح کی تھی اور ہمارا روزہ ایسا تھا!" تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور انہیں اس کام سے منع کیا۔ [بحوالہ: "روح المعانی"، جلد ۷، صفحہ ۵۵]۔
چند اہم نکات: ١۔ خدا کا علم بےپایاں
ان آیات میں علمِ خدا اور اس کی بےانتہا وسعت کی طرف پھر اشارہ ہوا ہے، لیکن یہ تعبیر ایک نئی تعبیر ہے، کیونکہ اس میں ان نکات پر تکیہ کیا گیا ہے جو انسان کے خفی ترین اور پیچیدہ ترین حالات میں سے ہیں: 1. مٹی سے انسان کی خلقت کی حالت، جس میں آج تک ماہر علماء کی عقلیں حیران ہیں کہ ایک زندہ موجود کا بےجان موجود سے وجود میں آنا کس طرح ممکن ہے؟ اس قسم کا کوئی امر گزشتہ زمانے میں قطعی اور یقینی طور پر واقع ہو چکا ہے، خواہ انسان کے بارے میں ہو یا دوسرے جانداروں کے بارے میں، لیکن کن حالات میں ایسا ہوا، یہ معلوم نہیں ہے۔ یہ مسئلہ اس قدر پیچیدہ اور پراسرار ہے کہ ابھی تک اس کے اسرار نوعِ بشر کے علم و دانش سے پوشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ 2. جنینی دور میں وجودِ انسانی کی اسرار آمیز تبدیلیاں، وہ بھی انسان کی خلقت کی کیفیات میں سے پراسرار ترین حالت ہے۔ اگرچہ انسان کے علم و دانش کے لیے اس کا ایک ہیولا سا کشف ہو چکا ہے، لیکن جنین کے بارے میں اسرار آمیز مسائل اور جواب کے بغیر رہ جانے والے سوالات تاحال بھی کم نہیں ہیں۔ وہ ہستی جو انسان کے وجود کی ان دونوں حالتوں کے تمام اسرار، اس کی تبدیلیوں اور تغیرات سے آگاہ ہے اور اس کی ہدایت، رہبری اور تربیت کرتی ہے، کیسے ممکن ہے کہ وہ اس کے اعمال و افعال سے باخبر نہ ہو اور ہر کسی کو اتنی جزا نہ دے جو اُس کے لیے لازم ہے؟ پس یہ علمِ بےپایاں اس کی عدالتِ مطلقہ کا سہارا ہے۔
٢۔ کبائر الاثم کیا ہے؟
گناہانِ کبیرہ کے بارے میں، جس کی طرف چند آیاتِ قرآن میں اشارہ ہوا ہے [بحوالہ: نساء کی آیت ۳۱، شوریٰ آیت ۳۷ اور زیر بحث آیات]، ایک طرف تو مفسرین نے اور دوسری طرف فقہا اور محدثین نے بہت اختلاف کیا ہے۔ بعض تو سب گناہوں کو ہی کبیرہ کہتے ہیں، کیونکہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ہر گناہ بڑا ہے۔ جب کہ بعض دوسروں نے کبیرہ اور صغیرہ کو ایک امر نسبتی گردانا ہے اور وہ ہر گناہ کو زیادہ اہم گناہ کے مقابلہ میں صغیرہ سمجھتے ہیں اور چھوٹے گناہ کی نسبت کبیرہ جانتے ہیں۔ بعض نے کبیرہ ہونے کا معیار، اس کے لیے متنِ قرآن میں عذابِ الٰہی کو سمجھا ہے۔ بعض اوقات یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہر گناہ کبیرہ ہے، جس کے لیے شرعی حد جاری ہوتی ہے۔ لیکن سب سے بہتر بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے، کہ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے، کہ کبیرہ کی تعبیر عظمتِ گناہ کی دلیل ہے، لہٰذا ہر وہ گناہ جس میں ذیل کی شرائط پائی جاتی ہوں، گناہِ کبیرہ شمار ہو گا: الف: وہ گناہ جن پر خدا نے عذاب کی دھمکی دی ہے۔ ب: وہ گناہ جو اہلِ شرعی کی نظر میں اور روایات کی زبان میں کبیرہ کہے گئے ہیں۔ ج: وہ گناہ جو منابعِ شرعی میں ان گناہوں سے بڑے شمار ہوئے ہیں جو کبائر کا حصہ ہیں۔ د: اور آخر میں وہ گناہ جن کے کبیرہ ہونے کی معتبر روایات میں تصریح ہوئی ہے۔ اسلامی روایات میں کبائر کی تعداد مختلف بیان کی گئی ہے، بعض میں ان کی تعداد سات گناہ ہیں، (قتلِ نفس، عقوقِ والدین، سُود خوری، ہجرت کے بعد دارُالکفر کی طرف پلٹ جانا، پاک دامن عورتوں کی طرف زنا کی نسبت دینا، یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار کرنا)۔ [بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد ۱۱، "ابواب جہاد النفس" باب ۴۶ حدیث ۱]۔ اور بعض دوسری روایات میں اس کی تعداد، اس فرق کے ساتھ، سات گناہ شمار ہوئی ہے، کہ حقوقِ والدین کی جگہ "کُلُّ مَا أَوْجَبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النَّارَ" (ہر وہ گناہ جس پر خدا نے جہنم واجب کی ہے) ذکر ہوا ہے۔ بعض دوسری روایات میں اس کی تعداد دس شمار ہوئی ہے اور بعض میں انیس اور بعض میں بہت زیادہ تعداد نظر آتی ہے۔ [تشریحی نوٹ: مزید توضیح کے لیے اوپر والے مدرک (باب ۴۶ از "ابواب جہاد النفس") کی طرف رجوع کریں، جہاں کبائر کے تعین کے بارے میں ۳۷ احادیث ذکر ہوئی ہیں]۔ کبائر کی تعداد کے شمار کرنے میں یہ فرق اس بنا پر ہے، کہ تمام گناہانِ کبیرہ بھی یکساں نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے بعض زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، دوسرے لفظوں میں وہ أَکْبَرُ الْکَبَائِرِ ہیں، اس بنا پر ان کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔
٣۔ خودستائی اور تزکیہ نفس
اس کام کی برائی اس حد تک ہے کہ یہ مطلب ایک ضربُ المثل کی صورت اختیار کر گیا ہے کہ: "تزکیة المرء نفسہ قبیحہ" (خودستائی قبیح اور ناپسندیدہ کام ہے)۔ اس ناپسند عمل کا اصلی سرچشمہ اپنے آپ کو نہ پہچاننا ہے، کیونکہ اگر انسان اپنے آپ کو اچھی طرح پہچان لے، پروردگار کی عظمت کے مقابلہ میں اپنے چھوٹے پن کو اور اپنے ذمے سنگین ذمہ داریوں کے مقابلہ میں اپنے اعمال کے ناچیز ہونے کو اور ان عظیم نعمتوں کو جو خدا نے اُسے بخشی ہیں جان لے، تو پھر وہ ہرگز خودستائی کی راہ میں قدم نہیں رکھے گا۔ غرور و غفلت اور خود کو بڑا سمجھنا اور زمانہ جاہلیت کے افکار بھی اس قبیح کام کے لیے دوسرے اسباب و محرکات ہیں۔ خودستائی چونکہ اپنے کامل ہونے کے عقیدہ کو بیان کرتی ہے، لہٰذا پیچھے رہ جانے اور پسماندگی کا سبب بن جاتی ہے، کیونکہ تکامل و ارتقاء کا رمز اپنی تقصیر و کوتاہی کا اعتراف، اور نقائص اور کمزوریوں کے وجود کو قبول کرنا ہے۔ اسی بنا پر اولیائے خدا ہمیشہ خدائی وظائف اور ذمہ داریوں کے مقابلہ میں اپنی تقصیر و کوتاہی کے معترف رہتے تھے اور لوگوں کو خودستائی اور اپنے اعمال کو بڑا سمجھنے سے منع کیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے زیربحث آیت "فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ" کی تفسیر میں آیا ہے: "لَا يَفْتَخِرْ أَحَدُكُمْ بِكَثْرَةِ صَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ وَنُسُكِهِ لِأَنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ" (تم میں سے کوئی بھی شخص اپنی نماز، روزہ، زکوٰة اور مناسکِ حج و عمرہ کے زیادہ ہونے پر فخر نہ کرے کیونکہ خدا تم میں سے پرہیزگاروں کو سب سے بہتر جانتا ہے)۔ [بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، صفحہ ۱۶۵]۔ امیر المؤمنین علیہ السلام، معاویہ کے نام اپنے ایک خط میں، جس میں بہت ہی اہم مسائل تحریر کیے تھے، فرماتے ہیں: "وَلَوْلَا مَا نَهَى اللّٰهُ عَنْهُ مِنْ تَزْكِيَةِ الْمَرْءِ نَفْسَهُ لَذَكَرْتُ زَاكِرًا فَضَائِلَ جَمَّةً، تَعْرِفُهَا قُلُوبُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا تَمْجُهَا آذَانُ السَّامِعِينَ" (اگر یہ بات نہ ہوتی کہ خدا نے خودستائی سے منع کیا ہے، تو بیان کرنے والا اپنے بہت سے ایسے فضائل کو شمار کرتا جن سے آگاہ مؤمنین کے دل آشنا ہیں اور سننے والوں کے کانوں کو ان کے سننے سے انکار نہیں ہے)۔ (بیان کرنے والے سے مراد خود امام علیہ السلام ہیں)۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خط ۲۸]۔ اس سلسلہ کی ایک تفصیلی بحث جلد ۳، سورۂ نساء کی آیت ۴۹ کے ذیل میں بھی آ چکی ہے۔ یہاں یہ بات واضح کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ بعض اوقات ضرورتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ انسان اپنے تمام امتیازات و خصوصیات کے ساتھ جو اس میں پائی جاتی ہیں، اپنا تعارف کرائے کیونکہ اس کے بغیر مقدس اہداف و مقاصد پامال ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی باتوں اور خودستائی اور تزکیہ نفس کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ اس بات کا نمونہ امام سجاد علیہ السلام کا مسجدِ دمشق میں وہ خطبہ ہے، جبکہ آپ یہ چاہتے تھے کہ اپنا اور اپنے خاندان و اہل بیت کا شام کے لوگوں میں تعارف کرائیں تاکہ شہدائے کربلا کے خارجی ہونے کے سلسلہ میں بنی امیہ کا سازشی منصوبہ ناکام ہو اور ان کے شیطانی منصوبے نقش بر آب ہو جائیں۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہوا ہے کہ جب لوگوں نے آپ سے خودستائی اور اپنی تعریف آپ کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: "بعض اوقات کچھ ضرورتوں کی وجہ سے لازمی ہو جاتی ہے۔" اور اس کے بعد آپ علیہ السلام نے انبیاء کے کلام سے دو مواقع، جو قرآن میں آئے ہیں، استدلال میں پیش کیے۔ پہلے یوسف علیہ السلام جنہوں نے عزیزِ مصر کو یہ تجویز پیش کی، کہ وہ انہیں ملکِ مصر کا خزانہ دار بنائے، تو انہوں نے کہا: "إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ" (یوسف: ۵۵) (میں ایک آگاہ اور صاحبِ علم نگہبان ہوں)۔ اور دوسرا خدا کے عظیم پیغمبر ہود علیہ السلام کے بارے میں جنہوں نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "إِنِّي لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ" (اعراف: ۶۸) (میں تمہارے لیے امین خیر خواہ ہوں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اکثر مفسرین نے اوپر والی آیات کے لیے علیحدہ علیحدہ شانِ نزول نقل کیے ہیں، لیکن یہ شانِ نزول آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان میں سے جو سب سے زیادہ مشہور ہیں، وہ ذیل کے دو شانِ نزول ہیں: ١۔ ان آیات میں عثمان کا واقعہ بیان ہوا ہے، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھی اور وہ اپنے مال میں سے خرچ کیا کرتا تھا۔ اس کے رشتہ داروں میں سے ایک عبداللہ بن سعد نامی شخص نے کہا: "اگر تیری یہی حالت رہی، تو ایک دن تیرے پاس کچھ بھی باقی نہ بچے گا۔" عثمان نے کہا: "میں نے بہت گناہ کیے ہیں، لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ اس ذریعے سے خدا کی رضا اور عفو و بخشش حاصل کروں۔" عبد اللہ نے کہا: "اگر تو اپنی سواری کا اونٹ اس کے ساز و سامان سمیت مجھے دے دے تو میں تیرے سارے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہوں۔" عثمان نے ایسا ہی کیا اور اس قرارداد پر گواہ لیے اور اس کے بعد اس نے انفاق کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ تو اوپر والی آیات نازل ہوئیں اور اس کام کی شدت سے مذمت کی اور اس حقیقت کو واضح کیا کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کو اپنے کندھے پر نہیں لے سکتا اور ہر شخص کی سعی و کوشش کا نتیجہ خود اسی کو ملے گا۔ [تشریحی نوٹ: اس شانِ نزول کو طبرسی نے "مجمع البیان" میں نقل کیا ہے اور دوسرے مفسرین مثلاً "زمخشری" نے "کشاف" میں، "فخر رازی" نے "تفسیر کبیر" میں بھی نقل کیا ہے۔ طبرسی نے اسے نقل کرنے کے بعد مزید کہا ہے کہ یہ شانِ نزول ابنِ عباس، کلبی اور مفسرین کی ایک جماعت سے نقل ہوئی ہے]۔ ٢۔ یہ آیت "ولید بن مغیرہ" کے بارے میں ہے، وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور دینِ اسلام سے قربت حاصل کی، تو بعض مشرکین نے اسے سرزنش کی اور کہا: "تُو نے ہمارے بزرگوں کے دین کو چھوڑ دیا ہے اور انہیں گمراہ شمار کرتا ہے اور تُو نے یہ گمان کیا کہ وہ جہنم کی آگ میں ہیں"؟ اس نے کہا: "واقعاً میں خدا کے عذاب سے ڈر گیا ہوں۔" تو سرزنش کرنے والے نے کہا: "اگر تُو اپنے مال کا کچھ حصہ مجھے دے دے اور شرک کی طرف پلٹ آئے، تو میں تیرا عذاب اپنی گردن پر لے لیتا ہوں۔" ولید بن مغیرہ نے ایسا ہی کیا، لیکن جو مال دینا تھا اس میں سے تھوڑے سے حصے کے سوا ادا نہ کیا، تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور ولید کے ایمان سے منہ پھیرنے پر مذمت کی۔ [تشریحی نوٹ: اس شانِ نزول کو بھی "مجمع البیان"، "قرطبی"، "روح البیان" اور بعض دوسری تفاسیر میں نقل کیا گیا ہے]۔
تفسیر: ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے
گزشتہ آیات میں اس سلسلے میں گفتگو تھی کہ خدا بدکاروں کو ان کے برے کاموں کے بدلے میں سزا اور عذاب کرے گا اور نیکوکاروں کو اجر دے گا، چونکہ ممکن ہے بعض یہ تصور کر لیں کہ کسی کو کسی دوسرے کے بدلے میں بھی سزا ہو جاتی ہے، یا کوئی دوسرے کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہو، تو یہ آیات اس وہم کی نفی میں آئی ہیں اور اس اہم اسلامی اصل کی تشریح کرتی ہیں کہ ہر شخص کے اعمال کا نتیجہ صرف اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "کیا تُو نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اسلام (یا انفاق) سے منہ پھیر لیا ہے"؟ (أَ فَرَأَیْتَ الَّذِی تَوَلَّی) "اور تھوڑا سا مال اور انفاق (یا مزید مال دینے سے) ہاتھ روک لیا" (اس گمان سے کہ دوسرا اس کے گناہ کے بوجھ کو اپنے کندھے پر اٹھا سکتا ہے)۔ (وَ أَعْطَی قَلِیلًا وَ أَکْدَی) [تشریحی نوٹ: "اکْدٰی" اصل میں "کدیَہ" (بروزن حجرہ) زمین کی سختی اور صلابت کے معنی میں ہے، اس کے بعد ممسک اور بخیل لوگوں کے لیے استعمال ہونے لگا]۔ "کیا وہ علمِ غیب رکھتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ دوسرے اس کے گناہوں کو اپنے کندھے پر لے سکتے ہیں"؟ (أَ عِندَہُ عِلْمُ الْغَیْبِ فَہُوَ یَرَی) قیامت کے دن سے پلٹ کر کون آیا ہے اور ان کے لیے یہ خبر لایا ہے کہ لوگ رشوت لے کر دوسروں کے گناہ اپنی گردن پر لے سکتے ہیں؟ یا کون شخص خدا کی طرف سے آیا ہے اور انہیں یہ خبر دی ہے کہ خدا اس معاملے پر راضی ہے؟ کیا اس کے سوا بھی کوئی اور بات ہے کہ انہوں نے کچھ اوہام دل سے گھڑ لیے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار کرنے کے لیے انہوں نے خود کو ان اوہام کے تانے بانے میں پھنسا دیا ہے؟ اس شدید اعتراض کے بعد، قرآن ایک کلی اصول کو، جو باقی آسمانی دینوں میں بھی آیا ہے، پیش کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: کیا وہ شخص جس نے ان خیالی وعدوں پر انفاق (یا ایمان) سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ مختصر سا مال ادا کر کے خود کو خدائی عذاب سے رہائی دلا لے، کیا وہ اس سے جو موسیٰ کی کتابوں میں نازل ہوا ہے، باخبر نہیں ہوا ہے؟ (أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِی صُحُفِ مُوسَی) اور اسی طرح جو کچھ ابراہیم کی کتاب میں نازل ہوا ہے، "وہی ابراہیم جس نے اپنی ذمہ داری کو مکمل طور پر پورا کیا ہے۔" (وَ إِبْرَاہِیمَ الَّذِی وَفَّی) [تشریحی نوٹ: "وَفَّی"، "توفیہ" کے مادہ سے، بذل اور مکمل ادائیگی کے معنی میں ہے]۔ وہی عظیم پیغمبر جس نے خدا کے تمام عہد اور پیمانوں کو پورا کیا، اس کے حقِ رسالت کو ادا کیا اور اس کے دین کی تبلیغ کے سلسلے میں کسی مشکل، تہدید اور آزار سے ہراساں نہیں ہوا۔ وہی شخص جو کئی امتحانات سے گزرا، یہاں تک کہ اپنے بیٹے کو خدا کے حکم سے قربان گاہ میں لے گیا اور اس کے گلے پر چھری رکھ دی اور ان تمام امتحانوں سے سربلند اور سرفراز ہو کر باہر آیا اور خدا نے اسے مخلوق کی رہبری و امامت کا بلند مقام عطا فرمایا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۱۲۴ میں آیا ہے: (وَ إِذِ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا) "اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے ابراہیم کو چند احکام کے ذریعے آزمایا اور وہ ان تمام امتحانات سے عہدہ برآ ہوئے اور انہیں مکمل کر دیا تو خدا نے اُن سے فرمایا کہ میں نے تجھے لوگوں کا امام و پیشوا قرار دیا۔" بعض مفسرین نے اس آیت کی وضاحت میں یہ کہا ہے: "بَذَلَ نَفْسَہُ لِلنِّیرَانِ، وَ قَلْبَہُ لِلرَّحْمٰنِ، وَ وَلَدَہُ لِلْقُرْبَانِ، وَ مَالَہُ لِلْإِخْوَانِ" "ابراہیم نے راہِ خدا میں اپنا نفس آگ کے حوالے کر دیا اور اپنا دل خدائے رحمن کے لیے اور اپنا بیٹا قربانی کے لیے اور اپنا مال بھائیوں اور دوستوں کے لیے خرچ کیا۔ [بحوالہ: "روح البیان" جلد ٩، صفحہ ۲۴۶]۔ "کیا اسے یہ خبر نہیں دی گئی کہ ان تمام کتبِ آسمانی میں یہ حکم نازل ہوا ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے دوش پر نہیں لیتا"؟ (أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی) "وزر" اصل میں "وزر" بروزن خطر سے لیا گیا ہے، جو پہاڑی پناہ گاہوں کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد لفظ "وزر" بھاری بوجھ کے لیے استعمال ہونے لگا، اس شباہت کی وجہ سے وہ پہاڑ کے بڑے بڑے پتھروں سے رکھتا ہے۔ اس کے بعد گناہ پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے کینکہ وہ ایک بھاری بوجھ انسان کے کندھے پر ڈال دیتا ہے۔ "وزرۃ" سے مراد وہ انسان ہے جو گناہ کے بوجھ کو اٹھاتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "وَازِرَة" کا مؤنث ہونا اس بنا پر ہے کہ یہ "نفس" کی صفت ہے جو محذوف ہوا ہے اور اسی طرح "أُخْرَی" کا مؤنث ہونا بھی]۔ اس کے بعد مزید وضاحت کے لیے کہتا ہے: "کیا اسے اس بات کی خبر نہیں ہے کہ ان آسمانی کتابوں میں یہ آیا ہے کہ انسان کے لیے اس کی سعی اور کوشش کے علاوہ کوئی حصہ نہیں ہے" (وَ أَن لَّیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی) [تشریحی نوٹ: "ما سعیٰ" میں "ما" مصدریہ ہے]۔ "سعیٰ" اصل میں تیزی کے ساتھ راستہ چلنے کے معنی میں ہے، جو دوڑنے کے مرحلے تک نہ پہنچا ہو، لیکن عام طور پر یہ لفظ سعی و کوشش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، کیونکہ کاموں میں سعی و کوشش کے وقت انسان تیز حرکات انجام دیتا ہے، چاہے وہ نیک کام ہو یا بُرا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ یہ نہیں فرماتا کہ انسان کے حصے میں وہ کام ہے جو اس نے انجام دیا ہے، بلکہ فرماتا ہے کہ وہ سعی و کوشش جو اس نے کی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہم چیز سعی و کوشش ہے، چاہے انسان وقتی طور پر اپنے مقصد اور مقصود تک نہ پہنچے، کیونکہ اگر اس کی نیت نیک ہے تو خدا اس کو اچھا اجر دے گا، کیونکہ وہ تو نیتوں اور ارادوں کا خریدار ہے، نہ کہ صرف انجام شدہ کاموں کا۔ "اور کیا اسے اس بات کی خبر نہیں ہے کہ اس کی سعی و کوشش عنقریب دیکھی جائے گی"؟ (وَ أَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُرَی)۔ نہ صرف اس سعی و کوشش کے نتائج، چاہے وہ خیر کی راہ میں ہوں یا شر کی راہ میں، بلکہ خود اس کے اعمال اس دن اس کے سامنے آشکار ہوں گے، جیسا کہ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے: "یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُحْضَرًا" (وہ دن جس میں ہر شخص ان نیک اعمال کو جنہیں اس نے انجام دیا ہے حاضر پائے گا) (آل عمران: ۳۰)۔ اور قیامت میں نیک و بد اعمال کے مشاہدے کے بارے میں بھی سورۂ زلزال کی آیت ٧، ٨ میں آیا ہے: (فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَهُ، وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَهُ) "جس شخص نے ذرہ برابر بھی خیر و نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بُرا کام کیا تو وہ اسے بھی دیکھے گا۔" اس کے بعد اس کے عمل کے لیے اسے پوری پوری جزا دی جائے گی: (ثُمَّ یُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَی) [تشریحی نوٹ: "یُجزَی" کا نائب فاعل ایک ضمیر ہے جو "انسان" کی طرف لوٹتی ہے اور اس سے متصل ضمیر "عمل" کی طرف لوٹتی ہے، حرفِ جر کے حذف کے ساتھ اور تقدیر میں اس طرح تھا: (ثُمَّ یُجْزی الإِنْسَانَ بِعَمَلِهِ (أو عَلَی عَمَلِهِ) الْجَزَاءَ الْأَوْفَی) زمخشری "کشاف" میں کہتا ہے، ممکن ہے کہ تقدیر میں حرفِ جر نہ ہو، کیونکہ "یُجْزَی العَبْدُ سَعِیدًا" کہا جاتا ہے (لیکن توجہ رکھنی چاہیے کہ عام طور پر "جزاهُ اللهُ علی عمله" کہا جاتا ہے، "جزاهُ اللهُ عمله" صحیح نہیں ہے) اور "الجزاءَ الأوفَی" کی تعبیر ہو سکتی ہے کہ "یُجْزَی" کا ایک اور دوسرا مفعول ہو یا مفعولِ مطلق ہو]۔ "جزاء اوفیٰ" سے مراد وہ جزا ہے جو ٹھیک ٹھیک عمل کے عین مطابق ہو، البتہ یہ بات نیک اعمال کے سلسلے میں تفضلِ الہٰی کے ساتھ دس گنا یا کبھی ہزار گنا ہونے سے متصادم نہیں۔ اور یہ جو بعض مفسرین نے جزاء اوفیٰ کو حسنات کے بارے میں زیادہ اجر کے معنی میں لیا ہے، صحیح نظر نہیں آتا، کیونکہ یہ آیت گناہوں کو بھی شامل ہے، بلکہ آیت کی اصلی گفتگو ہی وزر اور گناہ کے بارے میں ہے (غور کیجئے)۔
چند اهم نکات: ١۔ تین اہم اسلامی اصول
اوپر والی آیات میں اسلام کے تین مسلم اصولوں کی طرف اشارہ ہوا ہے، جو گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی مسلم اصول کے عنوان سے پہچانے گئے ہیں: الف: ہر شخص اپنے گناہوں کا مسئول اور جوابدہ ہے۔ ب: آخرت میں ہر شخص کا حصہ اس کی سعی و کوشش ہی ہے۔ ج: خدا ہر شخص کو اس کے عمل کے مقابلے میں پوری جزا دے گا۔ اور اس طرح قرآن بہت سے اوہام اور خرافات پر، جو عام لوگوں میں پائے جاتے ہیں یا بعض مذاہب میں وقتی طور پر ایک عقیدہ کی صورت میں آ گئے ہیں، خطِ بطلان کھینچ رہا ہے۔ قرآن اس طریقہ سے نہ صرف مشرکین عرب کے اس عقیدے کی، جو زمانۂ جاہلیت میں رکھتے تھے کہ ایک انسان دوسرے کے گناہوں کو اپنے ذمے لے سکتا ہے، نفی کر رہا ہے، بلکہ اس مشہور اعتقاد پر بھی، جو عیسائیوں کے درمیان رائج تھا اور اب بھی ہے، کہ خدا نے اپنے بیٹے مسیح کو دنیا میں اس لیے بھیجا تاکہ وہ سولی پر چڑھ جائے، عذاب و تکلیف اٹھائے اور گنہگاروں کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر لے لے، خطِ تنسیخ کھینچ رہا ہے۔ اسی طرح پادریوں کے ایک گروہ کے برے اعمال کی، جو قرونِ وسطیٰ میں مغفرت نامے اور استحقاقِ بہشت کے پروانے بیچا کرتے تھے اور موجودہ زمانے میں بھی گناہ بخشی کے مسئلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں، مذمت کرتا ہے۔ عقل کی منطق بھی اسی چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور اپنے ہی اعمال سے نفع پائے گا۔ یہ اسلامی عقیدہ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان خرافات کی طرف پناہ لینے یا اپنا گناہ کسی اور کی گردن میں ڈالنے کے بجائے، اعمالِ خیر کے لیے سعی و کوشش اور جدوجہد کرے اور گناہ سے پرہیز کرے۔ اور جب کبھی اس سے کوئی لغزش ہو جائے اور اس سے کوئی خطا سرزد ہو جائے تو واپس لوٹے، توبہ کرے اور تلافیِ مافات کرے۔ انسانوں میں اس تربیتی عقیدے کی تاثیر مکمل طور پر واضح اور ناقابلِ انکار ہے، جیسا کہ زمانۂ جاہلیت کے ان مخرب عقائد کا اثر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ آیات آخرت کے لیے سعی و کوشش اور دوسرے گھر میں اس کا اجر و پاداش مشاہدہ کرنے کو بیان کر رہی ہیں، لیکن اس کا مدرَک اور اصلی معیار دنیا کو بھی اپنے اندر لے لیتا ہے، اس معنی میں کہ اہلِ ایمان کو دوسروں کے انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیے کہ وہ ان کے لیے کام کریں اور ان کے معاشرے کی مشکلات کو حل کریں، بلکہ خود کمرِ ہمت کس کر کھڑے ہو جائیں اور سعی و کوشش کریں۔ ان آیات سے مسائلِ جزائی و قضاوت کی ایک حقوقی اصل کا بھی استفادہ ہوتا ہے، کہ سزائیں ہمیشہ واقعی اور اصلی گنہگاروں اور مجرموں کو ہی دی جائیں گی اور کوئی شخص کسی دوسرے کی سزا کو اپنے ذمے نہیں لے سکتا۔
٢۔ آ یت کے مفاد سے سوء استفادہ
جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں، یہ آیات گزشتہ اور بعد میں آنے والی آیات کے قرینے سے، آخرت کے لیے انسان کی سعی و کوشش کو بیان کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، چونکہ یہ چیز ایک مسلم عقلی حکم کی بنیاد پر ہے، لہٰذا اس کے نتیجے کو عمومیت دی جا سکتی ہے اور دنیا کی کوششوں کو بھی اس میں شامل سمجھا جا سکتا ہے اور اسی طرح دنیوی اجر و صلہ اور سزاؤں کو بھی۔ لیکن یہ اس معنی میں نہیں ہے، جو سوشلسٹ مکتب کے زیرِ اثر بعض لوگ اسے من پسند طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مالکیت صرف کام کے طریقے سے حاصل ہوتی ہے اور اس طرح وہ قانونِ میراث، مضاربہ اور اجارہ و کرایہ وغیرہ پر خطِ بطلان کھینچ دیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کا دم بھرتے ہیں اور قرآنی آیات سے استدلال بھی کرتے ہیں، حالانکہ مسئلۂ میراث اسلام کے قطعی اصولوں میں سے ہے۔ اور اسی طرح زکوٰة و خمس ہیں، حالانکہ نہ تو وارث نے ہی اپنے مورث کے مال کے لیے کوئی سعی و کوشش کی ہے اور نہ ہی خمس و زکوٰة کے مستحقین نے اور نہ ہی وصیتوں اور نذر وغیرہ کے موارد میں، حالانکہ یہ تمام امور قرآن مجید میں آئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک اصل ہے، لیکن عام طور پر ہر اصل کے مقابلے میں ایک استثناء ہوتا ہے، مثلاً بیٹے کا باپ سے میراث لینا ایک اصل ہے، لیکن اگر بیٹا باپ کا قاتل ہو یا اسلام سے خارج ہو جائے تو اُسے میراث نہیں ملے گی۔ اسی طرح ہر شخص کی کوشش کے نتیجے کا اس تک پہنچنا ایک قانون ہے، [تشریحی نوٹ: : یہ قانون موسیٰ اور شعیب کی داستان میں سورۃ القصص، آیت ۲۷ میں آیا ہے] لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اجارہ کی قرارداد کے مطابق، جو ایک قرآنی اصول ہے، اسے اس چیز کے مقابلے میں، جس پر طرفین رضا مند ہیں، واگزار کر دے، یا وصیت و نذر کے طریقے سے، کہ دونوں بھی قرآن میں ہیں، دوسرے کو منتقل کر دے۔
٣۔ چند سوالات کا جواب
یہاں چند سوال سامنے آتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے: پہلا یہ کہ اگر ہر انسان کا حصہ قیامت میں صرف اس کی سعی و کوشش کا ماحصل ہے، تو پھر شفاعت کیا معنی رکھتی ہے؟ دوسرا یہ کہ سورۂ طور کی آیت ۲۱ میں اہلِ بہشت کے بارے میں آیا ہے: "وَأَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ۔" یعنی "ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملحق کر دیں گے"، حالانکہ ذُرِّیَّة نے تو اس راہ میں کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کے علاوہ اسلامی روایات میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص اعمالِ خیر انجام دے تو اس کا نتیجہ اس کی اولاد کو پہنچے گا۔ ان سب سوالات کا جواب صرف ایک جملہ ہے اور وہ یہ ہے کہ: قرآن یہ کہتا ہے کہ انسان اپنی سعی و کوشش سے زیادہ کا حق نہیں رکھتا، لیکن یہ چیز اس بات میں مانع نہیں ہو گی کہ پروردگار کے لطف اور فضل کے طریق سے لائق افراد کو نعمتیں دی جائیں۔ "استحقاق" ایک مفہوم ہے اور "تفضل" ایک الگ مفہوم ہے، جیسا کہ وہ نیکیوں کی دس گنا، کبھی سو گنا، یا ہزاروں گنا جزا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، "شفاعت" جیسا کہ ہم اس کے اپنے مقام پر بیان کر چکے ہیں بےحساب نہیں ہو گی، بلکہ وہ بھی ایک قسم کی سعی و کوشش اور شفاعت کرنے والے کے ساتھ معنوی رابطہ پیدا کرنے کی محتاج ہے۔ اسی طرح اہلِ جنت کی اولاد کے ان سے ملحق ہونے کے بارے میں بھی قرآن اسی آیت میں کہتا ہے: "وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ۔" یہ اس صورت میں ہے جب کہ ان کی اولاد ایمان میں ان کی پیروی کرے۔
۴۔ صحف ابراہیم و موسیٰ
"صحف" جمع ہے "صحیفہ" کی، جو اصل میں ہر وسیع چیز کے معنی میں ہے، اس لیے صورت کو "صحیفة الوجہ" کہتے ہیں۔ اس کے بعد کتاب کے صفحات پر بھی اطلاق ہوا ہے۔ "صحفِ موسیٰ" سے مراد اوپر والی آیت میں وہی تورات ہے اور "صحفِ ابراہیم" بھی ان کی آسمانی کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ مرحوم طبرسی نے "مجمع البیان" میں سورۂ اعلیٰ کی تفسیر میں ایک حدیث پیغمبرِ گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے، جس کا خلاصہ اس طرح ہے: ابوذر سوال کرتے ہیں: خدا کے پیغمبر کتنے ہوئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: "ایک لاکھ چوبیس ہزار" پھر سوال کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا: "تین سو تیرہ" ہیں اور باقی نبی ہیں۔ (رسول وہ ہوتا ہے جو ابلاغ و انذار پر مأمور ہو، جب کہ نبی کا مفہوم عام ہے)۔ پھر سوال کیا: کیا آدم پیغمبر تھے؟ آپ نے فرمایا: "ہاں! خدا نے ان سے کلام کیا اور انہیں اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا۔" پھر پوچھا: خدا نے کتنی کتابیں نازل کیں؟ آپ نے فرمایا: "ایک سو چار کتابیں: دس صحیفے آدم پر، پچاس صحیفے شیث پر، تیس صحیفے ادریس پر، دس صحیفے ابراہیم پر (جو مجموعی طور پر ایک سو صحیفے بنتے ہیں) اور تورات، انجیل، زبور اور قرآن۔ ["مجمع البیان" جلد ۱۰، صفحہ ۴۷۶۔ اس حدیث کو "روح البیان" نے بھی جلد ۹، صفحہ ۲۴۶ پر نقل کیا ہے]۔
۵۔ گزشتہ کتب میں اعمال کے مقابلہ میں اصل مسئولیت
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ تورات میں کتاب "حزقیل" میں بھی زیرِ بحث آیت کا کچھ مضمون آیا ہے، کیونکہ وہ اس طرح ہے: "وہی جان جو گناہ کرے گی، وہی مرے گی، بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور باپ بیٹے کے گناہ کا بار نہیں اٹھائے گا۔" [بحوالہ: کتاب "حزقیل" فصل ۱۸، صفحہ ۲۰]۔ یہی مفہوم خصوصیت کے ساتھ قتل کے بارے میں تورات کے "سفر تثنیہ" میں بھی آیا ہے: "باپ اولاد کے بدلے میں قتل نہیں کیے جائیں گے اور اولاد بھی باپوں کے بدلے میں قتل نہیں کی جائے گی، ہر شخص اپنے گناہ کے سبب ہلاک ہو گا۔" [بحوالہ: تورات"، "سفر تثنیہ"، باب ۲۴، شمارہ ۱۶]۔ البتہ گزشتہ انبیاء کی تمام تعلیمات مکمل طور پر اس وقت ہمارے پاس نہیں ہیں، ورنہ اس اصل کے بارے میں ہمیں اور بھی بہت سی باتیں مل جاتیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: تمام خطوط اسی تک پہنچتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات خدا کی ان صفات کی تجلی گاہ ہیں جو مسئلہ توحید کو بھی واضح کرتی ہیں اور مسئلہ معاد کو بھی۔ ان آیات میں گزشتہ مباحث کو جاری رکھتے ہوئے جزائے اعمال کے سلسلے میں فرماتا ہے: "کیا انسان کو اس بات کی خبر نہیں ہے کہ صحفِ موسیٰ و ابراہیم میں یہ آیا ہے کہ تمام امور تیرے پروردگار پر منتہی ہوتے ہیں"؟ (وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنتَهَىٰ) نہ صرف حساب و کتاب، ثواب و عقاب اور جزا و سزا آخرت میں اس کے دستِ قدرت میں ہے، بلکہ اس جہان میں بھی اسباب و علل کا سلسلہ اس کی پاک ذات تک جا کر منتہی ہوتا ہے، اس جہان کی تمام تدبیریں اسی کی تدبیر سے پیدا ہوتی ہیں اور بالآخر عالمِ ہستی کی تکیہ گاہ اور اس کی ابتدا و انتہا خدا ہی کی پاک ذات ہے۔ بعض روایات میں اس آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے اس طرح آیا ہے: "إِذَا انْتَهَى الْكَلَامُ إِلَى اللَّهِ فَأَمْسِكُوا" [بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم، مطابق نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۱۷۰]۔ "جس وقت گفتگو خدا کی ذات تک پہنچ جائے تو چپ ہو جاو۔" یعنی اس کی ذات کے بارے میں گفتگو نہ کرو، کیونکہ عقلیں اس میں حیران ہیں اور کہیں پہنچ نہیں پاتیں اور ایک غیرمحدود ذات کے بارے میں سوچ بچار کرنا محدود عقلوں کے لیے ناممکن ہے، کیونکہ جو کچھ تمہاری فکر میں آئے گا، وہ بھی محدود ہی ہو گا اور خدا کے لیے محال ہے کہ وہ محدود ہو جائے۔ البتہ یہ تفسیر اس آیت کے لیے ایک دوسرا بیان ہے، جو اس بات سے جو ہم نے بیان کی ہے، اختلاف نہیں رکھتی اور دونوں آیت کے معنی میں جمع ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد امرِ ربوبیت میں اس کی حاکمیت اور اس جہان کے تمام امور کے اس کی ذاتِ پاک تک منتہی ہونے کو واضح کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی۔" (وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ)۔ [تشریحی نوٹ: یہ افعال اگرچہ ماضی کی صورت میں ہیں لیکن مستقبل کا معنی دیتے ہیں]۔ "اور وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی کرتا ہے۔" (وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا)۔ "اور وہی ہے جو دو دو جوڑے، مذکر اور مؤنث، پیدا کرتا ہے۔" (وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ)۔ "اس نطفہ سے جو خارج ہوتا ہے اور قرار گاہِ رحم میں گرتا ہے۔" (مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ)۔ یہ چند آیات، تمام امور کے پروردگار کی ربوبیت اور تدبیر کی طرف منتہی ہونے والے مسئلے کے لیے حقیقتاً ایک جامع بیان اور عمدہ وضاحت ہیں، کیونکہ کہتا ہے: تمہاری موت اور زندگی اسی کے ہاتھ میں ہے، زوجین کی خلقت کے طریقے سے نسل کا جاری رہنا بھی اسی کی تدبیر سے ہے، اسی طرح وہ تمام حوادث جو انسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں، اس کی طرف سے ہیں۔ وہی رلاتا اور ہنساتا ہے، وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے اور اس طرح سے سررشتۂ زندگی آغاز سے لے کر انجام تک اس کی پاک ذات پر جا کر ختم ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں اس آیت کے "ہنسنے اور رونے" کے مفہوم کو وسعت دی گئی ہے اور اس کی تفسیر میں اس طرح بیان ہوا ہے: "أَبْكَى السَّمَاءَ بِالْمَطَرِ، وَأَضْحَكَ الْأَرْضَ بِالنَّبَاتِ" "خدا آسمان کو بارش کے ساتھ رلاتا ہے اور زمین کو نباتات کے ساتھ ہنساتا ہے۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۱۷۲]۔ بعض شعراء نے اس مضمون کو اپنے اشعار میں بیان کیا ہے: "إِنَّ فَصْلَ الرَّبِيعِ فَصْلٌ جَمِيلٌ تَضْحَكُ الْأَرْضُ مِنْ بُكَاءِ السَّمَاءِ" "فصلِ بہار ایک خوبصورت فصل ہے، کیونکہ زمین آسمان کے رونے سے ہنسنے لگتی ہے۔" قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ انسان کے تمام افعال میں سے ہنسنے اور رونے کے مسئلے پر تکیہ ہوا ہے، کیونکہ یہ دونوں اوصاف انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہیں اور دوسرے جانداروں میں اصلاً اس کا وجود نہیں ہے، یا بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ انسانی جسم میں ہنسنے یا رونے کے وقت جو فعل و انفعال اور دگرگونی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ان کا روحانی تغیرات کے ساتھ ارتباط بہت ہی پیچیدہ اور تعجب خیز ہے اور مجموعی طور پر یہ حق تعالیٰ کی مدبریت کی ایک واضح نشانی ہو سکتی ہے۔ یہ بات اس مناسبت کے علاوہ ہے جو یہ دونوں افعال (ہنسنا اور رونا) موت و حیات کے مسئلے کے ساتھ رکھتے ہیں۔ بہرحال خدا کی تدبیر اور ربوبیت پر تمام امور کی انتہا، انسان کے اختیار اور آزادیٔ ارادہ کے ساتھ کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتی، کیونکہ اختیار و آزادی بھی اسی کی طرف سے ہے اور اسی تک ہی منتہی ہوتی ہے۔ ان امور کے ذکر کے بعد، جو پروردگار کی ربوبیت اور تدبیر سے مربوط ہیں، امرِ معاد و قیامت کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: "کیا انسان کو یہ خبر نہیں ہے کہ گزشتہ کتب میں یہ آیا ہے کہ دوسرے عالم کو ایجاد کرنا خدا پر لازم ہے" (وَأَنَّ عَلَیْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ) "نشاة" آفرینش اور کسی چیز کی تربیت کے معنی میں ہے، "نشاة اُخرٰی" قیامت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔ "علیہ" (خدا پر لازم ہے) کی تعبیر کو آزادی دے دی، اس عرصہ میں مطیع و غیرمطیع اور ظالم و مظلوم افراد وجود میں آئے اور کوئی بھی اس جہان میں اپنی اصلی پاداش اور سزا کو نہیں پہنچا، لہٰذا اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ ایک "نشاة ثانیہ" ہو تاکہ عدالت کی جا سکے۔ علاوہ ازیں، ایک حکیم ذات اس وسیع و عریض جہان کو، ان تمام ناملائم اور نامناسب امور کے ساتھ، چند روزہ زندگی کے لیے خلق نہیں کر سکتا، لہٰذا اچھی اور یقینی طور پر یہ ایک وسیع زندگی کے لیے، جو اس وسیع پروگرام کی قیمت ہے، ایک مقدمہ ہو گی، یا دوسرے لفظوں میں اگر دوسری زندگی نہ ہو تو اس جہان کی خلقت اپنے اصلی ہدف اور مقصد تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ خدا نے یہ وعدہ اپنے بندوں کو ایک حتمی وعدہ کے عنوان سے دیا ہے اور اس کے کلام کی صداقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے وعدے پورے ہوں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور وہی تو ہے جو بندوں کو بےنیاز بھی کرتا ہے اور باقی رہنے والے سرمائے ان کے اختیار میں دیتا ہے۔" (وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ) خدا نے نہ صرف مادی پہلوؤں میں انسان کی ضروریات اور حاجتوں کو اپنے لطف و کرم سے برطرف کیا ہے، بلکہ ہمیشہ رہنے والے سرمائے بھی اسے عطا کیے ہیں، کیونکہ معنوی زندگی میں بھی انسانوں کی احتیاجات تعلیم و تربیت اور تکامل و ارتقاء کے سلسلے میں انبیاء و رسل کے بھیجنے، آسمانی کتب کے نازل کرنے اور معنوی مواہب و نعمات عطا کرنے کے ذریعے برطرف کی ہیں۔ "أَغْنَىٰ"، "غنی" کے مادہ سے بےنیازی کے معنی میں ہے اور "أَقْنَىٰ"، "قنیہ" کے مادہ سے (جزیہ کے وزن پر) ان سرمائیوں اور اموال کے معنی میں ہے جنہیں انسان ذخیرہ کرتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "مفردات" راغب، مادہ "قنی"]۔ اس بنا پر "أَغْنَىٰ" تو موجودہ حاجات و ضروریات کو پورا کرتا ہے اور "أَقْنَىٰ" ذخیرہ نعمتوں کی عطائیگی ہے، جو مادی طور پر باغ و املاک وغیرہ کے مانند ہے اور معنوی امور میں خدا کی رضا و خوشنودی جیسی باتیں ہیں، جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا عظیم ترین سرمایہ شمار ہوتا ہے۔ یہاں ایک اور تفسیر بھی ہے جو "أَغْنَىٰ" کو "أَقْنَىٰ" کے مدِّمقابل قرار دیتی ہے، یعنی غنی و فقیر اسی کے دستِ قدرت میں ہیں۔ اس کی نظیر سورۂ رعد کی آیت ۲۶ میں آئی ہے: اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ "خدا جس کے لیے چاہتا ہے روزی کو وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے محدود و تنگ کر دیتا ہے۔" لیکن یہ تفسیر اس کے ساتھ جو منابعِ لغت میں آئی ہے سازگار نہیں ہے اور اوپر والی آیت اس معنی کی شاہد نہیں بن سکتی۔ آخر میں آخری زیر بحث آیت میں فرماتا ہے: "کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ گزشتہ کتب میں یہ آ چکا ہے کہ ستارۂ شعریٰ کا پروردگار وہی ہے"؟ (وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ) "ستارۂ شعریٰ" کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس کے علاوہ، کہ یہ ستارہ آسمان کے ستاروں میں سب سے زیادہ چمکنے والا ہے، جو عام طور پر سحر کے وقت صورتِ فلکی "جوزا" کے پاس آسمان میں ظاہر ہوتا ہے، توجہ کو مکمل طور پر اپنی طرف کھینچتا ہے، اس سبب سے ہے کہ مشرکینِ عرب کا ایک گروہ اس کی پرستش کرتا تھا۔ قرآن کہتا ہے: "تم شعریٰ کی پرستش کیوں کرتے ہو؟ اس کے پیدا کرنے والے پروردگار کی پرستش کرو۔" ضمنی طور پر توجہ رکھنی چاہیے کہ آسمان میں دو ستارے ہیں جو شعریٰ کے نام سے موسوم ہیں، جن میں سے ایک تو جنوب کی سمت میں ظاہر ہوتا ہے اور اسی بنا پر اسے "شعرٰی یمانی" کہتے ہیں (کیونکہ یمن جزیرۂ عربستان کے جنوب میں ہے) اور دوسرا "شعرٰی شامی" جو شمال کی طرف نکلتا ہے، لیکن مشہور وہی "شعرٰی یمانی" ہے۔ اس ستارے کی عمدہ خصوصیات کے بارے میں دوسرے مباحث ہیں جو نکات کی بحث میں آئیں گے۔
چند اہم نکات: ١۔ یہ سب چہل پہل اسی کی طرف سے ہے
ان آیات کے مباحث حقیقت میں اس معنی کی طرف ایک اشارہ ہیں کہ اس عالم میں ہر قسم کی تدبیر اسی کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہے، موت و حیات کے مسئلے سے لے کر بےمقدار نطفہ سے انسان کی پیچیدہ خلقت تک اور اسی طرح سے وہ گوناگوں حادثات جو انسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں، جو اسے کسی نہ کسی طرح سے رُلاتے ہیں یا ہنساتے ہیں، یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہیں۔ آسمان میں درخشندہ ترین ستارے اسی کے فرمان اور اسی کی ربوبیت کے ماتحت ہیں اور زمین میں انسانوں کی غنا اور بےنیازی بھی اسی کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہے اور "طبعاً نشاة آخرت" بھی اسی کے فرمان سے ہے، کیونکہ وہ بھی اس جہان کی زندگی کو جاری رکھنے کے سلسلے میں ایک جدید زندگی ہے۔ یہ بیان ایک طرف تو خطِ توحید کو واضح کرتا ہے اور دوسری طرف سے خطِ معاد و قیامت کو، کیونکہ رحم کے اندر ایک بےمقدار نطفہ سے انسان کو خلق کرنے والا، اسے نئے سرے سے زندگی عطا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ سب چیزیں خدا کی "توحیدِ افعالی" اور "توحیدِ ربوبیت" کو بیان کرتی ہیں۔ ہاں! یہ سب چہل پہل اور تمام نغمے اسی کی طرف سے ہیں۔
٢۔ ستارئہ شعری کے عجائبات
یہ ستارہ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، آسمان کے ستاروں میں سب سے زیادہ چمکنے والا ستارہ ہے اور "شعرای یمانی" کے نام سے مشہور ہے، چونکہ یہ جنوب کی سمت ظاہر ہوتا ہے اور یمن جزیرۂ عرب کے جنوب میں واقع ہے، لہٰذا انہوں نے اس کو یہ نام دیا ہے۔ عربوں کا ایک گروہ، جیسے قبیلہ "خزاعہ"، اس کو مقدس جانتا تھا اور اس کی پرستش کیا کرتا تھا اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ روئے زمین کے سارے موجودات کا مبدأ ہے۔ اس مسئلے پر قرآن کی تاکید کہ "خدا شعرٰی کا پروردگار ہے"، اس گروہ اور ان جیسے لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے ہے کہ انہوں نے مخلوق کو خالق ہونے کا اشتباہ کیا اور مربوب کو رب کی جگہ قرار دے لیا ہے۔ یہ عجیب الخلقت ستارہ، جو اپنی حد سے زیادہ درخشندگی کی وجہ سے ستاروں کا بادشاہ کہلاتا تھا، بہت سے عجائبات کا حامل ہے، جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس زمانے میں ستارۂ شعرٰی کے بارے میں یہ حقائق دریافت نہیں ہوئے تھے، قرآن کا اس موضوع کو سامنے لانا پُرمعنی ہے۔ (الف) ان تحقیقات کے مطابق، جو دنیا کے مشہور رصدگاہوں میں عمل میں آئی ہیں، وہ عظیم حرارت جو شعرٰی کی سطح پر پائی جاتی ہے، ۱۲۰ ہزار درجہ سینٹی گریڈ تک معلوم کی گئی ہے۔ جبکہ ہمارے سورج کے کرّے کی سطح کی حرارت صرف ۶۵۰۰ درجہ سمجھی جاتی ہے اور یہ چیز ستارۂ شعرٰی کی، سورج کی نسبت، عظیم گرمی کے فرق کا پتہ دیتی ہے۔ (ب) اس ستارے کا مخصوص جرم پانی سے تقریباً ۵۰ ہزار گنا زیادہ وزنی ہے، یعنی وہاں کے ایک لیٹر پانی کا وزن کرۂ زمین کے ۵۰ ٹن کے برابر ہو گا۔ حالانکہ ہمارے نظامِ شمسی کے سیاروں میں سے جو سب سے زیادہ وزنی ہے، اس کا مخصوص وزن پانی کے وزن سے ۶ گنا سے زیادہ نہیں ہے۔ اس تعریف کے باوجود دیکھنا چاہیے کہ یہ عجیب و غریب ستارہ کس عنصر سے بنا ہے جو اس قدر وزنی ہے؟ (ج) ستارۂ شعرٰی ہمارے زمانے میں سردیوں میں ظاہر ہوتا ہے، لیکن مصر کے قدیم منجمین کے زمانے میں اس ستارے کا ظہور گرمیوں کے آغاز کے قریب ہوا کرتا تھا۔ یہ ایک بہت ہی عظیم کرّہ ہے جس کا حجم کرۂ آفتاب سے ۲۰ گنا ہے اور اس کا ہم سے فاصلہ زمین سے سورج کے فاصلے کی نسبت انتہائی حد تک زیادہ ہے، اس طرح کہ اس فاصلے کو سورج کے فاصلے سے ۱۰ لاکھ گنا حساب کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نور اور روشنی کی رفتار ایک سیکنڈ میں ۳۰۰ ہزار کلومیٹر ہے اور سورج کی روشنی ۸ منٹ اور ۱۳ سیکنڈ میں ہم تک پہنچتی ہے، جبکہ اس کا چاند سے فاصلہ ۱۵ ملین کلومیٹر ہے۔ لیکن اگر آپ تعجب نہ کریں تو کرۂ شعرٰی کی پہلی شعاع ہم تک تقریباً ۱۰ سال بعد پہنچتی ہے، تو اب آپ خود حساب کر لیں کہ اس کا فاصلہ کتنا ہے۔ (د) شعرای یمانی کے ساتھ ایک اور ستارہ ہے، جو آسمان کے مرموز و پراسرار ستاروں میں سے ہے۔ سب سے پہلے "بسل" نامی ماہر دانشمند نے اسے دریافت کیا اور یہ ۱۸۴۴ عیسوی کی بات ہے۔ لیکن ۱۸۶۲ میں دوربین کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس ستارے کی گردش کا دور اصلی ستارے کے گرد ۵۰ سال ہے۔ [بحوالہ: "دائرة المعارف الاسلامیہ"، "مادہ شعری" اور "فرہنگ نامہ"، "مادہ ستارہ" اور "دائرة المعارف فارسی مصاحب"، "مادئہ شعری"]۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قرآن کی تعبیرات کس حد تک پُر معنی ہیں اور اس کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں کیسے کیسے حقائق چھپے ہوئے ہیں، جو اگر اس کے نزول کے دن پورے طور پر مشخص نہیں تھے تو زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہو گئے ہیں۔
٣۔ پیغمبر(ص) کی ایک پُرمعنی حدیث
ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گروہ کے قریب سے گزرے جو ہنسنے میں مشغول تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا" (اگر تم اس چیز کو جانتے جسے میں جانتا ہوں، تو تم روتے زیادہ اور ہنستے کم)۔ جب وقت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے گزر گئے تو جبرئیل ان پر نازل ہوئے اور عرض کیا: "إِنَّ اللّٰهَ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى" (ہنسنا اور رونا دونوں خدا ہی کی طرف سے ہیں۔) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس پلٹ آئے اور فرمایا کہ چالیس قدم نہیں چلا تھا کہ جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا: تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ اور ان سے یہ کہو: إِنَّ اللّٰهَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى(۔ [بحوالہ: "تفسیر الدر المنثور"، جلد ۶، صفحہ ۱۳۰]۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک صاحبِ ایمان شخص ہمیشہ روتا ہی رہے۔ خوفِ خدا سے اور گناہوں کے ڈر سے رونا بھی اپنی جگہ ضروری ہے اور نشاط اور خوشی کے وقت ہنسنا بھی۔ کیونکہ یہ سب کچھ خدا ہی کی طرف سے ہے۔ بہرحال، یہ تعبیریں انسان کے اصل اختیار اور آزادیِ ارادہ کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتیں، کیونکہ اس بیان کا مقصد علت العلل اور ان جذبات و احساسات کے خالق کا بیان ہے۔ اور اگر دوسری جگہ (سورۂ توبہ، آیت ۸۲) میں یہ فرمایا ہے کہ: "فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلاً وَلْیَبْکُوا کَثِیرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا یَكْسِبُونَ" (انہیں چاہیے کہ کم ہنسیں اور زیادہ روئیں، ان کاموں کی سزا کے سبب جو وہ انجام دیا کرتے تھے) تو یہ منافقین کے ساتھ مربوط ہے، جیسا کہ اس کے قبل اور بعد کی آیات گواہی دے رہی ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ سورہ کی ابتدا میں ستارے کی قسم کھائی گئی ہے، اس وقت جب وہ غروب کرتا ہے: "وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى" اور یہاں "شعرٰی" کے پروردگار کی قسم ہے۔ جب ہم ان دونوں آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں، تو واضح ہو جاتا ہے کہ شعرٰی کیوں معبود نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ بھی افول و غروب رکھتا ہے اور قوانینِ خلقت کے پنجہ میں اسیر ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: کیا یہ سب درسِ عبرت کافی نہیں ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات اسی طرح انہی مطالب کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جو گزشتہ کتب، صحفِ ابراہیم و موسیٰ سے نقل ہوئے ہیں۔ گزشتہ آیات میں دس مطالب دو حصوں میں بیان کیے گئے ہیں: پہلا حصہ ہر شخص کے اپنے اعمال کی ذمہ داری کے بارے میں ہے اور دوسرا حصہ تمام امور کے خدا تک منتہی ہونے کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اور زیر بحث آیات میں ایک ہی مطلب بیان ہو رہا ہے اور وہ چار قوموں کے عذاب اور دردناک ہلاکت کی بات ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو گزشتہ احکام سے روگردانی کرتے ہیں اور مبدأ و معاد پر ایمان نہیں رکھتے۔ [تشریحی نوٹ: اس بات پر توجہ رکھیے کہ یہ گیارہ مطالب سب کے سب "أَنَّ" کے ساتھ شروع ہوتے ہیں، جن میں سے پہلا آیت ۳۸: "أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ" اور آخری: "وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ" ہے]۔ پہلے فرمایا: "کیا انسان کو یہ خبر نہیں کہ گزشتہ کتب میں آیا ہے کہ خدا نے پہلی قومِ عاد کو ہلاک کر دیا"؟ (وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ) قومِ "عاد" کی توصیف "الأُولَىٰ" (پہلی) کے ساتھ یا تو اس قوم کی قدامت کی بنا پر ہے، جیسا کہ عربوں میں ہر قدیم چیز کو "عادی" کہتے ہیں۔ اور یا اس بنا پر ہے کہ تاریخ میں "عاد" نامی دو قومیں ہوئی ہیں۔ اور مشہور قوم، جس کے پیغمبر "ہود" علیہ السلام تھے، وہی "پہلی عاد" ہے۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، "روح المعانی" اور "تفسیر فخر رازی"]۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اسی طرح خدا نے قومِ ثمود کو ان کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کیا اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا۔" (وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ)۔ اس کے بعد قومِ نوح کے بارے میں فرماتا ہے: "اور ان سے پہلے قومِ نوح کو بھی ہم نے ہلاک کیا۔" (وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ)۔ "کیونکہ وہ سب سے زیادہ ظالم اور سب سے زیادہ سرکشی کرنے والے تھے۔" (إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ)۔ کیونکہ ان کے پیغمبر نوح علیہ السلام نے تمام انبیاء سے زیادہ طویل مدت تک انہیں تبلیغ کی، مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی نے قبول نہ کیا۔ وہ شرک، بت پرستی اور نوح علیہ السلام کی تکذیب اور آزار پہنچانے میں حد سے زیادہ سختی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل انشاء اللہ سورہ نوح کی تفسیر میں آئے گی۔ چوتھی قوم "قومِ لوط" ہے، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "خدا نے قومِ لوط کے زیر و زبر شدہ شہروں کو زمین پر دے مارا۔" (وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ)۔ ظاہر ہے کہ شدید زلزلے نے ان بستیوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ بعض روایات کے مطابق، جبرئیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو خدا کی قوت سے اکھاڑ کر اوندھا زمین پر دے مارا۔ پھر فرمایا: "اس کے بعد انہیں ایک سنگین عذاب نے ڈھانپ لیا۔" (فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ)۔ [تشریحی نوٹ: "ما غَشَّىٰ" میں "ما" ممکن ہے مفعول ہو یا فاعل، جیسے: "وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا۔" لیکن پہلا احتمال آیت کے ظاہر کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ پہلی صورت میں اس جملے کا معنی وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا اور دوسری صورت میں معنی اس طرح ہو گا: "وہ خدا جس نے عذاب کا پردہ ان پر بھیجا، جس نے انہیں ڈھانپ لیا۔" بہرحال، یہ تعبیر کسی چیز کی عظمت و شدت کے بیان کے سلسلہ میں ذکر ہوتی ہے]۔ ہاں! آسمانی پتھروں کی بارش ان پر برسی اور یہ بستیاں پتھروں کے ڈھیر میں دفن ہو گئیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس آیت اور اس سے قبل کی آیات میں قومِ لوط کا نام نہیں لیا گیا، مگر مفسرین کے مطابق، سورۂ توبہ (آیت ۷۰) اور سورۂ حاقہ (آیت ۹) میں بھی "مُؤْتَفِكَةَ" کی تعبیر قومِ لوط کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ لیکن قرآن کی دیگر آیات بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ سورۂ ہود (آیت ۸۲) میں آیا ہے: فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ۔ "جب ہمارا فرمان آ پہنچا تو اس شہر و دیار کو تہ و بالا کر دیا اور پتھروں اور پتھریلی مٹی کی جو تہ بہ تہ جمی ہوئی تھی ان پر بارش کر دی۔" تفسیرِ علی بن ابراہیم میں آیا ہے کہ "مُؤْتَفِكَةَ" (تہ و بالا شدہ شہر) سے بصرہ کا شہر مراد ہے، کیونکہ ایک روایت میں آیا کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے بصرہ کے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "اے اہلِ بصرہ! اے زیر و زبر شدہ زمین کے رہنے والو! اے عورت کے لشکر! اے اونٹ کی پیروی کرنے والو!" یہ اشارہ جنگِ جمل کی طرف تھا، جس کی کماندار بی بی عائشہؓ تھیں اور بصرہ کے لوگ ان کے اونٹ کے پیچھے چل پڑے تھے۔ [بحوالہ: "تفسیر صافی"، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ لیکن یہ بات معلوم ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے کلام میں یہ تعبیر ایک قسم کی تطبیق کے عنوان سے ہے، نہ کہ تفسیر کے طور پر۔ شاید اس زمانے میں اس شہر کے لوگ اخلاق یا خدائی عذاب کے لحاظ سے قومِ لوط کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔ اس بحث کے آخر میں، گزشتہ آیات میں بیان شدہ نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، استفہامِ انکاری کی صورت میں فرماتا ہے: "تجھے اپنے پروردگار کی نعمتوں میں سے کون سی نعمت میں شک ہے۔" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ) کیا نعمتِ حیات میں؟ یا اصل نعمتِ خلقت میں؟ یا اس نعمت میں کہ خدا کسی کو دوسرے کے جرم کی سزا نہیں دیتا؟ خلاصہ یہ کہ جو کچھ گزشتہ صحیفوں میں آیا ہے اور قرآن میں بھی جس پر تاکید ہوئی ہے، ان میں سے کسی میں تجھے شک ہے؟ کیا تم اس نعمت میں شک کرتے ہو کہ خدا نے تمہیں گزشتہ اقوام کے عذابوں سے محفوظ رکھا اور اپنی عفو و درگزر اور رحمت کو تمہارے شاملِ حال کیا؟ یا نزولِ قرآن کی نعمت، رسالت، ایمان اور ہدایت کے مسئلے میں تمہیں شک ہے؟ یہ درست ہے کہ اس آیت میں مخاطب پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہے، لیکن اس کا مفہوم سب کو شامل ہے، بلکہ ہدفِ اصلی زیادہ تر دوسرے افراد ہی ہیں۔ "تتمارى"، "تماری" کے مادہ سے ہے، جو محاجہ (شک و تردید سے توام ہو) کے معنی میں ہے۔ [تشریحی نوٹ: اگرچہ بابِ "تفاعل" عام طور پر ایسے موقعوں میں استعمال ہوتا ہے، جب کوئی فعل دو افراد سے ایک دوسرے کے مقابلے میں صادر ہو، لیکن یہاں صرف ایک ہی شخص کے فعل کی صورت میں ذکر ہوا ہے، جو یا تاکید کی بنا پر ہے یا نعمتوں کے موارد کے تعدد کی بنا پر۔ (غور کیجیے)]۔ "آلاء"، "ألا" یا "إلی" (بروزنِ فعل) کی جمع ہے، جو نعمت کے معنی میں ہے۔ اگرچہ بعض مطالب، جو گزشتہ آیات میں آئے ہیں، جیسے کہ دوسری قوموں کے عذاب اور ہلاکت، بظاہر نعمت کے مصداق نہیں ہیں، لیکن اس لحاظ سے کہ خدا نے مسلمانوں کو، بلکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے کفار تک کو بھی ان امور سے محفوظ رکھا ہے، یہ ایک عظیم نعمت ہو گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: سب اس کے لیے سجدہ کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 8گزشتہ آیات کے بعد، جو گزشتہ اقوام کی ستمگری اور طغیان کی وجہ سے ان کی ہلاکت کی بات کر رہی تھیں، زیر بحث آیات اپنا رُوئے سخن مشرکین، کفار اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے منکرین کی طرف کرتے ہوئے کہتی ہیں: یہ پیغمبر (یا یہ قرآن) گزشتہ ڈرانے والوں کی طرح ہی ایک ڈرانے والا ہے (هٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ)۔ یہ جو کہتا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یا قرآن) پہلے انذار کرنے والوں اور ڈرانے والوں کی نوع میں سے ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور ان کی آسمانی کتاب قرآن کوئی نیا موضوع نہیں ہے، گزشتہ زمانے میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، پس یہ تمہارے لیے باعثِ تعجب کیوں ہے؟ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ "هٰذَا" ان اخبار کی طرف اشارہ ہے جو گزشتہ آیات میں پہلی اقوام کی سرگزشت کے سلسلے میں بیان ہوئی ہیں، کیونکہ وہ بھی اپنی نوعیت میں ڈرانے والی ہیں، لیکن پہلے والی دونوں تفاسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہیں۔ اس غرض سے کہ مشرکین اور کفار اس خطرے پر، جو انہیں درپیش ہے، زیادہ توجہ دیں، مزید کہتا ہے: "جسے نزدیک ہونا چاہیے، وہ نزدیک ہو گئی ہے" (أَزِفَتِ الْآزِفَةُ)۔ ہاں! قیامت نزدیک ہے، اپنے آپ کو سوال و حساب اور جزا کے لیے تیار کرو۔ "آزِفَة" کی تعبیر قیامت کے متعلق اس کے نزدیک ہونے اور وقت کی تنگی کی بنا پر ہے، کیونکہ یہ لفظ "أَزِفَ" (بروزنِ نجف) سے تنگیِ وقت کے معنی میں لیا گیا ہے اور طبعاً نزدیک ہونے کے معنی کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ اس نام کے ساتھ قیامت کا ذکر زیر بحث آیت کے علاوہ سورۂ مؤمن کی آیت ۱۸ میں بھی آیا ہے اور یہ ایک گویا اور بیدار کرنے والی تعبیر ہے۔ یہی مفہوم ایک دوسری صورت میں سورۂ قمر کی آیت ۱ میں بھی بیان ہوا ہے: "اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ" (قیامت نزدیک ہو گئی ہے)۔ بہرحال دنیا کی عمر کی کوتاہی کی طرف توجہ کرتے ہوئے قیامت کی نزدیکی قابلِ ادراک ہے، خصوصاً اس چیز کو دیکھتے ہوئے کہ جو شخص مرتا ہے، اس کی تو قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: اہم بات یہ ہے کہ اس دن خدا کے علاوہ کوئی شخص ان کی فریاد کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی اس کے شدائد کو برطرف کر سکتا ہے (لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "لَهَا" کی ضمیر "أَزِفَةُ" کی طرف لوٹتی ہے اور "كَاشِفَةٌ" کا مؤنث ہونا اس بنا پر ہے کہ وہ صفت ہے "نَفْسٌ" کی، جو محذوف ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ "كَاشِفَةٌ" کی "تاء" مبالغہ کے لیے ہے، جیسے "عَلَّامَةٌ"]۔ "کَاشِفَةٌ" یہاں شدائد کو برطرف کرنے والے کے معنی میں ہے۔ لیکن بعض نے "کَاشِفَةٌ" کو تاخیرِ قیامت کے عامل کے معنی میں تفسیر کیا ہے اور بعض نے وقوعِ قیامت کی تاریخ کو کشف کرنے کے معنی میں لیا ہے، لیکن پہلا معنی سب سے زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال حاکم و مالک اور صاحبِ قدرت اس دن بھی (اور ہمیشہ) خدا ہی ہے۔ اگر نجات چاہتے ہو تو اس کے لطف کے دامن کی طرف ہاتھ بڑھاؤ اور اگر آرام و سکون کے طالب ہو تو اس پر ایمان لے آؤ۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو"؟ (أَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ)۔ یہ جملہ ممکن ہے کہ قیامت اور قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کی طرف اشارہ ہو، جو گزشتہ آیات میں آیا ہے، یا قرآن کی طرف اشارہ ہو (کیونکہ دوسری آیات میں اس کی "حدیث" کے لفظ سے تعبیر ہوئی ہے)، [بحوالہ: سورۂ طور، آیت ۳۴] یا وہ باتیں جو گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے بارے میں کہی گئی ہیں، یا ان سب کی طرف۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں"؟ (وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ)۔ "اور ہمیشہ غفلت، بےخبری، لہو و لعب اور گناہ آلود سرگرمیوں میں زندگی بسر کرتے ہو"؟ (وَأَنتُمْ سَامِدُونَ)۔ حالانکہ یہاں نہ تو ہنسنے کی جگہ ہے اور نہ ہی غفلت اور بےخبر رہنے کی جگہ ہے، بلکہ یہ تو ہاتھ سے نکلی ہوئی فرصتوں، ترک شدہ اطاعتوں اور ان گناہوں پر جو تم سے سرزد ہوئے ہیں، رونے کی جگہ ہے، بیداری اور ان امور کی تلافی کی جگہ ہے جو ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ توبہ کی اور لطفِ خدا کے سائے کی طرف پلٹنے کی جگہ ہے۔ "سَامِدُونَ"، "سَمُود" کے مادہ سے (بروزنِ "جُمُود") لہو و لعب، جوش اور کبر و غرور سے سر اونچا کرنے کے معنی میں ہے اور اصل میں اونٹ جب چل رہا ہو اور اپنا سر بےاعتنائی سے فضا میں بلند کرے تو اس فعل کو "سَمُود" کہا جاتا ہے۔ یہ مغرور اور تکبر کرنے والے، جانوروں کی طرح خواب و خور میں مشغول ہیں اور عیش و نوش میں غرق ہیں اور دردناک حوادث اور ان شدید عذابوں سے، جو انہیں درپیش ہیں اور ان سے دامن گیر ہونے والے ہیں، بےخبر ہیں۔ **** اس سورہ کی آخری آیت میں، ان بہت سے مباحث کے بعد جو اثباتِ توحید اور نفیِ شرک کے سلسلے میں بیان ہوئے ہیں، کہتا ہے: "اب جب کہ ایسا ہے تو خدا کے لیے سجدہ کرو اور اس کی پرستش کرو" (فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا)۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ حق کی صراطِ مستقیم پر چلو، تو صرف اسی کی ذات کو سجدہ کرو، جس کی پاک ذات تک تمام عالمِ ہستی کے خطوط منتہی ہوتے ہیں۔ اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ گزشتہ اقوام کی دردناک سرنوشت میں، جو شرک، کفر، ظلم و ستم کی بنا پر عذابِ الٰہی کے چنگل میں گرفتار ہوئیں، گرفتار نہ ہو، تو صرف اسی کی عبادت کرو۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بہت سی روایات میں نقل ہوا ہے کہ جس وقت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سورہ کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے تو تمام مومنین و کفار، جو اسے سن رہے تھے، سجدے میں گر پڑے۔ ایک روایت کے مطابق، جس نے سجدہ نہیں کیا، وہ صرف "ولید بن مغیرہ" تھا (جو شاید سجدہ کرنے کے لیے جھک نہیں سکتا تھا)۔ اس نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اس پر پیشانی رکھ دی اور اس طرح سجدہ کیا۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ بت پرست تک بھی سجدے میں گر پڑے، کیونکہ: اس سورہ کے لب و لہجہ کی اثر پذیری ایک طرف سے، اور اس سورہ کا ہیجان انگیز مضمون دوسری طرف سے، اور مشرکین کے لیے وحشتناک تہدیدیں تیسری طرف سے، اور پیغمبرِ گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے نزولِ وحی کے پہلے مرحلے میں ان مبارک آیات کا نکلنا چوتھی طرف سے، یہ اس قدر گہرائی میں مؤثر اور پُرنفوذ تھا کہ جس نے ہر دل پر بےاختیار اثر کیا اور عناد، ہٹ دھرمی، تعصب اور خود خواہی کے پردوں کو، چاہے وقتی طور پر ہی سہی، آنکھوں کے سامنے سے ہٹا دیا اور نورِ توحید کا دلوں پر سایہ ڈال دیا۔ اگر ہم بھی اس سورہ کو وقت و توجہ اور حضورِ قلب سے تلاوت کریں اور خود کو پیغمبرِ گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نزولِ قرآن کی فضا میں رکھیں، تو ہم دیکھیں گے کہ اسلام کے مخصوص عقائد سے قطع نظر، ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جس وقت آخری آیت پر پہنچیں تو سجدہ میں گر پڑیں اور حق تعالیٰ کی بارگاہ میں سرِ تعظیم جھکا دیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ قرآن نے منکرین کے دلوں میں بھی اثر ڈالا اور انہیں بےاختیار اپنی طرف جذب کر لیا۔ جیسا کہ "ولید بن مغیرہ" کی داستان میں آیا ہے کہ جس وقت اس نے سورۂ "حم سجدہ" (فصلت) کی آیت ۱۳ کو سنا اور جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی: "فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ" (پس اگر وہ منہ موڑیں، تو کہہ دو: میں تمہیں عاد و ثمود کی بجلی (عذاب) کی طرح کے عذاب سے ڈراتا ہوں) تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور لرزنے لگا اور بال اس کے بدن پر سیدھے کھڑے ہو گئے۔ گھر میں آیا تو اس حالت میں کہ مشرکین نے خیال کیا کہ وہ پورے طور پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین میں جذب ہو گیا ہے۔ اس بنا پر یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ چونکہ بعض شیطانوں، یا شیطان صفت انسانوں نے "أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ۔"۔۔ کی تلاوت کے وقت، جو عربوں کے مشہور بتوں کی بات کرتی ہے، ان بتوں کی تعریف و توصیف میں زبان کھولی تھی اور "تِلْکَ الْغَرَانِیقُ الْعُلٰی" کہہ دیا تھا، اس وجہ سے مشرکین کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا، لہٰذا وہ بھی اس بنا پر سجدہ میں گر پڑے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم نے ان آیات کی تفسیر میں پہلے بیان کیا ہے، ان آیات میں جو ان بتوں کے نام لینے کے بعد آئی ہیں، ان میں ان کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اس نے کسی قسم کے شک، تردید اور خطا و اشتباہ کی گنجائش کسی کے لیے بھی باقی نہیں چھوڑی۔ (مزید وضاحت کے لیے اسی سورہ کی آیت ۱۹، ۲۰ کی طرف رجوع کریں۔) یہ نکتہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اوپر والی آیت ان آیات میں سے ہے جن کی تلاوت کے وقت سب پر سجدہ واجب ہے۔ آیت کا لب و لہجہ بھی، جو اس کے صیغۂ امر سے ظاہر ہے اور امر وجوب کی دلیل ہے، اس معنی کی گواہی دیتا ہے۔ اور اس طرح سے سورۂ "الم سجدہ" اور "حم سجدہ" کے بعد یہ تیسرا سورہ ہے، جس میں سجدہ واجب آیا ہے، اگرچہ بعض روایات کے مطابق، تاریخِ نزول کے لحاظ سے، وہ پہلا سورہ، جس میں سجدہ واجب کی آیت نازل ہوئی ہے، یہی سورہ ہے۔ خداوندا! ہمیشہ معرفت کے انوار کو ہمارے دلوں پر سایہ فگن کر، تاکہ ہم تیرے غیر کی پرستش نہ کریں اور تیرے غیر کے سامنے سجدہ نہ کریں۔ بارِ الہٰا! تمام خیرات کی چابی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، ہمیں اپنے بہترین مواہب و عطایا سے، یعنی اپنی خوشنودی اور رضا سے، بہرہ مند کر دے۔ پروردگارا! ہمیں عبرت بین نگاہ عطا فرما، تاکہ ہم گزشتہ ظالم و ستمگر اقوام کے حالات سے عبرت سیکھیں اور ان کے راستے پر قدم رکھنے سے بچے رہیں۔ أَمِينُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ