Sūra 06 · 165v
Chapter 06165 verses

Al-An'am

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الأنعام
الانعام

سورہ انعام

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۶۵ آیات ہیں

فضیلت تلاوت سوره انعام شرک کی مختلف اقسام اور بت پرستی کے خلاف جہاد

شرک کی مختلف اقسام اور بت پرستی کے خلاف جہاد کہا جاتا ہے کہ یہ انہترواں (۶۹)سورہ ہے جو مکہ میں پیغمبر پر نازل ہوا، البتہ اس کی چند آیات کے بارے میں اختلاف ہے ، بعض کا نظریہ ہے کہ یہ چند آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں، لیکن ان روایات سے جو اہلبیت (علیه السلام) کے طریقہ سے ہم تک پہنچی ہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی تمام آیات ایک جگہ نازل ہوئی ہیں ، اس بنا پر وہ سب کی سب -”مکی“ ہوں گی ۔ اس سورہ کا بنیادی ہدف اور مقصد دوسری مکی سورتوں کی طرح ہی تین اصولوں ”توحید“ ”نبوت“ اور ”قیامت“ کی طرف دعوت دینا ہے،لیکن سب سے پڑھ کر اس میں مسئلہ توحید اور شرک وبت پرستی کے خلاف مبارزہ کیا گیا ہے اور وہ اس طور پر کہ اس سورہ کی آیات کے اہم حصہ میں روئے سخن مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہی ہے اور اسی مناسبت سے بعض اوقات بحث کا سلسلہ مشرکین کے اعمال وکردار اور بد عت تک پہنچ جاتا ہے ۔ بہر حال اس سورہ کی آیات میں تدبر وتفکر جو انتہائی جاندار اور واضح اور روشن دلائل پر مشتمل ہے، انسان کے اندر روئے توحید وخدا پرستی کو زندہ کرتا ہے اور شرک کی بنیادوں کو اکھاڑ کر رکھ دیتا ہے، شاید اسی معنوی وابستگی اور مسئلہ توحید کی باقی سب مسائل اولویت کی بنیاد پر ہی اس سورہ کی تمام آیات یکجائی طور پر ایک ہی دفعہ نازل ہوئی ہے ۔ اور وہ روایات جو اس سورہ کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس امر کے سبب سے ہی ہیں ہم بارہا پڑھتے ہیں کہ سورہ انعام کے نزول کے وقت ستر ہزار فرشتہ اسے لے کر نازل ہوئے تھے اور جو شخص اس سورہ پڑھے (اور اس کے سایہ میں اس کی روح سرچشمہ توحید سے سیراب ہو) تو وہ تمام فرشتوں کے لئے طلب مغفرت کرتا ہے، ہو سکتاہے کہ اس سورہ کی آیات میں غور فکر کرنا مسلمانوں میں سے روح نفاق وپراکندگی کو نکال باہر کرے اور کانوں کو سننے والا ،آنکھوں کو دیکھنے والااور دلوں کو دانا بنا دے ۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس سورہ سے صرف اس کے الفاظ کے پڑھنے پر قناعت کرتے ہیں اور اپنی ذات اور خاص مشکلات کے حل کے لئے طویل و عریض تقریبات اور نشستیں منعقد کرتے ہیں جنھیں”ختم انعام “ کے نام سے یاد کرتے ہیں، مثال کے طور پر اگر ان تقریبات مین سورہ کے مضامین میں غور فکر کیا جائے تو نہ صرف مسلمانوں کی شخصی وذاتی مشکلات حل ہوں گی بلکہ ان کی عمومی مشکلات بھی حل ہوجائے گی ۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کو ایک ایسا سلسلہ اور اد کے طور سے دیکھتے ہیں کہ جس میں ایسی خاصیتیں پائی جاتی ہیں جو راز ہی راز ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہے اور اس کے الفاظ کو پڑھنے کے علاوہ کچھ بھی غور نہیں کرتے ، حالانکہ قرآن سارے کا سارا سبق ہے اور مدرسہ ، ایک پرواگرام ہے اور بیداری ،ایک رسالت ہے اور علم وآگاہی۔

وہ خدا جو نور وظلمت دونوں کا مبدا ہے،

اس سورہ میں خدا وندتعالیٰ کی حمدوستائش کے ساتھ آغاز ہوا ہے ۔ پہلے عالم کبیر(آسمان وزمین)اور ان کے نظاموں کی پیدائش کے طریقے سے اور اس کے بعد ”عالم منعیر یعنی انسان“کی آفرینش کے راستہ سے لوگوںکو اصل توحید کی طرف متوجہ کیا گیا،پہلے کہتا ہے:حمد ستائش اس خدا کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ) ۔ وہ خدا جو نور وظلمت دونوں کا مبدا ہے، دو خداؤں کی پرستش کا عقیدہ رکھنے والوں نظرےے کے بر خلاف وہی تنہا تمام چیزوں کے پیدا کرنے والا ہے ۔ (وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ) لیکن مشرکین وکفار بجائے اس کے کہ اس نظام واحد سے توحید کا سبق حاصل کریں اپنے پروردگار کے لیے شریک وشبیہ قرار دیتے ہیں (ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ) ۔ یعدلون ،مادہ عدل (بروزن حفظ) سے ہے جس کے معنی مساوی اور ہم وزن کے ہیں اور یہاں شریک وشبیہ کا قائل ہونے کے معنی میں ہے )۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ مشرکین کے عقیدہ کو لفظ”ثمّ“ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے و کہ لغت عرب میں (ترتیب بافاصلہ کے لیے )بولا جاتا ہے اور اس سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ ابتدا میں تمام نوع بشر میں توحید ایک اصل فطری اور عقیدہ عمومی کی حیثیت سے موجود تھی اور شرک بعد میں اس اصل فطری سے ایک انحراف کی صورت میں پیدا ہوا ہے ۔ اس بارے میں کہ آسمان و زمین کی پیدائش کے سلسلہ میں لفظ” خلق“ اور نور وظلمت کے بارے میں لفظ ”جعل“ کیوں استعمال کیا گیا ہے ، مفسرین نے طرح طرح کے خیالات ظاہر کیے ہیں، لیکن وہ بات جو ذہن سے زیادہ قریب معلوم تر ہوتی ہے یہ ہے کہ خلقت کسی چیز کے اصل وجود کے بارے میں اور جعل ان خواص وآثار کے بارے میں و کیفیات کے بارے میں ہوتا ہے جو اس کے بعد وجود پیدا کرتے ہیں ۔ کیوں کہ نور وظلمت تبعی پہلو رکھتے ہیں اس لیے انھیں جعل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت امیر المومنین ؑ سے ایک حدیث اس آیت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہے کہ آ پ نے فرمایا: یہ آیت حقیقت میں تین قسم کے انحراف کرنے والے گروہوں کو جواب دے رہی ہے، پہلا گروہ مادہ پرستوں کا ہے جو دنیا کو ازلی”قدیمی“ سمجھتے تھے اور خلق وآفرینش کے منکر تھے ،دوسرا گروہ دو خداؤں کی پرستش کرنے والوں کا ہے جو نور و ظلمت کو دو مستقل مبدا قرار دیتے تھے، تیسرا گرویہ مشرکین عرب کا ہے جو خدا کے لیے شریک وشبیہ کے قائل تھے یہ ان کا رد بھی ہے ۔

1
6:1
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ
حمد و ستائش اس اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کو ایجاد کیا لیکن کافر اللہ کے لئے شریک و شبیہ قرار دیتے ہیں حالانکہ اس کی توحید اور یکتائی کی دلیلیں تخلیق کائنات میں ظاہر و عیاں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 2 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
6:2
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ
وہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں گیلی مٹی سے پیدا کیا پھر اس نے ایک مدت مقرر کی (تاکہ انسان درجہ کمال کو پہنچ جائے) اور حتمی اجل اسی کے پاس ہے (اور وہ اس سے آگاہ ہے) اس کے باوجود (تم مشرک لوگ اس کی توحید و یکتائی، اس کی قدرت) میں شک و شبہ رکھتے ہو اور اس کا انکار کرتے ہو۔

کیا تاریکی بھی مخلوقات میں سے ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اوپر والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح نور خدا کی مخلوق ہے اسی طرح ظلمت بھی اس کی مخلوق ہے، حالانکہ فلسفہ اور علم طبیعات (physics)کے علماء میں یہ مشہور ہے کہ ”ظلمت“ عدم نور کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ معدوم کو مخلوق کا نام نہیں دیا جا سکتا اس بنا پر زیر بحث آیت میں ظلمت کو کس طرح خدا کی مخلوق شمار کیا گیا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ظلمت ہمیشہ ظلمت مطلقہ کے معنی میں نہیں ہوتی، بلکہ زیادہ تر فراوان وقوی نور کے مقابل میں بہت کم اور ضعیف نور کے لیے بھی ظلمت کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلا ہم سب کہتے ہیں”تاریکی رات “ حالانکہ کہ یہ بات مسلم ہے کہ رات میں ظلمت مطلقہ نہیں ہوتی، بلکہ رات کی تاریکی ہمیشہ کم رنگ ستاروں کے نور کی آمیزش رکھتی ہے یا دوسرے منابع نور سے ملی ہوئی ہوتی ہے اس بنا پر آیت کا معنی و مفہوم یہ ہوگا کہ خدا نے تمہارے لیے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی قراردی ہے کہ جن میں سے ایک کا نور بہت قوی ہے اور دوسرا کا نور بہت کمزور ہے اور یہ بات واضح وبدیھی ہے کہ ا س قسم کی ظلمت مخلوق خدا میں سے ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ تو صحیح ہے کہ ظلمت مطلقہ ایک ایسا امر ہے جسے عدم کہا جا تا ہے لیکن کوئی بھی امر معدوم جب مخصوص حالات میں واقع ہوتو حتما اور یقینا اس عدم کا سر چشمہ ایک ایک وجودی بھی ہوتا ہے، یعنی وہ چیز جو ظلمت مطلقہ کو مخصوص حالت میں معین اہداف ومقاصد کے لیے وجود میں لاتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ وسائل وجودی سے استفادہ کرے، مثلا ہم چاہتے ہیں کہ ایک مخصوص وقت کے لیے کمرے کو ایک عکس ظاہر کرنے کے لیے تاریک کریں، تو اس کے لیے ہم مجبور ہیں کہ کسی تدبیر سے نور کو روکیں تاکہ اس معین وقت میں تاریکی پیدا ہوجائے تو ایسی ظلمت مخلوق ہے(مخلوق بالتبع)اور اصطلاحی طور پر اگر چہ عدم متعلق مخلوق نہیں لیکن عدم خاص وجود ہی ایک حصہ ہے اور وہ مخلوق ہے ۔

نور رمز وحدت ہے اور ظلمت رمز پراکندگی

ایک دوسرا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئے یہ ہے کہ یہ آیات قرآن میں نور صیغہ مفرد کے ساتھ ہے اور ظلمت جمع کی صورت میں (ظلمات ) ۔ ممکن ہے کہ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ ظلمت (خواہ حسی ہو یا معنوی) ہمیشہ پراکندگیوں، جدائیوں اور دوریوں کا سرچشمہ ہوتی ہے جب کہ نور رمز وحدت واجتماع ہے ۔ ہم نے اکثر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ہم گرمی کی کسی رات صحن کے درمیان یا بیابان کے ابدر ایک چراغ روشن کرتے ہیں تو ہر قسم کے جانور تھوڑی سی دیر میں اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور باقی زندگی مختلف صورتوں میں دکھائی دیتی ہے، لیکن جب اس ”چراغ“ کو بجھادیتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کسی طرف چل دیتا ہے اور سب پراکندہ اورمنتشر ہوجاتے ہیں، اجتماعی اور معنوی مسائل میں بھی یہی صورت ہے، علم ، قرآن اور ایمان کا نور سرمایہ وحدت ہے اور جہل ، کفر اور نفاق کی تاریکی پراکندگی کا سبب ہے ۔ اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ خدا پرستی اور توحید کی بنیادوں کو دلوں میں مستحکم کرنے کے لیے پہلے انسان کو عالم کبیر کی طرف متوجہ کرتی ہے اور بعد والی آیت میں عالم صغیر یعنی انسان کی طرف توجہ دلاتی ہے، اس سلسلہ میں انتہائی حیرےت انگیز مسئلہ یعنی اس کی خاک اور گیلی مٹی سے پیدائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ وہی خدا ہے جس نے تمھیں گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے(ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ ) یہ صحیح ہے کہ ہماری خلقت ہمارے ماں باپ سے ہوئی ہے نہ کہ خاک سے لیکن چونکہ سب سے پہلے انسان کی پیدائش خاک اور گیلی مٹی سے ہوئی تھی لہٰذا ہمیں اسی طرح خطاب کرنا درست ہے ۔ اس کے بعد انسان کی عمر کے کمال کو پہنچنے کے مراحل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس کے بعد ایک مدت مقرر کی کہ جس میں انسان روئے زمیں میں پرورش پاکر کمال کو پہنچے(ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا) ” اجل“ اصل میں ”مدت معین“ کے معنی میں ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آخری وقت یا موقع کو بھی اجل کہا جاتا ہے، مثلا کہتے ہیں کہ اجل دین آپہنچا یعنی قرض کی ادائیگی کا وقت آخر آپہنچا ہے، یہ جو موت کے آجانے کو اجل کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انسان کا عمر کا آخری لمحہ اس وقت پر ہوتا ہے ۔ اس کے بعد اس بحث کی تکمیل کے لیے قرآن کہتا ہے :اجل مسمیٰ خدا کے پاس ہے(وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ) ۔ اس کے بعد کہتا ہے:تم مشرک لوگ اس پیدا کرنے والے کے بارے میں کہ جس نے انسان کر بے قدر وقیمت اور حقیر چیز یعنی گیلی مٹی سے پیدا کیاہے اور تمھیں ایسے ایسے حیرت انگیز مرحلوں سے گزارا ہے، شک کرتے ہو اورانکار کا راستہ اختیار کرتے ہو، تم نے بتوں جیسی حقیر مخلوق کو خدا کہا ہم پلہ قرار دیا ہے یا تم مردوں کے زندہ کرنے اور قیامت کے برپا کرنے کے بارے میں خدا وند تعالیٰ کی قدرت میں شک وشبہ رکھتے ہو(ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡن)

اجل مسمیٰ کیا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ”اجل مسمیٰ“”اجلا “ آیت میں دو الگ الگ معنی کے لیے ہیں اور یہ جو بعض نے دونوں کو ایک ہی معنی میں لیا ہے تو یہ لفظ ”اجل“ کے تکرار کے ساتھ ، خصوصا دوسری مرتبہ ”مسمی“ کے ہوتے ہوئے کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔ اسی لیے مفسرین نے ان دونوں کے فرق کے بارے میں کتنی بحثیں کیں ہیں لیکن جو کچھ قرآن کریم کی دوسری تمام آیت کے قرینہ سے اور اسی ان روایات سے جو اہل بیت پیغمبرؐ کے وسیلہ سے ہم تک پہنچی ہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کا فرق اس بات میں ہے ”اجل“ اکیلا ہو تو یہ غیر حتمی عمر ، مدت اور وقت کے معنی میں ہوتا ہے اور ”اجل مسمی“ حتمی عمر اور معین مدت کے معنی میں ہوتا ہے، دوسرے لفظوں میں ”اجل مسمی“ طبیعی موت کو کہتے ہیں اور ”اجل“ وقت سے پہلے آنے والی موت ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ بہت سی موجودات اپنی طبعی وفطری ساخت اور ذاتی استعداد وقابلیت کے مطابق ایک طولانی مدت تک باقی رہ سکتی ہے لیکن یہ بات بھی ممکن ہے کہ اس مدت کے دوران کچھ ایسی رکاوٹیں پیدا ہوجائےں جو انھیں ان کی آخری عمر طبیعی تک پہنچ دے، مثلا ایک تیل سے جلنے والا چراغ ، اس کے تیل کی مقدار کے پیش نظر ممکن ہے کہ بیس گھنٹے روشنی دینے کی استعداد رکھتا ہو، لیکن ایک آندھی کا جھونکا یا بارش کا چھینٹا یا اس کی یا اس کی نگہداشت نہ کرنا اس کی کوتاہ عمری کا سبب بن جائے ۔ اگر چراغ کو کسی ایسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو اور تیل کے آخری قطرے تک جلتا ہوا خاموش ہوجائے تو وہ اپنی حتمی اجل کو پہنچ گیا ہے اور اگر اس سے پہلے ہی کچھ رکاوٹیں چراغ کی خاموشی کا سبب بن جائےں تو اس کی عمر کی مدت”اجل غیر حتمی“ کہیں گے ۔ ایک انسان کے بارے میں بھی معاملہ اسی طرح ہے، اگر اس کی بقا کے لیے تمام شرائط جمع ہوں اور موانع بر طرف ہوں تو اس کی ساخت اور استعداد اس بات کی مقتضی ہو گی کہ وہ ایک طولانی مدت تک زندگی بسر کرے، اگر چہ اس مدت میں آخرکار ختم ہوجانا ہے اور اس کی ایک حد ضرور ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ غذا کی بد پرہیزی کے اثر سے یا مختلف چیزوں کی عادت میں مبتلا ہونے یا خودکشی کرنے یا کچھ گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے اس مدت سے بہت پہلے ہی مرجائے موت کی کی پہلی صورت کو ”اجل مسمی“ اور دوسری صورت کواجل غیر حتمی کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حتمی اجل اس صورت میں ہے جب ہم تمام علل اسباب پر نظر رکھیں اور اجل غیر حتمی اس صورت میں ہے جب صرف مقتضیات کی طرف دیکھیں، ان دونوں طرح کے اجل کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے مطالب واضح ہوتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم روایات میں پڑھتے ہیں کہ صلہ رحمی عمر کو زیادہ اور قطع رحمی عمر کو کم کردیتی ہے ( یہاں عمر اور اجل سے مراد غیر حتمی اجل مراد ہے ) ۔ ایک آیت میں ہے کہ: ” فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَ “۔ جب ان کی(موت) اجل آتی ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتی ہے اور نہ آگے (اعراف ،۳۴)۔

اجل سے مراد، حتمی موت

اس بنا پر یہ آیت اس موقع سے مربوط ہے جب انسان اپنی آخری عمر کو پہنچ گیا ہو لیکن وہ موتیں جو قبل ازوقت واقع ہوجائےں ان پر اس آیت کا اطلاق نہیں ہوسکتا ۔ اور ہر صورت میں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ دونوں اجلیں خدا ہی کی طرف سے معین ہوتی ہیں، ایک مطلق طور پر اور دوسری مشروط اور معلق طریقہ سے، بالکل اسی طرح جیسے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ چراغ بیس گھنٹوں کے بعد بلاشرط خاموش ہوجائے گا، اور یہ بھی ہم کہہ دیتے ہیں کہ اگر آندھی چل پڑی تو دوہی گھنٹوں کے بعد بجھ جائے گا، یہ بات انسان ، قوموں اور ملتوں کے بارے میں بھی اسی طرح ہے، ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص یا فلاں قوم،فلاں مقدار عمر کے کے بعد قطعی ویقینی طور پر ختم ہوجائی گی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ ظلم وستم ،نفاق واختلاف اور سہل انگاری وسستی اختیار کریں گے تو اس مدت کے ایک تہائی حصہ میں ہی ختم ہوجائے گی، دونوں اجلیں خدا کی طرف سے ہیں ایک مطلق ہے اور دوسری مشروط۔ امام صادق علیہ السلام سے اوپر والی آیت کے ذیل میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”ھما اجلان؛اجل محتوم واجل موقوف“ یہ دو قسم کی اجلوں کی طرف اشارہ ہے، اجل حتمی اور اجل مشروط۔ دوسری احادیث میں جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں اس بات کی تصریح ہوگئی ہے کہ اجل غیر حتمی(مشروط) آگے پیچھے ہوسکتی ہے لیکن اجل حتمی قابل تغیر نہیں ہے(بحوالہ نورالثقلین،جلد۱،صفحہ۵۰۴) ۔

3
6:3
وَهُوَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِي ٱلۡأَرۡضِ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَجَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُونَ
اور آسمانوں اور زمین میں اللہ تو وہی ہے جو تمہاری پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے اور آشکار کو بھی اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اور کسب کرتے ہو اس سے بھی باخبر ہے۔

تمام چیزوں کا خالق وہی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت میں توحید اور خدا وند تعالیٰ کی یگانگی کے سلسلہ میں گذشتہ بحث کی تکمیل کی گئی ہے اور ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو موجودات کی ہر نوع کے لیے علیحدہ علیحدہ خداؤں کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ بارش کا خدا، جنگ کا خدا ،صلح خدا ، آسمان کا خدا وغیرہ وغیرہ، کہتا ہے : وہی ہے وہ خدا کہ جس کی الوہیت تمام آسمانوں اور زمین پر حکومت کرتی ہے ۔ (وَ ہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ) (اس جملہ کی ترکیب کے سلسلہ مین مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ”ہو“ مبتدا ہے اور ”اللّٰہ“ خبر ہے اور فی السموات۔۔۔کا جار مجرور اس فعل سے متعلق ہے جو لفظ اللہ سے سمجھا جاتا ہے اور حقیقت میں جملہ کا معنی اس طرح ہے”ھوالمنفرد فی السموات بالالوھیة“۔) یعنی اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ تمام چیزوں کا خالق وہی ہے تو ان سب کا مدبر ومدیر بھی وہی ہوگا ، کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین بھی خالق اور آفریدگار اللہ ہی کو جانتے تھے لیکن تدبیر وتصرف بتوں کے ہاتھ سمجھتے تھے ۔ آیت انھیں جواب دیتی ہے کہ جو ذات خالق ہے تمام چیزوں میں تدبیر وتصرف بھی اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا وند تعالیٰ ہرجگہ حاضر ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے ۔ یہ بات بھی نہیں کہ وہ جسم ہے یا اس کا کوئی مکان ہے بلکہ وہ تمام جگھوں پر احاطہ رکھتاہے ۔ یہ بات ضروری ہے کہ جو ہر جگہ حکومت کرتا ہوں اور ہر چیز کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہوں اور وہ ہر جگہ حاضر ہو، وہ تمام اور اسرار اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا بعد والے جملہ میں کہتا ہے کہ: اےسا خدا وہی ہے جو تمھارے پوشیدہ اور آشکار امور کو جانتا ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اس سے بھی باخبر ہے(یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ) ۔ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ ”سر“ وجھر“ آیت میں انسانوں کے اعمال اور ان کی نیتوں پر بھی محیط ہے اس بنا پر”ما تکسبون“ (جو کچھ انجام دیتے ہو)کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ ”کسب“ عمل کے نیتوں اور روحانی حالت کے معنی میں اچھے اور برے اعمال کا حاصل ہے ، یعنی وہ تمہارے اعمال اور نیتوں سے بھی باخبر ہے اور ان کے اثرات سے بھی جو یہ اعمال تمہاری روح میں پیدا کرتے ہیں، بہر حال اس جملہ کا ذکر انسانوں کے اعمال کے سلسلہ میں تاکید کے لیے ہوا ہے ۔

4
6:4
وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ
کوئی نشانی اور آیات خدا میں سے کوئی آیت ان تک نہیں پہنچی مگر یہ کہ وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
6:5
فَقَدۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَسَوۡفَ يَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَـٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
انہوں نے حق کا انکار کر دیا جب کہ وہ ان کی طرف آیا لیکن جس بات کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے بہت جلد انہیں اس کی اطلاع مل جائے گی اور وہ اپنے اعمال کے نتائج سے آ گاہ ہوجائیں گے۔

مشرکین کے تکبر، لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہم بیان کرچکے ہیں کہ سورہ انعام میں زیادہ تر روئے سخن مشرکین کی طرف ہے اور قرآن مجید ان کی بیداری اور آگاہی کے لیے طرح طرح کے وسائل وذرائع سے کام لیتا ہے، یہ آیت اور بہت سی دوسری آیات جو اس کے بعد آئیں گی اسی موضوع سے متعلق ہے ۔ اس آیت میں حق اور خدائی نشانیوں کے مقابلہ میں مشرکین کی تکبر ،لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ ایسے ے ہٹ دھرم اور لاپرواہ ہیں کہ وہ پروردگار کی نشانیوں میں سے جس نشانی کو بھی دیکھتے ہیں فورا اس سے منہ پھیر لیتے ہیں و َ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ) (یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ لفظ”آیة “ نکرہ سیاق نفی ہے، لہٰذا عمومیت کا فائدہ دے گایعنی وہ کسی بھی آیت اور کسی بھی نشانی کے مقابلے میں نہیں ٹھہرتے اور اس کامطالعہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔) یعنی ہدایت اور راہ یابی کی سب سے پہلی شرط ہی تحقیق وجستجو ہے جو کہ ان میں موجود نہیں ہے، نہ صرف یہ کہ حق کو حاصل کرنے کا جوش وولولہ اور عشق ان میں موجود نہیں ہے، کہ وہ ان پیاسوں کی طرح جو پانی کے پیچھے دوڑتے ہیں، حق کی تلاش میں ہوں، بلکہ اگر صاف وشفاف پانی کا چشمہ بھی ان کے گھر کے سامنے جوش مارنے لگے ، تو وہ اس کی طرف سے منہ پھیر لیں اور بالکل اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھے، خواہ یہ آیات ان کے پروردگار کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو ”ربہم“اور ان کی تربیت وتکامل کے لیے ہی کیوں نہ نازل ہوئی ہو ۔ یہ صورت زمانہ جاہلیت اور مشرکین عرب میں ہی منحصر نہیں، اب بھی ہم ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جو صرف ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گئے ہیں لیکن وہ خدا اورمذہب کے بارے میں تحقیق وجستجو کرنے کی ایک لمحہ کے لیے بھی زحمت اٹھا نے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہ تو معمولی بات اگر اتفاق سے کوئی کتاب یا رتحریر اس سلسلے کی ان کے ہاتھ میں آجائے تو اس کی طرف نگاہ تک نہیں کرتے، اور اگر کوئی شخص اس کے بارے میں ان سے گفتگو کرے تو وہ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہ ہٹ دھرم جاہل اور بے خبر لوگ ہیں جو ممکن ہے بعض اوقات عالم کے لباس میں ملبوس ہیں ۔ اس کے بعد ان کے اس عمل کے نتیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب حق ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کی تکذیب کی حالانکہ اگر وہ پرور دگار کی آیات اور نشانیوں میں غور وفکر کرتے تو حق کو اچھی طرح دیکھ لیتے اور پہچان لیتے اور اس کو یاد کرلیتے (فَقَدۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ)اور اس تکذیب اور جھٹلانے کا نتیجہ وہ بہت جلدی پالیں گے اوراس کی خبر کے جس کا انھوں نے مذاق اڑاتھا ان تک پہنچ جائے گی (فَسَوۡفَ یَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ) ۔ اوپر والی آیات میں درحقیقت کفر کے تین مراحل کی طرف اشارہ ہوا ہے جس میں مرحلہ با مرحلہ شدت پیدا ہوتی جاتی ہے ۔ پہلا مرحلہ اغراض وروگردانی کا ہے، اس کے بعد تکذیب اور جھٹلانے کا مرحلہ ہے اور بعد میں حقائق اور آیات خدا کے استھزاء تمسخر اور مذاق اڑا نے کا مرحلہ ہے ۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان کفر کی راہ میں کسی ایک مرحلہ پر رکتا نہیں ہے، بلکہ جس قدر وہ آگے بڑھتا جاتا ہے اسی قدر اس کی شدت انکار، عداوت، حق سے دشمنی اور خدا سے بےگانگی میں زیادتی ہوتی جاتی ہے ۔ آیت کے آخر میں جو تھدید کی گئی ۔ اس سے منظور یہ ہے کہ آئندہ چل کر یا جلدی یا بدیر بے ایمانی کا برا انجام دنیا اور ٓخرت میں ان کا دامن پکڑے گا ۔ بعد کی آیات بھی اس تفسیر کی گواہ اور شاہد ہیں ۔

6
6:6
أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ مَّكَّنَّـٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّن لَّكُمۡ وَأَرۡسَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡهِم مِّدۡرَارٗا وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَنۡهَٰرَ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ
کیا انہوں نے دیکھا نہیں ہے کہ ہم نے کتنی گذشتہ اقوام کو ہلاک کیا ہے وہ قومیں کہ (جو تم سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں ) جنہیں ہم نے ایسی توانائیاں عطا کی تھیں جو تمہیں نہیں دی ہیں ہم ان کی طرف پے در پے بارشیں بھیجیں اور ان (کی آبادیوں ) کے نیچے نہریں جاری کیں (لیکن جب انہوں نے سر کشی اور طغیانی کی تو) ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا اور ان کے بعد ہم دوسری قوم کو وجود میں لائے۔

سرکشی کرنے والوں کو سرگذشت

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت کے بعد قرآن بت پرستوں اور مشرکین کو بیدار کرنے کے لیے شرک و بت پرستی کے مختلف محرکات کی مناسبت سے ایک مرحلہ دار ترتیبی پروگرام پیش کرتا ہے، پہلے تو عامل غرور کو ختم کرنے کے لیے کہ جو عامل طغیان وسرکشی کے اہم عوامل میں سے ایک عامل ہے کام کا آغاز رتا ہے اور اقوام گذشتہ کی کیفیت اور ان کے دردناک انجام کی یاد دہانی کرانے کے ساتھ ان افراد کو کہ جن کی انکھوں کے اوپر غرور کا پردہ پڑا ہوا ہے تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے:کیا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا کہ ہم نے کیسی کیسی قومیں ان سے پہلے ہلاک کردی وہ ایسی قومیں تھیں جنھیں ہم نے روئے زمین وہ توانائیاں دے رکھی تھی جو تمھارے اختیار میں نہیں دیں (اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّکُمۡ) ان میں سے ایک یہ ہے کہ: ہم ان کے لیے یکے بعد دیگر برکت والی بارشیں بھیجیں (وَ اَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدۡرَارًا) مدرار، اصل میں ”در“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی دودھ ہے، بعد میں دوسری بہنے والی چیزوں مثلا بارش کے برسنے پر بھی بولا جانے لگا، اور مدرار مبالغہ کا صیغہ ہے اور ”ارسلنا السماء“ حقیقت میں زیادہ مبالغے کے لیے ہے ۔ اور دوسرا یہ ہے کہ جاری پانی نہریں ان کی آبادیوں کے نیچے جاری کی ہیں اور ان کے اختار میں دیں ہیں وَّ جَعَلۡنَا الۡاَنۡہٰرَ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ) ۔ لیکن جب انھوں نے سرکشی کا راستہ اختیار کرلیا تو اان امکانات میں سے کوئی چیز بھی انھیں خدائی سزا سے نہ بچا سکی اور ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے نیست ونابود کردیا ” فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ“ ان کے بعد ہم دوسری قوموں کو ان کی جگہ لے آئے (وَ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ) کیا گذشتہ لوگوں کے حالات کا مطالعہ ان کے لیے باعث عبرت نہیں ہونا چاہیے اور انھیں خواب وغفلت سے بیدار اور سستی ،غرور سے ہوشیار نہیں ہوجانا چاہئے، کیا وہ خدا جس نے گذشتہ لوگوں کے لیے یہ عمل کیا ہے، یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہی ان کے ساتھ بھی کرے ۔

چند اہم نکات

۱۔” قرن“ اگر چہ عموما طویل زمانہ کے معنی میں (مثلا سو سال، ستر سال یا تیس سال کے لیے) آیا ہے لیکن کبھی کبھی جیسا کہ اہل لغت نے ت تصریح کی ہے ایسی جمعیت اور قوم کو بھی کہا جاتا ہے کہ جو ایک ہی زمانے میں موجود رہی ہو ، اصولی طور پر قرن مادہ اقتران سے ہے اور نزدیکی کے معنی دیتا ہے اور چونکہ عصر واحد اور قریب والے زمانے کے لوگ ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں لہٰذا انھیں بھی اور ان کے زمانے کو بھی قرن کہا جاتا ہے ۔ ۲۔ قرآن کریم کی آیات میں بارہا اس امر کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ مادی وسائل کی فروانی کم ظرف افراد کے غرورو غفلت کا باعث بن جاتی ہے، کیونکہ وہ ان چیزوں کی اپنے پاس موجودگی کی صورت میں اپنے آپ کو پروردگار عالم کی طرف سے بے نیاز سمجھنے لگ جاتے ہیں، وہ اس بات کی طرف سے غافل ہوتے ہیں کہ اگر ہر ہر لحظے کے لیے اور ہر ہر ثانیہ کے لیے خداوند تعالیٰ کی کمک اور امداد ان تک نہ پہنچے تو وہ نابود ہوجائیں اور بالکل ختم ہوجائیں جیسا کہ ارشادالٰہی ہے : "كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىO أَن رَّآهُ اسْتَغْنَى“ ۔ انسان طغیان وسرکشی کرتا ہے جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے(علق، آیہ ۶و۷) ۔ ۳۔ یہ تنبیہ صرف بت پرستوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ قرآن آج بھی اس مشینی دور کی سرمایہ دار دنیا کو بھی کہ جو وسائل زندگی فراہم ہونے کی وجہ سے بادہ غرور سے سرمست ہوچکی ہے تنبیہ کرتا ہے کہ وہ گزرے ہوئے لوگوں کی حالت کو فراموش نہ کرے کہ وہ گناہوں کے اثر سے کس طرح تمام چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، ہو سکتا ہے کہ تم بھی ایک اور عالمی جنگ کی ایک چنگاری سے سب کچھ ہاتھ سے دے بیٹھو اور اپنے صنعتی تمدن سے پہلے والے زمانے کی طرف پلٹ جاؤ ، تمھیں اس بات پر توجہ رکھنی چاہئےے کہ ان کی بد بختی کا سبب گناہ، ظلم وستم، ناانصافی اور عدم ایمان کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی یہی کچھ تمھارے معاشرے میں بھی آشکار ہوچکا ہے ۔ حقیقتا فراعنہ مصر ، ملوک سبا، سلاطین کلدہ آشور اور قیصران روم کی تاریخ اور ان کے بے حساب ناز ونعمت اور اس افسانوی زندگی کا مطالعہ اور اس کے بعداس دردناک انجام کا مطالعہ کہ کس طرح ان کے ظلم اور کفر نے ان کی زندگی کے دفتر کو لپیٹ کر رکھ دیا اور ہم سب کے لیے ایک عظیم اور واضح درس عبرت ہے ۔

7
6:7
وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتَٰبٗا فِي قِرۡطَاسٖ فَلَمَسُوهُ بِأَيۡدِيهِمۡ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
اگر ہم کاغذ پر (لکھی ہوئی) کوئی کتاب تجھ پر نازل کرتے (اور وہ دیکھنے کے علاوہ) اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے بھی تو پھر بھی کفار یہی کہتے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

ہٹ دھرمی کا آخری درجہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہٹ دھرمی کا آخری درجہ ان کے انحراف کے اسباب میں سے دوسری چیز تکبر اور ہٹ دھرمی ہے کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے، کیونکہ عام طور پر متکبر لوگ ہی ہٹ دھرم ہوتے ہیں،کیونکہ تکبر انھیں حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی اجازت نہیں دیت، یہی بات ان کی ہٹ دھرمی کا سبب بن جاتی ہے اور وہ ہر واضح دلیل اور روشن برہان کا اسی طرح سے انکار کرتے ہیں ۔ خواہ ان کا وہ انکار بدیہیات کے انکار تک پہنچ جائے جیسا کہ ہم نے بارہا خود ٓنکھوں سے متکبر اور خود خواہ افراد میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے ۔ قرآن اس مقام پر بعض بت پرستوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نصر بن حارث، عبداللہ بن ابی امیہ اور نوفل بن خویلد تھے انھوں نے پیغمبر ؐسے یہ کہا تھا کہ ہم صرف اس صورت میں ایمان لائیں گے جب خدا کی طرف سے ہم پر چار فرشتوں کے ساتھ ہم پر خط نازل ہوگا، قرآن کہتا ہے: اگر اسی طرح جیسا کہ ان کا مطالبہ ہے کسی کاغذ کے صفحہ پر ہی کوئی تحریر یا اس کی مانند کوئی اورچیز کوئی تم پر نازل کردے اور مشاہدہ کرنے کے علاوہ اسے اپنے ہاتھ چھوئیں بھی پھر بھی وہ یہی کہیں گے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے (وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ) ۔ یعنی ان کی ہٹ دھرمی کا دائرہ اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ وہ روشن ترین محسوسات کا بھی یعنی ان باتوں کا بھی جو دیکھنے اور چھو نے سے معلوم ہوسکتی ہے انکار کردیتے ہیں اور جادو کا بہانہ کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے روگرداں ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں حقائق کے ثبوت کے لیے ان نشانیوں کے دسویں حصہ پر ہی قناعت کرلیتے ہیں اور اسے ہی قطعی اور مسلم جان لیتے ہیں، یہ بات صرف اس وجہ سے ہے کہ خود خواہی، تکبر وشدید ہٹ دھر می نے ان کی روح پر سایہ ڈال رکھا ہے ۔ ضمنی طور پر اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ ”قرطاس“ کا معنی ہر وہ چیز ہے کہ جس پر لکھتے ہیں خواہ وہ چیز کاغذ ہو یا چمڑا یا تختیاں آج قرطاس صرف کاغذ کا کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جن چیزوں پر لکھا جاتا ہے ان میں سے کاغذ کا ہی سب سے زیادہ رواج ہے ۔

8
6:8
وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٞۖ وَلَوۡ أَنزَلۡنَا مَلَكٗا لَّقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ
انہوں نے کہا کہ اس کے اوپر کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل ہوا (تاکہ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے میں اس کی مدد کرتا) لیکن اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو پھر معاملہ ہی صاف ہو جاتا تو (اور ایسی صورت میں اگر وہ مخالفت کریں گے) تو پھر انہیں مہلت نہیں دی جائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
6:9
وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ مَلَكٗا لَّجَعَلۡنَٰهُ رَجُلٗا وَلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِم مَّا يَلۡبِسُونَ
اور اگر اسے فرشتہ قرار دیتے تو یقیناً اسے بھی ایک مرد کی صورت میں ہی لاتے۔ پھر بھی (ان کے خیال کے مطابق) ہم معاملہ کو ان پر مشتبہ ہی چھوڑ دیتے جیسے وہ دوسروں پر معاملہ مشتبہ بناتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
6:10
وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُواْ مِنۡهُم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
(اے رسول اس حالت سے پریشان نہ ہو) تجھ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا لیکن آخر کار جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے اسی نے ان کے دامن کو پکڑ لیا (اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہو گیا)۔

بہانہ تراشیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بہانہ تراشیاں کفر اور انکار کے اسباب میں سے ایک اور سبب بہانہ جوئی ہے ، اگر چہ بہانہ جوئی کی علامت بھی دوسرے عوامل مثلا تکبر وخود خواہی وغیرہ ہی ہے، لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک منفی فکر کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور یہ خود حق کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہ کرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔ ان بہانہ تراشیوں میں سے کہ جو مشرکین پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مقابلہ میں کیا کرتے تھے اور قرآن مجید کی کئی آیات میں ان کی طرف اشارہ بھی ہوا ہے اور زیر بحث آیت میں بھی ان کا بیان ہوا ہے ،ایک یہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ پیغمبر ؐاتنے عظیم کام کو اکیلے ہی اپنے ہاتھ میں کیوں لے لیا ہے ،اس ماموریت میں کوئی اور موجود ،جو نوع بشر میں سے نہ ہو بلکہ فرشتوں کی جنس سے ہو، ان کی ہمراہی کیوں نہیں کرتا، کیا ایسا نسان کہ جو ہماری ہی جنس سے ہو تنہا بار رسالت کا اپنے کندھے پر اٹھا سکتا ہے؟ وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَک ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا) ۔ حالانکہ آپ کی نبوت کے ثبوت میں واضح نشانیوں اور روشن دلائل کے ہوتے ہوئے ان بہانہ تراشیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، علاوہ ازیں نہ تو فرشتہ انسان سے زیادہ قدرت رکھتا ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ رسالت کے لیے استعداد بلکہ انسان اس سے کئی درجے زیادہ اہل ہے، قرآن دو جملوں کے ساتھ کہ جن میں سے ہرایک اپنے اندر ایک استدلال رکھتا ہے انھیں جواب دیتا ہے ۔ پہلا یہ کہ اگر فرشتہ نازل ہوجائے اور پھر وہ ایمان نہ لائےں،تو ان سب کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا(وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ)۔ لیکن یہ بات کہ فرشتے کے آنے اور اس کی پیغمبرؐ کی ہمراہی سے منکرین کیوں موت اور ہلاکت میں گرفتار ہوں گے، اس کی دلیل وہی ہے کہ جس کی طرف قبل کی چند آیات میں اشارہ ہوچکا ہے کہ اگر نبوت کا محسوس طور پر مشاہدہ ہوجائے، یعنی فرشتے کے آنے سے غیب شہود میں بدل جائے اور تمام چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو پھر تو اتمام حجت کا آخری مرحلہ بھی پورا ہوجائے گا کیوں کہ اس سے بڑھ کر اور کسی دلیل کا تصور ہو ہی نہیں سکتا، تو ان حالات میں اگر کوئی مخالفت کرے گا تو اس کی سزا اور عذاب یقینی ہوجائے گا ۔ لیکن خدوند تعالیٰ انپے لطف مرحمت کی وجہ سے اور اس غرض سے ان کے پاس نظر ثانی کے لیے موقع باقی رہے یہ کام نہیں کرتا، مگر خاص موقع پر کہ جہاں وہ یہ جانتا ہے کہ مدمقابل اسے قبول کرنے کی مکمل استعداد رکھتا ہے یا ایسے موقع پر جہاں جانب مخالف نابود ہونے کا مستحق ہے، یعنی اس نے ایسے عمل انجام دئے ہوں کہ وہ خدائی سزا کا مستحق بن گیا ہو، تو اس موقع پر اس کے تقاضے کے مطابق ترتیب اثر دیا جاتا ہے، اور جب وہ قبول نہیں کرتا تو اس کی نابودی کا حکم صادر ہوجاتا ہے ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مقام رہبری اور لوگوں کی تربیت کے ذمہ دار ہونے اور ان کے لیے عملی نمونہ پیش کرنے کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ لازما نوع بشر میں سے ہوں اور ان کے ہمرنگ اور ہم صفات ہوں اور تمام غرائض وصفات انسانی ان میں موجود ہوں کیوں کہ فرشتہ، علاوہ اس کے کہ وہ انسان کے لیے دیکھنے کے قابل نہیں ہے، اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ انسان کے لیے نمونہ عمل بن سکے کیونکہ نہ وہ انسان کی ضروریات اور تکالیف سے آگاہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے غرائض وخواہشات سے آشنا ہے ، اسی دلیل سے اس کی رہبری ایسے موجود کے لیے کہ جو ہر لحاظ سے اس سے مختلف ہے بالکل ناکارہ ہوگی۔ لہٰذا قرآن دوسرے جواب میں کہتا ہے: اگر ہم اسے فرشتہ قرار دیتے اور ان کے مطالبے پر عمل کرتے تو پھر بھی ہمارے لیے یہ لازم تھا کہ ہم انسان کی تمام صفات کو اس میں پیدا کرتے اور اسے صورت و سیرت میں مرد بناتے (وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا)”جعلناہ“ کی ضمیر پیغمبر کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے، اور اس کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے کہ جو پیغمبر کے ساتھ اس کی نبوت کو مستحکم کرنے کے لیے مبعوث ہو، دوسری صورت میں تو ان کے مطالبے پر عمل ہوگا اور پہلی صورت میں ان کے مطالبے سے بھی بڑھ کر صورت ہوگی) جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ” لجعلناہ رجلا“ سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ ہم اسے صرف انسانی شکل دیں گے، جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کرلیا ہے، بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اسے ظاہر وباطن کے لحاظ سے صفت انسانی سے متصف کریں گے ۔ اس کے بعد اس کا نتیجہ پیش کرتا ہے کہ اس حالت میں وہ ہم پر پھر انھیں سابقہ اعتراضات کو دہراتے کہ کسی انسان کو رہبر کے طور پر کیوں مامور کیا گیا اور حقیقت کو ہم پر پوشیدہ رکھا ہے وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ) ۔ ”لبس“ (بروزن ”درس“)پردہ پوشی اور اشتباہ کاری کے معنی میں ہے اور”لبس“(بروزن قفل) لباس پہننے کے معنی میں ہے پہلے کے ماضی لبس (بروزن ضرب )ہے اور دوسرے کی ماضی لبس(بروزن حسب ہے) اور یہ بات واضح ہے کہ پہلا والا مفہوم یعنی اگر ہم فرشتہ کو بھیجتے تو ضروری تھا کہ وہ انسانی صورت وسیرت میں ہو، اس حالت میں ان کے عقیدے کے مطابق ہم نے لوگوں کو اشتباہ اور خطا میں ڈالا ہوتا اور پھر وہ ہمارے لیے انھیں سابقہ نسبتوں کو دہراتے جس طرح کہ وہ خود نادان اور بے خبر لوگوں کو اشتباہ اور خطا میں ڈالتے ہیں اور حقیقت کا چہرہ ان سے چھپاتے ہیں، اس بنا پر ”لبس“اور پردہ پوشی کی خدا کی طرف نسبت ان کے زاویہٴ نگاہ سے ہے ۔ آخر میں خداوند تعالیٰ پیغمبرؐ کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: ان کی مخالفت، ہٹ دھرمی اور سخت گیری سے پریشان نہ ہو کیوں کہ آپ سے پہلے کہ پیغبروں میں سے بھی بہت سے پیغمبر وں کا مذاق اڑایا گیا، لیکن آخر کا رجس چیز کا وہ تمسخر کیا کرتے تھے اسی نے ان کے دامن کو پکڑ لیا اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ) در حقیقت یہ آیت پیغمبر ؐکے دل کی تسلی کا سبب بھی ہے کہ اس کی راہ میں ذرا سا تزلزل بھی ان کے ارادہ میں نہ آئے اور ہٹ دھرم مخالفین کے لیے دھمکی بھی ہے کہ وہ اپنے کام کے برے اور دردناک انجام کا سوچ لیں۔ (اس بات پر توجہ رکھنی چاہےے کہ لفظ”حاق“ کا معنی نازل ہو اور ”وارد ہوا“ ہے اور مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُونسے مراد انبیاء کا عذاب الٰہی کی خبر دینا ہے، کہ جنھیں ہٹ دھرم ،دشمن ٹھٹھے میں اڑا دیا کرتے تھے مثلا حضرت نوح (علیه السلام) کا بار بار طوفان کی دھمکی دینا کہ جو بت پرست قوم کے لیے ایک مذاق کا ذریعہ بن گی تھا، اس بنا پر آیت میں کلمہ ”جزاء“ مقدر ماننے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ بعض نے کہا ہے، بلکہ اس کا معنی اس طرح ہے جن سزا ؤں کا وہ مذاق اڑا تے تھے وہ ان پر نازل ہوگئیں)

11
6:11
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ ٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
(اے رسول) کہہ دو کہ تم زمین میں چلو پھرو۔ اس کے بعد (دیکھو اور) غور کرو کہ جو لوگ آیات خداوندی کو جھٹلاتے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟

آسمانوں اور زمین کی سب چیزیں اللہ تعالی کی ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

قرآن مجید نے اس مقام پر ان ہٹ دھرم اور خود خواہ لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اس نے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ وہ انھیں کہیں کہ زمین پر چلیں ،پھریں اورجولوگ حقائق کو جھٹلاتے تھے ان کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، شاید وہ بیدار ہوجائیں) قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ) ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ گذشتہ لوگوں اور ان قوموں کے آثار کودیکھنا کہ جنھوں نے حقائق کو ٹھکرانے کی وجہ سے فنا اور نابودی کا راستہ اختیار کرلیا تھا، تاریخ کی کتابوں میں ان کے حالات کے پڑھنے سے کہیں بڑھ کر پر اثر ہیں کیونکہ یہ آثار حقیقت کو محسوس اور قابل لمس بناتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ لفظ ”انظروا“(دیکھو) استعمال کیا گیا ہے نہ کہ ”تفکروا“(غوروفکر) ۔ ضمنا لفظ”ثم“ کا ذکر جو عام طور عطف با فاصلہ زمانی کے لیے آتا ہے ممکن ہے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہو کر اپنی سیر اور فیصلہ میں جلدی نہ کرے بلکہ جب گذرے ہوئے لوگوں کے آثار کا مشاہدہ کرے تو حوصلہ اور وقت کے ساتھ غور وفکر کرے پھر اس سے نتیجہ اخذ کرکے ان کے کام کا انجام آنکھوں سے دیکھے ۔ زمین میں سیر وسیاحت کرنے اور افکار کو بیدار کرنے میں اس کی غیر معمولی تاثیر کے بارے میں ہم جلد سوم ،آل عمران کی آیت ۱۳۷کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں ۔ تفسیر اس آیت میں پہلے کی طرح مشرکین سے بحث ہورہی ہے، گذشتہ آیات میں مسئلہ توحید کو موضوع بحث بنایا گیا تھا، اس آیت میں مسئلہ معاد پر بحث ہورہی ہے، توحید کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ ہی اس کے بعد مسئلہ قیامت اور معاد کو بڑے عمدہ طریقہ سے بیان کیا جارہا ہے،آیت سوال وجواب کی صورت میں ہے، سوال کرنے والا اور جواب دینے والا دونوں ایک ہی ہے جوابیات میں ایک خوبصورت طریقہ ہے ۔

12
6:12
قُل لِّمَن مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُل لِّلَّهِۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
کہہ دو کہ وہ چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں کس کی ہیں۔ (جواب میں ) کہہ دو کہ وہ سب اللہ کی ہیں جس نے رحمت اور بخشش کو اپنے اوپر ضروری قرار دے لیا ہے (اور اسی دلیل سے) تم سب کو قطعی طور پر قیامت کے دن کہ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے جمع کرے گا صرف وہی لوگ ایمان نہیں لائیں گے جنہوں نے اپنا سرمایہ حیات ضائع کر دیا ہے اور خسارے کا شکار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
6:13
۞وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِي ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
اور جو کچھ رات اور دن میں ہے وہ بھی سب اسی کے لئے ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت میں پہلے کی طرح مشرکین سے بحث ہورہی ہے، گذشتہ آیات میں مسئلہ توحید کو موضوع بحث بنایا گیا تھا، اس آیت میں مسئلہ معاد پر بحث ہورہی ہے، توحید کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ ہی اس کے بعد مسئلہ قیامت اور معاد کو بڑے عمدہ طریقہ سے بیان کیا جارہا ہے،آیت سوال وجواب کی صورت میں ہے، سوال کرنے والا اور جواب دینے والا دونوں ایک ہی ہے جوابیات میں ایک خوبصورت طریقہ ہے ۔

معاد پر استدلال

معاد پر استدلال کے لیے مقدمہ کے طور پر دو باتیں کہی گئی ہیں: ۱۔ پہلے کہتا ہے: کہہ دو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے لیے ہے (قُلۡ لِّمَنۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ) ۔ پھر اس کے بعد فورا بلا فاصلہ کہتا ہے کہ تم خود زبان فطرت اور ان کی روح کا جواب دے دو کہ خدا کے لیے ۔ (قُلْ للّٰہ)، اس مقدمہ کے مطابق تمام جہان خدا کی ملکیت ہے اور اس کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔ ۲۔پروردگار عالم تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے، وہی ہے وہ ذات کہ جس نے رحمت کو اپنے ذمہ لے لیا ہے اور بے شمار نعمتیں سب کے لیے عام کردی ہیں (کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ) ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایس خدا اجازت دے کہ انسانوں کا رشتہ حیات موت کے ذریعہ کلی طور پر منقطع ہوجائے اور کمال کی جانب اس کا سفر ختم ہوجائے، کیا یہ بات اس کے اصلا فیاض ہونے اوراس کی رحمت واسعہ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے ، کیا وہ اپنے بندوں کے بارے میں کہ جن کا وہ مالک ومدبر ہے ۔ اس قسم کی بے مہری کرسکتا ہے کہ وہ ایک مدت کے بعد بالکل فنا ہوجائے اور ان کا کوئی وجود ہی باقی نہ رہے ۔ مسلمہ طور پر ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کی رحمت واسعہ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ موجودات کو خاص طور پر انسان کو درجہ کمال تک پہنچانے کے لیے اور آگے بڑھائے جس طرح اپنی رحمت کے سائے میں ایک بے قدروقیمت چھوٹے سے بیج کو تناور اور پھلدار درخت میں یا گل زیبا کی شاخ میں بدل دیتا ہے ۔ جیسا کہ اپنے فیض وکرم کے سایہ میں بے قدروقیمت نطفہ کو انسان کامل میں بدل دیتا ہے، اسی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کو کہ جو بقا اور حیات جاودانی کی استعداد رکھتا ہے موت کے بعد نئی زندگی کے لباس میں اور زیادہ وسیع عالم میں لے آئے اور تکامل کی سیرابدی میں اس کی رحمت کا ہاتھ اس کے سر پر ہے ۔ لہذ ان دونوں مقدمات کے بعد کہتا ہے مسلمہ طور پر تم سب کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے جمع کرے گا(لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ) ۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ آیت سوال سے شروع ہورہی ہے جیسے اصطلاح میں استفہام تقریری کہتے ہیں جس میں صرف مقابل سے اقرار لینا مطلوب ہوتا ہے اور چونکہ یہ مطلب فطرت کی نگاہ سے بھی مسلم تھا اور خود مشرکین بھی اس کے معترف تھے کہ عالم ہستی کی ملکیت بتوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ خدا سے مربوط ہے، لہٰذا وہ خود ہی بلا فاصلہ سوال کا جواب دیتا ہے اور مختلف مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں یہ ایک اچھا شمار ہوتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ معاد کے لیے دوسرے مقامات پر مختلف طریقوں سے مثلا قانون عدالت، قانون تکامل اور حکمت پروردگار کے طریقہ سے استدلال ہوا ہے، لیکن رحمت کے ساتھ استدلال ایک نیا استدلال ہے، جو اوپر والی آیت میں موضوع بحث قرار پایا ہے ۔ آیت کے آخر میں ہٹ دھرم مشرکین کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:وہ خدا جو زندگی کے بازار تجارت میں اپنے وجود کا سرمایہ ضائع کرچکے ہیں وہ ان حقائق پر ایمان نہیں لائیں گے اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡن۔) ۔ اس قدر عجیب وغریب تعبیر ہے بعض اوقات انسان مال یا مقام یا اپنے سرمایہ میں سے کوئی اور چیز ہاتھ کھو بیٹھتا ہے، ان چیزوں میں اگرچہ اس نے نقصان کیا ہوتا ہے لیکن پھر اس نے ایسی چیزیں اپنے ہاتھ سے دی ہے جو اس کے وجود کا جزء نہیں ہے، یعنی یہ چیزیں اس کے وجود سے باہر ہیں ، لیکن سب سے بڑا خسارہ جسے حقیقی خسارے کا نام دیا جاسکتا ہے اس وقت ہوگا جب انسان خود اپنے اصل ہستی ہی کو ہاتھ سے دے بیٹھے اور خود اپنے وجود کو ہی داؤ پر لگا دے ۔ حق کے دشمن اور ہٹ دھرم لوگ اپنی عمر کی پونجی اور اپنی فکر، عقل، فطرت اور تمام روحانی اور جسمانی نعمات کو جنھیں راہ حق میں کام آنا چاہئے تھا تاکہ وہ اپنے کمال کو پہنچ سکے ، کلی طور پر ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں نہ سرمایہ باقی رہتا ہے نہ سرمایہ دار یہ تعبیر قرآن مجید کی متعدد آیات میں آئی ہے اور یہ وہ ہلا دینے والی تعبیرات ہے کہ جو منکرین حق اور گناہگاروں کا دردناک انجام واضح کردیتی ہے ۔ ایک سوال اور اس کا جواب ممکن ہے یہ کہا جائے کہ ابدی زندگی مومنین کے لیے تو مصداق”رحمت“ ہے لیکن ان کے غیر لیے ہے تو سوائے ” زحمت وبد بختی“ کے اور کوئی چیز نہ ہوگی۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کا کام اسباب رحمت فراہم کرنا ہے ، اس نے انسان کو پیدا کیا اوراسے عقل دی اور اس کی رہبری اور راہنمائی کے لیے پیغمبرؐ بھیجے اور طرح طرح کی نعمتوں کو اس کے اختیار میں دے دیا اور حیات جاوداں کی طرف سب کے لیے راہیں کھول دیں ، یہ سب چیزیں بغیر استثناء کے رحمت ہیں ۔ اب اگر راستے میں ان رحمتوں کے نتیجہ اور ثمر تک پہنچنے سے پہلے انسان خود راستے کو ٹیڑھا کرے اور تمام اسباب رحمت کو اپنے لیے زحمت میں تبدیل کردے تویہ بات ان اسباب کے رحمت ہونے کی نفی نہیں کرتی اور ملامت کا حقدار وہ انسان ہے کہ جس نے اسباب رحمت کو عذاب میں بدل لیا ہے ۔ بعد والی آیت اصل میں گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہے کیوں کہ پہلی آیت میں خدا وندتعالیٰ کی تمام موجودات کے بارے میں مالکیت کی طرف اشارہ تھا اس طریق سے کہ وہ سب ایک افق مکان میں واقع ہیں لہٰذا فرمایا کہ خدا ان تمام چیزوں کا مالک ہے کہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔ اب یہ آیت اس کے افق ووسعت زمان میں واقع ہونے کے طریق سے اس کی مالکیت کی طرف اشارہ ہے ، لہٰذا کہتا ہے : اور اس کے لیے ہے جو کچھ رات اور دن میں ہے ( وَلَہُ مَا سَکَنَ فِی اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ ) ۔ حقیقت میں جہان مادہ اس سے یعنی زمان ومکان سے خالی نہیں ہے، اور تمام موجودات جو ظرف زمان ومکان میں آتے ہیں یعنی تمام جہاں مادہ اس کی ملکیت ہے اور یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ رات اور دن اس نظام شمسی کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ تمام موجودات آسمان وزمین شب وروز رکھتے ہیں اور بعض میں ہمیشہ دن ہوتا ہے رات نہیں ہوتی اور بعض میں ہمیشہ رات ہوتی ہے دن نہیں ہوتا، مثلا سورج میں ہمیشہ دن ہے کیونکہ وہاں روشنی ہی روشنی ہے اور تاریکی کا کوئی وجود نہیں ہے جب کہ بعض ستارے بجھے ہوئے اور بے نور ہیں وہ آسمان کہ جو ستاروں سے بہت دور ہیں وہاں ہمیشہ رات کی تاریکی چھائی رہتی ہے اور اوپر والی آیت ان سب پر صادق آتی ہے ۔ ضمنی طورپر اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ ”سکن“ کسی موجود کا کسی چیز میں سکونت ،توقف اور قرار پانے کے معنی میں ہے، چاہے وہ موجود حالت حرکت میں ہو یا سکون میں مثلا ہم کہتے ہیں کہ ہم فلاں شہر میں ساکن ہیں یعنی ہم وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں اور مقیم ہیں چاہے ہم اس شہر کی سڑکوں پر حالت حرکت میں ہوں یا کہیں حالت سکون میں ہوں ۔ آیت میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہاں”سکون“ صرف حرکت کے مقابلے میں ہو اور چونکہ یہ دونوں امور نسبتی ہیں لہٰذا ایک کا ذکر ہمیں دوسرے سے بے نیز کردیتا ہے اس بنا پر آیت کا مطلب یوں ہوجاتا ہے کہ جوکچھ روز وشب اور افق زمان میں سکون وحرکت کی حالت میں ہے وہ سب خدا کی ملکیت ہے ۔ اور اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ آیت توحید کے استدلالات میں سے ایک استدلال کی طرف اشارہ ہو، کیوںکہ ”حرکت“ و”سکون“ دوعارضی حالتیں ہیں، جو حتمی طور پر حادث ہیں اور وہ قدیم وازلی نہیں ہوسکتیں کیونکہ حرکت عبارت ایک چیز کا دومختلف اوقات دومختلف مکانوں میںہونے سے اور سکون ہے ایک چیز کا دو زمانوں میں ایک معین مکان میں رہنا، اس بنا پر حرکت وسکون کی ذات میں سابقہ حالت کی طرف توجہ پوشیدہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ چیز کہ جو اس حالت سے پہلے دوسری حالت میں ہو وہ ازلی نہیں ہو سکتی۔ اس گفتگو سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ”اجسام حرکت وسکون سے خالی نہیں ہیں “ اور جو حرکت وسکون سے خالی نہ ہو وہ ازلی نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا تمام اجسام حادث ہیں اور چونکہ وہ حادث ہیں لہٰذا وہ پیدا کرنے والے کے محتاج ہے (غور کیجئے گا) ۔ لیکن چونکہ خدا جسم نہیں ہے وہ نہ حرکت رکھتا ہے اور نہ سکون، نہ زمان رکھتا ہے نہ مکان ،اسی لیے وہ ازلی وابدی ہے اور آیت کے آخر میں توحید کا ذکر کرنے کے بعد خدا وندتعالیٰ کی دو نمایاں صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے(وھو سمیع العلیم) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہان ہستی کی وسعت اور وہ موجودات کہ جو زمان ومکان کے افق میں قرار رکھتے ہیں کبھی بھی اس بات میں منع نہیں ہے کہ خدا ان کے اسرار سے آگاہ ہو، بلکہ وہ ان کی گفتگو سنتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کمزور چیونٹی کی حرکت کو بھی جانتا ہے جو تاریک رات میں سیاہ پتھر کے اوپر ایک خاموش دور دراز کے درے کی گہرائی میں ہوں اور اس کی ضروریات اور باقی تمام موجودات کی حاجات سے آگاہ ہے اور سب کے اعمال اور کاموں سے مطلع ہے ۔

14
6:14
قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّٗا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُۗ قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَسۡلَمَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
کہہ دو کیا میں غیر خدا کو اپنا ولی بنا لوں جب کہ وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ وہ ہے کہ جو روزی دیتا ہے اور کسی سے روزی نہیں لیتا تم کہہ دو کہ میں اس بات پر مامور ہوں کہ میں سب سے پہلے اس کے حکم کو تسلیم کرنے والا (مسلمان) ہوں اور (اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ) مشرکین میں سے نہ ہونا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
6:15
قُلۡ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
کہہ دو کہ میں بھی اگر اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو بڑے دن (قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
6:16
مَّن يُصۡرَفۡ عَنۡهُ يَوۡمَئِذٖ فَقَدۡ رَحِمَهُۥۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِينُ
اس دن جس شخص کے اوپر سے عذاب الٰہی ٹل جائے (تو یوں سمجھو کہ) اللہ نے اپنی رحمت اس کے شامل حال کر دی ہے اور یہ واضح کامیابی ہے۔

خدا کے سوا اور کوئی پناہ گاہ نہیں ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعض نے ان آیات کے لیے ایک شان نزول نقل کی ہے، وہ یہ ہے کہ اہل مکہ سے کچھ لوگ پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے محمد! تونے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس کام کا عمل سوائے فقر کے اور کوئی نہیں ہے، ہم اس بات کے لیے حاضر ہیں کہ اپنا مال تیرے ساتھ بانٹ لیں اور تجھے بہت ثروت مند کردیں تاکہ تم ہمارے خداؤں سے دستبردار ہوجاؤ اور ہمارے اصلی دین کی طرف پلٹ آؤ تو اوپر والی آیات نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا گیا(بحوالہ تفسیر ابوالفتوح رازی وتفسیر مجمع البیان زیر نظر آیات کے ذیل میں ۱)البتہ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے واردشدہ روایات کے مطابق اس سورہ کی آیات مکہ میں یکجا طور پر نازل ہوئی ہے اس بنا پر ہر ایک آیت کے لیے خاص اور علحیدہ شان نزول نہیں ہوسکتا، لیکن اس سورہ کے نازل ہونے سے پہلے پیغمبراور مشرکین کے درمیان گفتگو اور بحثیں ہوتی رہتی تھیں لہٰذا اس سورہ کی بعض آیات میں ان بحثوں کو ملحوظ نظر رکھا گیا ہے،اس بنا پر کوئی منع نہیں ہے کہ رسول اللہ اور مشرکین کے درمیان اس قسم کی باتیں ہوئی ہوں اور خدا وند تعالیٰ ان آیات میں ان باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دے رہا ہو ۔ بہر حال ان آیات میں بھی ہدف ومقصد اثبات توحید اور شرک وبت پرستی کے خلاف مبارزہ ہی ہے، مشرکین باوجود اس کے کہ وہ خلقت عالم کو خدا وند تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہی مخصوص سمجھتے تھے لیکن انھوں نے بتوں کو اپنی پناہ گاہ سمجھ رکھا تھا اور بعض اوقات اپنی ہر ایک حاجت کے لیے سی ایک بت کا سہارا لیتے تھے اور متعدد خداؤں (بارش کا خدا، نور کا خدا، ظلمت کا خدا، جنگ وصلح کا خدا رزق وروزی کا خدا) کے قائل تھے اور یہ وہی ارباب انواع کا عقیدہ ہے کہ جو قدیم یونان میں بھی وجود رکھتا تھا ۔ قرآن اس قسم کے غلط نظریے کو ختم کرنے کے لیے پیغمبرؐ اس طرح حکم دیتا ہے: انھیں کہہ دو کہ کیا میں غیر خدا کو اپنا ولی وسرپرست اور پناہ گاہ قرار دے لوں حالانکہ وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اور تمام موجودات کو رزق دینے والا ہے بغیر اس کے کہ خود اسے روزی کی ضرورت ہو (قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ ہُوَ یُطۡعِمُ وَ لَا یُطۡعَمُ) ۔ اس بنا پر جب تمام چیزوں پیدا کرنے والا وہی ہے اور کسی دوسرے کی قدرت کا سہارا لیے بغیر اس نے سارے جہان کو پیدا کیا ہے اور سب کی روزی اسی کے ہاتھ میں ہے تو پھر کون سی دلیل ہے کہ انسان اس کے غیر کو اپنا ولی، سرپرست اور پناہ گاہ قرار دے،۔اصولی طور پر باقی سب مخلوق ہیں اور اپنے وجود کے تمام لمحات میں اس کے محتاج ہیں ، لہٰذا وہ کس طرح دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرسکتے ہیں ۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اوپر والی آیت میں جب آسمان وزمین کی خلقت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو خدا کا ”فاطر“ کے عنوان سے تعارف کراتا ہے ”فاطر“ ”فطور“ کے مادہ سے ہے کہ جس کے معنی شگافتہ کرنے (پھاڑ نے)کے ہیں، ابن عباس سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ”فاطرالسماوات والارض“ کے معنی اس وقت سمجھ میں آئے جب دو عربوں کو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑتے ہوئے دیکھا ، ان میں سے ایک اپنی ملکیت کے ثبوت میں یہ کہتا تھا کہ ”انا فطرتھا“میں نے اس کنویں کو شگافتہ کیا اور بنایا ہے ۔ لیکن ہم فاطر کے معنی آج موجودہ علوم کی مدد سے ابن عباس کی نسبت زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کیونکہ یہ آج کے دقیق ترین علمی نظریات کے مطابق انتہائی پسندیدہ تعبیر ہے جو پیدائش جہان کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہے کیوںکہ سائنس والوں اور محققین کی تحقیقات کے مطابق عالم بزرگ(مجموعہ جہان) اور عالم کوچک(نظام شمسی) سب کے سب ابتداء میں ایک ہے تودہ تھے جو پے در پے تھپیڑوں کے اثر سے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور اس کے کہکشاں اور نظام ہائے شمسی اور مختلف گرے وجود میں آگئے ۔سورہ انبیاء کی آیت ۳۰ میں یہ مطلب زیادہ صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، جہاں پر فرمایا گیا ہے : ” اَوَلَمْ یَرَی الَّذِینَ کَفَرُوا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاھُمَا“ کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان و زمین آپس میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے ہم انے انھیں ایک دوسرے سے جدا کیا ۔ ایک اور نکتہ کی طرف سے بھی غفلت نہیں کرنقا چاہےے اور وہ یہ کی صفات خدا میں سے یہاں صرف بندوں کو روزی دینے کا ذکر کیا گیا ہے ، یہ تعبیر شاید اس بنا پر ہے کہ انسان کی مادی زندگی میں زیادہ تر وابستگیاں انھیں مادی ضروریات کے زیر اثرہیں، یہی بات جسے اصطلاح میں روٹی کا ایک لقمہ کھا نا کہتے ہیں انسان کو طاقتوروں اور ارباب دولت کے سامنے جھکنے پر آمادہ کردیتی ہے، بعض اوقات تو لوگ پرستش کی حد تک ان کے سامنے سربسجود ہوجاتے ہیں، قرآن اس عبارت میں کہتا ہے: تمھاری روزی اس کے ہاتھ میں ہے، نہ تو وہ ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی بتوں کے ہاتھ میں صاحبان مال واقتدار خود نیاز مند ہیں اور انھیں کھانے کی احتیاج ہوتی ہے۔ یہ صرف خدا ہے کہ جو صرف کھلاتا تو ہے مگر خود اسے کھانے کی احتیاج نہیں ہے ۔ قرآن حکیم کی دوسری آیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کی ملکیت ورزاقیت کے مسئلہ اور بارش برسانے اور سبزہ زاروں کی پرورش کرنے کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ مخلوقات سے وابستگی کا خیال لوگوں کے دماغ سے بالکل نکال دے ۔ اس کے بعد ان لوگوں کی پیش کش کا جواب دینے کے لیے جو پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے یہ دعوت دیتے تھے کہ وہ مشرک کے ساتھ رشتہ جوڑ لیں ، کہتا ہے :علاوہ اس کے کہ عقل مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ صرف اس ذات پر بھروسہ کروں کہ جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے، وحی الٰہی بھی مجھے حکم دیتی ہے کہ پہلا مسلمان میں بنوں اور کسی طرح بھی مشرکین کی صف میں نہ جاؤں (قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡن) (انی امرت ------ غیر مستقیم خطاب ہے اور جملہ ولاتکونن--- خطاب مستقیم ہے شاید یہ تفاوت اس سبب سے ہے کہ شرک سے دوری اور نفرت پہلا مسلمان ہونے کی نسبت کئی درجہ زیادہ اہم ہے، اسی لیے شرک سے دوری کا مسئلہ خطاب مستقیم کی صورت میں ”نون تاکید ثقیلہ“ کے ساتھ بیان ہوا ہے) اس شک نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام سے پہلے دوسرے پیغمبر اور ان کی امتیں بھی مسلمان تھی اور خدا وند تعالیٰ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرتی تھیں، اس بنا پر جب وہ یہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کا سب سے پہلا مسلمان ۔ اور یہ حقیقت میں ایک اہم تربیتی مطلب کی طرف اشارہ بھی ہے کہ ہر رہبر کو اپنے مکتب اور مشن کے احکام کی انجام دہی میں تمام افراد سے زیادہ پیش قدمی کرنا چاہےے، اسے اپنے دین کا سب سے پہلا مومن اور اس پر عمل کرنے والا ہوناچاہئے اور سب سے زیادہ کوشش کرنے والا اور اپنے مکتب کے لیے سب سے زیادہ فداکاری کرنے والا ہونا چاہے۔ بعد والی آیت میں اس خدائی حکم پر جو وحی کے ذریعہ پیغمبرؐ پر نازل ہوا ہے تاکید مزید کے لیے کہتا ہے :میں بھی خود اپنے لیے جوابدہی کا احساس کرتا ہوں اور قوانین الٰہی سے کسی طرح مستثنٰی نہیں ہوں، میں بھی اگر خداوند تعالیٰ کے حکم سے منحرف ہوجاؤں اور مشرکین کی ہاں میں ہاں ملانے لگ جاؤں اور اس کی نافرمانی اور عصیان کروں تو اس عظیم دن۔روز قیامت۔کی سزا سے خائف وترساں ہوں(قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ)( یہ بات قابل توجہ ہے کہ جملہ بندی کی ترتیب کا تقاضا یہ ہے کہ لفظ”اخاف“ جملہ”ان عصیت ربی“ کے بعد ذکر ہو۔ کیونکہ وہ شرط کی جزا کے طور پر استعمال ہوا ہے لیکن پیغمبر کا خوف اور جوابدہی کا احساس اس بات کا سبب بنا کہ پروردگار کے حکم کے سامنے”اخاف“ (میں ڈرتا ہوں) کا لفظ تاکید کے لیے مقدم رکھا جائے۔ اس آیت سے بھی اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبروں میں جوابدہی کا احساس دوسروں میں جوابدہی کے احساس سے زیادہ ہوتا ہے ۔ آخری آیت میں اس لیے کہ ثابت ہوجائے کہ پیغمبرؐ بھی لطف ورحمت خداوندی پر بھروسہ کےے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے اور تمام اختیارات اسی کے قبضہ ٴ قدرت میں ہیں، یہاں تک کہ خود پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم بھی پرور دگار کی رحمت بے پایاں پر ہی چشم امید لگائیں ہوئے ہیں اور اپنی نجات وکامیابی اسی سے طلب کرتے ہیں ۔فرمایاگیا:کہ رسول کہتے ہیں کہ جو شخص اس عظیم دن پروردگار کی سزا سے نجات پاجائے تا رحمت خدا اس کے شامل حال ہوگئی ہے اور یہ ایک توفیق الٰہی اور کھلی کامیابی ہے ۔ مَنۡ یُّصۡرَفۡ عَنۡہُ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ) ۔ یہ آیات توحید کا آخری درجہ بیان کرتی ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کہ جو پیغمبروں کو بھی خدا کے ساتھ مستقل پناہ گاہ مانتے تھے، جیسے عیسائی جو حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نجات دہندہ سمجھتے تھے، صراحت کے ساتھ جواب دیا گیا ہے کہ پیغمبر تک بھی اس کی رحمت کے محتاج ہیں ۔

17
6:17
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٖ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
اگر اللہ تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے علاوہ کوئی بھی اسے بر طرف نہیں کر سکتا اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
6:18
وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
وہی ہے کہ جو اپنے تمام بندوں پر قاہر و مسلط ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے۔

پروردگار کی قدرت قاہرہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورہ کا سب سے پہلا ہدف شرک وبت پرستی کی بیخ کنی ہے ۔مندرجہ بالادونوں آیات میں بھی اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: تم لوگ غیر خدا کی طرف کیوں توجہ کرتے ہو؟ مصائب سے نجات، رفع ضرر اور حصول منفعت کے لیے خود ساختہ خداؤں سے کیوں پناہ لیتے ہو؟ حالانکہ اگر تجھے معمولی سے معمولی اور حقیر سے حقیر نقصان بھی ہوجائے تو سوائے خدا کے اسے برطرف کرنے والا اور کوئی نہ ہوگا اور اگر کوئی خیروبرکت اور کامیابی و سعادت تجھے نصیب ہوتو وہ بھی اسی کی قدرت کا پرتو ہے ۔کیونکہ وہی ہے کہ جو تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے(وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ( ”ضر“ ایسے نقصانات کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کو پیش آتے ہیں، خواہ وہ جسمانی پہلو رکھتے ہوں جیسے کسی عضو کا نقصان اور مختلف بیماریاں یا وہ روحانی پہلو رکھتے ہوں جیسے جہالت، حماقت، دیوانگی یا دوسرے پہلو جیسے مال، اولاد و یا عزت کا چلا جا نا) حقیقت میں غیر خدا کی طرف توجہ لوگ اس لیے کرتے ہیں کہ یا تو انھیں سرچشمہٴ خیرات جانتے ہیں یا وہ انھیں مصائب ومشکلات کا بر طرف کرنے والا سمجھتے ہیں جیسا کہ طاقت اور اقتدار رکھنے والوں کے سامنے پرستش کی حد تک خضوع وخشوع بھی ان ہی دو اسباب کی بنا پر ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا آیت کہتی ہے کہ ارادہٴ خدا وندی تمام چیزوں پر حکومت کرتا ہے، اگر وہ کسی نعمت کو کسی سے سلب کر لے یا کوئی نعمت کسی کو عطا کردے تو دنیا میں کوئی منبعٴ قدرت ایسا نہیں ہے جو اسے پلٹا سکے تو وہ غیر خدا کے سامنے سرتعظیم کیوں جھکاتے ہیں ۔ ”خیر“ و”شر“ کے بارے میں ”یمسسک“ کی تعبیر کے باوجود ”مس“ سے ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی خیر وشر تک بھی اس کے ارادہ وقدرت کے غیر ممکن نہیں ہے ۔ یہ ذکر بھی لازمی ہے کہ اوپر والی آیت ثنویین یعنی دو خداؤں کی پرستش کرنے والوں کے عقیدہ کی ،کہ جو خیر وشر کے دو علحیدہ علحیدہ مبداء کے قائل تھے ،صراحت کے ساتھ تردید کرتی ہے اور دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتی ہے ،لیکن ہم اپنے مقام پر یہ عرض کر آئے ہیں کہ”مطلق شر“ کا دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے، تو اس بنا پر جب شر کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے تو اس سے ایسے امور مراد ہوتے ہیں کہ جو ظاہر میں سلب نعمت ہوتے ہیں لیکن فی الواقع اپنے مقام پر وہ خیر ہیں اور یا وہ بیدار کرنے کے لیے یا تعلیم وتربیت کے لیے اور یا تکبر، سرکشی اور خود پسندی کو برطرف کرنے کے لیے اور یا دوسری مصلحتوں کے لیے ہوتے ہیں ۔ بعد والی آیت میں اس بحث کی تکمیل کے لیے فرمایا گیا ہے: وہی ہے جو اپنے تمام بندوں پر قاہر ومسلط ہے(وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ) ۔ ”قہر“ اور ”غلبہ“ کا اگر چہ ایک ہی معنی ہے، لیکن لغوی بنیادکی نظر سے ان دونوں کے معنی میں تفاوت ہے قہر وقاہریت اس قسم کے غلبہ وکامیابی کو کہا جاتا ہے کہ جس میں مد مقابل کسی بھی قسم کا غلبہ اپنی طرف سے ظاہر نہیں کرسکتا لیکن لفظ غلبہ میں یہ مفہوم موجود نہیں ہے اور یہ ممکن ہے کہ غلبہ پانے کے بعد مد مقابل اس پر کامیابی حاصل کرلے،دوسرے لفظوں میں قاہر اسے کہتے ہیں جو مد مقابل پر اس طرح تسلط اور برتری رکھتا ہو کہ اس میں مقابلے کی مجال ہی نہ ہو بالکل اس پانی کے برتن کی طرح جسے آگ کے ایک چھوٹے سے شعلہ پر ڈالاجائے تو وہ اسے فورا خاموش کردے ۔ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ قاہریت عام طور پر ایسے موقع پر استعمال ہوتی ہے کہ جب طرف مقابل کوئی عاقل موجود ہو، لیکن غلبہ عام ہے اور غیر عاقل موجودات پر کامیابیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ( بحوالہ المیزان ،جلد ۷،صفحہ ۳۴) اس بنا پر پہلی آیت میں ،خود ساختہ خداؤں اور صاحبان اقتدار کے مقابلہ میں اگر خدا کی قدرت کی عمومیت کی طرف اشارہ ہوا ہے تو وہ اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ مجبور ہے کہ وہ ایک مدت تک دوسری قدرتوں کے ساتھ دست وگریبان ہو یہاں تک وہ انھیں چت کردے، بلکہ اس کی قدرت، قدرت قاہرہ ہے اور”فوق عبادہ“ کی تعبیر بھی اسی معنی کی تکمیل کے لیے ہے ۔ اس حالت میں کس طرح ممکن ہے کہ ایک باخبر انسان اسے چھوڑ دے اور ایسے موجودات واشخاص کے پیچھے جائے کہ جو اپنی طرف سے کسی قسم کی قدرت نہیں رکھتے ، یہاں تک کہ ان میں جو معمولی اور حقیر سی قدرت موجود ہے وہ بھی خدا ہی کی عطا کردہ ہے ۔ لیکن اس مقصد کے پیش نظر کہ کہیں یہ وہم نہ ہوجائے کہ ممکن ہے خدا بھی بعض صاحبان قدرت کی طرح اپنی نامحدود قدرت سے تھوڑا بہت غلط فائدہ اٹھا لیتا ہو، آیت کے آخر میں فرماتا ہے کہ اس کے باوجود وہ حکیم اور اس کے تمام کام حساب کے مطابق ہیں اور وہ خبیر وآگاہ ہے اور معمولی سے معمولی اشتباہ اور خطا بھی اپنی قدرت کو عمل میں لانے میں نہیں کرتا(۔ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ) ۔ فرعون کے حالات میں ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو ان کی اولاد کے قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے: ”وانافوقھم قاھرون“(اعراف،۱۲۷)یعنی میں ان لوگوں کے اوپر کامل طور پر مسلط ہوں ۔یعنی وہ اپنی اس قدرت قاہرہ کو ۔کہ جو واقع میں ایک حقیر قدرت سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں ظلم وستم اور دوسروں کے حقوق کے پرواہ نہ کرنے کی دلیل قرار دیتاتھا، لیکن خداوند حکیم وخبیر اس قدرت قاہرہ کے باوجود اس سے بہت منزہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا ظلم اور غلطی سے معمولی سے معمولی بندے کے حق میں روا ررکھے ۔ یہ بات بھی کہے بغیر واضح ہے کہ (فوق عبادہ) کے لفظ سے مراد مرتبہ ومقام کی برتری ہے، کیوں کہ یہ بات واضح ہے کہ خدا کوئی مکان نہیں رکھتا ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض بد دماغوں نے اوپر والی آیت کی تعبیر کو خدا کے جسم ہونے کی دلیل قرار دیا ہے، حالانکہ اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ فوق (اوپر) کی تعبیر خدا کی اپنے بندوں پر قدرت کے لحاظ سے معنوی برتری کے بیان کے لیے ہے، یہاں تک کہ فرعون کے بارے میں بھی حالانکہ وہ ایک انسان تھا اور جسم رکھتا تھا یہی لفظ مقام کی برتری کے لیے استعمال ہوا ہے نہ کہ مکانی برتری کے لیے(غور کیجئے گا) ۔

19
6:19
قُلۡ أَيُّ شَيۡءٍ أَكۡبَرُ شَهَٰدَةٗۖ قُلِ ٱللَّهُۖ شَهِيدُۢ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۚ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ أَئِنَّكُمۡ لَتَشۡهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخۡرَىٰۚ قُل لَّآ أَشۡهَدُۚ قُلۡ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ وَإِنَّنِي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ
کہہ دو کہ سب سے بڑی گواہی کس کی ہے کہہ دو کہ خداوند تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے (اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ) اس نے یہ قرآن میرے اوپر وحی کیا ہے تاکہ تمہیں اور ان تمام افراد کو ڈراؤں کہ جن تک یہ قرآن پہنچے اور حکم خدا کی مخالفت کا خوف دلاؤں کیا سچ مچ تم یہ گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں کہہ دو کہ میں ہر گز اس قسم کی گواہی نہیں دیتا کہہ دو کہ خدا یگانہ و یکتا ہے اور میں اس سے جو اس کا شریک قرار دے بری و بیزار ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
6:20
ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡرِفُونَهُۥ كَمَا يَعۡرِفُونَ أَبۡنَآءَهُمُۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
وہ لوگ کہ جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے (اس پیغمبر) کو اچھی طرح سے پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں صرف وہ اشخاص کہ جو اپنا سرمایہ وجود کھو بیٹھتے ہیں ایمان نہیں لاتے۔

سب سے بڑا گواہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

سب سے بڑا گواہ جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ مشرکین مکہ کا ایک گروہ پیغمبر اکرم ؐکے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو کیسا پیغمبرؐ ہے کہ تیرا کوئی بھی موافق اور حامی نہیں ،یہاں تک کہ ہم نے یہود ونصاریٰ سے بھی تیرے بارے میں تحقیق کی ہے، وہ بھی توریت وانجیل کی بنیاد پر تیری حقانیت کی گواہی نہیں دیتے کم از کم کوئی تم ہمیں کہ جو تمھاری ررسالت کی گواہی دے ۔مندرجہ بالا آیت اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ پیغمبر ؐکو حکم دیا گیا کہ ان سب ہٹ دھرم مخالفین کے مقابلے میں کہ جنھوں نے آنکھیں بند کررکھی ہیں اور آپ کی حقانیت کی ان کی سب نشانیوں کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں اور پھر بھی گواہ اور شاہد کا مطالبہ کرتے ہیں ،کہہ دیجئے ،تمھارے عقیدہ اور نظریہ کے مطابق سب سے بڑا گواہ کون ہے (قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ) ۔ کیا اس کے سوا بھی کچھ ہے کہ سب سے بڑی شہادت پروردگار کی شہادت ہے؟ تو کہہ دو کہ خدائے بزرگ وبرتر میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے (قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ) ۔ اور اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ اس نے اس قرآن کو مجھ پر وحی کیاہے(وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ) وہ قرآن جو ممکن نہیں ہے کہ فکر انسانی کا گھڑا ہوا ہو، وہ بھی اس زمانے اور اس ماحول میں اور مقام میں، وہ قرآن کہ جو کیے قسم کے شواہد اعجاز پر مشتمل ہے، اس کے الفاظ اعجاز آمیز ہیں اور اس کے معانی اس سے بھی زیادہ اعجاز آمیز ہیں ، کیا یہی ایک عظیم شاہدخدا وند عالم کی طرف سے میری دعوت کی حقانیت کی گواہی کی دلیل نہیں ہے؟۔ ضمنی طور پر اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سب سے بڑا معجزہ ہے اور پیغمبر اکرم ؐکے دعوے کی صداقت کا سب سے بڑا گواہ ہے ۔ اس کے بعد نزول قرآن کا ہدف ومقصد بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ قرآن اس مقصد کے لیے مجھ پر نازل ہوا ہے کہ میں تمھیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے کانوں تک پوری تاریخ بشر میں اور وسعت زمانے میں اور تمام نقاط جہان میں ،میری باتیں پہنچیں انھیں خدا کے حکم کی مخالفت سے ڈراؤں اور اس کی مخالفت کے دردناک عواقب وانجام کی طرف متوجہ کروں(لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ) ۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں گفتگو صرف ”انذار“ اورڈرانے کے بارے میں ہے حالانکہ عام طور پر ہر جگہ بشارت بھی ساتھ ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گفتگو ایسے ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلہ میں تھی جو مخالفت پر اصرار کرتے رہے ہیں ۔ ضمنی طور پر ”ومن بلغ “ (وہ تمام لوگ کہ جن تک یہ بات پہنچ جائے) کے الفاظ کا ذکر قرآن کی رسالت جہانی اور دعوت عمومی اور پیام عالمی کا پتہ دیتا ہے ۔ حقیقت میں اس سے زیادہ مختصر اور اس سے زیادہ جامع تعبیر اس مقصد کے ادا کرنے کے لیے اور متصور ہو ہی نہیں سکتی، اس کی وسعت میں غور کرنے سے قرآن کی دعوت کے نسل عرب یا خاص زمانے یا علاقے سے مخصوص نہ ہونے کے بارے میں ہر قسم کا ابہام اور شک وشبہ دور ہوجاتا ہے علماء کے ایک گروہ نے ایسی تعبیرات سے مسئلہ ختم نبوت کے لیے بھی استفادہ کیا ہے، کیوں کہ اوپروالی تعبیر کے مطابق پیغمبر ان تمام لوگوں پر مبعوث تھے کہ جن تک آپ کی باتیں پہنچتی ہیں اور یہ ان تمام افراد کے لیے ہے کہ جو اس جہاں کے آخر تک اس دنیا می قدم رکھیں گے ۔ اہل بیت علیہم السلام کے طریق سے منقول احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابلاغ و تبلیغ قرآن سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ ان کامتعین دوسری اقوام تک پہنچے حتی کہ اس کے ترجموں اور مفاہیم کا دوسری زبانوں میں پہنچانا بھی آیت کے معنی میں داخل ہے ۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) سے اوپر والی آیت کے بارے میں سوال ہوا تو حضرت (علیه السلام) نے فرمایا: ”بکل لسان“ (تفسیر برہان، نورالثقلین جلد ۱، صفحہ ۷۰۷ آیہ ”ہذا“ کے ذیل میں) یعنی ہر زبان میں ہو ۔ ضمنی طور پر مسئلہ اصول فقہ کے قوانین میں سے ایک قاعدہ ”قبح عقاب بلا بیان“ ہے وہ بھی اوپر والی آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اصول فقہ میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب تک کوئی حکم کسی شخص تک نہ پہنچے وہ شخص اس حکم کے لیے جواب دہ نہیں ہوسکتا( مگر یہ کہ حکم حاصل کرنے میں اس نے خود کوتاہی کی ہو) مندرجہ بالا آیت بھی یہی کہتی ہے کہ وہ لوگ کہ جن تک میری بات پہنچ جائے وہ اس کے لیے جوابدہ ہے اور اس طرح سے وہ لوگ کہ جنھیں احکام کے اصول میں کوتاہی نہ کرنے کے باوجود اصل حکم نہ پہنچا ہو کوئی مسوٴلیت نہیں رکھتے ۔ تفسیر”المنار“ میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے اس طرح نقل ہوا ہے : قیدیوں کا ایک گروہ آپ کے پاس لایا گیا، حضرت نے ان سے پوچھا کہ کیا انھوں نے تمھیں اسلام کی دعوت دی تھی؟ انھوں نے کہا کہ نہیں! آپ نے حکم دیا کہ انھیں رہاکردو، اس کے بعد آپ نے اوپر والی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ انھیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی جگہ پر واپس چلے جائیں انھیں حقیقت اسلام کی تبلیغ نہیں ہوئی اور اس کی طرف انھیں دعوت نہیں دی گئی ( بحوالہ المنار ،جلد ۷، صفحہ ۳۴۱)۔ نیز اس اایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ”شیٴ“ کا اطلاق کے جو فارسی کے لفظ ”چیز“ کا ہم معنی ہے، خدا پر کرنا جائز ہے لیکن وہ ایسی چیز ہے کہ دوسری چیزوں کے مانند نہیں ہے کہ جو مخلوق محدودہیں بلکہ وہ خالق ونامحدود ہے ۔ پھر اس کے بعد پیغمبرؐ کو حکم دیا گیا کہ ان سے پوچھو”کیا واقعا تم گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور خدا بھی ہیں؟( اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی)اس کے بعد کہتا ہے کہ انھیں صراحت کے ساتھ کہہ دو کہ میں کبھی ایسی گواہی نہیں دیتا، کہہ دو کہ وہ خدا یکتا ویگانہ ہے اور جنھیں تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے بری وبیزار ہوں(قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡن) ۔ در حقیقت آیت کے آخر میں ان چند جملوں کا ذکر ایک نفسیاتی نکتے کے لیے کیا گیا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ مشرکین اس قسم کا تصور کرلیں کہ شاید ان کی گفتگو نے روح پیغمبرؐ میں کچھ تزلزل پیدا کردیا ہواور وہ یہ امید لیے ہوئے مجلس سے جدا ہوں اور اپنے دوستوں کو بشارت دیں کہ شاید محمدؐ اس کے بعد اپنی دعوت میں نظر ثانی کرلیں یہ جملے کہ جو صراحت اور قاطعیت سے سرشار ہیں اس امید کو کلی طور پر نا امیدی میں بدل رہے ہیں اور انھیں نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بات ان کے خیال وگمان سے بالکل باہر ہے اور معمولی سے معمولی تزلزل بھی آپ کی دعوت میں پیدا نہیں ہوگا اور تجربہ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ کسی بحث کے آخر میں اس قسم کے قطعی الفاظ کا ذکر آخری نتیجے تک پہنچنے کے لیے گہرا اثر رکھتا ہے ۔ اور اس آیت کے بعد والی آیت میں ان لوگوں کو کہ جو اس بات کے مدعی تھے کہ اہل کتاب کسی قسم کی گواہی پیغمبر اسلام ؐکے بارے میں نہیں دیتے صراحت کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: وہ لوگ کہ جن پر ہم نے کتاب نازل کی ہے وہ پیغمبرؐ کو خوب اچھی طرح پہچانتے ہیں بالکل اسی طرح سے جس طرح سے کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں (اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ۘ) ۔ یعنی وہ نہ صرف پیغمبر ؐکے اصل ظہور اور اس کی دعوت سے آگاہ ہیں بلکہ وہ تو اس کی جزئیات و خصوصیات اور دقیق نشانیوں کو بھی جانتے ہیں ،اس بنا پر کچھ اہل مکہ کہتے تھے کہ ہم نے اہل کتاب کی طرف رجوع کیا ہے لیکن انھیں بھی پیغمبرؐ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ، تو یا تو واقعا وہ جھوٹ بولتے تھے اور انھوں نے (اہل کتاب سے) تحقیق ہی نہیں کی تھی، اور یا پھر اہل کتاب نے حقائق کو چھپا لیا اور ان کے سامنے بیان نہ کیا، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات ان کے حق کو پوشیدہ رکھنے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ اس بات کی بیشتر وضاحت تفسیر نمونہ کی جلد اول میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۴۶ کے ذیل میں گزر چکی ہے( دیکھئے اردو ترجمہ صفحہ ۳۶۰) ۔ آیت کے آخر میں ایک آخری نتیجہ کے طور پر بتا تا ہے ،صرف وہی لوگ اس پیغمبر ؐپر (ان واضح نشانیوں کے باوجود) ایمان نہیں لاتے کہ جو زندگی کے بازار تجارت میں اپنا سب کچھ گوا بیٹھے ہیں اور اپنے وجود کی تمام پونجی ہرا بیٹھے ہیں(اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ)

21
6:21
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہو گا کہ جس نے خدا پر جھوٹ باندھا (اور اس کیلئے شریک کا قائل ہوا) یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔ یقیناً ظالم نجات کا منہ نہ دیکھ پائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
6:22
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَيۡنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ
وہ دن کہ جس میں ہم ان سب کو محشور کریں گے تو مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ معبود کہاں ہیں کہ جنہیں تم خدا کا شریک خیال کیا کرتے تھے؟ (وہ تمہاری مدد کو کیوں نہیں آتے؟)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
6:23
ثُمَّ لَمۡ تَكُن فِتۡنَتُهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشۡرِكِينَ
پھر ان کا جواب اور عذر اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ وہ کہیں گے کہ اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہیں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
6:24
ٱنظُرۡ كَيۡفَ كَذَبُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡۚ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
دیکھو وہ کس طرح خود اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتے ہیں اور جسے جھوٹ موٹ خدا کا شریک سمجھتے تھے اسے چھوڑ بیٹھیں گے۔

سب سے بڑا ظلم

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

شرک وبت پرستی کی ہر طرح سے بیخ کنی کا پروگرام دینے کے بعد اوپر والی آےات میں سے پہلی آیت میں صراحت کے ساتھ استفہام انکاری کی صورت میں کہتا ہے: ان مشرکین سے بڑھ کر اور کون ظالم ہے کہ جنھوں نے خدا پر جھوٹ باندھا اور اس کا شرک قرار دیااس کی آیات کی تکذیب کی ہے (وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ) در حقیقت پہلا جملہ انکار توحید کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا جملہ انکار نبوت کی طرف اشارہ ہے اور واقعا اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہوسکتا کہ انسان بے قدر جمادات کو یا ناتواں انسان کو ایک لامحدود وجود کے مساوی قرار دے جو سارے عالم پر حکومت کرتا ہے، یہ کام تین جہت سے ظلم شمار ہوتا ہے ۔ ایک ظلم اس کی ذات پاک کے ساتھ کہ اس کے لیے شریک کا قائل ہوا ۔ دوسرا اپنے اور ظلم کہ اپنی حیثیت کو یہاں تک گرا دیا کہ اسے پتھر کے ایک ٹکڑے اور لکڑی کی پرستش تک نیچے لے لیا ۔ تیسرے ایک معاشرے اور سوسائٹی پر ظلم کہ شرک کے زیر اثر تفرقہ وپراکندگی اور روح وحدت ویگانگی سے دوری میں گرفتار ہوا ۔ مسلمہ طور پر کوئی بھی ظلم خاص طور پر ایسے ظلم کہ جن کاظلم ہر پہلو سے نمایاں ہے ، سعادت ورستگاری اور نجات وفلاح کامنہ نہیں دیکھے گے (اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ) ۔ البتہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ لفظ شرک ذکر نہیں ہوا لیکن قبل وبعد کی آیات پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو سب کی سب شرک کے بارے میں گفتگو کررہی ہے واضح ہوتا ہے کہ لفظ ”افتری“ سے اس آیت میں مراد وہی ذات الٰہی کے لیے شرک کی تہمت ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں ۱۵ مواقع پر کچھ لوگوں کا ظالم ترین اور ستمگار ترین کے عنوان سے تعارف کرایا گیا ہے اور وہ سب کے سب جملہ استفہامیہ ”ومن اظلم“ یا”فمن اظلم“ (کون زیادہ ظالم ہے) کے ساتھ شروع ہوئے ہیں اگر چہ ان آیات میں سے اکثر شرک وبت پرستی اور آیات الٰہی کے انکار کے بارے میں ہی گفتگو کرتی ہیں یعنی ان میں اصل توحید ہی پیش نظر ہے لیکن ان میں سے بعض دوسرے مسائل کے بارے میں بھی ہے مثلا : ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ “ ان سے زیادہ اور کون شخص ظالم ہے جو مساجد میں ذکر خدا سے روکتے ہیں؟(سورہٴ بقرہ،۱۱۴) ۔ ایک اور مقام پر ہے: ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللّهِ “ ان سے بڑھ کر اور کون ظالم ہیں جو شہادت کو چھپاتے ہیں(بقرہ ،۱۴۰) ۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ گروہوں میں سے ہر گروہ ہی سب سے بڑھ کر ظالم ہوں جب کہ ”ظالم ترین“ کا لفظ تو ان میں سے صرف ایک گروہ پر ہی صادق آتا ہے ۔ اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ ان سب امور کی حقیقت میں ایک ہی جڑ ہے اور وہ ہے شرک ،کفر اور عناد۔ کیوں کہ لوگوں کو مساجد میں ذکر خدا سے منع کرنا اور انھیں ویران وبرباد کرنے کی کوشش کرنا کفر وشرک کی نشانی ہے، اسی طرح شہادت کو چھپا نا ہے کہ ظاہری طور پر اس سے مراد حقائق پر شہادت کو چھپانا ہے جو وادی کفر میں لوگوں کے بھٹکنے کا سبب بنتا ہے لہٰذا یہ بات بھی شرک وکفر اور خدائے یگانہ کے انکار کی مختلف قسموں میں ہے ۔ بعد والی آیت میں مشرکین کے انجام کے سلسلے میں بحث ہوگہ، تاکہ واضح ہوجائے کہ انھوں نے بتوں جیسی کمزور مخلوق پر بھروسہ کرکے نہ اس دنیا میں اطمینان وراحت حاصل کیا ہے اور نہ ہی دوسرے جہاں میں،ارشاد الٰہی ہے: اس روز جب ہم ان سب کو ایک ہی جگہ مبوث کریں ،اور مشرکین سے کہیں گے کہ تمھارے وہ بناوٹی معبود جنھیں تم خدا کا شریک خیال کرتے تھے کہاں ہیں؟ اور وہ تمھاری مدد کے لیے کیوں نہیں آتے؟ اور کسی قسم کا اثر ان کی قدرت نمائی کااس وحشتناک عرصہٴ قیامت میں کیوں نظر نہیں آتا(وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَیۡنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ) ۔ کیا اصل بنیاد یہی نہ تھی کہ وہ مشکلات میں تمہاری مدد کریں گے ؟ اورکیا تم نے بھی اسی امید پر ان کی پناہ حاصل نہیں کی تھ؟ تو پھر ان کا یہاں پر کوئی معمولی سے معمولی اثر بھی کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ وہ ہکا بکا رہ جائیں گے اور عجیب وغریب وحشت وحیرت میں ڈوب جائیں گے اور اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا ،سوائے اس کے کہ قسم کھاکر کہنے لگےں کہ: ”خدا کی قسم ہم کبھی مشرک نہیں تھے“ ان کا گمان یہ ہوگاجیسے وہاں بھی حقائق کا انکار کیا جاسکتا ہے(ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ) اس بارے میں کہ اوپر والی آیت میں لفظ ”فتنہ“ کس معنی میں ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض اسے فروتنی اور معذرت کے معنی میں لیتے ہیں،بعض جواب کے معنی میں لےتے ہیں اور بعض نے شرک کے معنی میں لیا ہے(جب یہ لفظ معذرت اورجواب کے معنی میں لیا جائے گا تو اس صورت میں آیت کسی لفظ کے مقدر ہونے کی محتاج نہیں ہوگی ، لیکن اگر شرک کے معنی میں ہوتو ضروری ہے کہ لفظ ”نتیجہ“ کو مقدر مانا جائے یعنی ان کے شرک کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ قسم کھائیں گے کہ وہ مشرک نہیں تھے)۔ آیت کی تفسیر میں یہ بھی احتمال پایا جاتا ہے کہ ”فتنہ وافتنان“ سے مراد ان کا وہی دلی میلان ہو،یعنی ان کے شرک وبت پرستی سے ان کے لگاؤ کا نتیجہ کہ جس نے ان کی عقل وفہم پر پردہ ڈال رکھا ہوگا کہ قیامت کے دن جب پردے ہٹ جائیں گے تو اس وقت وہ اپنی بڑی خطا کی طرف متوجہ ہوں گے اور اپنے اعمال سے بیزاری اختیار کریں گے اور ان سے کلی طور پر انکار کردیں گے ۔ لغت میں” فتنہ “کا اصل معنی جیسا کہ ”راغب“ مفردات“ میں کہتا ہے کہ سونے کو آگ میں ڈال دیں اور اسے تیز آنچ دیں تاکہ اس کا باطن ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ وہ کھرا ہے کہ کھوٹا، اس معنی کو اوپر والی آیت میں تفسیر کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے کیوںکہ وہ لوگ جب قیامت کے دن سخت پریشانی اور اس دن کی وحشتوں میں غرق ہوں گے تو پھر انھیں ہوش آئے گا اور وہ اپنی غلطی پر آگاہ ہوں گے اور اپنی نجات کے لیے اپنے گذشتہ اعمال کا انکار کریں گے ۔ بعد والی آیت میں اس مقصد سے کہ لوگ ان کے رسوا کن انجام سے عبرت حاصل کریں کہا گیا کہ: اچھی طرح غور کرو اور دیکھو کہ ان کا معاملہ کہاں تک پہنچ گیا ہے کہ انھوں نے اپنی روش اور مسلک سے کاملا بیزاری اختیار کرلی ہے اور اس کا انکار کرتے ہیں یہاں تک کہ خود اپنی ذات سے جھوٹ بولتے ہیں(اُنۡظُرۡ کَیۡفَ کَذَبُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ) ۔ اور تمام سہارے جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کیے ہوئے تھے اور انھیں خدا کا شریک سمجھتے تھے ہاتھ سے دیں بیٹھے گے اور ان کی کہیں بھی رسائی نہیں ہوگی(وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ) ۔ چند اہم نکات ۱۔ ”انظر“ سے مراد مسلمہ طور پر عقل کی آنکھوں سے دیکھنا ہے، نہ کہ ظاہری آنکھوں سے دیکھنا، کیوں کہ قیامت کا میدان اس دنیا میں ظاہری نہیں دیکھا جاسکتا ۔ ۲۔ یہ جو کچھ کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر جھوٹ باندھا تو اس کا معنی کہ انھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو فریب دیا اور راہ حق سے نکل گئے، یا یہ کہ دوسرے جہاں میں جو قسم کھا رہیں ہیں کہ ہم مشرک نہیں تھے تو یہ حقیقت میں وہ اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں کیوں کہ مسلمہ طور پر وہ مشرک تھے ۔ ۳۔یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اوپر والی آیت سے معلوم ہوتا کہ مشرکین اپنے سابقہ شرک کا قیامت کا دن انکار کردیں گے جب کہ روز قیامت کی کیفیت اور حقائق کا حسی طور پر مشاہدہ اس طرح سے ہوگا کہ کسی شخص کو یہ مجال نہ ہوگی کہ حق کے خلاف کوئی بات کرے، بالکل اس طرح سے جیسے کوئی جھوٹے سے جھوٹا آدمی بھی ہمیں ایسا دیکھائی نہیں دیتا جو روز روشن میں سورج کے سامنے کھڑا ہو کر یہ کہے کہ فضا تاریک ہے، اس کے علاوہ بعض دوسری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ روز قیامت صراحت کے ساتھ اپنے شرک کا اقرار کرلیں گے اور کسی حقیقت کو نہیں چھپائیں گے مثلا: ”ولایکتمون اللّٰہ حدیثا“(نساء ۴۲) ۔ اس سوال کے دو جواب دئے جاسکتے ہیں : پہلا جواب: یہ ہے کہ قیامت کے کیے مراحل ہوں گے، ابتدائی مراحل میں مشرکین خیال کریں گے کہ جھوٹ بول کر بھی خدا کے دردناک عذاب اور سزا سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے لیکن وہ اپنی پرانی عادت کے مطابق جھوٹ بولیں گے لیکن بعد کے مراحل میں جب وہ یہ سمجھ لیں گے کہ اس طریقہ سے بھاگنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو پھر اپنے اعمال کا اعتراف کرلیں گے حقیقت میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی آنکھوں کے سامنے رفتہ رفتہ پردے ہٹےں گے، ابتدا میں جب کہ مشرکوں نے اپنے نامہٴ اعمال کاغور سے مطالعہ نہیں کیا ہوگا تو جھوٹ کا سہارا لیں گے لیکن بعد کے مراحل میں جب پردے پوری طرح اٹھ جائیں گے اور تمام چیزیں نظروں کے سامنے ہوں گی تو پھر انھیں اعتراف کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آئے گا ۔ ٹھیک مجرموں کی طرح جو ابتدائی تفتیش میں تمام باتوں سے، یہاں تک کہ اپنے دوستوں سے شناسائی کا بھی انکار کردیتے ہیں لیکن جب ان کی جرم کی اسناد اور منہ بولتی دستاویزات دیکھائی جاتی ہیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ معاملہ اتنا واضح ہے کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں لہٰذا پھر وہ اعتراف بھی کر لیتے ہیں اور سب کچھ اگل دیتے ہیں ۔ یہ جواب امیرالمومنین (علیه السلام) سے ایک حدیث میں نقل ہوا ہے ( بحوالہ نور الثقلین، جلد اول، صفحہ ۷۰۸) ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اوپر والی آیت ان افراد کے بارے میں ہے جو حقیقت میں اپنے آپ کو مشرک نہیں سمجھے تھے، مثلا عیسائی ، جو تین خداؤں کے قائل ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو موحد خیال کرتے ہیں، یا یہ آیت ایسے اشخاص کے بارے میں ہے جو تو حید کے نعرے لگاتے تھے، لیکن ان کے عمل سے شرک کی بو آتی تھے کیوں کہ وہ انبیاء کرام کے احکام پاؤں کے نیچے روندتے تھے، غیر خدا پر بھروسہ رکھتے اور خدا کے اولیاء کا انکار کرتے تھے لیکن اس کے باوجود خود کو موحد سمجھتے تھے، یہ لوگ قیامت کے دن قسم کھائیں گے کہ ہم تو موحد تھے لیکن بہت جلدہی انھیں سمجھا دیا جائے گا کہ وہ باطن میں مشرکین میں داخل تھے، یہ جواب بھی کئی ایک روایات میں حضرت علی علیہ اسلام اور حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے ۔ (بحوالہ نور الثقلین ،جلد اول،صفحہ ۷۰۸) اور دونوں جواب قابل قبول ہیں ۔

25
6:25
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَۖ وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۚ وَإِن يَرَوۡاْ كُلَّ ءَايَةٖ لَّا يُؤۡمِنُواْ بِهَاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
ان میں سے کچھ لوگ تیری بات تو سنتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ انہیں نہ سمجھیں اور ہم نے ان کے کانوں کو بوجھل کر دیا ہے اور وہ اس قدر ہٹ دھرم ہیں کہ اگر حق کی تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ وہ جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے جھگڑنے لگتے ہیں اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے لوگوں کے افسانے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
6:26
وَهُمۡ يَنۡهَوۡنَ عَنۡهُ وَيَنۡـَٔوۡنَ عَنۡهُۖ وَإِن يُهۡلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
وہ دوسروں کو اس سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دوری اختیارر کرتے ہیں اپنے سوا وہ کسی کو ہلاک نہیں کرتے۔ لیکن سمجھتے نہیں۔

حق قبول نہ کرنے والوں کا طرز عمل

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

حق قبول نہ کرنے والوں کا طرز عمل اس آیت میں بعض مشرکین کی نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ حقائق سننے کے لیے خود سے ذرہ بھر توجہ بھی نہیں دیتے، یہ تو ایک معمولی سی بات ہے، وہ تو اس سے دشمنی پر بھی اتر آتے ہیں اور تہمتوں کے ذریعہ خود کو اور دوسروں کو بھی اس سے دور رکھتے ہیں، ان کے بارے میں یوں کہا گیا ہے :ان میں سے بعض تیری بات تو سنتے ہیں لیکن ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دئےے ہیں، تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں، اور ان کے کانوں میں ہم نے بوجھل پن پیدا کردیا ہے تاکہ وہ اسے نہ سنے(وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ وَ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا) (اکنہ ”جمع“ ”کنان“بروزن”کتاب“پردہ کے معنی میں ہے،یا ہر وہ چیزجو چھپا دے اور”وقر“ کان کے بوجھل ہونے کے معنی میں ہے )۔ حقیقت میں زمانہ جاہلیت کے اندھے تعصبات اور مادی منافع میں غرق ہوتے چلے جانا اور ہوا وہوس کی پیروی کرنا ان کے عقل وہوش ہر اس طرح غالب آگیا ہے کہ گویا وہ پردے کے نیچے آگئے ہیں ( جس کی وجہ ) ناتو وہ کسی حقیقت کو سن سکتے ہیں اور نہ ہی مسائل کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ ہم یہ بات کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ اگر اس قسم کے مسائل کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے تو یہ حقیقت میں قانون ”علیت“ اورخاصیت عمل کی طرف اشارہ ہوتا ہے ،کج روی میں تسلسل اور ہٹ دھرمی اور بے دینی پر اصرار کا اثر یہ ہے کہ انسان کی روح بھی اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہے اور یہ اعمال انسان کو ٹیڑھے آئینے کی طرح بنا دیتے ہیں کہ (اس ٹیڑھے آئینے میں ) ہر چیز کج اور ٹیڑھی ہی نظر آتی ، تجربے نے اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ بدکار اور گناہگار افراد ابتدا میں اپنے برے کام سے پریشان اور بے آرام ہوتے ہیں لیکن پھر تدریجا اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور شاید ایسا دن بھی آجائے کہ وہ اپنے برے اعمال کو واجب اور ضروری سمجھنے لگ جاتے ہیں، دوسرے لفظوں میں یہ ان کی حق سے مخالفت اور کرنے اور گناہ پر ہٹ دھرمی اور اصرار کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے کہ جو ہٹ دھرم گناہگاروں کے دامن سے چمٹ جاتی ہے۔ اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا معاملہ اس حدکو پہنچ گیا ہے کہ :اگر وہ تمام آیات خدا اور اس کی نشانیوں کو بھی دیکھ لیں تو پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے(وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا) ۔ اور اس بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے دل کے کانوں کو تیری باتوں کی طرف متوجہ کریں اور کم اسے کم ایک حق کے متلاشی کی طرح کوئی نہ کوئی حقیقت معلوم ہوجانے کے احتمال میں بھی اس کے بارے میں کچھ غور کریں، وہ منفی روح اور منفی فکر کے ساتھ تیرے سامنے آتے ہیں اور لڑنے ،جھگڑنے اور اعتراض کرنے کے سوا ان کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا(حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡکَ یُجَادِلُوۡنَکَ) ۔ وہ تیری باتوں کو سن کر جو چشمئہ وحی سے نکلی ہے اور تیری حق گو زبان پر جاری ہوئی ہے تجھ پر تہمت لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بات گذشتہ انسانوں کے گھڑے ہوئے قصوں اور افسانوں کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی (یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ) ۔ بعد والی آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف اتنی بات پر ہی قناعت نہیں کرتے اور باوجود اس کے کہ وہ خود گمراہ ہیں ہمیشہ اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ حق کے متلاشی لوگوں کو اپنی طرح طرح کی زہر افشانیوں کے ذریعے اس راستے پر چلنے سے روک لیں لہٰذا وہ انھیں پیغمبر ؐکے قریب جانے سے منع کرتے ہیں (وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ اور خود بھی اس سے دور دور ہی رہتے ہیں (وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ) (ینئون ”ناٴی“ کے مادہ سے ہے جو بروزن ”سعی“ ہے دوری اختیار کرنے کے معنی میں ہے )۔ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جو شخص حق کے سامنے الجھے اور اس سے بیر رکھے اس نے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے اور انجام کار قانون آفرینش کے مسلمہ اصول کے مطابق حق کا چہرہ باطل کے بادلوں اوٹ سے نمایا ں ہوجاتا ہے اور ”حق“ میں جو قوت جاذبہ پائی جاتی ہے اس سے وہ کامیاب ہوکر رہے گا اور باطل اس بے قدروقیمت چھاگ کی طرح جو پانی کے اوپر آجاتا ہے نابود ہوکررہے گا، اس بنا پر ان کی کوشش اورفعالیت ان کی اپنی ہی شکست پر انجام پذیر ہوگی اور وہ خود اپنے سوا اور کسی کو بھی ہلاک نہیں کریں گے لیکن ان میں اس حقیقت کو سمجھنے کی طاقت نہیں ہے (وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ) ۔

مومن قریش حضرت ابو طالب (علیه السلام) پر ایک بہت بڑی تہمت

اوپر والی آیت کی تفسیر میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت ان بحثوں سے متعلق ہے جو ہٹ دھر مشرکین اور پیغمبر کے سخت ترین دشمنوں میں ہے ” ھم “کی ضمیر عربی ادب کے قواعد کے مطابق ان لوگوں کی طرف لوٹی ہے جن کے بارے میں اس آیت میں بحث کی گئی ہے یعنی وہ متعصب کافر جو پیغمبرؐ کی دعوت کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے اور آزارپہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے تھے ۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم اہل سنت کے بعض مفسرین میں عربی ادب کے تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوسری آیت کو پہلی آیت سے علیحدہ کرکے اسے حضرت ابوطالب(علیه السلام) یعنی امیرالمومنین علی (علیه السلام) کے والد کے لیے قرار دے دیا کرتے ہیں، وہ آیت کا اس طرح معنی کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو پیغمبر اسلام کا دفاع کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس سے دور رہتے ہیں ( (وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ)اور وہ قرآن کی کچھ اور آیات کہ جن کے بارے میں ان کے اپنے مقام پر اشارہ ہوگا مثلا سورہٴ توبہ کی آیت ۱۱۴ اور سورہٴ قصص کی آیت ۵۶ کو بھی اپنے مدعا پر گواہ قرار دیتے ہیں ۔ لیکن تمام علماء شیعہ اور اہل سنت کے بعض بزرگ علما مثلا ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ نے اور قسطلانی نے ارشاد الساری میں اور زینی دحلان نے سیرة حلبی کے حاشیہ میں حضرت ابو طالب کو مومنین اہل اسلام میں سے بیان کیا ہے، اسلام کی بنیادی کتابوں کے منابع میں بھی ہمیں اس موضوع کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ جن کے مطالعہ کے بعد ہم گہرے تعجب اورحیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ حضرت ابوطالب ایک گروہ کی طرف سے اس قسم کی بے مہری اور اتہام کا محل کیوں قرار پاگئے ہیں؟ جو شخص اپنے تمام وجود کے ساتھ پیغمبر اسلام ؐکا دفاع کیا کرتا تھا اور بار ہا خود اپنے آپ کو اور اپنے فرزندکو اسلام کے وجود مقدس کو بچانے کے لیے خطرات کے موقع پر ڈھال بنادیا کرتا تھا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس پر ایسی تہمت لگائی جائے ۔ یہی سبب ہے کہ دقت نظر کے ساتھ تحقیق کرنے والوں یہ سمجھا ہے کہ حضرت ابو طالب کے مخالفت کی لہر ایک سیاسی ضرورت کی وجہ ہے جو شجرہٴ خبیثہ بنی امیہ کی حضرت علی علیہ السلام کے مقام ومرتبہ کی مخالفت سے پیدا ہوئی ہے ۔ کیوں کہ یہ صرف حضرت ابوطالب کی ذات ہی نہیں تھی کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے قرب کی وجہ ایسے حملہ کی زد میں آئی ہو بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلام میں کسی طرح سے بھی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے نزدیکی رکھتا ہے ایسے ناجوانمردانہ حملوں سے نہیں بچ سکا، حقیقت میں حضرت ابوطالب کا کوئی گناہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام جیسے عظیم پیشوا اسلام کے باپ تھے ۔ ہم یہا ں پر ان بہت سے دلائل میں سے جو واضح طور پر ایمان ابوطالب کی گواہی دیتے ہیں کچھ دلائل مختصر طور پر فہرست وار بیان کرتے ہیں، تفصیلات کے لیے ان کتابوں کی طرف رجوع کریں جو اسی موضوع پر لکھی گئی ہیں ۔ ۱۔ حضرت ابو طالب پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی بعثت سے پہلے خوب اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ان کا بھتیجا مقام نبوت تک پہنچے گا کیوں کہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ جس سفر میں حضرت ابو طالب قریش کے قافلے کے ساتھ شام گئے تھے تو اپنے بارہ سال کے بھتیجے محمدﷺ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے ، اس سفر میں انھوں نے آپ سے بہت سی کرامات مشاہدہ کیں، ان میں ایک واقعہ یہ ہے کہ جو نہی قافلہ بحیرا نامی راہب کے قریب سے گزرا جو قدیم عرصے سے ایک گرجے میں مشغول عبادت تھا اور کتب عہدین کا عالم تھا اور تجارتی قافلے اپنے سفر کے دوران اس کی زیارت کے لیے جاتے تھے تو راہب کی نظریں قافلہ والوں میں سے حضرت محمدﷺ پر جم کر رہ گئیں ، جن کی عمر اس وقت بارہ سال سے زیادہ نہ تھی۔ بحیرا نے تھوڑی دیر کے لیے حیران وششدررہنے اور گہری اور پر معنی نظروں سے دیکھنے کے بعد کہا: یہ بچہ تم میں سے کس سے تعلق رکھتا ہے؟ لوگوں نے ابو طالب کی طرف اشارہ کیا، انھون نے بتا یا کہ یہ میرا بھتیجا ہے ۔ ”بحیرا“ نے کہا: اس بچہ کا مستقبل بہت درخشاں ہے، یہ وہی پیغمبرؐ ہے کہ جس کی نبوت ورسالت کی آسمانی کتابوں میں خبر دی ہے اور میں نے اس کی تمام خصوصیات کتابوں میں پڑھی ہے (تلخیص از سیرہٴ ابن ہشام جلد ۱، صفحہ ۱۹۱،اور سیرہ حلبی، جلد اول، صفحہ ۱۳۱، اور دیگر کتب۔) ۔ ابو طالب اس واقعہ اور اس جیسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھی پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی نبوت اور معنویت کو سمجھ چکے تھے ۔ اہل سنت کے عالم شہرستانی (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماء کی نقل کے مطابق ایک سال آسمان مکہ نے اپنی برکت اہل مکہ سے روک لی اور سخت قسم کے قحط سالی نے لوگوں کا رخ کیاتو ابو طالب نے حکم دیا کہ ان کے بھتیجے محمؐد کو جو ابھی شیر خوار ہی تھے لایا جائے، جب بچے کو اس حال میں کہ وہ ابھی پوتڑے میں لپٹا ہوا تھا انھیں دیا گیا تو وہ اسے لینے کے بعد خانہٴ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور تضرع وزاری کے ساتھ اس طفل شیر خوار کو تین مرتبہ اوپر کی طرف بلند کیا اور ہر مرتبہ کہتے تھے:پروردگارا، اس بچہ کے حق کا واسطہ ہم پر برکت والی بارش نازل فرما، کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ افق کے کنارے سے بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور مکہ کے آسمان پر چھا گیا اور بارش سے ایسا سیلاب آیا کہ یہ خوف پیدا ہونے لگا کہ کہیں مسجدالحرام ہی ویران نہ ہوجائے اس کے بعد شہرستانی لکھتا ہے کہ یہی واقعہ جو ابوطالب کے اپنے بھتیجے کے بچپن سے اس کی نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت کرتا ہے ان کے پیغمبرؐ پر ایمان رکھنے کا ثبوت بھی ہے اور ابوطالب نے اشعار ذیل اسی واقعہ کی مناسبت سے کہے تھے ۔ وابیض یستقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامی عصمة للارامل۔ ” وہ ایسا روشن چہرے والا ہے کہ بادل اس کی خاطر سے بارش برستے ہیں وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کے محافظ ہیں “۔ یلوذ بہ الھلاک من آل ھاشم فھم عندہ فی نعمة وفواضل۔ ” بنی ہاشم میں سے جو چل بسے ہیں وہ اسی سے پناہ لیتے ہیں اور اسی کے صدقے میں نعمتوں اور احسانات سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں“ ۔ ومیزان عدل لا یخیس شعیرة ووزان صدق وزن غیر ھائل۔ ” “وہ ایک ایسی میزان عدالت ہے کہ جو ایک جو برابر بھی ادھر ادھر نہیں کرتا اور درست کاموں کاایسا وزن کرنے والا ہے کہ جس کے وزن کرنے میں کسی شک وشبہ کا خوف نہیں ہے۔" قحط سالی کے وقت قریش کا ابوطالب کی طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب کا خدا کو آنحضرت کے حق کا واسطہ دینا شہرستانی کے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظیم مورخین نے بھی نقل کیا ہے،علامہ امینی نے اسے اپنی کتاب”الغدیر“ میں ”شرح بخاری“ ”المواہب اللدنیہ“ ”الخصائص الکبری“ ”شرح بہجة المحافل“ ”سیرہ حلبی“ ”سیرہ نبوی“ اور”طلبتة الطالب “ سے نقل کیا ہے( بحوالہ الغدیر جلد ہفتم،صفحہ ۳۴۶) ۔ ۲ ۔ اس کے علاوہ مشہور اسلامی کتابوں میں ابو طالب کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جو ہماری دسترس میں ہیں، ان میں سے کچھ اشعار ہم ذیل میں پیش کررہے ہیں:۔ واللّٰہ لن یصلوا الیک بجمعہم حتی اوسد فی التراب دفینا ۔ ” اے میرے بھتیجے خدا کی قسم جب تک ابطالب مٹی میں نہ سوجائے اور لحد کو اپنا بستر نہ بنا لے دشمن ہرگز ہر گز تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے“۔ فاصدع بامرک ما علیک غضا ضة وابشر بذاک وقر منک عیونا ۔ ” لہٰذا کسی چیز سے نہڈر اور اپنی ذمہ داری اور ماموریت کا ابلاغ کر، بشارت دے اور آنکھوں کو ٹھنڈا لے۔ “ودعوتنی وعلمت انک ناصحی ولقد دعوت وکنت ثم امینا ” تونے مجھے اپنے مکتب کی دعوت دی اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تیرا ہدف ومقصد صرف پندونصیحت کرنا اور بیدار کرنا ہے، تو اپنی دعوت میں امین اور صحیح ہے “ولقد علمت ان دین محمد (ص) من خیر ادیان البریة دینا(خزانة الادب، تاریخ ابن کثیر، شرح ابن ابی الحدید، فتح باری، بلوغ الادب، تاریخ ابوالفدا، سیرة نبوی و----(یہ حوالہ جات الغدیر جلد ۸ کے مطابق درج کیے گئے ہیں) ۔ ”میں یہ بھی جانتا ہوں کہ محمد کا دین ومکتب تمام دینوں اورمکتبوں میں سب سے بہتر ہے“۔ اور یہ اشعار بھی انھوں نے ہی ارشاد فرمائے ہیں: الم تعلموا ان وجدنا محمدا ــــــــــــــــــــــــــ رسولا کموسی خط فی اول الکتب ” اے قریش کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ محمد موسیٰ علیہ السلام کی مثل ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے مانند خدا کے پیغمبر اور رسول ہیں جن کے آنے کی پیشن گوئی پہلی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اور ہم نے اسے پالیا ہے“۔ وان علیہ فی العباد محبة ولا حیف فی من خصہ اللّٰہ فی الحب(خزانة الادب، تاریخ ابن کثیر، شرح ابن ابی الحدید، فتح باری، بلوغ الادب، تاریخ ابوالفدا، سیرة نبوی و----(یہ حوالہ جات الغدیر جلد ۸ کے مطابق درج کیے گئے ہیں) ”خدا کے بندے اس سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور جسے خدا وندتعالیٰ نے اپنی محبت کے لیے مخصوص کرلیا ہو اس شخص سے لگاؤ بے موقع نہیں ہے“۔ ابن ابی الحدید نے جناب ابوطالب کے کا فی اشعار نقل کرنے کرنے کے بعد(کہ جن کا مجموعہ کو ابن شہر آشوب نے ”متشابہاة القران“میں تین ہزار اشعار کہا ہے) کہتا ہے : ان تمام اشعار کے تمام مطالعہ سے ہمارے لیے کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ ابوطالب اپنے بھتیجے کے دین پر ایمان رکھتے تھے ۔ ۳۔ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نیت سی ایسی احادیث بھی نقل ہوئی ہیں جو آنحضرت کی ان کے فداکار چچا ابوطالب کے ایمان پر گواہی دیتی ہیں، منجملہ ان کے کتاب”ابوطالب مومن قریش“ کے مولف کی نقل کے مطابق ایک یہ ہے کہ جب ابو طالب (علیه السلام) کی وفات ہوگئی تو پیغمبر اکرم نے ان کی تشیع جنازہ کے بعد اس سوگواری کے زمن میں جو اپنے چچا کی وفات کی مصیبت میں آپ کررہے تھے آپ یہ بھی کہتے تھے : ”وابتاہ! واباطالباہ! واحزناہ علیک ،کیف اسلو علیک یا من ربیتنی صغیر-واجبتنی کبیرا،وکنت عندک بمنزلة العین من الحدقہ والروح من الجسد“(” بحوالہ شیخ الاباطح“ بنقل از ابوطالب مومن قریش۔) ہائے میرے بابا! ہائے ابوطالب! میں آپ کی وفات سے کس قدر غمگین ہوں، کس طرح آپ کی مصیبت کو میں بھول جاؤں، اے وہ شخص جس نے بچپن میں میری پرورش اور تربیت کی اور بڑے ہونے پر میری دعوت پر لبیک کہی، میں آپ کے نزدیک اس طرح تھا جیسے آنکھ خانہٴ چشم میں اور روح بدن میں ۔ نیز آپ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے: ”ما نالت منی قریشا شیئا اکرہہ حتی مات ابو طالب“( بحوالہ طبری : مطابق نقل ابوطالب مومن قریش۔) ”اہل قریش اس وقت تک کبھی میرے خلاف نہ پسندیدہ اقدام نہ کرسکے جب تک ابو طالب کی وفات نہ ہوگی“ ۴۔ ایک طرف سے یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کو ابو طالب کی وفات سے کئی سال پہلے یہ حکم مل چکا تھا کہ وہ مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا دوستانہ رابطہ نہ رکھیں، اس کے باوجود ابو طالب کے ساتھ اس قسم کے تعلق اور مہر محبت کا اختیار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم انھیں مکتب توحید کا معتقد جانتے تھے، ورنہ یہ بات کس طرح ممکن ہوسکتی تھی کہ دوسروں کو تو مشرکین کی دوستی سے منع کریں اور خود ابوطالب سے عشق کی حد تک مہر ومحبت رکھیں ۔ ۵۔ ان احادیث میں بھی کہ جو اہل بیت پیغمبر کے طرق سے ہم تک پہنچی ہیں حضرت ابوطالب کے ایمان واخلاص کے بڑے کثرت سے مدارک نظر آتے ہیں، کہ جن کا یہاں نقل کرنا طول کا باعث ہوگا، یہ احادیث منطقی اور عقلی استدلال کی حامی ہیں، ان میں سے ایک حدیث جو چھوتھے امام علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس میں امام علیہ السلام نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا: ان ھنا قوما یزعمون انہ کافر اس کے بعد فرمایا:۔ واعجبا کل العجب ایطعنون علی ابی طالب او علی رسول اللّٰہ (صلّی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم) وقد نہاہ اللّٰہ ان تقر موٴمنة مع کافر غیر آیة من القرآن ولا یشک احد ان فاطمة بنت اسد (رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا) من المومنات السابقات فانھا لم تزل تحت ابی طالب حتی مات ابو طالب رضی اللّٰہ عنہ“ ” "یعنی تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ یہ کیوں خیال کرتے ہین کہ ابوطالب کافر تھے، کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ کس عقیدہ کے ساتھ پیغمبر اور ابوطالب پر طعن کرتے ہیں، کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی کئی آیا ت میں اس بات سے منع کیا گیا ہے (اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ) مومن عورت ایمان لانے کے بعد کافر کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور یہ بات مسلم ہے کہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا سابق ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور وہ ابوطالب کی زوجیت میں ابو طالب کی وفات تک رہیں“( بحوالہ کتاب الحجہ، درجات الرفیعہ بنقل از الغدیر،جلد ۸) ۶۔ان تما باتوںکو چھوڑتے ہوئے اگر ہر چیز میں ہی شک کریں تو کم از کم اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں کرسکتا کہ ابوطالب اسلام اور پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے درجہ اول کے حامی ومددگار تھے، ان کی اسلام اور پیغمبرؐ کی حمایت اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ جسے کسی طرح بھی رشتہ داری اور قبائلی تعصبات سے نتھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کا زندہ نمونہ شعب ابوطالب (علیه السلام) کی داستان ہے، تمام مورخین نے لکھا ہے کہ جب قریش نے پیغمبر اکرم اور مسلمانوں کا ایک شدید اقتصادی ،سماجی اور سیاسی بائیکاٹ کرلیا اور اپنے ہر قسم کے روابط ان سے منقطع کرلیے تو آنحضرت کے واحد حامی اور مدافع ابوطالب (علیه السلام) اپنے تمام کاموں سے ہاتھ کھینچ لیا اور برابر تین سال تک ہاتھ کھینچے رکھا اور بنی ہاشم کو ایک درے کی طرف لے گئے جو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان تھا اور شعب ابوطالب (علیه السلام) کے نام سے مشہور تھا اور وہاں پر سکونت اختیار کرلی، ان کی فداکاری اس مقام تک جا پہنچی کہ قریش کے حملوں سے بچانے کے لیے کئی ایک مخصوص قسم کے برج تعمیر کرنے کے علاوہ ہر رات پیغمبر اکرم کو ان کے بستر سے اٹھاتے اور دوسری جگہ ان کے آرام کے لیے مہیا کرتے اور اپنے فرزنددلبند علی (علیه السلام) کو ان کی جگہ پر سلادیتے اور جب حضرت علی (علیه السلام) کہتے ، بابا جان ! میں تو اس حالت میں قتل ہوجاؤں گا تو ابوطالب (علیه السلام) جواب میں کہتے: میرے پیارے بچے بردباری اور صبر ہاتھ سے نہ چھوڑو ، ہر زندہ موت کی طرف رواں دواں ہے، میں نے تجھے فرزند عبداللہ (علیه السلام) کا فدیہ قرار دے دیا ہے، یہ بات اور بھی طالب توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام باپ کے جواب میں کہتے ہیں کہ بابا جان !میرا یہ کلام اس بنا پر نہیں تھا کہ میں راہ محمد میں قتل ہونے سے ڈرتا ہوں، بلکہ میرا یہ کلام اس بنا پر تھا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ میں کس طرح سے آپ کا اطاعت گذار اور احمد مجتبیٰ کی نصرت کے و مدد کے لیے آمادہ وتیار ہوں ۔ ( بحوالہ الغدیر،جلد ۸) ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی تعصب کو ایک طرف رکھ کر غیر جانبداری کے ساتھ ابوطالب(علیه السلام) کے بارے میں تاریخ کی سنہری سطروں کو پڑھے گا تو وہ ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ کا ہمصدا ہوکر کہے گا: ولولا ابوطالب وابناہ لما مثل الدین شخصا وقاما فذاک بمکة آوی وحامی وہذا بیثرب حبس الحماما (الغدیر، جلد ۸) ”اگر اابو طالب اور ان کا بیٹا نہ ہوتے تو ہرگز دین ومکتب اسلام باقی نہ رہتا اور اپنا قد سیدھا نہ کرتا ۔ ابوطالب تو مکہ میں پیغمبر کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور علی (علیه السلام) یثرب(مدینہ)میں حمایت اسلام کی راہ گرداب موت میں ڈوب گئے“۔

27
6:27
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُواْ يَٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اگر تم (ان کی حالت) دیکھو جس وقت وہ آگ کے سامنے کھڑے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش ہم (دوبارہ دنیا کی طرف) پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی باتوں کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین میں سے ہو جاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
6:28
بَلۡ بَدَا لَهُم مَّا كَانُواْ يُخۡفُونَ مِن قَبۡلُۖ وَلَوۡ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
(وہ واقع میں پشیمان نہیں ہیں ) بلکہ ان کے وہ اعمال و نیات جنہیں وہ پہلے چھپائے ہوئے تھے ان کے سامنے آشکار ہو گئے (اور وہ وحشت میں پڑ گئے ہیں ) اور اگر وہ پلٹ جائیں تو وہ پھر انہی اعمال کی طرف لوٹ جائیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے اور وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔

وقتی اور بے اثر بیداری

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

وقتی اور بے اثر بیداری گذشتہ دو آیات میں مشرکین کی ہٹ دھرمی کے کچھ اعمال کی طرف اشارہ ہوا تھا اور وہ ان دو آیات میں ان کے اعمال کے نتائج کا منظر مجسم ہوا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ انھیں کیسا برا انجام درپیش ہے اور وہ بیدار ہوجائیں یا کم از کم ان کی کیفیت دوسروں کے لیے باعث عبرت ہو ۔ پہلے فرمایا گیاہے: اگر تم ان کی حالت جب وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے، دیکھو، تو تم تصدیق کرو گے کہ وہ کس دردناک انجام وعاقبت میں گرفتار ہوئے ہیں (وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَی النَّارِ ---)( اس بنا پر ”لو“ بمعنی شرط ہے اور اس کی جزاو وضاحت کی وجہ سے محذوف ہے) ۔ وہ اس حالت سے اس طرح منقلب ہوں گے کہ دادوفریاد کریں گے کاش اس سرنوشت شوم سے نجات اور برے کاموں کی تلافی کے لیے دوبارہ دنیا میں پلٹ جاتے، اور وہاں آیات خدا کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین کی صف میں قرار پاتے(فَقَالُوۡا یٰلَیۡتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ) اہم نکتہ کہ جس کی طرف توجہ کرنا چاہئے کہ ”مشہور قرائت کے مطابق جو دسترس میں ہے“ ”نرد“ رفع کے ساتھ اور ”لانکذب“ اور ”نکون“ نصب کے ساتھ پڑھا گیا ہے، حالانکہ ظاہرا ایک دوسرے پر معطوف ہیں لہٰذا تمام کو ایک جیسا ہونا چاہےے، اس کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ ”نرد“ جزاء تمنی ہے اور ”لانکذب“ حقیقت میں اس کا جواب ہے اور ”واو “ یہاں منزلہٴ ”فاء “ کے ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ تمنی کا جواب جب ”فاء“ کے بعد ہو تو منصب ہوتا ہے، فخرالدین رازی،مرحوم طبرسی، اور ابوالفتوح رازی جیسے مفسرین نے اس کی اور وجوہ بھی ذکر کی ہیں، لیکن جو کچھ یہاں بیان کیا گیا ہے وہ سب سے زیادہ واضح ہے اس بنا پر آیت سورہٴ ”زمر“ کی آیہٴ ۵۸ کے مثابہ ہے جو ااس طرح ہے: لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ “۔ بعد والی آیت میں کہا گیا ہے کہ یہ جھوٹی آرزو ہے بلکہ یہ اس بنا پر ہے کہ اس دنیا میں جو عقائد ،نیتیں اور اعمال انھوں نے چھپا رکھے تھے وہ سب ان کے سامنے آشکار ہوگئے ہیں اور وہ وقتی طور پر بیدار ہوئے ہیں (بَلۡ بَدَا لَہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ) ۔ لیکن یہ پائیدار اور محکم اور بیداری نہیں ہے، اور مخصوص حالات میں پیدا ہوئی ہے لہٰذا اگر بغرض محال وہ دوبارہ اس جہاں میں پلٹ بھی جائیں تو انھیں کاموں کے پیچھے نکلیں گے جن سے انھیں روکا گیا ہے وَ لَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ) ۔ اس بنا پر وہ اپنی آرزو اورمدعا میں سچے نہیں ہیں اور وہ جھوٹ بولتے ہیں (وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ ”بدالہم“(ان کے لیے آشکار ہوا) سے ظاہرا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقائق کے ایک سلسلہ کو نہ صرف لوگوں سے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی مخفی رکھتے تھے جو قیامت کے دن ان پر آشکار ہوجائیں گے اور یہ مقام تعجب نہیں ہے کہ انسان کسی حقیقت کو خود اپنے آپ تک سے بھی مخفی رکھے اور اپنے وجدان اور فطرت پر پردہ ڈال دے تاکہ وہ جھوٹا اطمینان حاصل کرے ۔ وجدان کو فریب دینے کا مسئلہ اور حقائق کو اپنے آپ سے چھپانا اہم مسائل میں سے ہے کہ جس پر وجدان کی فعالیت سے مربوط بحثوں میں خصوصی غور وفکر کیا گیا ہے، مثلا ہم بہت سے ہوس پرست افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ہوس آلود اعمال کے شدید نقصان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن اس سبب سے کہ راحت کے خیال سے اپنے اعمال کو جاری رکھیں یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس آگاہی کو اپنے اندر ہی چھپائیں رکھیں ۔ لیکن بہت سے مفسرین نے لفظ ”لہم“ کی تعبیر کی طرف کےے بغیر آیت کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ وہ ایسے اعمال پر منطبق ہو کہ جنھیں وہ لوگوں سے مخفی رکھتے تھے (غور کیجیے) ۔ ۲۔ ممکن ہے کہا جائے کہ آرزو کرنا کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس میں جھوٹ یا سچ ہو اور وہ اصطلاح میں ”انشاء“ کی ایک قسم اور ”انشاء“ میں جھوٹ یا سچ کا وجود ہی نہیں ہوتا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کیوں کہ بہت سے”انشاء “ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ کسی خبر کا مفہوم بھی موجود ہوتا ہے، جن میں صدق یا کذب کی گنجائش ہوتی ہے مثلا بعض اوقات پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میری تمنا یہ ہے کہ خدا مجھے بہت سا مال دے تو میں تمھاری مدد کروں ، یہ ایک آرزو ہے ، لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خدا مجھے ایسا مال دیدے تو مجھے میں تمھاری مدد کروں گا اور یہ ایک خبری مفہوم ہے، جو ہوسکتا ہے جھوٹا ہو، لہٰذا مد مقابل جو اس کی بخل اور تنگ نظری سے آگاہ ہے کہتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اگر خدا تجھے دے بھی دے تو پھر بھی تو ہرگزایسا نہیں کرے گا(ایسی صورت بہت سے انشائی جملوں میں نظر آتی ہے) ۔ ۳۔ یہ جو ہم آیت میں پڑھتے ہیں کہ اگر وہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں تو دوبارہ وہی کام کرنے لگیں گے، یہ اس بنا پر ہے کہ بہت سے لوگ جس وقت اپنی آنکھ سے اپنے اعمال کے نتائج دیکھتے ہیں ،یعنی مرحلہ شھود کو پہنچ جاتے ہیں تو وہ وقتی طور پر پریشان اور پشیمان ہوکر یہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے اعمال کی تلافی کرسیکں، لیکن یہ ندامت اور پشیمانیاں جو اسی حال شھود اور اعمال کا نتیجہ دیکھنے سے مربوط ہے، ناپائیدارہوتی ہے جو تما م لوگوں میں عینی سزاؤں کا سامنا کرتے وقت پیدا ہوتی رہتی ہے لیکن جب مشاہدات عینی برطرف ہوجاتے ہیں تو یہ خاصیت بھی زائل ہوجاتی ہے اور سابقہ کیفیت پلٹ آتی ہے ۔ انھیں بت پرستوں کی طرح کہ جو سمندر کے سخت طوفانوں میں گرفتارہونے پر اور خود کو موت اور فنا کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھ کر خدا کے سوا تمام چیزیں بھوکل جاتے ہیں لیکن جو نہی طوفان رکتا ہے اور وہ امن وامان کے مسائل تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر تمام چیزیں اپنی جگہ پلٹ آتی ہیں(یونس، ۲۲) ۔ ۴۔ اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ مذکورہ بالا حالات بت پرستوں کی ایک خاص جماعت کے ساتھ مخصوص ہے کہ جن کی طرف گذشتہ آیات میں اشارہ ہو چکا ہے، یہ نہیں کہ سب بت پرست ایسے تھے، لہٰذا پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم اس بات پر مامور تھے کہ باقی تمام کو پند ونصیحت کریں، انھیں بیدار کریں اور ہدایت کریں ۔

29
6:29
وَقَالُوٓاْ إِنۡ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوثِينَ
انہوں نے کہا اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور ہم ہر گز دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے نہیں جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
6:30
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ قَالَ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
اگر تم انہیں اس وقت دیکھو جب وہ اپنے پرورردگار کی عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے تو انہیں کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے تو وہ اس کے جواب میں کہیں گے جی ہاں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ حق ہے تو وہ کہے گا جس بات کا تم انکار کیا کرتے تھے اس کی سزا میں اب عذاب کا مزہ چکھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
6:31
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ قَالُواْ يَٰحَسۡرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطۡنَا فِيهَا وَهُمۡ يَحۡمِلُونَ أَوۡزَارَهُمۡ عَلَىٰ ظُهُورِهِمۡۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ
جنہوں نے لقائے پروردگار کا انکار کیا مسلمہ طور پر انہوں نے نقصان اٹھایا (اور یہ انکار ہمیشہ رہے گا) یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی تو وہ کہیں گے ہائے افسوس کہ ہم نے اس کے بارے میں کوتاہی کی وہ اپنے گناہوں کا (بھاری بوجھ) اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے اور کیسا برا بوجھ ہے جو انہوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
6:32
وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۖ وَلَلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
اور دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں ہے اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو پرہیز گار ہیں۔ کیا تم سوچتے نہیں ہو؟

تجھ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی گئی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

پہلی آیت کی تفسیرمیں دو احتمال ہیں،ایک احتمال تو یہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم اور سخت قسم کے مشرکین کی گفتگو کے بعد ہونے والی حالت کی نشاندہی ہے جو قیامت کا منظر دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور تلافی کریں، لیکن قرآن کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ پلٹ بھی جائیں تو نہ صرف یہ کہ تلافی کی فکر نہیں کریں گے اور اپنے کاموں کو جاری رکھیں گے بلکہ اصلا دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے اور قیامت ہی کا انکار کردیں گے اور بڑے تعجب کے ساتھ کہیں گے تو زندگی تو صرف یہ دنیاوی زندگی ہی ہے اور اب ہم کبھی دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے نہیں جائیں گئے وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ)( اس احتمال کے مطابق ”وقالوا“عطف ہے ”عادوا“ اور اس احتمال کو تفسیر” المنار “کے مولف نے اختیار کیا ہے )۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں جو معاد کا بالکل ہی انکار کرتے تھے اور یہ ایک جدا بحث بیان کر رہی ہے کیوں کہ مشرکین عرب میں ایک ایسی جماعت بھی تھی جو معادکا عقیدہ نہیں رکھتی تھی جب کہ بعض ایسے لوگ بھی تھے جو کسی نہ کسی طرح معاد پر ایمان رکھتے تھے ۔ بعد کی آیت میں قیامت کے دن ان کے انجام کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے قرآن یوں کہتا ہے: اگر تم اس وقت انھیں دیکھو کہ جب وہ اپنے پرور دگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ؕ قَالَ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ)تو وہ جواب میں کہیں گے: جی ہاں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ حق ہے(قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا) ۔ دوبارہ ان سے کہا جائے گا: پس تم عذاب اور سزا کا مزہ چکھو، کیوں کہ تم اس کا انکار کیا کرتے تھے اور کفر کرتے تھے (قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ) ۔ مسلمہ طور پر(پرور دگار کے سامنے کھڑے ہونا ) یہ نہیں ہے کہ خدا کوئی مکان رکھتا ہو بلکہ یہ اس کی سزا کے سامنے کھڑے ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے یا یہ عدالت الٰہی میں حاضر ہونے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ نماز کے وقت انسان یہ کہتا ہے کہ میں خدا کے سامنے کھڑا ہوں ۔ بعد والی آیت میں معاد وقیامت کا انکار کرنے والوں کے نقصان اور گھاٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جنھوں نے پرور دگار کی ملاقات کا انکار کیا ہے مسلمہ طور پر نقصان میں گرفتار ہے قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ) ۔ جیسا کہ پہلے اشارتا بیان کیا جاچکا ہے پروردگار کی ملاقات سے مراد یاتو ملاقات معنوی اور ایمان شہودی(شہود باطنی)یا میدان قیامت اور اس کی جزا وسزا کے مناظر سے ملاقات ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ انکار ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہے گا اور یہ صرف اس وقت تک ہوگا جب اچانک قیامت پربا ہوجائے اور وہ وحشتناک مناظر کا سامنا کریں اور اپنے اعمال کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اس موقع پر ان کی فریاد بلند ہوگی : ہائے افسوس! ہم نے ایسے دن کے لیے کس قدرکوتاہی کی تھی (حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً قَالُوۡا یٰحَسۡرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطۡنَا فِیۡہَا)” ساعة“ سے مراد ہے قیامت کا دن، اور ”بغتة “ کا معنی ہے بطور ناگہانی اور اچانک کہ جس کے وقت کو خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا، واقع ہوجائی گی اور قیامت کے دن کے لیے اس نام”ساعة“ کے انتخاب کا سبب یا تو یہ ہے کہ اس گھڑی لوگوں کا حساب بڑی تیزی کے ساتھ انجام پائے گا اور یا یہ اس کے ناگہانی طور پر وقوع پذیر ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ لوگ عالم برزخ سے عالم قیامت کی طرف منتقل ہوجائیں گے ۔ ”حسرت“ کا معنی ”کسی چیز پر افسوس کرنا“ ہے لیکن عرب جب زیادہ متاثر ہوتو خود حسرت کو مخاطب کرکے کہتے ہیں”یا حسرتنا“ گویا حسرت کی شدت و سختی اس قدر ہے جیسے وہ ایک موجود چیز کی شکل ہے میں اس کے سامنے مجسم کھڑی ہے ۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہ گناہوں کا بوجھ اپنے دوش پر لیے ہیں (وَ ہُمۡ یَحۡمِلُوۡنَ اَوۡزَارَہُمۡ عَلٰی ظُہُوۡرِہِمۡ) ۔ ”اوزار “ جمع ہے ”وزر“ کی جس کا معنی ہے سنگین بوجھ ، اور یہاں اس سے مراد گناہ ہے اور یہ آیت تجسم اعمال کی ایک دلیل بن سکتی ہے کیوں کہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذمہ داری اور جوابدہی کے بارکی سنگینی مراد ہو، کیوں کہ ذمہ داریوں کو ہمیشہ بھاری بوجھ سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا ہے کیسا برا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے (اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ) ۔ مندرجہ بالا آیت میں منکرین معاد کے خسارہ اور نقصان کی کچھ باتیں بیان ہوئی ہیں اس بات کی دلیل واضح ہے کہ ان کے معاد پر ایمان رکھنا علاوہ اس کے کہ انسان کو ہمیشہ کی سعادت بخش زندگی کے لیے آمادہ کرتا ہے او ر اسے کمالات علمی وعملی کی تحصیل کی دعوت دیتا ہے، آلودگیوں اور گناہوں کے مقابلے میں انسان کو کنٹرول کرنے میں بھی گہرا اثر رکھتا ہے، ہم معاد سے مربوط مباحثہ میں انشاء اللہ انفرادی واجتماعی نظر سے اس کی اصلاحی اثر کا وضاحت سے بیان کریں گے ۔ اس کے بعد آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کی حیثیت بیان کرنے کے لیے یوں ارشاد ہوتا ہے: دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ) ۔ اس بنا پر وہ لوگ جنھوں نے صرف دنیا سے دل باندھا ہوا ہے اور اس کے علاوہ اور کسی چیز کے نہ وہ خواہش مند ہی اور نہ ہی طلبگار ہیں درحقیقت یہ ایسے ہوس باز بچے ہیں کہ جنھوں نے عمر کا ایک حصہ کھیل کود میں گذار دیا ہے اور ہر چیزسے بے خبر رہے ہیں ۔ دنیاوی زندگی کو لہو ولعب سے تشبیہ اس وجہ سے دی گئی ہے کیوں کہ عام طور پر کھیل کود کے کام اندر سے خالی اور بے بنیاد ہوتے ہیں، جو حقیقی زندگی کے تن سے دور ہیں، نہ تو وہ شکست کھتاتے ہیں ،جنہوں نے فی الحقیقت شکست کھائی ہے اور نہ ہی وہ چکست یافتہ ہوتے ہیں جنھوں نے بازی کو جیت لیا ہے کیوں کہ کھیل کے ختم ہونے پر ہر چیز اپنی جگہ لوٹ جاتے ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے ایک دوسرے کے گرد بیٹھ جاتے ہیں اور کھیل شروع کردیتے ہیں ایک کو”امیر“ اور دوسرے کو”وزیر“ ایک کو ”چور“ اور ایک کو”قافلہ“ بناتے ہیں، لیکن تھوڑی سی دیر نہیں گزرتی کہ نہ کوئی امیر رہتا ہے نہ وزیر، نہ چور رہتا اور نہ قافلہ۔ یا نمائش جو کھیل کود کے طور پر انجام پاتی ہے ان میں جنگ، عشق یا دشمنی کے مناظر مجسم ہوتے ہیں لیکن گھڑی بھر کے بعد کسی چیز کا کوئی پتہ نہیں ہوتا ۔ دنیا ایک ڈرامے کی طرح ہی ہے کہ جس کے کردار، اس دنیا کے لوگ ہیں اور کبھی یہ بچکانہ کھیل ہمارے عقلمندوں اور فہمیدہ لوگوں تک کوبھی اپنے میں مشغول رکھتا ہے لیکن بہت جلد ی کھیل اور ڈرامہ ختم ہونے کا اعلان ہوجاتا ہے ۔ ”لعب “ (بروزن لزج)اصل میں مادہ لعاب (غبار) لعاب دہن اور رالوں کے معنی میں ہے جو لبوں سے گرتی ہیں اور یہ جو کھیل کو لعب کہتے ہیں اس بنا پر کہ وہ بھی منہ سے رال کے گرنے کی طرح ہے، جو بغیر کسی مقصد انجام پاتا ہے ۔ اس کے بعد آخرت کی زندگی کا اس سے موازنہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: آخرت کا گھر متقی لوگوں کے لیے بہتر ہے، کیا تم فکر نہیں کرتے اور عقل سے کام نہیں لیتے ہو وَ لَلدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ) ۔ کیوں کہ وہ فنا نہ ہونے والی اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے ، جس کا جہاں بہت وسیع ہے، اور جس کی سطح بہت ہی اونچی ہے، وہ ایک ایسے عالم میں ہے جس کا تعلق حقیقت کے ساتھ ہے نہ کہ مجاز کے ساتھ، وہ ایک واقعیت ہے خیال نہیں ہے، وہ ایک اسیا جہان ہے جس کی نعمتیں درد ورنج کے ساتھ ملی ہوئی نہیں ہے اور سراسر خالی نعمتیں ہی نعمتیں ہے جن میں دکھ تکلیف نہیں ہے ۔ چونکہ ان واقعات کو صحیح طور پر سمجھنا، دنیا کے فریب دینے والے مظاہر کو پیش نظر رکھتے ہوئے، غور وفکر کرنے والے لوگوں کے سوا دوسروں کے لیے ممکن نہیں ہے لہٰذا آیت کے آخر میں روئے سخن ایسے ہی افراد کی طرف ہے ۔ ایک حدیث میں جو ہشام بن حکم کے واسطے سے امام موسی کاظم علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے آپ نے یوں فرمایا ہے: اے ہشام! خدا نے عقلمند لوگوں کو نصیحت کی ہے اور آخرت کے لیے تعلق رکھنے والا بنایا ہے ، اور کہا ہے کہ دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں ہے اور دار آخرت متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لیے بہتر ہے، کیا تم اپنی عقل اور فکر کو کام میں نہیں لاتے ہو ۔( بحوالہ نور الثقلین،جلد ۱،صفحہ ۷۱۱ ) شاید یہ بات ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہو کہ ان آیات کا ہدف اور اصل مقصد مادی دنیا کے مظاہر کے ساتھ دل لگانے اور وابستگی اختیار کرنے اور اس کے آخری مقصد کو بھلا دینے کے خلاف جہاد ہے، ورنہ وہ لوگ جنھوں نے دنیا کوحصول سعادت کا وسیلہ قرار دیا ہے وہ حقیقت میں آخرت کے متلاشی ہیں نہ کہ دنیا کے ۔

33
6:33
قَدۡ نَعۡلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحۡزُنُكَ ٱلَّذِي يَقُولُونَۖ فَإِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ
ہم جانتے ہیں کہ تجھے ان لوگوں کی گفتگو غمگین کر دیتی ہے (مگر تم غم نہ کھاؤ اور جان لو کہ) وہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ وہ ظالم تو آیات خدا کا انکار کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
6:34
وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِيْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
تجھ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی گئی ہے مگر انہوں نے ان تکذیبوں کے مقابلہ میں صبر کیا اور استقامت سے کام لیا اور (اس راہ میں ) انہوں نے رنج و تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ ہماری مدد ان تک آن پہنچی تم بھی اسی طرح رہو (یہ سنت الٰہی ہے) اور کوئی چیز اللہ کی سنتوں کو بدل نہیں سکتی اور تمہیں گذشتہ پیغمبروں کی خبریں تو پہنچ ہی گئی ہیں۔

مصلحین کے راستے میں ہمیشہ مشکلات رہی ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس میں شک نہں ہے کہ پیغمبرؐ اپنی منطقی گفتگو اور فکری مبارزات میں جو وہ ہٹ دھرم اور سخت مشرکین کے ساتھ رہتے تھے بعض اوقات ان کی ہٹ دھرمی سے اور اپنی باتوں سے ان کی روح میں اثر نہ ہونے سے اور بعض اوقات ان کی ان غیر مناسب نسبتوں سے وہ جو حضرت کی طرف دیتے تھے غمگین اور اندوہناک ہوجاتے تھے۔خدا وند تعالیٰ بارہا قرآن مجید میں اپنے پیغمبرؐ کو ایسے موقع پر تسلی اور دلاسا دیا کرتا تھا تاکہ آنحضرتؐ زیادہ گرمجوشی اور صبر واستقامت کے ساتھ اپنے پروگرام میں مشغول رہیں۔ انھیں میں سے مندرجہ بالا ٓیات بھی ہیں ، پہلی آیت میں فرماتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تجھے محزون ومغموم کردیتی ہیں (قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّہٗ لَیَحۡزُنُکَ الَّذِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ) ۔ لیکن تمھیں معلوم ہونا چاہے کہ وہ تمھاری تکذیب نہیں کرتے وہ تو درحقیقت ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں، لہٰذا ان کے اصل مخالف تو حقیقت میں ہم ہیں نہ کہ تم(فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ) ۔ اور اس بات کی نظیر ہمارے درمیان گفتگو میں بھی نظر آتی ہے جب کہ بعض اوقات بزرگ تر شخصیت اپنے نمائندہ کے ناراحت ہونے کے وقت اس سے کہتی ہے کہ تم کوئی غم نہ کرو یہ اصل میں تو انھوں نے میری مخالفت کی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی مشکل پیدا ہوگی تو وہ میرے لیے ہوگی نہ کہ تمھارے لیے اور اس طرح سے وہ شخصیت اس کی تسلی وتشفی کے اسباب مہیا کرتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں مفسرین نے کچھ احتمالات بھی پیش کیے ہیں، لیکن ظاہر مفہوم وہی ہے جو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں ۔ یہ احتمال بھی ایک جہت سے قابل ملاحظہ ہے کہ آیت سے مراد یہ ہے کہ :تیرے مخالفین حقیقت میں تو تیرے صدق ودرستی کے معتقد ہیں اور تیری دعوت کے حق ہونے میں شک نہیں رکھتے اگر چہ ان کے منافع خطرے میں پڑ جانے کا خوف ان کے لیے حق کو تسلیم کرنے میں مانع ہوجاتا ہے یا تعصب اور ہٹ دھر می اسے قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتی ۔ تواریخ اسلامی سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سخت ترین دشمن تک باطنا آپ کی صداقت اور راست بازی سے معتقد تھے۔ ان میں سے ایک یہ واقعہ ہے کہ ایک دن ابو جہل نے پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ملاقات کی اورآپ سے مصافحہ کیا ، تو کسی نے اس پر اعتراض کیا: تم اس شخص سے مصافحہ کیوں کررہے ہو ، اس نے کہا: خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ پیغمبرؐ ہیں لیکن کیا ہم کسی زمانے میں ”عبد مناف“ کے تابع اور پیرو رہے ہیں! یعنی اس کی دعوت کو قبول کرنا اس بات کا سبب بن جائے گا کہ ہم ان کے قبیلہ کے تابع ہوجائیں (اور یہ بھی تاریخوں میں لکھا ہے کہ) ایک رات ابو جہل ، ابوسفیان اور اخنس بن شریق، جو مشرکین مکہ کے سردار اور رئیس تھے، میں سے باہر ہر ایک ایسے مخفی طریقے سے کہ کوئی شخص ان کی طرف متوجہ نہ ہو، یہاں تک یہ تینوں افراد بھی ایک دوسرے کی حالت سے باخبر نہیں تھے پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ارشادات سننے کے لیے ایک گوشے میں چھپ کر بیٹھ گئے اور صبح تک آیت قرآن کی تلاوت سنتے رہے، جب صبح کی سفیدی نمودار ہوئی تو وہاں سے چلتے بنے لیکن لوٹتے وقت راستہ میں ایک دوسرے کا آمناسامنا ہوگیا تو ہر ایک اپنا عذر دوسرے سے بیان کرنے لگا، پھر انھوں نے عہد کیا کہ اب دوبارہ یہ کام نہیں کریں گے کیوں کہ اگر قریش کے جوانوں کو اس بات کی خبر ہوگئی تو یہ بات ان کے محمدؐ کی طرف جھکاؤ کا سبب بن جائے گی۔ دوسر ی رات اس گمان سے کہ اس کے ساتھی اس رات نہیں آئے گے ہر ایک آیت قرآن سننے کی غرض سے پیغمبر ؐکے گھر کے قریب یا مسلمانوں کے مجمع کے قریب آگیا لیکن صبح ہوتے ہیں پھر ان کا رازایک دوسرے پر فاش ہوگیا اور ایک دوسرے کو سرزنش اور ملامت کرنے لگے اور نئے سرے سے عہد و پیمان باندھا کہ یہ آخری بار ہے۔ لیکن اتفاق کی بات ہے کہ یہ کام تیسری رات پھر دہرا یا گیا، جب صبح ہوئی تو اخنس بن شریق اپنا عصا لیے ہوئے ابو سفیان کی تلاش میں نکلا اور اس سے کہنے لگا: مجھے صاف ،صاف بتا کہ تمھارا ان باتوں کے بارے میں جو تم نے محمدؐ سے سنی ہیں کیا عقیدہ ہے، تو وہ کہنے لگا :خدا کی قسم کچھ چیزیں تو میں نے ایسی سنی ہیں جنھیں میں نے اچھی طرح جان لیا ہے اور ان کا مقصود و مضمون اچھی طرح سمجھ لیا ہے لیکن کچھ ایسی آیات بھی سنی ہیں جن کا معنی ومقصد میری سمجھ میں نہیں آیا، اخنس نے کہا خدا کی قسم میں بھی یہی محسوس کرتا ہوں اس کے بعد وہ اٹھا اور ابو جہل کی تلاش میں گیا اور یہی سوال اس سے کیا کہ ان باتوں کے بارے میں جو تم نے محمد ؐسے سنی ہیں تمھاری کیا رائے ہے ۔ اس نے کہاتو کیا سننا چاہتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم اور اولاد عبد مناف سرداری کے حصول میں ایک دوسرے کے رقیب ہیں انھوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم نے بھی اس غرض سے کہ کہیں پیچھے نہ رہ جائیں کھانا کھلایا،انھوں نے سواریاں بخشی تو ہم نے بھی سواریاں بخشی، انھوں نے اور دوسری عنایات کیں تو ہم نے بھی اور دوسری عنایات کیں تو اس طرح سے ہم ایک دوسرے کے دوش بدوش تھے، اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں پیغمبر ہے کہ جس پر آسمانی وحی نازل ہوتی ہے لیکن اب ہم اس امر میں ان کی رقابت کس طرح کرسکتے ہیں(واللّٰہ لا نومن بہ ابدا ولانصدقہ) خدا کی قسم ہم کبھی بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس کہ تصدیق کریں گے،اخنس کھڑا ہوگیا اور اس کی مجلس سے نکل گیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دن”اخنس بن شریق“ کا ابو جہل سے آمنا سامنا ہویگا جب کہ وہاں پر اور کوئی دوسرا آدمی موجود نہیں تھا، تو اخنس نے اس سے کہا: سچ بتا محمد ؐسچا ہے یا جھوٹا، قریش میں سے کوئی شخص سوا میرے وتیرے یہاں موجود نہیں ہے جو ہماری باتوں کو سنے ۔ ابو جہل نے کہا: وائے ہو تجھ پر خدا کی قسم ! وہ میرے عقیدے میں سچ کہتا ہے اور اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن اگر یہ اس بات کی بنا ہوجائے کہ محمدؐ کا خاندان سب چیزوں کو اپنے قبضہ میں کرلے،حج کا پرچم، حاجیوں کو پانی پلانا، کعبہ کی پردہ داری اورمقام نبوت تو باقی قریش کے لیے کیا رہ جائے گا۔ (مندرجہ بالا روایات تفسیر المنار اور مجمع البیان سے اس آیت کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر سے لی گئی ہیں)۔ ان روایات اور انھیں جیسی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بہت سے سخت ترین دشمن باطنا آپ کی سچائی کے معترف تھے لیکن قبائلی رقابتیں اور اسی قسم کی دوسری باتیں انھیں اجازت نہیں دیتی تھیں یا وہ اس بات کی جراٴت نہیں رکھتے تھے کہ باقاعدہ ایمان لے آئیں ۔ البتہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس قسم کا باطنی اعتقاد جب تک روح تسلیم کے ساتھ نہ ملا ہو کسی قسم کا اثر نہیں رکھتا اور انسان کو سچے مومنین کے زمرہ میں قرار نہیں دیتا ۔ بعد والی آیات میں، اس تسلی کی تکمیل کے لیے گذشتہ انبیاء کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:یہ امر صرف تیری ذات کے ساتھ ہی مختص نہیں ہے بلکہ تجھ سے پہلے جتنے رسول گذرے ہیں ان کی بھی اسی طرح سے تکذیب کی جاتی تھی(وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ) ۔ لیکن ان انبیاء نے ان تکذیبوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں پامردی او استقامت دکھائی یہاںتک کہ ہماری مدد ونصرت ان کو پہنچی اور آخرکار وہ کامیاب ہوئے فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا) ۔ اور یہ ایک سنت الٰہی ہے کہ جسے کوئی چیز دیگرگوں نہیں کرسکتی(وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ)۔ اس بنا پر تم بھی ان تکذیبوں اور آزاروں اور سخت اور ہٹ دھرم ودشمنوں کے حملوں کے مقابلے میں صبر واستقامت سے کام لو اور یہ جان لو کہ اسی سنت کے مطابق خدا وند تعالیٰ کی امداد اور پروردگار عالم کے بے انتہا الطاف تمھیں حاصل ہوں گے اور آخر کار تم بھی ان سب پر کامیابی حاصل کروگے اور وہ خبریں جو گذشتہ پیغمبروں کے حالات کی تجھ تک پہنچی ہیں کہ انہوں نے مخالفتوں اور شدائد کے مقابلے میں کس طرح صبر وتحمل کیا اور کامیاب ہوئے، وہ تمھارے لیے ایک واضح وروشن گواہ ہیں(وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ) ۔ درحقیقت، اوپر والی آیت ایک بنیادی کلیہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور وہ کلیہ یہ ہے کہ ہمیشہ معاشرے کے صالح رہنما جو پست افکار اور معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط رسموں اور خرافات کے مقابلے میں اصلاحی پروگرام پیش کرنے اور صحیح راہ دکھانے کے لیے قیام کرتے ہیں، انھیں ایسے منافع خور اور دروغ گو لوگوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا کہ جن کے منافع اس جدید دین ومذہب کی ترقی سے خطرے میں پڑ جاتے تھے۔ وہ اپنے برےامقاصد کی پیش رفت کے لیے کسی بھی بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور تمام حربے مثلا تکذیب کا حربہ، تہمت کا حربہ، محاصرہٴ اجتماعی کا حربہ،تکلیفیں اور دکھ پہنچانے کا حربہ، قتل کرنے اور لوٹ مار کرنے کا حربہ غرضیکہ وہ ہر وسیلے کو کام میں لاتے تھے لیکن حقیقت اپنی اس جزب وکشش اور گہرائی کے ذریعہ جو اس کے اندر ہوتی ہے ۔سنت الٰہی کے مطابق ۔ آخر کار اپنا کام کرے گی اور راستے کے یہ تمام کانٹے ایک ایک کر کے سب ختم ہوجائیں گے ، لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ اس کامیابی کی بنیادی شرط بردباری، مقاومت، پامردی اور استقامت ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مدرجہ بالا آیت میں سنن کو ”کلمات اللّٰہ “ سے تعبیر کیا گیا ہے، کیوں کہ”کلم وکلام“ در اصل ایک ایسی تاثیر کے معنی میں ہے جو آنکھ یا کان سے محسوس ہوسکے ”کلم“ تاثیرات عینی کے معنی میں ہے اور ”کلام“ ان تاثیرا ت کو کہتے ہیں جو کانوں سے محسوس کیے جاتے ہیں، اس کے بعد اس میں وسعت پیدا ہوگئی اور اب ”الفاظ“ کے علاوہ معانی پر بھی ”کلمہ“ بولا جانے لگا ہے، یہاں تک کہ ”عقیدہ“، ”مکتب“ اور ”روش وسنت“ پر بھی بولا جاتا ہے ۔

35
6:35
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ إِعۡرَاضُهُمۡ فَإِنِ ٱسۡتَطَعۡتَ أَن تَبۡتَغِيَ نَفَقٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ سُلَّمٗا فِي ٱلسَّمَآءِ فَتَأۡتِيَهُم بِـَٔايَةٖۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى ٱلۡهُدَىٰۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ
اور اگر تم پر ان کا اعراض (روگردانی) کرنا گراں ہے تو اگر تم سے ہو سکے تو زمین میں نقب لگا لو یا آسمان میں سیڑھی لگا لو (اور زمین و آسمان کی گہرائیوں میں جستجو کرو) تاکہ کوئی آیت یا (دوسری کوئی اور نشانی) ان کے لئے لا سکو (لیکن یہ جان لو کہ یہ ہٹ دھرم پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے) لیکن اگر خدا چاہے تو انہیں جبراً ہدایت پر جمع کر سکتا ہے (لیکن جبری ہدایت کا کیا فائدہ ہے؟) پس تم ہر گز جاہلوں میں سے نہ ہونا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
6:36
۞إِنَّمَا يَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسۡمَعُونَۘ وَٱلۡمَوۡتَىٰ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيۡهِ يُرۡجَعُونَ
صرف وہ لوگ تیری دعوت قبول کرتے ہیں جو سننے والے کان رکھتے ہیں لیکن مردے اور (وہ لوگ جو روح انسانی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں ایمان نہیں لائیں گے اور) خدا (انہیں قیامت کے دن) مبعوث کرے گا پھر وہ اس کی طرف پلٹ جائیں گے۔

زندہ نما مردے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ دونوں آیات ان آیات کا بقیہ ہیں جو پیغمبرؐ کو تسلی کے سلسلے میں گذشتہ آیات میں گزرچکی ہیں، چونکہ فکر وروح پیغمبرؐ مشرکین کی گمراہی اور ہٹ دھرمی سے زیادہ دکھی اور پریشان تھی اور آپ چاہتے تھے کہ جیسے بھی ہو سکے انھیں مومنین کی صف میں کھینچ لائیں، خدا فرماتا ہے: اگر ان کا اعراض گردانی تیرے لیے زیادہ سخت اور گراں ہے تو اگر تم سے ہو سکے تو زمین کو پھاڑ ڈالو اور اس میں نقب لگالو اور جستجو کرو، یا آسمان پر کوئی سیڑھی لگالو اور اطراف آسمان کی بھی جستجو کرو اور ان کے لیے کوئی اور آیت یا کوئی دوسری نشانی تلاش کرکے لاسکو تو لے آؤ لیکن یہ جان لو کہ وہ اس قدر ہٹ دھرم ہیں کہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ)(حقیقت میں”ان استطعت “ کا جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزا محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے”ان استطعت -- -فافعل ولٰکِنَّہم لایومنون“ ”نفق“ اصل میں نقب اور زمین کے نیچے کے راستوں کے معنی میں اور اگر منافق کو منافق کہاجاتا ہے تو وہ بھی اسی مناسبت کی وجہ ہ و کہ وہ ظاہری راہ وروشن کے علاوہ اپنے لیے ایک مخفی راہ وروش بھی رکھتا ہے اور ”سلم“ سیڑھی کے معنی میں ہے ۔ خدا وند عالم اس جملہ کے ذریعہ اپنے پیغمبر کو سمجھا رہا ہے کہ تمھاری تعلیمات ،دعوت اور سعی وکوشش میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے بلکہ نقص وعیب ان کی طرف سے ہے انھوں نے یہ پختہ ارادہ کررکھا ہے کہ وہ حق کو قبول نہیں کریں گے ، لہٰذا کسی قسم کی کوئی کوشش ان پر اثر نہیں کرتی تو تن پریشان نہ ہوجاؤ۔ لیکن اس بنا پر کہ کسی کو یہ تو ہم نہ ہوجائے ہ خدا میں یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ ان سے اپنی بات کو تسلیم کراسکے بلا فاصلہ فرما تا ہے : اگر خدا چاہے تو وہ ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا ہے، یعنی وہ تیری دعوت کے سامنے ان کا سرتسلیم کراکے انھیں حق اور ایمان کا اعتراف کرانے پر آمادہ کر سکتا ہے (وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی) ۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کا جبری ایمان بے فائدہ ہے، انسان کی فطرت میں حصول کمال کے لیے اختیار اورآزادی ٴ ارادہ، ہی بنیاد ہوتے ہیں، یہ آزادی ارادہ ہی ہے کہ جس کی وجہ سے مومن کی کافر سے ،نیک کی بد سے ، امانتدار کی خائن سے، سچ کی جھوٹے سے قیمت پہچانی جاتی ہے، ورنہ جبری ایمان وتقوی سے اچھے اور برے کے درمیان کسی قسم کا فرق باقی نہیں رہے گا اور یہ مفاہیم جبر کی صورت میں اپنی قدروقیمت بالکل کھو بیٹھتے ہیں ۔ اس کے بعدہے : یہ بات ہم نے تجھ سے اس لیے کہی ہے کہ کہیں تو جاہلوں میں سے نہ ہوجائے ، یعنی بیتاب نہ ہو، صبر واستقامت کو ہاتھ سے نہ دے اور ان کے کفر وشرک پر اتنا دکھی نہ ہو ،اور یہ جان لو کہ راستہ تو وہی ہے کہ جس پر تم چل رہے ہو(فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ) ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ پیغمبرؐ ان حقائق کو خوب اچھی طرح جانتے تھے لیکن خدا وند تعالیٰ یاددہانی اور تسلی کے طور پر اپنے پیغمبر کے لیے ان الفاظ کو دہرارہا ہے ، اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کہ ہم کسی ایسے شخص کو جس کا بیٹا مرگیا ہو یوں کہتے ہیں کہ: غم نہ کھاؤ، دنیا فنا کی جگہ ہے، سبھی اسی دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، اس کے علاوہ تم تو ابھی جوان ہو ، تمھاری اور بھی اولاد ہوجائے گی، لہٰذا زیادہ بیتاب نہ ہو ۔ مسلمہ طور پر دار دنیا کا فانی ہونا ، یا اس کا جوان ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو اس پر پوشیدہ ہو، یہ تمام باتیں اس سے صرف یاددہانی کے طور پر کہی جاتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ اوپر والی آیت جبر کی نفی کرنے والی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے، بعض مفسرین جیسے فخرالدین رازی نے اسے مسلک جبر کی دلیلوں میں سے ایک دلیل سمجھا ہےاور وہ لفظ (ولو شاء ---) کا سہارا لیتے ہوئے کہتا ہے: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نہیں چاہتا ہے کہ کفار ایمان لائیں ۔ (حالانکہ وہ اس سے ) غافل ہیں کہ مشیت وارادہ اوپر والی آیت میں مشیت وارادہٴ اجباری ہے یعنی خدا یہ نہیں چاہتا کہ لوگ جبر سے اور زبردستی ایمان لائیں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی رضا ورغبت اور اپنے ارادہ سے باخوشی ایمان لائیں، اس بنا پر یہ آیت جبریوں کے عقیدہ کی نفی پر واضح گواہ ہے ۔ بعد والی آیت میں اس موضوع کی تکمیل اور پیغمبر کی مزید دلجوئی اور تسلی کے لیے کہتا ہے کہ جوط لوگ سننے والے کان رکھتے ہیںوہ تیری دعوت کو قبل کرتے ہیں او اس پر لبیک کہتے ہیں( إِنَّمَا یَسْتَجِیبُ الَّذِینَ یَسْمَعُونَ) لیکن وہ لوگ جو عملا مردوں کی صف میںشامل ہیں وہ ایمان نہیں لاتے یہاں تک کہ وہ خدا انھیں قیامت کے دن اٹھائے اور وہ اس کی بارگاہ میں لوٹیں ( وَالْمَوْتَی یَبْعَثُھُمْ اللّٰہُ ثُمَّ إِلَیْہِ یُرْجَعُونَ) (ترکیب کی نظر سے ”الموتی“ مبتدا ہے اور ”یبعثھم اللّٰہ“ اس کی خبر ہے اور یہ جو کہتا ہے کہ وہ مردوں کو مبعوث کرے گا اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی قسم کی تبدیلی ان کے حالات میں پیدا نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ وہ قیامت میں مبعوث ہوں گے اور حقائق کو دیکھیں گے )۔ وہ ایسا دن ہے کہ قیامت کے مناظر دیکھ کر وہ ایمان لے آئیں گے لیکن ان کا اس وقت ایمان لانا انھیں کویہ فائدہ نہ دے گا کیوں کہ یہ عظیم منظر دیکھ کر جو لوگ ایامن لائیں گے ان کا یہ ایمان ایک قسم کا اضطرابی ایمان ہوگا ۔ شاید اس بات کی وضاحت کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہو ”موتی“ (مردے) سے مراد اوپو والی آیت میں جسمانی طور پر مردے نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد باطنی ومعنوی مردے ہیں کیوں کہ ہم دو قسم کی موت وحیات رکھتے ہیں، ایک حیات وموت مادی اور دوسری موت وحیات معنوی ، اسی طرح شنوائی اور بینائی بھی دو قسم کی ہیں ایک مادی اور دوسری معنوی، اسی دلیل سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایسے اشخاص کے بارے میں کہ جو آنکھیں بھی رکھتے ہیں ،کان بھی رکھتے ہیں یا زندہ وسالم تو ہیں لیکن وہ حقائق کو نہیں سمجھتے، کہتے ہیں کہ وہ اندھے بہرے ہیں یا بالکل مردہ ہیں، کیوںکہ جو ردعمل ایک بینا و شنوا یا ایک زندہ انسان سے ہونا چاہئےے وہ حقائق کے سامنے نہیں دکھاتے، قرآن مجید میں ایسی تعبےرات کثرت سے نظر آتی ہے اور ان میں ایک خاص کشش پائی جاتی ہے بلکہ قرآن حیات مادی اور ظاہری زندگی کو، جس کی نشانی صرف کھانا، سونا اور سانس لینا ہے، کچھ اہمیت نہیں وہ ہمیشہ حیات معنوی وانسانی پر جو ذمہ داری وجوابدہی اور احساس ودرد اور بیداری وآگاہی کے ساتھ ملی ہوئی ہو، انحصار کرتا ہے ۔ اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بینائی وشنوائی اور معنوی موت خود ان کی اپنی وجہ سے ہے، وہ خود ہی وہ لوگ ہیں کہ جو بار بار گناہ کرنے اور اس پر اصرار اور ہٹ دھرمی کرنے کے سبب سے اس مرحلہ تک پہنچ جاتے ہیں کیوں کہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسا کہ اگر کوئی انسان ایک مدت تک اپنی آنکھ کو بند کیے رکھے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بینائی اور نظر کو گوا بیٹھے گا اور شاید ایک روز بالکل اندھا ہوجائے، جو اشخاص اپنے دل کی آنکھوں کو حقائق کی طرف سے بند کرلے تو وہ تدریجا اپنی معنوی بصارت کی قوت کوزائل کردے گا ۔ ۳۷ ۔ وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ ہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡن ترجمہ ۳۷۔ اور انھوں نے کہا کہ کوئی نشانی( اور معجزہ) اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں ہوتا، تم کہہ دو کہ خدا وند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کرے لیکن ان میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں ہے ۔

بہانہ جوئی

اس آیت میں مشرکین کی بہانہ جوئی میں سے ایک بہانہ جوئی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب سرداران قریش میں سے کچھ قرآن کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے تو پیغمبر ؐسے کہنے لگے کہ ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے اگر تم سچ کہتے ہو تو عصا ئے موسیٰ(علیه السلام) اور ناقہ صالح(علیه السلام) جیسے معجزات ہمارے لیے لے آؤ، قرآن اس بارے میں کہتا ہے کہ انھوں نے کہا کہ کوئی نشانی اور معجزہ اس کے پرور دگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ) ۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ یہ تجویز حقیقت کی تلاش کے لیے پیش نہیں کرتے تھے کیوں کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے لیے کافی مقدار میں معجزات لاچکے تھے اور اگر قرآن کے علاوہ جو مضامین عالیہ پر مشتمل ہیں، آپ کے پاس کوئی معجزہ نہ بھی ہوتا تو وہی قرآن جو انھیں کئی آیات میں باقاعدہ مقابلے کی دعوت دے چکا تھا اور اصطلاح کے مطابق انھیں چیلینج کرچکا تھا، وہی آپ کی نبوت کے اثبات کے لیے کا فی تھا لیکن یہ ابوالہوس بہانہ جو ایک طرف سے یہ چاہتے تھے کہ کہ قرآن کی تحقیر کریں اور دوسری طرف سے پیغمبرؐ کی دعوت قبول کرنے سے روگردانہ کرے، لہٰذا پے درپے نئے سے نئے معجزہ کی درخواست کرتے تھے اور مسلمہ طور پر اگر پیغمبر ان کی درخواست کو تسلیم بھی کرلیتے تو ”ھذا سحر مبین“ کہہ کر سب ان کا انکار کردیتے، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔ لہٰذا قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: خداوند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی ایسی نشانی اور معجزہ (کہ جس کا تم مطالبہ کررہے ہو) اپنے پیغمبر پر نازل کرے۔ (قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً)لیکن اس میں ایک ایسا اشکال ہے جس سے تم بے خبر ہو اور وہ یہ ہے کہ اگر اس قسم کے تقاضوں پر جو تم ہٹ دھرمی کی بنا پر کرتے ہو تمھاری بات مان لی جائے اور تم پھر بھی ایمان نہ لاؤ تو تم سب کے سب خداوند تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوکر نابود ہوجاؤ گے ، کیوں کہ پروردگار عالم کی بارگاہ اقدس میں اور اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی آیات ومعجزات کی انتہائی بے حرمتی ہے لہٰذا آیت کے آخر میں فرما تا ہے: لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں(وَلَکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَیَعْلَمُون) ۔

ایک اشکال اور اس کا جواب

جیسا کہ تفسیر مجمع البیان سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں پہلے بعض مخالفین اسلام نے اس آیت کو دستاویز قرار دیتے ہوئے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے پاس کائی معجزہ نہیں تھا کیوں کہ جس وقت کفار ان سے معجزہ دکھانے کا تقاضا کیا کرت تھے تو ان سے اتنا کہنے پر ہی قناعت کیا کرتے تھے کہ خدا ہی ایسی چیزوں پر قدرت رکھتا ہے لیکن تمھاری اکثریت نہیں جانتی، اتفاق کی بات یہ ہے کہ متاخرین میں سے بعض لکھنے والوں نے بھی یہی پرانا افسانہ دہرایا ہے اور اپنی تحریروں میں اسی پرانے اعتراض کو دوبارہ زندہ کیا ہے ۔ جوابا عرض ہے کہ: پہلی بات تو یہ کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے قبل وبعد کی آیات کا ٹھیک طور پر مطالعہ نہیں کیا ہے، اور یہ غور نہیں کیا کہ یہاں پر ان ہٹ دھرم لوگوں کے متعلق گفتگو ہورہی ہے جو کسی طرح بھی حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، اب اگر پیغمبر نے ان کے تقاضا کو پورا نہیں کیا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی، ورنہ قرآن میں یہ کہاں ہے کہ حق کی جستجو اور حق کو طلب کرنے والے افراد نے پیغمبر ؐسے معجزہ کا تقاضاکیا ہو اور آپ نے ان کی خواہش کو رد کردیا ہو، اسی سورہٴ انعام کی آیہ ۱۱۱ میں اسی قسم کی ”ہٹ دھرم “افراد کے سلسلے میں ہے: ” وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَآئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلاً مَّا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ إِلاَّ أَن يَشَاءَ اللّهُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ“ (۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ: اگر ہم ان کے پاس فرشتے نھی نازل کرتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزوں کو گروہ در گروہ ان کے پاس لا کھڑا کرتے تو یہ ایمان لانے والے نہ تھے )۔(مترجم) دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے یہ مطالبہ سرداران قریش کی ایک جماعت کی طرف سے تھا اور انھوں نے قرآن کریم کی تحقیر اور اس سے بے پرواہی برتتے ہوئے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا اور یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم ایسے تقاضوں کے سامنے جن کا سرچشمہ ایسے اسباب ہوں سر نہیں جھکا سکتے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں انھوں نے گویا قرآن کریم کی باقی تمام آیات کو اپنی نگاہ سے دور رکھا ہے کہ کس طرح قرآن نے خود ایک جاودانہ معجزہ کے طور پر اپنا تعارف کروایا ہے اور بارہا مخالفین کو مقابلے کی دعوت دیتا رہا ہے اور ان کے ضعف وناتوانی کو آشکار کرچکا ہے ۔ معترضین نے سورہٴ اسراء کی پہلی آیت کو بھی بھلا دیا ہے جو صریحا کہتی ہے کہ خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبرؐ کو ایک ہی رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ یہ بات باور نہیں کی جاسکتی کہ قرآن انبیاء ومرسلین کے معجزات خارق عادات سے پر ہو اور پیغمبر اسلام کہیں کہ میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں ، سب سے افضل وبر تو ہوں اور میرا دین بالاترین دین ہے لیکن حق کے متلاشیوں کے لیے کمترین معجزہ بھی اپنی طرف سے نہ دکھا سکے، کیا اس صورت میں غیر جانبدار حقیقت طلب افراد کے لیے اس کی دعوت میں نقطہ ابہام پیدا نہیں ہوگا ۔ اگر ان کے پاس کوئی معجزہ نہ ہوتا تو ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ دوسرے انبیاء کے معجزات کا بالکل ہی نام تک نہ لیتے تاکہ وہ اپنے پروگرام کی توجیہ کرسکیں اور اپنے اوپر کیے جانے والے اعتراضات کے راستوں کو بند کردیں، اور یہ باے کہ وہ برملا کھلے دل کے ساتھ پے در پے دوسروں کے معجزات بیان کررہے ہیں اور موسیٰ (علیه السلام) بن عمران (علیه السلام)، عیسیٰ (علیه السلام) بن مریم (علیه السلام) ، ابراہیم (علیه السلام)،صالح (علیه السلام) او نوح (علیه السلام) کے خارق عادت کام اور معجزات کو ایک ایک کرکے بیان کرتے چلے جارہے ہیں یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ اپنے معجزات کی طرف سے کامل مطمئن تھے، یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام، معتبر روایات اور نہج البلاغہ میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مختلف قسم کے معجزات نقل ہوئے ہیں کہ جن کا مجموعہ حد تواتر کو پہنچا ہوا ہے ۔

37
6:37
وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةٗ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور انہوں نے کہا کہ کوئی نشانی اور معجزہ اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں ہوتا تم کہہ دو کہ خداوند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کرے لیکن ان میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں ہے۔

قرآن میں کچھ فروگذاشت نہیں ہوا

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

چونکہ یہ آیت وسیع مباحث اپنے پیچھے رکھتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ پہلے آیت کے الفاظ کے معنی اور پھر اس کی اجمالی تفسیر ذکر کر کے، پھر باقی مباحث بیان کی جائیں۔ ”دابة“”دیبب “کے مادہ سے آہستہ چلنے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے معنی میں ہے عام طور پر زمین پر چلنے والے سب جانوروں کو ”دابة“کہا جاتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سخن چین اور چغل خور کو ”دیبوب“ کہاجاتا ہے اور حدیث وارد ہوا ہے ۔ ”لا یدخل الجنة دیبوب“۔ بھی چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔ یہ بھی اسی لحاظ سے ہے کہ وہ آہستہ آہستہ دوافراد کے درمیان آمدورفت کرتا ہے تاکہ انھیں ایک دوسرے سے بد بین اور بدظن کردے ۔ ”طائر“ ہر قسم کے پرندے کو کہا جاتا ہے، البتہ چونکہ بعض موقع پر ایسے امور معنوی وروحانی پر بھی جو پیشرفت اور پرواز رکھتے ہیں ، یہ لفظ بولا جاتا ہے ، لہٰذا زیر بحث اس آیت میں اس لحاظ سے کہ نگاہ صرف پرندوں پر مرکوز رہے (یطیر بجناحیہ) یعنی اپنے دوپروں کے ساتھ اڑتا ہے، کے جملہ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ ”امم“ جمع ہے ”امت“ کی اور امت کا معنی ہے ”وہ جماعت جو ایک قدر مشترک رکھتی ہو“ مثلا ان کا دین ایک ہو یا زبان ایک ہو یا صفات اور افعال ایک جیسے ہوں ۔ ”یحشرون “”حشر“ کے مادہ سے جمع کرنے کے معنی میں ہے لیکن قرآن میں عام طور پر روزقیامت کے اجتماع پر یہ لفظ بولا جاتا ہے خصوصا جب اس کے ساتھ ”الی ربھم“ کا ضمیمہ ہو ۔ گذشتہ آیات مشرکین کے بارے میں بحث کر رہی تھی اور انھیں اس انجام کی طرف جو انھیں قیامت میں پیش آئے گا متوجہ کررہی تھی، اب یہ آیت تمام زندہ موجودات اور تمام قسم کے حیوانات کے عام حشر ونشر اور قیامت میں اٹھنے کا بیان کر رہی ہے ، پہلے فرمایا گیا ہے: کوئی زمین پر چلنے والا جانور نہیں اور کوئی دوپروں سے اڑنے والاپرندہ نہیں مگر یہ کہ وہ بھی تمھاری طرح کی امت ہے(وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ) ۔ اور اس طرح سے تمام قسم کے جانور اور ہر قسم کے پرندے انسانوں کی طرح اپنے لیے ایک امت ہے لیکن یہ کہ یہ ایک جیسا ہونا اور یہ شباہت کس جہت سے ہے، اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض ان کی انسانوں نے شباہت خلقت کے تعجب خیز اسرار کی جہت سے سمجھتے ہیں کیوں کہ دونوں ہی خالق آفریدگار کی عظمت کی نشانیاں اپنے ساتھ لیے ہوئے ہیں ۔ بعض سمجھتے ہیں کہ یہ شباہت زندگی کی مختلف ضروریات کہ جہت سے ہے یا ان وسائل کے لحاظ سے کہ جن کے ذریعے وہ اپنی طرح طرح کی حاجتوں کو پورا کرتے ہیں ۔ جب کہ کچھ دوسرے لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کی انسان کے کے ساتھ شباہت سے مراد ادراک اور فہم وشعور میں شباہت ے، یعنی وہ بھی اپنے عالم میں علم ،شعور اور ادراک رکھتے ہیں وہ خدا کی معرفت رکھتے ہیں اور اپنی توانائی کے مطابق اس کی تسبیح وتقدیس کرتے ہیں اگر چہ ان کی فکر، انسانی فکر وفہم سے بہت نچلی سطح پر ہے اور جیسا کہ آگے چل کر بیان ہوگا، آیت کا ذیل آخری نظریہ کو تقویت دیتا ہے ۔ پھر بعد کے جملے میںہے: ہم نے کتاب میں کسی چیز کو فروگذاشت نہیں کیا ہے(مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ) ۔ ممکن ہے کہ ”کتاب “ سے مرادقرآن مجید ہو کہ تم تمام چیزیں(یعنی وہ تمام امور کہ جو انسان کی تربیت و ہدایت اور تکامل وارتقاء سے مربوط ہیں) اس میں موجود ہیں، البتہ بعض اوقات کلی صورت میں بیان ہوئے ہیں جیسے ہر قسم کے علم ودانش کی طرف دعوت اور بعض اوقات جزئےات کو بھی بیان کیا گیا ہے، جیسے بہت سے احکام اسلامی اور مسائل اخلاقی۔ دوسرا احتما ل یہ ہے کہ ” کتاب“ سے مراد ”عالم ہستی“ ہو کیوں کہ عالم آفرینش ایک عظیم کتاب کی مانند ہے کہ جس میں تمام چیزیں آگئی ہیں اور کوئی چیز اس میں فروگذار نہیں ہوئی ۔ اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ آیت میں دونوں تفاسیر ہی مراد ہوں کیوں کہ نہ تو قرآن میں مسائل تربیتی فروگذار ہوئے ہیں اور نہ ہی عالم آفرینش وخلقت میں کوئی نقص ،کمی اور کسر رہ گئی ہے ہے ۔ اور اس آیت کے آخر میں ہے: وہ تام خدا کی طرف قیامت میں جمع ہوں گے( ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ) ۔ ظاہر یہ ہے کہ ” ھم “کی ضمیر اس جملے میں تمام چلنے والے جانوروں اور پرندوں کی تمام اصناف اور انواع واقسام کی طرف لوٹتی ہے اور اس طرح سے قرآن ان کے لیے بھی قیامت میں محشور ہونے کا قائل ہوا ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی مطلب کو قبول کیا ہے کہ تما م قسم کے جاندار اور حشر ونشر اور جزا وسزارکھتے ہیں، صرف بعض اس کے منکر ہوئے ہیں اور انھوں نے اس ٓیت کی اور دوسری آیت کی ایک اور طرح توجیہ کی ہے، مثلا انھوں نے کہا ہے کہ ”حشرالی اللّٰہ“ سے مراد زندگی کا ختم ہونا اورماوت ہے(یہ احتمال المنار کے مولف نے ابن عباس سے نقل کیا ہے) ۔ لیکن جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں قرآن مجید میں اس تعبیر کا ظاہر وہی قیامت میں حشر ونشر کا ہونا اور دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانا ہے، اس بنا پر آیت مشرکین کو آگاہ کررہی ہے کہ وہ خدا کہ جس نے تمام قسم کے جانوروں کو پیدا کیا ہے ، ان کی ضروریات کو مہیا کیا اور ان کے تمام افعال کا نگران ہے اور ان سب کے لیے اس نے حشر ونشر قرار دیا ہے کیسے ممکن ہے کہ وہ تمھارے لیے حشرونشر قرار نہ دے اور بعض مشرکین کے قول کے مطابق دنیاوی زندگی اور اس کی حیات و موت کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو ۔

38
6:38
وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا طَـٰٓئِرٖ يَطِيرُ بِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ مَّا فَرَّطۡنَا فِي ٱلۡكِتَٰبِ مِن شَيۡءٖۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُونَ
کوئی زمین میں چلنے والا جانور اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تمہاری طرح کی امت ہیں ہم نے کسی چیز کو اس کتاب میں فروگذاشت نہیں کیا ہے پھر وہ سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے۔

چند قابل غور باتیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

۱۔ کیا جانوروں کے لیے بھی حشر ونشر ہے: اس میں شک نہیں کہ حساب کتاب اور جزا وسزا کی پہلی شرط مسئلہ عقل وشعور ہے اور اس کے بعد فرائض کا وجوب اور جوابدہی کی ذمہ داری ہے، اس عقیدے کے طرفدار کہتے ہیں کہ ایسے ثبوت موجود ہیں کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جانور بھی اپنی مقدار واندازہ کے مطابق فہم وادراک رکھتے ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ بہت سے جانوروں کی زندگی ایسے تعجب انگیز اور پر کشش نظام کے ساتھ ملی ہوئی ہے جو ان کے فہم وشعور کی سطح عالی کو واضح کرتی ہے، کون ایسا شخص ہے کہ جس نے چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں اور ان کے عجیب وغریب تمدن او انک ے چھتے اور بلوں کے تعجب انگیز نظام کی باتیں نہ سنی ہوں اور ان کے تحسین آمیز ادراک و شعور پر آفرین نہ کہی ہو، اگر چہ بعض حضرات اس بات کی طرف مائل ہیں کہ ان تمام باتوں کو ایک فطری اور طبعی الہام جانیں، حالانکہ اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ ان کے اعمال لاعلمی کی صورت میں(فطری طور پر بغیر عقل کے)انجام پاجاتے ہیں ۔ اس بات میں کونساامر مانع ہے کہ ان کے یہ تمام اعمال جیسا کہ ان کا ظاہر نشاندہی کرتا ہے، عقل وادراک کے ذریعہ ظہور پذیر ہوتے ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جانور بغیر گذشتہ تجربہ کے اور پیش بینی نہ ہونے کے حوادثات کے مقابلہ میں نئی راہ تلاش کرلیتے ہیں، مثلا وہ بھےڑ جس نے عمر میں کسی بھیڑ ئےے کو نہیں دیکھا جب پہلی بار اس کو دیکھتی ہے تو اچھی طرح اس دشمن کے خطرناک ہونے کی تشخیص کرلیتی ہے اور جس ذریعہ سے ہو سکے اپنے دفاع اور خطرے سے نجات کے لیے کوشش کرتی ہے ۔ بہت سے جانور جا اپنے مالکوں کے ساتھ تدریجی طور پر لگاؤ اور محبت پیدا کرلیتے ہیں اس موضوع کا دوسرا گواہ ہں ، بہت سے درندے اور خطرناک کتے اپنے مالکوں کے ساتھ حتی ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی ایک مہربان خدمتگار کی طرح برتاؤ کرتے ہیں ۔ جانوروں کی وفاداری کے بہت سے واقعات اور یہ کہ وہ کس طرح سے انسانی خدمت کا بدلہ اتار تے ہیں کتابوں میں اور لوگوں کے درمیان مشہور ہیں کہ ان تمام کو محض افسانہ نہیں کہا جاسکتا ۔ مسلم ہے کہ ان تمام باتوں کو آسانی کے ساتھ فطرت کی پیداوارنہیں کہا جاسکتا کیوں کہ فطرت عام طور پر ایک ہی قسم کے دائمی کاموں کا سرچشمہ ہوتی ہے لیکن وہ اعمال جو ایسی خاص شرائط میں پیش بینی کے قابل نہ تھے عکس العمل کے عنوان سے انجام پاتے ہیں فطرت کی نسبت فہم وشعور سے زیادہ شباہت رکھتے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں بہت سے جانوروں کو اہم مقاصد کے لیے تربیت دی جاتی ہے ، مجرموں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کے کتے خطوں کو پہچاننے کے لیے کبوتر، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کے لیے بعض جانور ،شکار کرنے کے شکاری جانور سدھائے جاتے ہیں اور وہ اپنے اہم اور مشکل فرائض ،عجیب وغریب عمدگی سے انجام دیتے ہیں (آج کل تو بعض جانوروں کے لیے باقاعدہ تربیتی ادارے معرض وجود میں آچکے ہیں) ۔ ان تمام چیزوں سے قطع نظر قرآ ن کی متعدد آیات میں ایسے مطالب دکھائی دیتے ہیں جو بعض جانوروں کے فہم وشعور کے بارے میں قابل ملاحظہ دلیل شمار ہوتے ہیں، حضرت سلیمان(علیه السلام) کے لشکر کو دیکھ کر چیونٹی کے فرار کرنے کا واقعہ اور ہد ہد کا سبا اور یمن کے علاقے میں آنا اور وہاں سے ہیجان انگیز خبر وں کو سلیمان کے پاس لانے، اس مدعا پر شاہد ہے ۔ روایات اسلامی میں بھی متعدد احادیث جانوروں کے قیامت میں اٹھنے کے سلسلے میں نظر آتی ہے منجملہ ان کے حضرت ابوذر سے نقل ہوا ہے ، وہ فرماتے ہیں: ہم پیغمبر ؐکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے سامنے دوبکریوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے، پیغمبر نے فرمایا کہ جانتے ہو کہ انھوں نے ای دوسرے کو سینگ کیوں مارے ہیں، حاضرین نے عرض کیا کہ نہیں، پیغمبر نے فرمایا لیکن خدا جانتا ہے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا اور عنقریب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا(تفسیر مجمع البیان ونورالثقلین، محل بحث آیت کے ذیل میں) اور ایک روایت میں پیغمبر ؐسے بطریق اہل سنت نقل ہوا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ” ان اللّٰہ یحشر ہذہ الامم یوم القیامة ویقتص من بعضھا لبعض حتی یقص للجماء من القرناء“ خدا وند تعالیٰ ان تمام جانور ں کو قیامت کے دن محشور کرے گا اور بعض کا بعض سے قصاص لے گا ، یہاںتک کہ اس جانور کو قصاص کے جس کے سینگ نہیں ہے اور کسی دوسرے نے بلاوجہ اسے سینگ مارا ہے اس سے لے گا ۔ (بحوالہ تفسیر المنار، محل بحث آیت کے ذیل میں ۔) سورہٴ تکویر کی آیہٴ پانچ میں ہے: ”وَاِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ“ اور اس وقت جب کہ جانور محشور کیے جائیں گے ۔ اگر اس آیت کا معنی قیامت کے دن کا حشر لیں (نہ کے دنیا کے ختم ہونے کے وقت محشور وجمع ہونا) تو اوپر والی بحث کی منقول دلیلوں میں سے یہ ایک اور دلیل ہوگی۔ ۲۔ حشر ونشر ہے تو پھر فرائض بھی ہیں: ایک اہم سوال جو یہاں پیش آتا ہے ، اور جب تک وہ حل نہ ہو اوپر والی آیت کی تفسیر واضح نہیں ہوتی اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ قبول کر سکتے ہیں کہ حوانات بھی فرائض وواجبات رکھتے ہیں جب کہ شرعی تکلیف کی مسلم شرائط میں میں ایک عقل ہے اور اسی بنا پر بچہ اور دیوانہ شخص شرعی تکلیف کے دائرے سے خارج ہے تو کیا جانور ایسی عقل رکھتے ہیں کہ ان پر تکلیف عائد ہو، کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک جانور ایک نابالغ بچے اور حتی کے دیوانوں سے زیادہ سمجھ رکھتا ہے؟ اور اگر ہم یہ قبول کرلیں کہ وہ اس قسم کی عقل وادراک نہیں رکھتے تو پھر یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ فرائض واجبا ت ان پر لاگو ہوں ۔ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تکلیف یعنی فرائض وواجبات کے کئی مراحل ہوتے ہیں اور ہر مرحلہ کے لیے اپنی مناسبت سے ادراک و عقل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بہت سی تکالیف اور واجبات وفرائض جو قوانین اسلامی میں ایک انسان کے لیے بنائے گئے ہیں ایسے ہیں کہ جو رعقل وادراک کی ایک سطح عالی کے بغیر انجام دئے ہی نہیں جاسکتے اور ہم ہرگز ایسی تکالیف جانوروں کے لیے قبول نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کو بجالابے کی شرط ان جانوروں کو حاصل ہی نہیں ہے ۔ لیکن تکالیف کا ایک آسان اور نچلی سطح کا مرحلہ بھی تصور ہوتا ہے کہ جس کے لیے مختصر فہم وشعور بھی کافی ہے ، ہم اس قسم کے فہم وشعور اور اس قسم کی تکالیف کا جانوروں سے قطعی انکار نہیں کرسکتے ۔ یہاںتک کہ ان بچو ں اور جانوروں کے بارے مین بھی جو کچھ مسائل کو سمجھتے ہیں تمام تکالیف کا انکار کرنا مشکل ہے، مثلا اگر ہم چودہ سال نوخیز بچوں کو جو حدبلوغ کو تو نہیں پہنچے لیکن مکمل طور سے تمام مطالب انھوں نے پڑھے اور سمجھے ہیں ، نظر میں رکھیں اب اگر وہ عمدا قتل نفس کے مرتکب ہوں جب کہ وہ اس عمل کے تمام نقصانات ومضارت کو جانتے ہیں تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا دنیاوی تعزیراتی قوانین میں غیر بالغ افراد کو بعض گناہوں میں سزا دیتے ہیں، اگر چہ ان کی سزائیں مسلمہ طور پر بہت خفیف ہوتی ہیں ۔ اس بنا پر بلوغ وعقل کامل مرحلہ عالی وکامل میں شرط تکلیف ہے، لیکن نچلے مراحل میں یعنی چند ایسے گناہوں کے بارے میں کہ جن کی قباحت اور برائی نچلی سطح کے انسانوں کے لیے بھی مکمل طور سے قابل فہم ہے ان کے لیے بلوغ اور عقل کامل کو شرط نہیں جانا جاسکتا ۔ مراتب تکلیف کے فرق اور مراتب عقل کے فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ اعتراض جانوروں کے بارے میں بھی حل ہوئے گا ۔ ۳۔ کیا یہ آیت تناسخ کی دلیل ہے:تعجب کی بات یہ ہے کہ تناسخ کے بےہودہ عقیدہ کے بعض طرفداروں نے اس آیت سے اپنے مسلک کے لیے استدلال کیا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت یہ کہتی ہے کہ جانور بھی تمھاری طرح امتیں ہیں، جب کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر ہماری طرح نہیں ہیں تو اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی روح بدن سے جدا ہونے کے بعد جانوروں کے بدن میں چلی جاتے ہے اور اس ذریعے سے وہ اپنے بعض برے اعمال کی سزا پائے ۔ لیکن اس بات کے علاوہ کہ عقیدہٴ تناسخ قانون ارتقااور عقل ومنطق کے خلاف ہے اور اس سے قیامت ومعاد کا انکار لازم آتا ہے ( جیسا کہ اپنے مقام پر ہم نے اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے) اوپر والی آیت کسی طرح بھی اس مسلک پر دلالت نہیں کرتی کیون کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے مجتعات حیوانی کئی جہات سے انسانی مجتمعات کی طرح ہے اور شباہت صرف بالقوة نہیں بلکہ باالفعل ہے (یعنی عملی طور پر ایسا ہے) کیوں کہ وہ بھی ادراک وشعور کا کچھ حصہ اور اور مسوٴلیت کا کچھ حصہ اور حشر ونشر اور قیامت میں اٹھائے جانے کا کچھ حصہ رکھتے ہیں لہٰذا ان جہات سے انسان کے ساتھ شباہت رکھتے ہیں ۔ لیکن اس بات سے کوئی اشتباہ اور غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہئے مختلف جانوروں کے لیے ایک خاص مرحلہ میں مسوٴلیت وتکلیف رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے لیے بھی کوئی رہبر وپیشوا (نبی وامام) ہوتا ہے اور وہ بھی کوئی نہ کوئی مذہب اور شریعت رکھتے ہیں، جیسا کہ بعض صوفیوں سے نقل ہوا ہے بلکہ اس قسم کے موقع پر ان کا رہبر وارہنما صرف ان کا ادراک وشعور باطنی ہوتا ہے یعنی وہ معین مسائل کا فہم رکھتے ہیں اور اپنے شعور کی مقدار اوراندازے کے مطابق اس کے مقابلہ میں مسوٴل وجوابدہ ہے ۔

39
6:39
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا صُمّٞ وَبُكۡمٞ فِي ٱلظُّلُمَٰتِۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضۡلِلۡهُ وَمَن يَشَأۡ يَجۡعَلۡهُ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اور وہ لوگ جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں تاریکیوں میں بہرے اور گونگے قرار پاتے ہیں جسے خدا چاہتا ہے (اور وہ اسی کا مستحق ہوتا ہے) اسے وہ گمراہ کرتا ہے اور جسے وہ چاہتا ہے (اور اس کو اس بات کے لائق پاتا ہے) اسے سیدھے راستے پر قرار دیتا ہے۔

بہرے اور گونگے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بہرے اور گونگے قرآن ہٹ دھرم منکرین کی بحث کو دوبارہ شروع کررہا ہے اور کہتا ہے: وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا بہرے اور گونگے ہیں اور ظلمت اور تاریکی میں قرار پاتے ہیں(وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکۡمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ) نہ تو وہ ایسے سننے والے قرآن رکھتے ہیں کہ جو حقائق کو سنیں اور نہ ہی ایسی حق گو زبان رکھتے ہیں کہ اگر انھوں نے کسی حقیقت کو سمجھ لیا ہو تو دوسروں سے بیان کردیں اور چونکہ خود خواہی ،خود پرستی،ہٹ دھرمی اور جہالت کی تاریکی نے ا انہیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہے لہٰذا وہ حقائق کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تو اس طرح سے وہ ان تین عظیم نعمتوں (یعنی سننا، دیکھنا اور بولنا) سے جو انھیں خارجی دنیا سے مربوط کرتی ہیں محروم ہیں ۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ بہروں سے مراد وہ مقلد ہیں جو جو بغیر چون و چرا کے اپنے گمراہ رہبروں کی پیروی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے کان بند کر رکھے ہیں اور خدائی رہبروں کی بات نہیں سنتے اور گونگے افاد سے مراد وہی گمراہ رہبر ہیں جو حقائق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن اپنی حیثیت اور اپنے مادی منافع کی حفاظت کے لیے انھو ں نے اپنے اصول مہرسکوت لگائی ہوئی ہے اور دونوں گروہ جہالت اور خودپرستی کی تاریکی میں گرفتار ہیں ۔(بحوالہ المیزان، جلد ہفتم، صفحہ ۸۴-) اور اس کے بعد فرماتا ہے کہ”خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے جادہٴ مستقیم پربر قرار رکھتا ہے ۔ (مَنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضۡلِلۡہُ ؕ وَ مَنۡ یَّشَاۡ یَجۡعَلۡہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ) ۔ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ مشیت واراد ہ خدا کی طرف ہدایت وضلالت کی نسبت دینا ایک ایسی بات ہے کہ جس کی قرآن کی دوسری آیات سے اچھی طرح تفسیر ہوجاتی ہے، ایک جگہ ہم پڑھتے ہیں: ” یضل اللّٰہ الظالمین“۔ خدا ظالموں کو گمراہ کرتا ہے ۔ دوسری جگہ ہے: ”وما یضل بہ الَّاالفاسقین“۔ صرف فاسقین کو گمراہ کرتا ہے ۔ ایک اور جگہ ہے: ”والذین جاھدوا فینا لنھدیھم سبیلا“۔ جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم انھیں سیدھی راہوں کی ہدایت کریں گے ۔ ان آیات اور قرآن کریم کی دوسری آیات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہ کہ وہ ہدایتیں اور وہ ضلالتیں کہ جن کی ان موقع پر خدا کے ارادہ کی طرف نسبت دی گئی ہے حقیقت میں وہ جزا ئیں اور وہ سزائیں ہیں جو وہ اپنے بندوں کو اچھے یا برے اعمال کے بدلے دیتا ہے اور زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات انسان سے ایسے برے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں کہ جن کے زیر اثر ایک ایسی وحشتناک تاریکی اس کی روح کو گھیر لیتی ہے کہ جس سے حقیقت میں آنکھیں چھین لی جاتی ہیں اور اس کے کان حق کی آواز کو نہیں سنتے، اور اس کی زبان حق بات کہنے سے رک جاتی ہے ۔ اس کے برعکس کبھی انسان سے ایسے بہت سے نیک کام صادر ہوتے ہیں کہ ایک عالم نور وروشنی اس کی روح پر نچھاور ہوتا ہے، اس کی نظروادراک زیادہ وسیع اور اس کی فکر فزوں تر اور اس کی زبان حق بات کہنے گویا تر ہوجاتی ہے، یہ ہے معنی ہدایت وضلالت کا جس کی خدا کے ارادے کی طرف نسبت دی جاتی ہے ۔

40
6:40
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
کہہ دو کیا تم نے کبھی سوچا بھی ہے کہ اگر خدا کا عذاب تم پر نازل ہو جائے یا قیامت آ جائے تو کیا تم (اپنی مشکلات کے حل کیلئے) خدا کے سوا کسی اور کو بلاؤ گے اگر تم سچے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
6:41
بَلۡ إِيَّاهُ تَدۡعُونَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُونَ إِلَيۡهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُونَ
نہیں بلکہ تم صرف اسی کو بلاؤ گے اور اگر وہ چاہے گا تو اس مشکل کو جس کے لئے تم نے اسے بلایا ہے بر طرف کر دے گا اور جسے آج تم (خدا کا) شریک قرار دیتے ہو اسے (اس دن) بھول جاؤ گے۔

فطری توحید

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

دوبارہ روئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے ایک دوسرے طریقہ سے توحید ویگانہ پرستی کے لیے ان کے سامنے استدلال کرتا ہے، وہ اس طریقہ سے کہ انھیں ان کی زندگی کے بہت ہی سخت اور دردناک لمحات یاد دلاتا ہے اور ان کے وجدان سے مدد چاہتا ہے کہ اس قسم کے لمحات میں جب کہ ہرچیز کو بھول جاتے ہیں تو اس وقت خدا کے علاوہ اور کوئی پناہ گاہ انہیں اپنے لیے سمجھا دیتا ہے، اے پیغمبرؐ ان سے کہہ دو کہ اگر خدا کا دردناک عذاب تمھارے پیچھے آپہنچے یا قیامت اپنی اس ہولناک ،ہیجان اور وحشتناک حادثات کے ساتھ برپا ہوجائے، تو سچ بتاؤ کہ کیا تم خدا کے سوا کسی اور کو اپنے شدائد کو بر طرف کرنے کے لیے پکارو گے( قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ اَوۡ اَتَتۡکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ)( ( جیسا کہ عربی ادب کے علماء نے تصریح کی ہے کہ ”ک“ اریتک“ میں اور ”کم“ اراٴیتکم“ میں نہ اسم ہے نہ ضمیر بلکہ صرف خطاب ہے، جو حقیقت میں تاکید کے لیے آتا ہے، ایسے موقع پر عام طور پر فعل مفرد کی شکل میں آتا ہے اور اس کا مفرد ، تثنیہ اور جمع ہونا اسی حرف خطاب کی تغیرات سے ظاہر ہوتا ہے، اسی لیے ”اراٴیتکم“ میں باوجود یہ کہ مخاطب جمع ہے فعل ”رئیت“مفرد لا یا گیا ہے اور اس کا جمع ہونا ”کم“ سے جو کہ حرف خطاب ہے سمجھا گیا ہے، ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ معنی کے لحاظ سے مساوی ہے ”اخبرنی“ یا اخبرونی“ کے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لفظ اپنے استفہامی معنی کی مکمل حفاظت کرتا ہے اور ”اخبرونی“ اس کے معنی کا لازمہ ہے نہ کہ خود اس کے معنی ہے۔غور کیجئے گا) یہ آیت نہ صرف مشرکین کے لیے ہے بلکہ معنی کے اعتبار سے باطنی طور پر تمام افراد کے لیے شدائد اور سخت حوادث کے ظہور کے وقت قابل فہم ہے، ممکن ہے کہ عام حالات میں اور چھوٹے چھوٹے حادثات میں انسان غیر خدا کے ساتھ متوسل ہوجائے لیکن جب حادثہ بہت زیادہ سخت ہو تو انسان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے ، البتہ یہی حالت ہوتی وہ جب کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں نجات کے لیے ایک قسم کی امید محسوس کرتا ہے کہ جو ایک پوشیدہ اور نامعلوم قدرت سے سرچشمہ حاصل کرتی ہے، یہی وہ توجہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف ہوتی ہے اور یہی حقیقت توحید ہے۔ یہاں تک کہ مشرکین اور بت پرست بھی اس قسم کے لمحات میں بتوں کی بات کو درمیان میں نہیں لاتے اور وہ سب کو بھلا دیتے ہیں ۔ بعد والی آیت میں فرمای گیا ہے :بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو اگر وہ چاہے تو تمھاری مشکل کو حل کردے اور شریک جو تم نے خدا کے لیے تیار کررکھے تھے ان سب کو بھلا دیتے ہو(بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ جواستدلال اوپر کی دوآیات میں نظر آتا ہے وہی توحید فطری والااستدلال ہے کہ جس سے دو مباحث میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ،ایک خدا کے اصل وجود کے اثبات میں اور دوسرا اس کی یگانگت اور توحید ثابت کرنے میں، اسی لیے اسلامی روایات میں اور اسی طرح علماء کے کلام میں منکرین خدا کے مقابلے میں بھی اور مشرکین کے ،مقابلے میں بھی استدلال کیا گیا ہے ۔ ۲۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والے استدلال میں قیامت کے برپا ہونے کی بات درمیان میں آئی ہے، حالانکہ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ تو اس قسم کے دن کو بالکل قبول ہی نہیں کرتے تھے، اس بنا پر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کے سامنے اس قسم کا استدلال پیش کیا جائے ۔ لیکن اس حقیقت پر توجہ کرنا چاہئے کہ پہلے تو وہ سب قیامت کے منکر نہیں تھے بلکہ ان میں سے ایک گروہ ایک طرح سے قیامت کا اعتقاد رکھتا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ”ساعة“ سے مراد ہی موت کی گھڑی یا وحشتناک حوادث کی گھڑی ہو جو انسان کو موت کی چووکھٹ تک لے جاتی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ تعبیر ہولناک حوادث کی طرف اشارہ ہو کیوں کہ قرآنی آیات بار بار کہتی ہے کہ قیامت کی ابتدا بہت ہی ہولناک حوادث کے سلسلہ کے ساتھ شروع ہوگی اور زلزلے، طوفان، بجلیاں او ایسی ہی دوسری ناگہانی آفتیں اس وقت وقوع پذیر ہوں گی ۔ ۳۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ قیامت کا دن اور اس سے قبل کے حوادث حتمی اور یقینی مسائل میں سے ہیں اور کسی طرح بھی قابل تغیر نہیں ہیں تو پھر اوپر والی آیت میں یہ کیوں کہا گیا ہے :اگر خدا چاہے تو اسے برطرف کردے گا، کیا اس سے صرف پروردگار عالم کی قدرت کا بیان کرنا مقصود ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ خدا ان کی دعا سے اصل قیام ساعة اور روز قیامت کو ہی ختم کردے گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ مشرکین بلکہ غیر مشرکین بھی جب قیامت کے روبرو ہوں گے تو اس کے حوادث ومشکلات اور اس کے سخت تریں عذاب سے جو انھیں درپیش ہوگا، وحشت اور پریشانی میں ہوں گے اور خدا سے درخواست کریں گے کہ وہ اس کیفیت اور حالت کو ان کے لیے آسان کردے اور انھیں خطرات سے رہائی بخشے، تو حقیقت میں یہ دعا دردناک حوادث سے اپنے آپ کی نجات کے لیے ہے نہ کہ قیامت کےختم ہوجانے کی دعا ۔

42
6:42
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُونَ
ہم نے ان امتوں پر جو تم سے پہلے تھیں (پیغمبر بھیجے اور جب وہ ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو) ہم نے انہیں شدت و تکلیف اور رنج و بے آرامی میں مبتلا کر دیا کہ (شاید وہ بیدار ہو جائیں اور حق کے سامنے) سر تسلیم خم کر دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
6:43
فَلَوۡلَآ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
جب ہمارا عذاب ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے (خضوع کیوں نہیں کیا ؟ اور) سر تسلیم کیوں خم نہ کیا ؟ لیکن ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے ہر اس کام کو جو وہ کرتے تھے ان کی نظروں میں پسندیدہ کرکے دکھایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
6:44
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَبۡوَٰبَ كُلِّ شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُوٓاْ أَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ فَإِذَا هُم مُّبۡلِسُونَ
جب (نصیحتوں نے کوئی فائدہ نہ دیا اور) جو کچھ انہیں یاد دہانی کرائی گئی تھی وہ اسے بھول گئے تو ہم نے (نعمتوں میں سے) تمام چیزوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے یہاں تک کہ وہ (مکمل طور پر) خوشحال ہو گئے (اور انہوں نے ان کے ساتھ دل لگا لیا) تو ہم نے یکایک انہیں دھر پکڑا (اور سخت سزا دی) تو اس وقت وہ سب کے سب مایوس ہو گئے (اور ان پر امید کے سب دروازے بند ہو گئے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
6:45
فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْۚ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
(اور اس طرح سے) جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا (اور ان کی نسل منقطع ہو گئی) اور حمد مخصوص ہے اس خدا کے لئے کہ جو عالمین کا پروردگار ہے۔

نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیا ت میں بھی گمراہوں اور مشرکین کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور قرآن ایک دوسرے راستے سے ان کو بیدار کرنے کے لیے اس موضوع کا پیچھا کرتا ہے، یعنی ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں گذشتہ زمانوں اور صدیوں کی طرف لے جاتا ہے اور گمراہ، ستمگر اور مشرک امتوں کی کیفیت ان سے بیان کرتا ہے کہ کس طرح سے تربیت وبیداری کے عوامل ان کے لیے بروئے کا ر لائے گئے لیکن ان میں سے ایک گروہ نے پھر بھی کسی کی طرف توجہ نہ کی اور آخر کار ایسی بدبختی ان کو دامنگیر ہوئی کہ وہ آنے والوں کے لیے عبرت بن گئے ۔ پہلے کہتا ہے کہ ہم نے گذشتہ امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے اور چونکہ انھوں نے کوئی پرواہ نہیں کی لہٰذا ہم نے انھیں بیداری اور تربیت کی خاطر مشکلات اور سخت حوادث مثلا، فقرفاقہ، خشک سالی وبیماری دردورنج اور ”باٴساء“ و”ضراء“ (باٴسا“ اصل میں شدت ورنج کے معنی میں ہے اور جنگ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اسی طرح قحط و خشک سالی اور فقروغیرہ کے لیے بھی لیکن ”ضراء“ روحانی تکلیف مثلا غم واندوہ، جہالت،نادانی یا وہ پریشانیاں ہوں بیماری یا مقام ومنصب اور مال ثروت کے ہاتھ سے نکل جانے سے پیدا ہوتی ہے کہ معنی میں ہے، شاید ان دونوں میں فرق اس سبب سے ہے کہ ”باٴسا“ عام طور سے خاجی پہلو رکھتا ہے اور ”ضراء“ روحانی اور معنوی پہلو رکھتا ہے، یعنی روحانی تکالیف کو ”ضراء“ کہتے ہیں، تو اس بناپر ”باٴسا“ ”ضراء“کے عوامل کی ایجاد میں سے ایک عامل ہے(غور کیجئے گا) ۔ سے دو چار کردیا،کہ شاید وہ متوجہ ہوجائیں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں( وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ.) ۔ بعد والی آیت میں کہتا ہے کہ انھوں نے ان دردناک اور بیدار کرنے والے عوامل سے نصیحت کیوں لی اور بیدار کیوں نہ ہوئے اور خدا کی طرف کیوں نہ لوٹے (فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا) ۔ اصل میں ان کے بیدار نہ ہونے کی دو وجوہات تھیں، ان میں سے پہلی وجہ تو یہ تھی کہ گناہ کی زیادتی اور شرک میں ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے دل تاریک اور سخت ہوگئے اور ان کی روح کوئی اثر قبول نہیں کرتی تھی(وَ لٰکِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ) ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ شیطان نے (ان کی بت پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں زینت دے رکھا تھا اور جس برے عمل کو وہ انجام دیتے تھے اسے خوبصورت وزیبااور ہر غلط کام کو درست وصحیح خیال کرتے تھے(ْوَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ) ۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے کہ جب سخت گیریاں اور گوشمالیاں ان کے لیے موثر ثابت نہ ہوئیں تو ہم نے ان کے ساتھ محبت اور مہربانی کا راستہ اختیار کیا اورجب انھوں نے پہلے سبق کو بھلا دیا تو ہم نے ان کے لیے دوسر سبق شروع کردیا اور طرح طرح کی نعمتوں کے دروازے ان کے لیے کھول دئےے کہ شاید وہ بیدار ہوجائےں اور اپنے پیدا کرنے والے اور ان نعمتوں کو بخشنے والے کی طرف توجہ کرلیں اور راہ راست کو پالیں ( فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ) ۔ لیکن یہ سب نعمتیں دوہری خصوصیت رکھتی تھیں، یہ ان کی بیداری کے لیے اظہار محبت تھیں اور اگر بیدار نہ ہوں تو دردناک عذاب کا مقدمہ بھی تھیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ جب انسان ناز ونعمت میں ڈوبا ہوا ہو اور اچانک وہ سب نعمتیں اس سے چھین لی جائیں تو اس کے لیے انتہائی دردناک ہوتا ہے ، اس کے برخلاف اگر اس سے تدریجا واپس لی جائیں تو اس صورت میں اس پر کوئی اثر نہ ہوگا ۔ اسی لیے کہتا ہے کہ ہم نے انھیں اس قدر نعمتیں دی کہ جس سے وہ مکمل طور پر خوشحال ہوگئے، لیکن وہ بیدار نہ ہوئے، لہٰذا ہم نے ان سے وہ اچانک چھین لی اور ہم نے انھیں عذاب دیا اور امید کے سب دروازے ان پر بند ہوگئے(حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ۔)۔ ( ”مبلسون“ اصل میں مادہ ”ابلاس“سے اس غم واندوہ کے معنی میں ہے جو انسان کو ناگوار حوادث کی شدت سے عارض ہوا اور ابلیس کا نام بھی یہی سے لیا گیا ہے اور اوپر والی تعبیر شدت غم واندوہ کی نشاندہی کرتی ہے جو گنہگاروں کو گھیر لیتی ہے ۔) اور اس طرح ستمگروں کی نسل منقطع ہوگئی اور ان کی دوسری نسل آگے نہ چل سکی(فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا) ۔ ”دابر“اصل میں کسی چیز کے پچھلے اور آخری حصہ کو کہتے ہیں اورچونکہ خدا وند تعالیٰ نے ان کی تربیت کے لیے تمام ذرائع کو بروئے کار لانے میں کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، لہٰذا آیت کے آخر میں کہتا ہے:حمد مخصوص اس خدا کے لیے ہے کہ جو عالمین کا پروردگار ہے (وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ )

چند اہم نکات

۱۔ بعض اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان آیات اور گذشتہ آیات کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کیوں کہ گذشتہ آیات میں یہ بات صراحت کے ساتھ بیان کی گئی تھی کہ مشرکین ہجوم مشکلات کے وقت خدا کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور خدا کے سوا ہر کسی کو بھلا دیتے ہیں لیکن ان آیات میں ہے کہ ہجوم مشکلا ت کے وقت بھی وہ بیدار نہیں ہوتے ۔ ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے یہ ظاہری اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ شدائد کے ظہور کے وقت جلدی گزرجانے والی اور وقتی بیداریاں بیداری شمار نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ جلد ہی اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ جاتے ہیں ۔ گذشتہ آیات میں چونکہ توحید فطری کا بیان کرنا مقصود تھا، اس کے ثبوت کے لیے وہی بیداریاں اور وقتی توجہات اور غیر خدا کو فراموش کرنا ہی کافی تھا خواہ ایسا حادثہ کے موقع پرہی ہوا ہو لیکن ان آیات میں موضوع سخن ہدایت یابی اور بے راہ روی سے رای راست کی طرف پلٹنے سے مطلق ہے اور مسلمہ طور پر جلد گزرجانے والی اور وقتی بیداری اس میں کوئی اثر نہیں کرتی۔ بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ گذشتہ آیات پیغمبر ؐکے ہمعصر مشرکین کے ساتھ مربوط ہے لیکن زیر بحث آیات گذشتہ اقوام سے متعلق ہیں لہٰذا ان دونوں میں آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے(فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں اس فرق کی طرف اشرہ کیا ہے (جلد ۱۲،صفحہ ۲۲۴) ۔) ۔ لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ پیغمبرؐ کے ہمعصر ہٹ دھرم مشرک گذشتہ زمانہ کے گمراہوں سے بہتر ہوں، اس بنا پر صحیح حل وہی ہے ج اوپر بیان ہوچکا ۔ ۲۔ زیر نظر آیات میں ہے کہ جب شدائد کے ظہور سے تربیتی اثر نہ ہوتو خدا وند عالم ایسے گناہگاروں پر نعمتوں کے درازے کھو دیتا ہے، تو کیا یہ کام تنبیہ کے بعد تشویق کے لیے ہے یا عذاب کے دردناک ہونے کا ایک مقدمہ ہے؟ یعنی اصطلاح کے مطابق اس قسم کی نعمتیں نعمت استدراجی ہیں، جو سرکش بندوں کو بتدریج آہستہ آہستہ نازونعمت، خوشحالی وسروراور ایک قسم کی غفلت میں ڈبو دیتی ہے اور پھر ایک دم ان سے تمام نعمتوں کو چھین لیا جا تا ہے ۔ آیت میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جن سے دوسرے احتمال کی تقویت ملتی ہے لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ دونوں ہی احتمال مراد ہوں، یعنی پہلے بیداری کے لیے تشویق ہو اور اگر وہ موثر نہ ہو تو وہ نعمت کے چھیننے اور دردناک عذاب کرنے کے لیے ایک مقدمہ ہو ، ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے اس طرح نقل ہوا ہے: " اذا راٴیت اللّٰہ یعطی العبد من الدنیا علی معاصیہ ما یحب فانما ھو استدراج ثم تلا رسول اللّٰہ: "فلما نسوا" جب تم یہ دیکھو کہ خدا گناہوں کے مقابلے میں نعمت بخشتا ہے تو تم سمجھ لو کہ یہ سزا کا مقدمہ اور تمہید ہے، پھر آپ نے اوپر والی آیت کی تلاوت کی“ (بحوالہ مجمع البیان ونورالثقلین ذیل آیہ) حضرت علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا ”یا ابن آدم اذا راٴیت ربک سبحناہ یتابع علیک نعمہ وانت تعصیہ فاحذرہ“ (نہج البلاغہ ،کلمہ ۲۵) ” اے آدم کے بیٹے! تو یہ دیکھے کہ خدا تجھے پے در پے نعمتیں بخش رہا ہے جب کہ تو گنا ہ کرتا جارہا ہے، تو تو اس کی سزا اور عذاب سے ڈر کیوں کہ یہ عذا ب کا مقدمہ ہے“ کتاب تلخیص الاقوال میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے : امیر المومنین کے غلام قنبر کو حجاج کے سامنے پیش کیا گیا تو حجاج نے اس سے پوچھا کہ تو علی ابن ابی طالب (علیه السلام) کے لیے کیا کام کیا کرتا تھا، قنبر نے کہا کہ میں آپ(علیه السلام) کے لیے وضو کے اسباب فراہم کرتا تھا، حجاج نے پوچھا کہ علی (علیه السلام) جب وضو سے فارغ ہوتے تھے تو کیا کہا کرتے تھے، قنبر نے کہا کہ وہ یہ آیت پڑھا کرتے تھے: ”فلما ھوا ما ذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شی“اور آخر آیت تک تلاوت کی، حجاج نے کہا کہ میرا گمان یہ ہے کہ علی اس آیت کو ہم پر تطبیق کیا کرتے تھے، قنبر نے پوری دلیری کے ساتھ جواب دیا، کہ جی ہاں! (بحوالہ نورالثقلین، جلد ۱،صفحہ ۱۸) ۔ ۳۔ ان آیات میں ہے کہ بہت سے رنج اور حوادث سے مراد توجہ اور بیداری کی حالت کو ایجاد کرنا ہے اور یہ آفات اور بلاؤں کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ ہے، جس کے متعلق ہم توحید (۔ کتاب ”آفریدگار جہاں“اور کتاب ”جستجوئے خدا“ کی طرف رجوع فرمائیں)کی بحث میں گفتگو کرچکے ہیں ۔ لیکن توجہ کے لائق بات یہ ہے کہ اس امر کو پہلے لفظ ”لعل“ (شاید) کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اس کے ذکر کا سبب یہ ہے کہ مصائب اور بلائیں بیداری کے لیے تنہا کافی نہیں ہے بلکہ یہ توآمادگی رکھنے والے دلوں کے لیے زمین ہموار کرتی ہے، ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ”لعل“ کلام خدا میں عام طور سے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں اور دوسری شرائط بھی درمیان میں پائی جاتی ہیں ۔ دوسرا یہ کہ یہاں تضرع کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو اصل میں دودھ کے پستان میں آجانے اور دوہنے والے کے سامنے اس کے مطیع ہونے کے معنی میں ہے، پھر اس کے بعد یہ لفظ تواضع اور خضوع کے ساتھ ملی ہوئی اطاعت کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا یعنی ان دردناک حادثات کو ہم اس لیے ایجاد کرتے تھے تاکہ وہ غرور وسرکشی اور خودخواہی کی سواری سے نیچے اترے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کریں ۔ ۴ ۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ آیت کے آخر میں خدا وند تعالیٰ ( الحمد رب العالمین) کہتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ظلم فساد کی جڑ کا کاٹنا اور ایسی نسل کا نابود ہوجانا جو اس کام کو جاری رکھ سکے اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ شکر وسپاس کی جگہ ہے ۔ اس حدیث میں جو فضیل بن عیاض نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: من احب بقاء الظالمین فقد احب ان یعصی اللّٰہ،ان اللّٰہ تبارک وتعالیٰ حمد بنفسہ بھلاک الظلمة فقال: فقطع دابرالقوم الذین ظلموا والحمد للّٰہ رب العالمین۔ جو ستمگروں اور ظالموں کی بقا چاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی نافرمانی ہوتی رہے اور یہ فرمایا کہ ستمگر قوم کی نسل منقطع کردی گئی اور حمد وسپاس مخصوص ہے اس خدا کے لیے جو عالمین کا پرور دگار ہے ۔

46
6:46
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمۡعَكُمۡ وَأَبۡصَٰرَكُمۡ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِهِۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُونَ
کہہ دو کہ کیا تم نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں تم سے لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ تم کوئی بات نہ سمجھ سکو) تو خدا کے سوا اور کون ہے کہ جو یہ چیزیں تمہیں دیدے دیکھو ہم آیات کی کس طرح مختلف طریقوں سے تشریح کرتے ہیں اس کے بعد وہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
6:47
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغۡتَةً أَوۡ جَهۡرَةً هَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
کہہ دو کہ کیا تم نے یہ بھی غور کیا کہ اگر خدا کا عذاب اچانک (اور پوشیدہ) یا آشکار تمہارے پاس آ جائے تو کیا ظالموں کے گروہ کے سوا اور کوئی ہلاک ہو گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
6:48
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۖ فَمَنۡ ءَامَنَ وَأَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے سوائے اس کے کہ وہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہوتے ہیں پس جو لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان کے لئے نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
6:49
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَمَسُّهُمُ ٱلۡعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ
وہ لوگ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ان کی نافرمانیوں کے سبب خدا وند تعالیٰ کا عذاب انہیں پہنچنے گا۔

نعمتیں بخشنے والے کو پہچانیے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

روئے سخن بدستور مشرکین ہی کی طرف ہے ان آیات میں ایک دوسرے بیان کے ذریعے ان کو بیدار کرنے کے لیے استدلال ہوا ہے اور دفع ضرر کے حوالے سے کہا گیا ہے: اگر خدا آنکھ جیسی اپنی گراں بہا نعمتیں تم سے لے لے اور تمھارے دلوں پر مہر لگا دے اس طرح سے کہ تم اچھے اور برے اور حق وباطل کے درمیان تمیز نہ کرسکو تو خدا کے سوا کون ہے جو نعمتیں تمھیں پلٹا سکے ۔ (قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰہُ سَمۡعَکُمۡ وَ اَبۡصَارَکُمۡ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ مَّنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِہ ) ۔ حقیقت میں مشرکین بھی قبول کرتے تھے کہ خالق ورازق خدا ہی ہے اور بتوں کی بارگاہ خدا میں شفاعت کے عنوان سے پرستش کرتے تھے، قرآن کہتا ہے کہ بجائے اس کے کہ تم ان بے قدر وقیمت بتوں کی پرستش کرو کہ جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، تم براہ راست خدا کے دروازے پر کیوں نہیں جاتے، وہ خدا جو تمام نیکیوں اور برکات کا سرچشمہ ہے ۔ اس اعتقاد کے علاوہ جو تمام بت پرست خدا کے بارے میں رکھتے تھے ، یہاں پر ان کی عقل کو بھی فیصلہ کی دعوت دی جارہی ہے کہ وہ بت جو نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ہی عقل ہوش رکھتے ہیں، دوسروں کو یہ چیزیں کیسے عطا کرسکتے ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے آیات ودلائل کی تشریح کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی حق سے منہ پھر لیتے ہیں (اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمۡ یَصۡدِفُوۡن) ۔ ”ختم“ کے معنی اور اس بات کی علت کے ”سمع“ قرآن کی آیت میں عام طور پر مفرد اور ابصار جمع کیوں آتا ہے؟ اس بارے میں ہم نے اسی تفسیر کی پہلی جلد، ص ۱۰۱(اردو ترجمہ) پر بحث کی ہے ۔ ”نصرف “تصریف کے مادہ سے تغیر کے معنی میں ہے اور یہاں مختلف شکل کے استدلال کرنا مراد ہے ۔ ”یصدفون“ ”صدف“ (بروزن ہدف) کے مادہ سے ہے جو”سمت“ اور ”طرف“ کے معنی میں ہے اور چونکہ انسان اعراض کرنے اور منہ پھیرنے کے وقت دوسری طرف متوجہ ہوجاتا ہے لہٰذا یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے البتہ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے یہ مادہ اعراض کرنے اور شدید روگردانی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ بعد والی آیت میں ان تینوں عظیم الٰہی نعمتوں(آنکھ، کان اور فہم) کے ذکر کے بعد کہ جو دنیا وآخرت کی تمام نعمتوں کا سرچشمہ ہے، تمام نعمتوں کے کلی طور پرسلب ہونے کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھیں کہہ دو کہ اگر خدا کا عذاب اچانک بلاکسی اطلاع کے یا آشکار ہانکے پکارے تمھارے پاس آجائے تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اورنابود ہوگا(قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ) ۔ ”بغتة“ کا معنی ناگہانی اور اچانک ہے اور ”جھرتہ “آشکار اور علی الاعلان کے معنی میں ہے،قاعدہ کی رو سے تو اآشکار کے کے مقابلہ میں پنہاں ہونا چاہئے نہ کہ نا گہانی، چونکہ ناگہانی امور کے مقدمات عام طور پر مخفی اور پنہاں ہوتے ہیں، کیوں کہ اگر وہ پنہاں نہ ہوں تو ناگہانی نہیں بنتے، اس بنا پر ”بغتة“ کے لفظ میں پنہاں کا مفہوم بھی پوشیدہ ہے ۔ اس سے منظور یہ ہے کہ جو ذات طرح طرح کی سزائیں دینے اور نعمتوں کے چھین لینے پر قدرت رکھتی ہے وہ صرف اور صرف ذات خدا ہے اور بتوں کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ اس بنا پر کوئی دلیل اور وجہ نہیں ہے کہ ان کی پناہ لولیکن چونکہ خدا حکیم اور رحیم ہے لہٰذا وہی ستمگاروں کی کوہی سزا دیتا ہے ۔ ضمنی طور پر اس تعبیر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ”ظلم“ ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو قسم قسم کے شرک اور گناہوں کو شامل ہے بلکہ قرآن کی آیات میں شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا: ”لاتشرک باللّٰہ ان الشرک لظلم عظیم“ بیٹا!خدا کا کسی کو شریک نہ بنانا کیوں کہ شرک ظلم عظیم ہے،(لقمان،۱۳) ۔ بعد والی آیت میں خدائی پیغمبروں کے فرائض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : نہ صرف یہ کہ بے جان بتوں سے کچھ نہیں ہوسکتا بلکہ بزرگ انبیاء اور خدائی رہبر ورہنما بھی سوائے ابلاغ رسالت، بشارت ونذارت اور تشویق اور تہدید کے اور کوئی کام نہیں کرتے اور جو بھی نعمت ہے وہ خدا کے حکم سے اور اسی کی طرف سے ہے اور وہ (انبیاء) بھی اپنی حاجات کو اسی سے طلب کرتے ہیں( وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ) ۔ اس آیت کے گذشتہ آیات کے ساتھ تعلق کے بارے میں اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ گذشتہ آیات میںکئی قسم کہ تشویق وتہدید سے متعلق گفتگو ہے، اس آیت میں ہے کہ یہ وہی ہدف ہے کہ جس کے لیے پیغمبر مبعوث ہوئے ہیں، ان کا کام بھی بشارت ونذارت (خوشخبری دینا اور ڈراناہی) تھا ۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ راہ نجات دو چیزوں میں منحصر ہے ۱۔وہ لوگ جو ایمان لے آئے،۲۔ اور اپنی اصلاح کرلیں(اور عمل صالح انجام دیں) انھیں نہ خدائی سزا کا خوف ہے اور نہ ہی اپنے گذشتہ اعمال کا غم واندوہ ہے (فَمَنۡ اٰمَنَ وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ) ۔ اور ان کے مقابلے می جو لوگ آیات الٰہی کی تکذیب کرتے ہیں وہ اس فسق اور نافرمانی کے بدلے میں خدائی سزا اور عذاب میں گرفتار ہوں گے ) وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الۡعَذَابُ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ) ۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ آیات خدا کی تکذیب کرنے والوں کی سزا کے بارے میں ” یَمَسُّھُمْ الْعَذَاب“ کی تعبیر ہوئی ہے (یعنی پروردگار کا عذاب انھیں لمس کرتا ہے ) ، گویا عذاب ہر جگہ ان کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اس کے بعد وہ انھیں بدترین طریقہ سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی لازم ہے کہ ”فسق“ ایک وسیع المعنی لفظ ہے اور ہر طرح کلی نافرمانی، خدا کی اطاعت سے باہر ہوجانا یہاں تک کہ کفر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اوپر والی آیت میں بھی یہی معنی مراد ہے، اس بنا پر ان بحثوں کا جو فخرالدین رازی اور دیگر مفسرین نے فسق کے بارے میں اس مقام پر کی ہے اور اسے گناہوں کے معنی میں بھی شامل سمجھتے ہوئے دفاع کے لیے کھڑے ہوگئے ہیں ، کوئی محل باقی نہیں رہتا۔

50
6:50
قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
کہہ دو کہ میں یہ تو نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں اور نہ میں غیب سے آگاہ ہوں سوائے اس کے جو خدا مجھے تعلیم دیتا ہے اور میں تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو خدا کی طرف سے مجھ پر وحی ہوتی ہے کہہ دو کہ کیا نابینا اور بینا برابر ہیں تم اس پر غور کیوں نہیں کرتے؟

غیب سے آگاہی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اوپروالی آیت میں کفار ومشرکین کے مختلف اعترضات پر دئے گئے جوابات کاآخری حصہ بیان ہوا ہے اور ان کے اعتراضات کے تین حصوں کا مختصر جملوں میں جواب دیا گیا ہے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ (کفار ومشرکین) پیغمبر سے عجیب وغریب معجزات کے مطالبے کیا کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کا مطالبہ اس کی اپنی خواہش کے مطابق ہوا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ دوسروں کی درخواست پر دکھائے جانے والے معجزات کے مشاہدے پر بھی قناعت نہیں کرتے تھے، وہ پیغمبر ؐسے کبھی سونے کے مکانات کا ، کبھی ملائک کے نزول کا، کبھی مکہ کی خشک اور بے آب وگیاہ زمین کے سرسبزوشاداب باغوں میں بدل جانے کا اور کبھی دوسری قسم کے مطالبات کا تقاضا کیا کرتے تھے، جیسا کہ سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۹۰ کے ذیل میں اس کی تفصیل آئے گی ۔ گویا وہ ایسے عجیب وغریب تقاضے کرکے پیغمبر کے لیے ایک قسم کے مقام الوہیت اور زمین وآسمان کی ملکیت کی توقع رکھتے تھے، لہٰذا ان افراد کے جواب میں پیغمبر کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ یہ کہیںکہ میرا یہ ہر گز دعویٰ نہیں ہے کہ خدائی خزانے میرے ہاتھ میں ہیں (قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ ) ۔ ”خزائن“ جمع ہے” خزانہ “ کی اور خزانہ ہر چیز کے منبع و مرکز کو کہتے ہیں کہ جس کی حفاظت کے لیے اور دوسروں کے اس تک دسترس حاصل کرنے کے لیے اسے وہاں جمع کیا گیا ہو ۔ وان من شیٴ الا عندنا خزائنہ وما ننزلہ الا بقدر معلوم (سورہٴ حجر آیہ ۲۱) ۔ اور ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم معلوم انداز ے کے سوا اسے نازل نہیں کرتے ۔ اس آیت کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ”خزائن اللّٰہ “ تمام چیزوں کے منبع اور مرکز کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور حقیقت میں یہ منبع اسی ذات لامتناہی کے قبضہٴ قدرت میں ہے کہ جو تمام کمالات اور قدرتوں کا سرچشمہ ہے ۔ اس کے بعد ان افراد کے مقابلے میں جو یہ توقع رکھتے تھے کہ پیغمبرؐ انھیں تمام گذشتہ اور آئندہ کے اسرار سے آگاہ کریں یہاں تک کہ انھیں یہ بھی بتلائیں کہ ان کی زندگی سے متعلق کون سے حادثات رونما ہونگے تاکہ وہ رفع ضرر اور جلب منفعت کے لیے آمادہ ہوجائیں کہتا ہے: کہئے ! میں ہرگز دعویٰ نہیں کرتا کہ میں تمام پوشیدہ امور اور اسرار غیب سے آگاہ ہوں (ِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ ) ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ تمام چیزوں صرف وہی ذات باخبر ہوسکتی ہے جو ہر مکان اور ہر زمان میں حاضر وناظر ہو اور وہ صرف خدا ہی کی ذات پاک ہے لیکن اس کے سوا ہر وہ شخص کہ جس کا وجود ایک معین زمان ومکان میں محدود ہو طبعا ہر چیز سے باخبر نہیں ہوسکتا لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ خدا وند عالم غیب کا کچھ حصہ کہ جس کی وہ مصلحت جانتا ہے اور جو خدائی رہبروں کی رہبری کی تکمیل کے لیے ضروری ہے ان کے اختیار میں دیدے، البتہ اس کو بالذات علم غیب نہیں نہیں کہتے بلکہ اس کو بالعرض علم غیب کہتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں یہ عالم الغیب سے یاد کیا ہو اور پڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ قرآن کی متعدد آیات گواہی دیتی ہے کہ خدا نے اس قسم کا علم نہ صرف یہ کہ انبیاء اور خدائی رہنماؤں کو دیا ہے بلکہ بعض اوقات ان کے غیر کو بھی دیا ہے ،منجملہ ان آیات کے سورہٴ جن آیہ ۲۶و ۲۷ میں ہے: خدا تمام پوشیدہ امور سے آگاہ ہے اور وہ کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا مگر ان رسولوں کو جن سے وہ راضی ہو ۔ اصولی طور پر مقام رہبری کی تکمیل کے لیے ۔علی الخصوص ایسی رہبری جو تمام لوگوں کے لیے ہو، بہت سے ایسے مسائل پر مطلع ہونے کی ضرورت ہے جو باقی دوسرے لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں اور اگر خدا یہ علم غیب اپنے بھیجے ہوئے افراد اور اپنے اولیاء کو نہ دے تو ان کا مقام رہبری تکمیل تک نہیں پہنچتا(غور کیجئے گا) ۔ یہ بات تو اپنے مقام پر مسلم ہے کہ بعض اوقات ایک موجود زندہ بھی اپنی زندگی کو جاری رکھنے کے لیے غیب کے ایک گوشہ کو جاننے کا محتاج ہے اور خدا اسے اس کے اختیار میں دیتا ہے، مثلا ہم نے سنا ہے کہ بعض حشرات اور کیڑے مکوڑے گرمیوں میں سردیوں کے موسمی حالات کی پیش بینی کرتے ہیں، یعنی خدا وند تعالیٰ نے یہ علم غیب خصوصیت کے ساتھ انھیں دے رکھا ہے کیوں کہ ان کی زندگی اس کے بغیر بسا اوقات فنا کی گود میں چلی جاتی ہے، ہم اس امر کی مذید تفصیل انشاء اللہ سورہٴ اعراف کی آیہ ۱۸۸ کے ذیل میں بیان کریں گے ۔ تیسرے جملے میں ان لوگوں کے سوال کے جواب میں کہ جو یہ توقع رکھتے تھے کہ خود پیغمبر کو فرشتہ ہونا چاہئے یا کسی فرشتہ کو ان کے ہمراہ ہونا چاہئے اور کسی قسم کے عوارض بشری (مثلا کھانا، کوچہ وبازار میں چلنا پھر نا) ان میں نظر نہ آئےں ارشاد ہوتا ہے: میرا ہر گز دعویٰ نہیں ہے کہ میں فرشتہ ہوں (وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ اِنِّیۡ مَلَک)۔ بلکہ میں تو صرف ان احکام وتعلیمات کی پیروی کرتا ہوں کہ جو پرور دگار کی طرف سے بذریعہ وحی مجھ تک پہنچتے ہیں۔ (اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ) ۔ اس جملے سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اکرم کے پاس جو کچھ بھی تھا اور آپ جو کچھ بھی کرتے تھے اس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہی تھی اور جیسا کہ بعض حضرات نے خیال کیا کہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کرتے تھے، ایسا ہرگز نہیں ہے اور اسی طرح نہ وہ قیاس پر عمل کرتے تھے اور نہ ہی کسی اور بات پر بلکہ دینی امور میں آپ کا پروگرام صرف وحی کی پیروی میں ہوتا تھا۔ پیغمبر کے تمام امور دینی تھے وہاں دنیاوی اور دینی امور کا کوئی الگ الگ تصور نہیں ہے(مترجم) اور آیات کے آخر میں پیغمبر ؐکو حکم دیا جارہا ہے کہ کہہ دو کہ نابینا اور بینا افراد برابر ہیں اور کیا وہ لوگ کہ جنھوں نے اپنی آنکھوں اور فکر وعقل کو بند کررکھا ہے ان اشخاص کے برابر ہے جو حقائق کو اچھی طرح سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے (قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡن) ۔ گذشتہ تین جملوں کے بعد اس جملے کا ذکر ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ اس سے پہلے جملوں میں پیغمبر نے فرمایا: میں نہ خدائی خزانے رکھتا ہوں، نہ غیب کا عالم ہو اور نہ ہی میں فرشتہ ہوں میں تو صرف وحی کا پیروکار ہوں، لیکن یہ گفتگواس معنی میں نہیں ہے کہ تم جیسے ہٹ دھرم بت پرستوں کی طرح ہوں بلکہ میں ایک بینا انسان ہوں جب کہ تم نابیناؤں کی طرح ہو اور یہ دونوں مساوی نہیں ہے ۔ اس جملہ کا پہلے جملوں سے تعلق اور جوڑ کے بارے میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ توحید اور پیغمبر کی حقانیت کی دلیلیں بالکل واضح وآشکار ہے لیکن انھیں دیکھنے کے لیے چشم بینا کی ضرورت ہے اور اگر تم قبول نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بات مبہم اور یا پیچیدہ ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم بینانہیں ہو، کیا بینا اور نابینا برابر ہیں؟

51
6:51
وَأَنذِرۡ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحۡشَرُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ لَيۡسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
اس قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو ڈراؤ جو حشر و نشر اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں وہ دن کہ جس میں یارو یاور سر پرست اور شفاعت کرنے والا سوائے اس خدا کے نہ رکھتے ہوں گے شاید وہ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کریں۔

قرآن کے ذریعہ لوگوں کو ڈراؤ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا تھا کہ نابینا اور بینا یکساں نہیں ہےں اور اس کے میں بعد اس آیت میں پیغمبرؐ کو حکم دیا جارہا ہے :قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈراؤ اور بیدرا کرو جو قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں، یعنی کم از کم ان کی آنکھیں انتی ضرور کھلی ہوئی ہیں کہ وہ یہ احتمال رکھتے ہیں کہ حساب وکتاب ہوگا اور اس احتمال کے زیر سایہ اور جوابدہی کے خوف سے قبول کرنے کے لیے آمادگی کریں (وَ اَنۡذِرۡ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ) ۔ شاید ہم کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ افراد کی ہدایت کے لیے صرف ایک لائق رہبر اور ایک جامع تربیتی پروگرام ہی کافی نہیں ہے بلکہ خود افراد میں بھی ایک قسم کی آمادگی ضروری ہے ، جیسا کہ آفتاب کی روشنی چاہ سے راہ کو تلاش کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ چشم بینا کی بھی ضرورت ہے اور مستعد وآمادہ بیج بھی بار آونہیں ہوسکتا جب تک کہ زمین آمادہ وتیار نہ ہو ۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوگیا ہے کہ ”بہ“کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے اگر چہ قبل کی آیات میں قرآن کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہو، لیکن یہ بات قرائن سے واضح ہے ۔ اسی طرح ”یخافون“(ڈرتے ہیں) سے مراد وہی نقصان وضرر کا احتمال ہے کہ جو ہر عقلمند کے ذہن میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انبیاء اور رہبران خدا کی دعوت پر غور کرتا ہے کہ شاید ان کی دعوت حق ہو، اور اس کی مخالفت زیان اور خسارے کا سبب بنے لہٰذا کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ان کی دعوت کا مطالعہ کروں اور ان کے دلائل پر غور کروں ؟۔ یہ ہدایت کی اولین شرائط میں سے ایک ہے، اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے علماء عقائدلزوم”دفع ضرر محتمل“ کے عنوان سے مدعی نبوت کی دعوت کے مطالعہ کے وجوب اور خدا کی شناسائی کے بارے میں مطالعہ کے لزوم کی دلیل قرار دیتے ہیں ۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ اس قسم کے بیدار دل افراد اس دن سے ڈرتے ہیں کہ جب سوائے خدا کے اور کوئی پناہ گا ہ اور شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا (لَیۡسَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ ) ۔ ہاں ایسے افراد کو ڈراؤ اور انھیں خدا کی طرف دعوت دو کیوں کہ ان کے بارے میں تقوی اور پرہیزگاری کی امید ہے(لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ) ۔ البتہ اس آیت میں غیر خدا کی ولایت و شفاعت کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی، کیوں کہ جیسا کہ ہم پہلے ارشاد کرچکے ہیں کہ یہاں بالذات شفاعت وولایت کی نفی مراد ہے، یعنی دومقام ذاتی طور پر خدا کے ساتھ مخصوص ہیں، اب اگر اس کا غیر مقام ولایت وشفاعت رکھتا ہے تو وہ اس کے اذن و اجازت اور فرمان کے ساتھ ہے جیسا کہ قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے: من ذاالذی یشفع عندہ اِلَّا باذنہ کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کے حکم کے بغیر شفاعت کرے(سورہٴ بقرہ،۲۵۵) ۔ اس کی مزید توضیح اور شفاعت کی مکمل بحث کے بارے میں تفسیر نمونہ کی جلد اول ،صفحہ ۱۹۸(اردو ترجمہ) اور جلد دوم، صفحہ ۱۵۵(اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔

52
6:52
وَلَا تَطۡرُدِ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِم مِّن شَيۡءٖ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
ان لوگوں کو جو صبح شام خدا کو پکارتے ہیں اور اس کی ذات پاک کے علاوہ کسی پر نگاہ نہیں رکھتے اپنے سے دور نہ کر۔ نہ ان کا حساب تجھ پر ہے اور نہ تیرا حساب ان پر ہے اگر تو ان کو دھتکارے گا تو ظالموں میں سے ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
6:53
وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لِّيَقُولُوٓاْ أَهَـٰٓؤُلَآءِ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنۢ بَيۡنِنَآۗ أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِٱلشَّـٰكِرِينَ
اور اس طرح ہم نے ان میں سے بعض کو دوسرے بعض کے سا تھ آزمایا ہے (تو نگروں کو فقیروں کے ذریعے) تاکہ وہ یہ کہیں کہ کیا یہ ہیں وہ کہ جنہیں خدا نے ہمارے درمیان سے (چنا ہے) اور ان پر احسان کیا ہے اور انہیں نعمت ایمان سے نواز ہے تو کیا خدا شکر کرنے والوں کو بہتر طور پر پہچانتا نہیں ہے ؟

شان نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اوپر والی آیات کی شان نزول میں بہت سے روایات نقل ہوئی ہیں کہ جو سب کی سب ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی ہیں، منجملہ ان کے ایک وہ ہے جو تفسیر ”در المنثور “ میں اس طرح نقل ہوئی ہے کہ قریش کی ایک جماعت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے پاس سے گزری جب کہ صہیب ، عمار ،بلال اور خباب اور ان ہی جیسے دوسرے فقیر اور مزدور قسم کے مسلمان پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر تھے ،انھوں نے یہ منظر دیکھ کر تعجب کیا( اور چونکہ وہ شخصیت کو مال وثروت اور مقام ومنصب میں منحصر سمجھتے تھے لہٰذا وہ ان مردان بزرگ کے مقام روحانی کی عظمت اور آئندہ کے عظیم اسلامی اور انسانی معاشرے کی تشکیل کے سلسلے میں ان کے کار ناموں کے نقوش کو سمجھ نہ سکے )اور کہنے لگے کہ اے محمد ؐ! کیا آپ نے ساری جمعیت میں سے بس ان ہی افراد پر قناعت کرلی ہے؟ کیا یہی ہے وہ کہ جنھیں خدا نے ہمارے درمیان میں سے منتخب کیا ہے؟ کیاہم ان کے پیرو ہوجائیں؟ جتنا جلدی ہو سکے آپ انھیں اپنے سے دور کردیجئے تو شاید ہم آپ کے قرایب آجائیں اور آپ کی پیروی کرلیں،اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان کے اس تقاضے اورمطالبے کو شدت کے ساتھ رد کردیا گیا ۔ بعض مفسرین اہل سنت نے اسی جیسی ایک حدیث نقل کی ہے، مثلا”المنار“ کے مولف نے اسی کے مانند روایت کرتے ہوئے مزید اضافہ کیا ہے کہ عمر بن خطاب وہاں حاضر تھے اور انھوں نے پیغمبر اکرم ؐسے یہ تقاضا کیا کہ اس میں کیا حرج ہے کہ ہم ان کے مطالبہ کو مان لیں اور یہ دیکھیں کہ وہ کیا کرتے ہیں تو ان پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئی اور ان کے اس تقاضے کو بھی رد کردیا گیا ۔ اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اس سورہ کی بعض آیات کی شان نزول کا ذکر کرنا اس بات کے منافی نہیں کہ یہ پوری صورت ایک سورة ایک ہی جگہ نازل ہوئی ہو، کیوں کہ جیسا کہ ہم پہلے بھی ارشا د کرچکے ہیں کہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس سورت کے نزول سے پہلے طرح طرح کے حوادث مختلف فاصلوں میں رونما ہوچکے ہوں اور یہ سورت ان سب حوادث کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہو ۔ اس مقام پر اس نکتہ کاذکر کرنا بھی ضروری نظر آتا ہے کہ کچھ روایات میں یہ نقل ہوا ہے کہ جس وقت پیغمبرؐ نے ان کی پیش کش قبول نہ کی تو انھوں نے یہ درخواست کی کہ اشراف قریش اور فقیر صحابہ کے درمیان باری مقرر کرلیں ، یعنی ایک روزان کے لیے اور ایک دن ان کے لیے مقرر کردیں تاکہ وہ اکھٹے میں ایک ہی جلسہ میں نہ بیٹھیں تو پیغمبر اکرم نے (پہلے ) ان کی یہ تجویز قبول کرلی تاکہ شاید یہ بات ان کے ایمان لانے کا ذریعہ بن جائے تو انھوں نے کہا کہ یہ مطلب ایک قرار داد کے عنوان سے تحریر میں لایا جائے پیغمبر نے حضرت علی (علیه السلام) کو مذکورہ قرار داد لکھنے پر مامور ہی کیا تھا کہ اوپر والی آیت نازل ہوئی اور اس کام سے روک دیا گیا ۔ لیکن یہ روایت علاوہ اس کے کہ تعلیمات اسلامی کی روح کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور آپ نے کبھی اس قسم کے امتیازی سلوک کی طرف جھکاؤ کا مظاہرنہیں کیا بلکہ ہر جگہ معاشرہ اسلامی کی وحدت کی بات کی ہے، قبل کی آیت ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتی جس میں کہا گیا ہے” ان اتبع الا مایوحی الی“(میں تو صرف وحی الہی کی پیروی کرتا ہوں)، یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر نے وحی کا انتظار کیے بغیر اس تجویز کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا ہو ۔ علاوہ ازیں ”لا تطرد“کا جملہ جو زیر بحث آیت کی ابتدا میں ہے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان کا مطالبہ اصحاب پیغمبر کے اس گروہ کو مطلقا ہمیشہ کے لیے اپنے سے دور کرنے کے لیے تھا نہ کہ نبوت اور باری مقرر کرنے کا مطالبہ تھا، کیوں کہ”تناوب“ اور ”طرد“ میں بہت فرق ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شان نزول وہی ہے جو ہم ابتدا میں بیان کرچکے ہیں ۔

طبقاتی تقسیم کے خلاف جنگ

اس آیت میں مشرکین کی ایک اور بہانہ جوئی کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ انھیں توقع تھی کہ پیغمبرؐ فقیر طبقے کے مقابلے میں ثروت مندوں کے لیے امتیاز کے قائل ہوجائیں گے اور ان کا خیال تھا کہ ان اصحاب پیغمبرؐ کے پاس بیٹھنا اور ان کے لیے عیب اور بہت بڑا نقص ہے حالانکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ اس قسم کے لغو اور بے بنیاد امتیازات کو ختم کردے، اسی لیے وہ اس تجویز پر بہت مصر تھے،کہ پیغمبر اس گروہ کو اپنے قرب سے دور کریں لیکن قرآن صراحت کے ساتھ اور وزنی دلائل پیش کرکے ان کی تجویز کی نفی کرتا ہے، پہلے کہتا ہے :ان اشخاص کو کہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور سوائے اس کی ذات پاک کے ان کی نظر کسی پر نہیں ہے انھیں ہرگز اپنے سے دور نہ کرنا (وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ) (”وجہ“ کا معنی لغت میں چہرہ ہے اور بعض اوقات ذات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، زیر نظر آیت اس سے مراد دوسرا معنی ہی ہے اس موضوع کے بارے میں مزید تفصیل تفسیر نمونہ کہ جلد دوم،صفحہ ۲۰۵(اردو ترجمہ) پر مطالعہ کریں) ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہاں بجائے اس کے کہ ان اشخاص کا نام یا عنوان ذکر کیا جاتا صرف اس صفت کے ذکر کرنے پر قناعت ہوئی ہے کہ وہ صبح اور شام ۔ اور دوسرے لفظوں میں ہمیشہ۔ خدا کی یاد میں لگے رہتے ہیں اور یہ عبادت وپرستش اور پروردگار کی طرف توجہ نہ تو کسی اورغرض کے لیے ہے اور نہ ریاکاری سے بلکہ (ان کی یہ عبادت) صرف اس کی ذات پاک کے لیے ہے، وہ اسے صرف ، خود اسی کی خاطر چاہتے ہیں اور اس کے پاس ہیں اور کوئی امتیاز اس امتیاز کی برابری نہیں کرسکتا ۔ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ثروت مند اور خود پسند مشرکین کی طرف سے یہ پہلی اور آخری بار نہ تھا کہ انھوں نے پیغمبرؐ کو ایسی تجویز پیش ہو بلکہ وہ بار ہا ایسا اعتراض کرچکے تھے کہ پیغمبر ؐنے کچھ بیکس وبینوا افراد کو اپنے گرد کیوں جمع کرلیا ہے اور ان کا یہ اصرا رتھا کہ آپ انھیں اپنے پاس سے چلتا کردیں ۔ حقیقت میں یہ لوگ ایک پرانی غلط روایت کی بنا پر سمجھتے تھے کہ افراد میں امتیاز دولت وثروت کے سبب سے ہوتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ معاشرے کے طبقات جو ثروت کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں وہ محفوظ رہن چا ہئیں چ اور ہر وہ دین اور ہر وہ دعوت جو طبقاتی زندگی کو ختم کرنا چاہے اور ان امتیازات کو نظر انداز کرے اور ان کی نظر میں مطرود اور ناقابل قبول ہے ۔ ہم حضرت نوح علیہ السلام کے حالات میں بھی پڑھتے ہیں کے ان کے زمانے کے ”بڑے آدمی“ ان سے یہ کہتے تھے: وما نراک اتبعک الا الذین ھم ارازلنا بادی الراٴی ہم نہیں دیکھتے کہ کسی نے تمھاری پیروی کی ہو سوائے ان لوگوں کے جو ہم میں سے فرو مایہ اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ( ھود آیہ ۲۷) ۔ اور وہ اسے ان کی رسالت کے باطل ہونے کی دلیل سمجھتے تھے ۔ ایک نشانی اسلام اور قرآن کی عظمت کی بلکہ کلی طور پر انبیاء کی عظمت کی یہ ہے کہ ان سے جتنی سختی کے ساتھ ہو سکتا تھا اس قسم کی سوچوں کا مقابلہ کیا اور ایسے معاشروں میں کہ جن میں طبقاتی اختلاف ایک دائمی مسئلہ شمار ہوتا تھا، ایک موہوم امتیاز کو کچلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلمان، ابو ذر، صہیب، خباب اور بلال جیسے پاک دل غلام، صاحب ایمان اور عقلمند افراد میں مال ودولت نہ رکھنے کے باوجود معمولی سی بھی کمزوری اور نقص نہیں ہے اور بے مغز ، کور دل، خود خواہ اور متکبر ثروت مند اپنی دولت وثروت کی وجہ سے اجتماعی اور معنوی امتیازات سے بہرہ اندوز نہیں ہوسکتے ۔ بعد والے جملے میں فرمایا گیا ہے: کوئی وجہ نہیں کہ اس قسم کے صاحبان ایمان کو تو اپنے سے دور کرے نہ ان کا حساب تیرے اوپر اور نہ تیرا حساب ان کے اوپر ہے (مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ) اس کے با وجود اگر تم ان کو اپنے سے دور کرو گے تو ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤ گے(فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ) ۔ اس کے بارے میں کہ یہاں پر حساب سے کونسا حساب مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض کا احتمال ہے کہ اس سے مراد ان کی روزی کا حساب ہے ۔ یعنی اگر ان کا ہاتھ مال دولت سے خالی ہے تو وہ تمھارے کندھے پر کوئی بوجھ نہیں ڈالتے کیوں کہ ان کی روزی کا حساب تو اللہ پر ہے، جیسا کہ تم بھی اپنی زندگی کا بوجھ ان پر نہیں ڈالتے ، اور تمھاری روزی کا حساب ان پر نہیں ہے ۔ ابھی ہم وضاحت کریں گے یہ احتمال بعید نظر آتا ہے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ حساب سے مراد عمل کا حساب ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ خدا وند تعالیٰ یہ کس طرح فرماتا ہے کہ ان کے اعمال کا حساب تم پر نہیں ہے حالانکہ ان کا کوئی برا عمل نہیں تھا کہ ایسی بات کرنا ضروری ہوتا، یہ اس بنا پر ہے کہ مشرکین اصحاب پیغمبر ؐ میں سے فقراء کو مال ثروت نہ ہونے کی وجہ سے خدا سے دور سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ان کے اعمال خدا کے ہاں قابل قبول ہوتے تو پھر انھیں زندگی کے لحاظ سے خوش حال کیوں نہیں بنا یا گیا، علاوہ ازایں وہ انھیں اس بات سے متہم کرتے تھے کہ شاید ان کا ایمان لانا زندگی کی اصلاح اور روٹی پانی کے حصول کے لیے تھا ۔ قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ فرض کرو کہ وہ ایسے ہی ہو ں، لیکن ان کا حساب توخدا کے ساتھ ہے، صرف اس بات پر کہ وہ ایمان لے آئیں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں، کسی قیمت پر انھیں دھتکارا نہیں جا نا چاہئے اور اس طرح سے امراء قریش کی بہانہ جوئیوں پر گرفت کی گئی ہے ۔ شاید یہ تفسیر وہی کہ کہ جو حضرت نوح (علیه السلام) کی داستان میں بیان ہوئی ہے جو اشراف قریش کی داستان کے مشابہ ہے، جہاں قوم نوح آپ سے کہتی ہے: انوٴ من لک واتبعک الا رذلون "کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں؟ حالانکہ بے وقعت افراد نے تیری پیروی کی ہے ۔ حضرت نوح (علیه السلام) ان کے جواب میں کہتے ہیں: وما علمی مماکانوا یعلمون ان حسابھم الاعلی ربی لو تشعرون وما انا بطاردالمومنین مجھے ان کے اعمال کی کیا خبر ہے، ان کے اعمال کا حساب تو اللہ پر ہے اگر تم جانو اور جنھوں نے ایمان کا اظہار کیا ہے میں انھیں اپنے سے دور نہیں کرسکتا (شعرا،۱۱۱تا۱۱۴۔) ۔ خلاصہ یہ کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ ہے کہ بغیر فرق وامتیاز کے جو شخص بھی ایمان کا اظہار کرے خواہ وہ کسی بھی قوم ، قبیلہ اور طبقہ سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو اسے قبول کر لے چہ جائیکہ وہ پاک دل اور صاحب ایمان افراد ہوں کہ جو خدا کے سوا کسی کے جویا نہیں ہیں اور ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ ان کا ہاتھ مال و ثروت سے خالی ہے اوروہ اشراف کی نکبت بار زندگی میں آلودہ نہیں ہیں ۔

اسلام کا ایک عظیم امتیاز

ہم جانتے ہیں کہ آج کل کی مسیحیت میں مذہبی راہنماؤں کا دائرہ اختیار مضحکہ انگیزحد تک پاچکا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے لیے گناہ بخش دینے کے حق کے قائل ہیں اور اسی بنا پر اگر وہ چاہیں کسی شخص کو معمولی سی بات پر دھتکار دیں اور کافر قرار سے دیں اور چاہیں تو کسی کو قبول کرلیں ۔ قرآن مجید زیر نظر آیت میں اور دیگر آیات میں راحت کے ساتھ یاددہانی کراتا ہے کہ نہ صرف مذہبی علماء بلکہ پیغمبر کی ذات تک بھی اظہار ایمان کرنے والے کو دھتکار نے اور دور کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے، جب کہ انھوں نے کوئی ایسا کام بھی انجام نہیں دیا کہ جو ان کے اسلام سے خارج ہونے کا سبب بنے، گناہوں کی بخشش اور بندوں کا حساب وکتاب صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کے سوا کوئی بھی اس کام میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتا ۔ لیکن کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، آیت میں موضوع بحث ”طردمذہبی“ہے نہ کہ ”طرد حقوقی“ اس معنی میںکہ اگر مثلا ایک مدرسہ خاص قسم کے طالب علموں کے لیے وقف ہو اور کوئی شخص ابتدا سے ان شرائط کا حامل ہو اور بعد ان میں یہ شرائط باقی نہ رہے تو اسے اس مدرسہ سے نکالنا کوئی منع نہیں رکھتا اور اسی طرح اگر مدرسہ کا متولی مدرسہ کی مصلحتوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کچھ اختیارات رکھتا ہو تو اس مدرسے کے نظام اور اس کی حیثیت وموقعیت کی حفاظت کی لیے ان جائز اختیارات سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے( اس بنا پر وہ مطالب جو تفسیر المنار میں اس آیہ کے ذیل میں اس مطالب کے برخلاف نظر آتے ہیں وہ ”طرد مذہبی“کے ”طرد حقوقی“ سے اشتباہ سے پیدا ہوئے ہیں ) ۔ بعد والی آیت میں بے ایمان دولت مند افراد کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ واقعات ان کے لیے آزمائش ہیں اور اگر وہ ان آزمائشوں کی بھٹی سے صحیح طریقے سے باہر نہ نکل سکے تو وہ دردناک عواقب وانجام کے متحمل ہوں گے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس طرح سے ان میں سے بعض کو دوسرے بعض کے ذریعے آزمایا (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ)یہاں ”فتنتہ“ آزمائش کے معنی میں ہے(مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کہ جلد ۲، سورہٴ بقرہ کی آیہ ۱۹۱ (صفحہ ۲۶ اردو ترجمہ ) اور آیہ ۱۹۳ (صفحہ ۲۹ اردو ترجمہ) کی طرف روجوع کریں) ۔ اس سے سخت آزمائش اور کیا ہوگی کہ وہ اشراف اور دولت مندکہ جنھوں نے سالہا سال سے یہ عادت بنائی ہوئی ہے کہ اپنے تمام معاملات کو نچلے طبقے کے لوگوں سے بالکل الگ رکھیں ، نہ ان کی خوشی میں شریک ہوں اور نہ ہی ان کے رنج وغم میں ، یہاں تک کہ ان کی قبریں بھی ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوں ، وہ یکا یک ان تمام آداب ورسوم توڑ ڈالیں اور ان کی عظیم زنجیروں کو اپنے ہاتھ پاؤں سے نکال پھینکےں اور ایسے دین کو اپنالیں کہ جس کی طرف سبقت کرنے والے لوگ اصطلاح کے مطابق نچلے درجے اور طبقہ فقراء کے آدمی شمار ہوتے ہیں ۔ پھر مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ان تونگروں کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ سچے مومنین کی طرف حقارت کی نگاہ ڈال کر کہتے ہیں : کیا یہی لوگ ہیں جنھیں خدا نے ہمارے درمیاں سے چن لیا ہے اور انھیں نعمت ایمان واسلام کے ساتھ نوازا ہے، کیا یہ اس قسم کی باتوں کی قابلیت رکھتے ہیں (لِّیَقُوۡلُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا)( سورہٴ آل عمران آیہ ۱۶۴ کے ذیل میں اشارہ ہوچکا ہے کہ ”منة“ اصل میں نعمت بخشنے کے معنی میں ہے مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۳(صفحہ ۱۲۲ اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ) بعد میں ان کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ صاحبان ایمان ایسے افراد ہیں کہ انھوں نے عمل وتشخیص کی نعمت کا شکر ادا کیا ہے اور اس کو روبہ عمل لائے ہیں، اسی طرح انھوں نے پیغمبر کی دعوت کی نعمت کا شکرادا کیا ہے اور ان کی دعوت کو قبول کیا ہے، اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوگی اور اس سے بڑھ کر شکر اور کیا ہوگا، اسی بنا پر خدانے ایمان کو ان کے دلوں میں راسخ کردیا ہے، کیا خدا شکر گزاروں کو بہتر نہیں پہچانتا۔

54
6:54
وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۖ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَ أَنَّهُۥ مَنۡ عَمِلَ مِنكُمۡ سُوٓءَۢا بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعۡدِهِۦ وَأَصۡلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
جب وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تمہارے پاس آئیں تو ان سے کہو تم پر سلام ہو تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت فرض کر لی ہے تم میں سے جو آدمی نادانی سے کوئی برا کام کر لے اس کے بعد توبہ اور اصلاح (و تلافی) کرے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
6:55
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلِتَسۡتَبِينَ سَبِيلُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
اور ہم اس طرح سے آ یات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (اور واضح کرتے ہیں ) تاکہ گنہگاروں کا راستہ آشکار ہو جائے۔

مؤمنین پر سلام!

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعض کا نظریہ تو یہ ہے کہ پہلی آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی یے کہ جن کے متعلق گذشتہ آیات میں پیغمبرؐ کو حکم دیا گیا تھا کہ انھیں اپنے پاس سے دھتکارے نہیں اور انہیں اپنے پاس سے جدا نہ کریں ، اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت کچھ گنہگاروں کے بارے میں ہے جو پیغمبرؐ کے پاس آئے تھے اور انھوں نے یہ اظہار کیا تھا کہ ہم نے بہت گناہ کیے ہیں اس پر رسول اللہ نے سکوت اختیار کیا تو زیر نظر آیت نازل ہوئی ۔ بہرحال اس کی شان نزول خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اس میں شک نہیں کہ آیت کا مفہوم کلی اور وسیع ہے اور سب پر محیط ہے، کیوں کہ پہلے ایک قانون کلی کے طور پر پیغمبرؐ کو حکم دیا گیا کہ تما م اہل ایمان کو خواہ وہ گنہگار ہی کیوں نہ ہو ، نہ صرف یہ کہ اپنے پاس سے دھتکارےں نہیں بلکہ انھیں گلے لگائیں اور قبول کریں، اور فرمایا گیا کہ : جب وہ لوگ کہ جو ہماری آیات پر ایمان لا چکے ہیں تیرے پاس آئیں تو ان سے کہو تم پر سلام ہو (وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ) ۔ یہ سلام ممکن ہے کہ خدا کی طرف سے اور پیغمبر کے وسیلہ سے ہو اور یا براہ راست خود پیغبرؐ کی طرف سے ہو، اور یہ ہرحال میں ان کی پذیرائی اور استقبال کرنے اور ان سے افہام وتفہیم اور دوستی کرنے کی دلیل ہے ۔ دوسرے جملہ میں مزید فرمایا گیا ہے: تمھارے پروردگار نے رحمت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے(کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ) ۔ ”کتب“ جو مادہ کتابت سے ہے لکھنے کے معنی میں ہیں اور بہت سے موقع پر لازم ہونے، قبول کرنے اور ذمہ لینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیوں کہ لکھنے کے آثار میں سے ایک اثر کسی چیز کا مسلم ہونا ااور ثابت رہ جانا ہے ۔ تیسرے جملہ میں جو درحقیقت رحمت الٰہی کی توضیح وتفسیر ہے، ایک محبت آمیز تعبیر کے ساتھ یوں فرمایا گیا ہے : تم میں سے جو شخص کوئی کام ازروئے جہالت انجام دے ، اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح اور تلافی کرے تو خدا بخشنے والا اور مہربان ہے (اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢ ابِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ) ۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں (تفسیر نمونہ جلد ۳، ص۳۲۸(اردو ترجمہ))، ایسے موقع پر ”جہالت“ سے مراد وہی شہوت اور خواہش نفسانی اور غلبہ اور طغیان وسرکشی ہے، جس میں انسان دشمنی اور عداوت کی بنا پر نہیں بلکہ ہویٰ وہوس کے غلبہ کی خاطر اس طرح ہوجاتا ہے کہ فروغ عقل اور خواہش کا کنٹرول ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے، ایسا شخص اگرچہ گناہ اور حرام کا علم رکھتا ہے مگرچونکہ اس کا علم ہویٰ وہوس کے پردے میں آگیا ہے اس لیے اس پر ”جہالت“ کا اطلاق ہوا ہے۔ مسلمہ طور پر ایسا شخص اپنے گناہ کے لیے جوابدہ ہے، لیکن چوں کہ وہ گناہ عداوت اور دشمنی کی بنا پر نہیں تھا لہٰذا وہ سعی وکوشش کرتا ہے کہ اس کی اصلاح اور تلافی ہوجائے ۔ حقیقت میں یہ آیت پیغمبر اسلامؐ کو حکم دے رہی ہے کہ تم کسی بھی صاحب ایمان فرد کو خواہ وہ کسی طبقہ سے ہو، کسی نسل سے ہو اور کیسے ہی حالات سے دوچار ہو نہ صرف یہ کہ اپنے پاس سے نہ دھتکارو بلکہ اپنے دامن کو یکساں طور پر سب کے لیے کھول، یہاں تک کہ اگر کچھ لوگ بہت سے گناہوں میں آلودہ بھی ہو تو انھیں بھی قبول کرلو اور ان کی اصلاح کرو ۔ بعد والی آیت میں اس مطلب کی تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: ہم اپنی آیات ، نشانیاں اور احکام اس روشن اور مشخص کرتے ہیں کہ حق کے متلاشیوں اور اطاعت گزاروں کا راستہ بھی واضح وآشکار ہوجائے اور ہٹ دھر م گنہگاروں اور حق کے دشمنوں کی راہ بھی معلوم وروشن ہوجائے (وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لِتَسۡتَبِیۡنَ سَبِیۡلُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ) (حقیقت میں جملہ ” وَلِتَسْتَبِینَ “ عطف ہے ایک محزوف جملہ پر جو مقابلہ کے کے قرینہ سے سمجھا جاتا ہے یعنی” وَلِتَسْتَبِینَ سَبِیلُ الْمُجْرِمِین“تاکہ اطاعت کرنے والے مومنین کا راستہ اور گنہگاروں کا راسہ الگ الگ واضح اور روشن ہوجائے ۔) واضح ہے کہ اوپر والی آیت میں ” مجرم“ سے مراد ہر گنہگار نہیں ہے، کیوں کہ اس آیت میں پیغمبرؐ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب گنہگار ان کے پاس آئیں ،خواہ انھوں نے نادا نی کی بنا پر کتنے ہی غلط اعمال انجام دئے ہوں ، انھیں قبول کرلیں، اس بنا پر یہاں مجرم سے مراد وہی ہٹ دھرم اور سخت قسم کے گنہگار ہیں جو جو کسی ذریعہ سے بھی حق کے سامنے سرتسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے ہوں ، یعنی حق کی طرف اس عمومی اور ہمہ گیر دعوت کے بعد، یہاں تک کہ ان گنہگاروں کو دعوت دینے کے بعد کہ جو اپنے کام سے پشیمان ہیں ، اب ہٹ دھرم اور ناقابل توجہ ہیں مجرموں کے طرز عمل کو مکمل طور پر واضح کیا جارہا ہے ۔

56
6:56
قُلۡ إِنِّي نُهِيتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۚ قُل لَّآ أَتَّبِعُ أَهۡوَآءَكُمۡ قَدۡ ضَلَلۡتُ إِذٗا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ
(اے رسول) تم(مشرکین سے) کہہ دو کہ مجھے ان کی پرستش سے منع کیا گیا ہے جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ کہہ دو کہ میں تمہاری ہو او ہوس کی پیروی نہیں کرتا اگر میں ایسا کروں گا تو گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ ہوں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
6:57
قُلۡ إِنِّي عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَكَذَّبۡتُم بِهِۦۚ مَا عِندِي مَا تَسۡتَعۡجِلُونَ بِهِۦٓۚ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِۖ يَقُصُّ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡفَٰصِلِينَ
تم کہہ دو کہ میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک واضح اور روشن دلیل رکھتا ہوں اور تم نے اس کی تکذیب کی ہے اور اسے قبول نہیں کیا وہ چیز(یعنی عذاب الٰہی) کہ جس کے بارے میں تمہیں زیادہ جلدی ہے وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے حکم اور فرمان جاری کرنا صرف خدا ہی کے اختیار میں ہے جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے اور وہ (حق کو باطل سے) بہترین (طریقے پر) جدا کرنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
6:58
قُل لَّوۡ أَنَّ عِندِي مَا تَسۡتَعۡجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۗ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِٱلظَّـٰلِمِينَ
تم کہہ دو کہ اگر وہ چیز جس کے بارے میں تمہیں جلدی ہے میرے پاس ہوتی (اور میں تمہاری درخواست پر عمل کرتا تو عذاب الٰہی تم پر نازل ہو جاتا) اور میرا اور تمہارا کام انجام کو پہنچ جاتا اور خدا ظالموں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے۔

بے جا اصرار اور ہٹ دھرمی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیات میں روئے سخن اسی طرح ہٹ دھرم مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہے جیسا کہ اس سورہ کی زیادہ تر آیات اسی بحث کے گرد گھومتی ہے، ان آیات کا لب ولہجہ کچھ اس طرح کا ہے جیسا کہ انھوں نے پیغمبر کو دعوت دی تھی کہ پیغمبر ان کے دین کی طرف جھک جائیں لہٰذا پیغمبر کو حکم ہوتا ہے کہ وہ انھیں صراحت کے ساتھ کہہ دے کہ: مجھے ان کی پرستش سے منع کیا گیا ہے جن کی تم خدا کے علاوہ پرستش کرتے ہو (قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ)( لفظ ”الذین “ کا استعمال جو ذوی العقول جمع مذکر کے لیے ہوتا ہے بتوں کے لیے اس بنا پرہوا، کیوں کہ ان کی فکر کے دریچہ سے ان سے گفتگو کی جاری ہے) ۔ لفظ ”نھیت“ (ممنوع قرار دیا گیا ہوں) جو فعل مجہول کی صورت میں لایا گیا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ بتوں کی پرستش کا ممنوع ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا ۔ اس کے بعد ” کہہ دو اے پیغمبرؐ کہ میں تمھاری ہویٰ وہوس کی پیروی نہیں کرتا“ (قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَہۡوَآءَکُمۡ)، اس جملے کے ذریعہ ان کا مطالبہ کا واضح جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ بت پرستی کوئی منطقی دلیل نہیں رکھتی اور ہرگز عقل وخرد سے مطابقت نہیں رکھتی کیوں کہ عقل اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ انسان جماد سے اشرف ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان دوسری مخلوق کے سامنے یہاں تک کہ ایک پست تر مخلوق کے سامنے سر تعظیم جھکائے، اس کے علاوہ وہ زیادہ تر بت خود انسان کے گھڑے اور بنے ہوئے ہوتے تھے تویہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ چیز کہ جو خود انسان کی مخلوق ہو اس کی معبود اور اس کی حلال مشکلات ہوجائے۔اس بنا پر بت پرستی کا سرچشمہ اندھی تقلید، خرافات اور ہوا پرستی کی پیروی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آخر میں میں مزید تاکید کے لیے ارشاد ہوتا ہے: اگر میں ایسا کام کروں تو یقینا گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوں گا (قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ) ۔ بعد والی آیت میں انھیں ایک اور جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ :میں اپنے پرور دگار کی طرف سے ایک واضح اور روشن دلیل رکھتا ہوں، اگرچہ تم نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کی تکذیب کی ہے قُلۡ اِنِّیۡ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ کَذَّبۡتُمۡ بِہٖ ) ۔ ”بینة“ اصل میں ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جو دو چیزوں کے درمیان اس طرح سے جدائی ڈال دے کہ ان میں کسی طرح سے دوبارہ اتصال اور باہمی تعلق نہ ہوسکے، اس کے بعد روشن اور واضح دلیل کو بھی کہا جانے لگا کیوں کہ وہ حق وباطل کو ایک دوسرے سے جدا کردیتی ہے ۔ فقہی اصطلاح میں اگرچہ ”بینة“ دوعادل افراد کی گواہی کو کہا جاتا ہے لیکن اس کا لغوی معنی کا مل طور پر وسیع ہیں اور دو عادلوں کی گواہی اس کا ایک مصداق ہے، اور اگر معجزات کو ”بینة“ کہا جاتا ہے تو وہ بھی اسی بنا پر ہے کہ وہ حق کو باطل سے جدا کرتے ہیں، اور اگر آیات واحکام الٰہی کو ”بینة“ کہتے ہیں تو وہ بھی اس وسیع مفہوم کے ایک مصداق کے طور پر ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں بھی پیغمبر ؐکویہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا سہارا لیں کہ خدا پرستی کی راہ میں اور بتوں سے جنگ میں میرا مدرک کامل طور سے روشن اور آشکار ہے اور تمھارا انکار اور تکذیب اس کی اہمیت میں کوئی کمی پیدا نہیں کرسکتے ۔ اس کے بعد ان کی بہانہ سازیوں میں سے ایک اور بہانہ جوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ کہتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو وہ عذاب کہ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اسے جلدی لے آؤ، پیغمبرؐ ان کے جواب میں کہتے ہیں: وہ چیز کہ جس کے بارے میں تم جلدی کررہے ہو وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے (مَا عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ)تمام کام اور تمام احکام سب کے سب خدا کے ہاتھ میں ہیں (اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ) ۔ اور بعد میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : وہی ہے کہ جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے اور وہ حق کو باطل سے بہتر طور پر جدا کرنے والا ہے (یَقُصُّ الۡحَقَّ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡفٰصِلِیۡنَ) ۔ ظاہر ہے کہ حق کو باطل سے وہی اچھی طرح جدا کرسکتا ہے کہ جس کا علم سب سے زیادہ ہو اور اس کے لیے حق وباطل کی شناخت کامل طور سے روشن ہو، علاوہ ازایں وہ اپنے علم ودانش کو روبہ عمل لانے کے لیے کافی قدرت بھی رکھتا ہو اور یہ دونوں صفات (علم وقدرت) نامحدود اور بے پایاں طور پر صرف خدا وند تعالیٰ کی ذات پاک کے ساتھ مخصوص ہے، لہٰذا وہ حق کو باطل سے سب سے بہتر طور پر جدا کرنے والا ہے ۔ بعد والی آیت میں پیغمبر ؐکو حکم دیا گیا ہے کہ اس ہٹ دھرم اور نادان گروہ کی جانب سے عذاب وسزا کے مطالبہ پر انھیں کہہ دو کہ وہ چیز جس کے جلدی ہوجانے کا مطالبہ تم اس سے کرتے ہو اگر وہ میرے قبضہ واختیار میں ہوتی اور میں تمھاری درخواست پر عمل کردیتا تو میرا اور تمھارا کام ختم ہوگیا ہوتا قُلۡ لَّوۡ اَنَّ عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ لَقُضِیَ الۡاَمۡرُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ) ۔ لیکن اس غرض سے کہ کہیں وہ یہ خیال نہ کریں کہ ان کی سزا کو بھلا دیا گیا ہے آخر میں قرآن کہتا ہے: خدا وند تعالیٰ ستمگاروں اور ظالموں کو سب سے بہتر طور پر پہچانتا ہے اور موقع پر انھیں سزا دے گا وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِالظّٰلِمِیۡنَ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے گذشتہ قومیں اپنے انبیاء سے یہی درخواست کرتی رہی کہ اگر تم سچے ہو تو پھر اس عذاب کو ،جس کے ہمارے اوپر نازل ہونے کی توقع رکھتے ہو ہماری طرف کیوں نہیں بھیجتے ۔ قوم نوح (علیه السلام) نے بھی ان سے یہی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اے نوح ! تم ہم سے اتنی باتیں کیوں کرتے ہو اور ہم سے کیوں جھگڑتے ہو ،اگر تم سچ کہتے ہو تو وہ عذاب جس سے ہمیں ڈرا رہے ہو اسے جلدی سے لے آؤ ۔ قَالُواْ يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتَنِا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ (ہود ۳۲) ایسا ہی تقاضا قوم صالح(علیه السلام) نے بھی ان سے کیا تھا ۔ (اعراف، ۷۷) ۔ قوم عاد نے بھی اپنے پیغمبر ہود (علیه السلام) سے ایسا ہی تقاضا کیا تھا(اعراف ۷۰) ۔ سورہٴ بنی اسرائیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ درخواست پیغمبر سے بارہا کی گئی یہاں تک کہ انھوں نے یہ کہا کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے مگر اس وقت جب تم چند کاموں میں سے کوئی ایک انجام نہ دو ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم آسمانی پتھر ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر پھینکو (او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا( بنی اسرائیل ۹۲) ۔ یہ نامعقول تقاضے یا تو استہزاء اور تمسخر کے طور پر ہوتے تھے ۔ اور یا سچ مچ طلب اعجاز کے لیے اور دونوں صورتوں میں یہ احمقانہ فعل تھا کیوں کہ دوسری صورت میں ان کی نابودی کا سبب ہوتا لہٰذا معجزہ سے استفادہ کا محل ہی باقی نہ رہتا اور پہلی صوت میں بھی ان واضح دلائل اور نشانیوں کے ہوتے ہوئے کہ جو تمام پیغمبر اپنے ساتھ رکھتے تھے اور جن سے ہر دیکھنے والے کی نگاہ میں کم از کم ان کی صداقت کا احتمال تو پیدا ہوجاتا تھا تو ایسے احتمال کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنی نابودی کا تقاضا کرے یا اس سے مذاق کرے، لیکن تعصب اورہٹ دھرمی ایک ایسی عظیم بلا ہے کہ جو ہر قسم کی فکر ومنطق کے راستے میں حائل ہوجا تی ہے ۔ ۲ ۔ ” إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہِ“ کا جملہ ایک واضح معنی رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر قسم کے فرامین واحکام کا وہ عالم آفرینش وتکوین سے متعلق ہوں یا وہ عالم احکام دین وتشریح سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب خدا کے ہاتھ میں ہیں، اس بنا پر اگرکوئی پیغمبر ان کاموں میں سے کسی کام کو کرکے دیکھتا ہے تو وہ بھی اسی کے فرمان سے کرتا ہے ۔ مثلا اگر حضرت عیسی(علیه السلام) مردہ کو زندہ کرتے ہیں تو بھی اسی کے اذن سے ہے اسی طرح ہر وہ منصب جو کسی کو سپرد ہوا ہے خواہ وہ رہبری الٰہی ہو یا قضاوت وحکمرانی، پروردگار کی طرف سے ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنے واضح اور روشن جملہ سے پوری تاریخ میں بارہا غلط استفادہ کیا گیا ہے ۔ کبھی خوارج نے جنگ صفین میں ”حکمین“ کے تعین کے مسئلہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہ جو خود ان کے اور ان جیسے لوگوں کے تقاضے پر صورت پذیر ہوا تھا اس جملے کا سہارا لیا اور حضرت علی (علیه السلام) کے ارشاد کے مطابق وہ ایک کلمہٴ حق کو ایک باطل معنی میں استعمال کرتے رہے اور رفتہ رفتہ جملہٴ ”لا حکم الا اللّٰہ “ ان کا شعار ہوگیا ۔ وہ اس قدر نادان واحمق تھے کہ خیال کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص خدا کے فرمان اور دستور اسلام کے مطابق بھی کسی موضوع میں حّکٗم مقرر ہوجائے تو وہ ” إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہ“کا مخالف ہے حالانکہ وہ قرآن کو زیادہ پڑھتے تھے لیکن اسے بہت کم سمجھتے تھے کیوں کہ قرآن تو اسلامی خاندانی جھگڑوں کے سلسلے میں بھی عورت اور مرد کی طرف سے حکم کے انتخاب کی تصریح کرتا ہے: فَابْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ( نساء۳۵)۔ کچھ دوسرے لوگوں نے۔ جیسا کہ فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے ۔ اس جملے کو مسلک جبر کی ایک دلیل قرار دیا ہے، کیوں کہ جب ہم یہ قبول کرلیں کہ جہاں آفرینش کے تمام فرمان خدا کے ہاتھ میں ہیں تو پھر تو کوئی اختیار کسی کے لیے باقی ہی نہیں رہتا ۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ بندوں کے ارادہ کی آزادی اور ان کا مختار ہونا بھی پروردگار کے فرمان سے ہے، یہ خدا ہی تو ہے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں مختار اور آزاد ہوںتاکہ ان کے مختار اور آزاد ہونے کی حالت میں ان کے کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالے اور ان کی تربیت ہو ۔ ۳۔ ”یقص“ لغت میں ”قطع کرنے “اور ”کسی چیز کو توڑنے“ کے معنی میں آیا ہے،(قاموس کہتا ہے: قص الشعر والظفر قطع منھما بالمقص ای المقراض “ بالوں اور ناخونوں کو مقارض یعنی قینچی سے کاٹنے کو عرب قص اور مقراض کو مقص (کسر میم وفتح قاف کے ساتھ ) کہتے ہیں ۔ ) اور یہ جو زیر نظر آیت میں ”یقص الحق“(خدا حق کو توڑتا ہے ) یعنی مکمل طور پر اسے باطل سے جدا اور الگ کردیتا ہے، تو اس بنا پر بعد والا جملہ ”وھو خیرالفاصلین“ (وہ بہترین طور پر جدا کرنے والا ہے ) اس امر کی تاکید شمار ہوگا اور اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ ”یقص“ ”قصہ“ سے نہیں کہ جس کا معنی سرگذشت اور داستان بیان کرنا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نےخیال کیا ہے۔

59
6:59
۞وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ
غیب کی چابیاں صرف اسی کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اسے نہیں جانتا اور خشکی اور دریا میں جو کچھ ہے وہ اسے جانتا ہے کوئی پتا (کسی درخت سے) نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ اس سے آگاہ ہے اور نہ زمین کی پوشیدہ و تاریک جگہوں میں کوئی دانہ ہے اور نہ ہی کوئی خشک و تر چیز و جود رکھتی ہے مگر یہ کہ وہ واضح کتاب (کتاب علم خدا) میں ثبت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
6:60
وَهُوَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبۡعَثُكُمۡ فِيهِ لِيُقۡضَىٰٓ أَجَلٞ مُّسَمّٗىۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
وہی وہ ذات ہے کہ جو تمہاری روح کو رات کے وقت (نیند میں ) لے لیتا ہے اور جو کچھ تم نے دن میں کسب کیا (انجام دیا) ہے اس سے با خبر ہے پھر وہ دن میں (نیند سے) تمہیں اٹھاتا ہے (یہ کیفیت ہمیشہ جاری رہتی ہے) یہاں تک کہ معین گھڑی آ پہنچے اس کے بعد تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہو گی اور جو کچھ عمل تم کرتے ہو وہ اس کی تمہیں خبر دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
6:61
وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ
وہ اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے اور تمہارے اوپر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو موت کا وقت آ پہنچے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی جان لے لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
6:62
ثُمَّ رُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۚ أَلَا لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ
اس کے بعد (تمام بندے) خدا کی طرف جو ان کا مولائے حقیقی ہے پلٹ جائیں گے جان لو کہ حکم کرنا اسی کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ہے۔

اسرار غیب

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں گفتگو خدا کے علم وقدرت اور اس کے حکم وفرماں کے دائرے کی وسعت کے بارے میں تھی اب ان آیات میں اس بیان کی گذشتہ آیات میں اجمالا ذکر ہوا تھا وضاحت کی کی جارہی ہے ۔ سب سے پہلے علم خدا کے موضوع کو لیتے ہوئے کہتا ہے: ”غیب کے خزانے(یا غیب کی چابیاں) سب کی سب خدا کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی انھیں نہیں جانتا(وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الۡغَیۡبِ لَا یَعۡلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ) ۔ ”مفاتح“ جمع ”مفتح“ (بروزن بہتر“چابی کے معنی میں ہے او یہ بھی ممکن ہے کہ جمع ”مفتح“ (بروزن دفتر) خزانہ اور کسی چیز کی حفاظت کے مرکز کے معنی میں ہو ۔ پہلی صورت میں آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ تمام غیب کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اور دوسری صورت میں معنی یہ ہو گا کہ غیب کے تمام خزانے اسے کے قبضے میں ہیں ۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ دونوں ہی معانی ایک عبارت میں مراد ہوں اور جیسا کہ ہم علم اصول میں ثابت کرچکے ہیں کہ ایک لفظ کا استعمال چند معانی میں کوئی مانع نہیں رکھتا اور دونوں صورتوں میں یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم وملزوم ہیں، کیوں کہ جہاں کہیں خزانہ ہے وہاں چابی بھی موجود ہے ۔ لیکن زیادہ تر یہی نظر میں آتا ہے کہ ”مفاتح“چابیوں کے معنی میں ہے نہ کہ خزائن کے معنی میں، کیوں کہ مقصد وہدف یہاں علم خدا کو بیان کرنا ہے اور وہ چابی کے مسئلہ کے ساتھ ۔جو مختلف ذخائر سے آگاہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ دو اور مواقع پر جہان قرآن میں لفظ ”مفاتح“ استعمال ہوا ہے، وہاں بھی چابی ہی مراد ہے (ما ان مفاتحہ لتنوء بالعصبة اولی القوة ۔ (قصص ۷۶)، اٴوما ملکتم مفاتحہ(نور ۶۱)) ۔ اس کے بعد مزید توضیح وتاکید کے لیے کہتا ہے: جو کچھ بر وبحر میں ہے خدا اسے جانتا ہے (وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ) ۔ ”بر“ وسیع مکان کے معنی میں ہے اور عام طور پر خشک علاقوں کو ”بر“ کہا جاتا ہے اور ”بحر“ بھی اصل میں وسیع جگہ کے معنی میں ہے کہ جس میں زیاد پانی جمع ہو اور عام طور پر یہ لفظ سمندروں پر اور کبھی بڑے بڑے دریاؤں پر بھی بولا جاتا ہے ۔ بہر حال خدا ان کی ان چیزوں سے آگاہی کہ جو خشکیوں اور سمندروں میں ہے اس کے علم کے تمام چیزوں پر احاطے کے معنی میں ہے اور اس جملہ کے معنی کی وسعت کی طرف توجہ سے (جو کچھ خشکیوں اور سمندروں میں ہے خدا اسے جانتا ہے) حقیقت میں اس کے وسیع علم کا ایک گوشہ واضح ہوتا ہے ۔ یعنی وہ سمندروں کی گہرائیوں میں چھوٹے اور بڑے اربوں زندہ موجودات کی جنبش سے ۔ اور تمام جنگلوں اور پہاڑوں میں درختوں کے پتوں کے ہلنے سے ۔ اورہر غنچہ کے چٹخنے اور ہر پھول کے کھلنے کی قطعی تاریخ سے ۔ اور بیابانو ں میں نسیم کی موجوں کے چلنے اور دروں کی خمیدگی سے ۔ اور ہر انسان کے بدن کی رگوں کی صحیح گنتی اورخون کے گلوبیولز(GLOBULES)سے ۔ اور ایٹم کے اندر تمام الیکٹرانوں (ELECTROLS)کی مخفی حرکتوں سے ۔ اور آخر یہ کہ تمام افکار وتخیلات جو ہمارے دماغوں کے اندر سے گزرتے ہیں ۔ اور ہماری روح کی گہرایوں ----ہاں ہاں وہ ان سب سے یکساں طور پر باخبر ہے ۔ پھر بعد والے جملے میں خدا کے علمی احاطہ تاکید کے لیے اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:کوئی پتہ درخت سے جدا نہیں ہوتا مگر یہ کہ وہ اسے جانتا ہے وَ مَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعۡلَمُہَا) ۔ یعنی ان پتوں کے تعداد اور شاخوں سے ان کے جدا ہونے کا وقت ، ہوا کے درمیان ان کی گردش،اور ان کے زمین پر آگرنے کا لمحہ۔ یہ سب امور اس کے علم کے سامنے واضح اور روشن ہے اسی طرح کوئی دانہ زمین کی کسی پوشیدہ جگہ میں نہیں ٹھہرتا مگر یہ کہ وہ اس کی تمام خصوصیات کو جاجنتا ہے (وَ لَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ) ۔ در حقیقت ( اس آیت میں ) دو حساس نقطوں پر انگشت رکھی گئی ہے، کہ جن کا احاطہ کرنا کسی بھی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے،خواہ ہزاروں سال اس کی عمر کے گزر جائیں اور خواہ وہ کتنی بھی صنعتی مہارت اور حیرت انگیز ارتقائی منزلیں کیوں نہ طے کرلے۔ ایسا کونسا انسان ہے جو یہ جانتا ہو کہ ہوائیں ہر شب وروز میں تمام کرہٴ زمین پر کتنی قسم کے گھاس پھوس کے بیچ ان کے پودوں سے جدا کرکے کہاں کہاں بکھر رہی ہے، ایسے ایسے بیج جو بعض اوقات ممکن ہے کہ سالہا سال تک زمین کی گہرائیوں میں اس وقت تک چھپے ہوئے پڑے رہیں جب کہ ان کی نشو نما کے لیے کافی مقدار میں پانی حاصل نہ ہوجائے ۔ ایسا کونساانسان ہے جو یہ جانتا ہو کہ ہر لمحے کیڑے مکوڑوں کے ذریعے یا انسانوں کے وسیلہ سے، کتنے دانے اور کس کس قسم کے بیج، اور زمین کے کن کن نقاط میں، بکھیرے جارہے ہیں ۔ کونسا برقی دماغ ہے وہ جو جنگلوں کے درختوں کی شاخوں سے ہر روز جھڑنے والے پتوں کی تعداد کا شمار کرسکے کسی ایک جنگل کے منظر کی طرف نگاہ کرتے ہوئے، خاص طور پر موسم خزاں میں اور خصوصا مسلسل بارش یا تیز ہوا کے بعد،اور اس عجیب وغریب منظر کو دیکھتے ہوئے کہ جو پتوں کے پے درپے گرنے سے پیدا ہوتا ہے ، یہ حقیقت اچھی طرح ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ بات ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے کہ اس قسم کے علوم تک انسان کی دسترس ہوسکے ۔ حقیقتا پتوں کا گرنا ان کی مو ت کا وقت ہے اور تاریک زمینوں میں دانوں کا کا گرنا، ان کی حیات وزندگی کی طرف پہلا قدم ہے اور صرف اسی کی ذات ہے کہ جو اس موت وزندگی کے نظام سے خبر ہے۔یہاں تک کہ ایک دانہ اپنی کامل زندگی اور پھوٹنے کی طرف جو مختلف قدم اٹھاتا ہے، وہ ہر لمحہ اور ہر گھڑی اس کے علم کی بارگاہ میں واضح وآشکار ہے ۔ اس امر کے بیان کا ایک اثر فلسفی ہے اور اثر تربیتی، اس کا فلسفی اثر تو یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کے خیال کی کہ جو خدا کے علم کو کلیات میں منحصر سمجھتے ہیں اور ان کاعقیدہ یہ ہے کہ خدا اس جہان کے جزئیات سے آگاہ نہیں ہے، نفی کرتا ہے اور صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا تمام کلیات وجزئیات سے مکمل آگاہی رکھتا ہے(مزید وضاحت کے لیے کتاب” خدا را چگونہ بشاسیم“ کی طرف رجوع کریں ۔) ۔ باقی رہا اس کا تربیتی اثر تو وہ واضح ہے، کیوں کہ اس وسیع وبے پایاں علم پر ایمان رکھنا انسان سے یہ کہتا ہے کہ تیرے وجود کے تمام اسرار، اعمال، گفتار، نیات، اور افکار سب کے سب اس کی ذات پاک کے لیے واضح وآشکار ہے، اس قسم کے ایمان کے ساتھ کس طرح ممکن ہے کہ انسان اپنے حالات پر نگاہ نہ رکھے اور اپنے اعمال، گفتار اور نیات پر کنٹرول نہ کرے ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے:کوئی خشک و تر نہیں ہے مگر یہ کہ وہ کتاب مبین میں ثبت ہے (وَ لَا رَطۡبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ) ۔ یہ جملہ ایک مختصر سی عبادت کے ساتھ تمام موجودات کے لیے خدا کے غیر متناہی علم کی وسعت کو بیان کرتا ہے اور کوئی چیز اس سے مستثنی نہیں ہوگی کیوں کہ ”تر“ اور ”خشک“ سے مراد ان کا لغوی معنی نہیں ہے بلکہ یہ تعبیر معمولا عمومیت کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ کتاب مبین کے بارے میں مفسرین نے مختلف احتمال پیش کیے ہیں ۔لیکن ان میں جو بات زیادہ صحیح دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ کتاب مبین سے مراد وہی مقام علم پروردگار ہے یعنی تمام موجودات اس کے بے پایاں علم میں ثبت ہے اور اس کی لوح محفوظ سے تعبیر کرنا بھی اسی معنی کے مطابق قرار دینے کے قابل ہے کیوں کہ یہ بات بعید نہیں ہے کہ لوح محفوظ سے مراد وہی صفحہ علم خدا ہو۔ کتاب مبین کے معنی میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ علم خلقت اور سلسلہ علت ومعلول ہو کہ جو تمام چیزیں اس میں لکھ دی گئی ہیں ۔ بہت سی روایات میں میں جو اہلبیت علیہم السلام کے طرق سے پہنچی ہیں ان میں ”ورقة “ سقط شدہ جنین کے معنی میں، ”حبہ“ فرزند کے معنی میں ”ظلمات الارض “ ماؤں کے رحم کے معنی میں اور ”رطب“ ان نطفوں کے معنی میں جو زندہ رہتے ہیں اور ”یابس“ ان کے معنی میں جو ختم ہوجاتے ہیں تفسیر ہوئی ہے (تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۵۲۸) ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تفسیر ان الفاظ کے لغوی معنی جمود کی صورت میں تو تطبیق نہیں کرتی کیوں کہ” ورقہ“ کامعنی ہے پتہ ” حبہ“ کا معنی ہے دانہ اور ”ظلمات الارض “ کا معنی ہے زمین کی تاریکیاں اور ”رطب“ کا معنی تر اور”یابس “ کا معنی ہے خشک، لیکن آئمہ اہل بیت علیہم السلام نے حقیقت میں اس تفسیر سے مسلمانوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہا ہے کہ انھیں آیات قرآن میں ایک وسیع اور کشادہ نگاہ کے ساتھ غور کرنا چاہئے اور ان کے معانی سمجھنے میں صرف لفظ پر جمود نہ کریں بلکہ جہاں قرائن معنی کی وسعت پر دلالت کرتے ہوں تو وسعت معنی کی طرف نگاہ رکھیں ۔ اوپر والی روایت میں حقیقت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اوپر والی آیت کا مفہوم صرف گھاس پھوس کے دانوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ انسانی نطفوں کے بیج تک اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔ بعد والی آیت میں اعمال انسانی پر علم خدا کے احاطہ کی بحث کی گئی ہے کہ جو اس کا ہدف اصلی ہے اور خدا کی قدرت قاہرہ کو بھی مشخص کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس مجموعی بحث سے ضروری تربیتی نتائج حاصل کر سکیں ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسی ذات ہے کہ جو تمھاری روح کو رات کے وقت قبض کرلیتی ہے اور جوو کچھ تم دن میں انجام دیتے ہو اور کمائی کرتے ہیں اس سے آگاہ ہے (وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ) ۔ ”توفی“ لغت میں واپس لے لینے کے معنی میں ہے اور اور یہ جو نیند کو ایک طرح سے روح کو واپس لے لینا کہا گیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ نیند۔جیسا کہ معروف ہے ۔ موت کی بہن ہے، موت انسانی دماغ کے کارخانہ کا مکمل طور سے معطل ہوجانا ہے اور روح وجسم کے تعلق کامطلقا منقطع ہوجانا ہے ، جب کہ نیند صرف دماغی کارخانہ کے ایک حصہ کا تعطل ہے اور اس تعلق کا ضعیف ہوجا نا اس بنا پر نیند موت کا ایک چھوٹا مرحلہ شمار ہوتی ہے(تفسیر نمونہ کی جلد ۲ صفحہ ۳۴۱ پر بھی اس سلسلہ میں گفتگو کرچکے ہیں) ۔ ” جرحتم“ ”جرح“ کے مادہ سے ہے یہاں اکتساب اور کسی چیز کا حاصل کرنے معنی میں ہے یعنی تم رات دن خدا کے علم قدرت کے سائے میں رہتے ہو ، وہ ذات کہ جو مٹی کے اندر نباتات کے دانوں کی پرورش اور ہر زمان ومکان میں پتوں کے گرنے اور ان کی موت سے آگاہ ہے. وہ تمھارے اعمال سے بھی آگاہ ہے ۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ یہ نیند اور بیداری کا نظام بار بار دہرایا جارہا ہے رات کو تم سوجاتے ہو اور دن تمھیں بیدار کردیتا ہے ، اور یہ حالت اسی طرح سے جاری رہتی ہے یہاں تک کہ زندگی کے آخری لمحات آجاتے ہیں ثُمَّ یَبۡعَثُکُمۡ فِیۡہِ لِیُقۡضٰۤی اَجَلٌ مُّسَمًّی) ۔ (۔ فیھا “ کی ضمیر ”نھار “ کی طرف لوٹتی ہے اور ”بعث“ بھی یہاں نیند سے اٹھنے اور بیدار ہونے کے معنی میں ہے اور ”اجل مسمیٰ“ سے مراد وہ عمر ہے جو کسی شخص کے لیے مقرر ہے ۔) بلا آخر بحث کے آخری نتیجہ کو یوں بیان کیا گیا ہے : پھر سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے، اور وہ تمھیں اس سے جو تم انجام دے چکے ہو آگاہ کرے گا( ثُمَّ اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡن) ۔ (بعد والی آیت میں دوبارہ بندوں کے اعمال کی نسبت خدا کے علمی احاطے کی مزید وضاحت اور قیامت کے دن ان کے حساب کی انتہائی دقیق نگہداشت کے بارے میں قرآن کہتا ہے:وہ اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے اور وہی ہے جو تمھارے لیے محافظ ونگہبان بھیجتا ہے تاکہ وہ تمہارے اعمال کا حساب انتہائی احتیاط کے ساتھ محفوظ کریں (وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً) ۔ جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ ”قاہریت“ کسی چیز پر ایسے غلبہ اور تسلط کامل کے معنی میں ہے کہ جس میں مدمقابل میں ٹھہرنے کی طاقت وسکت ہی نہ ہو اور بعض کے نظریہ کے مطابق یہ لفظ عام طور پر ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جس میں مد مقابل عقل رکھتا ہو جب کہ لفظ غلبہ ان دونوں باتوں میں سے کوئی سی خصوصیت نہیں رکھتا ، بلکہ اس کامعنی کامل طور سے وسیع ہے ۔ ”حفظة“ ”حافظ“ کی جمع ہے اور یہاں ان فرشتوں کے معنی میں ہے کہ جوانسانوں کے اعمال کی حفاظت پر مامور ہیں جیسا کہ سورہٴ انفطار کی آیہ ۱۰تا ۱۲میں ہے: ان علیکم لحافظین کراما کاتبین یعلمون ما تفعلون تمھارے اوپر نگہبانی کرنے والے محافظ (فرشتے) متعین کردئے گئے ہیں دو محترم ومکرم لکھنے والے ہیں جو تمھارے ہر کام سے آگاہ ہیں ۔ بعض مفسرین کانظریہ ہے کہ وہ اعمال انسانی کے محافظ نہیں ہیں بلکہ ان کی ڈیوٹی خود انسان کی اجل معین تک حوادث بلایا سے حفاظت کرنا ہے اور وہ ”حتی اذا جاء احدکم الموت “ کو کہ جو ”حفظة“ کے بعد ذکر ہوا ہے اس کا قرینہ سمجھتے ہیں اور سورہٴ رعد کی آیہ ۱۱ کو بھی ممکن ہے اس بات پر شاہد قرار دیں( بحوالہ تفسیر المیزان جلد ۷ صفحہ ۱۳۴)) ۔ لیکن پوری زیر بحث آیت پر غور فکر کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی کہ ”حفظة“ سے مراد یہاں وہی حفظ اعمال ہیں، باقی رہے وہ فرشتے جو انسانوں کی حفاظت پر مامور ہیں ان کے بارے میں انشاء اللہ سورہٴ رعد کی تفسیر میں بحث کریں گے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس حساب کی نگہداری زندگی کے ختم ہونے کے آخری لمحے اور موت کے آجانے تک جاری ہے (حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ) ۔ اس وقت ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جو قبض ارواح پر مامور ہیں اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں (تَوَفَّتۡہُ رُسُلُنَا) ۔ (قبض ارواح اور آدمی کی جان کے لینے کے بارے میں تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد صفحہ ۸۳ کی طرف رجوع کریں ۔ آخر میں مزید کہتا ہے کہ یہ فرشتے کسی طرح بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی ، قصور اور تفریط نہیں کرتے نہ روح کے لینے کے لمحہ کو مقدم کرتے ہیں اور نہ موخر (وَ ہُمۡ لَا یُفَرِّطُوۡنَ) یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہ صفت انسانوں کے اعماک ے حسا کی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے مربوط ہو کہ وہ اعمال کے حساب کی نگرانی وحفاظت میں کم سے کم کوتاہی اور قصور نہیں کرتے اور زیر بحث آیت میں گفتگو کامدار بھی اسی حصہ پر ہے ۔ بعد والی آیت میں انسان کے آخری مرحلہ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : افراد بشر اپنے دوران زندگی کو ختم کرنے کے بعد اپنے ان اعمال ناموں کے ساتھ کہ جن میں پوری تنظیم کے ساتھ سب کچھ ثبت و ضبط ہوگا قیامت کے دن اپنے اس پروردگار کی طرف جو ان کا حقیقی مولا ہے پلٹ جائیں گے (ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ ) ۔ اور اس کی عدالت میں انصاف کرنا، حکم دینا اور فیصلہ کرنا خدا کی پاک ذات کے ساتھ مخصوص ہے(اَلَا لَہُ الۡحُکۡمُ)، اور افراد بشر اپنی پر شور طولانی تاریخ میں میں جو جو عمل کرتے رہے اور ان کے جو اعمال نامے تھے ان کا بڑی تیزی کے ساتھ حساب کرے گا وَ ہُوَ اَسۡرَعُ الۡحٰسِبِیۡنَ) ۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں ہے کہ : انہ سبحانہ یحاسب جمیع عبادہ مقدار حلب شاة خدا وند تعالیٰ اپنے تمام بندوں کا حساب اتنے تھوڑے سے وقت میں لے لے گا جتنے وقت میں ایک بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے ۔ (بحوالہ مجمع البیان، جلد۳ صفحہ ۳۱۳۔) جیسا کہ ہم سورہٴ بقرہ کی آیہ ۲۰۲کی تفسیر یں بیان کرچکے ہیں بندوں کا حساب اتنی تیزی کے ساتھ لیا جائے گا کہ لمحہ بھر یں ان سب کا تمام حساب کر لیا جائے گا اور ایک بکری کے دودھ دوہنے کے وقت کا بیان اور اوپر والی روایت کم سے کم وقت کی نشادہی کے لیے ہے اور اسی ایک دوسری روایت میں ہے ان اللّٰہ تعالیٰ یحیحاسب الخلائق کلھم فی مقدار لمح البصر ۔ ( بحوالہ تفسیر مجمع البیان، جلد۱و جلد ۲ ،صفحہ ۲۹۸) خدا وند تعالیٰ تمام بندوں کا حساب ایک لحظہ میں کرے گا ۔ اور اس کی دلیل وہی ہے جو اوپر والی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے اور وہ یہ کہ انسان کے اعمال خواہ اس کے وجود میں اور اس کے اطراف کے موجودات میں اپنا اثر چھوڑتے ہیں، یعنی وہ بالکل ان مشینوں کی طرح ہیں کہ جو اپنی حرکت کی مقدار اور اپنی کارکردگی کو نمبروں والے آلات میں ظاہر کر دیتے ہیں زیادہ واضح الفاظ میں( یوں کہا جاسکتا ہے) اگر اایسے دقیق آلات موجود ہوں تو انسان کی آنکھ ایسی خیانت آمیز نظروں کی تعداد کو جو اس نے کی ، پڑھا جاسکتا ہے اور اانسان کی زبان پر آئے ہوئے جھوٹ، تہمتوں، زبان کے زخموں او غلط باتوں کی تعداد کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، خلاصہ یہ کہ انسان کی روح کے علاوہ اس کے بدن کا ہر عضو خود اپنے اندر اعداد وشمار بتلانے والے اور حساب وکتاب ظاہر کرنے والے آلات رکھتا ہے کہ ایک ہی لمحہ میں اس کا سارا حساب وکتاب معلوم ہوجائے گا ۔ اب اگر ہم کچھ روایات میں یہ پڑھتے ہیں کہ زیادہ فرائض رکھنے والے اور بہت زیادہ مال ودولت کے مالک افرادکا حساب اس دن بہت طولانی ہوگا تو وہ حقیقت میں اس بنا پر نہیں ہے کہ ان کے اصل حساب تک رسائی نہیں ہوئی ہے، بلکہ وہ اس بنا پر ہے کہ ان کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ ان سوالات کا جو ان کے اعمال کی نسبت ہو ں گے جواب دیں، یعنی جوابدہی کے بوجھ کی سنگینی اور جواب دینے کا لازمی وضروری ہونا اور اتمام حجت ان کی پیشی کے وقت کو طولانی کردے گا ۔ یہ آیات بندگان خدا کے لیے مکمل تربیتی درس ہے، خدا کا اس جہان کے کے چھوٹے چھوٹے ذرات سے آگاہ ہونا تمام چیزوں پر اس کا احاطہ علمی، بندوں کی نسبت اس کی قدرت قہاریت اس کا تمام اعمال بشر سے مطلع ہونا، باریک بین لکھنے والوں کے ذریعہ حساب اعمال کی نگہداری وحفاظت، وقت مقرر پر اس کی جان کا لینا، قیامت کے دن اس کا اٹھایاجانا اور پھر اس انسان کے تمام کاموں کی دقت نظر اور سرعت کے ساتھ جانچ پڑتال۔ کون ہے کہ جو ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتا ہو اور پھر اپنے اعمال پر نظر نہ رکھے؟بے حساب ظلم ستم کرے، بلا وجہ جھوٹ بولے اور دوسرے پر زیادتی کرے ، کیا یہ اعمال مذکورہ اصول پر ایمان، اعتقاد اور توجہ کے ساتھ کبھی جمع ہوسکتے ہیں؟ ۔

63
6:63
قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
کہہ دو کہ کون ہے وہ کہ جو تمہیں خشکی اور سمندروں کی تاریکیوں سے رہائی دیتا ہے جب کہ تم اسے آشکار اور پوشیدہ طور پر (دل ہی دل میں ) پکارتے ہو (اور کہتے ہو کہ) اگر تو نے ہمیں ان خطرات اور تاریکیوں سے رہائی بخش دی تو ہم شکر گزاروں میں سے ہو جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
6:64
قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنۡهَا وَمِن كُلِّ كَرۡبٖ ثُمَّ أَنتُمۡ تُشۡرِكُونَ
کہہ دو کہ خدا تمہیں ان چیزوں سے اور ہر مشکل و پریشانی سے نجات بخشتا ہے۔

وہ نور جو تاریکی میں چمکتا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

دوبارہ قرآن مشرکین کا ہاتھ پکڑ کر ان کی فطرت کے اندر لے جاتا ہے، اور اس اسرار آمیز نہاں خانہ میں انھیں توحید کے نور اور یکتا پرستی کی نشاندہی کراتا ہے اور پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ وہ انھیں اس طرح کہیں:کون ہے وہ کہ جو تمھیں بر وبحر کی تارکیوں سے نجات دیتا ہے (قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ) ۔ اس بات کی یاددہانی کرادینا بھی ضروری ہے کہ ظلمت وتاریکی کبھی تو جنبہٴ حسی رکھتی ہے اور کبھی جنبہٴ معنوی، ظلمت حسی یہ ہے کہ نور کلی طور پر منقطع ہوجائے یا اس قدر کمزور ہوجائے کہ انسان کسی جگہ کو نہ دیکھ سکے یا مشکل سے دیکھ سکے اور ظلمت معنوی مشکلات ،مصیبتیں اور پریشانیاں ہیں کہ جن کا انجام تاریک ونامعلوم ہے۔جہالت تاریکی ہے، اجتماعی واقتصادی ہرج مرج اور فکری بے سروسایبانیاں، انحراف اور اخلاقی آلودگیاں کہ جن کے برے انجام پیش بینی کے قابل نہیں ہیں یا وہ چیز کہ جو بدبختی اور پریشانی کے سواکچھ نہ ہو، یہ سب کی سب ظلمت ہیں۔ ظلمت وتاریکی اپنی ذات سے ہولناک اور توہم انگیز ہیں کیوں کہ بہت سے خطرناک جانوروں ، چوروں اورمجرموں کا حملہ رات کی تاریکی میں ہی ہوتا ہے اور ہر شخص کو اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی خطرہ درپیش رہتا ہے، لہٰذا تاریکی میں پھنس جانے کی صور ت میں اوہام وخیالات انسان کی جان لے لیتے ہیں۔خیالات کے مختلف زاویوں سے مختلف صورتیں اور وحشتناک شکلیں نکل نکل کر بھاگنے لگتی ہیں اور عام افراد کو خوف و ہراس میں پھنسادیتی ہیں ۔ ظلمت وتاریکی عدم کا شعبہ ہے اور انسان ذاتی طور پر عدم سے بھاگتا ہے اور وحشت رکھتا ہے، اسی سبب سے وہ عام طور سے تاریکی سے ڈرتا ہے۔ اگر یہ تاریکی واقعی وحشتناک حوادث سے مل جائے،مثلا انسان ایک ایس سمندری سفر میں پھنس جائے جس میں اندھیری رات، موجوں کا خوف ہو اور طوفان آیا ہوا ہو، تو اس کی وحشت وپریشانی ان مشکلات سے کئی درجے زیادہ ہوگی جو دن کے وقت ظاہرہوں، کیوں کہ عام طور سے ایسے حالات میں انسان کے لیے چھٹکارے کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں ۔ اسی طرح اگر اندھیری رات میں کسی جنگل بیابان میں انسان راستہ بھول جائے اور درندوں کی وحشتناک آوازیں، جو رات کے وقت اپنے شکار کی تلاش میں ہوتے ہیں دور اور نزدیک سے سنائی دے رہی ہوں، یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جس میں انسان سب کچھ بھول جاتا ہے اور خود اپنے اور اس تابناک نور کے سوا جو اس کی روح کی گہرائی میں چمکتا ہے اور اسے ایک مبدا کی طرف بلاتا ہے کہ صرف وہی ہے کہ جو اس قسم کی مشکلات کو حل کرسکتا ہے، باقی اسے کچھ یاد نہیں رہتا اس قسم کے حالات جہان توحید وخدا شناسائی کا دریچہ ہے، اسی لیے بعد کے جملے میں ارشاد ہوتا ہے: اس قسم کی حالت میں تم اس کے لامتناہی لطف وکرم سے مدد طلب کرتے ہو، بعض اوقات آشکار خضوع وخشوع کے ساتھ اور کبھی پوشیدہ طریقے سے دل ہی دل کے اندر اسے پکارتے ہو(تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ) ۔ اور ایسی حالت میں تم فورا اس عظیم مبداٴ کے ساتھ عہد وپیمان باندھتے ہو کہ اگر ہم اس خطرے سے نجات دے دے تو ہم یقینا اس کی نعمتوں کا شکر اداکریں گے اور اس کے سوا کسی اور سے دل نہیں لگائیں گے(لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ)۔ لیکن اے پیغمبرؐ! تم ان سے کہہ دو کہ خدا تمھیں ان تاریکیوں سے اور ہر قسم کے دوسرے غم واندوہ سے نجات دےتا ہے(اور بارہا تمھیں نجات دی ہے) لیکن تم رہائی پانے کے بعد اسی شرک وکفر کے راستے پر چل پڑتے ہو (قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡہَا وَ مِنۡ کُلِّ کَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ)

چند اہم نکات

۱۔ ”تضرع“ کا ذکر جو دعائے آشکار کے معنی میں ہے اور ”خفیة“ کا تذکرہ جو کہ پنہانی دعا ہے شاید اس سبب سے ہو کہ مشکلات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، بعض اوقات شدت کے مرحلہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے انسان کو پنہانی دعا کی دعوت دیتی ہے اور بعض اوقات وہ شدید مرحلہ تک پہنچ جاتی ہے تو علی الاعلان دست دعا بلند کرتا ہے اور بعض اوقات نالہ وفریاد کی نوبت آجاتی ہے، مقصد یہ ہے کہ خدا تمھاری شدید مشکلات کو بھی حل کرتا ہے اور ضعیف مشکلات کو بھی۔ ۲۔ بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کی چار نفسیاتی حالتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جن میں سے ہر ایک مشکلات کے ظہور کے وقت ایک قسم کا عکس العمل ہے حالت دعا ونیاز ،حالت تضرع وخضوع، حالت اخلاص اور مشکلات سے نجات حاصل ہوتے وقت شکر گزاری کے التزام کی حالت۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے بہت سوں کے لیے قیمتی حالات بجلی کی طرح جلدی سے گزرجانے والے اور شدائد ومشکلات کے مقابلے میں تقریبا اضطراری شکل میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن چوں کہ ان میں علم و آگاہی نہیں ہوتی لہٰذا شدائد ومشکلات کے برطرف ہوتے ہی خاموشی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں ۔ اس بنا پر یہ حالات اگر چہ زود گزرہی ہوں پھر بھی دور افتادہ افراد کے لیے خدا شناسی کے سلسلے میں دلیل بن سکتے ہیں ۔ ۳۔ ”کرب“ (بروزن حرب) در اصل زمین کو نیچے اوپر کرنے اور کھودنے کے معنی میں ہے، نیز وہ محکم گرہ جو کنویں کے ڈول کی طناب میں لگائی جاتی ہے، کے معنی میں بھی آتا ہے، اس کے بعد وہ غم واندو ہ جو انسان کے دل کو زیر وزبرکرتے ہیں اور جو گرہ کی طرح انسان کے دل پر بیٹھ جاتے ہیں کے لیے بھی بولا جانے لگا ۔ اس بنا پر اوپر والی آیت میں لفظ”کرب“ جو ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور ہر قسم کی بڑی سے بڑی مشکلات پر محیط ہے یہ ”بر وبحر کی تاریکیوں“ کا ذکر کرنے کے بعد کہ جو شدائد کے ایک خاص حصہ کا کہا جاتا ہے، ایک خاص مفہوم بیان کرنے کے بعد ایک عام مفہوم کے طور پر آیا ہے(غور کیجئے گا) ۔ یہاں پر وہ حدیث بیان کرنا کہ جو اس آیت کے ذیل میں بعض اسلامی تفاسیر میں نقل ہوئی ہے نامناسب نہ ہوگا، پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم سے نقل ہواہے کہ آپ نے فرمایا: خیر الدعاء الخفی وخیر الرزق ما یکفی بہترین دعا وہ ہے کہ جو پنہانی (اور انتہائی خلوص کے ساتھ) صورت پذیر ہو اور بہترین روزی وہ ہے کہ جو بقدر کفایت ہو (نہ کہ اسی ثروت اندوزی کہ جو دوسروں کی محرومیت کا سبب بنے اور انسان کے کندھے پر ایک سنگین بوجھ ہو) ۔ اور اسی حدیث کے ذیل میں ہے : مر بقوم رفعوا اصواتھم بالدعا فقال انکم لاتدعون الاصم ولا غائبا وانما تدعون سمیعا قریبا ۔ (۱) پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم ایک گروہ کے قریب سے گزرے وہ لوگ بلند آواز سے دعا کررہے تھے تو آپ نے فرمایا: تم کسی بہرے کو تو نہیں پکار ہے اور نہ ہی کسی ایسے شخص کو پکاررہے ہو کہ جو تم سے پوشیدہ اور دور ہو بلکہ تم تو ایک ایسی ہستی کو پکاررہے ہو کہ جو سننے والا بھی ہے اور قریب بھی ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دعا آہستہ آہستہ اور توجہ اور اخلاص کے ساتھ کی جائے تو بہتر ہے ۔۔

65
6:65
قُلۡ هُوَ ٱلۡقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَيُذِيقَ بَعۡضَكُم بَأۡسَ بَعۡضٍۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُونَ
تم کہہ دو کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی عذاب یا تو اوپر کی طرف سے تم پر نازل کر دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے کی طرف سے بھیج دے یا تمہیں مختلف گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ بھڑا دے اور جنگ (و ناراحتی) کا ذائقہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے ذریعے چکھا دے۔ دیکھو! ہم طرح طرح کی آیات کو کس طرح ان کے لئے واضح کرتے ہیں۔شاید کہ وہ سمجھ لیں۔

رنگ رنگ کے عذاب

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں توحید فطری کے بیان کے ضمن میں در حقیقت بندوں کے ساتھ ایک قسم کی تشویق اور اظہار محبت ہوا تھا کہ خدا وند تعالیٰ شدائد ومشکلات کے وقت انھیں کس طرح اپنی پناہ میں لے لیتا ہے اور ان کی خواہشات کو پورا کرتا ہے ۔ اس آیت میں تربیت کے مختلف طرق کی تکمیل کے لیے خدائی عذاب اور سزا سے ڈرانے کے مسئلہ کا سہارا لیا گیا ہے یعنی جس طرح کہ خدا الرحمن الرحیم اور بے سہارا لوگوں کو پناہ دینے والا ہے، اسی طرح طغیانگروں اور سرکشوں کے مقابلے میں قہار ومنتقم بھی ہے، اس آیت میں پیغمبرؐ کو حکم دیا جارہا ہے کہ مجرموں کو تین قسم کی سزاؤں کی دھمکی دو،اوپر کی طرف کے عذابوں کی، نیچے کے طرف کے عذابوں کی اور باہمی اختلاف کے ذریعے جنگ کی آگ کے بھڑک اٹھنے اور خونریزی کی سزائیں، لہٰذا فرمایا گیا کہ :کہہ دو کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی عذاب یا تو اوپر کی طرف سے تم پر نازل کرے یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے بھیج دے(قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلَی اٴَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اٴَوْ مِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِکُمْ) ۔ یا تمھیں مختلف گروہ کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ بھڑا دے اور جنگ وخونریزی کا ذائقہ تم سے ہر ایک کو دوسرے کے ذریعے چکھا دے (اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّ یُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ) ۔ اور آیت کے آخر میں قرآن مزید کہتا ہے :دیکھو! ہم طرح طرح کی نشانیوں اور دالائل کو کس طرح ان کے لیے بیان کرتے ہیں شاید وہ سمجھ جائیں اور حق کی طرف لوٹ آئیں(اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَفۡقَہُوۡنَ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ اس بارے میں کہ ”اوپر“ کی طرف سے ”عذاب“ اور ”نیچے“ کی طرف عذاب سے کیا مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں لفظ (فوق وتحت) بہت ہی وسیع معنی رکھتے ہیں، ان میں حسی طور پر اوپر اور نیچے کا مفہوم بھی شام ہے یعنی ایسی سزائیں جو اوپر کی طرف سے آتی ہیں ،مثلا بجلیاں، خطرناک بارشیں اور طوفان اور ایسی سزائیں جو نیچے کی طرف سے آتی ہیں مثلا زلزلے اور زمین کو ویران وبرباد کرنے والے شگاف اور دریاؤں اور سمندروں کے طوفان، سب اس میں داخل ہیں ۔ وہ دردناک عذاب بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں کہ جو حکام کے طبقہ اور معاشرے کے اوپر والے حصے کی طرف سے بعض قوموں کے سروں پر آتے ہیں اور وہ پریشانیاں اور سختیاں جو مزدوروں اور نافہم اور فرض ناشناس افراد کی طرف سے لوگوں کودامنگیرہوجاتی ہیں جو بعض اوقات پہلے گروہ کے عذاب سے کم تر نہیں ہوتی، سبھی اس کے معنی میں داخل ہیں ۔ اور اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے زمانے کے خوفناک جنگی ہتھیار کہ جو فضا اور زمین سے وحشتناک صورت میں انسانی زندگی کو تباہ کردیتے ہیں اور تھوڑی سی دیر میں آباد ترین شہروں کو ہوائی بمباری اور زمینی حملوں سے، میزائیلوں اور آبدوزوں سے خاکستری ٹیلوں میں بدل جاتے ہیں وہ بھی آیت کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں ۲۔ ”یلبسکم“ ”لبس“ (بروزن حبس) مڈھ بھیڑ کرانے اور ایک دوسرے سے ٹکرانے کے معنی میں ہے نہ کہ مادہ ”لبس“ (بروزن قرض) لباس پہننے کے معنی میں، اس بنا پر جملہ کے معنی یوں ہوگا کہ وہ تمھیں مختلف گروہ اور دستوں کی شکل میں ایک دوسرے سے ٹکرابھی سکتا ہے ۔ (شیعا“ جمع ہے شیعہ کی جس کا معنی گروہ ہے ۔ اور یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی کہ اختلاف کلمہ (تفرقہ بازی یاپھوٹ )اور جمعیت کی پراگندگی کا مسئلہ اس قدر خطرناک ہے کہ وہ آسمانی عذاب اور بجلیوں اور زلزلوں کا ہم پلہ اور ہم پایہ قرار پایا ہے، حقیقتا ہے بھی ایسا ہی بلکہ بعض اوقات اختلاف و پراگندگی سے پیدا ہونے والی ویرانیاں ان ویرانیوں سے کئی درجے زیادہ ہوتی ہے جو بجلیوں اور زلزلوں سے آتی ہے، بارہا دیکھا گیا ہے کہ آباد ملک نفاق اور تفرقہ بازی کے منحوس سائے متعلق تباہی کی نظر ہوجاتے ہیں اور یہ جملہ تمام مسلمانان عالم کے لیے ایک تنبیہ اور صدائے ہوشیار باش ہے ۔ یہ احتمال بھی اس جملہ کی تفسیر میں موجود ہے کہ خدا نے آسمانی اورزمینی عذاب کے مقابلہ میں دو دوسرے عذاب بیان کیے ہیں، ایک عقیدہ اور فکرونظر میں اختلاف کا عذاب (جو حقیقت میں اوپر کے عذابوں کی مانند ہے) اور دوسرے عمل اور اجتماعی طور طریقوں میں اختلاف کا عذاب جس کا نتیجہ جنگ اور خونریزی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جو نیچے کی طرف کے عذاب کے مشابہ ہے، اس بنا پر آیت میں چار قسم کے طبیعی عذابوں اور دو قسم کے اجتماعی عذابوں کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ۳۔ اس بات کا اشتباہ نہ ہونے پائے کہ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ خدا تمھارے درمیان تفرقہ ڈال دے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا بلا وجہ لوگوں کو نفاق واختلاف میں گرفتار کردے گا بلکہ یہ لوگوں کے برے اعمال، خودخواہیوں، خودپرستیوں اور شخصی نفع خوریوں کا نتیجہ ہے کہ جس کا اثر نفاق اور تفرقہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور خدا کی طرف اس کی نسبت اس سبب سے ہے کہ اس نے اس قسم کا اثر ان برے اعمال میں قرار دے دیا ہے ۔ ۴۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان آیات میں روئے سخن مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہے، ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایک مشرک معاشرہ جو توحید اور یکتا پرستی کے راستے سے منحرف ہوچکا ہے، وہ طبقات بالا کے ظلم وستم میں بھی گرفتار ہوتا ہے اور نچلے طبقہ کی فرض نا شناسی کی مصیبت میں بھی گرفتار ہوتا ہے، اختلاف عقیدہ کی خرابیون سے بھی دوچار ہوتا ہے اور اجتماعی خونیں کشمکشوں میں ہی گرفتارہوتا ہے، جیسا کہ آج کی مادی دنیا میں معاشرے ، جو صرط صنعت وثروت کے بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ان تمام عظیم بلاؤں میں مبتلا ہیں اور ان کے درمیان ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں ۔ ہمیں اسے مذاہب کا بھی علم ہے کہ جو توحید وخدا پرستی کا دم بھرتے ہیں لیکن عملی طور پر مشرک اور بت پرست ہیں، ایسے مذاہب واقوام بھی انھیں مشرکین کے سے انجام میں گرفتار ہوں گے اور یہ جو ہم بعض احادیث میں پڑھتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ : قل ھذا فی اھل القبلة۔ یہ سب سزائیں مسلمانوں میںہی واقع ہوں گی۔ ممکن ہے کہ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہو کہ جب مسلمان توحید کے راستے سے منحرف ہوجائیں، خود خواہی اور خود پرستی اخوت اسلامی کی جگہ لے لے، شخصی مفاد عمومی مفاد پر مقدم سمجھا جانے لگے اور ہر شخص اپنی ہی فکر میں لگ جائے اور خدائی احکام بھلا دئے جائیں ، تو وہ بھی ایسے انجام میں گرفتار ہوجائیں گے ۔

66
6:66
وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوۡمُكَ وَهُوَ ٱلۡحَقُّۚ قُل لَّسۡتُ عَلَيۡكُم بِوَكِيلٖ
تیری قوم نے اس کی تکذیب اور انکار کیا حالانکہ وہ حق ہے (ان سے) کہہ دو کہ میں تمہارے بارے میں قبول کرنے اور ایمان لانے کا جوابدہ نہیں ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
6:67
لِّكُلِّ نَبَإٖ مُّسۡتَقَرّٞۚ وَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ
ہر خبر (جو خدا نے تمہیں دی ہے آخر کار اس) کی ایک قرار گاہ ہے اور تم جلدی ہی جان لو گے۔

خدا، معاد اور حقائق اسلام کی مباحث کی تکمیل

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ دونوں آیات حقیقت میں اس بحث کی تکمیل ہے جو خدا ، معاد اورحقائق اسلام کی طرف دعوت دینے اور خدائی سزاؤں سے ڈرانے کے سلسلے میں گذشتہ آیات میں گزرچکی ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ: تیری قوم وجمعیت یعنی قریش اور مکہ کے لوگوں نے تیری تعلیمات کی تکذیب کی حالانکہ کہ وہ سب حق ہے اور مختلف عقلی ، فطری اور حسی دلائل ان کی تائید کرتے ہیں(وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوۡمُکَ وَ ہُوَ الۡحَقُّ) ۔ (ضمیر ”بہ“ کو بعض نے قرآن کی طرف لوٹایا ہے اور بعض نے اس خاص عذاب کی طرف جو اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا تھا لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ان تمام باتوں کی طرف اور پیغمبر کی تمام تعلیمات کی طرف جن کی دشمنان پیغمبر تکذیب وانکار کیا کرتے تھے ،لوٹتی ہے اور آیت کا آخری جملہ بھی اس معنی پر گواہ ہے) اس بنا پر ان کی تکذیب اور انکار سے ان حقائق کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آتی خواہ مخالفت کرنے والے اور منکرین کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو ۔ اس کے بعد حکم دیا گیا کہ :ان سے کہہ دو کہ میری ذمہ داری تو صرف ابلاغ رسالت ہے اور میں تمھارے قبول کرنے کا ضامن نہیں ہوں(قُلۡ لَّسۡتُ عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ) ان متعدد آیات سے کہ جن میں یہی تعبیر اور اسی کے مانند تعبیر آئی ہے(مثلاانعام۔ ۱۰۷، یونس ۔۱۰۸، زمر۔۴۱ اور شوریٰ ۔۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع پر ”وکیل“ سے مراد ایسا شخص ہے کہ جو ہدایت عملی کے لیے جوابدہ اوردوسروں کا ضامن ہو، اس طرح پیغمبرؐ انھیں بتاتے ہیں کہ یہ صرف تم ہو کہ جو حقیقت کو قبول کرنے یا روکنے کے سلسلے میں پورا پورا اختیار رکھتے ہو اورہدایت کو قبول کرتے ہو، میں تو صرف ابلاغ رسالت اور دعوت الٰہی پر مامور ہوں ۔ بعد والی آیت میں ایک مختصر اور پر معنی جملہ کے ساتھ انھیں تنبیہ کررہا ہے اور صحیح راستہ انتخاب کرنے کے بارے میں دقت نظر اور باریک بینی کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے: ہر خبر جو خدا یا پیغمبرؐ تمھیں دیتے ہیں بلاآخر اس جہاں میں یا دوسرے جہاں میں اس کی کوئی نہ کوئی قرار گاہ ہے اور آخر کار وہ اپنی مقررہ میعاد پر انجام پائے گی اور تمھیں بہت جلد اس کی خبر ہوجائے گی(لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ) ۔ (ہوسکتا ہے ”مستقر“ مصدر میمی بمعنیٴ اسقرار ہو ، یا یہ اسم زمان ومکان محل استقرار کے معنی میں ہو، پہلی صورت میں خدائی وعدوں کے اصل تحقق کی خبر دے رہا ہے اور دوسری صور میں ان وعدوں کے زمان ومکان کی خبر ہے ۔)

68
6:68
وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
جس وقت تم ان لوگوں کو دیکھو کہ جو ہماری آیات کا مذاق اڑاتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لو یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مشغول ہو جائیں اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو جو نہی (اس) ستم گر گروہ کی طرف تمہاری توجہ ہو جائے تو ان کے پاس بیٹھنے سے کنارہ کشی کر لو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
6:69
وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَلَٰكِن ذِكۡرَىٰ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
اور اگر صاحب تقویٰ افراد (انہیں ہدایت اور پندو نصیحت کرنے کے لئے ان کے پاس بیٹھ جائیں ) تو ان کے حساب (و گناہ) میں سے کوئی چیز ان کے اوپر عائد نہیں ہو گی (لیکن یہ کام صرف انہیں ) یاد دہانی کرانے کے لئے ہونا چاہئے شاید (وہ سنیں اور) پرہیز گاری اختیار کر لیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر مجمع البیان میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جب پہلی آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو کفار اور آیات الٰہی کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے منع کیا گیا، تو مسلمانوں کی ایک جماعت کہنے لگی کہ اگر ہم چاہیں کہ اس حکم پر ہر جگہ عمل کریں تو نہ ہمیں مسجدالحرام میں جانا چاہئے اور نہ ہی خانہ ٴ کعبہ کا طواف کرنا چاہئے( کیوں کہ وہ مسجد کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اور آیات الٰہی کے بارے میں باطل باتوں میں مشغول ہیں اور ہم مسجد الحرام کے کسی بھی گوشہ میں خواہ کتنا بھی مختصر توقف کریں اس میں ان کی باتیں ہمارے کانوں تک پہنچ سکتی ہیں)، اس موقع پر دوسری آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ایسے مواقع پر انھیں نصیحت کرے اور جتنا ہوسکے ان کی ہدایت اور رہنمائی کریں ۔ اس آیت کے لیے شان نزول کا ذکر جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں تمام سورة کے اکٹھا نازل ہونے کے منافی نہیں کیوں کہ ممکن ہے مسلمانوں کی زندگی میں ایسے مختلف حوادث پیش آئیں، اس کے بعدا یک سورہ اکٹھی نازل ہو اور اس کی کوئی آیت ان حوادث میں سے کسی حصہ کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ہو ۔

اہل باطل کی مجالس سے دوری

چونکہ اس سورہ کے زیادہ تر مباحث مشرکین اور بت پرستوں کی کیفیت کے بارے میں ہے لہٰذا ان دو آیات میں ان سے مربوط ایک دوسرے مسئلہ کی طرف اشارہ ہورہا ہے، پہلے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلمسے ارشاد ہوتا ہے کہ:جس وقت تم ہٹ دھرم اور بے منطق مخالفین کو دیکھو کہ وہ آیات خدا کا استہزاء کررہے ہیں تو ان سے منہ پھیر لوجب تک وہ اس کام سے صرف نظر کرکے دوسری گفتگو کو شروع نہ کرلیں(وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ) ۔ اس جملے میں اگرچہ روئے سخن پیغمبرؐ کی طرف ہے، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ یہ حکم آپ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مومنین کے لیے ہے ۔ اس حکم کا فلسفہ بھی واضح ہے کہ اگر مسلمان ان کی مجالس میں شرکت کرتے تھے تو وہ انتقام لینے اور انھیں تکلیف پہنچانے کے لیے اپنی باطل اور ناروا باتوں کو جاری رکھتے تھے، لیکن جب وہ بے اعتنائی کے ساتھ ان کے قریب سے گزرجائیں تو وہ فطرتا خاموش ہوجائیں گے اور دوسرے مسائل شروع کردیں گے، کیوں کہ ان کا سارا مقصد تو پیغمبر اورمسلمانوں کو تکلیف پہچانا تھا ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ یہ موضوع اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ ”اگر شیطان تمھیں یہ بات بھلا دے اور اس قسم کے افراد کے ساتھ بھول کر ہم نشین ہوجاؤ تو جب بھی اس موضوع کی طرف توجہ ہوجائے فورا اس مجلس سے کھڑے ہوجاؤ اور ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھو(وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ) ۔ شاید یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ ”لا تقعد“ (ان کے پاس نہ بیٹھو) سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف ایسے افراد کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے، بلکہ مقصد تو ان کی جماعت میں شرکت کرنا ہے، چاہے بیٹھنے کی شکل میں ہو یا قیام کی صورت میں یاچلنے کی حالت میں ۔

دوسوال اور ان کا جواب

پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ شیطان پیغمبر پر تسلط پیدا کرے اور ان کے نسیان کا باعث بنے، دوسرے لفظوں میں کیا مقام عصمت اور خطا مصئونیت کے باوجود حتی کہ موضوعات میں یہ بات ممکن ہے کہ پیغمبرؐ اشتباہ اور نسیان میں گرفتار ہوجائے ۔ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر چہ روئے سخن آیت میں پیغمبرؐ کی طرف سے ہے لیکن حقیقت میں ان کے پیروکار مراد ہیں کہ اگر وہ فراموش کاری میں گرفتار ہوجائیں اور کفار کے گناہ آمیز اجتماعات میں شرک ہوجائی تو جس وقت بھی انھیں یاد آجائے فورا وہاں سے اٹھ کھڑے ہو اور باہر نکل جائیں، اور قسم کی بحث ہماری روزمرہ کی گفتگو میں اور مختلف زبانوں کے ادبیات میں عام نظر آتی ہے کہ انسان روئے سخن تو کسی اور کی طرف کرتا ہے مگر اس کامقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسرے سن لیں، عربوں کی مشہور ضرب المثل کی طرح، جس میں کہتے ہیں: ایاک اعنی واسمعی یاجارة میری مراد تو تم ہو اور اے پڑوسن تو سن لے ۔ بعض مفسرین نے مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں اور ابو الفتوح نے اپنی مشہور تفسیر میں ایک دوسرا جواب دیا ہے کہ جس کاماحصل یہ ہے انبیاء کے لیے خدا کی طرف سے احکام کے پہنچانے اور مقام رسالت میں سہو وفراموشی اور بھول چوک کا ہونا تو جائز نہیں ہے لیکن موضوعات خارجی میں اگر لوگوں کی گمراہی کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ جواب اس اصول کے ساتھ جو ہمارے متکلمین کے درمیان مشہور ہے کہ انبیاء وآئمہ علیہم السلام احکام کے علاوہ عام موضوعات میں بھی غلطی سے معصوم ومصئون ہیں مناسبت نہیں رکھتا ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ بعض علمائے اہل سنت نے اس آیت کو رہبران دینی کے لیے تقیہ جائز نہ ہونے کی دلیل قرار دیا ہے کیوں کہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے:دشمنوں کے سامنے تقیہ نہ کرو یہاں تک کہ اگر تم ان کی مجلس میں بھی موجود ہوتو ان کی مجلس سے کھڑے ہوجاؤ، اس اعتراض کا جواب بھی بالکل واضح اور روشن ہے، کیوں کہ شیعہ ہرگز یہ نہیں کہتے کہ ہرجگہ تقیہ ضروری ہے بلکہ تقیہ بعض مواقع پر تو قطعا حرام ہے اور اس کا وجوب صرف ایسے مواقع کے لیے ہے کہ جہاں تقیہ کرنے اور اظہار حق نہ کرنے میں کچھ ایسے فوائد ومنافع ہوں کہ جو اس کے اظہار سے زیادہ ہو یا یہ کہ تقیہ دفع ضرر اور خطر کلی کے دور ہونے کا موجب ہو ۔ بعد والی آیت میں ایک موقع کو مستثنیٰ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اگر صاحب تقوی لوگ نہی از منکر کی غرض سے ان کے جلسوں میں شرکت کریں اور پرہزگاری کی امید اور ان کے گناہ سے پلٹ آنے کی امید پر انھیں نصیحت کریں تو کوئی مانع نہیں ہے اور ہم ان کے گناہ کو ایسے افراد کے حسا میں نہیں لکھے گ، کیوں کہ ہر حالت میں ان کا ارادہ تو خدامت اور اپنے فرض کی بجاآوری تھا (وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکۡرٰی لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ) ۔ اس آیت کے لیے ایک دوسری تفسیر بھی بیان ہوئی ہے لیکن ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ ظاہر آیت اور اس کی شان نزول کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ۔ ضمنا اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ صرف وہ افراد استثنیٰ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ جو آیت کی تعبیر کے مطابق تقوی اور پرہیزگاری کے مقام کے حامل ہوں اور نہ صرف یہ کہ وہ خود ان سے متاثر ہوں، بلکہ وہ انھیں خود اپنے سے متاثر کرسکیں ۔ سورہٴ نساء کی آیت۱۴۰ کے ذیل میں بھی مذکورہ آیت کے مشابہ ایک مضمون آیاہے اور وہاں پر دوسرے مطالب بیان ہوئے ہیں ۔ ( بحوالہ تفسیر نمونہ جلد چہارم صفحہ ۱۴۲۔)

70
6:70
وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَعِبٗا وَلَهۡوٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ وَذَكِّرۡ بِهِۦٓ أَن تُبۡسَلَ نَفۡسُۢ بِمَا كَسَبَتۡ لَيۡسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ وَإِن تَعۡدِلۡ كُلَّ عَدۡلٖ لَّا يُؤۡخَذۡ مِنۡهَآۗ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبۡسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْۖ لَهُمۡ شَرَابٞ مِّنۡ حَمِيمٖ وَعَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ
تم ایسے لوگوں کو کہ جنہوں نے اپنے فطری دین کو کھیل تماشا (اور استہزاء) بنا لیا ہے اور دنیاوی زندگی نے انہیں مغرور کر دیا ہے چھوڑ دو اور انہیں نصیحت کرو تاکہ وہ اپنے اعمال کے (برے نتائج) میں گرفتار نہ ہوں۔ (اس دن) خدا کے سوا نہ ان کا کوئی یارو یاور ہو گا اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا ہو گا اور (ایسے شخص سے) خواہ وہ کسی بھی قسم کا عوض کیوں نہ دے اس سے قبول نہیں کیا جائے گا وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو ان اعمال میں گرفتار ہوئے ہیں کہ جو انہوں نے انجام دیئے ہیں ان کے پینے کے لئے گرم پانی ہے اور درد ناک عذاب ہے یہ اس سبب سے ہو گا کیونکہ انہوں نے کفر اختیار کیا ہے۔

دین حق کو کھیل بنانے والے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت اصل میں گذشتہ آیت کی بحث کی تکمیل کررہی ہے اور پیغمبر اکرم کو حکم دے رہی ہے کہ وہ” ایسے اشخاص سے کہ جنھوں نے اپنے دین وآئین کو مذاق بنا لیا ہے اور لہو لعاب کو دین قراد دے لیا ہے اور دنیاوی زندگی اور اس کے وسائل نے انھیںمغرور کردیا ہے، منہ پھیر لیں اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں“وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ) ۔ یہ بات واضح ہے کہ ایسے اشخاص کو چھوڑ دینے کا حکم مسئلہ جہاد کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتا، کیوں کہ جہاد کی کچھ خاص شرائط ہیں اور کفار کے ساتھ بے احتیاطی برتنے کے شرائط دوسری ہیں، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر انجام پذیرہونا چاہئے، بعض اوقات تو بے اعتنائی کے ذریعہ ہی مخالفین کو دبانا لازم ہوتا ہے اور کبھی مبارزہ وجہاد اور مسلح جنگ کے ذریعہ مقابلہ ضروری ہوتا ہے اور بعض حضرات نے جو یہ تصور کرلیا ہے کہ آیات جہاد نے اوپر والی آیت کو منسوخ کردیا ہے، بالکل بے بنیاد ہے ۔ حقیقت میں مندرجہ بالا آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا دیم اپنے مفاہیم کے لحاظ سے بیہودہ اور فضول ہے اور انھوں نے چند ایسے اعمال کا نا م دین رکھ لیا ہے جو بچوں کے کاموں اور بوڑھوں کی لغویات سے زیادہ مشابہ ہے، ایسے لوگ بحث وگفتگو کے قابل نہیں ہے، لہٰذا حکم دیا گیا ہے ک تم ان سے رخ موڑ لو اور ان کی اور ان کے کھوکھلے مذہب کی پرواہ نہ کرو ۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوگیا کہ ”دینھم“ سے مراد وہی ان کا شرک وبت پرستی والا مذہب ہی ہے، یہ احتمال کہ اس سے مراد ”دین حق “ہوااور ان کی طرف دین کی اضافت ونسبت دین کے فطری ہونے کی وجہ سے ہو، بہت ہی بعید نظر آتا ہے ۔ آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کفار کی ایک جماعت کی طرف اشارہ کررہاہے کہ وہ خود اپنے دین ومذہب کو ایک لہو لعاب ہی سمجھتے تھے، اور ہرگز اس میں ایک حقیقی مطلب کے طور پر غور نہیں کرتے تھے،یعنی وہ اپنی بے ایمانی میں بھی بے ایمان تھے اور اپنے بے بنیاد مذہب کے اصولوں سے بھی وفادار نہیں تھے ۔ بہر حال آیت کفار کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتی اور ان تمام لوگوں کے حالت پر محیط ہے جو مقدسات الٰہی اور احکام خداوندی کو اپنے شخصی اور مادی مقصد کے حصول کا ایک کھیل قرار دیتے ہیں، دین کو دنیا کا آلہ اورخدا کے حکم کو اعتراض شخصی کا کھلونہ بنا لیتے ہیں ۔ اس کے بعد پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ انھیں ان اعمال پر تنبیہ کریں کیوں کہ ایسا دن آنے والا ہے جس میں ہر شخص اپنے اعمال کے آگے سپرانداختہ ہوگا اور اس کے لیے اس کے چنگل سے فرار کی راہ نہیں ہوگی۔( وَ ذَکِّرۡ بِہٖۤ اَنۡ تُبۡسَلَ نَفۡسٌۢ بِمَا کَسَبَتۡ) ۔ اور اس دن خدا کے سوا نا تو کوئی اس کا حامی ومددگار ہوگا اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا(لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ) ۔ اس کا معاملہ اس دن اس قدر سخت اور درد ناک ہوگا اور وہ اپنے اعمال کی زنجیر میں اس طرح گرفتار ہوں گے کہ:خواہ کتنا بھی تاوان اورجرمانہ (بالغرض ان کے پاس ہو اور وہ ) دیں کہ اپنے آپ کو سزاؤں سے نجات دلالیں تو وہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا(وَ اِنۡ تَعۡدِلۡ کُلَّ عَدۡلٍ لَّا یُؤۡخَذۡ مِنۡہَا) کیوں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوچکے ہیں، اس دن نہ تو تلافی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی توبہ کا وقت باقی ہے لہٰذا ان کے لیے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اُبۡسِلُوۡا بِمَا کَسَبُوۡا) ۔ اس کے بعد ان کی دردناک سزاؤں کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:کیوں کہ انھوں نے حق اور حقیقت کو ٹھکرا دیا ہے لہٰذا ان کے لیے دردناک عذاب کے ساتھ پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا: لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ وہ گرم گرم کھولتے ہوئے پانی کی وجہ سے اندر سے جل رہے ہوں گے اور باہر کی طرف سے آگ میں جل رہے ہوں گے ۔ ایک نکتہ کہ جس کی طرف خاص طورپر توجہ کرنی چاہئے یہ ہے کہ ( اُوْلَئِکَ الَّذِینَ اُبْسِلُوا بِمَا کَسَبُوا)،”وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے“ حقیقت میں ان سے تاوان قبول نہ ہونے اور ان کا ولی وشفیع نہ ہونے کی دلیل وعلت کے طور پر ہے، یعنی ان کی سزا کسی خارجی عامل کی وجہ سے نہیں ہے کہ جسے کسی طرح سے دفع کیا جاسکے، بلکہ خود ان کی ذات وصفات اور اعمال کے اندر ہی اس کا سرچشمہ ہے، وہ اپنے برے اعمال کے قیدی ہیں اس لیے ان کی رہائی ممکن نہیں ہے، کیوں کہ اعمال اور ان کے آثار سے الگ ہونا خود اپنے آپ سے جدا ہونے کے مترادف ہے ۔ لیکن اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ یہ شدت وسختی اور راہ بازگشت کا مسدود ہونا اور شفاعت کا عدم وجود ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے کہ جو کفر پر اصرار کرتے ہیں اور ہمیشہ اسی پر کاربند رہے، جیسا کہ (بما کانوا یکفرون) کے جملے سے معلوم ہوتا ہے کیوں کہ فعل مضارع کسی چیز کے استمرار کے بیان کے لیے ہوتا ہے ۔

71
6:71
قُلۡ أَنَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعۡقَابِنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۖ وَأُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
تم کہہ دو کہ کیا ہم خدا کے سوا کسی اور چیز کو پکاریں کہ جو نہ ہمارے لئے کوئی فائدہ دینے والی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچانے والی اور (اس طرح) سے ہم پیچھے کی طرف پلٹ جائیں جب کہ خدا نے ہمیں ہدایت کر دی ہے اس شخص کی مانند کہ جسے شیاطین کے وسوسوں نے گمراہ کر دیا ہو اور وہ زمین میں حیران و پریشان ہو حالانکہ اس کے ایسے یارو مدد گار بھی ہیں کہ جو اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں (اور یہ کہتے ہیں ) کہ ہماری طرف آؤ۔ تم کہہ دو کہ صرف خدا کی ہدایت ہی (اصل) ہدایت ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم عالمین کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کریں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
6:72
وَأَنۡ أَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّقُوهُۚ وَهُوَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے وہ ذات کہ جس کی طرف تم محشور ہو گے۔

کیا ہم سابقہ حالت کی طرف پلٹ جائیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت اس اصرار کے مقابلہ میں ہے جو مشرکین مسلمانوں کو کفروبت پرستی کی دعوت کے لیے کرتے تھے، پیغمبر کو حکم دے رہی ہے کہ ایک دندان شکن دلیل کے ساتھ انھیں جواب دیں اور ایک استفہام انکاری کی صورت میں ان سے پوچھیں کہ : کیا تم یہ کہتے ہو ہم کسی ایسی چیز کو خدا کا شریک قرار دیں کہ جو نہ ہمارے لیے فائدہ رکھتی ہے کہ اس فائدہ کی خاطر ہم اس کی طرف جائیں اور نہ ہی کوئی ضرر رکھتی ہے کہ ہم اس کے نقصان سے ڈریں (قُلۡ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا) ۔ یہ جملہ حقیقت میں اس جملہ کی طرف اشارہ ہے کہ عام طور سے انسان کے تمام کام انھیں دونوں سرچشموں میں سے کسی ایک سر چشمہ سے پیدا ہوتے ہیں، یا تو نفع کے حصول کی خاطر ہوتے ہیں ( خواہ وہ مادی نفع ہو یا معنوی) اور یا وہ دفع ضرر کی خاطر ہوتے ہیں (ضرر بھی خواہ معنوی ہو یامادی) ۔ کوئی عاقل کیسے کوئی ایسا کام کرے گا کہ جس میں ان دونوں میں سے کوئی سا عامل بھی موجود نہ ہو؟ ۔ اس کے بعد مشرکین کے مقابلے میں ایک اور استدلال پیش کیا گیا ہے اور یوں ارشاد ہوتا ہے:اگر ہم بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور ہدایت الٰہی کے بعد شرک کی راہ میں گامزن ہوجائیں( تو اس طرح) تو ہم پیچھے کی طرف لوٹ جائیں گے اور یہ بات قانون ارتقاء کے خلاف ہے کہ جو عالم حیات کا ایک عمومی قانون ہے(وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ) ۔ (۔” اعقاب“جمع ”عقب“ (بروزن خشم) ایڑی کے معنی میں اور ایڑی پر پھرنے کو پیچھے کی طرف پھرنا کہتے ہیں اور یہ ہدف ومقصد سے انحراف اور پھر نے کی طرف اشارہ ہے اور یہ وہی چیز ہے کہ جسے آجکل ارتجاع (یعنی رجعت پسندی) سے تعبیر کرتے ہیں ۔) اس کے بعد ایک مثال کے ذریعہ اس مطلب کو اور زیادہ واضح اور روشن کیا گیا ہے اور قرآن یوں کہتا ہے: (توحید سے شرک کی طرف بازگشت) مثل اس کے ہے کہ کوئی شخص شیطانی وسوسوں سے ( یا غولہائے بیابانی سے کہ جو جاہلیت کے عربوں کے خیال کے مطابق راستوں میں گھات لگا کر بیٹھے ہوا کرتے تھے اور مسافروں کو ان کی راہ سے بے راہ کردیا کرتے تھے) راہ مقصد گم کردے اور بیابان میں حیران وسرگرداں رہ گیا ہو (کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ) ۔ حالانکہ اس کے ایسے دوست بھی ہیں کہ جو اسے ہدایت اور شاہراہ ( حق) کی طرف بلاتے ہیں اور اسے آوازیں دے رہیں ہیں کہ ہماری طرف آؤ۔ لیکن وہ اس طرح سے حیران وسرگرداں ہیں کہ جیسے وہ ان کی باتوں کو سن ہی نہیں رہا ہے، یا وہ قوت ارادی نہیں رکھتا(لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا) ۔ ”اسْتَھْوَتْہُ“ ”ھوی“ کے مادہ سے ہے اور یہ لفظ کسی کو ہوا وہوس کی پیروی پر آمادہ کرنے کے معنی میں ہے” حیران“ لغت میں آمد ورفت کے معنی میں ہے اور عام طور سے سرگردانی سے کنایہ ہے، کیوں کی لوگ سرگردانی سے کچھ راستہ چلتے ہیں پھر پلٹ آتے ہیں اس بنا پر یہ آیت ان افراد کو جو ایمان سے شرک کی طرف پلٹ جائیں سرگرداں ہوا پرستوں سے تشبیہ دیتی ہے جو اپنا اصل پروگرام شیطانی الہام کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں ۔ اور آیت کے آخر میں پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ تم صراحت کے ساتھ یہ کہہ دو کہ : ”ہدایت صرف خدا کی ہدایت ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم صرف عالمین کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کریں“(قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ اُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ) ۔ یہ جملہ حقیقت میں مشرکین کی مذہب کی نفی پر ایک اور دلیل ہے کیوں کہ صرف ایسی ذات کے سامنے ہی سرتسلیم خم کرنا چاہئے کہ جو مالک خالق اور مربی عالم ہستی ہو ، نہ کہ بتوں کے سامنے کہ جو اس جہاں کی ایجاد وتخلیق میں کوئی نقش و اثر نہیں رکھتے ۔ ایک سوال اور اس کا جواب یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم بعثت سے پہلے مشرکین کے مذہب کے پیرو تھے کہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ : ”رَدُّ عَلَی اَعْقَابِنَا “ کیا ہم سابقہ حالت کی طرف پلٹ جائیں؟ حالانکہ کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ؐنے کبھی بھی بت سے سامنے سجدہ نہیں کیا اور کسی بھی تاریخ میں اس قسم کی کوئی چیز لکھی ہوئی نہیں ہے پھر اصولی طور پر مقام عصمت بھی ایسے کسی امر کی اجازت نہیں دیتا ۔ یہ لفظ حقیقت میں مسلمانوں کی ایک جماعت کی زبان سے ادا ہوا ہے ناکہ ذات پیغمبر کی زبان سے اسی لیے جمع کے صیغہ اور ضمیروں کے ساتھ اداہوا ہے ۔ بعد والی آیت میں دعوت الٰہی کے بعد عائد ہونے والے فرائض کی یوں تشریح کی گئی ہے کہ ہم نے توحید کے علاوہ یہ حکم دیا ہے کہ ”نماز قائم کرو اور تقوی اختیار کرو“(وَ اَنۡ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّقُوۡہُ) ۔ اور آخر میں مسئلہ معاد و قیامت کی طرف توجہ کرواتے ہوئے اور یہ کہ تمھارا حشرونشر اور بازگشت خدا کی طرف ہے اس بحث کو ختم کردیا گیا ہے (وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ) ۔ حقیقت میں ان چند مختصر جملوں وہ پروگرام جس کی طرف پیغمبر دعوت دیا کرتے تھے اور جس کا سرچشمہ عقل اور فرمان خدا تھا، چار اصولوں کے پروگرام کی صورت میں جس کا آغاز توحید اور انجام معادوقیامت تھا اور اس کے درمیانی مراحل خدائی رشتوں کو محکم کرنا اور ہرگناہ سے پرہیز کرنا تھا، پیش کیا گیا ہے ۔

73
6:73
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۖ وَيَوۡمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُۚ قَوۡلُهُ ٱلۡحَقُّۚ وَلَهُ ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِۚ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور اس دن وہ کہے گا ’’ہو جا‘‘ تو (جس بات کا ارادہ کیا ہے) وہ ہو جائے گا اس کا قول حق ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن تو حکومت اسی کے ساتھ مخصوص ہو گی وہ (تمام) پوشیدہ اور ظاہر و آشکار (چیزوں ) سے باخبر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے۔

صر ف وہی ذات مبداء عالم ہستی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت حقیقت میں گذشتہ آیت کے مطالب پر ایک دلیل، اور پروردگار عالم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کی ہدایت کی پیروی کرنے کے لازم ہونے کی بھی ایک دلیل ہے، لہٰذا پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا ہی ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ(۔ صر ف وہی ذات کہ جو مبداء عالم ہستی ہے، اور رہبری کے لیے شائستہ و لائق ہے اور صرف اسی کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہئے کیوںکہ اس نے تمام چیزوں کو ایک صحیح مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اوپر والے جملے میں”حق“ سے مراد وہی نتیجہ ، مقصد، ہدف، مصلح اور حکمتیں ہیں، یعنی اس نے ہر چیز کوکسی مصلحت اور اور ہدف ونتیجہ کے لیے پیدا کیا ہے حقیقت میں یہ جملہ اس مطلب سے مشابہ ہے جو سورہٴ ص آیہ ۲۷میں بیان ہوا ہے کہ ہم جہاں پر ہے: وما خلق السماء والارض ومابینھما باطلا ۔ ہم نے آسمان کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے فضول اور بے مقصد پیدا نہیں کیا ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: نہ صرف مبداء عالم ہستی وہی بلکہ معاد وقیامت بھی اسی کے حکم سے صورت پذیر ہوگی’ اور جس دن وہ حکم دینا کہ قیامت بپا ہوجائے تو وہ فورا بپا ہوجائے گی“(وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ) ۔ (اس بارے میں کہ ”یوم“ جو قواعد ادبی کے مطابق ظرف ہے کس سے متعلق ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض اسے ”خلق“ کے جملے سے بعض”اذکروا“ کے جملہ سے جو محذوف ہے متعلق سمجھتے ہیں، لیکن یہ بات بعید نہیں ہے کہ وہ ”یکن“ سے متعلق ہو، اور پھر جملے کے معنی اس طرح ہوگا:” یکن القیامة یوم یقول اللّٰہ کن“۔بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس جملہ سے مراد وہی آغازآفرینش اور مبداء جہاں ہستی ہے کہ تمام چیزیں اس کے فرمان سے ایجاد ہوئی ہیں، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ”یقول“ فعل مضارع ہے، اور یہ کہ اس جملے پہلے اصل آفرینش کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اسی طرح بعد کے جملوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ جملہ قیامت اور اس کے بارے میں حکم خدا کے ساتھ ہی مربوط ہے ۔ جیسا کہ ہم ( تفسیر نمونہ کی ) جلد اول (سورہٴ بقرہ کی آیہ ۱۱۷کے ذی میں ) میں بیان کرچکے ہیں، کہ ”کن فیکون“ سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدا ایک لفظی فرمان ”ہوجا“ کی طرف صادر فرماتا ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کے خلق کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کسی دوسرے عامل کی احتیاج کے بغیر اس کا ارادہ خودبخود جامہ عمل پہن لیتا ہے، اگر اس نے یہ اراد کیا ہے کہ وہ چیز دفعتا اور ایک ہی مرتبہ موجود ہوجائے تو وہ ایک ہی دفعہ موجود ہوجاتی ہے اور اگر اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ چیز تدریجا وجود میں آئے تو اس کا تدریجی پروگرام شروع ہوجا تا ہے ۔ اس کے بعد قرآن مزیدکہتا ہے کہ :خدا کی بات حق ہے، یعنی جس طرح آفرینش کی ابتدا ہدف ونتیجہ اور مصلحت کی بنیاد تھی، قیامت و معاد بھی اسی طرح ہوگی(قَوۡلُہُ الۡحَقُّ) ۔ اور اس دن جب صور میں پھونکا جائے گا اور قیامت پرپا ہو جائے گی، تو حکومت وملکیت اسی کی ذات پاک کے ساتھ مخصوص ہوگی (وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ) ۔ یہ صحیح ہے کہ خدا کی ملکیت اور حکومت تمام عالم ہستی پر ابتدا جہاں سے رہی ہے اور دنیا کے خاتمہ تک اور عالم قیامت میں بھی جاری رہے گی اور قیامت کے ساتھ کوئی اختصاص نہیں رکھتی لیکن چونکہ اس جہان میں اہداف ومقاصد کی تکمیل اور کاموں کے انجام دینے کے لیے عوامل واسباب کا ایک سلسلہ اثر انداز ہوتا ہے لہٰذا بعض اوقات یہ عوامل واسباب خدا سے جو مسبب الاسباب ہے غافل کردیتے ہیں، مگر وہ دن کہ جس میں تمام اسباب بے کار ہوجائیں گے تو اس کی ملکیت وحکومت ہر زمانے سے زیادہ آشکار وواضح ہوجائی گی، ٹھیک ایک دوسری آیت کی طرح جو یہ کہتی ہے کہ : لمن ملک الیوم للّٰہ الواحد القھار۔ حکومت اور ملکیت آج(قیامت کے دن) کس کی ہے؟صرف خدائے یگانہ وقہار کے لیے ہے،(سورہ المومن،آیہ ۱۶) ۔ اس بارے میں کہ صور ۔ جس میں پھونکا جائے گا ۔ سے مراد کیا ہے اور اسرافیل صور میں کس طرح پھونکے گا کہ اس سے تمام جہاں والے مرجائیں گے اور دوبارہ صور میں پھونکے گا تو سب زندہ ہوجائیں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی، انشاء اللہ ہم سورہٴ زمر کی آیہ ۶۸ کے ذیل میں شرح وبسط کے ساتھ بحث کریں گے کیوں کہ یہ بحث اس آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔ اور آیت کے آخر میں خدا کی صفات میں سے تین صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: خدا پنہاں وآشکار سے باخبر ہے عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ) اور اس کے تمام کام حکمت کی رو سے ہوتے ہیں او ر وہ تمام چیزوں سے باخبر ہے وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ)،قیامت سے مربوط آیات میں اکثر خدا کی ان صفات کی طرط اشارہ ہوا ہے کہ وہ آگاہ بھی ہے اور قادر وحکیم بھی، یعنی اپنے علم وآگاہی کے اقتضاء کے مطابق وہ ہر شخص کو مناسب جزا دیتا ہے ۔

روئے سخن بت پرستوں کی طرف

کیوں کہ یہ سورہ شرک وبت پرستی سے مقابلے کا پہلو رکھتی ہے اور اس میں روئے سخن زیادہ تر بت پرستوں کی طرف ہے لہٰذا ان کو بیدار کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے استفادہ کیا گیا ہے ، یہاں بہادر بت شکن ابرہیم کی سرنوشت کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بت شکنی کے سلسلہ میں ان کی قومی منطق کو چند آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے بیان توحید اور بتوں سے مبارزہ کے سلسلہ میں بہت سے مباحث میں اسی سرگذشت کو ذکر کیا ہے، کیوں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) تمام اقوام کے لیے خصوصا مشرکین عرب کے لیے قابل احترام تھے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ ابرہیم نے اپنے باپ (چچا) کو تنبیہ کی اور اس سے کہا کہ : کیا تم ان بے قیمت اور بے جان بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے(و َ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً) ۔ اس میں شک نہیں کہ میں تجھے اور تیرے پیروکار اور ہم مسلک گروہ کو واضح گمراہی میں دیکھتا ہو،اس سے زیادہ گمراہی اور کیا ہوگی کہ انسان اپنی مخلوق کو اپنا معبود قرار دے اور بے جان اور بے شعور موجود کو اپنی پناہ گا سمجھ لے اور اپنی مشکلات حل ان سے طلب کرے اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ) ۔

74
6:74
۞وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصۡنَامًا ءَالِهَةً إِنِّيٓ أَرَىٰكَ وَقَوۡمَكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
(اور یاد کرو) جب ابراہیم نے اپنے مربی (چچا) آزر سے یہ کہا کہ کیا تم بتوں کو اپنا خدا بناتے ہو میں تو تمہیں اور تمہاری قوم کو واضح گمراہی میں پاتا ہوں۔

کیا آزر حضرت ابرہیم (علیه السلام) کا باپ تھا

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

لفظ ”اب“ عربی زبان میں عام طور پر باپ کے لیے بولا جاتا ہے، اور جیسا کہ ہم دیکھے گے کہ بعض اوقات چچا ، نانا،مربی ومعلم اور اسی طرح وہ افراد کہ جو انسان کی تربیت میں کچھ نہ کچھ زحمت ومشقت اٹھاتے ہیں ان پر بھی بولا جاتا ہے ، لیکن اس میں شک نہیں کہ جب یہ لفظ بولا جائے اور کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو پھر معنی کے لیے پہلے باپ ہی ذہن میں آجاتا ہے ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سچ مچ اوپر والی آیت یہ کہتی ہے کہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو کیا ایک بت پرست اور بت ساز شخص ایک اولوالعزم کا پیغمبر کا باپ ہوسکتا ہے، اس صورت میں کیا انسان کی نفسیات و صفات کی وراثت اس کے بیٹے میں غیر مطلوب اثرات پیدا نہیں کردے گی۔ اہل سنت مفسرین کی ایک جماعت نے پہلے سوال کا مثبت جواب دیا ہے اور آزر کا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا حقیقی باپ سمجھا ہے، جب کہ تمام مفسرین وعلماء شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا، بعض اسے آپ کا نانا اور بہت سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا چچا سمجھتے ہیں ۔ وہ قرائن جو شیعہ علماء کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں حسب ذیل ہے: ۱۔ کسی تاریخی منبع ومصدر اور کتاب میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے والد کا نام آزر شمار نہیں کیا گیا بلکہ سب نے ”تارخ“ لکھا کتب عہدین میں بھی یہی نام آیا ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ آزر تھا، یہاں انھوں نے ایسی توجیہات کی ہے جو کسی طرح قابل قبول نہیں ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کے باپ کا نام تارخ اور اس کا لقب آزر تھا، حالانکہ یہ لقب بھی منابع تاریخ میں ذکر نہیں ہوا، یا یہ کہ آزر ایک بت تھا کہ جس کی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ پوجا کرتا تھا حالانکہ یہ احتمال اوپر والی آیت کے ظاہر کے ساتھ جویہ کہتی ہے کہ آزر ان کا باپ تھا کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتی، مگر یہ کہ کوئی جملہ یا لفظ مقدر مانیں جو کہ خلاف ظاہر ہو ۔ ۲۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ مسلمان یہ حق نہیں رکھتے کہ مشرکین کے لیے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے عزیز وقریب ہی ہوں، اس کے بعد اس غرض سے کہ کوئی آزر کے بارے میں ابراہیم (علیه السلام) کے استغفار کو دستاویز قرار نہ دے اس طرح کہتا ہے: وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ (سورہ توبہ: ۱۱۴) ۔ ابراہیم (علیه السلام) کی اپنے باپ آزر کے لیے استغفار صرف اس وعدہ کی بنا پر تھے جو انھوں نے اس سے کیا تھا، چونکہ آپ نے یہ کہا تھا کہ : ساٴستغفرلک ربی(مریم :۴۷) ۔ یعنی میں عنقریب تیرے لیے استغفار کروں گا ۔ یہ اس امید پر تھا کہ شایدوہ اس وعدہ کی وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستی سے بعض آجائے لیکن جب اسی بت پرستی کی راہ میں پختہ اور ہٹ دھرم پایا تو اس کے لیے استغفار سے دستبردار ہوگئے ۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے آزر سے مایوس ہوجانے کے بعد پھر کبھی اس کے لیے طلب مغفرت نہیں کی، اور ایسا کرنا مناسب بھی نہیں تھا، تمام قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کی جوانی کے زمانے کا ہے جب کہ آپ شہر بابل میں رہائش پذیر تھے اور بت پرستوں کے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ کررہے تھے ۔ لیکن قرآن کی دوسری آیات نشاندہی کرتی ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اپنی آخری عمر میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے باپ کے لیے طلب مغفرت کی ہے (البتہ ان آیات میں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا، نشان باپ سے ”اب“ کو تعبیر نہیں کیا بلکہ ”والد“ سے تعبیر کیا ہے جو صراحت کے ساتھ باپ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے) ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: اٴَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَھَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ--- رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ- ” حمد ثنا اس خدا کے لیے ہے کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کیے، میرا پروردگار دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے، میرے ماں باپ اور مومنین کو قیامت کے دن بخش دے“۔ اس آیت کو سورہٴ توبہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں کو مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع کرتی ہے اور ابراہیم - کو بھی ایسے کام سے، سوائے ایک مدت محدود کے وہ بھی صرف ایک مقدس مقصد وہدف کے لیے، روکتی ہے، اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ زیر بحث آیت میں ”اب“ سے مراد باپ نہیں ہے بلکہ چچا یا نانا یا کوئی اور اسی قسم کا رشتہ ہے۔دوسرے لفظوں میں” والد“ باپ کے معنی میں صریح ہے جب کہ”اب“ میں صراحت نہیں پائی جاتی ۔ قرآن کی آیات میں لفظ ”اٴب“ ایک مقام پر چچا کی لیے بھی استعمال ہوا ہے مثلا سورہٴ بقرہ آیہ ۱۳۳: <قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَقَ إِلَـهًا” یعقوب کے بیٹوں نے اس سے کہا ہم تیرے خدا اور تیرے آباء ابراہیم واسماعیل واسحاق کے خدائے یکتا کی پرستش کرتے ہیں“۔ ہم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسماعیل - ،یعقوب- کے چچا تھے باپ نہیں تھے۔ ۳۔مختلف اسلامی روایات سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے ، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک مشہور حدیث میں آنحضرت سے منقول ہے: ”لم یزل ینقلنی اللّٰہ من اصلاب الطاھرین الی ارحام المطھرات حتی اخرجنی فی عالمکم ھذا لم یدنسنی بدنس الجاھلیہ“۔” خدا وند تعالی مجھے ہمیشہ پاک آباء واجداد کے صلب سے پاک ماؤں کے رحم میں منتقل کرتا رہا اور اس نے مجھے کبھی زمانہ ٴ جاہلیت کی آلودگیوں اور گندگیوں میں آلودہ نہیں کیا“۔(اس روایت کو بہت سے شیعہ وسنی مفسرین مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں، نیشاپوری نے تفسیر غرائب القرآن میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زمانہ جاہلیت کی واضح ترین آلودگی شرک وبت پرستی ہے اور جنھوں نے اسے آلودگیٴ زنا میں منحصر سمجھا ہے ان کے پاس اپنے قول پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ قرآن کہتا ہے کہ : ”انَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ“ ”مشرکین گندگی میں آلودہ اور ناپاک ہیں“۔(سورئہ توبہ آیہ ۲۸) طبری جو علمائے اہلِ سنت میں سے ہے اپنی تفسیر ”جامع البیان“ میں مشہور مفسر مجاہد سے نقل کرتا ہے کہ وہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ آزر ابراہیم کا باپ نہیں تھا۔(بحوالہ: جامع البیان، جلد ۷، صفحہ ۱۵۸)۔ اہلِ سنت کا ایک دوسرا مفسر آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اسی آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ آزر ابرہیم کا باپ نہیں تھا شیعوں سے مخصوص ہے ان کی کم اطلاعی کی وجہ سے ہے کیونکہ بہت سے علماء (اہلِ سنت) بھی اسی بات کا قیدہ رکھتے ہیں کہ آزر ابرہیم - کا چچا تھا۔( تفسیر روح المعانی جلد ۷ صفحہ ۱۶۹) ” سیوطی“ مشہور سنی عالم کتاب ”مسالک الحنفاء“ میں فخر الدین رازی کی کتاب ”اسرار التنزیل“ سے نقل کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام - کے ماں باپ اور اجداد کبھی بھی مشرک نہیں تھے اور اس حدیث سے جو ہم اُوپر پیغمبر اکرم سے نقل کرچکے ہیں استدلال کیا ہے۔ اس کے بعد سیوطی خود اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم اس حقیقت کو دو طرح کی اسلامی روایات سے ثابت کرسکتے ہیں۔ پہلی قسم کی روایات تو وہ ہیں کہ جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر کے آباؤ اجداد حضرت آدم- تک ہر ایک اپنے زمانے کا بہترین فرد تھا (ان احادیث کو ”صحیح بخاری“اور ”دلائل النبوة“سے بیہقی وغیرہ نے نقل کیا ہے)۔ اور دوسروں قسم کی روایات وہ ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہر زمانے میں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہیں، ان دونوں قسم کی روایات کو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اجداد پیغمبر کہ جن میں سے ایک ابرہیم کے باپ بھی ہیں یقینا موحد تھے۔( بحوالہ مسالک الحنقاء صفحہ ۷ امطابقِ نقل حاشیہ بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۵ صفحہ ۱۱۸ اور بعد) جو کچھ کہا جا چکا ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت کی مذکورہ بالا تفسیر ایک ایسی تفسیر ہے جو خود قرآن اور مختلف اسلامی روایات کے واضح قرائن کی بنیاد پر بیان ہوئی ہے نہ کہ تفسیر بالرائے ہے جیسا کہ بعض متعصب اہلِ سنت مثلاً موٴلفِ المنار نے کہا ہے۔

75
6:75
وَكَذَٰلِكَ نُرِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلۡمُوقِنِينَ
اس طرح ہم نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت ابراہیم کو دکھائے تاکہ وہ اہل یقین میں سے ہو جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
6:76
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ ٱلَّيۡلُ رَءَا كَوۡكَبٗاۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلۡأٓفِلِينَ
جب رات کی (تاریکی) نے اسے ڈھانپ لیا تو اس نے ایک ستارے کو دیکھا تو کہا کیا یہ میرا خدا ہے ؟ لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو کہا کہ میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
6:77
فَلَمَّا رَءَا ٱلۡقَمَرَ بَازِغٗا قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمۡ يَهۡدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلضَّآلِّينَ
اور جب اس نے چاند کو دیکھا کہ وہ (سینہ افق کو چیر کر) نکلا ہے تو اس نے کہا کیا یہ میرا خدا ہے ؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا کہ اگر میرا پروردگار میری رہنمائی نہ کرے تو میں یقینی طور پر گمراہوں میں سے ہو جاؤں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
6:78
فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمۡسَ بَازِغَةٗ قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَآ أَكۡبَرُۖ فَلَمَّآ أَفَلَتۡ قَالَ يَٰقَوۡمِ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ
اور جب اس نے سورج کو دیکھا کہ وہ (سینہ افق کو چیر کر) نکل رہا ہے تو کہا کہ کیا یہ میرا خدا ہے ؟ یہ تو (سب سے) بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا اے قوم میں ان شریکوں سے جنہیں تم (خدا کے لئے) قرار دیتے ہو بیزار ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
6:79
إِنِّي وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفٗاۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
میں نے تو اپنا رخ اس ہستی کی طرف کر لیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں اپنے ایمان میں مخلص ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔

آسمانوں میں توحید کی دلیلیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس سرزنش اور ملامت کے بعد جو ابرہیم - بتوں کی کرتے تھے، اور اُس دعوت کے بعد جو آپ- نے آزر کو بت پرستی کے ترک کرنے کے لیے کی تھی ان آیات میں خدا ابراہیم کے بت پرستوں کے مختلف گرو ہوں کے ساتھ منطقی مقابلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُن کے واضح عقلی استدلالات کے طریق سے اصل توحید کو ثابت کرنے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے: جس طرح ہم نے ابرہیم کو بت پرستی کے نقصانات سے آگاہ کیا اسی طرح ہم نے اس کے لیے تمام آسمانوں اور زمین پر پروردگار کی مالکیت مطلقہ اور تسلط کی نشاندہی کی (وَ کَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ)۔(اس بناپر آیت میں ایک حذف اور تقدیر موجود ہے جو آیات قبل سے واضح ہوتی ہے اور حقیقت میں آیت کا مضمون اس طرح ہے: (کما ارینا ابراہیم قبح ما کان علی علیہ قومہ من عبادة الاصنام کذلک نری ابراہیم ملکوت السمٰوٰت و الارض)۔ ”ملکوت“اصل میں ”ملک“ (بروزن حکم) کے مادہ سے ہے جو حکومت و مالکیت کے معنی میں ہے اور”و“ اور ”ت“ کا اضافہ تاکید و مبالغہ کے لیے ہے، اس بناپر یہاں اس سے مراد تمام عالمِ ہستی پر خدا کی حکومت مطلقہ ہے۔ یہ آیت اصل میں اُس تفصیل کا ایک اجمال ہے کہ جو بعد کی آیات میں سورج، چاند اور ستاروں کی کیفیت کا مشاہدہ کرنے کے بارے میں اور اُن کے غروب ہونے سے اُن کے مخلوق ہونے پر دلیل لانے کے سلسلہ میں بیان ہوئی ہے۔ یعنی قرآن نے پہلے ان مجموعی واقعات کا اجمالی بیان کیا ہے اس کے بعد ان کی تشریح شروع کی ہے اور اس طرح سے ابراہیم- کو ملکوتِ آسمان و زمین دکھانے کا مقصد واضح ہوجاتا ہے۔ اور آیت کے آخر میں قرآن فرماتا ہے: ہمارا ہدف و مقصد یہ تھا کہ ابرہیم اہلِ یقین میں سے ہوجائے (وَ لِیَکُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِیۡنَ) اس میں شک نہیں ہے کہ ابراہیم - خدا کی یگانگت کا استدلالی و فطری یقین رکھتے تھے، لیکن اسرار آفرینش کے مطالبہ سے یہ یقین درجہ کمال کو پہنچ گیا، جیسا کہ وہ قیامت اور معاد کا یقین رکھتے تھے، لیکن سر بریدہ پرندوں کے زندہ ہونے کے مشاہدہ سے ان کا ایمان ”عین الیقین“ کے مرحلہ کو پہنچ گیا۔ بعد والی آیات میں اس موضوع کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے جو ستاروں اور آفتاب کے طلوع و غروب سے ابراہیم - کے استدلال کو ان کے خدا نہ ہونے پر واضح کرتا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب رات کے تاریک پردے نے سارے عالم کو چھپالیا تو اُن کی آنکھوں کے سامنے ایک ستارہ ظاہر ہوا۔ ابراہیم نے پکار کر کہا کہ کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو اُنہوں نے پورے یقین کے ساتھ کہا کہ میں ہرگز ہرگز غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور انھیں عبودیت و ربوبیت کے لائق نہیں سمجھتا (فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰ کَوۡکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ)۔ انھوں نے دوبارہ اپنی آنکھیں صفحہ آسمان پر گاڑدیں۔ اس دفعہ چاند کی چاندی جیسی ٹکیہ وسیع اور دل پذیر روشنائی کے ساتھ صفحہ آسمان پر ظاہر ہوئی۔ جب چاند کو دیکھا تو ابراہیم- نے پکار کر کہا کہ کیا یہ ہے میرا پروردگار ؟ لیکن آخر کار چاند کا انجام بھی اُس ستارے جیسا ہی ہوا اور اُس نے بھی اپنا چہرہ پر وہٴ افق میں چُھپالیا تو حقیقت کے متلاشی ابراہیم - نے کہا کہ اگر میرا پروردگار مجھے اپنی طرف رہنمائی نہ کرے تو میں گمراہوں کی صف میں جاکھڑا ہوں گا (فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَـذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ)۔ اُس وقت رات آخر کو پہنچ چکی تھی اور اپنے تاریک پردوں کو سمیٹ کو آسمان کے منظر سے بھاگ رہی تھی، آفتاب نے افق مشرق سے نکالا اور اپنے زیبا اور لطیف نور کو زربفت کے ایک ٹکڑے کی طرح دشت و کوہ و بیابان پر پھیلا دیا، جس وقت ابراہیم - کی حقیقت بین نظر اُس کے خیرہ کرنے والے نور پر پڑی تو پکار کر کہا: کیا میرا خدا یہ ہے؟ جو سب سے بڑا ہے اور سب سے زیادہ روشن ہے، لیکن سورج کے غروب ہوجانے اور آفتاب کی ٹکیہ کے ہیولائے شب کے منہ میں چلے جانے سے ابراہیم - نے اپنی آخری بات ادا کی، اور کہا: اے گروہِ (قوم) میں ان تمام بناوئی معبودوں سے جنھیں تم نے خدا کا شریک قرار دے لیا ہے بری و بیزار ہوں (فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَـذَا رَبِّي هَـذَآ أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ )۔ اب جب کہ میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس متغیر و محدود اور قوانینِ طبیعت کے چنگل میں اسیر مخلوقات کے ماو اء ایک ایسا خدا ہے کہ جو اس سارے نظامِ کائنات پر قادر حاکم ہے تو میں تو اپنا رڑخ ایسی ذات کی طرف کرتا ہوں کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور اس عقیدے میں کم سے کم شرک کو بھی راہ نہیں دیتا، میں تو موحد خالص ہوں اور مشرکین میں سے نہیں ہوں (اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ)۔ اس آیت کی تفسیر اور بعد والی آیات کی تفسیر میں اور یہ کہ ابراہیم- جیسے موحد و یکتا پرست نے کس طرح آسمان کے ستارے کی طرف اشارہ کیا اور یہ کہا کہ یہ میرا خدا ہے مفسرّین نے بہت بحث کی ہے۔ ان تمام تفاسیر میں سے دو تفسیریں زیادہ قابلِ ملاحظہ ہیں کہ جن میں سے ہر ایک کو بعض بزرگ مفسرین نے اختیار کیا ہے اور ان پر منابعِ حدیث میں بھی شواہد موجود ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم - ذاتی طور پر یہ چاہتے تھے کہ خداشناسی کے بارے میں غور و فکر کریں اور اُس معبود کو جسے وہ اپنی پاک فطرت کی بناء پر اپنی روح و جان کی گہرائیوں میں پاتے تھے تلاش کریں۔ وہ خدا کو نورِ فطرت اور عقلی احمالی دلیل سے تو پہنچان چکے تھے، اور ان کی تمام تعمیرات بتلاتی ہیں کہ انھیں اُس کے وجود میں کسی قسم کا شک و شعبہ نہیں تھا، لیکن وہ اس کے حقیقی مصداق کی تلاش میں تھے، بلکہ اُس کے حقیقی مصداق کو بھی جانتے تھے مگر چاہتے یہ تھے کہ زیادہ واضح عقلی اتدلالات کے ذریعہ ”حق الیقین“ کے مرحلہ تک پہنچ جائیں۔ اور یہ واقعہ دور ان نبوت سے پہلے کا ہے اور احتمال یہ ہے کہ ابتداء بلوغ یا قبل از بلوغ کا ہے۔ کچھ روایات اور تواریخ میں ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ ابراہیم - کی نظر آسمان کے ستاروں پر پڑی تھی اور و رات کے نیلگوں صفحہ آسمان کو اس کے روشن اور چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ آپ کی والدہ اُن کے بچپنے سے ہی نمرود جبار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے خوف سے ایک غار کے اندر ان کی پرورش کررہی تھیں۔ لیکن یہ بات بہت ہی بعید نظر آتی ہے کہ کوئی انسان کئی سالوں تک غار کے اندر ہی زندگی گزارتا رہے یہاں تک ایک تاریک رات میں بھی اس سے باہر قدم نہ رکھا ہو۔ شاید بعض کی نظر میں اس احتمال کی تقویت (رای کو کبا) کے جملے کے سبب سے ہو کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے اس وقت تک ستارہ نہیں دیکھا تھا۔ لیکن یہ تعبیر کسی لحاظ سے بھی یہ مفہوم اپنے اندر نہیں رکھتی، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر چہ اُنہوں نے اس وقت تک ستارے، چاند اور سورج کو دیکھا تو بہت دفعہ تھا لیکن ایک محقق توحید کے طور پر یہ پہلی دفعہ تھی کہ اُن پر نظر ڈالی اور ان کے طلوع و غروب کو مقام خدائی کی نفی کمے ساتھ مربوط ہونے پر غور کرنے لگے۔ در حقیقت ابراہیم - نے انھیں بار ہا دیکھا تھا لیکن اس نظر سے نہیں۔ اس بناپر جب ابراہیم - یہ کہتے ہیں کہ : ہٰذا ربی (یہ میرا خدا ہے) تو یہ ایک قطعی خبر کے عنوان سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک فرض اور احتمال کے طور پر اور ہے اور غور وفکر کے لیے ہے۔ اس کی صحیح مثال یہ ہے کہ جس طرح ہم کسی حادثہ کی ملت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو تمام احتمالات اور فروض کو ایک ایک کرکے مطالعہ کے لیے فرض کرتے چلے ہیں اور ہر ایک کے لوازم کی تحقیق ملت کو پاسکیں اور اس قسم کی بات نہ ہی نفی ایمان پر دلالت کرتی ہے بلکہ یہ زیادہ سے زیادہ تحقیق اور بہتر سے بہتر شناسائی کا ایک طریقہ ہے اور ایمان کے بلند مراتب تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے ۔ جیسا کہ” معاد“ کے سلسلہ میں بھی حضرت ابراہی-م مرحلہ شہود اور اس سے پیدا ہونے والے اطمینان تک پہنچنے کے لیے بیشتر تحقیق کے در پے ہوئے تھے۔ تفسیر عیاشی میں محمد بن مسلم کے واسطے سے امام باقر- یا امام صادق سے اس طرح منقول ہے : ”اِنَّمَا کَانَ اِبرَاھِیم طَالباً لِرَبِّہِ ولم یبلغ کفرًاو انّہ مِن النّاس فِی مِثلِ ذَالِکَ فَاِنَّہُ بِمَنزلتہ“۔ ابراہیم نے یہ گفتگو تحقیق کے طور پر کی تھی اور لوگوں میں سے جو شخص بھی تفکرو تحقیق کے لیے یہ بات کہتے تو وہ ابراہیم- کی طرح ہوگا(تفسیر نور اثقلین جلد اوّل صفحہ ۷۳۸) اس سلسلے میں دو روایات اور بھی تفسیرنور الثقلین سے نقل ہوئی ہے ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم - نے یہ بات ستارہ پرستوں اور سورج پرست لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی اور احتمال یہ ہے کہ بابل میں بت پرستوں کے ساتھ سخت قسم کے مقابلے اور مبارزات کرنے اور اس زمین سے شام کی طرف نکلنے کے بعد جب ان اقوام سے ان کا آمناسامنا ہوا تو اس وقت یہ گفتگو کی تھی ۔حضرت ابراہیم - بابل میں نادان قوموں کی ہٹ وھرمی کو ان کی غلط راہ و رسم میں آزما چکے تھے لہٰذا اس بناپر کہ آفتاب و مہتاب کے پجاریوں اور ستارہ پرستوں کو اپنی طرف متوجہ کریں، پہلے ان کے ہم صدا ہوگئے اور ستارہ پرستوں سے کہنے لگے کہ تم یہ کہتے ہو کہ یہ زہرہ ستارہ میرا پروردگار ہے، بہت اچھا چلو اسے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ اس عقیدے کا انجام تمہارے سامنے پیش کروں۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس ستارے کا چمکدار چہرہ افق کے تاریک پردے کے پیچھے چھپ گیا، یہ وہ مقام تھا کہ ابراہیم - کے ہاتھ میں ایک محکم ہتھیار آگیا اور وہ کہنے لگے میں تو کبھی ایسے معبود کو قبول نہیں کرسکتا۔ اس بناپر” ھذا ربی“کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے عقیدے کے مطابق یہ میرا خدا ہے، یا یہ کہ آپ نے بطور استفہام فرمایا: کیا یہ میرا خدا ہے؟ اس سلسلے میں بھی ایک حدیث تفسیر نور الثقلین اور دیگر تفاسیر میں عیون اخبار الرضاؑ سے نقل ہوئی ہے۔

حضرت ابراہیم - کا توحید پر استدلال

لفظ ”اب“ عربی زبان میں عام طور پر باپ کے لیے بولا جاتا ہے، اور جیسا کہ ہم دیکھے گے کہ بعض اوقات چچا ، نانا،مربی ومعلم اور اسی طرح وہ افراد کہ جو انسان کی تربیت میں کچھ نہ کچھ زحمت ومشقت اٹھاتے ہیں ان پر بھی بولا جاتا ہے ، لیکن اس میں شک نہیں کہ جب یہ لفظ بولا جائے اور کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو پھر معنی کے لیے پہلے باپ ہی ذہن میں آجاتا ہے ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سچ مچ اوپر والی آیت یہ کہتی ہے کہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو کیا ایک بت پرست اور بت ساز شخص ایک اولوالعزم کا پیغمبر کا باپ ہوسکتا ہے، اس صورت میں کیا انسان کی نفسیات و صفات کی وراثت اس کے بیٹے میں غیر مطلوب اثرات پیدا نہیں کردے گی۔ اہل سنت مفسرین کی ایک جماعت نے پہلے سوال کا مثبت جواب دیا ہے اور آزر کا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا حقیقی باپ سمجھا ہے، جب کہ تمام مفسرین وعلماء شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا، بعض اسے آپ کا نانا اور بہت سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا چچا سمجھتے ہیں ۔ وہ قرائن جو شیعہ علماء کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں حسب ذیل ہے: ۱۔ کسی تاریخی منبع ومصدر اور کتاب میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے والد کا نام آزر شمار نہیں کیا گیا بلکہ سب نے ”تارخ“ لکھا کتب عہدین میں بھی یہی نام آیا ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ آزر تھا، یہاں انھوں نے ایسی توجیہات کی ہے جو کسی طرح قابل قبول نہیں ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کے باپ کا نام تارخ اور اس کا لقب آزر تھا، حالانکہ یہ لقب بھی منابع تاریخ میں ذکر نہیں ہوا، یا یہ کہ آزر ایک بت تھا کہ جس کی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ پوجا کرتا تھا حالانکہ یہ احتمال اوپر والی آیت کے ظاہر کے ساتھ جویہ کہتی ہے کہ آزر ان کا باپ تھا کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتی، مگر یہ کہ کوئی جملہ یا لفظ مقدر مانیں جو کہ خلاف ظاہر ہو ۔ ۲۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ مسلمان یہ حق نہیں رکھتے کہ مشرکین کے لیے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے عزیز وقریب ہی ہوں، اس کے بعد اس غرض سے کہ کوئی آزر کے بارے میں ابراہیم (علیه السلام) کے استغفار کو دستاویز قرار نہ دے اس طرح کہتا ہے: وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ (سورہ توبہ: ۱۱۴) ۔ ابراہیم (علیه السلام) کی اپنے باپ آزر کے لیے استغفار صرف اس وعدہ کی بنا پر تھے جو انھوں نے اس سے کیا تھا، چونکہ آپ نے یہ کہا تھا کہ : ساٴستغفرلک ربی(مریم :۴۷) ۔ یعنی میں عنقریب تیرے لیے استغفار کروں گا ۔ یہ اس امید پر تھا کہ شایدوہ اس وعدہ کی وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستی سے بعض آجائے لیکن جب اسی بت پرستی کی راہ میں پختہ اور ہٹ دھرم پایا تو اس کے لیے استغفار سے دستبردار ہوگئے ۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے آزر سے مایوس ہوجانے کے بعد پھر کبھی اس کے لیے طلب مغفرت نہیں کی، اور ایسا کرنا مناسب بھی نہیں تھا، تمام قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کی جوانی کے زمانے کا ہے جب کہ آپ شہر بابل میں رہائش پذیر تھے اور بت پرستوں کے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ کررہے تھے ۔ لیکن قرآن کی دوسری آیات نشاندہی کرتی ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اپنی آخری عمر میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے باپ کے لیے طلب مغفرت کی ہے (البتہ ان آیات میں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا، نشان باپ سے ”اب“ کو تعبیر نہیں کیا بلکہ ”والد“ سے تعبیر کیا ہے جو صراحت کے ساتھ باپ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے) ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: اٴَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَھَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ--- رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ- ” حمد ثنا اس خدا کے لیے ہے کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کیے، میرا پروردگار دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے، میرے ماں باپ اور مومنین کو قیامت کے دن بخش دے“۔ اس آیت کو سورہٴ توبہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں کو مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع کرتی ہے اور ابراہیم - کو بھی ایسے کام سے، سوائے ایک مدت محدود کے وہ بھی صرف ایک مقدس مقصد وہدف کے لیے، روکتی ہے، اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ زیر بحث آیت میں ”اب“ سے مراد باپ نہیں ہے بلکہ چچا یا نانا یا کوئی اور اسی قسم کا رشتہ ہے۔دوسرے لفظوں میں” والد“ باپ کے معنی میں صریح ہے جب کہ”اب“ میں صراحت نہیں پائی جاتی ۔ قرآن کی آیات میں لفظ ”اٴب“ ایک مقام پر چچا کی لیے بھی استعمال ہوا ہے مثلا سورہٴ بقرہ آیہ ۱۳۳: <قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَقَ إِلَـهًا” یعقوب کے بیٹوں نے اس سے کہا ہم تیرے خدا اور تیرے آباء ابراہیم واسماعیل واسحاق کے خدائے یکتا کی پرستش کرتے ہیں“۔ ہم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسماعیل - ،یعقوب- کے چچا تھے باپ نہیں تھے۔ ۳۔مختلف اسلامی روایات سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے ، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک مشہور حدیث میں آنحضرت سے منقول ہے: ”لم یزل ینقلنی اللّٰہ من اصلاب الطاھرین الی ارحام المطھرات حتی اخرجنی فی عالمکم ھذا لم یدنسنی بدنس الجاھلیہ“۔” خدا وند تعالی مجھے ہمیشہ پاک آباء واجداد کے صلب سے پاک ماؤں کے رحم میں منتقل کرتا رہا اور اس نے مجھے کبھی زمانہ ٴ جاہلیت کی آلودگیوں اور گندگیوں میں آلودہ نہیں کیا“۔(اس روایت کو بہت سے شیعہ وسنی مفسرین مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں، نیشاپوری نے تفسیر غرائب القرآن میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زمانہ جاہلیت کی واضح ترین آلودگی شرک وبت پرستی ہے اور جنھوں نے اسے آلودگیٴ زنا میں منحصر سمجھا ہے ان کے پاس اپنے قول پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ قرآن کہتا ہے کہ : ”انَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ“ ”مشرکین گندگی میں آلودہ اور ناپاک ہیں“۔(سورئہ توبہ آیہ ۲۸) طبری جو علمائے اہلِ سنت میں سے ہے اپنی تفسیر ”جامع البیان“ میں مشہور مفسر مجاہد سے نقل کرتا ہے کہ وہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ آزر ابراہیم کا باپ نہیں تھا۔(بحوالہ: جامع البیان، جلد ۷، صفحہ ۱۵۸)۔ اہلِ سنت کا ایک دوسرا مفسر آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اسی آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ آزر ابرہیم کا باپ نہیں تھا شیعوں سے مخصوص ہے ان کی کم اطلاعی کی وجہ سے ہے کیونکہ بہت سے علماء (اہلِ سنت) بھی اسی بات کا قیدہ رکھتے ہیں کہ آزر ابرہیم - کا چچا تھا۔( تفسیر روح المعانی جلد ۷ صفحہ ۱۶۹) ” سیوطی“ مشہور سنی عالم کتاب ”مسالک الحنفاء“ میں فخر الدین رازی کی کتاب ”اسرار التنزیل“ سے نقل کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام - کے ماں باپ اور اجداد کبھی بھی مشرک نہیں تھے اور اس حدیث سے جو ہم اُوپر پیغمبر اکرم سے نقل کرچکے ہیں استدلال کیا ہے۔ اس کے بعد سیوطی خود اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم اس حقیقت کو دو طرح کی اسلامی روایات سے ثابت کرسکتے ہیں۔ پہلی قسم کی روایات تو وہ ہیں کہ جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر کے آباؤ اجداد حضرت آدم- تک ہر ایک اپنے زمانے کا بہترین فرد تھا (ان احادیث کو ”صحیح بخاری“اور ”دلائل النبوة“سے بیہقی وغیرہ نے نقل کیا ہے)۔ اور دوسروں قسم کی روایات وہ ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہر زمانے میں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہیں، ان دونوں قسم کی روایات کو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اجداد پیغمبر کہ جن میں سے ایک ابرہیم کے باپ بھی ہیں یقینا موحد تھے۔( بحوالہ مسالک الحنقاء صفحہ ۷ امطابقِ نقل حاشیہ بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۵ صفحہ ۱۱۸ اور بعد) جو کچھ کہا جا چکا ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت کی مذکورہ بالا تفسیر ایک ایسی تفسیر ہے جو خود قرآن اور مختلف اسلامی روایات کے واضح قرائن کی بنیاد پر بیان ہوئی ہے نہ کہ تفسیر بالرائے ہے جیسا کہ بعض متعصب اہلِ سنت مثلاً موٴلفِ المنار نے کہا ہے۔

"کذالک" سے کیا مراد ہے؟

زیر بحث آیت میں لفظ ”کذالک“(اسی طرح سے) اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح سے ہم نے ابراہیم کی عقل و خرد کے لیے بت پرستی کے مضراّت و نقائص واضح کیے تھے اِسی طرح سے آسمان و زمین پر خدا کی حکومت و مالکیت کی بھی ہم نے اُسے نشاندہی کرائی، بعض مفّسرین نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تجھے اپنی قدرت و حکومت کے آثار آسمانوں پر دکھائے اسی طرح ابراہیم کو ہم نے دکھائے تھے تاکہ ان کے ذریعے وہ خدا سے زیادہ آشنا ہوجائے۔

”جن“ “سے مراد

”جن“ (مادہ ”جن“ بروزن ”فن“سے)کسی چیز کو چھپانے کے معنی میں ہے اور زیر بحث آیت میں جملہ کا معنی یہ ہے کہ ”جب رات نے ابراہیم- سے موجودات کا چہرہ چھپادیا اور“۔ اور یہ جو دیوانہ کو مجنون کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ گویا ایک پردہ اس کی عقل پر پڑگیا ہے اور نظر آنے والے موجود کو جو جن کہتے ہیں تو وہ بھی اسی لحاظ سے ہے۔ جنین بھی بچے کے شکم مادر میں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے ہے اور جنت کا اطلاق بہشت اور باغ پر بھی اسی بناپر ہے کہ اس کی زمین درختوں کے نیچے چھپی ہوئی ہوتی ہے اور دل کو جنان (بروزن زمان) اسی لیے کہتے ہیں چونکہ وہ سینہ کے اندر پوشیدہ ہے، یا یہ کہ وہ انسان کے اسرار اور رازوں کو چھپائے رکھتا ہے۔ ”کوکباً“کونسا ستارہ مراد ہے؟

”کوکباً“کونسا ستارہ مراد ہے؟

یہ کہ ”کوکباً“ (ایک ستارہ )سے کونسا ستارہ مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن زیادہ تر مفسرین نے زہرہ یا مشتری کا ذکر کیا ہے اور کچھ تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانوں میں ستاروں کی پرستش کی جایا کرتی اور ”اٰلھة“ (خداوٴں )کا حصہّ شمار ہوتی تھے لیکن اس حدیث میں جو امام علی- بن موسیٰ رضا سے ”عیون الاخبار“ میں نقل ہوئی ہے کہ یہ تصریح ہوئی ہے کہ یہ زہرہ ستارہ تھا، تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی امام صادق- سے یہی بات مروی ہے ۔( بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد اول صفحہ ۷۳۵ و صفحہ ۷۳۷-) بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ کلدہ اور بابل کے لوگوں نے وہاں بت پرستوں کے ساتھ مقابلے اور مبارزے شروع کررکھے تھے اور ہر ایک ستارے کو خالق یا کسی خاص موجودات کا رب النوع سمجھے تھے، ” مریخ “کو رب النوع جنگ اور مشتری کو رب النوع عدل وعلم اور عطارد کو رب النوع وزراء اور آفتاب کو سب کا پادشاہ سمجھے تھے ۔(تفسیر ابوالفتوح جلد چہارم صفحہ ۴۶۷ (حاشیہ )-

” بازغ“ سے مراد

” بازغ“ ”بزغ“ کے مادہ سے(بروزن نذر) ہے۔یہ اصل میں شگاف کرنے اور خون جاری کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے جیوانات کی جراحی کو بزغ کہتے ہیں۔ اس لفظ کا آفتاب یا ماہتاب کے طلوع پر اطلاق حقیقت میں ایک قسم کی خوبصورت تشبیہ ہے کیونکہ آفتاب و ماہتاب اپنے طلوع کے وقت گویا تاریکی کے پردے کو پھاڑ تے ہیں۔ علاوہ ازیں افق کے کنارے پر ایک ہلکی سی سرخی جو خون کے رنگ سے ملتی جلتی ہوتی ہے اپنے اطراف میں ایجاد کرلیتے ہیں۔

”فطر“۔سے مراد

”فطر“۔”فطور“ کے مادہ سے شگاف کرنے اور پھاڑ نے کے معنی میں ہے اور جیسا کہ اسی سورہ کی آیت ۱۴ کے ذیل میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اس لفظ کا آسمان و زمین کی پیدائش پر اطلاق شاید اس سبب سے ہو کہ موجودہ زمانے کے علم کے مطابق ابتداء میں سارا عالم ایک ہی کرّہ تھا اور بعد میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے گئے اور آسمانی کرات یکے بعد دیگرے وجود میں آتے گئے (مزید توضیح کے لیے مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیا جائے)۔

حنیف کا معنی

”حنیف“ کا معنی خالص ہے جیسا کہ اس کی تفصیل سورہٴ آلِ عمران آیت ۶۷ کے ذیل میں جلد دوم تفسیر نمونہ ص ۳۲۹ (اردو ترجمہ) میں بیان ہوچکی ہے۔

80
6:80
وَحَآجَّهُۥ قَوۡمُهُۥۚ قَالَ أَتُحَـٰٓجُّوٓنِّي فِي ٱللَّهِ وَقَدۡ هَدَىٰنِۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشۡرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّي شَيۡـٔٗاۚ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًاۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
اس (ابراہیم) کی قوم نے اس سے حجت بازی شروع کی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں حجت بازی کیوں کرتے ہو حالانکہ خدا نے مجھے (واضح دلائل کے ساتھ) ہدایت کی ہے اور جسے تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو میں اس سے نہیں ڈرتا (اور مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا)مگر یہ کہ میرا پروردگار کچھ چاہے میرے پروردگار کی آگاہی اور علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ تمام چیزوں پر حاوی ہے کیا تم متذکر اور بیدار نہیں ہوتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
6:81
وَكَيۡفَ أَخَافُ مَآ أَشۡرَكۡتُمۡ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمۡ أَشۡرَكۡتُم بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗاۚ فَأَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ أَحَقُّ بِٱلۡأَمۡنِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
میں تمہارے بتوں سے کس طرح ڈروں جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے خدا کا ایسا شریک قرار دے لیا ہے کہ جس کے بارے میں اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی (سچ بتاؤ) ان دونوں گروہوں (بت پرستوں اور خدا پرستوں ) میں سے کونسا گروہ سزا سے امن میں رہنے کے زیادہ لائق ہے اگر تم جانتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
6:82
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ
ہاں ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کیا ان کا انجام امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
6:83
وَتِلۡكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيۡنَٰهَآ إِبۡرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
یہ ہمارے دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دیئے تھے ہم جس شخص کے درجات کو چاہتے ہیں تیرا پروردگار حکیم اور دانا ہے۔

حضرت ابراہیم - کی بت پرست قوم و جمعیت سےبحث و گفتگو

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم - کے توحیدی استدلالات کے سلسلہ میں گزرچکی ہے، اِن آیات میں اُسی بحث و گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم - کی بت پرست قوم و جمعیت سے ہوئی تھی۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قومِ ابراہیم ان کے ساتھ گفتگو اور کج بحثی کرنے لگی (وَ حَآجَّہٗ قَوۡمُہٗ) ابرہیم - نے ان کے جواب میں کہا: تم مجھ سے خدائے یگانہ کے سلسلہ میں بحث اور مخالفت کیوں کرتے ہو حالانکہ خدانے مجھے منطقی اور واضح دلائل کے ساتھ راہ توحید کی ہدایت کی ہے (قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّیۡ فِی اللّٰہِ وَ قَدۡ ہَدٰىنِ)۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابراہیم - کی قوم کے بت پرستوں کی جمعیت اس کوشش میں لگی ہوئی تھی کہ جس قیمت پر بھی ممکن ہوسکے ابراہیم - کو اُن کے عقیدے سے پلٹالیں اور بت پرستی کے آئین کی طرف کھینچ لیں۔ لیکن حضرت ابراہیم - انتہائی شجاعت و شہامت کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے ڈٹ گئے اور منطقی دلائل کے ساتھ سب کی باتوں کے جواب دیئے۔ یہ بات کہ وہ (بت پرست) کس منطق سے حضرت ابراہیم - کا مقابلہ کرتے تھے ان آیات میں صراحت کے ساتھ کوئی چیز بیان نہیں ہوئی لیکن حضرت ابراہیم - کے جواب سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے آپ کو پانے خداؤں اور بتوں کے غیض و غضب اور سزا کی دھمکی دی اور ان کی مخالفت سے ڈرایا تھا، کیونکہ آیت کے آخر میں ہم حضرت ابراہیم - کی زبانی اس طرح پڑھتے ہیں: میں ہرگز تمہارے بتوں سے نہیں ڈرتا کیونکہ اُن میں یہ قدرت ہی نہیں ہے کہ کسی کو نقصان و ضرر پہنچا سکیں (وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِکُوۡنَ بِہٖۤ)۔کوئی شخص اور کوئی چیز مجھے نقصان نہیں پہنچاسکتی مگر یہ کہ خدا چاہے (اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ رَبِّیۡ شَیۡئًا)۔( حقیقت میں اُوپر والا استثناء، استثناء منقطع سے شباہت رکھتاہے، کیونکہ بتوں سے نفع و نقصان کی قدرت کی کلی طور پر نفی ہوئی ہے اور خدا کے لیے ثابت ہے۔ اگر چہ اس جملے کے معنی میں اور مفسرّین نے اور احتمال بھی ذکر کیے ہیں، لیک جو کچھ ہم نے اُوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ گویا ابراہیم - اس جملے کے ذریعے یہ جاہتے ہیں کہ ایک اجتمالی پیش بندی کرلیں اور کہیں کہ اگر اس کشمش کے دوران بالفرض مجھے کوئی حادثہ پیش آجائے، تو اس کا بتوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ربط نہیں ہوگا بلکہ اس کا تعلق مشیت الٰہی کے ساتھ ہوگا کیونکہ بے شعور وبے جان بت تو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ کیا دوسرے کے نفع ونقصان کیا مالک ہوں گے؟ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: میرے پروردگار کا علم و دانش اس طرح ہمہ گیر و وسیع ہے کہ ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لیے ہوئے ہے (وَسِعَ رَبِّیۡ کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا)۔ یہ جملہ حقیقت میں سابقہ جملے کی ایک دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ بت ہرگز کوئی نفع یا نقصان پہنچاہی نہیں سکتے کیونکہ وہ کسی قسم کا علم و آگاہی نہیں رکھتے، اور نفع اور نقصان پہنچانے کی پہلی شرط علم و شعور اور آگاہی ہے۔ صرف وہ خدا کہ جس کے علم و دانش نے تمام چیزوں کا احاط کیا ہوا ہے وہی سود و زیاں بھی پہنچا سکتا ہے، تو پھر میں اُس کے غیر کے غیض و غضب سے کیوں ڈروں۔ آخر میں اُن کے فکر و فہم کو بیدار کرنے کے لیے، اُنہیں مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے: کیا ان تما باتوں کے باوجود بھی تم متذکر اور بیدار نہیں ہوتے (اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ)۔ بعد والی آیت میں حضرت ابراہیم - کی ایک اور منطق و استدلال کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ بت پرست گروہ سے کہتے ہیں: ”یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں بتوں سے ڈروں اور تمہاری دھمکیوں کے مقابلہ میں اپنے اندر وحشت اور خوف پیدا کرلوں حالانکہ مجھے تو ان بتوں میں عقل و شعور اور قدرت کی کسی قسم کی کوئی نشانی دکھائی نہیں دیتی، لیکن تم باوجود اس کے کہ خدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہو اور اس کی قدرت اور علم کو بھی جانتے ہو اور اُس نے کسی قسم کا کوئی حکم بتوں کی پرستش کے بارے میں تمہاری طرف نازل نہیں کیا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود تم تو اُس سے نہیں ڈرتے، تو میں بتوں کے غضب سے کس طرح ڈروں (وَ کَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَ لَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا)(سلطان کا معنی برتری و کامیابی ہے اور چونکہ دلیل و برہان کامیابی کا سبب ہوتی ہے لہٰذا بعض اوقات اُسے بھی سلطان کہتے ہیں اور اُوپر والی آیت اسی معنی میں ہے۔ یعنی بتوں کی پرستش کی اجازت کے لیے کسی قسم کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور حقیقت میں یہ ایسا مطلب ہے جس کا کوئی بت پرست انکار نہیں کرسکتا کیونکہ اس قسم کا حکم عقل یا وحی و نبوت کے ذریعہ سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اور ان دونوں باتوں میں سے کوئی سی دلیل موجود نہیں ہے۔)- کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بت پرست ایسے خدا کے منکر نہ تھے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے۔ وہ تو صرف بتوں کو عبادت میں شریک کرتے تھے اور انھیں درگاہ خداوندی میں شفیع خیال کرتے تھے۔ اب تم ہی انصاف کرو کہ میں امن و امان کا زیادہ حقدار ہوں یا تم (فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ)۔ حقیقت میں اس مقام پر ابراہیم - کی منطق ایک عقلی منطق ہے جو اس واقعیت کی بنیاد پر قائم ہے کہ تم مجھے بتوں کے غضب ناک ہونے کی دھمکی دے رہے ہو۔ حالانکہ اِن کے وجود کی تاثیر مو ہوم ہے، لیکن تم اُس عظیم خدا سے بالکل نہیں ڈرتے جسے تم اور میں دونوں قبول کرتے ہیں اور ہمیں اُس کے حکم کا پیرو ہونا چاہیے اور اس کی طرف سے بتوں کی پرستش کا کوئی حکم نہیں پہنچا۔ تم نے ایک قطعی و یقینی امر کو تو چھوڑ رکھا ہے اور ایک موہوم چیز کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو۔ بعد والی آیت میں حضرت ابراہیم - کی زبانی اُس سوال کا جواب نقل ہوا ہے جو خود اُنہوں نے قبل کی آیت میں پیش کیا تھا (اور علمی استدلالات میں یہ ایک عمدہ طریقہ ہے کہ بعض اوقات استدلال کنندہ شخص مد مقابل کی طرف سے سوال کرکے پھر خود ہی اس کا جواب دیتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مطلب اتنا واضح ہے کہ جس کا جواب ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے) ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم و ستم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا، امن و امان بھی انہی کے لیے ہے اور ہدایت بھی انہی کے ساتھ مخصوص ہے (اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ)۔ اُس روایت میں بھی جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، اس بات کی تاکید ہوتی ہے کہ یہ گفتگو حضرت ابراہیم - کی بت پرستوں کے ساتھ گفتگو کا ضمیمہ ہے۔(بحوالہ تفسیر مجمع البیان ذیل آیہ زیرِ بحث۔) بعض مفسّرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ جملہ خدا کا بیان ہوگا نہ کہ حضرت ابراہیم - کی گفتگو۔ لیکن پہلا احتمال علاوہ اس کے کہ یہ روایت میں وارد ہوا ہے، آیات کی وضع و ترتیب کے ساتھ بھی زیادہ بہتر مطابقت رکھتا ہے لیکن یہ احتمال کہ یہ جملہ بت پرستوں کی گفتگو ہو جو حضررت ابراہیم - کی باتیں سننے کے بعد بیدار ہوئے ہوں بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔

یہاں ظلم سے کیا مراد ہے؟

مفسّرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ یہاں ”ظلم“ شرک کے معنی میں ہے۔ سورہٴ لقمان (کی آیہ ۱۳) میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ ” اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ “ (شرک ظلم عظیم ہے) کو اس معنی کا شاہد قرار دیا ہے۔ ایک روایت میں بھی ابن مسعود سے یہ نقل ہوا ہے کہ جس وقت یہ (زیر بحث) آیت نازل ہوئی، تو یہ بات لوگوں کو بہت گراں معلوم ہوئی۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول ایسا کون ہے کہ جس نے اپنے اُوپر تھوڑا بہت ظلم نہ کیا ہو (لہٰذا یہ آیت تو سبھی کو شامل کرلیتی ہے) رسول اللہ نے فرمایا: جو تم نے خیال کیا ہے اس سے وہ مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے خدا کے صالح بندے (لقمان کا) قول نہیں سنا (جو اپنے بیٹے سے) کہتا ہے ”میرے بیٹے خدا کا شریک قرار نہ دے کہ شرک، ظلم عظیم ہے“۔(تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں) لیکن چونکہ قرآن کی آیات بہت سے مواقع پر دو یا دو سے زیادہ معانی کی حامل ہوتی ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ اُن میں سے ایک معنی دوسرے معنی دوسرے معنی سے زیادہ وسیع اور عمومی ہوتو آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ ”امنیت“ سے مراد عام امنیت ہے خواہ خدا کے عذاب سے امن و امان ہو یا اجتماعی دردناک حوادث سے امن و امان ہو۔ یعنی جنگیں ایک دوسرے پر زیادتیاں، مفاسد اور جرائم سے امان، یہاں تک کہ روحانی سکون و اطمینان صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب کہ انسانی معاشرے میں دو اصولوں کی حکمرانی ہو، اوّل ایمان اور دوسرے عدالت اجتماعی، اگر خدا پر ایمان کی بنیادیں ہل جائیں اور پروردگار کے سامنے جواہدہی کا احساس ختم ہوجائے اور عدالت اجتماعی کی جگہ ظلم و ستم کا دَور دورہ ہو۔ تو ایسے معاشرے میں ان و امان ختم ہوجائے گا اور یہی سبب ہے کہ دنیا کے بہت سے مفکرین کی طرف سے دنیا میں بدامنی کی مختلف صورتوں کو ختم کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود دنیا کے لوگوں کا واقعی امن دامان سے دن بدن فاصلہ بڑھتا جارہا ہے، اس کیفیت کا سبب وہی ہے کہ طرف زیر نظر آیت میں اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایمان کی بنیادیں ہل رہی ہیں اور عدالت کی جگہ ظلم کا دور دورہ ہے ۔ خاص طور پر روحانی امن و سکون میں ایمان کی تاثیر سے تو کسی کے لیے بھی تردید کی گنجایش نہیں ہے۔ جیسا کہ ارتکاب ظلم سے وجدان کی پریشانی اور روحانی امن وسکون کا چھن جانا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ بعض روایات میں بھی حضرت صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ زیر بحث آیت سے مراد یہ ہے کہ:وہ لوگ کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے حکم کے مطابق اُمت اسلامی کی ولایت و رہبری کے سلسلے میں آپ کے بعد ایمان لے آئیں اور اُسے دوسرے لوگوں کی ولایت و رہبری کے ساتھ مخلوط نہ کریں تو وہ امن و امان میں ہیں۔ (تفسیر نور الثقلین جلد اوّل صفحہ ۷۴۰۔) یہ تفسیر حقیقت میں آیہ شریفہ میں موجود مطلب کی روح اور نچوڑ پپر نظر رکھتے ہوئے بیان ہوئی ہے کیونکہ اس آیت میں خدا کی ولایت و رہبری کے متعلق گفتگو ہے اور اُسے اُس کے غیر کی رہبری کے ساتھ خلط ملط نہ کرنے کے سلسلہ میں ہے اور چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی رہبری آیہ ”اِنَّمَا وَلِیّکُمُ اللّٰہ وَ رَسُولَہکے اقتضا کے مطابق خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رہبری کا پرتو ہے اور خدا کی طرف سے معین نہ ہونے والی رہبریاں ایسی نہیں ہیں لہٰذا اُوپر والی آیت ایک وسیع نظر سے ان سب پر محیط ہوگی، اس بناء پر اس حدیث سے مراد یہ نہیں ہے کہ آیت کا مفہوم اسی معنی میں منحصر ہے، بلکہ یہ تفسیر آیت کے اصلی مفہوم کا پرتو ہے۔ اسی لیے ہم حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک دوسری حدیث میں پڑھتے ہیں کہ یہ آیت خوارج جو ولی خدا کی ولایت سے نکل گئے تھے اور شیطان کی ولایت و رہبری میں چلے گئے تھے، کے بارے میں بھی ہے۔(تفسیر برہان جلد اوّل صفحہ ۵۳۸۔) بعد والی آیت اُن تمام بحثوں کی طرف۔ ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہ جو حضرت ابراہیم- کی طرف سے توحید کے بیان اور شرک کے خلاف مبارزہ و مقابلہ کے سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: یہ ہمارے وہ دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم - کو اس کی قوم و جمعیت کے مقابلہ میں دیئے تھے (وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ)۔ یہ صحیح ہے کہ اس استدلال میں منطقی پہلو بھی تھا اور ابراہیم - عقلی قوت اور فطری الہام کی بناپر اُن تک پہنچے تھے لیکن چونکہ یہ قوت عقل اور وہ الہام فطرت سب خدا کی ہی طرف سے تھے، لہٰذا خدا ان تمام استدلالات کو اپنی نعمات میں سے شمار کررہا ہے کہ جو ابراہیم - کے دل جیسے آمادہ دلوں میں منعکس ہوتے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ”تلک“ عربی زبان میں بعید کے لیے اسم اشارہ ہے۔ لیکن بعض اوقات موضوع کی اہمیت، اور اس کا بلند پایہ ہونا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ ایک نزدیک کا موضوع بھی اسم اشارہٴ بعید سے ذکر ہو، جس کی مثال سورہٴ بقرہ کی ابتداء میں ہے: ”ذَٰلِکَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ“۔ یہ عظیم کتاب وہ ہے کہ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے“۔ پھر اس بحث کی تکمیل کے لیے فرمایا یا ہے: ہم جس کے درجات کو چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں (نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ)۔ ”درجہ“ کے بار سے میں اور اس کے اور ”درک“ کے درمیان فرق کے بارے میں ہم سورہٴ نساء آیہ ۱۴۵ جلد چہارم صفحہ ۱۴۸ میں بحث کرچکے ہیں۔ لیکن اس غرض سے کہ کوئی اشتباہ واقع نہ ہو۔ کہ لوگ یہ گمان کرنے لگ جائیں کہ خدا اس درجے کے بلند کرنے میں کسی تبعیض سے کام لیتا ہے، قرآن فرماتا ہے: تیرا پروردگار حکیم اور عالم ہے اور وہ درجات عطا فرماتا ہے وہ ان کی لیاقت و قابلیت سے آگاہی اور میزان حکمت کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جب تک کوئی شخص لائق اور قابل نہ ہو اُس سے بہرہ مند نہیں ہوگا (اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ)۔ ۸۴

84
6:84
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ كُلًّا هَدَيۡنَاۚ وَنُوحًا هَدَيۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اور ہم نے اسے (ابراہیم کو) اسحاق و یعقوب عطا کئے اور ہم نے ہر ایک کو ہدایت کی اور نوح کو (بھی) ہم نے ان سے پہلے ہدایت کی تھی اور اس کی ذریت وا ولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب ،یوسف، موسیٰ، اور ہارون کو بھی(ہم نے ہدایت کی)۔ اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے جزا دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
6:85
وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلۡيَاسَۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
اور (اسی طرح) زکریا ،یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس سب کے سب صالحین میں سے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
6:86
وَإِسۡمَٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطٗاۚ وَكُلّٗا فَضَّلۡنَا عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور اسماعیل، الیسع، یونس اور ہر ایک کو ہم نے عالمین پر فضیلت دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
6:87
وَمِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَذُرِّيَّـٰتِهِمۡ وَإِخۡوَٰنِهِمۡۖ وَٱجۡتَبَيۡنَٰهُمۡ وَهَدَيۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے کچھ افراد کو ہم نے برگزیدہ کیا اور انہیں راہ راست کی ہدایت کی۔

صالح اور آبرومند اولاد اور لائق نسل، نعمت ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اِن آیات میں اپنی نعمات میں سے ایک کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو خداوندتعالیٰ نے حضرت ابراہیم- کو عطا کی تھیں اور وہ نعمت ہے صالح اولاد اور آبرومند اور لائق نسل جو نعمات الٰہی میں سے ایک عظیم ترین نعمت ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے ابراہیم- کو اسحاق اور (فرزند اسحاق) عطا کیے (وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ) ۔ اور اگر یہاں ابراہیم- کے دوسرے فرزند اسماعیل کی طرف اشارہ نہیں ہوا، بلکہ بحث کے دوران کہیں ذکر آیا ہے، شاید اس کا سبب یہ ہے کہ اسحاق کا سارہ جیسی بانجھ ماں سے پیدا ہونا، وہ بھی بڑھاپے کی عمر میں، بہت عجیب وغریب امر اور ایک نعمت غیر مترقبّہ تھی۔ پھر اس چیز کو بیان کرنے کے لیے کہ ان دونوں کا افتخار صرف پیغمبر زادہ ہونے کے پہلو سے نہیں تھا، بلکہ وہ ذاتی طور پر بھی فکر صحیح اور عمل صالح کے سائے میں نور ہدایت کو اپنے دل میں جاگزین کیے ہوئے تھے، قرآن کہتا ہے: ان میں سے ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی (کُلًّا ہَدَیۡنَا)۔ اس کے بعدیہ بتانے کے لیے کہ کہیں یہ تصور نہ ہو کہ ابراہیم- سے قبل کے دور میں کوئی علَم بردارِ توحید نہیں تھا اور یہ کام بس انہی کے زمانے سے شروع ہوا ہے مزید کہتا ہے: اس سے پہلے ہم نے نوح کی بھی ہدایت ورہبری کی تھی (وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ)۔ اور ہم جانتے ہیں کہ نوح- پہلے اولوالعزم پیغمبرؐ ہیں جو آئین وشریعت کے حامل تھے اور وہ پیغمبران اولوالعزم کے سلسلے کی کڑی تھے۔ حقیقت میں حضرت نوح- کی حیثیت اوران تمام کی طرف اشارہ کرکے کہ جو حضرت ابراہیم- کے اجداد میں سے ہیں، اور اسی طرح پیغمبروں کے اس گروہ کے مقام کا تذکرہ کرکے کہ جوابراہیم- کی اولاد اور ذریّت میں سے تھے، حضرت ابراہیم- کی ممتاز حیثیت کو دراثت، اصل اور ثمرہ کے حوالے سے مشخص کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد بہت سے انبیاء کے نام گنوائے ہیں جو ذریت ابراہیم- میں سے تھے، پہلے ارشاد ہوتا ہے: ابراہیم کی ذریت میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، موسیٰ اور ہارون تھے(وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ)اور اس جملے کے ساتھ کہ: ”اس قسم کے نیکوکار لوگوں کو ہم جزا دیں گے“ واضح کرتا ہے کہ ان کا مقام وحیثیت ان کے اعمال وکردار کی بناپر تھا(وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ)۔ اس سلسلے میں کہ ”وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ “ (اس کی اولاد میں سے) کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے، ابراہیم- کی طرف یا نوح- کی طرف، مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف ہے لیکن زیادہ تر مفسّرین ابراہیم- کی طرف لوٹاتے ہیں اور ظاہراً اس بات کی تردید نہیں کرنا چاہیے کہ مرجع ضمیر ابراہیم- ہیں کیونکہ آیت کی بحث ان خدائی نعمات کے بارے میں ہے جو ابراہیم- کی نسبت سے ہوئی تھیں نہ کہ حضرت نوح- کے بارے میں۔ علاوہ ازیں اُن متعدد روایات میں سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، جنھیں ہم بعد میں نقل کریں گے۔ صرف ایک مطب اس بات کا سبب بنا ہے کہ بعض مفسّرین نے ضمیر کو نوح- کی طرف لوٹایا ہے اور وہ ہے بعد کی آیات میں حضرت یونس- اور حضرت لوط- کا نام، کیونکہ تواریخ میں مشہور یہ ہے کہ یونس- حضرت ابراہیم- کی اولاد میں سے نہیں تھے اور لوط- بھی حضرت ابراہیم- کے بھتیجے یا بھانجے تھے۔ لیکن یونس- کے بارے میں تمام مورخین میں اتفاق نہیں ہے، بعض انھیں بھی اولاد ابراہیم- میں سے سمجھتے ہیں( بحوالہ تفسیر آلوسی, ج۷، ص۱۸۴) اور بعض انھیں انبیاء بنی اسرائیل میں سے شمار کرتے ہیں(دائرة المعارف فرید وجدی، ج۱۰، ص۱۰۵۵ (ذیل مادہ یونس)) علاوہ ازیں عام طور پر مورخین نسب کی باپ کی طرف سے حفاظت کرتے ہیں لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ حضرت یونس- کا بھی حضرت عیسیٰ - کا بھی حضرت عیسیٰ کی طرح کہ جن کا نام درج بالا آیات میں ہے کا سلسلہ نسب ماں کی طرف سے حضرت ابراہیم - تک پہنچتا ہو۔ باقی رہے لوط تو وہ اگر چہ ابراہیم - کے فرزند نہیں تھے لیکن ان کے خاندان اور رشتہ داروں میں سے تھے، تو جس طرح عربی زبان میں بعض اوقات ”چچا“ کو ”اب“ (باپ) کہا جاتا ہے اسی طرح بھتیجے اور بھانجے پر بھی ”ذریت“ اور فرزند کا اطلاق ہوتا ہے، اس طرح سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ظاہر آیات سے دست بردار ہوجائیں جو کہ ابرہیم - کے بارے میں ہیں اور ضمیر کو نوح - کی طرف پلٹادیں جو یہاں موضوعِ سُخن بھی نہیں ہیں۔ بعد کی آیت میں زکریاؑ-، یحییٰؑ، عیسیٰؑ - اور الیاسؑ کا نام لیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ یہ سب صالحین میں سے تھے۔ یعنی ان کا مقام و منزلت تشرفاتی اور اجباری پہلو نہیں رکھتا تھا بلکہ انھوں نے عمل صالح کے ذریعہ بارگاہ خداوندی میں عظمت و بزرگی حاصل کی تھی (وَ زَکَرِیَّا وَ یَحۡیٰی وَ عِیۡسٰی وَ اِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ)۔ بعد والی آیت میں بھی چار اور پیغمبروں اور خدائی رہنماؤں کے نام آئے ہیں اور فرمایا گیا ہے: اور اسماعیلؑ, الیسعؑ، یونس ؑاور لوطؑ بھی، اور سب کو ہم نے عالمین پر فضیلت عطا کی (وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَ کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡن)۔ اس بارے میں الیسعؑ کس قسم کا نام ہے اور پیغمبروں میں سے کون سے پیغمبر کی طرف اشارہ ہے مفسرّین اور ادباء عرب کے درمیان اختلاف ہے بعض اسے ایک عبرانی نام سمجھتے ہیں جو اصل میں یوشع تھا اس کے بعد اس پر الف لام داخل ہوئے اور شین، سین سے تبدیل ہوگئی اور بعض کا نظریہ ہے کہ یہ ایک عربی نام ہے اور ”یسع“ سے لیا گیا ہے (جو وسعت کا فعل مضارع ہے)۔ یہ احتمال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسی صورت میں گذشتہ انبیاء میں سے کسی نبی کا نام تھا بہرحال وہ جناب بھی نسل ابراہیم - میں سے ایک پیغمبر ہیں۔ اور آخری آیت میں مذکورہ انبیاء کے صالح آباؤ اجداد، اولاد اور بھائیوں کی طرف کہ جن کے نام یہاں پر تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیے گوے ایک کلی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کے آباؤ اجداد، ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے کچھ افراد کو ہم نے فضیلت دی، انھیں برگزیدہ کیا اور راہ راست کی ہدایت کی (وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْنَاہُمْ وَہَدَیْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔

چند قابل توجہ امور

فرزندانِ پیغمبر۔ اُوپر والی آیات میں حضرت عیسیٰ - کو فرزندان ابراہیم - (اور ایک احتمال کی بناپر فرزندان نوح) میں سے شمار کیا گیا ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ جناب صرف ماں کی طرف سے ابراہیم - کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ یہ بات اس امر کی دلیل سے پوتے اور نواسے دونوں ہی انسان کی ذریت اور فرزند شمار ہوتے ہیں۔ اسی سبب سے آئمہ اہلِ بیت- کو جو سب کے سب بیٹی کی طرف سے پیغمبر اکرم تک پہنچتے ہیں ”ابناء رسول اللّٰہ“ (فرزندان رسول -) کہا جاتا ہے۔ اگر چہ زمانہ جاہلیت میں جب کہ عورت کی کوئی اہمیت نہیں تھی نسب کو صرف باپ کی طرف سے سمجھتے تھے لیکن اسلام نے اس جاہلانہ فکر پر قلم بطلان پھِیر دیا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لکھنے والوں میں سے بعض قلم نگار جوآئمہ اہل بیت- کے ساتھ صحیح لگاؤ نہیں رکھتے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ اس امر کا انکار کریں اور ابن رسول الله کہنے سے اجتناب کریں اور سننِ جاہلیت کو زندہ کریں۔ اتفاق سے یہ موضوع خود آئمہ-کے مانہ میں پیدا ہوچکا تھا اور انھوں نے اسی آیت کے ساتھ کہ جو ایک دندان شکن دلیل ہے، انھیں جواب دیا۔ منجملہ اُن کے کتابِ کافی اور تفسیر عیّاشی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے، آپ- نے فرمایا: خداوندعالم نے قرآن میں حضرت عیسی- کا نسب جو کہ ماں کی طرف سے حضرت ابراہیم- تک پہنچتے تھے ذریّت (اولاد کی اولاد) کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ پھر آپؐ نے آیہ(وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ) کو آخر تک اور بعد کی آیت کو لفظ عیسی- تک تلاوت فرمایا۔ تفسیر عیّاشی میں بھی ابوالاسود سے مروی ہے وہ کہتا ہے: ایک دن حجاج نے کسی کو یحییٰ بن معمر کے پاس بھیجا جو خاندان رسالت سے محبت رکھتا تھا (اور اُس سے پوچھا) کہ میں نے سنا ہے کہ تو حسن- وحسین- کو فرزندان رسول سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں آیات قرآن سے استدلال کرتا ہے، حالانکہ میں نے قرآن کو اوّل سے آخر تک پڑھا ہے مجھے تو کوئی ایسی آیت نہیں ملی، یحییٰ بن معمر نے اس کے جواب میں کہا کہ کیا تونے سورہٴ انعام کی وہ آیت پڑھی ہے کہ جو یہ کہتی ہے کہ (وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ----وَیَحْییٰ وَعِیسیٰ ) اس نے کہا کہ ہاں میں نے پڑھی ہے تو اس نے کہا کہ کیا ان آیات میں حضرت عیسی- کو ذریت ابراہیم- میں شمار نہیں کیا گیا ہے حالانکہ وہ باپ کی طرف سے اُن تک نہیں پہنچتے تھے۔ ”عیون الاخبار“ میں ایک طویل حدیث ہے جس میں امام موسی- بن جعفر- کی ہارون الرشید اور موسیٰ بن مہدی سے گفتگو منقول ہے جس میں ہے۔ اُس (ہارون) نے امام کاظم علیہ السلام سے کہا کہ تم لوگ کس طرح کہتے ہو کہ ہم ذریت پیغمبرؐ ہیں حالانکہ پیغمبرؐ کا کوئی بیٹا تو نہیں تھا اور نسل بیٹے سے چلتی ہے نہ کہ بیٹی سے اور تم اُن کی بیٹی کی اولاد ہو، امام علیہ السلام نے جواب میں اس سے فرمایا کہ اس سوال کو رہنے دے لیکن ہارون نے اصرار کیا اور کہا کہ میں کسی طرح بھی اس سوال سے صرفِ نظر نہیں کروں گا کیونکہ تم لوگ عقیدہ رکھتے ہوکہ سب کچھ قرآن مجید میں موجود ہے لہٰذا اس بارے میں قرآن کی کوئی آیت دکھائیے، امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم، بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم <وَمِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ،وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی- اس کے بعد آپ- نے سوال کیا: اے ہارون!عیسی- کا باپ کون تھا؟ اُس نے کہا: عیسی- کا تو کوئی باپ نہیں تھا۔ فرمایا: تو اس بناپر اگر وہ انبیاء کی ذریت سے ملحق ہیں تو مریم کی طرف سے ہیں، ہم بھی رسولِ خدا کی ذریت میں اپنی ماں فاطمہ- کے ذریعہ سے ملحق ہیں( بحوالہ نور الثقلین، ج۱، ص۷۴۳-) یہ بات خاص طور پر توجہ ہے کہ بعض متعصب سنّی مفسّرین نے بھی یہ موضوع اپنی تفسیر میں اسی آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔ ان میں سے ایک فخر الدین رازی ہیں جنھوں نے اپنی تفسیر کبیر میں لکھا ہے: ”یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن- وحسین- ذریت پیغمبر ہیں کیونکہ خدا ہے عیسی- کو ذریت ابراہیم- میں شمار کیا ہے حالانکہ وہ صرف ماں کی طرف سے ان (حضرت ابراہیم-) سے تعلق رکھتے ہیں(بحوالہ تفسیر فخر رازی، ج۱۳، ص۶۶) تفسیر ”المنار“ کا موٴلف بھی جو بعض مخصوص مذہبی مباحث میں فخر رازی سے کم متعصب نہیں ہے، فخر رازی کی اس گفتگو کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: ”اس باب میں ایک حدیث حضرت ابوبکر سے بھی صحیح بخاری میں پیغمبر سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے امام حسن- کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ”اِنَّ ابْنِی ہٰذا سیّد“ ”میرا یہ بیٹا سید وسردار ہے“ یعنی آپ نے ”میرا بیٹا“ کے لفظ کا امام پر اطلاق فرمایا حالانکہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کے نزدیک لفظ ابن (بیٹا) کا بیٹی کی اولاد پر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ اسی بناپر لوگ اولاد فاطمہ- کو اولاد رسول اور عترت واہل بیت- رسول جانتے تھے۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اولاد کی اولاد بیٹی کی ہو یا بیٹے کی انسان کی اولاد شمار ہوتی ہے اور اس سلسلے میں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور نہ ہی یہ تفریق ہمارے پیغمبرؐ کے خصوصیات میں سے ہے اور اس مسئلہ کا مخالفت کا سرچشمہ سوائے تعصب یا زمانہ جاہلیت کے افکار کے اور کچھ نہیں ہے۔ اسی لیے تمام احکام اسلام میں ازدواج، ارث وغیرہ کے قبیل سے ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ مسئلہ خمس ہے، جو سیادت کے ساتھ مخصوص ہے اور ایک خاص جہت سے جو فقہ کی کتابِ خمس میں بیان ہوئی ہے اس موضوع کا استثناء ہوا ہے۔ ۲۔ ان پیغمبروں کے نام تین حصوں میں کیوں بیان ہوئے؟ بعض مفسّرین نے یہ احتمال بیان کیا ہے کہ پہلا گروہ یعنی داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ موسیؑ اور ہارون، یہ چھ افراد ان پیغمبروں میں سے تھے جو مقام نبوت ورسالت کے علاوہ حکومت وسلطنت بھی رکھتے تھے، او رشاید جملہ ” وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ “ جو ان کے ناموں کے ذکر کے بعد آیا ہے ان فراواں نیکیوں کی وجہ سے تھا جو انھوں نے اپنی اپنی حکومت کے زمانہ میں لوگوں پر کی تھیں۔ لیکن دوسرا گروہ یعنی زکرؑیا-، یحییؑ-، عیسیؑ- اور الیاسؑ- ان ن انبیاء میں سے ہیں کہ جو مقام نبوت ورسالت کے علاوہ زہد وتقویٰ میں اعلیٰ نمونہ تھے ” ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ “ کا جملہ اُن کے اسمائے گرامی کے بعد ہوسکتا ہے کہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو۔ اور تیسرا گروہ (کے انبیاء) یعنی اسماعیلؑ-، الیسعؑ-، یونسؑ- او لوطؑ- یہ امتیاز رکھتے تھے کہ انھوں نے بڑی بڑی ہجرتیں کیں اور دین خدا کو محکم کرنے لیے ہجرت کے پروگرام کو عملی شکل دی اور جملہٴ ” کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡن “ کا ذکر بھی (اس قول کی بناپر کہ اس میں جملہ میں انہی چار افراد کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ان تمام پیغمبروں کی طرف کہ جن کا ذکر ان تین آیات میں آیا ہے) ہوسکتا ہے کہ اُن کے مختلف قوموں اور دنیا جہاں کے لوگوں کے درمیان سیر کی طرف اشارہ ہو۔ ۳۔ انسان کی شخصیت کے تعارف میں صالح اور نیک اولاد کی اہمیت: ایک دو سرا موضوع جو زیر بحث آیات سے معلوم ہوتا ہے یہی مسئلہ ہے کیونکہ خدا شجاع وبت شکن ابراہیم- کے مقامِ والا کے تعارف کے لیے عالم انسانیت کی عظیم شخصیتوں کا جو آپ کی اولاد میں سے مختلف زمانوں میں عالم وجود میں آئی تھیں شرح وبسط اور تفصیل کے ساتھ ذکر کرتا ہے، اس طور پر کہ ان ۲۵انبیاء میں سے کہ جن کے نام سالم قرآن میں بیان ہوئے ہیں ان آیات میں ۱۶ نام ابراہیم- کے فرزندوں اور وابستگان کے ہیں اور ایک نام اُن کے اجداد میں سے آیا ہے اور یہ حقیقت میں عام مسلمانوں کے لیے ایک عظیم درس ہے تاکہ وہ یہ جان لیں کہ ان کی اولاد اور عزیزوں کی شخصیت ان کی شخصیت کا جزء شمار ہوتی ہے لہٰذا اُن سے مربوط تربیتی اور انسانی مسائل بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ۴۔ ایک اعتراض کا جواب: ممکن ہے کہ کچھ لوگ آخری آیت سے، جو یہ کہتی ہے کہ ہم نے ان کے بعض آباؤ اجداد اور اولاد اور بھائیوں کو برگزیدہ کیا اور انھیں راہ راست کی ہدایت کی، یہ سمجھا کریں کہ انبیاء کے آباؤ اجداد سب کے سب یا ایمان افراد نہیں تھے اور اُن میں غیر موحّد بھی ہیں، جیسا کہ بعض مفسّرین اہل سنّت نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”اجتبیناھم وہدیناھم“ سے مراد اس تعبیر کے قرینہ سے کہ جو اسی سلسلہ آیات میں موجود ہے، مقامِ نبوت ورسالت ہے، یہ مشکل حل ہوجاتی ہے یعنی آیت کا مفہوم اس طرح ہوگا کہ ہم نے اُن میں سے بعض کو مقامِ نبوت کے لیے برگزیدہ کیا۔ اور یہ باقی دوسروں کے موحّد وخدا پرست ہونے کی نفی نہیں ہے۔ اس سورہ کی آیت ۹۰ میں بھی (جو اس آیت سے چند آیات بعد کی آیت ہے) ہدایت کا اطلاق مقامِ نبوت پر ہوا ہے( (ترکیب کے لحاظ سے ”من آبائہم“ ، ”جارو ومجرور“ ہے کہ جس کا متعلق یا تو لفظ ”فضلنا“ ہے جو قبل کی آیت میں ذکر ہوا ہے، یا محذوف ہے اور بعد کا حصّہ اس محذوف پر دلالت کرتا ہے اور اصل می اس طرح تھا: ”اجتبیناہم من آبائہم“ ضمناً توجہ رکھنا چاہیے کہ اوپر والی آیت میں ”مِن“ تبعیضیہ ہے)

88
6:88
ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
یہ خدا کی ہدایت ہے کہ جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر وہ مشرک ہو جائیں تو انہوں نے جو کچھ عمل کیا تھا وہ سب کا سب (ضائع اور) نابود ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
6:89
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَۚ فَإِن يَكۡفُرۡ بِهَا هَـٰٓؤُلَآءِ فَقَدۡ وَكَّلۡنَا بِهَا قَوۡمٗا لَّيۡسُواْ بِهَا بِكَٰفِرِينَ
وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکم و نبوت عطا کی ہے اور اگر وہ اس کا انکار کریں اور کافر ہو جائیں (تو کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ) ہم نے ایسے لوگوں کو اس کا نگہبان بنایا ہے کہ جو اس کا کفر و انکار کرنے والے نہیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
6:90
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰلَمِينَ
وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنہیں خدا نے ہدایت کی ہے پس تم ان کی ہدایت کی اقتدا (پیروی) کرو (اور) یہ کہو کہ میں اس (رسالت و تبلیغ) کے بدلے میں تم سے کوئی اجر و بدلہ نہیں مانگتا یہ رسالت تو عالمین کے لئے ایک یاددہانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

تین اہم امتیاز

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں خداوند تعالیٰ پیغمبروں کے مختلف گروہوں کے ناموں کے ذکر کے بعد یہاں ان کی زندگی کے کلی اور اصلی خطوط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پہلے فرماتا ہے: یہ خدا کی ہدایت ہے کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت ورہبری کرتا ہے (ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ)۔ یعنی اگرچہ وہ صالح اور نیک لوگ تھے اور عقل وفکر کی قوت اور اپنے تمام وجود کے ساتھ ہدایت کی راہ میں قدم اٹھاتے تھے لیکن پھر بھی اگر توفیق الٰہی ان کے شامل حال نہ ہوتی اور اس کی مہربانی کا ہاتھ ان کی دستگیری کرتے ہوئے انھیں سہارا نہ دیتا تو اُن سب کے بارے میں بھی اور ہر شخص کے لیے لغزش کا امکان موجود تھا اور موجود ہے۔ پھر اس بناپر کہ کہیں یہ تصور نہ کیا جائے کہ انھوں نے اس راہ میں مجبوراً قدم اٹھایا ہے اور اسی طرح کوئی یہ تصور بھی نہ کرے کہ خداوندتعالیٰ ان کے بارے میں ایک استثنائی اور بغیر دلیل اور وجہ کے کوئی خاص نظر رکھتا تھا فرماتا ہے: اگر فرض کریں کہ یہ پیغمبر اس مقام وحیثیت کے باوجود جو وہ رکھتے تھے مشرک ہوجاتے تو ان کے تمام اعمال حبط ہوجاتے (وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ)۔ یعنی اُن کے لیے بھی وہی قوانین الٰہی جاری ہیں جو دوسروں کے بارے میں جاری ہوتے ہیں اور کوئی استثناء کسی کے لیے نہیں ہے۔ بعد والی آیت میں تین اہم امتیازات وخصوصیات کی طرف جو انبیاء کے تمام امتیازات کی بنیاد ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ ایسے لوگ تھے کہ جنھیں ہم نے آسمانی کتاب عطا کی اور مقام حکم بھی اور نبوت بھی (اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ)۔ البتہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ سب صاحب کتاب تھے بلکہ چونکہ گفتگو ان سب کے متعلق ہورہی ہے لہٰذا اجتماعی طور پر سب کی طرف نسبت دی گئی ہے اس کی مثال ٹھیک اس طرح ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں کتاب میں علماء اور ان کی کتب کا تعارف کرایا گیا ہے، یعنی ان کی کتب کہ جنھوں نے کوئی کتاب لکھی ہے۔ ضمنی طور پر اس بارے میں کہ ”حکم“ سے کیا مراد ہے تین احتمال پائے جاتے ہیں: ۱۔ حکم کا مفہوم: یہ لفظ یہاں عقل وفہم وادراک کے معنی میں ہے یعنی اس کے علاوہ کہ ہم نے انھیں آسمانی کتاب دی ہے اس کو سمجھنے کی قدرت بھی انھیں بخشی ہے کیونکہ کتاب کا وجود قوی وکامل ادراک وفہم کے بغیر کوئی اثر نہیں رکھتا۔ ۲۔ منصَب قضاوت: یعنی وہ اُن آسمانی قوانین کے سائے میں جو کتاب الٰہی میں تھے، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرسکتے تھے اور اُن سب میں ایک قاضی اور دادرس عادل کی تمام شرائط کامل طور پر موجود تھیں۔ ۳۔ حکومت وسلطنت: کیونکہ وہ مقام نبوت ورسالت کے علاوہ مقام حکومت کے بھی حامل تھے۔ اُوپر والے تمام معانی کا شاہد۔ اس کے علاوہ کہ حکم کا لغوی معنی ان تمام معانی پر منطبق ہوتا ہے۔ یہ ہے کہ قرآن کی مختلف آیات میں بھی حکم ان تمام معانی میں استعمال ہوا ہے(سورہٴ لقمان کی آیہ ۱۲ میں علم و فہم کے معنی میں، سورہٴ ص کی آیہ ۲۲ میں قضاوت کے معنی میں اور سورہٴ کہف کی آیہ ۲۶ میں حکومت کے معنی میں آیا ہے) اور اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اوپر والی آیت میں لفظ حکم ایک جامع معنی میں کہ جس میں تینوں اُوپر والے مفہوم موجود ہوں، استعمال ہوا ہو کیونکہ حکم اصل میں جیسا کہ راغب ”مفردات“ میں کہتا ہے منع کرنے اور روکنے کے معنی میں ہے اور چونکہ عقل اشتباہات اور غلط کاریوں سے روکتی ہے، اسی طرح صحیح قضاوت و فیصلہ کرنا ظلم و ستم کرنے سے منع کرتا ہے اور عادل حکومت دوسروں کی ناروا و ناجائز حکومتوں کو روک دیتی ہے (لہٰذا لفظ حکم) ان تینوں (معانی) میں سے ہر ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ تمام انبیاء ان تمام مقامات کے حامل نہیں تھے۔ لیکن جب ایک گروہ کچھ احکام کی نسبت دی جائے، تو یہ بات ضروری نہیں ہے کہ اس جماعت کے تمام افراد اُن تمام احکام کے حامل ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض ان احکام میں سے فقط بعض احکام کے ہی حامل ہوں۔ لہٰذا کتابِ آسمانی کا موضوع جو صرف مذکورہ و معدودے چند انبیاء کے بارے میں تھا، مندرجہ بالا آیت کے سمجھنے میں ہمارے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اگر یہ گروہ یعنی مشرکین، اہلِ مکہ اور ان جیسے لوگ ان حقائق کو قبول نہ کریں تو تیری دعوت جواب کے بغیر نہیں رہے گی کیونکہ ہم نے ایک گروہ کو اس امر پر مامور کردیا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اُسے قبول کریں بلکہ اس کی حفاظت و نگہبانی بھی کریں۔ وہ ایسا گروہ ہے کہ جو (ایمان لانے کے بعد) کفر کے راستے پر گامزن نہ ہوں گے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم رکھیں گے (فَاِنۡ یَّکۡفُرۡ بِہَا ہٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَکَّلۡنَا بِہَا قَوۡمًا لَّیۡسُوۡا بِہَا بِکٰفِرِیۡنَ)۔ تفسیر ”المنار“ اور تفسیر ”روح المعانی“ میں بعض مفسرّین سے نقل ہوا ہے کہ اس جماعت سے مراد ایرانی ہیں (کہ جنہوں نے بہت جلدی اسلام قبول کیا اور اس کی پیش رفت میں اپنی ساری توانائیوں کے ساتھ کو شاں رہے اور ان کے علماء اور دانشمندوں نے مختلف اسلامی فنون میں بہت زیادہ کتابیں لکھی ہیں)۔ (آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ ”ہٰوٴلاء“ سے مراد خود انبیاء ہوں یعنی بفرض محال اگر یہ بزرگ انبیائے خدا ادائے رسالت سے سرتابی کرلیتے، تو پھر بھی خدائی پیغام زمین پر نہ پڑا رہتا، اور ایک دوسری جماعت اسے عالمین تک پہنچانے پر مامور ہوجاتی۔ قرآن میں ایسی تعبیرات کی نظیر بھی پائی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ہم پڑھتے ہیں: ”لئن اشرکت لیحبطن عملک“- (زمر: ۶۵)) آخری آیت میں ان بزرگ پیغمبروں کے پروگرام (اور کارناموں) کو ہدایت کے ایک اعلیٰ نمونے کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تعارف کراتے ہوئے قرآن کہتا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہدایت الٰہی جن کے شاملِ حال تھی لہٰذا تم بھی ان کی ہدایت کی اقتداء کرو (اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ)۔( اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ ” اقتدہ“میں ”‘ِہ‘ ضمیر نہیں ہے بلکہ ”ہاء سکت“ ہے جو وقف کے وقت کلام میں حرف متحرک سے متعلق ہوتی ہے جیسا کہ ہمزہٴ وصل استعمال ہوتا ہے کہ جو شروع کے حرف کو ساکن کے ساتھ شروع نہ کرنے کی بناپر آغاز کا کلام میں لایا جاتا ہے تو جس طرح ہمزہٴ وصل اتصال کلام کے وقت ساقط ہوجاتا ہے اسی طرح ”ہائے سکت“ بھی ساقط ہوجانی چاہیے، لیکن چونکہ یہ ”ہاء“ قرآن کے رسم الخط میں لکھی ہوئی ہے، لہٰذا رسم الخط کے ظاہر کی رعایت کرتے ہوئے، احتیاط کو اسی بات میں سمجھتے ہیں کہ یہاں وقف ہوتا کہ ”ہاء“ ظاہر ہوسکے) یہ آیت دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ تمام پیغمبروں کا اصولِ دعوت ایک ہی ہے۔ اگر چہ خصوصیات کے لحاظ سے مختلف زمانوں کی مختلف ضروریات کے تناسب سے احکام فرق رکھتے تھے اور بعد کے دین و آئین قبل کے ادیان سے کامل تر ہوتے رہے اور علمی و ترتیبی کلاسیں اپنے انتہائی درجے تک کہ جو آخری کو رس تھا یعنی اسلام تک پہنچی ہیں۔ اس بارے میں کہ اس ہدایت سے کونسی ہدایت مراد ہے کہ جو پیغمبر اسلام ؐکے لیے نمونہ قرار پائی ہے۔ بعض مفسرّین نے تویہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد مشکلات کے مقابلہ میں صبر و پائداری ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اس سے مقصود توحید اور تبلیغِ رسالت ہے لیکن ظاہرا ًہدایت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جو توحید کو بھی اور دوسرے اصول اعتقادی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور صبر و استقامت اور باقی اخلاق، تعلیم اور تربیت کے اصول بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ زیر نظر آیت اس بات کے منافی نہیں کہ اسلام تمام گذشتہ ادیان و شرائع کا ناسخ ہے کیونکہ نسخ تو صرف احکام کے ایک حصہ کے لیے ہوتا ہے نہ کہ اُن کی دعوت کے کلی اصول منسوخ ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہہ دیں کہ: میں تم سے اپنی رسالت کے بدلے میں کسی قسم کا کوئی اجرا اور بدلے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ جیسا کہ گذشتہ انبیاء نے بھی کوئی ایسی درخواست نہیں کی تھی میں بھی انبیاء کی ہمیشہ کی اس سنت کی پیروی کرتے ہوئے ان کی اقتدا کرتا ہوں (قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا)۔ نہ صرف یہ کہ انبیاء اور ان کی سنتِ جاوید کی اقتداء کا تقاضا یہ ہے کہ میں کسی قسم کی اجرت کا مطالبہ نہ کروں بلکہ اس سبب سے بھی کہ یہ پاک دین جو میں تمہارے لیے لایا ہوں ایک خدائی امانت ہے جو میں تمھیں سپرد کررہا ہوں تو خدائی امانت تم تک پہنچانے کا اجر اور جزاء (مانگتے) کوئی مفہوم ہی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن، رسالت اور ہدایت تمام عالمین کے لیے ایک صدائے بیدار باش اور یاد آوری ہے (اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡعٰلَمِیۡنَ)۔ اور اس قسم کی عمومی نعمت جو سب کے لیے ہے، نورِ آفتاب، نورِ آفتاب، امواج ہوا اور بارش برسنے کے مانند ہے کہ جو عمومی اورجہانی پہلو رکھتی ہے اور کبھی بھی اس کی خرید و فروخت نہیں ہوتی اور کوئی اس کے بدلے میں اجرو جزا نہیں لیتا۔ یہ ہدایت و رسالت بھی کوئی خصوصی اور اختصاصی پہلو نہیں رکھتی کہ جس کے لیے کسی بدلے کا قائل ہوا جاسکے۔ (اس جملہ کی تفسیر میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ جوڑاقبل کی آیات کے ساتھ تعلق کامل طور پر واضح ہوجاتاہے)۔ ضمنی طور پر آخری جملے سے یہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ دینِ اسلام کوئی علاقائی اور قومی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک عالمی اور انسانی دین ہے جو ہر جگہ اور ہر شخص کے لیے ہے۔

91
6:91
وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓ إِذۡ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٖ مِّن شَيۡءٖۗ قُلۡ مَنۡ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِي جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورٗا وَهُدٗى لِّلنَّاسِۖ تَجۡعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبۡدُونَهَا وَتُخۡفُونَ كَثِيرٗاۖ وَعُلِّمۡتُم مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنتُمۡ وَلَآ ءَابَآؤُكُمۡۖ قُلِ ٱللَّهُۖ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِي خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُونَ
انہوں نے خدا کو جیسا کہ پہچاننا چاہئے تھا نہیں پہچانا جب کہ انہوں نے یہ کہا کہ اس نے کسی انسان پرکوئی چیز نازل نہیں کی تم یہ کہہ دو کہ وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے کس نے نازل کی تھی وہ کتاب جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی۔ (لیکن تم لوگوں نے) اسے پراگندہ کر دیا ہے تم اس کے کچھ حصے کو تو آشکار کرتے ہو اوربہت سا حصہ (لوگوں سے) پوشیدہ رکھتے ہو اور تمہیں ایسے مطالب کی تعلیم دی گئی ہے کہ جن سے تم اور تمہارے آباؤ اجداد باخبر نہیں تھے۔ کہہ دو کہ خدا نے۔اور پھر انہیں ان کی ہٹ دھرمی میں چھوڑ دو تاکہ وہ کھیل کود میں پڑے رہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ابن عباس سے منقول ہے: یہودیوں کی ایک جماعت نے کہا: اے محمد! کیا واقعاً خدانے تم پر کتاب نازل کی ہے؟ پیغمبر نے فرمایا: ہاں، وہ کہنے لگے: خدا کی قسم خدا نے تو کوئی کتاب بھی آسمان سے نازل نہیں کی۔( تفسیر مجمع البیان، ابوالفتوح رازی اور المنار زیر نظر آیت کے ذیل میں۔) اس آیت کی شان نزول میں کچھ اور روایات بھی نقل ہوئی ہیں اور جیسا کہ بعد میں معلوم ہوگا کہ جو کچھ ہم اُوپر بیان کرچکے ہیں وہ سب سے بہتر ہے اور زیادہ مناسب ہے۔

خدا ناشناس

اس بارے میں کہ یہ آیت یہودیوں کے متعلق ہے یا مشرکین کے بارے میں، مفسرّین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ پیغمبر اکرم ؐکی مکہ میں یہود سے گفتگو اور ملاقات نہیں تھی اور جو کچھ اُن کے ساتھ معاملہ رہا وہ مدینہ میں تھا اور دوسری طرف یہ کہ سورہٴ انعام کہ یہ آیت جس کا جزء ہے مکی ہے، بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت استثنائی طور پر مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور پیغمبر اکرمؐ کے حکم سے کسی خاص مناسبت کی وجہ سے اس مکی سورہ کے وسط میں رکھی گئی ہے اور قرآن میں اس امر کے کئی نمونے موجود ہیں۔ حقیقت مطلب واضح ہونے کے لیے پہلے ضروری ہے کہ آیت کی اجمالی تفسیر کو سمجھ لیں اور اس کے بعد اس بارے میں آیت کن لوگوں کے بارے میں گفتگو کررہی ہے اور اس کا ہدف و مقصد کیا ہے بحث کریں۔ آیت پہلے یہ کہتی ہے کہ: انھوں نے خدا کو جس طرح چاہیے اس طرح نہیں پہنچانا، کیونکہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ خدا نے کوئی کتاب کسی انسان پر نازل نہیں کی وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ)۔ خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ تم اُن کے جواب میں یہ کہو کہ وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے اور جو لوگوں کے لیے نور وہدایت تھی وہ کس نے نازل کی تھی (قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ الَّذِیۡ جَآءَ بِہٖ مُوۡسٰی نُوۡرًا وَّ ہُدًی لِّلنَّاسِ)۔ وہی کتاب کہ جسے تم نے پرپراکندہ صفحات میں تبدیل کردیا ہے، اس کا کچھ حصّہ جو تمھارے مفاد میں ہے (لوگوں پر) ظاہر کرتے ہو اور اس کا بہت سا حصّہ جسے تم اپنے لیے مضر سمجھتے ہو (لوگوں سے) چھپاتے ہو (تَجۡعَلُوۡنَہٗ قَرَاطِیۡسَ تُبۡدُوۡنَہَا وَ تُخۡفُوۡنَ کَثِیۡرًا)۔ ”اور اس آسمانی کتاب میں تمھیں ایسے مطالب کی تعلیم دی گئی ہے کہ جنھیں تم اور تمھارے آباؤ اجداد جانتے نہیں تھے اور خدائی تعلیم کے بغیر اُسے جان بھی نہیں سکتے تھے“ (وَ عُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَ لَاۤ اٰبَآؤُکُمۡ)۔ آیت کے آخر میں پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ: تم صرف خدا کو یاد کرو اور اُنھیں ان کی باطل باتوں، ہٹ دھرمی اور کھیل کود میں چھوڑدو کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنھوں نے کتاب الٰہی اور اس کی آیات کو کھیل بنا رکھا ہے (قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ فِیۡ خَوۡضِہِمۡ یَلۡعَبُوۡنَ)۔ اب اگر یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہو اور روئے سخن یہودیوں کی طرف ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ یہودیوں کی ایک جماعت تمام انبیاء پر آسمانی کتاب کے نزول کی منکر تھی تو کیا یہ ممکن ہے کہ یہودیوں اور تورات کی پیروی کرنے والے کتاب آسمانی کے نزول کا انکار کریں۔ جی ہاں! اگر آپ تعجب نہ کریں تو ایک خاص مطلب توجہ کرنے سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اگر ہم کتب عہد جدید (اناجیل) اور کتب قدیم (تورات اور اس کے ساتھ وابستہ کتب) کا دقت نظر سے مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان کتب میں سے کوئی بھی آسمانی لب ولہجہ نہیں رکھتی۔ یعنی خدا کے انسان سے گفتگو کرنے کا پہلو ان میں نہیں ہے، بلکہ ان سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کتابیں حضرت موسیٰ- اور حضرت عیسیٰ- کے شاگردوں اور غیر شاگرد پیروکاروں کی زبان سے تاریخ اور سیرت کی صورت میں لکھی گئی ہیں۔ اور ظاہراً موجودہ وقت کے یہودی اور عیسائی بھی اس مطلب کا انکار نہیں کرتے کیونکہ ان کتابوں میں حضرت موسی- اور حضرت عیسی- کی وفات کی داستان اور بہت سے ایسے واقعات جو ان کے بعد کے زمانے سے مربوط ہیں لکھے ہوئے ہیں یہ (واقعات) پیش گوئی کے طور پر نہیں بلکہ گزرے ہوئے زمانے کی ایک خبر کے طور پر ہیں۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ ایسی کتاب حضرت موسی- اور حضرت عیسی- پر نازل ہوئی ہو؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ کتابیں چونکہ ایسے انسانوں کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہیں جو وحی آسمانی سے باخبر تھے لہٰذا یہ کتب مقدس، قابل اعتماد اور اشتباہ سے پاک ہیں۔ تو اس نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے وہ قرآن کے لب ولہجہ سے کہ جو خدا کے پیغمبر سے اور بندوں سے خطاب کی شکل میں ہے کیوں تعجب کرتے تھے؟ اور اُوپر والی شانِ نزول میں بھی ہم نے پڑھا ہے کہ انھوں نے تعجب کے ساتھ آپ سے پوچھا کہ کیا خدا نے آسمانی کتاب نازل کی ہے، اور پھر انھوں نے اس امر کا کلی طور پر انکار کیا ہے کہ کوئی کتاب خدا کی طرف کسی انسان پر حتّیٰ کہ موسی- پر بھی نازل ہوئی ہے۔ لیکن خدا ان کے جواب میں اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تم خود عقیدہ رکھتے ہوکہ الواح اور کچھ مطالب موسیٰ پر نازل ہوئے تھے ۔ یعنی جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اگر وہ کتاب آسمانی نہیں ہے تو تم قبول کرتے ہو کہ اس قسم کی کوئی چیز خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھی کہ جس کے کچھ حصہّ تو تم آشکار کرتے ہو اور زیادہ تر حصہّ چھپاتے ہو۔ اس طرح سے اس بارے میں کوئی اعتراض باتی نہیں رہتا کہ یہ کہا جائے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہودی کتاب آسمانی کے نزول کے منکر ہوں۔ اور اگر یہ آیت اس سورہ کی باقی آیات کی طرح مشرکین کے بارے میں ہو تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ ہر قسم کی آسمانی کتاب کے نزول کے منکر ہوگئے تھے تا کہ پیغمبر اکرم الله علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کا انکار کرسکیں، لیکن خدا ان کے لیے یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس قسم کا دعویٰ کریں حالانکہ خدا نے تورات موسی ؑ پر نازل کی ، اور مشرکین اگر چہ دین یہود قبول نہیں کرتے تھے لیکن وہ گذشتہ انبیاء اور حضرت ابراہیم - کو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کو احتمالاً ایک خاص علاقے اور زمانے کے پیغمبر کے طور پر قبول کرتے تھے اور خود کو دین ابراہیم - کا پیروکار سمجھتے تھے۔ اسی لیے جب پیغمبر اسلام نے ظہور کیا تو وہ ان کی علامات کی جستجو کے لیے اہل کتاب کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی کتب کا مطالعہ کریں اور تحقیق کریں کہ کیا وہ اس قسم کے پیغمبر کی خبر دیتی ہیں، تو اگر وہ ان کتب کو بالکل قبول نہ کرتے ہوئے تو کس طرح ممکن تھا کہ وہ اس قسم کی درخواست کریں لہٰذا وہ یہود سے سوال کرنے کے بعد جو کچھ اُن کے فائدے میں تھا اُسے ظاہر کرتے اور جو اُن کے لیے مضر تھا اُسے مخفی رکھتے (مثل پیغمبر کی اُن نشانیوں کے جو گذشتہ کتب میں آئی تھیں) لیکن پہلی تفسیر آیہ کے لب ولہجہ، شان نزول اور اُن ضمائر کے ساتھ جو آیت میں ہیں زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ قراطیس: یہ جمع ہے ”قرطاس“ کی اور اس کی اصل جیسا کہ بعض نے کہا ہے یونانی زبان سے لی گئی ہے۔ اس کا معنی جیسا کہ راغب ”مفردات“ میں کہا ہے ”وہ چیز ہے کہ جس کے اوپر لکھا جائے“ اس بناپر یہ لفظ عام کاغذ، جانوروں کے چمڑے، درختوں کی چھال اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کے لیے بھی کہ جن پر قدیم ایّام میں خط اور کتابیں لکھتے تھے، استعمال ہوتا ہے۔ ۲۔ کاغذ پر لکھنے کی مذمت؟ ممکن ہے یہ سوال ہو کہ آیت میں یہودیوں کی مذمت کیوں کی گئی ہے کہ انھوں نے وحی آسمانی کو کاغذ وغیرہ پر لکھا تھا، یہ تو کوئی مذمت کی بات نہیں ہے۔ ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ مذمت اس لحاظ سے نہیں ہے بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ مطالب تورات کو پراکندہ کاغذات اور اسی کی مانند دوسری چیزوں کے اُوپر لکھتے تھے، پھر جو کچھ اُن کے فائدہ میں ہوتا تھا اُس کو تو وہ دوسرے لوگوں کو دکھاتے تھے اور جو اُن کے نقصان میں ہوتا تھا اُسے مخفی رکھتے تھے۔ ۳۔ ”وما قدروا الله حق قدرہ“ (خدا کو جس طرح چاہیے انھوں نے نہیں پہچانا اور اس کے اوصاف کو سمجھا نہیں) حقیقت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص خدا صحیح طریقے سے پہچان لے وہ انکار نہیں کرسکتا کہ اس کی طرف سے رہبر ورہنما کتبِ آسمانی کے ساتھ نوع بشر کے لیے بھیجے گئے کیونکہ حکمتِ خدا کا تقاضا یہ ہے کہ: اوّل تو اس نے انسان کو جس ہدف ومقصد کے لیے پیدا کیاہے یعنی ہدفِ ارتقا، اس کے لیے جو پُر پیچ وخم راستہ اُس کے سامنے ہے اُس میں اس کی مدد کرے ورنہ بصورت دیگر اُس نے غرض تخلیق کا تقاضا پورا نہیں کیا اور یہ ہدف ومقصد وحی بھیجنے، کتاب آسمانی نازل کرنے اورہر قسم کی خطا واشتباہ سے خالی، پاک اور صحیح دتعلیمات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دوسرے یہ بات کیسے ممکن ہے کہ خدا کی رحمت عامہ وخاصہ کا مقام ای بات کی اجازت دے دے کہ وہ انسان کو راہِ سعادت میں جہاں پر وہ ہزارہا رکاوٹوں سے دوچار ہے اور بہت سی پھلسنے کی جگہیں اس کی راہ میں موجود ہی، اکیلا چھوڑدے اور اس کی دستگیری اور رہنمائی کے لیے جامع تعلیمات کے ساتھ رہبر ورہنما بھیجے (اس بناپر اس کی حکمت بھی اور اس کی رحمت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ کتب آسمانی بھیجے)۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوندتعالیٰ کی کنہ ذات اور کنہ صفات کی معرفت تو کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے اور زیرِبحث آیت میں ایسا کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ خدا کی ذات اور صفات کی جتنی مقدار انسان کے لیے ممکن ہے اگر وہ حاصل ہوجائے تو اس بات میں کوئی تردّد باقی نہیں رہے گا کہ اس قسم کا خدا اپنے بندوں کو بغیر سرپرست اور بغیر کتاب آسمانی کے نہیں چھوڑے گا۔ ۹۲

92
6:92
وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ مُّصَدِّقُ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَاۚ وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَهُمۡ عَلَىٰ صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُونَ
اور یہ وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے یہ ایک ایسی با برکت کتاب ہے کہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہیں ان سب کی تصدیق کرتی ہے (اور اسے ہم نے اس لئے بھیجا ہے) تاکہ تم ام القری (مکہ) اور اس کے گرد اگرد کے لوگوں کو (عذاب خدا سے) ڈراؤ (اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرو) جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان لے آتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔

ایک بہت ہی بابرکت کتاب

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اُس بحث کے بعد جو گذشتہ آیت میں یہودیوں کی اسمانی کتاب کے بارے میں تھی، یہاں قرآن کی طرف جو ایک دوسری آسمانی کتاب ہے اشارہ ہوتا ہے اور حقیقت میں تورات کا ذکر قرآن کے ذکر کے لیے ایک مقدمہ کے طور پر ہے، تاکہ ایک بشر پر کتابِ آسمانی کے نزول پر تعجب نہ کریں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے (وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ)۔ یہ ایک بہت ہی بابرکت کتاب ہے کیونکہ یہ طرح طرح کی خوبیوں، نیکوں اور کامیابیوں کا سرچشمہ ہے (مُبٰرَکٌ)۔ اس کے علاوہ ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں تصدیق کرتی ہے (مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ)۔ اس سے مراد کہ قرآن گذشتہ مقدس کتابوں کی تصدیق کرتاہے یہ ہے کہ وہ تمام علامات (اور نشانیاں) جو اُن میں آئی ہیں وہ اس سے مطابقت رکھتی ہیں اور اس طرح گذشتہ دو جملوں میں قرآن کی حقانیت کی دو نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔ ایک ان نشانیوںکا موجود ہونا کہ جن کی گذشتہ کتب میں خبر دی گئی تھی اور دوسرے قرآن کریم کے خود اپنے مضامین عالیہ کہ جن میں ہر قسم کی خیرو برکت اور وسیلہٴ سعادت موجود ہے۔ اس بناپر اس کے مضامین عالیہ کے لحاظ سے بھی اور اسناد وتاریخی مدارک کی نظر سے بھی اس میں حقانیت کی واضح نشانیاں موجود ہیں۔ اس کے بعد نزول قرآن کے ہدف ومقصد کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے: ہم نے اسے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم امّ القریٰ (مکہ) اور ان تمام لوگوں کو اس کے اطراف وجوانب میں رہتے ہیں، ڈراؤ اور ان کی ذمہ داریوں اور فرائض سے انھیں آگاہ کرو (وَ لِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا) ( اس بارے میں کہ ”لتنذر“ کا عطف کس پر ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن زیادہ تر جو بات نظر آتی ہے یہ ہے یہ ایک محذوف لفظ مثلاً ”لتبشر“ وغیرہ پر عطف ہو۔) اور چونکہ ”انذار“ یعنی ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے ترک کرنے سے ڈرنا خصوصاً ایسے اشخاص کو جو سرکش وطغیانگر ہوں قرآن کریم کا اہم ترین پورگرام ہے، لہٰذا صرف اسی حصّے کی طرف اشارہ ہوا ہے اور آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ: وہ لوگ جو قیامت کے دن پر، حساب وکتاب اور اعمال کی جزا پر ایمان رکھتے ہیں، اس کتاب پر بھی ایمان لے آئیں گے اور اپنی نمازوں کی حفاظت بھی کریں گے (ؕ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ)۔

چند قابلِ توجہ مطالب

۱۔ اسلام ایک عالمی دین ہے: قرآن کریم کی مختلف آیات اچھی طرح سے گواہی دیتی ہیں کہ اسلام ایک عالمی دین ہے۔ وتعبیرات جیسے : ”لِاَنْذِرَکُمْ بِہِ وَمَن بَلَ میرا ہدف یہ ہے کہ تم سب کو اور اُن تمام لوگوں کو جن تک میری بات پہنچے قرآن کے ذریعے ڈراؤں“(انعام/۱۹) ”اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْریٰ لِلْعَالَمِینَ“ ”یہ قرآن عالمین کے لیے تذکر ویاد دہانی ہے“(انعام/۹۰) ”قُلْ یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّی رَسُولُ اللهِ اِلَیکُمْ جَمِیعاً“ ”کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف الله کا بھیجا ہوا رسول ہوں“(اعراف/۱۵۸) اور ایسی بہت سی دوسری آیات کہ جو قرآن میں بکثرت موجود ہیں اس حقیقت پر گواہ ہیں اور خاص طور پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں، یعنی اس موقع پر جب کہ اسلام ابھی اس شہر کے حد ود اربعہ سے باہر نہیں نکلا تھا۔ لیکن زیر بحث آیت کی طرف توجہ کرتے ہوئے ی سوال سامنے آتا ہے کہ پیغمبرؐ کی بعثت کا ہدف مکہ اور اس کے گردا گرد کے لوگوں کو ڈرانا اور انھیں ہدایت کرنا کیسے بیان کیا گیا ہے؟ کیا یہ اسلام کے عالمی دین ہونے کے منافی نہیں؟ اتفاق سے یہ اعتراض بعض یہودیوں اور بعض دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے نقل ہوا ہے اور انھوں نے اپنے گمان میں اسلام کے عالمی دین ہونے کے مقابلہ میں اس کو ایک محکم ہتھیار پایا ہے جو اسے ایک خاص علاقہ میں محدود کردیتا ہے (یعنی مکہ اور اطراف مکہ(تفسیر المنار، ج۷، ص۶۲۱۔ تفسیر فی ضلال ، ج۳، ص۳۰۵ میں کچھ مستشرقین کی طرف سے یہ اعتراض نقل ہوا ہے۔) جواب دو نکات کی طرف توجہ کرنے سے یہ امر کامل طور پر واضح ہوجاتاہے کہ یہ آیت نہ صرف یہ کہ اسلام کے عالمی ہونے کے منافی نہیں بلکہ کہا جاسکتا ہے یہ اسلام کے عالمی ہونے کی دلیل ہے۔ ۱۔ قریہ، قرآن کی زبان میں ہر قسم کی آبادی کے معنی میں ہے چاہے وہ بڑا شہر ہویا کوئی گاؤں، مثلاً ہم سورئہ یوسف میں یوسف کے بھائیوں کی زبان سے ان کے باپ کے سامنے ان کا بیان پڑھتے ہیں کہ: ”وَ اسْئَلِ الْقَرُیَةَ الَّتِی کُنَّا فِیْہَا“ ”ہم جس قریہ میں تھے اس قریہ سے پوچھ لیجئے“۔ (یوسف ۔ ۸۲) اور ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ گفتگو انھوں نے مصر کے پایہ تخت سے واپس لوٹنے اور عزیر مصر کی حکومت کی طرف سے اُن کے بھائی ”بنیامین“ کو مصر میں روک لینے کے واقعہ کے بعد کی تھی۔ اسی طرح قرآن میں ہے: ”وَلَوْ اٴَنَّ اٴَھْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ“ ”اگر وہ تمام لوگ جں روئے زمین کی آبادیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم آسمان سے اور زمین سے ان پر (اپنی) برکتوں (کے دروازوں) کو کھول دیں گے“ ۔(اعراف ۹۶) یہ بات ظاہر ہے کہ یہاں صرف بستیاں (گاؤں) مراد نہیں ہیں بلکہ اس سے تمام دنیا کے رہائشی اور آباد علاقے مراد ہیں۔ دوسری طرف متعدد روایات میں ہے کہ زمین کی خشکی کے علاقے خانہ کعبہ کے نیچے سے بچھائے گئے تھے اور اسی وجہ سے ”دحوالارض“ (زمین کا بچھانا) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ابتداء میں سیلابی بارشوں کے زیرا اثر تمام کرہ زمین پانی سے ڈھکا ہوا تھا، پانی رفتہ رفتہ نیچے چلا گیا، اور زمین کے پست علاقوں میں ٹھہر گیا اور خشکیاں تدریجاً پانی کے نیچے سے سر نکالنے لگیں۔ اسلامی روایات کے مطابق زمین کا پہلا ٹکڑا جس نے پانی سے سر نکالا وہ سرزمین مکہ تھی۔ اور اگر اس زمین کی بلندی موجودہ وقت میں تمام دنیا کی زمینوں کی بلندیوں سے بندترین نہیں ہے تو یہ امر ہماری اس گفتگو کے منافی نہیں کیونکہ اُس دن سے کئی لاکھ سال گزرچکے ہیں اور اب روئے زمین کے نقاط کی کیفیت بالکل بدل چکی ہے۔ بعض پہاڑ سمندروں کی تہوں میں چلے گئے ہیں اور بعض مقامات سمندروں کی تہوں سے نکل کر پہاڑوں کی چوٹیاں بن چکے ہیں اور یہ امر علم زمین شناسی (GEOLOGY) کے مسلمات میں سے ہے۔ ۲۔ لفظ ”ام“ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں ہر چیز کی اصل و اساس اور ابتدا و آغاز کے معنی میں ہے۔ اب تک جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے اس پر توجہ کرتے ہوئے واضح ہوجاتاہے کہ اگر مکہ کو ام القریٰ کہتے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہ روئے زمین کی تمام خشکیوں کے پیدا ہونے کی اصل و اساس اور ابتدا و آغاز ہے۔ تو اس بناپر ”و من حولہا“ (جو اس کے گردا گرد ہیں) تمام روئے زمین کے لوگوں کے لیے ہوگا۔ گذشتہ آیات بھی اسلام کے عالمی ہونے کے باے میں اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں۔ اسی طرح پیغمبر اکرمؐ کے ایسے بہت سے مخلوط جو اُنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں مثلاً کسریٰ و قصیر کے نام لکھے تھے جن کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۳۶۰ (اُردو ترجمہ) پر گزرچکی ہے، اس امر کا ایک اور گواہ ہیں۔ ۲۔ قرآن پر ایمان اور آخرت میں ربط: مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ: ”جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قرآن پر بھی ایمان لے آئیں گے، یعنی وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہ جہاں دوسرے جہاں کے لیے ایک مقدمہ ہے، اور کھیتی یا یونیورسٹی یا تجارت خانہ کی مانند ہے۔ بہر صورت ایک سلسلہ قوانین، لائحہ عمل، اور آئین اور دستور اس کے لیے ناگزیز ہے اور انبیاء کے آئے بغیر یہ ممکن نہیں کہ اس ہدف عالی تک پہنچ سکیں اور اس دن (آخرت) کے لیے تیاری کرسکیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات مد نظر رکھتے ہوئے، کہ خدانے انسان کو اس دنیا میں تکامل و ارتقا کے لیے بھیجا ہے، اور اس کی اصلی منزل دوسرا جہان ہے اگر وہ انبیاء اور آسمانی کتب اس کے لیے نہ بھنجے تو اس نے مقصد کو ضائع کردیا ہے اور اِس طرح سے خدا و معاد پر ایمان سے نبوت انبیاء اور کتب آسمانی پر ایمان کا نتیجہ نکالا جاتا ہے (غور کیجئے)۔ ۳۔ نماز کی اہمیت: مندرجہ بالا آیت میں تمام دینی احکام میں سے صرف نماز کی طرف اشارہ ہوا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نماز خدا سے رشتہ جوڑنے اور اُس کے ساتھ ربط کا مظہر ہے اور اسی سبب سے تمام عبادات سے برتر و بالاتر ہے۔ بعض کے عقیدہ کے مطابق ان آیات کے نزول کے وقت اسلامی فریضہ فقط نماز ہی تھا۔ (بحوالہ تفسیر المنار جلد ۷ صفحہ ۶۲۲۔)

93
6:93
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمۡ يُوحَ إِلَيۡهِ شَيۡءٞ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثۡلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّـٰلِمُونَ فِي غَمَرَٰتِ ٱلۡمَوۡتِ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓاْ أَيۡدِيهِمۡ أَخۡرِجُوٓاْ أَنفُسَكُمُۖ ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ وَكُنتُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهِۦ تَسۡتَكۡبِرُونَ
اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے حالانکہ اس پر وحی نازل نہ ہوئی ہو اور وہ شخص کو جو یہ کہے کہ میں بھی ایسا ہی کلام جیسا کہ اللہ نے نازل کیا ہے نازل کروں گا اور اگر تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو جب کہ یہ موت کے شدائد میں گھرے ہوں گے اور فرشتے ہاتھ پھیلائے انہیں کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جان (اور روح) کو باہر نکالو۔ آج تم ان دروغ گوئیوں کے بدلے جو تم نے خدا پر باندھی تھیں اور اس کی آیات کے سامنے جو تکبر تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے ذلیل کرنے والے عذاب دیکھو گے اور (اس دن) ان کی حالت پر تمہیں افسوس ہو گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں منابع حدیث اور کتب تفاسیر میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ منجملہ اُن کے ایک یہ ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن سعد نامی ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو کا تبِ وحی تھا، پھر اس نے خیانت کی تو پیغمبرؐنے اُسے دھتکاردیا (اور اپنے پاس سے نکال دیا) اُس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں بھی قرآنی آیات جیسی آیات لاسکتا ہوں۔ مفسرّین کی ایک جماعت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت یا اس کا کچھ حصّہ مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل ہوا ہے کہ جو نبوت کا چھوٹا دعویٰ کرنے واولوں میں سے تھا۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مسیلمہ کا قصّہ پیغمبر اکرمؐ کی عمر کے آخری زمانے کا ہے اور یہ سورہ مکی سورتوں میں سے ہے، اس شان نزول کے طرفدار یہ نظر یہ رکھتے ہیں کہ یہ آیت اس سورہ کی چند دوسری آیات کی طرح مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و ستم کے حکم سے اس سورہ کی آیت کے درمیان قرار دے دی گئی ہے۔ لیکن ہر صورت میں قرآن کی دوسری تمام آیات کی مانند کہ جو خاص حالات میں نازل ہوئی ہیں اور ان کا مضمون و مطلب کلی اور عمومی ہے اس آیت کا مضمون و مطلب بھی کلی و عمومی ہے، اور ایسے تمام مدعیان نبوت اور ان جیسے تمام لوگوں پر محیط ہے۔

وحی کا دعویٰ کرنے والوں کے بارے میں گفتگو

گذشتہ آیات کے بعد کہ جن میں کسی بھی شخص پر کتب آسمانی کے نزول کی نفی کے بارے میں یہود کی گفتگو کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، اس آیت میں دوسرے ایسے گنہگاروں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے جو ان کے نقط مقابل میں ہیں اور اپنے اوپر وحی آسمانی کے نزول کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔ حقیقت میں زیر بحث آیت میں اس قسم کے افراد کے تین کرو ہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن پہلے کہتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں کسی آیت کی تحریف کرتے ہیں، اور خدا کے کلاموں میں سے کسی کو بدل دیتے ہیں (وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا)۔ دوسرا گروہ ان کا ہے جو نبوت اور وحی کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ نہ وہ پیغمبر ہیں اور نہ ہی اُن پر وحی نازل ہوتی ہے، (اَوۡ قَالَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ وَ لَمۡ یُوۡحَ اِلَیۡہِ شَیۡءٌ)۔ تیسرا گروہ ان کا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بنوت کے انکار کے طور پر یا تمسخر اور استہزا سے کہتے ہیں کہ: ”ہم بھی اس قسم کی آیات نازل کرسکتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ اس کام کی کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتے (وَمَنْ قَالَ سَاٴُنزِلُ مِثْلَ مَا اٴَنزَلَ اللَّہُ )“۔ ہاں یہ سب کے سب ستم گر ہیں اور ان سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ خدا کے بندوں پر راہ حق کو بند کردیتے ہیں اور انھیں راستے سے ہٹا کر سرگردان کردیتے ہیں، اور سچے رہبروں کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ ایسے افراد جو رہبری کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے وہ رہبری کا دعویٰ کریں۔ وہ بھی خدائی اور آسمانی رہبری کا۔ اگر چہ آیت مدعیان نبوت ووحی سے ربط رکھتی ہے، لیکن اس کی روح اُن تمام افراد پر محیط ہے جو جھوٹ طریقہ سے کسی ایسے مقام کا دعویٰ کریں کہ جس کے وہ اہل نہیں ہیں۔ اس کے بعد اس قسم کے افراد کی دردناک سزایوں بیان کی گئی ہے: اے پیغمبرؐ!اگر تم ان ظالموں کو اس دقت میں دیکھو جب کہ جان کنی کے شدائد میں غرق ہوں گے اور روح قبض کرنے والے فرشتہ ہاتھ پھیلائے ہوئے ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جان کو باہر نکالو، تو تم دیکھو گے کہ ان کی حالت بہت ہی دردناک اور افسوس ناک ہے(ؕ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوۡۤا اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ)۔ (”غمرات“ :جمع ہے ”غمرہ“ (بروزن ”ضربہ“) کی جو اصل میں کسی چیز کے آثار کو ختم کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد اس کثیر پانی کو جو کسی چیز کے تمام چہرہ کو چھپادے، نیز ان شداٴید، مشکلات اور مصائب کو بھی غمرہ کہا جانے لگا جو انسان کو اپنے حلق کی طرف کھینچیں۔) اس حالت میں عذاب کے فرشتے اُن سے کہتے ہیں: آج تم دو کاموں کی وجہ سے ذلیل و خوار کرنے والے عذاب میں گرفتار ہوگے، پہلا یہ کہ تم خدا پر جھوٹ باندھتے تھے اور دوسرا یہ کہ اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے (اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ کُنۡتُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہٖ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ)۔ چند قابلِ توجہ نکات ۱۔ نبوت کے جھوٹے دعویداروں اور بناوٹی رہنماؤں اور رہبروں کا جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں آیت میں بدترین ظالم کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا ہے اور حقیقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہے کہ کسی کی فکر کو چرالیا جائے اور اُس کے عقیدے کو خراب کردیا جائے اور راہ سعادت اس پر بند کردی جائے اور اُسے اپنی فکری نو آبادی بنالیا جائے۔ ۲۔ ”باسطوا ایدیہم“ کا جملہ ممکن ہے اس معنی میں ہوکہ قبض روح کرنے والے فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہی ان کی روح کو قبض کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انھیں سزا دینے کی ابتدا کرنے کے لیے ہاتھ پھیلانے کے معنی میں ہو۔ ۳۔ ”اخرجوا انفسکم“ (اپنی جان اور روح کو باہر نکالو) حقیقت میں یہ قیض روح کرنے والے فرشتوں کی طرف سے اس قسم کے ظالموں کے لیے ایک قسم کی تحقیر و تذلیل ہے۔ ورنہ روح و جان کا دینا خود ظالموں کا اپنا کام نہیں ہے، بلکہ یہ ان فرشتوں ہی کا کام ہے، جیسا کہ کسی قاتل کو موت کے گھاٹ اُتارتے وقت کہتے ہیں کہ اب موت کا مزہ چکھ۔ بہر حال ان کی یہ تحقیر و تذلیل اُس تحقیر کے مقابلہ میں ہے کہ جو انھوں نے آیات خدا، انبیاء اور بندگان خدا کے بارے میں کی تھی۔ ضمنی طور پر یہ آیت روح کے استقلال اور جسموں سے ایک جدا گانہ شے ہونے پر ایک اور گواہ بھی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے گنہگاروں کی سزا جان دینے اور موت کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔

94
6:94
وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ
(روز قیامت خدا فرمائے گا آج) تم سب ہماری بار گاہ میں اکیلے لوٹ کر آئے ہو اسی طرح جیسا کہ پہلے دن ہم نے تمہیں خلق کیا تھا اور جو کچھ ہم نے (دنیا میں ) تمہیں عطا کیا تھا اسے (وہیں دنیا میں ہی) اپنے پس پشت ڈال آئے ہو اور وہ شفاعت کرنے والے کہ جنہیں تم اپنی شفاعت میں شریک سمجھتے تھے انہیں ہم تمہارے ساتھ نہیں دیکھتے تمہارے پیوند اور رشتے ختم ہو گئے ہیں اور وہ تمام چیزیں کہ جنہیں تم اپنا سہارا خیال کرتے تھے وہ تم سے دور اور گم ہو گئی ہیں۔

چند قابل توجہ نکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

۱۔ نبوت کے جھوٹے دعویداروں اور بناوٹی رہنماؤں اور رہبروں کا جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں آیت میں بدترین ظالم کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا ہے اور حقیقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہے کہ کسی کی فکر کو چرالیا جائے اور اُس کے عقیدے کو خراب کردیا جائے اور راہ سعادت اس پر بند کردی جائے اور اُسے اپنی فکری نو آبادی بنالیا جائے۔ ۲۔ ”باسطوا ایدیہم“ کا جملہ ممکن ہے اس معنی میں ہوکہ قبض روح کرنے والے فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہی ان کی روح کو قبض کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انھیں سزا دینے کی ابتدا کرنے کے لیے ہاتھ پھیلانے کے معنی میں ہو۔ ۳۔ ”اخرجوا انفسکم“ (اپنی جان اور روح کو باہر نکالو) حقیقت میں یہ قیض روح کرنے والے فرشتوں کی طرف سے اس قسم کے ظالموں کے لیے ایک قسم کی تحقیر و تذلیل ہے۔ ورنہ روح و جان کا دینا خود ظالموں کا اپنا کام نہیں ہے، بلکہ یہ ان فرشتوں ہی کا کام ہے، جیسا کہ کسی قاتل کو موت کے گھاٹ اُتارتے وقت کہتے ہیں کہ اب موت کا مزہ چکھ۔ بہر حال ان کی یہ تحقیر و تذلیل اُس تحقیر کے مقابلہ میں ہے کہ جو انھوں نے آیات خدا، انبیاء اور بندگان خدا کے بارے میں کی تھی۔ ضمنی طور پر یہ آیت روح کے استقلال اور جسموں سے ایک جدا گانہ شے ہونے پر ایک اور گواہ بھی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے گنہگاروں کی سزا جان دینے اور موت کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔

شانِ نزول

تفسیر مجمع البیان، تفسیر طبرسی اور تفسیر آلوسی میں منقول ہے کہ مشرکین میں سے نضر بن حارث نامی ایک شخص نے کہا کہ لات اور عزیٰ (عربوں کے دو مشہوربت) قیامت کے دن میری شفاعت کریں گے، تو اُوپر والی آیت نازل ہوئی اور اُسے اور اُس جیسے لوگوں کو جواب دیا گیا۔

گمشدہ لوگ

گذشتہ آیت میں موت کے آستانے پر ظالموں کے کچھ حالات کی طرف اشارہ ہوا تھا۔ اس آیت میں میں وہ گفتگو جو خدا موت کے وقت یا میدانِ قیامت میں ورود کے وقت اُن سے کرے گا منعکس کی گئی ہے۔ ابتداء میں ارشاد ہوتا ہے: آج سب اکیلے ہی اسی طرح جیسا کہ ہم نے تمھیں پہلے دن پیدا کیا تھا ہماری طرف لوٹ رہے ہو (وَ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃ)۔ ” اور جو مال ہم نے تمھیں (دنیا میں) بخشا تھا اور وہ زندگی میں تمہارا سہارا تھا، سب کا سب پس پشت ڈال کر خالی ہاتھ آئے ہو“(وَّ تَرَکۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰکُمۡ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمۡ )۔(خولناکم ”خول“ (برزون ”عمل“) کے مادہ سے اصل میں ایسی چیز کے معنی میں ہے جو سرپرستی، تدبیر اور ادارت کی محتاج ہو اور عام طور پر اموال اور ایسی مختلف نعمتوں کے لیے لولا جاتا ہے جو خدا انسان کو بخشتا ہے۔) اسی طرح ”وہ بت کہ جنھیں تم اپنے شفیع خیال کرتے تھے، اور انھیں اپنی سرنوشت میں شریک سمجھتے تھے ان میں سے کسی کو ہم تمہارے ساتھ نہیں دیکھ رہے“ (وَ مَا نَرٰی مَعَکُمۡ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّہُمۡ فِیۡکُمۡ شُرَکٰٓؤُا)۔ حقیقت میں تمہارا اجتماع پر اگندگی سے دوچار ہوگیا اور تمام رشتے تم سے ٹوٹ گئے (لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَیۡنَکُمۡ) اور وہ تمام سہارے جن پر تم بھروسہ کیے ہوئے تھے نابود ہوگئے اور کھوگئے (ۡ وَ ضَلَّ عَنۡکُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ)۔ عرب کے مشرک اور بت پرست تین چیزوں پر تکیہ کرتے تھے۔ ۱۔ وہ قبیلہ وعشیرہ کہ جس کے ساتھ وہ وابستہ ہوتے تھے۔ ۲۔ وہ مال و دولت کہ جو انھوں نے اپنے لیے اکٹھا کر رکھا تھا اور ۳۔ وہ بت کہ جنھیں وہ انسان کی سرنوشت کے تعین میں خدا کی بارگاہ میں شفیع سمجھتے تھے۔ آیت کے تینوں جملوں میں سے ہر ایک میں ان تینوں میں سے ایک ایک بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کہ وہ سب موت کے وقت کس طرح انسان سے الوداع ہوتے ہیں اور اُسے تن تنہا چھوڑ جاتے ہیں۔ دو اہم نکات ۱۔ اِس آیت کا اُس آیت کے بعد کہ جس میں موت کے وقت روح قبض کرنے والے فرشتوں کی گفتگو بیان کی گئی تھی قرار پانا اور اسی طرح ”تم نے اپنے اموال پسِ پشت ڈال دیئے“ کے جملہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب بھی موت کے وقت ان سے ہوگا لیکن یہ خطاب خدا کی طرف سے ہوگا۔ البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب میدان قیامت میں وارد ہونے کے بعد ہوگا۔ تاہم (اس سے) آیت کے مقصد اور ہدف اصلی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ۲۔ یہ آیت اگر چہ مشرکین عرب کے بارے نازل ہوئی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ان کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتی۔ اس دن تمام رشتے ، مادی تعلقات، تمام خیالی اور بناوٹی معبود، تمام سہارے جو انسان اس جہاں میں اپنے لیے بنائے ہوئے تھا اور انھیں اپنی بدبختی کے دن کے لیے دوست اور مددگار خیال کرتا تھا کلی طور پر اس سے جدا ہوجائیں گے، وہ خود رہ جائیں گے اور اس کے اعمال، وہ ہوگا اور اس کا خدا، اور باقی سب درمیان سے چلے جائیں گے اور قرآن کی تعبیر کے مطابق وہ سب کے سب گم ہوجائیں گے۔ یعنی وہ اس طرح سے حقیر و پست اور ناشناس ہوجائیں گے کہ نگاہ میں ہی نہیں آئیں گے۔

95
6:95
۞إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتِ مِنَ ٱلۡحَيِّۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
خدا دا نے اور گٹھلی کو چیرنے والاہے اور زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے یہ ہے تمہارا خدا، پس تم حق سے کیسے منحرف ہوتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
6:96
فَالِقُ ٱلۡإِصۡبَاحِ وَجَعَلَ ٱلَّيۡلَ سَكَنٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ حُسۡبَانٗاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ
وہ صبح کو شگافتہ کرنے والا ہے اور اس نے رات کو سکون کا باعث اور آفتاب و ماہتاب کو حساب کا ذریعہ قرار دیا ہے یہ دانا و توانا خدا کی تقدیر ہے۔

صبح طلوعِ کرنے والا

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

دوبارہ روئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے قرآن توحید کے دلائل کو اسرا کائنات، نظام آفرینش اور خلقت کی تعجب خیزیوں کے زندہ نمونوں اور پرگشش عبارتوں کے ساتھ تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ پہلی آیت میں زمین کے تین قسم کے عجیب و غریب شاہکاروں کی طرف اشارہ کیا گیا اور دوسری آیت میں آسمان میں ظاہر ہونے والی تین قسموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پہلے کہتا ہے: خدا دانے اور گٹھلی کا چیزنے والا ہے (اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَ النَّوٰی)۔ ”فالق“ ”فلق“ کے مادہ سے (بروزن ”فرق“) کسی چیز کو شگاف کرنے اور اس کے ایک حصّے کو دوسرے سے جدا کرنے کے معنی میں ہے۔( مفردات راغب صفحہ ۳۸۵ اور ۱۰۵) ”حب“ ”وحبة“ غذائی دانوں کے معنی میں ہے، مثلاً گندم، جو اور وہ چیزیں جو کاٹنے کے قابل میں ۔( مفردات راغب صفحہ ۳۸۵ اور ۱۰۵۔) البتہ بعض اوقات دوسرے گھاس پھوس کے دانوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ ”نویٰ“ گٹھلی کے معنی میں ہے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ یہ کھجور کی گٹھلی کے ساتھ مخصوص ہے، شاید اس بناپر ہو کہ عرب اپنے ماحول کے مخصوص حالات کی بناپر جب یہ کلمہ استعمال کرتے تھے تو ان کی توجہ کجھور کی گٹھلی کی طرف ہوتی تھی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس تعبیر میں کونسا نکتہ پوشیدہ ہے۔ اس بات پر خاص طور سے توجہ رکھنا چاہیے کہ ایک کسی پودے کی زندگی میں اہم ترین لحظہ وہی ہے جب دانہ اور گٹھلی شگافتہ ہو رہی ہو کہ جو ایک بچہ کی پیدائش کی طرح ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے کا زمانہ شمار ہوتا ہے اور اس لمحے اس کی زندگی میں ایک اہم ترین انقلاب رونما ہوتا ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ ہری گھاس اور نباتات کے دانے اور گٹھلیاں اکثر بہت ہی زیادہ محکم اور مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر کھجور کی گٹھلی اور دوسرے پھلوں مثلاً آڑو اور بعض حبوبات کی گٹھلیوں پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ نطفہ حیاتی کہ جو حقیقت میں ایک پودا اور ایک چھوٹا سا درخت ہے بہت ہی محکم قلعہ میں محصور ہے۔ لیکن کارخانہ آفرینش اس نا قابلِ نفوذ قلعہ کو تسلیم و رضا کی ایسی خاصیت عطا کرتا ہے اور اُس نرم و نازک کو نپل کو جو گٹھلی اور دانے کے اندر پرورش پاتی ہے ایسی خاصیت عطا کرتا ہےکہ وہ اس کی دیواروں کو چیر کر اُس کے اندر سے باہر نکال کر سیدھی کھڑی ہوجاتی ہے۔ واقعاً یہ عالم نباتات میں ایک عجیب و غریب قسم کا حادثہ ہے کہ قرآن جس کی طرف توحید کی ایک نشانی کے طور پر اشارہ کررہا ہے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ زندہ موجودات کو وہ مردہ سے باہر لاتا ہے اور مردہ موجودات کو زندہ سے(یُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ مُخۡرِجُ الۡمَیِّتِ مِنَ الۡحَیِّ)۔ حقیقت میں یہ جملہ کہ جس کی نظیر قرآن میں بار ہا نظر سے گزری ہے، موت و حیات کے نظام اور اُن کے ایک سے دوسرے میں تبدیل ہونے کی طرف اشارہ ہے بعض اوقات سمندروں کی تہ میں اور جنگلوں، صحراؤں اور بیابانوں کی گہرائیوں میں بے جان خشک مواد سے زندگی کے طرح طرح کے چہرے تیار کرکے باہر بھیجتا ہے۔ ایسے ایسے مواد کو جن میں سے ہر ایک زہر قاتل کا کام کرتا ہے ترکیب دے کر حیات بخش مواد تیار کرلیتا ہے اور بعض اوقات اس کے برعکس طاقتور زندہ موجودات کو معمولی سی تبدیلی کے ساتھ ایک بے جان موجود میں تبدیل کردیتا ہے۔ زندہ موجودات کی زندگی کا مسئلہ خواہ وہ موجودات نباتات سے ہوں یا حیوانات میں سے، پیچیدہ ترین مسائل میں سے ہے۔ ابھی تک انسانی علم و دانش اس کے اسرار سے پردہ نہیں اٹھاسکے اور نہ ہی اس کے پوشیدہ رازوں کو معلوم کرسکے کہ کس طرح سے طبیعی عناصر اور خشک مواد ایک عظیم حرکت کے ساتھ زندہ موجود میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی دن انسان جیسے کہ ایک مشین کے پرزوں کو جوڑ کر جو پہلے سے بنے ہوئے ہوتے ہیں مشین بنالیتا ہے اسی طرح سے مختلف طبیعی تراکیب سے استفادہ کرتے ہوئے بہت ہی پیچیدہ طریقوں کے ساتھ کوئی زندہ موجود بناڈالے لیکن نہ تو آج بشر کا عجز و ناتوانی اور نہ ہی آئندہ زمانے میں اس کام پر قادر ہونے کا احتمال، زندگی اور اس کے پیچیدہ نظام کے ایک عالم و قادر مبداء کی طرف سے ہونے کی بات کی اہمیت کو کم کرسکتی ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن وجود خدا کے اثبات کے لیے بارہا اسی مسئلہ کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ابراہیم- اور موسیٰ جیسے عظیم و بزرگ پیغمبر بھی نمرود اور فرعون جیسے سرکشوں کے مقابلے میں زندگی کے ظہور اور اس کی حکایت کے ذریعہ قادر و حکیم مبداء عالم کے وجود پر استدلال کرتے تھے۔ ابراہیم - نمرود سے کہتے ہیں: ”رَبِّیَ الَّذِی یُحیِیْ وَ یُمیِتُ“۔ ”میرا خداوہ ہے کہ جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے“۔ (بقرہ۔ ۳۵۸) حضرت موسیٰ فرعون کے مقابلہ میں کہتے ہیں: ”وَاٴَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِہِ اٴَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّی“ ”میرا پروردگار وہ ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور نباتات کے طرح طرح کے جوڑے وجود میں لایا“۔ (طٰہٰ۔ ۵۳) البتہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ صرف بے جان مواد سے زندہ موجودات کی پیدائش روئے زمین پر زندگی کی پیدائش کے آغاز میں نہیں تھی۔ بلکہ اب بھی پانی اور دیگر مواد کو زندہ موجودات کے خُلیوں کے ساتھ جذب کرکے حقیقت میں ان بے جان موجودات کے جسم پر لباس حیات پہنایا جاتا ہے۔ اس بناء پر وہ قانون جو آج کے علوم طبیعی کی رو سے مسلّم ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ زمین کے موجودہ حالات وکوائف میں کوئی بے جان موجود جاندار موجود تخم سے ہوگا، یہ نظریہ اُس سے جو کچھ ہے کہا ہے کوئی اختلاف نہیں رکھتا۔(غور کیجئے گا) ان روایات سے جو اس آیت کی تفسیر میں یا اس کی مشابہ دوسری آیات کی تفسیر میں آئمہ اہل بیت- سے ہم تک پہنچی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف مادی حیات وموت ہی نہیں ہے بلکہ یہ معنوی موت وحیات کو بھی اپنے دامنِ مفہوم میں لیے ہوئے ہے(اصول کافی، ج۲، باب ”طینة الموٴمن والکافر“؛ تفسیر برہان، ج۱، ص۵۴۳) ہم صاحبِ ایمان افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ بے ایمان آباؤ اجداد سے وجود میں آتے ہیں، اور شریر، آلودہٴ گناہ اور بے ایمان افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ پاک افراد کی نسل سے ہیں اور وہ قانون وراثت کو اپنے ارادہ واختیار سے توڑ رہے ہیں، جو کہ خالق کائنات کی عظمت کی ایک اور نشانی ہے کہ اُس نے اس قسم کی قدرت وارادہ انسان کو بخشا ہے۔ ایک اور نکتہ کہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری ہے یہ ہے کہ ”یخرج“ جو کہ فعل مضارع ہے ”مخرج“ کی طرح جو کہ اسم فاعل ہے استمرار پر دلالت کرتا ہے یعنی مردہ موجودات سے حیات سے پیدائش اور زندہ موجودات سے مُردوں کا پیدا ہونا جہاں آفرینش کا ایک دائمی اور عمومی نظام ہے۔ آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر اور مطلب کو محکم بنانے کے لیے کہا گیا ہے: یہ ہے تمھارا خدا، اور یہ ہیں اس کی لامتناہی علم وقدرت کے آثار، تو ان حالات میں تم حق سے کس طرح منحرف ہوتے ہو اور وہ تمھیں باطل کی راہ کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں(ذَلِکُمْ اللّٰہُ فَاٴَنَّا تُؤْفَکُونَ)۔ دوسری آیت میں جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں تین جوّی وآسمای نعمتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے، پہلے کہا گیا ہے: خدا صبح کا شگافتہ کرنے والا اور طلوعِ صبح کرنے والا ہے(فَالِقُ الْإِصْبَاحِ)۔ ”فلق“ (بروزن خلق)اصل میں شگاف ڈالنے کے معنی میں ہے اور یہ جوصبح کو فلق کہتے ہیں تویہ بھی اسی مناسبت سے ہے, ”اصباح“ و ”صبح“ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں۔ مندرجہ بالا تعبیر بہت ہی موزوں اور خوبصورت تعبیر ہے جو یہاں استعمال ہوئی ہے۔ کیونکہ رات کی تاریکی کو ایک موٹے پردے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس کو سفید دم کی طرح روشنی چاک کرکے علیحدہ کردیتی ہے اور یہ صورت صبح صادق پر بھی منطبق ہوتی ہے اور صبح کاذب پر صادق آتی ہے کیونکہ صبح کاذب کم روشنی کو کہا جاتا ہے جو رات کے آخری حصّہ میں ایک عمود کی شکل میں مشرق کی جانب آسمان پر پھیل جاتی ہے، اور وہ ایک شگاف سا ہوتا ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف رات کے تاریک وسیاہ پردے میں ظاہر ہوتا ہے اور صبح صادق کہ جو اس کے بعد طلوع کرتی ہے ایک سفید ودرخشان اور خوبصورت جھالر کی شکل میں ہوتی ہے جو ابتدا میں اُفق مشرق کے عرض میں آشکار ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے رات کی سیاہ چادر کو نیچے کی طرف شمالاً وجنوباً پھاڑتی ہوئی دور تک بڑھتی چلی جارہی ہے اور اُوپر کی طرف تدریجاً بڑھتے ہوئے سارے آسمان پر پھیل جاتی ہے۔ قرآن کے علاوہ اس کے بارہا نعمتِ نور وظلمت اور نعمت شب وروز کا ذکر کیا ہے یہاں طلوعِ صبح کے مسئلہ کا والہ دیا ہے کہ جو خداوندتعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ آسمان میں ظاہر ہونے والی روشنی زمین کی فضا کے وجود کا نتیجہ ہے (یعنی ہوا کی وہ ضخیم ودبیز تہ کہ جس نے اس کرہٴ ارض کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے) کیونکہ اگر کرہٴ زمین کے اطراف میں کرہٴ ماہ کی طرح یہ فضا موجود نہ ہوتی تو نہ بین الطلوعین وفلق کا وجود ہوتا اور نہ ہی آغاز شب کی سفید اور شفق ہوتی، بلکہ آفتاب ایک ناخواندہ مہمان کی طرح بغیر کسی اطلاع اور تمہید کے افق مشرق سے سرنکالتا اور اپنا خیرہ کرنے والا نور اُن آنکھوں میں جو تاریکیٴ شب کا عادی ہوچکی ہوتیں فوراً اور ایک دم چھڑک دیتا اور غروب کے وقت ایک فراری مجرم کی طرح اچانک نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا اور ایک ہی لمحہ میں تاریکی اور وحشتناک ظلمت تمام جگہوں کو گھیر لیتی۔ لیکن فضائے زمین کا وجود اور وہ فاصلہ جو رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کے طلوع وغروب آفتاب کے وقت ہوتا ہے، انسان کو تدریجاً ان دو متضاد ظاہر ہونے والی چیزوں میں سے ہر ایک کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے اور نور سے ظلمت میں تبدیلی اور ظلمت سے نور میں تبدیلی تدریجاً اور آہستہ آہستہ بالکل پسندیدہ اور قابل برداشت صورت میں انجام پاتی ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ رات کے وقت ایک روشن اور پرنور کمرے میں جب اچانک بلب بجھ جاتا ہے تو سب کے لیے کیسی تکلیف دہ حالت ہوتی ہے۔ پھر گھنٹہ بھر بجلی نہ آئے اور پھر بغیر کسی تمہید کے بلب روشن ہوجائے تو پھر بھی ایک قسم کی تکلیف سب کو لاحق ہوجاتی ہے۔ بلب کی خیرہ کرنے والی روشنی آنکھوں کو تکلیف دیتی ہے اور ہم اطراف کی چیزوں کو دیکھنے کے لیے زحمت سے دوچار ہوجاتے ہیں اور اگر ایسا بار بار ہوتا رہے تو یقینا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا(علمائے ہیئت کہتے ہیں کہ طلوع صبح اس وقت شروع ہوتا ہے جب آفتاب مشرق کی طرف ۱۸ درجہ فاصلہ پر افق پر پہنچ جائے اور ات کی تاریکی اُس وقت تمام جگہوں کو گھیر لیتی ہے اور شفق گم ہوجاتی ہے جب سورج مغرب کی طرف ۱۸ درجہ افق میں نیچے کی طرف چلا جاتا ہے) لیکن اس بناپر کہ کہیں یہ خیال نہ پیدا ہو کہ طلوعِ صبح اس بات کی دلیل ہے کہ تاریکی وظلمت ایک نامطلوب چیز ہے اور یہ سزا او سلبِ نعمت ہے لہٰذا بلا فاصلہ قرآن فرماتا ہے کہ خداوندتالیٰ نے ”رات کو سکون وآرام کا باعث قرار دیا ہےے(وَجَعَلَ اللَّیْلَ سَکَنًا)۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ انسان نور اور روشنی میں جستجو اور کوشش کی طرف مائل ہوتا ہے، خون سطح بدن کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اور تمام خلیے آمادہٴ عمل ہوجاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ روشنی میں نیند اتنی آرام دہ نہیں ہوتی لیکن ماحول جتنا تاریک ہوگا نیند اتنی ہی گہری اور آرام دہ ہوگی۔ کیونکہ تاریکی میں خون بدن کے اندر کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور خلیے ایک طرح کے آرام واستراحت میں ڈوب جاتے ہیں۔ اسی سبب سے دنیائے طبیعت میں نہ صرف حیوانات بلکہ نباتات بھی رات کی تاریکی میں سوجاتے ہیں اور صبح کی پہلی شعاع کے ظاہر ہوتے ہی جنبش اور فعّالیت شروع کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس مشینی دنیا کے لوگ آدھی رات کے بعد تک بیدار رہتے ہیں اور دن کو طلوع آفتاب کے بہت دیربعد تک سوئے رہتے ہیں اور بدن کی صحت وسلامتی کو ضائع کردیتے ہیں۔ اُن احادیث میں جو اہل بیت علیہم السلام کے طریقوں سے وارد ہوئی ہیں، ہم ایسے دستور العمل پڑھتے ہیں جو سب کے سب یہی مفہوم لیے ہوئے ہیں، منجملہ ان کے نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ- نے اپنے ایک موالی کو حکم دیا کہ رات کے ابتدائی حصّہ میں اپنا سفر جاری نہ رکھ کیونکہ خدا نے رات کو سکون وارام کے لیے قرار دیا ہے اور اسے قیام کا وقت قرار دیا ہے نہ کہ کوچ کرنے کا۔ رات کے وقت اپنے بدن کو آرام پہچاؤ اور استراحت کرو( صافی، ذیل آیہ بعض مفسّرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ شاید اس جملے سے یہ مراد ہو کہ خود یہ دونوں آسمانی کرّے ایک نظام کے ماتحت اور ایک حساب سے رواں دواں ہیں ایک حدیث میں جو کتاب ”کافی“ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے آپ- نے فرمایا: تزوج باللّیل فاِنّہ جعل اللّیل سکناً“ ”مراسم ازدواج کو رات کے وقت قرار دے کیونکہ رات باعث سکون وآرام ہے“(سابقہ حوالہ ) جیسا کہ ازدواج اور صحیح طور پر جنسی آمیزش بھی آرام بخش ہے) اور کتاب کافی ہی میں ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ امام علی بن الحسین علیہما السلام اپنے غلاموں کو یہ حکم دیا کرتے تھے کہ وہ رات کے وقت اور طلوع فجر سے پہلے کبھی بھی جانوروں کو ذبح نہ کریں اور فرماتے تھے: ””انّ الله جعل اللّیل سکناً لکلّ شیء“ ”خدا نے رات کو ہر چیز کے لیے راحت وآرام کا سبب قرار دیا ہے“۔(صافی، ذیل آیہ بعض مفسّرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ شاید اس جملے سے یہ مراد ہو کہ خود یہ دونوں آسمانی کرّے ایک نظام کے ماتحت اور ایک حساب سے رواں دواں ہیں ) اس کے بعد خداوندتعالیٰ نے اپنی تیسری نعمت اور اپنی عظمت کی نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ: آفتاب وماہتاب کو تمہاری زندگی میں حساب وکتاب کا ذریعہ قرار دیا ہے(وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا)۔ ”حسبان“ (برورزن لقمان) مصدر ہے، مادّہ ”حساب“ سے اور حساب کرنے کے معنی میں ہے۔ یہاں ممکن ہے یہ مرادہو کہ ان دو آسمانی کرّوں کی منظم گردش اور سیر مرتب (البتہ ان کی حرکت سے مراد وہ حرکت ہے جو ہمیں نظر آتی ہے جو زمین کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے) اس بات کا سبب بنتی ہے کہ تم اپنی زندگی کے مختلف پروگراموں کو نظام وحساب کے ما تحت کرلو۔ جیسا کہ ہم اُوپر والی تفسیر یں بیان کرچکے ہیں۔ اس بناپر پہلی صورت میں خداوندتعالیٰ کی ایک نعمت کی طرف اشارہ ہے جو اُس نے انسانوں کو دی ہے اور دوسری صورت میں توحید کی ایک نشانی اور وجودِ خدا کے اثبات کی ایک دلیل کی طرف اشارہ ہے اور ممکن ہے کہ دونوں معافی کی طرف اشارہ ہو۔ بہر صورت یہ بات ہی جاذب توجہ ہے کہ لاکھوں سال سے کرہٴ زمین آفتاب کے گرد اور ماہتاب زمین کے گرد گردش کررہا ہے اور اس کے زیر اثر ہم اہلِ زمین کی نظر میں آفتاب کی ٹکیہ فلک کے بارہ برجوں کے سامنے گرد کررہی ہے ، اور چاند کی ٹکیہ اپنے منظم حلال کے ساتھ اور تدریجی تغیّر پذیری کے ساتھ اور ہر دفعہ ایک ترتیب سے ظاہر ہوتی ہے، یہ گردش اس قدر حساب شدہ ہے کہ ایک لمحہ بھر کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ اگر ہم سورج کے گِرد گردشِ زمین کی مسافت پر غور کریں جو ایک بیضوی شکل کے مدار میں گردش کرتی ہے جس کی شعاع متوسط ۱۶۰ لاکھ کلو میٹر ہے۔ حالانکہ آفتاب کی عظیم قوتِ جاذبہ اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور اسی طرح کرہٴ ماہ کہ جو خود اپنے دائرے جتنی مسافت کو شعاع متوسط کے ۳۸۴ ہزار کلومیٹرکے ساتھ طے کرتا ہے، جب کہ زمین کی عظیم قوتِ جاذبہ اُسے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ تو اس وقت ہم اس بات کی طرف متوجہ ہوں گے کہ ایک طرف سے ان کرات کی قوتِ جاذبہ میں اور دوسری طرف سے ان کرات کے درمیان مرکز سے گریز کی قوت میں کس قدر دقیق تعادل اور برابری برقرار ہے کہ جس سے ان کی سیرِ عظیم میں ایک لحظہ کا وقفہ یا کوئی کمی زیادتی پیدا نہیں ہوتی اور ایسا ایک لامتناہی علم وقدرت کے بغیر ممکن نہیں کہ جو اس کی تقشہ کشی بھی کرے اور اُسے باریک بینی کے ساتھ جاری بھی رکھے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ خدا کی اندازہ گیری ہے جو توانا بھی ہے اور دانا بھی ہے(ذٰلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ)۔

97
6:97
وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلنُّجُومَ لِتَهۡتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمہارے لئے ستارے قرار دیئے تاکہ تم خشکی اور دریا کی تاریکی میں ان کے ذریعہ ہدایت حاصل کرو۔ ہم نے ان لوگوں کے لئے کہ جو جانتے ہیں (اور جو اہل فکر و نظر ہیں ) اپنی نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں۔

اہلِ فکر ونظر اور اہل فہم کےلئے تفصیلی نشانیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیت کے بعد آفتاب وماہتاب کی گردش کی طرف اشارہ ہوا تھا، یہاں پروردگار کی ایک اور نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمھار ے لیے ستارے قرار دیئے ہیں تاکہ تم ان کے ذریعے صحرا اور دریا کی تاریکی میں اپنے راستوں کو اندھیری راتوں میں پالو: ”وَہُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ النُّجُومَ لِتَہْتَدُوا بِہَا فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ“ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ہم نے اپنی نشانیاں اور دلائل اہلِ فکر ونظر اور اہل فہم وفراست کے لیے کھول کر بیان کردی ہیں ( قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ)۔ انسان ہزار سال سے آسمان کے ستاروں اور ان کے نظام سے آشنا ہے۔ اگرچہ جس قدر انسانی علم ودانش بڑھتا جارہا ہے اسی قدر وہ اس نظام کی گہرائی میں زیادہ داخل ہوتا جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ ہر زمانے میں اسی کی وضع وکیفیت سے کم وبیش آشنا تھا۔ لہٰذا دریائی اور خشکی کے سفروں میں سمت کے تعین کا بہترین ذریعہ یہی ستارے تھے۔ خصوصاً وسیع وعریض سمندروں میں جہاں راستے اور منزل کے تعین کی کوئی نشانی اس کے پاس نہ ہوتی تھی، قطب نما بھی اُس زمانے میں ایجاد نہیں ہوا تھا، آسمانی ستاروں کے سوا اور کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ بھی موجود نہیں تھا۔ یہی ستارے تھے جو لاکھوں کروڑوں انسانوں کو گمراہی اور غرقاب سے نجات دیتے تھے اور انھیں منزل مقصود تک پہنچاتے تھے۔ صفحہٴ آسمان پر چند رات پے درپے متواتر نگاہ کرنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ستاروں کی حالت وکیفیت ہر مقام پر ایک ہی جیسی ہے گویا کہ ستارے موتیوں کے دانوں کی طرح ہیں کہ جو ایک سیاہ کپڑے کے اُوپر ٹکے ہوئے ہیں اور آغاز شب سے ہی اس کپڑے کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف کھینچ دیا جاتا ہے اور وہ سب کے سب اس کے ساتھ حرکت کررہے ہیں اور زمین کے محور کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جب کہ ان کے درمیانی فاصلوں میں بھی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ صرف ایک استثنا جو اس قانون کلی میں دکھائی دیتا ہے یہ ہے کہ کچھ ستارے ایسے بھی ہیں کہ جنھیں سیارہ کہتے ہیں اور ان کی اپنی مستقل اور مخصوص حرکات ہیں اور ان کی تعداد ۸ سے زیادہ نہیں ہے۔ ان میں سے ۶ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں (عطارد، زہرہ، زحل، مریخ اور مشتری) لیکن باقی تین سیاروں (اورانوس، نپٹون اور پلوٹون) کو صرف دوربین کے ساتھ ہی دیکھا جاسکتا ہے (البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زمین بھی ایک سیارہ ہی ہے جو آفتاب کے گرد گردش کرتی ہے تو ان کی مجموعی تعداد ۹ تک پہنچ جاتی ہے)۔ شاید قبل از تاریخ کے انسان بھی ”ثوابت“‘ اور ”سیارات“ کی وضع سے آشنا تھے کیونکہ انسان کے لیے تاریک اور ستاروں بھری رات میں آسمان سے زیادہ دل لبھانے والا اور جاذب نظر کوئی منظر نہیں ہے۔ اسی بناپر بعید نہیں ہے کہ وہ بھی اپنے راستوں کو معلوم کرنے کے لیے ستاروں سے استفادہ کرتے ہوں۔ بعض روایات سے جو اہلِ بیت علیہم السلام کے طریق سے وارد ہوئی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت کی ایک اور تفسیر بھیہے اور وہ یہ ہے ہے کہ ستاروں سے مراد خدائی رہبر اور ہادیانِ راہ سعادت یعنی آئمہ معصومین علیہم السلام کہ جن کے وسیلہ سے لوگ زندگی کی تاریکیوں میں گمراہی سے نجات پاتے ہیں اور جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس قسم ی معنوی تفسیر آیت کی ظاہری اور جسمانی تفسیر کے منافی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ آیت کی نظر دونوں ہی باتوں کی طرف ہو(۱) ۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۷۵۰-

98
6:98
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ فَمُسۡتَقَرّٞ وَمُسۡتَوۡدَعٞۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَفۡقَهُونَ
اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا حالانکہ بعض انسان پائیدار ہیں (ایمان یا خلقت کامل کے لحاظ سے) اور بعض ناپائیدار۔ ہم نے اپنی آیات ان لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں بیان کر دی ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
6:99
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٖ فَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرٗا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبّٗا مُّتَرَاكِبٗا وَمِنَ ٱلنَّخۡلِ مِن طَلۡعِهَا قِنۡوَانٞ دَانِيَةٞ وَجَنَّـٰتٖ مِّنۡ أَعۡنَابٖ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشۡتَبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٍۗ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَيَنۡعِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمۡ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
اور وہی وہ ذات ہے کہ جس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے طرح طرح کے نباتات (اگائے)۔ ان سے سبز تنے اور شاخیں نکالیں اور ان سے ترتیب کے ساتھ چنے ہوئے دانے اور کھجور کے گچھوں سے باریک دھاگوں کے ساتھ جڑے ہوئے خوشے باہر نکالے اور طرح طرح کے انگو ر‘ زیتون اور انار کے باغ (پیدا کئے) جو ایک دوسرے سے مشابہ بھی ہیں اور (بعض) غیر مشابہ (ہیں ) جب ان میں پھل آتا ہے تو تم اس میں پھل لگنے اور اس کے پکنے کی طرف نگاہ کرو کہ اس میں صاحبان ایمان کے لئے نشانیاں ہیں۔

وہی وہ ذات ہے کہ جس نے تمھیں ایک انسان سے پیدا کیا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیات میں بھی توحید اور خدا شناسی کے دلائل ہی بیان ہوئے ہیں۔ کیونکہ قرآن انسان کو اس ہدف کے لیے کبھی آفاق اور دور رداز کے جہانوں کی سیر کراتا ہے اور کبھی اُسے اپنے وجود کے اندر سیر کرنے کی دعوت دیتا ہے اور اسی کے جسم وجان میں موجود خدا کی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے۔ تاکہ وہ خدا کو ہر جگہ اور ہر چیز میں دیکھ لے۔ پہلے کہتا ہے: وہی وہ ذات ہے کہ جس نے تمھیں ایک انسان سے پیدا کیا ہے(وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ)۔ یعنی تم ان گوناگوں چہروں، مختلف ذوق وافکار اور تمام جنبہ ہاے وجودی میں وسیع تنوع کے باوجود ایک ہی فرد سے پیدا ہوتے ہو۔ اور اس سے خالق وآفرید گار کی انتہائی عظمت کا اظہار ہوتا ہے کہ اس نے ایک ہی مبداء سے یہ مختلف چہرے کس طرح پیدا کیے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس جملہ میں خلقت انسان کو ”انشاء “ سے تعبیر کیا ہے اور یہ لفظ جیسا کہ متون لغت سے معلوم ہوتا ہے ایسے ایجاد وابداع کے معنی ہیں ہے کہ جس میں ترتیب وپرورش کی آمیزش ہو۔ یعنی نہ صرف یہ کہ خدا وندتعالیٰ نے تمھیں بغیر کسی سابقہ تجربے کے یدا کیا ہے بلکہ اُس نے تمھاری تربیت وپرورش کی ذمہ داری بھی اٹھائی ہے اور یہ بات مسلّّم ہے کہ اگر کوئی پیدا کرنے والا کسی چیز کو پیدا کرکے پھر اُسے (بے سہارا) چھوڑدے تو اُس نے کوئی زیادہ قدرت نمائی نہیں کی۔ لیکن اگر وہ ہمیشہ کے لیے اُسے اپنی حمایت میں لے لے اور ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی پرورش وتربیت سے غافل نہ ہو تو اُس نے اپنی عظمت ورحمت کی مکمل نشاندہی کی ہے۔ ضمنی طور پر مندرجہ بالا جملے سے یہ تو ہّم پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ جناب حوّا ہماری پہلی ماں (بھی) آدم- سے پیدا ہوئی ہیں (جیسا کہ تورات کی فصل دوم سفر تکوین میں آیا ہے) لیکن چونکہ آدم- وحوّا روایات اسلامی کے مطابق ایک ہی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور دونوں ایک ہی جنس اور ایک ہی نوع ہیں لہٰذا نفس واحدہ کے الفاظ اُن پر بولے گئے ہیں (ہم سورہٴ نساء کی ابتداء میں بھی اس بارے میں بحث کرچکے ہیں) اس کے بعد فرمایا گیا ہے: افراد بشر کی ایک جماعت مستقر ہے اور ایک جماعت مستودع (فَمُسۡتَقَرٌّ وَّ مُسۡتَوۡدَعٌ)۔ ”مستقر“ مادہ ”قر“ (بروزن ”حر“) سے سردی کے معنی میں ہے اور چونکہ ایسی سردی کہ جس کی ہوا تیز اور سخت ہو وہ انسان اور دوسرے موجودات کو حانہ نشین کردیتی ہے۔ تو یہ لفظ سکون وتوقف اور کسی جگہ قرار پانے کے معنی میں آیا ہے اور ”مستقر“ ثابت اور پائیدار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ”مستودع“ ، ”دوع“ (بروزن ”منع“) کے مادہ سے ترک کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس بناپر ناپائیدار امور بہت جلد اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں لہٰذا یہ لفظ ناپائیدار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ودیعہ (امامت) کو اس لیے ودیعہ کہتے ہیں کہ اُسے اپنی جگہ ترک کرنا چاہیے اور اصل مالک کی طرف پلٹ جانا چاہیے۔ مندرجہ بالا گفتگو سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بعض انسان پائیدار ہیں اور بعض ناپائیدار اور اس بارے میں کہ یہاں ان دونوں تعبیرات سے کیا مراد ہے مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف نظر آتا ہے۔ لیکن ان میں سے چند تفاسیر جو اپنی اصل حالت پر رہتے ہوئے بھی آپس میں ایک دوسرے سے کوئی تضاد نہیں رکھتیں اور اُن سب کو ہی آیت کی تفسیر کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے اور وہ حقیقت سے قریب تر ہیں۔ ان میں سے پہلی یہ ہے کہ ”مستقر“ سے مراد وہ انسان ہیں کہ جن کی خلقت کامل ہوئی ہے اور وہ رحم مادر میں رہے ہیں یا روئے زمین پر قدم رکھا ہے۔ اور مستودع ان افراد کی طرف اشارہ ہے جن کی غفلت ابھی تک پایہٴ تکمیل کو نہیں پہنچی اور وہ نطفہ کی صورت میں آباؤ اجداد کے صلب میں ہی ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”مستقر“ روحِ انسان کی طرف اشارہ ہے کہ جو ایک ناپائیدار وبرقرار چیز ہے اور ”مستودع“جسم انسانی کی طرف اشارہ ہے جو ناپائیدار اور فانی ہے۔ بعض روایات میں ان دونوں تعبیرات کے لیے ایک معنوی تفسیر بھی بیان ہوئی ہے کہ ”مستقر“ ان انسانوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو پائیدار ایمان کے حامل ہیں اور ”مستودع“ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو ناپائیدار ایمان رکھتے ہیں۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۷۵۰) یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مذکورہ بالا دونوں تعبیریں نطفہٴ انسان کو تشکیل دینے والے اجزائے اوّلیہ کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نطفہٴ انسان دو اجزاء ایک نطفہ مادہ (OVUM) اور دوسرا نطفہ نر (SPERM)سے تشکیل پاتا ہے، مادہ کا نطفہ تو رحم میں تقریباً ثابت اور مستقر ہے، لیکن نر کے نطفے متحرک جانداروں کی شکل میں اس کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کرتے ہیں(SPERM) کا پہلا فرد جو (OVUM) تک پہنچتا ہے وہ اُس میں داخل ہوجاتا ہے اور باقی کو پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے اور یوں انسان کے تخمہ اوّلی کی تشکیل ہوتی ہے۔ آیت کے آخر میں دوبارہ کہا گیا ہے: ہم اپنی نشانیوں کو ایک ایک کرکے تفصیل سے بیان کردیا ہے تاکہ جو لوگ سمجھدار اور صاحب ادراک ہیں وہ سمجھ لیں (قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّفۡقَہُوۡنَ)۔ لغت کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ”فقہ“ ہر قسم کے علم وفہم کو نہیں کہتے بلکہ موجودہ معلومات سے غائب کی معلومات کا کھوج نکالنے کو کہتے ہیں(مفردات راغب، ص۳۸۴) اس بناپر ان طرح طرح کے چہروں اور مختلف جسمانی وروحانی قیافوں کے ساتھ انسان کی خلقت کی طرف توجہ کرنا اس لائق ہے کہ نکتہ سنج افراد اس میں غور کریں اور اپنے خدا کو پہچانیں۔ دوسری آیت وہ آخری آیت ہے جو ان بحثوں کے سلسلے میں ہمیں جہانِ خلقت کے عجائبات کے ذریعہ خدا شناسی کی دعوت دیتی ہے۔ شروع میں پروردگارِ عالم کی اہم ترین اور بنیادی ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت کی طرف کہ جسے تمام نعمتوں کی اصل، جڑ، بنیاد اور ماں سمجھا سکتا ہے اشارہ کیا گیا ہے اور وہ نباتات (سرسبز پودے) اور درختوں کا بننا اور رشد ونمو کرنا ہے، چنانچہ یہ آیت کہتی ہے: وہی وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے) آسمان سے پانی نازل کیا (وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً)۔ جو یہ کہتا ہے کہ آسمان کی طرف سے (یعنی اُوپر کی طرف سے، کیونکہ لغت عرب میں آسمان ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو اُوپر کی طرف قرار پاتی ہو) تواس کی وجہ یہ ہے کہ روئے زمین میں پانی کے جتنے بھی منابع ہیں چاہے وہ چشمے ہوں یا دریا، نہریں ہوں یا گہرے کنویں، سب کے سب آخرکار ربارش کے پانی کے محتاج ہیں۔ اسی لیے بارش کی کمی اُن سب پر اثرانداز ہوتی ہے اور اگر خشک سالی طول پکڑلے تو وہ سب کے سب خشک ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد بارش کے ایک واضح اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ: اسی کے ذریعہ سے تمام اُگنے والی چیزوں کو ہم نے زمین سے نکالا ہے (فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیۡءٍ)۔ مفسّرین نے ”نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ“ (ہر چیز کی گھاس) کی تفسیر میں دو احتمال کا ذکر کیا ہے۔ پہلا یہ کہ اس سے مراد ہر نوع اور ہر قسم کی ایسی بناتات ہیں جو ایک ہی پانی سے سیراب ہوتی ہی اور ایک ہی زمین اور ایک ہی قسم کی مٹی میں پرورش پاتی ہیں اور یہ چیز آفرینش کے عجائبات میں سے ہے کہ یہ تمام قسم قسم کی نباتات اپنے خواص میں مکمل طور پر مختلف ہونے اور بعض اوقات متضاد ہونے اور مختلف شکلوں میں ہونے کے باوجود سب کی سب ایک ہی زمین میں اور ایک ہی پانی سے کیسے پرورش پاتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد وہ نباتات ہیں جن کی ہر کسی کو حاجت اور ضرورت ہے۔ یعنی پرندوں،چوپاؤں، حشرات اور دریائی وصحرائی جانوروں میں سے ہر ایک ان نباتات سے بہرہ اندوز ہوتا ہے۔ اور یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ خداوندتعالیٰ نے ایک ہی زمین سے اور ایک ہی پانی سے ہر ایک ضرورت کے مطابق غذا مہیّا کی ہے اور یہ قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے کہ فی المثل ایک ہی معین مادے سے ایک باورچی خانہ میں ہزاروں قسم کی مختلف سلیقہ اور مزاجوں کے لوگوں کے لیے مہیّا کرتی ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر لائق توجہ بات یہ ہے کہ نہ صرف صحراؤں کی اور خشکیوں کی گھاس اور سبزے بارش کے پانی کی برکت سے پرورش پاتے ہیں بلکہ بہت سی ایسی چھوٹی نباتات جو سمندر کے پانی کی موجوں کے درمیان اُگتی ہیں اور سمندر میں رہنے والی مچھلیوں کی عمدہ خوراک بنتی ہیں، وہ بھی نورِ آفتاب اور بارش کے قطروں کے اثر سے رشد ونمو حاصل کرتی ہیں۔ میں یہ بات بھولتا نہیں ہوں کہ خلیج فارس کے جزائر کا رہنے والا ایک شخص جو شکار کی کمی کی شکایت اس کی علت وسبب کے بارے میں یہ کہہ رہا تھا کہ مچھلی کے شکار کی کمی خشک سالی کے سبب سے ہے اور وہ اس بات کا معتقد تھا کہ سمندر کے اندر بارش کے قطروں کا خیات بخش اثر خشکیوں میں بارش کے اثر سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے بعد اس جملے کی شرح کرتے ہوئے قرآن گیہوں اور درختوں کے ایسے اہم مواقع کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو بارش کے پانی کے ذریعہ پرورش پاتے ہیں پہلے کہتا ہے: ہم نے اُس (بارش کے پانی) کے ذریعہ گیہوں اور نباتات کے سبز تنوں کو زمین سے نکالا ہے اور چھوٹے سے خشک دانے سے ایسا تروتازہ اور سرسبز پیدا کیا ہے کہ جس کی لطافت (ونزاکت) اور زیبائی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے(فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡہُ خَضِرًا)( خضر“ بمعنی ”اخضر“ یعنی ”سبز رنگ“ ہے اس بناپر تمام سبزوں کو یہاں تک کہ درختوں کی کونپلوں کو بھی شامل ہے لیکن اُوپر والی آیت سے چونکہ اس میں غذائی دانوں کی طرف اشارہ ہوا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خصوصیت سے زراعت مراد ہے۔) ”اور اُن سبز ڈنٹھلوں اور تنوں سے ایسے دانے کہ جو ایک دوسرے کے اوپر (موتیوں کی طرح) چنے ہوئے ہوتے ہیں (جیسے مکئی اور گندم کے خوشوں میں) باہر نکالتے ہیں (نُّخۡرِجُ مِنۡہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ۚ)(”متراکب“ ”رکوب“ کے مادہ سے ”سواری“ کے معنی میں یعنی ایسے دانے جو ایک دوسرے پر سوار ہوتے ہیں اور زیادہ تر غذائی دانے ایسے ہیں) اسی طرح اس کے ذریعے کھجور کے درختوں سے سربستہ خوشے باہر نکالتے ہیں جس کے شگافتہ ہونے کے بعد باریک اور خوبصورت دھاگے جو خرما (کھجور) کے دانوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں اور بوجھ کی وجہ سے نیچے کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں، باہر نکلتے ہیں (وَ مِنَ النَّخۡلِ مِنۡ طَلۡعِہَا قِنۡوَانٌ دَانِیَۃٌ)۔ ”طلع“ کا معنی کھجور کا سربستہ خوشہ ہے جو ایک خوبصورت سبز رنگ کے غلاف میں لپٹا ہوتا ہے اور اس کے شگافتہ ہونے اور پھٹ جانے سے اس کے درمیان سے باریک سے دھاگے باہر نکل آتے ہیں اور وہی دھاگے بعد میں کھجور کے خوشوں کوتشکیل دیتے ہیں۔ ”قنوان“ جمع ہے اور ”قنو“ (برزون ”صنف“) کی جو انہی باریک اور لطیف دھاریوں اور دھاگوں کی طرف اشارہ ہے۔ ”دانیہ“ نزدیک کے معنی ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان دھاگوں کے ایک دوسرےکے قریب ہونے کی طرف اشارہ ہو، یا زیادہ بوجھ کی وجہ سے ان جھکنا مراد ہو۔ اسی طرح ہم نے انگور ، زیتون اور انار کے باغوں کی پرورش کی ہے (وَّ جَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ)۔ اس کے بعد عالم آفرینش کے ایک اور شاہکار کی طرف جس کا تعلق انہی درختوں کے ساتھ ہے اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: وہ ایک دوسرے ساتھ شباہت رکھتے ہیں اور نہیں بھی سمجھتے (مُشۡتَبِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ)۔ اسی سورہ کی آیت۱۴۱ کی طرف توجہ کرتے ہوئے جس میں متشابہ اور غیر متشابہ کے وصف کا ذکر زیتون اور انار کے لیے کیا گیا ہے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں بھی مذکورہ صفت انہی دو درختوں کے بارے میں ہے۔ (راغب کتاب ”مفردات“ میں کہتا ہے: ”مُشْتَبِہًا وَغَیْرَ مُتَشَابِہٍ“ و” مُتَشَابِہًا وَغَیْرَ مُتَشَابِہٍ“تقریباً ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔) یہ دونوں درخت ظاہری شکل نیز شاخوں اور پتوں کی ساخت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ شباہت رکھتے ہیں۔ جبکہ پھل ، ذائقہ اور خاصیت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے اِن میں فرق ہے۔ ان میں سے ایک موٴثر اور قوی روغنی مادہ رکھتا ہے اور دوسرے میں ترش یا میٹھا مادہ ہوتا ہے جو بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں، علاوہ ازیں بعض اوقات یہ دونوں درخت ایک ہی زمین میں پرورش پاتے ہیں اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں (یعنی ان دونوں صفات میں سے ہر ایک درختوں اور پھلوں کے ایک گروہ کے لیے ہے۔ لیکن پہلی تفسیر کے مطابق دونوں صفات ایک ہی چیز کے لیے تھیں۔ اس کے بعد بحث کو پیکرِ درخت کے اعضاء سے موڑتے ہوئے اُن کے پھلوں سے متعلق بحث کرتے ہوئے کہتا ہے: ایک نظر درخت کے پھل کی طرف کرو جب کہ وہ ثمر آور ہوئے، اور اسی طرح اس کے پکنے کی کیفیت کی طرف نگاہ کرو کہ ان میں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں خدا کی قدرت وحکمت کی واضح نشانیاں موجود ہیں (اُنۡظُرُوۡۤا اِلٰی ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ یَنۡعِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکُمۡ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ)۔ اس بات کی کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو آج کے زمانے میں نباتات کی تحقیق کے بارے میں پھلوں کی پیدائش کی کیفیت اور ان کے پکنے کے سلسلے میں کہا گیا ہے، وہ خاص نکتہ جس کا قرآن پھل کے بارے میں ذکر کرتا ہے واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پھلوں کا پیدا ہونا بعینہ جاندارون میں بچہ پیدا ہونے کی طرح ہے۔ نر نطفے مخصوص ذرائع سے (ہوا کے چلنے یا حشرات وغیرہ کے سبب سے) مخصوص تھیلیوں سے جدا ہوتے ہیں اور نباتات کے مادہ حصّہ پر جاپڑتے ہیں۔ عمل تلقیح انجام پانے اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ ترکیب پانے کے بعد پہلا بیج تشکیل پاتا ہے اور کئی قسم کے مواد غذائی اسے اطراف میں گوشت کی طرح آغوش میں لے لیتے ہیں۔ یہ مواد غذائی ساخت کے لحاظ سے بہت ہی متنوع اور مختلف ہیں۔ اسی طرح ذائقہ اور غذائی وطبی خواص کے لحاظ سے بھی بہت مختلف ہیں، کبھی ایک پھل (مثلاً انار اور انگور) میں سینکڑوں دانے ہوتے ہیں کہ جن میں سے ہر دانہ خود جنین اور ایک درخت کا بیج شمار ہوتا ہے اور اس کی ساخت بہت ہی پیچیدہ اور اندر ہی اندر ہوتی ہے۔

انار کی ساخت

تمام پھلوں کی ساخت اور ان کے غذائی ودوائی مواد اس بحث کی گنجائش سے خارج ہیں۔ لیکن کوئی حرج نہیں ہے کہ نمونہ کے طور پر انار کے پھل کی ساخت کی طرف اشارہ کیا جائے کہ جس کی طرف قرآن نے مندرجہ بالا آیت میں اشارہ کیا ہے۔ اگر ہم انار کو چیریں اور اس کا ایک چھوٹا سا دانا ہاتھ میں لے کر اُسے آفتاب یا چراغ کے سامنے رکھیں اور صحیح طور پر اس میں غور وفکر کریں تم ہم دیکھیں گے کہ وہ چھوٹے چھوٹے حصّوں سے بنا ہوا ہے کہ جو انتہائی چھوٹی چھوٹی شیشیوں کا مانند، انار کے پانی کی ایک خاص مقدار لیے، ایک دوسرے کے پاس چن دی گئی ہیں، انار کے ایک چھوٹے سے دانے میں شاید اس قسم کی سینکڑوں چھوٹی چھوٹی شیشیاں موجود ہیں۔ پھر ان کے اطراف کو ایک باریک چھلکے کے ساتھ جو انار کے ایک دانے کا چھلکا ہے گھیرا ہوا ہے۔ پھر اس غرض سے کہ یہ بستہ بندی کامل تر، محکم تر اور خطرے سے دور تر رہے، انار کے دانوں کی ایک خاص تعداد کو ایک ستون پر ایک خاص نظام کے ساتھ چن دیا گیا ہے اور ایک سفید رنگ کا پردہ جو نسبتاً موٹا ہے اس کے اطراف میں لپیٹ دیا گیا ہے اور اس کے بعد ایک موٹا اور محکم چھلکا جو دونوں طرف سے خاص قسم کا لعاب رکھتا ہے ان سب کے اُوپر کھینچ دیا گیا ہے تاکہ وہ ہوا اور جراثیم کے نفوذ کو روکے اور ضربات سے بھی ان کی حفاظت کرے اور دانوں کے اندر موجود پانی کے بخارات بننے کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ کم کرے۔ یہ نازک اور عمدہ بستہ بندی انار کے دانوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے، بلکہ دوسرے پھلوں مثلاً مالٹا اور لیموں وغیرہ میں بھی نظر آتی ہے لیکن انار اور انگور میں زیادہ عمدہ اور جاذب نظر ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوع بشر نے بھی سیال چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے اسی سے سبق سیکھا ہے کہ وہ پہلے چھوٹی چھوتی شیشیوں کو ایک چھوٹے ڈبوں کو ایک بڑے کارٹون میں رکھ دیتے ہیں اور ان کے مجموعے کو ایک بڑے بنڈل کی صورت میں منزلِ مقصود کی طرف اٹھاکر لے جاتے ہیں۔ انار کے دانوں کے داخلی ستونوں پر قرار پکڑنے کی طرز اور اپنے حصّہ کا پانی اور مواد غذائی اُن سے حاصل کرنا اس سے بھی زیادہ عجیب اور حیرت انگیز ہے۔ سب سے انوکھی بات یہ ہے کہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ جنھیں ہم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ان پھلوں کے ذرّات کو (مائیکرو سکوپ) دوربین کے نیچے رکھ کر دیکھیں تواس وقت ایک پُرغوغا جہاں عجیب وغریب اور حیرت انگیز بنیادوں اور تعمیرات کے ساتھ حد سے زیادہ منظم طریقے پر ہماری نظروں کے سامنے مسجم ہوجاتا ہے۔ تو کس طرح ممکن ہے کہ کوئی شخص چشم حقیقت بین کے ساتھ ایک پھل کی طرف نگاہ کرے اور پھر یہ عقیدہ رکھے کہ اس کو بنانے والا علم ودانش نہیں رکھتا؟ اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں قرآن ”انظروا“ (نگاہ کرو) کے لفظ کے ساتھ اس قسم کے نباتات کے بارے میں دقتِ نظر اور غور وفکر کرنے کا حکم دیتا ہے، انہی حقائق کی طرف توجہ کرنے کے لیے ہے۔ ایک طرف سے تو یہ حقائق اور دوسری طرف سے وہ مختلف مراحل جو ایک پھل کچی حالت میں لے پکنے کے موقع تک طے کرتا ہے ، بہت ہی قابلِ ملاحظہ ہے، کیونکہ پھلوں کے اندر کی لیبارٹریاں ہمیشہ کام میں مشغول رہتی ہیں اور ترتیب دار اس کی کمیائی ترکیب میں تبدیلی کرتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری مرحلہ تک جاپہنچے اور اس کی کیمیائی ترکیب صحیح صورت اختیار کرلے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے مقام پر خالق کائنات کی عظمت وقدرت کی ایک نشانی ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے رکھنا چاہیے کہ قرآن کی تعبیر کے مطابق صرف صاحبانِ ایمان افراد یعنی حق بین اور حقیقت جُو ہی ان مسائل کو دیکھتے ہیں، ورنہ چشم عناد اور ہٹ دھرمی یا بے اعتنائی اور سہل انگاری کے ساتھ یہ ممکن نہیں ہے کہ ان حقائق میں سے کسی ایک کو بھی نہ سکیں۔

100
6:100
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلۡجِنَّ وَخَلَقَهُمۡۖ وَخَرَقُواْ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتِۭ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ
انہوں نے جنوں میں سے خدا کے شریک قرار دیئے ہیں حالانکہ خدا نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور انہوں نے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں جھوٹ اور جہالت سے بنا رکھے ہیں خدا اس بات سے منزہ و برتر ہے جو یہ اس کی توصیف میں (بیان) کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
6:101
بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٞۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
آسمانوں اور زمین کی ابداع کرنے والا (اور انہیں تازہ اور نیا وجود عطا کرنے والا) وہی ہے کیسے ممکن ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے اور سب چیزوں کو اسی نے پیدا کیا ہے اور وہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

102
6:102
ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ فَٱعۡبُدُوهُۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ
ہاں ! ایسا ہی ہے تمہارا خدا، تمہارا پروردگار اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے وہ تمام چیزوں کا خالق ہے تم صرف اسی کی عبادت کرو اور وہ تمام موجودات کا حافظ اور مدبر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
6:103
لَّا تُدۡرِكُهُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَهُوَ يُدۡرِكُ ٱلۡأَبۡصَٰرَۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلۡخَبِيرُ
آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں لیکن وہ سب آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے اور وہ (طرح طرح کی نعمتوں کا) عطا کرنے والا ہے (اور چھوٹے چھوٹے کاموں سے باخبر ہے) اور تمام (چیزوں ) سے آگاہ ہے۔

تمام چیزوں کا خالق وہی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیات میں مشرکین اور باطل مذہب رکھنے والوں کے کچھ غلط اور بیہودہ عقائد بیان کیے گئے ہیں اور ان کے منطقی جواب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے:وہ جنوں میں سے خدا کے لیے شرکاء کے قائل ہوگئے ہیں (وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ)۔ اس بارے میں یہان پر جن سے مراد اس کا لغوی معنی یعنی جنس انسانی سے غائب اور پوشیدہ موجودات ہے یا خاص طور پر وہ جنات مراد ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن نے بارہا گفتگو کی ہے اور ہم اس کی طرف عنقریب اشارہ کریں گے، مفسرین نے اس سلسلہ میں دواحتمال بیان کیے ہیں۔ پہلے احتمال کی بنا پر ممکن ہے کہ آیت ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہو جو فرشتوں اور ہر دکھائی نہ دینے والی چیز کی پرستش کرتے تھے، لیکن دوسرے احتمال کی بنا پر آیت ان لوگوں کی طرف اشارہ کررہی ہے جو گروہ جنات کا خدا کا شریک یا اس کی بیوی سمجھتے تھے۔ ”کلبی“ ”الاصنام“ میں نقل کرتے ہیں کہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلہ جا کا نام ”بنو طیح“ تھا کہ جو قبیلہ ”خزاعہ“ کی شاخ تھا جن کی پرستش کرتا تھا ( بحوالہ تفسیرفی ظلال، جلد سوم ، صفحہ ۳۲۶ ۔ حاشیہ)۔کہا جاتا ہے کہ ”جن“ کی عبادت اور اسکی الوہیت کا عقیدہ قدیم یونان اور ہندوستان کے بیہودہ اور فضول مذہب میں بھی پایا جاتا تھا (بحوالہ تفسیر المنار، جلدہشتم صفحہ ۶۴۸-)۔ جیسا کہ سورہٴ صافات کی آیہ ۱۵۸ہے: ”وَجَعَلُوا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا“ ”وہ خدا اور جنات کے درمیان رشتہ داری کے قائل ہوگئے تھے “۔ اس سے معلو م ہوتا ہے کہ عربوں کے درمیان کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو جنوں کی خدا کے ساتھ ایک قسم کی رشتہ داری کے قائل تھے۔ اور جیسا کہ بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ قریش کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا نے جنیات کے ساتھ شادی کی ہے اور فرشتے اس شادی کا نتیجہ اور ثمر ہے۔ (بحوالہ تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر زیر نظر آیہ کے ذیل میں) اس کے بعد اس فضول اور بیہودہ خیال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے :حالانکہ خدا نے تو انھیں (یعنی جنات کو) پیدا کیا ہے (وَ خَلَقَہُمۡ) یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کی مخلوق اسی کی شریک ہوجائے کیوں کہ شرکت ہم جنس اور ہم رتبہ ہونے کی علامت ہے حالانکہ مخلوق ہرگز خالق کی ہم پلہ نہیں ہوسکتی۔ دوسری بیہودہ بات یہ تھی کہ: وہ خدا کے لیے نادانی سے بیٹوں اور بیٹیوں کے قائل ہوگئے تھے (وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ)۔ حقیقت میں ان بیہودہ عقائد کے باطل ہونے کی بہترین دلیل وہی ہے جو ”بغیر علم “ کے الفاظ سے معلوم ہوتی ہے یعنی کسی قسم کی کوئی دلیل اور نشانی ان خرافات وموہومات کے لیے ان کے پاس موجود نہ تھی۔ لائق توجہ بات یہ ہے کہ” خرقوا“ ”خرق“ (بروزن غرق) کے مادہ سے لیا گیا ہے، جو اصل میں کسی چیز کو بے سوچے سمجھے اور بلاوجہ پارہ پارہ کرنے کو کہتے ہیں ۔یہ لفظ ٹھیک لفظ ”خلق“ کے بالمقابل ہے جو کسی چیز کو سوچ سمجھ کر کسی حساب سے ایجاد کرنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ یہ دونوں لفظ(خلق اور خرق) کبھی کبھار گھڑے ہوئے اور جھوٹے مطالب کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ جو سوچ سمجھ کر کسی حساب سے گھڑے گئے ہوں وہ تو خلق واخلاق کہلاتے ہیں اور وہ جھوٹ جو بغیر کسی حساب اور اندازے کے اور اصطلاح کے مطابق شاخدار جھوٹ ہوں انھیں ”خرق واختراق “ کہا جاتا ہے۔ یعنی انھوں نے یہ جھوٹ اس کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیے بغیر اور اس کے لوازم پر نظر کیے بغیر گھڑا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ وہ کونسے گروہ تھے جو خدا کے لیے بیٹوں کے قائل تھے، قرآن نے دوسری آیت میں دو گروہوں کے نام لیے ہیں ۔ایک عیسائی جو حضرت عیسیٰ - کے خدا کا بیٹا ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے اور دوسری یہودی جو عزیر - کا خدا کا بیٹا سمجھتے تھے اور جیسا کہ سورہٴ توبہ کی آیہ ۳۰ سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے اور محققین معاصر کی ایک جماعت نے بھی عیسائیت اور بدھ مذہب کے مشترک اصولوں کو خصوصا مسئلہ تثلیث میں مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم کیا ہے کہ خدا کا بیٹا عیسائیوں اور یہودیوں میں ہی منحصر نہیں تھا بلکہ ان سے پہلے کے فضول وبیہودہ قسم کے مذاہب میں بھی موجود تھا۔ باقی رہا کہ بیٹیوں کے وجود کا عقیدہ تو خود قرآن نے دوسری آیات میں اس مطلب کو واضح کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ: ”وَجَعَلُوا الْمَلَائِکَةَ الَّذِینَ ھُمْ عِبَادُ الرَّحْمَانِ إِنَاثًا “ وہ فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں اس کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں“(زخرف: ۱۹) جیسا کہ ہم سطور بالا میں بھی اشارہ کرچکے ہیں تفاسیر وتواریخ میں ہے کہ قریش کا ایک گروہ اس بات کا معتقد تھا کہ فرشتے خدا کی وہ اولاد ہیں جو خدا کی جنیات سے شادی کرنے کے نتیجہ میں وجود میں آئے ہیں۔ لیکن اس آیت کے آخر میں قرآن نے ان بیہودہ مطالب اور موہوم وبے بنیاد خیالات پر قلم سرخ کھینچ دیا ہے اور ایک عمدہ اور بیدار کرنے والے جملے کے ساتھ ان تمام باطل باتوں کی نفی کردی ہے اور فرمایا ہے کہ: خدا (ان خرافات سے ) منزہ ہے اور ان اوصاف سے برتر وبالاتر ہے جو وہ اس کے لیے بیان کرتے ہیں (سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ)۔ بعد والی آیت میں ان بیہودہ عقائد کا جواب دیتے ہوئے پہلے کہا گیا ہے:خدا وہ ہستی ہے کہ جس نے آسمان اور زمین کو ایجاد کیا ہے (بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ )۔ آیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جس نے ایسا کام کیا ہو، یا ایسا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہو۔ جس کی بنا پر وہ عبودیت میں اس کا شریک سمجھا جائے؟ نہیں ! ایسا نہیں ہے، بلکہ سب اس کی مخلوق ہیں اور اسی کے تابع فرمان ہیں اور اسی کی ذات پاک کے سب محتاج ہیں۔ علاوہ ازایں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو جب کہ اس کہ بیوی ہی نہیں ہے(اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ)۔ اصولی طور پر اسے بیوی کی ضرورت ہی کیا ہے اور پھر یہ بات کس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اس کی (بیوی یا ) ہمسر ہوسکے جب کہ سب اس کی مخلوق ہیں۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر اس کی ذات مقدس عوارض جسمانی سے پاک ومنزہ ہے اور بیوی اور اولاد کا ہونا واضح طور پر جسمانی اور مادی عوارض میں سے ہیں۔ دوسری مرتبہ پھر تمام چیزوں اور تمام افراد کے بارے میں اسی کے خالق ہونے اور ان تمام کے متعلق اس کے احاطہٴ علمی کو بیان کرتے ہوئے کہا گیاہے : اس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ، اور وہ ہر چیز کا عالم(وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ)۔ تیسری زیر بحث آیت میں تمام چیزوں کا خالق ہونے، آسمان اور زمین کو ایجاد کرنے، اور اس عوارض جسم وجسمانی اور بیوی اور اولاد سے منزہ ہونے اور ہر کام اور ہر چیز پر اس کے احاطہ علمی کا ذکر ہونے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ”تمھارا خدا اور پروردگار ایسی ذات ہے اور چونکہ اور کوئی ان صفات کا حامل نہیں ہے لہٰذا اس کے سوا اور کوئی بھی عبودیت کے لائق نہیں ہوسکتا، پروردگار وہی اور خالق وآفریدگار بھی وہی ہے اس بنا پر معبود صرف وہی ہوسکتا ہے لہٰذا اسی کی پرستش وعبادت کرو(ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ فَاعۡبُدُوۡہُ)۔ آیت کے آخر میں اس مقصد کے پیش نظر اور اس غرض سے کہ غیر خدا سے ہرقسم کی امید کو قطع کردے اور ہر قسم کے شرک کی جڑ کو اور خدا کے سوا اور کسی پر بھی بھروسہ کرنے کو کلی طور پر ختم کردے قرآن کہتا ہے: اور وہی تمام چیزوں کا حافظ ونگہبان ومدبر ہے (وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ)۔ اس بنا پر تمھارے مشکلات کے حل کی جابیاں صرف اسی کے ہاتھ میں اور اس کے سوا کوئی بھی شخص اس کام کی توانائی نہیں رکھتا، کیوںکہ اس کے سوا جو بھی ہیں وہ سب اس کے محتاج اور نیاز مند ہیں اور اس کے احسان کی آس لگائے بیٹھے ہیں تو ان حالات میں کوئی وجہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی مشکلات کسی اور کے پاس لے جائے اور اس کا حل اس سے چاہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں ”علی کل شیء وکیل“ کہا گیا ہے نہ ”لکل شیء وکیل“ اور ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہے کیوں کہ لفظ ”علی“کاذکراس کے تسلط اور نفوذ امر کی دلیل ہے جب کہ لفظ” لام“ کا استعمال تابع ہونے کی نشانی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعبیر اولولایت اور حافظ ہونے کے معنی میں ہے اور دوسری تعبیر نمائندگی کے معنی میں ہے ۔ آخری زیر بحث میں تمام چیزوں پر اس کی حاکمیت اور نگہبانی کو ثابت کرنے کے لیے اور اسی طرح تمام موجودات سے اس کے فرق کو ثابت کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے:آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں لیکن وہ تمام آنکھوں کا ادراک کرتا ہے وہ طرح طرح کی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اور ہر چھوٹے سے چھوٹے کام سے باخبر اور آگاہ ہے، وہ بندوں کے مصالح کو جانتا ہے اور ان کی حاجات وضروریات سے باخبر ہے اور اپنے لطف کرم کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے (۔ لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ)۔ حقیقت جو یہ چاہتا ہو کہ وہ تمام چیزوں کا محافط ومربی اور سہارا ہو اسے ان صفات کا حامل ہونا چاہیے۔ علاوہ از ایں یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام موجودات جہاں سے مختلف ومتفاوت ہے کیوں کہ ان میں سے کچھ چیزیں تو ایسی ہیں کہ جو دیکھتی بھی ہیں اور خود بھی دیکھی جاتی ہیں، جیسے انسان ہے اورکچھ ایسی ہیں جو نہ خود دیکھتی ہیں اور نہ ہی دیکھی جاتی ہیں، جیسے ہمارے اندرونی صفات، اور بعض ایسی ہیں کہ جنھیں دیکھا تو جاسکتا ہے لیکن وہ کسی کو نہیں دیکھتیں ، جیسے جمادات، تنہا وہ ہستی ہے کہ جسے دیکھا تو نہیں جاسکتا لیکن وہ ہر چیز اور ہر شخص کو دیکھتی ہے صرف اسی کی ذات پاک ہے

چند قابل توجہ نکات

۱۔ آنکھیں خدا کو نہیں دیکھ سکتیں :عقلی دلائل گواہی دیتے ہیں کہ خدا کو آنکھوں کے ساتھ ہرگز نہیں دیکھا جاسکتا، کیون کہ آنکھیں صرف اجسام کو یا زیادہ صحیح طور یہ کہ وہ ان کی بعض کیفیات کو ہی دیکھ سکتی ہے اور وہ چیز کہ جو نہ جسم ہے اور نہ ہی جسم کی کوئی کیفیت، ہرگز آنکھ سے نظر نہیں آسکتی، دوسرے الفاظ میں اگر کوئی چیز آنکھ سے دیکھی جاسکے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مکان میں ہو اور کسی جہت میں ہو اور ماسدہ رکھتی ہو جب کہ وہ ان تمام باتوں سے(پاک اور ) برتر ہے، وہ ایک ایسا وجودہے کہ جا نامحدود ہے اور وہ اسی دلیل سے جہاں مادہ سے بالاتر ہے، کیوںکہ جہاں مادہ میں تمام چیزیں محدود ہیں۔ قرآن کی بہت سی آیات میں جن سے وہ آیات ہیں کہ جو بنی اسرائیل کے بارے میں ہیں، اور ان کی طرف سے خدا وند تعالی کی رویت کا تقاضا کرنے کے متعلق گفتگو کرتی ہے، وہ کامل صراح کے ساتھ خدا کی رویت کے امکان کی نفی کرتی ہیں( جیسا کہ انشااللہ اس کی تفصیل سورہٴ اعراف کی آیہ ۱۴۳ کی تفسیر میں آئے گی ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت سے اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا اگر اس جہاں میں نظر نہ آئے تو عالم قیامت میں اس کا دیدار ہوسکے گا، تفسیر المنار کے موٴلف کے بقول : ”ھذا مذاھب اھل السنة والعالم بالحدیث“ ”یہ عقیدہ اہل سنت اور علماء حدیث کا ہے“۔(بحوالہ تفسیر المنار، جلد۷، صفحہ ۶۵۳) اور اس کے بھی بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ محققین معاصرتک بھی یعنی ان کے روشن فکر حضرات بھی اسی نظریہ کی طرف مائل نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات تو وہ بڑی سختی کے اس عقیدہ پر جم جاتے ہیں۔ حالانکہ اس عقیدہ کا باطل ہونا اس قدر واضح ہے کہ بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیوںکہ دنیا وآخرت میں (معاد جسمانی کی طرف توجہ کرتے ہوئے) اس مسئلہ میں کوئی فرق نہیں، کیا وہ خدا جو ایک مافوق مادہ وجود ہے قیامت کے دن ایک مادی وجود میں تبدیل ہوجائے گا؟اور اس نامحدود مقام سے محدود مقام میں تبدیل ہوجائے گا؟ کیا وہ اس دن جسم یا عوارض جسم میں بدل جائے گا؟ کیا خدا کی رویت کے عدم امکان کے بارے میں دلائل عقلی دنیا وآخرت کے درمیان کسی قسم کا کوئی فرق ظاہر کرتے ہیں؟درانحالیکہ عقل کا فیصلہ اس بارے میں ناقابل تبدیل ہے۔ اور یہ عذر جو ان میں سے بعض نے اختیار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ انسان دوسرے جہان میں ایک دوسرا ادراک اور نظر پیدا کرلے، ایک ایسا عذر ہے کہ جو کامل طور پر بلا دلیل ہے کیوں کہ اگر اس ادراک ونظر سے مراد فکری وعقلی نظر ہے ، تو وہ تو اس جہان میں وجود رکھتی ہے اور دل کی آنکھ اور عقل کی قوت سے خدا کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور اگر اس سے مراد کوئی ایسی چیز ہے کہ جس سے جسم کو دیکھا جاسکتا ہے تو ایسی چیز خدا کے بارے میں محال ہے چاہے وہ اس دنیا میں ہو یا دوسرے جہان میں، اس بنا ہر مذکورہ گفتگو کہ انسان اس جہان میں تو خدا کو نہیں دیکھتا ، لیکن مومنین قامت کے دن خدا کو دیکھیں گے، ایک غیر منطقی اور ناقابل قبول گفتگو ہے،غالبا تنہا ایک چیز جو اس بات کا سبب بنی ہے کہ جو اس عقیدہ کا دفاع کرے، یہ ہے کہ کچھ احادیث میں ان کی معروف کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، قیامت میں خدا کی رویت کا امکان بیان ہوا ہے۔ لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ عقل کے فیصلہ کی رو سے اس موضوع کے باطل ہونے کو ان روایات کے جعلی ہونے اور ان کتابوں کے غیر معتبر ہونے کی دلیل سمجھیں کہ جن میں اس قسم کی روایات بیان کی نقل کی گئی ہیں، سوائے اس صورت کہ ان روایات کا معنی دل کی آنکھ سے مشاہدہ کرنا ہو ؟کیا یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی احادیث کی وجہ سے عقل وخرد کے فیصلہ کو چھوڑ دیں اور اگر قرآن کی بعض آیات میں ایسی تعبیرات موجود ہیں جن سے ابتدائی نظر میں رویت خدا کے مسئلہ کا اظہار ہوتا ہے جیسے : ”وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ ، إِلَی رَبِّھَا نَاظِرَةٌ“ ”اس دن کچھ چہرے پر تراوت اور پررونق ہوں گے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے“(سورہ قیامت:۲۳و ۲۴۔) یہ تعبیرات ایسی ہے جیسے : ”یَدُ اللّٰہ فَوقَ اَیدِیْھِمْ“ ”خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے“۔(فتح:۱۰۔ 4) یہ تعبیرات کنایہ کا پہلو رکھتی ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی کوئی آیت کبھی بھی عقل خرد کے حکم وفرمان کے خلاف نہیں ہوسکتی ۔ قابل وجہ بات یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں اس فضول عقیدہ کی شدت کے ساتھ نفی کی گئی ہے اور ایسے عقائد رکھنے والوں پر دنداں شکن تعبیرات کے ساتھ تنقید کی گئی ہے، منجملہ ان کے امام صادق علیہ السلام کے مشہور اصحاب میں سے ایک صحابی جن کانام ہشام ہے، فرماتے ہیں: میں امام صادق - کے پاس موجود تھا کی معاویہ بن وہاب (آپ کے ایک اور صحابی) وارد ہوئے اور کہنے لگے :اے فرزند رسول! آپ اس حدیث کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ جو رسولؐ خدا کے بارے میں وارد ہوئی ہے کہ انھوں نے خدا کودیکھا؟ تو آپ نے خداکو کس طرح دیکھا؟ اور اسی طرح ایک دوسری حدیث کے بارے میں کہ جو آنحضرت سے نقل ہوئی ہے کہ مومنین بہشت اپنے پروردگار کو دیکھیں گے، تو وہ کس طرح دیکھے گے؟۔ امام صادق علیہ السلام نے ایک (تلخ) تبسم کیا اور فرمایا: اے معاویہ بن وہاب! یہ بات کتنی بری ہے کہ انسان ستر اسی سال عمر گزرے خدا کے ملک میں زندگی بسر کرے اور اس کی نعمت کھاتا رہے اور اس کو صحیح طرح سے نہ پہچانے، اے معاویہ ! پیغمبر نے ہرگز خدا کو اس آنکھ سے نہیں دیکھا، مشاہدہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک دل کی آنکھ سے دیکھنا اور (دوسرے) ظاہری آنکھوں سے دیکھنا، جو شخص دل کی آنکھ سے مشاہدہ کی بات کہتا ہے وہ تو صحیح کہتا ہے اور جو شخص ظاہری آنکھ سے خدا کے مشاہدہ کی بات کرتا وہ جھوٹ بولتا ہے اور خدا اوراس کی آیات کا کافر ومنکر ہے، کیوں کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کو مخلوق کے مشابہ سمجھے وہ کافر ہے۔( معانی الاخباربنابہ نقل المیزان جلد۸ ، صفحہ ۲۶۸) ایک اور روایت توحید صدوق میں اسماعیل بن فضل سے منقول ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا خدا قیامت کے دن نظر آئے گا؟ آپ - نے فرمایا: خداوندا ایسی چیز سے منزہ ہے ، اور بہت ہی منزہ ہے ---(انّ الابصار لاتدرک الامالون ولکیفیة واللّٰہ خالق الالوان والکیفیات)آنکھیں نہیں دیکھتی مگر ایسی چیزوں کو کہ جو رنگ وکیفیت رکھتی ہیں جب کہ خدا رنگوں اور کیفیتوں کا خالق ہے۔( نورالثقلین جلداول، صفحہ ۷۵۳توجہ طلب بات یہ ہے کہ اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ ”لون“(رنگ) کا ذکر کیا گیا ہے اور آج کی دنیا میں ہم پر یہ مطلب واضح ہوچکا ہے کہ خود جسم نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کا رنگ دیکھا جاتا ہے، اور اگر کوئی جسم کسی قسم کارنگ نہیں رکھتا ہو تو وہ ہرگز دیکھا نہیں جائے گا(تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیہ ۴۶کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلہ میں ایک بحث کرچکے ہیں۔( دیکھئے اردوترجمہ صفحہ ۱۸۳۔) ۲۔ خدا ہی تمام چیزوں کا خالق ہے: بعض مفسرین اہل سنت نے جو عقیدہ کے لحاظ مذہب جبر کے قائل ہیں اوپروالی آیت کے ساتھ جو خدا نے تمام چیزوں کے خالق ہونے کو بیان کرتی ہے مسلک جبر پر استدلال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال وافعال بھی اس جہاں کی اشیاء میں سے ہیں، کیوں کہ” شیء“ (چیز) ہر قسم کے وجود کو کہاجاتا ہے خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی، خواہ ذات ہو یا صفت، اس بنا پر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا ہر چیز کا خالق ہے تو ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے افعال کا بھی خالق اور یہ جبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ لیکن آزادیٴ ارادہ واختیار کے طرفدار اس قسم کے استدلال کا روشن اور واضح جواب رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا وند تعالی کی خالقیت ہمارے افعال کے بارے میں بھی ہمارے مختار ہونے کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں رکھتی، کیوں کہ ہمارے افعال کو ہماری طرف بھی منسوب کیا جاسکتا ہے اور خدا کی طرف بھی ، اگر ہم ان کی خدا کی طرف نسبت دیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس کام کے تمام مقدمات ہمارے اختیار میں دے دئے ہیں، وہی ذات ہے جس نے ہمیں قدرت وطاقت اور ارادہ واختیار دیا ہے، اس بنا پر چونکہ تمام مقدمات اسی کی طرف سے ہیں لہٰذا ہمارے اعمال اس کی طرف بھی منسوب کیے جاسکتے ہیں اور اسے ان کا خالق جان سکتے ہیں، لیکن اس نظر سے کہ آخری ارادہ ہماری ہی طرف سے ہے ، وہ ہم ہی ہیں کہ جو خدا کی دی ہوئی قدرت واختیار سے استفادہ کرتے ہیں اور فعل یا ترک میں سے کسی ایک کا انتخاب ہم ہی کرتے ہیں تو اس سبب سے افعال کی نسبت ہماری طرف دی جاتی ہے اور ہم ان کے لیے جوابدہ ہیں ۔ فلسفی تعبیر کے مطابق یہاں دوخالق اور دوعلتیں ایک دوسرے کے عرض میں نہیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے طول میں ہیں، دوعلت تامہ کا ایک ہی عرض میں ہوناکوئی مفہوم نہیں رکھتا، لیکن اگر طولی ہوں تو کوئی مانع نہیں ہے ، چونکہ ہمارے افعال ان مقدمات کا لازمہ ہیں جو خدا نے ہمیں دئے ہیں، تو ان لوازم کی اس کی طرف بھی نسبت دی جاسکتی ہے اور اس شخص کی طرف بھی کہ جس نے افعا ل کو انجام دیا ہے ۔ اس گفتگو کی مثال ٹھیک اس طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنے کارندوں کو آزمانے کے لیے انھیں اپنے کام میں آزاد چھوڑ دے، اور انھیں مکمل اختیار دیدے اور کام کے تمام مقدمات انھیں مہیا کردے، اب یہ بات ظاہر ہے کہ جو کام وہ انجام دیں گے اہک لحاظ سے ان کے سربراہ کا کام شمار ہوگا لیکن یہ امرکارندوں سے آزادی واختیار کو سلب نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے کام کے بارے میں جوابدہ ہیں، عقیدہ جبر واختیار کے بارے میں ہم انشاء اللہ متعلقہ آیات کے ذیل میں بحث کریں گے۔( کتاب” خدا راچگونہ بشاسیم“کی فصل جبر واختیار کی طرف بھی رجوع فرماسکتے ہیں۔) ۳ بدیع کا کیا معنی ہے: جیساکہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ لفظ " بدیع" کا معنی کسی چیز کو بغیر سابقہ کے وجود میں لانے والے کے ہیں ۔ یعنی خداوندمتعال نے آسمان و زمین کو پہلے کسی موجود یا مادہ یا بنیاد یا نقشہ و منصوبہ کے بغیر ایجاد کیا ہے یہاں بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں آجائے، ہم سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۱۷ کے ذیل میں(جلد اول تفسیر نمونہ صفحہ ۱۱۲، اردوترجمہ پر) تفصیل سے اس سوال کے جواب میں بحث کرچکے ہیں ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ جو ہم یہ کہتے ہیں کہ تمام موجودات کوخداسے عدم سے وجود میں لایا ہے اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ”عدم“ وہ مادہ ہے کہ جو موجودات عالم کو تشکیل دینے والاہے، جس طرح سے ہم یہ کہتے ہیں کہ بڑھئی نے میز کو لکڑی سے بنایا ہے، ایسی چیز یقینا محال ہے، کیوں کہ عدم وجود کا مادہ نہیں ہوسکتا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس جہان کی یہ تمام موجودات پہلے موجود نہیں تھیں اس کے بعد وجود میں آئی ہیں، یہ امر کسی قسم کا کوئی اشکال نہیں رکھتا، اور سلسلے میں ہم نے جلد اول میں بھی کچھ مثالیں بیان کی ہیں اور یہاں پر مزید بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے فکروذہن میں کچھ ایسی موجودات کو پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے کسی صورت میں بھی ہمارے ذہن میں نہیں تھیں، اس میں شک نہیں کہ یہ ذہنی موجودات اپنے لیے ایک قسم، کا وجود وہستی رکھتی ہے ، اگر وہ وجود خارجی کی طرح نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ ہمارے افق میں موجود ہوتی ہے، اگر کسی چیز کا وجود عدم کے بعد محال ہوتو وجود ذہنی اور وجود خارجی کے درمیان کیا فرق ہے اس بنا پر جس طرح ہم اپنے ذہن میں ایجاد وخلق کرلیتے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھیں، خدا وند تعالی بھی عالم خارج میں ایسا ہی کام کرتا ہے، اس مثال اور ان مثالوں میں جو ہم جلد اول میں بیان کرچکے ہیں تھوڑا سا غور کرنے سے یہ مشکل حل ہوجاتی ہے۔ ۴۔ لطیف کا معنی کیا ہے: اوپر والی آیات میں خدا وند تعالی کی صفات میں سے ایک صفت ”لطیف“ کا ذکر ہواہے اور وہ مادہ لطف سے ہے، جب وہ اجسام کے بارے میں استعمال ہوتووہ ہلکاہونے کے معنی میں ہے ، جو بوجھل کے مقابلہ میں ہے، اور جس وقت حرکات کے بارے میں (حرکت لطیفہ) استعمال ہوتو ایک چھوٹی سی جلد گزرجانے والی حرکت مراد ہوتی ہے، اور کبھی ایسے موجودات اور کاموں پر بھی جو بہت دقیق اور باریک ہوتے ہیں اور جو قوت حس سے قابل ادراک نہیں ہوتے یہ لفظ بولاجاتا ہے، اور اگر ہم خدا کی لطیف کے نام توصیف کرتے ہیں تو وہ بھی اسی معنی میں ہے یعنی وہ ایسی نظر نہ آنے والی اشیاء کا خالق اور ایسے افعال کا موجد ہے کہ جو قوت سماعت کے دائرے سے باہر ہے، بہت ہی باریک ہے اور حد سے زیادہ دقیق ہے۔ اس سلسلے میں ایک قابل توجہ حدیث فتح بن یزید جرجانی کے واسطے سے امام علی بن موسیٰ رضا - سے نقل ہوئی ہے جو ایک علمی معجزہ شمار ہوتی ہے حدیث اس طرح ہے کہ امام - فرماتے ہیں: یہ جو ہم کہتے ہیں کہ خدا لطیف ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے لطیف مخلوقات کو پیدا کیا اور اس سبب سے ہے کہ وہ لطیف وظریف اور نظر نہ آنے والی اشیاء سے آگاہ ہے، کیا تم اس کی صنعت کے آثار کو لطیف وغیر لطیف نباتات میں دیکھتے نہیں ہو؟ اور اسی طرح چھوٹی چھوٹی مخلوقات وحیوانات اور باریک باریک حشرات اور ان چیزوں میں جوان سے بھی چھوٹی ہیں، ایسی موجودات کو کہ جو ہرگز آنکھوں سے دیکھی نہیں جاسکتی، اور اس قدر چھوٹی ہیں کہ ان کے نر مادہ اور نئے اور پرانے بھی پہچانے نہیں جاتے، جب ہم اس قسم کے موضوعات کا مشاہدہ کرتے ہیں ----اور جو کچھ گہرے سمندروں میں، اور درختوں کی چھال کے نیچے اور بیابانوں اور صحراؤں میں موجود ہے ان پر نظر کرتے ہیں----اور یہ کہ ایسی ایسی موجودات بھی ہیں کہ جنھیں ہرگز ہماری آنکھیں نہیں دیکھتی اور اپنے ہاتھوں سے انھیں ہم چھو بھی نہیں سکتے تو ان تمام چیزوں سے ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا لطیف ہے۔(۔ بدیع کا کیا معنی ہے: جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ لفظ”بدیع“ کا معنی کسی چیز کو بغیر سابقہ کے وجود میں لانے والے کے ہیں ، یعنی خدا وندتعالی نے آسمان وزمین کو کسی پہلے سے موجود مادہ یا بنیاد یا نقشہ ومنصوبہ کے بغیر ایجاد کیا ہے۔ اوپر والی حدیث جو جراثیم اور خردبینی حیوانات کی طرف اشارہ ہے اور پاسٹور کی پیدائش سے کئی ْسدیون پہلے بیان ہوئی ہے لطیف کی تفسیر کو واضح کرتی ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا کے لطیف ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کی ذات پاک ایسی ہے جو ہرگز کسی کے بھی حس سے ادراک نہیں ہوسکتی اس بنا پر وہ لطیف ہے کیوں کہ کوئی شخص بھی اس کی ذات سے آگاہ نہیں ہے اور خبیر ہے چونکہ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے، اس معنی کی طرف بھی بعض روایات اہل بیت علیہم السلام میں اشارہ ہوا ہے۔( اصول کافی، جلد اول صفحہ ۹۳-)اور اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ اس لفظ کے دونوں ہی معنی مراد لینے میں بھی کوئی امرمانع نہیں ہے۔

104
6:104
قَدۡ جَآءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنۡ أَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ عَمِيَ فَعَلَيۡهَاۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ
تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے واضح دلیلیں آئی ہیں جو شخص (اس کے ذریعہ سے حق کو) دیکھے تو یہ اسی کے فائدہ میں ہے اور جو شخص ان کو دیکھنے سے آنکھیں بند کر لے تو خود اسی کا نقصان ہے اور میں تمہیں مجبور نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

105
6:105
وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلِيَقُولُواْ دَرَسۡتَ وَلِنُبَيِّنَهُۥ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
اور ہم آیات کو اس طرح مختلف شکلوں میں بیان کرتے ہیں اور انہیں کہنے دو کہ تو نے سبق پڑھا ہے۔ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم علم و آگاہی رکھنے والوں کے لئے اسے واضح کر دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
6:106
ٱتَّبِعۡ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر وحی ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اور مشرکین سے منہ پھیر لے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
6:107
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكُواْۗ وَمَا جَعَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظٗاۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٖ
اگر خدا چاہتا تو (سب جبری طور پر ایمان لے آتے اور) کوئی بھی مشرک نہ ہوتا اور ہم نے تجھے ان کے اعمال کا جوابدہ قرار نہیں دیا اور تیری یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انہیں (ایمان لانے) پر مجبور کرے۔

پیغمبر مجبور نہیں کرتے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

درحقیقت ان آیات میں گذشتہ آیات کا ایک طرح سے خلاصہ اور نتیجہ پیش کیا گیا ہے، پہلے کہا گیا ہے:تمھارے پاس توحید، خدا شناسی اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے بارے میں ایسی واضح و روشن دلائل اور نشانیاں آچکی ہیں جو بصیرت وبینائی کا سبب ہے(قَدۡ جَآءَکُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ)۔ ”بصائر“ جمع ہے ”بصیرت“ کی ”بصر“ کے مادہ سے دیکھنے کے معنی میں لیکن عام طور پر یہ لفظ فکری وعقلی بصیرت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات ان تمام امور پر اس کا اطلاق ہوتا کہ جو کسی مطلب کے ادراک وفہم کا باعث ہو، زیر نظر آیت میں یہ لفظ دلیل، شاہد اور گواہ کے معنی میں آیا ہے، اور ان تمام دلائل کو جو گذشتہ آیات میں خدا شناسی کے سلسلہ میں بیان کی جاچکی ہیں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے بلکہ سارا قرآن اس کے مفہوم میں موجود ہے۔ اس کے بعد یہ حقیقت واضح کرنے کے لیے یہ دلائل حقیقت کوآشکار کرنے کے لیے کافی ہیں اور منطقی پہلو رکھتے ہیں، کہا گیا ہے: اور لوگ جو ان دلائل کے ذریعہ حقیقت کے چہرے کو دیکھ لےں تو انھوں نے خود اپنے ہی نفع کی طرف قدم بڑھایا ہے اور وہ لوگ جو اندھوں کی طرح ان کے مشاہدہ سے اپنے آپ کو محروم رکھے انھوں نے اپنے ہی نقصان میں کام کیا ہے (فَمَنۡ اَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا)۔ اور آیت کے آخر میں پیغمبرؐ کی زبانی کہا گیا ہے :میں تمھارا نگہبان اور محافظ نہیں ہوں (وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ)۔ اس بارے میں کہ اس جملے سے مراد کیا ہے، مفسرین نے دواحتمال ظاہر کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ میں تمھارے کاموں کا محافظ ونگہبان اورجوابدہ نہیں ہوں، بلکہ خدا ہی سب کی نگہداری کرنے والا ہے اور وہی ہر شخص کو جزا وسزا دے گا، میرافریضہ تو صرف رسالت کو پہنچانا اور لوگوں کی ہدایت کے لیے جتنی زیادہ سے زیادہ سعی وکوشش ہوسکتی ہے ، کرنا ہے۔ دوسرا یہ کہ میں اس بات پر مامور اور تمھارا ذمہ دار نہیں ہوں کہ میں تمھیں جبر واکراہ سے طاقت سے اور زبردستی ایمان کی دعوت دوں، بلکہ میرا فریضہ تو صرف منطقی حقائق بیان کرنا ہے اور آخری تصمیم وارادہ خودتمھارا اپنا کام ہے، اس امر میں کوئی بات مانع نہیں ہے کہ اس لفظ سے دونوں ہی معانی مراد لیے گئے ہوں ۔ بعد والی آیت میں اس امر کی تاکید کے لیے کہ حق وباطل کے انتخاب کی راہ میں آخری ارادہ خود لوگوں کے اپنے اختیار میں ہے فرمای گیا: ہم آیات ودلائل کو اس طرح سے مختلف شکلوں، مختلف قیافوں اور مختلف صورتوں میں بیان کرتے ہیں (وَ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ)۔(”نصرف“،”تصریف“ کے مادہ سے دگر گوں کرنے اور مختلف شکلوں میں لانے کے معنی میں ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی آیات، مختلف لب ولہجہ، اور دل میں اترجانے والے تمام وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے، ایسے اشخاص کے لیے جو فکرعقیدہ اور تمام معاشرتی اور نفسیاتی پہلو سے مختلف سطح پر ہوتے ہیں، نازل ہوئی ہے)۔ لیکن ایک جماعت مخالفت پر کھڑی ہوگی، اور بغیر مطالعہ اور بغیر کسی قسم کی دلیل کے کہنے لگی:تونے یہ درس دوسروں (یہودونصاری اور ان کی کتب ) سے لیے ہیں(وَ لِیَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ)۔( لام”لیقولوا“، اصطلاح کے مطابق(لام عاقبت) ہے، جو کسی کے سرانجام اور عاقبت کے بیان کے لیے لایا جاتاہے، لیکن وہ اس کا اصلی ہدف نہیں ہوتا اور ”درست“ مادہ ”درس“ سے ، حاصل کرنے اور قبضے میں لینے کے معنی میں ہے، اور یہ ایک تہمت تھی جو مشرک پیغمبر اکرم پر لگایا کرتے تھے۔( لیکن ایک اور دوسرا گروہ کہ جو حق کو قبول کرنے کی آمادگی رکھتا ہے اور جس کے افراد صاحب بصیرت، عالم وآگاہ ہیں، وہ اس کے ذریعہ حقیقت کے چہرے کو دیکھ لیتے ہیں اور اسے قبول کرلیتے ہیں(وَ لِنُبَیِّنَہٗ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ)۔ پیغمبر ؐپر اس نظر سے تہمت کہ آپ نے اپنی تعلیمات یہودونصاری سے حاصل کی ہے، ایک ایسی بات ہے جو مشرکین کی طرف سے بارہا کہی گئی ہے اور ہٹ دھرم مخالفین اب بھی ایسا کہتے رہتے ہیں۔ حالانکہ اصولا پورے جزیرہ نمائے عرب میں کوئی درس مکتب اور علم تھا ہی نہیں کہ پیغمبرؐ اسے حاصل کرتے اور جزیرہ نمائے عرب سے باہر پیغمبرؐ کے سفر اس قدر کم تھے کہ جن میں اس قسم کے احتمال کی گنجائش ہی نہیں ہے، پورے حجاز کے اندر رہنے والے یہودیوں اور عیسائیوں کی معلومات بھی اس قدر کم اور خرافات سے مخلوط تھی کہ وہ اصلا اس قابل ہی نہ تھی کہ ان کا قرآن اور تعلیمات پیغمبرؐ سے موازنہ کیا جائے۔اس موضوع کے بارے میں ہم انشاء للہ مزید وضاحت سورہٴ نحل کی آیت ۱۰۳ میں بیان کریں گے۔ اس کے بعد مخالفین کی ہٹ دھرمیوں، کینہ پروریوں اور تہمتوں کے مقابلے میں پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا فریضہ بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے:تیرا فریضہ یہ ہے کہ تیرے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تجھ پر وحی ہوتی ہے اس کی پیروی کر ،وہ خدا کے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے(اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ)۔ نیز تیرا فریضہ یہ ہے کہ ”مشرکین اور ان کی ناروا تہمتوں اور بے بنیاد باتوں کی پرواہ نہ کر“(وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِینَ)۔ حقیقت میں یہ آیت پیغمبراکرمؐ کے لیے ایک قسم کی تسلی اور روحانی تقویت ہے تاکہ اس قسم کے مخالفین کے مقابلہ میں آپ کے عزم راسخ اور آہنی ارادہ میں ذراسی بھی کمزوری واقع نہ ہو۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے اچھی طرح واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ ”واعرض عن المشرکین“ (مشرکین سے منہ پھر لو اور ان کی پروہ نہ کرو)کاجملہ انھیں اسلام کی طرف دعوت دینے کے حکم اور ان کے مقابلے میں جہاد کرنے سے کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی بے بنیادباتوں اور تہمتوں کی پرواہ نہ کرواور اپنی راہ حق پر ثابت قدم رہو۔ آخری زیر بحث آیت مین اس حقیقت کی دوباری تاکید کی گئی ہے کہ خدا وند تعالی یہ نہیں چاہتا کہ انھیں جبرا ایمان پر آمادہ کرے اور اگر وہ یہ چاہتا تو سب کے سب ایمان لے آتے اور کوئی مشرک نہ ہوتا (وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکُوۡا)۔ اور یہ بھی تاکید کرتا ہے کہ تم ان کے اعمال کے لیے جوابدہ نہیں ہو اور تم انھیں ایمان پر مجبور کرنے کے لیے بھی مبعوث نہیں ہوئے ہو(وَ مَا جَعَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ۚ)۔ جیسا کہ تمھارا یہ فرض بھی نہیں کہ تم انھیں کار خیر پر مجبور کرو(وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ)۔ ”حفیظ“ اور” وکیل“ میں فرق یہ ہے کہ حفیظ تو اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو کسی شخص یا چیز کی نگہبانی کرے اور اسے زیان وضرر پہنچنے سے محفوظ رکھے،لیکن وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کے لیے منافع ےا حصول کے لیے جستجو اور کوشش کرے۔ شاید یہ بات یاد دلانے کی ضرور ت نہ ہو کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ان دو صفات (حفیظ ووکیل) نفی دفع ضرر اور جلب منفعت پر مجبور کرنے کی نفی کے معنی میں ہے، اور نہ پیغمبر تبلیغ کے طریقے سے اور نیک کاموں کے بجالانے اور برے کاموں کے ترک کرنے کی دعوت کے ذریعہ ان دونوں فرائض کو ان کے موقع ومحل پر اختیاری صورت میں انجام دیتے ہیں۔ ان آیات کا لب لہجہ اس نظر سے بہت ہی قابل ملاحظہ ہے کہ خدا پر اور مبانی اسلام پر ایمان لاناکسی قسم کا بھی جبری پہلو نہیں رکھ سکتا، بلکہ ان امور کو منطق واستدلال اور افراد بشر کی فکروررح میں نفوذ کے طریق سے پیش رفت کرنا چاہئے، کیوں کہ جبری ایمان کی تو کوئی بھی قدروقیمت نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ لوگ حقائق کو سمجھیں اور اپنے ارادہ واختیار کے ساتھ انھیں قبول کریں۔ قرآن نے بارہا مختلف آیات میں اس حقیقت پر تاکید کی ہے اور وہ ایسے سخت گیر اعمال سے جیسے کہ قرون وسطی (قرون وسطیٰ: ایک ہزار سالہ دور کو کہتے ہیں جو چھٹی صدی عیسوی سے شروع ہوکر پندرہویں صدی عیسوی پر ختم ہوتا ہے، یہ زمانہ مغرب اور عیسائیت کا ایک تاریک ترین دور تھا، اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسلام کا سنہری دور ٹھیک قرون وسطیٰ کے وسط میں ہوا ہے۔) میں کلیہ کے اعمال اور محکمہ تفتیش عقائد وغیرہ کے اعمال تھے اسلام کی بیگانگی کا اعلان کررہا ہے، اور انشاء للہ سورہٴ برائت کی ابتدا میں مشرکین کے مقابلہ میں اسلام کی سخت گیری کے علل واسباب کو زیر بحث لایا جائے گا۔ ۱۰۸ ۔ وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔ ترجمہ ۱۰۸۔ایسے لوگوں (کے معبود) کو جو خدا کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ (بھی) ظلم وجہالت کی وجہ خدا کو گالیاں دےنے لگ جائیں، ہم نے ہر امت کے لیے ان کے عمل کو اسی طرح زینت دی اس کے بعد ان کی بازگشت تو ان کے پروردگار کی طرف ہی ہے، اور وہ انھیں ان کے اس عمل سے جو وہ کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا(اور اس کی جزا یا سزا دے گا) ۔

تم مشرکین کے بتوں اور معبودوں کو کبھی گالیاں نہ دو

اس بحث کے بعد جو تعلیمات اسلامی کے منطقی ہونے، اور دعوت کے استدلال کے ذریعہ لازم ہونے اور جبری طریقہ سے نہ ہونے کے بارے میں گذشتہ آیات میں گزری ہے، ان آیات میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: تم مشرکین کے بتوں اور معبودوں کو کبھی گالیاں نہ دو کیوں کہ عمل سبب بن جائے گا کہ وہ بھی یہی کام خدا وند تعالی کی شان اقدس میں ظلم وستم اور جہل ونادانی کی وجہ سے دینے لگیں(وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ)۔ جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کا ایک گروہ مسئلہ بت پرستی وسخت برہمی کی بنا پر بعض اوقات مشرکین کے بتوں کو برا بھلا کہتے ہوئے انھیں گالیاں دیتا تھا ، قرآن نے صراحت سے انھیں اس بات سے منع کیا، اور اصول ادب وعفت اور شیریں بیان کو بیہودہ ترین اور بدترین مذہب وادیان کے مقابلہ میں بھی لازم وضروری قرار دیا۔ اس موضوع کی دلیل واضح ہے کیوں کہ گالی دینے اور برا بھلا کہنے سے کسی کو غلط راستے سے نہیں پھرایاجاسکتا ، بلکہ اس کے برعکس جہالت آمیز شدید تعصب جو اس قسم کے افراد میں ہوتا ہے اس بات بات کا سبب بن جاتا ہے کہ بقول :”روی دندئہ لجاحت افتادہ“(یعنی اپنی ہٹ دھرمی پر اڑ جانا) کے مطابق اپنے باطل دین اور زیادہ راسخ ہوجائے، اس صورت میں یہ بات آسان ہوجائے گی کہ خدا وند تعالی کی شان اقدس میں بدگوئی اور توہین کے لیے زبان کھولیں کیوں کہ ہر گروہ اور ہر مذہب کے لوگ اپنے عقائد واعمال میں متعصب ہوتے، جیسا کہ قرآن بعدوالے جملے میںکہتا ہے: ہم نے اس طرح ہر گروہ کے لیے ان کے عمل کو زینت دے دی ہے(کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪)۔ اور آیت کے آخر میں کہتا ہے کہ: ان سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے اور وہ انھیں خبر دے گا کہ انھوں نے کون سے عمل انجام دئے ہیں(ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ)۔

108
6:108
وَلَا تَسُبُّواْ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّواْ ٱللَّهَ عَدۡوَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرۡجِعُهُمۡ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
ایسے لوگوں (کے معبود) کو جو خدا کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی ظلم و جہالت کی وجہ سے خدا کو گالیاں دینے لگ جائیں ہم نے ہر امت کے لئے ان کے عمل کو اسی طرح زینت دی ہے اس کے بعد ان کی بازگشت تو ان کے پروردگار کی طرف ہی ہے اور وہ انہیں ان کے اس عمل سے جو وہ کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا (اور اس کی جزا یا سزا دے گا)۔

قابل توجہ نکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

۱۔ خدا زینت دیتا ہے؟ اوپر والی آیت میں ہر شخص کے اچھے اور برے اعمال کو اس کی نظر میں زینت دینے کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ، ہوسکتا ہے کہ یہ بات بعض لوگوں کے لیے تعجب کا باعث ہو کہ کیا یہ بات ممکن ہے کہ خدا وندتعالی کسی کے عمل بد کو اس کی نظر میں زینت دے۔ اس سوال کا جواب وہی ہے جو ہم بارہا بیان کرچکے ہیں کہ اس قسم کی تعبیرات عمل کی خاصیت اور اثر کی طرف اشارہ ہوتی ہے، یعنی جس وقت انسان کسی کام کو بار بار انجام دے تو آہستہ آہستہ اس کی قباحت اور بدی اس کی نگاہ میں ختم ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی نظر میں ایک عمدہ صورت اختیار کرلیتا ہے اورچونکہ علت العلل اور مسبب الاسباب اور ہر چیز کا خالق خدا ہے اور تمام تاثیرات خدا ہی کی طرف منتہی ہوتی ہیں لہٰذا قرآن کی زبان میں اس قسم کے آثار کی بعض اوقات اس کی طرف نسبت دے دی جاتی ہے(غور کیجئے گا)۔ زیادہ واضح تعبیر میں” زین لکل امةعملھم “ کا معنی یہ ہے کہ ہم نے انھیں ان کے برے اعمال کے نتیجے میں گرفتار کردیا ہے یہاں تک کہ برائیاں ان کی نظر میں اچھائیاں معلوم ہونے لگی۔ اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو بعض آیات قرآن میں عمل کو زینت دینے کی نسبت شیطان کی طرف دی گئی ہے وہ بھی اس بات سے اختلاف نہیں رکھتی کیوں کہ شیطان انھیں برے عمل کے انجام دینے کا وسوسہ کرتا ہے اور وہ شیطان کے وسوسے کے سامنے جھک جاتے ہیں آخر کار وہ اپنے عمل کے نتائج بد میں گرفتار ہوجاتے ہیں،علمی تعبیر کے لحاظ سے سببیت توخدا کی طرف سے ہے لیکن ایجاد سبب ان افراد اور شیطانی وسوسوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔(۔ آیات قرآن میں ۸ مقامات پر برے اعمال کے زینت دینے کی نسبت شیطان کی طرف دی گئی ہے اور دس ۱۰ مقامات پر فعل مجہول کی شکل میں (زین) آیا ہے اور دو مقامات پر خدا کی طرف نشبت دی گئی ہے، اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے اس پر توجہ کرتے ہوئے تینوں مقامات کا معنی واضح ہوجاتا ہے۔) ۲۔ گالیاں نہ دینے کا حکم:اسلامی روایات میں بھی گمراہ اور منحرف لوگوں کو گالیاں نہ دینے کی قرآنی منطق کی پیروی کی گئی ہے اس لام کے بزرگ پیشوا ؤں اور رہنماؤں نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ہمیشہ منطق واستدلال کا سہارا لیں اور مخالفین کے اعتقادات کے بارے میں گالی دینے کے لاحاصل حربے کو وسیلہ نہ بنائیں، ہم نہج البلاغہ میں پڑھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو جو جنگ صفین کے دنوںمیں معاویہ کے پیروکار کو گالیاں دے رہی تھی، فرماتے ہیں: انی اکرہ ان تکونواسبابین ولاکنکم لو وصفتم اعمالھم وذکرتم حالھم کان اصوب فی القول وابلغ فی العذر۔ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم فحش گوئی کرنے والے اور گالیاں دینے والے بنو، اگر تم گالیاں دینے کے بجائے، ان کی کارگزاریوں کو بیان کرو اور ان کے حالات کا تذکرہ کرے(اور ان کے اعمال کا تجزیہ وتحلیل کرو) تو یہ بات حق وراستی کے زیادہ قریب ہے اور اتمام حجت کے لیے بہتر ہے۔( بحوالہ نہج البلاغہ، کلام ۲۰۶صبحی صالح) ۳۔بت پرست اور خدا کے بارے میں بدگوئی؟ بعض اوقات یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بت پرست خدا کے بارے میں بدگوئی کریں جب کہ ان کی اکثریت اللہ کا اعتقاد رکھتی تھی اور بتوں کا اس کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتی تھی۔ لیکن اگر ہم ہٹ دھرم اور متعصب عوام کی وضع و کیفیت میں غور وفکر کریں تو ہم دیکھے گے کہ یہ بات کوئی زیادہ تعجب کا باعث نہیں ہے اس قسم کے لوگ جب غصہ میں آجاتے ہیں تو پھر کوشش کرتے ہیں کہ وہ مد مقابل کو جس طرح بھی ممکن ہو تکلیف اور دکھ پہنچائیں، چاہے اس کے لیے طرفین کے مشترک عقائد کی ہی بدگوئی کرنی پڑے، مشہور سنی عالم آلوسی تفیر روح المعانی میں نقل کرتے ہیں کہ جاہل عوام میں سے بعض نے جب یہ دیکھا کہ شیعہ شیخین کو برا بھلا کہتے ہیں تو انھیں غصہ آگیا اور انھوں نے حضرت علی - کی شان میں گستاخی اور اہانت شروع کردی، ایسے ایک شخص سے جب یہ پوچھا گیا کہ تو حضرت علی - کی جو تیری نزدیک بھی قابل احترام ہے کیوں اہانت کرتا ہے؟ تو وہ یہ کہنے لگا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ شیعوں کو اس طرح سے تکلیف اور دکھ پہنچاؤں، کیوں کہ میں نے انھیں اس چیز سے زیادہ اور کسی چیز کو دکھ دینے والا نہیں دیکھا اور بعد میں اسے اس عمل سے توبہ کرنے پر آمادہ کیا۔( بحوالہ تفسیر روح المعانی آلوسی جلد۷ صفحہ ۲۱۸)

109
6:109
وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِن جَآءَتۡهُمۡ ءَايَةٞ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَاۚ قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡأٓيَٰتُ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَا يُشۡعِرُكُمۡ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
انہوں نے بہت ہی اصرار سے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر کوئی نشانی (معجزہ) ان کے لئے آ جائے تو وہ یقینی طور پر اس پر ایمان لے آئیں گے (اے رسول تم یہ) کہہ دو کہ معجزات خدا کی طرف سے ہوتے ہیں (اور یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمہاری خواہش پر معجزہ لے آؤں ) اور تم نہیں جانتے کہ وہ معجزات کے آ جانے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
6:110
وَنُقَلِّبُ أَفۡـِٔدَتَهُمۡ وَأَبۡصَٰرَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهِۦٓ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَنَذَرُهُمۡ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
اورہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو اوندھا کر دیں گے کیونکہ وہ ابتدا میں ایمان نہیں لائے تھے اور انہیں طغیان و سر کشی کے عالم میں خود ان کی حالت میں چھوڑ دیں گے تاکہ وہ سرگرداں ہو جائیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کی شان نزول کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ قریش کا ایک گروہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ تم موسیٰ- اور عیسیٰ - کے بڑے بڑے معجزات بیان کرتے ہو اوراسی طرح دوسرے انبیاء کے بھی، تم بھی ہمیں کوئی ایسا ہی کام کرکے دکھاؤ تاکہ ہم ایمان لائیں، پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم کونسا کام چاہتے ہو کہ میں اسے تمھارے لیے انجام دوں ، انھوں نے کہا کہ تم خدا سے درخواست کرو کہ وہ کوہ صفا کو سونے میں تبدیل کردے اور ہمارے بعض پہلے کے مرے ہوئے مردے زندہ ہوجائیں اور ہم ان سے تیری حقانیت کے بارے میں سوال کریں اور ہمیں فرشتے بھی دکھا جو تیرے بارے میں گواہی دیں یا خدا اور فرشتوں کا اکھٹا اپنے ساتھ لے آ۔ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں اگر ان میں سے بعض کام انجام دے دوں تو کیا تم ایمان لے آؤ گے؟ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم ایسا کریں گے( یعنی ایمان لے آئیں گے) مسلمانوں نے جب مشرکین کا اس سلسلہ میں اصرار دیکھا تو پیغمبرؐ سے تقاضا کیا کہ آپ ایسا کریں شاید یہ ایمان لے آئیں، جونہی پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم دعا کرنے کے لیے آمادہ ہوئے کہ ان میں سے بعض مطالبات کے لیے خدا سے دعا کریں کیوں کہ ان میں سے بعض تو نامعقول اور محال تھے) کہ امین وحی خدا نازل ہوئے اور یہ پیغام لائے کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کی دعا قبول ہوجائے گی لیکن اس صورت میں (چونکہ ہر لحاظ سے اتمام حجت ہوجائے گا اور یہ حسی طور پر ظاہر بظاہر کھل کر سامنے آجائے گا) اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو سب کو سخت عذاب ہوگا( اور نیست ونابود ہوجائیں گے) لیکن اگر ان کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے اور تم انھیں ان کی اپنی اسی حالت پر چھوڑ تو ممکن ہے کہ ان میں سے بعض آئندہ توبہ کرلیں اور راہ حق اختیار کرلیں، پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اسے قبول کرلیا اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔

انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی

گذشتہ آیات میں توحید کے بارے میں متعدد منطقی دلیلیں بیان ہوئی ہیں کہ جو خدا کی وحدانیت اور اثبات اور شرک وبت پرستی کی نفی کے لئے کافی تھیں لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرم اور متعصب مشرکین کی ایک جماعت نے سرتسلیم خم نہ کیا اور وہ بہانے تراشنے لگے اور منجملہ ان کے، پیغمبر ﷺسے عجیب غریب خارق العادات کے لئے کہ جن میں سے بعض تو بنیادی طور پر محال تھے، مطالبہ کرنے لگے اور دروغ بیانی کے ساتھ یہ دعوا کرنے لگے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آئیں، قرآن پہلی آیت میں ان کی کیفیت اور وضع کو اس طرح بیان کرتا ہے : انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی کہ اگر ان کے لئے معجزہ آجائے تو وہ ایمان لے آئیں گے(وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اٴَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَائَتْہُمْ آیَةٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِہَا)۔(۱) قرآن ان کے جواب میں دو حقیقتوں کو بیان کرتا ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تو ان سے یہ کہہ دے کہ یہ کام میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمھارے ہر مطالبے اور ہر تقاضے کو پورا کردوں، بلکہ معجزات تو صرف خدا ہی کی طرف سے (ہوتے) ہیں اور اسی کے فرمان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ( قُلْ إِنَّمَا الْآیَاتُ عِنْدَ اللهِ)۔ اس کے بعد روئے سخن ان سادہ لوح مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے کہ جو ان کی سخت اور شدید قسموں سے متاثر ہوگئے تھے کہتا ہے: تم نہیں جانتے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اوراگر یہ معجزات اور ان کی درخواستوں کے مطابق مطلوبہ نشانیاں دکھا بھی دی جائیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لایئں گے( وَمَا یُشْعِرُکُمْ اٴَنَّہَا إِذَا جَائَتْ لاَیُؤْمِنُونَ )۔(2) پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ان کے ساتھ ٹکراؤ کے مختلف مناظر اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہ گروہ حق کی جستجو میں نہیں تھا بلکہ ان کا ہدف اور مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو بہانہ تراشیوں میں لگائے رکھیں اور شک وشبہ کے بیج ان کے دلوں بکھیرتے رہیں۔ بعد والی آیت میں ان کی ہٹ دھرمی کی علت کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے کہ وہ کجروی، جاہلانہ تعصبات اور حق کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہ کرنے پر اصرار کی وجہ سے قوت ادراک اور صحیح نظر کھو بیٹھے ہیں، اور حیران وپریشان اور گمراہ ہوکر سرگردانی کے عالم میں پھر رہے ہیں چنانچہ قرآن اس طرح کہتا ہے: ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو دگرگوں کردےں گے جیسا کہ وہ آغاز میں اور دعوت کی ابتدا میں ایمان نہیں لاتے تھے( وَنُقَلِّبُ اٴَفْئِدَتَہُمْ وَاٴَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِہِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ)۔ یہاں بھی اس کام کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے جس کی ایک نظیر قبل کی آیات میں گزرچکی ہے، یہ حقیقت میں خود ان ہی کے اعمال کا نتیجہ اور عکس العمل ہے، اس کی خدا کی طرف نسبت اس عنوان سے ہے کہ وہ علت العلل اور عالم ہستی کا سرچشمہ ہے اور ہر چیز میں جو بھی خاصیت ہے وہ اسی کے ارادہ سے ہے، دوسرے لفظوں میں خداوند تعالی نے ہٹ دھرمی، کجروی اور اندھے تعصبات میں یہ اثر پیدا کیا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ انسان کے ادراک اور فکرونظر کو بے کار کردیتے ہیں۔ آیت کے آخر میں کہتا ہے: ہم انھیں طغیان وسرکشی کی حالت میں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ سرگرداں پھرتے رہیں( وَنَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُون)۔(3) 3۔ ”یعمھون“،”عمہ“(بروزن”قدح“)کے مادہ سے سرگردانی اور تحیر کے معنی میں ۔ خدا وند تعالی ہم سب کو اس قسم کی سرگردانی سے جو ہمارے بے سوچے سمجھے اعمال کا نتیجہ ہے محفوظ رکھے اور ہمیں قوت ادراک اور ایسی کامل نظر مرحمت فرمائے کہ ہم حقیقت کے چہرے کو اس کی اصلی ہیئت وصورت میں دیکھ لیں۔

111
6:111
۞وَلَوۡ أَنَّنَا نَزَّلۡنَآ إِلَيۡهِمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَحَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَيۡءٖ قُبُلٗا مَّا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُوٓاْ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُونَ
اور اگر ہم ان پر فرشتوں کو نازل کر دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور تمام چیزوں کو ان کے سامنے جمع کر دیتے تو بھی وہ ہر گز ایمان نہ لاتے‘ مگر یہ کہ خدا چاہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

ہٹ دھرم لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہٹ دھرم لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے؟۔ یہ آیت گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہے ، یہ سب آیات ایک ہی حقیقت کو بیان کرتی ہیں، ان چندآیات کا مفہوم یہ ہے کہ ان عجیب وغریب معجزات کا تقاضا کرنے والوں میں سے بہت سے اپنے تقاضوں میں سچے نہیں ہیں اور کا ہدف حق کو قبول کرنا نہیں ہے لہٰذا ان کے مطالبات میں میں سے بعض (مثلا خدا کا ان کے سامنے آنا) اصولا محال ہے۔ وہ اپنے گمان کے مطابق چاہتے یہ ہےںکہ ان عجیب وغریب معجزات کا تقاضا کرکے مومنین کے افکار کو متزلزل کردیں اور حق طلب لوگوں کے نظریے خلط ملط ہوں اور یہ انھیں اپنی طرف مشغول کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن زیر نظر آیت میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے:اگر ہم (جس طرح انھوں نے درخواست کی تھی) فرشتوں کو ان پر نازل کردیتے، اور مردے بھی آجاتے اور ان سے باتیں کرتے اور خلاصہ یہ کہ جو جومطالبات اور تقاضے وہ کررہے تھے ان سب کو جمع کردیتے تو پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے(وَ لَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ کَلَّمَہُمُ الۡمَوۡتٰی وَ حَشَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ کُلَّ شَیۡءٍ قُبُلًا مَّا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡۤا)۔ (حَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْء“سے مراد یہ ہے کہ تمام چیزیں او ان کے تمام مطالبات پورے کردئے جائیں، کیوں کہ”حشر“ اصل میں جمع کرنے اور ایک دوسرے کے گرد لانے کے معنی میں ہے، اور” قبلا“ کا معنی روبرو اور مدمقابل ہونا ہے ، یہ احتمال بھی ہے کہ” قبلا“ قبیل کی جمع ہو، یعنی گروہ در گروہ فرشتے اور مردے اور ----ان کے سامنے حاضر ہوں) اس کے بعد تائید مطلب کے لیے فرماتا ہے: صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور وہ یہ ہے کہ خدا وند تعالی اپنی جبری مشیت کے ذریعہ انھیں ایمان کے قبول کرنے پر آمادہ کردے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اس قسم کا ایمان کوئی تربیتی فائدہ اور تکاملی اور ارتقائی اثر نہینں رکھتا(اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ)۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے کہ ان میں سے اکثر جاہل اور بے خبر ہیں (وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَجۡہَلُوۡنَ)۔ اس بارے میں کہ اس جملے میں ضمیر ”ھم“ سے کون سے اشخاص مراد ہیں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ممکن ہے یہ اشارہ ان مومنین کی طرف ہو جو یہ اصرار کررہے تھے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کفار کے اس گروہ مطالبات پورا کردیں اور جس جس معجزہ کے لیے وہ تقاضا کررہے ہیں وہ لے آئیں۔ ان مومنین میں سے کیوں بہت سے اس واقعیت سے بے خبر تھے اور اس بات کی طرف متوجہ نہیں تھے کہ وہ اپنے تقاضے میں سچے نہیں ہیں، لیکن خدا جانتا تھا کہ یہ مدعی جھوٹ بول رہے ہیں، اسی بنا پر ان کے مطالبات کو پورا نہ کیا، لیکن اس بنا پر کہ دعوت پیغمبر معجزہ کے بغیر نہیں ہوسکتی لہٰذا خاص مواقع پر ان کے ہاتھ پر مختلف معجزات ظاہر کیے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر”ھم“ کا مرجع اور بازگشت تقاضا کرنے والے کفار ہوں، یعنی ان میں سے بیشتر اس واقعیت سے بے خبر ہیں کہ خدا ہر قسم کے خارق العادات فعل پر قدرت رکھتا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی قدرت کو محدود جانتے ہیں، لہٰذا جب بھی پیغمبر کوئی معجزہ دکھاتے تھے تو وہ اسے جادو یا نظر فریبی پر محمول کرتے تھے جیسا کہ ہم دوسری آیت میں پڑھتے ہیں: ”وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِیہِ یَعْرُجُونَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُکِّرَتْ اٴَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ“ ”اگر ہم آسمان سے کوئی دروازہ ان کے اوپر کھول دیتے اور وہ اس کے ذریعے اوپر جڑھ جاتے تو کہتے کہ ہماری تو نظروں کو دھوکہ دیا گیا ہے اور ہمارے اوپر جادو کردیا گیا ہے“۔(حجر:۱۴۔۱۵) اس بنا پر وہ نادان اور ہٹ دھرم گروہ ہے، لہٰذا ان کی اور ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرنا چاہئے۔

112
6:112
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّٗا شَيَٰطِينَ ٱلۡإِنسِ وَٱلۡجِنِّ يُوحِي بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ زُخۡرُفَ ٱلۡقَوۡلِ غُرُورٗاۚ وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ
اس طرح ہم نے ہر بنی کے مقابلے میں شیاطین جن و انس سے کچھ دشمن قرار دیئے ہیں کہ جو پر فریب اور بے بنیاد باتیں (لوگوں کو غافل رکھنے کے لئے) مخفی طور پر (اور کانوں میں ) ایک دوسرے سے کہتے ہیں۔ اور اگر تیرا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ اس بناء پر ان کی تہمتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 113 کے تحت ملاحظہ کریں۔

113
6:113
وَلِتَصۡغَىٰٓ إِلَيۡهِ أَفۡـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَلِيَرۡضَوۡهُ وَلِيَقۡتَرِفُواْ مَا هُم مُّقۡتَرِفُونَ
(اور شیطانی وسوسوں اور شیطان صفت افراد کی تبلیغات کا) نتیجہ یہ ہو گا کہ ان لوگوں کے دل جو روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی طرف مائل ہو جائیں گے اور وہ اس پر راضی ہو جائیں گے اورجو گناہ بھی وہ انجام دینا چاہیں گے دیں گے۔

شیطانی وسوسے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت میں اس بات کی وضاحت کی جارہی ہے کہ اس قسم کے سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کا پیغمبر اسلام ؐکے مقابلہ میں وجود کہ جس کی طرف گذشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے صرف آنحضرت کی ذات کے لیے ہی منحصر نہیں تھا بلکہ تمام انبیاء ہی کے مقابلہ میں شیاطین جن وانس میں سے دشمن موجود تھے (وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ) اور ان کاکام یہ ہوتا تھا کہ ”وہ پر فریب باتیں اور ایک دوسرے کو غافل کرنے کے لیے پر اسرار طریقے پر بھی اور ظاہر بظاہر بھی ایک دوسرے کے کان میں کہتے تھے(یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا)۔ لیکن اشتباہ نہیں ہونا چاہئے کہ ”اگر خدا چاہتا تو وہ جبرا سب کو روک سکتا تھا“تاکہ کوئی شیطان یا شیطان صفت انبیاء اور ان کی دعوت کے راستے میں کوئی معمولی سے معمولی رکاوٹ بھی نہ ڈال سکے(وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ)۔ لیکن خدا وند تعالی نے یہ کام نہیں کیا کیوں کہ وہ یہ چاہتا تھا کہ لوگ آزاد رہیں تاکہ ان کی آزمائش اور ارتقاو پرورش کے لیے میدان موجود ہیں، جب کہ جبرا ور سلب آزادی اس ہدف کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے، اس کے علاوہ اس قسم کے سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کاوجود ( اگر چہ ان کے اعمال خود ان کی خواہش وارادہ کے ماتحت تھے ) نہ صرف یہ کہ وہ سچے مومنین کے لیے کوئی ضرر نہیں رکھتا، بلکہ غیر مستقیم طریقہ سے ان کے ان کے تکامل میں مدد کرتا ہے چونکہ ہمیشہ تکامل وارتقا تضادات میں پنہاں ہوتا ہے اورایک طاقتور دشمن کا ہونا انسان کی قوتوں کے اجتماع اور اس کے ارادوں کی تقویت کے لیے موثر ہے ۔ لہٰذا آیت کے آخر میں خدائے تعالیٰ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی شیطانیتوں کی کسی طرح بھی پرواہ نہ کرو اور انھیں اور ان کی تہمتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو(فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ)۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ مندرجہ بالا آیت میں خدا وند تعالی شیاطین جن وانس کے وجود کی نسبت اپنی طرف دے رہا ہے اور کہتا ہے: ”وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا“ (ہم نے ایسا قرار دیا)ن اس جملے کے معنی کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ انسانوں کے تمام اعمال ایک لحاظ سے خدا کی طرف بھی منسوب کیے جاسکتے ہیں، کیوں کہ ہر شخص جو کچھ بھی رکھتا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہے ، اس کی قدرت اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ اس کا اختیار اور اس کی آزادی بھی اسی کی طرف سے ہے، لیکن ایسی تعبیرات کا مفہوم ہرگز جبر اور سلب اختیار نہیں ہے کہ خدا نے کچھ لوگوں کو اس طرح سے پیدا کیا ہو کہ وہ انبیاء کے مقابلے میں دشمنی کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو ضروری تھا کہ وہ اپنی عداوت ودشمنی میں کسی قسم کی کوئی مسئولیت اور جوابدہی نہ رکھتے ہوتے بلکہ ان کا کام ایک رسالت کی انجام دہی شمار ہوتا، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ البتہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس قسم کے دشمنوں کا وجود چاہے وہ خود ان کے اپنے اختیار سے ہی ہو، مومنین کے لیے بلا واسطہ طور پر اصلاح کنندہ اثر رکھتا ہے، اور بہتر لفظوں میں سچے مومنین ہرقسم کے دشمن کے وجود سے مثبت اثر لے سکتے ہیں اور اسے اپنی آگاہی و آمادگی اور مقاومت کی سطح بلند کرنے کا وسیلہ بناسکتے ہیں کیوں کہ دشمن کا وجود انسان کی قوتوں کے اجتماع کا سبب اور باعث ہوتا ہے۔ ۲۔ لفظ”شیاطین“ ”شیطان“ کی جمع ہے اور یہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور وہ ہر سرکش باغی اور موزی موجود کے معنی میں، لہٰذا قرآم میں پست، خبیس اور سرکش انسانوں پر بھی لفظ شیطان بولا گیا ہے، جیسا کہ اوپر والی آیت میں لفظ شیطان کا انسانی شیطانوں پر بھی اور ایسے غیر انسانی شیطانوں پر بھی جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، اطلاق میں وہ تمام شیاطین کا رئیس وسردار ہے، اس بنا پرشیطان کا اسم خاص ہے کہ جوحضرت آدم علیہ السلام کے مقابل میں آیا تھا اور حقیقت میں وہ تمام شیاطین کا رئیس وسردار ہے، اس بنا پر شیطان اسم جنس ہے اور ابلیس اسم خاص ہے۔ (اس سلسلہ میں ہم تفسیر نمونہ کی پہلی جلد صفحہ ۱۶۶ پر بھی بحث کرچکے ہیں) ۳۔ ”زخرف القول“ پر فریب باتوں کو کہتے ہیں، جن کا ظاہر خوشنما اور باطن قبیح اور برا ہوتا ہے اور غرور کا معنی غفلت میں رکھنا ہے۔ (اس طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ ”زخرف“ اصل میں ”زینت“ کے معنی میں اور اسی طرح ”سونے“ کے معنی میں بھی کہ جو زینت کا ایک ذریعہ ہے، بعد ازاں دھوکہ اور فریب دینے والی باتوں پر بھی کہ جن کا ظاہر زیبا اور خوبصورت ہو”زخرف“ اور ”مزخرف“ بولاجانے لگا) ۴۔ زیر نظر آیت میں وحی کی تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ اپنے شیطانی گفتار واعمال میں ایسے اسرار آمیز پروگرام رکھتے ہیں کہ جن کو وہ رازدارانہ طریقے سے ایک دوسرے کی طرف ارتقا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ ان کے کاموں سے آگاہ نہ ہوں اور ان کی سازشیں کامل طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوجائیں، کیوں کہ ”وحی“ کے معانی میں سے ایک معنی لغت میں آہستہ اور کان میں بات کرنا بھی ہے۔ بعد والی آیت میں شیاطین کی پر فریب تلقینات وتبلیغات کے نتیجے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : ان کے کام کا سر انجام یہ ہوگا کہ بے ایمان افراد یعنی وہ کہ جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کی باتوں کو کان لگا کر سنیں گے اور ان کے دل ان کی طرف مائل ہوں گے (وَ لِتَصۡغٰۤی اِلَیۡہِ اَفۡـِٕدَۃُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ)۔ آیت کی ترتیب کے بارے میں اوریہ کہ لفظ ”وَلِتَصْغَی“ کا عطف کس پر ہے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، آیت کے مفہوم کے ساتھ جو بات زیادہ مناسب ہے وہ یہ ہے کہ اس کا عطف ”یوحیٰ“ پر ہونا چاہئے اور اس کی ”لام“ عاقبت کی لام ہے، یعنی شیاطین کے کام کا انجام یہ ہوگا کہ وہ پر فریب باتیں ایک دوسرے سے کہیں گے، اور بے ایمان افراد ان کی طرف مائل ہوجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ”غرورا“ کے اوپر عطف ہو جو ”مفعول لاجلہ “ ہے، یعنی ”لیفترو اولتصغیٰ“ کیوں کہ انسان مرحلہ اول میں فریب کھاتا ہے اور پھر میلان پیدا رکرتا ہے(غور کیجئے گا)۔ ”لتصغی“ ،”صغو“ (بروزن سرو) کے مادہ سے کسی چیز کی طرف میلان پیدا کرنے کے معنی میں ہے لیکن زیادہ تر اس میلان ورغبت پر بولا جاتا ہے کہ جو سماعت اور کان کے وسیلہ سے حاصل ہو اور اگر کوئی شخص کسی کی بات پر موافقت کی نظر سے کان دھرے تو اس کو ”صغو“ اور ”اصغاء“ کہتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس میلان کا انجام شیطانی پروگراموں پر کامل طور پر راضی ہونے کی صورت میں نکلے گا( وَلِیَرْضَوْہ )۔ اور ان سب کا نتیجہ مختل قسم کے گنہاہوں کے ارتکاب اور برے اور ناپسندیدہ اعمال کی صورت میں رونما ہوگا (وَ لِیَرۡضَوۡہُ وَ لِیَقۡتَرِفُوۡا مَا ہُمۡ مُّقۡتَرِفُوۡنَ)۔

114
6:114
أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡتَغِي حَكَمٗا وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡكِتَٰبَ مُفَصَّلٗاۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٞ مِّن رَّبِّكَ بِٱلۡحَقِّۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ
کیا میں (اس حال میں ) غیر خدا کو منصف کے طور پر اپناؤں حالانکہ وہی (وہ ہستی) ہے کہ جس نے اس آسمانی کتاب کو جس میں ہر چیز کا تفصیلی بیان ہے نازل کیا ہے اور وہ لوگ کہ جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تیرے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے اس بناء پر تم ہر گز شک و تردد کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

115
6:115
وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقٗا وَعَدۡلٗاۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
اور تیرے پروردگار کا کلام صدق و عدل کے ساتھ انجام کو پہنچا۔ کوئی شخص اس کے کلمات کو دگرگوں نہیں کر سکتا اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

کیا میں غیر خدا کو منصف اور حکم کے طور پر قبول کر لوں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہ آیت حقیقت میں گذشتہ آیات کا نتیجہ ہے اور یہ آیت کہتی ہے کہ ان واضح آیات کے باوجود جو توحید کے سلسلے میں گزرچکی ہے کیا کسی شخص کو منصف اور حکم کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے، کیا میں غیر خدا کو منصف اور حکم کے طور پر قبول کرلوں(اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا)۔ ”حکم“ (بروزن قلم) کا معنی فیصلہ کرنے والا، قاضی اور حاکم ہے اور بعض نے اسے معنی کے لحاظ سے حاکم کے مساوی جانا ہے لیکن مفسرین کی ایک جماعت کہ جن میں ایک شیخ طوسی بھی ہیں، کتاب” تبیان “میں انھوں نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ ”حکم“ اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو حق کے علاوہ فیصلہ نہ کرتا ہو لیکن دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، بعض دوسرے کہ جن میں ”المنار“ کا مولف بھی ہے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ” حکم“ وہ شخص ہے جسے طرفین دعوی نے انتخاب کیا ہو، جب کہ حاکم ہر قسم کے فیصلہ کرنے والے کو کہا جاتا ہے ۔) جب کہ وہی ذات ہے کہ جس نے یہ عظیم آسمانی کتاب نازل کی ہے جس میں انسان کی تمام تربیتی ضروریات آچکی ہیں اور جس نے حق و باطل، نور وظلمت اور کفر وایمان کے درمیان فرق ظاہر کردیاہے (وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا)۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے نہ صرف تم اور تمام مسلمان اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے، بلکہ اہل کتاب(یہود ونصاری) جنھوں نے آسمانی کتاب کی نشانیان اپنی کتابوں میں دیکھی ہیں وہ بھی جانتے ہیں، کہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے (وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ)اس بنا پر اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ، اور اے پیغمبرؐ تم ہرگز اس بارے میں تردد کرنے والوں میں سے نہ ہونا(فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو بھی اس بارے میں کوئی شک تھا کہ اس قسم کا خطاب آپ سے ہورہا ہے؟ اس سوال کا جواب وہی ہے جو ہم نے اس کے مشابہ اور اس سے ملتے جلتے مواقع پر دیا اور وہ یہ کہ اس میں درحقیقت مخاطب تو عام لوگ ہیں لیکن خدا وند تعالی تاکید اور تحکیم مطلب کے لیے اپنے پیغمبر مخاطب کرتا ہے تاکہ دوسرے لوگ اپنے بارے میں جان لیں۔ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے:تیرے پروردگار کا کلام صدق، عدل کے ساتھ مکمل ہوگا اور کوئی بھی شخص اس بات پر قادر نہین ہے کہ اس کے کلمات کو دگر گوں کردے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے(وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدۡقًا وَّ عَدۡلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ)”کلمة“ لغت عرب گفتگو اور ہر قسم کے جملے کے معنی میں ہے یہاں تک کہ مفصل اور طولانی گفتگو بھی کہا جاتا ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ بعض اور وعدہ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے مثلا: ”وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ الْحُسْنَی عَلیٰ بَنِی إِسْرَائِیلَ بِمَا صَبَرُوا“ ”تیرے پروردگار کا وعدہ بنی اسرائیل کے بارے میں اس صبر استقامت کے مقابلے جو انھوں کیا انجام پاگیا“ (سورہٴ اعراف:۱۳۷)۔ یہ بھی اسی لحاظ سے ہے کیوںکہ انسان وعدہ کرتے وقت ایسا جملہ کہتا ہے جو وعدہ کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہوتا ہے۔ بعض اوقات ”کلمہ“ دین وآئین اور حکم ودستور کے معنی بھی آتا ہے اوروہ اسی اصل کی طرف لوٹتا ہے۔ اس بارے میں کہ زیر بحث آیت میں لفظ ”کلمہ“ سے مراد قرآن ہے یا خدا کا دین وآئین ہے یا کامیابی کے وہ وعدے جو پیغمبرؐ سے کیے گئے تھے، یہ مختلف احتمالات ہیں کہ جن میں مختلف ہونے کے باوجود کوئی تضاد نہیں ہے،یہ بھی ممکن ہے کہ آیت میں تمام احتمالات کو مد نظر رکھا گیا ہو لیکن اس لحاظ سے کہ گذشتہ آیات میں گفتگو قرآن کے بارے میں بھی تھی لہٰذا یہ معنی زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ حقیقت میں آیت یہ بیان کررہی ہے کہ کسی طرح سے بھی قرآن میں کوئی شک اور تردد کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ یہ ہر لحاظ سے کامل اور بے عیب ہے، اس کی تواریخ اور اخبار سب کے سب صدق ہیں اور اس کے احکام و قوانین سب کے سب عدل ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ”کلمہ“ سے مراد وہی ”وعدہ“ ہو جو بعد والے جملہ میں یعنی ”لا مبدل لکَلِمَاتِہ“(کوئی شخص کلمات خدا میں تغیر اور تبدیل نہیں کرسکتا کے جملہ میں آیا ہے کیوں کہ اس جملہ کی نظر ودوسری آیات قرآنی میں بھی نظر آتی ہے مثلا : ”وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ“(ہود ۱۱۹)۔ یا دوسری آیات میں ہم پڑھتے ہیں :<وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ إِنَّھُمْ لَھُمَ الْمَنصُورُونَ” پیغمبروں کے بارے میں ہمارا پہلے سے یہ وعدہ تھا کہ مظفر ومنصور تو وہی ہوں گے“ (سورہٴ صافات آیہ ۱۷۱و۱۷۲)۔ اس قسم کی آیت میں بعد کا جملہ اس وعدہ کی وضاحت ہے کہ جس کی طرف قبل کے جملہ میں لفظ ”کلمہ“ کے ذکر سے اشارہ ہوا ہے، اس بنا پر آیت کی تفسیر اس طرح ہوگی ، ہمارا وعدہ صدق وعدالت کے ساتھ انجام پذیر ہوا کہ کوئی شخص پروردگار کے احکام اور فرامین میں تبدیلی کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے یہ ہوسکتا ہے کہ یہ آیت ان تمام معانی کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ اس بات لا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ آیت اگر قرآن کی طرف اشارہ کررہی ہو تو یہ بات اس امر سے کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتی کہ اس وقت تک سارا قرآن نازل نہیں ہوا تھا کیوں کہ آیات قرآن کے کامل ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ نازل ہوچکا تھا اس میں کوئی عیب اور نقص نہیں اور وہ ہر لحاظ سے کامل ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے قرآن میں تحریف کے بارے میں عدم امکان پر استدلال کیا ہے، کیوں کہ ”لا مبد ل لکلماتہ“ کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی شخص لفظ کے لحاظ سے، اخبار کے لحاظ سے اور احکام کے لحاظ سے قرآن میں تغیر وتبدل نہیں کرسکتا اور یہ آسمانی کتاب جسے آخر دنیا تک عالمین کا رہنما ہونا چاہئے خیانت کرنے والوں اور تحریف کرنے والوں کی دستبرد سے مصئون ومحفوظ رہے گی۔

اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی پیروی کرو گے

ہم جانتے ہیں کہ اس سورہ کی آیات مکہ میں نازل ہوئی ہے اور اس زمانے میں مسلمان انتہائی اقلیت میں تھے، یہ ممکن تھا کہ ان کی اقلیت اور بت پرستوں اور مخالفین اسلام کی قطعی اکثریت بعض لوگوں کے لیے تو ہم پیدا کردے کہ اگرکہ اگر ان کا دین وآئین باطل اور بے اساس ہے تو ان کی پیروی کرنے والے اتنی اکثریت میں کیوں اور اگر ہم حق پر ہیں تو اس قدر کم تعداد میں کیوں ہیں۔ اس آیت میں اس توہم کو دفع کرنے کے لیے کہ جو ممکن تھا کہ قبل کی آیات میں قرآن کی حقانیت کے ذکر کے بعد پیدا ہوجائے، اپنے پیغمبرؐ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی پیروی کرو گے تو وہ تمھیں راہ حق سے گمراہ اور منحرف کردیں گے(وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ)۔ بعد والے جملے میں اس امر کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس کی علت اور سبب یہ ہے کہ وہ منطق اور فکر صحیح کی بنیاد پر کام نہیں کرتے، ان کے رہنماہوا وہوس سے آلودہ گمان ہیں اور کچھ جھوٹ ، فریباور تخمینے ہیں(اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ)۔( ”خرص“ (بروزن ترس) اصل میں تخمین کے معنی میں ہے، پہلے پہل تو باغ وغیرہ کرایہ پر دینے کے وقت درختوں پر پھلوں کی مقدار کے تخمینے اور اندازے کے لیے استعمال ہوتا تھا، بعد از اں ہر قسم کے حدس وتخمین کے لیے یہ لفظ بولے جانے لگا اور چونکہ تخمینہ اور اندازہ بعض اوقات واقع کے مطابق اور بعض اوقات اس کے خلاف ہوتا ہے لہٰذا یہ لفظ جھوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور مندرجہ بالا آیت میں ہوسکتا ہے دونوں معانی کے لیے ہو) چونکہ قبل والی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ محض اکثریت تنہا راہ حق کی نشاندہی نہیں کرسکتی، تو اس کا یہ نتیجہ نکلتا ہ کہ راہ حق صرف خدا سے حاصل کرنا چاہئے چاہے حق کے طرفدار اقلیت میں ہی کیوں نہ ہوں ، لہٰذا دوسری آیت میں اس امر کی دلیل واضح کرتا ہے کہ تیرا پروردگار کہ جو تمام چیزوں سے باخبر اور آگاہ ہے اوراس کے علم غیر متناہی میں ذرہ بھربھی اشتباہ نہیں ہے وہ بہتر طور پر جانتا ہے کہ راہ ضلالت کونسی ہے اور راہ ہدایت کون سی، اور وہ گمراہوں اور ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی بہتر طور پر پہچانتا ہے(اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ یَّضِلُّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ)۔ (عموما”افعل تفضیل“،” با“ کے ذریعہ متعدی ہوجاتا ہے لہٰذا یہاں یہ کہنا چاہئے”اعلم بمن“لیکن با محزوف ہے اور ”ومن یضل “ اصطلاح کے مطابق منصوب بنزع خافض ہے) یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسرے لوگ راہ ہدایت وضلالت کو خدا کی رہنمائی کے بغیر بھی پہچان لیتا ہے، کہ آیت یہ کہہ رہی ہے کہ خدا دوسروں سے بہتر طور پر پہچانتا اور بہتر طور پر جانتا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ انسان اپنی عقل کے ذریعے حقائق کا ادراک کرتا ہے اور راہ ہدایت وضلالت کو کسی حد تک سمجھ لیتا ہے لیکن یہ بات مسلم ہے کہ چراغ عقل کی روشنی اور اس کی شعاع محدود ہے ، اور ممکن ہے کہ بہت سے مطالب نگاہ عقل سے مخفی رہ جائیں، علاوہ ازیں انسان اپنی معلومات میں اشتباہ میں بھی گرفتار ہوجا ہے اور اسی بنا پر وہ خدائی رہبروں اور رہنماؤں کا محتاج ہے اسی لیے یہ جملہ کہ”خدا زیادہ جانتا ہے “ صحیح ہے، اگر چہ انسان کا علم خدا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔

116
6:116
وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ
اور اگر تم زمین پر رہنے والے لوگوں میں سے اکثر لوگوں کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں راہ خدا سے گمراہ کر دیں گے وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے جھوٹ، فریب اور تخمینے پر عمل کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 117 کے تحت ملاحظہ کریں۔

117
6:117
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦۖ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
تیرا پروردگار ان لوگوں سے بھی خوب اچھی طرح آگاہ ہے جواس کی راہ سے گمراہ ہو گئے ہیں اور ان لوگوں سے بھی کہ جو ہدایت یافتہ ہیں۔

عددی اکثریت کچھ اہمیت نہیں رکھتی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعض لوگوں کی نظر میں یہ بات مسلم ہے کہ عددی اکثریتیں ہمیشہ صحیح راستہ پر گامزن ہوتی ہیں لیکن قرآن کے برخلاف متعدد اایات میں اس کی نفی کرتا ہے اور وہ عددی اکثریت کے لیے کسی اہمیت کا قائل نہیں ہے اور حقیقت میں وہ اکثریت ”کیفی“ کو معیار سمجھتا ہے نہ کہ اکثریت ”کمی“ کو، اس امر کی دلیل واضح ہے، کیون کہ آج کے معاشروں میں اگر چہ معاشرے کے امور میں لوگوں کو اکثریت پر بھروسہ کرنے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں سوجھا لیکن یہ بات بھولنا نہیں چاہئے کہ یہ بات جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں ایک طرح سے مجبوری کے باعث قبول کرنا پڑتی ہے، کیوں کہ ایک مادی معاشرے میں اصلاحات کرنے اور درست قوانین بنانے کا کوئی ایسا ضابطہ موجود نہیں جو اشکال اور عیب سے خالی ہو، لہٰذا بہت سے علماء اور ماہرین اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے ساتھ کہ افراد معاشرہ کی اکثریت کی نظر اکثر اوقات اشتباہ آمیز ہوتی ہے اس بات کو قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیوں کہ دوسرے راستوں کے عیوب اس سے زیادہ ہیں ۔ لیکن ایک ایسا معاشرہ جو انبیاء علیہم السلام کی رسالت پر ایمان رکھتا ہو وہ قوانین کے نفاذاورپرپا کرنے کے لیے اکثریت کی پیروی کی کوئی مجبوری نہیں رکھتا، کیون کے سچے انبیاء کے پروگرام اور قوانین ہر قسم کے نقص، عیب اور اشتباہ سے خالی ہوتے ہیں اور جن قوانین کی جائز الخطا اکثریت تصویب وتصدیق کرتی ہے ان کا ان پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔ آج کی دنیا کے چہرے پر ایک نظر ڈالنے اور ان حکومتوں پر جو اکثریت کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے نظر کرنے اور ان نادرست اور ہوس آمیز قوانین کو جو بعض اوقات اکثریتوں کی طرف تائید وتصویب شدہ ہوتے ہیں دیکھنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اکثریت عددی نے کسی درد کی دوا نہیں کی ہے، بہت سی جنگوں کی اکثریت نے ہی تصویب کی تھی اور بہت سے مفاسد کو اکثریت نے ہی چاہاتھا۔ استعمار واستثمار، جنگیں اور خونریزیاں، شراب نوشی کی آزادی، خمار بازی، اسقاط حمل، فحشاء ومنکر یہاں تک کہ بعض ایسے قبیح وشنیع افعال کے جن کا ذکر باعث شرم ہے بہت سے ایسے ممالک جو اصطلاح میں ترقی یافتہ کہلاتے ہیں کے نمائندوں کی اکثریت کی طرف سے ہے جو ان ممالک کے عوام کی اکثریت کے نظریہ کو منعکس کرتے تھے اس حقیقت پر گواہ ہیں ۔ علمی نکتہ نظر سے کیا عوام کی اکثریت سچ ہی بولتی ہے ؟کیا اکثریت امین ہوتی ہے؟کیا اکثریت دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرنے سے اگر وہ کرسکے تو اجتناب کرتی ہے؟کیا اکثریت اپنے اور دوسروں کے منافع کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے؟ ۔ ان سوالات کے جواب بغیر کہے ظاہر ہیں، اس بنا پر اس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہئے کہ آج کی دنیا کا اکثریت پر اعتبار اور بھروسہ کرنا حقیقت میں ایک قسم کی مجبوری اور ماحول کی ضرورت ہے اور ایک ایسی ہڈی ہے جو معاشروں کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہاں انسانی معاشروں کے صاحبان فکرو نظر اور دلسوز مصلحین اور بامقصد سوچ رکھنے والے جو ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں اگر عوام الناس کو روشنی بخشنے کے لیے ہمہ جہتی تلاش وکوشش کریں اور انسانی معاشرے کافی حد تک فکری ، اخلاقی اور اجتماعی رشد پالیں تو مسلمہ طور پر اس قسم کی اکثریت کی نظریات حقیقت کے بہت قریب ہوں گے، لیکن غیر رشیداور نا آگاہ یا فاسد ، منحرف اور گمراہ اکثریت کون سی مشکل اپنے اور دوسروں کے راستوں سے ہٹا سکے گی ، اس بنا پر محض اکثریت اکیلی کافی نہیں ہے بلکہ صرف وہی اکثریت کہ جو ہدایت یافتہ ہو اپنے معاشرے کی مشکلات کو اس حد تک کہ جو امکان بشر میں ہے حل کرسکتی ۔ اگر قرآن مختلف آیات میں اکثریت کے بارے میں اعتراض کرتا ہے تو اس میں شک نہیں ہے کہ اس کی مراد ایسی اکثریت ہے کہ جو غیر رشید ہو اور ہدایت یافتہ نہ ہو۔

118
6:118
فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤۡمِنِينَ
اور جس (ذبیحہ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس سے کھاؤ (لیکن ان جانوروں کے گوشت سے کہ جن کو ذبح کرتے وقت ان پر خدا کا نام نہیں لیا گیا نہ کھاؤ) اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 120 کے تحت ملاحظہ کریں۔

119
6:119
وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تَأۡكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ وَقَدۡ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ إِلَّا مَا ٱضۡطُرِرۡتُمۡ إِلَيۡهِۗ وَإِنَّ كَثِيرٗا لَّيُضِلُّونَ بِأَهۡوَآئِهِم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُعۡتَدِينَ
تم ان چیزوں میں سے کیوں نہیں کھاتے کہ جن پر خداکا نام لیا گیا ہے حالانکہ خداوند تعالیٰ نے جو کچھ تم پر حرام تھا اسے بیان کر دیا ہے مگر یہ کہ تم مجبور ہو جاؤ اور بہت سے لوگ (دوسروں کو) ہوا و ہوس اور بے علمی کی وجہ سے گمراہ کر دیتے ہیں اور تیرا پروردگار تجاوز کرنے والوں کو بہتر طور پر پہچانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 120 کے تحت ملاحظہ کریں۔

120
6:120
وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡسِبُونَ ٱلۡإِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُواْ يَقۡتَرِفُونَ
آشکار اور مخفی گناہوں کو چھوڑ دو کیونکہ جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں ان کے بدلے میں سزا دی جائے گی۔

شرک کے تمام آثار مٹ جانے چاہئیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیات حقیقت میں توحید وشرک بارے میں گذشتہ مباحث کے نتائج میں سے ایک ، لہذاپہلی آیت”فاء“ تفریح کے ساتھ آئی ہے جو عام طور پر نتیجہ کے بیان کے لیے ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ گذشتہ آیاتے میں مختلف بیانات کے ساتھ حقیقت توحید کا اثبات اور شرک وبت پرستی کا بطلان واضح ہوا ہے، اس مسئلہ کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ گوشت کھانے سے جو ”بتوں“ کے نام پر ذبح ہو ہو احتراز کریں اور صرف ان جانوروں کے گوشت سے استفادہ کریں کہ جو خدا کے نام پرذبح ہوتے ہیں، کیوں کہ مشرکین عرب کی ایک عبادت یہ تھی کہ وہ بتوں کے لیے قربانی کرتے تھے اور ان کے گوشت سے تبرک کے طور پر کھاتے تھے اور یہ کام ایل قس، کی بت پرستی ہی تھا ۔ لہٰذا پہلے کہا گیا ہے: ان چیزوں میں سے کھاااؤ کہ جن پر اللہ کانام لیا جاتا ہے، اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ بِاٰیٰتِہٖ مُؤۡمِنِیۡن)۔ یعنی ایمان محض دعوے ، گفتار اور عقیدہ کے نام نہیں ہے، بلکہ اس کا اظہار عمل سے بھی ہونا چاہئے، جو شخص خدائے یکتا پر ایمان رکھتا ہے وہ صرف اسی قسم کے گوشت میںسے کھاتا ہے البتہ امر ”کلوا“(کھاؤ) یہاں اس قسم کے گوشت کے کھانے کے وجو ب کے لیے نہیں بلکہ حقیقت میں اس سے مراد اس کا مباح اور اس کے غیر کا حرام ہونا ہے ۔ ضمنی طور پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اس گوشت کا حرام ہونا کہ جس کے ذبح کے وقت اس پر خدا کا نام نہیں لیا جاتا، اس نکتہ نظر سے نہیں ہے کہ یہ بات صحت عامہ کے پہلو سے ہے کہ یہ کہاجائے کہ نام لینے سے کیا اثر ہوتا ہے، بلکہ اس کا ربط معنوی واخلاقی پہلوؤں اور توحید پرستی کی بنیادوں کو محکم کرنے کے ساتھ ہے۔ بعد والی آیت میں یہی بات دوسری عبارت سے بیان کی گئی جو اور زیادہ استدلال کے ساتھ ہے، فرمایا ہے:تم ان جانوروں سے کیوںمیں کھاتے کہ جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے؟ حالانکہ جو کچھ تم پر حرام ہے خدا نے اس کی تشریح کردی ہے (وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ)۔ ہم یہ بات دوبارہ دلنشین کراتے ہیں کہ یہ توبیخ وتاکید حلال گوشت کے کھانے کو ترک کرنے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ سرف ان گوشتوں سے کھانا چاہئے اور ان کے سوا دوسرے گوشتوں سے استفادہ نہیں کرناچاہیے اور دوسرے لفظوں میں نظر نکتہ مقابل اور مفہوم جملہ پر ہے ، اسی لیے ”قد فصل لکم ما حرم علیکم“ (خدانے نے اس کی تشریح کردی ہے جو تم پر حرام ہے) کے جملہ سے استدلال کیا گیاہے۔ اس بارے میں کہ یہ بات کس سورہ اور کس آیت میں آئی ہے کہ جس میں حلال وحرام گوشت کی وضاحت کی گئی ہے، ممکن ہے کہ یہ تصور کیا جائے کہ اس سے مراد سورہٴ مائدہ ہے یا اسے سورہ کی بعض آیات ہیں جو آئندہ آئیں گی(مثلا آیہ ۱۴۵)لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور سورہٴ مائدہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور اس سورت کی آئندہ آنے والی آیات بھی ان آیات کے نزول کے وقت ابھی تک نازل نہیں ہوئی تھی، یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان دونوں احتمالات میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد یا تو سورہٴ نحل کی آیہ ۱۱۵ہے کہ جس میں صراحت کے ساتھ حرام گوشتوں کی بعض اقسام کا بیان آیا ہے اور خصوصا وہ جانور جو غیر خدا کے لیے ذبح ہوئے ہوں اور یا اس سے مراد ان گوشتوں کے بارے میں حکم ہے جو پیغمبر کے وسیلہ سے دئے گئے ہیں، کیوں کہ وہ کوئی حکم وحی الٰہی کے بغیر نہیں دیتے تھے ۔ پھر ایک صورت مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر اس صورت کہ تم مجبور ہوجاؤ(اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ)۔ چاہے یہ اضطرار بیابان میں گرفتار ہوجانے اور شدید بھو کی وجہ سے ہو یا مشرکین کے چنگل میں گرفتار ہونے اورکے اس امر پر مجبور کرنے کی وجہ سے ہو۔ اس کے بعد مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: بہت سے لوگ دوسروں کو جہل ونادانی اور ہواوہوس کی بنا پر گمراہ کرتے ہیں (وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ)۔ اگرچہ ہوا پرستی اور جہل ونادانی اکثر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان دونوں کا ذکر زیادہ تاکید کے لیے اکٹھا کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے ”باہوائھم بغیر علم“۔ ضمنی طور پر تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ عالم حقیقی ہرگز ہوا پرستی اور خیال آرئی کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اور جہاں یہ ان سے جاملا وہ جہالت ہے نا کہ علم ودانش۔ اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ ہوسکتا ہے مندرجہ بالا جملہ اس خیال وتصور کی طرف اشارہ ہوو مشرکین عرب میں موجود تھا تاکہ وہ مردہ جانوروں کاگوشت کھانے کے لیے اس طرح استدلال کیاکرتے تھے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ جانور جنھیں ہم خود ذبح کریں انھیں تو ہم حلال سمجھ لیں جنھی ہمارے خدا مارا اسے ہم حرام شمار کریں؟۔ یہ بات ظاہر ہے یہ سفسطہ ایک بیہودہ خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، کیوں خدا نے مردہ جانور کو ذبح نہیں کیا اوراس کا سر نہیں کاٹا کہ ان جانوروں کے ساتھ قیاس کریں جنھیں ہم نے ذبح کیا ہے اور اسی دلیل سے وہ قسم قسم کی بیماریوں کا مرکز ہیں اوراس کا گوشت فاسد اور خراب ہے، لہٰذا خدا وند تعالی نے اس کے کھانے کی اجازت نہیں دے ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :تیرا پروردگار ان لوگوں کے بارے کہ جو تجاوز کار اور زیادرتی کرنے والے ہیں زیادہ آگاہ ہے(اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِیۡنَ)۔ ایسے ہی لوگ فضول اور بودی دلیلوں کے زریعے نہ سرف یہ کہ راہ حق سے منحرف ہوجاتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کو بھیک منحرف کردیں۔ چونکہ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس فعل حرام کا چھپ کر اور پوشیدہ طور پر انجام دیں لہذااس کے ساتھ ہی اگلی آیت میں ایک قانون کلی کے طور کہا گیا ہے: آشکار اور پنہاں گناہ چھوڑدو(وَ ذَرُوۡا ظَاہِرَ الۡاِثۡمِ وَ بَاطِنَہٗ )۔ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ منافی عفت عمل (زنا) اگر چھپ کر کیا جائے تو کوئی عیب نہیں ہے وہ صرف اس صورت میں گناہ ہے کہ اگر اسے آشکار اور ظاہر بظاہر کیا جائے ، آج بھی کچھ لوگوں نے عملی طور پر اسی جاہلانہ منطق کو اپنایا ہوا ہے اور صرف آشکار اور ظاہر بظاہر گناہوں سے پریشان اور وحشت زدہ ہوتے ہیں لیکن چھپ کر گناہ کا ارتکاب کسی پریشانی کے بغیر کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیت نہ صرف مذکورہ بالا منطق کی مذمت کرتی ہے بلکہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جو اس کے علاوہ کہ جو بیان کیا جاچکا ہے دوسرے مفاہیم وتفاسیر کوبھی ، جو ”ظاہر“اور ”باطن“گناہ کے سلسلے میں بیان ہوئے ہیں، اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں ، منجملہ ان کے یہ ہے کہ ظاہری گناہوں سے مراد وہ گناہ ہے جو اعضائے بدن کے ساتھ انجام پاتے ہیں اور باطنی گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو دل ،نیت اور تصمیم وارادہ کے ذریعہ صورت پذیر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یاددہانی اور گناہگاروں کو تہدید کے طور پر اس بدبختی کے بارے میں جس کا وہ انتظار کررہے ہیں قرآن یوں کہتا ہے :وہ لوگ کہ جو گناہوں کا ارتکاب کررہے ہیں بہت جلدی اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھ لےں گے (اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡسِبُوۡنَ الۡاِثۡمَ سَیُجۡزَوۡنَ بِمَا کَانُوۡا یَقۡتَرِفُوۡنَ)۔ ” کسب گناہ“ کی تعبیر (یکسبون الاثم) ایک عمدہ اور جالب نظر تعبیر ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ افراد انسانی جہان میں اس سرمایہ داروں کی طرح ہیں جو ایک بہت بڑے بازار میں قدم رکھتے ہیں اور کا سرمایہ ہوش ،عقل،عمر اور جوانی اور قسم قسم کی خدا داد قوتیں ہیں وہ لوگ کتنے بدبخت ہیں جو سعادت، افتخار، مقام، تقوی اور قر ب خدا کے حصول کے بجائے گناہ کمانے میں لگے رہیں۔ ”سیجزون“ (عنقریب اپنی جزا دیکھےں گے) کی تعبیر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اگرچہ بعض کی نظر میں قیامت دور ہے لیکن حقیقت وہ بہت قریب ہے اور یہ جہاں بہت تیزی کے ساتھ ختم ہوجائے گا اور قیامت آجائے گی، یا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ زیادہ تر افراد اس دنیاوی زندگی میں ہی اپنے برے اعمال کے نتائج انفرادی اور اجتماعی رد عمل کے طور پر دیکھیں گے۔

121
6:121
وَلَا تَأۡكُلُواْ مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسۡقٞۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِهِمۡ لِيُجَٰدِلُوكُمۡۖ وَإِنۡ أَطَعۡتُمُوهُمۡ إِنَّكُمۡ لَمُشۡرِكُونَ
اور اس (ذبیحہ) سے کہ جس پر خدا کا نام نہیں لیا گیا نہ کھاؤ اور یہ فعل گناہ ہے اور شیاطین اپنے دوستوں کو مخفی طور پر کچھ مطالب القا کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے مجادلے اور جھگڑے کے لئے کھڑے ہو جائیں اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں مسئلہ کے مثبت پہلو یعنی حلال گوشت کھانے کا ذکر کیا گیا تھا لیکن اس آیت میں زیادہ سے زیادہ تاکید کے لیے منفی پہلو اور اس کے مفہوم کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان گوشتوں میں سے کہ جن پر خدا نام ان کے ذبح کے وقت نہیں لیا گیا نہ کھاؤ(وَ لَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمۡ یُذۡکَرِ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ)۔ اس کے بعد نئے سرے سے ایک مختصر سے جملے کے ساتھ اس عمل کو جرم قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ کام فسق وگناہ ہے اور راہ ورسم بندگی اور فرمان خدا کی اطاعت سے خروج ہے( وَإِنَّہُ لَفِسْقٌ)۔ نیز اس غرض سے کے بعض سادہ لومسلمان ان کے شیطانی وسوسوں کا اثر قبول نہ کر لیں یہ اضافی کیا گیا ہے کہ شیاطین وسوسہ انگیز مطالب مخفی طور پراپنے دوستوں کو القا کرتے ہیں تاکہ ہمارے ساتھ مجادلہ کرنے کے لیے کھڑے ہوجائیں (وَ اِنَّہٗ لَفِسۡقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ)۔ لیکن تم ہوش وہواس کے ساتھ رہو کیوں کہ ، اگر تم ان کے وسوسوں کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تو تم بھی مشرکین صف میں شامل ہوجاؤ گے (وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ)۔ یہ مجادلہ اور وسوسہ شاید اسی منطق کی طرف اشارہ ہو جو مشرکین ایک دوسرے کی طرف القا کیا کرتے تھے (اور بعض نے کہا ہے کہ مشرکین عرب نے اسے مجوسیوں سیکھا تھا ) کہ اگر ہم مردہ جانور کا گوشت کھاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے خدا نے مارا ہے لہٰذا وہ اس جانور سے بہتر ہے جسے ہم مارت ہیں ، یعنی مردار نہ کھانا خدا کے کام سے ایک قسم کی بے اعتنائی ہے ۔ وہ اس ( حقیقت ) سے غافل ہیں کہ جو اپنی طبیعی موت مرتا ہے وہ اس بات کے علاوہ کہ اکثر بیمار ہوتے ہیں، اس کا سر نہیں کاٹا جاتا اور گندہ اور گاڑھا خون اس کے گوشت کے اندر ہی رہ جاتا ہے اور وہ مر جاتا ہے اور فاسد اور خراب ہوجاتا اور وہ گوشت بھی آلودہ اور فاسد کردیتا ہے، اسی بنا پر خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف اس جانور کا گوشت کھاؤ جو مخصوص شرائط کے ساتھ ذبح ہوا ہے اور اس کا خون باہر گرا ہے۔ ضمنی طور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ غیر اسلامی ذبیحہ حرام ہے کیوں دیگر جہات کے علاوہ اس کے ذبح کے وقت غیر مسلم خدا کا نام لینے کے پابند نہیں ہوتے ۔

122
6:122
أَوَمَن كَانَ مَيۡتٗا فَأَحۡيَيۡنَٰهُ وَجَعَلۡنَا لَهُۥ نُورٗا يَمۡشِي بِهِۦ فِي ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ لَيۡسَ بِخَارِجٖ مِّنۡهَاۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡكَٰفِرِينَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
وہ جو کہ مردہ تھا‘ پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور قرار دیا کہ جس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے کیا اس شخص کی مانند ہے کہ جو تاریکیوں میں ہو اور اس سے باہر نہ نکلے اسطرح کفار کے لئے وہ (برے اعمال) جو وہ انجام دیتے تھے زینت دیئے گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 123 کے تحت ملاحظہ کریں۔

123
6:123
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجۡرِمِيهَا لِيَمۡكُرُواْ فِيهَاۖ وَمَا يَمۡكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
اور ہم نے اسی طرح سے ہر ہر شہر اور ہر ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم قرار دیئے ہیں اور آخر کار ان کا معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ وہ مکر (کرنے اور لوگوں کو دھوکا دینے) میں مشغول ہو گئے لیکن (فی الحقیقت) وہ صرف اپنے آپ کو (ہی دھوکا) فریب دیتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں۔

شان نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

پہلی آیت کی شان نزول کے بارے میں یوں نقل ہوا ہے : ابوجہل جو اسلام اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بہت ہی سخت دشمنوں میں سے تھا، ایک دن اس نے آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو سخت تکلیف پہنچائی پیغمبرؐ کے بہادر چچا حضرت حمزہ جو اس دن ایمان نہیں لائے تھے اور اسی طرح آپ کے دین کے بارے میں مطالعہ اور سوج بچار کررہے تھے اور اس دن اپنے معمول کے مطابق شکار کے لیے بیابان میں گئے ہوئے تھے، جب بیابان سے واپس آئے تو ابوجہل اور اپنے بھتیجے کے مابین ہونے والے ماجرے سے باخبرہوئے، انھیں بہت غصہ آیا، وہ فورا ابوجہل کی تلاش میں نکل پڑے، وہ ملا تو اس کے سر یا ناک پر اس طرح مارا کہ خون جاری ہوگیا، ابوجہل نے اس تمام نفوذ واقتدار کے باوجود جو وہ اپنی قوم وقبیلہ بلکہ مکہ کے لوگوں کے درمیان رکھتا تھا حضرت حمزہ کی بہت زیادہ شجاعت کو دیکھتے ہوئے کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا ۔ اس کے بعد حمزہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی تلاش میں نکلے اور اسلام قبول کرلیا، اس دن سے باقاعدہ اسلام کے ایک افسر رشید کے طور پر آخر عمر تک اس آسمانی دین کا دفاع اور اس کی حفاظت کرتے رہے۔ اوپر والی آیت اسی واقع کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اس میں حمزہ کے ایمان اور ابوجہل کے کفروفساد میں پائیداری کو مشخص کیا گیا ہے۔ بعض رویات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت عمار یاسر کے ایمان لانے اور ابوجہل کے کفر پر اصرار کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ بہرحال یہ آیت بھی قرآن کی دوسری آیات کی طرح ہی اپنے محل نزول کے ساتھ ہی اختصاص نہیں رکھتی اور ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو ہر سچے مومن اور ہر بے ایمان اور ہٹ دھرم پر صادق آتی ہے ۔

ایمان اور نور نظر

ان کا قبل کی آیات کے ساتھ ربط اس لحاظ سے ہے کہ گذشتہ آیات میں دو گرہوں کی اشارہ ہے۔ مومن خالص اور ہٹ دھرم کافر جو صرف یہ کہ خود ایمان نہیں لاتا بلکہ دوسروں کوگمراہ کرنے کی سختی سے کوشش بھی کرتا ہے، یہاں بھی دوجالب اور عمدہ مثالیں ذکر کرکے ان دونوں گروہوں کی کیفیت کو مجسم کیا گیا ہے۔ پہلے ان افراد کو جو گمراہی میں تھے پھر انھون نے حق اور ایمان کو قبول کرکے اپنے راستے کو بدل لیا انھیں اس مردہ سے تشبیہ دی ہے کہ جو خدا کے ارادہ اور فرمان سے زندہ ہوگیا ہو (اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ)۔ قرآن میں بارہا ”موت“اور ”حیات“ معنوی موت وحیات اور کفر ایمان کے معنی میں آئی ہے، اور تعبیر اس بات کی طرف اچھی طرح نشاندہی کرتی ہے کہ ایمان ایک خشک اور خالی عقیدہ یا کوئی تکلفاتی الفاظ نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک ایسی روح کی مانند کہ جو بے ایمان افراد کے بے جان جسم میں پھونکی جاتی ہے اور وہ ان کے تمام وجود میں اثر کرتی ہے ، ان کی آنکھوں میں بینائی اور وشنی آجاتی ہے، ان کے کانوں میں سننے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے ، زبان میں طاقر گویائی اور ہاتھ پاؤں میں ہر قسم کے مثبت کام انجام دینے کی قدرت پیدا ہوجاتی ہے، ایمان افراد کو دگرگوں کردیتا ہے اور ان کی ساری زندگی میں اثر انداز ہوتا ہے اورزندگی کے آثار کو ان کے تمام حالات زندگی میں آشکار وواضح کرتا ہے۔ ”فاحییناہ“ (ہم نے اسے زندہ کیاہے ) کے حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اگر چہ خود انسان کی اپنی سعی وکوشش سے صورت پذیر ہونا چاہئے لیکن جب تک خدا کی طرف سے کشش نہ ہو یہ کوششیں انجام کو نہیں پہنچتی۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: ہم نے ایسے افراد کے لیے نور قرار دیا ہے کہ جس کی روشنی میں وہ لوگوں کے درمیان چلیں پھریں(وَ جَعَلۡنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمۡشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ)۔ اگر چہ مفسرین نے اس بارے میں کئی احتمال ذکر کیے ہیں کہ اس ”نور“ سے کیا مراد ہے لیکن ظاہری طور پر اس سے صرف قرآن اور تعلیمات پیغمبر ہی مراد نہیں ہیں بلکہ اس کے علاوہ خدا پر ایمان انسان کو نور بصیرت اور ایک نیا ادراک بخشتا ہے اور ایک خاص قسم کا نور بصیرت اس کا عطا کرتا ہے، اس کی نگاہ کے افق کو مادی محدود زندگی اور عالم مادی کی چہار دیواری سے نکال کر ایک بہت ہی وسیع عالم میں لے جاتا ہے۔ اور چونکہ وہ انسان کو خود سازی کی دعوت دیتا ہے تو خودخواہی، خود بینی، تعصب، ہٹ دھرمی اور ہوا ہوس کے پردے اس کی روح کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا دیتا ہے اور وہ ایسے حقائق دیکھنے لگ جاتا ہے کہ جن کے ادراک کی اس سے قبل ہرگز قدرت نہیں رکھتا تھا۔ اس نور کے پرتو میں وہ لوگوں کے درمیان اپنی زندگی کی راہ تلاش کرسکتا ہے اور وہ بہت سے ایسے اشتباہات سے کہ جن میں دوسرے لوگ طمع اور لالچ کی خاطر اور مادی محدود فکر کی وجہ سے یا خود خواہی اور ہوا وہوس کے غلبہ کے باعث گرفتار ہوجاتے ہیں مامون ومحفوظ رہ جاتا ہے ۔ نیز یہ جو اسلامی رویات میں ہے کہ: ”اٴلْمُومِنُ یَنْظُرُ بِنُورِاللّٰہِ“ ”مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“۔ یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔اگرچہ ان تمام باتوں کے باوجود اس خاص نور کی کہ جو صاحب ایمان انسان میں پیدا ہوجاتا ہے بیان وقلم سے پھر بھی توصیف نہیں کرسکتے۔ بلکہ اس کا ذائقہ چکھنا چاہئے اور اس کے وجود کو محسوس کرنا چاہئے ۔ اس کے بعد ایسے زندہ، فعال، نورانی اور موثر افرا د کا ہٹ دھرم بے ایمان افراد کے ساتھ مقابلہ وموازنہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: کیا ایسا شخص اس شخص کی مانند ہے کہ جو ظلمتوں اور تاریکیوں کی امواج میں ڈوبا ہوا ہے اور ہر گز اس سے باہر نہیں نکل سکتا(کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنۡہَا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہتا کہ ”کمن فی الظلمات“ (اس شخص کی طرح جو ظلمات میں ہے) بلکہ یوں کہتا ہے”کمن مثلہ فی الظلمات“ اس شخص کی طرح کہ جس مثل ظلمات ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس تعبیر سے ہدف ومقصد یہ تھا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ اس قسم کے افراد اس قدر تاریکی اور بد بختی میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ ان کی وضع وکیفیت ایک ضرب المثل بن گئی ہے کہ جس سے تمام باسمجھ افراد آگاہ ہیں۔ لیکن ممکن ہے یہ تعبیر ایک لطیف تر معنی کی طرف اشارہ ہو اور وہ یہ کہ: ایسے افراد کی ہستی اور وجود سے حقیقت میں ایک قالب اور ایک مجسمہ کے سو کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے، وہ ایک ایسا ہیکل رکھتے ہیں کہ جو روح کے بغیر ہے اور ایسا دماغ اور فکر رکھتے ہیں جو بیکار ہوچکی ہے۔ اس نکتہ کی یاددہانی بھی لازمی ہے کہ مومن کا راہنما”نور“ (صیغہ مفرد کے ساتھ) اور کفار کا محیط”ظلمات“( صیغہ جمع کے ساتھ) بیان کیا گیا ہے، کیوں کہ ایمان صرف ایک ہی حقیقت ہے اور وحدت وویگانگی کی رمز ہے اور کفر وبے ایمانی ، پراگندگی وتفرقہ اور پھوٹ کا سرچشمہ ہے۔ آیت کے آخر میں اس بد بختی کی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: کفار کے اعمال کوان کی نظروں میں اسی طرح زینت دے دی گئی ہے (کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں یہ برے عمل کے تکرار کی خاصیت ہے کہ آہستہ آہستہ اس کی برائی نظر میں کم ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اس کی نظروں میں ایک اچھا کام معلوم ہونے لگتا ہے او ر ایک زنجیر کی مانند اس کے ہاتھ پاؤں میں پڑ جاتا ہے اور اپنے جال سے نکلنے کی اسے اجازت نہیں دیتا، تباہ کاروں کے حالات کا ایک سرسری مطالعہ اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کردیتا ہے۔ اور چونکہ منفی جہت سے ایک ماجرے کاہیرو ابوجہل تھا اور وہ مشرکین مکہ اور قریش کے سرداروں میں شمار ہوتا تھا لہٰذا دوسری آیت میں ان گمراہ رہبروں اور کفر وفساد کے زعما کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: ہم نے ہر شہر اور آبادی میں اسی طرح سے ایسے بڑے بڑے لوگ قراردئے ہیں کہ جنھوں نے گناہ کا راستہ اختیار کرلیا اور مکروفریب اور دھوکا بازی کے ذریعے لوگوں کو راستے سے منحرف کردیا(وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا فِیۡ کُلِّ قَرۡیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجۡرِمِیۡہَا لِیَمۡکُرُوۡا فِیۡہَا)۔ ہم نے بارہا یہ کہا ہے اس قسم کے افعال کی خدا کی طرف نسبت اس بنا پر ہے کہ وہ مسبب الاسباب اور تمام قدرتوں کا سرچشمہ ہے اور جو شخص جس کام کو سر انجام دیتا ہے وہ ان امکانات ووسائل کے ساتھ سرانجام دیتا ہے کہ جو خدا نے اس کے اختیار میں دئے ہیں ۔ اگرچہ کچھ لوگ اس سے اچھا فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض لوگ ان ہی وسائل سے برے کام انجام دیتے ہیں۔ ”لیمکروا“ (تاکہ وہ مکروفریب کو کام میں لائیں) کا معنی ان کے سرانجام کے معنی میں ہے۔ یہ ان کی خلقت کا ہدف نہیں ہے (اجرام“ مادہ”جرم“ سے اصل میں قطع کرنے کے معنی میں ہے اور چونکہ گنہگار افراد رشتوں اور ناتوں کو قطع کردیتے ہیں اور اپنے آپ کو فرمان خدا کی اطاعت سے الگ کرلیتے ہیں لہٰذا یہ لفظ گناہ کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور اس میں اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے ہر شخص اپنی ذات میں حق وپاکیزگی اور عدالت کے ساتھ رشتہ رکھتا ہے اور گناہ سے آلودگی فی الواقع فطرت الٰہیہ سے علحیدگی ہے۔ یعنی نافرمانی اور بکثرت گناہوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ راہ حق کے رہزن بن گئے اور بندگان خدا کو راہ سے منحرف کردیا۔ کیوں کہ ”مکر“ اصل میں گرم کرنے اور مروڑنے کے معنی مین بعد ازاں ہر اس انحرافی کام کے لیے جو مخفیانہ اور چھپ کر کیا جائے استعمال ہونے لگا۔ آیت کے آخر میں کہا گیا ہے: وہ اپنے سوا کسی کو بھی فریب اور دھوکا نہیں دیتے، لیکن وہ سمجھتے نہیں ہیں اور متوجہ نہیں ہیں (وَ مَا یَمۡکُرُوۡنَ اِلَّا بِاَنۡفُسِہِمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا مکروفریب ہوگا کہ وہ اپنے وجود کا تمام سرمایہ چاہے وہ فکر ،ہوش، عقل، عمر اور وقت ہو یا مال دولت ایسی راہ میں استعمال کرتے ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ ان کے لیے سود مند نہیں بلکہ ان کی پشت کو بار مسئولیت اور گناہ سے بھی بوجھل کردیتا ہے جب کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ ضمنی طور پر اس آیت سے بھی اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ مفاسد اور بد بختیاں جو معاشرے کو دامن گیر ہوتی ہیں ان کا سر چشمہ قوموں کے بڑے اور سردار ہی ہوتے ہیں اور وہی لوگ ہوتے ہیں جو قسم قسم کے حیلوں اور فریب کاریوں کے ذریعہ راہ حق کو دگرگوں کر کے حق کے چہرے کولوگوں پر پوشیدہ کردیتے ہیں۔

124
6:124
وَإِذَا جَآءَتۡهُمۡ ءَايَةٞ قَالُواْ لَن نُّؤۡمِنَ حَتَّىٰ نُؤۡتَىٰ مِثۡلَ مَآ أُوتِيَ رُسُلُ ٱللَّهِۘ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهُۥۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجۡرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٞ شَدِيدُۢ بِمَا كَانُواْ يَمۡكُرُونَ
اور جس وقت کوئی آیت ان کے لئے آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہر گز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی چیز نہ دی جائے جیسی کہ خدا کے پیغمبروں کو دی گئی ہے۔ خدا ہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے۔ وہ لوگ کہ جو گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں (اور انہوں نے اپنی حیثیت و مقام کو بچانے کے لئے لوگوں کو راہ حق سے منحرف کیا ہے) وہ بہت جلدی اپنے مکر (فریب اور چالبازی) کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے بار گاہ خداوندی میں ذلیل ہوں گے اور عذاب شدید میں گرفتار ہوں گے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

مرحوم طبرسی مجمع البیان میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں (کہ جو بت پرستوں کے مشہور سرداروں میں سے تھااور اصطلاح کے مطابق ان کا دماغ سمجھا جاتا تھا) نازل ہوئی ہے۔ وہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے کہتا تھا کہ اگر نبوت سچی بات ہے تو میں یہ مقام حاصل کرنے کا آپ سے زیادہ حقدار ہون ، کیوں کہ ایک تو میرا سن آپ سے زیادہ ہے اور دوسرے میرے پاس مال ودولت بھی آپ سے زیادہ ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کیوں کہ وہ خیال کرتا تھا کہ مسئلہ نبو ت بھی رقابتوں کا مرکز بنے ، وہ کہتا تھا کہ ہم اور قبیلہ بنی عبد مناف (پیغمبر کا قبیلہ) ہر چیز میں ایک دوسرے کے رقیب تھے اور گھوڑ دوڑکے دو گھوڑوں کی طرح ایک دوسروں کے دوش بدوش جارہے تھے یہاں تک کہ انھوں نے یہ دعوی کردیا کہ ہمارے درمیان میں سے ایک پیغمبرؐ مبعوث ہوا ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہے لیکن یہ بات ممکن نہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئےں مگر یہ کہ ہم پر بھی وحی اترے جس طرح اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اصطلاح کے مطابق ”لام“ غایت کا”لام“ ہے بلکہ عاقبت کا لام ہے کہ جس کے قرآن میں متعدد نمونے موجود ہیں۔

پیغمبر کا انتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے۔

پیغمبر کا انتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس آیت میں ان باطل گدی نشینوں اور سرداروں اور ”اکابر مجرمیہا“ کے طرز فکر اور مضحکہ خیز دعوے کی طرف ایک مختصر اور پر معنی اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : جب خدا کی طرف سے کوئی آیت ان کے لیے بھیجی گئی تو انھوں نے کہا: ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ ہمیں بھی وہی مقامات اور آیات جو خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کو عطا ہوئی ہے دی جائیں(وَ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ)۔ ان کے خیال میں جیسے مقام رسالت اور خلق کی رہبری کا حصول سن وسال ومال ودولت پر موقوف ہے یا قبائل کی بچہ گانہ رقابتوں پر اور گویا خدا بھی اس بات کا پابند ہے کہ وہ ان بے بنیاد اور مضحکہ خیز رقابتوں کا خیال کرے اور انھیں صحیح قرار دے ۔ ایسی رقابتیں کہ جن کا سرچشمہ انحطاط فکری ہو، جو مفہوم نبوت اور انسانوں کی رہبری کی فکر سے دور ہوں۔ قرآن انھیں واضح جواب دیتا ہے اور کہتا ہے: اس کی ضرورت نہیں کہ تم خدا کو سبق دو کہ وہ اپنے پیغمبروں اور رسولوں کو کس طرح بنائے اور کن لوگوںمیں ان کا انتخاب کرے کیوں کہ” خدا سب بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کوکہاں قراردے“(اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ)۔ یہ بات صاف ظاہر او بالکل واضح ہے کہ رسالت نہ تو سن وسال اور مال دولت سے کوئی ربط رکھتی ہے اور نہ ہی قبائل کی حیثیت سے ۔ بلکہ ہر چیز سے پہلے اس کی شرط روح کی آمادگی، ضمیر کی پاکیزگی، اصل انسانی خصائل وصفات، فکر بلند، قوت نظر اور آخری طور پر غیر معمولی تقوی وپرہیزگاری کا مرحلہٴ عصمت میں ہونا ہے اور ان صفات کا موجود ہونا خصوصا مقام عصمت کے لیے آمادگی ایسی چیز ہے جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ان شرائط اور ان کی سوچ کے درمیان کس قدر فرق ہے۔ جانشین پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم بھی سوائے وحی وتشریع بنی کے تمام صفات اور پروگراموں کا حامل ہوتا ہے ، یعنی وہ محافظ شرع وشریعت بھی ہے ، اس کے مکتب وقوانین کا پاسدار بھی ہے اورلوگوں کا روحانی اور دنیا کا رہبر بھی ہے، لہٰذا اسے بھی مقام عصمت پر فائز اور خطا وگناہ سے مامون ومحفوظ ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی پیغام رسانی کو باور کرسکے اور رہبرمطاع اور قابل اعتماد نمونہ ہو۔ اسی دلیل سے اس کا انتخاب بھی خدا ہی کے اختیار میں ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس مقام کو وہ کہاں قرار دے نہ کہ خلق خدا۔ نہ ہی لوگوں کے انتخاب اور شوری سے یہ ہوتا ہے ۔ آیت کے آخر میں اس قسم کے مجرموں اور باطل دعوے کرنے والے رہبروں کے اس انجام کا ذکر کیا گیا ہے جو ان کے انتظار میں ہے ارشاد ہوتا ہے: عنقریب یہ گنہگار لوگ اس مکروفریب کی وجہ سے جو وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے تھے ذلت وحقارت اور عذاب شدید میں گرفتار ہوں گے(سَیُصِیۡبُ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَمۡکُرُوۡنَ)۔ یہ خود خواہ لوگ چاہتے تھے کہ اپنے غلط کاموں کے ذریعہ اپنی حیثیت ، مقام اور مرتبہ کی حفاظت کریں لیکن خدا انھیں اس طرح حقیر کرے گا کہ وہ درد ناک روحانی گرفت کا احساس کریں گے ، علاوہ ازایں چونکہ راہ باطل میں ان کہ ہاؤہو زیادہ اور ان کی سعی وکوشش سخت تھی لہٰذا ان کی سزا اور عذاب بھی ”شدید“ اور پر سرصدا ہوگا۔

125
6:125
فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهۡدِيَهُۥ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِۖ وَمَن يُرِدۡ أَن يُضِلَّهُۥ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجٗا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي ٱلسَّمَآءِۚ كَذَٰلِكَ يَجۡعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ
جس شخص کے لئے خدا چاہتاہے کہ ہدایت کرے اس کے سینہ کو (قبول کرنے کے لئے) کشادہ کر دیتا ہے اور جس شخص کو (اس کے برے اعمال کی وجہ سے) گمراہ کرنا چاہئے اس کے سینہ کو اس طرح تنگ کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا پلیدی ایسے افراد کے لئے قرار دے دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

126
6:126
وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسۡتَقِيمٗاۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَذَّكَّرُونَ
اور یہ صراط مستقیم (اور ہمیشہ کی سنت) تیرے پروردگار کی ہے ہم ایسے افراد کے لئے کہ جو پندو نصیحت حاصل کرتے ہیں اپنی آیات کھول کر بیان کر دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

127
6:127
۞لَهُمۡ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمۡۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس امن و امان کا گھرہو گا اور وہ ان کا ولی‘ دوست اور مدد گار ہے ان (نیک) اعمال کی وجہ سے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

خدائی امداد

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

۱۲۵ گذشتہ آیات کہ جو سچے مومنین اور ہٹ دھرم کفار کے بارے میں بحث کررہی تھیں، کے بعد ان آیات میں ان عظیم نعمتوں کو جو پہلے گروہ کے لیے ہیں اور بے توفیقیاں جو دوسرے گروہ کے دامن گیر ہوںگی تفصیل ک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیاہے: جس شخص کو خدا ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ حق کو قبول کرنے کے لیے کشادہ کردیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ اس کے لیے اسے تنگ کردیتا ہے گویا وہ چاہتا ہے کہ آسمان کی طرف چڑھ جائے(فَمَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشۡرَحۡ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ ۚ وَ مَنۡ یُّرِدۡ اَنۡ یُّضِلَّہٗ یَجۡعَلۡ صَدۡرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ)۔ اس امر کی تاکید کے لیے مزید کہا گیا ہے : خدا اس طرح سے پلیدی اور رجس کو بے ایمان افراد کے لیے قرار دیتا ہے اور ان کے سرا پا کو نحوست اور سلب توفیق گھیر لے گی (کَذٰلِکَ یَجۡعَلُ اللّٰہُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ)۔

قابل توجہ نکات

۱۔ ہم بارہا بیان کرچکے ہیں کہ خدائی ”ہدایت“ اور ”ضلالت“ سے مراد ایسے اشخاص کے لیے کہ جنھوں نے حق قبول کرنے کے لیے اپنے اعمال وکردار سے آمادگی یا عدم آمادگی کو ثابت کردیا ہے ، ہدایت کی بنیادیں فراہم کرنا یا فراہم شدہ ہدایت کی بنیادوں کو برطرف کرنا ہے۔ وہ لوگ کہ جو راہ حق پر رواں دواں ہین اور ایمان کے اور ایمان کے آب زلال کے متلاشی اور پیاسے ہیں، خدا ان کے راستوں میں ایسے ضیا بخش چراغ روشن کردیتا ، تاکہ وہ اس آب حیات کو حاصل کرنے کے لیے تاریکیوں میں گم نہ ہوجائےں لیکن وہ لوگ کہ جنھوں نے ان حقائق کے بارے میں اپنی بے اعتنائی ثابت کردی ہے وہ اس خدائی امداد سے محروم اور اپنی راہ میں انبوہ مشکلات سے دوچار ہوجاتے ہیں اور ان سے توفیق ہدایت سلب ہوجاتی ہے۔ْ ۲۔یہاں”صدر“ (سینہ) سے مراد روح اور فکر ہے اور یہ کنایہ بہت سے مواقع پر استعمال ہوتا ہے ۔نیز ”یشرح“ (کشادہ کرنا) سے مراد وہی وسعت روح، بلندیٴ فکر اور انسان کی عقل کے افق کا پھیلاؤ ہے ۔ کیوںکہ حق کو قبول کرنے کے لیے بہت سے ذاتی منافع چھوڑنے پڑتے ہیں کہ جس کے لیے وسعت روح رکھنے والے اور بلند افکار افراد کے سوا اور کوئی آمادہ نہیں ہوگا۔ ۳۔ ”حرج“ (بروزن حرم) حد سے زیادہ تنگی اور شدید محدویت کے معنی میں ہے ۔ یہ ہٹ دھرم اور بے ایمان افرا د کا حال ہے ، کہ جن کی فکر بہت کوتاہ اور ان کی روح حد سے زیادہ چھوٹی اور ناتواں ہے اور جو معمولی سی گنجائش بھی زندگی میں نہیں رکھتے۔۔ ۴ ۔ قرآن کا ایک علمی معجزہ: اس قسم کے افراد کو ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کہ جو یہ چاہتا ہے کہ آسمان پر چڑھ جائے اس لحاظ سے ہے کہ آسمان کی طرف صعود کرنا (چڑھنا) حد سے زیادہ مشکل کام ہے اور ان کے لیے حق کو قبول کرنا بھی اسی طرح ہے۔ جیسا کہ ہم روزمرہ کی گفتگو میں کہتے ہیں کہ یہ کام فلاں شخص کے لیے اتنا مشکل ہے کہ گویا وہ یہ چاہتا ہے کہ میں آسمان کی طرف چڑھ جاؤں، یا جیسا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ کام کرنے کے بجائے آسمان پر چڑھ جاؤ تو زیادہ آسان ہے ۔ البتہ اس زمانے میں آسمان کی طرف پرواز کرنا انسان کے لیے ایک تصور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا تھا، لیکن آج بھی جب کہ فضا میں سیر کرنا ایک عملی شکل اختیار کرچکا ہے پھر بھی وہ ایک طاقت فرسا اور مشکل کاموں میں سے ہے اور فضا نوردوں کو ہمیشہ شدید مشکلات کا سامنہ رہتا ہے۔ لیکن اس آیت کے لیے ایک لطیف تر معنی بھی نظر میں آتا ہے جو گذشتہ بحث کی تکمیل کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آج یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کرہٴ زمین کے اطراف کی ہوا اس زمین کے قرب جوار میں تو بالکل نتھری ہوئی اور انسانی تنفس کے لیے آمادہ ہے، لیکن ہم جتنا اوپر کی طرف چڑھتے چلے جائیں ہوا اتنی ہی زیادہ رقیق اور کم ہوجاتی ہے اور اس کی آکسیجن کی مقدار کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے، اس حد تک کہ اگر ہم( آکسیجن کے ماسک کے بغیر) زمین کی سطح سے چند کلو میٹر اوپر کی طرف چلے جائیں تو ہمارے لیے سانس لینا ہر لحظہ مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا اور اگر ہم برابر اوپر کی طرف بڑھتے رہیں تو تنگیٴ نفس اور آکسیجن کی کمی ہماری بے ہوشی کا سبب بن جائے گی ، اس دن جب یہ واقعیت علمی ثابت نہیں ہوئی تھی اس تشبیہ کا بیان کرنا حقیقت میں قرآن کے علمی معجزات میں شمار ہوگا۔ ۵۔ شرح صدر کیا ہے آیت میں شرح صدر(سینہ کی کشادگی) ایک عظیم نعمت اور ضیق صدر(سینہ کی تنگی) ایک خدائی سزا شمار کی گئی ہے ۔ جیسا کہ خدا وند تعالی اپنے پیغمبرؐ سے ایک عظیم نعمت کابیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ”اٴَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ“ ” کیا ہم نے تیرے سینہ کو وسیع اور کشادہ نہیں کیا“۔(سورہٴ الم نشرح، آیہ ۱) یہ ایک ایسا امر ہے کہ جو افرادکے حالات کا مشاہدہ کرنے سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ بعض کی روح تو اس قدر بلند وکشادہ ہوتی ہے جو ہر حقیقت کو قبول کرنے کے لیے ۔چاہے وہ کتنی بڑی کیوں نہ ہو۔ آمادہ اور تیار ہوتی ہے لیکن اس کے برعکس بعض کی روھ اتنی تنگ اور محدود ہوتی ہے جیسے کسی بھی حقیقت کے نفوذ کے لیے اس میں کوئی راہ اور جگہ نہیں ہے ان کی فکری نگاہ کی حد روزمرہ کی زندگی اور کھانے پینے تک ہی محدود ہوتی ہے، اگر وہ انھیں مل جائے تو ہر چیزچھی ہے اور اگر اس میں تھوڑا سا بھی تغیر پیدا ہوجائے تو گویا سب کچھ ختم ہوگیا ہے اور دنیا خراب ہوگئی ہے۔ جس وقت اوپر والی آیت نازل ہوئی پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے لوگوں نے پوچھاکہ شرح صدر کیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”نور یقذفہ اللّٰہ فی قلب من یشاء فینشرح لہ صدرہ وینفسح“ ” ایک نور ہے کہ جسے خدا جس شخص کے دل میں چاہے ڈال دے تواس کے سائے میں اس کی روح وسیع اور کشادہ ہوجاتی ہے“۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا اس کی کوئی نشانی بھی ہے جس سے اسے پہچانا جائے تو آپ نے فرمایا: ”نعم الانابة الی دار الخلود والتجافی عن دارالغرور والاستعداد للموت قبل نزول الموت“۔( بحوالہ ل مجمع البیان، جلد ۴، صفحہ ۳۶) ” ہاں! اس کی نشانی ہمیشہ گھر کی طرف توجہ کرنا ، اور دنیا کے زرق برق سے دامن سمیٹنا، اور موت کے لیے آمادہ ہونا (ایمان وعمل صالح اور راہ حق میں کوشش کرنے کے ساتھ ) قبل اس کے کہ موت آجائے “۔ بعد والی آیت میں گذشتہ بحث کی تاکید کے عنوان سے کہتا ہے: یہ مطلب کہ خدائی مدد حق طلب لوگوں کے شامل حال ہوتی ہے اور سلب توفیق دشمنان حق کی تلاش میں جاتی ، ایک مستقیم وثابت اور ناقابل تغیر سنت الٰہی ہے(وَ ہٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسۡتَقِیۡمًا)۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ ”ھذا“ کا اشارہ اسلام اور قرآن کی طرف ہو، کیو ں کہ وہی صراط مستقیم اور راست ومعتدل راستہ ہے۔ آیت کے آخر میں دوبارہ تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ہم نے اپنی نشانیوں اور آیات کو ان لوگوں کے لیے جو قبول کرنے والا دل اور سننے والا کان رکھتے ہیں تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے(قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ)۔ بعد والی آیت میں خدا وند تعالی اپنی نعمتوں کے ان دو عظیم حصوں کو جو وہ بےدار افراد اور حق طلب لوگوں کو عطا کرتا ہے بیان کرتا ہے: پہلی یہ کہ ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے امن وامان کا گھر ہے(لَہُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ)۔ اور دوسری یہ کہ : ان کا ولی وسرپرست اور حافظ ناصر خدا ہے(وَ ہُوَ وَلِیُّہُمۡ)۔ ”اور یہ سب کچھ ان نیک اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ انجام دیتے تھے“(بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ)۔ اس سے بڑھ کر اور کونسی چیز باعث افتخار ہوگی کہ انسان کی سرپرستی اور کفالت امورخدا وند تعالی اپنے ذمہ لے لے، اور وہ اس کا حافظ، دوست اور یارویاور ہوجائے۔ اور کون سی نعمت اس سے عظیم تر ہے کہ ”دارالسلام“ یعنی امن امان کا گھر وہ جگہ کہ جس میں نہ جنگل ہے نہ خونریزی،نہ نزاع ہے نہ جھگڑا، نہ خشونت وسختی ہے نہ زمانے والی اور طاقت صرف کرنے والی رقابتیں، نہ مفادات کا تصادم ہے نہ جھوٹااور افتراء نہ تہمت، حسد اور کنہ ہے اور نہ غم واندوہ ، ایسا گھر جو ہرلحاظ سے راحت وآرام کی جگہ ہے، انسان کے انتظار میں ہے۔ لیکن آیت یہ کہتی ہے کہ یہ چیزیں وہ زبانی جمع خرچ سے کسی کو نہیں دیتا بلکہ عمل کے بدلے میں دیتا ہے، ہاں! ہاں! عمل ہی کے بدلے میں۔

128
6:128
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ قَدِ ٱسۡتَكۡثَرۡتُم مِّنَ ٱلۡإِنسِۖ وَقَالَ أَوۡلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلۡإِنسِ رَبَّنَا ٱسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٖ وَبَلَغۡنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِيٓ أَجَّلۡتَ لَنَاۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثۡوَىٰكُمۡ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
اور اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع اور محشور کرے گا تو ان سے کہے گا کہ اے گروہ شیاطین و جن تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا ہے تو انسانوں میں سے ان کے دوست اور پیرو کار کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم دونوں (گمراہ پیشواؤں اور گمراہ پیرو کاروں ) میں سے ہر ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے (ہم ہوس آلود اور زود گذر لذات تک پہنچے اور انہوں نے ہم پر حکومت کی) اور جو اجل تو نے ہمارے لئے مقرر کر دی تھی ہم اس تک پہنچ گئے (خدا) کہے گا تمہارے رہنے کی جگہ آگ ہے تم ہمیشہ کے لئے اسی میں رہو گے مگر جو کچھ خدا چاہے تیرا پروردگار حکیم اور دانا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 129 کے تحت ملاحظہ کریں۔

129
6:129
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعۡضَ ٱلظَّـٰلِمِينَ بَعۡضَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
اور اس طرح سے ہم بعض ظالموں کو بعض (دوسرے ظالموں ) کے سپرد کر دیتے ہیں یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیات میں قرآن نئے سرے گمراہ اور گمراہ کرنے والے مجرمین کی سرنوشت کی طرف لوٹتا ہے، اور گذشتہ آیات کے مباحث کی اس سے تکمیل کرتا ہے۔ انھیں اس دن کی یاد دلاتاہے کہ جس دن وہ ان شیاطین کے آمنے سامنے کھڑے ہوں گے کہ جن سے انھوں نے الہام لیا ہے، اور ان پیروکاروں اور ان پیشواؤں سے سوال ہوگا ، ایسا سوال کہ جس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے گے اور حسرت واندوہ کے سواکوئی نتیجہ حاصل نہ کرے گے، یہ تنبیہیں اس مقصد کے لیے ہیں کہ صرف اس چند روزہ زندگی پر نگاہ نہ رکھیں اور انجام کار کی بھی فکر کریں۔ قرآن پہلے کہتا ہے: اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا تو ابتدا میں کہے گا کہ اے گمراہ کرنے والے جن وشیاطین تم نے بہت سے افراد انسانی کو گمراہ کیا ہے(وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ۚ یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَکۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ)۔( ۔ ”یوم“ ظرف ہے اور ”یقول“ سے متعلق ہے جو کہ محذوف ہے اور اصل میں جملہ یوں تھا” یوم یحشرھم جمیعا یقول“) لفظ ”جن“ سے مراد یہاں وہی شیاطین ہیں ، کیوں کہ جن اصل لغت میں، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں، ہر مخفی مخلوق کے معنی میں، سورہٴ کہف کی آیہ ۵۰ میں ہم شیاطین کے سردار ابلیس کے بارے میں پڑھے گے۔ ”کان من الجن“ یعنی وہ جنوں میں سے تھا۔ آیات گذشتہ کہ جن میں شیاطین کے رمزی وسوسوں کے بارے میں گفتگو تھی اور فرمایاگیا تھا ”ان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم “ اسی طرح بعد والی آیت کچھ اور لوگوں کے بارے میں بعض ستمگروں کی رہبری کی بات کررہی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اسی امر کی طرف اشارہ ہ۔ لیکن گمراہ کرنے والے شیاطین کے پاس اس گفتگو کا کوئی جواب نہیں ہے اور وہ خاموش ہوجاتے ہیں لیکن ”انسانوں میں سے ان کی پیروی کرنے والے اس طرح کہے گے کہ پروردگارا ، انھوں نے ہم سے فائدہ اٹھایا او ر ہم نے ان سے فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ ہماری اجل آگئی“(وَ قَالَ اَوۡلِیٰٓؤُہُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ وَّ بَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا)۔ وہ اسی بات پر خوش تھے کہ انھوں نے فرمانبردار پیروکار مل گئے ہیں اور ان پر حکومت کررہے ہیں ، اور ہم بھی دنیا کے زرق وبرق اور اس کی بے لگام وقتی لذات کہ جو شیاطین کے وسوسوں کی وجہ سے دلفریب اور دلچسپ دکھائی دیتی تھی ، خوش تھے۔ اس بارے میں کہ اس آیت میں اجل سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد زندگی کا اختتا م ہے یا قیامت کادن ہے ؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر زندگی کا اختتام مراد ہے، کیوں کہ لفظ ”اجل“ اس معنی میں قرآن کی بہت سے آیات میں استعمال ہوا ہے ۔ لیکن خدا ان سب فاسد ومفسد پیشواؤں اور پیروکاروں کو مخاطب کرکے کہتا ہے: تم سب کے رہنے کی جگہ آگ ہے اور تم ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہوں گے، مگر جو کچھ خدا چاہے (قَالَ النَّارُ مَثۡوٰىکُمۡ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ)۔ جملہ”الا ماشاء اللہ“ (مگر جو خدا چاہے) کے ساتھ استثنا یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مواقع پر عذاب وسزا کا ابدی ہونا پروردگار عالم سے اس کی قدرت کو سلب نہیں کرتا، بلکہ جب وہ چاہے اسے بدل سکتا ہے، اگر چہ ایک گروہ کے لیے قائم رہنے دیتا ہے۔ یا یہ ان افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ابدی عذاب کے مستحق نہیں ہیں، یا یہ وہ عفو الٰہی کے شامل حال ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں کہ جنھیں سزا کے جاودانی ہونے اور ہمیشگی کے حکم سے مستثنی ہونا چاہئے۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : تیرا پروردگار حکیم ودانا ہے(اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ)۔ اس کی سزا بھی حساب وکتاب کے ماتحت ہے اور اس کی بخشش بھی حساب وکتاب کی رو سے ہے اوروہ اس کے مواقع کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اگلی آیت میں اس قسم کے افراد کے بارے میں ایک دائمی قانون الٰہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جس طرح ستمگر اور طاغی لوگ اس دنیا میں ایک دوسرے کے حامی اور معاون تھے، وہ آپس میں رہبر ورہنما بھی تھے، اور غلط راستوں پر چلنے میں ایک دوسرے کے قریبی ہمکار بھی تھے، ”دوسرے جہان میں بھی ہم انھیں ایک دوسرے کے ساتھ چھوڑ دیں گے، اور یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے کہ جنھیں وہ اس جہان میں انجام دیتے تھے” (وَکَذٰلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون)۔ کیوں کہ جیس کہ ہم نے معاد سے مربوط مباحث میں بیان کیا ہے قیامت کا منظر بہت بڑے پیمانے پر عکس العمل اور ردعمل کا منظر ہے اور وہاں پر جو کچھ ہوگا وہ ہمارے اعمال کا پرتواور انعکاس ہے۔(مزید وضاحت کے لیے ”معادو جہان پس از مرگ “ نامی قیمتی کتاب کی طرف رجوع کریں۔) تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں بھی امام علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”نولی کل من تولی اولیائھم فیکونون معھم یوم القیٰمة“ ”قیامت کے دن ہر شخص اپنے اولیاء کے ساتھ ہوگا“۔ قابل توجہ بات یہ ہے آیت میں تمام گروہوں کا ”ظالم“ کے عنوان تعارف کرایا گیا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ”ظلم“ اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے ان سب پر محیط ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ انسان اپنے جیسے شیطان صفت لوگوں کی رہبری کو قبول کرکے اپنے آپ کو خدا کی ولایت سے خارج کرلے، اور دوسرے جہاں میں بھی ان ہی کی ولایت کے ماتحت قرار پائے۔

130
6:130
يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَقُصُّونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِي وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ قَالُواْ شَهِدۡنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَاۖ وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَشَهِدُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰفِرِينَ
(اس دن ان سے کہے گا) اے گروہ جن و انس ! کیا تم ہی میں سے (ہمارے بھیجے ہوئے) رسول تمہارے پاس نہیں آئے تھے ، جو ہماری آیات تمہارے سامنے بیان کیا کرتے تھے اور اس قسم کے دن کی ملاقات سے تمہیں ڈراتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (ہاں ہم نے برا کیا) اور انہیں دنیا کی (زرق و برق) زندگی نے فریب دیا اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔

131
6:131
ذَٰلِكَ أَن لَّمۡ يَكُن رَّبُّكَ مُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ بِظُلۡمٖ وَأَهۡلُهَا غَٰفِلُونَ
یہ اس بناء پر ہے کہ تیرا پروردگار کبھی بھی شہر اور آبادیوں (کے لوگوں ) کو ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے غفلت اور بے خبری کی حالت میں ہلاک نہیں کرتا (بلکہ پہلے کچھ رسولوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔

132
6:132
وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُواْۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ
اور (ان دو گروہوں میں سے) ہر ایک کے لئے درجات (اور مراتب) ہیں ہر اس عمل کے بدلے میں جو انہوں نے انجام دیا ہے اور تیرا پروردگار ان اعمال سے جو انہوں نے انجام دیئے ہیں غافل نہیں ہے۔

اتمام حجت

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں شیطان صفت ستمگروں کی قیامت کے دن سرنوشت بیان ہوئی ہے، اس غرض سے کہیں یہ تصور نہ کرلیا جائے کہ انھوں نے غفلت کی حالت میں یہ کام انجام دئے ہوں گے اب ان آیات میں واضح کرتا ہے کہ انھیں کافی تنبیہ کی گئی ہے اوران پر اتمام حجت کی گئی ہے ، لہٰذا قیامت کے دن وہ ان سے کہے گا: اے گروہ جن وانس! کیا تم ہی میں سے رسول تمھارے پاس نہیں آئے تھے اوت ہماری آیات بیان نہیں کی تھی اور قسم کے دن کی ملاقات سے تمھیں ڈرایا نہیں تھا (یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا)۔ ”معشر“ اصل میں” عشرة “سے جودس کے عدد کے معنی میں ہے، لیا گیا ہے اور چونکہ دس کا عدد ایک اکمل عدد ہے، لہٰذا معاشرہ کا لفظ ایک کامل جماعت پر جو مختلف اصناف اور طوتفوں پر مشتمل ہو ، بولا جاتا ہے، اس بارے میں کہ آیا جنوں کی طرف بھیجے گئے رہنما خود ان ہی کی جنس ونوع سے تھے یا نوع بشر میں سے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن سورہٴ جن کی آیات سے جو کچھ اچھی طرح سے استفادہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ :قرآن اور اسلام سب کے لیے ہے حتی کہ جنوں کے لیے بھی نازل ہوا ہے، اور پیغمبرؐ اسلام سب کی طرف مبعوث ہوئے تھے ، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی جانب سے ان کو دعوت دینے کے لیے خود ان ہی میں سے پیغام دینے والے اور نمائندے مامور ہوں اس بارے میں مزید تشریح اور ”جن“ کے علمی معنی کے بارے میں بھی انشاء للہ قرآن مجید کے پارہ ۲۹ میں سورہٴ جن کی تفسیر میں آئے گی۔ لیکن اس بات پر توجہ رکھنا چاہئے کہ لفظ” منکم“ (تم میں سے) اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہرگروہ کے رسول ایک ہی گروہ سے ہوں یا تمام گروہوں میں سے ہوں۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ قیامت کے دن کچھ چھپایا نہیں جاسکے گا او ر اس روز سب چیزوں کی نشانیاں آشکار ہوں گی اور کوئی شخص کسی چیز کو چھپا نہیں سکے گا، سب کے سب خدا کی اس پرسش کے سامنے اظہار کرتے ہوئے، کہیں گے ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں اور اس بات کا عتراف کرتے ہیں کہ ایسے رسول آئے تھے اور انھوں نے تیرے پیغام ہمیں پہنچایا تھا، مگر ہم نے ان کی مخالفت کی تھی (قَالُوۡا شَہِدۡنَا عَلٰۤی اَنۡفُسِنَا)۔ ہاں ! ان کے پاس پروردگار کی طرف سے کافی دلائل موجود تھے اور وہ راہ اور چاہ تمیز کرتے تھے ،”لیکن دنیا کی پرفریب زندگی اور اس کے وسوسہ انگیز زرق وبرق نے انھیں دھوکا دیا“(وَ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا)۔ یہ جملہ اچھی طرح سے واضح کررہا ہے کہ انسانوں کے لیے راہ سعادت میں سب سے بڑی رکاوٹ ، جہاں مادہ کے مظاہر کے سامنے بے لگام ہوکرسرتسلیم خم کرنا اور بے حد وحساب دلبستگی ہے ۔ایسی دلبستگیاں کہ جو انسان کو زنجیر غلامی کی طر ف کھینچ لے جاتی ہے اور اسے ہر قسم کے ظلم وستم ، تعدی وانحراف اور خود کواہی وطغیان کی دعوت دیتی ہے۔ قرآن دوبارہ تاکید کرتا ہے: وہ صراحت کے ساتھ اپنے ضرر میں اور اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کفر کی راہ پر چلے تھے اور منکرین حق کی صف میں شامل ہوئے تھے(وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ)۔ بعد والی آیت میں گذشتہ آیت کے اسی مضمون کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک قانون کلی اور دائمی سنت الٰہیہ سے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے ”یہ اس بنا پر کہ تیرا پروردگار کبھی بھی شہروں اور بستیوں کے لوگوں کو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے غفلت کی حالت میں ہلاک نہیں کیا کرتا )مگر یہ کہ ان کی طرف انبیاء ورسل کو بھیجے اور انھیں ان کے برے اعمال کی برائی طی طرف متوجہ کرے اور جو کہنے کی باتیں ہیں وہ ان سے کہے(ذٰلِکَ اَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ رَّبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا غٰفِلُوۡنَ)۔ لفظ ”بظلم“ اس معنی میں بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کسی کو اس کے مظالم کی بنا پر غفلت کی حالت میں پیغمبروں کو بھیجنے سے پہلے عذاب اور سزا نہیں دیتا اور اس معنی میں بھی ہوسکتا ہے کہ خدا افراد غافل کو ظلم وستم سے عذاب سزا نہیں دیتا، کیوں کہ انھیں اس حالت میں سزا دینا ظلم وستم ہے اور خدا نود تعالی اس سے بالا وبرتر ہے وہ کسی پر ظلم وستم کرے ۔( پہلی صورت میں ”ظلم“ کا غافل ہے کافر ہے) ان کے سر انجام کا بعد کی آیت میں خلاصہ کرتے ہوئے یوں فرمایا گیا ہے: ان گروہوں میں سے ہر ایک نیکو کاروں وبدکار، فرمانبردار وقانون شکن، حق طلب وستمگر وہاں پر اپنے اعمال کے مطابق درجات ومراتب کے حامل ہوں گے اور تیرا پروردگار کبھی بھی ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے، بلکہ وہ سب کو جانتا ہے اور وہ ہر شخص کو اس کی لیاقت کے مطابق دے گا(وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُوۡنَ)۔ یہ آیت دوبارہ اس حقیقت کو تاکید کے ساتھ بیان کررہی ہے کہ تمام مراتب اور درجات اور درکات خود انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی اور چیز کا۔

133
6:133
وَرَبُّكَ ٱلۡغَنِيُّ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۚ إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢ بَعۡدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ ءَاخَرِينَ
اور تیرا پروردگار بے نیاز اور مہربان ہے (لہٰذا وہ کسی کے بارے میں ظلم و ستم نہیں کرتا بلکہ یہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتتے ہیں ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمہارے بعد تمہاری بجائے جو کچھ چاہے (اور جسے چاہے) تمہارا جانشین بنا دے جیسا کہ تمہیں دوسری اقوام کی نسل سے وجود میں لایا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

134
6:134
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَأٓتٖۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ
جو کچھ تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ آ کر رہے گا اور تم (خدا کو) عاجز و ناتواں نہیں کر سکتے۔(کہ اس کی عدالت کی سزا سے بچ کر بھاگ جاؤ)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

135
6:135
قُلۡ يَٰقَوۡمِ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنِّي عَامِلٞۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
کہہ دو اے قوم! جو کام (تم سے ہو سکتا ہے اور) تمہاری قدرت میں ہے کر گزرو۔ میں (بھی اپنے فریضہ پر) عمل کروں گا، لیکن بہت جلد تمہیں معلوم ہو جائے کہ کونسا شخص نیک انجام رکھتا ہے (اور کامیابی کس کے لئے ہے لیکن) یہ بات مسلم ہے کہ ظالم فلاح و نجات حاصل نہیں کریں گے۔

تیرا پروردگار بے نیاز بھی اور رحیم ومہربان بھی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

پہلی آیت درحقیقت اس پر ایک استدلال ہے جو گذشتہ آیات میں پروردگار کے ظلم نہ کرنے کے بارے میں بیان ہوا ہے۔ آیت کہتی ہے: تیرا پروردگار بے نیاز بھی ہ اور رحیم ومہربان بھی ہے ، اس بنا پر کوئی وجہ نہیں کہ کسی پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی روا رکھے کیوں کہ ظلم تو وہ کرتا ہے کہ جو نیازمند ہو یا سخت مزاج اور سنگدل ہو (وَ رَبُّکَ الۡغَنِیُّ ذُو الرَّحۡمَۃِ)۔ علاوہ ازایں اسے نہ تو تمھاری اطاعت کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے تمھارے گناہوں کا خوف ہے کیوں کہ” اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمھاری جگہ پر دوسرے لوگوں کو جنھیں وہ چاہے تمھارا جانشین بنادے جیسا کہ اس نے تمھیں ایسے انسانوں کی نسل میں پیدا کیا ہے جو تم سے بہت سی صفات میں مختلف تھے (اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفۡ مِنۡۢ بَعۡدِکُمۡ مَّا یَشَآءُ کَمَاۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ ذُرِّیَّۃِ قَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ )۔ اس بنا پر وہ بے نیاز بھی ہے اور مہربان بھی اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے، اس حالت میں اس کے بارے میں ظلم کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اور اس کی لامتناہی قدرت پر توجہ رکھتے ہوئے یہ بات واضح اور روشن ہے کہ” اس نے تم سے جو قیامت اور جزا وسزا کے بارے مین وعدہ کیا ہے وہ ہوکے رہے گا اور اس کی تھوڑی سی بھی خلاف ورزی نہیں ہو گی“ (اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ)۔ ”اورتم اس کی حکومت سے ہرگز باہر نہیں نکل سکتے اور اس کے پنجہٴ عدالت سے فرار نہیں کرسکتے“(وَّ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ)۔ اس کے بعد پیغمبرؐ کو حکم دیا گیا ہے: انھیں تہدید کرتے اور دھمکی دیتے ہوئے کہو کہ اے قوم! تم سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرگزرو، میں بھی وہ کام جس کا خدانے مجھے حکم دیاہے انجام دوں گا۔ مگر تمھیں بہت ہی جلد معلوم ہوجائے گا کہ نیک انجام اور آخری کامیابی کسے نصیب ہوتی ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ ظالم وستمگار کامیاب نہیں ہوں گے اور سعادت ونیک بختی کا منہ نہیں دیکھیں گے(قُلۡ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ تَکُوۡنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ)۔ یہاں ہم دوبارہ دیکھ رہے ہیں کہ ”کفر“ کی بجائے”ظلم“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کفر اور انکار حق ایک قسم کا واضح وآشکار ظلم ہے، اپنے اوپر بھی ظلم ہے اور معاشرے پر بھی ظلم ہے اور چونکہ ظلم جہان آفرینش کی عمومی عدالت کے برخلاف ہے لہٰذا آخر کار اسے شکست ہو گی۔

136
6:136
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلۡحَرۡثِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ نَصِيبٗا فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ
اور (مشرکین نے) ان چیزوں میں سے جو خدا نے پیدا کی ہیں (یعنی) زراعت اور چوپایوں میں سے کچھ حصہ خدا کے لئے (بھی) قرار دیا ہے اور انہوں نے یہ کہا کہ (ان کے گمان کے مطابق) یہ خدا کا مال ہے اور یہ ہمارے شرکاء (یعنی بتوں ) کا مال ہے۔ جو ان کے شرکاء کا مال تھا وہ تو خدا تک نہیں پہنچتا تھا لیکن جو خدا کا مال تھا وہ ان کے شرکاء تک پہنچ جاتا تھا۔وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔

محصولات کا ایک حصہ خدا کےلئے، ایک شرکاء کےلئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان کے دماغوں سے بت پرستی کے افکار کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مشرکین کے بیہودہ عقائد ورسموں اور آداب وعبادات کادوبارہ ذکر شروع کیا گیا ہے اور بیان رسا کے ذریعے ان کے بیہودہ ہونے کو واضح کیا گیا ہے۔ قرآن پہلے کہتا ہے: کفار مکہ اور تمام مشرکین اپنی زراعت اور چوپایوں میں سے ایک حصہ تو خدا کے لیے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لیے قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ حصہ تو خدا کا ہے اور یہ ہمارے شرکاء یعنی بتوں کا مال ہے (وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَ الۡاَنۡعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعۡمِہِمۡ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا) اگرچہ آیت میں صرف خدا کے حصہ کی طرف اشارہ ہوا ہے لیکن بعد کے جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک حصہ خدا کا اور ایک حصہ بتوں کا قرار دیتے تھے، روایات میں آیاہے کہ اس حصہ کو تو جسے وہ خدا کے لیے قرار دیتے تھے بچوں اور مہمانوں میں صرف کرتے اور اس سے اس کام کے لیے استفادہ کرتے تھے لیکن زراعت اور چوپایوں کاوہ حصہ جو وہ بتوں کے لیے قرار دیتے تھے بتوں اور بت خانہ کے خادموں اور متولیوں اور مراسم قربانی اور خود ان کے اپنے لیے مخصوص تھا۔(بحوالہ تفسیر المنار، جلد ہشتم ، صفحہ ۱۲۲۔ ) ”شرکائنا“ (ہمارے شریک) کی تعبیر بتوں کے لیے اس بنا پر تھی کہ وہ انھیں اپنے اموال ، سرمائے اور زندگی میں شریک سمجھتے تھے۔ ”مما ذراء“(اس میں سے جو خدا نے خلق کیا ہے) کی تعبیر درحقیقت ان کے عقیدہ کے ابطال کی طرف اشارہ ہے کیوں کہ یہ تمام اموال سب کے سب خدا کی مخلوق تھے تو پھر ان میں سے ایک حصہ خدا کے لیے اور ایک حصہ بتوں کے لیے کیسے مقرر کرتے تھے۔ اس کے بعد اس بارے میں ان کے ایک عجیب وغریب فیصلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ حصہ جو انھوں نے بتوں کے لیے مقرر کیا تھا وہ تو ہر گز خدا کو نہیں مل سکتا تھا (اور خدا کے نام پر کسی کو نہیں دیا جاسکتا تھا) لیکن وہ حصہ جو انھوں نے خدا کے لیے قرار دیا تھا وہ بتوں کو پہنچ جاتا تھا فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمۡ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ مَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِہِمۡ)۔ اس بارے میں کہ اس جملے سے کیا مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن تقریباً وہ سب کے سب ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب کسی حادثہ کی وجہ سے زراعت یا چوپایوں میں سے مقرر کیے ہوئے خدا کے سہم کا کچھ حصہ خراب ہوجاتا تھا اور نابود ہوجاتا تھاتو وہ کہتے تھے کہ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے خدا بے نیاز ہے لیکن اگر بتوں کے حصہ میں سے کچھ ضائع ہوجاتا تو سہم خدا کو اس کی جگہ قرار دے لیتے تھے اور کہتے تھے کہ بتوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی طرح اگر اس کھیت کا پانی جو خدا کے حصہ میں تھا بتوں کے حصہ والے میں چلاجاتا تھا تو کہتے تھے کہ کوئی حرج نہیں ہے، خدا تو بے نیاز ہے، لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہوجاتاتو اس کو روک دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بتوں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ آیت کے آخر میں خداتعالی ایک مختصر سے جملے کے ذریعے سے اس بیہودہ عقیدے کو جرم قرار دے کر اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے اور کہتا ہے:یہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں(سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ)۔ اس بات کے علاوہ کہ بت پرستی خود ایک فاسد اور بے اساس چیزہے ان کے فعل کی برائی کے کچھ اور پہلو بھی ہیں: ۱۔باوجود اس کے کہ تمام چیزیں خدا کی مخلوق ہیں اور اس کی مسلم ملکیت ہے او تمام موجوات کا حاکم ومدبر ومحافظ وہی ہے ، وہ اس میں سے صرف ایک ہی حصہ کو خدا کے ساتھ مخصوص قرار دیتے تھے، گویا اصلی مالک وہ خود تھے، لہٰذا تقسیم کا حق بھی صرف ان ہی کو حاصل تھا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ”مما ذراء“ کا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے) ۔ ۲۔ وہ اس تقسیم میں بتوں کی طرف داری کو مقدم رکھتے تھے لہٰذا ہر وہ نقصان جو خدا کے حصہ میں واقع ہوتا تھا اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن جو نقصان بتوں کے حصہ میں ہوجاتا اس کی خدا کے حصہ سے تلافی کرلیا کرتے تھے اور خدا کے حصہ میں سے لے کر بتوں کو دے دیتے ، آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہوا ہے، اور یہ بتوں ک لیے خدا کی نسبت ایک قسم کی برتری اور امتیاز کا اظہار تھا۔ ۳ ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بتوں کے حصہ کے لیے ایک خاص اہمیت کے قائل تھے ، لہٰذا ان کے حصہ میں سے متولیان، بتوں کے خادم اور خود بت پرست کھاتے تھے اور خدا کے حصہ کو صرف بچوں اورمہمانوں کو دیتے تھے، قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موٹے تازے گوسفند اور اچھے قسم کا اناج بتوں کا مال تھا تاکہ بقولے ”حاتم کے بعد پیٹ بھر کر کھاسکیں“۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ تقسیم کے سلسلے میں خدا کے لیے بتوں جتنی قدرت وقیمت کے بھی قائل نہیں تھے، اس سے بڑھ کر قبیح اور زیادہ سنگین اور کیا فیصلہ ہوسکتا ہے کہ انسان پتھر یا لکڑی کے ایک بے قدروقیمت ٹکڑے کو عالم ہستی کے خالق ومالک سے بلند تر خیال کرے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی انحطاط فکری تصور کیا جاسکتا ہے۔

137
6:137
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ قَتۡلَ أَوۡلَٰدِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوهُمۡ وَلِيَلۡبِسُواْ عَلَيۡهِمۡ دِينَهُمۡۖ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ
اور اسی طرح ان کے شرکاء (یعنی بتوں ) نے ان کی اولاد کے قتل کو ان کی نظروں میں پسندیدہ کر رکھا تھا (وہ اپنے بچوں کو بتوں پر قربان کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے) اور اس کام کا انجام یہ ہوا کہ بتوں نے انہیں ہلاکت میں ڈال دیا اور ان کے دین کو دگرگوں کر دیا اور اگر خدا (جبراً) چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے (کیونکہ خدا جبراً ایسا کرنے سے روک سکتا تھا لیکن جبر کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اس بناء پر انہیں اور ان کی تہمتوں کو بھی چھوڑ دو (اور ان کے اعمال کی پرواہ نہ کرو)۔

بت پرستوں کے شرکاء نے ان کےلئے اولاد کے قتل کو مزین بنا دیا

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

قرآن اس آیت میں بت پرستوں کی ایک بدکاری اور ان کے شرم ناک جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جس طرح خدا اور بتوں کے بارے میں ان کی تقسیم ان کی نظروں میں جچتی تھی اور اس برے، بیہودہ اور مضحکہ خیز عمل کو وہ پسندیدہ خیال کرتے تھے، اسی طرح ان کے شرکاء نے اولاد کے قتل کو بہت سے بت پرستوں کی نگاہ میں پسندیدہ بنا رکھا تھا یہان تک کہ وہ اپنے بچوں کو قتل کرنا ایک قسم کا افتخار یا عبادت شمار کرت تھے(وَ کَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیۡرٍ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ قَتۡلَ اَوۡلَادِہِمۡ شُرَکَآؤُہُمۡ)۔ یہاں ”شرکاء “سے مراد بت ہیں کہ جن کی خاطر وہ بعض اوقات اپنے بیٹوں کو بھی قربان کردیتے تھے یا نذرکرتے تھے کہ اگر انھیں بیٹا نصیب ہوگا تو وہ اسے بت کے لیے قربان کریں گے ۔ جیسا کہ قدیم بت پرستوں کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے اور اس بنا پر بتوں کی طرف ”زینت دینے“ کی نسبت اس سبب سے ہے کیوں کہ بتوں کے ساتھ تعلق اور عشق انھیں اس مجرمانہ عمل پر آمادہ کرتا تھا۔ اس تفسیر کی رو سے مذکورہ بالا آیت میں قتل کرنے کا بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا یا فقر وفاقہ کے خوف سے بیٹوں کو قتل کرنے کے مسئلہ کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ بتوں کے وسیلہ سے اس جرم کی تزئین سے مراد یہ ہو کہ بت کدوں کے خدام اور متولی لوگوں کو یہ کام کرنے کا شوق دلاتے تھے اور خود کو بتوں کی زبان سمجھتے تھے کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب اہم سفروں اور دوسروے کاموں کے انجام دینے کے لیے ”ھبل“ (ان کا بڑا بت تھا) سے اجازت لیتے تھے ، ان کے اجازت لینے کا طریقہ یہ تھا کہ تیر کی وہ لکڑیاں جو ایک مخصوص تھیلے میں ”ھبل“ کے پہلو میں ہوا کرتی تھیں او ان میں سے بعض کے اوپر ”افعل“ (یہ کام انجام دو) اور بعض کے اوپر ”لاتفعل“ (یہ کام انجام نہ دو) لکھا ہوا ہوتا تھا، وہ تھیلے کو ہلاتے تھے اور ان میں سے ایک تیر کی لکڑی نکال لیتے تھے اور جو کچھ اس کے اوپر لکھا ہوا ہوتا تھا، اسے وہ ”ھبل“ کا پیغام سمجھتے تھے اور یہ چیزاس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اس طریقے سے بتوں کا منشاء معلوم کرنا چاہتے تھے اور کچھ بعید نہیں کہ بت کے لیے قربانی کا مسئلہ بھی خدام کے ذریعہ بت کے ایک پیغام کے طور پر متعارف ہوا ہو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ بیٹیوں کا زندہ درگور کرنا ان لوگوں کے درمیان کہ جو تواریخ کے بیان کے مطابق بدنامی اور ننگ عار کا داغ مٹانے کے نام پر قبیلہ بنی تمیم کے درمیان رائج تھا، وہ بت کے پیغام کے طور پر ہی متعارف ہوا ہے ، کیوں کہ تاریخ میں ہے کہ نعمان بن منذر نے عرب کی ایک جماعت پر حملہ کیا او ر ان کی عورتوں کو اسیر کرلیا اور ان کے درمیان ”قیس بن عاصم“ کی بیٹی بھی تھی، اس کے بعد ان کے درمیان صلح ہوگئی اور ہر عورت اپنے قبیلہ کی طرف پلٹ آئی سوائے قیس کی بیٹی کے کہ ا س نے اس بات کو ترجیح دی کہ وہ دشمن کی قوم کے درمیان رہ جائے اور شاید ان کے کسی جوان سے شادی کرلے، یہ مطلب قیس پر گراں گزرا اور اس نے بتوں کے نام کی قسم کھائی کہ جب میری دوسری لڑکی پیدا ہوگی تو میں اسے زندہ درگور کردوں گا،کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ یہ عمل بطور سنت ان کے درمیان رائج ہوگیا کہ انھوں ناموس کے دفاع کے نام پر ایک بہت بڑے جرم یعنی بے گناہ اولاد کو قت کرنے کا ارتکاب کرنا شروع کردیا۔(بعض خیال کرتے ہیں کہ لفظ اولاد زیر نظر آیت میں اس تفسیر کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہئے کہ لفظ اولاد ایک وسیع مععنی رکھتی ہے جو بیٹا اور بیٹی دونوں پر بولا جاتا ہے، جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۲۳ میں ہے: <وَالْوَالِدَاتُ یُرضِعْنَ اَولَادَھُنَّ حَولَینِ کَامِلَینِ(مائیں اپنی اولا کو مکمل دو سال دودھ پلائیں گی)۔ اس بنا پر ممکن ہے کہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا بھی زیر نظر آیت میں داخل ہو ۔ ایک اور احتمال بھی زیر بحث آیت کی تفسیر میں نظر آتا ہے، اگرچہ مفسرین نے اسے ذکر نہیں کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب بتوں کے لیے اس قسم کی اہمیت کے قائل تھے کہ اپنے نفیس اور عمدہ اموال تو بتوں اور ان کے طاقتور اور مالدار متولیوں اور خدام پر خرچ کردیا کرتے تھے، اور خود فقیر اور تنگ دست ہوجاتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات بھوک اور فقر وفاقہ کی وجہ سے اپنے بچوں کو ذبح کردیتے تھے، بتوں کے ساتھ ان کے اس عشق نے ایسے برے عمل ان کی نظروں میں مزّین کردیا تھا ۔ لیکن پہلی تفسیر یعنی بتوں کے لیے اولاد کو قربان کرنا آیت کے متن کے ساتھ سب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اس بعد قرآن کہتا ہے: اس قسم کے قبیح اور بداعمال کا نتیجہ یہ تھا کہ بتوں کے خدام ، مشرکین کو ہلاکت میں ڈال دیں، اور دین وآئین حق کو ان پر مشتبہ کردے اور انھیں ایک پاک وپاکیزہ دین تک پہنچنے سے محروم کردے(لِیُرۡدُوۡہُمۡ وَ لِیَلۡبِسُوۡا عَلَیۡہِمۡ دِیۡنَہُمۡ)۔ قرآن کہتا ہے :ان تمام باتوں کے باوجود اگر خدا چاہتا تو جبرا انھیں اس کام سے روک دیتا، مگر جبر کرنا سنت الٰہی کے برخلاف ہے، خدا چاہتا ہے کہ بندے آزاد رہیں، تاکہ تربیت اور تکامل وارتقا کی راہ ہموار ہو، کیوں کہ جبر میں نہ تربیت ہے نہ تکامل وارتقا(وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا فَعَلُوۡہُ) اور آخر میں فرماتا ہے: اب جب کہ یہ حال ہے کہ وہ اس قسم کے کے بیہودہ ، پست اور شرم ناک اعمال میں غوطہ زن ہیں یہاں تک کہ اس کی قباحت کو بھی نہیں سمجھتے اور سب سے بد تر یہ کہ وہ کبھی ایسے خدا کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں لہٰذا تم انھیں اور ان کی تہمتوں کو چھوڑ دو اور آمادہ ومستعد دلوں کی تربیت کرو(فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ)۔

138
6:138
وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
اور انہوں نے کہا کہ چوپاؤں اور زراعت کا یہ حصہ (جو بتوں کے ساتھ مخصوص ہے یہ سب کے لئے) ممنوع ہے اور سوائے ان لوگوں کے جنہیں ہم چاہیں۔ان کے گمان کے مطابق، اس سے کسی کو نہیں کھانا چاہئے اور (وہ یہ کہتے تھے کہ یہ) ایسے چوپائے ہیں کہ جن پر سوار ہونا حرام قرار دے دیا گیا ہے اور وہ چوپائے جن پر خدا کا نام نہیں لیتے تھے اور خدا پر جھوٹ بولتے تھے (اور یہ کہتے تھے کہ یہ احکام خدا کی طرف سے ہیں ) عنقریب ان کے افتراء کی سزا انہیں دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 139 کے تحت ملاحظہ کریں۔

139
6:139
وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
اور انہوں نے کہا کہ جو کچھ ان حیوانات کے شکم میں (جنین اور بچے میں سے) موجود ہے وہ تو ہمارے مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ ہماری بیویوں پر حرام ہے لیکن اگر وہ مردہ ہو (یعنی مردہ پیدا ہو) تو پھر سب اس میں شریک ہیں اور عنقریب خدا) اس توصیف (اور جھوٹے احکام) کی سزا انہیں دے گا،وہ حکیم و دانا ہے۔

بت پرستوں کے بیہودہ احکام

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیات میں بت پرستوں کے بیہودہ احکام کے کچھ حصوں کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو ان کی کوتاہ فکری کی حکایت وترجمانی کرتے ہیں اور گذشتہ آیات کی تکمیل کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ بت پرست کہتے تھے کہ چوپایوں اور زراعت کا یہ حصہ جو بتوں کے ساتھ مخصوص ہے اور خاص انھیں کا حصہ ہے کلی طور پ سب کے لیے ممنوع ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو ہم چاہیں، ان کے خیال کے مطابق اسی گروہ کے لیے حلال تھا دوسروں کے لیے نہیں (وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنۡعَامٌ وَّ حَرۡثٌ حِجۡرٌ ٭ۖ لَّا یَطۡعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِہِمۡ لاَیَطْعَمُہَا إِلاَّ مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِہِمْ)۔ ان کی اس سے مراد وہی بت اور بت خانہ کے متولی اورخدام تھے، صرف وہ یہی گروہ تھا جو ان کے خیال کے مطابق بتوں کے حصہ میں سے کھانے کا حق رکھتے تھے ۔ اس بیان سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آیت کا یہ حصہ حقیقت میں اس حصہ کے مصرف کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے ، جو انھوں نے زراعت اور چوپایوں میں سے بتوں کے لیے مقرر کیا تھا جس کی تفسیر گذشتہ آیات میں گزرچکی ہے۔ لفظ” حجر“ (بروزن”شعر“)اصل میں ممنوع قرار دینے کے معنی میں ہے اور جیسا کہ راغب نے کتاب مفردات میں کہا ہے بعید نہیں کہ” حجارة “ کے مادہ سے پتھر کے معنی میں لیا گیا ہو کیوں کہ جب وہ یہ چاہتے تھے کہ کسی احاطے میں داخلہ ممنوع قرا ردیں تو اس کے گرد پتھر چن دیتے تھے اور یہ جو ”حجر اسماعیل“ پر اس لفظ کا اطلاق ہوا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ایک مخصوص پتھر کی دیوار کے ذریعے اسے مسجد الحرام کے دوسرے حصوں سے الگ کیا گیا ہے، اسی مناسبت سے عقل کو بھی کبھی کبھی ”حجر“ کہا جاتا ہے ، کیوں کہ وہ انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے، اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی نگرانی اور حمایت میں آجائے تو کہتے ہیں کہ یہ اس کی حجر (حفاظت) میں ہے ، اور ”محجور“ اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو اپنے اموال میں تصرف کرنے سے رکاہوا ہے ۔ اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہئے کہ اوپر والی آیت میں ”حجر“ وصفی معنی رکھتا۔ اس کے بعد دوسری چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جسے انھوں نے حرام کررکھا تھا اور فرمایا گیا ہے: وہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ کچھ جانور ایسے ہیں کہ جن پر سوار ہونا حرام ہے ( وَاٴَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُورُہَا)۔ اور ظاہرا یہ وہی جانور تھے کہ جن کی تفسیر سورہٴ مائدہ کی آیہ ۱۰۳ میں ”سائبہ“ ”بحیرہ“ اور” حام“کے عنوان سے گزر چکی ہے( مزید معلومات کے لیے مذکورہ آیت کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر کا مطالعہ کریں) ۔ اس کے بعد ان کے ناروا حکام کے تیسرے حصے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کچھ جانوروں پر خدا کا نام نہیں لیتے تھے (وَ اَنۡعَامٌ لَّا یَذۡکُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا)۔ یہ جملہ ہوسکتا ہے ایسے جانوروں کی طرف اشارہ ہو جن کو ذبح کرتے وقت صرف بت کا نام لیتے تھے یا اس سے مراد وہ جانور ہوں کہ جن پر حج کے لیے سوار ہونا انھوں نے حرام قرار دیاتھا، جیسا کہ تفسیر مجمع البیان، تفسیر کبیر المنار اور قرطبی میں بعض مفسرین سے نقل ہوا ہے ان دونوں صورتوں میں یہ ایک بے دلیل اور بیہودہ حکم تھا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ان بیہودہ احکام پر قناعت نہیں کرتے تے تھے بلکہ خدا پر افتراء باندھتے تھے اور ان کی خدا کی طرف نسبت دیتے تھے (افۡتِرَآءً عَلَیۡہِ)۔ آیت کے آخر میں ان بناوٹی احکام کے ذکر کے بعد قرآن کہتا ہے: خدا عنقریب ان افترات کے بدلے میں سزا اور عذاب دے گا(سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ)۔ ہاں! جب ایک انسان یہ چاہے کہ وہ اپنی ناقص فکر وعقل ذریعے کوئی قانوں بنالے تو عین ممکن ہے کہ ہرگروہ اپنی ہواوہوس سے کچھ احکام وقوانین بناڈالے اور خدا کی نعمتوں کو بلا وجہ اپنے اوپر حرام قرار دے لے یا قبےح اور غلط کاموں کو اپنے لیے حلال قرار دے لے، یہی وجہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ قانوںن کا واضح کرنا صرف خدا کا کام ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر کام کی مصلحت سے آگاہ ہے اور ہر قسم کی ہواوہوس سے دور ہے۔ بعد والی آیت میں ان کے ایک اور بیہودہ حکم کی طرف جو جانوروں کے گوشت کے بارے میں ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھوں کہا ہے کہ وہ جنین (اور بچے) جو ان جانوروں کے شکم میں ہے وہ ہمارے مردوں کے ساتھ مخصوص ہےں اور ہماری بیویوں پر حرام ہے البتہ اگر وہ مردہ پیدا ہوں تو پھر سب اس میں شریک ہیں(وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزۡوَاجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمۡ فِیۡہِ شُرَکَآءُ)۔ اس بات پر توجہ رہے کہ ”ھذہ الانعام“ سے مراد وہی جانور ہیں جن کی طف گذشتہ آیت میں ازرہ ہوا ہے ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ”ما فی بطون ہذہ الانعام“ ( جو کچھ ان جانوروں کے شکم میں ہے) کی عبارت ان جانوروں کے دودھ کے بارے میں بھی ہے لیکن ”وان یکن میتة“(اگر مردہ ہوں) کے جملے پر توجہ کرتے ہوئے واضح ہوجاتا ہے کہ آیت جنین (شکم مادر میں بچہ) سے بحث کررہی ہے کہ اگر وہ زندہ پیدا ہو تو اسے صرف مردوں کے ساتھ مخصوص جانتے تھے اور اگر مردہ پیدا ہوجاتا تھا کہ جو ان کے لیے زیادہ باعث رغبت ومیل نہ ہوتا تھا تو پھر سب کو اس میں مساوی جانتے تھے ۔ اس حکم کا اول تو فلسفہ اور منطقی دلیل ہی نہیں اور دوسرے مردہ پیدا ہونے والے جنین کے بارے میں بہت ہی برا اور چبھنے والا تھا کیوں کہ اس قسم کے جانور کا گوشت تو اکثر اوقات خراب اور مضر ہوتا ہے اور تیسرے یہ کہ ایک قسم کی مردوں اور عورتوں میں واضح تفریق تھی کیوں کہ جو چیز اچھی تھی وہ تو صرف مردوں کے ساتھ مخصوص تھی اور جو چیز بری تھی اس میں سے عورتوں کو بھی حصہ دیا جاتا تھا۔ قرآن اس جاہلانہ ذکر کرنے کے بعد مطلب کو اس جملے کے ساتھ ختم کرتا ہے:عنقریب خدا نے انھیں ان کی اس قسم کی توصیفات کی سزا دے گا (سَیَجۡزِیۡہِمۡ وَصۡفَہُمۡ)۔ ”وصف“ کی تعبیر ایسی توصیف کی طرف اشارہ ہے کہ جو وہ خدا کے لیے کرتے تھے اور اس قسم کی غذاؤں کی حرمت کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے، اگرچہ اس سے مرا د ووہ صفت اور حالت ہے کہ جو تکرار گناہ کے اثر اسے گنہگار شخص کو عارض ہوتی ہے اور اسے سزا وعذاب کا مستحق بنادیتی ہے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ہے: وہ حکیم اور دانا ہے (اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ)۔ ان کے اعمال وگفتار اور ناروا تہمتوں سے بھی باخبر ہے، اور حساب ہی ساتھ انھیں سزا بھی دے گا۔

140
6:140
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓاْ أَوۡلَٰدَهُمۡ سَفَهَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفۡتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِۚ قَدۡ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ
یقیناً جنہوں نے اپنی اولاد کو حماقت و نادانی کی بناء پر قتل کردیا انہوں نے نقصان اٹھایا ہے،اور جو خدا نے انہیں رزق دے رکھا تھا اسے اپنے اوپر حرام دے لیا اور خدا پر انہوں نے افتراء باندھا ہے وہ گمراہ ہو گئے ہیں اور (وہ ہر گز) ہدایت نہیں پائیں گے۔

زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ چند آیات میں زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام اور قبیح اور شرمناک رسموں سے متعلق گفتگو تھی منجملہ ان کے اپنی اولاد کو بتوں کی قربانی کے طور پر قتل کرنا ، اپنے قبیلہ اور خاندان کی حیثیت و عزت کو محفوظ رکھنے کے نام پر اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا اور اسی طرح کچھ حلال نعمتوں کے حرام کرلینا تھا، اس آیت میں بڑی سختی کے ساتھ ان تمام اعمال وہ احکام کو جرم قرار دیتے ہوئے سات مختلف تعبیروں کے ساتھ جو مختصر جملوں میں ہے لیکن وہ بہت ہی رسا اور جاذب توجہ ہے ، ان کی وضع وکیفیت کو واضح وروشن کیا گیا ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ کہ جنھوں نے اپنی اولاد کو حماقت ، بیوقوفی اور جہالت کی بنا پر قتل کیا ہے ، انھوں نے نقصان اور خسارہ اٹھایا ہے وہ انسانی اور اخلاقی نظر سے بھی اور احساس کی نظر سے بھی اور اجتماعی ومعاشرتی لحاظ سے بھی خسارہ اور نقصان میں گرفتار ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ اور سب سے بڑھ کر انھوں نے دوسرے جہان میں روحانی نقصان اٹھایا ہے(قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَہُمۡ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ)۔ اس جملے میں ان کا یہ عمل اولا ایک قسم کا خسارہ اور نقصان اور اس کے بعد حماقت کم عقلی اور بعد میں جاہلانہ کام کے طور پر متعارف ہوا ہے ان تینوں تعبیرات میں سے ہر ایک تنہا ان کے عمل کی برائی کے تعارف کے لیے کافی ہے ، کونسی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے اور کیا یہ حماقت اور بے وقوفی کی انتہا نہیں ہے کہ وہ اپنے اس عمل پر شرم نہ کریں بلکہ اس پر ایک قسم کا فخر کرے اور اسے عبادت شمار کرے، کونسا علم ودانش اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انسان ایسا عمل ایک سنت کے طور پر یا اپنے معاشرے میں ایک قانون کے طور پر قبول کرے۔ ہ وہ مقام ہے کہ جہاں ابن عباس کی گفتگو یاد آرہی ہے کہ جو کہا کرتے تھے : جو شخص زمانہ جاہلیت کی قوموں کی پسماندگی کی میزان کو جاننا چاہے تو وہ سورہٴ انعام کی آیات (یعنی زیر بحث آیات ) کو پڑھے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: انھوں نے اس چیز جو خدا نے انھیں روزی کے طور پر دی ہوئی تھی اور ان کے لیے اسے مباح وحلال قرار دیا تھا اپنے اوپر حرام قرار دے لیااور خدا پر انھوں نے یہ افتراء باندھا کہ خدا نے انھیں حرام کیا ہے (وَّ حَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افۡتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ)۔ اس جملہ میں دو اور تعبیروں کے ذریعے ان کے اعمال کو جرم قرار دیا گیا ہے کیون اول تو انھوں نے اس نعمت کو جو خدا نے انھیں بطور روزی دے رکھے تھی یہاں تک کہ وہ ان کی حیات کی بقا اور زندگی کے برقرار رہنے کے لیے بھی ضروری تھی، اسے اپنے اوپر حرام کرلیا اور خدا کے قانون کو پاؤں تلے روند ڈالا اور دوسرے خدا پر افتراء باندھا کہ اس نے یہ حکم دیا ہے، حالانکہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں تھا۔ آیت کے آخر میں دو اور تعبیرات کے ذریعے انھیں مجرم قرار دیا گیا ہے پہلے کہا گیا ہے :وہ یقینا گمراہ ہوگئے( قَدْ ضَلُّوا)۔ اس کے بعد مزید کہا گیا ہے:وہ کبھی بھی راہ ہدایت پر نہیں تھے(قَدۡ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ)۔

141
6:141
۞وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ جَنَّـٰتٖ مَّعۡرُوشَٰتٖ وَغَيۡرَ مَعۡرُوشَٰتٖ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
(وہ خدا) وہ ہے کہ جس نے معروش با غات اور غیر معروش باغ پیدا کئے،اسی طرح سے کھجور کے نخلستان اور طرح طرح کی کھیتیاں پیدا کیں جو میوہ اور مزے کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں (نیز) زیتون اور انار کے درخت پیدا کئے جو ایک جہت سے باہم مشابہ ہیں اور دوسری جہت سے مختلف ہیں ان کے میووں کو جب ان میں پھل آئیں کھاؤ اور ان کا حق محصول لینے کے وقت ادا کر دو ،اسراف نہ کرو کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

توحید کا ایک عظیم درس

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت شریفہ میں چند امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک دراصل دوسرے کا نتیجہ ہے ، پہلے ارشاد ہوتا ہے :- اللہ وهی ذات ہے جسے انواع و اقسام کے باغات ، کھیتیاں اور طرح طرح کے درخت پیدا کیے جن میں سے بعض لکڑی کے مچانوں پر پھیلتے ہیں اور اپنے دل آویز منظر سے نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنے لذیذ و بابرکت میووں سے انسان کو شیریں کام کرتے ہیں ۔ بعض درخت ایسے ہیں جنہیں مچان باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ اپنے پیروں پرکھڑے ہو کر انسانوں کے سر پر اپنا سایہ بھی ڈالتے ہیں اور اپنے طرح طرح کے میووں سے انسان کی خدمت کرتے ہیں۔ (وهوالذي انشأ جنات معروشات وغيرمعروشات) مفسرین نے کلمہ "معروش" و "غیرمعروش" کے سلسلے میں تین احتمالات ذکر کیے ہیں :- اول :- اس کی طرف سطور بالا میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی ایسے درخت جو اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکتے بلکہ ان کو مچان وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے ، دوسرے وہ درخت جو بغیر مچان کی احتیاج کے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں (کیونکہ "عرش" کے معنی لغت میں پھیلانے اور ہر پھیلی ہوئی چیز کے ہیں، اسی بناء پر چھت یا اپنے پایوں کے تخت کو بھی عرش کہا جاتا ہے)۔ دوم :- عروش سے مراد گھریلو درخت ہیں جن کی دیوار وغیرہ سے باغوں میں حفاظت کی جاتی ہے اور غیر معروش سے مراد جنگلی اور کوہستانی درخت ہیں ۔ سوم :- معروش ایسا درخت ہے جو پیروں پر کھڑا ہو ، یا زمین پر اٹھا ہوا ہو جبکہ غیرمعروش وہ درخت ہے جو زمین پر بچھ کر پھیلتا ہے۔ لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں ۔ شاید "معروشات" کا تذکرہ آغاز سخن میں اس طرح کے درختوں کی عجیب و حیرت انگیز ساخت کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر ایک مختصر نظر انگور کی بیل ، اس کے تنے اور اس کی پیچدار شاخوں پر کی جائے جو مخصوص علابوں کے ذریعے اپنے کو اطراف کے سہاروں میں جکڑ لیتے ہیں تاکہ اپنی کمر کو سیدھا کرسکے تو اس سے ہمارے دعوے کی تائید ہوتی ہے۔ بعد ازاں دو طرح کے باغوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : کہ اس طرح کھجور کے درخت اور کھیتیاں پیدا کیں۔ (والنخل والزوع)۔ ان دو کا ذکر خاص طور سے اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں انسانی زندگی اور خوراک میں شامل ہیں (یہ توجہ رہے کہ جنات باغات کو بھی کہتے ہیں اور زراعت سے ڈھکی ہوئی زمینوں کو بھی کہتے ہیں)۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوا : یہ درخت میوہ اور ذائقے کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں ۔ یعنی باوجود اس کے کہ یہ ایک ہی زمین سے گئے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک الگ الگ مزه ، خوشبو اور خاصیت کا حامل ہے جو دوسرے درختوں میں نہیں پائے جاتے (مختلفًا اكله)۔ اس موضوع سے متعلق روایات کو صاحب وسائل نے دیکھو وسائل الشیعہ کتاب زکوة ، ابواب زکوة باب 13 - نیز بہیقی نے بھی لکھا ہے۔ دیکھو کتاب سنن جلد 4 ص 132 اس کے بعد دوسرے دو قسم کے میووں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو غیرمعمولی مفید اور حیات بخش ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ، اسی طرح سے زیتون اور انار ہیں (والزيتون والرمان). ان دو کا انتخاب بظاہر اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ دو درخت اگرچہ ظاہری نظر میں ایک دوسرے سے مشابہت ( اکل (باضم الف ، وسکون یا ضم کاف) اس چیز کو کہتے ہیں جو کھائی جائے (اس کی اصل اکل ہے جس کے معنی کھانے کے ہیں)۔ رکھتے ہیں لیکن میوہ اور غذائی خاصیت کی رو سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ لہذا بغیرکسی وقفہ کے ارشاد ہوتا ہے :-یہ دونوں ایک دوسرے سے مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی متشابهًا وغير متشابه ان تمام طرح طرح کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد پرور دگار عالم فرماتا ہے :- جب ان کے میوے تیار ہوجائیں تو ان میں سے تناول کرو لیکن بھولنا نہیں کہ میوہ چنتے وقت ان کے حق کو ادا کردینا (كلوا من ثمرهآ اتواحقه ، يوم حصارًا)۔ آخرمیں خدا تعالی یہ حکم دیا ہے اور اسراف نہ کرتا کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (ولا تسرفوا انه لا يحب المسرفين)۔ "اسراف" کے معنی ہیں حد اعتدال سے متجاوز ہونا. اس لفظ سے ہو سکتا ہے کھانے میں اسراف یا بخشنے میں طرف اشارہ ہو ۔ کیونکہ بعض لوگ اتنے کھلے دل کے ہیں کہ اپنا مال ادھر ادھرلٹا دیتے ہیں اور اپنے تئیں اور اپنے بچوں کو مردم کر دیتے ہیں۔

چند اہم نکات 1- اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط

اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط اس سورہ کی گزشتہ آیات میں بت پرستوں کے خرافاتی احکام و رسوم کے متعلق گفتگو کی گئی تھی کہ وہ لوگ اپنی زراعت اور چوپایوں میں سے خدا کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان حصتوں کو خاص طریقے سے طریقے صرف کرنا چاہیئے۔ نیز بعض چوپایوں پر سواری کو بھی حرام جانتے تھے اور اپنے بچوں کو بعض بڑوں کے لیے قربان کر دیتے تھے۔ آئہ مذکورہ بالا اور وہ آیت جو بعد میں آنے والی آیت ہے درحقیقت ان تمام خرافی احکام کا جواب ہے کیونکہ اس میں صاف طور پر کہا گیا ہے :- ان تمام نعمتوں کا خالق خدا ہے ، وہی ہے جس نے تمام درختوں ، چوپایوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اسراف نہ کرو ۔ بنابریں اس کے علاوہکسی اور کو یہ حق نہیں پہنچتا یا کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے۔

2- "اذا اثمر"

جس وقت میوہ دے) اس کا ذکر لفظ "ثمره" کے بعد آیا ہے۔ یہ کیا مطلب بیان کرتا ہے؟ مفسرین نے اس بارے میں گفتگو کی ہے لیکن ظاہرًا اس سے یہ غرض ہے کہ جونہی درختوں پر میوہ اور زراعت میں خوشے آشکار ہوجائیں تو ان سے فائدہ اٹھانا مباح اور جائز ہے اگرچہ ان کا حق ادا نہ کیا گیا ہو اور یہ حق ؎2 محصول کاٹنے کے دن (یوم الحصاد) ادا کرنا چاہیئے۔ (غور کیجئے گا) اس بارے میں اسی سورہ کی آیت 99 کے ذیل میں ایک توضیع گزرچکی ہے ، ملاحظہ کیجئے ۔ ؎ اس موضوع سے متعلق روایات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب وسائل الشیعہ ، کتاب زکوة، ابواب زکوة الفلات باب کراہتہ الحصاد و الجذاذ ..... بالیل (جلد 6 ص 136 اس حق سے کیا مراد ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے. (مترجم)۔

3- یہ حق کیا ہے

جسے "یوم الحصاد" پر ادا کرنا چاہیے اور اس سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہې زکوة واجب ہے یعنی 1/10 اور 1/20 لیکن ایک بات پر نظر کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اور زکوة کا حکم ہجرت کے دوسرے سال با بعد ازاں مدینہ میں نازل ہوا، مذکورہ خیال بعید معلوم ہوتا ہے۔ بہت سی روایات جو اہل بیت طاہرین علیہم اسلام سے ہم تک پہنچی ہیں ، اسی طرح اہل سنت کی بھی مستعدد روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت زکوة کے علاوہ ہے اور اس سے مراد وہ غلہ یا میوہ ہے جو محصول لیتے وقت جو مستحقین موجود ہوں انہیں دینا چاہیے اور اس کی کوئی معین مقدار یا نصاب نہیں ہے۔ ؎1 بنابریں آیا یہ حکم واجب ہے یا مستحب بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ واجب ہے جو تشریع زکوة سے قبل مسلمانوں پر واجب تھا لیکن جب زکوة کی آیت نازل ہوئی تو یکم منسوخ ہوگیا اور زکوة کا حکم اپنی تمام تفاصیل و کیفیات کے ساتھ اس کی جگہ مقرر ہوگیا۔ لیکن روایات اہل بیت سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ہے اور ایک مستجبی حکم کے طور پر اب بھی اسی طرح باقی ہے۔

4- کلمہ "یوم"

اس تعبیر سے ممکن ہے اس امر کی طرف اشارہ مقصود ہو کہ میدہ توڑنے اور زراعت کا حصول لینے کا کام بہتر ہے کہ دن کے وقت انجام پائے چاہے اس طرح صاحبان احتیاج اکٹھا کیوں نہ ہو جائیں۔ یہ نہ ہو کہ بعض بخیل افراد اس خوف سے کہ لوگوں کو پتہ نہ چل جائے رات کے وقت یہ کام کریں ۔ جو احادیث اہل بیتؑ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں ان سے بھی اس بات کی تاکید و تائید ہوتی ہے ۔

142
6:142
وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ حَمُولَةٗ وَفَرۡشٗاۚ كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ
(یہ خدا وہ ہے کہ جس نے) چوپایوں میں سے تمہارے لئے بوجھ اٹھانے والے حیوانات اور چھوٹے حیوانات پیدا کئے۔اس نے تمہیں جو روزی عطا کی ہے اس سے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 144 کے تحت ملاحظہ کریں۔

143
6:143
ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۖ مِّنَ ٱلضَّأۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡمَعۡزِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ نَبِّـُٔونِي بِعِلۡمٍ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
آٹھ جوڑے چوپایوں میں سے (تمہارے لئے پیدا کیے) بھیڑ کے دو جوڑے اور بکری کے دو جوڑے،کہو کہ اللہ نے ان کے نر کو حرام کیا یا مادہ کو؟یا اسے جو مادہ کے رحم میں ہے ،اگر تم سچ کہتے ہو (اور ان کی حرمت پر کوئی دلیل تمہارے پاس ہے) تو مجھے بتاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 144 کے تحت ملاحظہ کریں۔

144
6:144
وَمِنَ ٱلۡإِبِلِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَاۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور اونٹ کے دو جاڑے اور گائے کے بھی دو جوڑے (تمہارے لئے پیدا کیے) کہو کہ اللہ نے ان میں کیا حرام کیا ہے ؟نر کو یا مادہ کو ؟یا اسے جو ان کے رحم میں ہے اور کیا تم (اس تحریم کے) گواہ تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا تھا۔بنابریں کون شخص اس سے زیادہ ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے ،تاکہ لوگوں کو ازروئے جہل گمراہ کرے؟اللہ کبھی بھی ستم کرنے والوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

مشرکوں کے خرافاتی احکام کی نفی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت جیسا کہ پہلے بھی اشارتاً ذکر ہوا زراعت اور چوپایوں کے بارے میں ہے، مشرکوں کے خرافاتی احکام کی نفی کے لیے ہے، اس سے قبل کی آیت میں طرح طرح کے زراعت اور خداداد آدمیوں کی بابت گفتگو کی گئی تھی اور اب اس آیت میں حلال گوشت حیوانات اور ان کی خدمات کا تذکرہ ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: الله وہ ہستی ہے جس نے چوپایوں میں سے تمھارے لیے بڑے حیوانات اور بوجھ اٹھانے والے اور چھوٹے حیوانات پیدا کیے (وَمِنَ الْاٴَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا)۔( اس آیت کے شروع میں ’‘واوٴ“ عطف کے لیے ہے اس کے بعدکا لفظ ”جنات“ گذشتہ آیت میں جس کا ذکر ہے پر عطف کیا گیا ہے) جیسا کہ علماء لغت نے کہا ہے: ”حمولہ“ جمع کے لیے ہے، اس کا لفظ مفرد اس کی جنس سے نہیں ہے، یہ لفظ بوجھ اٹھانے والے بڑے حیوانات جیسے اُونٹ، گھوڑا وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”فرش“ کے وہی معنی ہیں جو معروف ومشہور ہیں لیکن اس مقام پر بھیڑ اور اسی طرح چھوٹے جانوروں سے اس کے تفسیر کی گئی ہے اور بظاہر اس میں نکتہ یہ ہے کہ اس طرح کے جانور زمین سے زیادہ نزدیک ہیں اور بڑے جانوروں کے مقابلے میں فرش کی طرح معلوم ہوتے ، کسی جنگل میں بھیڑیں چر رہی ہوں اگر ہم دُور سے دیکھیں تو بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زمین پر فرش بچھا ہوا ہو، جبکہ اونٹوں کا گلہ دپور سے کبھی ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ ”حمولہ“ کے مقابلہ میں ”فرش“ کا ذکر کرنا اس مطلب کا موٴید ہے۔ نیز ایک اور احتمال بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ اس کلمہ (فرش) سے مراد بچھانے کی ایس چیزیں ہیں جو جانوروں کی اُون وغیرہ سے بنائی جاتی ہیں، یعنی بہت سے حیوانات سے بار برداری کا بھی کام لیا جاتا ہے اور ان کے بالوں سے فرشی چیزیں بھی تیار کی جاتی ہیں لیکن پہلا احتمال آیت کے معنی سے زیادہ نزدیک ہے۔ بعد ازاں یہ نتیجہ نکالا گیا ہے۔ اب جبکہ یہ سب چیزیں خدا کی مخلوق ہیں اور ان کا حکم اسی کے قبضہٴ قدرت میں ہے تو وہ تم کو یہ فرمان دیتا ہے کہ جو روزی اس نے تم کو دی ہے اس میں سے کھاؤ (کُلُوا مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ )۔ وہ یہ نہیں فرماتا کہ ان حیوانات ہی میں سے کھاؤ، بلکہ فرماتا ہے کہ اس نے جو کچھ تمھیں دیا ہے اس میں سے کھاؤ، یہ فرمانا اس وجہ سے ہے کہ حلال گوشت صرف چوپایوں ہی میں منحصر نہیں ہے بلہ دوسرے حیوانات بھی حلال گوشت ہیں جن آیہٴ مذکورہ بالا میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس امر کی تاکید کے لیے اور مشرکوں کے خرافاتی احکام کی ردّ کے لیے ارشاد ہوتا ہے: شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمھارا دشمن ہے (ایسا دشمن جس نے آدمی کی خلقت اوّل ہی کے وقت سے اعلان جنگ کردیا ہے (وَلَاتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ)۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے بلا دلیل احکام ورسوم جو صرف خام خیالی، ہوا ہوس اور جہل ونادانی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، ان کی حیثیت شیطانی وسوسوں کے سوا کچھ نہیں ہے جو تم کو قدم بقدم حق سے دپور کرکے گمراہی کے راستے میں سرگرداں کرتے ہیں۔ سورہٴ بقرہ کی آیت نمبر ۱۶۸ میں بھی اس امر کی ایک دلچسپ توضیح کی گئی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں توضیح کے طور پر بعض حلال گوشت حیوانات اور بعض وہ حیوانات کہ جو باربردار بھی ہیں اور انسان کے لیے غذا کے طور پر بھی قابل استفادہ ہیں کی شرح کرتے ہوئے فرماتا ہے: خداوندکریم نے چوپایوں کے آٹھ جوڑے تمھارے لیے پیدا کیے، بھیڑ اور مینڈھے کا جوڑا (نر اور مادہ) اور بکری کا ایک جوڑا (نر اور مادہ) (ثَمَانِیَةَ اَزْوَاجٍ(2) مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ)۔ ( ”ازواج“ زوج کی جمع ہے اور لغت میں جوڑے کے معنی میں ہے لیکن یہ توجہ رکھنا چاہیے کہ یہ کبھی وہ حیوانوں کے مجموعے نر اور مادہ کے لیے بولا جاتا ہے اور کبھی دو زوجوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے (زوج کا لفظ حیوانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: <فِیھِمَا مِن کُلِّ فَاکِھَةٍ زَوجَان(سورہٴ رحمٰن، مترجم) لہٰذا ان کے مجموعے کو زوجین کہتے ہیں، لہٰذا یہ کہ آیہٴ مذکورہ بالا میں آٹھ جوڑوں کی طرف اشارہ ہوا ہے ان سے چار قسم کے نر حیوان اور چار قسم کے مادہ حیوان مراد ہیں، اس آیت میں یہ احتمال بھی بیان کیا گیا ہے کہ شاید اس سے مراد گھریلو اور وحشی حیوانوں کے جوڑے ہوں، یعنی نر اور مادہ گھریلو بھیڑیں اور جنگلی بھیڑیں اسی طرح سے باقی کے بارے میں قیاس کرنا چاہیے) ان چار جوڑوں کے تذکرے کے بعد بلا فاصلہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ ان (کافروں ) سے صاف صاف پوچھو کہ: آیا خدا نے ان کے نروں کو حراک کیا ہے یا ماداؤں کو (قُلْ اَالذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمْ الْاٴُنْثَیَیْنِ)۔ یا وہ حیواں جو بھیڑوں یا بکریوں کے پیٹ میں ہیں (اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاٴُنثَیَیْنِ)۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: اگر تم سچ کہتے ہو اور ان حیوانات کی تحریم پر از روئے علم ودانش کوئی دلیل رکھتے ہو تو مجھے بتلادو (نَبِّئُونِی بِعِلْمٍ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ)۔ اس کے بعد کی آیت میں ایک اور جوڑے کا ذکر فرماتا ہے: اُونٹ کا جوڑا (نر اور مادہ) اور گائے کا بھی جوڑا (نر اور مادہ) ہم نے پیدا کیے ہیں، بتاؤ اس میں سے کسے حرام قرار دیا ہے، نروں کو یا ماداؤں کو، یا ان حیوانوں کو جو اونٹوں اور گایوں کے شکم میں ہے ہیں؟ (وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ قُلْ اَالذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمْ الْاٴُنثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاٴُنثَیَیْنِ)۔ چونکہ ان حیوانات کے حلال یا حرام ہونے کا حکم صرف اس خدا کے ہاتھ میں ہے جو ان کا اور انسانوں کا بلکہ تمام نظام ہستی کا پیدا کرنے والا ہے لہٰذا جو شخص بھی ان کے حلال یا حرام ہونے کا دعویٰ کرے تو یہ عقلی گواہی کے ذریعے ہو یا شخصاً اس پر وحی نازل ہوئی ہو یا جس وقت یہ فرمان پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے دیا اس وقت وہ آنحضرت کے پاس موجود ہو۔ اس سے قبل کی آیت میں اس بات کی تصریح کی گئی تھی کہ مشرکین کے پاتس ان حیوانات کے حرام ہونے کی کوئی علمی یا عقلی دلیل نہیں ہے اور چونکہ وہ دعوائے نبوّت ووحی بھی نہیں کرتے تھے بنابریں صرف یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ جب پیغمبر اسلام صلی علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمان دیا تھا اس وقت حاضر وگواہ ہوں اس لیے ارشاد ہوتا ہے: آیا جب الله نے اس بات کا حکم دیا تھا اس وقت کے تم گواہ ہو (اَمْ کُنتُمْ شُھَدَاءَ إِذْ وَصَّاکُمْ اللهُ بِھٰذَا)۔ چونکہ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے اس لیے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے پاس سوائے تہمت اور افتراء کے کوئی سرمایہ نہ تھا۔ اس لیے آیت کے آخر اضافہ فرماتا ہے: اس شخص سے بڑھ کر کون ستمگار ہے جو خدا کی طرف سے جھوٹی بات کی نسبت دے تاکہ لوگوں کو از روئے جہل گمراہ کرے اور یہ بات مسلم ہے کہ خدا ستمگاروں کو ہدایت نہیں کرے گا (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللهَ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ)۔( بغیر علم، یا اصطلاحاً یوں کہا جائے کہ ”جارو مجرور“ کس چیز سے متعلق ہے؟ اس بارے میں متعدد احتمال پیش کیے گئے ہیں لیکن یہ بعید نہیں کہ یہ ”لیضل“ سے متعلق ہو، یعنی وہ لوگ اپنی نادانی اور جہل کی وجہ سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کیے ہوئے تھے۔) مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ الله پر جھوت باندھنا بزرگ ترین ظلموں میں سے ایک ہے، مقام مقدس الٰہی پر ظلم ، بندگان خدا پر ظلم، اپنی ذات پر ظلم، جیسا کہ ہم نے سابقاً بیان کیا کہ ”ظالم ترین“ کا جملہ اس کے اسباب ومقدمات کو خود انسان اختیار کرتا ہے، جس وقت کوئی ظلم کرنا شروع کرتا ہے، خدا اس سے اپنی حمایت وہدایت روک دیتا ہے، نتیجہ میں وہ غلط راستہ پر بھٹکتا رہتا ہے۔

145
6:145
قُل لَّآ أَجِدُ فِي مَآ أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٖ يَطۡعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيۡتَةً أَوۡ دَمٗا مَّسۡفُوحًا أَوۡ لَحۡمَ خِنزِيرٖ فَإِنَّهُۥ رِجۡسٌ أَوۡ فِسۡقًا أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
کہیے۔مجھ پر جو وحی آئی ہے اس میں کسی غذا کھانے والے کے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ چیز مردار ہو یا خون ہو جو (حیوان یا انسان کے بدن سے) باہر نکلے،یا سور کا گوشت ہو کہ یہ سب چیزیں گندی ہیں،یا وہ حیوان جن پر بطور گناہ سر جدا کرتے وقت غیر خدا (بتوں ) کا نام لیا گیا ہو،لیکن وہ لوگ جن کا مقصد لذت نہ ہو اور نہ وہ حد سے تجاوز چاہتے ہوں مجبور ہو کر کچھ کھا لیں تو (ان پر کوئی گناہ نہیں ہے) تیرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے۔

بعض حرام جانوروں کا ذکر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعد ازیں خداوندکریم،محرمات الٰہی کو ان بدعتوں سے الگ کرنے کے لیے جنھیں مشرکوں نے حقیقی قانون میں داخل کردیا تھا اس آیت میں پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ ان لوگوں سے صاف طور سے کہہ دیجئے، مجھ پر جو وحی ہوئی ہے اس میں کسی شخص (وہ عورت ہو یا مرد، چھوٹا ہو یا بڑا) کے لیے مجھے توکوئی غذا حرام قرار دی ہوئی نہیں ملتی (قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ)۔ سوائے چند چیزوں کے، پہلی یہ کہ وہ مُردار ہو (اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً) یا وہ خون ہو جو کسی جاندار کے بدن سے نکلے (اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا)اس سے وہ خون خارج ہے جو حیوان کی رگوں کو کاٹنے کے بعد اور خون کی بڑی مقدار بہہ جانے کے بعدگوشت کے اندر کی باریک رگوں میں رہ جاتا ہے۔ ”یا سُور کا کوشت“ (اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِیۡرٍ)۔ کیونکہ ”یہ سب نجاست اور گندگی ہے“ اور انسان کی صحیح وسالم طبیعت کو ناپسند ہے، طرح طرح کی آلائشوں کا سرچشمہ ہے اور مختلف طرح کے نقصانات کا سبب ہے (فَاِنَّہٗ رِجۡسٌ)۔ ”اِنَّہُ“کی ضمیر اگرچہ مفرد ہے لیکن بہت سے مفسّرین کے خیال کے طمابق یہ تینوں قسم کی نجاستوں (مُردار کو گوشت، خون، سُور کا گوشت) کی طرف پلٹی ہے اور اس جملہ کے معنی اس طرح ہی: ”یہ سب جو بیان کیا گیا گندگی ہے“۔ اور آیت کے ظاہر س جو معنی مناسبت رکھتے ہیں وہ بھی یہی ہیں کہ ضمیر تینوں کی طرف پلٹے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مُردار اور خون بھی سُور کے گوشت کی طرح پلید ہیں۔ اس کے بعد نجاست کی چوتھی قسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: یا وہ حیوان جن پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا گیا ہو: (اَوۡ فِسۡقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ بجائے لفظ ”حیوان“ کے لفظ ”فسق“ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ سابقاً بھی اشارہ ہوا ہے کہ ”فسق“ کے معنی ”راہ ورسم بندگی اور اطاعت فرمان الٰہی سے خارج ہونا“ لہٰذا ہر قسم کے گناہ کوفسق کہتے ہیں، لیکن ”رجس“ جس کا تذکرہ تین قسم کے حراموں کے سلسلہ میں ہوا، اس کے مقابلہ میں ”فسق“ کا ذکر ممکن ہے اس امر کی طرف اشارہ ہو کہ حرام گوشت اصولی حیثیت سے دوقسم کے ہیں: ایک تو اس قسم کے گوشت ہیں جن کی تحریم ان کی پلیدگی، تنفر طبع وجسمانی نقصانات کی وجہ سے عمل میں آئی ہے اور ان پر ”رجس“ کا اطلاق ہوا ہے، دوسرے وہ گوشت جونہ پلید ہیں، نہ حفظان صحت کی رُو سے زیاں بخش ہیں، لیکن اخلاقی ومعنوی حیثیت سے خدا سے یگانگی اور مکتب توحید سے دُوری سے اباعث ہیں اور اسی وجہ سے حرام قرار پائے ہیں۔ بنابریں یہ توقع نہیں رکھنا چاہیے کہ تمام حرام گوشت ہمیشہ زیاں بخش ہی ہوں گے بلکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معنوی یا اخلاقی قدر کی وجہ سے بھی چیز حرام ہوتی ہے، یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح اسلامی کے شرائط دو طرح کے ہیں: بعض میں مثلاً کہا گیا ہے ک چاروں رگیں کاٹی جائیں اور حیواں کا خون بہایا جائے، ایسے احکام میں حفظانِ صحت کا پہلو مضمر ہے اور بعض احکام مثلاً رُوبہ قبلہ کرنا، بسم الله کہنا اور ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا یہ سب معنوی حیثیت کے حامل ہیں۔ آخرِ آیت میں بھی ان لوگوں کے لیے حرمت سے استثناء ہوا ہے جو ناچار ومجبور ہوجائیں اور کوئی ایسی غذا ان کو نہ مل سکے جس سے اُن کی جان بچے تو ایسی صورت میں ون ان گوشتوں کو (بقدر ضرورت) اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو بالکل مجبور ہوجائیں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ صرف حفظ جان کے لیے ہو، لذّت کے لیے نہ ہو، اسے حلال سمجھتے ہوئے نہ ہو اور نہ ضرورت سے زاند کھائیں، ان حالات میں خدائے غفور ورحیم ایسے افراد کو معاف کردے گا (فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ)۔ در حقیقت یہ دو شرطیں (حالت اضطرار کا ہونا اور حد سے تجاوز نہ کرنا) اس لیے ہیں کہ بعض افراد اضطرار کو قوانین الٰہی ہے توڑے کی سند نہ سمجھ بیٹھیں اور ضرورت کو بہانہ بناکر حکم خدا کے دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں، لیکن اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے بہ قول بعض روایات میں کچھ اور مفاہیم بھی ہیں جیسے تفسیر عیاشی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ”الباغی الظالم والعادی الغاصب“ ”باغی سے مراد ظالم اور عادی سے مراد غاصب ہے“ نیز ایک دوسری روایت میں امام علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”الباغی الخارج علی الامام والعادی اللّص“ ”باغی سے وہ شخص مراد ہے جو امام عادل اور حکومت اسلامی کے خلاف خروج کرے اور عادی سے مراد چور ہے“ اسی طرح کی روایات سے اس امر کی طرف اشارہ منظور ہے کہ گوشت حرام کھانے کی مجبوری بالعموم سفر میں درپیش ہوتی ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ظلم وستم یا غضب وچوری کے مقصد سے سفر کرے اور حلال غذا کمیاب ہوجائے تو ایسی صورت میں حرام گوشتوں کا کھانا اس لیے جائز نہیں ہوگا، اگرچہ اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے ان گوشتوں کو کام میں لائے لیکن اس گناہ کی سزا بھی اسے بھگتنا پڑے گی کیونکہ اس حرام سفر کے مقدمات کو اُس نے خود کو فراہم کیا ہے بہرحال یہ روایات مذکورہ آیت کے عمومی مفہوم سے بالکل ہم آہنگ ہے۔

ایک سوال کا جواب

یہاں پر ایک سوال یہ در پیش ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ غذاؤں کے بارے میں تمامحرمات الٰہی چار اقسام میں منحصر ہوگئے ہیں جبکہ ہمیں علم ہے کہ حرام غذائیں انہی چار چیزوں میں منحصر نہیں ہیں، درندوں کا گوشت، دریائی جیوانات (چھلکے دار مچھلی کے علاوہ) کا گوشت اور اسی طرح کے دوسرے جرام جانوروں کا گوشت، یہ سب حرام ہیں لیکن آیہ مذکورہ میں ان میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا اور محرمات کو صرف چار چیزوں میں منحصر کردیا گیا ہے؟ بعض حضرات نے اس سوال کے جواب میں یہ کہا ہے کہ یہ آیت مکّہ میں اثری اور اس وقت تک دوسری چیزیں حرام نہیں ہوئی تھیں۔ یہ جواب صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ بعینہ یہی عبارت یا اس جیسی عبارتیں بعض مدنی سورتوں میں بھی ملتی ہیں جیسے بقرہ کی آیت ۱۷۳۔ بظاہر اس کا جواب اس طرح سے دیا جاسکتا ہے کہ اس آیت کی نظر صرف مشرکوں کے خرافاتی احکام پر ہے اور اصطلاحاًیوں کہنا چاہیے کہ یہاں پر ”حصر اضافی“ ہے۔ دوسرے لفظوں میں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ محرمات الٰہی یہ چیزیں ہیں نہ کہ وہ جنھیں تم نے اپنی طرف سے گھڑلیا ہے۔ اس بات کی مزید توضیح کے لیے بے جا نہ ہوگا اگر ہم ایک مثال پیش کریں۔ وہ یہ کہ اگر کوئی ہم سے یہ سوال کرے کہ آیا حسن اور حسین دونوں آئے تھے؟ ہم جواب میں یہ کہیں گے: نہیں، صرف حسن آئے تھے، یہاں پر ہماری غرض صرف یہ ہے کہ دوسرے شخص (حسین) کے آنے کی نفی ہوجائے، اس سے کوئی بحث نہیں کہ دوسرے افراد جو سوال کے دائرے سے خارج تھے وہ آئے کہ نہیں۔ وہ چاہے آئے بھی ہوں تب بھی ہمارا مذکورہ جواب صحیح ہوگا ۔ اس طرح اضافی (یا نسبی) کہتے ہیں۔ لیکن یہ ملحوظ رہے کہ ہر حصر عام طور سے حقیقی ہوتا ہے، الّا یہ کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ موجود ہو جیسے زیر بحث آیت۔ ۱۴

146
6:146
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٖۖ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ وَٱلۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلۡحَوَايَآ أَوۡ مَا ٱخۡتَلَطَ بِعَظۡمٖۚ ذَٰلِكَ جَزَيۡنَٰهُم بِبَغۡيِهِمۡۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن دار (حیوان جس کے کھر بغیر شگاف کے ہوتے ہیں ) کو حرام کیا،اور گائے، بھیڑ میں سے ان کی چکتی اور چربی کو حرام کیا،سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ پر ،یا آنتوں کی تہوں میں اور دونوں پہلوؤں میں ہو یا وہ چربی جو ہڈیوں میں ملی ہوئی ہو ،یہ حکم بطور سزا کے اس ظلم و ستم کی وجہ سے تھا جو وہ کیا کرتے تھے اور ہم سچ کہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 147 کے تحت ملاحظہ کریں۔

147
6:147
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمۡ ذُو رَحۡمَةٖ وَٰسِعَةٖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُهُۥ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
اگر یہ تیری تکذیب کریں (اور ان حقائق کو نہ مانیں ) تو ان سے کہہ دو کہ تمہارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے لیکن اس کے باوجود مجرموں سے اس کی سزا دور ہونے والی نہیں۔

وہ چیزیں جو یہودیوں پر حرام ہوئیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

قبل کی آیات میں حرام حیوانات کی چار قسمی ہی بیان کی گئیں تھیں لیکن ان آیتوں میں یہودیوں پر جو چیزیں حرام تھیں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ بُت پرستوں کے مہمل وخرافاتی احکام نہ تو آئین اسلام سے ہم آہنگ ہی، نہ آئین یہود سے (اور نہ آئینِ مسیح سے جس میں عموماً آئین یہود کی پیروی کی گئی ہے)۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان آیات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اس قسم کے محرمات بھی یہودیوں کے لیے سزا وعذاب کا پہلو لیے ہوئے تھے، اگر انھوں نے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہ کی ہوتیں تو یہ چیزیں بھی ان پر حرام نہ کی جاتیں، بنابریں اس بات کا حق پہنچتا ہے ہے بُت پرستوں سے سوال کیا جائے کہ اس طرح کے احکام تم کہاں سے لے آئے؟ لہٰذا پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہودیوں پر ہم نے ناخن دار ہر جانور کو حرام کیا (وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا کُلَّ ذِیۡ ظُفُرٍ)۔ ”ظُفُر“ (بروزن ”شتر“) در اصل ناخن کے معنی میں ہے لیکن اس لفظ کا استعمال سُمدار حیوانات (یعنی وہ حیوانات جن کا سُم گھوڑے کی طرح پھٹا ہوا نہیں ہے، نہ کہ بھیڑ گائے وغیرہ کی طرح جن کا کھُر بیچ سے پھٹا ہوا ہوتا ہے) کے سُم پر بھی ہوا ہے کیونکہ ان کے سُم ناخن کی طرح کے ہوتے ہیں، اسی طرح اونٹ کا پاؤں جس کی نوک یایکپارچہ ہوتی ہے اور اس میں شگاف نہیں ہوتا اس لیے یہ لفظ ”ظُفُر“ بولا جاتا ہے۔ اس بناپر آیہٴ فوق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام حیوانات جن کے سُم بیچ سے شگافتہ نہیں ہیں یا وہ ناخن والے ہیں چاہے وہ چوپائے ہوں یا پرندے، یہودیوں پر حرام کردیئے گئے تھے۔ موجودہ توریت کے ”سفر لاویان“ فصل ۱۱ سے بھی اجمالاً یہی مفہوم حاصل ہوتا ہے جیسا کہ اس میں تحریر ہے۔ بہائم میں سے شگافتہ کھُر رکھنے والا جس میں پورا شگاف ہو اور جگالی کرتا ہو کھاؤں، لیکن وہ جگالی کرنے والا جس کا کھُر پھٹا ہوا نہیں ہے،مت کھاؤں، اونٹ با وجودیکہ وہ جگالی کرتا ہے چونکہ اس کا پورا کھُر چاک نہیں اس لیے وہ تمھارے لیے ناپاک ہے۔ آیہٴ مذکورہ میں بعد کے جملے سے (جس میں صرف گائے بھیڑ کا ذکر کیا گیا ہے) بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ اونٹ یہودیوں پر باکل حرام تھا، (ذرا غور کیجئے) اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: گائے بھیڑ کے جسم پر موجود چربی کو ہم نے ان پر حرام کردیا تھا (وَ مِنَ الۡبَقَرِ وَ الۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ شُحُوۡمَہُمَاۤ)۔ اسی کے ذیل میں تین چیزوں کا استثناء فرماتا ہے: پہلے وہ چربی جو اُن کی پشت پر ہوتی ہے (اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُہُوۡرُہُمَاۤ) دوسرے وہ چربی جوپہلووٴں میں اور آنتوں کی تہوں میںپائی جاتی ہے(اَوِ الۡحَوَایَاۤ)۔( ”حوایا“ جمع ہے ”حاویہ“ (بروزن ”زاویہ“) کی یہ ایس چیز کو کہتے ہیں جس میں شکم کی تمام چیزیں شامل ہیں یہ کُرہ کی شکل میں ہوتی ہے اور آنتیں بھی اس کے اندر ہوتی ہیں) تیسرے وہ چربی جو ہڈیوں میں لتھڑی ہوتی ہے (اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ)۔ لیکن آیت کے آخر میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ چیزیں یہودیوں پر در حقیقت حرام نہ تھیں لیکن چونکہ وہ ظلم وستم کرتے تھے اس لیے بحکمِ خدا وہ اس طرح کے گوشت اور چربی سے محروم کردیئے گئے جسے وہ پسند کرتے تھے (ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِبَغۡیِہِمۡ)۔ تاکید کے لیے اضافہ فرماتا ہے: یہ ایک حقیقت ہے اور ہم سچ کہتے ہیں (وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ)۔

چند اہم نکات

چند اہم نکات ۱۔ بنی اسرائیل نے وہ ظلم وستم کیے تھے جس کی سزا میں الله نے اپنی بعض نعمتیں جو انھیں پسندنہیں تھیں ان پر حرام کردی تھیں، مفسّرین کے درمیان اس بارے میں ایک بحث ہے لیکن سورہٴ نساء کی آیت ۱۶۰ اور ۱۶۱ سے جو ظاہر ہوتا ہے یہ ہے کہ اس تحریم کا باعث چند امور تھے۔ کمزور طبقہ پر ظلم وستم اور انھیں انبیائے الٰہی کی ہدایت سے روکنا، سُود خوری اور لوگوں کے اموال کو ناحق کھانا، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: <فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِینَ ھَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبَاتٍ اٴُحِلَّتْ لَھُمْ وَبِصَدِّھِمْ عَنْ سَبِیلِ اللهِ کَثِیرًا وَاٴَخْذِھِمْ الرِّبَا وَقَدْ نُھُوا عَنْہُ وَاٴَکْلِھِمْ اٴَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ(نساء/۱۶۰) ۲۔ جملہٴ ”وَإِنَّا لَصَادِقُونَ“ جو آیت کے آخر می آیا ہے، ممکن ہے اس امر کی طرف اشارہ ہو کہ ان غذاؤں کی تحریم کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے وہی حقیقت ہے نہ وہ کہ جو یہودی کہتے ہیں اور اپنے ان کمانوں کو حضرت یعقوب کی طرف منسوب کرتے ہیں، اس بات کا تذکرہ سورہٴ آل عمران کی آیت ۹۳ میں گزرچکا ہے کہ یعقوب نے انھیں ان چیزوں کے حرام ہونے کا حکم ہرگز نہیں دیا تھا بلکہ یہ ایک تہمت ہے جو یہودی ان پر لگاتے ہیں۔ (مزید توضیح کے لیے تفسیر نمونہ ،ج۳، سورہٴ ال عمران آیت ۹۳ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔) چونکہ یہودیوں اور مشرکوں کو ہٹ دھرمی نمایاں تھی اور اس بات کا امکان تھا کہ وہ اپنی پر اڑے رہیں گے اور پیغمبر کی تکذیب کریں گے لہٰذا بعد کی آیت میں الله تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے: اگر تم کو جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمھارا پروردگار وسیع رحمت رکھتا ہے اور تم کو جلد سزا نہیں دیتا ہے بلکہ مہلت دیتا ہے کہ شاید تم اپنی غلطیوں سے پلٹ جاؤ اور کیے پر پشیمان ہوجاؤ اور خدا کی طرف پلٹ آؤ (فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ رَّبُّکُمۡ ذُوۡ رَحۡمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ). لیکن اگر خدا کی دی گئی مہلت سے پھر بھی ناجائز فائدہ اٹھاؤ اور اپنی ناروا تہمتوں پر باقی رہو تو جان لو کہ خدا تمھیں کیفر کردار تک ضرور پہنچائے گا کیونکہ اس کی سزائیں اور مجازات مجرموں کے گروہ سے دور ہونے والی نہیں (وَ لَا یُرَدُّ بَاۡسُہٗ عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡن)۔ یہ آیت بخوبی تعلیمات قرآنی کی عظمت کو واضح کرتی ہے کہ یہودیوں اور مشرکوں کی اتنی نافرمانیوں کی وضاحت کرنے کے بعد بھی خدائے تعالیٰ انھیں فوراً اپنے عذاب کی تحدید نہیں کرتا بلکہ اپنی پُر محبت تعبیروں سے، جیسے ”ربّکم“ (تمھارا پروردگار) ”ذو رحمة واسعة“ (وسیع رحمت والا) ان کے لیے لوٹ آنے والے راستے کھولتا ہے تاکہ ذرا بھی ان میں پشیمان ہونے کی گنجائش ہے تو ان کی تشویق ہوجائے اور وہ حق کی طرف پلٹ آئیں، ساتھ ہی انھیں اپنے قطعی عذاب سے ڈرتا بھی ہے الله کی ناپیدا کنار رحمت ان کی جسارت وسرکشی کا باعث نہ بن جائے۔

148
6:148
سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكۡنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ حَتَّىٰ ذَاقُواْ بَأۡسَنَاۗ قُلۡ هَلۡ عِندَكُم مِّنۡ عِلۡمٖ فَتُخۡرِجُوهُ لَنَآۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَخۡرُصُونَ
عنقریب مشرک لوگ (اپنی برأت کے لئے) یہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم مشرک ہوتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام کرتے۔ ان سے قبل جو لوگ تھے وہ بھی اسی طرح کے جھوٹ بولتے تھے اور بالآخر انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا۔ ان سے کہئے اس بارے میں تم کوئی یقینی دلیل رکھتے ہو ؟ اگر ہو تو ہمیں بھی دکھلاؤ۔ تم فقط بے بنیاد خیالات کی پیروی کرتے ہو اور بے جا اندازے قائم کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 150 کے تحت ملاحظہ کریں۔

149
6:149
قُلۡ فَلِلَّهِ ٱلۡحُجَّةُ ٱلۡبَٰلِغَةُۖ فَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ
کہئے ، کہ خدا کے لئے (دعوے کو) ثابت کرنے والی (یقینی) دلیل ہے اگر وہ چاہے تم سب کو (اجباری طور پر) ہدایت کر دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 150 کے تحت ملاحظہ کریں۔

150
6:150
قُلۡ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشۡهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَاۖ فَإِن شَهِدُواْ فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡۚ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ
کہہ دو کہ تم اپنے گواہوں کو جو اس بات کی گواہی دے سکیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے، لے آؤ ، اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ (ہم آواز نہ ہونا)۔ گواہی نہ دینا ، اور ان لوگوں کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

”جبر“ کا بہانہ کر کے ذمہ داری سے فرار

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں مشرکوں کی جو باتیں ذکر ہوئیں ان کے ذیل میں ان کے کمزور استدلالوں اور ان کے جوابات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ابتدا میں فرماتا ہے: ”شرک اور رزقِ حلال کی حرمت کے بارے میں جو مشرکوں پر اعتراضات کیے ان کے جواب میں عنقریب وہ تم سے کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو تم بُت پرست ہوتے نہ ہمارے آباؤ اجداد اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے، پس جو کچھ ہم کہتے ہیں یا کرتے ہیں وہ سب خدا کی مرضی سے ہے اور وہ یہی چاہتا ہے (سَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکۡنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ شَیۡءٍ)۔ اسی طرح کی تعبیر قرآن کی ایک آیت میں بھی نظر آتی ہے، جیسا کہ سورہٴ نحل آیت ۳۵ میں ہے: <وَقَالَ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِہِ مِنْ شَیْءٍ نَحْنُ وَلَاآبَاؤُنَا وَلَاحَرَّمْنَا مِنْ دُونِہِ مِنْ شَیْءٍ اور سورہٴ زخرف آیت ۲۰ میں ہے: <وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَانُ مَا عَبَدْنَاھُمْ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرک افراد بہت سے دیگر کناہگاروں کی طرح مسئلہ جبر کے سہارے اپنی ذمہ داریوں سے فرار چاہتے ہیں اور اپنی نافرمانیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ یہ بھی در اصل جبر کے معتقد تھے اور کہتے تھے: ہم جو بھی کام کرتے ہیں وہ الله کی مرضی سے اور اسی کے ارادہ کے مطابق ہے، وہ اگر نہ چاہتا تو یہ اعمال ہم سے سرزد نہ ہوتے، وہ در اصل یہ کہہ کر چاہتے تھے کہ اپنے آپ کو ان تمام گناہوں سے بَری کردیں، ورنہ ہر انسان کا ضمیر خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں آزاد ہے مجبور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے حق میں ظلم کرے تو وہ ناراحت ہوتا ہے اور اس سے مواخذہ کرتا ہے اور صاحب اقتدار ہونے کی صورت میں اس سے انتقام بھی لے سکتا ہے، یہ تمام چیزیں اس بات کی مظہر ہیں کہ وہ مجرم کو اس کے عمل میں آزاد اور بااختیار کروادیا ہے اس جرم کی سزا دینے سے چشم پوشی نہیں کرتا (اس بات پر غور کرنا چاہیے) لیکن یہ احتمال بھی اس آیت کے معنی میں ہے کہ وہ (مشرک) اس بات کے مدعی تھے کہ بُت پرستی اورتحریم حیوانات کے مقابلہ میں خدا کا سکوت اس کی رضا مندی کی ذلیل ہے کیونکہ اگر وہ راضی نہ ہوتا تو تو کسی بھی طریقہ سے ہمیں اس کارِ زشت سے روک سکتا تھا۔ ”وَلَاآبَاؤُنَا “ کہہ کر انھوں نے یہ چاہا ہے کہ اپنے غلط عقائد کو قدامت ودوام کا رنگ دیں اور کہیں کہ یہ کوئی نئی بات ہے بلکہ گذشتہ قوموں میں سے اور لوگ بھی جھوٹی باتوں کے قائل تھے، لیکن ان کا نتیجہ کیا ہوا؟ وہ بھی آخر کاراپنی بدکرداریوں کے نتائج میں گرفتار ہوئے اور انھوں نے ہماری سزا کا مزہ چکھا۔ ” کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ حَتّٰی ذَاقُوۡا بَاۡسَنَا “ وہ در حقیقت اپنے اقوال سے جھوٹ بھی بولتے تھے اور انبیاء کی تکذیب بھی کرتے تھے کیونکہ پیغمبران الٰہی نے صریحی طور پر ہر دور کے بشر کو بت پرستی، شرک اور حلالِ خدا کو حرام قرار دینے سے روکا ہے لیکن ان کے بزرگوں نے اس پر کان دھرا نہ انھوں نے، جب صورتِ حال یہ ہو کہ کس طرح ممکن ہے کہ خاندان کے کرتوتوں پر راضی ہو، اگر خدا ان پر راضی ہوتا تو کس لیے اپنے پیغمبروں کو توحید کی دعوت کے لیے بھیجتا، دراصل دعوت انبیاء خود اس بات کی ایک اہم دلیل ہے کہ انسان اپنے ارادہ وخود مختار ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: ”ان سے کہو: آیا واقعی کوئی قطعی اور مسلّم دلیل تمھارے پاس اس دعوے کی ہے ؟ اگر ہے تو اسے پیش کیوں نہیں کرتے “ (قُلۡ ہَلۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡہُ لَنَا)۔ آخر میں مزید فرماتا ہے: ”تم یقینی طور پر کوئی دلیل اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے لیے نہیں رکھتے صرف اپنے خام خیالات کی پیروی کرتے ہو “ (اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ)۔ اس کے بعد کی آیت میں مشرکوں کے دعوے کوباطل کرنے کے لیے ایک اور دلیل کا ذکر فرماتا ہے: کہو: خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے بھی اور عقل بشری کے ذریعے بھی توحید اور اپنی یکتائی پر اسی طرح حلال وحرام کے احکام کے بارے میں صحیح اور روشن دلیلیں بیان کی ہیں اور یہ دلیلیں اس طرح کی ہیں کہ ان کے بعد کسی کو عذر کی گنجائش باقی نہ رہ جاتی (قُلۡ فَلِلّٰہِ الۡحُجَّۃُ الۡبَالِغَۃُ)۔ بنابریں وہ لوگ یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرسکتے کہ خدا نے اپنے سکوت سے ان کے ناروا عقائد واعمال پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے نہ ہی وہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں مجبور ہیں کیونکہ اگر مجبور ہوتے تو دلیل قائم کرنا، پیغمبروں کا بھیجنا اور ان کی دعوتیں اور تبلیغیں یہ سب بیکار ہوجاتی ہیں، دلیل کا قائم کرنا خود آزادیٴ ارادہ کی دلیل ہے۔ ضمناً اس امر کی جانب بھی توجہ مبذول کرنا چاہیے کہ ”حجت“ در اصل ، حج سے ماخوذ ہے جس کے معنی قد کے ہیں، وہ جادہ وراستہ جس پر انسان کو چلنا مقصود ہو اسے ”محجّہ“ کہتے ہیں، اسی بناپر دلیل وبرہان کو بھی ”حجت“ کہا جاتا ہے کیونکہ اس دلیل کے پیش کرنے والے کا یہ قصد ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے اپنے مطلب کو دوسروں پر ثابت کرے۔ اگر لفظ ”بالغہ“ (آخر تک پہنچنے والی) پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوگا کہ خدائے تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے عقل ونقل کے ذریعے، علم وذہن کے ذریعے اور اسی طرح روسلوں کے ذریعے ہر حیثیت سے روشن اور ہر ذہن میں اتر جانے والے دلائل پیش کیے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے کسی تردید کی گنجائش باقی نہ رہ جائے، اس بناپر خدا نے اپنے پیغمبروں کو ہر طرح کے گناہ واشتباہ سے معصوم قرار دیا ہے تاکہ ان کے لائے ہوئے پیغاموں سے ہر طرح کے شک وشبہ کو دور کرے۔ آخر آیت میں فرماتا ہے: اگر خدا چاہے تو تم سب کو زبردستی ہدایت کرسکتا ہے (فَلَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ)۔ در اصل یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے لیے یہ بات بالکل ممکن ہے کہ تمام انسانوں کی بالجبر ایس ہدایت کردے کہ کسی بندے میں اس کی مخالفت کرنے کی طاقت نہ ہو لیکن ظاہر ہے اس صورت میں ایسے ایمان کی کوئی قیمت باقی رہ جاتی نہ اعمال کی جو جبریہ ایمان کے زیر سایہ پروان چڑھیں بلکہ فضیلت اور انسانی ترقی کا راز یہ ہے کہ انسان ہدایت اور پرہیزگاری کے جادہ پر اپنے قدموں سے چلے اور یہ سفر اپنے ارادہ واختیار سے طے کرے۔ اس بناپر اس جملے میں اور قبل کی آیت میں جس میں جبر کی نفی ہوئی ہے کوئی اختلاف نہیں ہے، یہ جملہ کہتا ہے: بندوں کو ان کے اعمال میں مجبور کرنا جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو خدا کے امکان میں ہے، لیکن خدا ہر گز ایسا نہیں کرے گا کیونکہ خدا کی حکمت اور انسانوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے قدرت ومشیّتِ الٰہی کو ”مذہب جبر“ اختیار کرنے کا ایک بہانہ بنالیا تھا حالانکہ الله کی مشیت وقدرت دونوں برحق ہیں لیکن ان کا لازمہ جبر نہیں ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم آزاد رہیں اور حق کا راستہ اپنے اختیار سے طے کریں۔ کتاب کافی میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”انّ الله علی النّاس حجّتین حجةٌ ظاہرة وحجة باطنة) فامّا الظاہرة فالرسل والانبیاء والائمة، وامّا الباطنة فالعقول“ ” خداوندکریم نے لوگوں کے لیے اپنی دوحجتیں قرار دی ہیں، ایک حجت ظاری دوسری باطنی حجت انبیاء ورسل وآئمہ ہیں اور باطنی حجت انسان کی عقل ہے“(تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۷۷۶ ۔) یہ بات بدیہی ہے کہ مذکورہ بالا روایت کا یہ مقصد نہیں کہ حجت بالغہ سے صرف یہی گفتگو مراد ہے جو قیامت میں خدا اپنے بندوں سے کرے گا، خدائے متعال کی بہت سی حجتہائے بالغہ ہیں جن میں سے ایک کا مصداق وہی ہے جس کا ذکر حدیث فوق میں آیا ہے کیونکہ الله کی حجت بالغہ بہت وسیع ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد آیت میں ان مشرکوں کی باتوں کو واضح تر کرنے اور فیصلہ کرنے کے لیے صحیح اصول کا لحاظ رکھنے لیے انھیں دعوت دیتا ہے کہ اگر ان کے پاس اس بات کے معتبر گواہ ہیں کہ خدا نے ان حیوانات اور زراعتوں کو جن کی تحریم کے وہ مدعی ہیں واقعاً حرام کیا ہے تو ان کو پیش کریں، لہٰذا فرماتا ہے: اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ اپنے گواہوں کو جو ان چیزوں کی تحریم کی گواہی دیں لے آؤ (قُلۡ ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ یَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا)۔ پھر اس پر اضافہ ہوتا ہے: اگر انھیں ایسے گواہ نہ مل سکیں اور وہ انھیں نہ پاسکیں (جیسا کہ ہر گز نہ پاسکیں گے) اور صرف اپنی ہی گواہی اور دعوے پر اکتفا کریں تو ہر گز ان کے ہم صدا نہ ہونا اور ان کی گواہی اور دعوے کے مطابق گواہی نہ دینا (فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَلَا تَشۡہَدۡ مَعَہُمۡ)۔ جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے یہ ظاہر ہوگیا ہوگا کہ پوری آیت میں کسی قسم کا اختلاف یا تضاد موجود نہیں ہے اور یہ بات کہ ابتداء میں ان سے گواہ طلب کیے، اس کے بعد فرمایا کہ ”ان کے گواہوں کی گواہی قبول نہ کرنا“ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ قطعی اور معتبر گواہوں کولانے سے قاصر ہیں کیونکہ انبیائے الٰہی سے اور کتب آسمانی سے یہ امور ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی سند یا ثبوت موجود نہیں ہے، بنابریں یہ خود ہی جو مدعی ہیں گواہی دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس طرح کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ ان تمام امور کے علاوہ دیگر قرائن اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ تمام خود ساختہ احکام ان لوگوں نے محض اپنی ہوا وہوس کے ماتحت اور کورانہ تقلید کی بناپر گھڑ لیے تھے لہٰذا ان کا کوئی اعتبار نہ تھا۔ اس بناپر اس کے بعد کے جملے میں ارشاد فرمایا: جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور جن کا آخرت پر ایمان نہیں ہے اور جنہوں نے خدا کا شریک قرار دیا ہے ان کی ہوا وہوس کی پیروی نہ کرنا (وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ وَ ہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ)۔ یعنی ان لوگوں کی بت پرستی، قیامت کا انکار، خرافاتی رسوم ورواج اور ان کی ہوس پرستیاں اس با ت کی زندہ گواہ ہیں کہ ان کے یہ احکام بھی خود ساختہ ہیں اور ان چیزوں کی تحریم جس کی نسبت یہ خدا کی طرف دیتے ہیں بالکل بے بنیاد اور بے اہمیت ہے۔

151
6:151
۞قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
کہو کہ آؤ جس چیز کو تمہارے پروردگار نے تمہارے اوپر حرام قرار دیا ہے میں تمہیں پڑھ کر سناؤں اور وہ یہ کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ ٹھہرانا اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا ، اور اپنی اولاد کو تنگدستی (کے خوف) سے ہلاک نہ کرنا ، تمہیں اور انہیں دونوں کو روزی دیتے ہیں اور برے کاموں کے پاس بھی نہ جانا ، چاہے وہ نمایاں ہوں یا چھپے ہوئے ، جس جان کو اللہ نے محترم قرار دیا ہے اسے نہ مارنا ، مگر یہ کہ حق (استحقاق کی بناء پر) ہو یہ وہ (حکم) ہے جس کی اللہ نے تمہیں تاکید کی ہے، تاکہ تم اسے سمجھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 153 کے تحت ملاحظہ کریں۔

152
6:152
وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۖ وَإِذَا قُلۡتُمۡ فَٱعۡدِلُواْ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰۖ وَبِعَهۡدِ ٱللَّهِ أَوۡفُواْۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا ، مگر یہ کہ بطریق احسن (اصلاح کے لئے) ہو، یہاں تک کہ وہ سن تمیز کو پہنچ جائے اور انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنا۔ ہم کسی (بندے) پر اس کی استطاعت سے زیادہ ذمہ داری عائد نہیں کرتے، اور جس وقت کوئی بات کرنا تو عدالت کا خیال رکھنا چاہے وہ عزیز و اقارب کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو ، یہ وہ چیز ہے جس کی خدا تمہیں تاکید کرتا ہے تاکہ تم اسے یاد رکھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 153 کے تحت ملاحظہ کریں۔

153
6:153
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ
اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اور دوسرے مختلف (ٹیڑھے) راستوں کی پیروی مت کرو کیونکہ وہ تمہیں راہ حق سے ہٹا دیں گے یہ وہ بات ہے جس کی خدا تمہیں تاکید کرتا ہے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

خدا کے دس فرمان

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

مشرکوں کے خود ساختہ احکام جو گزشتہ آیات میں بیان ہوئے ان کی نفی کرنے کے بعد ان تین آیتوں میں اسلام کے اصول محرمات اور صف اول کے گناہان کبیرہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ان امور کو مختصر پر مغز اور جالب عبارت کے ساتھ دس حصوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ان (مشرکوں) کو دعوت دی گئی ہے۔ کہ وہ آئیں اور واقعی محرماتِ الہٰی کو سنیں اور جھوٹے محرمات کو چھوڑ دیں۔ پہلے فرماتا ہے :۔ ان سے کہو کہ آؤ تاکہ وہ چیزیں جو اللہ نے تمہارے اوپر حرام کی ہیں میں تمہارے سامنے پڑھ کر سناؤں اور ان کی تعداد بیان کروں۔ (قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمۡ عَلَیۡکُمۡ)۔ اور وہ یہ کہ:۔ 1. کسی چیز کو خدا کا شریک قرار دینا۔ (اَلَّا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا)۔ 2. با پ ماں کے ساتھ نیکی کرنا(وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا)۔ 3. اپنی اولاد کو تنگدستی کی وجہ سے ہلاک نہ کرو (وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ)۔ کیونکہ تمہاری اور ان کی روزی ہمارے ہاتھ میں ہے اور تمام افراد کو ہم ہی روزی دیتے ہیں (نَحۡنُ نَرۡزُقُکُمۡ وَ اِیَّاہُمۡ)۔ 4. بداعمالیوں اور سیاہ کاریوں کے پاس نہ جانا چاہئے وہ اعلانیہ ہوں یا پوشیدہ یعنی نہ صرف یہ کہ بُرے کاموں کو نہ کرنا بلکہ ان کے پاس بھی نہ پھٹکنا (ۚ وَ لَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ)۔ 5. بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہ کرنا، اور وہ اشخاص جن کی جانوں ککو اللہ نے محترم قرار دیا ہے اور ان کے قتل سے منع کیا ہے، انہیں نہ مارنا۔ الا یہ کہ قانون الہٰی کے مطابق ان کے قتل کی اجازت دی گئی ہو (مثلاً کوئی شخص قاتل ہو) (وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقّ)۔ ان پانچ قسم کی حرمتوں کو بیان کرنے کے بعد مزید تاکید کے لیے ارشا ہوتا ہے: یہ وہ امور ہیں جن کی الله نے تاکید کی ہے، تاکہ تم اسے خوب اچھی طرح سمجھ لو اور ان کے ارتکاب سے اجتناب کرو (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُون)۔ 6۔ کبھی بھی بغیر ارادہٴ اصلاح کے یتیم کے مال کے پاس نہ جانا حتّیٰ کہ وہ سن تمیز کو پہنچ جایں (وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ھِیَ اٴَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّہُ)۔ 7۔ کم فروشی نہ کرنا اور پیمانہ وترازو کے حق کو عدالت کے ساتھ ادا نہ کرنا (وَاٴَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ)۔ چونکہ ترازواور پیمانہ کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ باوجود احتیاط کرنے کے پھر بھی کچھ فرق باقی رہ جائے جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ توجہ کے باوجود تھوڑا فرق پھر بھی رہ باقی رہ جاتا ہے جس کی شناخت عام ترازووٴں اور پیمانوں سے ممکن نہیں اس لیے مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی فرمایا: ہم کسی شخص پر اس کی قدرت واستطاعت سے زیادہ ذمہ داری عائد نہیں کرتے (لَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا)۔ 8۔ فیصلہ کرتے وقت یا گواہی دینے کے موقع پر یا جب بھی کوئی بات کہو تو حق وعدالت کو پیش نظر رکھو اور حق کی راہ سے باہر نہ جاؤ چاہے وہ تمھارے عزیزوں کے بارے میں ہو اور حق کہنے سے انھیں نقصان پہنچ جائے (وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبیٰ)۔ 9۔ الله سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو اور اسے مت توڑو (وَبِعَھْدِ اللهِ اٴَوْفُوا)۔ عہد الٰہی سے کیا مراد ہے، اس بارے میں مفسّرین تے متعدد احتمالات بیان کیے ہیں لیکن آیت کا مفہوم عام ہے جو تمام الٰہی عہدوں پر محیط ہے چاہے وہ تکوینی ہوں یا تشریعی نیز تکالیف الٰہی اور ہر قسم کا عہد ، نذر اور قسم بھی اس میں شامل ہے۔ مزید تاکید کے لیے ان چار قسموں کے آخر میں فرماتا ہے: یہ وہ امور ہیں جن کی خدا ت تمہیں تاکید کرتا ہے تاکہ تمھیں یاد رہے (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ)۔ 10۔ یہ میرا سیدھا راستہ، توحید کا راستہ ہے، حق وعدالت کا راستہ، پاکیزگی اور تقویٰ کا راستہ ہے، اس کی پیروی کرو اور ٹیڑھے راستے اور افتراق کے راستوں پر ہر گز نہ جاؤ کیونکہ یہ تمھیں خدا کے راستے سے ہٹادیں گے اور تمھارے درمیان نفاق اور اختلاف کے بیج بودیں گے (وَاٴَنَّ ھٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ)۔ اس سب کے آخر میں تیسری تاکید فرماتا ہے کہ یہ وہ امور ہیں جن کی خدا تمھیں تاکید فرماتا ہے تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ)۔

چند اہم نکات ۱۔ توحید سے ابتداء، نفی اختلاف پر انتہاء

یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان دس فرمانوں میں سب سے پہلے تحریم ِ شرک سے ابتداء کی گئی ہے جو تمام محرمات ِ الہی اور معاشرے کی تمام برائیوں کی جڑ ہے اورنفی ِ اختلاف پر خاتمہ کیا گیا ہے جو ایک طرح کا عملی شرک محسوب ہوتا ہے۔ یہ امر ظاہر کرتاہے کہ مسئلہ توحید تمام اصول و فروع ِ اسلامی میں کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ توحید صرف ایک دینی اصل ہی نہیں بلکہ تمام تعلیمات اسلامی کی روح رواں ہے ۔

۲۔ پے درپے تاکیدیں

ان تینوں آیتوں کے آخر میں تاکید کے طور پر ذالکم و صاکم بہ ( یہ وہ چیز ہے جس کی خدا تمہیں تاکیدکرتا ہے) کا جملہ آیا ہے ۔ اتنا فرق ہے کہ پہلی آیت میں" لعلکم تعقلوں " دوسری میں" لعلکم تذکرون" پرآیت کا خاتمہ ہواہے۔ مختلف تعبیریں کو اپنی جگہ معنی خیز ہیں گویا اس نقطہ کی طرف اشارہ ہیں کہ کسی جگہ حکم کو قبول کرنے کا پہلا مرحلہ "تعقل" اور اس کا فہم ہے ، بلکہ دراصل فصاحت و بلاغت کے قواعد و قوانین اس امر کا موجب بنے ہیں کہ ان تاکیدی جملوں کو ان دس احکام کے درمیان پھیلا دیا جائے۔

۳۔ دائمی احکام

شاید اس امر کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت نہ ہوگی کہ مذکورہ دس احکام صرف آئین ِ اسلام ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ تمام ادیان میں تھے ۔ اگرچہ اسلام میں زیادہ تفصیل کے ساتھ ان سے بحث کی گئی ہے ۔ درحقیقت یہ وہ ارشادات ہیں جن کی افادیت کو عقل و منطق بخوبی سمجھتے ہیں ۔ اصطلا حا یوں کہا جائے کہ یہ احکام " مستقلات ِ عقلیہ" میں سے ہیں ۔ لہذا قرآن کریم میں دیگر انبیا ء کے جو بعض آئین بیان ہوئے ہیں ان میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے۔(شوری ایت 13)

۴۔ ماں باپ کے ساتھ نیکی

حرام ہے حالانکہ یہ اس آیت میں ذکر ہونے والے دیگر محرمات سے ہم آھنگ بھی تھا، بلکہ احسان ونیکی کے عنوان سے ذکر فرمایا ہے، یعنی نہ صرف یہ کہ انھیں تکلیف پہنچانا حرام ہے بلکہ اس کے علاوہ ان پر نیکی رنا بھی لازم وضروری ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی جاذبِ نظر ہے کہ کلمہٴ ”احسان“ کو ”ب“ کے ذریعہ متعدی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ”وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡ “ ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی نہیں کیا کیونکہ ”احسان“ اگر ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی ہو تو اس کے معنی نیکی کرنے کے ہوں گے چاہے بالواسطہ، لیکن اگر ”احسان“ کا ”ب“ کے ذریعہ کیا جائے تو اس کے معنی بالواسطہ اور بطور مستقیم نیکی کرنے کے ہیں، بنابریں آیت اس بات کی تاکید کررہی ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کے مسئلے کو اس قدر اہمیت دینا چاہیے کہ شخصاً اور بغیر واسطہ کے اسے انجام دینا چاہیے۔( بحوالہ تفسیر المنار ج ۸ ص ۱۰۵ ۔)

۵۔ گرسنگی کی وجہ سے اولاد کا قتل

۵۔ گرسنگی کی وجہ سے اولاد کا قتل :۔اس آیت سے مفہوم یہ نکلتا ہے کہ عرب زمانہٴ جاہلیت میں بیجا تعصّب وغیرت کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے، بلکہ لڑکوں کو (جو اس دور میں بزرگی وشرف کا سرمایہ سمجھے جاتے تھے ) بھی فقر وتنگدستی کے خوف سے قتل کردیتے تھے، اس آیت میں الله تعالیٰ نے اپنے وسیع خوان نعمت، کہ جس سے ضعیف ترین موجودات بھی بہرہ ور ہوتے ہیں، کی طرف توجہ دلاکر اس بُرے کام سے روکا ہے۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ”زمانہ جاہلیت کا عمل “ہمارے زمانہ میں بھی پایا جاتا ہے اور ایک دوسرے انداز سے اس کی تکرار کی جاتی ہے کیونکہ بعض افراد غذا کی کمی کے خوف سے بے گناہ بچوں کو حالتِ جنین میں ”ضانع“ کرکے رحمِ مادر ہی میں قتل کردیتے ہیں۔ اگر چہ آج کل اسقاطِ حمل کے جواز پر کچھ دیگز بے اساس دلیلیں بھی بیان کی جاتی ہیں لیکن فقر اور خوراک کی کمی ان دلیلوں میں نمایاں تر ہے۔ یہ بات اور دیگر امور جو اس سے مشابہت رکھتے ہیں اس بات کے مظہر ہیں کہ عصر جاہلیت کی ہمارے زمانہ میں بھی تکرار ہوتی رہتی ہے بلکہ ”’بیسویں صدی کی جاہلیت“ قبل از اسلام کی جاہلیت سے بھی زیادہ وحشتناک اور وسیع تر ہے۔

۶۔ فواحش سے کیا مراد ہے؟

۔ فواحش سے کیا مراد ہے؟ : ۔ ”فواحش “ جمع ہے ”فاحشتہ“ کی اس کے معنی اس گناہ کے ہیں جو غیر معمولی اور نفرت آمیز ہو۔ بنابریں عہد شکنی، کم فروشی، شرک اور اسی طرح کے دوسرے گناہ اگر چہ گناہ کبیرہ میں سے ہیں لیکن فواحش کے مقابلہ میں ان کا ذکر مفہوم کے اسی فرق کے لحاظ سے ہے۔

۷ ۔ ان گناہوں کے پاس نہ جانا

۷ ۔ ان گناہوں کے پاس نہ جانا : ۔ مذکورہ بالا آیات میں دوجگہ لاتقربوا (نزدیک نہ جانا) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے اس بات کی قرآن کریم میں بعض دیگر گناہوں کے لیے بھی تکرار ہوئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تعبیر ان گناہوں کے لیے ہے جو جذبات کو برانگیختہ کرنے والے اور عام افراد کو اپنی طرف لبھانے والے ہیں۔ جیسے ”زنا و فحشاء “ اور کمزور یتیموں کا مال کھانا۔ اسی طرح دیگر گناہ ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ ان گناہوں کے پاس نہ جانا کہ ان کی دل لبھانے والی تاثیروں کی زد میں نہ آسکو۔

۸۔ نمایاں و پنھان گناہ

۸۔ نمایاں و پنھان گناہ : ۔ اس میں شک نہیں کہ جملہ ”نمایاں و پنہاں“ کے الفاظ میں ہر قسم کے گناہ شامل ہیں لیکن بعض احادیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:۔ ”ما ظہر ہوالزنا و ما بطن ہو المحالة“۔ ”نمایاں گناہ سے مراد زنا ہے اور پنہاں گناہ سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص خفیہ طور پر داشتہ رکھ لے“۔ یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کے موارد کا ذکر ایک مصداق کے طور پر ہے نہ یہ کہ مذکورہ عنوان اسی میں منحصر ہے۔

۹۔ یہودیوں کے دس گناہ

توریت فصل ۲۰ ”سفر خروج“ میں یہودیوں کے احکام دہگانہ پر نظر پڑتی ہے جو یہودیوں میں ”دس فرمان“ کے نام سے مشہور ہیں وہ اس فصل کے دوسرے جملہ سے شروع ہوتے ہیں اور ساتویں پر ختم ہوتے ہیں۔ اگر ان دس فرمانوں اور قرآن کے مدکورہ بالا دس فرمانوں کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ ؤنوں کے درمیان کافی فرق ہے، البتہ یہ اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا کہ توریت کا یہ حصّہ تحریف سے محفوظ رہ گیا ہے اور اس میں تغیر و تبدل نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ اس کے بعض دوسرے حصوں میں کیا گیا ہے، لیکن جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ یہ دس دن فرمان جو اس وقت نوریت میں موجوء ہیں اگر چہ ضروری مسائل پر مشتمل ہیں لیکن وسعت کے لحاظ سے اور اخلاقی و اجتماعی طور پر اور عقیدہ کی رو سے آیات مذکورہ بالا کی سطح سے بہت پست ہیں۔

۱۰۔ ان چند آیتوں نے کِس طرح مدینہ کی حالت بدل دی

۱۰۔ ان چند آیتوں نے کِس طرح مدینہ کی حالت بدل دی ان چند آیتوں نے کِس طرح مدینہ کی حالت بدل دی : ۔کتاب ”بحار الانوار“ اور اسی طرح کتاب ”اعلام الوریٰ“ میں ایک دلچسپ داستان اس سلسلہ میں ملتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات مذکورہ بالا لوگوں کے دلوں میں کس قدر اثر انداز ہوئی تھیں! ہم بھی اس واقعہ کو خلاصہ کے طور پر علی بن ابراہیم کی روایت سے بحار الانوار میں موجود ہے، نقل کرتے ہیں:۔ قبیلہ خزرج کے دو آدمی اسعد بن زرارہ اور ذکو ان بن عبد القیس ایک دفعہ مکہ میں آئے جبکہ اوس اور خزرج کے درمیان ایسی طولانی جنگ چھڑی ہوئی تھی کہ شب و روز میں کسی وقت بھی وہ لوگ اپنے ہتھیار کمر سے نہیں کھولتے تھے، ان کا آخری معرکہ ”یوم بعاث“ کے نام سے ہوا تھا۔ اس میں سے قبیلہ اوس کے خلاف ایک معاہدہ کریں۔ جس وقت یہ دونوں عتبہ بن رہبہ کے گھر پہنچے اور اس سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو عتبہ نے ان کے جواب میں کہا:۔ ہمارا شہر تمہارے شہر( مدینہ) سے کافی دور واقع ہے اس لیے تمہارے مدد کرنا ہمارے لیے مشکل ہے، خصوصاً ہمارے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جس نے ہمیں بُری طرح اپنی طرف متوجہّ کرلیا ہے۔ اسعد نے پوچھا: وہ کونسا مسئلہ؟ تم تو حرم کعبہ میں زندگی بسر کرتے ہو جو ایک جائے امن و امان ہے! عتبہ نے جواب دیا: ایک انسان ہم میں ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے: میں خدا کا فرستادہ ہوں وہ ہماری عقلوں کو ناچیز سمجھتا ہے اور ہمارے خداؤں کو بُرا کہتا ہے اس نے ہمارے جوانوں کو بگاڑ دیا ہے اور ہمارے اتحاد کو پراگندہ کردیا ہے۔ اسعد نے دریافت کیا: اس شخص کی تم سے کیا نسبت ہے؟ اس نے کہا: یہ عبداللہ بن عبدالمطلب کا فرزند ہے اور ہمارے شریف خاندانوں کا ایک ممتاز فرد ہے۔ یہ سن کر اسعد اور ذکوان کچھ سوچ میں پڑگئے اور انھیں یاد آیا کہ وہ مدینہ کے یہودیوں سے سنتے آئے ہیں کہ عنقریب ایک نبی مکہ سے ظہور کرنے والا ہے اور وہ مدینہ کی طرف ہجرت کرے گا۔ اسعد نے اپنے دل میں کہا کہ ایسا نہ ہوکہ یہ وہی نبی ہو جس کی پیشین گوئی یہودیوں نے کی تھی۔ اس کے بعد اس نے پوچھا: وہ ہے کہاں؟ عتبہ نے کہا: وہ اس وقت خانہ خدا کے پاس حجرِ اسماعیل میں بیٹھا ہے۔ آج کل اس کی جماعت کے لوگ پہاڑ کے ایک درّہ میں محصور ہیں۔ انھیں صرف ماہِ رجب میں جو حج و عمرہ کا زمانہ ہے آزادی دی گئی ہے تاکہ عمرہ بجالا سکیں اور لوگوں کے درمیان آسکیں لیکن میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں اس کی باتوں میں نہ آجانا اور اس سے بالکل بات نہ کرنا کیونکہ وہ ایک عجیب جادوگر بھی ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ مشرکینِ مکہّ نے مسلمانوں کو شعبِ ابوطالب میں بند کرکے گھیراؤ ڈال دیا تھا اور انھیں باہر نہیں نکلنے دیتے تھے۔ اسعد نے عتبہ سے کہا: اب میں کیا کروں کیونکہ میں نے تو خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے احرام باندھ لیا ہے لہٰذا طواف کرنا ضروری ہے اور تم یہ کہتے ہوکہ اس کے نزدیک بھی نہ جانا؟ عتبہ نے جواب دیا: تھوڑی سی روئی سے اپنے کانوں کو بند کرلو تاکہ اس شخص کی کوئی بات نہ سن سکو۔ اسعد مسجد الحرام میں پہنچا۔ اس نے روئی سے اپنے کانوں کو بند کر رکھا تھا۔ اس حالت میں اس نے طواف خانہ کعبہ کرنا شروع کیا۔ اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بنی ہاشم کے لوگوں کے درمیان حجرِ اسماعیل میں خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسعد نے ایک نگاہِ غلط انداز پیغمبرؐ پر ڈالی اور ان کے پاس سے جلدی سے گذر گیا۔ جب طواف کے دوسرے دور میں پہنچا تو اس نے اپنے آپ سے کہا : مجھ سے بھی زیادہ کوئی احمق نہ ہوگا کیا یہ ممکن ہے کہ مکہ میں اتنا بڑا واقعہ رونما ہوجائے جو اہلِ مکہ کے زباں زد ہو اور میں اس سے بے خبر رہوں اور جب مدینہ واپس جاؤں تو اپنی قوم کو اس کے متعلق کچھ بھی نہ بتا سکوں۔ یہ خیال آتے ہی اس نے روئی اپنے کان سے نکال کر دور پھینک دی اور جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر اس نے پوچھا: آپ ہمیں کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ آنحضرت نے جواب میں فرمایا: میں اس بات کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ خدا وحدہٰ لاشریک ہے اور میں اس کا رسول کا رسول ہوں نیز میں لوگوں کو ان باتوں کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد آپ نے مذکورہ تین آیتوں کی تلاوت فرمائی جو دس حکموں پر مشتمل ہیں۔ جب اسعد نے یہ پُر معنی اور روح پر ور کلام سُنا جو اس کے جان و دل سے ہم آہنگ تھا تو اس کا عالم دگرگوں ہوگیا۔ اس کی زبان پر بے ساختہ جاری ہوا:۔ ”اشہد ان لا الٰہ الّا اللّٰہ و انّک رسول اللّٰہ“۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ میں یثرب کا رہنے والا ہوں، قبیلہ ”خزرج“ سے میرا تعلق ہے، ہمارا تعلق ہمارے بھائیوں ”قبیلہ اوس“ سے طولانی جنگوں کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے، شاید خداوند کریم آپ کی برکت سے اس ٹوٹے ہوئے بندھن کو دوبارہ جوڑ دے۔ اے نبی خدا: ہم نے آپ کے اوصاف قوم یہود سے سُنے تھے۔ وہ ہمیشہ آپ کے ظہور کی خبر دیا کرتے تھے۔ ہمارے تمنا ہے کہ ہمارے شہر ”مدینہ“ آپ کی ہجرت گاہ بنے کیونکہ یہودیوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں دیکھ کر ہمیں یہی بتایا ہے۔میں اللهکا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آپ کی خدمت میں آنے کا موقع دیا خدا کی قسم! میں تو یہ قصد لے کر آیا تھا کہ اہلِ مکہ سے اپنے بھائیوں کے خلاف جنگ میں مدد حاصل کرسکوں لیکن خدائے کریم نے مجھے اس سے بڑی کامیابی عطا کی۔ اس کے بعد اس کا ساتھی ذکوان بھی مسلمان ہوگیا اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے درخواست کی کہ کسی شخص کو ان کے ہمراہ مدینہ روانہ کریں تاکہ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دے اور انھیں اسلام کی طرف دعوت دے شاید اس طرح یہ جنگ کی بھڑکتی ہوئی آگ خاموش ہوجائے چنانچہ آنحضرت نے مصعب بن عمیر کو ان کے ہمراہ مدینہ بھیجا اور اس وقت سے مدینہ میں اسلام کی داغ بیل پڑی جس سے مدینہ کی صورت بدل گئی۔ یہ سب واقعہ مذکورہ بالا تین آیتوں کی برکت سے ہوا۔ )بحوالہ بحارالانوار طبع جدید جلد ۱۵۔ ص ۹۰۰۔۱۰ )

154
6:154
ثُمَّ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ وَتَفۡصِيلٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُونَ
اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو (آسمانی) کتاب دی ، جو نیک تھے ان پر (اپنی نعمت کو) تمام کیا اور تمام چیزیں (جن کی ان کو ضرورت تھی) ان پر واضح کر دیں۔ یہ کتاب ہدایت و رحمت کا سرمایہ تھی، تاکہ وہ (قیامت کے دن) اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 157 کے تحت ملاحظہ کریں۔

155
6:155
وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
یہ ایک پر برکت کتاب ہے جو ہم نے (تجھ پر) نازل کی ہے اس کی پیروی کرنا، اور پرہیز گاری کو اپنانا تاکہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 157 کے تحت ملاحظہ کریں۔

156
6:156
أَن تَقُولُوٓاْ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلۡكِتَٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيۡنِ مِن قَبۡلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمۡ لَغَٰفِلِينَ
(ہم نے ان خصوصیات کی کتاب نازل کی) تاکہ یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے جو دو قومیں (یہود و نصاریٰ) تھیں ان پر کتاب آسمانی نازل ہوئی تھی اور ہم اس کے مطالعہ سے بے بہرہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 157 کے تحت ملاحظہ کریں۔

157
6:157
أَوۡ تَقُولُواْ لَوۡ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهۡدَىٰ مِنۡهُمۡۚ فَقَدۡ جَآءَكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنۡهَاۗ سَنَجۡزِي ٱلَّذِينَ يَصۡدِفُونَ عَنۡ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصۡدِفُونَ
یا یہ نہ کہو کہ اگر ہم پر بھی آسمانی کتاب نازل ہوئی ہوتی تو ہم ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ (لو) اب یہ آیتیں اور روشن دلیلیں تمہارے پروردگار کی جانب سے آگئی ہیں۔ اسی طرح اس کی ہدایت و رحمت بھی (آ گئی ہے)۔ اس صورت میں ان لوگوں سے بڑھ کر کون ستمگار ہو گا جو آیات الٰہی کی تکذیب کرنے لگیں اور ان سے رو گردانی کریں۔ لیکن عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے رو گردانی کرتے ہیں، ان کی اس بلا وجہ رو گردانی کے سبب سخت سزا دیں گے۔

بہانہ سازوں کو ایک قطعی جواب

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس سے قبل کی آیات میں اسلام کے دس بنیادی احکام سے بحث کی گئی تھی، جو در اصل بہت سے احکام اسلامی کی اصل اصول ہیں، اور اس طرح کی تعبیر جیسے: ”انَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُستَقِیماً فَاتَّبِعُوہُ“ (یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرتے رہنا) سے برآمد ہوتا ہے کہ یہ احکام کسی خاص مذہب سے مخصوص ن تھے۔ خاص کر اس لیے کہ یہ سب کے سب اصولی احکام ہیں جن کی تائید عقل انیانی سے اچھی طرح ہوتی ہے۔ بنابریں آیاتِ گذشتہ کا مقصد ان احکام کو بیان کرنا ہے جو نہ صرف اسلام میں بلکہ ادیان ما یبق میں بھی رائج و شامل تھے۔ انہی کے ذیل میں ان آیتوں میں اللہ فرماتا ہے کہ”اس کے بعد ہم نے موسی کو آسمانی کتاب دی“ اور جو لوگ نیکو کار تھے ، ہمارے فرمان کو ماننے والے تھے، اور حق کے پیرو کار تھے ان کے لیے ہم نے اپنی نعمت کو کامل کردیا (ثُمَّ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ)۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے کلمہٴ ” ثمّ“ (جو نعت عرب میں عام طور سے ہطف یا تاخیر کے لیے آتا ہے) کے معنی واضح ہوگئے ہوں گے۔ اب آیت کے معنی یوں ہوں گے: پہلے ہم نے انبیائے ما سبق کو یہ ہمہ گیر احکام پہنچائے اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب عطا کی اور اس میں دستور العمل اور دیگر ضروری قوانین کی توضیح کردی۔ اس طرح ان مختلف اور ضعیف توجیہوں کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی جنھیں بعض مفسرین نے ”ثمّ“کے ضمن میں بیان کیا ہے۔ ضمناً یہ نکتہ بھی واضح ہوگیا کہ ”الذی احسن“ سے ان تمام افراد کی طرف اشارہ مقصود ہے جو نیکو کار ہیں اور کلمہٴ حق اور فرمانِ الٰہی کو قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ اور اس (توریت) میں ہر اس چیز کو بیان کردیا گیا تھا جس کی انھیں ضرورت تھی اور جو انسانی ترقی کی راہ میں کار آمد ہوسکتی تھی(وَ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ)۔ نیز یہ کتاب جو موسیٰ پر نازل ہوئی تھی سرمایہ ہدایت و رحمت تھی(وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً) ۔ یہ تمام امور اس لیے تھے کہ یہ لوگ روز قیامت اور ملاقات پروردگار کے دن پر ایمان لے آئیں اور روزِ معاد پر ایمان لانے کی وجہ سے ان کی گفتار و کردار پاک ہوجائے(لَّعَلَّہُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّہِمۡ یُؤۡمِنُوۡنَ)۔ ممکن ہے یہاں پر یہ سوال کیا جائےکہ اگر آئینِ حضرت موسیٰ ہر طرح سے کامل تھا( جیسا کہ کلمہٴ”تماماً“اس پر دلالت کرتا ہے ہے) تو پھر اس کے بعد آئینِ حضرت عیسیٰ اور پھر اس کے بعد آئینِ اسلام کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ ہر آئین اپنے زمانے کی حدود کے اندر جامع اور کامل ہوتا ہے اور یہ امر محال ہے کہ خداوندکریم کی جانب سے کوئی ناقص آئین نازل ہو لیکن یہی آئین جو اپنے زمانے کی رُو سے کامل تھا ممکن ہے کہ بعد میں آنے والے زمانوں کے لیے ناتمام وناقص ہو، جیسا کہ وہ نصاب جو پرائمری اسکول کے لیے تو ہر طرح سے مکمل ہوتا ہے لیکن سیکنڈری اسکول کے لیے ناقص ہوتا ہے، یہی راز ہے کہ مختلف زمانوں میں مختلف پیغمبروں کو ان کی کتابوں کے ساتھ تدریجاً بھیجا یہاں تک کہ یہ سلسلہ آخری پیغمبر اور آخری کتاب پر ختم ہوا، بیشک جب انسانوں میں آخری آئین قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوجائے گئی اور وہ آئین خدا کی طرف سے نازل ہوگیا تو اب کسی دوسرے آئین کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی، یہ بالکل ایسا ہے جیسے وہ افراد جو فارغ التحصیل ہوگئے ہوں اپنی معلومات کی بنیاد پر بذریعہ مطالعہ مزید علمی ترقیاں کرسکتے ہیں، لہٰذا ایسے مذہب کے پیروکاروں کو کسی نئے آئین کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ وہ حرکت درعمل اور آگے بڑھنے کے کافی راستے اسی آخری آئین کے ذریعے تلاش کرلیں گے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے متعلق مسائل اصلی توریت میں کافی حد تک موجود تھے حالانکہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ توریت اور اس کی دوسری کتابوں کے اندر یہ مسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں بھی ان دنیا پرست یہودیوں نے جواس امر کی طرف مائل تھے کہ قیامت کے بارے میں کم بولیں اور کم سنیں، کافی تحریف کرڈالی ہے۔ ہاں، موجودہ توریت کے نسخوں میں چند مختصر اشارے قیامت کی جانب موجود ہیں مگر یہ کہ اس حد تک کم ہیں کہ بعض افراد کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ یہودی اصولی طور پر روزِ قیامت کے معتقد نہیں ہیں لیکن واقفیت کے لحاظ سے یہ نسبت مبالغے سے زیادہ نزدیک ہے۔ آخر میں ہم ایک امر کی طرف اور توجہ دلانا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سابقاً بھی جلد اول(بحوالہ تفسیر نمونہ، ج۱، (اردوترجمہ) ص۱۸۳) میں ہم نے اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ قرآن کریم میں پروردگار کی جس ملاقات کا بار بار ذکر آیا ہے اس سے مراد ”حسّی ملاقات “ نہیں ہے اور نہ ہی آنکھوں سے دیکھا جانا مراد ہے بلکہ اس سے مراد ایک قسم کا ”شہود باطنی اور ملاقات روحانی“ ہے جو اس کے اعمال کے بدلے میں جہانِ آخرت میں اسے درپیش ہوں گے۔ اس کے بعد کی آیت میں نزولِ قرآن اور اس کی تعلیمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور گذشتہ آیت کی بحث کو مکمل کیا گیا ہے اور فرمایا ہے: یہ وہ کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے، ایسی کتاب جو بڑی باعظمت وپُربرکت ہے اور طرح طرح کی خوبیوں اور نیکیوں کا سرچشمہ ہے (وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ)۔ اور جب یہ کتاب اس طرح کی ہے تو پھر اس کی پیروی کرو پرہیزگاری کو اپنا شعار بناؤ اور اس کی مخالفت سے پرہیز کرو، شاید(۔ قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ ”لعل“ جو عام طور سے شاید کے معنی میں ہے، الله نے اپنی نسبت سے فرمایا ہے وہ ” تاکہ “ یعنی غایت کے معنی میں ہے کیونکہ ”شاید“ ترجّی کے لیے آتا ہے اور ترجّی علام الغیوب کے لیے محال ہے(مترجم) خدا کی رحمت ہمارے شاملِ حال ہوجائے (فَاتَّبِعُوۡہُ وَ اتَّقُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ)۔ اس کے بعد والی آیت میں مشرکوں پر بہانہ سازیوں اور فرار کرنے کے راستوں کو بند کردیا گیا ہے، پہلے ان سے یہ فرمایا: ہم نے یہ آسمانی کتاب ان خصوصیات کے ساتھ نازل کی ہے تاکہ تم یہ نہ کہو کہ کتاب آسمانی صرف دو قوموں (یہود ونصاریٰ) نازل ہوئی تھی اور ہم اس میں غور فکر کرنے سے غافل تھے لہٰذا اگر ہم نے تیرے حکم کی مخالفت کی تو وہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس کا مطالعہ نہ کرسکے کیونکہ تیرا فرمان دوسروں کے ہاتھ میں تھا اور وہ ہم تک نہ پہنچا (اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا ۪ وَ اِنۡ کُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِہِمۡ لَغٰفِلِیۡنَ)۔ (جملہ ”اٴَنْ تَقُولُوا “ ”لَئَلَّا تَقُولُوا “ ”تاکہ یہ نہ کہو“کے معنی میں ہے اور اس کے نظیرقرآن یا دیگر عبارات عربی ادب میں بہت زیادہ ہے۔) بعد کی آیت میں ان کافروں کی طرف سے وہی بہانہ نقل ہوا ہے مگر اس دفعہ اسے ذرا تفصیل کے ساتھ دہرایا گیا ہے جس میں خود نمائی اور زیادہ غرور کی آمیزش بھی ہے اور وہ یہ ہے : اگر ان پر قرآن نازل نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اس بات کا دعویٰ کرتے کہ ہم فرمانِ الٰہی کو بجالانے کے لیے اس قدر تیارتھے جتنا دوسری قومیں تیار نہیں ہوسکتی تھیں، ہم پر آسمانی کتاب نازل ہوئی تو ہم سب سے زیادہ قبول کرنے والے اور ہدایت پانے والے ہوتے (اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا الۡکِتٰبُ لَکُنَّاۤ اَہۡدٰی مِنۡہُمۡ)۔ در اصل پھلی آیت ان کے بہانے کو بتانا چاہتی ہے کہ اگر ہم راہ راست پر نہیں آتے تو یہ اس وجہ سے ہے کہ ہم کتب آسمانی سے بے خبر رہے اور یہ بے خبری اس وجہ سے ہے کہ کتابیں دوسروں پر نازل ہوئی تھیں لیکن یہ آیت ان( عربوں) کے احساس برتری اور اس بے بنیاد زعم کی حکایت کررہی ہے جو ان کے دماغوں میں سمایا ہوا تھا کہ نژادِ عرب کو دوسری قوموں پر امتیاز حاصل ہے۔ اسی مطلب کی ہم معنی سورہٴ فاطر کی آیت ۴۲بھی ہے جس میں ایک یقینی مسئلہ کے طور پر( نہ کہ قضیہ شرطیہ کے طور پر) اس مطلب کو بیان کیا گیا ہے، جہاں کہا گیا ہے :۔ ”مشرکوں نے بڑی تاکیدی قسم کھائی ہے کہ اگر ان کی جانب کوئی پیغمبر آجائے تو وہ تمام قوموں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے“ ۔ بہر حال قرآن کریم ان تمام دعووں کے جواب میں کہتا ہے: خدا نے تمام بہانہ تراشیوں کی راہوں کو تمھارے لیے بند کردیا ہے، کیونکہ: متعدد دلیلیں اور روشن آیتیں تمھارے پروردگار کی جانب سے تمھارے پاس آچکی ہیں، جو الٰہی ہدایت اور رحمت پروردگارکو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں (فَقَدۡ جَآءَکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ)۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ کتابِ آسمانی کے بدلے لفظ ”بیّنہ“ استعمال کیا گیا ہے جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کتابِ آسمانی ہر حیثیت سے مدلّل اور اطمینان بخش ہے جو اپنے دامنمیں یقین آور دلیلیں لیے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں بھی اگر یہ خدا کی آیتوں کی تکذیب کریں تو کیا ان سے زیادہ ظالم کوئی دوسرا ہوکستا ہے (ف فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ صَدَفَ عَنۡہَا)۔ ”صَدَفَ“ مادہٴ ”صَدفٌ“ (بروزن ”حَذفٌ“)سے مشتق ہے ، جس کے معنی کسی چیز سے بغیر غور وفکر کے شدید روگردانی کرنا، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان (کافروں) نے نہ صرف آیاتِ الٰہی سے روگردانی کی بلکہ بغیر غوروفکر کیے بڑی شدّت سے ان سے دُوری اختیار کی، بعض اوقات (صدف) دوسروں کو کسی کام سے روکنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ آخر میں خدا نے ایسے ضدی اور اپنی سمجھ سے کام نہ لینے والے افراد جو بغیر سوچے سمجھے سختی کے ساتھ حقائق کا انکار کردیتے ہیں اور اس سے بھاگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کے لیے بھی سدّراہ ہوتے ہیں، کی سزا کو ایک مختصر لیکن نہایت بلیغ جملے میں بیان فرمایا ہے، ارشاد ہوتا ہے:۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے روگرانی کرتے ہیں، شدید سزاؤں میں مبتلا کریں گے اور ان کی بلاوجہ اور بغیر سوچے سمجھے روگردانی کی وجہ سے ہے(سَنَجۡزِی الَّذِیۡنَ یَصۡدِفُوۡنَ عَنۡ اٰیٰتِنَا سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡدِفُوۡنَ)۔ کلمہٴ ”سوء العذاب“ کے معنی اگرچہ ”بری سزا“ ہیں لیکن چونکہ بُری سزا ہوتی ہے جو نوعی حیثیت سے سخت اور معمول سے زیادہ اور دردناک ہو اس لیے بہت سے مفسّروں نے اس کا مفہوم ”شدیدسزا‘ ‘ بیان کیا ہے۔ ایسے لوگوں کی سزا بیان کرنے کے سلسلے میں کلمہٴ ”یصدفون“ کی تکرار اس مطلب کو واضح کرنے کی غرض سے ہے کہ ان کی تمام مصیبتیں اور بدبختیاں اس وجہ سے ہیں کہ انھوں نے بغیر غوروفکر کیے اور بغیر دیکھے بھالے حقائق سے روگرانی کی اور اگر وہ کم از کم ایک ایسے شخص کی طرح جو شک کی حالت میں تلاش حق کررہا ہو ان آیات کا مطالعہ کرتے تو اپنے دردناک انجام سے دوچار نہ ہوتے۔

158
6:158
هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ رَبُّكَ أَوۡ يَأۡتِيَ بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَۗ يَوۡمَ يَأۡتِي بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفۡسًا إِيمَٰنُهَا لَمۡ تَكُنۡ ءَامَنَتۡ مِن قَبۡلُ أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
کیا انہیں صرف اس بات کا انتظار ہے کہ (موت کے) فرشتے ان کے پاس آئیں یا خدا (خود) ان کے پاس آئے (یہ توقع کیسی محال ہے!) یا خدا کی آیتوں میں سے کچھ آیتیں (جو روزقیامت کی نشانی ہوں ) ان کے پاس آئیں، لیکن جس روز یہ آیتیں آجائیں گی اس روز ان لوگوں کا ایمان لانا ، جو اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں گے، یا انہوں نے کوئی نیک عمل نہ کیا ہو گا ، انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچائے گا۔ (اے رسول) ان سے کہہ دو کہ (اب جبکہ تم ایسا بے جا انتظار و توقع کئے بیٹھے ہو تو پھر) انتظار کرو ، ہم بھی (تمہاری سزا کے وقت کا) انتظار کرتے ہیں۔

بے جا اور محال توقعات

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

پچھلی آیتوں میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے مشرکین پر اتمام حجّت کردیا ہے اور آسمانی کتاب یعنی قرآن کو سب کی ہدایت کے لیے بھیج دیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنی مخالفت کی توجیہہ کے لیے کسی بہانہ کا موقع نہ ملے۔ یہ آیت کہتی ہے : لیکن یہ ضدی لوگ اپنے طریقہٴ کار میں اس قدر سخت ہیں کہ یہ واضح دستور العمل (قرآن) بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوتا، گویا انھیں اپنی نابودی یا آخری موقع کے کھودینے یا محال باتوں کا انتظار ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: انھیں سوائے اس کے اور کسی چیز کا انتظار نہیں ہے کہ موت کے فرشتے انھیں لینے آجائیں (ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ)۔ یا یہ کہ تیرا پروردگار ان کے پاس آجائے تاکہ یہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ایمان لے آئیں (اَوۡ یَاۡتِیَ رَبُّکَ)۔ در حقیقت یہ لوگ امرِ محال کی توقع کررہے ہیں نہ یہ کہ خدا کا آنا یا اس کا دیکھنا ایک ممکن امر ہے، اس کی مثال بالکل یوں ہے کہ ہٹ دھرم قاتل جسے اس کے جرم کے ثبوت کے لیے کافی دلیلیں پیش کی جائیں لیکن پھر بھی وہ قائل نہ ہو تو اس سے ہم کہیں کہ اگر یہ تمام ثبوت بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہو تو شاید اس بات کا انتظار ہےں کہ اب خود مقتول زندہ ہوکر عدالت میں آئے اور یہ گواہی دے کہ تم نے اسے قتل کیا ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: یا تمھیں اس بات کا انتظار ہے کہ بعض وہ نشانیاں آجائیں جو روز قیامت سے کچھ پہلے ظاہر ہوںگی اور ان کے ظاہر ہونے کے بعد توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے اور اس دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا (اَوۡ یَاۡتِیَ بَعۡضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ)۔ یہاں پر کلمہٴ ”آیات ربّک“ اگرچہ کلی طور سے اور سربستہ استعمال ہوا ہے لیکن بعد کے جملوں کے قرینہ سے جن کی تفسیر آگے آئے گی، ان آیات کو ”آیات روز محشر“ کے مفہوم میں لیا جاسکتا ہے جیسے وحشتناک زلزلے، سورج، چاند ستاروں کا بے نور ہو جانا اوراسی طرح کی دوسی نشانیاں جو روز قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ہیں۔ یا اس سے مراد ان کے وہ نامعقول مطالبے ہیں جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ !آلہ وسلم سے کیا کرتے تھے، منجملہ ان کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ ان کے سروں پر آسمانی پتھر برسیں یا یہ کہ عربستان کا خشک ریگستان بہتے ہوئے چشموں اور ہرے بھرے نخلستان سے بھر جائے۔ اسی کے ذیل میں یہ اضافہ فرمایا ہے کہ: جس روز بھی یہ نشانیاں ظاہر ہوں گی اس روز بے ایمانوں کا ایمان لانا اور ان لوگوں کا ایمان جنھوں نے کوئی نیک کام نہ کیا ہوگا قابل قبول نہ ہوگا اور توبہ کے دروازے بھی ان کے لیے بند کردیے جائیں گے کیونکہ توبہ اور ایمان لانا اُن حالات میں اجباری اور اضطراری کیفیت کا حامل ہوگا جو اختیاری توبہ اور ایمان کے ہم پایہ نہیں ہے (یَوۡمَ یَاۡتِیۡ بَعۡضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنۡفَعُ نَفۡسًا اِیۡمَانُہَا لَمۡ تَکُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ کَسَبَتۡ فِیۡۤ اِیۡمَانِہَا خَیۡرًا)۔ ہم نے جوکچھ بیان کیا اس سے معلوم ہوا کہ جملہ ”اٴَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِھَا خَیْرًا“ کے معنی یہ ہیں کہ اس روز نہ صرف ایمان فائدہ بخش نہ ہوگا بلکہ ایسے لوگ بھی جو ایمان لائے ہیں مگر انھوں نے کوئی نیک کام نہیں کیا ہے، اس روز کوئی نیک کام کرنا بھی انھیں فائدہ نہیں پہنچائے گا کیونکہ اس وقت حالات ہی ایسے ہوں گے کہ ہر شخص بے اختیارانہ طور پر یہ چاہے گا کہ بُرے کاموں کو چھوڑدے اور نیک اعمال بجالائے۔ آیت کے آخر میں تہدید آمیز لہجہ میں ان ضدی افراد سے فرماتا ہے:۔ اچھا اب جبکہ تمھیں اس قسم کا انتظار ہے تو یہی انتظار کیے جاؤ، ہم بھی (تمھارے دردناک انجام کے) انتظار میں رہیں گے (قُلِ انۡتَظِرُوۡۤا اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ)۔

عمل صالح کے بغیر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں

آیت مذکورہ بالا سے چند قابل توجہ نکات معلوم ہوتے ہیں، ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ یہ آیت ایسی راہ نجات کا پتہ دے رہی ہے جو ایمان کے زیر سایہ ہے، پھر ایمان بھی وہ ایمان جس کی روشنی میں بندہ اعمال نیک بجالائے۔ ممکن ہے کوئی پوچھے کہ کیا تنہا ایمان کافی نہیں ہے، چاہے وہ تمام سال اعمال خیر سے خالی ہو؟ اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے: ہم نے مانا کہ کچھ باایمان افراد ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن سے لغزشیں ہوجائیں اور وہ گناہوں کےمرتکب بھی ہوجائیں پھر اس کے بعد گناہوں پر نادم وپشیمان بھی ہوں اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں لیکن ایسا با ابمان شخص جس نے اپنی عمر میں کافی مواقع کے باوجود کوئی نیک عمل نہ کیا ہو بلکہ اس کے برعکس وہ رہ طرح کے بُرے کاموں میں مشغول رہااور ہر قسم کی سیاہ کاری اس سے سرزد ہوئی ہو، بہت بعید معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص نجات یافتہ ہوجائے اور اس کا یہ عمل سے خالی ایمان اسے فائدہ پہنچائے کیونکہ اصولی طور پر یہ یقین نہیں آتا کہ کوئی شخص کسی نظریہ پر ایمان رکھتا ہو اس کے باوجود اپنی تمام عمر ایک میں مرتبہ بھی اس نظریہ کے قوانین پر عمل پیرا نہ ہوسکے بلکہ اس کے برعکس اس کے تمام قوانین کو ٹھکرادے، اس کا ایسا کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہوگا کہ اسے سرے سے اس نظریے پر ایمان واطمینان نہ تھا، اس طرح سے معلوا ہوا کہ ایمان وہی ہے جو عمل کے ہم پہلو ہو چاہے وہ عمل نیک تھوڑآ ہی کیوں نہ ہو تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اس کے دل میں ایمان کا وجود ہے۔

159
6:159
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ إِنَّمَآ أَمۡرُهُمۡ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
وہ لوگ جنہوں نے اپنے آئین کو پراگندہ کر دیا اور وہ مختلف جتھوں (اور مختلف مذہبوں ) میں بٹ گئے، تمہیں (اے رسول!) ان سے کوئی واسطہ نہیں، ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے ، لہٰذا خدا ہی انہیں ان کے کرتوتوں سے آگاہ کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔

160
6:160
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشۡرُ أَمۡثَالِهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَىٰٓ إِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے گا اسے دس گنا صلہ ملے گا، اور جو شخص کوئی برا کام کرے گا اسے اتنی ہی سزا ملے گی (جتنا برا کام کیا تھا) اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔

نفاق پھیلانے والوں سے علیحدگی کا حکم

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

نفاق پھیلانے والوں سے علیحدگی کا حکم جودس فرمان پچھلی آیتوں میں گذرے ہیں جن کے آخر میں یہ حکم تھا کہ خدا کی صراطِ مستقیم کی پیروی کرو اور ہر طرح کے نفاق اور اختلاف کا مقابلہ کرو، یہ آیت در اصل اسی مفہوم کی تفسیر وتوضیح کے ضمن میں ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ وہ لوگ جنھوں نے اپنے آئین ومذہب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے (اے رسول!) تمھارا ان سے کسی معاملے میں کوئی ربط نہیں، نہ ان کا تم سے کسی چیز میں ربط ہے کیونکہ تمھارا آئین توحید اور تمھارا دین صراطِ مستقیم ہے اور راہِ راست ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے (اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ)۔ اس کے بعد اس طرح کے تفرقہ انداز لوگوں کی تحدید ومذمّت کے لیے فرماتا ہے : ان کا کام خدا کے سپرد ہے، وہ انھیں کیفر کردار سے آگاہ کرے گا (اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ) لغت میں لفظ ”شیع“کے معنی فرقوں،گروہوں، پیروں کے ہیں، بنابریں اس کا مفرد (شیعہ) کے معنی اس گروہ کے ہیں جو کسی خاص مسلک یا شخص کی پیروی کرے، یہ لفظ ”شیعہ“ کے لغوی معنی ہیں، لیکن اصطلاحی معنی میں اس کے خاص معنی او ان لوگوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو پیغمبر کے بعد مسلک امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے پیرو ہیں، لہٰذا اس کے لغوی اور اصطلاحی معنی میں اشتباہ نہیں ہونا چاہیے (موٴلف) مطلب یہ ہے کہ یہاں پر لفظ ”شیع“ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے نہ کہ اصطلاحی معنی، لہٰذا کوئی صاحب عقل اس آیت کو مذہب شیعہ کے خلاف استعمال نہیں کرسکتا(مترجم)

چند اہم نکات اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ سے کون مراد ہیں؟

چند اہم نکات ۱۔ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں؟ مفسرین میں سے کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آیت یہود ونصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہوگئے تھے۔ بعض دوسرے مفسّرین کا خیال ہے کہ یہ اسی امّت محمّدی کے ان تفرقہ انداز کی طرف اشارہ کررہی ہے جنھوں نے مختلف تعصبّات اور جذبہٴ تفوق طلبی اور جاہ پسندی کی وجہ سے اس امت مسلمہ کے درمیان نفاق وافتراق کا بیج بویا ہے ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس آیہٴ کریمہ میں عمومی طور سے ان تمام تفرقہ پسند افراد کا حکم بیان کیا گیا ہے جنھوں نے طرح طرح کی بدعتیں ایجاد کرکے بندگانِ خدا کے درمیان نفاق واختلاف پھیلایا ہے، چاہے وہ پچھلی امتوں میں گزرے ہوں یا ان کا تعلق اس امت سے ہو ۔ لہٰذا اگر ہمیں اہلبیت طاہرین علیہم السلام کی روایات میں اور اسی طرح اہل سنّت کی روایات میں بھی یہ ملتا ہے کہ اس آیت سے اس امت کے تفرقہ انداز اور بدعت پھیلانے والے لوگ مراد ہیں( بحوالہ نور الثقلین، جلد اوّل، ص۶۸۳) تویہ بیان مصداق کے طور پر ہے (نہ کہ اس سے انحصار مراد ہے)کیونکہ اگر اس مصداق کو بیان نہ کیا جاتا تو بعض کو یہ خیال گزرتا کہ اس آیت سے صرف پچھلی امتیں مراد ہے، اس طرح وہ خود کو اس آیت کی مذمّت سے بَری قرار دے لیتے ۔ تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت کے ذیل میں روایت ہے: ”فارقوا امیر المومنین علیہ السلام وصاروا احزاباً“ یعنی اس آیت میں ان لوگوں کی جانب اشارہ ہے جنھوں نے امیرالمومنین علیہ السلام کو چھوڑدیا اور وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں( بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم قمی) نیز وہ روایات بھی اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں جن میں حضرت رسالتمآب صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے پیشنگوئی کے طور پر فرمایا ہے: ” میرے بعد یہ امّت مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی“

تفرقہ اور نفاق کی برائی

یہ آیت اس امر کی بڑی تاکید کے سات دُہرا رہی ہے کہ اسلام آئین وحدت ویگانگی ہے اور ہر طرح کے نفاق،تفرقہ اور انتشار سے بیزار ہے، اس بناپر بڑی تاکید کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد الٰہی ہے کہ تمھارے کام کو تفرقہ انداز لوگوں سے کوئی مشابہت نہیں ہے، خدائے قہّار ومنتقم ان سے انتقام لے لے گا اور ان کے انجام بد کو ان کے سامنے لائے گا ۔ توحید نہ صرف ایک اصل اسلام ہے بلکہ اسلام کے تمام اصول و فروع اور اس کے تمام آئین و فرامین توحید کے محور پر گھومتے ہیں ۔ تمام تعلیمات اسلامی کے پیکر میں توحید روح کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جسدِ اسلام میں توحید ہی کی روح پھونکی گئی ہے ۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ آئین اسلام جس کے تمام اصولوں کو محدت و یگانگی نے جیات بخشی ہے آج وہی آئیں، تفرقہ اندازوں اور نفاق افگنوں کے ہاتھوں کچھ اس طرح گرفتار ہوا ہے کہ اس کے اصلی خداو خال گم ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہر روز ایک نغمہٴ شوم اس صدائے بوم کی طرح جو ویرانہ میں سنائی دے، کسی نہ کسی گوشہ سے بلند ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی شخص جسے ہیرو بننے کا شوق ہو یا کسی دماغی مرض میں گرفتار ہو یا کج رفتار ہو وہ کسی قانونِ اسلامی کے خلاف عَلَمِ مخالفت اونچا کرتا ہے جس کے گرو کچھ نادان افراد جمع ہوجاتے ہیں اور اس طرح ایک نئے اختلاف کا دروازہ کھل جاتا ہے. عام مسلمانوں کی بے خبری اور آئیں اسلامی سے ان کا جہل اس طرح تفرقہ اندازی میں وہی کردار ادا کرتا ہے جو دشمن کی بیداری اور فن تفرقہ سے آگاہی ادا کرتی ہے ۔ یہ دونوں امور اس افتراق و اختلاف میں بہت موٴثر ہوتے ہیں ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ مسائل جو صدیوں سے مورد بحث چلے آرہے ہیں، بعض لوگ تفرقہ ڈالنے کے لیے نئے سرے سے معرض بحث میں لاکر جنجال برپا کرتے ہیں تاکہ عوام کے افکار کو اپنی طرف متوجہ کریں لیکن جیسا کہ آیت مذکورہ بالا کہہ رہی ہے اسلام ایسے لوگ سے اور اسلام سے بیگانہ ہیں اور آخر میں ان تفرقہ انداز افراد کی تمام کوشش رائیگاں جائیں گی ۔

مذہب شیعہ پر مولف "المنار" کے ناروا حملے

موٴلف تفسیر ”المنار“ جو ملّتِ شیعہ سے بری طرح بدظن ہیں اتنا ہی عقائد شیعہ اور تاریخ شیعہ سے با خبر بھی ہیں ۔ اس آیت کے ذیل میں دعوت اتحاد و اتفاق کی نقاب ڈال کر موصوف نے شیعوں پہ خامہ فرسائی کی ہے اور ان پر یہ اتہام لگایا ہے کہ یہ شیعہ ہیں کہ جنھوں نے اسلام میں تفرقہ ڈالا ہے، یہ اسلام کے مخالف ہیں اور مذہب کے نام پر خلاف اسلام اعمال میں مشغول ہیں!، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیہ مذکورہ میں جو لفظ ”شیعاً“ آیا ہے، اور جس کو مسئلہ ”تشیع یا شیعہ“ سے کوئی ربط نہیں ہے اسے اپنے پوچ دعوے کے اثبات میں عنوان قرار دیا ہے: ان صاحب کی عبارتیں اور ان کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ خود ان کے اعتراض کا جواب ہیں اور وہ اس بات کے زبر دست شاہد ہیں کہ ان کو تاریخ و عقائد شیعہ کا کوئی علم نہیں ہے کیونکہ: (1)موصوف نے پہلے تویہ دعویٰ کیا ہے کہ ملت ”شیعہ“اور ”عبداللہ بن سبا“ یہودی کے درمیان ربط خاص ہے، حالانکہ عبد اللہ بن سبا کا وجود ہی مشکوک ہے (مصری عالم ”طٰہٰ حسین“ نے اپنی کتاب ”عبداللہ بن سبا“ میں اسی بات کو اپنی اس کتاب کا موضوع سخن بنایا ہے کہ یہ شخص کو انھوں نے اس میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ایک فرضی شخصیت ہے جسے محض شیعوں کو بدنام کرنے کے لیے تراشا گیا ہے، ملاحظہ ہو کتاب ”عبد اللہ بن سیا“ مطبوعہ مصر (مترجم)اور بہ فرض وجود اس نے تاریخ شیعہ یا کتب شیعہ میں کوئی کردار ادا انھیں کیا ہے، پھر یہ ادعا کیا ہے کہ ”شیعہ“ اور فرقہ ”باطنیہ“ اور فرقہ ”ضالّہ“ کے درمیان ارتباط ہے حالانکہ یہ دونوں فرتے شیعوں کے سخت دشمن ہیں ۔ اگر کسی کو تاریخ شیعہ سے مختصر آگاہی ہو تو اسے بھی پتہ چل جائے گا کہ اس قسم کے دعوے و اہی خیالات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے بلکہ یہ افترا و تہمت ہیں ۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ موصوف نے شیعوں کو ”غُلات“ سے نسب دی ہے (غلات وہ فرقہ ہے جس نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا ہے اور وہ انھیں خدا سمجھتا ہے) حالانکہ فقہ شیعہ میں انھیں ایسے کافروں کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے جن کا کفر مسلّم ہے ۔ اس کے باوجود موصوف لکھتے ہیں شیعہ اہل بیت علیہم السلام اور دوسری چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ۔ یہ مسلمہ بات ہے کہ اگر موٴلف ”المنار “ قبل از تحقیق فیصلہ اور بے جا تعصبات سے اجتناب کرتے اور اس بات کی کوشش کرتے کہ شیعہ عقائد کو خود شیعوں سے دریافت کرتے یا ان کی کتابیں پڑھتے ، نہ کہ ان کے دشمنوں کی کتابوں کو اپنا مدرک علم و معلومات قرار دیتے ، تو ان کو بخوبی معلوم ہوجاتا کہ اس قسم کی باتیں ان سے منسوب کرنا نہ صرف کذب و بہتان ہے بلکہ مضحکہ خیر اور خندہ آور بھی ہے ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے مذہب شیعہ کی پیدائش کو ایرانیوں کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ ایرانیوں کے شیعہ ہونے سے کئی صدیاں قبل”مذہب تشیع“ عراق حجاز اور مصر میں پھیل چکا تھا ۔ مدارک تاریخی اس حقیقت کے زندہ گواہ ہیں ۔() علامہ ابوحاتم سہل بن عثمان سجتانی بصری نحوی اوقات ۲۲۸،ء میں اپنی کتاب ”الزنتہ,, کی جلد سوم میں لفظ ”شیعہ“ کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:۔ اسلام میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ، کی موجود گی میں سب سے پہلے جو نام ظاہر ہوا وہ نام ”شیعہ“ سے پہلے یہ چار صحابیوں کا لقب تھا: سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد بن اسود اور عمار یاسر، صفین کی جنگ ہونے تک صرف ان چاروں کو لقب ”شیعہ“ سے پکارا جاتا تھا، جب جنگ صفین برپا ہوئی تو اس نم ”شیعہ“ نے تمام دوستان علی بن ابی طالب میں شہرت حاصل کرلی تاسیس الشیعہ ۲۴۰ ء (مترجم) ۲ شیعوں کا ایک بڑاگناہ یہ ہے کہ انھوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قطعی فرمان پر عمل کیا ہے جو اہل سنت کے معتبر ترین مدرکوں میں بھی مذکورہ ہے اور وہ فرمان یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمھارے درمیان دوگران مایہ چیزیں اپنی یادگار کے طور پر چھوڑے جارہا ہوں، ان سے و ابستہ رہنا کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے ، خدا کی کتاب اور میری عترت“ ۔( ۔۔( ملاحظہ ہو: صحیح ترمندی ۳/۱۰۰ سنن بہیقی ۱/۱۳ سنن دارمی ۲/۴۳۱ کنزا العمل ۱/۱۵۴ و ۱۵۹ طبقات ابن سعد ۲/۲ و کتب دیگر اور صحیح مسلم ۲/ ۳۲۶ طبع لکھنو (مترجم ) شیعوں کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے مشکلات اسلامی میں اپنی پناہ گاہ ان ہستیوں کو بنایا ہے جو آئین اسلام سے سب سے زیادہ آگاہ تھیں ۔ اور وہ اہل بیت رسول علیہم السلام کی ذوات مقدسہ ہیں ۔ چنانچہ شیعوں نے انہی سے اپنے احکام دین اخذ کیے ہیں ۔ شیعوں کی خطا یہ بھی ہے وہ عقل و منطق کی پیروی کرتے ہوئے قرآن و سنت کے زیر سایہ ”اجتہاد“ کے دروازہ کو کھلا ہوا سمجھتے ہیں اس طرح سے انھوں نے فقہ اسلامی کو حرکت بخشی ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں: اس امر کی کیا دلیل ہے کہ قرآن و سنت کو سمجھنے کی قوت کو صرف ”چار افراد“ میں منحصر کردیا جائے اور ان کے علاوہ باقی تمام افراد کو ان کی پیروی کرنے پر مجبور کیا جائے؟ کیا قرآنی خطابات کا رُخ ہر زمانے کے ایماندار افراد کی طرف نہیں ہے؟ کیا اصحاب رسولؐ قرآن اور سنت کو سمجھنے کے لیے کچھ معین اشخاص کی پیروی کرتے تھے؟ لہٰذا اس کی کیا ضرورت ہے کہ ہم اسلام کو ایک پرانی اور خشک چار دیواری جس کا نام ”مذاہب اربعہ ہے“ میں محصور کریں؟! شیعوں کا گناہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں: اصحاب پیغمبرؐ کو دیگر افراد کی طرح ایمان و عمل کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے، ان میں سے جن کا عمل قرآن و سنت کے مطابق ہے وہ اچھے ہیں (اور ان سے محبت کی جائے) اور وہ اصحاب جنھوں نے پیغمبر کے دور میں یا آنحضرت کے وصال کے بعد کتاب و سنت کے خلاف عمل کیا ہے انھیں چھوڑ دینا چاہیے اور محض لفظ ”صحابی“ کو فتنہ پروروں کے لیے ایک ڈھال نہ بنایا جائے اور معاویہ جیسے افراد کو محترم نہ سمجھا جائے وہ معاویہ کہ جس نے تمام ضوابط اسلامی کو پیروں تلے روند دیا تھا اور اس نے اس امام وقت پر خروج کیا جسے تمام امت اسلامی کم از کم اس دور میں امام مانتی ہے، اور اس نے بہت سے بے گناہوں کا خون بہایا تھا، یہی حال کچھ ان اصحاب کا ہے جو دولت کی طمع میں معاویہ کے طرفدار اور اس بغاوت میں اس کے شریک کار رہے ۔ ہاں شیعہ اس طرح کے گناہوں کے مرتکب بھی ہیں اور معترف بھی لیکن ذرا بتلانا کہ شیعوں سے زیادہ مظلوم بھی کوئی ایسی قوم ہے جس کی تاریخ اور زندگی کے درخشاں و پر وقار پہلووں کو تاریک کرکے پیش کیا جائے؟ دروغ و بہتان کا ایک طو مار اس کے خلاف باندھ دیا جائے؟ یہاں تک کہ اسے اتنی اجازت بھی نہ ملے کہ وہ اپنی صفائی کے طور پر عام مسلمانوں میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرسکے بلکہ یہ کہا جائے کہ اس کے عقائد کو اس کے دشمنوں سے اخذ کیا جائے نہ کہ خود اس سے۔ کیا وہ گروہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان (حدیث ثقلین) پر عمل پیرا ہے (جبکہ دوسروں نے اس پر عمل نہیں کیا) تفرقہ انداز اور نفاق پر ور محسوب ہوگیا؟ کیا یہ مناسب ہے کہ یہ گروہ جس راہ پر جارہا ہے اس پر چلنے سے روک دیا جائے تاکہ اتحاد و اتفاق قائم ہوجائے یا ان لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے جو منزل سے بھٹک گئے ہیں؟ ۳علوم اسلامی کی تاریخ بتلاتی ہے کہ علوم اسلامی میں بالعلوم شیعہ ہی پیش قدم تھے ۔ یہاں تک کہ شیعوں کو علوم اسلامی کا موجد اور مورث اعلیٰ سمجھا جاتا ہے) ۔اس امر کے مدارک سے آگاہ ہونے کے لیے ملاحضہ ہو کتاب ”تاسیس الشیعہ العلوم الاسلام“ اور کتاب ”اصل الشیعہ و اصول“ خوش قسمتی سے دونوں کتابوں کا فارسی ترجمہ ہوچکا ہے (دوسری کتاب کا اردو میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے ۔ مترجم) علمائے شیعہ نے جو گر انقدر کتابیں علم تفسیر، تاریخ، حدیث، فقہ، اصول، رجال اور فلسفہ اسلامی میں لکھی ہیں یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے چھپایا جا سکے ۔ یہ کتابیں تمام عمومی کتاب خانوں میں موجود ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں (ہاں اس سے اہل سنت کے بعض کتب خانے مستثنیٰ ہیں جہاں عام طور پر کتب شیعہ کا داخلہ ممنوع ہے، حالانکہ ہم نے صدیوں سے اپنے کتب خانوں میں کتب اہل سنت کے داخلے کی عام اجازت دے رکھی ہے!) اور یہ کتابیں ہمارے دعوے کی زندہ دلیل ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ تمام بیش قیمت کتابیں عظمتِ اسلامی اور تعلیمات اسلامی اور تعلیمات اسلام کو پھیلانے کے لیے لکھی ہیں کیا یہ سب اسلام کے دشمن تھے؟ کیا کوئی ایسا دشمن تمہاری نظر میں ہے جس نے اس قدر دوستی اور محبت کی ہو؟ آیا سوائے مخلص عاشق کے کوئی ایسا شخص ہے جس نے قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اتنی اہم خدمات انجام دی ہوں؟ آخر کلام میں ہمیں صرف اتنا کہنا ہے کہ اگر واقعاً آپ یہ چاہتے ہیں کہ نفاق اور تفرقہ دور ہوجائے، تو آئیے بجائے تہمت تراشویوں کے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کریں کیونکہ اس طرح نارواتہمتیں نہ صرف اتحاد اسلامی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی ہیں بلکہ وحدت اسلامی پر کاری ضرب لگاتی ہیں ۔

جزا بیشتر سزا کمتر !

اس کے بعد کی آیت میں اللہ کی رحمت اور اس کی وسیع جزا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس کے نیکو کار بندوں کو دی جائے گی اور پچھلی آیت میں جو تہدید کی گئی ہے اس کی تکمیل اس تشویق سے کی گئی ہے، فرماتا ہے: جس نے بھی کوئی نیک کام کیا اسے دس گناہ بدلہ ملے گا (مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِہَا) ۔ اور جس نے بھی بُرا کام کیا اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی (وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا) ۔ مزید تاکید کے لیے اس جملے کا بھی اضافہ کیا ہے: ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا، وہ صرف اپنے عمل بد کے برابر سزا پائیں گے (وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ) یہاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں ”حسنة“ اور ”سیئة“ سے کیا مراد ہے؟ آیا اس سے مراد صرف ”توحید“ اور ”شرک“ ہے یا اس سے زیادہ وسیع معنی مراد ہیں ۔ اس مسئلے میں مفسرین کے مابین گفتگو ہے لیکن آیت کا ظاہر ہر قسم کے نیک عمل ، نیک فکر ، نیک عقیدہ یا بد فکر، بد عقیدہ کو اپنے دائرہ میں سموئے ہوئے ہے کیونکہ ”حسنة“ و ”سیئة“ کے معنی کو محدود کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔

چند مزید نکات

۱۔ ”جاء بہ“ سے مراد: گزشتہ جملے کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ ”جاء بہ“ سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنے نیک یا بد عمل کو اپنے ہمراہ لائے گا، یعنی جب بندہ عدل الٰہی کی عدالت میں آئے گا تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ خالی ہاتھ اور تنہا آئے بلکہ اپنے عقیدہ اور نیک عمل لائے گا یا غلط عقیدہ اور عمل بد کے ساتھ آئے گا یہ ہر حالت میں اس کے ساتھ اس عقیدہ سے جدا نہ ہوں گے اور آخرت کی ابدی زندگی میں اس کے ساتھی اور ہمدم ہوں گے ۔ قرآن کریم کی دوسری آیات میں بھی یہ تعبیر اسی معنی میں نظر آتی ہے، چنانچہ سورہٴ ق کی آیت ۳۳ میں ہم پڑھتے ہیں: <مَنْ خَشِیَ الرَّحْمَانَ بِالْغَیْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِیبٍ ” بہشت ان لوگوں کے لیے ہے جو خدا کو ایمان بالغیب کے ذریعہ پہچانیں اور اس سے ڈریں اور توبہ کرنے والا دل جو احساس فرض سے بھرا ہوا ہوبروزِ محشر اپنے ساتھ لے کر آئیں ۲۔ جزا کے مختلف درجے : مذکورہ آیت میں ہم نے پڑھا کہ ”حسنہ“ کی جزا دس گُنا ہے حالانکہ قرآن کی بعض دوسری آیتوں میں صرف ”اضعافاً کثیرہ“ (بہت زیادہ بڑھ چڑھ کر) پر اکتفا کی گئی ہے (جیسے سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۴۵) نیز بعض دوسری آیتوں میں راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کا بدلہ سات سو ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے جیسے (آیت ۲۶۱ سورہٴ بقرہ) ایک آیت میں تو اجر وجزا کو الله تعالیٰ نے بے حساب فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: <اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ اَجْرَہُم بِغَیرِ حِسَابٍ ”وہ لوگ جن کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آتی ان کو بے حساب اجر دیاجائے گا“(سورہٴ زمر/۱۰) یہ بات واضح ہے کہ ان تین آیتوں میں کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے، واقعہ یہ ہے کہ نیکو کاروں کو کم ازکم جو اجر ملے گا وہ دس برابر ہوگا، پھر اس کے بعد اہمیتِ عمل ، درجہٴ اخلاص، اس عمل کے کرنے میں جو زحمتیں اٹھانا پڑی ہیں اور جو کوششیں اس نیک کام کے کرنے میں کی ہیں ان سب کا لحاظ کیا جائے گا اور اسی اعتبار سے اجر میں اضافہ ہوتا جائے گا یہاں تک کہ بندے کا یہ اجر اتنا بڑھ جائے گا کہ حساب کتاب کی سرحد سے گزر جائے گا اور سوائے خدا کے کسی کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ وہ کتنا ہے ۔ مثلاً انفاق (راہ خدامیں خرچ کرنا)جس کی اسلام میں بہت اہمیت بیان کی گئی ہے، اس کا اجر عملِ خیر کے معمولی اجر (دس گُنا) سے بڑھ گیا اور ”اضعافاً کثیرہ“ یا ”سات سوگُنا“ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر قرار دیا گیا ہے اور ”استقامت“ (ثبات قدمی) کہ جو تمام کامیابیوں اور خوش بختیوں کی جڑ ہے اور کوئی عمل نیک اس کے بغیر پورا نہیں ہوسکے گا، اس کا اجر وثواب بے حساب مذکور ہوا ہے ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اگر بعض روایات میں نیک اعمال کے لیے اجر وثواب دس گنا سے زیادہ بیان کیا گیا ہے تو یہ مذکورہ آیت(مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُ اٴَمْثَالِھَا)کے مخالف ہے ۔ اسی طرح سورہٴ قصص کی آیت ۸۴ میں جو ہم پڑھتے ہیں: <مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ خَیْرٌ مِنْھَا ”جو عمل نیک کرے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا“ یہ آیت بھی مذکورہ بالا آیت سے اختلاف نہیں رکھتی کہ اس میں نسخ کا احتمال پیدا ہو، کیونکہ لفظ ”بہتر“ کے ایک وسیع معنی ہیں جو (دس گنا)پر صادق آتے ہیں ۔ ۳۔ ویسی ہی سزا کا مفہوم: ممکن ہے بعض افراد یہ خیال کریں کہ ماہ رمضان کے روزہ کو عمداً ترک کرنے کاکفارہ ساٹھ روزے قرار دیا گیا ہے اور اسی طرح کی دیگر سزائیں جو کئی گنا بڑھ چڑھ کر دنیا وآخرت میں مجرموں کو دی جائیںگی، یہ مذکورہ بالا آیت (وَمَنْ جَاءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَایُجْزیٰ إِلاَّ مِثْلَھَا)کے منافی ہے ۔ لیکن اگر ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس بات کا بھی جواب مل جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ: مذکورہ آیت (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ ....)میں جس مساوات (برابری) کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد مساوات عددی نہیں ہے بہ این معنی کہ اگر ایک گناہ کیا ہے تو ایک تازیانہ مارا جائے گا دو گناہ کیا ہے تو دو تازیانے، بلکہ کیفیت عمل کا لحاظ کرنا چاہیے، ماہ رمضان کے ایک روزہ کو ترک کردینا جبکہ اس کی اتنی اہمیت بیان کی گئی ہے،اس کی سزا صرف ایک روز کا روزہ نہیں ہوگا، بلکہ چھوڑنے والا اتنے پے در پے روزے رکھے کہ وہ ماہ مبارک رمضان کے روزے کے برابر ہوجائے، یہی وجہ ہے کہ ہم بعض احادیث میں پڑھتے ہیں کہ ماہ رمضان میں گناہ کرنے کا عذاب بھی عام ایام سے زیادہ ہے، جس طرح کہ ثواب زیادہ ہے، یہاں تک کہ ماہ رمضان میں ثواب ختم قرآن، دوسرے ایام میں ختم کرنے سے ستر گناہ زیادہ ہے ۔ ۴۔نہایت لطف و کرم : ایک اور جالب نظر نکتہ یہ ہے کہ آیہ بالا خداوند کریم کے نہایت لطف و کرم کو بیان کررہی ہے جو اس نے اس بندہ ناچیز کے حال پر کیا ہے ۔ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو کام کرنے کے تمام آلات و اوزار انسان کو دے دے، ہر طرح کی آگاہی و علم بھی اسے عطا کرے، معصوم رہبر بھی اس کی ہدایت کے لیے بھیجے، تاکہ انسان خدا داد قوت و طاقت سے اور اسی کے فرستادہ رہبروں کی رہنمائی سے کوئی نیک کام انجام دے، پھر اس کے بعد اس عمل کا دس گناہ بدلہ بھی عطا کرے لیکن اس سے جو لغزشین اور خطائیں ہوں ان پر سزا دے وہ برابر کی ہو، علاوہ براین اس کے لیے راہ توبہ اور عذر خواہی بھی ہمیشہ کے لیے کھلی ہوئی ہو، یعنی اگر تو بہ کرے تو پھر کوئی سزا نہ ملے ۔ حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ صادق مصدق (یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ عیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ”ان اللّٰہ تعالی قال الحسنة عشرا و ازید و السیئة واحدة او اغفر فالویل لمن غلبت احادہ اعشارہ“ ۔ اللہ تعالے فرماتا ہے کہ نیک کاموں کا دس گنا بدلہ دوں گا یا اس سے زیادہ، اور بُرے کام کا ایک ہی بدلہ دوں گا، پس وائے ہو اس پر جس اکائیں اس کی دہائیوں پر غالب آجائیں (یعنی اس کے گناہ اطاعتوں سے سوا ہوجائیں) ۔ ( بحوالہ تفسیر ممجمع البیان جلد ۴ ص۳۹۰)

161
6:161
قُلۡ إِنَّنِي هَدَىٰنِي رَبِّيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ دِينٗا قِيَمٗا مِّلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
(اے ہمارے نبی) کہہ دیجئے میرے رب مجھے راہ راست کی ہدایت کی ہے (وہ راہ راست جو) ایک مضبوط اور ثابت رہنے والا آئین ہے یہ اس ابراہیم کا آئین ہے جس نے اپنے ماحول کے تمام خرافاتی آئینوں سے رو گردانی کی تھی اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 163 کے تحت ملاحظہ کریں۔

162
6:162
قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
کہہ دیجئے میری نماز، میری تمام عبادتیں، میری زندگی، میری موت، یہ سب تمام جہانوں کے پالنے والے کے لئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 163 کے تحت ملاحظہ کریں۔

163
6:163
لَا شَرِيكَ لَهُۥۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرۡتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی طرف سے ہمیں حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔

یہ میری صراط مستقیم ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ چند آیات ، نیز دوسری آیتیں جن کا ہم اس کے بعد مطالعہ کریں گے اور جن پر سورہٴ ”انعام“ کا اختتام ہوتا ہے، ان میں فی الحقیقت ان تمام بحثوں کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے جو شرک اور بت پرستی کے بارے میں اس سورہ میں کی گئی ہیں ۔ در اصل یہ سورہ توحید کی دعوت اور شرک کے مقابلے سے شروع ہوئی ہے اور اسی بحث میں اس کا اختتام بھی کیا گیا ہے ۔ خدا پہلے مشرکوں اور بت پرستوں کے عقائد فاسد اور عقل و منطق سے دور دعووں کے مقابلے میں اپنے رسول کو یہ حکم دیتا ہے کہ: (اے رسول!) کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے راہ ”راست“ جو نزدیک ترین راہ ہے، کی ہدایت کی ہے(یہ راہ راست وہی راستہ ہے جس میں توحید و یگانہ پرستی کی دعوت اور آئین شرک و بت پرستی کے مٹانے کا حکم دیا گیا ہے) (قُلۡ اِنَّنِیۡ ہَدٰىنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ) ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ آیت اور اس سے قبل کی بہت سی آیتیں نیز بعد کی آیتیں لفظ ”قل“ (یعنی کہہ دیجئے) سے شروع ہوتی ہیں ۔ شاید قرآن کریم میں کوئی ایسی دوسری سورہ نہیں ہے جس میں اس لفظ کی اتنی زیادہ تکرار کی گئی ہو جتنی اس میں کی گئی ہے ۔ اس سے در اصل ان شدید نزاعوں کا اندازہوتا ہے جو پیغمبر اسلام ؐاور مشرکوں کے درمیان و قوع پذیر ہوئے تھے ۔ نیز اس تکرار لفظ ”قل“ نے کافروں کے لیے ہر بہانہ تراشی کی راہ بھی بند کردی، کیونکہ اس لفظ (قل) کے بار بار دہرانے سے منشایہ ہے کہ تمام باتیں بحکم خداوندی ہیں، اس میں پیغمبر کی شخصی رائے کو کوئی دخل نہیں ہے ۔ یہ امر بھی واضح ہے کہ اس آیت میں اور اسی طرح کی دوسری آیتوں میں اس لفظ کا ذکر اس لیے ہے کہ اصالت قرآن محفوظ رہے اور وہ الفاظ بعینہ باقی رہیں جو پیغمبرؐ پر وحی کی صورت میں نازل ہوئے تھے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہئے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی نازل ہوتی تھی اس کے الفاظ میں آپ کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ لفظ ”قل“ جو آپ سے اللہ کے خطاب کو ظاہر کرتا ہے، اس تک کو باقی رکھتے تھے ۔ اس کے بعد اس ”صراط مستقیم“ کی اس آیت میں اور بعد کی دوآیتوں میں توضیح کی گئی ہے ۔ پہلے فرماتا ہے: یہ ایک سید ھا قانون ہے جو بہت سچا اور درست ہے، ابدی (ہمیشہ کے لیے) ہے، دین و دنیا، جسم و جان کے جملہ امور کا ذمہ دار ہے (دِیۡنًا قِیَمًا) ۔( قیما“ کے معنی سچائی اور استقامت کے ہیں ۔ اور ممکن ہے کہ مضبوط اور حقیقی کے معنی میں ہو، نیز یہ ممکن ہے کہ امور دین و دنیا کے محفل کے معنی میں ہو (اس لیے آیت کے ترجمہ میں تینوں معانی کی رحایت کی گئی ہے) چونکہ عرب حضرت ابراہیم سے اپنا خاص ربط ظاہر کرتے تھے، بلکہ یہاں تک کہ اپنے کہ اپنے قانون کو بھی حضرت ابراہیم کا قانون کہتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس بات کا اضافہ کیا کہ : حضرت ابراہیم کا حقیقی قانون یہی (اسلام) ہے جس کی طرف میں دعوت دے رہا ہوں ، نہ کہ وہ قانون جس سے تم وابستہ ہو (مِّلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ) ۔ وہی ابراہیم جس نے اپنے زمانے اور ماحول کے خرافاتی آئین سے رُوگردانی کی اور جس نے حق یعنی آئین توحید پرستی کو قبول کیا (حَنِیفًا) ۔ ”حنیف“ لغت میں اس شخص یا چیز کو کہتے ہیں جو کسی جانب میلان پیدا کرے لیکن اصطلاح قرآنی میں اسے کہتے ہیں جو باطل سے روگردانی کرکے آئین حق کی طرف متوجہ ہوجائے ۔ یہ تعبیر گویا ان مشرکوں کا جواب ہے جو پیغمبر اسلامؐ کے اس وجہ سے مخالف تھے کہ پیغمبر ؐنے عربوں کے آباؤ اجداد کے مذہب بت پرستی کی مخالفت کی تھی پیغمبرؐ نے ان کے جواب میں فرمایا: میں نے جو تمھارے پرانے طریقے کو توڑا ہے اور تمھارے خرافاتی عقیدوں کو جو ٹھکرایا ہے یہ میرا ہی اقدام نہیں ہے بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو سب کے لیے قابل احترام ہستی ہیں، انھوں نے بھی ایسا کیا تھا ۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لیے فرماتا ہے: وہ کسی وقت بھی مشرکوں اور بت پرستوں کے گروہ میں سے نہ تھے (وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ) ۔ بلکہ وہ تو ایک بت شکن انسان تھے اور آئین شرک کو توڑنے والے تھے ۔ جملہ ”حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ “کی آیات قرآن میں تکرار ، کبھی ”مسلما“ کے ساتھ اور کبھی اس کے بغیر اسی مسئلے کی تاکید کے لیے ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی ذات مقدس، جس پر زمانہ جاہلیت کے عرب فخر کیا کرتے تھے، ان کے غلط عقائد و اعمال سے منزّہ تھے ۔( سورہ بقرہ آیت ۱۳۵، سورہ آل عمران آیت ۶۷، ۹۵۔ 2) بعد کی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: نہ صرف عقیدہ کی رُو سے مَیں موحدّ اور یکتا پرست ہوں، بلکہ میرا ہر عمل بھی اسی کے لیے ہے ۔ میری نماز، میری تمام عبادتیں، یہاں تک کہ میری موت و حیات سب پروردگار عالم کے لیے ہے ۔ اسی کے لیے زندہ ہوں اور اسی کے لیے جان دوں گا۔ اسی کے راستے میں جو کچھ بھی میرے پاس ہے قربان کردوں گا ۔ میری امیدوں کی آماجگاہ ، میرے عشق کی منزل، میری ہستی کا مقصد سب کچھ وہی ہے (قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَای وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ) ۔ ”نسک“ کے اصلی معنی عبادت کے ہیں ۔ اسی بناپر عبادت کرنے والے کو ”ناسک“ کہتے ہیں لیکن یہ لفظ عام طور سے اعمال حج کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ مناسک حج، اسی حوالے سے کہا جاتا ہے ۔ بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ ”نسک“ کے معنی یہاں پر شاید قربانی کے ہوں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس لفظ کے مفہوم میں ہر قسم کی عبادت شامل ہے کیونکہ پہلے نماز(صلاة) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو تمام عبادتوں میں اہمیت رکھتی ہے اس کے بعد تمام عبادتوں کا بطور عموم ذکر ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ میری نماز بلکہ تمام عبادتیں، میری زندگی اور موت سب کچھ اس (اللہ) کے لیے ہے ۔ بعد والی آیت میں مزید تاکید کے لیے اور ہر طرح کے شرک اور بت پرستی کے ابطال کے لیے اضافہ فرماتا ہے ”وہ ایسا پروردگار ہے کہ اس کا نہ کوئی شبیہ (مثل) ہے اور نہ شریک ہے“(لَاشَرِیکَ) ۔ آخر میں فرماتا ہے: ”اس بات کا مجھ کو حکم دیا گیاہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں“ (وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ) ۔

پیغمبر اکرم کے "اوّل المسلمین" ہونے کا معنی

آیہ مذمورہ بالا میں پیغمبر کو ”اوّل المسلمین“ (پہلا مسلمان) کہا گیا ہے ۔ اس کے بارے میں مفّسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے اگر ”اسلام“ کا مطلب اس کے وسیع معنی میں ہو تو یہ معنی تمام آسمانی ادیان پر محیط ہے ۔ اسی وجہ سے لفظ ”مسلم“ انبیائے ما سبق پر بھی بولا گیا ہے ۔ حضرت نوح کے لیے ہم پڑھتے ہیں: ” اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ “ ”مجھے حکم دیا گیا کہ میں مسلمانوں میں سے ہو جاؤں“۔ (یونس/ ۷۲) ” رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ “ ”خداوندا ہم کو اپنا مسلمان بنادے “۔ (بقرہ/ ۱۲۸) ” تَوَفَّنِی مُسْلِمًا “ ”مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں موت دے“۔(یوسف/ ۱۰۱) اس طرح دیگر انبیاء کے لیے بھی آیا ہے ۔ یقینا ”مسلم“ کے معنی اس شخص کے ہیں جو فرمان الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ یہ معنی تمام انبیاء الٰہی اور ان کی انتوں کے مومن افراد پر صادق آتے ہیں ۔ اس صورت میں پیغمبر کے اوّل مسلم ہونے کے معنی یا تو ان کے اسلام کی اہمیت و کیفیت کے لحاظ سے ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسلام و تسلیم کا درجہ سب سے بلند تھا، یا یہ معنی ہوں گے کہ آپ اس امت کے وہ پہلے فرد تھے جس نے آئین قرآن و اسلام کو قبول کیا ۔ (نظر حقیر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ”اول مسلم“ ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں، کیء۔ونکہ یہ جب صحیح ہوگا جب صبح ہوگا جب آپ وقت ولادت یا اس کے بعد اسلام سے خالی ہوں بلکہ وہقعہ یہ ہے کہ جب آپ پیدا ہونے اس وقت نہ صرف مسلمان تھے بلکہ نبی بھی تھے کیونکہ ارشاد پیغمبر ہے) ”کنت نبیا و آدم بین المآء و الطین“۔ میں اس وقت نبی تھا جب آدم آب و گِل کے درمیان کروٹ لے رہے تھے ۔ یہ حدیث اس وطلب پر دلالت کرتی ہے، جو سنی شیعہ دونوں کی کتب میں محفوظ ہے اس کے علاوہ عالم ذر میں بھی آپ ہی نے سب سے پہلے و حدانیت کی تصدیق کی تھی جیسا کہ آگے آنے والی روایت سے ظاہر ہوتا ہے، لہٰذا اس معنی سے بھی آپ ”اول مسلم“ ہیں (مترجم) ۔ بعض روایات میں بھی وارد ہوا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ وہ پہلے شخص ہیں جس نے عالم ارواح میں، جبکہ پروردگار عالم نے اپنی طرف بلایا اور اپنی الوہیت کے متعلق سوال کیا تو مثبت جواب دیا ۔( ۔) ۔بحوالہ تفسیر صافی آیہ مذکورہ کے ذیل میں ۔ بہرحال آیت مذکورہ بالا روح اسلام اور حقیقتِ تعلیمات اسلامی کو واضح کررہی ہے ۔ یہ آیت دعوت ہے صراط مستقیم کی طرف، حضرت ابراہیم کے آئین بت شکنی کی جانب اور ہر قسم کے شرک اور دوگانہ و چند گانہ کی نفی کی طرف۔ یہ عقیدہ اور ایمان کی رُد سے تھا ۔ لیکن ازروئے عمل، تو یہ آیت دعوت ہے اخلاص و خلوص نیت کی طرف اور اس کی طرف کہ بندے کو چاہیے کہ اپنا ہر عمل خدائے وحدہ لاشریک کے لیے بجالائے، اس کا زندہ رہنا اور مرنا اس کے لیے ہو جس چیز کو چاہیے، اپنے دل کو اس کے غیر کی محبت سے الگ کردے، اس کے ساتھ عشق کرے اور اس کے فیر سے بیزاری اختیار کرے ۔ غور کرنا چاہیے کہ کتنا فرق ہے اسلام کی اس کھلی ہوئی تعلیم میں اور ان مسلمان نما انسانوں کے اعمال میں جو بجز تظاہر وخود نمائی کے اور کوئی بات سمجھتے ہیں نہ جانتے ہیں، ہر مرحلہ میں بس ظاہر کے متعلق سوچتے ہیں، باطن و جوہر کی جانب انھیں کوئی توجہ نہیں ہوتی ۔ اسی وجہ سے ان کی زندگی ، ان کی جماعت بندیان ان کا فخر ان کی آزادی کے دعوے بھی سوائے ایک خول کے اور کچھ نہیں ہے ۔

توحید اور شرک سے مقابلے

اس سورہ میں توحید اور شرک سے مقابلے کرنے کے بارے میں جو پے در پے تاکیدیں اور طرح طرح کے استدلال بیان کیے گئے ہیں وہ بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ اس آیت میں ایک اور طریقے سے مشرکوں کے استدلال پر ضرب لگائی گئی ہے، فرماتا ہے: ان سے کہو اور ان سے دریافت کرو کہ آیا یہ مناسب ہے کہ خدائے یگانہ کے علاوہ کس اور کو اپنا پروردگار مانوں جبکہ وہ تمام چیزوں کا مالک اور پروردگار ہے اور اس کا حکم و فرمان اس جہاں کے ذرہ ذرہ پرکار فرما ہے ( قُلْ اٴَغَیْرَ اللهِ اٴَبْغِی رَبًّا وَھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ) ۔ اس کے بعد ان مشرکوں کو جواب دیتا ہے جن میں سے کچھ لوگ آنحضرت کے پاس آئے تھے اور انھوں نے یہ کہا: ”اتبعنا و علینا و زرک ان کان خطا“ ”اے محمد! آپ ہماری پیروی کریں اگر یہ غلط بھی ہو تب بھی آپ کا کناہ ہم اپنی گردن پر لیتے ہیں“۔ اللہ فرماتا ہے کہ اے نبی ان سے کہہ دو:۔ کوئی شخص سوائے اپنے کسی کے لیے کوئی عمل بجا نہیں لاتا اور نہ کوئی گنہگار دوسرے کے گناہ کا بار اپنے دوش پر اٹھا تا ہے(وَلَاتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْھَا وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اٴُخْریٰ) ۔ اور آخرکار تم سب خدا طرف لوٹو گے ، وہ تمھیں اس چیز کے بارے میں مطلع کرے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے (ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ)۔

164
6:164
قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡغِي رَبّٗا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيۡءٖۚ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ إِلَّا عَلَيۡهَاۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
(اے ہمارے نبی) کہدیجئے کہ کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور پروردگار مان لوں جبکہ وہ تمام چیزوں کا پروردگار ہے اور کوئی شخص عمل بجا نہیں لاتا سوائے اس کے کہ کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اپنے لئے کرتا ہے اور کوئی گنہگار دوسرے کے گناہ اپنے ذمہ نہیں لے گا۔ اس کے بعد تمہاری واپسی تمہارے پروردگار کی جانب ہے۔ پس وہ تمہیں اس چیز کی خبر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔

دو اہم نکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

دوسروں کے گناہ اپنے کندھے لینا: ۱۔ممکن ہے کسی کو یہ خیال ہو کہ آیت مذکورہ بالا میں جو دو مسلم الثبوت اور منطقی قانو ن بیان کیے گئے ہیں، مذہبوں کے نزدیک بھی طے شدہ ہیں (یعنی کوئی شخص سوائے اپنے کسی کے لیے کار آخرت نہیں کرتا اور کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بار اپنے کاندھے پر نہیں اٹھاتا )یہ دونوں اصول قرآن کریم کی بعض دیگر آیات اور بعض روایات سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ مثلاً سورہ نحل کی آیت ۲۵ میں ہے ۔ ” لِیَعْمِلُوْآ اَوْزَارَہُمْ کَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیَامَةِ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَہُمْ بِغَیْرِ عِلْیمٍ “ ” وہ لوگ بروز قیامت اپنے گناہوں کے بھاری بوجھ کو اپنے کاندھے پر اٹھائیں گے، اسی طرح ان لوگوں کے کناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انھوں نے اپنے جہل سے گمراہ کیا“۔ اگر یہ صحیح ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بار گناہ نہیں اٹھائے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ گمراہ کرنے والے ان لوگوں کا بار گناہ اٹھائیں گے جنہیں انھوں نے گمراہ کیا ہے اس کے علاوہ احادیث ”سنت حسنہ“ و ”سنت سیئہ“ بھی آیت زیر بحث سے مطابقت نہیں رکھتیں کیونکہ شیعہ سنی دونوں طریقوں سے بعض روایات وارد ہوئی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : اگر کسی شخص نے اچھی سنت قائم کی اسے ان لوگوں کا اجر دیا جائے گا جو اس پر چلیں گے (بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے ثواب میں سے کچھ کم کیا جائے) اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی سنت جاری کی اس کے نام ان لوگوں کا گناہ لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے (بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے گناہوں میں سے کچھ کم کیا جائے گا) ۔ روایت کا متن یہ ہے: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم: ”من سنّ سنة حسنة کان لہ اجر من عمل بھا من غیر ان ینقص من اجورھم شیء ومن سنّ سنة سیّئة کان علیہ وزر من عمل بھا من غیران ینقص من اوزارھم من شیء“ لیکن اس شبہ کا جواب واضح ہے، کیونکہ آیہٴ مورد بحث کہتی ہے کہ بغیر کسی وجہ کے اور بغیر اس کے کہ دو گناہوں میں آپس میں کوئی ربط ہو ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے ذمہ نہیں لگایا جائے گا، لیکن وہ آیات وروایات جن کی طرف اشارہ کیا گیا ان کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان دوسرے دوسرے انسان کے عمل نیک یا عمل بد کی داغ بیل ڈالے گا، یا یوں کہنا چاہیے کہ دوسرے کے عمل میں ”سببی“ طور سے شریک ہوگا تو ظاہر ہے کہ اس عمل کے تنائج خوب وبد میں بھی شریک ہوگا کیونکہ وہ عمل اس کا عمل متصور ہوگا کیونکہ اس نے اس عمل کی بنیاد رکھی ہے۔ ۲۔ کیا دوسروں کے اعمال نیک ہمارے لیے مفید ہوسکتے ہیں؟:۔ دوسرا خیال آیہ مورد بحث سے یہ آسکتا ہے کہ یہ آیت کہتی ہے کہ ہر شخص کا عمل صرف اس کے لیے فائدہ بخش ہوگا ۔ اس بناپر وہ کارہائے خیر جو کسی کی نیابت میں کیے جاتے ہیں یا اموات کے لیے جو ثواب ہدیہ کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات زندہ شخص کے لیے بھی ثواب کا ہدیہ کرتے ہیں ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ دوسرے شخص کے لیے مفید ہو، حالانکہ کثیر روایات میں شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا آئمہ طاہرین علیہم السلام سے وارد ہوا ہے کہ اس طرح کے اعمال مفید و سودمند ہوتے ہیں، نہ صرف اولادہ کا عمل والدین کیلیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ بخش ہیں ۔ علاوہ بریں، ہمیں معلوم ہے کہ پاداش عمل کا تعلق ان اثرات سے ہے جو کسی کار خیر کے کرنے کی وجہ سے اس شخص کی روح و جان پر مرتب ہوتے ہیں، جو اس کی معنوی ترقی میں موٴثر ہوتے ہیں، اس کے برخلاف وہ شخص جس نے کوئی عمل خیر انجام نہیں دیا ۔ حتیٰ کہ اس کے ابتدائی امور میں شریک نہیں ہوا، کیسے ممکن ہے کہ وہ یہ روحانی و معنوی اثرات حاصل کرسکے؟ بعض لوگ یہ اعتراض بڑی آب وتاب سے بیان کرتے ہیں ۔ نہ صرف عام افراد بلکہ موٴلفین اور مفسرین بھی اس اعتراض سے متاثر نظر آتے ہیں جیسے تفسیر ”المنار“ لکھنے والے جس کے نتیجے میں بہت سی مسلم الثبوت احادیث انھوں نے نذر طاق نسیاں کردی ہیں، لیکن اگر دونکتوں کی طرف توجہ کی جائے تو ایسے اعتراضات کا جواب مل جاتا ہے، اور وہ یہ ہیں: ۱۔ یہ صحیح ہے کہ ہر شخص کا عمل نیک اس کی معنوی ترقی کا سبب بنتا ہے، اور اس کا فلسفہ، نتیجہ اور اثر واقعی ہوگا وہ اس کے کرنے والے کی طرف عائد ہوگا، جیسا کہ ورزشی حرکات، یا تعلیم و تربیت کا نتیجہ۔ قوت اور اخلاقی نشو و نما کی صورت میں اس کے جسم اور روح پر ہوتا ہے ۔ لیکن جس وقت کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے کوئی نیک کام بجا لاتاہے ،وہ یقیناکسی اسی خصوصیّت یانیک صفت کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس میں ہوتی ہے ،یاتو دہ ایک اچھا مربّی تھا یاایک اچھا شاگردتھا یاوہ ایک باصفا دوست تھایا وہ ایک باوفا ایک دوست تھا یا وہ ایک باوفا ہمسایہ تھا یا وہ ایک خدمت کرنے والا عالم تھا اور یا ایک مومن حقیقی ہر صورت میں اس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی روشنی کا پہلو ضرور پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے دوسروں کی توجہ اس کی جانب مبذول ہوئی اور انھوں نے اس کے لیے اعمال خیر انجام دیئے ۔ اس بناپر اس شخص نے اپنی خصوصیت، نمایاں صفت اور اپنی زندگی کے اس درخشاں پہلو کا بدلہ پایا ہے اور اس طرح سے بالعموم دوسرے افراد کا عمل خیر اس کے لیے بھی کسی عمل خیر یا نیت نیک کے نتیجہ میں واقع ہوا ہے، جونی الحقیقت خود اس عمل کا ایک پرتو ہے ۔ ۲۔ خداوند عالم اپنے بندوں کو جو پاداش دیتا ہے وہ دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ پاداش جو اُن کے روحانی ارتقاء اور اُن کی اخلاقی شائستگی کے مطابق ہوتی ہے ۔ یعنی ان کے اعمال نیک کی وجہ سے ان کی روح و جان اس بلندی پر پہنچ جاتی ہے کہ انھیں حق پہنچتا ہے کہ وہ بہتر و بالا جہانوں میں زندگی بسر کریں اور اپنے ان پروں کے ذریعے جو انھوں نے اپنے نیک عقیدے اور نیک اعمال کے ذریعے حاصل کیے ہیں، آسمان سعادت کی بلندیوں میں پرواز کریں ۔ یہ بات طے ہے کہ اس طرح کے آثار و نتائج اسی عمل کے بجالانے والے کے ساتھ مخصوص و معین ہیں اور یہ اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں کسی دوسرے کو بخش دیا جائے ۔ لیکن چونکہ ہر عمل نیک فرمانِ خدا کی اطاعت کے نتیجے میں واقع ہوتا ہے اور اطاعت کرنے والا شخص اپنی اطاعت کے مقابلے میں جزا کا مستحق ہوتا ہے لہٰذا اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی اس جزا اور انعام کو اپنی رضا مندی سے کسی دوسرے کو بخش دے ۔ اس کی ایک مثال بالکل اس طرح سے متصور ہوسکتی ہے ۔ مثلاً ایک استاد کسی اہم اور تعمیری شعبہ تعلیم میں کسی یونیورسٹی میں درس دیتا ہے، بلاشبہ وہ اپنی اس تدریس کے نتیجے میں دو طرح کے فائدے حاصل کرتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ وہ روزانہ تدریس کرنے کی وجہ سے اپنے فن میں کامل سے کامل تر ہوتا جاتا ہے، دوسرے یہ کہ وہ اس یونیورسٹی سے تنخواہ بھی پاتا ہے ۔ پہلا فائدہ وہ یقینا کسی دوسرے کو نہیں دے سکتا کیونکہ وہ اسی کی ذات سے مخصوص ہے، لیکن دوسرا فائدہ وہ جسے چاہے بخش دے اسے یقینا اس بات کا اختیار ہے ۔ کسی عمل کا ثواب بھی کسی مردہ یا زندہ شخص کو ہدیہ کرنا اسی طرح سے ہے ۔ اس طرح ہر طرح کا شک و شبہ جو اس قسم کی احادیث کے بارے میں ہے دور ہوجاتا ہے ۔ تا ہم اس بات کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے ثواب جو بعض افراد کو دیئے جاتے ہیں ان میں اتنی قوت نہیں ہوتی کہ یہ ان کی کامل سعادت کا سبب بن سکیں، ان کا اثر تھوڑا ہوتا ہے، کیونکہ نجات انسانی کا اصلی سبب خود اس کا ایمان و عمل ہے ۔

مقام انسانی کی اہمیت

اس آیہٴ کریمہ میں جو سورہٴ انعام کی آخری آیت ہے مقام انسانی کی اہمیت اور جہاں ہستی میں اس کی حیثیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ ان گزشتہ بحثوں کی تکمیل ہوجائے جن میں توحید کے ستونوں کو استوار کیا گیا ہے اور مسلک شرک و بت پرستی سے مقابلہ کیا گیا ہے، یعنی انسان بہ حیثیت اشرف المخلوقات اپنی حقیقی قدر و قیمت پہچان لے تاکہ پتھر، لکڑی اور دیگر طرح طرح کے بتوں کے سامنے اپنی پیشانی نہ جھکائے اور ان کا بندہ نہ بنے بلکہ ان کا امیر بنے اور ان پر حکومت کرے ۔ لہٰذا اس آیت کے پہلے جملے میں فرماتا ہے: وہ خدا وہ ہے جس نے تمھیں زمین پر جانشین (اور اپنا نمائندہ) بنایا ہے (وَھُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْاٴَرْضِ) ۔( جیسا کہ راغب اصفہانی نے اپنی کتاب ”مفردات“ میں لکھا ہے کہ ”خلائف“ ”خلیفہ“ کی جمع ہے اور ”خلفاء“ ”خلیف“ کی جمع ہے اور دونوں کے معنی نمائندہ اور جانشین کے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ”خلیفہ“ میں جو ”ت“ ہے وہ مبالغہ کے لیے ہے، بعض دیگر اہل لغت نے ”خلائف“ کو ”خلیفہ“ اور ”خلیف“ دونوں کی جمع مانا ہے ۔ وہ انسان ، جو روئے زمین پر خدا کا نمائندہ ہے ۔ یہاں پر لفظ ”خلائف“ کی تفسیر میں اختلاف ہے، ایک قول تو وہی ہے جو اوپر متن میں گزرا ہے یعنی الله نے عام انسانوں کو زمین پر اپنا نمائندہ (خلیفہ‘ بنایا ہے لیکن نظر حقیر میں یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ ”خلیفة الله“ غیر معصوم کیسے ہوسکتا ہے؟ حضرت آدم(علیه السلام) کے لیے فرمایا: ”انی جاعل فی الارض خلیفہ“ حضرت داؤد(علیه السلام) کے لیے فرمایا گیا ”یا داؤد انا جعلناک فی الارض خلیفة“ اسی طرح سارے انبیاء الله کے خلیفہ تھے اور معصوم تھے، اگر عام بشر کو الله کا خلیفہ مان لیا جائے تو نبی اور غیر نبی میں کیا فرق رہ جاتا ہے، پھر اگر تمام بشر سب کے سب خلیفہ ہوجائیں تو ان کی حکومت کس پر ہوگی؟ کیا حیوانوں، درختوں اور پتھروں پر، حالانکہ یہ چیزیں انسان کی کاملاً مطیع نہیں ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں اس کرہ زمین کی تمام قومیں اور خزانے سونپ دیئے گئے ہیں اور خدا کی طرف سے تمام موجودات پر اس کی حکومت کا فرمان صادر ہوا ہے، اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے کو اتنا گرادے کہ جمادات سے بھی پست ہوجائے اور انھیں سجدہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد خدا اس امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے انسانوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں اور یہ کہ اس اختلاف کی کیا مصلحت ہے، فرماتا ہے: تم میں سے بعض کو بعض پر برتری دی تاکہ ان قدرتی عنایتوں اور سہولتوں کی وجہ سے جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں وہ تمھیں آزمائے ( وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ ) ۔ دوسراقول، جو قواعد تحقیق سے مطابقت رکھتا ہے، یہ ہے کہ ”خلائف الارض“ سے مراد یہ ہے کہ ہر آئندہ انسان پچھلے انسان کا اور ہر آنے والی قوم گزشتہ قوم کی خلیفہ ہے، کیونکہ خلف کے اصلی معنی ”پیچھے “ کے ہیں علامہ طبرسیۺ اپنی مشہور تفسیر ”مجمع البیان“ میں اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں: ”معناہ ان اہل کل عصر یخلف اہل العصر الذی قبلہ کلما مضیٰ قرن خلفہم قرن یجری ذلک علی النظام والساق حتّی تقوم الساعة وہٰذا لا یکون الّا من عالم مدبّر“ ”یعنی ہر عصر کے لوگ گذشتہ اہل عصر کے پیچھے آتے ہیں، جب ایک صدی گزر جاتی ہے دوسری آحاتی ہے، یہ حمل بڑی خوش اسلوبی سے منظم طریقے سے جاری وساری ہے اور ایسا نہیں ہوسکتا الّا یہ کہ اس نظام کے پس پردہ ایک عام اور مدبشر (انتظام کرنے والی) ہستی موجود ہو ۔ نیزایسا ہی تفسیر صافی میں بھی ہے ۔ مترجم- اس آیت کے آخر میں یہ کہہ کر کہ ہر انسان کو خوش قسمتی اور بدبختی کے راستے کے انتخاب میں اختیار دیا گیا ہے، ان آزمائشوں کا نتیجہ اس طرح بیان فرمایاہے: تمہارا پروردگار ان لوگوں کے لیے جو ان آزمائشوں سے سیاہ رو اور ناکام کلیں گے ”سریع العقاب“ : جلدی سزا دینے والا ، ہے اور ان لوگوں کے لیے جو اپنی غلطیوں کی اصلاح میں لگے رہے ہیں ۔ بخشنے والا اور مہربان ہے (إِنَّ رَبَّکَ سَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔

165
6:165
وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَـٰٓئِفَ ٱلۡأَرۡضِ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٞ رَّحِيمُۢ
وہ (خدا) وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر جانشین (اور اپنا نمائندہ) بنایا اور بعض افراد کو دوسرے بعض افراد پر مرتبوں کی رو سے برتری عطا فرمائی تاکہ تمہیں ان چیزوں سے تمہارے اختیار میں دی ہیں۔ آزمائے۔ یقیناً تمہارا پروردگار بہت تیز حساب کرنے والا اور بخشنے والا، مہربان ہے۔

انسانوں میں فرق۔ اور عدالت کے تقاضے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں کہ انسانوں کے درمیان کچھ ایسے درجاتی اختلاف بھی موجود ہیں جو انسان کے بنائے ہوئے ہیں کیونکہ انسانوں نے دوسرے انسانوں پر ستم روا رکھا ہے مثلاً کچھ لوگ بے حساب ثروت کے مالک ہیں جبکہ کچھ لوگ خاک نشین ہیں، کچھ لوگ ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے جاہل اور بے علم رہ گئے ہیں جبکہ دوسرے لوگ ذرائع ہونے کی وجہ سے علوم کے آخری درجوں پر فائز ہیں، اسی طرح ایک طبقہ وہ ہے جو خوراک کی کمی کے باعث اور حفظان صحت کے لوازم نہ ہونے کی وجہ سے علیل وبیمار نظر آتا ہے، جبکہ اس کے برخلاف ایک طبقہ وہ ہے جس کے پاس ہر طرح کے وسائل موجود ہیں اس لیے وہ تندرستی اور سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کررہا ہے ہے ۔ اس طرح کے فرق، دولت وفقر، علم وجہل، تندرستی اور بیماری زیادہ تر استعمار واستحصال دوسروں کو غلام بنانے اور آشکار وپنہاں، ظلم کی پیداوار ہیں ۔ یہ بات مسلّم ہے کہ اس طرح کے اختلافات کو خدا کے ذمہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا، نہ اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ اس طرح کے اختلافات کو جائز ٹھہرا کر ان کی مخالفت نہ کی جائے ۔ لیکن اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسانوں کے درمیان جتنا بھی بھی اصول عدالت کی مراعات کی جائے پھر بھی سب انسان آپس میں برابر نہیں ہوسکتے، کیونکہ استعداد، ہوش وذہانت اور ذوق وسلیقہ کی رُو سے فرق باقی رہے گا یہاں تک کہ کم از کم وہ اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے یکساں نہ ہوں گے ۔ لہٰذا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے فکری اختلافات عدالت الٰہی کے خلاف ہیں؟ یا اس کے برخلاف حقیقی عدالت (یعنی ہر چیز کو اس کی جگہ رکھنے) کا تقاضا یہی ہے کہ تمام انسان برابر نہ ہوں؟ اگر انسانی معاشرے کے تمام افراد یکساں اور برابر ہوں، جیسے کپڑے با برتن جو ایک کارخانے سے بن کر نکلتے ہیں اور یکساں ہوتے ہیں اسی طرح تمام انسان بھی ایک شکل کے ایک استعداد کے بالکل مساوی ہوتے تو انسانی معاشرہ باکل مردہ اور روح سے خالی ہوکر رہ جاتا، اس میں کسی طرح کی حرکت ہوتی اور نہ ترقی کی راہوں پر پیش قدمی نظر آتی ۔ ایک پودے کی طرف نظر کیجئے جس کی جڑیں تو مضبوط اور سخت ہوتی ہیں مگر اس تنا لطیف ہوتا ہے لیکن ٹہنیوں کی نسبت سخت ہوتا ہے، پھر اس کے پتّے ، پھول، شکوفے بالترتیب لطیف سے لطیف تر ہوتے چلے جاتے ہیں، بات یہ ہے کہ ان سب نے اپنے باہمی تعاون اور اجتماع سے ایک خوبصورت پودے کو جنم دیا ہے ان میں سے ہر ایک کے خلیے اپنے فرائض کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف اور مصروف عمل ہیں ۔ بالکل یہی حال دنیائے انسانیت میں نظر آتا ہے ۔ افراد انسانی بھی باہم مل کر ایک عظیم الشان اور بار آور درخت کی مانند ہیں جس میں ہر طبقے بلکہ ہر فرد کا اس درخت کو تشکیل دینے میں ایک خاص مقام ہے جو اس کی ساخت کے مطابق ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن نے کہا ہے کہ یہ اختلافات تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں، جیسا کہ سابقاً بھی ہم نے کہا کہ خدائی منصوبوں میں جہاں بھی لفظ ”آزمائش “ استعمال ہوا ہے اس کے معنی ترتیب و پرورش کے ہیں اور اس طرح اس شخص کا جواب مل جاتا ہے جو مذکورہ آیت سے کوئی غلط نتیجہ اخذ کرنا چاہے ۔

زمین پر انسانی خلافت

ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے کئی بار انسان کو زمین پر بطور اپنے ”خلیفہ“ اور ”نمائندہ“ کے تعارف کروایا ۔ اس تعبیر کے ذریعے جہاں ضمنی طور پر مقام کو واضح کرنا مقصود ہے وہاں اس حقیقت کا بھی اظہار مقصود ہے کہ اموال و ثروتیں ۔ استعدادیں اور وہ تمام انعامات اور عطیے جو خدانے انسان کو دیئے ہیں ان سب کا مالک اصلی خدا ہے اور انسان ان سب پر اللہ کی طرف سے صرف نمائندہ، مجاز اور اجازت یافتہ ہے اور یہ بات بدیہی و بالکل واضح ہے کہ کوئی نمائندہ اپنے تصرفات میں مستقل نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس کے تمام تصرفات مالکِ اصلی کی اجازت کے دائرے اور حدود میں ہونا چاہیں۔ یہیں سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مثلاً مسئلہ مالکیت اشیاء میں اسلام نے ”کیٹپل ازم“ (سرمایہ داری)اور ”کمیونزم“ دونوں راستوں سے دوری اختیار کی ہے کیونکہ اوّل الذکرنے مالکیت کو فرد کے ساتھ مخصوص کردیا ہے جبکہ دوسرے نے تمام مالکیت کو اجتماع کے ساتھ وابستہ کردیا ہے لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ مالکیت نہ تو کسی فرد کی ہے اور نہ اجتماع کی، بلکہ فی الحقیقت ہر چیز کا مالک اصلی خدا ہے۔ تمام انسان اس کے نمائندے اور وکیل ہیں اور اسی دلیل کی بنا پر اسلام انسان کی آمدنی اور خرچ دونوں کے طریقوں اور کیفیات میں نظارت و نگہبانی کا فرض ادا کرتا ہے اور دونوں کے لیے اس نے حدود و شرایط مقرر کردیس ہیں جن کی بناء پر اقتصاد اسلامی کو اس نے بطور ایک خاص نظام کے تمام دیگر مکاتب فکر سے الگ کرکے نمایاں کردیا ہے۔

end of chapter