Sūra 68 · 52v
Chapter 6852 verses

Al-Qalam

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
القلم
القلم

سورہ القلم

یہ سورة مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ٥٢ آیات ہیں۔

سورۂ قلم کے مضامین

اگرچہ بعض مفسّرین نے اس تمام سورہ کے مکّی ہونے پر شک کیا ہے یا ان کا نظریہ ہے کہ اس کا ایک حصّہ مدینہ میں اور ایک حصّہ مکّہ میں نازل ہُوا ہے۔ لیکن سورہ کا لب و لہجہ اور آیات کا مضمون مکمل طور پر مکّی سورتوں سے ہم آہنگ ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوّت اور ان دشمنوں سے مبارزہ، جو آپ کو مجنون کہتے تھے۔ صبر و استقامت کی دعوت اور مخالفین کو عذابِ الہٰی سے انذار و تہدید کے مسئلہ کے محور پر ہی گردش کرتی ہے۔ مجموعی طور پر اس سورة کے مضامین کو سات حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ١: سب سے پہلے رسُولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی مخصوص صفات کے ایک حصّہ کے ذکر، خصوصاً آپ کے عمدہ اخلاق کو پیش کرتا ہے اور ان کی مُؤکدّ قسموں کے ساتھ تاکید کرتا ہے۔ ٢: اس کے بعد آپ کے دشمنوں کی قبیح صفات اور مذموم اخلاق کے ایک حصّہ کو پیش کرتا ہے۔ ٣: ایک اور حصّہ میں "اصحٰب الجنّة" کی داستان، جو حقیقت میں قبیح سیرت مشرکین کے لیے ایک تنبیہ ہے، بیان کرتا ہے۔ ٤: ایک اور حصّہ میں قیامت اور اس دن کُفّار کے عذاب سے متعلّق گونا گوں مطالب بیان ہوئے ہیں۔ ٥: ایک اور حصّہ میں مشرکین کے لیے انذار اور تہدید و تخویف کا بیان ہے۔ ٦: ایک اور حصّہ میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ کٹّر دشمنوں کے مقابلہ میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں۔ ٧: پھر سورہ کے آخر میں بھی قرآن کی عظمت اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خلاف دشمنوں کی مختلف سازشوں کے بارے میں گفتگو ہے۔ اس سورہ کے لیے قلم کے نام کا انتخاب اس کی پہلی آیت کی مناسبت سے ہے۔ بعض نے اس کا نام سورة ن بھی ذکر کیا ہے۔ بعض روایات، جو اس سورہ کی فضیلت میں آئی ہیں، ان میں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ کا نام ن و القلم ہے۔

تلاوت کی فضیلت

اِس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل ہُوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من قرأ سورة 'ن والقلم' اعطاہ اللہ ثواب الذین حَسُنَ اخلاقُھم۔" "جو شخص سورۂ ن والقلم کی تلاوت کرے گا، خدا اس کو ان لوگوں کا ثواب دے گا، جو حُسنِ اخلاق کے حامل ہیں۔" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٨٧)۔ ایک اور حدیث میں امامِ صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "من قرأ سورة "ن والقلم" فی فریضة او نافلة اٰمنہ اللہ ان یصیبہ فی حیاتہ فقر ابداً، واعاذہ اذا مات من ضمة القبر ان شاء اللہ۔" "جو شخص سورۂ ن والقلم کو واجب یا مستحب نماز میں پڑھے گا خدا اسے ہمیشہ کے لیے فقر و فاقہ سے امان میں رکھے گا اور جب وہ مرے گا تو انشاء اللہ اسے فشارِ قبر سے امان دے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد١٠، صفحہ ٣٣٠)۔ ان ثوابوں کا سورہ کے مضامین کے ساتھ خاص تناسب ہے۔ اور یہ اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہاں مقصد وہ تلاوت ہے جو علم و آگہی کے ساتھ ہو اور اس کے بعد اس پر عمل بھی ہو۔

1
68:1
نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ
ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کہ وہ قلم سے لکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
68:2
مَآ أَنتَ بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُونٖ
اپنے پروردگار کی عنایت سے تو (ہرگز) مجنون نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
68:3
وَإِنَّ لَكَ لَأَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُونٖ
اور تیرے لئے عظیم اور ہمیشہ رہنے والا (اور ختم نہ ہونے والا) اجرو ثواب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
68:4
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ
اورتو اخلاق کے عظیم درجہ پر فائز ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
68:5
فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُونَ
اور عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
68:6
بِأَييِّكُمُ ٱلۡمَفۡتُونُ
کہ تم میں سے کون مجنون ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
68:7
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
تیرا پروردگار ہر شخص سے بہتر جانتا ہے کہ اس کی راہ سے کون شخص گمراہ ہوا ہے ، اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی بہتر طور پر جانتا ہے۔

تفسیر تیرے اخلاق کتنے عمدہ ہیں!

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

یہ واحد سورہ ہے جو حرف مقطع ن سے شروع ہُوا ہے۔ فرماتا ہے: (ن)۔ ہم نے حروف مقطعات کے بارے میں بارہا خصوصاً "سورہ بقرہ" و "آل عمران" اور "اعراف" (تفسیر نمونہ جلد ١ ،٢ ،٦) میں اس سے متعلق بحث کی ہے۔ جو چیز اب یہاں بیان کرنا ہے وہ یہ ہے کہ بعض نے یہاں ن کو لفظ 'رحمن' کا مخفّفت اور اس کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ بعض نے اس کو 'لوح' کے معنی میں یا 'دوات' کے معنی میں جنّت کی ایک نہر کے معنی میں تفسیر کی ہے، لیکن ان تفسیروں میں سے کوئی بھی واضح قرینہ اور شاہد نہیں رکھتی۔ اس بناء پر اس حرف مقطع کی تفسیر ان تمام حروفِ مقطع سے الگ نہیں جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ اس کے بعد انسانی زندگی کے مسائل میں سے، دو اہم موضوعات کی قسم کھاتے ہوئے مزید کہتا ہے: "قسم ہے قلم کی اور اس کی جسے وہ قلم کے ساتھ لکھتے ہیں۔" (وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ)۔ کیسی عجیب و غریب قسم ہے؟ حقیقت میں وہ چیز جس کی یہاں قسم کھائی گئی ہے، ظاہراً ایک چھوٹا سا موضوع ہے۔ سرکنڈے کا ایک ٹکڑا یا اس کے مشابہ کوئی چیز اور کچھ سیاہ رنگ کا مادّہ اور اس کے بعد وہ سطریں جو معمولی کاغذ کے صفحہ پر لکھی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ وہی چیز ہے جو تمام انسانی تمدّنوں کی پیدائش، علوم کے پیش رفت، افکار کی بیداری، مذاہب کے تشکیل پانے کا سرچشمہ اور نوعِ بشر کی آگاہی اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ انسانی زندگی کو دو ادوار میں تقسیم کر دیتا ہے۔ "تاریخی دور" اور "تاریخ سے پہلے کا دور"۔ تاریخِ بشر کا دور اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب سے خط اور تحریر ایجاد ہُوئے اور انسان اپنی زندگی کے واقعات کو صفحات پر نقش کرنے کے قابل ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ دور جس میں انسان نے قلم کو ہاتھ میں لیا ہے اور اس سے "مایسطرون" یادگار کے طور پر رہ گیا ہے۔ اس قسم کی عظمت اس وقت زیادہ آشکار ہوتی ہے جب ہم اس بات کی طرف توجّہ کریں کہ جس دن یہ آیات نازل ہوئیں، اس وقت لکھنے والے اور اہل قلم اس ماحول میں موجود نہ تھے۔ اگر کچھ تھوڑے بہت لوگ لکھنے پڑھنے کی کچھ آگاہی اور علم رکھتے بھی تھے تو ان کی تعداد سرزمینِ مکہ میں، جو حجاز کا عبادتی، سیاسی اور اقتصادی مرکز تھا، بیس افراد تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ ہاں ایسے ماحول میں قلم کی قسم کھانا ایک خاص عظمت رکھتا ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے: ان پہلی آیات میں بھی جو جیل النّور اور غارِ حرا میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاک دل پر نازل ہُوئی تھیں، قلم کے بلند مقام کی طرف اشارہ ہوا ہے، جہاں فرماتا ہے: "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍO اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُO الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِO عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔" "اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے، جس نے مخلوقات کو پیدا کیا ہے، اور انسان کو بستہ اور جمے ہُوئے خُون سے پیدا کیا، اپنے عظیم پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے تعلیم دی اور جو کچھ وہ نہیں جانتا تھا اُسے وہ سکھایا۔" (علق آیت ١: ٥)۔ سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ سب باتیں اس شخص کی زبان سے ادا ہو رہی تھیں جس نے خود (عالم ظاہر میں) کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی، کبھی مدرسہ نہیں گیا تھا اور کوئی تحریر نہیں لکھی تھی۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ وحی آسمانی کے علاوہ اور کوئی چیز نیہں ہے۔ بعض مفسّرین نے یہاں "قلم" کی اس قلم سے تفسیر کی ہے جس سے خدا کے عظیم فرشتے وحی آسمانی کو لکھتے ہیں یا جس سے انسانوں کے اعمال نامے رقم کرتے ہیں۔ لیکن مسلّمہ طور پر یہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اور یہ تفسیر اس کے ایک مصداق کو بیان کرتی ہے، جیسا کہ "مایسطرون" بھی ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، اور انسان کی عملی، اخلاقی اور فکری ہدایت اور تکامل و ارتقاء کے لیے جو کچھ بھی لکھتے ہیں ان سب کو شامل ہے۔ فقط وحی آسمانی یا انسانوں کے اعمال میں منحصر نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: "مایسطرون" کے "ما" کو بعض تو ما مصدریہ سمجھتے ہیں اور بعض ماموصولہ لیکن دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ یہ تقدیر میں اِس طرح ہے "و ما یسطرونہ" بعض اس کو لوح یا کاغذ کے معنی میں سمجھتے ہیں کہ جس پر کتابت کی جاتی ہے اور تقدیر میں مایسطرون فیہ ہے۔ بعض نے ما کو یہاں ذوی العقول اور ان افراد کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو ان سطور کو لکھتے ہیں لیکن وہی معنی زیادہ مناسب ہے جو ہم نے متن میں ذکر کیا ہے)۔ اس کے بعد اس چیز کو، جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے، پیش کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "اپنے پروردگار کی نعمت سے تو مجنون نہیں ہے۔" (مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ)۔ وہ لوگ جو یہ ناروا نسبت تیری طرف دیتے ہیں دل کے ایسے اندھے ہیں جو تیرے بارے میں خدا کی ان تمام نعمتوں کو نہیں دیکھتے، نعمت عقل و درایت، نعمت امانت و صدق و راستی، نعمت علم و دانش اور مقامِ نبوت اور مقامِ عصمت۔ دیوانے تو وہ ہیں جو عقلِ کل کے مظہر کو جنون کے ساتھ متّہم کرتے ہیں اور انسانوں کے رہبر و رہنما کو اس ناروا نسبت کے ذریعہ اپنے سے دُور کر رہے ہیں۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "تیرے لیے عظیم اور ہمیشہ رہنے والا اجر و ثواب ہے۔" (وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ)۔ تیرے لیے ایسا اجر و ثواب کیوں نہ ہو؟ جبکہ تو ایسی قبیح اور ناروا تہمتوں کے مقابلہ میں استقامت ظاہر کرتا ہے۔ ان کے لیے ہدایت و نجات کی آرزو رکھتا ہے اور اس راستے میں سعی و کوشش کرنے سے تھکتا نہیں ہے۔ "ممنون"، "من" کے مادہ سے "منقطع" ہونے کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسا اجر و پاداش جو ہرگز منقطع نہیں ہو گا اور ہمیشہ باقی رہے گا۔ بعض نے کہا ہے کہ اس معنی کی اصل اور ریشہ منت سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ منت، نعمت کے قطع ہونے کا باعث ہوتی ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ غیر ممنون سے مراد یہ ہے کہ خُدا اس اجرِ عظیم کے مقابلہ میں تجھ پر ہرگز منت نہیں رکھتا لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ بعد والی آیت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ایک اور صفت کے بارے میں کہتی ہے: "تو عظیم اور عمدہ اخلاق کا حامل ہے۔" (وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ)۔ ایسے اخلاق جن کے مقابل عقل حیران ہے، بےنظیر لطف و محبت، بےمثل صفا و صمیمیت اور توصیف سے باہر صبر و استقامت اور تحمّل و حوصلہ۔ اگر تو لوگوں کو خدا کی بندگی کی دعوت دیتا ہے تو سب سے زیادہ عبادت بھی کرتا ہے۔ اگر بُرے کام سے روکتا ہے تو سب سے پہلے خود اس کام سے رکتا ہے، وہ تجھے تکلیف پہنچاتے ہیں اور تو پند و نصیحت کرتا ہے۔ وہ تجھے بُرا بھلا کہتے ہیں اور تو ان کے لیے دعا کرتا ہے، وہ تیرے جسم پر پتھر مارتے ہیں اور گرم مٹی تیرے سر پر پھینکتے ہیں لیکن تو ان کی ہدایت کے لیے بارگاہِ خدا میں ہاتھ اٹھاتا ہے۔ ہاں! تو محبت اور مہربانیوں کا مرکز اور رحمت کا سرچشمہ ہے۔ "خلق"، خلقت کے مادّہ سے ایسی صفات کے معنی میں ہے جو انسان سے جُدا نہیں ہوتے اور وہ انسان کی خلقت و آفرینش کے مانند ہوتے ہیں۔ بعض مفسّرین نے پیغمبر کے خلقِ عظیم کی راہ حق میں صبر و استقامت، سخاوت و بخشش میں وسعت، تدبیر امور، رفق و مدارا، خدا کی طرف دعوت کی راہ میں سختیوں کا برداشت کرنا، عفو و دردگز، پروردگار کی راہ میں جہاد اور حسد و حرص کو ترک کرنے کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ اگرچہ یہ سب کی سب صفات پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں موجود تھیں لیکن آپؐ کا خلق عظیم صرف انہیں میں منحصر نہیں تھا۔ بعض تفاسیر میں خلق عظیم کی قرآن یا دین اسلام کے ساتھ بھی تفسیر کی گئی ہے جو اوپر والے وسیع مفہوم کا ایک مصداق ہو سکتی ہے۔ بہرحال پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں اس 'خلق عظیم' کا ہونا آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عقل و درایت اور دشمنوں کی طرف سے دی گئی نسبتوں کی نفی پر ایک واضح دلیل ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔" (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ)۔ "کہ تم میں سے کون مجنون ہے۔" (بِأَيـيِّكُمُ الْمَفْتُونُ)۔ (تشریحی نوٹ: "بِايكُمُ" میں 'با' زائدہ ہے اور ایّکم قبل کے دو افعال کا مفعول ہے)۔ "مفتون"، "فتنہ" سے اسمِ مفعول ہے جو ابتلاء کے معنی میں ہے اور یہاں جنون میں مبتلا ہونے کے معنی میں ہے۔ ہاں! وہ آج یہ ناروا نسبت تیری طرف دیتے ہیں تاکہ بندگانِ خدا کو تجھ سے دُور کر دیں، لیکن لوگ عقل و شعُور رکھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ تیری تعلیمات اور ارشادات سے آگاہی حاصل کریں گے۔ اس وقت یہ مسئلہ واضح ہو جائے گا کہ یہ عمدہ تعلیمات خدائے عظیم کی طرف سے تیرے پاک اور نورانی دل پر نازل ہُوئی ہیں اور خدانے عقل و علم کا ایک عظیم حصّہ تجھے بخشا ہے۔ مستقبل میں تیری تحریکیں اور طریق کار اور ان کے سایہ میں اسلام کو پیش رفت اور سریع نفوذ بھی اس بات کی نِشان دہی کر دے گا کہ تو عقل و درایت کا ایک عظیم منبع ہے۔ دیوانے تو وہ چمگاڈر ہیں جو اس آفتاب کے نُور سے جنگ کے لیے اُٹھ کھڑے ہُوئے ہیں۔ پھر قیامت میں تو بہ حقائق یقینی طور پر اور بھی زیادہ روشن اور زیادہ واضح و آشکار ہو جائیں گے۔ نیز مزید تاکید کے لیے فرماتا ہے: "تیرا پروردگار سب سے بہتر جانتا ہے کہ اس کی راہ سے کون شخص گمراہ ہوا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی بہتر طور پر جانتا ہے۔" (إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ)۔ کیونکہ یہ راستہ اسی کا راستہ ہے اور وہ اپنی راہ کو ہر شخص سے بہتر پہچانتا ہے۔ گویا اس طرح پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو زیادہ سے زیادہ اطمینان دلاتا ہے کہ وہ ہدایت کے راستہ پر ہیں اور ان کے دشمن ضلالت و گمراہی کی راہ پر ہیں۔ ایک مستند حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت قریش نے دیکھا کہ پیغمبر علی علیہ السلام کو دوسروں پر ترجیح دیتے اور ان کی تعظیم اور احترام کرتے ہیں تو انہوں نے امام علی علیہ السلام کی مذمّت شروع کر دی اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کا مفتون اور اس پر فریفتہ ہو گیا ہے۔ اس موقع پر خدا نے ن والقلم نازل فرمایا اور قسم کھا کر کہا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تو مفتون و مجنون نہیں ہے۔ یہاں تک فرمایا: خدا ان لوگوں کو بھی جاتنا ہے جو گمراہ ہو گئے ہیں۔ (یہ قریش کے اس گروہ کی طرف اشارہ ہے جو یہ باتیں کرتے تھے) اور خدا ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی بہتر طور سے جانتا ہے۔ (یہ امام علی علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٣٤ (طبرسی نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ اہل سنّت سے نقل کیا ہے)۔

چند نکات ا: انسانی زندگی میں قلم کا نقش و اثر

نوع بشر کی زندگی کا اہم ترین مرحلہ، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، خط کا پیدا ہونا اور قلم کا کاغذ یا پتھر پر چلنا تھا۔ یہ وہی وقت تھا کہ جس نے تاریخ کے دَور کو ماقبلِ تاریخ سے جُدا کر دیا۔ کاغذ کے صفحہ پر نوک قلم کی گردش بشر کی سرنوشت کو رقم کرتی ہے۔ لہٰذا انسانی معاشروں کی کامیابی اور شکست نوکِ قلم سے وابستہ ہے۔ قلم علوم و معارف کا مخافظ، مفکّرین کے افکار کا پاسدار، عُلماء کے فکری اتّصال کی کڑی اور نوعِ بشر کے ماضی و حال کے ارتباط کے لیے ایک پُل ہے۔ یہاں تک کہ آسمان و زمین کا ارتباط بھی لوح و قلم کے ذریعہ ہی ہُوا ہے۔ قلم ان انسانوں کو جو زمان و مکان کے لحاظ سے ایک دوسرے سے الگ زندگی بسر کرتے ہیں، ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے۔ گویا تمام طول تاریخ اور تمام رُوئے زمین کے سب مفکّرین نوعِ بشر کو ایک کتابخانہ عظیم میں دیکھ لیں گے۔ قلم راز دارِ بشر ہے، خزانہ دارِ علُوم ہے۔ قرونِ و اعصار کے تجربات کو جمع کرنے والا ہے۔ اگر قرآن اس کی قسم کھاتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے۔ کیونکہ قسم ہمیشہ ایک بہت ہی عظیم اور قدر و قیمت رکھنے والی چیز کی کھائی جاتی ہے۔ البتّہ "قلم"، "مایسطرون" (تحریروں) کے لیے ایک وسیلہ ہے اور قرآن نے دونوں کی قسم کھائی ہے، یعنی آلہ کی بھی اور آلہ کے محصول کی بھی۔ بعض روایات میں آیا ہے: "انّ اول ما خلق اللہ القلم" "پہلی چیز جو خدا نے خلق کی وہ قلم تھا۔" اس حدیث کو شیعہ محدثین نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٧٩، حدیث ٩) نیز یہ اہلِ سنّت کی کتابوں میں بھی ایک مشہور خبر کے عنوان سے آئی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ٣٠، صفحہ ٧٨)۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: "اول ما خلق تعالیٰ جوھرۃ" "پہلی چیز جس کو خدا نے خلق کیا وہ ایک گوہر تھا۔" (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ٣٠، صفحہ ٧٨)۔ بعض اخبار میں یہ بھی آیا ہے: "ان اوّل ماخلق اللہ العقل" "پہلی چیز جسے خدا نے خلق فرمایا وہ عقل تھی۔" (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ٣٠، صفحہ ٧٨)۔ اس وصف کے تعلق کی طرف توجّہ جو "گوہر"، "قلم" اور عقل کے درمیان ہے، ان سب کے اوّل ہونے کے مفہوم کو واضح کر دیتی ہے۔ جو حدیث ہم نے اوپر امام صادق علیہ السلام سے نقل کی اس میں آیا ہے کہ خدا نے قلم کو پیدا کرنے کے بعد اس سے فرمایا: "لکھ!" اور اس نے جو کچھ تھا اور جو قیامت کے دن تک ہو گا، سب لکھ دیا۔ اگرچہ اِس روایت میں قلم سے قلم تقدیر اور قضا و قدر کی طرف اشارہ ہے، لیکن چاہے جو کچھ بھی ہے بشر کی سرنوشت اور اس کے مقدّرات میں قلم کے نقش و اثر کو واضح کرتی ہے۔ پیشوایان اسلام متعدد و احادیث میں اپنے اصحاب کو تاکید کیا کرتے تھے کہ وہ اپنے حافظے پر قناعت نہ کریں اور احادیثِ اسلامی اور علومِ الہٰی کو تشتۂ تحریر میں لا کر آنے والے لوگوں کے لیے یادگار کے طور پر چھوڑ جائیں۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد١٨، صفحہ ٥٦ (حدیث ١٤، ١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٢٠)۔ بعض عُلماء نے کہا ہے: "البیان بیانان: بیان اللسان، و بیان البنان، و بیان اللسان تدرسہ الاعوام، و بیان الاقلام باق علی مر الایام۔" "بیان دو قسم کے ہوتے ہیں: زبان کا بیان اور قلم کا بیان، زبان کا بیان تو زمانہ اور سالوں کے گزرنے سے کہنہ اور پرانا ہو جاتا اور ختم ہو جاتا ہے، لیکن قلموں کا بیان ابد تک رہتا ہے: (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٣٢)۔ یہ بھی کیا گہا ہے: "ان قوام امور الدین و الدنیا بشیئین القلم والسیف والسیف تحت القلم۔" "دین و دنیا کے امور کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ قلم و شمشیر، اور شمشیر قلم کے زیرِ سایہ قرار پاتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٣٢)۔ اس معنی کو بعض شعرائے عرب نے اس طرح نظم کیا ہے: کذا قضی اللہ للاقلام مذبریت ان السیوف لھا مذ ارھفت خدم خدا نے قلم کے لیے اسی روز سے جب سے وہ بنایا گیا ہے اسی طرح مقدر کیا ہے۔ کہ تیز دھار تلواریں اس کی خدمت گزار ہوں۔ (یہ تعبیر قلم کے چاقو کے ذریعہ تراشے جانے کی طرف نیز تلواروں کا ابتداء کار سے قلم کی خدمت میں ہونے کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٣٢)۔ ایک دوسرا شاعر، زیر بحث آیات کے استناء کے ساتھ اس سلسلہ میں کہتا ہے: اذا اقسم الابطال یوماً بسیفھم وعدوہ مما یجلب المجد والکرم کفی قلم الکتاب فخراً ورفعة مدی الدھر ان اللہ اقسم بالقلم "جس دن بہادر جنگجو لوگ اپنی تلواروں کی قسم کھائیں اور انہیں بزرگی اور افتخار کے اسباب میں سے شمار کریں تو لکھنے والوں کے قلم کے لیے عالم کے تمام زمانوں میں یہی اعزاز اور سربلندی کافی ہے کہ خدا نے قلم کی قسم کھائی ہے۔ (نہ کہ تلوار کی)۔" (بحوالہ: روح البیان، جلد ١٠، صفحہ ١٠٢)۔ واقعاً یہی بات ہے۔ کیونکہ فوجی کامیابیوں کی اگر قومی تمدّن کے ذریعہ ضمانت نہ ہو تو وہ ہرگز پائیدار نہ ہوں گی۔ مُغلوں نے ایران کی تاریخ میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی لیکن چونکہ وہ ایک ایسی قوم تھی جس کا کوئی تمدّن نہیں تھا، لہٰذا وہ جلدی ہی اسلام اور ایران کے تمدّن میں تحلیل ہو گئے اور انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اگرچہ یہ بحث بڑی وسیع ہے لیکن اس بناء پر کہ ہم تفسیر کے راستہ سے باہر نہ ہو جائیں، اس بحث کو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ایک بہت ہی پُر معنی حدیث پر ختم کرتے ہیں: "ثلاث تخرق الحجب، وتنتھی الی مابین یدی اللہ: صریر اقلام العلماء، و وطی اقدام المجاھدین و صوت مغازل المحصنات۔" "تین آوازیں ایسی ہیں جو حجابوں کو توڑ کر خدا کی باعظمت بارگاہ میں پہنچ جاتی ہیں۔ لکھتے وقت عُلماء کے قلموں کے چلنے کی آواز، میدانِ جہاد میں مجاہدین کے قدموں کی چاپ، اور پاک دامن عورتوں کے چرخوں کی آواز۔" (بحوالہ: الشہاب فی الحکم والآداب، صفحہ ٢٠)۔ البتّہ جو کچھ بیان ہُوا ہے یہ سب ان قلموں کے بارے میں ہے جو حق و عدالت کی راہ اور صراط مستقیم میں چلتی ہیں... لیکن مسموم، زہریلے اور گمراہ کرنے والے تو انسانی معاشروں کے لیے عظیم ترین بَلا اور بہت بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔

٢: پیغمبرؐ کے اخلاق کا ایک نمونہ

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی کامیابی اگرچہ خدائی تائید و امداد کے ساتھ ہُوئی تھی، لیکن آپ ظاہری لحاظ سے بھی اس کے لیے کئی عوامل رکھتے تھے جن میں سے اہم ترین پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا جاذبۂ اخلاقی تھا۔ اعلیٰ انسانی صفات اور مکارمِ اخلاق آپ میں اس طرح سے جمع تھے جو سخت ترین دشمنوں کو بھی متاثر کر دیتے، انہیں سرِ تسلیم خم کرنے پر ابھارتے ہیں اور دوستوں میں شدید جذب و محبت پیدا کر دیتے تھے۔ بلکہ اگر ہم اسے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا اخلاق معجزہ کہیں تو کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔ چنانچہ اس اخلاقی معجزہ کا ایک نُمونہ فتح مکّہ میں نمایاں ہوا جب وہ خونخوار اور جرائم پیشہ مشرکینِ مکّہ جنہوں نے سالہا سال تک اسلام اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خلاف اپنی پوری قوّت صرف کی تھی، مسلمانوں کے چُنگل میں گرفتار ہوئے تو پیغمبر اسلامؐ نے دوستوں اور دشمنوں کے تمام اندازوں کے برخلاف ان کے لئے عام معافی کا فرمان جاری کر دیا اور ان کے تمام جرائم کو معاف کر دیا۔ یہی چیز اس بات کا سبب بنی کہ وہ یدخلون فی دین اللہ افواجا کے مصداق بن کر فوج در فوج مسلمان ہو جائیں۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حُسنِ خلق، عفو و درگزر، عطوفت و مہربانی، ایثار و فدا کاری اور تقوٰی و پرہیز گاری کے بارے میں تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں بہت زیادہ واقعات لکھے ہُوئے ہیں۔ ان سب کا بیان ہمیں تفسیری بحث سے خارج کر دے گا۔ لیکن ہمارے لیے اتنا لکھنا ہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں حضرت امام حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام سے آیا ہے، کہ آپ نے فرمایا: "میں نے اپنے پدرِ بزرگوار امیر المومنین علی علیہ السلام سے پیغمبرؐ کی زندگی کی خصوصیات اور آپؐ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا تو میرے والد نے تفصیل کے ساتھ مجھے جواب دیا۔ اس حدیث کے ایک حصّہ میں آیا ہے: "اپنے پاس بیٹھنے والوں کے ساتھ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رفتار اس طرح تھی کہ آپ خوشرو، خنداں، خلیق اور نرم رہتے تھے، اور کبھی بھی سخت مزاج، سنگدل، پُرخاش رکھنے والے، سخت زبان، عیب جو اور تعریف پسند نہ تھے۔ کوئی شخص آپ سے مایُوس نہ ہوتا تھا، جو شخص بھی آپ کے گھر کے دروازے پر آتا مایوس و ناامید نہ لوٹتا تھا۔ تین چیزوں کو آپ نے اپنے سے الگ کر رکھا تھا، گفتگو میں جھگڑنا، زیادہ باتیں کرنا، اور ایسے کام میں دخل دینا جو آپ سے مربُوط نہ ہو۔ اسی طرح تین چیزوں کو لوگوں کے بارے میں چھوڑ رکھا تھا، کسِی کی مذمّت نہیں کرتے تھے، کسِی کو سرزنش نہیں کرتے تھے اور لوگوں کے پوشیدہ عیوب اور لغزشوں کی جستجو نہیں کرتے تھے۔ آپ ہرگز کوئی گفتگو نہیں کرتے تھے سوائے ان امور کے بارے میں جن میں حصولِ ثواب کی اُمید رکھتے تھے، گفتگو ایسی موثر ہوتی تھیں کہ تمام سننے والے لوگ سکوت اختیا کر لیتے تھے اور اپنی جگہ سے ہلتے تک نہیں تھے۔ جب آپ خاموش ہو جاتے تو پھر وہ لوگ بولتے۔ لیکن وہ آپ کے پاس نزاع اور جھگڑا نہیں کرتے تھے۔ جب کوئی اجنبی اور ناواقف آدمی سختی سے بات کرتا اور درخواست کرتا تو آپ تحمّل سے کام لیتے اور اپنے اصحاب سے فرماتے: جب کسِی کو دیکھو کہ وہ کوئی حاجت رکھتا ہے تو اس کی حاجت پُوری کرو، آپ ہرگز کسِی کی بات کو نہیں کاٹتے تھے جب تک کہ اس کی بات ختم نہ ہو جاتی۔" (بحوالہ: معانی الاخبار، صفحہ ٨٣ (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)۔ ہاں! اگر یہ اخلاِق کریمہ اور یہ ملکاتِ فاضلہ نہ ہوتے تو وہ پسماندہ اور جاہل قوم اور وہ سخت اور اثر ناپذیر گروہ آغوشِ اسلام میں ہرگز نہ آتا، اور لانفضوا من حولک کا مصداق بن کر سب پراگندہ ہو جاتے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ اسلامی اخلاق آج زندہ ہوں اور ہر مسلمان میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق و عادات کا عکس نظر آئے۔ اس سلسلہ میں اسلامی روایات بھی چاہے وہ خود پیغمبر کے بارے میں ہوں یا سب مسلمانوں کی ذمّہ داری کے بارے میں، بہت زیادہ ہیں جِن میں سے چندہ روایات کی طرف ہم یہاں اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: ١: "انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق" "میں اس لیے مبعوث ہُوا ہوں کہ اخلاقی فضائل کی تکمیل کروں۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٣٢)۔ اِسی طرح پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بعثت کا ایک اصلی ہدف یہی اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے آیا ہے: ٢: "انما المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجة قائم اللّیل و صائم النھار۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٣٢)۔ "مومن اپنے حُسنِ خلق کی وجہ سے اس شخص کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے جو راتوں کو عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور دنوں میں روزے رکھتا ہے۔" ٣: آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "ما من شیء اثقل فی المیزان من خلق حسن۔" "کوئی چیز میزان عمل میں قیامت کے دن اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی نہیں ہو گی۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ٣٣٣)۔ ٤: آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: "احبکم الی اللہ احسنکم اخلاقا، الموطؤن اکنافاً، الذین یألفون و یؤلفون، وابغضکم الی اللہ المشاؤن بالمنیمة المفرقون بین الاخوان، الملتمسون للبراٰء العثرات" یعنی: "تم سب میں سے خدا کے ہاں زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں، وہی لوگ جو متواضع ہیں، دُوسروں سے جوشِ محبت کے ساتھ ملتے ہیں۔ تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ لوگ ہیں جو چغلیاں کرتے ہیں کہ بھائیوں کے درمیان جُدائی ڈال دیں اور بےگناہ لوگوں کے لیے لغزش کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ٤١٠)۔ ٥: ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے آیا ہے: "اکثر مایدخل الناس الجنة تقوی اللہ و حسن الخلق۔" "وہ چیز جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنّت میں داخل کرے گی، تقوٰی اور حُسنِ خلق ہے۔" (بحوالہ: سفینہ البحار، جلد ١، صفحہ ٤١٠ (یہی مضمون وسائل الشیعہ، جلد ٨، صفحہ ٥٠٤ میں بھی آیا ہے۔ اسی طرح تفسیر قرطبی جلد ١٠، صفحہ ٦٧٠٧ میں بھی ہے))۔ ٦: ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "ان اکمل المؤمنین ایماناً احسنھم خلقاً۔" "مومنین میں سے اس کا ایمان سب سے بہتر ہے جس کے اخلاق زیادہ کامل ہیں۔ (بحوالہ: رورح البیان، جلد١٠، صفحہ ١٠٨)۔ ٧: ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: "علیکم بحسن الخلق، فان حسن الخلق فی الجنة لا محالة و ایاکم و سوء الخلق، فان سوء الخلق فی النار لا محالة۔" "تمہارے لیے لازم ہے کہ حُسنِ خلق اختیار کرو، کیونکہ حُسنِ خلق والا انجام کار جنّت میں ہے۔ سوء خلق سے بچو، کیونکہ سُوء ِخلق والا انجامِ کار جہنم میں ہے۔" (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ٨، صفحہ ٥٠٦، حدیث ٢١)۔ اوپر والی روایات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ حسن خلق جنّت کی کلید اور رضائے خدا کے حاصل کرنے کا ایک وسیلہ ہے، قُدرتِ ایمانی کی نشانی ہے، دن رات کی عبادتوں کے ہم پلّہ ہے اور اس سلسلہ میں احادیث بہت زیادہ ہیں۔

8
68:8
فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
اب جب کہ یہ بات ہے تو تکذیب کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
68:9
وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ
وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرمی اختیار کرو تاکہ وہ بھی کچھ نرمی کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
68:10
وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ
اور ہر پست اور بہت زیادہ قسمیں کھانے والے آدمی کی اطاعت نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
68:11
هَمَّازٖ مَّشَّآءِۭ بِنَمِيمٖ
جو بہت ہی زیادہ عیب جو اور چغل خور ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
68:12
مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ
نیک کاموں میں بہت زیادہ رکاوٹیں ڈالنے والا، تجاوز کرنے والا اور گنہگار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
68:13
عُتُلِّۭ بَعۡدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ
اور ان سب باتوں کے علاوہ کینہ پرور، پر خور، سخت مزاج اور حرام زادہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
68:14
أَن كَانَ ذَا مَالٖ وَبَنِينَ
کہیں ایسا نہ ہو کہ صاحب مال اور زیادہ اولاد ہونے کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
68:15
إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
جب ہماری آیات اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے بے فائدہ افسانے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
68:16
سَنَسِمُهُۥ عَلَى ٱلۡخُرۡطُومِ
ہم عنقریب اس کی ناک پر ننگ و عار کا داغ لگا دیں گے۔

تفسیر ایسی صفات والوں کی پیروی نہ کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے عظیم اخلاق کا ذکر کرنے کے بعد کہ جو گزشتہ آیات میں بیان ہُوئے تھے، ان آیات میں ان کے دشمنوں کے اخلاق کو بیان کر رہا ہے تاکہ ان میں موازنہ کرنے سے ان دونوں کا فرق کامل طور سے آشکار ہو جائے۔ پہلے فرماتا ہے: "ان تکذیب کرنے والوں کی، جو خدا، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، قیامت کے دن اور خدا کے دین کی تکذیب کرتے ہیں، اطاعت اور پیروی نہ کرو۔" (فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ)۔ وہ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے لوگ ہیں اور انہوں نے حق کے تمام اصول اپنے پاؤں تلے روند ڈالے ہیں۔ ایسے لوگوں کی صرف ایک بات میں اطاعت بھی گمراہی اور بدبختی کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں رکھتی۔ اِس کے بعد پیغمبر کو اپنے ساتھ ملانے اور اپنی طرف مائل کرنے کی سازباز میں ان کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرمی اختیار کر لو تاکہ وہ بھی کچھ نرمی کریں۔" (وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ)۔ نرمی اور جھکاؤ کا معنی یہ ہے کہ ان کی خدا کے فرامین کے ایک حصّہ سے صرفِ نظر کرے۔ مفسّرین نے نقل کیا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہُوئیں جب رؤساء مکہ نے پیغمبرؐ کو اپنے بزرگوں کے دین، شرک اور بُت پرستی کی دعوت دی تو خدا نے آپ کو ان کی اطاعت سے منع کیا۔ (بحوالہ: فخر رازی، جلد ٣٠، صفحہ ٨٥ و مراغی، جلد ٢٩، صفحہ ٣١)۔ بعض دوسروں نے یہ نقل کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ، جو شرک کے بہت بڑے سرغنوں میں سے تھا، اس نے بہت زیادہ مال پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا اور قسم کھائی کہ اگر آپ اپنے دین سے پھر جائیں تو یہ سارا مال آپ کو دے دے گا۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ١٠، صفحہ ٦٧١٠)۔ آیات کے لب و لہجہ اور تاریخوں میں درج واقعات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ جب دل کے اندھے مشرکین نے دین اسلام کی پیش رفت کی سرعت کا مشاہدہ کیا تو وہ اس فکر میں پڑ گئے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو کچھ امتیازات لے لیں اور انہیں سازش کے ذریعہ اپنی طرف کھینچ لیں۔ جیسا کہ طول تاریخ میں سب ہی طرفدارانِ باطل کا طریقہ رہا ہے۔ لہٰذا کبھی تو بہت زیادہ مال کی، کبھی خوبصورت عورتوں کی اور کبھی اعلیٰ عُہدے اور مقام کی پیش کش کرتے۔ حقیقت میں وہ روحِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بھی اپنے وجود کے ترازو میں تول رہے تھے۔ لیکن قرآن پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بار بار خبردار کرتا ہے کہ انحرافی پیشکشوں کے مقابلہ میں اپنی طرف سے معمولی سے جھکاؤ کا بھی اظہار نہ کریں اور اہل باطل کی خاطر ہرگز نرمی نہ کریں۔ جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت ٤٩ میں آیا ہے: "وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ۔" ان (اہل کتاب) کے درمیان خُدا کے نازل کہ وہ فرمان کے مُطابق حکم کرو اور ان کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو اور اس بات سے ڈرتے رہو کہ وہ تمہیں ان تعلیمات سے جو خدا نے تم پر نازل کی ہیں منحرف نہ کر دیں۔ "یدھنون"، "مداھنہ" کے مادہ سے اصل میں 'دھن' بمعنی روغن لیا گیا ہے اور اس قسم کے موارد میں نرمی کرنے اور جھکاؤ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ تعبیر مذموم اور منافقانہ جھکاؤ کے موارد میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ ان کی اطاعت سے منع کرتے ہُوئے نو مذموم صفات کو جن میں سے ہر ایک اکیلی ہی اطاعت اور پیروی کرنے سے مانع ہو سکتی ہے، ان کو شمار کرتا اور فرماتا ہے: "اور ایسے لوگوں کی جو پست اور بہت زیادہ قسمیں کھانے والے ہوں اطاعت نہ کرو۔" (وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ)۔ 'حُلّاف' اس شخص کو کہتے ہیں جو بہت زیادہ قسمیں کھاتا ہو اور ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے قسم کھانے لگے۔ عام طور پر اس قسم کے لوگ اپنی قسموں میں سچے نہیں ہوتے۔ "مھین"، "مہانت" سے حقارت و پستی کے معنی میں ہے۔ بعض نے اس کی کم عقل یا جھوٹے یا بہت زیادہ شریر افراد کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ شخص جو بہت ہی زیادہ عیب جُو اور چغلخور ہے۔" (هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ)۔ " هَمَّازٍ"، "ھمز" (بر وزن طنز) کے مادّہ سے غیبت اور عیب جُوئی کرنے کے معنی میں ہے۔ "مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ" ایسا شخص جو تعلقات خراب کرنے، فساد پھیلانے اور لوگوں میں دشمنی پیدا کرنے کے لیے آمد و رفت رکھتا ہو۔ (اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہ دونوں اوصاف صیغہ مبالغہ کی صُورت میں آئے ہیں جو اس قسم کے قبیح کاموں میں ان کے انتہائی اصرار کی ترجمانی کرتے ہیں)۔ پانچویں, چھٹی اور ساتویں صفت میں کہتا ہے: "وہ شخص جو نیک کاموں میں بہت زیادہ رکاوٹیں ڈالنے والا، تجاوزگر اور گنہگار ہے۔" (مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ)۔ نہ صرف خود کوئی اچھا کام نہیں کرتا اور اچھائی کا راستہ نہیں دکھاتا، بلکہ دوسروں کی خیر و برکت کے مقابلہ میں بھی ایک رکاوٹ بنا ہُوا ہے۔ علاوہ ازیں وہ ایک ایسا انسان ہے جو حدودِ الہٰی اور ان حقوق سے جو خدا نے ہر انسان کے لیے معیّن کر دیئے ہیں، تجاوز کرنے والا ہے۔ ان صفات کے علاوہ ہر قسم کے گناہ میں بھی آلودہ ہے، اس طرح کہ گناہ اس کی طبیعت اور مزاج کا جُزء بن چکا ہے۔ آخرکار ان کی آٹھویں اور نویں صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ ان سب باتوں کے علاوہ پرخورو بدنام ہے۔" (عُتُلٍّ بَعْدَ ذلِکَ زَنیمٍ)۔ "عتل" جیسا کہ "راغب" نے "مفردات" میں کہا ہے، ایسے شخص کو کہتے ہیں جو غذا بہت کم کھاتا ہو، ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتا ہو اور دوسروں کو اس سے محروم کر دیتا ہو۔ بعض دوسروں نے "عتل" کو ایک بدخُو، کینہ پرور، سخت مزاج انسان یا بےحیا اور بدخلق انسان کے معنی میں تفسیر کیا ہے۔ "زنیم" ایسے شخص کو کہتے ہیں جِس کا حسب و نسب واضح نہ ہو اور اسے کسِی قوم کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ وہ ان میں سے نہیں ہوتا۔ اصل میں زنمہ (بر وزن قلمہ) گوسفند کے کام کے اس حصّہ کو کہتے ہیں جو لٹکا ہوا ہوتا ہے گویا وہ کام کا جزء نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ "بعد ذالک" کی تعبیر اس معنی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں صفات سابقہ صفات سے زیادہ قبیح اور مذموم ہیں، جیسا کہ مفسّرین کی ایک جماعت نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہاں خدا نے جھٹلانے والوں، ان کی قبیح صفات، اور اخلاقِ رذیلہ کی ایسی تصویر کشی کی ہے، کہ شاید سارے قرآن میں اس کی مِثل و نظیر نہ ہو۔ وہ اس طرح سے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اسلام و قرآن کے مخالفین اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات کے مخالفین خود کِس قسم کے لوگ تھے۔ جھُوٹے، پست، عیب جُو، جُغلخور، حد سے تجاوز کرنے والے، گنہگار اور بےاصل و نسب افراد اور واقعاً اِس قسم کے افراد کے علاوہ اور کسِی سے اِس قسم کے عظیم مصلح کی مخالفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بعد والی آیت خبردار کرتا ہے: "کہیں ایسا نہ ہو کہ جب وہ زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں، اس بناء پر تم ان کے مقابلہ میں نرم پڑ جاؤ اور سر تسلیم خم کر کے ان کی اطاعت کرنے لگو۔" (أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ)۔ اس میں شک نہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہرگز ان کی اطاعت و پیروی نہ کرتے، لیکن یہ آیات حقیقت میں اس امر پر ایک تاکید ہیں تاکہ آپ کے مکتب کی راہ اور عملی روش سب پر آشکار ہو جائے اور دوست و دشمن میں سے کوئی بھی شخص اِس کی توقع نہ رکھّے۔ اِس بناء پر اوپر والا جُملہ آیت و لا تطع کل حلّاف مھین کا تتمہ ہے، لیکن بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت حقیقت میں ان صفات کی پیدائش کی علّت کا بیان ہے۔ یعنی دولت و ثروت اور افرادی قوت سے پیدا ہونے والا غرُور تکبّر انہیں ان اخلاقی رذائل کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔ چنانچہ بہت سے بےایمان دولت مندوں اور قدرت رکھنے والوں میں یہ صفات نظر آتی ہیں۔ لیکن آیات کا لب و لہجہ پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ مناسب ہے، اور اسی وجہ سے اکثر مفسّرین نے بھی اس کو انتخاب کیا ہے۔ بعد والی آیت میں اس قسم کی پست صفات کے حامل افراد کا آیات الہٰی کے مقابلہ میں عکس العمل دکھاتے ہُوئے کہتا ہے: "جب ہماری آیات اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو گذرے ہُوئے لوگوں کے بےفائدہ افسانے ہیں۔" (إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ)۔ وہ اس بہانے سے اور اس قبیح نسبت کی وجہ سے آیات خدا سے دور ہو جاتا ہے اور انہیں فراموش کر دیتا ہے۔ نیز دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ اسی بناء پر اس کے افراد کی اطاعت و پیروی نہیں کرنا چاہیئے اور یہ اس قسم کے افراد کی اطاعت سے نہی میں ایک تکمیل ہے۔ آخری زیر بحث آیت، اس گروہ کی ایک سزا سے پردہ اٹھائے ہُوئے مزید کہتی ہے: "ہم عنقریب اس کی ناک پر ننگ و عار داغ اور نشانی لگا دیں گے۔" (سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ)۔ یہ ان کو اتنہائی ذلیل کرنے کے لیے ایک منہ بولتی تعبیر ہے۔ کیونکہ اول تو ناک کی خرطوم سے تعبیر جو صرف سورۂ اور ہاتھی کے لیے بولی جاتی ہے، ان کے لیے ایک واضح تحقیر و تذلیل ہے۔ دُوسرے لغت عرب میں ناک عام طور پر بزرگی اور عزّت سے کنایہ ہوتا ہے، جیسا کہ فارسی میں بھی جس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کی ناک کو مٹی میں رگڑ دو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی عزّت کو برباد کر دو۔ (اردو میں ناک کا کٹنا بےعزتی کے معنی میں آتا ہے) تیسرے نشان و علامت لگانا جانوروں کے ساتھ مخصوص ہے، لیکن جانوروں میں بھی ان کے چہروں خصوصاً ان کے ناک پر علامت نہیں لگائی جاتی، اور اسلام میں بھی اس کام سے روکا گیا ہے۔ یہ سب چیزیں واضح بیان کے ساتھ کہتی ہیں کہ خدا اس قسم کے طغیان گر، خود خواہ، متجاوز اور سرکش افراد کو اس طرح سے ذلیل کرتا ہے اور ہر جگہ ان کی رُسوائی کا ڈھنڈورا پٹوا دیتا ہے تاکہ سب کے لیے عبرت ہو۔ تاریخ اسلام بھی اس معنی پر گواہ ہے کہ ہٹ دھرمی مخالفین کا یہ گروہ اسلام کی پیش رفت سے اس طرح ذلیل و رُسوا ہُوا کہ جس کی کوئی مثال اور نظیر نہیں ملتی۔ آخرت کی رُسوائی اس سے بھی زیادہ ہے۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ اس سورہ کی زیادہ تر آیات شرک کے ایک مشہور سرغنہ ولید بن مغیرہ کے بارے میں آئی ہیں۔ لیکن یہ بات آیات کی عمومیّت، وسعت اور اس کی تعبیرات کے شمول سے مانع نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے کہا ہے کہ ناک پر علامت لگانا جنگ بدر میں عملی طور پر صورت پذیر ہو گیا کہ کفر کے بعض سرغنوں کی ناک پر اس طرح سے ضرب لگی کہ اس کی علامت باقی رہی۔ اگر یہاں ولید بن مغیرہ ہی مُراد ہو تو تاریخ یہ کہتی ہے کہ وہ جنگِ بدر سے پہلے ہی ذلت و خواری کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی اور شخص مراد ہو تو پھر وہ بات ممکن ہے جو امام علیؑ بن الحسینؑ کے شام کے مشہور خطبہ میں بھی آئی ہے۔ انا ابن من ضرب خراطیم الخلق حتی قالوا لاالہٰ الا اللہ! میں اس کا بیٹا ہوں جس نے مشرکین کی ناکوں پر ضرب لگائی، یہاں تک کہ انہوں نے لاالہٰ الا اللہ پڑھ لیا (اس سے مراد امیر المومنین علی علیہ السلام ہیں۔ بحار الانوار، جلد ٤٥، صفحہ ١٣٨)۔ زیر بحث آیت کی طرف توجہ کرتے ہُوئے خدا کہتا ہے ہم اس کی خرطوم پر علامت لگائیں گے یہ تعبیر ایک عمدہ معنی رکھتی اور بتاتی ہے کہ خدا کا یہ ارادہ اس کے مخصوص بندہ علی علیہ السلام کے ہاتھ سے پورا ہُوا۔

چند نکات ١: اخلاقی رذائل

اوپر والی آیات اگرچہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سخت مخالفین کی صفاتِ رذیلہ کی تفصیلات کے بارے میں ہیں، لیکن اس کے باوجود ان صفات کی تشخیص کے لیے ایک نمونہ ہمارے ہاتھ میں دیتی ہیں۔ وہ ایسی بُری صفات ہیں جو انسان کو خدا سے دُور کر دیتی ہیں اور شقاوت و بدبختی کے گڑھے میں گرا دیتی ہیں۔ وہ ایسی صفات ہیں کہ جن سے سچّے مومنین کو بچتے رہنا چاہیے اور ان سے آلودہ نہیں ہونا چاہیے۔ اِسی لیے اسلامی روایات میں بھی اس سلسلہ میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔ منجملہ: ١: ایک حدیث میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے آیا ہے: "الا انبئکم بشرارکم قالوا بلیٰ یا رسول اللہ (ص) قال: المشاؤن بالنمیمة المفرقون بین الاحبة الباغون للبرءاء المعایب۔" "کیا میں تمہیں تمہارے شریر ترین افراد کے بارے میں خبر دوں؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! فرمایا: وہ لوگ جو بہت زیادہ چغلخور ہیں، دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں اور پاکیزہ اور بےگناہ افراد میں عیب کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔" (بحوالہ: اصول کافی، جلد ٢، صفحہ باب المنیمہ، حدیث ١)۔ ٢: پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس سلسلے میں خصوصیّت کے ساتھ وصیّت کیا کرتے اور فرماتے تھے: لایبلغنی احد عن احد من اصحابی شیٔا فانی احب ان اخرج الیکم وانا سلیم الصدر۔" "تم میں سے کوئی بھی شخص میرے اصحاب میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی ایسی بات نہ کرے جو مجھے اس کی نسبت بدظن کر دے، کیونکہ میں دوست رکھتا ہوں کہ پاک و پاکیزہ دل کے ساتھ تم سے ملا کروں۔" (بحوالہ: سنن ابو داؤد، و صحیح ترمذی (مطابق نقل ظلال القرآن، جلد ٨، صفحہ ٢٣٠)۔ ٣: نیز ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "لایدخل الجنة جواظ، ولا جعظری، ولا عتل زنیم۔" "تین گروہ جنّت میں داخل نہیں ہوں گے۔ "جواظ"، "جعظری" اور "عتل زنیم۔" روای کہتا ہے کہ میں نے پوچھا۔ "جواظ" کون ہے؟ فرمایا: "کل جماع مناع"۔ ہر وہ شخص جو زیادہ مال جمع کرتا ہے، اور دوسروں سے بخل کرتا ہے۔ میں نے پوچھا: جعظری کون ہے؟ فرمایا: سخت مزاج اور تندخو۔ میں نے پوچھا: 'عتل زنیم' کون ہے؟ فرمایا: شکمِ پرور اور بداخلاق لوگ جو زیادہ کھاتے زیادہ پہنتے اور بیدادگر اور ظالم ہیں۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٩٤)۔

٢: مداھنہ اور سازگاری

وہ واضح اختلافات پر جو راہِ حق کے راہروں اور سیاسی بازی گروں کے درمیان موجود ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ دوسرا گروہ کسِی خاص اصول پر ثابت قدم نہیں رہتا، بلکہ وہ ہمیشہ اس بات کے لیے تیار رہتے ہیں کہ ان امتیازات کے مقابلہ میں جو ان کو حاصل ہیں کچھ اور امتیازات حاصل کریں اور اپنے اصول سے کچھ منافع کی خاطر صرفِ نظر کر لیں۔ ان کے اہداف و عقاید ان کے لئے کوئی مقدّس چیز نہیں ہیں، اور وہ ہمیشہ ان کی قیمت پر معاملہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ ٹھیک اوپر والی آیت کا مضمون ہے جو کہتی ہے: (وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ) وہ دوست رکھتے ہیں کہ تجھے بھی اپنے جتھے میں کھینچ لیں اور جس طرح وہ مداہنت اور معاملہ کرتے ہیں، تو بھی کرے۔" لیکن پہلا گروہ ہرگز مُعاملہ گر نہیں ہوتا، وہ اپنے مقدّس اہداف کو کسِی بھی قیمت پر اپنے ہاتھ سے نہیں دیتے اور اس پر معاملہ نہیں کرتے۔ مداہنت و موافقت اور اس قسم کے سیاسی لین دین ان میں نہیں ہوتے۔ یہ ایک بہترین نشانی ہے جِس سے پیشہ ور سیاست بازوں کو پہچانا جا سکتا ہے اور انہیں مرادنِ خدا سے الگ کیا جا سکتا ہے۔

17
68:17
إِنَّا بَلَوۡنَٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ إِذۡ أَقۡسَمُواْ لَيَصۡرِمُنَّهَا مُصۡبِحِينَ
ہم نے انہیں آزمایا جیسا کہ ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ باغ کے پھلوں کو صبح کے وقت (حاجت مندوں کی نگاہوں سے بچا کر) چنیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
68:18
وَلَا يَسۡتَثۡنُونَ
اور ان میں چیز کا استثناء نہ کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
68:19
فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآئِفٞ مِّن رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآئِمُونَ
لیکن تیرے پروردگارکا ایک گھیر لینے والا عذاب ان کے سارے باغ پر نازل ہوگیا جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
68:20
فَأَصۡبَحَتۡ كَٱلصَّرِيمِ
اور وہ ہرا بھرا باغ تاریک رات کی مانند ہوگیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
68:21
فَتَنَادَوۡاْ مُصۡبِحِينَ
صبح کے وقت انہوں نے ایک دوسرے کو صدا دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
68:22
أَنِ ٱغۡدُواْ عَلَىٰ حَرۡثِكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰرِمِينَ
اگر تمہارا ارادہ پھلوں کو توڑ نے کا ہو تو اپنے کھیت اور باغ کی طرف چلو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
68:23
فَٱنطَلَقُواْ وَهُمۡ يَتَخَٰفَتُونَ
وہ چل پڑے اور ایک دوسرے سے آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
68:24
أَن لَّا يَدۡخُلَنَّهَا ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكُم مِّسۡكِينٞ
اس بات کا خیال رکھو کہ ایک بھی فقیر تمہارے پاس نہ آنے پائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
68:25
وَغَدَوۡاْ عَلَىٰ حَرۡدٖ قَٰدِرِينَ
انہوں نے صبح کے وقت یہ مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ حاجت مندوں کو روکیں گے۔

تفسیر (باغ) والوں کی عبرت انگیز داستان

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

اِس بحث کی مناسبت سے جو گزشتہ آیات میں مغرور و خود خواہ دولت مندوں کے بارے میں تھی اور وہ مال اور اولاد کی زیادتی کی وجہ سے ہر چیز کو ٹھکرا دیتے تھے۔ ان آیات میں پہلے زمانہ کے کچھ دولتمندوں کے بارے میں جو ایک سرسبز و شاداب باغ کے مالک تھے اور آخرکار وہ خود سری کی بناء پر نابُود ہو گئے تھے، ایک داستان بیان کرتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ داستان اس زمانہ کے لوگوں میں مشہور و معروف تھی، اور اسی بناء پر اس کو گواہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "ہم نے انہیں آزمایا، جیسا کہ ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔" (إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ)۔ یہ باغ کہاں تھا، عظیم شہر صنعاء کے قریب سرزمین یمن میں؟ یا سرزمینِ حبشہ میں؟ یا بنی اسرائیل کی سر زمین شام میں؟ یا طائف میں؟ اس بارے میں اختلاف ہے۔ لیکن مشہور یمن ہی ہے۔ اس کا قصّہ یہ ہے کہ یہ باغ ایک بوڑھے مرد مومن کی ملکیت تھا۔ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیا کرتا اور باقی مستحقین اور حاجت مندوں کو دے دیتا تھا۔ لیکن جب اس نے دُنیا سے آنکھ بند کر لی (اور مر گیا) تو اس کے بیٹوں نے کہا ہم اس باغ کی پیداوار کے زیادہ مستحق ہیں، چونکہ ہمارے عیال و اطفال زیادہ ہیں۔ لہٰذا ہم اپنے باپ کی طرح عمل نہیں کر سکتے۔ اِس طرح انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ ان تمام حاجت مندوں کو جو ہر سال اِس سے فائدہ اُٹھاتے تھے محرُوم کر دیں۔ لہٰذا ان کی سرنوشت وُہی ہوئی جو اِن آیات میں بیان ہوئی۔ کہتا ہے: "ہم نے انہیں آزمایا، جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ باغ کے پھلوں کو صبح کے وقت حاجت مندوں کی نظریں بچا کر چنیں گے۔" (إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یصرمن"، "صرم" (بر وزن شرم) کے مادہ سے پھل توڑنے کے معنی میں ہے اور مطلق طور پر قطع کرنے کے معنی میں بھی ہے۔ اسی طرح کام کو محکم کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے)۔ "اور اس میں کسِی قسم کا استثناء نہ کریں گے اور حاجت مندوں کے لیے کوئی چیز بھی نہ رہنے دیں۔" (وَلَا يَسْتَثْنُونَ)۔ ان کا یہ ارادہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ کام ضرورت کی بناء پر نہیں تھا، بلکہ یہ ان کے بخل اور ضعفِ ایمان کی وجہ سے تھا۔ کیونکہ انسان چاہے کتنا ہی ضرورت مند کیوں نہ ہو، اگر وہ چاہے تو کثیر پیداوار والے باغ میں سے کچھ نہ کچھ حصّہ حاجت مندوں کے لیے مخصوص کر سکتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ عدم استثناء سے مُراد یہ ہے کہ انہوں نے "الا ان یشاء اللہ" نہیں کہا تھا۔ یعنی وہ اس قدر مغرور تھے کہ انہوں نے کہا ہم جائیں گے اور یہ کام ضرور کریں گے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے آپ کو انشاء اللہ کہنے سے بھی بےنیاز سمجھا۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح ہے۔ (تشریحی نوٹ: کیونکہ خاص مناسبت کے علاوہ، جو پہلا معنی اصل قصّہ کے ساتھ رکھتا ہے، اگر دوسرا معنی مراد ہوتا تو ولا یستثنون کے بجائے "ولم تستثنوا" کہا جاتا۔ (غور کیجیے))۔ اس کے بعد اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے: "رات کے وقت جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے، تیرے پروردگار کا ایک گھیر لینے والا عذاب ان کے سارے باغ پر نازل ہو گیا۔" (فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ)۔ ایک جلانے والی آگ اور مرگ بار بجلی اس طرح سے اس کے اوپر مُسلّط ہُوئی کہ وہ سرسبز و شاداب باغ رات کی مانند سیاہ اور تاریک ہو گیا اور مٹھی بھر راکھ کے سوا کچھ بھی باقی نہ بچا۔" (فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ)۔ "طائف"، "طواف" کے مادہ سے اصل میں اس شخص کے معنی میں ہے جو کسی چیز کے گرد گھومے لیکن بعض اوقات اس بلا و مصیبت سے کنایہ ہوتا ہے جو رات کو نمُودار ہو اور اس جگہ یہی مُراد ہے۔ "صریم"، 'صرم' کے مادّہ سے قطع کرنے کے معنی میں ہے اور یہاں "تاریک رات" یا پھل کے بغیر درخت یا "سیاہ راکھ" کے معنی میں ہے۔ کیونکہ رات دن کے آ جانے سے منقطع ہو جاتی ہے، جیسا کہ دِن رات کے آ جانے سے منقطع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات رات اور دن کو 'صریمان' کہتے ہیں۔ بہرحال مُراد یہ ہے کہ یہ آسمانی بلا جو ظاہراً ایک عظیم 'ضاعقہ' (بجلی) تھی، اس طرح سے اس باغ پر نازل ہوئی کہ جس نے سارے باغ کو ایک ساتھ آگ لگا دی اور مٹھی بھر کوئلوں اور سیاہ راکھ کے سوا کچھ بھی باقی نہ بچا، کیونکہ صاعقے اور بجلیاں جب بھی کسی چیز پر پڑتی ہیں تو ان کا حال اِسی طرح کا ہو جاتا ہے۔ بہرحال باغ کے مالکوں نے اس گمان سے کہ یہ لدے پھندے درخت اب تیار ہیں کہ ان کے پھل توڑ لیے جائیں: "صبح ہوتے ہی ایک دُوسرے کو پکارا۔" (فَتَنَادَوا مُصْبِحِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "تنا دوا" راغب مفرادت میں کہتا ہے کہ "نداء" (بر وزن عنا) اصل میں "ندی" سے لیا گیا ہے جو رطوبت کے معنی میں ہے۔ کیونکہ مشہور ہے کہ جن لوگوں کے منہ میں کافی رطوبت ہوتی ہے وہ آرام اور سکون سے گفتگو کر سکتے ہیں اور ان کا کلام فصیح اور آواز صاف ہوتی ہے)۔ اُنہوں نے کہا: "اگر تم اپنے باغ کے پھلوں کو توڑنا چاہتے ہو تو اپنے کھیت اور باغ کی طرف چلو۔" (أَنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ)۔ "اغدوا"، "غدوة" کے مادّہ سے دن کے اوّل حصّہ کے معنی میں ہے۔ اسی لیے اس غذا کو جو صبح سویرے کھائی جاتی ہے۔ غداء (ناشتہ) کہتے ہیں۔ (اگرچہ عربی کے موجودہ روز مرّہ کی تعبیرات میں غذاء دن کے کھانے کو کہا جاتا ہے)۔ "اِسی طرح سے وہ اپنے باغ کی طرف چل پڑے او وہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔" (فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ)۔ "کہ اس بات کا خیال رکھو کہ ایک بھی فقیر تمہارے پاس نہ آنے پائے۔" (أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ)۔ اور وہ اس طرح آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے کہ ان کی آواز کسِی دوسرے کے کانوں تک نہ پہنچ جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی فقیر خبردار ہو جائے اور بچے کچھے پھل چننے کے لیے یا اپنا پیٹ بھرنے کے لیے تھوڑا سا پھل لینے ان کے پاس آ جائے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کے باپ کے سابقہ نیک اعمال کی بناء پر فقراء کا ایک گروہ ایسے دنوں کے اِنتظار میں رہتا تھا کہ باغ کے پھل توڑنے کا وقت شروع ہو تو اس میں سے کچھ حصّہ بھی ملے۔ اسی لیے یہ بخیل اور ناخلف بیٹے اس طرح سے مخفی طور پر چلے کہ کسِی کو یہ احتمال نہ ہو کہ اس قسم کا دن آ پہنچا ہے، اور جب فقراء کو اس کی خبر ہو تو معاملہ ختم ہو چکا ہو۔ "اِس طر ح سے وہ صبح سویرے اپنے باغ اور کھیت میں جانے کے ارادے سے حاجت مندوں اور فقراء کو روکنے کے لیے پوری قوت اور پختہ ارادے کے ساتھ چل پڑے۔" (وَغَدَوْا عَلَى حَرْدٍ قَادِرِينَ)۔ "حرد" (بر وزن سرد) شدت و غضب سے تواَم ممانعت کے معنی میں ہے۔ ہاں! وہ فقراء و مساکین کی تمنّا اور انتظار سے سیخ پا تھے اور پختہ ارادہ کیے ہُوئے تھے کہ پُوری قوت کے ساتھ انہیں منع کریں گے۔ (اسی لیے یہ تعبیر ان سالوں کے لیے جن میں بارش نہ ہو یا اس اونٹنی کے لیے جس کا دُودھ ختم ہو جائے استعمال ہوتی ہے)۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہُوا۔

26
68:26
فَلَمَّا رَأَوۡهَا قَالُوٓاْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
پس(جب باغ میں وارد ہوئے اور) اسے دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو راستہ بھول گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
68:27
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ
بلکہ ہم محروم ہو گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
68:28
قَالَ أَوۡسَطُهُمۡ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُونَ
ان میں سے ایک (جو سب سے زیادہ عقلمند تھا) نے کہا: کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
68:29
قَالُواْ سُبۡحَٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
انہوں نے کہا: ہمارا پروردگار پاک و پاکیزہ اور منزہ ہے، یقیناً ہم ہی ظالم تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
68:30
فَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَلَٰوَمُونَ
پھر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف رخ کیا اور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
68:31
قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَٰغِينَ
اور کہا: وائے ہو ہم پر ہم ہی طغیان گر اور سر کش تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
68:32
عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبۡدِلَنَا خَيۡرٗا مِّنۡهَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٰغِبُونَ
ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار (ہمیں بخش دے اور) اس کے بجائے اس سے بہتر ہمیں دے دے، کیونکہ اب ہم اس کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
68:33
كَذَٰلِكَ ٱلۡعَذَابُۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ
اللہ کا عذاب ( دنیا میں ) اسی طرح سے ہوتا ہے۔ تاہم اگر وہ جانتے تو آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے۔

تفسیر سرسبز باغ کے مالکوں کا درد ناک انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

یہ آیات انہیں باغ والوں کی داستان کو جاری رکھے ہُوئے ہیں۔ جو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہے۔ وہ باغ والے اس اُمید پر کہ باغ کی فراواں پیداوار کو چُنیں اور مساکین کی نظریں بچا کر اسے جمع کر لیں اور یہ سب کچھ اپنے لیے خاص کر لیں، یہاں تک کہ خدا کی نعمت کے اس وسیع دستر خوان پر ایک بھی فقیر نہ بیٹھے۔ یوں صبح سویرے چل پڑے لیکن وہ اس بات سے بےخبر تھے کہ رات کے وقت جب کہ وہ پڑے سو رہے تھے ایک مرگبار صاعقہ نے باغ کو ایک مٹھی بھر خاکستر میں تبدیل کر دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "جب انہوں نے اپنے باغ کو دیکھا تو اس کا حال اس طرح بگڑا ہوا تھا کہ انہوں نے کہا یہ ہمارا باغ نہیں ہے۔ ہم تو راستہ بھول گئے ہیں۔" (فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ)۔ "ضالون" سے مُراد ممکن ہے باغ کا راستہ بھول جانا ہو جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے، یا راہِ حق کو بھول جانا اور گمراہ ہو جانا ہو جیسا کہ بعض نے احتمال دیا ہے۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ پھر انہوں نے مزید کہا : "بلکہ ہم تو حقیقت سے محروم ہیں۔" (بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ)۔ ہم چاہتے تھے کہ مساکین اور ضرورت مندوں کو محروم کریں لیکن ہم تو خود سب سے زیادہ محروم ہو گئے ہیں، مادی منافع سے بھی محروم ہو گئے ہیں اور معنوی برکات سے بھی کہ جو راہِ خدا میں خزّح کرنے اور حاجت مندوں کو دینے سے ہمارا ہاتھ آیتں۔ "اِس اثنا میں ان میں سے ایک جو سب سے زیادہ عقلمند تھا، اس نے کہا: "کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم خدا کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔" (قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ)۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ خدا کو عظمت کے ساتھ یاد کرو اور اس کی مخالفت سے بچو، اس کی نعمت کا شکر بجا لاؤ اور حاجت مندوں کو اپنے اموال سے بہرہ مند کرو! لیکن تم نے میری بات کو توجّہ سے نہ سُنا اور بدبختی کے گڑھے میں جا گرے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک مرد مومن تھا جو انہیں بخل اور حرص سے منع کیا کرتا تھا۔ چونکہ وہ اقلیّت میں تھا لہٰذا کوئی بھی اس کی بات پر کان نہیں دھرتا تھا۔ لیکن اس درد ناک حادثہ کے بعد اس کی زبان کھل گئی۔ اس کی منطق زیادہ تیز اور زیادہ کاٹ کرنے والی ہو گئی، اور وہ انہیں مسلسل ملامت اور سرزنش کرتا رہا۔ وہ بھی ایک لمحہ کے لیے بیدار ہو گئے اور انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر لیا: انہوں نے کہا: ہمارا پروردگار پاک اور منزّہ ہے۔ یقیناً ہم ہی ظالم و ستمگر تھے۔ ہم نے اپنے اوپر بھی ظلم کیا اور دوسروں پر بھی۔" (قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ)۔ "اوسط" کی تعبیر جو گزشتہ آیت میں آئی ہے، اس شخص کے معنی میں ہے جو عقل و خرد اور علم و دانش کے اعتبار سے سرحدِ اعتدال میں ہو، بعض نے اسے سن وسال میں حدِّ وسط کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن یہ معنی بہت بعید نظر آتا ہے۔ کیونکہ سن وسال اور اس قسم کی پُر معنی گفتگو کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے۔ البتہ عقل و خرد اور اس قسم کی باتوں کے درمیان ارتباط ہے۔ "لولا تسبحون" (تم خدا کی تسبیح کیوں نہیں کرتے) کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ تمام اعمال کا ریشہ اور اصل، ایمان، معرفتِ خدا اور تسبیح و تنزایہ خدا ہے۔ بعض نے تسبیح خدا کا معنی شکر نعمت کیا ہے، جس کا لازمہ محروموں کو بہرہ مند کرنا اور فائدہ پہنچانا ہے، لیکن یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے کے ساتھ منافات نہیں رکھتیں اور آیت کے مفہوم میں جمع ہیں۔ لیکن گناہ کے اعتراف سے پہلے ان کی تسبیح ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ وہ یہ چاہتے ہوں کہ یہ بلائے عظیم جو ان کے باغ پر نازل ہُوئی اور جس نے اسے نابود کر دیا ہے خدا کو اس میں ہر قسم کے ظلم و ستم سے منزّہ سمجھیں اور یہ کہیں کہ خداوندا یہ ہم ہی تھے جنہوں نے خود اپنے اوپر اور دوسروں پر ظلم کیا، اور اس قسم کے درد ناک عذاب کے مستحق ہُوئے ہیں، لیکن تیرا کام عین عدالت و حکمت ہے۔ قرآن کی بعض دیگر آیات میں بھی اپنے ظلم کا اقرار کرنے سے پہلے یہی تسبیح نظر آتی ہے جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی داستان میں آیا ہے۔ جب وہ اس عظیم مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تو کہا: لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ: "تیرے علاوہ اور کوئی معبُود نہیں ہے۔ تو منزّہ ہے میں ہی ظالموں اور ستمگروں میں سے تھا۔" (انبیاء، آیت، ٨٧)۔ البتّہ اس عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بارے میں ظلم ترک اولیٰ کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ تفسیر نمُونہ، جلد ١٣ میں ہم اس آیت کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں۔ لیکن مطلب یہیں پر ختم ہو گیا: "انہوں نے ایک دُوسرے کی طرف رُخ کیا اور ایک دوسرے کو ملامت و سرزنش کرنے لگے۔" (فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ)۔ احتمال یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی خطا کے اعتراف کے باوجود اصلی گناہ کو دُوسرے کے کندھے پر ڈالتا اور شدّت کے ساتھ اس کو سرزنش کرتا تھا کہ ہماری بربادی کا اصل عامل تو ہے! ورنہ ہم خدا اور عدالت سے اس قدر بیگانہ نہیں تھے۔ ہاں! تمام ظالموں کی سرنوشت کہ جو عذاب الہٰی کے چنگل میں گرفتار ہوتے ہیں، اسی طرح ہے کہ گناہ کا اعتراف کرنے کے باوجُود ہر ایک کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بدبختی کا عامل دوسرے کو شمار کرے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس قسم کے مواقع پر ایک آدمی تجویز پیش کرتا ہے، دوسرا تائید کرتا ہے، تیسرا اس کا اجراء اپنے ذمّہ لیتا ہے اور چوتھا اپنے سکوت اور خاموشی کے ذریعے اپنی رضا مندی کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ سب کے سب شریکِ جُرم اور گناہ میں پورا پورا دخل رکھتے ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ جب وہ اپنی بدبختی کی انتہاء سے آگاہ ہوئے تو ان کی فریاد بلند ہُوئی اور انہوں نے کہا: "وائے ہو ہم پر کہ ہم ہی سرکشی اور طغیان کرنے والے تھے۔" (قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ)۔ انہوں نے پہلے مرحلہ میں تو ظلم و ستم کا اعتراض کیا اور یہاں طغیان و سرکشی کا اعتراف ہے حقیقت میں طغیان ظلم سے بالاتر ایک مرحلہ ہے، کیونکہ ظالم ممکن ہے اصل قانون کو قبول کرے لیکن ہوائے نفس کے زیر اثر ہو کر ظلم و ستم کرے۔ لیکن طغیان کرنے والا تو اصلاً قانون کے زیر بار ہی نہیں ہوتا اور اسے قانون کی حیثیت سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ظلم تو "اپنے اوپر ظلم کرنے" کی طرف اشارہ ہو اور طغیان دوسروں کے حق میں تجاوز کرنے کی طرف اشارہ ہو۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجّہ ہے کہ عرب جب کسِی مصیبت میں گرفتار ہوتے یا کسِی چیز سے نفرت کا اظہار کرنا چاہتے تھے تو کبھی "ویس" کہتے تھے اور کبھی 'ویح' اور کبھی 'ویل' جن میں سے پہلا مصیبت میں خفیف، دوسرا زیادہ شدید اور تیسرا سب سے زیادہ شدید ہے اور یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ باغ والے اپنے آپ کو شدید ترین سرزنش کا مستحق سمجھتے تھے۔ انجامِ کار انہوں نے اس بیداری، گناہ کے اعتراف اور خدا کی طرف بازگشت کے بعد اس کی بارگاہ کی طرف مراجعہ کیا اور کہا۔ "امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہوں کو بخش دے گا اور ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے گا۔" (عَسَى رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا)۔ "کیونکہ ہم نے اس کی طرف رُخ کر لیا ہے اور اس کی پاک ذات کے ساتھ لو لگا لی ہے۔ لہٰذا اس مشکل کا حل بھی اسی کی بےپایاں قدرت سے طلب کرتے ہیں۔" (إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "راغبون"، "رغبت" کے مادّہ سے ہے۔ یہ مادّہ جب 'الی' یا 'فی' کے ساتھ متعدّی ہوتا ہے تو کسِی چیز کی طرف تمایل کے معنی دیتا ہے۔ جب 'عن' کے ساتھ متعدّی ہوتا ہے کسِی چیز سے انصراف اور بےاعتنائی کے معنی میں ہوتا ہے)۔ کیا یہ گروہ واقعاً اپنے فعل پر پشیمان ہو گیا تھا، اس نے اپنے طرزِ عمل میں تجدیدِ نظر کر لی تھی اور قطعی اور بختہ ارادہ کر لیا تھا کہ اگر خدا نے ہمیں آئندہ اپنی نعمتوں سے نوازا تو ہم اس کے شکر کا حق ادا کریں گے؟ یا وہ بھی بہت سے ظالموں کی طرح کہ جب وہ عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں تو وقتی طور پر بیدار ہو جاتے ہیں، لیکن جب عذاب ختم ہو جاتا ہے تو وہ دوبارہ انہیں کاموں کی تکرار کرنے لگتے ہیں۔ اِس بارے میں مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعد والی آیت کے لب و لہجہ سے احتمالی طور پر جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی توبہ شرائط کے جمع نہ ہونے کی بناء پر قبول نہیں ہوئی۔ لیکن بعض روایات میں آیا ہے کہ اُنہوں نے خلوصِ نیّت کے ساتھ توبہ کی، خدا نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا اور انہیں اس سے بہتر باغ عنایت کِیا جس میں خاص طور پر بڑے بڑے خوشوں والے انگور کے پُرمیوہ درخت تھے۔ آخری زیر بحث آیت میں کلی طور پر نتیجہ نکالتے ہُوئے سب کے لیے ایک درس کے عنوان سے فرماتا ہے: "خدا کا عذاب اس طرح کا ہوتا ہے اور اگر وہ جانیں تو آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑا ہے۔" (كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ)۔ اگر تم بھی مال و ثروت اور مادی وسائل کی بناء پر مست و مغرور ہو گئے، ذخیرہ طلبی کی رُوح نے تم پر غلبہ کر لیا، ہر چیز کو اپنے لیے ہی طلب کرنے لگو اور حاجت مندوں کو محروم کر دو تو تمہاری سرنوشت بھی ان سے بہتر نہیں، ہو گی۔ البتّہ وہ ایک روز تھا کہ 'صاعقہ' (بجلی) آئی اور اس نے باغ کو آگ لگا دی۔ آج ممکن ہے کچھ اور آفتیں ہوں یا گھروں اور آبادیوں کو جلا دینے والی علاقائی یا عالمی جنگیں ان نعمتوں کو تباہ و برباد کر دیں۔

چند نکات ١: انحصار طلبی: ثروت مندوں کی بہت بڑی مصیبت

انسان خواہ نخواہ مالِ دُنیا سے لگاؤ رکھتا ہے، کیونکہ اس کی زندگی کا گزارہ اسی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ ہاں یہ لگاؤ اعتدال کی حد میں مذموم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ضرورت مندوں کو بھی اپنے اموال میں شریک کرے۔ نہ صرف الہٰی حقوقِ واجبہ کو ادا کرے، بلکہ مستحب انفاق سے بھی ہاتھ نہ روکے۔ خصوصاً باغ اور زراعت کے بارے میں اسلامی روایات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حاضر آنے والے ضرورتمندوں کو ایک حصّہ دیں، جو آیۂ شریفہ (واٰ توا حقہ یوم حصادہ) اس کا حق فصل کاٹنے کے وقت دے دو، (سورہ انعام، آیت ١٤١) سے اقتباس کرتے ہُوئے حق الحصاد کے عنوان سے مشہور ہُوا ہے۔ وہ ایک ایسا حق ہے جو زکوةِ معروف کے حق سے الگ ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو پھل توڑنے یا زراعت کاٹنے کے موقع پر حاضر آنے والے ضرورتمندوں کو دی جاتی ہے اور اس کی کوئی حد معیّن نہیں ہے۔ (بحوالہ: اس موضوع سے مربوط روایات کا وسائل الشیعہ کی جلد ٦، ابواب زکوة الغلات باب ١٣ میں اور سنن بہیقی جلد٤، صفحہ ١٣٣ میں مطالعہ فرمائیں)۔ لیکن جب مال و ثروت سے لگاؤ افراط اور انحراف کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے تو انحصار طلبی کی صورت اختیار کر لیتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات اپنے لیے کسِی چیز کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود وہ یہ چاہتا ہے کہ دُوسرے اِس سے محروم رہیں۔ یہ وہ عظیم مصیبت ہے خصوصیّت کے ساتھ جس کے آج بھی انسان معاشروں میں بہت سے نمونے موجود ہیں اور اس کو ایک قسم کی خطرناک بیماری شمار کیا جا سکتا ہے۔ باغ ِوالوں کی داستان جو اوپر والی آیت میں بیان کی گئی ہے ثروت مندوں کے ایک گروہ کے انحصار طلبی کے جذبہ کی واضح طور پر تصویر کشی کرتی ہے۔ یعنی وہ کِس طرح سے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں۔ ضرورت مندوں کے محروم کرنے کے لیے منصوبہ بناتے ہیں۔ اور ان کی نظریں بچا کر عظیم منافع اور بڑے بڑے فوائد حاصِل کرتے ہیں، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان محروموں کی آہ جلانے والی بجلیوں میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ اور ان انحصار طلب ثروت مندوں کے خرمِن زندگی کو آگ لگا دیتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ بجلیاں انقلابوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں اور جس چیز کو وہ باور نہیں کرتے تھے اسے اپنی آنکھ سے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کی آہ و فریاد آسمان تک بلند ہوتی ہے اور وہ گزشتہ خطاؤں اور گناہوں سے توبہ اور تلافی کا دم بھرتے ہیں لیکن مُعاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔

٢: گناہ اور قطع رزق کے درمیان رابط

اوپر والی آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ گناہ اور قطع رزق کے درمیان قریبی رابط ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "ان الرجل لیذنب الذنب فیدرأ عنہ الرزق وتلا ھٰذہ الاٰیة: اذ اقسموا لیصرمنھا مصبحین ولا یستثنون فطاف علیھا طائف من ربک وھم نائمون۔ "بعض اوقات انسان گناہ کرتا ہے تو اس کی روزی منقطع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد امام نے اوپر والی آیات کی تلاوت کی۔" "جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ ہم صبح سویرے پھلوں کو توڑ لیں گے اور اپنے سوا کسِی کو بھی اِس سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے، لیکن اس وقت کہ جب وہ سوئے ہُوئے تھے تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر مُسلّط ہو گئی اور اسے نابود کر دیا۔" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٩٥ (حدیث ٤٤))۔ ابن عباس سے بھی یہ نقل ہُوا ہے کہ گناہ اور روزی کے منقطع ہونے کا ربط سورج سے بھی زیادہ واضح ہے جیسا کہ خدا نے اسے سورۂ ن والقلم کی زیر بحث آیت میں بیان فرمایا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ٢٠، صفحہ ٣٧)۔

34
68:34
إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ
پرہیز گاروں کے لئے ان کے پروردگار کے پاس جنت کے پر نعمت باغات ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
68:35
أَفَنَجۡعَلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ كَٱلۡمُجۡرِمِينَ
کیا ہم مومنین کو مجرمین کی طرف قرار دے دیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
68:36
مَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ
تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کس قسم کے فیصلے کرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
68:37
أَمۡ لَكُمۡ كِتَٰبٞ فِيهِ تَدۡرُسُونَ
کیا تمہارے پاس کوئی کتا ب ہے کہ جس سے تم درس پڑھتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
68:38
إِنَّ لَكُمۡ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ
کیا جسے تم انتخاب کرتے ہو وہ تمہارے لئے ہی مخصوص ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
68:39
أَمۡ لَكُمۡ أَيۡمَٰنٌ عَلَيۡنَا بَٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّ لَكُمۡ لَمَا تَحۡكُمُونَ
یا تم نے قیامت کے دن تک کے لئے کوئی تاکیدی عہد و پیمان لے لیا ہے کہ جو کچھ تم اپنے نفع کے لئے اختیار کروگے وہ اسے تمہارے ہی لئے قرار دے دے گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
68:40
سَلۡهُمۡ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ
ان سے پوچھ لیجئے ان میں سے کون اس قسم کی چیز کی ضمانت لیتا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
68:41
أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَآءُ فَلۡيَأۡتُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ
یا ان کے ایسے معبود ہیں جو اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کریں گے؟اگر وہ سچ کہتے ہیں تو اپنے معبودوں کو سامنے لائیں۔

مُکمّل بُاز پُرس

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی روش اور طریقہ یہ ہے کہ بُروں اور اچھوں کے حالاتِ زندگی کو ایک دوسرے کے مقابل لاتا ہے تاکہ ایک دُوسرے کے ساتھ موازنہ میں بہتر طور پر پہچانے جائیں۔ یہ طریقہ ٔتربیّتی لحاظ سے بہُت ہی مُوثّر ہے۔ اسی روش کے مُطابق "اصحاب الجنّة" (سرسبز و شاداب باغ والوں) درد ناک سرنوشت کے ذکر کے بعد، جو گزشتہ آیات میں گزری ہے، پرہیزگاروں کا حال بیان کرتے ہُوئے کہتا ہے: پرہیزگاروں کے لیے ان کے پاس جنّت کے پُر نعمت باغ ہیں۔" (إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ)۔ جنّت کے ایسے باغات جِن میں ہر وہ نعمت جس کا تصوّر کیا جائے، اس کی کامل ترین نوع موجُود ہے۔ اِس کے علاوہ وہ نعمتیں بھی ہوں گی جو کسی انسان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ چونکہ مشرکین اور ثروت مند کی ایک جماعت خود خواہ تھی، جِن کا دعوٰی یہ تھا کہ جس طرح دنیا میں ہماری حالت بہتر اور اعلیٰ ہے اسی طرح قیامت میں بھی بہت اچھّی ہو گی۔ خدا نے بعد والی آیت میں ان کا شدّت کے ساتھ مؤاخذہ کیا ہے فرماتا ہے: "کیا ہم مومنین کو جو حق و عدالت کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں، مشرکین اور مجرمین کی مانند قرار دیں گے۔" (أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ)۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ یہ تم کِس طرح کے فیصلے کرتے ہو۔"؟ (مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ)۔ کیا کوئی عقلمند انسان یہ باور کر لے گا کہ عادل و ظالم، مطیع و مجرم، ایثارگر اور انحصار طلب کی سرنوشت ایک جیسی ہو گی؟ وہ بھی اس خدا کی بارگاہ میں جس کے سارے کام جچے تلے اور حکیمانہ نظام کے ماتحت ہوتے ہیں۔ سورۂ حم سجدہ کی (آیت ٥٠) میں بھی اسی قسم کے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: (وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَذَا لِي وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَى رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَى)۔ جب ہم اسے اپنی طرف سے تکلیف و پریشانی کے بعد رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے: یہ میری شائستگی اور استحقاق کی بناء پر تھا اور میں گمان نہیں کرتا کہ کوئی قیامت برپا ہو گی۔ اگر بالفرض قیامت ہُوئی بھی تو جس وقت اپنے پروردگار کے پاس لوٹوں گا تو میرے لیے اس کے پاس اچھے اجر بدلے ہی ہوں گے۔ ہاں یہ خود پسند اور مغرور گروہ دُنیا و آخرت کو اپنے لیے ہی مخصوص سمجھتا ہے۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: اگر عقل و خرد نے اس قسم کے حکم میں تمہاری رہنمائی کی ہے تو کیا اس پر کوئی نقلی دلیل تمہارے پاس ہے؟ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے کہ جس سے تم درس لیتے ہو؟ (أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ)۔ "کہ جیسے تم انتخاب کرتے ہو اور اس کی طرف میلان رکھتے ہو وہ تمہارے لیے مخصوص ہے۔" (إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "ان لکم" ۔۔۔کا جملہ "تدرسون" کا مفعول ہے۔ قاعدہ کی رو سے ان کو ہمزہ کی زبر کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے، لیکن لام کی مناسبت سے جو "ان" کے اسم کے اوپر آئی ہے "ان" زیر کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، کیونکہ فعل عمل کرنے سے متعلّق ہو جاتا ہے)۔ تم یہ توقع رکھتے ہو کہ تم جیسے مجرم بھی مسلمانوں کے ہم پلّہ ہو جائیں گے۔ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ نہ عقل حکم کرتی ہے اور نہ ہی کسِی معتبر کتاب میں آئی ہے۔ بعد والی آیت میں بات کو اس طرح جاری رکھے ہوئے ہے: "اگر تمہارے پاس عقل و نقل سے کوئی مدرک اپنے دعوے کے لیے نہیں ہے تو کیا تم کوئی تاکیدی عہد و پیمان ہم سے لے لیا ہے جو قیامت تک برقرار رہے گا کہ تم جو کچھ بھی اپنے نفع میں فیصلہ کر لو، اسے وہ تمہارے لیے قرار دے دے گا۔" (أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ)۔ کون شخص یہ دعوٰی کر سکتا ہے کہ اس نے خدا سے یہ عہد و پیمان لے لیا ہے کہ وہ جو چاہیں گے خدا اسے تسلیم کر لے گا، جو مقام و منصب وہ چاہیں گے وہ بےچون و چرا ان کو دے دے گا؟ یہاں تک کہ مجرمین مسلمانوں کے ہم پلّہ ہو جائیں۔ (تشریحی نوٹ: "بالغة" کے لفظ کی تفسیر مؤکدّ کے معنی میں اور بعض نے جاری و مسلسل کے معنی میں کی ہے۔ لیکن دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے اس بناء پر (الیٰ یوم القیامة) کا جار و مجرور اس کے متعلق ہے)۔ پھر انہیں سوالات کو جاری رکھتے ہُوئے، جو ہر طرف سے ان پر راستوں کو بند کر رہے ہیں مزید کہتا ہے: "ان سے پوچھ لیجئے کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے کہ مجرمین اور مومنین برابر ہیں یا جو کچھ وہ چاہتے ہیں خدا ان کے اختیار میں دے دے گا۔" (سَلْهُم أَيُّهُم بِذَلِكَ زَعِيمٌ)۔ آخری مرحلہ میں ان سے ایک عجیب سوال کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "یا ان کے ایسے معبُود ہیں جو خدا کے ہاں ان کی شفاعت و حمایت کریں گے۔ اگر وہ سچ کہتے ہیں تو ان کو سامنے لائیں اور ان کا تعارف کرائیں۔" (أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ)۔ کیا ان کے پاس کوئی معمولی سے معمولی دلیل ہے کہ یہ بےقدر و قیمت اور بےشعور جمادات خدا کے شریک ہیں اور اس کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے ہیں۔ بعض مفسّرین نے یہاں شرکاء کو شہداء (گواہوں) کے معنی میں لیا ہے۔ اِس طرح اوپر والی آیات اوپر کے مجموعہ سے نکیجائی طور پر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ انہیں اپنے مدّعا کو ثابت کرنے کے لیے، کہ وہ مومنین کے ہم پلّہ بلکہ ان سے افضل و برتر ہیں، چار میں سے کسِی ایک وسیلہ کے ساتھ متمسک ہونا پڑے گا۔ یا عقل سے کوئی دلیل یا آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب، یا خدا کی طرف سے کوئی عہد و پیمان، یا شفاعت کرنے والوں کی شفاعت اور گواہوں کی گواہی۔ چونکہ ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے، اس بناء پر مذکورہ دعویٰ کلّی طور پر بےبنیاد اور بےقدر و قیمت ہے۔

42
68:42
يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَن سَاقٖ وَيُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ
اس دن کو یاد کرو جس میں پاؤں کی پنڈلی وحشت سے برہنہ ہو جائے گی اور انہیں سجدے کی دعوت دی جائے گی لیکن وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
68:43
خَٰشِعَةً أَبۡصَٰرُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَٰلِمُونَ
حالت یہ ہوگی کہ ان کی آنکھیں ( شرمساری کی شدت سے) نیچے ہوں گی اور ذلت و خواری نے ان کے وجود کو گھیر رکھا ہوگا۔ انہیں اس سے پہلے بھی جبکہ وہ صحیح و سالم تھے سجدے کی دعوت دی جایاکرتی تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
68:44
فَذَرۡنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِۖ سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ
جو لوگ اس بات کی تکذیت کرتے ہیں، مجھے ان کے لئے رہنے دے۔ ہم انہیں ایسی جگہ سے جسے وہ نہیں جانتے تدریجاً عذاب کی طرف لے جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
68:45
وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ
اور میں انہیں ڈھیل دیتا رہوں گا، کیونکہ میرے منصوبے محکم اور دقیق ہیں۔

تفسیر اس دن سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن قادر نہ ہو سکیں گے۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

گزشتہ آیات کے بعد جن میں مشرکوں اور مجرموں سے سخت بازپُرس کی گئی تھی، زیر بحث آیات میں قیامت میں ان کی سرنوشت کے ایک گوشہ کی نشان دہی کر رہا ہے، تاکہ واضح ہو جائے کہ یہ خود خواہ اور بڑے بڑے دعوے کرنے والا گروہ، کِس قدر ذلیل و خوار ہو گا۔ فرماتا ہے: "اس دن کو یاد کرو جس دن پنڈلیاں خوف و وحشت سے برہنہ ہو جائیں گی اور انہیں سجدہ کی دعوت دی جائے گی لیکن وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے۔" (يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یوم" ظرف ہے اور ایک مظروف سے متعلق ہے اور تقدیر میں اذکروا یوم ... ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ فلیأ توا سے متعلق ہے جو گزشتہ آیت میں آیا ہے، لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے)۔ "یُکْشَفُ عَنْ ساق" (پنڈلیاں برہنہ ہو جائیں گی) کا جملہ مفسرین کی ایک جماعت کے قول کے مطابق ہول و وحشت کی شدّت اور معاملہ کی سنگینی سے کنایہ ہے۔ کیونکہ عربوں کے درمیان یہ معمول تھا کہ جب کوئی کسی مشکل کام سے دوچار ہوتا تھا تو وہ اپنا دامن کمر پر ڈال دیتا اور پنڈلیاں برہنہ کر دیتا تھا۔ اِسی لیے جب مشہور مفسر ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا: جب تمہیں قرآن میں سے ہوئی بات مخفی دکھائی دے تو اشعار میں عربوں کی تعبیرات کی طرف رجوع کرو، کیا تم نے سنا نہیں کہ ایک شاعر کہتا ہے: "و قامت الحرب بنا علی ساق" "جنگ نے ہمیں پاؤں کی پنڈلی پر لا کھڑا کیا۔" جو جنگ کے بحران کی شدت سے کنایہ ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "ساق" کسِی چیز کی اصل اور بنیاد کے معنی میں ہے جیسے درخت کاتنا۔ اس بناء پر "یُکْشَفُ عَنْ ساق" یعنی اس دن ہر چیز کی جڑیں اور ریشے آشکار ہو جائیں گے لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب اور صحیح ہے۔ ہاں! اس دن سب کو پروردگار کے سامنے سجدہ اور خضوع کی دعوت دی جائے گی۔ مومنین تو سجدے میں گر پڑیں گے لیکن مجرموں میں سجدہ کی قدرت نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ غلط جذبات و نظریات جو دنیا میں ان کے وجود میں راسخ ہو چکے ہوں گے وہ اس دن ظاہر ہو جائیں گے اور اس بات سے مانع ہوں گے کہ وہ خدا کی پاک ذات کے سامنے کمر کو خم کریں۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ قیامت کا دن تکلیف اور ذمّہ داریوں کا دن نہیں ہے تو پھر سجدہ کی دعوت کِس بناء پر ہو گی؟ اس سوال کا جواب اس تعبیر سے حاصِل کیا جا سکتا ہے جو احادیث میں آئی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: "قیامت میں نور الہٰی سے حجاب اٹھا دیا جائے گا اور مومنین اس کی عظمت کی بناء پر سجدہ میں گر پڑیں گے۔ لیکن منافقین کی پشت ایسی سخت ہو جائے گی کہ ان میں سجدہ کرنے کی قدرت نہ رہے گی۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٩٥، حدیث ٤٩)۔ دوسرے لفظوں میں اس دن خدا کی عظمت آشکار ہو جائے گی۔ یہ عظمت مومنین کو سجدہ کی دعوت دے گی اور وہ سجدہ میں گر پڑیں گے۔ لیکن کفّار اس سعادت سے محروم رہ جائیں گے۔ بعد والی آیت کہتی ہے: "حالت یہ ہو گی کہ ان کی آنکھیں شدّتِ ندامت و شرمساری سے نیچے کی طرف جھکی ہوئی ہوں گی اور ذلّت و خواری نے ان کے تمام وجود کو گھیر رکھا ہو گا۔" (خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "ترھقھم"، "رھق" (بر وزن شفق) کے مادّہ سے چھپانے اور گھیر لینے کے معنی میں ہے)۔ مجرم افراد کے خلاف جب کسِی عدالت میں فیصلہ ہو جاتا ہے تو عام طور پر وہ اپنا سر نیچے کر لیتے ہیں اور ذلّت و خواری ان کے سارے وجود کو گھیر لیتی ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "انہیں اس سے پہلے دار دنیا میں جبکہ وہ صحیح و سالم تھے سجدہ کی دعوت دی جاتی تھی۔" (وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ)۔ لیکن انہوں نے بالکل سجدہ نہ کیا اور استکبار، سرکشی اور رُوگردانی کی روح کو اپنے ساتھ ہی میدان قیامت تک لے آئے، اس حالت میں ان سجدہ کرنے کی قدرت کیسے ہو گی۔ واضح ہے کہ دنیا میں سجدہ کی دعوت نماز کے موقع پر اذان دینے والوں کے پیام کے ذریعہ اور نماز جماعت کے اجتماعات میں اور قرآن کی آیات، پیغمبر اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث کے ذریعہ بھی صورت پذیر ہوتی تھی۔ لہٰذا یہ دعوة ایک وسیع و عریض مفہوم رکھتی ہے جو ان سب کو شامل ہے۔ اس کے بعد روئے سخن پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف کرتے ہُوئے کہتا ہے: "مجھے اس بات (یعنی قرآن) کی تکذیب کرنے والوں کے لیے رہنے دے۔ میں ان سب کا حساب کتاب چکا لوں گا۔" (فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَذَا الْحَدِيثِ)۔ یہ خداوند قادر و قہار کی طرف سے ایک شدید اور سخت تہدید ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے کہتا ہے تمہیں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے، ان ہٹ دھرم، سرکش اور جھٹلانے والوں کے لیے مجھے ہی رہنے دے تاکہ وہ جس چیز کے مستحق ہیں میں وہ انہیں دے دوں۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ یہ بات وہ خدا کہہ رہا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ تعبیر ضمنی طور پر دشمنوں کی کارشکینوں اور سازشوں کے مقابلہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مومنین کی ولداری اور قوتِ قلب کا سبب ہے۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "ہم عنقریب انہیں ایسی جگہ سے جسے وہ نہیں جانتے تدریجاً عذاب کی طرف لے جائیں گے۔" (سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ)۔ "اور میں انہیں مہلت دیتا رہوں گا اور ان کے عذاب میں جلدی نہ کروں گا۔ کیونکہ میرے منصوبے مستحکم اور دقیق ہیں اور میرا عذاب شدید ہے۔" (وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ)۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "اذا احدث العبد ذنباً جدد لہ نعمة، فیدع الاستغفار فھوالاستد راج۔" "بعض اوقات جب سرکش بندے گناہ کرتے ہیں تو خدا انہیں نعمت دیتا ہے اور وہ اپنے گناہ سے غافل ہو جاتے اور توبہ کو بھول جاتے ہیں۔ یہی استدراج اور تدریجی بلا و عذاب ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، ص٣٤٠)۔ یہ حدیث اور بعض دوسری احادیث جو اس سلسلہ میں وارد ہُوئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا بعض اوقات معاند اور ہٹ دھرم بندوں کی سزا اور عذاب کے لیے ان گناہوں کے مقابلہ میں جنہیں وہ انجام دیتے ہیں، انہیں نعمت عطا کرتا ہے تو وہ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ یہ لطفِ الہٰی ہے جو ان کی شائستگی اور لیاقت کی بناء پر ان کے شامل حال ہُوا ہے۔ لہٰذا وہ غرور اور غفلت میں غرق ہو جاتے ہیں لیکن پھر اچانک خدا ان کی گرفت کر لیتا ہے اور ناز و نعمت سے نکال کر انہیں عذاب و بلا کے مُنّہ میں دھکیل دیتا ہے۔ یہ عذاب کی دردناک ترین شکل ہے۔ البتّہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو طغیان و سرکشی کو اس کی آخری حد تک پہنچا دیتے ہیں لیکن وہ افراد جو ابھی اس حد تک نہیں پہنچے، خدا ان گناہوں کے مقابلہ میں ان کی گوشمالی اور تنبیہ کرتا ہے۔ پھر یہی چیز ان کی بیداری اور توبہ کا سبب بن جاتی ہے اور یہ ان کے حق میں لطفِ خدا ہے۔ دُوسرے لفظوں میں جب انسان گناہ کرتا ہے تو وہ تین حالتوں سے باہر نہیں ہوتا، یا لو وہ خود ہی متوجہ ہو جاتا ہے اور واپس پلٹ آتا ہے، یا خدا اسے ابتلا، کا تازیانہ لگاتا ہے تاکہ وہ بیدار ہو جائے، یا وہ اس میں ان دونوں کے لیے کسِی میں بھی شائستگی نہیں ہوتی اور خدا بلاء و مصیبت کی بجائے اس نعمت بخشتا ہے۔ پس یہ وہی "عذابِ استدراج" ہے جس کی طرف آیاتِ قرآنی میں اس تعبیر کے ساتھ یا دوسری تعبیروں کے ساتھ اشارہ ہوا ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ خدائی نعمتوں کی فراوانی کے موقع پر یہ دیکھے کہ کہیں امر جو ظاہر میں نعمت ہے، "عذابِ استدراج" ہی نہ ہو۔ اسی وجہ سے بیدار مغز مسلمان ایسے موقعوں پر سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور اپنے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک نے عرض کیا: میں نے خدا سے مال طلب کیا تو اس نے مجھے مال عطا کیا۔ میں نے اس سے اولاد طلب کی تو اس نے مجھے اولاد بخشی میں نے اس سے گھر طلب کیا تو اس نے مجھے گھر مرحمت فرمایا۔ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ اِستدراج ہو۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "اگر یہ سب کچھ حمد و شکرِ الہٰی کے ساتھ ہو تو پھر یہ استدراج نہیں ہے۔ (نعمت ہے)۔ (بحوالہ: اصول کافی بہ نقل نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٩٧)۔ املی لھم (میں انہیں مہلت دیتا رہوں گا) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا ظالموں کی سزا میں عجلت اور جلد بازی سے کام نہیں لے گا۔ کیونکہ جلد بازی تو وہ کرتا ہے جسے فرصت کے ہاتھ سے نکل جانے کا خوف ہو۔ لیکن خداوند قادر متعال جس وقت اور جو بھی ارادہ کرے وہ صورت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ سے فرصت کے نکِل جانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ بہرحال یہ تمام ظالموں اور سرکشوں کو ایک تنبیہ ہے کہ سلامتی نعمت اور امن و امان ہرگز انہیں مغرور نہ کرنے پائے اور وہ ہرگز گھڑی و ہر لمحہ خُدا کے شدید عذاب کے منتظر رہیں۔ (تشریحی نوٹ: عذاب "استدارج" کے سلسلہ میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد ٤ (سورۂ اعراف کی آیت ١٨٢ کے ذیل میں اور سورۂ آلِ عمران کی آیہ ١٧٨ کے ذیل میں بالتفصیل بیان کیا ہے)۔

46
68:46
أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ أَجۡرٗا فَهُم مِّن مَّغۡرَمٖ مُّثۡقَلُونَ
یا تو ان سے کچھ اجرت مانگتا ہے کہ جس کا ادا کرنا ان کے لئے سنگین ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
68:47
أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ
یا ان کے پاس غیب کے اسرار ہیں کہ جنہیں وہ لکھتے رہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
68:48
فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومٞ
اب جبکہ ایسا ہے تو تم صبر کرو اور اپنے پروردگار کے حکم کے منتظر رہو اور مچھلی والے (یونس) کی طرح نہ بنو جب کہ اس نے اللہ کو پکارا اور وہ غم و اندوہ کی حالت میں تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
68:49
لَّوۡلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعۡمَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُومٞ
اگر اللہ کی رحمت اس کی مدد کے لئے نہ آتی تو ( مچھلی کے پیٹ سے) اس حال میں باہر پھینکا جاتا کہ وہ مذموم ہوتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
68:50
فَٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَجَعَلَهُۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
لیکن اس(یونس) کے پروردگار نے اس کو برگزیدہ کرلیا اور صالحین میں سے قرار دیا۔

تفسیر عذاب کا تقاضا کرنے میں جلدی نہ کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

وہی بازپرس جو گزشتہ آیات میں مشرکین اور مجرموں سے ہُوئی تھی اسے جاری رکھتے ہُوئے ان آیات میں دو اور سوالوں کا اضافہ کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے: یا تُو ان سے کچھ اجرت مانگتا ہے کہ جس کا ادا کرنا ان کے لیے سنگین ہے؟" (أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ)۔ اگر ان کا بہانہ یہ ہے کہ تیری دعوت کو سننے کے لیے مال کی ضرورت ہے، انہیں اس کے مقابلہ میں بہت اجرت دینا پڑے گی اور ان میں اتنی طاقت نہیں ہے، تو یہ بات بالکل جھوٹ ہے اور تُو ان سے بالکل کسِی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ ہی خدا کے پیغمبروں میں سے کسِی اور پیغمبر نے کسِی اجرت کا مُطالبہ کیا ہے۔ "مغرم"، "غرامت" کے مادّہ سے اس ضرر کے معنی میں ہے جو انسان کو کسِی جُرم یا خیانت کے بغیر پہنچتا ہے۔ اور "مثقل"، "ثقل" کے مادّہ سے سنگین اور بوجھ کے معنی میں ہے۔ اِس طرح سے بہانہ جُوئی کرنے والے لوگوں کے ہاتھ سے ایک اور بہانہ چھین لیتا ہے۔ اوپر والی اور اس کے بعد والی آیت بعینہ سورۂ طور (کی آیہ ٤٠ ، ٤١) میں آئی ہے۔ اس کے بعد اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "یا ان کے پاس غیب کے اسرار ہیں کہ جنہیں وہ لکھتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی طرف منتقِل کرتے رہتے ہیں۔ گویا ان اسرار میں آیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ یکساں ہیں۔" (أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ)۔ یہ حقیقت میں بہت بعید احتمالات میں سے ایک احتمال ہے اور ممکِن ہے کہ کفّار اس بات سے متمسک ہوں۔ لہٰذا قرآن نے اسے بھی فروگذاشت نہیں کیا۔ یعنی کفّار یہ دعوٰی کرنے لگیں کہ وہ کاہنوں کے ذریعہ عالمِ غیب کے ساتھ مربوط ہیں، اس ذریعہ سے اسرارِ غیب معلُوم کرتے ہیں اور انہیں لکھ لیتے ہیں، پھر وہ ایک دوسرے کو دیتے رہتے ہیں۔ یعنی اس طریقہ سے انہوں نے مسلمانوں پر اپنی برتری یا کم از کم ان کے ساتھ اپنی مساوات اور برابری کو معلوم کر لیا ہے۔ یقیناً ان کے پاس اس قسم کے دعوے پر یہ بھی کوئی دلیل نہیں تھی اور یہ جملہ استفہام انکاری کے معنی دیتا ہے۔ بعض نے جو یہ احتمال دیا ہے کہ غیب سے مُراد لوح محفوظ ہے اور لکھنے سے مُراد تقدیر و قضا ہے تو یہ بہت بعید نظر آتا ہے کیونکہ ان کا ہرگز یہ دعوٰی نہیں تھا کہ قضاء و قدر اور لوحِ محفوظ کا معاملہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ چونکہ مشرکین اور دشمنان اسلام کی سختی اور بےعقلی بعض اوقات پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے دل کو ایسا دکھ پہنچاتی تھی کہ ممکن تھا آپ ان کے لیے بد دعا اور نفرین کر دیں لہٰذا خدا نے بعد والی آیت میں اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو تسلی دی اور انہیں صبر و شکیبائی کا حکم دیا ہے۔ جیسے فرماتا ہے: "صبر کرو اور اپنے پروردگار کے حکم کے منتظر رہو۔" (فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ)۔ منتظر رہو یہاں تک کہ خدا تیری اور تیرے اصحاب کی کامیابی اور تیرے دشمنوں کی شکست کے اسباب فراہم کر دے۔ تم ان کے عذاب کے لیے ہرگز جلدی نہ کرنا۔ جان لو کہ یہ مہلت جو انہیں دی جا رہی ہے ایک قسم کا عذابِ اِستدراج ہے۔ اس بناء پر "حکم ربّک" سے مراد مسلمانوں کی کامیابی کے بارے میں خدا کا آخری فرمان ہے، لیکن بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم پروردگار کے احکام کی تبلیغ کی راہ میں صبر و استقامت سے کام لو۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ تمہارے پروردگار نے حکم دیا ہے لہٰذا تم صبر کرو۔ (تشریحی نوٹ: اس صورت میں "لحکم ربک" کا لام تعلیل کا لام ہے)۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے مُناسب ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور مچھلی والے (یونس) علیہ السلام کی طرح نہ ہو جاؤ کہ جس نے اپنی قوم کے عذاب کے لیے جلدی کی اور ترکِ اولیٰ سزا میں گرفتار ہو گیا تھا۔" (وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ)۔ "جب اس نے مچھلی کے پیٹ کے اندر سے خدا کو پکارا اور وہ محبوس تھا اور اس کا سینہ غم و اندوہ سے بھرا ہوا تھا۔" (إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ)۔ ندا سے مراد وہی ہے جو سورۂ انبیاء کی آیت ٨٧ میں آیا ہے: فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ: "اس نے تاریکیوں کے درمیان سے پکارا کہ تیرے سوا اور کوئی معبُود نہیں ہے۔ تو منزّہ ہے۔ بیشک ستمگاروں میں سے تھا۔" اس طرح اپنے ترکِ اولیٰ کا اعتراف کیا اور خدا سے عفو و بخشش کا تقاضا کیا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ندا سے مُراد وہی نفرین و بد دعا ہو جو اپنی قوم کے لیے کی تھی جبکہ وہ غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے۔ لیکن مفسرین نے پہلی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ہے کہ اس آیت میں "نادٰی" کی تعبیر اس تعبیر کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو سورہ انبیاء کی آیت ٨٧ میں آئی ہے۔ وہ یقیناً اس زمانہ کے ساتھ مربُوط ہے جب یونس علیہ السلام شِکم ماہی میں محبوس تھے۔ بہرحال "مکظوم کظم" (بر وزن ہضم) کے مادہ سے حلق کے معنی میں ہے اور "کظم سقاء" مشک کے بھر جانے پر اس کے منہ کو باندھنے کے معنی میں ہے۔ اسی مناسبت سے وہ لوگ جو بہت خشمگین یا غمناک ہوتے ہیں اور خود کو قابو میں رکھتے ہیں" کاظم" کہا جاتا ہے۔ پھر اسی مناسبت سے یہ لفظ جس کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس بناء پر اوپر والی آیت میں مکظوم کے دو معنی ہو سکتے ہیں، غصّے اور غم و اندوہ میں بھرے ہوئے ہونا، یا شکمِ ماہی میں محبوس ہونا، لیکن پہلا معنی جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، زیادہ مناسب ہے۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: اگر اس کے پروردگار کی نعمت اور رحمت اس کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھتی تو وہ مچھلی کے پیٹ سے اس حال میں باہر پھینکا جاتا کہ وہ قابلِ مذمّت ہوتا۔" (لَوْلَا أَن تَدَارَكَهُ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ)۔ (تشریحی نوٹ: نعمت کے مُؤنث ہونے کے باوجود اس کا فعل (تدارکہ) مذکّر کی صورت میں آیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ فاعل مُؤنث لفظی دہے اور فعل و فاعل کے درمیان ضمیر مفعُولی میں فاصلہ ہو گیا ہے۔ (غور کیجئے)۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آخرکار یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے ایک خشک بیاباں میں ڈالے گئے جسے قرآن 'عراء' سے تعبیر کرتا ہے لیکن یہ اس حالت میں ہُوا کہ خدا نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا اور اپنی رحمت کا مشمول قرار دے دیا تھا۔ وہ ہرگز لائقِ مذمّت نہیں تھے۔ سورہ صافات کی آیت ١٤٥، ١٤٦ میں بھی یہ آیا ہے: فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌo وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ: "ہم نے اسے خشک اور خالی سرزمین میں پھینک دیا جبکہ وہ بیمار تھا اور کدّو کی بیل اس کے اُوپر اُگا دی (تاکہ وہ اس کے لمبے اور مرطوب پتّوں کے سائے میں آرام کر لے) اور ظاہراً اوپر والی آیت میں نعمت سے مراد وہی توبہ کی توفیق اور رحمت الہٰی کا مشمول ہونا ہے۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں: پہلا یہ کہ سورة صافات کی آیت ١٤٣، ١٤٤ میں آیا ہے: فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنْ الْمُسَبِّحِينَo لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔ "اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتا یہ بیان اس چیزکے ساتھ منافات رکھتا ہے جو زیر بحث آیت میں آئی ہے۔ اِس سوال کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ دو مختلف سزائیں، ایک زیادہ شدید اور دوسری زیادہ خفیف، یونس علیہ السلام کے انتظار میں تھیں۔ پہلی یہ کہ وہ دنیا کے ختم ہونے تک مچھلی کے پیٹ میں رہیں۔ لیکن یہ تسبیح اور حمد الہٰی کی برکت سے برطرف ہو گئی۔ دوسری یہ کہ جب وہ شکمِ ماہی سے باہر آئے تو مذموم اور لطفِ خدا سے دور ہوتے۔ تو وہ سزا بھی پروردگار کی نعمت اور اس رحمتِ خاص کی برکت سے برطرف ہو گئی۔ دوسرا سوال یہ کہ سورۂ صافات کی آیت ١٤٢ میں آیا ہے: فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ: "ایک بہت بڑی مچھلی نے اُسے نگل لیا جبکہ وہ قابلِ ملامت تھا۔ لیکن زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کوئی مذمّت اور ملامت نہیں تھی۔ اس سوال کا جواب بھی ایک نکتہ کی طرف توجّہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ملامت اس زمانہ کے ساتھ مربُوط ہے جبکہ وہ نئے نئے مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تھے۔ لیکن مذمّت کی برطرفی اس زمانہ کے ساتھ مربُوط ہے جب انہوں نے توبہ کر لی اور خدا نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا اور انہوں نے مچھلی کے پیٹ سے نجات پائی۔ اِسی لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "اس کے پروردگار نے اُسے چُن لیا اور اُسے صالحین میں سے قرار دیا۔" (فَاجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ)۔ اس کے بعد انہیں نئے سر سے اپنی قوم کی ہدایت کے لیے مامور کیا۔ وہ ان کی طرف آئے وہ سب ایمان لے آئے اور خدا نے بہت زیادہ مدّت تک انہیں زندگی کی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ ہم نے یونس اور ان کی قوم کے قصّے اور اسی طر ح ان کے ترکِ اولیٰ سے مربُوط دوسرے مسائل یعنی ان کا مچھلی کے پیٹ میں جانا اور مختلف سوالات جو اس سلسلہ میں درپیش ہیں تفصیل کے ساتھ تفسیر نمونہ جلد ١٩ (سورۂ صافات کی آیت ١٣٩ تا ١٤٨ کے ذیل میں) اور اسی طرح تفسیر نمونہ جلد ١٣ (سورہ انبیاء کی آیت ٨٧ ، ٨٨ کے ذیل میں بیان کیے ہیں)۔

51
68:51
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ لَمَّا سَمِعُواْ ٱلذِّكۡرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجۡنُونٞ
قریب ہے کہ کفار آیات کو سن کر تجھے اپنی آنکھوں سے ہلاک کر دیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
68:52
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
در آنحالیکہ یہ ( قرآن) عالمین کے لئے پیام بیداری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

تفیسیر وہ تجھے نابود کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

اوپر والی دونوں آیات جو سورۂ قلم کی آخری آیات ہیں حقیقت میں اسی چیز کو بیان کر رہی ہیں جو اس سورہ کے آغاز میں دشمنوں کی طرف سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے جنون کے نسبت کے سلسلہ میں آئی تھی۔ پہلے فرماتا ہے: "قریب ہے کہ کفّار آیاتِ قرآن کو سُن کر تجھے اپنی آنکھوں سے ہلاک کر دیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو دیوانہ ہے۔" (وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ)۔ "لَيُزْلِقُونَكَ"، "زلق" کے مادہ سے پھسلنے اور زمین پر گرنے کے معنی میں ہے اور ہلاکت و نابودی سے کنایہ ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں گونا گوں نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ١: بہت سے مفسرین نے کہا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جب دشمن قرآن کی باعظمت آیات کو تجھ سے سنتے ہیں تو وہ خشمگین اور پریشاں ہو جاتے ہیں اور دشمنی کے ساتھ تیری طرف دیکھتے ہیں گویا چاہتے ہیں کہ تجھے اپنی آنکھوں سے زمین پر گرائیں اور نابود کر دیں۔ اس معنی کی وضاحت میں ایک گروہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے نظرِ بد کے ذریعہ، جس کا بہُت سے لوگ عقیدہ رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ بعض آنکھوں میں ایک مرموز اثر چھپا ہوا ہوتا ہے، وہ ایک مخصوص نگاہ کے ساتھ طرفِ مقابِل کو بیمار یا ہلاک کر سکتے ہیں، ہلاک و نابود کر دیں۔ ٢: بعض نے کہا ہے یہ بہت زیادہ غضب آلود نگاہوں سے کنایہ ہے، جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اِس طرح بُری نگاہ سے میری طرف دیکھا کہ گویا چاہتا تھا کہ مجھے اپنی نگاہ سے کھا جائے یا مار ڈالے۔ ٣: اس آیت کی ایک اور تفسیر نظر آتی ہے جو شاید اوپر والی تفاسیر سے زیادہ نزدیک ہو۔ وہ یہ ہے کہ قرآن چاہتا ہے اِس عجیب تضاد کو جو دشمنانِ اسلام کی باتوں میں پایا جاتا ہے، اس بیان کے ذریعہ ظاہر کر دے اور وہ یہ ہے: وہ جس وقت قرآنی آیات کو سنتے ہیں تو اس قدر مجذوب ہو جاتے ہیں اور اس پر تعجّب کرتے ہیں ڈالنے والے ہوتے ہیں) لیکن اس کے باوجود کہتے ہیں کہ تُو دیوانہ ہے۔ یہ واقعاً بڑی تعجّب خیز بات ہے۔ دیوانہ اور پراگندہ باتیں کہاں اور یہ حیرت انگیز، جاذب اور پُر اثر آیات کہاں؟ یہ دماغ کے ہلکے نہیں جانتے کہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیسی کیسی متضاد و نقیض نسبتیں تیری طرف دے رہے ہیں۔ بہرحال، اس بارے میں کہ اِسلامی نظریہ کے مطابق اور موجودہ زمانہ کے علُوم کے لحاظ سے نظر بد میں کچھ حقیقت ہے یا نہیں؟ انشاء اللہ نکات کی بحث میں گفتگو کریں گے۔ انجامِ کار آخری آیت میں مزید کہتا ہے: "یہ قرآن عالمین کے لیے بیداری کا ذریعہ ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔" (وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ)۔ اس کے معارف روشنی بخشنے والے، اس کے انذار آگاہ کرنے والے، اس کی مثالیں پُر معنی، اس کی نشویقیں اور بشارتیں رُوح پرور، سوئے ہُوئے لوگوں کے لیے بیداری کا سبب اور غافلوں کے لیے یاد آوری کا مُوجب، ان حالات میں اس کے لانے والے کی طرف جنون کی نسبت کیسے دی جا سکتی ہے؟ اس تفسیر کے مُطابق یہاں ذکر (بر وزن فکر) یاد آوری کے معنی میں ہے۔ لیکن بعض مفسّرین نے اس کی تفسیر شرف کے معنی کے ساتھ کی اور کہا ہے کہ یہ قرآن تمام عالمین کے لیے ایک شرافت و بزرگی ہے ٓ، جیسا کہ سورة زخرف کی آیۂ ٤٤ میں فرماتا ہے: وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ: "قرآن تیرے اور تیرے قوم کے لیے شرف اور آبرُو کا موجب ہے لیکن جیسا کہ ہم نے مذکورہ آیت کے ذیل میں بھی کہا ہے کہ ذکر وہاں بھی یاد آوری اور آگاہی بخشنے کے معنی میں ہے۔ نیز اصولی طور پر قرآن مجید کے ناموں میں سے ایک نام ذکر ہے اس بناء پر پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔

ایک نکتہ کیا نظر بد کی کوئی حقیقت ہے؟

بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ بعض آنکھوں میں ایک خاص قسم کا اثر ہوتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کی طرف توجّہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ممکن ہے کہ اُسے نابود کر دیں یا درہم برہم کر دیں اور اگر کوئی انسان ہے، تو اسے بیمار یا دیوانہ کر دیں۔ یہ مسئلہ عقلی لحاظ سے کوئی امر محال نہیں ہے، کیونکہ موجودہ زمانہ کے بہُت سے ماہرین کا نظریہ ہے کہ بعض آنکھوں میں ایک خاص قسم کی مقناطیسی قوّت چھپی ہُوئی ہوتی ہے جو بہت سارے کام کرتی ہے۔ یہاں تک کہ مشق کے ذریعے کی پرورش ہو سکتی ہے۔ آنکھوں کی اسی مقناطیسی قوت کے ذریعہ دوسرے آدمی پر مقناطیسی نیند طاری کی جاتی ہے۔ جِس دنیا میں "لیزر شعاعیں" جو غیر مرئی ہیں، ایسا کام کر سکتی ہیں جو کسِی انتہائی خطرناک اور تباہ کُن ہتھیار سے بھی نہیں ہو سکتا، تو بعض آنکھوں میں ایسی قوّت کے وجود کو تسلیم کر لینا جو مخصوص لہروں کے ذریعے طرف مقابل میں اثر انداز ہو سکے، کوئی عجیب چیز نہیں ہو گی۔ بہت سے لوگ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے ایسے افراد دیکھے ہیں جو آنکھ کی اس مرمُوز توانائی کے حامل تھے، اور انہوں نے کچھ لوگوں، جانوروں یا پھر دوسری چیزوں کو اپنی آنکھوں کی اس خفیہ طاقت سے بیکار کر دیا تھا۔ لہٰذا نہ صرف یہ کہ ان امور کے انکار پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے وجُود کے امکان کو عقل اور علم کے لحاظ سے قبول کر لینا چاہیے۔ اِسلامی روایات میں بھی ایسی بہت سی مختلف تعبیریں نظر آتی ہیں جو اس امر کی اجمالاً تائید کرتی ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اسماء بنت عمیس نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا: "بعض اوقات جعفر کے بیٹوں کو نظر لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے "رقیہ" لے لوں (رقیہ سے مراد وہ لکھی ہُوئی دُعائیں ہیں، جنہیں کچھ لوگ بُری نظر سے بچنے کے لیے اپنے پاس رکھتے ہیں اور اسے تعویز بھی کہتے ہیں)۔" پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: "نعم، فلو کان شیء یسبق القدر السبقة العین۔" "ہاں! کوئی حرج نہیں ہے، اگر کوئی چیز قضاء و قدر پر سبقت لے سکتی ہے تو وہ نظر بد کا لگنا ہے۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٤١)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: "پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے لیے ایک تعویذ بنایا اور آپ نے یہ دعا پڑھی: "اعیذکما بکلمات التامة و اسماء اللہ الحسنٰی کلھا عامة، من شرا لسامة و الھامة و من شر کل عین لامة، و من شر حاسد اذا حسد۔" "میں تمہیں تمام کلمات اور خدا کے اسمائے حُسنٰی کے، موت، موذی جانوروں کے شر اور ہر بُری آنکھ اور حسد کرنے والے کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے۔ سپرد کرتا ہوں۔" اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا: "حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسمٰعیل و اسحٰق علیہما السلام کے لیے اسی طرح سے تعویذ بنایا تھا۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٤٠٠)۔ نہج البلاغة میں بھی آیا ہے: "العین حق و الرق حق۔" نظرِ بد بھی حق ہے اور اس کے دفع کرنے کے لیے دعا و تعویذ سے متوسّل ہونا بھی حق ہے۔" (تشریحی نوٹ: نہج البلاغة، کلمات قصار جملہ ٤٠٠ (یہ حدیث صحیح بخاری جلد ٧، صفحہ ١٧٠، باب العین حق میں بھی اس صورت میں نقل ہوئی ہے العین حق) "المعجم المفھرس لا لفاظ الحدیث النبوی" میں یہی معنی مختلف منابع سے نقل ہواہے۔ (جلد ٤، صفحہ ٤٥١))۔ اس نکتہ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ یہ دعائیں اور وسیلے حکم خدا سے آنکھوں کی مرموز مقناطیسی قوّت و توانائی کی تاثیر کو روک دیں، جیسا کہ دعائیں بہت سے دوسرے مخرب عوامل پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انہیں خُدا کے حکم سے بے اثر کر دیتی ہیں۔ یہ بات بھی یاد دلانی ضروری ہے کہ اجمالی طور سے نظرِ بد کی تاثیر کو قبول کرنے کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس قسم کے موارد میں بیہودہ کاموں اور عامیانہ اعمال کی پناہ لی جائے جو احکامِ شریعت کے برخلاف ہیں اور اصل موضوع میں بےخبر لوگوں کے شک و تردّد کا باعث بھی ہیں۔ جیسا کہ بہت سے حقائق کے ان خرافات کے ساتھ آلودہ ہونے سے یہ غیر مطلوب تاثیر ذہنوں میں، بیٹھ گئی ہے۔ خداوندا! ہمیں شر اشرار اور دشمنوں کے مکروں سے اپنی پناہ میں محفوظ رکھ! پروردگارا! ہمیں وہ صبر و استقامت مرحمت فرما جس کے سائے میں ہم تیری رضا کو حاصل کر سکیں۔ بارالہٰا! ہمیں اپنی بےپایاں نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مرحمت فرما، اس سے پہلے کہ ناشکریاں اسے ہم سے سلب کر لیں۔ آمین یا ربّ العالمین۔

end of chapter
Al-Qalam (68) — Tafseer e Namoona