Al-Kawthar
سُورہ الکوثر
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳ آیات ہیں۔
سُورہ کوثر کے مطالب اور اس کی فضیلت
مشہور یہ ہے کہ یہ سُورہ "مکّہ" میں نازل ہوا ہے۔ لیکن بعض نے اس کے مدنی ہونے کا احتمال بھی دیا ہے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ سُورہ دو بار نازل ہوا۔ ایک دفعہ مکّہ میں اور دوسری دفعہ مدینہ میں، لیکن جو روایات اس کے شانِ نزول میں وارد ہوئی ہیں وہ اس کے مکّی ہونے کے مشہور قول کی تائید کرتی ہیں۔ اِس سُورہ کے شانِ نزول میں آیا ہے کہ: "عاص بن وائل" نے جو مشرکین کے سرداروں میں سے تھا، پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے مسجد الحرام سے نکلتے وقت ملاقات کی اور کچھ دیر تک آپ سے باتیں کرتا رہا۔ قریش کے سرداروں کا ایک گروہ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے دُور سے اس منظر کا مشاہدہ کیا۔ جس وقت "عاص بن وائل" مسجد میں داخل ہوا تو انہوں نے اس سے کہا کہ تو کس سے باتیں کر رہا تھا؟ اس نے کہا: اس "ابتر" شخص سے۔ اس نے اس تعبیر کا اس لیے انتخاب کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزند "عبد اللہ" دُنیا سے رُخصت ہو چکے تھے۔ اور عرب ایسے آدمی کو جس کے کوئی بیٹا نہ ہو "ابتر" کہا کرتے تھے یعنی (بلاعقب۔ مقطوع النسل) لہٰذا قریش نے پیغمبر اکرمؐ کے فرزند کی وفات کے بعد اس لقب کو آنحضرتؐ کے لیے انتخاب کر رکھا تھا، جس پر یہ سُورت نازل ہوئی، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت سی نعمتوں اور کوثر کی بشارت دی اور ان کے دشمنوں کو ابتر کہا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۴۹)۔ اِس کی وضاحت اس طرح ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بانوئے اسلام جنابِ خدیجہؑ سے دو بیٹے تھے، ایک قاسم اور دوسرے طاہر جنہیں عبداللہ بھی کہتے تھے۔ دونوں ہی مکّہ میں دنیا سے چل بسے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کوئی بیٹا نہ رہا۔ اس بات نے قریش کے بدخواہوں کی زبان کھول دی، اور وہ آنحضرت کو "ابتر" کہنے لگے۔ (تشریحی نوٹ: پیغمبر اکرمؐ کا ایک اور بیٹا جس کا نام "ابراہیم" تھا، "ماریہ قبطیہ" سے مدینہ میں ہجرت کے آٹھویں سال پیدا ہوا، لیکن اتفاقاً وہ بھی دو سال کا ہونے سے پہلے وفات پا گیا۔ ان کی وفات نے پیغمبر اکرمؐ کے دل کو بہت آزردہ کیا تھا)۔ وہ اپنی روایت کے مطابق بیٹے کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے تھے، اسے باپ کے پروگراموں کو جاری رکھنے والا شمار کرتے تھے اس سانحے کے باعث ان کا خیال یہ تھا کہ پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے پروگرام معطل ہو کر رہ جائیں گے چناچہ وہ اس بات پر بہت خوش تھے۔ قرآن مجید نازل ہوا اور اس سورہ میں اعجاز آمیز طریقہ سے انہیں جواب دیا اور خبر دی کہ ٓانحضرتؐ کے دشمن ہی ابتر رہیں گے اور اسلام و قرآن کا پروگرام کبھی منقطع نہیں ہو گا۔ اس سورہ میں جو بشارت دی گئی ہے وہ ایک طرف تو دشمنان اسلام کی امیدوں پر ایک ضرب تھی اور دوسری طرف رسول اللہؐ کے لئے تسلی خاطر تھی جن کا قلبِ نازک دل اس قبیح لقب اور دشمنوں کی سازش کو سُن کر غمگین اور مکدر ہوا تھا۔ اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: "من قرائھا سقاہ اللہ من انھار الجنة، و اعطی من الاجر بعدد کل قربان قربہ العباد فی یوم عید و یقربون من اھل الکتاب و المشرکین" "جو شخص اس کی تلاوت کرے خدا اسے جنت کی نہروں سے سیراب کرے گا اور ہر قربانی کی تعداد میں جو خدا کے بندے عید (قربان) کے دن کرتے ہیں، اور اسی طرح سے وہ قربانیاں کو اہل کتاب اور مشرکین دیتے ہیں ان سب کی تعداد کے برابر اس کو اجر دے گا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۴۸)۔ اِس سورہ کا نام (کوثر) اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہم نے تجھے فراواں خیر و برکت دی
Tafsīr Nemūna · Vol. 16اس تمام سورے میں روئے سخن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف ہے (جیسا کہ سُورہ والضحیٰ اور سورہ الم نشرح میں ہے) اور تینوں سُوروں کے اہداف و مقاصد میں سے ایک آنحضرتؐ کے دل کو درد ناک انبوہ حوادث میں تسلی دینا اور دشمنوں کے بار بار لگائے ہوئے زبان کے زخموں کے مقابلہ میں تشفی بخشنا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "ہم نے تجھے کوثر عطا کیا" (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ)۔ "کوثر" وصف ہے جو "کثرت" سے لیا گیا ہے، اور فراواں خیر و برکت کے معنی میں ہے اور "سخی" افراد کو بھی "کوثر" کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں کہ یہاں کوثر سے کیا مُراد ہے، ایک روایت میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سُورہ نازل ہوا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور اس سُورہ کی تلاوت فرمائی۔ اصحاب نے عرض کیا یہ کیا چیز ہے جو خدا نے آپ کو عطا فرمائی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ یہ جنّت میں ایک نہر ہے، جو دُودھ سے زیادہ سفید اور قدح (بلور) سے زیادہ صاف ہے، اس کے اطراف میں دُر و یاقوت کے قبے ہیں۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۴۹)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "کوثر جنت میں ایک نہر ہے جو خدا نے اپنے پیغمبرؐ کو ان کے فرزند (عبد اللہ جو آپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے) کے بدلے میں عطا کی ہے۔" بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد وہی "حوضِ کوثر" ہے جو پیغمبر سے تعلق رکھتا ہے، اور جس سے مومنین جنت میں داخل ہونے کے وقت سیراب ہوں گے۔ بعض نے اس کی نبوّت سے تفسیر کی ہے، بعض دوسروں نے قرآن سے، بعض نے اصحاب و انصار کی کثرت سے اور بعض نے کثِرت اولاد اور ذُریّت سے، جو سب آپ کی دُختر نیک اختر فاطمہ زہرا علیہا السّلام سے وجود میں آئی اور اس قدر بڑھ گئی ہے کہ حساب و شمار سے باہر ہو گئی ہے اور دامنِ قیامت تک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے وجود کی یادگار ہے۔ بعض نے اس کی "شفاعت" سے بھی تفسیر کی ہے اور اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔ یہاں تک کہ فخر رازی نے "کوثر" کی تفسیر میں "پندرہ قول" نقل کیے ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس وسیع معنی کے واضح مصادیق کا بیان ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے"کوثر"، "خیر کثیر اور "فراداں نعمت" کے معنی میں ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو بہت ہی زیادہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ان میں سے ہر ایک اس کے مصادیق میں سے ایک واضح مصداق ہے اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مصداق ہیں، جنہیں آیت کی مصداقی تفسیر کے عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے- بہرحال، تمام میدانوں میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ذات پر تمام نعمتیں۔ یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ جنگوں میں آپ کی کامیابیوں میں، یہاں تک کہ آپ کی اُمّت کے علماء جو ہر عصر اور ہر زمانہ میں قرآن و اسلام کی مشعلِ فروزاں کی پاسداری کرتے ہیں، اور اسے دنیا کے ہر گوشہ میں لے جاتے ہیں۔ سب اس خیر کثیر میں شامل ہیں- اِس بات کو نہیں بھولنا چاہئیے کہ خدا اپنے پیغمبرؐ سے یہ بات اس وقت کہہ رہا ہے کہ ابھی تک اس خیر کثیر کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسی خبر اور پیش گوئی تھی جو مستقبل قریب اور مستقبل بعید کے لئے کی جا رہی تھی۔ یہ ایک اعجاز آمیز اور رسولِ اکرمؐ کی دعوت کی حقانیت کو بیان کرنے والی خبر ہے۔ اِس عظیم نعمت اور خیرِ فراداں کے لئے بہت ہی زیادہ شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ مخلوق کا شکر ادا کرنا خالق کی نعمت کے حق کو ہرگز ادا نہیں کرتا، بلکہ شکر گزاری کی توفیق اس کی طرف سے خُود ایک اور نعمت ہے، لہٰذا فرماتا ہے: "اب جب کہ ایسا ہے تو صرف اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھ اور قربانی دے۔" (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ)۔ ہاں! نعمت کا بخشنے والا وہی ہے اسی بناء پر نماز، عبادت اور قربانی جو ایک قسم کی عبادت ہے، اس کے علاوہ کسی اور کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی خصوصاَ "رب" کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو نعمتوں کے دوام اور پروردگار کی تدبیر و ربوبیت کو بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ "عبادت" خواہ نماز کی صورت میں ہو، یا قربانی کرنے کی صورت میں، وہ رب اور ولی نعمت کے ساتھ ہی مخصوص ہے اور وہ خدا کی ذاتِ پاک سے وابستہ ہے۔ یہ بات مشرکین کے اعمال کے مقابلہ میں جو اپنی نعمتوں کو تو خدا ہی کی طرف سے سمجھتے تھے لیکن سجدہ اور قربانی بتوں کے لئے کرتے تھے۔ بہرحال، ’لربّک‘ کی تعبیر عبادات میں قصدِ قربت کے لازم ہونے کے مسئلہ پر ایک واضح دلیل ہے۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ نماز سے مُراد عید قربان کے دن کی نماز ہے اور قربانی کرنا بھی اُسی دن ہے۔ لیکن ظاہراَ آیت کا مفہوم عام اور وسیع ہے۔ اگرچہ عید کے دن کی نماز اور قربانی بھی اس کا ایک واضح مصداق ہے۔ "وانحر"، "نحر" کے مادّہ سے، اُونٹ کو حلال کرنے کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ بات شاید اس بناء پر ہے کہ قربانیوں میں سے اونٹ کی قربانی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ اور پہلے پہل مسلمان اس سے زیادہ لگاؤ رکھتے تھے اور اُونٹ کی قربانی دینا ایثار و قربانی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اُوپر والی آیت کے لیے یہاں دو اور تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ۱۔ "وانحر" کے جملہ سے مُراد نماز کے وقت رُو بقبلہ کھڑا ہونا ہے، چونکہ "نحر" کا مادّہ، گلے والی جگہ کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد عربوں نے اسے ہر چیز کے آمنے سامنے ہونے کے معنی میں استعمال کیا ہے، لہٰذا وہ کہتے ہیں: "منا زلنا تتناحر" یعنی ہمارے گھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ ۲۔ اس سے مراد تکبیر کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا اور گلے اور چہرے کے سامنے لانا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: "جس وقت یہ سورہ نازل ہوا، تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے جبرئیل سے سوال کیا؟ یہ "نُحیرہ" (تشریحی نوٹ: "نُحَیرہ" مہینہ کے آخری دن کے معنی میں ہے، چونکہ اس دن انسان نئے چاند کے استقبال کے لئے جاتا ہے اور بعض نے اسے مہینہ کے آخری شب و روز کے معنی میں لیا ہے، تو اس بناء پر روایت کا معنی اس طرح ہو گا، یہ اگلے مہینہ کا استقبال جس کا خدا نے مجھے حکم دیا ہے کیا ہے؟ لہذا جبرئیل نے کہا یہ "نحیرہ" ہے)۔ جس کے لئے میرے پروردگار نے مجھے مامور کیا ہے، کیا ہے؟ "جبرئیل" نے عرض کیا: "یہ نحیرہ نہیں ہے، بلکہ خدا نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ جس وقت نماز میں داخل ہو تو تکبیر کہتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کریں، اور اسی طرح جب رکوع کریں، یا رکوع سے سر اُٹھائیں، یا سجدہ کریں، اس وقت بھی، کیونکہ ہماری اور سات آسمانوں کے فرشتوں کی نماز اسی طرح کی ہے۔ اور ہر چیز کی ایک زینت ہوتی ہے، اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۵۰)۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السّلام سے آیا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "اس سے مُراد یہ ہے کہ نماز کے آغاز میں ہاتھوں کو اس طرح بلند کرو کہ ان کی ہتھیلیاں رُو بقبلہ ہو" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۵۰)۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ اس سے مراد بُت پرستوں کے اعمال کی نفی ہے جو غیر خدا کے لئے عبادت و قربانی کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان تمام روایات اور مطالب کے درمیان جمع کرنا، جو اس سلسلہ میں ہم تک پہنچی ہیں کوئی مانع نہیں ہے۔ خاص طور سے تکبیرات کے وقت ہاتھ بلند کرنے کے سلسلہ میں تو شیعہ اور اہلِ سنّت کی کتابوں میں متعدد روایات نقل ہوئی ہے۔ اس طرح سے ایک آیت جامع مفہوم رکھتی ہے جو ان کو بھی شامل ہے۔ اور اس سورہ کی آخری آیت میں، اس نسبت کی طرف توجہ دیتے ہوئے، جو شرک کے سرغنے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف دیتے تھے، فرماتا ہے: "اَبتر اور بلا عقب و مقطوع النسل نہیں ہے۔ بلکہ تیرا دشمن اَبتر، بلا عقب اور مقطوع النسل رہے گا۔" (إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ)۔ "شانی"، "شنئان" (بروزن ضربان) کے مادّہ سے عداوت و دشمنی، کِینہ ورزی اور بدخلقی کرنے کے معنی میں ہے اور "شانی" اس شخص کو کہتے ہیں جو اس صفت کا حامل ہو۔ قابِل توجہ بات یہ کہ "ابتر" اصل میں "دُم کٹے جانور" کے معنی میں ہے، اور دُشمنانِ اسلام کی طرف سے اس تعبیر کا انتخاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ہتک حرمت اور توہین کرنے کے لئے تھا۔ اور "شانی" کی تعبیر اسی واقعیت کو بیان کرتی ہے کہ وہ اپنی دشمنی میں کم سے کم آداب کی رعایت تک بھی نہیں کرتے تھے۔ یعنی ان کی عداوت و دشمنی قساوت و رذالت سے آمیختہ تھی۔ حقیقت میں قرآن یہ کہتا ہے کہ یہ لقب خود تمہارا ہے نہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا۔ دوسری طرف۔ جیسا کہ سورہ کی شانِ نزول میں بیان کیا گیا ہے۔ قریش پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم، اور اسلام کی بساط کے اُلٹ جانے کے انتظار میں تھے، کیونکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کے پیچھے کوئی اولاد نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ تو بلا عقب اور بےاولاد نہیں ہے بلکہ تیرے دشمن ہی بلا عقب اور بےاولاد ہیں۔
چند نکات ۱۔ حضرت فاطمہؑ اور "کوثر"
ہم بیان کر چکے ہیں کہ "کوثر" ایک عظیم جامع اور وسیع معنی رکھتا ہے۔ اور وہ "خِیر کثیر و فراداں ہے" اور اس کے بہت زیادہ مصادیق ہیں۔ لیکن بہت سے بزرگ شیعہ علماء نے واضح ترین مصادیق میں سے ایک مصداق "فاطمہ زہرا" (سلام اللہ علیہا) کے وجود مبارک کو سمجھا ہے۔ چونکہ آیت کی شانِ نزول سے ظاہر ہے کہ دشمن پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو ابتر اور بلا عقب ہونے سے متہم کرتے تھے۔ قرآن ان کی بات کی نفی کے ضمن میں کہتا ہے: "ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے" اس تعبیر کا مطلب یہی بنتا ہے کہ یہ "خیر کثیر" فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہی ہیں کیونکہ پیغمبرؐ کی نسل اور ذریت اسی دُخترِ گرامی کے ذریعے سارے عالم میں منتشر ہوئی، جو نہ صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی جسمانی اولاد تھی بلکہ انہوں نے آپ کے دین اور اسلام کی تمام اقدار کی حفاظت کی اور اسے آنے والوں تک پہچایا۔ نہ صرف اہلِ بیتؑ کے آئمہ معصومین، جن کی اپنی ایک مخصوص حیثیت تھی، بلکہ ہزارہا فرزندانِ فاطمہ عالم میں پھیل گئے، جن میں بڑے بڑے بزرگ علماء مؤلفین، فقہا، محدّثین، مفسّرین والا مقام، اور عظیم حکمران ہو گزرے ہیں جنہوں نے ایثار و قربانی اور فدا کاری کے ساتھ دینِ اسلام کی حفاظت کی کوشش کی۔ یہاں پر "فخر رازی" کی ایک عُمدہ بحث ہمارے سامنے آئی ہے جو اُس نے کوثر کی مختلف تفسیروں کے ضمن میں بیان کی ہے: تیسرا قول یہ ہے کہ یہ سورہ ان لوگوں کے ردّ کے عنوان سے نازل ہوا ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے نہ ہونے پر طعن و طنز، اور تنقید و اعتراض کرتے تھے۔ اس بناء پر سُورہ کا معنی یہ ہو گا کہ خدا آپ کو ایسی نسل دے گا جو زمانہ دراز تک باقی رہے گی۔ غور تو کرو کہ لوگوں نے اہلِ بیتؑ کے کتنے افراد کو شہید کیا لیکن اس کے باوجود دُنیا اُن سے بھری پڑی ہے جب کہ بنی اُمیہ میں سے (جو اسلام کے دشمن تھے) کوئی قابل ذکر شخص دنیا میں باقی نہیں رہا پھر آنکھ کھول کر دیکھ اور غور کر کہ فاطمہ کی اولاد کے درمیان باقر و صادق و رضا و نفسِ ذکیہ/ جیسے کتنے عظیم اور بزرگ علماء ہوئے ہیں۔
۲۔ اس سُورہ کا اعجاز
درحقیقت اس سورہ میں تین پیشین گوئیاں، بیان کی گئی ہیں۔ ایک طرف پیغمبرؐ کو خیر کثیر عطا کرنے کی خوش خبری دیتی ہے۔ (اگرچہ "اعطینا" فعل ماضی کی صُورت میں ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ مضارع مسلّم کی قسم سے ہو، جو ماضی کی صورت میں بیان ہوا ہے) اور یہ خیر کثیر ان تمام فتوحات، کامیابیوں اور توفیقات کو شامل ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو بعد میں نصیب ہوئی ہیں۔ اگرچہ وہ مکہ میں اس سُورہ کے نزول کے وقت پیش بینی کے قابل نہیں تھیں۔ دُوسری طرف یہ سُورة اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم بےاولاد، بلا عقب اور مقطوع النسل نہیں ہو گے۔ بلکہ آپ کی نسل اور اولاد بڑی کثرت سے عالم میں موجود رہے گی۔ تیسری جانب یہ سورہ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ آپ کے دشمن ابتر، بلا عقب اور مقطوع النسل ہو جائیں گے۔ یہ پیش گوئی بھی پوری ہو گئی ہے اور آپ کے دشمن اس طرح تتر بتر اور تباہ و برباد ہوئے کہ آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ہے حالانکہ "بنی اُمیہ" اور "بنی عباس" جیسے قبائل جو پیغمبرؐ اور ان کی اولاد کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے ایک وقت اتنی جمعیّت اور کثرت رکھتے تھے کہ ان کی اولاد شمار میں نہ آئی تھی، لیکن آج اگر اُن میں سے کوئی باقی رہ بھی گیا ہو تو وہ بالکل پہچانا نہیں جاتا۔
۳۔ خُدا کے لیے جمع کی ضمیر کس لیے ہے؟
قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں بھی اور قرآن مجید کی اور بہت سی دُوسری آیات میں بھی صیغہ "متکلم مع الغیر" (جمع متکلم) کے ساتھ اپنا ذکر کرتا ہے۔ فرماتا ہے: "ہم" نے تجھے کوثر عطا کیا۔ یہ تعبیر اور اس قسم کی تعبیریں عظمت و قدرت کو بیان کرنے کے لیے ہوتی ہیں کیونکہ بزرگ اور بڑی ہستیاں جب اپنے بارے میں بات کرتی ہیں، تو وہ صرف اپنے بارے میں ہی نہیں، بلکہ اپنے ماموریں کارندوں کے بارے میں بھی خبر دیتی ہیں، اور یہ قدرت و عظمت اور ان کے اوامر کے مقابلہ میں فرمانبرداری کرنے والوں سے کنایہ ہے۔ زیر بحث آیت میں لفظ "ان" بھی اس معنی پر ایک دوسری تاکید ہے۔ اور "اٰتیناک" کے بجائے "اعطیناک" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ خدا نے پیغمبرؐ کو کوثر بخش دیا ہے اور عطا کر دیا ہے۔ اور یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے لئے ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ کو دشمنوں کی بیہودہ باتوں سے آپ کا قلب مبارک آزردہ نہ ہو۔ اور آپ کے آہنی عزم میں سستی اور کمزوری پیدا نہ ہونے پائے۔ اور دُشمن یہ جان لیں کہ آپ کی تکیہ گاہ وہ خدا ہے، جو تمام خیرات کا منبع ہے اور اس نے خیر کثیر آپ کو بخش دی ہے۔ خداندا! ہمیں اس خیرِ کثیر کی برکات سے جو تُو نے اپنے پیغمبرؐ کو مرحمت فرمائی ہے، بےنصیب نہ کرنا۔ پروردگارا! تُو جانتا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کی ذُریّت طاہرہ کو خلوص دل کو ساتھ دوست رکھتے ہیں، لہٰذا ہمیں انہیں کے ساتھ محشور کرنا۔ بارالہٰا! آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کے دین و آئین کی بہت بڑی عظمت ہے، اس عظمت و عزت و شوکت میں روز بروز اضافہ فرما۔ آمین یا ربّ العالمین