Sūra 57 · 29v
Chapter 5729 verses

Al-Hadid

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الحديد
الحدید

سورہ حدید

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ٢٩ آیات ہیں

سورۂ حدید کے مشمولات

یہ سورہ ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں، اس کے مدنی ہونے پر مفسّرین کا اجماع ہے۔ مدنی سورتوں کی خصوصیات کے طور پر اعتقادی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ اس سورہ نے کئی اجتماعی، حکومتی اور عملی احکام پیش کیے ہیں، جن کے نمونے ان شاء اللہ ہم آیت ١٠، ١١ اور ۲۵ میں دیکھیں گے۔ ١۔ اس سورہ کی ابتدائی آیات میں توحید اور صفاتِ خدا کے بارے میں نہایت مدلّل اور دلچسپ بحث ہے، خدا کی تقریباً بیس ایسی صفتیں ان میں مذکور ہیں جن کا ادراک انسان کو معرفتِ خدا کی ایک بلند منزل پر فائز کرتا ہے۔ ٢۔ دوسرا حصّہ قرآن سے متعلق ہے اور اس نورِ الہٰی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو شرک کی تاریکیوں میں چمکا۔ ٣۔ تیسرا حصّہ قیامت میں مومنین اور منافقین کی جو کیفیت ہو گی، اس پر مشتمل ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پہلا گروہ نورِ ایمان کے سائے میں باغِ فردوس کی طرف گامزن ہو جاتا ہے اور دوسرا گروہ شرک کی ظلمتوں میں محصور رہ جاتا ہے، اس سورہ میں یہ دونوں مباحث ہیں۔ اس طرح سورہ میں اسلام کے تین بنیادی اصول توحید، نبوّت اور قیامت نہایت خوبی سے بیان ہوئے ہیں۔ ٤۔ ایک اور حصّہ میں قبولِ ایمان کی دعوت دی گئی ہے اور شرک سے دستبردار ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس حصّہ میں گزشتہ کافر قوموں میں سے ایک قوم کا احوال بھی پیش کیا گیا ہے۔ ٥۔ سورہ کا اہم حصّہ یہ ہے کہ اس میں راہِ خدا میں انفاق پر زور دیا گیا ہے، جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اور مالِ دنیا کے بےقدر و قیمت ہونے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ٦۔ یہ مختصر سا حصّہ ہے لیکن نہایت مدلّل ہے۔ اس میں عدالتِ اجتماعی پر گفتگو ہوئی ہے جو انبیاء کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے۔ ٧۔ آخری حصّہ میں رہبانیت اور اجتماعی طور پر گوشہ نشینی اختیار کرنے کے مسئلہ پر بحث کے ساتھ اس کی مذمت کی گئی ہے اور اسلامی نقطۂ نظر کا اس سے اختلاف واضح کیا گیا ہے۔ ان مباحث کے درمیان کچھ اور نکات بھی بڑی مناسبت کے ساتھ زیر بحث آئے ہیں اور آخر میں ایک خوابِ غفلت سے بیدار کرنے والا اور ہدایت بہم پہنچانے والا مجموعۂ احکام تشکیل پاتا ہے۔ اس سورہ کا نام "حدید" رکھا گیا ہے وہ اس تعبیر کی بنا پر ہے جو آیہ ۲۵ میں آئی ہے۔

سورۂ حدید کی تلاوت کی فضیلت

روایاتِ اسلامی میں اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلہ میں قابلِ ذکر باتیں سامنے آئی ہیں۔ تلاوت محض تلاوت نہیں بلکہ ایسی تلاوت جس میں غور و فکر اور تدبّر و تفکر کا عنصر شامل ہو اور جو تحریکِ عمل کو اپنے ہمراہ لیے ہوئے ہو۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث میں منقول ہے کہ: "من قرأ سورة الحدید کتب من الذین آمنوا باللہ ورسولہ۔" "جو سورۂ حدید پڑھے گا، وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شمار ہو گا جو خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں۔" [بحوالہ: "مجمع البیان"، آغاز سورۂ حدید]۔ ایک اور حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے سے پہلے "مسبّحات" (وہ سورتیں جو سبّح للہ یا یسبّح للہ سے شروع ہوتی ہیں) پڑھا کرتے تھے۔ یہ پانچ سورتیں ہیں: • سورۂ حدید • سورۂ حشر • سورۂ صف • سورۂ جمعہ • سورۂ تغابن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے: "إنّ فيهنّ آية أفضل من ألف آية۔" یعنی: "ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے افضل و برتر ہے۔" [بحوالہ: "مجمع البیان"، آغاز سورۂ حدید و "درالمنثور"، جلد ۶، صفحہ ١٧٠]۔ البتہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو معیّن نہیں فرمایا، لیکن بعض مفسّرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد سورۂ حشر کی آخری آیت ہے، اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی واضح دلیل پیش نہیں کی۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، آغاز سورۂ حدید]۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ: "من قرأ المسبّحات کلّها قبل أن ينام لم يمت حتى يدرك القائم، وإن مات كان في جوار رسول الله۔" "جو شخص مسبّحات کی تلاوت کرے تو وہ اس وقت تک دنیا سے نہیں اٹھے گا جب تک حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور نہ ہو جائے اور اگر اس سے پہلے وہ دنیا سے اٹھ گیا تو دوسرے جہان میں رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہمسایہ ہو گا۔"

1
57:1
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
57:2
لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
آسمانوں اور زمین کی مالکیت (وحاکمیت) اس کے لئے ہے وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
57:3
هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡأٓخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
اول و آخر اور ظاہر و باطن وہی ہے اور وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔

تفسیر: گہری فکر رکھنے والوں کی علامات

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ سورہ توحید اور صفاتِ باری تعالیٰ کے بیان سے شروع ہوا ہے۔ وہ صفتیں جو بیان ہوئی ہیں، وہ تعداد میں بیس ہیں۔ یہ صفات ایسی ہیں کہ ان کی معرفت انسان کی سطحِ فکر کو بلند کرتی ہے اور وہ اپنے ربّ سے روشناس ہو جاتا ہے۔ اِن صفتوں میں سے ہر ایک، پروردگارِ عالم کی صفاتِ جلال و کمال کے کسی گوشے کو لیے ہوئے ہے اور صاحبانِ فکر و نظر اس میں جس قدر غور و فکر کرتے ہیں، انہیں نئے حقائق دستیاب ہوتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے یہ بات سننے میں آئی ہے کہ جس وقت آپ سے لوگوں نے توحیدِ الہٰی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "إنّ اللّٰہ عزّ و جلّ علم أنّہ یکون في آخر الزمان أقوام متعمّقون، فأنزل اللّٰہ تعالیٰ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ والآیات من سورة الحدید إلى قولہ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ، فَمَنْ رَامَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ۔" "خداوند تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانے میں کچھ قومیں آئیں گی جو مسائل میں غور و فکر سے کام لیں گی، لہٰذا خدا نے سورہ 'قل هو الله أحد' اور سورہ حدید کی ابتدائی آیات 'علیم بذات الصدور' تک نازل فرمائیں، پس جو شخص اس سے ہٹ کر کسی اور شے کا طالب ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔" [بحوالہ: اصولِ کافی، مطابق نقل تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ٢٣١]۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن آیتوں سے طالبانِ حقیقت کو خدا کی ممکن معرفت کے بیشتر حصے پر عبور حاصل ہو جاتا ہے۔ بہرحال، اس سورہ کی پہلی آیت خدا کی تسبیح سے شروع ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے، وہ ہمیشہ خدا کی تسبیح کرتا ہے اور وہی ایسا قادر ہے جسے کبھی شکست نہیں ہوتی اور وہ حکیمِ علی الاطلاق ہے۔" "سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔" گزشتہ سورہ تسبیح کے حکم کے ساتھ ختم ہوا ہے اور یہ سورہ تسبیحِ الہٰی سے شروع ہو رہا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ سورتیں جو خدا کی تسبیح سے شروع ہوتی ہیں اور جنہیں "مُسَبِّحَات" کہا جاتا ہے، ان میں تین مواقع ایسے ہیں جہاں تسبیح کا ذکر ماضی کے صیغے "سَبَّحَ" سے شروع ہوا ہے (حدید، حشر اور صف) اور دو مواقع ایسے ہیں جہاں صیغہ مضارع "يُسَبِّحُ" استعمال ہوا ہے (جمعہ اور تغابن)۔ تعبیر کا یہ فرق شاید اس نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ گزشتہ اور آئندہ یعنی ہمیشہ اس جہان کے موجودات اس ذاتِ اقدس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ یہ تسبیح ہوتی رہی تھی، ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ تسبیح سے مراد خدا کی ذات کو ہر عیب و نقص سے پاک قرار دینا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "تسبیح" (سبح) (بروزنِ مسح) کے مادّہ سے ہے جس کے معنی پانی اور ہوا کی تیز حرکت ہے۔ تسبیح بھی پروردگار کی عبادت کی راہ میں حرکتِ سریع ہے (مفرداتِ راغب)]۔ اور تمام موجوداتِ عالم کی یہ گواہی کہ خدا تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے، یا تو اس بنا پر ہے کہ ان سب کے نظامِ حیات میں اس قدر حکمت و دانائی اور ایسا نظم و نسق، حساب و کتاب اور عجائب و غرائب موجود ہیں جو سب کی زبانِ حال سے ذکرِ پروردگار کرتے ہیں اور اس کی تسبیح، حمد و ثنا کرتے ہیں اور بلند آواز میں کہتے ہیں کہ "ہمارے پروردگار کی قدرت اور اس کا اختیار بےحد و بےپایاں ہے۔" اسی لیے اس آیت کے آخر میں "وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ" کا جملہ آیا ہے۔ یا پھر یہ کہ اس عالم کے تمام ذرات اِک طرح کے ادراک و شعور سے بہرہ ور ہیں اور وہ اپنے اپنے مقام پر زبانِ حال سے خدا کی تسبیح کرتے ہیں، جیسا کہ سورہ اسراء کی آیت ۴۴ میں ذکر ہوا ہے (جلد ۶ ملاحظہ فرمائیں)۔ اس نکتہ کو یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ لفظ "مَا" جو "سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ" میں استعمال ہوا ہے، وہ وسیع معانی پر مشتمل ہے۔ اس سے تمام موجوداتِ عالم مراد ہیں، خواہ وہ صاحبِ عقل و روح ہوں یا بےروح، یہ سب پر احاطہ رکھتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: باوجودیکہ تسبیح حرفِ جر کے بغیر متعدی ہوتا ہے، مثلاً کہا جاتا ہے "شَجَرَہ"، لیکن یہاں لام کے ساتھ آیا ہے اور یہ ممکن ہے تاکید کہ لیے ہو]۔ خداوندِ عالم کی دو صفتیں یعنی "عزّت" اور "حکمت" کے بعد، عالمِ ہستی میں جو اس کی مالکیت، تدبیر اور تصرف کار فرما ہے اور جو لازماً قدرت ہے، اس کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا کے لیے آسمانوں اور زمین کی مالکیت و حاکمیت ہے، وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔" "لَهُ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔" عالمِ ہستی میں خدا کی مالکیت اعتباری اور تشریعی نہیں ہے بلکہ "مالکیتِ حقیقی و تکوینی" ہے، یعنی وہ ہر چیز پر احاطہ رکھتا ہے اور سارا جہان اس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اس کے ارادہ و فرمان کے ماتحت ہے۔ اسی لیے اس کے بعد "زندہ کرنے، مارنے اور ہر چیز پر اختیار رکھنے" کی گفتگو درمیان میں آئی ہے۔ تو اس طرح اب تک ان دو آیتوں میں خدا کی صفات میں سے چھ صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ عزّت اور قدرت میں فرق یہ ہے کہ عزّت عام طور پر دفاع کے انتظامات کو درہم برہم کرتی ہے اور قدرت کی توجہ اسباب کو ایجاد کرنے کی طرف ہے۔ اس بنا پر یہ دو مختلف صفتیں شمار ہوتی ہیں، اگرچہ بنیادی طور پر قوّت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں (غور فرمایئے)۔ زندہ کرنے اور مارنے کا مسئلہ بہت سی آیتوں میں بیان ہوا ہے اور درحقیقت یہ دونوں موضوع ایسے ہیں جن کے پیچیدہ اسرار کسی پر واضح و روشن نہیں ہیں، نہ کوئی شخص مکمل طور پر زندگی کی حقیقت سے باخبر ہے اور نہ موت کی حقیقت کو کوئی کماحقہ جانتا ہے، بلکہ جو کچھ ہم ان دونوں کے بارے میں جانتے ہیں وہ ان کے آثار ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تمام چیزوں سے زیادہ نزدیک ہم سے ہماری زندگی ہے، اس کے باوجود اس کی حقیقت اور اس کے اسرار ہم سے ہی سب سے زیادہ مخفی ہیں۔ قابلِ توجہ یہ کہ "یحیی و یمیت" کا جملہ مضارع کی شکل میں تمام زمانوں میں موت و حیات کے استمرار کی دلیل ہے۔ ان دونوں کا اطلاق نہ صرف انسانوں کی زندگی و موت تک محدود ہے بلکہ فرشتے اور دوسرے تمام زندہ موجودات، یہاں تک کہ یہ گھاس پھونس پر بھی احاطہ رکھتے ہیں اور نہ صرف اس دنیا ہی کی زندگی بلکہ عالمِ برزخ و قیامت کی زندگی کو بھی اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں۔ جی ہاں، حیات و موت اپنی تمام صورتوں کے اعتبار سے خدا کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اس کے بعد پانچ اور صفتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ اوّل ہے اور وہ آخر ہے، ظاہر ہے اور باطن ہے اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔" (هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ)۔ اوّل و آخر ہونے کی صفت اس کی ازلیت و ابدیت کی بہت لطیف تعبیر ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ واجب الوجود اور لامحدود ہے، یعنی اس کی ہستی خود اپنی ذات ہی سے ہے، نہ کہ خارج سے، کہ اس کی کوئی ابتدا ہو اور وہ ختم ہو۔ اس بنا پر وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ عالمِ ہستی کا سرآغاز ہے اور وہی ہے جو عالمِ فنا کے بعد بھی ہو گا، اس بنا پر اوّل و آخر کی تعبیر کسی خاص زمانے تک محدود نہیں ہے اور کسی معیّن مدت تک اشارہ نہیں کرتی۔ ظاہر و باطن کی توصیف بھی تمام چیزوں کی نسبت اس کے احاطۂ وجودی کی ایک اور تعبیر ہے۔ وہ ہر چیز سے زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اس کے آثار نے ہر جگہ کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے زیادہ مخفی ہے کیونکہ اس کی کنہِ ذات کسی پر آشکار نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں یہ مفہوم لیا ہے: "الأوّل بلا ابتداء، والآخر بلا انتہاء، والظاہر بلا اقتراب، والباطن بلا احتجاب۔" (وہ ایسا اوّل ہے کہ جس کا آغاز نہیں ہے اور ایسا آخر ہے جس کا اختتام نہیں ہے، باوجود قریب نہ ہونے کے ظاہر ہے اور پوشیدہ ہے باوجود ظاہر ہونے کے)۔ کچھ اور مفسرین ایک تعبیر پیش کرتے ہیں: "الأوّل ببرّه، والآخر بعفوه، والظاهر بإحسانه وتوفيقه إذا أطَعْته، والباطن بستره إذا عصيته۔" (وہ اوّل ہے نیکیوں میں اور آخر ہے عفو و بخشش کی بنا پر۔ اگر تو اس کی اطاعت کرے تو وہ اپنے احسان و توفیق کے ساتھ تجھ پر ظاہر ہوتا ہے اور اگر تو اس کی نافرمانی کرے تو ستر و پوشش کے ذریعے پنہاں ہو جاتا ہے)۔ مختصر یہ کہ وہ ہر چیز پر احاطہ رکھتا ہے اور عالمِ ہستی کا آغاز و انجام اور ظاہر و باطن ہے۔ بعض مفسرین نے "ظاہر" کے معنی یہاں "غالب" تجویز کیے ہیں (ظُهور بمعنی غلبة)۔ اور نہج البلاغہ کے بعض خطبوں میں ان معانی کا قرینہ نظر آتا ہے، جہاں خلقتِ زمین کے بارے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں: "هُوَ الظَّاهِرُ عَلَيْهَا بِسُلْطَانِهِ وَعَظَمَتِهِ، وَهُوَ الْبَاطِنُ لَهَا بِعِلْمِهِ وَمَعْرِفَتِهِ۔" (وہ اس پر اپنے تسلط اور عظمت کی بنا پر غالب ہے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے اس کے باطن میں راہ رکھتا ہے)۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ١٨٦]۔ ان دونوں تفسیروں کے اجتماع کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، بہرحال ان امور کے نتائج میں سے ایک وہی ہے جو آیت کے آخر میں آیا ہے: وھو بکل شیء علیم۔ کیونکہ وہ جو آغاز سے تھا اور آخر تک باقی رہے گا اور جو جہاں کے ظاہر و باطن میں ہے، وہ یقیناً ہر چیز سے آگاہ ہے۔"

ایک نکتہ: خدا کی صفات میں اضداد کا جمع ہونا

بہت سی صفات ایسی ہیں جو انسانوں میں اور دوسرے موجودات میں سے کسی ایک وجود میں بیک وقت جمع نہیں ہو سکتیں۔ وہ صفات ایک دوسرے سے تضاد رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں ایک گروہ میں اوّلین شخص ہوں تو یقیناً میں آخری شخص نہیں ہو سکتا۔ اگر ظاہر ہوں تو پوشیدہ نہیں ہو سکتا اور اگر پوشیدہ ہوں تو ظاہر نہیں ہوں گا۔ یہ سب کچھ اس بنا پر ہے کہ ہمارا وجود محدود ہے اور ہر محدود وجود اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب گفتگو صفاتِ خدا تک پہنچتی ہے تو پھر اوصاف اپنی شکل بدل لیتے ہیں۔ وہاں ظاہر و باطن آپس میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح آغاز و انجام کا ایک جگہ جمع ہونا اس کی ذات کے لامتناہی ہونے کی بنا پر کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے۔ وہ احادیث جو خود پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہیں، ان میں اس عنوان پر بہت ہی پُرکشش وضاحتیں موجود ہیں اور مذکورہ موضوعات کی تفسیریں بہت حد تک معاون ہیں۔ منجملہ دیگر حدیثوں کے، ان میں ایک حدیث ہے جو صحیح مسلم میں درج ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: (اللّٰھم انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاٰخرفلیس بعدک شیء وانت الظاھر فلیس فوقک شیء وانت الباطن فلیس دونک شیء)۔ "خداوندا! تو ایسا اوّل ہے جس سے پہلے کوئی چیز نہیں اور ایسا آخر ہے جس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ اسی طرح تو وہ ظاہر ہے کہ تجھ سے برتر کوئی وجود نہیں اور تو وہ باطن و پنہاں ہے کہ تجھ سے ماوراء کسی چیز کا تصور نہیں ہو سکتا۔ [بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۹، صفحہ ۶۴۰۶]۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "لیس لاوّلیّتہ ابتداء ولا لازلیّتہ انقضاء، ھو الاوّل لم یزل والباقی بلا اجل ... الظاھر لا یقال مم؟ والباطن لا یقال فیم"؟ "اس کی اوّلیت کی کوئی ابتدا نہیں ہے اور اس کی ازلیت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ وہ ایسا پہلا ہے جو ہمیشہ سے تھا اور ایسا باقی ہے جس کے اختتام کی کوئی مدت معیّن نہیں ہے۔ ایسا ظاہر و آشکار ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس چیز سے ظاہر ہوا اور ایسا باطن و پنہاں ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس چیز میں پوشیدہ ہے۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۶۳]۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام بھی ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں: "(الحمد للہ الذی لم یکن فیہ اول معلوم ولا آخر متناہ ... فلا تدرک العقول واوھامھا ولا الفکر وخطراتھا ولا الالباب واذھانھا صفتہ فتقول متی؟ ولابدع مما؟ ولا ظاھر علی ما؟ ولا باطن فیما"؟) "حمد ہے اس خدا کے لیے جس کی ابتدا معلوم نہیں اور نہ اس کی انتہا محدود ہے۔ عقل و فہم اور فکر و خرد کبھی اس کی صفات کا ادراک نہیں کر سکتے۔ کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس وقت سے ہے، کس سے اس کی ابتدا ہوئی، کس چیز پر ظاہر ہوا اور کس میں پنہاں ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۳۶]۔ بہ عقل نازی حکیم تاکے بہ عقل این رہ نمی شود طے بہ کنہ ذاتش خرد برد پے اگر رسد خس بہ قعر دریا "اے حکیم و دانا فلسفی! تو اپنی عقل پر کب تک ناز کرے گا؟ تو عقل کے ذریعے اس راہ کو طے نہیں کر سکتا۔ اس کی کنہ ذات تک عقل تب پہنچ سکتی ہے جب خس و خاشاک سمندر کی حقیقت کو سمجھ لیں!" بلکہ کہا جا سکتا ہے: "خرد بہ ذاتش نمی برد پے وگر رسد خس بہ قعر دریا۔" "اگر خس و خاشاک سمندر کی حقیقت کو سمجھ لیں تب بھی عقل اس کی کنہ ذات تک نہیں پہنچ سکتی!"

4
57:4
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۖ وَهُوَ مَعَكُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن (چھ ادوار) میں پیدا کیا اور تخت قدرت پر جلوہ گر ہوا (اور تدبیر عالم کی) جو کچھ زمین میں جذب ہوجاتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور اسے بھی جانتا ہے جو زمین سے خارج ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان کی طرف صعود کرتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی رہو اور جسے تم انجام دیتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
57:5
لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
آسمانوں اور زمین کی ملکیت اسی کے لئے ہے اور ہر چیز اسی کی طرف لوٹتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
57:6
يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۚ وَهُوَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ ان چیزوں کو جانتا ہے جو دلوں پر حکومت کرتی ہیں۔

تفسیر: وہ ہمیشہ قدرت پر جلوہ گر ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

اِن گیارہ اوصاف کے بعد جو گزشتہ آیتوں میں پروردگارِ عالم کی ذاتِ پاک کے بارے میں بیان ہوئے ہیں، نو آیتوں میں مزید اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ پہلی زیر بحث آیت میں خدا کی صفاتِ جمال و جلال میں سے پانچ صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ سب سے پہلے خالقیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں خلق کیا ہے" (هُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِی سِتَّةِ أَیَّامٍ)۔ چھ دن میں خلقت کا مسئلہ قرآن مجید میں سات مرتبہ بیان ہوا ہے۔ سب سے پہلے سورہ اعراف کی آیت ۵۴ میں اور آخری مرتبہ اس زیر بحث آیت میں (سورہ حدید کی آیت ۴)۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ان آیات میں یوم سے مُراد عام دن نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایک دُور ہے، چاہے وہ دُور چھوٹا ہو چاہے بڑا ہو، ہو سکتا ہے وہ کئی ملین سال پر محیط ہو۔ اور یہ ایسی تعبیر ہے جو عربی زبان میں بھی استعمال ہوئی ہے اور دوسری زبانوں میں بھی، مثلاً کہتے ہیں: آج فلاں گروہ کی باری ہے کہ وہ حکومت کرے اور کل دوسروں کی باری ہو گی، یعنی ان کا دور ہو گا۔ اس بات کو ہم شواہد اور مبسوط شرح کے ساتھ جلد ۶ سورہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیرِ نمونہ، جلد ۶، صفحہ ۱۲۹]۔ البتہ خدا کے لیے کچھ مشکل نہیں تھا کہ وہ سارے جہان کو ایک ہی لمحے میں خلق کر دے لیکن یہ مسلّم ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو خالق و آفریدگار کی بہت کم عظمت، قدرت اور اس کا علم ظاہر ہوتا۔ لیکن اگر انہیں کئی ارب سال میں، مختلف ادوار اور مختلف صورتوں میں منظّم اور طے شدہ پروگراموں کے ماتحت پیدا کرے تو یہ اس کی قدرت و حکمت پر زیادہ واضح و آشکار دلائل لیے ہوئے ہو گا۔ علاوہ ازیں، تخلیقی عمل کا اس طرح بتدریج ہونا انسانی ترقی کی تدریجی رفتار اور مختلف مقاصد کے حصول میں عجلت نہ کرنے کے بارے میں ایک نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد مسئلہ حکومت اور تدبیرِ عالم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا نے عالم کو پیدا کرنے کے بعد تختِ حکومت پر استقرار کیا" (ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَی الْعَرْشِ)۔ وہ زمامِ حکومت اور تدبیرِ عالم کو ہمیشہ سے اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا اور رکھتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا نہ جسم ہے اور نہ عرش کے معنی تختِ سلطنت کے ہیں بلکہ یہ تعبیر خدا کی حاکمیتِ مطلقہ اور عالمِ ہستی میں اس کی تدبیر کے نفوذ کا ایک لطیف کنایہ ہے۔ لغت میں عرش اس چیز کے معنوں میں ہے جس پر چھت ہو۔ اور کبھی چھت کو بھی عرش کہا جاتا ہے اور یہ لفظ بادشاہوں کے اونچے اونچے تختوں کے معنوں میں بھی آیا ہے اور قدرت و طاقت کے کنائے کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے، جیسے کہ ہم فارسی میں کہتے ہیں اس کے تخت کی بنیادیں گِر گئیں یا عربی میں کہتے ہیں (فلان ثل عرشہ) جو اِس بات کا کنایہ ہے کہ اس کا اقتدار برباد ہو گیا۔ [بحوالہ: عرش کی حقیقت کے سلسلے میں مزید وضاحتیں تفسیرِ نمونہ جلد ۴، سورہ اعراف، آیت ۵۴، تفسیرِ نمونہ، جلد ۱، سورہ بقرہ، آیت ۲۵۵]۔ بہرحال، اس کے برخلاف جو بےخبروں کے ایک گروہ نے خیال کیا ہے کہ خدا نے اس عالم کو پیدا کر کے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ زمامِ حکومت اور تدبیرِ عالم کو اپنے قبضۂ قدرت میں رکھے ہوئے ہے۔ اس جہان کے نظاموں کی بلکہ ایک ایک چیز کی اس کی ذات سے وابستگی اس طرح ہے کہ اگر ایک لمحے کے لیے ان سے نظرِ لطف ہٹا لے اور اپنے فیض و کرم کو منقطع کر لے تو "فرو ریزند قالبہا" سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے گا۔ اس حقیقت کی طرف توجہ کی جائے تو پھر انسان کو یہ بلندیٔ نظر عطا ہوتی ہے کہ وہ خدا کو ہر جگہ، ہر چیز کے ساتھ اور اپنی جان کے اندر دیکھے، محسوس کرے اور اس سے محبت کرے۔ اس کے بعد اپنے علم بےپایاں کی ایک اور شاخ کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "جو کچھ زمین میں نفوذ کرتا ہے اور جو کچھ اس سے خارج ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان کی طرف صعود کرتا ہے، وہ اس سب سے واقف و باخبر ہے" (یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْأَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیہَا)۔ اگرچہ یہ تمام اُمور "وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ" کے مفہوم میں داخل ہیں جو گزشتہ آیات کا ایک جُز ہے لیکن ان معانی کی تشریح و تفصیل اس سلسلہ میں انسان کو خدا کے علم کی وسعت کی طرف زیادہ توجہ دلاتی ہے۔ جی ہاں، وہ اس سے آگاہ ہے جو زمین میں نفوذ کرتا ہے اور اس میں جذب ہو جاتا ہے۔ بارش کے تمام قطرات سے، سیلابوں کی موجوں سے، نباتات کے دانوں سے جو ہوا کی مدد سے یا کیڑے مکوڑوں کے ذریعے زمین پر بکھر جاتے ہیں اور اس میں نفوذ کر جاتے ہیں، درختوں کی جڑوں سے جب وہ پانی اور غذا کی تلاش میں زمین کی گہرائیوں میں اُترتی چلی جاتی ہیں، انواع و اقسام کے کیڑے مکوڑوں سے جو زمین کے اندر گھر بناتے ہیں، جی ہاں وہ ان سب سے آگاہ ہے۔ ان گھاس کی پتیوں سے جو زمین سے سر نکالتی ہیں اور ان چشموں سے جو ظاہر ہوتے ہیں اور مٹی اور پتھر کا دل چیر کر باہر آتے ہیں، معدنوں اور گنجینوں سے، ان انسانوں سے جو اس مٹی سے بنے ہیں، ان آتش فشاں پہاڑوں سے جو زمین کے اندر سے شعلے نکالتے ہیں، ان گیسوں اور بخارات سے جو زمین سے اوپر اٹھتے ہیں، ان جاذبہ موجوں سے جو اس کے اندر سے اٹھتی ہیں—خدا ان تمام سے، ان کے ایک ایک جز اور ذرہ ذرہ سے واقف ہے۔ اسی طرح جو کچھ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے، بارش کے قطروں سے سورج کی حیات بخش کرنوں تک، فرشتوں کے دستوں سے لے کر وحی و کتبِ آسمانی کی طاقتور تحریروں تک، اس عالم کی روشنی سے لے کر شہابِ ثاقب اور ان سرگرداں پتھروں اور سنگریزوں تک جو زمین میں جذب ہوتے ہیں—وہ ان سب کی حقیقتوں سے باخبر ہے۔ نیز جو کچھ آسمانوں کی طرف صعود کرتا ہے، عام اس سے کہ وہ فرشتے ہوں، انسانوں کی ارواح ہوں، بندوں کے اعمال ہوں، انواع و اقسام کی دعائیں ہوں، طرح طرح کے پرندے اور بخارات ہوں، بادل ہوں یا ان کے علاوہ دوسری چیزیں ہوں، جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے—وہ سب اس کی بارگاہِ علم میں آشکار و ہویدا ہیں۔ اگر اس سلسلہ میں تھوڑا سا سوچیں کہ ہر لمحہ اربوں کی تعداد میں مختلف موجودات زمین کے اندر داخل ہوتے ہیں یا وہ جو آسمان کی طرف صعود کرتے ہیں اور حد و حساب سے باہر ہیں اور خدا کے علاوہ کوئی بھی ان کا شمار نہیں کر سکتا، تو پھر ہم پروردگار کے علم کی وسعت سے آگاہ ہو سکیں گے۔ آخر میں چوتھی اور پانچویں صفت کے سلسلے میں ایک حساس نکتے پر انحصار کرتے ہوئے فرماتا ہے:"وہ تمہارے ساتھ ہے، تم جہاں کہیں ہو"۔ ( وَھُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ مَا کُنتُمْ) جبکہ ایسا ہے، تو پھر جو کچھ تم کرتے ہو، وہ اسے جانتا ہے: "وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ۔" وہ کس طرح ہمارے ساتھ نہ ہو، جبکہ ہم نہ صرف اپنے وجود میں بلکہ اپنی بقا کے بارے میں بھی ہر لمحہ اس کے محتاج ہیں اور اس سے مدد لیتے ہیں؟ وہ عالمِ ہستی کی روح ہے، جانِ جہاں ہے بلکہ ہر شے سے بہتر و برتر ہے۔ اس وقت جب ہم ایک ذرۂ خاک کی شکل میں ایک گوشے میں پڑے ہوئے تھے اور پھر اس لمحے جب ہم جنین کی صورت میں شکمِ مادر میں تھے، وہ ہمارے ساتھ تھا۔ وہ ساری عمر ہمارے ساتھ رہا اور عالمِ برزخ میں بھی ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہم سے بےخبر ہو؟ فی الحقیقت یہ احساس کہ وہ ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے، نہ صرف ہمیں عظمت و شکوہ بخشتا ہے بلکہ ہمارے نفس کو اعتماد و اطمینان عطا کرتا ہے، شجاعت و شہامت پیدا کرتا ہے اور اس کے علاوہ ہمیں شدید ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے، کیونکہ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر اور نگران ہے۔ اس کی قربت کا یہ احساس ایک عظیم درسِ اصلاحِ احوال ہے۔ جی ہاں، یہ عقیدہ انسان کے لیے تقویٰ، پاکیزگی اور کامیابی کا بنیادی سبب ہے اور اس میں انسان کی عظمت و بزرگی کی رمز بھی پنہاں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ ہمیشہ ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ کوئی کنایہ یا مجاز نہیں ہے بلکہ ایسی حقیقت ہے جو دل پذیر، عقل انگیز اور روح پرور بھی ہے اور ہمارے دلوں میں رعب پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں احساسِ ذمہ داری بھی دلاتی ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ إِیمَانِ الْمَرْءِ أَنْ یَعْلَمَ أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی مَعَہُ حَیْثُ کَانَ۔" (انسان کے ایمان کا افضل ترین درجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ جہاں کہیں بھی وہ ہے، خدا اس کے ساتھ ہے)۔ [بحوالہ: درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۷۱]۔ ایک اور حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا: "أَیْنَ أَجِدُکَ یَا رَبِّ"؟ (پروردگار! میں تجھے کہاں پاؤں؟) (قَالَ: یَا مُوسَی إِذَا قَصَدْتَ إِلَیَّ فَقَدْ وَصَلْتَ إِلَیَّ)۔"فرمایا: اے موسیٰ! جیسے ہی میرا ارادہ کرے (تو سمجھ لے) کہ مجھ تک پہنچ گیا"۔ [بحوالہ: روح البیان، جلد ۹، صفحہ ۳۵۱]۔ اصولی طور پر بندہ کے ساتھ خدا کی یہ معیّت اس قدر پُرلطف اور دقیق ہے کہ ہر مفکر و مومن انسان اپنی پروازِ فکر اور جذبۂ ایمانی کے مطابق اس کا ادراک کرتا ہے اور اس کی گہرائی سے باخبر ہوتا ہے۔ اس کی حاکمیت و تدبیر کے بعد گفتگو سارے عالمِ ہستی پر اس کی حاکمیت تک جا پہنچتی ہے۔ فرماتا ہے: (آسمانوں اور زمین کی مالکیت اسی کے لیے ہے)۔"لَہُ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔" آخر میں مرجعیت کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور تمام کاموں کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔" (وَإِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ)۔ جی ہاں! جب وہ ہمارا خالق و مالک اور حاکم و مدبّر ہے اور ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے تو یقیناً ہم سب کی اور ہمارے امور کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہو گی۔ ہم اس کی منزلِ عشق کے مسافر ہیں، امید اور دوسری توانائیوں کا بوجھ اپنے کاندھے پر رکھے ہوئے منزلِ عدم سے چلے ہیں اور اقلیمِ وجود تک یہ سارا راستہ ہم نے طے کیا ہے۔ ہم اس کی طرف سے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے، کیونکہ وہی ہمارا مبدأ و منتہیٰ ہے۔ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ گزشتہ تین آیتوں میں بعینہٖ یہی توصیف بیان ہوئی تھی: "لَہُ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ۔" ممکن ہے یہ تکرار اس بنا پر ہو کہ وہاں گفتگو صرف زندہ موجودات کی موت و حیات سے متعلق تھی اور یہاں بحث کا دامن زیادہ وسیع ہے اور اب گفتگو یہ ہے کہ تمام امور کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔ پہلے ہر چیز پر خدا کے قادر ہونے کے سلسلے میں ایک تعارفی بیان ہے کہ ہر چیز کی بازگشت اس کی طرف ہے۔ یہ دونوں امور اس کا لازمہ ہیں کہ زمین اور آسمان دونوں خدا کی ملکیت ہیں۔ "الْاُمُوْرُ" کی تعبیر جو جمع کی صورت میں ہے، یہ بتاتی ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ تمام موجودات اسی کی سمت رُخ کیے ہوئے چل رہے ہیں اور یہ ایسا چلنا ہے کہ اس میں کسی مقام پر کوئی توقف نہیں ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر اس کا مفہوم صرف اس حد تک محدود نہیں ہے کہ قیامت کے لیے انسانوں کی بازگشت اس کی طرف ہے، اگرچہ معاد کے موضوع کا تعلق خصوصیت کے ساتھ انسان سے ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں دو اور صفتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:" وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے: (یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ۔) [تشریحی نوٹ: "یُوْلِجُ" مادہ "ایلاج" سے ہے، اور وہ بھی "ولوج" کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ "ولوج" کے معنی داخل ہونے اور نفوذ کرنے کے ہیں اور "ایلاج" داخل کرنے اور نفوذ کرانے کے معنی میں ہے]۔ جی ہاں، بتدریج ایک میں کمی کر دیتا ہے اور دوسرے میں اضافہ کر دیتا ہے۔ رات اور دن کے طول میں تغیّر کرتا ہے، وہ تغیّر جو سال بھر کی چار فصلوں کے ہمراہ ہے، ان تمام برکتوں کے ساتھ جو ان فصلوں میں انسان کے لیے چھپی ہوئی ہیں۔ اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی ہے، وہ یہ کہ سورج کے طلوع و غروب کے وقت روشنی و تاریکی کے نظام میں کبھی یک لخت تبدیلی نہیں ہوتی تاکہ انسان اور دوسرے زندہ موجودات کے لیے مختلف قسم کی مشکلات پیدا نہ ہوں۔ یہ صورتِ حال رفتہ رفتہ وقوع پذیر ہوتی ہے اور وہ موجودات کو آہستہ آہستہ دن کی روشنی سے رات کی تاریکی کی طرف اور رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کی طرف منتقل کرتا ہے اور رات اور دن کی آمد کا اعلان کافی پہلے کرتا ہے تاکہ سب لوگ اس تبدیلی کے لیے خود کو آمادہ کر لیں۔ دونوں تفسیروں کو مفہومِ آیت میں جمع کرنے سے کوئی علمی قباحت لازم نہیں آتی۔ آخر میں مزید کہتا ہے: "اور وہ اس چیز سے جو دلوں پر حاکم ہے، باخبر ہے۔" (وَہُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ)۔ جس طرح سورج کی حیات بخش کرنیں اور دن کی روشنی رات کی تاریکی کی گہرائیوں میں نفوذ کر جاتی ہے اور ہر جگہ کو روشن کر دیتی ہے، اسی طرح پروردگار کا علم بھی انسان کے دل و جان کے تمام اطراف و جوانب میں نفوذ کرتا ہے اور اس کے تمام اسرار کو واضح و روشن کر دیتا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں گفتگو یہ تھی کہ خدا ہمارے اعمال سے باخبر ہے: "وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ۔" یہاں گفتگو یہ ہے کہ وہ ہماری نیّتوں، ہمارے عقائد و اعمال اور افکار سب سے باخبر ہے: "وَھُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ۔" لفظ "ذات"، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، عربی زبان میں عین و حقیقت کے معنی میں نہیں آتا، یہ فلسفیوں کی ایک اصطلاح ہے۔ یہ لفظ لغت میں کسی چیز کے صاحب کے معنی میں آتا ہے۔ اس بنا پر "ذات الصدور" ان نیّتوں اور عقائد کی طرف اشارہ ہے جن کا انسانوں کے دلوں پر قبضہ ہے اور وہ ان پر حکومت کرتے ہیں۔(غور فرمائیے) کتنا اچھا ہو اگر انسان خدا کی ان تمام صفتوں کا اپنے دل و جان کی گہرائیوں سے اقرار کرے اور اپنے اعمال، نیّتوں اور عقائد سے اس کو باخبر سمجھے۔ تو کیا اس شعور کے بعد یہ ممکن ہے کہ انسان اطاعت و بندگی کے راستے سے ہٹ کر برائی کی راہ اختیار کرے؟

ایک نکتہ: خدا کے اسمِ اعظم کی نشانیاں

ہم جانتے ہیں کہ فلسفیوں اور متکلمین نے خدا کی صفات کو دو حصّوں میں تقسیم کر رکھا ہے: 1. صفاتِ ذات – جو اس کے جلال و جمال کا بیان ہیں۔ 2. صفاتِ فعل – جو ان افعال کو بیان کرتی ہیں جو اس کی ذاتِ مبارک سے صادر ہوں۔ ان چھ آیتوں میں، جو اس سورہ کی ابتدا میں آئی ہیں، حدیث کے مطابق انہیں "گہری نظر رکھنے والوں کی آیات" کا نام دیا جائے۔ صفاتِ ذات و افعال میں سے بیس صفتیں ان میں بیان ہوئی ہیں۔ خدا کے علم، اس کی قدرت، حکمت، ازلیت اور ابدیت سے لے کر تمام موجودات کے بارے میں اس کی خالقیّت، تدبیر، مالکیت اور حاکمیت کا ان میں بیان ہے۔ اس کا ہر شے پر محیط ہونا اور ہر جگہ موجود ہونا بھی ان میں مذکور ہوا ہے اور وہ بھی ایسی تعبیروں کے ساتھ جو انہیں مزید گہرائی بخشتی ہیں۔ ان صفات کی طرف توجہ کرنا، ان پر ایمان رکھنا اور اپنے وجود کے اندر ان کے شعور کا ہلکا سا شعلہ روشن کرنے کی کوشش کرنا ہماری تدریجی ترقی کے لیے اور راہِ خدا میں آگے بڑھنے کے لیے بہترین مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک حدیث میں براء ابن عاذب سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! أَسْأَلُکَ بِاللّٰہِ وَرَسُولِهِ، أَلَا خَصَصْتَنِي بِأَعْظَمِ مَا خَصَّکَ بِهِ رَسُولُ اللّٰہِ (ﷺ) وَاخْتَصَّهُ بِهِ جِبْرَئِیلُ، وَأَرْسَلَهُ بِهِ الرَّحْمٰنُ؟ فَقَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَدْعُوَ اللّٰهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، فَاقْرَأْ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْحَدِیدِ إِلَىٰ آخِرِ سِتِّ آیَاتٍ مِنْهَا: "عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ"، وَآخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ، یَعْنِي أَرْبَعَ آیَاتٍ، ثُمَّ ارْفَعْ یَدَیْکَ فَقُلْ: "یَا مَنْ هُوَ هَکَذَا، أَسْأَلُکَ بِحَقِّ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِي کَذَا وَکَذَا مِمَّا تُرِیدُ"، فَوَاللّٰهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ غَیْرُهُ لَتَنْقَلِبَنَّ بِحَاجَتِکَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔ (اے امیر المومنین! میں خدا اور اس کے رسول (ﷺ) کا واسطہ دے کر آپ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ سب عظیم چیز جس سے پیغمبر (ﷺ) نے آپ کو مخصوص کیا اور جبرئیل نے آنحضرت (ﷺ) کو مخصوص کیا اور خدا نے اسے دے کر جبرئیل کو بھیجا، وہ مجھے عطا فرمایئے)۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "جب تم چاہو کہ خدا کو اس کے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارو، تو سورۂ حدید کی ابتدائی چھ آیتیں (عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ تک) پڑھ کر اسے پکارو اور اس کے بعد سورۂ حشر کی آخری چار آیتیں پڑھو، پھر اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے کہو: "یَا مَنْ ھُوَ ھٰکَذَا" (اے وہ خدا جو ایسا ہے!) میں تجھے ان اسماء کے حق کا واسطہ دے کر پکارتا ہوں، محمد (ﷺ) پر درود بھیج [بحوالہ: تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۷۱] اور میری فلاں حاجت پوری کر دے۔ اس کے بعد جو چاہو کہو قسم ہے اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں انشاءاللہ تمہاری حاجت پوری ہو جائے گی۔" ان آیات کی عظمت اور ان کے موضوعات و مضامین کی اہمیت کے لیے یہی ایک حدیث کافی ہے۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اسمِ اعظم الٰہی صرف الفاظ نہیں ہیں، ان کا تخلق (اخلاق میں اپنانا) اور ان کا اپنانا بھی ضروری ہے۔

7
57:7
ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسۡتَخۡلَفِينَ فِيهِۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَأَنفَقُواْ لَهُمۡ أَجۡرٞ كَبِيرٞ
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس چیز میں سے جس میں اس نے تمہیں اپنا نمائندہ قرار دیا ہے انفاق کرو (کیونکہ) وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے انفاق کیا ہے ان کے لئے اجر عظیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
57:8
وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلرَّسُولُ يَدۡعُوكُمۡ لِتُؤۡمِنُواْ بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ أَخَذَ مِيثَٰقَكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ہو حالانکہ رسول تمہیں پکارتا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ اور تم سے اس نے عہد و پیمان لیا ہے۔ (فطرت و عقل کے مطابق پیمان) اگر پیمان کے لئے آمادہ ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
57:9
هُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦٓ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ
وہی ہے جو اپنے بندہ (محمدﷺ) پر آیات بینات نازل کرتا ہے تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی طرف لے جائے اور یقیناً اللہ تم پر مہربان و رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
57:10
وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا يَسۡتَوِي مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ وَقَٰتَلَۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَعۡظَمُ دَرَجَةٗ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَقَٰتَلُواْۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
اور تم کو کیا ہو گیا ہے کہ راہ خدا میں انفاق نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث سب اللہ ہی کے لئے ہے۔ تم میں وہ لوگ جنہوں نے کامیابی و فتح سے پہلے انفاق اور جہاد کیا ہے(اور جنہوں نے بعد میں کیا ہے) وہ برابر نہیں ہیں۔ وہ ان سے بلند مقام کھتے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد انفاق کیا ہے اور جہاد کیا ہے اور اللہ نے سب سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو کام تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
57:11
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجۡرٞ كَرِيمٞ
کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے (جو اموال اسے دیئے ہیں ان میں سے انفاق کرے) تاکہ اللہ اس میں اس کے لئے اضافہ کردے اور اس کے لئے اجر فراواں ہے۔

تفسیر: ایمان و انفاق نجات و خوش بختی کے لیے دو عظیم سرمائے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

عالمِ ہستی میں خدا کی عظمت کے کچھ دلائل اور اس کے ایسے اوصافِ جلال و جمال جو رجوع الی اللہ کا سبب بنتے ہیں، ان کے بیان کے بعد، ان آیات میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے سب کو ایمان و عمل کی دعوت دیتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ" (آمِنُوا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ)۔ یہ دعوتِ فکر ایک عام دعوتِ فکر ہے جس میں تمام انسان شامل ہیں۔ مومنین کو زیادہ کامل الایمان اور راسخ الایمان ہونے کی طرف اور غیر مومنین کو اصل ایمان کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ ایسی دعوتِ فکر ہے جو مدلّل ہے اور اس کے ثبوتِ توحید کے بیان پر مشتمل گزشتہ آیات میں گزر چکے ہیں۔ اس کے بعد ایمان کے ایک اہم اثر یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ فرمایا ہے: "جس میں خدا نے تمہیں دوسروں کا جانشین قرار دیا ہے اس میں انفاق کرو" (وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفِینَ فِیہِ)۔ یہ دعوتِ فکر قربانی و فداکاری کا تقاضا کرتی ہے اور ان نعمتوں کے بارے میں جو انسان کے اختیار میں ہیں، ایک ایسے رویّے کو انگیخت دیتی ہے جو سخاوت پر مبنی ہو اور اس دعوتِ فکر کو اس نکتہ پر مرکوز کرتی ہے کہ یہ نہ بھولو کہ اصل میں ہر شے کا مالک خدا ہے اور یہ دولت اور یہ سرمایہ جو تمہیں عطا کیا گیا ہے، یہ امانت کے طور پر ہے اور چند روزہ، کیونکہ یہ اس سے پہلے دوسری قوموں کے اختیار میں تھا، حقیقتِ واقعہ یہی ہے۔ گزشتہ آیتوں میں ہم نے پڑھا ہے کہ سارے جہان کا مالک حقیقی خدا ہے۔ اس حقیقت پر ایمان رکھنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم اس کے امانت دار ہیں، کس طرح ممکن ہے کہ ایک امانت دار امانت رکھوانے والے کے حکم کی پرواہ نہ کرے؟ اس حقیقت کا شعور انسان کو سخاوت و ایثار کی روح عطا کرتا ہے اور اس کے دل اور ہاتھ کو انفاق فی سبیل اللہ کے عزم سے نوازتا ہے۔ مُسْتَخْلَفِینَ (جانشین) کی تعبیر ہو سکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ انسان زمین پر اس کی نعمتوں کے تصرف کے سلسلہ میں خدا کی نمائندگی کرتا ہے، یا اس سے گزشتہ اقوام کی جانشینی مراد ہو یا دونوں مراد ہوں۔ اور مِمَّا (ان چیزوں میں سے جو) کی تعبیر ایک عام تعبیر ہے اور محض مال و دولت ہی نہیں بلکہ اس میں خدا کی عطا کی ہوئی تمام نعمتیں شامل ہیں، جیسا کہ پہلے بھی ہم نے کہا ہے کہ انفاق کا ایک وسیع مفہوم ہے جو صرف مال و دولت تک محدود نہیں ہے۔ اس میں علم، ہدایت اور وہ عزت بھی شامل ہے جو کسی کو معاشرہ میں حاصل ہو۔ اس کے علاوہ دیگر مادی و معنوی سرمائے بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اس کے بعد مزید تشویق کے لیے فرماتا ہے: "وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لے آئیں اور انفاق کریں، ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے" (فَالَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَأَنفَقُوا لَھُمْ أَجْرٌ کَبِیرٌ)۔ اجر کے ساتھ جو لفظ کبیر استعمال ہوا ہے، وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی عظمت اور ان کی بےعیب ابدیت کی طرف اشارہ ہے۔ نہ صرف آخرت میں بلکہ اس دنیا میں بھی اجرِ کبیر کا ایک حصہ انہیں ملے گا۔ ایمان و انفاق کے حکم کے بعد ان دونوں میں سے ہر ایک کے بارے میں ایک تشریح پیش کرتا ہے جو استدلال کی حیثیت رکھتی ہے۔ سب سے پہلے ایک ایسے استفہام کے انداز میں، جو تنبیہ کا پہلو لیے ہوئے ہے، ایمان باللہ کے عنوان پر پیغمبر کی طرف سے دی ہوئی دعوتِ اسلام کو قبول نہ کرنے کا سبب تلاش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا سبب ہوا کہ تم خدا پر ایمان نہیں لائے، حالانکہ اس کا رسول تمہیں تمہارے پروردگار پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے اور جب کہ اس نے تم سے عہد لیا ہے، اگر تم ایمان کے لیے آمادہ ہو"؟ (وَمَا لَکُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّکُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِیثَاقَکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ)۔ یعنی واقعی اگر تم قبولِ حق کے لیے آمادہ ہوتے تو اس کے دلائل، فطرت و عقل کے تقاضوں کے مطابق بھی اور دلیلِ نقلی کے اعتبار سے بھی بالکل واضح اور روشن ہیں۔ ایک تو خدا کا پیغمبر واضح دلیلیں اور روشن آیات اور کھلے معجزے لے کر تمہارے پاس آیا ہے۔ دوسرے خدا نے عالمِ ہستی میں اور خود تمہارے وجود کے اندر اپنے آثار دکھا کر ایک قسم کا عہدِ تکوینی تم سے لے لیا ہے کہ خدا پر ایمان لے آؤ۔ لیکن تم نہ اپنی فطرت و عقل کی پرواہ کرتے ہو اور نہ وحی الٰہی کی طرف متوجہ ہوتے ہو۔ تم ایمان لانے کے لیے بالکل آمادہ نہیں ہو۔ اور تمہاری فکر پر جہالت و تعصّب غالب ہے اور تم اندھی تقلید کا شکار ہو۔ جو کچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہوا کہ "إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ" کے جملہ سے یہ مُراد ہے کہ اگر تم کسی چیز پر ایمان لانے اور کسی دلیل کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو تو یہ ایسا ہی موقع ہے، کیونکہ اُس کے دلائل ہر لحاظ سے واضح ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ خود پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوتِ اسلام کو بغیر کسی واسطے اور وسیلہ کے سنتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کا مشاہدہ کرتے تھے، اب کون سا عذر تھا جو ایمان لانے میں مانع ہو؟ اس سلسلہ میں ہمیں ایک حدیث ملتی ہے کہ ایک روز رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟ قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ! قَالَ: وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالُوا: فَالنَّبِيُّونَ! قَالَ: فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟ قَالُوا: فَنَحْنُ! قَالَ: وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ! وَلَكِنْ أَعْجَبُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا قَوْمٌ يَجِيئُونَ بَعْدَكُمْ يَجِدُونَ صُحُفًا يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا۔" یعنی: "مومنین میں سے کس کا ایمان لانا تمہارے نزدیک تعجب انگیز ہے؟ انہوں نے کہا: فرشتے۔ فرمایا: کون سی تعجب کی بات ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، وہ تو جوارِ خدا میں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: انبیاء۔ فرمایا: اس صورت میں کہ وحی ان پر نازل ہوتی ہے، وہ کس طرح ایمان نہ لائیں؟ انہوں نے عرض کیا: اس سے خود ہم مراد ہیں۔ فرمایا: کون سی تعجب کی بات ہے کہ تم ایمان لے آئے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟ (یہ وہ مقام تھا جہاں سب خاموش ہو گئے)۔ پھر پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "سب سے زیادہ تعجب اس قوم پر ہے جو تمہارے بعد آئے گی، وہ صرف اوراق اپنے سامنے دیکھے گی اور جو کچھ ان میں تحریر ہے، اس پر ایمان لے آئے گی۔" [بحوالہ: صحیح بخاری مطابق نقل "مراغی"، "تفسیر فی ظلال القرآن" زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جو رحلتِ پیغمبر کے سالہا سال بعد دنیا میں آئیں گے اور صرف کتابوں میں پیغمبر کے آثار دیکھیں گے اور آپ کے دین کی حقانیت کی تہہ تک پہنچ جائیں گے، وہ دوسروں کے مقابلہ میں امتیازِ خاص کے مالک ہیں۔ "مِيثَاقٌ" (وہ عہد جس میں تاکید کا عنصر شامل ہو) کی تعبیر ہو سکتا ہے کہ فطرتِ توحیدی کی طرف اشارہ ہو یا ان دلائلِ عقلی کی طرف جو مشاہدۂ فطرت سے انسان پر آشکار ہوتے ہیں اور "بِرَبِّكُمْ" (تمہارا پروردگار) کی تعبیر مذکورہ حقیقت پر شاہد ہے۔ بعض مفسرین "مِيثَاقٌ" کو یہاں عالمِ ذر کے عہد و پیمان کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، لیکن یہ معنی بعید از فہم نظر آتے ہیں، سوائے اس تفسیر کے جو عالمِ ذر کے لیے ہم نے پہلے بیان کی۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ۴، صفحہ در ذیل آیت ۱۷۲ از سورہ، صفحہ ۳۳۱ سے رجوع فرمائیں]۔ بعد والی آیت انہی معانی کی توضیح کے سلسلے میں کہتی ہے: "وہی ہے جس نے واضح آیات اپنے بندے پر نازل کیں تاکہ وہ تمہیں شرک، جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان، توحید اور علم کی روشنی کی طرف لے آئے اور اللہ تم پر رؤف و مہربان ہے۔" (هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ)۔ ایک گروہ نے یہاں آیاتِ بیّنات کا مفہوم معجزات بتایا ہے اور دوسرے گروہ نے قرآن، جو ظلمت و کفر اور ضلالت و نادانی کے پردے چاک کرتا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کے باطن میں آفتابِ ایمان و آگہی طلوع ہوتا ہے۔ "رَءُوفٌ رَّحِيمٌ" کے الفاظ اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہیں کہ خدا کی طرف سے یہ دعوتِ ایمان و انفاق، جو تم سب کے سامنے پیش کی گئی ہے، رحمتِ الٰہیہ کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے، اس دعوتِ ایمان کی تمام برکتیں اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی تمہیں حاصل ہوں گی۔ اس بات کے بارے میں کہ "رَءُوفٌ" اور "رَحِيمٌ" کے درمیان کوئی فرق ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس قسم کا فرق ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ مناسب ترین رخِ کلام یہی ہے کہ "رَءُوفٌ" جو محبت کا پہلو رکھتا ہے، اس سے خدا کی وہ محبت مراد ہے جو اسے اپنے اطاعت گزاروں سے ہے اور "رَحِيمٌ" میں جو رحمت کا پہلو ہے، اس سے مراد وہ رحمت ہے جو نافرمان افراد کے شاملِ حال ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ رأفت کا لفظ اس کے ظہور سے پہلے بھی بولا جاتا ہے، لیکن رحمت اسی وقت بولا جاتا ہے جب وہ ظہور میں آ چکی ہو۔ اس کے بعد انفاق کے مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تم راہِ خدا میں انفاق کیوں نہ کرو حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اسی کے لیے ہے" (وَما لَكُمْ أَلّا تُنفِقُوا في سَبيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيراثُ السَّماواتِ وَالأَرضِ)۔ یعنی آخرکار تم اس جہان اور اس کی نعمتوں سے محروم ہو جاؤ گے اور سب کچھ چھوڑ کر چلے جاؤ گے۔ لہٰذا اب جب کہ تمہارے اختیار میں ہے، تو اپنا حصہ کیوں نہیں حاصل کرتے؟ "میراث" اصل میں، جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے، اس مال کے معنی میں ہے جو بغیر کسی معاہدہ کے انسان کے ہاتھ لگتا ہے اور جو کچھ میت کی طرف سے پس ماندگان کو ملتا ہے وہ اس کا ایک مصداق ہے۔ کثرتِ استعمال کی وجہ سے اس لفظ کے بیان کے وقت یہی معنی سننے والے کے ذہن میں آتے ہیں۔ (لِلَّهِ مِيراثُ السَّماواتِ وَالأَرضِ) کی تعبیر اس لحاظ سے ہے کہ نہ صرف اموال اور روئے زمین کی دیگر ثروتیں بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے، اسی کی ذاتِ پاک کی طرف لوٹتا ہے، تمام مخلوق فنا ہو جائے گی اور خدا ان سب کا وارث ہو گا۔ چونکہ انفاق فی سبیل اللہ مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف قدر و قیمت کا حامل ہوتا ہے، اس لیے بعد والے جملے میں مزید فرماتا ہے: "جنہوں نے فتح کے بعد انفاق کیا ہے وہ ان کے برابر نہیں ہیں، جنہوں نے فتح سے پہلے انفاق کیا تھا اور جنگ کی ہے" (لَا يَسْتَوي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ)۔ [تشریحی نوٹ: اس آیت میں کچھ محذوف ہے جس کا مذکور سے استفادہ ہوتا ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے: (لَا يَسْتَوِي مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ وَالَّذِينَ أَنْفَقُوا بَعْدَ الْفَتْحِ وَقَاتَلُوا)]۔ اس فتح سے مراد کون سی فتح ہے، اس کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض اس سے فتحِ مکہ مراد لیتے ہیں جو ہجرت کے آٹھویں سال واقع ہوئی اور بعض اس سے فتحِ حدیبیہ مراد لیتے ہیں جو چھٹے سال ہجری میں ہوئی۔ البتہ اس بات کے پیش نظر کہ لفظ فتح سورہ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا کی تفسیر فتحِ حدیبیہ سے کی گئی ہے، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ یہاں بھی فتحِ حدیبیہ کی طرف اشارہ ہو۔ لیکن قاتل (جنگ کرنے) کی تعبیر فتحِ مکہ سے مناسبت رکھتی ہے کیونکہ حدیبیہ میں تو جنگ ہوئی ہی نہیں۔ ہاں، البتہ فتحِ مکہ کے سلسلہ میں مختصر سی تیز جنگ ہوئی تھی جو طول نہ پکڑ سکی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت میں الفتح سے مراد خود جنسِ فتح اور اسلامی جنگوں میں سے ہر جنگ میں مسلمانوں کی فتح مراد ہو۔ یعنی وہ لوگ جو بحران کے مواقع پر جان و مال کے خرچ کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے، ان افراد سے جو طوفانوں اور آندھیوں کے رکنے کے بعد آگے بڑھے ہیں، افضل و برتر ہیں۔ اسی لیے تاکید مزید کے لیے فرماتا ہے: "اس گروہ کا مقام برتر ہے ان لوگوں سے جنہوں نے فتح کے بعد انفاق و جہاد کیا ہے۔" (أُو۟لَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَقَـٰتَلُوا۟ ) تعجب کی بات یہ ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت جو آیت کو فتحِ مکہ یا فتحِ حدیبیہ سے منسوب کرتی ہے، اس نے آیت میں انفاق کرنے والے کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق کو سمجھا ہے، حالانکہ اس میں شک نہیں کہ زمانۂ ہجرت سے لے کر اس وقت تک، جو چھ یا آٹھ سال کا طویل عرصہ ہے، اس میں بہت سی جنگیں ہوئیں اور ہزاروں افراد نے راہِ خدا میں انفاق بھی کیا اور جہاد بھی کیا۔ کیونکہ فتحِ مکہ میں تاریخ کے مطابق دس ہزار افراد نے شرکت کی، اور یقیناً اس گروہ میں سے کافی افراد نے جنگ سے متعلق اخراجات کے لیے مالی امداد بھی کی ہو گی اور انفاق فی سبیل اللہ بھی کیا ہو گا۔ یہ طے شدہ ہے کہ "قبل" کی تعبیر کے معنی اس فتح کے موقع سے متعلق ہیں نہ کہ آغازِ اسلام جو اکیس سال پہلے کی بات ہے۔ اس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ بعض مفسرین اس پر اصرار کرتے ہیں کہ انفاق، جہاد سے افضل ہے تاکہ ان کے پہلے کیے ہوئے فیضان کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور شاید اوپر والی آیت میں جہاد سے پہلے انفاق کے ذکر کو اسی مفہوم کا گواہ سمجھتے ہوں، حالانکہ واضح ہے کہ انفاقِ مالی کو مقدم اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جنگ کے وسائل، اس کے متعلقات، ساز و سامان اور آلاتِ حرب وغیرہ اس انفاق کے ذریعے ہی فراہم ہوتے ہیں، ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جان دینا اور شہادت کے لیے آمادہ ہونا، انفاقِ مال سے کہیں بہتر و برتر ہے۔ بہرحال چونکہ دونوں گروہ درجات کے فرق کے ساتھ عنایتِ پروردگار کے مستحق ہیں، اس لیے آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "خدا نے دونوں گروہوں سے اچھا وعدہ کیا ہے" (وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى)۔ یہ ان تمام لوگوں کی ایک طرح کی قدردانی ہے جنہوں نے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے۔ "حُسْنَى" کا یہاں ایک وسیع مفہوم ہے جس سے مراد دنیا و آخرت کی بھلائیاں ہیں۔ چونکہ عمل کی قدر و قیمت خلوص پر مبنی ہوتی ہے، لہٰذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "خدا اُس سے جو تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے" (وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ)۔ خدا تمہارے اعمال کی کمیت و کیفیت سے باخبر ہے اور تمہاری نیتوں اور معیارِ خلوص سے بھی آگاہ ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں شوق دلانے کے لیے پھر ایک جاذبِ نظر اور عمدہ تعبیر کے ذریعے فرماتا ہے: "کون ہے جو خدا کو اچھا قرض دے اور ان اموال میں سے جو اس نے اُسے بخشے ہیں انفاق کرے تاکہ خدا اس کے لیے اس میں بہت سا اضافہ کر دے اور بہت سا اجر قرار دے"؟ (مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ)۔ حقیقتاً یہ تعبیر عجیب ہے کہ وہ خدا، جو تمام نعمتوں کا بخشنے والا ہے اور ہمارے وجود کے تمام اجزا جس کے فیضِ بےپایاں کے سمندر سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور وہ ان سب کا مالک ہے، وہ خود ہمیں صاحبِ مال شمار کر کے ہم سے قرض کا خواہاں ہے! اور پھر، عام قرضوں کے خلاف، جن میں اتنا ہی مال واپس کیا جاتا ہے جتنا قرض دیا جائے، وہ بہت زیادہ اضافہ کر دے گا، کبھی سینکڑوں کی تعداد میں، کبھی ہزاروں کی تعداد میں۔ اجرِ عظیم کا وعدہ اس کے علاوہ ہے، جو ایک عظیم صلہ ہے جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔

چند اہم نکات: ١۔ انفاق کے اسباب

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں انفاق کی تشویق کے لیے، عام اس سے کہ جہاد کے سلسلہ میں مدد کی جائے یا حاجت مندوں کی، دوسرے موضوعات کی تعبیریں بھی نظر آتی ہیں جن میں سے ہر ایک اس مقصد کے حصول کی طرف بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ساتویں آیت میں لوگوں کے ایک دوسرے کے جانشین بننے کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے یا اُن ثروتوں کے سلسلہ میں خدا کے جانشین ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ حقیقی مالکیت کو خدا سے مخصوص کیا گیا ہے اور تمام لوگوں کو اموال کے سلسلہ میں خدا کا نمائندہ تصور کیا گیا ہے۔ یہ اندازِ فکر ممکن ہے کہ انسان کے ہاتھ اور دل کو انفاق کے معاملے میں کشادہ رکھے اور اس کام پر آمادہ ہونے کا سبب بنے۔ دسویں آیت میں ایک اور تعبیر آئی ہے جو سرمائے کی ناپائیداری اور تمام انسانوں کے فنا ہو جانے کے بعد اس کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ تعبیر "میراث" ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔" (اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے)۔ گیارہویں آیت میں جو تعبیر ہے وہ سب سے زیادہ حسّاس ہے، اس میں خدا کو قرض لینے والا شمار کیا گیا ہے اور وہ ایسا قرض ہے کہ جس میں سود کا دخل نہیں ہے اور یہ قرض کئی ہزار گنا کر کے واپس کیا جائے گا۔ وہ عظیم اجر اس کے علاوہ ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔ یہ سب کچھ اس بنا پر ہے کہ حسنِ عمل سے انحراف رکھنے والے افکار، حرص و حسد، خودخواہی یا اور طویل خواہشات کو اُبھارنے والے ان جذبوں کو ختم کرے جو انفاق کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اور ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دے جس میں اجتماعی روح کا فروغ ہو، محبت پر مبنی رشتوں کا احساس ہو اور جس میں بہت زیادہ تعاون کی بنیاد موجود ہو۔

٢۔ راہِ خُدا میں انفاق کے شرائط

مندرجہ بالا آیت میں "قرضاً حسناً" کی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرض دینے کی بھی اقسام ہیں، جن میں سے بعض کو "قرضِ حسنہ" (اچھا قرض) شمار کیا جاتا ہے اور بعض کو ایسا قرض جس کی کوئی اخلاقی قدر و قیمت نہ ہو۔ قرآن مجید نے اس قرضِ حسنہ کی شرائط بعض آیات میں بیان کی ہیں، جو خدا کو دیا جائے اور بالفاظِ دیگر، جو ایسا انفاق ہے جس کی قدر کی جانی چاہیے۔ 1. مال کے بہترین حصہ میں سے اس کا انتخاب ہو، نہ کہ کم حیثیت مال میں سے۔ (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیثَ مِنْہُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِیہِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِیہِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ حَمِیدٌ)۔ "اے ایمان لانے والو! پاکیزہ اموال میں سے، جو تمہارے ہاتھ آیا ہے یا جسے ہم نے زمین میں سے تمہارے لیے نکالا ہے، خرچ کرو اور ناپاک حصوں کو خرچ کرنے کی طرف دھیان نہ دو، جب کہ تم خود تیار نہیں ہو کہ انہیں قبول کرو مگر چشم پوشی کے طور پر اور جان لو کہ خدا بےنیاز ہے اور لائقِ حمد و ستائش ہے"۔ (البقرہ: ۲۶۷) 2. ایسے اموال میں سے ہو جس کی انسان کو ضرورت ہو جیسا کہ فرماتا ہے: (وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَةٌ)۔ "وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں جب کہ وہ خود شدت کے ساتھ اس کے حاجت مند ہوں"۔ (الحشر: ۹) 3. ایسے لوگوں پر انفاق کرو جنہیں شدید ضرورت لاحق ہو اور اولویت کو نظر میں رکھو۔ (لِلْفُقَرَاءِ الَّذِینَ أُحْصِرُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ)۔ "تمہارا انفاق ایسے ضرورت مندوں کے ساتھ مخصوص ہو جو راہِ خدا میں محصور ہو گئے ہوں"۔ (البقرہ: ۲۷۳) 4. انفاق اگر پوشیدہ طور پر ہو تو بہتر ہے۔ (وَإِنْ تُخْفُوہَا وَتُؤْتُوہَا الْفُقَرَاءَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ)۔ "اگر ضرورت مندوں کو دو اور چھپا کر دو تو بہتر ہے"۔ (البقرہ: ۲۷۱) 5. کسی طرح کا احسان جتانا اور آزار پہنچانا اس کے ساتھ نہ ہو۔ (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَیٰ)۔ "اے ایمان لانے والو! صدقات کو احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے باطل نہ کرو"۔ (البقرہ: ۲۶۴) 6. انفاق اخلاص اور حسنِ نیت کے ساتھ کیا جائے۔ (یُنْفِقُونَ أَمْوَالَھُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّہِ)۔ "وہ لوگ جو اپنا مال خوشنودیِ خدا کے لیے صرف کرتے ہیں"۔ (البقرہ: ۲۶۵) 7. جو کچھ انفاق کرو، اسے چھوٹا اور کم اہم شمار کیا جائے، خواہ وہ بظاہر بہت بڑا ہو۔ (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ)۔ (المدثر: ۶) [تشریحی نوٹ: اس آیت کی کئی تفسیریں ہیں جن میں سے ایک وہی ہے جو ہم نے اُوپر بیان کی، مزید تشریح اِنشاء اللہ آپ سُورہ مدثر کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں گے]۔ 8. انفاق ایسے مال میں سے ہو جس سے اسے دلی لگاؤ اور عشق ہو۔(لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)۔"نیکی کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکو گے جب تک اس مال میں سے انفاق نہ کرو جسے عزیز رکھتے ہو"۔ (آل عمران: ۹۲) 9. آدمی کو چاہیے کہ اپنے کو کبھی مالکِ حقیقی تصور نہ کرے، بلکہ اپنے آپ کو خالق و مخلوق کے درمیان واسطہ سمجھے۔(وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفِینَ فِیہِ)۔ "اس مال سے انفاق کرو جس میں خدا نے تمہیں اپنا نمائندہ قرار دیا ہے"۔ (الحدید: ۷) 10. اور ہر چیز سے پہلے، انفاق مالِ حلال میں سے ہونا چاہیے کیونکہ خدا صرف ایسے ہی انفاق کو پسند کرتا ہے۔ (إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ)۔(المائدہ: ۲۷) ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: (لَا یَقْبَلُ اللَّہُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ)۔"خدا اس انفاق کو کبھی قبول نہیں کرتا جس میں خیانت کا دخل ہو"۔ [تشریحی نوٹ: ان دس اوصاف کو مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اور فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے رُوح المعانی میں نقل کیا ہے اور ہم نے مختصر سے تغیر اور تکمیل کے ساتھ اس کا اُوپر ذکر کیا ہے]۔ شرائطِ انفاق کے سلسلہ میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے، وہ اس موضوع کا نہایت اہم حصہ ہے، لیکن ان شرائط کو یہیں تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر آیاتِ قرآن اور اسلامی روایات پر زیادہ غور کیا جائے تو اور بھی شرائط دستیاب ہو سکتی ہیں۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے، ان میں سے بعض شرائط انفاقِ واجب میں شمار ہوتی ہیں (مثلاً احسان نہ جتانا، تکلیف نہ پہنچانا، ریاکاری سے اجتناب کرنا) اور بعض شرائطِ کمال میں سے ہیں، جیسے خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا۔ اس شرط کا نہ ہونا، انفاق کی قدر کو کم نہیں کرتا، اگرچہ اس کو اعلیٰ سطح پر بھی قرار نہیں دیتا۔ جو کچھ کہا گیا ہے، اگرچہ انفاق کے موضوع پر تھا، لیکن ان میں سے بہت سی شرطیں عام قرضوں پر بھی صادق آتی ہیں اور اصطلاح کے مطابق "قرضِ حسنہ" کی شرائطِ لازم یا شرائطِ کمال میں سے ہیں۔ راہِ خدا میں انفاق کی اہمیت کے بارے میں مبسوط تشریح سورہ بقرہ کی آیت ۲۶۱ سے ۲۶۷ تک کے ذیل میں ہم پیش کر چکے ہیں۔ (تفسیرِ نمونہ، جلد ۱)۔

٣۔ ایمان، جہاد اور انفاق میں پیش قدمی کرنے والے

اِس میں شک نہیں کہ جو ایمان اور اعمالِ خیر میں دوسروں سے مقدم ہوتے ہیں، ان میں شجاعت بھی ہوتی ہے اور انہیں زیادہ آگاہی بھی حاصل ہوتی ہے اور ان میں جذبۂ ایثار و قربانی بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ سب درگاہِ خدا میں برابر نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات میں اس مسئلے پر انحصار کیا گیا تھا کہ وہ لوگ جنہوں نے (فتح مکّہ یا فتح حدیبیہ) سے پہلے یا مطلق فتوحاتِ اسلام میں انفاق کیا ہے اور جہاد کیا ہے، بارگاہِ خدا میں دوسرے ان کے برابر نہیں ہیں۔ ایک حدیث میں ابو سعید خدری سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال (چھ ہجری) ہم رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ جس وقت ہم "عسفان" (مکّے کے قریب ایک جگہ) پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "ہو سکتا ہے کہ عنقریب ایسی قوم آئے جو اپنے اعمال کا تمہارے اعمال سے موازنہ کرتے ہوئے تمہیں چھوٹا تصور کرے۔" ہم نے کہا: "وہ کون ہیں، اے خدا کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا اس سے مراد قریش ہیں"؟ فرمایا: "نہیں، وہ اہلِ یمن ہیں جن کے دل تم سے زیادہ رقیق اور نرم ہیں (اور ان کے اعمال تم سے زیادہ ہیں)۔" ہم نے عرض کیا کہ کیا وہ ہم سے بہتر ہیں؟ فرمایا: "اگر ان میں سے کسی ایک کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور وہ اس کا راہِ خدا میں انفاق کرے تو ایک مدّ یا اس سے نصف جو تم خرچ کرتے ہو، وہ اس کے برابر بھی نہیں ہے۔ جان لو کہ یہی فرق ہے ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان اور خدا کا یہ ارشاد اس کا شاہد ہے: لَا یَسْتَوِی مِنکُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ... [بحوالہ: الدر المنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۷۲]۔ [تشریحی نوٹ: ظاہرًا "مد" سے مراد ایک مدّ طعام ہے، جو ایک کلو سے بہت کم ہے] یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ پروردگار کو قرض دینے سے مراد اس کی راہ میں ہر قسم کا انفاق ہے، جس کا ایک اہم مصداق پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امام المسلمین کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ حکومتِ اسلامی کے قیام و انصراف کے سلسلہ میں اسے ضروری مصارف میں خرچ کرے۔ اسی لیے "الکافی" کی ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْأَلْ خَلْقَهُ مِمَّا فِي أَيْدِيهِمْ قَرْضاً مِنْ حَاجَةٍ بِهِ إِلَى ذَلِكَ وَ مَا كَانَ لِلَّهِ مِنْ حَقٍّ فَإِنَّمَا هُوَ لِوَلِيِّهِ۔" "خدا نے اپنے بندوں سے کسی احتیاج کی بنا پر قرض کا مطالبہ نہیں کیا، جو خدا کے حقوق ہیں وہ اس کے ولی اور نمائندہ کے لیے ہیں۔" [بحوالہ: تفسیر صافی، صفحہ ۵۲۲]۔ ایک اور حدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے "مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ..." کے ذیل میں مروی ہے کہ:"نَزَلَتْ فِي صِلَةِ الْإِمَامِ۔" "یہ آیت امام کو ہدیہ دینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔" [بحوالہ: تفسیر صافی، صفحہ ۵۲۲]۔

12
57:12
يَوۡمَ تَرَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَسۡعَىٰ نُورُهُم بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۖ بُشۡرَىٰكُمُ ٱلۡيَوۡمَ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
یہ عظیم اجر اس دن کا ہے جب تو صاحبان ایمان مردوں اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں طرف تیزی سے چل رہا ہوگا۔ (اور ان سے کہیں گے) آج تمہارے لئے بشارت ہو جنت کے ایسے باغوں کی جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
57:13
يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ
وہ دن کہ جس میں منافق مرد اور عورتیں مومنین سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر کرو تاکہ ہم تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ اپنے پیچھے کی طرف پلٹ جاؤ اور کسب نور کرو۔پھر اس وقت ان کے درمیان دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا۔ جس کے اندر رحمت اور باہر عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
57:14
يُنَادُونَهُمۡ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمۡ فَتَنتُمۡ أَنفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَٱرۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ
انہیں پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ وہ کہیں گے ہاں لیکن تم نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا اور پیغمبر کی موت کے منتظر رہے اور ہر چیز میں شک اور تردد رکھتے تھے اور تمہیں تمہاری لمبی چوڑی آرزوؤں نے دھوکے میں رکھا۔ یہاں تک کہ اللہ کا فرمان آن پہنچا اور شیطان نے تمہیں اللہ کے مقابلہ میں فریب دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
57:15
فَٱلۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنكُمۡ فِدۡيَةٞ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ مَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُۖ هِيَ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اس لئے آج تم سے اور کفار سے کوئی تاوان قبول نہیں کیا جائے گا اور تمہارے رہنے کی جگہ آگ ہے۔ وہ تمہاری سرپرست ہے اور کیا ہی بری جگہ ہے۔

تفسیر: ہمیں اپنے نُور سے اِستفادہ کرنے دو

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

چونکہ گزشتہ آیتوں میں سے آخری آیت میں خدا نے انفاق کرنے والوں کو اجرِ کریم کی خوش خبری دی تھی، زیر بحث آیت میں وہ یہ معیّن کرتا ہے کہ یہ اجرِ کریم کس دن دیا جائے گا۔ فرماتا ہے: "یہ اس دن پر مقرر ہے کہ جس دن ایماندار مرد اور عورتوں کو تو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف تیزی سے چل رہا ہو گا" (يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ)۔ اگرچہ یہاں مخاطب پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، لیکن مسلّم ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس منظر کو دیکھیں گے، لیکن چونکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مومنین سے شناسائی ضروری ہے تاکہ وہ ان پر خصوصی نظر رکھیں، تو اس نشانی سے آپ انہیں اچھی طرح پہچان لیں گے۔ اگرچہ مفسّرین نے اس نور کے سلسلہ میں بہت سے احتمال تجویز کیے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد نورِ ایمان کا مجسم ہونا ہے۔ چونکہ "نورھم" (صاحبِ ایمان مردوں اور عورتوں کا نور) کے الفاظ آئے ہیں اور تعجب کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ اس دن انسانوں کے عقائد و اعمال کی تجسم ہو گی۔ ایمان جو نورِ ہدایت ہے، ظاہری نور اور روشنی کی شکل میں مجسم ہو گا اور کفر جو تاریکیِ مطلق ہے، ظاہری تاریکی کی صورت میں مجسم ہو گا۔ اسی لیے سورہ تحریم کی آیت ۸ میں ہے: (يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ)۔ اور اس دن اللہ اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان لوگوں کو جو ایمان لا چکے ہیں، رسوا نہیں کرے گا اور ان کا نور ان کے آگے چلے گا۔ قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی آیا ہے کہ خدا مومنین کو ظلمت کی طرف سے نور کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ "يَسْعَى"، "سَعْي" کے مادّہ سے ہے، جس کے معنی تیز حرکت اور چلنے کے ہیں۔ یہ لفظ اس امر کی دلیل ہے کہ بروزِ محشر خود مومنین بھی وہ راہِ بہشت، سعادتِ جاودانی کا مرکز ہے، تیزی سے طے کریں گے کیونکہ ان کے نور کی سریع حرکت ان کی اپنی سریع حرکت سے علیحدہ نہیں ہے۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ گفتگو صرف دو قسم کے انوار کے بارے میں ہو رہی ہے۔ (١) ایک وہ نور جو مومنین کے آگے چل رہا ہے۔ (٢) دوسرا وہ نور جو ان کے دائیں جانب ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر مومنین کے دو گروہوں کے بارے میں ہو: • ایک تو "مُقَرَّبِين" کا گروہ ہے، جن کی صورت نورانی ہے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہے۔ • دوسرے "أَصْحَابُ الْيَمِين"، جن کا نور ان کے دائیں جانب ہے، اس لیے کہ ان کا نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس میں سے نور پھوٹے گا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں اشارے ایک ہی گروہ کی طرف ہوں اور نورِ یمین کنایہ ہو اس نور کا، جو ان کے نیک اعمال سے نکلے گا اور ان کے تمام اطراف کو گھیر لے گا اور روشن کرے گا۔ بہرحال، یہ نور بہشتِ بریں تک ان کی رہنمائی کرے گا اور اس کے سائے میں وہ جنّت کی راہ تیزی سے طے کریں گے۔ چونکہ یہ نور بلاشک و شبہ ان کے ایمان اور عملِ صالح سے نکلے گا، تو ایمان اور عملِ صالح کے اختلافِ مراتب کی وجہ سے لوگ بھی مختلف ہوں گے۔ • ایک وہ جن کا ایمان بہت زیادہ قوی ہو گا، ان کا نور زیادہ فاصلے کو روشن کرے گا۔ • وہ لوگ جن کا ایمان کافی کمزور ہے، انہیں کم تر درجہ کا نور حاصل ہو گا، یہاں تک کہ ان کے پاؤں کی انگلیوں کی نوکوں کو روشن کرے گا۔ جیسا کہ "تفسیر علی ابن ابراہیم" میں اس آیتِ زیر بحث کے ذیل میں اشارہ ہوا ہے: "يُقْسَمُ النُّورُ بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ قَدْرِ إِيمَانِهِمْ۔" (قیامت کے دن نور لوگوں کے درمیان ان کے ایمان کی مقدار کے مطابق تقسیم ہو گا)۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۴۱، حدیث ۶۰]۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ان کے احترام کی وجہ سے ملائکہ کی طرف سے ایک آواز آئے گی: "تمہارے لیے آج کے دن جنّت کے باغات کی بشارت ہو، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں۔" (بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ۔) "اس میں تم ہمیشہ رہو گے اور یہ ایک عظیم کامیابی و رستگاری ہے۔" (خَالِدِينَ فِيهَا ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔) باقی رہے وہ منافقین جو کفر و نفاق اور گناہ کی وحشت ناک تاریکی میں مقیم ہوں گے، تو اس موقع پر وہ فریاد کریں گے۔ وہ مومنین سے نور حاصل کرنے کی التجا کریں گے، لیکن سوائے انکار کے انہیں کچھ حاصل نہ ہو گا، جیسا کہ بعد والی آیت میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: (يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَ الْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ)۔ “وہ دن جس میں منافق مرد اور عورتیں مومنین سے کہیں گے: "ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں"۔ [تشریحی نوٹ: "انظُرُونَا" کا مادّہ "نظر" ہے، جس کے معنی ہیں سوچ بچار کرنا، کسی شے کا مشاہدہ کرنا یا ادراک کرنا۔ کبھی تامّل یا جستجو کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جب "الیٰ" کے ساتھ متعدی ہو تو کسی چیز پر نظر ڈالنے کے معنی میں ہے اور جب "فی" کے ساتھ متعدی ہو تو تامّل و تدبر کرنے کے معنی میں ہے۔ جب حرف جر کے بغیر متعدی ہو اور ہم کہیں "نَظَرْتُهُ وَالنَّظَرَةَ وَانْتَظَرْتُهُ" تو تاخیر کرنے یا انتظار کرنے کے معنی میں ہے]۔ اقتباس کا مادّہ "قبس" ہے، جس کے معنی ہیں آگ کا شعلہ لینا۔ اس کے علاوہ، نمونوں کے انتخاب کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ انظرونا" کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ ہماری طرف نگاہ کرو تاکہ تمہارے چہرے کے نور سے ہم فائدہ اٹھائیں اور اپنا راستہ دیکھ لیں، یا ہم پر لطف و محبت کی نگاہ ڈالو اور اپنے نور کا ایک حصہ ہمیں بھی دو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "انظرونا" سے مراد انتظار کرنا ہو، یعنی ہمیں مہلت دو تاکہ ہم بھی تم تک پہنچ جائیں اور تمہارے نور کے زیر سایہ اپنی راہ تلاش کریں۔ لیکن بہرحال جو جواب انہیں دیا جائے گا وہ یہ ہے کہ اپنے پیچھے کی طرف پلٹ جاؤ اور کسبِ نور کرو۔(قِیلَ ارْجِعُوا وَرَاءَکُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا)۔ یہ نور حاصل کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ تمہیں چاہیے تھا کہ یہ نور اس دنیا میں، جسے تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، ایمان اور عملِ صالح کے ذریعے حاصل کرتے۔ اب وقت گزر چکا ہے اور دیر ہو چکی ہے۔ اس وقت اچانک ان کے گرد ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں دروازہ ہو گا۔ (فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُورٍ لَہُ بَابٌ)۔ لیکن اس عظیم دیوار کے دونوں اطراف میں، یا اس دروازے کے دونوں اطراف میں بڑا فرق ہو گا۔ "اس کے اندر رحمت اور باہر عذاب ہے۔" (بَاطِنُہُ فِیہِ الرَّحْمَةُ وَظَاہِرُہُ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ)۔ "سور" کے معنی از روئے لغت دیوار کے ہیں، جو گزشتہ زمانے میں شہروں کے گرد کھینچتے تھے، جسے فصیل کہتے ہیں اور فارسی میں "بارو" کہتے ہیں۔ اس فصیل میں مختلف فاصلوں پر محافظوں اور نگہبانوں کے لیے برج ہوتے تھے، لہٰذا مجموعی حیثیت سے اسے "برج و بارو" کہا جاتا ہے۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے"، یعنی مومنین ساکنانِ شہر کی طرح اس باغ کے اندر ہیں اور منافقین بیگانوں اور اجنبیوں کی طرح صحرائی حصے میں ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایک ہی معاشرے میں اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے، لیکن مختلف عقائد و اعمال کی ایک عظیم دیوار انہیں ایک دوسرے سے جدا کیے ہوئے تھی۔ قیامت میں یہی معنی مجسم ہو جائیں گے۔ رہی یہ بات کہ یہ دروازہ کس لیے ہے؟ ممکن ہے اس لیے ہو کہ منافقین اس دروازے سے جنت کی نعمتوں کو دیکھیں اور حسرت و افسوس سے دوچار ہوں، یا یہ کہ وہ افراد جن کے گناہ کم ہیں، وہ اصلاح کے بعد وہاں سے گزر جائیں اور مومنین کے پاس آ جائیں۔ لیکن یہ دیوار اس طرح کی نہیں ہے کہ جس پر سے آواز نہ گزر سکے۔ اس لیے بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے: "انہیں پکار کر کہیں گے: کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے" (یُنَادُونَھُمْ أَلَمْ نَکُنْ مَعَکُمْ)۔ "ہم دنیا میں بھی تمہارے ساتھ ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کرتے تھے اور یہاں بھی تمہارے ساتھ ہی تھے۔ کیا ہوا کہ تم اچانک ہم سے الگ ہو گئے اور جوارِ رحمتِ الٰہی میں پہنچ گئے اور ہمیں عذاب کے چنگل میں چھوڑ گئے"؟ تو وہ جواب میں کہیں گے: ہاں، ہم اکٹھے ہی تھے۔ (قَالُوا بَلٰی)۔ ہر جگہ اکٹھے تھے، کوچہ و بازار میں، سفر و حضر میں، کچھ ایک دوسرے کے ہمسائے تھے، یہاں تک کہ کبھی ایک ہی گھر میں رہتے تھے، لیکن عقیدہ و عمل کے اعتبار سے جدا بنا لیا تھا اور اصول و فروع میں تم حق سے بیگانہ تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا: تم بڑی بڑی خطاؤں میں گرفتار تھے، منجملہ دیگر خطاؤں کے: 1۔ "تم نے راہِ کفر کے عبور کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو فریب دیا اور ہلاک ہوئے۔" (وَلَکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَکُمْ)۔ 2۔ "تم پیغمبر کی موت، مسلمانوں کی فنا اور دینِ اسلام کی بساط الٹنے کے انتظار میں تھے۔" (وَتَرَبَّصْتُمْ)۔ اس کے علاوہ، ہر مثبت کام کو انجام دینے اور ہر حرکتِ صحیح کے موقع پر صبر و انتظار کی حالت میں رہتے تھے اور اس کی وجوہات بیان کرتے تھے۔ 3۔ "ہمیشہ قیامت، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوتِ اسلام اور قرآن کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا رہتے تھے۔" (وَارْتَبْتُمْ)۔ 4۔ "تم ہمیشہ لمبی چوڑی آرزوؤں میں اسیر رہے، ایسی آرزوئیں جنہوں نے کبھی تمہارا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ خدا کی طرف سے تمہاری موت کا فرمان آن پہنچا۔" (وَغَرَّتْکُمُ الْأَمَانِیُّ حَتّٰی جَاءَ أَمْرُ اللّٰہِ)۔ ہاں! ان آرزوؤں نے تمہیں ایک لمحے کے لیے بھی صحیح غور و فکر کی مہلت نہیں دی، تم خواب و خیال کی حالت میں مستغرق رہے اور وہم و گمان کے عالم میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ مادّی مقاصد اور شہوات کے حصول کی آرزو تم پر غالب تھی۔ 5۔ ان تمام چیزوں سے قطع نظر، شیطانِ فریب کار، جس نے تمہارے وجود میں اپنا ٹھکانہ مضبوط طور پر بنا رکھا تھا، اس نے تم کو دھوکہ دیا۔ (وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُورُ)۔ اس نے وسوسوں کے ذریعے تمہیں مغرور کیا۔ کبھی دنیا کو تمہارے سامنے جاودانی بنا کر پیش کیا اور قیامت کو ایک بُھولی ہوئی چیز بتایا، کبھی تمہیں رحمتِ خدا کے سلسلے میں مغرور کیا، کبھی وجودِ پروردگار کو مشکوک بنایا، یہ پانچ عوامل تھے جنہوں نے باہم مل کر تمہاری راہِ فکر و عمل کو ہماری راہِ فکر و عمل سے بالکل جدا کر دیا۔ (فَتَنْتُمْ) کا مادّہ "فتنہ" ہے۔ اس کے مختلف معانی ہیں: آزمائش و امتحان، فریب و وہم، بلا و عذاب، ضلالت و گمراہی، اور شرک و بُت پرستی۔ یہاں آخری دو معانی زیادہ مناسب ہیں۔ (تَرَبَّصْتُمْ) کا مادّہ "تربص" ہے۔ اس کے معنی انتظار کرنا، چاہے نعمت کا انتظار ہو یا مصیبت کی فراوانی کا۔ یہاں زیادہ تر پیغمبر کی موت اور اسلام کے خاتمے کا انتظار مراد ہے۔ گناہ سے توبہ اور ہر قسم کے کارِ خیر کے انجام دینے کے بارے میں مختلف بہانے بنانے کے معنی میں بھی ہے۔ (وَارْتَبْتُمْ) "ریب" کے مادّہ سے ہے، ہر ایسے شک اور تردّد کے معنی میں ہے جس کے چہرے سے بعد میں پردہ اُٹھ جائے۔ یہاں زیادہ تر قیامت اور قرآن کی حقانیت کے بارے میں شک کرنے کے معنی میں ہے۔ اگرچہ آیت میں استعمال ہونے والے الفاظ کا مفہوم وسیع ہے، لیکن عنوانات کی ترتیب اس طرح ہے: مسئلہ شرک، اسلام اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر کا اختتام، پھر قیامت میں شک، اس کے بعد آرزوؤں اور شیطان کے دیے ہوئے فریب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بداعمالیاں۔ اس بنا پر یہ پہلے تین جملے اصولِ دین میں سے اوّل تین اصولوں کے بارے میں ہیں اور آخری دو فروغِ دین سے متعلق ہیں۔ آخرکار مؤمنین ایک صُورتِ حال میں منافقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: "آج کے دن تم سے کوئی تاوان یا جرمانہ وصول نہیں کیا جائے گا کہ تم عذابِ الٰہی سے نجات پاؤ۔ (فَالْیَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ) اور نہ ہی کفّار سے۔ "وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا۔" اس طرح کفّار کی قسمت بھی منافقوں جیسی ہے۔ یہ سب کے سب اپنے گناہوں اور بداعمالیوں میں گرفتار ہیں اور ان کی نجات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے: "تمہاری جگہ آگ ہے۔" "مَأْوَاكُمُ النَّارُ۔" "اور تمہارا مولا و سرپرست بھی وہی جہنم ہے۔" "هِيَ مَوْلَاكُمْ۔" [تشریحی نوٹ: "مَوْلَى" یہاں ہو سکتا ہے کہ ولی و سرپرست کے معنی میں ہو یا اس چیز اور شخص کے معنی میں ہو جو انسان کے لیے اہمیت رکھتی ہو]۔ اور کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ "وَبِئْسَ الْمَصِيرُ" دنیا میں انسان عام طور پر سزاؤں سے بچنے کے لیے یا تو مالی نقصان برداشت کرتا ہے یا پھر کسی مددگار اور سفارش کرنے والے سے اعانت کا طلبگار ہوتا ہے، لیکن آخرت میں کفّار اور منافقین کے لیے ان دونوں میں سے کچھ نہیں ہے۔ قیامت اصولی طور پر وہ تمام مادّی وسائل و اسباب بیکار ہو جائیں گے جو اس دنیا میں حصولِ مقاصد کے لیے کارآمد ہوتے ہیں۔ وہاں رشتے منقطع ہو جائیں گے، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۶ میں ہم پڑھتے ہیں: "وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ" (البقرہ: ۱۶۶) "اس دن نہ لین دین ہو گا اور نہ دوستی کا رابطہ۔" "نہ کوئی عوض لیا جائے گا۔" "يَوْمَ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ" (البقرہ: ۲۵۴) "اور نہ کوئی شخص اپنے دوست کی فریاد کو پہنچے گا۔" "وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ" (البقرہ: ۴۸) "نہ منصوبے اور بہانے کام آئیں گے۔" "يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا" (الدخان: ۴۱) "نہ نسب اور رشتہ داری کا رابطہ کسی کام آئے گا۔" "يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا" (الطور: ۴۵) "فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ" (المؤمنون: ۱۰۱) "خلاصہ یہ ہے کہ تمام لوگ اپنے اعمال میں گرفتار اور اپنے افعال میں گروی ہیں۔" "كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ" (المدثر: ۳۸) اس طرح قرآن واضح کرتا ہے کہ اس دن نجات کا واحد ذریعہ ایمان اور عملِ صالح ہے، یہاں تک کہ شفاعت کا دائرہ بھی محدود ہے۔ شفاعت صرف ان کے لیے ہے جو مذکورہ دونوں صفتوں میں سے کچھ حصہ اپنے پاس رکھتے ہوں، نہ کہ وہ لوگ جو ایمان و عمل صالح سے بالکل بیگانہ ہیں اور جنہوں نے خدا اور اس کے اولیاء سے اپنا رشتہ بالکل منقطع کر رکھا ہے

ایک نکتہ: قیامت میں مُجرموں کا بےمقصد مدد کرنا

چونکہ بہت سے لوگ عرصۂ محشر میں آنے کے وقت اس نظام سے، جو وہاں رائج ہے، ناآشنا ہیں، لہٰذا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں بھی دنیوی نظام رائج ہے، لہٰذا وہ اُس سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ لیکن وہ بہت جلد جان لیں گے کہ وہ ایک عظیم غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کبھی مجرم مومنین سے مدد طلب کریں گے اور کہیں گے: "انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ۔" ہم پر ایک نگاہ ڈالو تاکہ ہم تمہارے ایمان اور عملِ صالح کی روشنی سے کچھ نور حاصل کریں۔ (آیات زیر بحث)۔ لیکن انہیں بہت جلد انکار سے دوچار ہونا پڑے گا اور وہ سُنیں گے کہ منبعِ نور یہاں نہیں ہے بلکہ وہاں دنیا میں تھا، جہاں سے تم بےخبری کی حالت میں گزر آئے ہو۔ کبھی مجرم ایک دوسرے سے مدد طلب کریں گے (پیروکار اپنے رہبروں سے) اور کہیں گے: "فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ" (ابراہیم: ۲۱) "کیا تم ہمارے بدلے عذابِ الٰہی کا ایک حصّہ قبول کرتے ہو"؟ انہیں یہاں بھی انکار سے دوچار ہونا پڑے گا، حتیٰ کہ وہ خازنینِ جہنم سے ملتجی ہو کر کہیں گے: "ادْعُوا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ" (المؤمن: ۴۹) "اپنے پروردگار سے استدعا کرو کہ ایک دن کے لیے ہم پر سے عذاب ہٹا لے۔" کبھی اس سے بھی آگے بڑھ کر خدا سے مدد طلب کریں گے اور عرض کریں گے: "رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ" (المؤمنون: ۱۰۷) "پروردگار! ہمیں اس جلانے والی آگ سے باہر لے، اگر ہم دوبارہ لوٹ آئے تو ہم ظالم ہیں۔"

16
57:16
۞أَلَمۡ يَأۡنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلۡحَقِّ وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
کیا وہ وقت نہیں آیا کہ جب مؤمنین کے دل ذکر اللہ اور جو حق سے نازل ہوا ہے اس سے (خوف کھائیں اور)خشوع اختیار کریں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے آسمانی کتاب دی گئی ہے پھر ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا اور ان کے دلوں میں قساوت پیدا ہوگئی اور ان میں سے بہت سے گنہگار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
57:17
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی آیات تمہارے لئے بیان کی ہیں۔ شاید تم عقل سے کام لو (اور سوچو)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
57:18
إِنَّ ٱلۡمُصَّدِّقِينَ وَٱلۡمُصَّدِّقَٰتِ وَأَقۡرَضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعَفُ لَهُمۡ وَلَهُمۡ أَجۡرٞ كَرِيمٞ
انفاق کرنے والے مرد اور عورتیں اور وہ جو اللہ کو قرض حسنہ دیں ان کے لئے وہ رقم کئی گناہو جائے گی اور ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

پہلی زیر بحث آیت کے متعلق کئی شانِ نزول بیان ہوئی ہیں۔ منجملہ ان سب کے، ایک یہ ہے کہ آیت مذکورہ ہجرت کے ایک سال بعد منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس بنا پر کہ ایک دن انہوں نے حضرت سلمان فارسی سے پوچھا: "جو کچھ تورات میں ہے، ہم سے اس کی بات کرو، کیونکہ تورات میں تعجب خیز مسائل ہیں۔" اس طرح وہ چاہتے تھے کہ قرآن کو نظر انداز کر دیں۔ اس بنا پر، سورہ یوسف کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو سلمان نے ان سے کہا: "یہ قرآن احسن القصص ہے اور بہترین واقعات بیان کرتا ہے اور تمہارے لیے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ سودمند ہے۔" انہوں نے ایک مدت تک اپنے سوال کو نہ دہرایا، پھر وہ سلمان کے پاس آئے اور اپنی خواہش کی تکرار کی، تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ... "خدا نے بہترین گفتگو کو نازل کیا ہے، ایسی کتاب جس کی آیات (لطف و زیبائی اور معانی کے لحاظ سے) ایک دوسرے کے مانند ہیں۔ اس کی آیات مکرر ہیں (لیکن یہ تکرار شوق انگیز ہے)۔ ان آیتوں کے سننے سے وہ لوگ جو خدا سے ڈرتے ہیں، لرزہ براندام ہو جاتے ہیں۔" (زمر: ۲۳) پھر انہوں نے ایک مدت تک اپنے سوال کو نہ دہرایا، پھر تیسری مرتبہ سلمان کے پاس آئے اور اپنا سوال دہرایا، تو اس وقت زیر بحث آیت نازل ہوئی (اور ان کا مؤاخذہ کیا گیا کہ "کیا اس بات کا موقع نہیں آیا کہ تم خدا سے ڈرو اور ان باتوں سے دستبردار ہو جاؤ"؟)۔ ایک اور شانِ نزول اس طرح ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب مکہ میں خشک سالی اور سختی میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ پھر جب انہوں نے ہجرت کی اور ان کو نعمتوں کی فراوانی حاصل ہوئی تو ان کی کیفیت بدل گئی اور ایک جماعت کے دلوں میں سختی آ گئی، حالانکہ امکان زیادہ تھا کہ قرآن ہمراہ ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان، خلوص اور یقین میں اضافہ ہوتا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے ان کو تنبیہ کی۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۳۷۔ تفسیر درالمنثور میں بھی کئی شانِ نزول بیان ہوئی ہیں جو مذکورہ دوسری شانِ نزول کے مطابق رکھتی ہیں۔ درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۷۵۔ بیضاوی نے بھی اپنی تفسیر "انوار لتنزیل" میں یہ شانِ نزول نقل کی ہے]۔ اس آیت کے سلسلے میں کچھ اور شانِ نزول بھی نظر آتی ہیں، لیکن چونکہ وہ آیت کو مکی بتاتی ہیں، لہٰذا قابلِ اعتبار نہیں ہیں، کیونکہ مشہور یہ ہے کہ یہ ساری سورت مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔

تفسیر: غفلت و بےخبری کب تک

اِن تمام سرکوبی کرنے والی تنبیہوں اور گزشتہ آیتوں میں بیدار کرنے والی تخویفوں اور قیامت میں کافروں اور منافقوں کا جو حال ہو گا، اس کو بیان کرنے کے بعد، پہلی زیر بحث آیت میں پروردگارِ عالم نتیجہ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا اس چیز کا وقت نہیں آیا کہ صاحبِ ایمان افراد کے دل ذکرِ خدا سے اور جو کچھ حق میں سے نازل ہوا ہے، اس سے خوف کھائیں؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوں جنہیں گزشتہ زمانے میں آسمانی کتاب دی گئی (مثل یہود و نصاریٰ کے)، پھر ان کے اور پیغمبروں کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا۔ انہوں نے طویل عمر پائی اور خدا کو فراموش کیا۔ ان کے دلوں میں قساوت پیدا ہو گئی اور ان میں سے بہت سے فاسق اور گنہگار تھے۔" (أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: "یَأْنِ" کا مادہ "أَنَى" (بروزنِ "اَمْن") ہے۔ "أنا" بروزن "ندا" کے مادہ سے اور "أناء" بروزن "جفاء" کے مادہ سے، نزدیک ہونے اور کسی چیز کے حضور کے وقت کے معنوں میں ہے]۔ "تخشع" کا مادّہ "خشوع" ہے، جس کے معنی ہیں وہ حالتِ تواضع اور جسمانی و روحانی کیفیت، جو کسی عظیم حقیقت یا بزرگ شخصیت کے سامنے کوئی انسان اختیار کرے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر خدا کی یاد انسان کے دل اور اس کی روح کی گہرائیوں میں اتر جائے اور وہ ان آیات کو سنے، جو پیغمبر خدا پر نازل ہوئی ہیں اور ان میں غور و فکر کرے، تو ان آیتوں کو خوفِ خدا کا سبب بننا چاہیے۔ لیکن قرآن یہاں مؤمنین کے ایک گروہ کو سخت ملامت کرتا ہے کہ وہ ان حقائق کے پیش نظر کیوں خشوع اختیار نہیں کرتے؟ اور بہت سی گزشتہ امتوں کی طرح کیوں غفلت و بےخبری کا شکار ہیں؟ وہی غفلت جس کا نتیجہ قساوتِ قلبی ہے اور وہی قساوت جس کا ثمر فسق و فجور اور گناہ ہے۔ کیا صرف ایمان کے دعوے پر قناعت کرنا، اہم مسائل کے نزدیک سے بہ آسانی گزر جانا، خود کو خوشحالی کے سپرد کر دینا، ناز و نعمت میں رہنا اور ہمیشہ عیش و عشرت میں مگن رہنا، ایمان کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟ (طال علیھم الأمد) "ان پر زمانہ طولانی ہو گیا۔" یہ جملہ ہوسکتا ہے کہ: • ان لوگوں اور ان کے پیغمبروں کے درمیان فاصلے کی طرف اشارہ ہو۔ • یا ان کے طولِ عمر اور آرزوؤں کی کثرت کی طرف۔ • یا عذابِ الٰہی کے طویل زمانے تک نازل ہونے کی طرف۔ • یا ان سب کی طرف۔ اس لیے کہ ممکن ہے ان میں سے ہر چیز غفلت و قساوتِ قلبی کا سبب ہو اور وہ فسق و گناہ کا ذریعہ بنے۔ ایک حدیث میں حضرت علی (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: (لَا تُعَاجِلُوا الأَمْرَ قَبْلَ بُلُوْغِهِ فَتَنْدَمُوا وَلَا يَطُوْلَنَّ عَلَيْكُمُ الأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوْبُكُمْ)۔ "کسی کام کے سلسلے میں، اس کا وقت آنے سے پہلے، جلدی نہ کرو ورنہ پشیمان ہو گے اور تمہارے اور حق کے درمیان طویل فاصلہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے تمہارے دل قساوت کا شکار ہو جائیں گے۔" [بحوالہ: "بحار الأنوار" جلد ۷۸، صفحہ ۸۳، حدیث ۸۵]۔ ایک اور حدیث میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی یہ مروی ہے: (لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ، وَلَا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ الْعِبَادِ كَأَنَّكُمْ أَرْبَابٌ، وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِكُمْ كَأَنَّكُمْ عَبِيدٌ، وَالنَّاسُ رَجُلَانِ، مُبْتَلًى وَمُعَافًى، فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلَاءِ، وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَى الْعَافِيَةِ)۔ "خدا کے ذکر سے جو خالی ہوں وہ باتیں زیادہ نہ کرو، یہ قساوتِ قلب کا باعث ہے اور قساوت رکھنے والا دل خدا سے دور ہے۔ بندوں کے گناہوں پر اس طرح نظر نہ ڈالو، جس طرح مالک اپنے غلاموں پر نظر ڈالتے ہیں، بلکہ اپنے گناہوں کی طرف اس طرح دیکھو، جیسے کوئی غلام اپنے آقا کے سامنے ہو۔ لوگ دو طرح کے ہیں، ایک گروہِ مبتلا ہے اور دوسرا اہلِ عافیت کا گروہ ہے۔ مبتلاؤں پر رحم کرو اور اہلِ عافیت کو دیکھ کر خدا کی حمد و ستائش کرو۔" [بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۹، صفحہ ۲۳۸]۔ چونکہ ذکرِ خدا سے مردہ دلوں کا زندہ ہونا اور قرآن کے سامنے خضوع و خشوع اختیار کرنے سے حیاتِ معنوی کا پیدا ہونا، بارش کے حیات بخش قطروں کی برکت سے مردہ زمینوں کے زندہ ہونے کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے، اس لیے بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے: "جان لو کہ خدا زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔" (اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا)۔ "ہم اپنی آیات کو آفرینش کے میدان میں اور وحی کے میدان میں تمہارے لیے واضح کرتے ہیں، اس خیال سے کہ شاید تم عقل سے کام لو۔" (قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ) درحقیقت یہ آیت بھی بارش کے وسیلے سے زمینِ مُردہ کے زندہ ہونے کی طرف اور ذکرِ خدا و قرآن کے وسیلے سے دل ہائے مُردہ کے زندہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن وہ ہے جو خدا کی طرف سے قلبِ پاک پیغمبر پر نازل ہوا ہے۔ ذکرِ خدا و قرآن دونوں تدبّر و تعقل کے مستحق ہیں، اسی لیے اسلامی روایات میں دونوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ایک حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "العدل بعد الجور۔" "زمین کا عدالت و انصاف کے ذریعے زندہ ہونا مراد ہے بعد اس کے کہ وہ ظلم و جور سے مُردہ ہو چکی ہو۔" [بحوالہ: "روضة الکافی"، مطابقِ نقل "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ۲۴۳]۔ ایک دوسری حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے "اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا" کی تفسیر میں فرمایا: "يُحْيِي اللَّهُ تَعَالَى بِالْقَائِمِ بَعْدَ مَوْتِهَا يَعْنِي بِمَوْتِهَا كُفْرُ أَهْلِهَا وَالْكَافِرُ مَيِّتٌ۔" "خدا زمین کو حضرت مہدی علیہ السلام کے ذریعے زندہ کرے گا بعد اس کے کہ وہ مُردہ ہو چکی ہو گی اور زمین کے مُردہ ہونے سے مراد اس کے رہنے والوں کا کفر ہے اور کافر مُردہ ہے۔" [بحوالہ: "کمال الدین"، مطابقِ نقل "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ۲۴۲]۔ یہ بات کہے بغیر ظاہر ہے کہ یہ تفسیریں زیرِ بحث آیت کے مصداقوں کا بیان ہیں اور ہرگز آیت کے مفہوم کو محدود نہیں کرتیں۔ ایک اور حدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ: "فَإِنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْقُلُوبَ الْمَيِّتَةَ بِنُورِ الْحِكْمَةِ كَمَا يُحْيِي الْأَرْضَ الْمَيِّتَةَ بِوَابِلِ الْمَطَرِ۔" "خدا مُردہ دلوں کو نورِ حکمت سے زندہ کرتا ہے، جس طرح مُردہ زمینوں کو بابرکت بارشوں سے زندہ کرتا ہے۔" [بحوالہ: "بحار"، جلد ۷۸، صفحہ ۳۰۸]۔ بعد والی آیت ایک مرتبہ پھر انفاق، جو شجرِ ایمان کا ایک پھل ہے، اس کی طرف توجہ دلاتی ہے اور اسے موضوعِ گفتگو بناتی ہے اور وہی تعبیر جو گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں، اسے کچھ اضافوں کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "وہ مرد اور عورتیں جو راہِ خدا میں انفاق کریں اور جو اس طرح خدا کو قرضِ حسنہ دیں، خدا اس قرض کو کئی گنا کرتا ہے اور ان مردوں اور عورتوں کے لیے بیش قیمت اجر ہے۔" "إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَ الْمُصَّدِّقَاتِ وَ أَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ۔" [تشریحی نوٹ: "الْمُصَّدِّقِينَ وَ الْمُصَّدِّقَاتِ"، "الْمُتَصَدِّقِينَ وَ الْمُتَصَدِّقَاتِ" کے معنی میں ہے اور "أَقْرَضُوا اللَّهَ" کا عطف جو جملہ فعلیہ ہے، گزشتہ جملہ اسمیہ پر اسی بنا پر ہے کیونکہ یہ جملہ "الَّذِينَ أَقْرَضُوا اللَّهَ" کے معنی میں ہے]۔ مسئلہ انفاق کو خدا نے قرضِ حسنہ دینے کے عنوان کے ماتحت کیوں پیش کیا ہے؟ اور مذکورہ اضافہ اور اجرِ کریم کس بنا پر ہے؟ اس سورہ کی آیت ۱۱ کے ذیل میں ہم اس پر بحث کر چکے ہیں۔ بعض مفسّرین نے یہ احتمال تجویز کیا ہے کہ اس آیت میں اور اسی قسم کی دوسری آیات میں [بحوالہ: البقرہ: ۲۴۵، التغابن: ۱۷، المزمل: ۲۰، الحدید: ۱۱]۔ خدا کو قرضِ حسنہ دینے سے مراد بندوں کو قرض دینا ہے، اس لیے کہ خدا کو قرض لینے کی ضرورت نہیں ہے، یہ مومن بندے ہی ہیں جنہیں قرض کی ضرورت ہے۔ لیکن آیات کے سیاق و سباق کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ نظر آتا ہے کہ ان آیات میں قرضِ حسنہ سے مراد وہی انفاق فی سبیل اللہ ہے، اگرچہ بندگانِ خدا کو قرض دینا بھی افضل و برتر اعمال میں سے ہے اور یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ فاضل مقداد نے بھی "کنز العرفان" میں انہی معانی کی طرف اشارہ کیا ہے، اگرچہ وہ قرضِ حسنہ کی تفسیر میں تمام اعمالِ صالح کو پیش کرتے ہیں۔ [بحوالہ: "کنز العرفان"، جلد ۲، صفحہ ۵۸]۔

وہ گنہگار افراد جنہوں نے یہ آیت سن کر توبہ کی

آیت "أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا..." قرآن مجید کی ان لرزہ براندام کر دینے والی آیات میں سے ہے، جو انسان کے دل اور اس کی روح کو مسخّر کرتی ہیں اور غفلت کے پردے چاک کر کے پکار پکار کر کہتی ہیں:کیا اس کا موقع نہیں آ پہنچا کہ ایمان والے دل، خدا کے ذکر سے اور جو حق سے نازل ہوا ہے، اسے سن کر خدا کا خوف اختیار کریں؟ اور ان لوگوں کے مانند نہ ہوں جنہوں نے کتابِ آسمانی کی آیات کا ادراک کیا لیکن طولِ زمان کے زیرِ اثر ان کے دل قساوت کی طرف مائل رہے۔ اس لیے تاریخ کے طویل دور میں ہم بہت سے گنہگار افراد کو دیکھتے ہیں جو اس آیت کو سن کر اس طرح کانپ اٹھتے ہیں کہ ایک ہی لمحے میں اپنے تمام گناہوں کو ترک کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض زاہدوں اور عابدوں میں قرار پائے ہیں۔ منجملہ دوسروں کے فضیل بن عیاض ہیں، فضیل جو کتبِ رجال میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے موثق راویوں میں سے ہیں اور مشہور زاہدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ آخری زندگی میں جوارِ کعبہ میں رہائش رکھتے تھے۔ انہوں نے اسی علاقے میں بروزِ عاشورہ دنیا سے رختِ سفر باندھا۔ وہ ابتدا میں ایک خطرناک رہزن تھے جس سے تمام لوگ ڈرتے تھے۔ وہ ایک آبادی کے قریب سے گزر رہے تھے کہ ایک لڑکی کو انہوں نے دیکھا۔ اس سے انہیں محبت ہو گئی۔ اس لڑکی کے عشق نے انہیں اس بات کی انگیخت دی کہ رات کے وقت وہ اس کے گھر کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوں اور ہر قیمت پر اس کا وصال حاصل کریں۔ وہ جس وقت دیوار پھاند رہے تھے تو اس وقت قریب کے گھروں میں سے ایک گھر میں کوئی شخص تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول تھا اور وہ اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا: (أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ)۔ یہ آیت ایک تیر کی طرح فضیل کے دل پر لگی۔ انہوں نے دل میں چُھن محسوس کی۔ ان کے دل میں ایک قسم کا ہیجان برپا ہو گیا۔ انہوں نے تھوڑا سا اس پر غور و فکر کیا کہ کون ہے جو یہ گفتگو کر رہا ہے اور کس سے یہ پیام دے رہا ہے؟ وہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اے فضیل! کیا وہ وقت نہیں آپہنچا کہ تُو بیدار ہو اور اس راہِ خطا سے لوٹ آئے؟ اس گناہ سے اپنا دامن بچا لے اور توبہ کی راہ اختیار کرے؟ اچانک فضیل کی صدا بلند ہوئی۔ وہ مسلسل کہے جا رہے تھے: "بلیٰ والله قد آن، بلیٰ والله قد آن۔" (خدا کی قسم! اس کا وقت آپہنچا ہے۔ خدا کی قسم! اس کا وقت آپہنچا ہے)۔ انہوں نے آخری فیصلہ کیا اور پُختہ ارادہ کر لیا اور وہ بجلی کی سی ایک جست لگا کر حلقۂ اشقیا سے نکل آئے اور صفِ سعدا میں شامل ہو گئے۔ وہ دیوار سے نیچے اُتر آئے اور ایک ایسے خرابے میں داخل ہوئے جہاں مسافروں کی ایک جماعت قیام پذیر تھی۔ وہ مسافر اپنی منزل کی طرف کوچ کرنے کے سلسلے میں ایک دوسرے سے مشورہ کر رہے تھے اور آپس میں یہ کہہ رہے تھے کہ فضیل اور اس کے ساتھی راستے میں ہیں۔ اگر ہم جائیں گے تو وہ ہمارا راستہ روک لیں گے اور ہمارا مال و اسباب لُوٹ لیں گے۔ فضیل لرز گئے اور اپنے آپ کو سخت ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ میں کتنا بُرا شخص ہوں! یہ کون سی شقاوت و بدبختی ہے جس میں میں مبتلا ہوں؟ رات کی تاریکی میں گناہ کے ارادے سے نکلا ہوں اور مسلمانوں کا ایک گروہ میرے خوف کی وجہ سے اس خرابے میں پناہ لینے پر مجبور ہوا ہے۔ انہوں نے آسمان کی طرف منہ کیا اور توبہ کرنے والے دل سے ان الفاظ کو اپنی زبان پر جاری کیا: "(اللّٰهُمَّ إنِّي تُبْتُ إِلَیْکَ وَجَعَلْتُ تَوْبَتِي إِلَیْکَ جِوَارَ بَیْتِکَ الْحَرَامِ)۔" (خدایا! میں تیری طرف لوٹ آیا اور اپنی توبہ یہ قرار دی ہے کہ ہمیشہ تیرے گھر کے قرب میں رہوں گا۔ خدایا! میں اپنی بدکاری پر رنجیدہ ہوں اور اپنی دنائت کی وجہ سے آہ و بکا کرتا ہوں۔ تو میرے درد کی دوا کر۔ اے ہر درد کی دوا کرنے والے! اے ہر عیب سے پاک و منزہ! اے وہ جو میری خدمات بجا لانے سے بےنیاز ہے! اے وہ جسے میری خیانت سے کوئی نقصان نہیں! مجھے اپنی رحمت کے صدقے میں بخش دے اور مجھ ہوا و ہوس کے اسیر کو اس قید و بند سے رہائی بخش!) خدا نے ان کی دعا قبول کی اور ان پر عنایات فرمائیں۔ وہ وہاں سے لوٹ کر مکہ آئے اور برسوں تک وہاں مجاور رہے اور اولیاء اللہ میں شامل ہو گئے۔ گدائے کوئے تو از ہشت خلد مستغنی است اسیرِ عشقِ تو از ہر دو کون آزاد است (تیرے کوچہ کا گدا آٹھوں بہشتوں سے مستغنی ہے اور تیرے عشق کا قیدی دونوں جہاں سے آزاد ہے)۔ [بحوالہ: اقتباس از "سفینة البحار"، جلد ۲، صفحہ ۳۶۹ اور "روح البیان"، جلد ۹، صفحہ ۳۶۵ اور "تفسیر قرطبی"، جلد ۹، صفحہ ۶۴۶۱]۔ بعض مفسّرین نے لکھا ہے کہ بصرہ کے مشہور افراد میں سے ایک فرد کہتا ہے کہ میں ایک راستے سے گزر رہا تھا۔ اچانک ایک چیخ میں نے سنی۔ میں اس چیخ مارنے والے کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص زمین پر بےہوش پڑا ہوا ہے۔میں نے پوچھا: "یہ کون ہے"؟ لوگوں نے بتایا: "یہ ایک بیدار دل شخص ہے۔ قرآن کی ایک آیت اس نے سنی ہے اور بےہوش ہو گیا ہے۔" میں نے پوچھا: "کون سی آیت"؟ تو انہوں نے بتایا: (أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ)۔ میری آواز سن کر وہ بےہوش شخص اچانک ہوش میں آگیا اور ہوش میں آ کر اس نے یہ دل سوز اشعار پڑھنا شروع کیا: أما آن للهجران أن يتصرّما و للغصن غصن البان أن يتبسّما و للعاشق النصب الذي ذاب وانحنى ألا أن يبكي عليه و يُرحما کتبتُ بماءِ الشوق بين جوانحي كتاباً حكى نقشَ الوشيِ المنمنما (کیا اس کا موقع نہیں آیا کہ ہجر کا وقت ختم ہو اور میری امید کی بلند شاخ اور اس کی خوشبو مسکرائے؟ اور کیا اس کا وقت نہیں آیا کہ اس بےقرار عاشق کے لیے، جو پگھل کر پانی ہو چکا ہے اور جس کی کمر جھک گئی ہے، لوگ گریہ کریں اور وہ مرکزِ رحم قرار پائے؟ جی ہاں! شوق کے پانی کی روشنائی سے میں نے اپنے صفحۂ دل پر لکھ دیا ہے اور ایک ایسا نامۂ شوق تحریر کیا ہے جو بہت ہی خوبصورت، عمدہ اور جاذبِ توجہ ہے)۔ اس کے بعد اس نے کہا: "مشکل ہے! مشکل ہے!" یہ کہہ کر وہ دوبارہ بےہوش ہو کر زمین پر گِر پڑا۔ اس کو ہم نے ہلا کر دیکھا تو وہ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر چکا تھا۔ [بحوالہ: "تفسیر روح المعانی"، جلد ۲۷، صفحہ ۱۵۶]۔

19
57:19
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصِّدِّيقُونَۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ وَنُورُهُمۡۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے وہ صدیقین و شہدا ہیں اپنے پروردگار کے پاس ۔ ان کے (اعمال) کا اجر اور ان کا نور (ایمان) کے لئے ہے اور جو لوگ کا فر ہوگئے اور انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ اصحاب جحیم ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
57:20
ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ كَمَثَلِ غَيۡثٍ أَعۡجَبَ ٱلۡكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرّٗا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمٗاۖ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٞ شَدِيدٞ وَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٞۚ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ
جان لو کہ زندگانیٔ دنیا صرف کھیل کود ، سر گرمی، تجمل پر ستی اور تمہارے درمیان تفاخر ہے اور مال و اولاد میں اضافہ کا طلب کر نا اس بارش کی طرح جس کا حاصل کسانوں کو تعجب میں ڈال دیتا ہے، پھر وہ (کھیتی) خشک ہو جاتی ہے۔ اس طرح کہ تو اسے زرد دیکھتا ہے پھر وہ خشک بھوسہ کی شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔(لیکن) آخرت (کا معاملہ دو حالتوں سے خارج نہیں ) یا عذاب شدید ہے یا مغفرت و رضائے الٰہی۔ بہر حال زندگی دنیا متاع غرور اور فریب کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

تفسیر: دُنیا متاعِ غرور کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

گزشتہ آیات کی بحث جس میں مومنین اور بارگاہِ خدا میں ان کے اجر سے متعلق گفتگو تھی، اس کو جاری رکھتے ہوئے پروردگارِ عالم زیر بحث آیت میں مزید فرماتا ہے: "وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین اور شہداء ہیں۔" (وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ)۔ "صدیق"، "صدق" سے ماخوذ ہے اور صیغۂ مبالغہ ہے، جو ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سراپا صداقت ہو—یعنی جس کا ہر قول و فعل سچائی کی عکاسی کرتا ہو، جس کا علم اس کی گفتار کی تصدیق کرے اور جو سچائی کا کامل نمونہ ہو۔ "شہداء" جمع ہے "شہید" کی، اس کا مادّہ "شہود" ہے جس کے معنی ایسا حضور ہیں جس کے ساتھ مشاہدہ وابستہ ہو، چاہے وہ ظاہری آنکھ سے ہو، چاہے دل کی آنکھ سے۔ اور اگر گواہ پر "شاہد" و "شہید" کا اطلاق ہوتا ہے تو وہ اس بنا پر ہے کہ اس نے کسی منظر کا مشاہدہ حاضر رہ کر کیا ہے، اسی طرح جس طرح اس کا اطلاق شہیدانِ راہِ خدا پر میدانِ جہاد میں ان کے حاضر ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ پیغمبر اور انبیاء اپنی اپنی اُمتوں کے اعمال کے گواہ ہیں اور پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے گواہ بھی ہیں اور اپنی اُمت کے بھی اور مسلمان بھی لوگوں کے اعمال کے شاہد اور گواہ ہیں۔ [بحوالہ: "تفسیرِ نمونہ" کی جلد ۷، سورۂ حج کی آیت ۸۸ کے ذیل میں اور جلد ۲، سورۂ نساء کی آیت ۴۱ کے ذیل میں جو تحریر ہے، اس کی طرف رجوع فرمائیں]۔ اس بنا پر "شہداء" کا مقام (اعمال کے گواہ) ایک بلند مقام ہے جو ایماندار افراد کو حاصل ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال تجویز کیا ہے کہ یہاں "شہداء" انہی شہدائے راہِ خدا کے معنوں میں ہے، یعنی جو مومن ہے وہ شہیدوں جیسا اجر رکھتا ہے اور بمنزلۂ شہداء ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا؛ "ادعُ اللّٰہَ أن یرزقنی الشہادة" (خدا سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے شہادت عطا فرمائے)۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ شَهِيدٌ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ" (مومن شہید ہے) اور پھر آپ (علیہ السلام) نے اس آیت (وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ...) کی تلاوت فرمائی۔ [بحوالہ: تفسیرِ عیاشی، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۴۴]۔ مذکورہ دونوں معانی کا اجتماع بھی ممکن ہے، اس لیے کہ قرآن مجید میں "شہید" و "شہداء" کے الفاظ عام طور پر گواہوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ بہرحال خدا مومنین کی دو صفتیں بیان کرتا ہے: 1. پہلی صفت "صدیق۔" 2. دوسری صفت "شہید۔" یہ چیز بتاتی ہے کہ زیر بحث آیت میں مومنین سے مراد وہ افراد ہیں جن کو ایمان کا بلند ترین مقام حاصل ہے اور نہ کہ ایک عام مومن، کیونکہ ایک عام مومن اسی قسم کے اوصاف کا حامل نہیں ہوتا۔ [تشریحی نوٹ: اوپر والی تفسیر کے مطابق (أُوْلٰئِکَ ھُمُ الصِّدِّیقُونَ وَالشُّہَدَاءُ عِندَ رَبِّہِمْ) میں کوئی چیز مقدر نہیں ہے اور مومنین کے اُس گروہ کو صدیقین و شہداء کے مصداق شمار کیا گیا ہے۔ لیکن مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ وہ بمنزلہ صدیقین و شہداء ہیں، نہ کہ خود وہی ہیں۔ یعنی ان کا اجر تو انہیں ملے گا لیکن تمام اعزازات و افتخارات نہیں ملیں گے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ آیت کی تقدیرِ عبارت اس طرح ہے: (أُوْلٰئِکَ مِثْلُ أَجْرِ الصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ)۔ "تفسیر روح المعانی" اور "المیزان" (در ذیلِ آیاتِ زیر بحث) میں بھی یہی ذکر ہے۔ اسی طرح "طبعاً لہم" اور "أجرہم" کی ضمیروں کا مرجع بھی مختلف ہو گا، لیکن یہ تفسیر ظاہرِ آیات کے ساتھ سازگار نہیں ہے]۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "ان کے لیے ان کے اعمال کا اجر ہے اور ان کے ایمان کا نور" (لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ)۔ یہ تفصیلی تعبیر عظیم اجر اور ان کے حد سے زیادہ نور کی طرف اشارہ ہے۔ آخر میں فرماتا ہے: "لیکن وہ لوگ جو کافر ہو گئے اور انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی، وہ اہلِ دوزخ ہیں" (وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ) تاکہ ان دونوں گروہوں کے تقابل سے، پہلے گروہ کا مقامِ بلند اور دوسرے گروہ کی پستی آشکار ہو جائے۔ چونکہ پہلے گروہ میں ایمان کی بلند سطح مدنظر تھی، لہٰذا اس گروہ کا بھی شدید کفر پیشِ نظر ہے، اسی لیے اس گروہ کا ذکر آیاتِ الہٰی کی تکذیب کے عنوان سے ہوا ہے۔اور چونکہ دنیا کی محبت ہر گناہ کا سرچشمہ ہے (رأس کل خطیئة) اس لیے بعد والی آیت میں دنیا کی کیفیتِ حیات اور اس کے مختلف مرحلوں کی گویا نمایاں تصویرکشی ہوئی ہے اور ہر مقام پر جو عوامل کارفرما ہیں وہ پیش کیے گئے ہیں۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "جان لو کہ زندگیِ دنیا صرف کھیل کود، جوش و خروش، تجمل پرستی، ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کرنا اور مال و اولاد میں اضافہ کا مطالعہ کرنا ہے" (اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ)۔ اس اعتبار سے غفلت، جوش و خروش، تجمل پرستی، تفاخر اور تکاثر انسانی زندگی کے پانچ مرحلوں کو تشکیل دیتے ہیں: 1. پہلا بچپن کا دور ہے، جس میں زندگی بےخبری اور لہو و لعب میں محصور رہتی ہے۔ 2. اس کے بعد لڑکپن کا دور آتا ہے، اس میں سرگرمی اور جوش و خروش کھیل کود کی جگہ لے لیتے ہیں اور اس مرحلے میں انسان ایسے مسائل میں الجھا رہتا ہے جو اسے صرف اپنے ساتھ سرگرم رکھیں لیکن سنجیدہ مسائل سے دور رکھیں۔ 3. تیسرا مرحلہ جوانی کا ہے، جس میں شور و غوغا ہوتا ہے اور تجمل پرستی ہوتی ہے۔ 4. اس مرحلے سے گزرے تو چوتھا مرحلہ آتا ہے، اس میں مقام و منصب کے حاصل کرنے اور فخر و مباہات کرنے کے جذبات انسان میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ 5۔ آخرکار وہ پانچویں مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے جس میں افزائشِ مال و اولاد کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ پہلے مرحلے تو زندگی اور عمر کے مطابق طے شدہ ہیں، لیکن بعد کے مرحلے مختلف افراد میں مکمل طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ انسان میں مال کی افزائش کا جذبہ آخر تک برقرار رہتا ہے، اگرچہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ ان پانچ اصولوں میں سے ہر مرحلہ انسانی زندگی کے آٹھ سال پر محیط ہوتا ہے اور مجموعی طور پر چالیس سال تک جا پہنچتا ہے۔ جب انسان اس مرحلے داخل ہوتا ہے تو اس کی شخصیت پختہ ہو جاتی ہے۔ یہ امر بھی پورے طور پر ممکن ہے کہ بعض انسانوں کی شخصیتیں پہلے یا دوسرے مرحلے ہی میں ٹھہر جاتی ہیں اور یہ بڑھاپے تک کھیل کود، سرگرمی اور معرکہ آرائی کی فکر میں لگے رہتے ہیں، یا یہ ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت تجمل پرستی میں بَٹ کر رہ جاتی ہے اور انہیں مکان، سواری اور عمدہ لباس کی فراہمی کے علاوہ کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ یہ ادھیڑ عمر کے لوگ ہونے کے باوجود بچے ہوتے ہیں اور بوڑھے ہو کر بھی بچوں کے سے جذبات و احساسات رکھتے ہیں۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم انسان کی دنیوی زندگی اور اس کے آغاز و انجام کی ایک مثال بیان کر کے پوری کیفیت کو نگاہِ انسانی کے سامنے مجسم کرکے پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے: "مثلِ بارش کے ہے جو آسمان سے زمین کی طرف آتی ہے اور اس طرح زمین کو زندہ کرتی ہے کہ اس پر نمایاں ہونے والے سبزے زراعت کرنے والوں کو تعجب میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ خشک ہو جاتے ہیں اور ایسے ہو جاتے ہیں کہ تو انہیں زرد رنگ کا دیکھتا ہے، پھر ٹوٹ پھوٹ کر اور چھوٹے چھوٹے تنکے بن کر خشک کٹی ہوئی گھاس میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔" (کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہُ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرَاہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا)۔ تشریحی نوٹ: "یَہِیْجُ" کا مادہ "ہیجان" ہے۔ یہ لغت میں دو معانی کے لیے آیا ہے: ایک: گھاس کا خشک ہو جانا، دوسرا: حرکت میں آنا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں معانی ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہوں، کیونکہ جب گھاس خشک ہو جائے تو وہ حرکت اور پراگندگی کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے]۔ یہاں لفظ "کفار" بےایمان افراد کے معنوں میں نہیں ہے، بلکہ زراعت کرنے والوں کے معنی میں ہے، کیونکہ "کفر" کے اصلی معنی چھپانے کے ہیں اور چونکہ کسان بیج چھڑک کر اسے زمین کے اندر چھپا دیتا ہے، اس لیے اسے "کافر" کہتے ہیں۔ اسی لیے "کفر" بعض اوقات "قبر" کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ وہ مرنے والے کے جسم کو چھپا دیتی ہے۔ کبھی رات کو بھی "کافر" کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی تاریکی ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ درحقیقت زیرِ بحث آیت سورۂ فتح کی آیت کے مانند ہے جس میں گیاہ و نبات کے متعلق زیادہ گفتگو کرتا ہے تو فرماتا ہے: (یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ)۔ یعنی زراعت کرنے والوں کو تعجب میں ڈال دیتی ہے۔ (یہاں "کفار" کی بجائے "زراع" کہا گیا ہے)۔ بعض مفسرین نے یہاں اس احتمال کو بھی پیش کیا ہے کہ یہاں "کفار" سے مراد وہی کفر کرنے والے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے چند توجیہات بھی پیش کی ہیں، لیکن یہ تفسیر زیادہ مناسب نظر نہیں آتی، کیونکہ اظہارِ تعجب میں کافر و مومن دونوں شریک ہیں۔ "حُطَام"، "حَطَمَ" کے مادہ سے ہے، اس کے معنی توڑنے اور چھوٹا کرنے کے ہیں۔ گھاس کے ان اجزا کو "حُطَام" کہا جاتا ہے جو تیز ہوا کی جنبش سے بکھر جاتے ہیں۔ جی ہاں! وہ مرحلے جو انسان ستر سال یا اس سے زیادہ عمر میں طے کرتا ہے، وہ گھاس اور دیگر نباتات پر چند مہینوں میں ظاہر ہو جاتے ہیں اور انسان ایک کھیت کے کنارے بیٹھ کر عمر کے گزرنے اور اس کے آغاز و انجام کو مختصر سی نظر سے دیکھ سکتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے ماحصل کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "لیکن آخرت کا معاملہ دو حالتوں سے خارج نہیں ہے، یا عذابِ شدید ہے یا اس کی مغفرت، رضا اور خوشنودی۔" (وَفِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّہِ وَرِضْوَانٌ)۔ آخرکار آیت کو اس جملے پر ختم کرتا ہے: "اور زندگی دنیا سوائے متاعِ غرور اور فریب کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔" (وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ)۔ "غرور" اصل میں "غَرَّ" (بروزن "حَرَّ") کے مادہ سے ہے، جس کے معنی کسی چیز کے ظاہر سے دھوکا کھانے کے ہیں۔ اسی طرح گھوڑے کی پیشانی پر ظاہر ہونے والے سفید نشان کو "غُرَّہ" کہتے ہیں۔ اس کے بعد "غفلت" کی حالت پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے، جہاں ظاہری طور پر انسان ہوشیار ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں بےخبر ہوتا ہے۔ یہ "فریب" کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ "متاع" ہر قسم کے فائدہ اٹھانے کے وسائل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تو اس بنا پر "دنیا متاعِ غرور ہے" کے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا فریب کاری کے لیے وسیلے کی مانند ہے، اپنے آپ کو فریب دینے کے لیے بھی اور دوسروں کو فریب دینے کے لیے بھی۔ البتہ، یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو دنیا کو اپنا انتہائی مقصود قرار دیتے ہیں، اُسی میں دل لگا لیتے ہیں اور اُسی پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کی آخری آرزو یہی ہوتی ہے کہ دنیا حاصل کر لیں۔ لیکن اگر اس دنیا کی نعمتیں بلند اقدار اور سعادتِ جاودانی کے حصول کا ذریعہ بن جائیں، تو پھر وہ ہرگز دنیا نہیں ہے، بلکہ آخرت کی کھیتی، عظیم مقاصد تک پہنچنے کا ایک پل ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر دنیا کی طرف ایک گزرگاہ یا آرام کرنے کی جگہ کی حیثیت سے نظر کی جائے تو اس کے دو پہلو سامنے آتے ہیں، جن میں سے ایک میں جھگڑا اور فساد ہے، حد سے تجاوز ہے، ظلم ہے اور سرکشی و غفلت ہے۔ دوسرے پہلو میں بیداری کا وسیلہ ہے، آگاہی ہے، ایثار و قربانی ہے، بھائی چارہ ہے، اور معاف کر دینا ہے۔

چند نکات

١۔ قرآن مجید میں عظیم پیغمبروں اور ان جیسے افراد کی ایک جماعت کی تعریف صدق کے عنوان کے تحت کی گئی ہے، منجملہ دیگر افراد کے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں: "إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا" (سورہ مریم، آیت ۴١)۔ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں (مریم، ۵۶)۔ حضرت مریم علیہا السلام، مادرِ جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی ہم پڑھتے ہیں: "وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ" (المائدہ، ۷۵)۔ قرآن کی بعض آیات میں صدیقین کا ذکر پیغمبروں کے ہمراہ ہوا ہے، جیسا کہ سورہ نساء کی آیت ۶۹ میں ہم دیکھتے ہیں:"وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا۔" "جوشخص خدا و پیغمبر کی اطاعت کرے، وہ (قیامت میں) ایسے لوگوں کا ہم نشین ہو گا جن پر خدا نے اپنی نعمت کو تمام کیا ہے، پیغمبروں، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے اور وہ اچھے رفقاء ہیں۔" جیسا کہ ہم نے کہا ہے، یہ لفظ مبالغہ کا صیغہ ہے، اس کا مادہ "صدق" ہے اور یہ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کے وجود کا صدق و راستی نے احاطہ کر لیا ہو اور صداقت اس کی پوری زندگی پر حاوی ہو۔ یہ چیز مقامِ صدق کی اہمیت کو بتاتی ہے۔ باقی رہے شہداء، تو جیسا کہ ہم نے کہا ہے، کبھی تو یہ اعمال کے گواہ کے معنوں میں آتا ہے اور کبھی شہیدانِ راہِ خدا کے معنوں میں اور زیر بحث آیت میں ان دونوں معانی کا اجتماع بھی ممکن ہے۔ البتہ شہید، اسلامی فرہنگ اور تمدن کے اعتبار سے صرف انہی افراد میں محدود نہیں ہے جو میدانِ جہاد میں قتل ہو جائیں، اگرچہ وہ اس کے واضح ترین مصداق ہیں۔ حتیٰ کہ وہ تمام افراد جو عقیدۂ حق رکھتے ہیں، راہِ حق میں قدم اٹھاتے ہیں اور اسی راہ میں دنیا سے چلے جاتے ہیں، روایاتِ اسلامی کے مطابق سب زمرۂ شہداء میں آتے ہیں۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ: "العارف منکم ھٰذا الأمر، المنتظر لہ، المحتسب فیہ الخیر، کمن جاھد واللہ مع قائم آل محمد (ع) بسیفہ، ثم قال: بل واللہ، کمن جاھد مع رسول اللہ بسیفہ، ثم قال الثالثة: بل واللہ، کمن استشهد مع رسول اللہ۔ قول اللہ عز وجل: 'وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ'۔۔۔ ثم قال: صرتم واللہ صادقین شھداء عند ربکم۔" "جو شخص تم میں سے مسئلۂ ولایت سے آشنا ہو، ظہورِ مہدی علیہ السلام کے انتظار میں زندگی گزارے اور اپنے آپ کو ان کی عادل حکومت کے لیے آمادہ رکھے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو مہدی آلِ محمد (ع) کی معیت میں اپنے ہتھیاروں سے جنگ کرے۔" اس کے بعد آپ نے فرمایا: "بلکہ، خدا کی قسم، اس شخص کے مانند ہے جس نے رسول اللہ (ص) کی معیت میں اپنے ہتھیاروں سے جہاد کیا۔" پھر آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا: "بلکہ، خدا کی قسم، اس شخص کے مانند ہے جو رسول اللہ (ص) کے ساتھ رہ کر آپ کے خیمے میں شہید ہوا ہو۔" پھر فرمایا: "تمہارے بارے میں قرآن میں آیت نازل ہوئی ہے۔" راوی نے کہا: "آپ پر قربان جاؤں، کون سی آیت"؟ فرمایا: "خدا کا یہ کلام جس میں فرماتا ہے: وہ جو خدا اور اس کے بھیجے ہوئے افراد پر ایمان کائے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین اور شہداء ہیں۔" پھر آپ نے فرمایا: "تو اس طرح سے تم خدا کی قسم، اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین بھی ہو اور شہداء بھی۔" [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان ،جلد ٩، صفحہ ٢٣٧]۔ اس گفتگو کو ہم حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک گفتگو پر ختم کرتے ہیں۔ جس وقت آپ علیہ السلام کے اصحاب کا ایک گروہ جہاد کے وقت کے انتظار میں اور راہِ خدا میں شہادت پانے کے شوق میں بےتاب تھا، تو آپ علیہ السلام نے یہ جملہ فرمایا: "ولا تستعجلوا بما لم يعجله الله لكم، فإنه من مات منكم على فراشه وهو على معرفة حق ربه وحق رسوله وأهل بيته، مات شهيداً۔" "اس چیز میں جس میں خدا عجلت روا نہیں رکھتا، جلدی مت کرو، کیونکہ تم میں سے جو شخص اپنے بستر پر مر جائے لیکن حقِ پروردگار، حقِ پیغمبر اور حقِ اہلِ بیت کی معرفت رکھتا ہو، وہ شہید مرا ہے۔" [بحوالہ: نہج البلاغة، خطبہ ١٩٠]۔

دُنیاوی زندگی، اسباب و علل کا مجموعہ

قرآن کی مختلف آیات میں کبھی تو دنیاوی زندگی کو "لہو و لعب" کہا گیا ہے، مثلاً: (وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ) "دنیاوی زندگی لہو ولعب کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔"(الأنعام، ٣٢) اور کبھی لہو ولعب، زینت، تفاخر اور تکاثر کے الفاظ آئے ہیں، مثلاً زیر بحث آیات میں۔ اور کبھی متاع غرور سے تعبیر کیا گیا ہے، مثلاً (آل عمران، ١٨٥) اور کبھی متاع قلیل (النساء، ٧٧) اور کبھی عارضی و ظاہری اور جلد گزر جانے والے امر سے تعبیر کیا گیا ہے (النساء، ۹۴)۔ ان تعبیروں سے اور قرآن کی دوسری تعبیروں کے مجموعہ سے اسلام کا مادی زندگی اور اس سے متعلقہ نعمتوں کے بارے میں جو نظریہ ہے، وہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اسلام اس زندگی کو بالکل بےقدر و قیمت قرار دیتا ہے اور اس کی طرف میلان و توجہ کو بےمقصد امور (لعب)، خواہ مخواہ مصروف رکھنے والے مقاصد (لہو)، تجمل پرستی (زینت)، حبِ مقام و منصب اور ریاست و دوسروں پر برتری کی خواہش (تفاخر) اور حرص و آز اور افزوں طلبی (تکاثر) شمار کرتا ہے۔ اور دنیا سے عشق کرنے کو انواع و اقسام کے مظالم اور گناہوں کا سرچشمہ قرار دیتا ہے۔ لیکن اگر یہ نعمتیں اپنی جہت کو بدل لیں اور مقاصدِ الہٰی تک پہنچنے کا زینہ بن جائیں، تو ایسا سرمایہ بن جائیں گی جنہیں خدا مؤمنین سے خریدتا ہے اور انہیں بہشتِ جاوداں اور سعادتِ ابدی بخشتا ہے: "إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ" (التوبہ، ١١١)۔

21
57:21
سَابِقُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أُعِدَّتۡ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
ایک دوسرے پر سبقت کرو اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت تک پہنچنے کے لئے جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت جیسی ہے اور تیار کی گئی ہے ایسے لوگوں کے لئے جو اللہ اور رسولوں پر ایمان لائے ہیں یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ صاحب فضل عظیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
57:22
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مِّن قَبۡلِ أَن نَّبۡرَأَهَآۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
کوئی مصیبت زمین میں اور تمہارے وجود میں نمودار نہیں ہوتی مگر یہ کہ (وہ تمہاری اور) زمین کی تخلیق سے پہلے سے کتاب (لوح محفوظ) میں ثبت ہے اور یہ چیز اللہ کے لئے آسان ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
57:23
لِّكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ
یہ اس لئے ہے تاکہ اس پر جو کچھ تم نے گنوایا ہے اس پر غمگین نہ ہونااور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس سے خوش نہ ہونا اور اللہ کسی متکبر فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
57:24
ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
(مختال فخور)وہ لوگ جو بخل کر تے ہیں اور لوگوں کو بخل کی دعوت دیتے ہیں اور جو شخص (اس فرمان سے) روگرداں ہو (وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا ) کیونکہ اللہ بے نیاز اور لائق ستائش ہے۔

تفسیر: ایک عظیم معنوی مقابلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

دنیا اور اس کی لذتوں کی ناپائیداری کے بیان کے بعد اور اس بیان کے بعد کہ لوگ اس دنیا میں بےقیمت سرمائے کے سلسلے میں ایک دوسرے سے تفاخر و تکاثر کرتے ہیں، زیرِ بحث آیات میں لوگوں کو ان چیزوں کے طریقۂ کسب کے لیے، جو پائیدار اور ہر قسم کی سعی و کوشش کے لائق ہیں، دعوتِ فکر دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے:"اپنے پروردگار کی بخشش، مغفرت اور اس جنت کے حصول کے لیے، جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے مانند ہے اور جو ایسے لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خدا اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، ایک دوسرے پر سبقت کرو۔" (سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ)۔ حقیقت میں پروردگار کی طرف سے عطا کی ہوئی مغفرت، کلیدِ جنت ہے۔ وہ جنت جو زمین و آسمان کی وسعتوں کو گھیرے ہوئے ہے اور ابھی سے مومنین کی پذیرائی کے لیے آمادہ ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ جنت اُدھار پر ہے، اس سے دل نہیں لگانا چاہیے۔ جنت اگرچہ اُدھار فرض کی گئی ہے، لیکن وہ ہر نقد سے زیادہ شمار کی جاتی ہے کیونکہ اس کا وعدہ اس خدا کی طرف سے کیا گیا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے، چہ جائیکہ وہ پوری طرح نقد ہے اور اب بھی موجود ہے۔ ان معانی سے مشابہ گفتگو سورۂ آلِ عمران کی آیت ١٣٣ میں آئی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ یہاں "سابقوا" سابقہ کے مادہ سے اور وہاں "سارعوا" مسارعت کے مادہ سے ہے اور دونوں کا مطلب ایک دوسرے کے مقابلے میں تیزی و سرعت اختیار کرنا ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ وہاں "عَرْضھا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" ہے اور یہاں "كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ۔" تھوڑے سے غور و فکر سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں تعبیریں ایک ہی حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔ وہاں فرماتا ہے: "پرہیزگاروں کے لیے تیار ہے" اور یہاں فرماتا ہے: "مومنین کے لیے۔" چونکہ پرہیزگاری شجرِ ایمان کا ثمر ہے، لہٰذا یہ دونوں تعبیرات ایک ہی حقیقت کی ترجمان ہیں۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ دونوں آیات دو مختلف بیانات کے ساتھ ایک ہی حقیقت کو پیش کرتی ہیں۔ اسی بنا پر، بعض مفسرین کے مطابق، سورۂ آلِ عمران کی آیت مقربین کی جنت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور زیرِ بحث آیت میں مومنین کی جنت کی طرف۔ یہاں "عرض" کا لفظ "طول" کے مقابلے میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے سمجھا ہے اور اس کے بعد وہ ایسی طویل و عریض جنت کی تلاش میں لگے ہیں جس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہو۔ ایسے موقع پر "عرض" کا مطلب "وسعت" ہے، جیسا کہ فارسی میں "پہنۂ دشت" (وسعتِ صحرا) کہا جاتا ہے۔ مغفرت کی تعبیر، جو جنت کی بشارت سے پہلے دونوں آیات میں آئی ہے، اس حقیقت کی لطیف نشاندہی کرتی ہے کہ جب تک انسان گناہ سے پاک نہ ہو، وہ جنت اور جوارِ پروردگار میں ورود کے قابل نہیں ہو گا۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ پروردگار کی مغفرت کی طرف سبقت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حصولِ مغفرت کے اسباب کو اختیار کیا جائے، جیسے توبہ کا راستہ اپنانا، اطاعتوں کی تلافی کرنا، اور اصولی طور پر اطاعتِ پروردگار کو اختیار کرتے ہوئے گناہوں اور معاصی سے پرہیز کرنا۔ اگر بعض احادیث و روایات میں واجبات و مستحبات پر انحصار کیا گیا ہے، جیسے: • جماعت کی پہلی صف کی طرف بڑھنا۔ • جہاد کی پہلی صف میں جگہ لینا۔ • امامِ جماعت کے ساتھ تکبیرِ تحریمہ کہنا۔ • اول وقت میں نماز پڑھنا۔ تو یہ مثالوں کے ذکر کے طور پر ہے، یا واضح اور روشن مصداق کی نشاندہی ہے، اور آیت کے مفہوم کی وسعت میں کمی نہیں کرتا۔ آیت کے آخر میں مزید فرماتا ہے: "یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ صاحبِ فضلِ عظیم ہے۔" (ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ)۔ یقیناً اس قسم کی وسیع جنت میں اتنی عظیم نعمتیں ہوں، وہ ایسی چیز نہیں ہوتی جو ناچیز اعمال کے ذریعے انسان کو حاصل ہو جائے۔ یہ صرف اللہ کا فضل و کرم ہے جو قلیل اعمال کے بدلے اتنا بڑا اجر دینے والے کے کرم کے مطابق ہوتا ہے، بہرحال یہ تعبیر اچھی طرح بتاتی ہے کہ ثواب اور جزا عمل کی مزدوری نہیں ہیں بلکہ یہ ایک طرح کا فضل و کرم ہے۔ اس کے بعد دنیا سے عدم دل بستگی، اس کے حصول پر خوش نہ ہونے اور اس سے منہ موڑنے پر غمگین نہ ہونے کے بارے میں تاکید مزید کے لیے فرماتا ہے: "کوئی مصیبت زمین میں واقع نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ تمہاری اور زمین کی خلقت سے پہلے سے کتاب (لوح محفوظ) میں ثبت ہے اور یہ امر خدا کے لیے آسان ہے۔" (مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَ لَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [تشریحی نوٹ: "نبرأھا" کا مرجع ضمیر کیا چیز ہے، اس میں کئی احتمال ہیں: بعض اس کا مرجع زمین اور انفس کو سمجھتے ہیں، بعض مصیبت کو اور بعض سب کو، لیکن آیت کے لب و لہجے پر توجہ کرتے ہوئے پہلے معنی مناسب ہیں کیونکہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ زمین و آسمان اور تمہاری خلقت سے پہلے ان مصائب کی پیش بینی ہوئی ہے]۔ جی ہاں، وہ مصیبتیں جو زمین میں پیش آتی ہیں مثلاً زلزلے، طوفان، سیلاب اور انواع و اقسام کے دردناک حادثات جن سے انسان دوچار ہوتا ہے، وہ سب پہلے سے طے شدہ ہیں اور لوحِ محفوظ میں ثبت ہیں۔ لیکن توجہ کرنی چاہیے کہ وہ مصیبتیں جن کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے، صرف اسی نوعیت کی ہیں جن سے کسی طرح نہیں بچا جا سکتا اور وہ انسانوں کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ (بالفاظِ دیگر یہاں حصر، حصرِ اضافی ہے)۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ سورۂ شوریٰ کی آیت ۳۰ ہمیں بتاتی ہے: (وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ)۔ "جو مصیبت بھی تمہیں پہنچے وہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جنہیں تم انجام دیتے ہو اور بہت سے گناہوں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔" اس حقیقت کے پیش نظر کہ آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں، جب یہ آیات ایک دوسرے کے مقابل ہوں، تو بتاتی ہیں کہ وہ مصیبتیں بےشمار ہیں— ظلم و ستم، بےانصافیاں، خیانتیں، وعدہ خلافیاں وغیرہ اور نہ معلوم کتنے کام اور ایسی چیزیں جو ہمارے خود کردہ مصائب کا سرچشمہ ہیں۔ لیکن مصائب کا ایک حصہ ایسا ہے جس میں ہم کسی قسم کا دخل نہیں رکھتے، اس حصے کے مصائب اسی لیے بہت سے انبیاء، اولیاء اور صلحاء کا شکار ہوتے تھے۔ ان مصائب کا ایک دقیق فلسفہ ہے جس کی طرف ہم خدا شناسی اور عدلِ الٰہی کے مباحث میں اور مسئلہ آفات و بلّیات کے تحت اشارہ کر چکے ہیں۔ ایک حدیث ہماری نظر سے گزری ہے کہ جب امام زین العابدین علیہ السلام کو یزید کی مجلس میں ایسی حالت میں لے جایا گیا کہ آپ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، تو یزید نے امام کی طرف رخ کر کے سورۂ شوریٰ کی آیت پڑھی: (وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ)۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ خاندانِ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مصائب خود ان کے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اس طرح وہ امام علیہ السلام پر زبان کا زخم لگانا چاہتا تھا۔ لیکن امام علیہ السلام نے فوراً اس کے کلام کی تردید کی اور فرمایا: "کلا! ما نزلت هذه فینا، إنما نزلت فینا: (مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا)۔" "ایسا نہیں ہے! یہ آیت ہمارے بارے میں نازل نہیں ہوئی، بلکہ ہمارے بارے میں ایک اور آیت نازل ہوئی ہے جو یہ ہے کہ: 'جو مصیبت بھی تمہارے وجود میں یا زمین پر آتی ہے، وہ تمہاری خلقت سے پہلے لوح محفوظ میں ثبت ہے'۔" (اور اس کا ایک فلسفہ اور حکمت ہے)۔ [بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۴۷]۔ اس سلسلے میں تفصیلی بحث ہم سورۂ شوریٰ کی آیت ۳۰ کے ذیل میں جلد ۱۱ میں کر چکے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: جلد ۲، صفحہ ۵۱۵ سے آگے اور سورہ نساء کی آیت ۷۸، ۷۹ کے ذیل میں بھی ایک اور بحث تھی جو زیر بحث آیات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے]۔ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کے شاگردوں نے یہی معنی سمجھے ہیں، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جب "سعید ابن جبیر" کو حجاج کے پاس لے جایا گیا اور اس نے آپ کے قتل کا مصمم ارادہ کر لیا، تو حاضرین میں ایک شخص رونے لگا، تو سعید نے کہا:"کیوں رو رہے ہو"؟ اس نے کہا: "اس مصیبت کی بنا پر جو آپ کو پیش آئی ہے۔" تو انہوں نے کہا: "گریہ نہ کرو، یہ علمِ خدا میں تھا کہ اس طرح ہو۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ خدا فرماتا ہے" (مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا)۔ [بحوالہ: روح البیان، جلد ۹، صفحہ ۳۷۵]۔ البتہ تمام حوادث جو عالم میں رونما ہوتے ہیں، لوحِ محفوظ میں ثبت ہیں اور خدا کے بےپایاں علم میں ہیں۔ اگر یہاں صرف زمین اور نفوسِ انسانی میں رونما ہونے والے مصائب کی طرف اشارہ ہوا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ موضوعِ سخن یہی تھا، جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ بعد والی آیت میں اس کا نتیجہ پیش کیا گیا ہے: (إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ)۔ یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ لوحِ محفوظ میں تمام حالات کا ثبت ہونا، حوادث کی کثرت کے باوجود خدا کے لیے دشوار نہیں ہے اور لوحِ محفوظ میں ان مصائب کی تقدیر اور پھر قرآن میں اس حقیقت کا بیان دراصل کیا چیز ہے؟ بعد والی آیت اس اہم راز کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہے اور کہتی ہے: "یہ اس بنا پر ہے کہ جو کچھ تم نے گنوا دیا ہے اس پر غمگین نہ ہونا اور جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے اس پر خوش نہ ہونا۔" (لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ)۔ یہ دو جملے حقیقت میں فلسفۂ آفرینش کے ایک پیچیدہ مسئلے کو حل کرتے ہیں، اس لیے کہ انسان عالمِ ہستی میں ہمیشہ مشکلات اور حوادث سے دوچار رہتا ہے اور اکثر اوقات اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ، اس کے باوجود کہ خدا مہربان و کریم ہے، یہ دردناک حوادث کس وجہ سے ہیں؟ قرآن کہتا ہے کہ مقصد یہ تھا کہ تم اس جہان میں خوشی کے اسیر نہ بن جانا اور اس کی چمک دمک میں محو نہ ہو جانا۔ اس گزرگاہ اور اس پل کی حیثیت کو، جس کا نام دنیا ہے اور اپنی حقیقت کو فراموش نہ کرنا۔ اس کے دلدادہ نہ بن جانا اور اسے ابدی و جاودانی نہ سمجھنا، کیونکہ یہ حد سے زیادہ وابستگی تمہاری سعادت کی بہت بڑی دشمن ہے۔ یہ وابستگی تمہیں یادِ خدا سے غافل کر دیتی ہے اور ترقی کے راستے سے منحرف کرتی ہے۔ یہ مصیبتیں غافلوں کے لیے "ہوشیار رہو" کی آواز ہیں اور سوئی ہوئی ارواح کے لیے اس جہان کی ناپائیداری کی ایک علامت ہیں اور اس زندگی کے مختصر ہونے کی طرف ایک اشارہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دار الغرور کے فریب دینے والے مظاہر انسان کو بہت جلد اپنی طرف کھینچ کر یادِ خدا سے غافل کر دیتے ہیں۔ جب وہ اچانک ہوش میں آتا ہے، تو دیکھتا ہے کہ قافلہ جا چکا ہے اور وہ محوِ خواب تھا، جبکہ اس کے سامنے ایک وسیع بیاباں ہے۔ یہ حوادث جو ہمیشہ زندگی میں تھے اور ہمیشہ رہیں گے، یہاں تک کہ علم و دانش کی عظیم ترقی بھی زلزلوں، طوفانوں، سیلابوں، بیماریوں اور اس قسم کے دردناک حوادث سے پناہ نہیں دلا سکی اور نہ دلا سکے گی۔ یہ زمانے کی بےمہری کے بارے میں ایک درس ہے، جو انسان کو پکار پکار کر بتاتا ہے: "این دشت خواب گاہِ شہیدان است فرصت شمار وقتِ تماشا را۔" اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان اس دنیا میں خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو ٹھکرا دے یا ان سے فائدہ نہ اٹھائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کا قیدی نہ بنے اور انہیں مقصدِ حیات نہ بنالے اور محض اسی کو اپنی زندگی کا کل سرمایہ نہ سمجھے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ جو کچھ انسان گنوا دے، اُسے "فاتکم" (جو کچھ تم سے فوت ہو جائے) سے تعبیر کیا گیا ہے، لیکن ہاتھ آنے والی نعمتوں کو اپنی طرف نسبت دے کر "بما آتاکم" (جو کچھ تمہیں دیا گیا) کہا گیا ہے۔ کیونکہ فنا ہونا اشیاء کی ذات میں پوشیدہ ہے، جبکہ وجود کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جی ہاں! یہ مصیبتیں ہی ہیں جو غرور کو توڑتی ہیں۔ اسی لیے آیت کے آخر میں کہتا ہے: "خدا کسی متکبر، فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔" (وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ)۔ "مختال"، "خیال" کے مادہ سے لیا گیا ہے اور متکبر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، کیونکہ تکبر فضیلت کے خیال اور دوسروں پر برتری کے تصور سے پیدا ہوتا ہے۔ "فخور" مبالغہ کا صیغہ ہے، اس کا مادہ "فخر" ہے اور اس کا مطلب ہے وہ شخص جو دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ فخر کرے۔ ان حالات کا صرف وہی شخص شکار ہوتا ہے جو ناز و نعمت میں کھو جائے، لیکن مصیبتیں اور آفات ان لوگوں کو مدہوشی سے محفوظ رکھتی ہیں جو بیداری کی حالت میں ہوں اور ہدایت پانے کے قابل ہوں۔ صاحبِ ایمان افراد مذکورہ بالا اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے، جب خدا کی جانب سے کوئی نعمت پاتے ہیں، تو وہ خود کو اس نعمت کا امین سمجھتے ہیں۔ وہ نہ اس کے چلے جانے سے غمگین ہوتے ہیں اور نہ اس کی موجودگی سے مغرور ہوتے ہیں۔ درحقیقت وہ اپنے آپ کو بیت المال کے نگران اور جواب دہ فرد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، جو ایک دن بہت زیادہ مال حاصل کرتے ہیں اور دوسرے دن ہزاروں کی تعداد میں واپس دے دیتے ہیں۔ وہ نہ مال کے ملنے پر خوش ہوتے ہیں اور نہ اس کے چلے جانے پر رنجیدہ ہوتے ہیں۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس آیت کی کتنی عمدہ تفسیر فرماتے ہیں: "الزهد كلّه بين كلمتين من القرآن، قال الله تعالى: (لكيلا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما آتاكم)، ومن لم يأسَ على الماضي ولم يفرح بالآتي فقد أخذ الزهد بطرفيه۔" سارا زہد قرآن کے دو جملوں کے درمیان میں ہے جہاں خداوند متعال فرماتا ہے: یہ اس لیے ہے کہ جو چیز ہاتھ سے جاتی رہے اس کے لیے غمگین نہ ہونا اور جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے اس پر غرور نہ کرنا۔ لہٰذا جو شخص گزشتہ پر تاسف نہ کرے اور جو کچھ اس کے قبضہ میں ہو اس پر مغرور نہ ہو تو اس نے زہد کو دونوں طرف سے قبضہ میں کر رکھا ہے۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، کلمہ ۴۳۹]۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس حقیقت کی طرف توجہ کرنا کہ ناکامیاں انسان کی زندگی کے ساتھ ابتداء سے رکھی گئی ہیں اور سنتِ حکیمانہ کے مطابق مقرر ہوئی ہیں اور دنیا ہمیشہ نشیب و فراز رکھتی ہے۔ انسان کو مصیبتوں کی برداشت کے ضمن میں بہادر اور حوادث کے مقابلہ میں صابر اور ثابت قدم بنا دیتی ہے۔ وہ انسان کو سکونِ قلب عطا کرتا ہے اور بےتابیوں اور رونے دھونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ یہ چیز صرف ان مصائب کے بارے میں ہے جن سے بچنا ممکن نہیں ہے اور نہ وہ مصیبتیں اور ناکامیاں جو خود انسان کے گناہوں اور اس کی سہل انگاری کا نتیجہ ہوتی ہیں، وہ اس بحث سے خارج ہیں۔ زندگی کے نظام اور لوازمات میں ان سے مقابلہ کرنا ایک صحیح راہِ عمل ہے۔ اس بحث کو ہم ایک سرگزشت پر ختم کرتے ہیں جو بعض مفسرین نے بیان کی ہے۔ قتیبہ بن سعید [بحوالہ: "قتیبہ بن سعید" ایک محدث ہے جو مالک ابن انس سے روایت کرتا ہے (منتہی الادب)] کہتا ہے: میں ایک عرب قبیلہ میں گیا جو صحرا میں تھا، وہ صحرا اونٹوں سے بھرا ہوا تھا جو سب مر چکے تھے اور لاتعداد تھے۔ وہاں ایک بوڑھی عورت تھی، میں نے اس سے پوچھا کہ یہ اونٹ کس کے تھے؟ اس نے کہا: اس بوڑھے شخص کے تھے جو ٹیلے پر بیٹھا ہے اور اون بُن رہا ہے۔ میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ یہ سب اونٹ تیرے تھے؟ اس نے کہا کہ میرے نام سے تھے۔ میں نے کہا کہ کیا وجہ ہوئی جو ان کا یہ حال ہوا؟ اس نے جواب میں (بغیر اس کے کہ ان کی موت کا سبب بیان کرے) کہا کہ جس نے دیے تھے اس نے واپس لے لیے۔ میں نے کہا: تجھے کوئی پریشانی نہیں ہے اور تُو نے اس سلسلہ میں کیا کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے یہ دو شعر کہے ہیں: لا والّذی انا عبد من خلائقہ والمرء فی الدھر نصب الرزء والمحن ما سرنی ان ابلی فی مبارکھا وما جری من قضاء اللہ لم یکن! قسم ہے اُس کی جس کی مخلوق میں سے میں بھی ایک بندہ ہوں کہ انسان دنیا میں محنتوں اور مصیبتوں کا ہدف ہے۔ میرے اونٹ اگر اپنے بیٹھنے اور سونے کی جگہ پر ہوتے ہیں اور یہ قضاء الٰہی جو آئی ہے نہ آتی تو میں خوش نہ ہوتا۔ (میں تو صرف اس کی رضا پر راضی ہوں اور جو کچھ اس نے چاہا ہے، اسی کو پسند کرتا ہوں)۔ [بحوالہ: تفسیر ابوالفتوح رازی، جلد ۱۱، صفحہ ۵۳۔ انہی معانی کی مثال تفسیر روح البیان، جلد ۹، صفحہ ۳۶۷ پر نقل کی گئی ہے]۔ آخری زیر بحث آیت اس چیز کی توضیح و تفسیر ہے جو گزشتہ آیت میں آئی ہے۔ وہ حقیقت میں مختار فخور کا تعارف کراتی ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "وہ ایسے افراد ہیں جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کی دعوت دیتے ہیں" (الَّذینَ یَبْخَلُونَ وَ یَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ)۔ [تشریحی نوٹ: (الَّذینَ یَبْخَلُونَ...) بدل ہے کل مختار فخور (تفسیر کشاف در ذیل آیاتِ زیر بحث)۔ ضمناً توجہ کرنی چاہیے کہ بدل اور مبدل منہ میں معرفہ اور نکرہ کا تطابق شرط نہیں ہے]۔ جی ہاں! دنیا کی نعمتوں سے بہت زیادہ دل لگانے کا نتیجہ تکبر و غرور ہے اور تکبر و غرور کا لازمہ بخل کرنا اور دوسروں کو بخل کی دعوت دینا ہے۔ بخل کرتا تو اس بنا پر ہے کہ وہ ان اموال ہی کو اپنا سرمایۂ حیات سمجھتے ہیں جو انہیں حاصل ہیں اور کبھی نہیں چاہتے کہ وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ دوسروں کو بخل کی دعوت دینا اس بنا پر ہے کہ اگر کوئی دوسرا سخاوت کرے تو یہ ذلیل ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ چونکہ بخل کو دوست رکھتے ہیں، لہٰذا ایسی چیز کے مبلغ ہیں جسے دوست رکھتے ہیں۔ اور اس بنا پر کہ کہیں یہ تصور نہ پیدا ہو جائے کہ خدا کا انفاق کے مسئلہ پر اصرار کرنا اور بخل کو ترک کرنے کی تاکید کرنا حتیٰ کہ بندوں سے قرض لینے کی بات کرنا، جیسا کہ گزشتہ آیات میں آیا ہے، اس کی کسی احتیاج اور ضرورت کی وجہ سے ہے، لہٰذا آخر میں فرماتا ہے: "جو شخص اس حکم سے منہ پھیرے تو وہ خدا کو نقصان نہیں پہنچاتا اس لیے کہ خدا بےنیاز اور لائقِ ستائش ہے" (وَ مَنْ یَتَوَلَّ فَانَّ اللَّہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمید)۔ سب اس کے محتاج و نیاز مند ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے کیونکہ تمام چیزوں کے خزانے اور منابع اس کے قبضہ میں ہیں اور چونکہ وہ تمام صفاتِ کمال کا جامع ہے، اس لیے ہر حمد و ستائش کے قابل ہے۔ اگرچہ مذکورہ بالا آیت میں لفظ "بخل" صرف انفاقِ مال میں بخل کرنے سے تعلق رکھتا ہے، پھر بھی اس لفظ کا ایک وسیع مفہوم ہے جو علم میں بخل کرنے اور حقوق وغیرہ کی ادائیگی میں بخل کرنے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

25
57:25
لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلۡنَا مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَنزَلۡنَا ٱلۡحَدِيدَ فِيهِ بَأۡسٞ شَدِيدٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ
ہم نے اپنے انبیاء کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان پر اپنی کتاب (آسمانی)اور میزان نازل فرمائے تاکہ لوگ عدالت کے ساتھ قیام کریں۔ اور ہم نے لوہے کو نازل کیا جس میں شدید قوت ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں تاکہ اللہ جان لے کہ کون شخص اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بغیر اس کے کہ وہ اسے دیکھیں، اللہ قوی اور ناقابل شکست ہے۔

تفسیر: بعثتِ انبیاء کا مقصدِ اعلیٰ

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

چونکہ پروردگار کی رحمت، مغفرت اور بہشت کی طرف سبقت کرنا (جس کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے) رہبرانِ الہٰی کی رہبری کا محتاج ہے، لہٰذا زیر بحث آیت میں، جو قرآن کی زیادہ مفہوم رکھنے والی آیات میں سے ایک ہے، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور انبیاء کے بھیجنے کا مقصد اور ان کے دستورِ عمل کو نہایت باریک بینی کے ساتھ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ۔ "ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے۔" وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ۔ "اور ہم نے ان کے ساتھ آسمانی کتاب اور میزان کو نازل کیا۔" لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔ "تاکہ لوگ عدل و انصاف کے ساتھ قیام کریں۔" بیّنات (واضح دلائل) اس کے معنی وسیع ہیں، جن میں معجزات اور عقلی دلائل دونوں شامل ہیں اور یہ صلاحیت خدا کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ذات میں رکھتے تھے۔ "کتاب" سے مراد وہی کتبِ آسمانی ہیں اور چونکہ سب کی روح اور حقیقت ایک ہے، لہٰذا لفظ "کتاب" مفرد آیا ہے، اگرچہ زمانے کے گزرنے اور انسانوں کے علمی ارتقاء سے اس کا مفہوم زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔ باقی رہی میزان، تو وہ وزن کرنے اور ناپ تول کے آلے اور ذریعہ کے معنی میں ہے۔ اس کا مادی مصداق وہی ترازو ہے، جس کے ذریعے چیزوں کی ناپ تول کی جاتی ہے، لیکن مسلمہ طور پر یہاں اس کا مصداق اس کی معنوی حقیقت ہے، یعنی ایسی چیز جس سے تمام انسانوں کے اعمال کی ناپ تول کی جا سکتی ہے اور وہ کلی طور پر خدائی احکام و قوانین یا اس کا آئین و دستور ہے، جو نیکیوں، برائیوں، قدروں، قیمتوں اور ان کی ضد کو جانچنے کا معیار ہے۔ اس اعتبار سے انبیاء تین چیزیں اپنے ساتھ رکھتے تھے: 1. واضح دلائل۔ 2. کتبِ آسمانی۔ 3. حق و باطل کی ناپ تول کا معیار۔ اور اس میں کوئی مانع نہیں کہ قرآن مجید خود معجزہ بھی ہو، آسمانی کتاب بھی اور احکام و قوانین کو بیان کرنے والا بھی ہو، یعنی ایک ہی چیز میں تینوں پہلو موجود ہوں۔ بہرحال، ان عظیم افراد (انبیاء) کو پورے ساز و سامان کے ساتھ بھیجنے کا مقصد قسط و عدل کا اجرا ہے۔ دراصل، یہ آیت رسولوں کے بھیجنے کے متعدد مقاصد میں سے ایک مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین متعدد مقاصد کے لیے کام کرتے تھے۔ ان کے آنے کا ایک مقصد لوگوں کی تعلیم و تربیت تھا، جیسا کہ سورہ جمعہ کی آیت ۲ میں آیا ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ۔ "وہی ہے جس نے مکہ والوں میں سے ایک فرد کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے اس کی آیات پڑھے، ان کے نفوس کا تزکیہ کرے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔" دوسرا مقصد یہ ہے کہ انسان کی غلامی کی زنجیریں توڑ دے، جیسا کہ سورہ اعراف کی آیت ۱۵۷ میں درج ہے: وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ۔ "پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے کاندھوں پر سے بہت بھاری بوجھ ہٹاتا ہے اور وہ زنجیریں، جو ان کے ہاتھ پاؤں اور گردن میں ہیں، انہیں توڑ دیتا ہے۔" تیسرا مقصد اخلاقی اقدار کی تکمیل ہے، جیسا کہ مشہور حدیث میں ہے: بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ۔ "میں اخلاقی فضائل کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔" [بحوالہ: بحار الانوار ،جلد ١٧صفحہ ۳۷۳ باب حسن الخلق در ذیل حدیث اوّل]۔ آخری ایک مقصد اور ہے اور وہ ہے "اقامہ قسط"، جس کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ اس طرح بعثتِ انبیاء کے مقاصد کو سیاسی، اخلاقی اور اجتماعی تعلیم و تربیت کے عنوان کے ماتحت خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بالکل آشکار ہے کہ زیر بحث آیت میں "تنزیلِ کتب" کے قرینے کے پیش نظر "رسولوں" سے مراد اولوالعزم پیغمبر ہیں، یا وہ پیغمبر جو ان کے مانند ہیں۔ ایک دوسرا نکتہ "لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ" کے جملے میں یہ ہے کہ لوگوں کی ترغیب کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ یہ نہیں فرماتا کہ مقصد یہ تھا کہ انبیاء انسانوں میں قیامِ عدل کی تحریک پیدا کریں، بلکہ فرماتا ہے کہ "لوگ انصاف کو بروئے کار لائیں۔" جی ہاں! اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ خود عدالت و انصاف کو جاری کرنے والے بن جائیں اور اس راہ کو اپنے قدموں سے طے کریں۔ لیکن چونکہ ایک انسانی معاشرے میں بہرحال، جس قدر بھی اخلاق، اعتقاد اور تقویٰ کی سطح بلند ہو، پھر بھی ایسے افراد پیدا ہوں گے جو طغیان و سرکشی کے لیے آمادہ ہوں اور قیامِ عدل کی راہ میں روڑے اٹکائیں، اس لیے اس آیت کو برقرار رکھنے اور دوام بخشنے کے لیے فرماتا ہے: وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ۔ "ہم نے لوہے کو نازل کیا جس میں شدید قوت ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔" جی ہاں! انبیائے خدا کی تین قوتیں اجرائے عدالت کے لیے اپنے اصلی مقصد کو اس وقت حاصل کر سکتی ہیں جب وہ لوہے جیسی طاقت اور شدید قوت سے بہرہ ور ہوں۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہ تصور کیا ہے کہ "أَنْزَلْنَا" کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ لوہا زمین پر دوسرے کُروں سے آیا ہے، لیکن حق یہ ہے کہ "انزال" کی تعبیر اس قسم کے مواقع پر ایسی نعمتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو بلند مقام کی جانب سے پست مقامات کو دی جائیں۔ چونکہ ہر چیز کے خزانے خدا کے پاس ہیں اور وہی ہے جس نے لوہے کو اس کی گوناگوں منفعتوں کے لیے پیدا کیا ہے، اس لیے لفظ "أَنْزَلْنَا" آیا ہے۔ اسی بنا پر ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس جملے کی تفسیر میں فرمایا: "وَإِنْزَالُهُ ذَلِكَ خَلْقُهُ إِيَّاهُ۔" "لوہے کو نازل کرنے سے مراد اس کو پیدا کرنا ہے۔" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۵۰ (حدیث ١٠٠، ١٠١)]۔ جیسا کہ سورہ زمر کی آیت ۶ میں چوپاؤں کے بارے میں ہمیں ملتا ہے: وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ۔ "اور تمہارے لیے چوپاؤں کے آٹھ جوڑے نازل کیے ہیں۔" بعض مفسرین نے "أَنْزَلْنَا" کو "نزل" (بروزنِ شتر) کے مادہ سے ایسی چیز کے معنی میں لیا ہے جسے مہمان کی تواضع کے لیے تیار کرتے ہیں، لیکن ظاہر وہی پہلے معنی ہیں۔ "بَأْسٌ" لغت میں شدتِ قدرت کے معنی میں ہے اور جنگ کو بھی "بأس" کہا جاتا ہے، اسی لیے بعض مفسرین نے اس کا مفہوم جنگی وسائل لیا ہے، عام اس سے کہ وہ دفاعی ہوں یا جنگجویانہ۔ ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "يَعْنِي السِّلَاحَ وَغَيْرَ ذَلِكَ۔" "اس سے مراد اسلحہ وغیرہ ہے۔" ظاہر ہے کہ یہ بیان مصداق ہی کی قبیل میں سے ہے۔ "منافع" سے مراد ہر قسم کا نفع ہے جو انسان لوہے سے حاصل کرتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ لوہے کی اہمیت انسانی زندگی میں اس قدر زیادہ ہے کہ اس کے انکشاف سے تاریخِ بشر میں ایک نیا دَور شروع ہو گیا، جو "لوہے کے دَور" کے نام سے مشہور ہے۔ چونکہ اس کے انکشاف سے انسانی زندگی کا دائرہ پوری زمین پر پھیل گیا، لہٰذا یہ صورتِ حال مذکورہ آیت میں "منافع" کی وسعت کو بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید میں بھی مختلف آیات میں انہی معانی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ایک مقام پر فرماتا ہے: جس وقت ذوالقرنین نے اپنی مشہور دیوار بنانے کا پختہ ارادہ کیا تو کہا: "آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ۔" "میرے لیے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لے آؤ۔" (الکہف: ۹۶) اور جب خدا نے داؤد علیہ السلام پر اپنا کرم کیا تو لوہے کو ان کے لیے نرم کر دیا تاکہ وہ اس سے زرہ بنا سکیں اور جنگ کے خطروں اور دشمنوں کے حملوں میں کمی واقع ہو سکے: وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ۔ "اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا کہ وہ کشادہ زرہیں بنائیں۔" (سبا: ۱۰-۱۱) اس کے بعد ارسالِ رسل، نزولِ کتبِ آسمانی اور لوہے جیسے وسائل کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ۔" "مقصد یہ ہے کہ خدا جان لے کہ کون لوگ اس کی اور اس کے رسولوں کی، غیب میں، مدد کرتے ہیں۔" یہاں خدا کے "علم" سے مراد اس کے علم کی تحقیقِ عینی ہے، یعنی یہ بات واضح ہو جائے کہ کون لوگ خدا اور اس کے مکتبِ فکر کی مدد کے لیے آمادہ ہوتے ہیں اور قیام بالقسط کرتے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں جو اس عظیم ذمہ داری سے روگردانی کرتے ہیں۔ حقیقت میں اس آیت کا مفہوم اس آیت سے مشابہ ہے جو سورہ آل عمران کی آیت ۱۷۹ میں آیا ہے: "مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ۔" "ممکن نہیں تھا کہ خدا مؤمنین کو اس شکل میں جس میں تم ہو، چھوڑ دے مگر یہ کہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔" تو اس طرح انسانوں کی آزمائش اور امتحان کا مسئلہ، مختلف صفوں کو الگ کرنا اور ان کا تصفیہ کرنا، اس دستور العمل کا ایک عظیم مقصد تھا۔ "خدا کی مدد" کرنے کی جو تعبیر ہے، وہ مسلمہ طور پر اس کے دین و آئین اور اس کے نمائندوں کی مدد کرنے اور دینِ حق اور عدل و انصاف کو پھیلانے کے معنی میں ہے، اس لیے کہ خدا کسی کی مدد کا محتاج نہیں، سب اسی کے نیاز مند ہیں۔ ان معانی کو ثابت کرنے کے لیے آیت کو اس جملے پر ختم کرتا ہے: "إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ۔" "بےشک اللہ قوی اور زبردست ہے۔" وہ ایک ہی اشارے سے سارے جہان کو زیر و زبر کر سکتا ہے، اپنے تمام دشمنوں کو ختم کر سکتا ہے اور اپنے اولیاء کو کامیابی عطا کر سکتا ہے، لیکن مقصدِ اصلی، جو انسان کی تربیت اور اس کا ارتقاء ہے، اس طرح حاصل نہیں ہوتا، اس لیے وہ انسان کو دینِ حق کی مدد کے لیے دعوتِ عمل دیتا ہے۔

چند نکات: ١۔ منطق اور زبردستی کی سلطنت

مندرجہ بالا آیت گویا تعلیم و تربیت، انسانی معاشرہ میں عدل و انصاف کی وسعت اور اس کے اجراء کے سلسلہ میں اسلام کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اسلام سب سے پہلے بینات، واضح دلائل، کتب آسمانی اور اس کی قدر و قیمت کے ناپ تول کے معیار اور احکام و قوانین کے بیان سے مدد لیتا ہے۔ اس طرح فکری و معاشرتی انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے اور عقل و منطق سے مدد کا طلبگار ہوتا ہے لیکن اگر یہ چیزیں اثر انداز نہ ہوں اور معاملہ مشکل ہو جائے، یعنی طاقت ور اور سرکش افراد پیدا ہوجائیں، جو نہ بینات کے سامنے جھکتے ہیں اور نہ کتاب و میزان کے لئے کسی قدر و قیمت کے قائل ہیں، تو پھر نوبت حدید "لوہے" تک پہنچ جاتی ہے جس میں باس شدید "شدید سختی" ہے۔ پھر ہتھیاروں سے سرکشوں کے دماغ کو کچلا جاتا ہے تاکہ وہ عدل و انصاف کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ اس مرحلہ پر ایماندار افراد سے مدد لی جاتی ہےاور جو ایک حدیث میں رسول خداﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: بعثت بالسیف بین یدی الساعۃ حتی یعبد اللہ وحدہ لا شریک لہ و جعل رزقی تحت ظل رمحی "میں قیامت کی قیام گاہ پر تلوار کے ساتھ مبعوث ہوا ہوں تاکہ لوگ خدائے یگانہ کی عبادت کریں اور میری روزی میرے نیزے کے سائے میں ہے۔" [تفسیر مراغی، جلد، 27، ص 183۔] یہ اس طرف اشارہ ہے کہ میں مامور ہوں کہ اس سرکش گروہ کے مقابلے میں تلوار اٹھاوں، اپنے کام کی بنیادی ضرورت کے طور پر نہیں، بلکہ اس طرح جس طرح مذکورہ بالا آیت میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: الخیر کلہ فی السیف و تحت السیف و ظل السیف "تمام خوبیاں تلوار میں، تلوار کے نیچے اور تلوار کے سائے میں ہیں۔" [فروع کافی، جلد 5، ص 8، حدیث: 10-11] ایک اور حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ: ان اللہ عزوجل فرض الجھاد و عظمہ و جعلہ نصرہ و ناصرہ واللہ ما صلحت دنیا و لا دین الا بہ "خدا نے جہاد کو واجب کیا ہے اس کو عظمت بخشی ہے اور اسے مددگار قرار دیا ہے۔ خدا کی قسم، دین و دنیا میں کسی چیز کی بھی اصلاح جہاد کے بغیر ممکن نہیں۔" [فروع کافی، جلد 5، ص 8، حدیث: 10-11] اس بات کو ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک اور حدیث پر ختم کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: لایقیم الناس الا بالسیف والسیوف مقالید الجنۃ و النار "لوگوں کو تلوار کے علاوہ کوئی چیز سیدھا نہیں کر سکتی اور تلواریں دوزخ و جنت کی چابیاں ہیں۔" [فروع کافی، جلد 5، ص 6، حدیث: 1] اسی وجہ سے خدا کے مقرر کردہ رہبروں کے ایک ہاتھ میں کتاب آسمانی ہوتی ہے اور دوسرے ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کو پہلے دلیل و منطق سے حق و انصاف کی طرف بلاتے ہیں لیکن جب طاقتور اور شہہ زور افراد منطق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف تلوار استعمال کرتے ہیں۔

٢۔ زندگی کی عُمدہ ضرورتیں لوہے سے تعلق رکھتی ہیں

بعض مفسّرین مندرجہ بالا آیت کا ایک تجزیہ پیش کرتے ہیں جس کا خلاصہ اس طرح ہے کہ انسان کی زندگی کے چار اصول ہیں: 1۔ زراعت 2۔ صنعت 3۔ مسکن 4۔ حکومت وجہ اس کی یہ ہے کہ انسان غذا، لباس اور مکان کا محتاج ہے اور چونکہ وہ ایک اجتماعی و معاشرتی وجود ہے، لہٰذا وہ تنہائی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ بالفاظِ دیگر، اجتماع کے مسائل اجتماع ہی سے حل ہوتے ہیں اور چونکہ ہر اجتماع میں مفادات کا تصادم ضرور ہوتا ہے، اس لیے اس کے سدِّباب کے لیے ایک حکومت کی ضرورت ہوتی ہے جو اس معاشرہ میں انصاف قائم کر سکے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ چاروں اصول حدید یعنی لوہے کے محتاج ہیں۔ اگر یہ وسیلہ نہ ہوتا تو انسان کی زندگی بہت مشکل ہو جاتی۔ پھر یہ کہ چونکہ انسان کو لوہے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، لہٰذا خدا نے اسے بہت زیادہ اور آسمانی ذرائع سے حاصل ہونے والا بنایا ہے۔ (یہ ٹھیک ہے کہ دوسری دھاتیں بھی انسانی زندگی میں دخل رکھتی ہیں، لیکن زیادہ ضرورت لوہے کی ہے۔) یہاں سے "فِیہِ بَأْسٌ شَدِیدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ" کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔

26
57:26
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحٗا وَإِبۡرَٰهِيمَ وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَۖ فَمِنۡهُم مُّهۡتَدٖۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
ہم نے نوح و ابراہیم کو بھیجا اور ان کی ذریت میں نبوت و کتاب قرار دی۔ بعض ان میں سے ہدایت یافتہ ہیں اور ان میں سے بہت سے فاسق ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
57:27
ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَۖ وَجَعَلۡنَا فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةٗ وَرَحۡمَةٗۚ وَرَهۡبَانِيَّةً ٱبۡتَدَعُوهَا مَا كَتَبۡنَٰهَا عَلَيۡهِمۡ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ رِضۡوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَاۖ فَـَٔاتَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنۡهُمۡ أَجۡرَهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
پھر ان کے بعد ہم نے دوسرے رسول بھیجے۔ ان کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث کیا اور انہیں انجیل عطا کی۔ ان لوگوں کے دل میں جنہوں نے ان کی پیروی کی ہم نے رحمت و رافت پہنچائی جبکہ جس رہبانیت کا انہوں نے اختراع کیا تھا وہ ہم نے ان پر عائد نہیں کی تھی۔ اگرچہ خوشنودیٔ خدا ان کا مقصد تھا لیکن اس کے حق کی انہوں نے رعایت نہیں کی۔ اس لئے ہم نے ان میں سے جو ایمان لے آئے ان کو اجر دیا اور ان میں کثرت فاسقوں کی ہے۔

تفسیر: ہم نے یکے بعد دیگرے انبیاء بھیجے

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، قرآن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اپنی تعلیمات کے اصولِ کلی کے ایک سلسلے کو بیان کرنے کے بعد گزشتہ قوموں کے حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ وہ اس بیان کے سلسلے میں شاہد کا کام دیں۔ اِس مقصد کے لیے یہاں بھی گزشتہ مسائل کے بعد ارسالِ رسل، بیّنات و کتاب و میزان کے ذکر اور مغفرت و سعادتِ جاودانی تک پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کے مقابلے میں سبقت کرنے کے تذکرے کے ساتھ گزشتہ اقوام سے شروع کرتا ہے، جو شیخ الانبیاء ہیں اور نمایاں رسولانِ حق میں سے ہیں اور فرماتا ہے: "ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی ذریّت میں نبوت و کتاب آسمانی قرار دی۔": "وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ۔" "لیکن ان لوگوں نے ان عظیم نعمتوں سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ ایک گروہ ان کی تعلیم پر ایمان لایا، اور ان میں سے اکثریت گناہگاروں اور بےایمان لوگوں کی ہے۔": "فَمِنْهُمْ مُهْتَدٍ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ۔" جی ہاں! وہ نبوت جس کے ساتھ شریعت اور آئین بھی تھے، حضرت نوحؑ سے شروع ہوئی اور ان کے بعد حضرت ابراہیمؑ نے، جو دوسرے اولوالعزم پیغمبر ہیں، اس شریعت کو دوام بخشا اور یہی ان کی ذریت میں برقرار رکھی گئی۔ لیکن ہمیشہ اس نورِ ہدایت سے اقلیت ہی نے فائدہ اُٹھایا، جبکہ اکثریت نے راہِ خطا طے کی۔ اس کے بعد اجمالی طور پر دوسرے پیغمبروں کے سلسلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کے آخری نبی، یعنی حضرت عیسیٰؑ کے حوالے سے فرماتا ہے: "ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا۔" جو یکے بعد دیگرے آئے اور انہوں نے لوگوں کے راستے میں ہدایت کے چراغ روشن کیے، یہاں تک کہ عیسیٰؑ تشریف لائے۔ "ہم اس کے بعد عیسیٰ ابنِ مریمؑ کو لے آئے۔" "وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ۔" "قفینا"، "قفا" کے مادّے سے ہے، جس کے معنی پشت کے ہیں۔ قافیہ کو اسی لیے قافیہ کہتے ہیں کہ شعر کے آخری حصے ایک دوسرے کے مشابہ اور عقب میں قرار پاتے ہیں۔ مذکورہ بالا جملے سے مراد یہ ہے کہ انبیاء و مرسلین نے یکساں طریقے پر ہم آہنگ مقاصد کو پیشِ نظر رکھ کر یکے بعد دیگرے عرصۂ وجود میں قدم رکھا ہے اور ایک دوسرے کی تعلیمات کی تائید و تکمیل کی ہے۔ یہ تعبیر درحقیقت توحیدِ نبوت کی طرف ایک بہت ہی خوبصورت اشارہ ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیحؑ کی کتابِ آسمانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "ہم نے اسے انجیل عطا کی"، "وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ" اس کے بعد ان کے پیروکاروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں، جنہوں نے اس کی پیروی کی، رحمت و رافت قرار دی۔" "وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً۔" بعض مفسّرین نے "رحمت" اور "رافت" دونوں کے ایک ہی معنی تجویز کیے ہیں، لیکن مفسّرین کا ایک گروہ ان دونوں کے درمیان فرق کا قائل ہے۔ "رافت" رفعِ مضرات کی محبت کے لیے ہے اور "رحمت" حصولِ منافع کی محبت کے معنوں میں ہے۔ اسی لیے "رافت" کا ذکر عام طور پر "رحمت" سے پہلے ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے زناکاروں کی سزا والی آیت میں فرماتا ہے: "وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ۔" "کہیں ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مقرر کردہ حد کے جاری کرنے کے سلسلے میں رافت و محبت کا شکار ہو جاؤ اور خدا کے حکم کو فراموش کر دو۔" (سورۂ نور: ۲) حضرت عیسیٰؑ کے سچے پیروکاروں کی رحمت و رافت کا مسئلہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کی طرف صرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہو، بلکہ سورۂ مائدہ کی آیت ۸۲ میں بھی ہمیں ملتا ہے: "وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ۔" تو مؤمنین کے قریب ترین اور دوست (غیر مسلموں میں سے) ان لوگوں کو پائے گا جو کہتے ہیں: "ہم نصاریٰ ہیں۔" یہ اس وجہ سے ہے کہ ان میں تارک الدنیا اور صاحبِ علم افراد ہیں اور وہ (حق کے مقابلے میں) تکبر نہیں کرتے۔ اگرچہ یہ آیت زیادہ تر حبشہ کے عیسائیوں اور نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو پناہ دی تھی اور ان سے خلوص و محبت روا رکھا تھا، لیکن کلی طور پر سچے عیسائیوں کی رافت و محبت کی طرف اشارہ ہے۔ اس سے مراد وہ خونخوار بھیڑیے اور آدم نما دیو نہیں ہیں جو ہمارے زمانے میں اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اور ساری دنیا میں غارت گری کرتے ہیں اور لوگوں کو خون میں نہلاتے ہیں۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "ان کے دلوں کو ہم نے رہبانیت کی طرف لگا دیا، جو خود ان کی اختراع ہے اور اسے ہم نے ان کے لیے مقرر نہیں کیا تھا۔ ان کا مقصد تھا کہ خوشنودیٔ خدا حاصل کریں، لیکن انہوں نے حق کی رعایت نہیں کی۔ لہٰذا ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے تھے، اجر عطا کیا، لیکن ان میں سے بہت سے فاسق و گنہگار ہیں۔" (وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ۔) [تشریحی نوٹ: اس آیت کی ترکیب اور معنی میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ بعض نے اسے "رأفت و رحمت" پر عطف سمجھا ہے اور لفظ "حب" کو "رہبانیت" سے پہلے مقدر مانا ہے، کیونکہ رہبانیت کوئی ایسی چیز نہیں جو دل میں ہو، بلکہ اس کی محبت کا تعلق دل سے ہے۔ ایک جماعت نے اسے "فعلِ مضمر" سے منصوب سمجھا ہے، جس کا مفسر "ابتدعوھا" ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہو گی: "ابتدعوا رهبانية ابتدعوها۔" (إِلَّا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ ٱللَّهِ) میں بھی دو نظریے ہیں: 1. پہلا یہ کہ "استثنائے منقطع" ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے: "وَلَٰكِنَّهُمُ ٱبْتَدَعُوهَا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ ٱللَّهِ۔" 2. دوسرا یہ کہ "استثنائے متصل" ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے رہبانیت کی ایک قسم ان پر مقرر کی تھی، جس کا مقصد رضائے الٰہی کو حاصل کرنا تھا، لیکن انہوں نے رہبانیت کی ایک دوسری نوع ایجاد کر لی، جو حق تعالیٰ کی رضا کے خلاف تھی۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں تفسیروں میں پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے]۔ تو اس طرح انہوں نے نہ صرف مسیح کے آئینِ توحید کی رعایت نہیں کی بلکہ اس رہبانیت کے حق کی بھی رعایت نہیں کی، جو خود ان کی اپنی اختراع تھی۔ زہد و رہبانیت کے نام پر انہوں نے مخلوقِ خدا کے راستے میں جال بچھائے اور گرجاؤں کو مختلف قسم کے فسادات کا مرکز بنا دیا۔ انہوں نے دینِ مسیح میں بہت سی خرابیاں پیدا کر دیں۔ اس تفسیر کے مطابق، رہبانیت دینِ مسیح کا جز نہیں تھی، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے ان کے بعد اس کی اختراع کی تھی۔ ابتدا میں اس رہبانیت کا ایک معتدل انداز تھا، لیکن بعد میں اس میں دین سے بالکل انحراف کی کیفیت پیدا ہو گئی اور اس کے نتیجے میں بہت سے مفاسد رونما ہوئے۔ دوسری تفسیر کے مطابق، دینِ مسیح میں ایک طرح کا زہد موجود تھا، لیکن ان کے پیروکاروں نے جو بدعتیں رہبانیت کے نام پر جاری کیں، وہ کچھ اور تھیں، جن کا پروردگارِ عالم نے انہیں کبھی مکلف نہیں بنایا تھا۔ [تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر "استثنا کے منقطع" ہونے کی صورت میں ہے اور دوسری تفسیر "استثنا کے متصل" ہونے کے مطابق ہے۔ غور کیجیے: یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر "رہبانیت" کا عطف "رأفت و رحمت" پر ہو، جیسا کہ ہم نے متن میں منتخب کیا ہے، تو پھر "دلوں میں اس کے جعل کرنے" سے مراد ان کا اس مسئلے کی طرف "میلانِ قلبی" ہو گا۔ جبکہ "مَا كَتَبْنَٰهَا" سے مراد یہ ہے کہ "مسئلۂ رہبانیت" دینِ مسیح میں "حکمِ الٰہی" کی شکل میں نہیں تھا، اگرچہ اس سے لگاؤ اور اس کی محبت خدا نے ہی ان کے دل میں ڈالی تھی۔ پس اس بنا پر "ابتدعوها" کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا]۔ پہلی تفسیر نہ صرف مناسب ہی نہیں بلکہ بعض حیثیتوں کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہے۔ بہرکیف، مندرجہ بالا آیات سے ظاہری طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رہبانیت دینِ مسیح میں موجود نہیں تھی، بلکہ ان کے پیروکاروں نے بعد میں اسے اپنی طرف سے دینِ مسیح میں شامل کیا۔ ابتدا میں ایک قسم کے زہد کی طرف جھکاؤ اچھا لگتا تھا، جیسے کہ بہت سے مراسم اور سننِ حسنہ جو ابھی تک لوگوں میں رائج ہیں اور کوئی شخص بھی انہیں شرعی احکام کے ماتحت نہیں سمجھتا۔ لیکن بعد میں یہ سنت اور یہ رسم دینِ حق سے انحراف کی شکل اختیار کر گئی، حتیٰ کہ آلودۂ گناہ ہو گئی: (فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا) "انہوں نے اس کے حق کی رعایت نہیں کی۔" اس جملہ کی قرآنی تعبیر اس امر کی دلیل ہے کہ اگر اس کے حق کو ادا کیا جاتا تو وہ ایک اچھی سنت ہوتی۔ سورہ مائدہ کی آیت ۸۲ کی تعبیر جو رہبانیت اختیار کرنے والوں اور سچے عیسائی علما کو اچھی نظر سے دیکھتی ہے، وہ اس مقصد کی شاہد ہے غور کیجئیے۔ اور اگر "رہبانیت"، "رأفت و رحمت" پر عطف تو پھر اس مدرا پر ایک اور شاہد پیدا ہو جائے گا، کیونکہ وہ پھر رأفت و رحمت کا ہم ردیف ہو گا، جسے خدا نے ایک پسندیدہ عنوان کے تحت ان کے دلوں میں ڈال دیا تھا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر کوئی سنتِ حسنہ لوگوں میں رائج ہو جائے (مثلاً زہد کا دستور) جس کے اصولِ کلی دین حق میں موجود ہوں اور لوگ اس سنت کو خصوصیت کے ساتھ دین سے منسوب بھی نہ کریں بلکہ اسے اصول کلی کا ایک مصداق سمجھیں اور اس کا حق ادا کریں، تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بدبختی وہاں سے شروع ہوتی ہے جب افراط و تفریط کی صورتِ حال پیدا ہو جائے اور سنتِ حسنہ، سنتِ سیئہ میں تبدیل کر دے۔ جیسا کہ موجودہ زمانے میں ہمارے ہاں مراسمِ سوگواری اور دین کے پیشواؤں کا یومِ ولادت و وفات منانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح شہداء اور مرحوم عزیزوں کی یاد منانا، ان کے یومِ ولادت و شہادت منانا، یا دسواں اور چالیسواں کرنا— یہ سب اسلام کے کلی اصولوں کے مطابق ہے اور "تعظیمِ شعائر" کے ذیل میں آتا ہے۔ دین کے رہبروں اور شہدائے اسلام کی یاد منانے کا جو معمول ہے، وہ اسی اصول سے ماخوذ اور مربوط ہے۔ شہدائے کربلا کی عزاداری اور اس قسم کے ایامِ مصائب کی بنیاد اسلام کے اصولوں کی روحِ کلی کے مطابق ہے۔ ان مراسم کی جزئیات و تفاصیل کسی مخصوص شرعی حکم کے ماتحت نہیں، بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کی عمومی روح کے مطابق انجام پاتی ہیں۔ چنانچہ جب تک ان مراسم میں حدودِ شریعت سے تجاوز نہیں ہوتا اور گناہ و خرافات سے آلودہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا، تب تک یہ "ابتغاءِ رضوان اللہ" کa مصداق ہیں اور "سنتِ حسنہ" کہلانے جانے کی مستحق ہیں۔ اگر یہ شکل نہ ہو، تو پھر معاملہ مختلف ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ "رہبانیت"، "رہبہ" کے مادہ سے لیا گیا ہے، جس کے معنی "خوفِ خدا" کے ہیں۔ شروع میں یہ رہبانیت دنیا سے بےاعتنائی کا مصداق تھی، لیکن بعد میں اس میں بہت سی تحریفیں داخل ہو گئیں۔ اگر اب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اس رہبانیت کی شدت سے مخالف ہے، تو یہ اس کی اس حد سے تجاوز کی ہوئی آخری صورت کی بنا پر ہے۔ چنانچہ، نکات کی بحث میں ہم ان شاء اللہ اس کی مزید وضاحت کریں گے۔

چند انکات: ١۔ اِسلام اور رہبانیت

جیسا کہ ہم نے کہا ہے، رہبانیت "رہبہ" کے مادّہ سے ہے، جس کے معنی خوف کے ہیں اور یہاں مُراد خوفِ خدا ہے۔ "مفردات" میں "راغب" کے بقول، اس سے ایسا خوف مُراد ہے جس میں پرہیز و اضطراب کی آمیزش ہو اور "ترہّب" یعنی "تعبد" اور عبادت کے معنی میں ہے لہٰذا، رہبانیت کے معنی شدید تعبد ہیں۔ مذکورہ بالا آیات کی ہم جس طرح بھی تفسیر کریں، اس سے ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ عیسائیوں میں ایک طرح کی رہبانیت موجود تھی، اگرچہ دینِ مسیح میں اس طرح کا لازم حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن مسیح کے پیروکاروں نے اس رہبانیت کے سلسلے میں اس کی حدود سے تجاوز کیا اور وہ اسے دین سے برگشتگی کی طرف لے گئے۔ اس وجہ سے اسلام نے اس کی شدت سے مذمت کی اور یہ مشہور حدیث "لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ" (اسلام میں رہبانیت نہیں ہے) بہت سے منابعِ اسلامی میں نظر آتی ہے۔ [بحوالہ: مجمع البحرین میں مادّہ "رھب" میں یہ حدیث آئی ہے اور نھایہ ابنِ اثیر میں بھی بیان ہوئی ہے]۔ عیسائیوں کی رہبانیت کے سلسلے میں دوسری قبیح بدعتوں کے علاوہ ایک بدعت یہ تھی کہ تارک الدنیا مردوں اور عورتوں نے ازدواج کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اور دوسری چیز یہ تھی کہ اجتماعی گوشہ نشینی کو جائز سمجھ لیا گیا تھا۔ اس طرح معاشرتی ذمّہ داریوں کو ٹھوکر مار کر عبادت کرنے کے ارادے سے دور دراز کے گرجاؤں کو منتخب کرنا اور معاشرتی ماحول سے دور زندگی بسر کرنا دین کا جزو سمجھا جانے لگا تھا۔ اس طرح گرجاؤں اور رہبانیت کے قائل لوگوں کی زندگی کے مراکز سے بہت سے مفاسد وابستہ ہو گئے تھے، جن کے ایک گوشے کے بارے میں ان شاء اللہ اس مبحث کی تکمیل کے وقت ہم ایک بحث پیش کریں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ تارک الدنیا عورتوں اور مردوں (راہبین و راہبات) نے بہت سی مثبت خدمات انجام دی ہیں، مثال کے طور پر ناقابلِ علاج بیماریوں کی تیمارداری کا فرض انجام دینا (جذام اور کوڑھ کے مریض) اور دور دراز علاقوں میں جا کر وحشی اقوام میں تبلیغ کا فرض انجام دینا اور اسی طرح کے دیگر مطالعاتی اور تحقیقی پروگراموں کو بروئے کار لانا، لیکن یہ تمام امور ان پروگراموں سے متعلق مفاسد کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور مفاسد کئی گنا زیادہ ہیں۔ اصولی طور پر انسان ایک ایسا موجود ہے جو معاشرتی طور پر زندگی گزارنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اُس کی مادی و معنوی ترقی بھی اسی میں مضمر ہے کہ وہ تمدنی اور اجتماعی زندگی بسر کرے۔ اسی لیے کسی آسمانی مذہب نے انسان کے بارے میں اس اجتماعی زندگی کے خلاف کوئی راہِ عمل تجویز نہیں کی بلکہ اس کی بنیادوں کو مستحکم کیا ہے۔ خدا نے انسان میں اس کی حفاظتِ نسل کے لیے "غریزۂ جنسی" پیدا کیا ہے، لہٰذا ہر وہ چیز جو اِس حفاظتِ نسل کو مطلق طور پر مخفی کرے، وہ یقیناً باطل ہے۔ اسلامی زُہد ایک مختلف چیز ہے۔ اس کے معنی ہیں سادہ طور پر زندگی بسر کرنا، عیش و عشرت کو ترک کرنا اور مال و مقام کے چُنگل میں نہ پھنسنا۔ اس زُہد کا عیسائیت کی رہبانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رہبانیت کے معنی ہیں معاشرتی اور اجتماعی زندگی سے فرار اختیار کرنا، جب کہ زُہد کے معنی ہیں اجتماعی زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا۔ مشہور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ عثمان بن مظعون کا بیٹا مر گیا تو وہ بہت غمگین ہوئے، یہاں تک کہ اُنہوں نے گھر کو مسجد بنا لیا اور عبادت میں مشغول ہو گئے اور باقی تمام کام چھوڑ دیے۔ یہ خبر رسولِ خدا ﷺ تک پہنچی تو آپ نے عثمان کو بلایا اور فرمایا: "یَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَىٰ لَمْ يَكْتُبْ عَلَيْنَا الرَّهْبَانِيَّةَ، إِنَّمَا رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔" (اے عثمان! خدا نے میری اُمّت کے لیے رہبانیت کو تجویز نہیں کیا ہے۔ میری اُمّت کی رہبانیت تو یہ ہے کہ راہِ خدا میں جہاد کیا جائے)۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۷۰، صفحہ ۱۱۴باب نہی از رہبانیت، حدیث ۱]۔ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تو چاہتا ہے کہ مادی زندگی سے رُوگردانی ہو جائے، تو اس عمل کو منفی شکل میں انجام نہ دے اور اجتماعی گوشہ نشینی کی راہ اختیار نہ کر، بلکہ اسے ایک مثبت طریقۂ عمل میں تلاش کر اور وہ مثبت طریقۂ عمل راہِ خدا میں جہاد ہے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ ان کے لیے ایک تفصیلی بحث نمازِ باجماعت کی فضیلت کے مسئلے میں بیان کرتے ہیں، جو گوشہ نشینی اور رہبانیت کی نفی کی تائید میں ہے۔ ایک اور حدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ کے بھائی علی ابن جعفر علیہ السلام نے آپ سے سوال کیا: "الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ هَلْ يَصْلُحُ أَنْ يَسِيحَ فِي الْأَرْضِ أَوْ يَتَرَهَّبَ فِي بَيْتٍ لَا يَخْرُجُ مِنْهُ؟" (کیا مردِ مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ سیاحت کرے یا رہبانیت اختیار کرے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور باہر نہ نکلے؟) تو امام نے فرمایا: "لَا" (نہیں)۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۷۰، صفحہ ۱۱۹، حدیث ۱۰]۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ وہ سیاحت جس کی اس روایت میں ممانعت ہوئی ہے، رہبانیت ہی کی قسم کی ایک چیز ہے، یعنی وہ ایک طرح کی سیر کرنے والی رہبانیت ہے اور وہ یوں ہے کہ بعض افراد بغیر اس کے کہ ان کا کوئی گھربار یا کاروبار ہو، جہاں گردی کی شکل میں سامانِ سفر کے بغیر ہمیشہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف جاتے تھے اور لوگوں سے مدد حاصل کر کے اور گدائی کر کے زندگی بسر کرتے تھے اور اسے ایک قسم کا زُہد اور ترکِ دنیا خیال کرتے تھے، لیکن اسلام اس کی ہی نہیں، بلکہ مقیم رہبانیت کی بھی نفی کرتا ہے۔ جی ہاں! تعلیماتِ اسلامی کی نظر میں اہم یہ ہے کہ انسان اجتماعی زندگی اختیار کرتے ہوئے زُہد اختیار کرے، نہ یہ کہ معاشرتی زندگی کو خیر باد کہہ کر زاہد بنے۔

٢۔ رہبانیت کا تاریخی سرچشمہ

مسیحیت کی موجودہ تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ رہبانیت جو موجودہ شکل میں ہے، یہ مسیحیت کے قرونِ اولیٰ میں موجود نہیں تھی۔ وہ اس کی ابتدا تیسری صدی میلادی کے بعد، امپراطورِ روم ریسوس کے ظہور اور مسیح کے پیروکاروں سے اس کی شدید لڑائی کے بعد سے بتاتی ہیں۔ عیسائیوں نے اس امپراطور (خونخوار) سے شکست کھانے کے بعد پہاڑوں اور بیابانوں میں پناہ لی تھی۔ [بحوالہ: دائرة المعارف قرن بیستم، مادہ "رھب"]۔ اسلامی روایات میں بھی یہی معانی دقیق شکل میں پیغمبر گرامی ﷺ سے منقول ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے ابنِ مسعود سے فرمایا: "تم جانتے ہو کہ رہبانیت کب پیدا ہوئی"؟ انہوں نے عرض کیا: "خدا اور اس کا پیغمبر بہتر جانتے ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جباروں کی ایک جماعت کا ظہور ہوا اور مؤمنین نے تین مرتبہ ان سے جنگ کی اور شکست کھائی، لہٰذا بیابانوں میں جا چھپے اور موعودِ عیسیٰ علیہ السلام (محمد ﷺ) کے ظہور کے انتظار میں پہاڑوں کے غاروں میں عبادت میں مشغول ہو گئے۔ ان میں سے بعض اپنے دین پر باقی رہے اور بعض نے کفر کی راہ اختیار کی۔" اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: "جانتے ہو میری اُمّت کی رہبانیت کیا ہے"؟ عرض کیا: "خدا اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "الْهِجْرَةُ، وَالْجِهَادُ، وَالصَّلَاةُ، وَالصَّوْمُ، وَالْحَجُّ، وَالْعُمْرَةُ۔" (میری اُمّت کی رہبانیت، ہجرت، جہاد، نماز، روزہ، حج اور عمرہ ہے)۔ [بحوالہ: تفسیر "مجمع البیان" جلد ۹، صفحہ ۲۴۳ (تھوڑے سے خلاصہ کے ساتھ)، تفسیر "در المنثور" میں اس کے مقابل ایک اور حدیث نقل ہوئی ہے (جلد ۶، صفحہ ۱۷۷)]۔ مشہور عیسائی مؤرخ "ویل ڈورانٹ" اپنی مشہور تاریخ کی جلد ۱۳ میں ایک تفصیلی بحث راہبوں کے بارے میں درج کرتا ہے۔ اس کا نظریہ ہے کہ راہبوں کے ساتھ راہبوں کا میل جول چوتھی صدی میلادی سے شروع ہوا اور رہبانیت کا معاملہ روز بروز بڑھتا گیا، یہاں تک کہ دسویں صدی میلادی میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ [بحوالہ: تاریخ "ویل ڈورانٹ" جلد ۱۳، صفحہ ۲۴۳]۔ اس میں شک نہیں کہ اس اجتماعی طور پر ظہور میں آنے والے معاملے کے، دوسرے معاملات کی طرح، تاریخی اسباب کے علاوہ نفسیاتی اسباب بھی ہیں۔ منجملہ ان تمام کے، اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ اصولی طور پر متفرق افراد و اقوام کا شکستوں اور ناکامیوں کے مقابلے میں جو ردِّ عمل ہے، وہ مختلف ہوتا ہے۔ بعض گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں اور باطن کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو اجتماعی مصروفیتوں سے بےتعلق کر لیتے ہیں، جب کہ دوسرا گروہ شکست سے استقامت کا درس لیتا ہے اور اپنے اندر زیادہ صلابت اور ثابت قدمی پیدا کر لیتا ہے۔ پہلا گروہ رہبانیت یا اسی قسم کی کسی صورتِ حال کو اختیار کر لیتا ہے اور دوسرا گروہ زیادہ اجتماعی ردِّ عمل پیش کرتا ہے۔

٣۔ رہبانیت سے پید ا ہونے والے اجتماعی اور اخلاقی مفاسد

قوانینِ خلقت سے انحراف ہمیشہ اپنے پیچھے منفی ردِّ عمل رکھتا ہے۔ اس وجہ سے کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جس وقت انسان اجتماعی زندگی سے، جو اس کی فطرت میں رچی بسی ہے، دور ہو جائے تو شدید ردِّ عمل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے رہبانیت، جو انسان کے اصولِ فطرت اور طبیعت و مزاج کے برخلاف ہے، زیادہ مفاسد کا باعث بنتی ہے۔ 1۔ رہبانیت انسان کے مدنی الطبع ہونے کی روح کے خلاف جنگ کرتی ہے اور انسانی معاشروں کو انحطاط اور پس ماندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ 2۔ رہبانیت نہ صرف یہ کہ کمالِ نفس، تہذیبِ روح اور تہذیبِ اخلاق کا سبب نہیں ہے، بلکہ اخلاقی تنزّل، سستی و کاہلی، بدبینی، غرور و تکبر، عُجب اور نامعقول احساسِ برتری کا باعث بنتی ہے۔ فرض کیجئے کہ انسان حالتِ گوشہ نشینی میں اخلاقی فضیلت تک پہنچ بھی جائے تو یہ کیفیت فضیلت شمار نہیں ہو گی، فضیلت تو یہ ہے کہ انسان اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے اندر رہ کر خود کو اخلاقی گراوٹوں سے بچا سکے۔ 3۔ ترکِ ازدواج، جو رہبانیت کے اصولوں میں سے ہے، نہ صرف یہ کہ کسی کمال کو پیدا نہیں کرتا، بلکہ کئی نفسیاتی اُلجھنوں اور بیماریوں کی تخلیق کا سبب بنتا ہے۔ دائرة المعارف قرن بیستم میں ہم پڑھتے ہیں کہ بعض راہب صنفِ نازک کی طرف توجہ کو اس قدر شیطانی عمل سمجھتے تھے کہ وہ اس بات پر تیار نہیں ہوتے تھے کہ کسی مادہ جانور کو اپنے گھر لے جائیں، اس خوف سے کہ کہیں روحِ شیطانی اس کی روحانیت پر ضرب نہ لگا دے۔ اس کے باوجود تاریخ گرجاؤں کے بارے میں اپنے اندر بہت زیادہ قباحتیں لیے ہوئے ہے، یہاں تک کہ بقول "ویل ڈورانٹ"، اینوسان کے تیسرے پوپ نے ایک گرجے کی فاحشہ خانے کے عنوان سے تعریف کی ہے۔ [بحوالہ: ویل ڈورانٹ، جلد ۱۳، صفحہ ۲۴۳]۔ ان میں سے بعض گرجے شکم پرستوں، دنیا طلبوں اور اچھا وقت گزارنے والوں کے اجتماع کا مرکز بن چکے تھے، یہاں تک کہ بہترین شراب گرجوں ہی میں ملتی تھی۔ البتہ تاریخ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی قطعاً نہیں کی، لیکن یہ چیز ہرگز اس امر سے آپ کی مخالفت کی بنا پر نہیں تھی، بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی مختصر سی عمر اور دنیا کے مختلف علاقوں کی طرف ان کے مسلسل سفر نے ان کو اس امر کی مہلت نہ دی۔ رہبانیت کے بارے میں بحث کرنا ایک مستقل کتاب چاہتا ہے۔ اگر ہم اس کی تفصیلات کی طرف جائیں تو بحثِ تفسیری سے خارج ہو جائیں گے۔ اس بحث کو حضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں، آپ علیہ السلام نے آیہ ذیل کی تفسیر میں فرمایا: قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا۔ "کہہ دے، کیا میں تمہیں خبر دوں کہ لوگوں میں سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ وہ ہیں جن کی کوشش دُنیاوی زندگی میں گُم ہو گئی، لیکن اس کے باوجود وہ گمان کرتے ہیں کہ اچھا کام انجام دے رہے ہیں۔" [بحوالہ: سورہ کہف، آیات ۱۰۳-۱۰۴]۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس کی تفسیر میں فرمایا: "ھم الرُّھبان الّذین حَبَسُوا أنفسَھُم فی السَّواری۔" "اس کا ایک واضح مصداق وہ راہب ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو پہاڑوں اور بیابانوں کی اونچی جگہوں میں قید کر رکھا ہے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ اچھا کام انجام دے رہے ہیں۔" [بحوالہ: کنز العمال، جلد ۲، حدیث ۴۴۹۶]۔

٤۔ انجیل یا اناجیل

انجیل اصل میں ایک یونانی لفظ ہے، اس کے معنی ہیں بشارت یا جدید تعلیم اور یہ اس کتاب کا نام ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ یہ لفظ بارہ مرتبہ قرآن مجید میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ مفرد کی شکل میں ہے۔ لیکن قابلِ توجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو چیز انجیل کے نام سے مشہور ہے، وہ بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے جنہیں اناجیل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان میں سے مشہور چار اناجیل ہیں: 1. لوقا 2. مرقس 3. متی 4. یوحنا عیسائیوں کا نظریہ ہے کہ یہ چار اناجیل اصحابِ مسیح یا ان اصحاب کے شاگردوں میں سے چار افراد کے ذریعے تحریر کی گئی ہیں۔ ان کی تالیف کی تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کے ۳۸ سال بعد سے لے کر تقریباً ایک صدی بعد تک پہنچتی ہے۔ اس بنا پر مسیح علیہ السلام کی اصل کتاب ایک آسمانی کتاب کی حیثیت سے مستقل طور پر پردۂ خفا میں چلی گئی ہے۔ صرف اس کے بعض حصے، جو ان چاروں افراد کے حافظے میں رہ گئے تھے، ان کے اپنے افکار کی آمیزش کے ساتھ ان چاروں اناجیل میں تحریر ہوئے ہیں۔ اس عنوان پر زیادہ تفصیلی بحث ہم سورہ آل عمران کی آیت ۳ میں پیش کر چکے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ۲، صفحہ ۲۴۱ سے آگے]۔

28
57:28
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَءَامِنُواْ بِرَسُولِهِۦ يُؤۡتِكُمۡ كِفۡلَيۡنِ مِن رَّحۡمَتِهِۦ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ نُورٗا تَمۡشُونَ بِهِۦ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تاکہ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں بخش دے اور تمہارے لئے ایسا نور قرار دے جس کے سہارے زندگی کی راہ تلاش کرو ، (اللہ) تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ غفورورحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
57:29
لِّئَلَّا يَعۡلَمَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ أَلَّا يَقۡدِرُونَ عَلَىٰ شَيۡءٖ مِّن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ فضل خدا میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے اور فضل (رحمت) سب کا سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور اللہ صاحب فضل عظیم ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

بہت سے مفسرین نے مذکورہ بالا آیت کے لیے ایک شانِ نزول نقل کی ہے، جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر ابنِ ابی طالب کو ستر افراد کے ساتھ نجاشی (حبشہ) کی طرف بھیجا۔ حضرت جعفر نجاشی کے پاس گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی، وہ دعوت قبول کر کے ایمان لے آیا۔ حبشہ سے واپسی کے وقت اس ملک کے چالیس افراد، جو ایمان لا چکے تھے، حضرت جعفر سے کہنے لگے کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوں اور اپنا اسلام اس کے سامنے پیش کریں۔ پھر وہ حضرت جعفر کے ساتھ مدینہ آئے۔ جب انہوں نے مسلمانوں کا فقر و فاقہ دیکھا تو رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کہ: "ہم اپنے دیار میں بہت زیادہ مال و متاع رکھتے ہیں، اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنے ملک کی طرف پلٹ جائیں اور اپنا مال اپنے ساتھ لے آئیں اور مسلمانوں میں تقسیم کر دیں۔" پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی، وہ گئے اور اپنا مال لے آئے اور اسے اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ تب اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور ان کی توصیف کی: الَّذینَ آتَیْناھُمُ الْکِتابَ مِنْ قَبْلِہِ ھُمْ بِہِ یُؤْمِنُونَ...... (سورہ قصص ۵۲ تا ۵۴) اہلِ کتاب میں سے وہ لوگ جو ایمان نہیں لائے تھے، جب انہوں نے یہ جملہ سنا جو مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں آیا ہے: "أُولٰئِکَ یُؤْتَوْنَ أَجْرَھُمْ مَرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوا۔" (وہ اپنا اجر اپنے صبر و استقامت کی بنا پر دو مرتبہ حاصل کریں گے)۔ تو وہ مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا: "اے مسلمانو! جو شخص تمہاری طرف آئے، اس کے لیے صرف ایک اجر ہے۔ اس بنا پر تمہارے اپنے اقرار کے مطابق تم ہم پر فضیلت نہیں رکھتے۔" یہ وہ منزل تھی کہ جس کے پیش نظر اوپر والی آیات نازل ہوئیں: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ اور اعلان کیا کہ مسلمانوں کو بھی دگنا اجر ملے گا۔ علاوہ خدائی نور اور مغفرت کے اور پھر مزید کہا کہ "اہلِ کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل و رحمت سے کوئی چیز اپنے ہاتھ میں لینے کی طاقت نہیں رکھتے۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۴۴: یہی معنی تفسیر ابو الفتوح رازی اور روح المعانی میں اختلافات کے ساتھ زیر بحث آیات کے ذیل میں نقل ہوئے ہیں]۔ چونکہ گزشتہ آیات میں گفتگو عیسائیوں اور اہلِ کتاب کے بارے میں تھی، زیر بحث آیات اسی کی تکمیل ہیں جو گزشتہ آیات میں آیا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَآمِنُوا بِرَسُولِہِ۔" "اے ایمان لانے والو خدا کے بارے میں تقویٰ اختیار کرو اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔" اس آیت کا مخاطب کون ہے؟ اس کے بارے میں مفسّرین کے دو قول ہیں: 1. پہلا یہ کہ مخاطب مومنین ہیں، البتہ ان سے کہا جا رہا ہے کہ ظاہری ایمان کافی نہیں ہے، بلکہ وہ ایمان درکار ہے جو روح کی گہرائی تک ہو، جس کے نتیجے میں ہونے والے اعمال تقویٰ سے متصف ہوں، تاکہ وہ اجر حاصل ہو سکیں جو آیت میں بیان ہوئے ہیں۔ 2. دوسرا یہ کہ مخاطب اہلِ کتاب میں سے مومنین ہیں، یعنی اے وہ لوگو جو گزشتہ پیغمبروں اور کتابوں پر ایمان لائے ہو، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لے آؤ، تاکہ انواع و اقسام کے اجر حاصل کر سکو۔ جو چیز دوسری تفسیر کی دلیل بن سکتی ہے وہ کئی گنا اجر ہے جس کا ذکر آیت کے ذیل میں آیا ہے: • ایک اجر گزشتہ انبیاء پر ایمان لانے کا۔ • دوسرا اجر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا۔ لیکن یہ تفسیر، علاوہ اس کے کہ بعد والی آیت کے ساتھ سازگار نہیں ہے، آیت کی شانِ نزول اور "یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا" کے اطلاق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس بنا پر قبول کر لینا چاہیے کہ مخاطب سب مومنین ہیں جنہوں نے بظاہر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے دی ہوئی دعوتِ اسلام کو قبول کر لیا ہے، لیکن وہ ایمانِ راسخ، جو ان کی روح کی گہرائیوں کو روشن کرے اور ان کے اعمال سے ظاہر ہو، ابھی ان میں پیدا نہیں ہوا ہے۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں تین ایسی نعمتوں کی طرف جو مضبوط ایمان اور تقویٰ کے سائے میں حاصل ہوتی ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اگر ایسا کرو تو خدا تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے دے گا۔ اور تمہیں روشنی بخشے گا، جس کے سہارے زندگی کی راہ تلاش کرو۔ وہ تمہیں بخش دے گا اور خدا غفور و رحیم ہے۔" (یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَحْمَتِہِ وَیَجْعَلْ لَکُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِہِ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔) "کِفْل" (بروزنِ "طفل") اس حصے کے معنی میں ہے جو انسان کی حاجت کو پورا کرے اور ضامن کو "کفیل" اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ مدِّ مقابل کی کفالت کرتے ہوئے اس کا حصہ دیتا ہے۔ [تشریحی نوٹ مع حوالہ: بعض کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ کفل (بروزن وکل) سے لیا گیا ہے اور وہ اس چیز کو کہتے ہیں جو چوپاؤں کی کفل (پیٹھ کا آخری حصہ) پر رکھی جائے تاکہ وہ شخص جو سواری پر سوار ہو، وہ گرنے نہ پائے۔ اس لیے ہر وہ چیز جو نگہداشت کا سبب ہو، اُسے کفل کہا جاتا ہے۔ اور اگر ضامن کو کفیل کہتے ہیں تو وہ بھی اسی بنا پر ہے۔ (ابو الفتوح رازی در زیل آیات زیر بحث)۔ لیکن راغب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے دو معنی ہیں اور دوسرے معنی بےقدر و قیمت چیز کے ہیں، چوپاؤں کی کفل کے مشابہ (پیٹھ) کیونکہ جو شخص وہاں سوار ہو، اُسے گرنے کا خوف نہیں ہوتا۔ (غور کیجئے)، یہ روایات نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۵۲ اور ۲۵۳ پر نقل ہوئی ہیں]۔ بہرحال، ان دو حصوں سے مراد وہی ہے جو سورہ بقرہ کی آیت ۲۰۱ میں آیا ہے: (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً)۔ "خداوندا! دنیا میں بھی ہم کو نیکی دے اور آخرت میں بھی نیکی عطا فرما۔" یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ ان دونوں حصوں میں سے ایک حصہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی وجہ سے ہے اور دوسرا حصہ گزشتہ انبیاء اور ان کی آسمانی کتابوں پر ایمان لانے اور سب کو محترم شمار کرنے کی بنا پر ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد پے در پے اور دائمی اجر ہیں، مذکورہ بالا معانی اور یہ معانی دونوں ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ ان کے دوسرے اجر (وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ) سے مراد یہ ہے کہ مومنین ظلماتِ محشر کو چیر کر نکل جائیں گے اور سعادتِ ابدی، یعنی بہشت کی طرف بڑھیں گے، جیسا کہ اس سورہ کی آیت ۱۲ میں آیا ہے: (يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ)۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین اسے نورِ قرآن کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو دنیا میں مومنین کے پاس آیا ہے، جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیت ۱۵ میں ہم پڑھتے ہیں: (قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ)۔ "خدا کی طرف سے تمہارے پاس نور آیا ہے اور کتابِ مبین آئی ہے۔" لیکن ظاہر ہے کہ آیت کا مفہوم مطلق اور وسیع ہے جو دنیا کے ساتھ بھی اختصاص رکھتا ہے اور آخرت کے ساتھ بھی۔ دوسرے معنی میں، ایمان اور تقویٰ سبب بنتے ہیں کہ مومنین کے دلوں پر سے حجاب ہٹ جائیں اور وہ حقائق کا چہرہ ویسا ہی دیکھیں جیسا کہ وہ ہے اور اس کے سائے میں انہیں وہ مخصوص نگاہ نصیب ہو، جن سے بےایمان افراد محروم ہیں۔ یہ جو روایاتِ اہلِ بیت میں آیا ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں "نور" سے مراد وہ امامِ معصوم ہے جس کی لوگ اقتداء کرتے ہیں، تو یہ حقیقت میں ایک واضح مصداق کا بیان ہے۔ آخر میں، مومنین کا تیسرا اجر وہی گناہوں کا بخشنا ہے، کیونکہ اس کے بغیر انسان کے لیے کوئی نعمت خوشگوار ثابت نہیں ہو سکتی۔ پہلے اسے عذابِ الٰہی سے محفوظ ہونا چاہیے، اس کے بعد وہ ایمان اور تقویٰ کے نور سے اپنی راہ روشن کرے اور آخر میں وہ خدا کی کئی گنا رحمتوں سے فیض یاب ہو۔ بعد والی آیت، جو اس سورۃ کی آخری آیت ہے، اس میں اس دلیل کا بیان ہے جو گزشتہ آیات میں آئی ہے۔ فرماتا ہے: "یہ کئی گنا خدائی نعمتیں، نورانیت اور مغفرت کے علاوہ اس وجہ سے ہیں تاکہ اہلِ کتاب جان لیں کہ وہ فضلِ خدا میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل و رحمت سب اسی کے ہاتھ میں ہے اور جسے چاہتا ہے، بخشتا ہے اور خدا عظیم فضل و رحمت کا مالک ہے۔" (لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّن فَضْلِ اللَّهِ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ)۔ [تشریحی نوٹ: یہ کہ لا (لِئَلاَّ یَعْلَمَ أَہْلُ الْکِتَابِ) میں زائدہ ہے یا اصلی، مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سے لا کو زائدہ اور تاکید کے لیے سمجھتے ہیں (جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ہے)۔ اور اگر لا کو اصلی سمجھا جائے تو پھر آیت کے معانی گوناگوں بیان ہوئے ہیں، ان میں سے ایک مراد یہ ہے کہ اہلِ کتاب جان لیں کہ اگر وہ بھی اسلام و ایمان کو قبول کر لیں تو اپنے لیے فضلِ خدا کو فراہم کر سکتے ہیں۔ (دوسرے لفظوں میں یہاں نفی در نفی اثبات کے معنوں میں ہے)۔ یا یہ کہ ہم نے یہ سب مواہب مسلمانوں کو دیے ہیں تاکہ اہلِ کتاب یہ تصور نہ کریں کہ مسلمان فضلِ خدا میں سے کوئی حصہ نہیں رکھتے۔ لیکن آیت کے ذیل کی طرف توجہ کرتے ہوئے: (أَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللَّہِ)۔ اور اس شانِ نزول کو دیکھتے ہوئے جسے ہم نے اوپر نقل کیا ہے، لا کا زائدہ ہونا زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ بلکہ بعض کے نظریے کے مطابق تو ان تمام موارد میں جہاں جملہ منفی پر مشتمل ہو، لا زائدہ ہوگا، مثلاً: "ما مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ" (اعراف ۱۲)، "(وَما یُشْعِرُکُمْ أَنَّہا إِذا جاءَتْ لا یُؤْمِنُونَ)" (انعام ۱۰۹) (غور کیجئے)]۔ یہ ان کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے کہ (مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق) خداوند اہلِ کتاب کے اس گروہ کو جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا ہے، دو اجر دے گا، تو اس وجہ سے ہم جو ایمان نہیں لائے، وہ مسلمانوں کی طرح ایک اجر تو رکھتے ہیں۔ قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ مسلمان عام طور پر دو اجر رکھتے ہیں، کیونکہ وہ پیغمبر اسلام اور تمام گزشتہ پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن اہلِ کتاب کا وہ گروہ جو ایمان نہیں لایا، وہ کوئی حصہ نہیں رکھتا تاکہ انہیں پتہ چل جائے کہ رحمتِ الٰہی ان کے اختیار میں نہیں ہے کہ جسے چاہیں دے سکیں اور جسے چاہیں نہ دیں۔ یہ آیت یہود و نصاریٰ کی بلند پروازیوں اور بےبنیاد دعوؤں کا بھی جواب ہو سکتی ہے، جو جنت اور رحمتِ الٰہی کو اپنے لیے مخصوص سمجھتے تھے اور دوسروں کو اس سے محروم خیال کرتے تھے: (وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)۔ "انہوں نے کہا: کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو۔ یہ ان کی آرزوئیں ہیں۔ کہہ دے: اگر سچ کہتے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔" (البقرہ: ۱۱۱)

ایک نکتہ: تقویٰ اور نگاہ دُوررس کا رابطہ

قرآن مجید نے تقویٰ کے بہت سے آثار بیان کیے ہیں، منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انسان کی فکر اور اس کے دل سے پردے ہٹ جائیں۔ ایمان اور تقویٰ کا نگاہِ دوررس سے جو رابطہ ہے، اس کے متعلق قرآن کی دوسری آیات میں اشارے ہیں۔ سورۂ انفال کی آیت ۲۹ میں ہم پڑھتے ہیں: (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّہَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقَانًا)۔ "اے ایمان لانے والو! اگر تقویٰ اختیار کرو اور گناہوں سے پرہیز کرو تو خدا تمہارے لیے حق و باطل میں امتیاز کا ذریعہ قرار دے گا۔" سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸۲ میں آیا ہے: (وَاتَّقُوا اللَّہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللَّہُ)۔ "خدا کا خوف اختیار کرو گے تو خدا تمہیں علم و دانش سے نوازے گا۔" اور زیر بحث آیات میں بھی یہ معنی صراحت کے ساتھ آئے ہیں کہ اگر ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو خدا تمہارے لیے نور قرار دے گا، جس کے سائے میں تم قدم بڑھا سکو گے۔ ان دونوں کا ربط، علاوہ معنوی پہلوؤں کے جنہیں ہم نہیں سمجھ سکتے، تحلیلِ عقلی کے نتیجے میں سمجھ میں آ سکتا ہے، کیونکہ معرفت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور سب سے بڑا پردہ جو انسان کے دل پر پڑا رہتا ہے اور اسے حقائق کو نہیں دیکھنے دیتا، وہ اس کی سرکش خواہشات، لاتعداد تمنائیں اور آرزوئیں ہیں۔ دنیا کی چمک دمک میں اس کا الجھا ہوا ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جو اسے صحیح فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور حقائق کا چہرہ نہیں دیکھنے دیتا۔ اس کی وہ سرکش خواہشات اور لا تعداد تمنائیں اور آرزوئیں ہیں اور دنیا کی چمک دمک میں اس کا الجھا ہوا ہونا ہے جو اسے صحیح فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اسے حقائق کا چہرہ نہیں دیکھنے دیتا۔ جس وقت ایمان اور تقویٰ کے زیرِ سایہ گرد و غبار بیٹھ جاتا ہے اور روحِ انسانی پر چھائے ہوئے تاریک بادل چھٹ جاتے ہیں، تو پھر صفحۂ دل پر آفتابِ حقیقت چمکتا ہے اور حقائق تک اس کی دسترس ہو جاتی ہے۔ اس کو ادراک کی لذّت نصیب ہو جاتی ہے اور یہ وہ لذّت ہے جو تعریف و توصیف سے ماورا ہے۔ اس کے بعد انسان اپنی منزلِ مقصود کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ جی ہاں! یہ تقویٰ ہی ہے جو انسان کو آگاہی بخشتا ہے اور جس طرح علم اور آگاہی اسے تقویٰ سے ہم کنار کرتے ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے متقابل تأثیر رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں مشہور حدیث میں ملتا ہے: "لَوْلَا أَنَّ الشَّیَاطِینَ یَحُوطُونَ عَلَی قُلُوبِ بَنِی آدَمَ لَنَظَرُوا إِلَی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ۔" "اگر شیاطین انسانی دلوں پر مسلط نہ ہو جاتے تو وہ ملکوتِ سماوات کو دیکھ سکتے۔" اس بات کے بہتر ادراک کے لیے ہم حضرت علی علیہ السلام کے ارشادِ گرامی سے استفادہ کرتے ہیں: "لَا دِینَ مَعَ ہَوَیٰ" "لَا عَقْلَ مَنْ ہَوَیٰ" "مَنْ أَتْبَعَ ہَوَاہُ أَعْمَاہُ وَأَصَمَّہُ وَأَذَلَّہُ وَأَضَلَّہُ" "جہاں ہوائے نفس ہو، وہاں دین نہیں ہوتا۔" "اسی طرح عقل اور ہوائے نفس ایک جگہ جمع نہیں ہوتے۔" "جب انسان ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے تو وہ اسے اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے، اور وہ ذلیل و گمراہ ہو جاتا ہے۔" پروردگارا! ہمیں ہوائے نفس سے محفوظ رکھ اور ہمیں تقویٰ اور نگاہِ دوررس عطا فرما۔ خداوندا! تمام رحمتیں تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں، ہمیں ان سے محروم نہ کر۔ بارِالہٰا! ہمیں حق اور عدل و انصاف قائم کرنے کی توفیق عطا فرما اور بیّنات سے استفادہ کے زیرِ سایہ منہ زور افراد کے مقابلہ میں کھڑے ہونے کا حوصلہ اور حریمِ کتاب و میزان کی پاسداری کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

end of chapter
Al-Hadid (57) — Tafseer e Namoona