Al-Ahqaf
سوره احقاف
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳۵ آیات ہیں
سُورہ احقاف کے مضامین
یہ سُورت مکی سُورتوں میں سے ہے، البتہ کچھ مفسرین کی رائے میں اس کی چند آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں، اس کی تشریح ہم انہی آیت کے ضمن میں کریں گے، زمان و مکان کے پیشِ نظر اس کا نزُول اس زمانے میں ہوا جب شرک کے خلاف جدّ و جہد جاری تھی، توحید، معاد اور اسلام کے بنیادی مسائل کی طرف دعوت دی جا رہی تھی، لہٰذا یہ سُورت بھی اسی تناظر میں گفتگو کر رہی ہے۔ مجموعی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس سُورت کے پیشِ نظر مندرجہ ذیل امور ہیں۔ ۱۔ قرآن کی عظمت کا بیان۔ ۲۔ ہر طرح کے شرک اور بُت پرستی کے خلاف دو ٹوک موقف۔ ۳۔ لوگوں کو معاد اور پروردگار کی عدالت کے مفہوم کی فہمائش۔ ۴۔ ضمنی طور پر مشرکین اور مجرمین کے لیے تنبیہ کے طور پر قومِ عاد کی داستان کا ایک حصّہ بھی بیان کیا گیا ہے جو سرزمینِ احقاف میں سکونت پذیر تھی (سُورت کا نام بھی یہیں سے لیا گیا ہے)۔ ۵۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے عمومی اور وسیع ہونے کا تذکرہ، اس حوالے سے کہ یہ انسانوں کے علاوہ جنات کے لیے بھی ہے۔ ۶۔ مومنین کے لیے تشویق اور کفار کے لیے انذار بھی اس سُورت میں موجُود ہے اور امید و خوف کے مبادی بھی اس میں موجود ہیں۔ ۷۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے اور گزشتہ عظیم پیغمبروں کے نقش قدم پر زیادہ سے زیادہ چلنے کی دعوت دی گئی ہے۔
اس سُورت کے فضائل
ایک حدیث کہ جو رسُولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے، اس میں اس سُورت کی فضیلت یوں وارد ہوئی ہے: "مَنْ قرأ سورة الأحْقاف أعْطى من الْأجْر بعدد كل رمْل فى الدّنيا عشر حسناتٍ، ومحى عَنْه عشر سيئات، ورفع له عشر درجاتٍ۔" "جو شخص سُورہ احقاف کی تلاوت کرے گا اسے دُنیا میں موجُود ریت کے ہر ذرّے کے بدلے دس نیکیاں دی جائیں گی اور دس برائیاں مٹائی جائیں گی اور دس درجے بلند کیے جائیں گے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، سُورہ أحقاف کا آغاز)۔ "أحقاف" جمع ہے "حقف" ( بروزن رِزق) کی، جس کا معنی ایسی چلنے والی ریت ہے جو جنگل اور بیابان میں ہواؤں کے چلنے سے مستطیل اور ٹیڑھی شکل میں ایک دوسرے پر جمع ہوتی رہتی ہے۔ قومِ عاد کی سرزمین کو بھی اسی وجہ سے "أحقاف" کہتے تھے کہ وہ اس نوعیت کا ایک ریگستان تھی۔ مندرجہ حدیث کی تعبیر بھی اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس قسم کے حسنات اور درجات صرف الفاظ کی تلاوت سے حاصل نہیں ہو جاتے، بلکہ ایسی تلاوت مراد ہے جو تعمیری، بیدار کرنے والی اور ایمان و تقویٰ کے راہ پر چلانے والی ہو اور سچ مچ سُورہ احقاف کے مضامین اپنے اندر ایسا اثر رکھتے بھی ہیں، بشرطیکہ انسان طالب حقیقت اور آمادہٴ عمل ہو۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "من قرأ كل ليلةٍ أو كلّ جمعة سورة الأحقاف لم يصبه الله عزّوجلّ بروعة فى الحياةِ الدّنيا، و آمنه من فزع يوم القيامة إن شاء الله۔" "جو شخص ہر رات یا ہر جُمعہ کوسُورہٴ احقاف کی تلاوت کرتا ہے خداوند بزرگ و برتر اس سے دُنیا کی وحشت اور خوف اُٹھا لیتا ہے اور قیامت کے دن کی وحشت سے بھی وہ اس کی امان میں آ جاتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان اور تفسیر نوارلثقلین، سُورہٴ أحقاف کا آغاز)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اس کائنات کی تخلیق حق کی بنیاد پر ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ سُورہ "حوامیم" کے خاندان کی سات سُورتوں میں سے ایک ہے، جن کے اوائل میں "حٰم" کا کلمہ مذکور ہے۔ حروفِ مقطعات کی تفسیر میں عموماً اور"حٰم" کی تفسیر میں خصوصاً سُورہ ٴ بقرہ، آل عمران، اعراف اور گزشتہ "حٰم" سورتوں کے آغاز میں بہت سے مطالب بیان ہو چکے ہیں، یہاں پر ان کے دُہرانے کی ضرورت نہیں، صرف اسی حد تک اکتفاء کرتے ہیں کہ یہ جھنجھوڑ کر رَکھ دینے والی، تحرک انگیز اور معانی و مطالب سے معمُور قرآنی آیات "حا" اور "میم" وغیرہ، جیسے سادہ، حروف تہجی سے مرکّب ہیں۔ خدا کی عظمت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اس قدر عظیم چیز کو اس حد تک سادہ حرفوں سے وجُود میں لایا ہے کہ اگر لوگ قیامت تک بھی اس کے اسرار و رموز میں غو و فکر سے کام لیتے رہیں تو بھی نت نئے مطالب حاصل کرتے رہیں گے۔ شاید اسی لیے فوراً ہی فرمایا گیا ہے: "یہ کتاب خداوندِ عزیز و حکیم (قادر و توانا) کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔" (تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ)۔ یہ وہی تعبیر ہے جو ان تین سُورتوں کے آغاز میں بیان ہو چکی ہے، جن کے اوّل میں "حٰم" ہے (سُورہ موٴمن جاثیه اور أحقاف)۔ یعنی بات ہے کہ ایک ناقابلِ تسخیر قدرت اور بےکراں حکمت ضروری ہے کہ جو اس قسم کی کتاب نازل کرے۔ "تدوینی کتاب" کے بعد "تکوینی کتاب" کا ذکر فرمایا گیا ہے اور آسمانوں اور زمین کی عظمت اور حقانیت کی بات کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے تو سارے آسمانوں اور زمین "اور جو کُچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کو صرف حق کی اساس پر پیدا کیا ہے (مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ) نہ تو اس کی آسمانی کتاب میں کوئی خلاف حق کلمہ موجود ہے اور نہ ہی اس کی کائنات میں غیر موزوں اور حق کے مخالف کوئی چیز موجُود ہے، سب کچھ موزوں، نپا تلا اور حق کے ہم گام اور ہم آہنگ ہے۔ لیکن جس طرح اس تخلیق کا آغاز ہے اسی طرح اس کا انجام بھی ہے، لہٰذا آیت کے اگلے حِصّے میں فرمایا گیا ہے: ہم نے اس کے لیے ایک خاص وقت معین کر دیا ہے (وَاَجَلٍ مُسَمًّی)۔ جس کے پہنچتے ہی دُنیا فنا ہو جائے گی، چونکہ یہ کائنات حق پر استوار ہے اور کسِی مقصد کے تحت تخلیق ہوئی ہے لہٰذا فطری طور پر اس کے بعد ایک اور جہان ہونا چاہیے، جس میں اعمال کے نتائج کی چھان پھٹک کی جائے، بنابریں، اس کائنات کی حقانیت ہی بذاتِ خود معاد کے وجُود پر ایک دلیل ہے، وگرنہ یہ کائنات کھوکھلی، بےبنیاد اور بےانداز ظلم کی حامل ہوتی۔ باوجودیکہ قرآن حق ہے اور تخلیق کائنات بھی برحق، ہٹ دھرم کفار جن چیزوں سے ڈرائے جاتے ہیں، ان سے مُنہ پھیر لیتے ہیں (وَالَّذینَ کَفَرُوا عَمَّا اُنْذِرُوا مُعْرِضُون)۔ ایک طرف تو قرآنی آیات پے در پے انہیں اس بات کا خوف دلا رہی ہیں کہ تمہیں ایک عظیم عدالت کا سامنا کرنا ہے، دوسری طرف اپنے خاص نظام کے تحت تخلیق کائنات بذات خُود متنبہ کر رہی ہے کہ حساب و کتاب ہو گا، لیکن یہ بے پرواہ غافل نہ تو اس پر توجہ کرتے ہیں اور نہ ہی اُس پر۔ "مُعْرِضُون"، "اعراض" کے مادہ سے ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ تکوینی اور تدوینی آیات کا سامنا کریں تو حقائق کا ادراک کر لیں گے، لیکن وہ تو اپنا مُنہ ہی پھیرے ہُوئے حق سے گریز پا ہیں تاکہ ان کی تقلیدی، تخیّلات پر مبنی اور خواہشات نفسانی کے تحت عمل میں آنے والی رفتار میں کوئی تبدیلی نہ آ جائے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر گمراہ ترین لوگ
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں زمین و آسمان کی تخلیق کی بات ہو رہی تھی کہ یہ سب کچھ خداوند عزیز و حکیم کی طرف سے ہے۔ اس بات کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کائنات میں اس کے سوا کوئی اور معبُود نہیں ہے، کیونکہ وہی ذات عبادت کے لائق ہے جو کائنات کی خالق اور مدبّر ہے اور یہ دونوں صفات اس کی ذات پاک میں موجُود ہیں۔ اس بحث کی تکمیل کے لیے زیر تفسیر آیات میں رُوئے سخن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کر کے فرمایا گیا ہے: ان مشرکین سے کہہ دے کہ مجھے بتاؤ کہ خدا کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو کیا تم نے دیکھا ہے انہوں نے زمین میں کیا چیز پیدا کی ہے؟ (قُلْ أَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ)۔ "یا آسمانوں کی تخلیق، مالکیّت اور ان کے چلانے میں ان کی کچھ شرکت ہے؟ (أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ)۔ جب تمہیں یہ بات تسلیم ہے کہ بتوں کا نہ تو راضی موجُودات کی تخلیق میں کوئی عمل دخل ہے اور نہ ہی آفتاب و ماہتاب ستاروں اور عالم بالا کی مخلوق کی آفرینش میں اور تم خود علی الاعلان اس بات کا اعتراف کرتے ہو کہ ان سب کا خالق اللہ ہے (تشریحی نوٹ: یہ معنی قرآن مجید کی چار آیتوں میں ذکرہوا ہے اور اس بارے میں تفسیر نمونہ کی اسی جلد میں سُورہٴ زخرف کی ۲۵ ویں آیت میں مزید تفصیل کا مطالعہ فرمائیں)۔ تو پھر اپنی مشکلات کے حل اور برکتوں کے حصُول کے لیے بےخاصیّت اور عقل و شعور سے عاری مخلوق یعنی بتوں کے دامن سے کیوں وابستہ ہو؟ اگر فرض کیجئے تم یہ کہتے ہو کہ تخلیق و آفرینش کے معاملے میں ان کی شرکت ہے تو پھر اگر تم سچ کہتے ہو تو اس سے پہلے کوئی آسمانی کتاب جو تمہاری باتوں کی تصدیق کرے یا گزشتہ لوگوں کے علم کے آ ثار جو اس بات کی گواہی دیں، میرے سامنے پیش کرو (اِئْتُونِي بِكِتَابٍ مِّن قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)۔ قصّہ مختصر یہ کہ دلیل یاتو نقلی پہلو کی حامل ہو گی اور آسمانی وحی کے ذریعے پیش ہو گی یا عقلی اور منطقی ہو گی یا پھر دانشوروں کی گواہی کے ذ ریعے ہو گی، جب کہ تم لوگ بتوں کے متعلق دعوؤں کے سلسلے میں تو وحی الہٰی اور آسمانی کتاب سے ثبوت پیش کر سکتے ہو اور نہ ہی زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں ان کی شرکت کو ثابت کر سکتے ہو تاکہ اس عقلی دلیل کے ذریعے تم ان کی خدائی کو منوا سکو اور نہ ہی گزشتہ لوگوں کے عُلوم کے آثار تمہاری باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا دین اور مسلک خرافات اور جُھوٹے توہمّات اور خیالات کے علاوہ اور کُچھ نہیں۔ اسی لیے " أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ" کا جُملہ عقلی دلیل کی طرف اشارہ ہے اور"اِئْتُونِي بِكِتَابٍ مِّن قَبْلِ هَذَا" آسمانی وحی کی طرف اشارہ ہے اور" أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ" کی تعبیر گزشتہ انبیاء اور ان کے اوصیاء کی سنت یا سابقہ دانشوروں کے آثار ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اصولِ کافی میں ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے جو آپ نے اس جُملے کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ہےکہ"إنّما عنّی بِذالِک علم أوصیاء الأ نبیاء" یعنی گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے اوصیاء کا باقی ماندہ علم مراد ہے ملاحظہ ہو تفسیر نور الثقلین، جلد۵، صفحہ۹)۔ "اثارة" (بروزن "حلاوة") کے بارے میں عُلمائے لُغت اور ارباب تفسیر نے چند ایک معانی ذکر کیے ہیں "کسی چیز سے باقی رہ جانے والا حِصّہ"، "روایت" اور"علامت" لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ سب معانی ایک ہی مطلب کی طرف لوٹ رہے ہیں اور وہ کسی چیز کا اثر ہوتا ہے جو باقی رہ جاتا ہے اور اس کے وجود کی دلیل ہوتا ہے۔ اس سے مِلتی جُلتی گفتگو اور بُت پرستوں کے مقدمے اور ان کے مواخذے کے بارے میں سُورہ فاطر کی چالیسویں آیت میں یوں بیان ہوا ہے۔ "قُلْ أَرَأَيْتُمْ شُرَكَاءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْهُ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا۔" یہ بات قابل توجہ ہے کہ زمین کے بارے میں فرمایا گیا ہے: "مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ۔" اور آسمانوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے: "أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ۔" "یا آسمانوں کے تخلیق میں ان کی کوئی شرکت ہے"؟ یعنی دونوں جگہوں پر شرکت کی بات ہو رہی ہے، کیونکہ شرک درعبادت کا اصل سرچشمہ خالقیت اور تدبیر میں شِرک ہی ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مشرکین عام طور پر خلقت کے معاملے کو ذاتِ خدا ہی سے مخصوص سمجھتے تھے تو پھر ان تین دلائل میں سے کسی ایک کا مطالبہ کس لیے کیا گیا ہے؟ جواباً گزارش ہے کہ اس قسم کا مطالبہ مشرکین میں سے مختصر تعداد کے لوگوں سے ہے جو بُت پرستوں میں موجُود تھے اور بتوں کو تخلیقی امور میں حصّہ دار سمجھتے تھے۔ یا پھر یہ مسئلہ فرض کی صُورت میں ذکر کیا گیا ہے، یعنی بالفرض اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ کائنات کی تخلیق میں بُت بھی شریک ہیں تو تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تمہارے پاس اس دعویٰ کی نہ تو کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ ہی نقلی اور نہ عقلاء کی کوئی گواہی تمہارے پاس موجُود ہے۔ اس سے اگلی آیت میں ان مشرکین کی گمراہی کی گہرائیوں کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہو سکتا ہے جو خدا کو چھوڑ کر کسِی ایسی چیز کی پرستش کرے جو اس کا پکار کا قیامت تک جواب ہی نہ دے سکے (وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُواْ مِنْ دُونِ اللهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ)۔ نہ صرف ان کے بلاوے کا جواب نہیں دیتے بلکہ ان کی باتوں کو بھی بالکل نہیں سُن پاتے۔" اور وہ ان کی دُعا اور ندا سے بھی بالکل غافل ہیں" (وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ)۔ بعض مفسرین اس آیت میں ضمیر کا مرجع بےجان بتُوں کو جانا ہے اس نسبت سے کہ مشرکین عرب کے اکثر و بیشتر معبُود یہی بُت تھے اور بعض نے ان فرشتوں اور انسانوں کو ضمیر کا مرجع جانا ہے جو معبُود بنائے گئے تھے، کیونکہ جنّات اور فرشتوں کے عبادت گزار بھی عربوں میں کم نہیں تھے، اس آیت کی تمام تعبیریں چونکہ ذوی العقول سے مناسبت رکھتی ہیں لہٰذا اسی معنی کی زیادہ تائید کرتی ہیں۔ لیکن اس بات سے بھی کوئی امر مانع نہیں ہے کہ ہم آیت کے مفہوم کو وسیع معنوں میں تفسیر کریں اور اس طرح کے تمام معبُود آیت میں جمع ہوں، خواہ جاندار ہوں یا بےجان، صاحبانِ عقل ہوں یا بےعقل چیزیں، البتہ ذوی العقول سے مناسبت رکھنے والی تعبیریں اصلاحی طور پر "غلبہ" کے باب سے ہوں۔ اگر آیت یہ کہتی ہے کہ وہ معبُود انہیں تاقیامت جواب نہیں دیں گے تو اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں جواب دیں گے، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، بلکہ یہ ایک مروجہ تعبیر ہے کہ جو ابدی اور ہمیشہ کی نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس طرح ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ اگر تم اس سے قیامت تک بھی مانگتے رہو تو وہ تمہیں ہرگز قرضہ نہیں دے گا۔ یعنی وہ یہ کام بالکل نہیں کرے گا، نہ یہ کہ قیامت کے دن تمہاری درخواست قبول کر لے گا۔ یہ بھی معلوم ہے کہ ہر قسم کی سعی و کوشش جستجو اور دعاؤں کی قبولیّت صرف اسی دُنیا میں سُود مند ہے، جب یہ دُنیا ختم ہو جائے گی تو یہ ساری باتیں بھی ازخود ختم ہو جائیں گی۔ اس سے زیادہ انہوں نے افسوس ناک بات یہ ہو گی کہ "جب مشرک لوگ قیامت کے دن جمع کیے جائیں گے تو وہ معبُود ان کے دشمن ہو جائیں گے، حتی کہ ان کی عبادت کا بھی انکار کریں گے" (وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ)۔ جو معبُود صاحبانِ عقل ہیں وہ تو باقاعدہ طور پر ان سے دشمنی کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے عبادت گزاروں سے براءت کا اظہار کریں گے اور فرشتے بھی اسی طرح کریں گے، حتی کہ شیاطین اور جنّات بھی ان سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ اور جو بےعقل چیزیں ہیں خدا تعالیٰ انہیں بھی زندگی اور عقل عطا فرمائے گا تاکہ وہ لب کشائی کر کے اپنے عابدوں سے دشمنی اور نفرت کا اظہار کریں۔ اس سے مِلتا جُلتا معنی قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی ذکر ہوا ہے، جن میں سے ایک سُورہ فاطر کی چودھویں آیت ہے۔ اس میں مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: "إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ" "اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سُنتے، اگر سُن بھی لیں تو اس کو قبُول نہیں کر سکتے اور قیامت کے دن بھی تمہارے شرک اور عبادت کا انکار کر دیں گے اور خدا جیسی آگاہ ذات کے مانند تمہیں اور کوئی مطلع نہیں کر سکتا۔" اس آیت میں وہ تمام باتیں موجود ہیں جو زیر تفسیرآیت میں ہیں، البتہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ ، لیکن معبُود اپنے عابدوں کی عبادت سے کیسے انکار کریں گے، جب کہ وہاں پر تو انکار کی جگہ بھی نہیں ہو گی؟ ممکن ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ درحقیقت، اپنی خواہشات نفسانی کو عبادت کیا کرتے تھے نہ کہ معبودوں کی کیونکہ بُت پرستی کا اصل سرچشمہ خواہش پر سستی ہی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ قیامت کے دن معبُود ین کی اپنے عبادت گزاروں سے عداوت اور دشمنی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا ذکر صرف یہیں پر کیا گیا ہو بلکہ انسانیت کا بطل جلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بُت شکن کا ایک قول سُورہ عنکبوت کی ۲۵ ویں آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ: "وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا۔" "ابراہیم علیہ السلام نے کہا تم نے تو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے لیے خدا بنا لیا ہے، جو اس دنیاوی زندگی میں ہی تمہاری دوستی کا ذریعہ ہیں، لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے سے کافر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے کو لعنت کرو گے۔ سُورہٴ مریم کی ۸۲ ویں آیت میں ہے: "كَلاَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا۔" "وہ بہت جلد عبادت کرنے والوں کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کی مخالفت کریں گے۔"
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کہہ دیجیے میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیات بھی حسبِ سابق مشرکین کی کیفیّت بیان کر رہی ہیں اور آیاتِ خداوندی کے ساتھ ان کے برتاؤ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں، ارشاد ہوتا ہے: جب ہماری واضح آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کفار اس حق کے بارے میں جو ان کے لیے آ چکا ہے، کہتے ہیں یہ تو کھلم کُھلا جادُو ہے (وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ)۔ وہ ایک طرف تو قرآن مجید کی دلوں میں زود رس اور عجیب گہری تاثیر کا انکار بھی نہیں کر سکتے تھے اور دوسری طرف قرآن مجید کی حقانیت اور عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لیے تیار بھی نہیں تھے، لہذا قرآن پاک کی اس تاثیر کو گمراہ کن تفسیر کے ساتھ کھلم کُھلا جادُو کا نام دیتے تھے، جو بذاتِ خود ان کا درپردہ ایک قسم کا یہ اعتراف تھا کہ قرآن انسانی قلوب میں انتہائی زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔ بنابریں، مندرجہ بالا آیت میں لفظ "حق"، "انہی قرآنی آیات" کی طرف اشارہ ہے، اگرچہ بعض مفسرین نے اس کا معنی "نبوّت" یا "اسلام" یا "پیغمبر اسلام" کے دوسرے "معجزات" کیا ہے، لیکن آیت کے آغاز کو پیش نظر رکھتے ہُوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ گئے اور کھلے بندوں "کہتے ہیں، اس نے ان آیات کی خدا کی طرف جُھوٹی نسبت دی ہے" (أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ)۔ اس موقع پر خداوندِ عالم اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا مُنہ توڑ جواب دیں، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ان سے کہہ دے اگر ایسا ہی ہے، جیسے تم سمجھتے ہو اور میں نے اس قرآن کو خدا کی طرف جُھوٹ منسُوب کر دیا ہے، تو لازم ہے کہ وہ مجھے رُسوا کرے اور تم لوگ خدا کے سامنے میرا دفاع نہیں کر سکو گے (قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللهِ شَيْئًا)۔ (تشریحی نوٹ: " إِنِ افْتَرَيْتُهُ " کا جُملہ، جملہء شرطیہ ہے کہ جس کی جزاء محذوف ہے اور تقدیری طور پر یوں ہے: " إِنِ افْتَرَيْتُهُ أخذنى وعاجلنى بالعقوبة")۔ یہ بات کیسے ہو سکتی ہے کہ خداوند عالم ان "آیات بینات" اور اس جاودانی معجزے کو کسی جُھوٹے شخص کے ہاتھوں پر ظاہر کرے؟ یہ بات خدا کی حکمت اور اس کے لُطف سے بعید ہے۔ جیسا کہ سورہٴ حاقہ کی آیہ ۴۴ تا ۴۷ میں ہے: "وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ، لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ، فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ۔۔" "وہ (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہماری طرف ناروا باتوں کی نسبت دیتا ہے، تو ہم اسے اپنی طاقت کے ذریعے پکڑیں گے اور اس کے دِل کی رگ کو کاٹ ڈالیں گے۔ اور تم میں سے ایک شخص بھی ہمیں اس کام سے نہیں روک سکتا اور نہ ہی اس کا دفاع کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ بات کیسے ممکن ہے کہ میں تمہاری خاطر اس خطرناک کام میں ہاتھ ڈالوں اور تم کیونکر باور کر سکتے ہو کہ میں اس قسم کا جُھوٹ بولنے لگوں اور خدا بھی مجھے ایسے ہی چھوڑ دے، بلکہ بڑے بڑے معجزات میرے اختیار میں دے دے؟ پھر ان کی تنبیہ کے طور پر فرمایا گیا ہے: لیکن خدا ان کاموں کو دوسرے لوگوں سے بہتر جانتا ہے جن میں تم داخل ہوتے ہو اور وقت آنے پر تمہیں سخت سے سخت سزا دے گا (هُوَ أَعْلَمُ بِما تُفِيضُونَ فِيهِ)( ۲)۔ (تشریحی نوٹ: "ما تُفیضُونَ فیه" میں "ما" کا کلمہ ممکن ہے کہ موصولہ ہواور ناروا تہمتوں کے معنی میں ہو جو پیغمبرؐ پر لگائی جاتی تھیں۔ اس لحاظ سے "فیه" کی ضمیر اسی کی طرف لوٹ رہی ہے اور اگر یہ "ما" مصدریہ ہو تو "فیه" کی ضمیر یا "قراٰن" کی طرف لوٹے گی یا پھر "حقّ" کی طرف، تو ایسی صورت میں "تفیضُون" کا معنی "کسی کام میں فساد ڈالنے کی غرض سے داخل ہونا" ہو گا)۔ جی ہاں! وہ ان سب تہمتوں کو جانتے ہے جو تم مُجھ پر لگاتے ہو، اس کے بھیجے ہوئے کہ مقابلے میں کھڑے ہو چکے ہو اِسے بھی جانتا ہے اور زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کو راہِ حق سے منحرف کر رہے ہو، اس سے بھی باخبر ہے۔ بعد کے جُملے میں اس بات کو مزید زور دے کر بیان کیا جا رہا ہے، لیکن کچھ اور لہجے میں یہی بات کافی ہے کہ خدا میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے (كَفَى بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ)۔ وہ رسالت کی دعوت و تبلیغ کے سِلسلے میں میرے صدق و صفا، میری سعی و کوشش اور میری تگ و دو کو بھی جانتا ہے اور تمہارے کذب و افتراء، تمہاری ریشہ دواینوں و سیسہ کاریوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور یہی چیز میرے اور تمہار ے لیے کافی ہے۔ البتہ انہیں توبہ اور راہ راست پر آ جانے کی رہنمائی کے طور پر فرمایا گیا ہے: "وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی" بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے (وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ)۔ وہ توبہ کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور انہیں اپنی رحمت واسعہ میں شامل فرما لیتا ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: کہہ دے کہ میں کوئی نیا رسُول نہیں ہوں جو دوسرے رسولوں سے مختلف ہو (قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ)۔ اور کیا میں نہیں جانتا کہ خدا میرے ساتھ کیا کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا (وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ)۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں، جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے (إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ)۔ "میں تو بس اعلانیہ طور پر ڈرانے والا ہوں (وَما اَنَا إِلاَّ نَذیرٌمُبینٌ)۔ یہ مختصر لیکن جامع اور معنی خیز جملے مشرکین کے بہت سے اعتراضات کے جواب میں۔ کبھی تو وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر تعجّب کرتے تھے کہ ایک بشر کیونکر خدا سے تعلق پیدا کر سکتا ہے؟ کبھی کہتے کہ کھانا کیوں کھاتا ہے اور بازار میں کیوں چلتا پھرتا ہے؟ کبھی وہ عجیب و غریب معجزات کا تقاضا کرتے اور ہر ایک کی اپنی اپنی تمنّا ہوتی۔ کبھی انہیں یہ توقع ہوتی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیب کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور انہیں آئندہ کے تمام واقعات سے مطلع فرما دیں گے۔ اور کبھی تو وہ توحید کی دعوت اور معبُود کے وحدہُ لاشریک ہونے پر بھی تعجّب کرتے تھے۔ یہ آیت ایک اجمالی جواب ہے ان تمام باتوں اور حیلہ سازیوں کا۔ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں کوئی نیا تازہ پیغمبر نہیں ہوں کہ جس نے توحید کی دعوت کی ہے، مجھ سے پہلے کئی انبیاء ہو گزرے ہیں جو سب کے سب نوعِ بشر میں سے تھے۔ وہ لباس بھی پہنتے تھے اور کھانا بھی کھاتے تھے، ان میں سے کوئی بھی مطلق غیب جاننے کا دعوے دار نہیں تھا۔ بلکہ ہر ایک یہی کہتا ہے کہ ہم غیب کے بارے میں وہی کچھ جانتے ہیں جو کچھ خدا نے ہمیں بتایا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی لوگوں کی قدم قدم پر معجزوں کی فرمائش اور نفسانی آرزو کے سامنے نہیں جھکا۔ یہ اس لیے ہے کہ سب لوگوں کو پتہ چل جائے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھی خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں، ان کی قدرت اور ان کا علم بھی خدا کے علم و قدرت کے مقابلے میں محدُود ہے، قدرت مطلقہ اور علمِ مطلق صرف اور صرف ذاتِ کردگار کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ ایسے حقائق ہیں جن میں سے لوگوں کو باخبر رہنا چاہیے اور اپنے ناروا اعتراضات کا سِلسلہ بند کر دینا چاہیے۔ یہ سب جوابات اس گفتگو کے بعد ذکر ہوئے ہیں جو گزشتہ آیات میں بیان ہو چکی ہے کہ کبھی تو رسُول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جادوگری کی تہمت سے متّہم کرتے اور کبھی ان پر افتراء اور کذب کی تہمت لگاتے، ان سب ناجائز تہمتوں کا اصل سبب وہ توہمات تھے جن کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس آیت کا مفہوم ان دوسری آیات کے منافی نہیں ہے، جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیب سے باخبر ہیں، جیسا کہ سورہٴ فتح میں مکہ کی فتح اور مسجد الحرام میں داخلے کے بارے میں ہے (ملاحظہ ہوں سُورہٴ فتح آیت ۲۷) یا جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سُورہٴ آل عمران آیت ۴۹ میں ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: "أُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ" "میں تمہیں ان چیزوں سے باخبر کرتا ہوں جو تم کھاتے ہو یا جمع کرتے ہو۔" یہ اور اس قسم کی دوسری آیات کیونکہ جس آیت کی ہم تفسیرکر رہے ہیں وہ "مطلق علمِ غیب" کی نفی کر رہی ہے نہ کہ مطلقاً "عِلم غیب" کی بالفاظ دیگر یہ آیت استقلال اور ذاتی علمِ غیب کی نفی کر رہی ہے، لیکن وہ آیات اس علمِ غیب کی بات کر رہی ہیں جو خدا کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔ ہماری اس گفتار پر شاہد سُورہٴ جن کی ۲۶ ویں اور ۲۷ ویں آیات ہیں، جن میں کہا گیا ہے: عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ۔" "خدا ہی عالم ِغیب اور کسی بھی شخص کو اپنے مخفی عِلم سے آگاہ نہیں کرتا، مگرجن رسُولوں کے لیے وہ چاہے۔" بعض مفسرین نے زیر تفسیر آیت کی شانِ نزُول یوں بیان کی ہے۔ "جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے صحابہ پر مکّہ میں مشکلات بہت بڑھ گئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپؐ ایک ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کر رہے ہیں جس میں نخلستان ہیں، درختوں اور پانی کی فراوانی ہے، چنانچہ آپؐ نے یہ خواب اپنے دوستوں سے بیان کیا تو وہ سب بہت خوش ہُوئے اور سمجھ گئے کہ بہت جلد مشرکین کے آزار اور اذیت سے چھٹکارا مِلنے والا ہے۔ ایک عرصے تک صبر کیے رکھّا، لیکن ایسی کوئی صُورت نظر نہ آئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرنے لگے یارسُول اللہ! آپؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا تھا اس کا تو کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا، آپؐ نے جس سرزمین کا خواب دیکھا تھا، ہم کب وہاں ہجرت کر جائیں گے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور اس ہنگام میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی کہ "وَ ما اَدْری ما یُفْعَلُ بی وَلا بِکُمْ" (میں نہیں جانتا کہ خدا میرے ساتھ کیا کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا)۔ لیکن اس آیت کے لیے یہ شانِ نُزول بعید معلُوم ہوتی ہے، کیونکہ اس آیت میں مخاطب پیغمبر کے دشمن ہیں نہ کہ دوست، لیکن یہ بات ممکن ہوتی ہے کہ تطبیق کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہو۔ یعنی جب دوستوں کی طرف سے مذکُورہ سوال کیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی آیت سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں جواب دیا ہو۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں گزشتہ آیات میں مذکورہ گفتگو کی تکمیل کے طور پر فرمایا گیا ہے: یہ بھی کہہ دے کہ مجھے یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کر بیٹھو، حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس کی گواہی بھی دے دے اور ایمان بھی لے آئے اور تم تکبّر کرتے ہُوئے اس کے آگے نہ جُھکے، تو تم سے بڑھ کر اور کون شخص گمراہ ہو گا؟، یقینی بات ہے کہ خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا (قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: جُملہ شرطیہ "إِنْ كانَ مِنْ عِنْدِ الله" کی جزا محذوف ہے، جو تقدیری طور پر "مَنْ أَضَلّ مِنْکمْ" ہے)۔ اس بارے میں تفسیر کے درمیان اختلاف ہے کہ وہ گواہ کون تھا، جس نے قرآن کی حقانیت اور صداقت پر گواہی دی؟ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد جناب موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی خبر دی اور اس علامات بتائیں۔ لیکن یہ احتمال "فاٰمن وَاستَکبَرتُم" کے جملے سے ہم آہنگ ہے کیونکہ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے، کہ بنی اسرائیل سے یہ شاہد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آیا جبکہ مشرکین نے تکبر کا مظاہرہ کیا، کیونکہ جُملے کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گواہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھا اور آنحضرت پر ایمان بھی لا چکا تھا، جب کہ دوسرے لوگ تکبر کی راہوں پر گامزن رہے۔ کئی اور مفسر کہتے ہیں کہ یہ شخص اہل کتاب کے عُلما میں سے تھا اور مکّہ میں رہتا تھا اگرچہ یہود اور نصاریٰ کے مذہب کے پیروکار مکہ میں بہت کم تھے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ وہاں ان میں سے کوئی ایک بھی نہ رہتا ہو لیکن پھر بھی یہ معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کا یہ عالم کون تھا اور اس کا کیا نام تھا؟ اس بات کے پیش نظر کے اہل کتاب کا کوئی مشہور و معروف عالم ظہور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت موجود نہیں تھا اور نہ ہی کسی تاریخ نے اس کا نام ذکر کیا ہے، یہ تفسیر بھی مناسب معلوم نہیں ہوتی (۴)۔ (تشریحی نوٹ: "شاھِد" کو یہاں نکرہ اس لیے لایا گیا ہے تاکہ عظمت کا اظہار ہو، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شاہد مشہور و معروف اور بزرگ شخصیت تھی)۔ البتہ یہ تفسیر اور گزشتہ تفسیر اس بات کی مظہر ضرور ہیں کہ سُورہٴ احقاف مکّی ہے۔ تیسری تفسیر جو اکثر مفسرین کے لیے بھی قابلِ قبول ہے وہ یہ ہے کہ یہ گواہ یہود کا مشہور عالم عبداللہ بن سلام تھا جو مدینہ میں اسلام لایا اور مسلمین کی صف میں شامل ہو گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منوّرہ میں یہودیوں کی کسِی عید کے موقع پر ان کے کنیسہ (عباد ت گاہ) میں کئے، یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہاں آنے پر خوش نہیں تھے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے یہود! تم اپنے میں سے بارہ شخص میرے سامنے لاؤ تاکہ وہ خدا کی وحدانیت اور محمدؐ کی نبوّت کی گواہی دیں، اس طرح سے اللہ تعالیٰ تمام دُنیا کے یہودیوں سے اپنا غصب اُٹھا لے گا۔" وہ سب خاموش رہے اور کسی نے بھی جواب نہیں دیا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جُملے کو تین بار دہرایا لیکن تینوں مرتبہ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپؐ نے فرمایا: "تم نے بیان حق سے انکار کیا ہے، لیکن خدا کی قسم "حاشر" اور "عاقب" (تورات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے القاب) میں ہوں، خواہ تم ایمان لے آؤ یا میری تکذیب کرو۔" یہ کہہ کر آنحضرتؐ پلٹنے لگے، لیکن ابھی ایک قدم باہر نہیں نکالا تھا کہ ایک شخص پیچھے سے آیا اور آواز دی "اے محمدؐ! ٹھر جاؤ! "پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رُک گئے، اس نے یہودیوں کی طرف مُنہ کر کے کہا "مجھے کیسا آدمی پاتے ہو؟" انہوں نے کیا: "خدا کی قسم ہمارے درمیان تم سے زیاد عالم کوئی اور شخص نہیں ہے اور تمہارے باپ داد سے بڑھ کر ہماری آسمانی کتابوں کا کوئی اور عالم نہیں ہے۔" اس نے کہا: میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ وہی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس کا ذکر توارت اور انجیل میں آ چکا ہے۔ جب یہودیوں نے یہ دیکھا تو کہا: "تم جھوٹ کہتے ہو" یہ کہہ کر اسے خُوب جی بھر کے گالیاں دیں۔ رسُول پاکؐ نے فرمایا: "تم سب جُھوٹ بولتے ہو، اقرار کے بعد تمہارا انکار قابلِ قبول نہیں ہے۔" یہ شخص عبداللہ بن سلام کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا اور اسی موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ۔۔۔۔۔۔ اس تفسیر کے مطابق یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے، ہر چند کہ یہ سُورت مکی ہے، اور یہ بات اسی آیت میں منحصر نہیں ہے، قرآن مجید کی دوسری سُورتوں میں بھی بعض مقامات پر پر ہم مکّی آیتوں کو مدنی سُورتوں میں یا مکی سُورتوں میں مدنی آیتوں کو ملا ہُوا پاتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے کسِی آیت کو جو سُورت کے مفہوم سے ہم آہنگ ہوتی تھی اس کی تاریخی نزُول سے قطعِ نظر اسے سُورت میں ملا دیا جاتا تھا۔ یہ تفسیر کئی لحاظ سے مناسب تر معلوم ہوتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7مفسرین نے زیر تفسیر آیات میں سے پہلی آیت کے متعدد شانِ نزُول بیان کی ہیں۔ ۱۔ یہ آیت ابوذر غفاری کے بارے میں ہے، جو مکہ میں اسلام لائے اور ان کا قبیلہ بنی غفار بھی اِن کے بعد اسلام لے آیا چونکہ نبی غفار ایک بادیہ نشین اور غریب قبیلہ تھا، لہٰذا کفارِ قریش کے دولت مند اور شہری لوگوں نے کہا کہ اگر اسلام بہتر چیز ہوتا تو یہ بےوقعت اور حقیر لوگ ہم سے سبقت حاصل نہ کر جاتے، اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں جواب دیا گیا۔ ۲۔ ایک رُومی کنیز مکہ میں رہتی تھی، اس کا نام "ذی النیرة" (تشریحی نوٹ: "ذی النیرة ان خواتین میں سے تمہیں، جنہوں نے بہت جلد اسلام کو قبول کیا، اسی لیے ابوجہل نے ان پر سخت تشدد کیا)۔ تھا، اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہتے ہُوئے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے ردّعمل میں بڑے بڑے قریشی کہنے لگے "جو چیز محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آیا ہے اگر وہ اچھی اور بہتر ہوتی تو"، "ذی النیرة" جیسے لوگ ہم پر سبقت نہ لے جاتے۔ ۳۔ مکّہ کے بادیہ نشین قبائل کے کچھ افراد شہر کے لوگوں سے پہلے اسلام لے آئے۔ مکّہ کے روساء کہنے لگے کہ "اگر اسلام کوئی اچھی چیز ہوتا ہے تو یہ شتربان اور چرواہے ہم پر سبقت نہ لے جاتے۔" ۴۔ کچھ نیک دل لیکن غریب اور تہی دست افراد مثلاً صہیب ؓ، بلال ؓ اور عمار ؓ نے کُھلے دل کے ساتھ اسلام کو قبول کیا تو مکہ کے رُوساء کہنے لگے: "آیا یہ بات ممکن ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین کوئی اچھی چیز ہو اور وہ ہم پر سبقت لے جائیں۔" ۵۔ جب عبداللہ بن سلام اور ان کے کُچھ دوست ایمان لے آئے تو مغرور یہودی کہنے لگے۔ "اگر اسلام اچھی چیز ہوتا تو وہ ہم سے پیش قدم نہ ہوتے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۹، ص ۶۰۰۹)۔ شانِ نزُول کی پہلی چار قسموں کو صرف ایک جُملے میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ اِسلامی کی دعوت غرباء، فقراء اور بادیہ نشین لوگوں میں بہت مقبُول ہو گئی اور ان لوگوں نے بڑی تیزی سے اس کا کھلے دل سے استقبال کیا کیونکہ ایک تو ان کے ناجائز مفادات نہیں تھے، جن کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا، دوسرے ان کے دماغ میں تکبر اور غرور کی ہوا نہیں تھی اور تیسرے خوشحال، عیاش اور ہوس پرست طبقے کی نسبت ان کا دِل زیادہ پاک اور صاف تھا۔ ایسے غریب غرباء کی طرف سے اسلام کا اس قدر گرم جوشی کے ساتھ استقبال اس دین الہٰی کے طاقت ور ہونے کا ایک واضح ثبوت تھا، جسے مغرور اور مستکبر لوگوں نے اس کی بہت بڑی کمزوری پر محمُول کیا اور کہنے لگے کہ یہ کیسا دین ہے، جس کے پیروکار مٹھی بھر بادیہ نشین، غریب غربا، فقیر فقراء اور کنیز و غلام ہیں، اگر یہ کوئی معقُول مکتب فکر ہوتا تو اسے نچلی سطح کے لوگ اور معاشر ے کے پست افراد ہرگز نہ اپناتے اور ہم جو کہ بالا ئی سطح کے افراد اور معاشرے کے چشم و چراغ ہیں کبھی پیچھے نہ رہتے۔ لائق توجہ بات یہ ہے کہ غلط طرز تفکّر آج بھی مغرور دولت مندوں اور خوش حال ہوس پرستوں میں مذہب کے بارے میں پایا جاتا ہے اور بڑی حد تک رائج ہے۔ وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ مذہب تو صرف فقراء و مساکین کے ہی کام کا ہے اور یہ دونوں (غربا اور مذہب) ایک دوسرے کے کام کے ہیں اور ہم تو بالا سطح کے لوگ ہیں۔ لیکن قرآن پاک نے زیر تفسیر آیات میں اس طرزِ عمل کا کفایت کنندہ جواب دیا ہے۔ رہی پانچویں شأن نزُول کے بارے میں جو سطورِ بالا میں بیان ہوئی ہے کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی یں، اگرچہ طبرسی نے مجمع البیان میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر قرطبی میں بھی اکثر مفسرین سے اسی شانِ نزُول کو نقل کیا ہے لیکن یہ دو لحاظ سے بعید معلوم ہوتی ہے۔ ایک تویہ کہ " الَّذِينَ كَفَرُوا" کا جُملہ مطلق صُورت میں عام طور پر مشرکین کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ اہل کتاب یہودی اور نصاریٰ کے لیے۔ دوسرے یہ کہ یہودیوں میں "عبداللہ بن سلام" کا مقام و مرتبہ اور عزّت و حیثیت کوئی معمولی نہیں تھی کہ وہ ان کے بارے میں یہ کہتے کہ اگر اسلام اچھا دین ہوتا تو وہ اور اس کے ساتھی ہم پر سبقت نہ لے جاتے۔
تفسیر کامیابی کی دو شرطیں
یہ آیات بھی حسبِ سابق کفار کے اعمال و گفتار اور ان گمراہی کو زیرِ بحث لا کر ان کی نکوہش کر رہی ہیں۔ پہلے تو ان کی غرور آمیز کسِی منطق سے عاری گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: اور کافر لوگوں نے مومنوں کے بارے میں کہا ہے کہ اگر ایمان اور اسلام کوئی اچھی ہوتے تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے ہرگز سبقت حاصل نہ کر جاتے (وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ)۔ (تشریحی نوٹ: "لِلَّذِينَ آمَنُوا" میں "لام" کا کیا معنی ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے کئے اقوال ہیں، لیکن سب سے مناسب یہی قول ہے کہ "لام" یہاں "فی" کے معنی میں ہے۔ اسی لیے آیت کے اس جُملے کا معنی یُوں ہو گا "کفار نے مومنین کے بارے میں یوں کہا ․․․" اور "سَبَقُونَا" میں فعل کے غائب ہونے کی وجہ سے بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، جبکہ بعض نے اسے "لام تعلیل" سمجھا ہے اور بعض کے نزدیک "لِلَّذِينَ آمَنُوا" یہاں پر مخاطب ہیں اور "سبقونا"، "سبقتمونا" کے معنی میں ہے)۔ یہ مٹھی بھر لوگ یا تو فقیر و بےبضاعت ہیں یا پھر دیہاتی، غلام اور اُجڈ اور یہ بات کیونکر ممکن ہے کہ وہ حق کو سمجھ جائیں اور اس کی طرف متوجہ ہو جائیں اور ہم جو کہ اس معاشرے کے چشم و چراغ ہیں اس بات سے غافل اور بےخبر رہ جائیں۔ لیکن وہ اس بات سے غافل تھے کہ عیب تو دراصل خود انہیں میں پایا جاتا ہے کہ دینِ اسلام میں۔ اگر ان کے دلوں پر تکبّر اور غرور کے پردے پڑے ہوتے، اگر وہ مال و دولت، جاہ و منزلت مقام و منصب اور شہوات و خواہشات میں مست اور مگن نہ ہوتے، اگر خود پسندی اور خود نمائی انہیں تحقیق حق کی اجازت دیتی اور غریبوں کی طرح وہ بھی صاف دِل حق خو اور حق طلب ہوتے تو یقیناً وہ بھی بہت جلد اسلام کے حلقہ بدامان ہو جاتے۔ لہذا آیت کے آخر میں اس لطیف پیرائے میں انہیں جواب دیا گیا ہے: چونکہ وہ خود قرآن کے ذریعے ہدایت نہیں پاتے تو بڑی جلدی کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک پرانا جُھوٹ ہے (وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيْمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں "اذ" ظرفیت کے لیے ہے اور بعض مفسرین اسے "فسیقولون" سے متعلق سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "فا" وجود مانع نہیں ہے، جبکہ بعض دوسرے مفسرین جیسے زمخشری، تفسیر کشّاف میں اس بات کے معتقد ہیں کہ اس کے بعد کا فعل ماضی ہے اور "فسیقولون" فعل مضارع ہے، لہٰذا یہ اس کا متعلق نہیں بن سکتا، بلکہ کسی محذوف سے متعلق ہے، جس کی تقدیر یوں ہے: "وإذ لم يهتدوا به ظهر عنادهم۔" لیکن پہلا احتمال آیت کے معنی سے بہت ہم آہنگ ہے)۔ یعنی انہوں نے خود قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کی ورنہ قرآن میں تو ہدایت کی قسم کی کمی نہیں ہے۔ "افک قدیم" کی تعبیر اس تہمت کے مانند ہے جو ان کی زبانی قرآنی آیات میں نقل ہوئی ہے کہ وہ کہتے تھے "أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ" (گزشتہ لوگوں کے افسانے) (فرقان / ۵)۔ نیز "سیقولون" کی تعبیر فعل مضارع کی صورت میں، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہمیشہ یہ تہمت قرآن پر لگاتے رہتے تھے اور اس تہمت کو اپنے ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ قرار دیتے تھے۔ پھر ایک اور دلیل کو بیان کیا جا رہا ہے جو قرآن کی حقانیت کے ثبوت اور مشرکین کی اس تہمت کی نفی کے لیے ہے، جو وہ کہتے تھے کہ یہ ایک قدیمی جھُوٹ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس عظیم کتاب کی صداقت کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے مُوسیٰ کی وہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو لوگوں کی پیشوا اور رحمت تھی اور اس نے اپنے بعد کے انبیاء کی اوصاف کو بیان کیا ہے، اور یہ قرآن ایسی کتاب ہے جو تورات میں مذکور نشانیوں سے ہم آہنگ ہے (وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ)۔ تو پھر تم یہ کیسے کہتے ہو کہ یہ ایک قدیمی جُھوٹ ہے؟ قرآن میں کئی بار اس بات کو زور دے کر بیان کیا گیا ہے کہ قرآن تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے۔ یعنی ان نشانیوں سے ہم آہنگ ہے جو ان دو آسمانی کتابوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آسمانی کتاب کے بارے میں بیان ہوئی ہیں اور یہ نشانیاں اس حد تک اپنے معیار پر پوری اتری ہیں کہ قرآن نے بھی (بقرہ / ۱۴۶ میں) ارشاد فرمایا ہے۔ "الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ۔" "اہل کتاب اسے اس حد تک بخوبی پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔" زیر تفسیر آیت سے ملتی جُلتی ایک اور آیت ہے جو سُورہ ٴ ہود میں ہے۔ "أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إَمَامًا وَرَحْمَةً أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ۔" "آیا جو شخص اپنے پروردگار کی واضح دلیل رکھتا ہو اور اس کے پیچھے پیچھے اس کی طرف سے ایک گواہ بھی آئے اور اس سے پہلے مُوسٰی کی کتاب جو پیشوا اور رحمت ہے، اس پر گواہی دے رہی ہو وہ ایسے شخص کے مانند ہو سکتا ہے جو اس طرح کا نہ ہو؟ (ھود / ۱۷)۔ "إِماماً وَرَحْمَة" کی تعبیر ممکن ہے اس لیے ہو کہ امام اور پیشوا کے ذکر کے بعد کبھی کبھار ذہن میں فرض کی بجا آوری کا مسئلہ تکلیف وہ اور مشکل نظر آتا ہے، لیکن "رحمت" کا ذکر اس تصوّر کی اصلاح کرتے ہُوئے کہتا ہے کہ اس امام کی امامت کے ساتھ رحمت بھی ہے، حتی کہ اگر اس امام نے کسی فریضے کی بجا آوری کا حکم بھی دیا ہے تو بھی رحمت ہے اور نفوس کی تربیّت سے بڑھ کر اور کیا رحمت ہو سکتی ہے؟ اس کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے "یہ اس حالت میں ہے کہ یہ آسمانی کتاب فصیح اور واضح عربی زبان میں ہے" جس سے تمام لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں (لِّسَانًا عَرَبِيًّا)۔ آیت کے آخر میں نزول قرآن کے آخری مقصد کو دو مختصر سے جملوں میں اس طرح واضح کرتا ہے: مقصد یہ ہے کہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوشخبری دے (لِيُنذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ)۔ چونکہ "ینذر" فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، لہذا اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ قرآن کا ڈرانا بھی اِسکی بشارت و خوشخبری کے مانند دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ تاریخ کے ہر دورانئے میں ظالموں اور ستم گاروں کوڈراتا چلا آ رہا ہے اور نیک لوگوں کو خوشخبری سناتا آ رہا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ "ظالموں" کے مدّمقابل "نیکو کاروں" کو قرار دیا ہے ہے، کیونکہ یہاں پر "ظلم" کے وسیع معنی مُراد ہیں جو ہر قسم کی بُرائی اور خلاف کاری پر محیط ہیں اور ظاہر ہے کہ دوسروں پر ظلم اور اپنے نفس پر ظلم اس میں داخل ہیں۔ بعد کی آیت درحقیقت، "محسنین" (نیکو کاروں) کی تفسیر ہے جو گزشتہ آیت میں مذکور ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے وہ اس پر قائم رہے تو نہ ان کو کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (إِنَّ الَّذینَ قالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقامُوا فَلا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لا هُمْ یَحْزَنُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "الَّذینَ قالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ۔۔۔۔" مبتدا رہے اور "لا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ" اس کی خبر ہے: البتہ "فا" خبر پر نہیں آتی سوائے ان مواقع کے کہ جہاں شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے)۔ درحقیقت، ایمان کے تمام مراتب اور ہر قسم کے اعمال صالحہ ان دو جمُلوں میں یکجا بیان ہُوئے ہیں کیونکہ "توحید" تمام صحیح اعتقادیت کی بنیاد ہے تمام اصولِ عقائد کا مرجع توحید ہے۔ اور "استقامت" و صبر و شکیبائی تمام اعمالِ صالح کی بنیاد ہے، کیونکہ تمام اعمال کا خلاصہ ان تین قسم کے صبر میں ہے: اطاعت پر صبر، معصیت پر صبر اور مصیبت پر صبر۔ بنابریں، "محسنین" وہ لوگ ہیں جو اعتقادی لحاظ سے "توحید" کے راستے پر اور عملی لحاظ سے "صبر و استقامت" کی بنیادوں پر قائم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے افرد کو نہ تو آئندہ کے حوادث کا ڈر ہے اور نہ ہی وہ گزشتہ سے خائف ہیں۔ اس سے ملتا جُلتا مفہوم سورہٴ حم سجدہ کی ۳۰ ویں آیت میں (زیادہ تفصیل سے) بیان ہوا ہے، وہ یُوں کہ: "إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔" اس آیت میں دو اضافی چیزوں کا تذکرہ ہے: ایک تو یہ کہ انہیں فرشتوں کی طرف سے یہ خوشخبری دی جاتی ہے کہ ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف ہے اور نہ ہی حُزن، جبکہ زیر تفسیر آیت اس بارے میں خاموش ہے اور دوسرے یہ کہ خوف و حزن کی نفی کے ساتھ ساتھ انہیں بہشت موعود کی بھی خوشخبری دی گئی ہے، جب کہ زیر تفسیر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ نہیں، بلکہ اس کے بعد کی آیت میں اس قسم کا اشارہ مِلتا ہے۔ بہرصورت یہ دونوں آیات ایک ہی مطلب کو بیان کر رہی ہیں۔ ایک میں اجمال ہے اور دوسری میں تفصیل۔ علی بن ابراہیم کی تفسیر میں"إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا" کے جُملے کی تفسیر میں یوں کہا گیا ہے کہ "اسْتَقامُوا علی ولایة علی امیرالموٴمنین" یعنی استقامت سے مراد علیؑ ابن ابی طالب کی ولایت پر استقامت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علم و عمل اور عدالت و تقویٰ اپنانے میں امیرالمومنین علیہ السلام کی پیروی خاص کر تاریک اور ظلماتی دور میں نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے جو استقامت و پائیداری کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ہے، اسی لیے یہ زیر تفسیر آیت میں اس کے روشن مصداقوں میں سے ایک ہے نہ یہ کہ آیت کا مفہوم منحصر اسی میں ہے۔ جہاد اور اطاعتِ پروردگار میں صبر نیز خواہشات نفسانی اور شیطان کی چالوں کے مقابلے میں ہر طرح کی پائیداری اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ "إستقامت" کے سلسلے میں سورہٴ حٰم سجدہ کی تیسویں آیت کی تفسیر میں ہم تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔" (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد۲۰)۔ اسی سِلسلے کی آخری آیت میں توحید پرست نیکو کاروں کا اہم ترین بشارت دیتے ہُوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: وہی تو اہل جنّت ہیں کہ جو اس میں ہمیشہ رہیں گے (اُولئِکَ اَصْحابُ الْجَنَّةِ خالِدینَ فیها)۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ انجام دیتے رہے (جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے نتیجہ نکالا ہے کہ آیت کا ظاہری معنی حصر کا مفہوم بتا رہا ہے یعنی صرف اہل بہشت ہیں جو توحید اور استقامت کی راہوں پر گامزن ہیں۔ فطری امر ہے کہ دوسرے لوگ جو گناہوں سے آلودہ ہیں اگرچہ اپنے ایمان کی بدولت انجام کار بہشت میں جائیں گے، لیکن ابتدائی طور پر "اصحاب الجنّة" نہیں ہیں۔ "أصحاب" (ساتھی) کی تعبیر بہشتی نعمتوں سے ان کی ہمیشہ کی ہم تشینی کی طرف اشارہ ہے۔ "جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ" کی تعبیر ایک طرف تو اس بات کی دلیل ہے کہ بہشت قیمت کے بدلے میں ملتی ہے، حیلوں بہانوں سے نہیں اور دوسری طرف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصولی طور پر انسان آزاد اور خود مختار ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اے انسان ! اپنے والدین سے نیکی کر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ اور بعد کی آیات درحقیقت، وہ وضاحت ہے جس کا گزشتہ آیات میں "ظالموں" اور "مُحسنین" کے بارے میں اجمالی طور پر تذکرہ ہو چکا ہے۔ سب سے پہلے نیکو کاروں کی کیفیّت کو بیان کیا گیا ہے اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے اور ان کی زحمات کا شکریہ ادا کرنے سے بات شروع کی گئی ہے جو شکر پروردگار کا مقدمہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے نیکی کرے (وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا)۔ (تشریحی نوٹ: "توصیه" عام طور پر دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ البتہ دوسرا مفعول یا تو "با" کے ساتھ متعدی ہوتا ہے یا "الی" کے ساتھ، بناء بریں مندرجہ بالا عبارت میں "احسانا" کا کلمہ دوسرا کلمہ مفعول واقع نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ کہ "وصینا" کو "ألزمنا" کے معنی میں لیا جائے، جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اور حرف جارہ کو بھی نہیں چاہتا۔ یا پھر آیت کے لیے کوئی محذوف مانیں، اور کہیں کہ اصل میں یوں ہے۔ "وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا" تو ایسی صورت میں "إحساناً" فعل محذوف کا مفعول مُطلق ہے)۔ "وصیت" اور "توصیه" مطلق سفارش کے معنی میں ہے اور اس کا مفہوم مرنے کے بعد کے امور میں منحصر نہیں ہے لہذا کچھ لوگوں نے یہاں پر اس کی "امر حکم اور فرمان" کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ پھر ماں کے حقوق کی اوّلیّت کو مدّنظر رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس کی ماں تکلیف کی حالت میں اسے پیٹ میں رکھتی ہے اور تکلیف ہی سے اسے جنم دیتی ہے اور اس کا پیٹ میں رہنا اوراس کی دودھ بڑھائی کی مدت تیس مہینے ہے۔ (حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا)۔ اس تیس مہینے کی مدّت میں ماں اپنے بچے کے بارے میں بہت بڑی فدا کاری اور ایثار کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انعقاد نطفہ کے پہلے ہی دن ماں کی حال تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اس کے لیے مسلسل تکالیف کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ ارو قَے کی حالت (Pregnancy Vomiting ) جو ماں کے سخت ترین حالات میں سے ایک ہے، ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس حالت میں حاملہ عورت کو کھٹی اور ترش چیزیں کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے (مترجم)۔ اس حالت کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ: یہ حالت ماں کے جسم میں اس غذائی قلت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جو وہ اپنے بچّے کے لیے ایثار کرتی ہے۔ جنین (پیٹ میں موجود بچّہ) جس قدر نشو و نما پاتا رہتا ہے اسی قدر زیادہ سے زیادہ ماں کے جسم سے مواد حاصل کرتا رہتا ہے حتٰی کی یہ مواد اُس کی ہڈیوں اور اعصاب پر بھی اثر ڈالتا ہے بسا اوقات یہ بچّہ ماں کی نیند، خوارک اور آرام و آسائش تک کو سلب کر لیتا ہے اور حمل کے آخری دنوں میں تو ماں کے لیے قدم اٹھانا، اور نشست و برخاست بھی مشکل ہو جاتی ہے، لیکن یہ ماں کا جگر ہوتا ہے کہ وہ ان تمام مصائب و مشکلات کو بڑے حوصلے اور اس محبت اور امید کے ساتھ، برداشت کرتی ہے کہ بہت جلد اس کا بچہ دنیا میں آنکھ کھولے گا اوراس کے سامنے مسکرائے گا۔ وضع حمل____ جو ماں کی زندگی کے سخت ترین لمحات میں ایک ہے، کا زمانہ سر پر آ جاتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ بعض اوقات اولاد کے لیے ماں کو اپنی جان کی بازی لگا دینا پڑتی ہے۔ بہرحال، ایک سنگین زمانہ تو گزر جاتا ہے اور ایک دوسرا سنگین دورانیہ شروع ہو جاتا ہے: بچہ کی رات دن کی دیکھ بھال کا دورانیہ کہ جن میں ایسے بچے کی تمام ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں جو اپنی ضروریات کو بیان کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا۔ اگر اسے کوئی درد ہوتا ہے کہ تو وہ اس کی جگہ تک نہیں بتا سکتا، اگر اسے بُھوک یا پیاس اور سردی یا گرمی کی کوئی تکلیف ہوتی تو وہ اسے بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، سوائے اس کے کہ وہ رونا شروع کر دے اور ماں کو صحیح اندازہ کر کے صبر اور حوصلے کے ساتھ اس کی ایک ایک ضرورت کا مداوا کرنا پڑتا ہے۔ بچّے کی صحت و صفائی اس دوران ایک طاقت فرسا مشکل ہوتی ہے، اسے غذا دینا بھی بہت بڑا ایثار ہے جو ماں ہی کے جسم سے حاصل ہوتی ہے۔ اس دوران بچّے کو جو مختلف بیماریاں لاحق ہوتی ہیں وہ ایک اور مشکل ہیں جن کا مقابلہ ماں بڑے صبر اور حوصلہ کے ساتھ کرتی ہے۔ قرآن مجید نے یہاں صرف ماں کی مشکلات کو بیان کیا ہے اور باپ کا تذکرہ نہیں کیا، اس لیے نہیں کہ باپ کو کوئی اہمیّت نہیں دی گئی، کیونکہ ان میں سے بہت سی مشکلات میں باپ بھی ماں کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ ماں کا حِصّہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا ماں کے تذکرے کو بہت اہمیّت دی گئی ہے۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورہٴ بقرہ کی ۲۳۳ ویں آیت میں رضاعت (دودھ پلانے) کی مدّت پُورے دو سال ذکر کی گئی ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے۔ "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ" "مائیں اپنے بچوں کو دو سال مکمل دودھ پلانے کے عرصے کو مکمل کرنا چاہیں۔" جب کہ زیر تفسیر آیت میں "حمل اور رضاعت" کی مجموعی مدّت صرف تیس ماہ بیان ہوئی ہے، تو کیا حمل کا دورانیہ چھ ماہ ہو سکتا ہے؟ فقہاء اور مفسرین نے اسلامی روایات کی روشنی میں جواب دیا ہے کہ: جی ہاں! حمل کی کم از کم مدّت ۶ ماہ اور مفید رضاعت کا زیادہ سے زیادہ عرصہ ۲۴ ماہ ہو سکتا ہے، حتی کہ "جالینوس" اور "ابنِ سینا" جیسے قدیم اطباء سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ چیز دیکھی ہے کہ بچہ چھ ماہ کی مدت حمل کے بعد بھی پیدا ہوا ہے۔ حتمی طور پر قرآنی تعبیر سے یہ بات بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ حمل کی مُدّت سے جس قدر عرصہ کم کیا جائے گا بچے کی رضاعت اسی قدر اس کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ دونوں عرصہ مل کر تیس ماہ بن جائیں۔ ابن عباس سے بھی یہی بات نقل کی گئی ہے کہ اگر عورت کے حمل کی مدت نو ماہ ہو تو اسے اپنے بچے کو اکیس ماہ دودھ پلانا چاہیے اور اگر چھ ماہ ہو تو چوبیس مہینے۔ قانونِ فطرت بھی اسی بات کا متقاضی ہے کیونکہ دوران حمل کی کمی تلافی رضاعت کی مُدّت کے دوران کی جانا چاہیے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے: انسانی زندگی اسی طرح جاری اور ساری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ زمانہ پہنچ جاتا ہے جس میں وہ جسمانی طاقت کے لحاظ سے اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کی حُدود میں داخل ہو جاتا (حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً)۔ (تشریحی نوٹ: "حتّٰی" یہاں پر ایک محذوف جُملے کے لیے غایت کے طور پر جس کی تقدیری صورت یوں ہے۔ وَعَاش الإنسان واستمرت حياته حتى إذا بلغ أشده۔" بعض مفسرین اسے "وصینا" کی غایت یا "ماں، باپ کی اپنے بچّے کی نگرانی" کی غایت سمجھتے ہیں اور یہ دونوں احتمالات بعید معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ نہ تو ماں باپ کے ساتھ نیکی کے بارے میں حکم الہٰی چالیس سال تک ختم ہو جاتا ہے اور نہ ہی بچے کے لیے والدین کی دیکھ بھال چالیس سال تک قائم رہتی ہے)۔ بعض مفسرین "بلوغ اشدّ" (انتہائی مرحلے تک پہنچ جانے) کو چالیس سال کے عرصے تک پہنچ جانے سے ہم آہنگ اور اس کی تاکید سمجھتے ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ "بلوغِ أشدّ" اشارہ ہے جسمانی طور پر بالغ ہونے کی طرف اور "بلوغ اربعین سنہ" (چالیس سال تک پہنچ جانا) فکری اور عقلی طور پر بلوغ کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ مشہور ہے کہ انسان عام طور پر چالیس سال کے سن میں عقل کے کامل ہونے کے مرحلے کو پہنچ جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکثر و پیشتر انبیاء چالیس برس کے سن میں نبوّت پر مبعُوث ہُوئے۔ ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ جسمانی لحاظ سے قدرت و طاقت تک پہنچنے کا سِن بلُوغ کون سا ہے؟ اس بارے میں بھی مفسرین کی مختلف آراء ہیں، بعض لوگ تو بلوغ کا وہی مشہور سن جانتے ہیں جو سُورہٴ بنی اسرائیل کی ۲۴ ویں آیت میں مذکور ہوا ہے۔ یتیموں کے بارے میں جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جب کہ بعض روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ یہ سن اٹھارہ سال کا ہے۔ البتہ اس بارے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ یہ تعبیر مختلف مقامت پر مختلف معانی دے جو قرینے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: " إنّ الشيطان يجر يده على وجه من زاد على الأربعين و لم يتب، ويقول بابى وجه لا يفلح ۔" شیطان اپنا پاتھ ان لوگوں کے چہرے پر پھیرتا ہے جو چالیس سال کی عمر کو تو پہنچ جاتے ہیں لیکن گناہوں سے توبہ نہیں کرتے اور کہتا ہے میرا باپ قربان جائے اس چہرے پر جو کبھی کامیاب نہیں ہو گا (اور اس انسان کی پیشانی پر کامیابی کا نور نہیں چمک رہا ہے)۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، جلد ۲۶، ص ۱۷)۔ ابن عباس سے منقول ہے: " من أتى عليه الأربعُون سنة فلم يغلب خيره شره فليتجهزّ إلى النّار۔" "جس شخص پر چالیس سال گزر جائیں اور اس کی نیکی اس کی بُرائی پر غالب نہ آئے اسے جہنم کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔" بہرحال، قرآن مجید سلسلہ گفتگو کوآگے بڑھاتے ہُوئے کہتا ہے کہ جب یہ لائق اور بایمان شخص چالیس سال کے سن کو پہنچتا ہے تو خدا سے تین چیزوں کی درخواست کرتا ہے: سب سے پہلے تو کہتا ہے۔ خداوندا! مجھے ہدایت عطا فرما اور توفیق دے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں۔ (قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ)۔ (تشریحی نوٹ: "اوزعنی"، "ایزاع" کے مادہ سے ہے، جس کے کئی معانی ہیں، (۱) ہدایت کرنا ( ۲) بےراہ روی سے روکنا (۳) عشق و محبت پیدا کرنا (۴) توفیق دینا)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ باایمان شخص ایسے سن و سال میں ایک تو خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی گہرائی اور گیرائی سے آگاہ ہو جاتا ہے اور دوسرے اپنے والدین کی ان خدمات سے اچھی طرح باخبر ہو جاتا ہے اور اس عرصے تک بجا لائے ہیں اور وہ اس عمر کی پہنچا ہے، کیونکہ ایسے سن و سال میں انسان عام طور پر خود بھی صاحبِ اولاد ہو جاتا ہے اور اپنے والدین کی طاقت فرسا تکالیف اور ایثار پر مبنی خدمات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور بےاختیار انہیں یاد کرتے ہُوئے خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ اپنی دوسری درخواست ان الفاظ میں میں پیش کرتا ہے"خداوندا! مجھے توفیق عطا فرما کہ نیک اعمال بجا لاؤں ایسے اعمال جن سے تو راضی ہو" (وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ)۔ آخر میں تیسری درخواست ان الفاظ میں پیش کرتا ہے: خداوندا! میری اولاد اور میرے خاندان کو اصلاح کے راستے پر دوام عطا فرما (وَاَصْلِحْ لی فی ذُرِّیَّتیِنِّی)۔ "لی" (میرے لیے) کی تعبیر ضمنی طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میری اولاد کی نیکی اور بہتری اس انداز میں ہو کہ اس کے نتائج مجھے بھی ملیں۔ "فی ذریّتی" (میری اولاد میں) کی تعبیر مطلق صُورت میں بیان ہوئی ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیکی اور بہتری کی ہمیشگی اس کے تمام خاندان میں ہو۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پہلی دُعا میں والدین کو شریک کرتا ہے، تیسری میں اولاد کو، لیکن دوسری دُعا میں اپنے آپ کو اور صالح انسان کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اگر ایک آنکھ کے ساتھ خود کو دیکھتا ہے تو دوسری کے ساتھ ان لوگوں کو دیکھتا ہے جو اس پر حق رکھتے ہیں۔ اور آیت کے آخر میں ان دو مطالب کو بیان کر رہا ہے جو ایک دوسر ے کے لیے موٴثر اور عملی امور ہیں، کہتا ہے: پروردگارا! میں اس عمر میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں (إِنِّی تُبْتُ إِلَیْکَ)۔ میں ایسے مرحلہ پر پہنچ چکا ہوں کہ جس میں میری زندگی کے خطوط کو متعیّن ہونا چاہیے اورآخر العمر تک مجھے اسی طرح برقرار رہناچا ہیئے، جی ہاں! میں چالیس سال تک پہنچ چکا ہوں اور میرے جیسے بندے کے لئے کتنی بُری بات ہے کہ تیری طرف رجوع نہ کروں اور آب توبہ سے اپنے تیئں گناہوں سے پاک نہ کروں۔ اور یہ بھی کہتا ہے کہ: میں یقیناً فرمانبرداروں میں ہوں (وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ)۔ درحقیقت، یہ دونوں جُملے ان تین دعاؤں کی پشت پناہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملا کر ان سب کا مفہوم یوں بنتا ہوں کہ: جب میں نے توبہ کر لی ہے اور تیرے حکم کے سامنے غیر مشروط طور پر جھک گیا ہوں تو تُو بھی بزرگواری فرما اور ان نعمتوں سے مجھے سرفراز فرما۔ بعد کی آیت میں اس موٴمن، شکر گزار صالح العمل اور توبہ کرنے والے گروہ کے اجر اور جزا کا واضح ذکر ہے، اس میں تین اہم جزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: یہی تو وہ لوگ ہیں، جن کے بہترین اعمال ہم قبول فرمائیں گے (أُوْلَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا خوش خبری ہو سکتی ہے کہ خداوند بزرگ و قادر و منان ایک کمزور اور ناچیز بندے کے اعمال قبول فرمائے جو دوسرے اعزازات کے علاوہ بذاتِ خود ایک عظیم اعزاز اور بلند مرتبہ اور روحانی نعمت ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندِ عالم تمام نیک اعمال کو قبول فرماتا ہے، تو پھر کیوں کہتا ہے کہ "ان کے بہترین اعمال قبول کریں گے۔" اس سوال کا جواب کچُھ مفسرین نے یوں دیا ہے کہ بہترین اعمال سے مراد واجبات اور مستحبات ہیں جو مناحات کے مقابلے میں اگرچہ وہ نیک اعمال تو ہیں لیکن ان میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ مقبول بھی قرار پائیں اور ان کے ساتھ اجر اور ثواب کا تعلق ہو۔ (تشریحی نوٹ: طبرسی نے مجمع البیان میں، علامہ طباطبائی نے المیزان میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور دوسرے مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں اسی طرح لکھا ہے)۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ خداوند عالم ان کے بہترین اعمال کو قبولیت کا معیار قرار دیتا ہے حتّی کہ دوسرے درجے اور کم اہمیت کے اعمال کو بھی اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم سے پہلے درجے کے اعمال میں شمار کرتا ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہو گا، جیسے کوئی خریدار بیچنے والے کی طرف سے مختلف اجناس کو اپنے فضل و کرم سے اعلیٰ جنس کے حساب سے خریدے اور اور خداوندِ عالم کے فضل اور اس کے لطف و کرم کے بارے میں جو کچھ کہا جائے عجیب نہیں ہے۔ خدا کی دوسری مہربانی ان کے گناہوں سے صرف نظر ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: ہم ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے (وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ) جبکہ ان کا مقام اہل بہشت میں ہے (فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ)۔ (تشریحی نوٹ: "فی اَصْحابِ الْجَنَّة" ایسے محذوف سے متعلق ہے جو"ھم" ضمیر کا حال واقع ہو رہا ہے اور اس کی تقدیری صُورت یوں ہے "حال کونھم موجودین فِی اَصْحابِ الْجَنَّة")۔ خدا کی تیسری مہربانی ان کے ساتھ یہ ہو گی کہ باوجود ان کی لغزشوں کے اللہ تعالیٰ انہیں پاک و صاف کر کے نیک اور پاک لوگوں میں انہیں جگہ دے گا، جو مقربان بارگاہ ربّ العزّت ہوں گے۔ ضمنی طور پر یہاں اس تعبیر سے یہ استفادہ بھی ہوتا ہے کہ "اَصْحابِ الْجَنَّة" سے یہاں مراد وہ مقربان بارگاہِ ایزادی ہیں جن کے پاکیزہ دامن گناہ معصیّت کے غبار سے کبھی آلودہ نہیں ہوئے اور توبہ کرنے والے یہ موٴمن مغفرت الہٰی کے بعد ان کے ساتھ اور ان کے زیر مقام پائیں گے۔ آیت کے آخر میں مذکورہ نعمتوں کی تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا ہے (وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: " وَعْدَ الصِّدْقِ" ایک فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے جو تقدیری طور پر یوں ہے۔ "بعدھم وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذی کانُوا یُوعَدُون بلسانِ الأنبیاء والرّسل")۔ سچا وعدہ کیوں نہ ہو؟ جب کہ وعدہ خلافی یا تو کسِی پشیمانی اور نادانی کی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے اور خداوندِ عالم ان سب سے منزّہ و مبرّہ ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ بہشتی انسان کی صفات:
یہ آیت ایک ایسے بہشتی موٴمن کی تصویر کشی کر رہی ہیں جو پہلے تو اپنے جسمانی نشوونما پھر عقلی کمال کے مرحلے کو طے کرنے کے بعد پروردگارِ عالم کی نعمتوں کے شکرانے اور والدین کی طاقت فرسا تکالیف کا شکریہ ادا کرنے کے مقام پر تک جا پہنچتا ہے، اپنی لغزشوں سے برمحل توبہ کرتا ہے، اولاد کی تربیّت سمیت نیک اعمال کی بجا آ واری کا اہتمام کرتا ہے اور آخر کار فرمان الہٰی کی تعمیل کے لیے اس کے آگے سرتسلیم خم کر کے دُنیا و آخرت کی سربلندی حاصل کر لیتا ہے۔ یہی چیز اس بات کا باعث بن جاتی ہے کہ وہ خداوندِ عالم گوناگوں نعمتوں اور اس کی رحمت و مغفرت کے دریا میں ہمیشہ مستغرق رہے، ایک بہشتی انسان کو انہی صفات سے پہچانا جا سکتا ہے۔
۲۔ "وصینا الانسان":
(ہم نے انسان کو حکم دیا) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اِنسانی اصولوں میں سے ایک ہے یہاں تک کہ جو لوگ کسِی دین و مذہب کے بھی پابند نہیں ہیں وہ بھی فطری ہدایت کے ذریعے اسی اصُول کی پابندی کرتے ہیں۔ بنابریں، جو لوگ اس عظیم فریضے کو ٹھوکر مارتے ہیں وہ نہ صرف صحیح معنوں میں مُسلمان نہیں، بلکہ انہیں انسان کہنا بھی مناسب نہیں ہے۔
۳۔ "احساناً" کی تعبیر:
اس بات کو پیشِ نظر رکھتے ہُوئے کہ اس قسم کے مقامات پر نکرہ کا استعمال کسی چیز کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے آیا ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکم الہٰی کے تحت ماں باپ کی خدمت کے بدلے میں عظیم اور برجستہ نیکی انجام دینی چاہیے۔
۴۔ اولاد کی پرورش میں ماں کی تکالیف:
کا تفصیلی ذکر ایک تو اس وجہ سے ہے کہ وہ تکالیف نہایت واضح اور نمایاں ہوتی ہیں اور دوسرے اس لیے کہ ماں کی تکالیف، باپ کی نسبت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ اسی لیے اسلامی روایات میں بھی ماں کے بارے میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسُولِ پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمتِ حاضر ہو کر عرض کی: "من أبرّ؟ قال: أمّك، قال ثمّ من؟ قال أمّك، قال ثمّ من؟ قال أُمّك، قال ثمّ من؟ قال أباك۔" "یَا رسُول اللہ! کِس شخص کے ساتھ نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ! پوچھا! پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: ماں کے ساتھ! جب اس نے چوتھی بار سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، جلد۲۶، صفحہ ۱۶)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بوڑھی ماں کو اپنے کندھوں پر سوار کر کے خانہ کعبہ کا طواف کروایا اور اسی اثنا میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی۔ "ھل أدّیت حقّھا۔" "حضور! کیا اس طرح سے میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا ہے"؟ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: "لَا، وَلا بِزفرة واحدة۔" "ہرگز نہیں، تم نے تو ابھی ایک سانس کا حق بھی ادا نہیں کیا۔" (بحوالہ: فی ظلال القرآن، جلد۷، صفحہ ۴۱۵)۔
۵۔ قرآنی آیات میں خاندانی رشتے:
والدین کے احترام و اکرام اور اولاد کی تربیّت کو زبردست اہمیّت دی گئی ہے اور مذکورہ بالا آیات میں ان سب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ اس لیے کہ عظیم انسانی معاشرہ خاندان کی مختلف اور چھوٹی چھوٹی اکائیوں سے تشکیل پاتا ہے، جس طرح ایک عظیم عمارت کئی چھوٹے چھوٹے بڑے کمروں سے اور کمرے مختلف پتھروں اور اینٹوں سے وجود میں آتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان چھوٹی اکائیوں میں باہمی وحدت اور استحکام جتنا زیادہ ہو گا اسی قدر معاشرے کی بنیادیں مستحکم تر ہوں گی۔ ہمارے صنعتی دور کے معاشرے کی تباہی کے اسباب میں سے ایک سبب خاندانی نظام کا بگاڑ ہے کیونکہ نہ تو اولاد اپنے والدین کا احترام کرتی ہے، نہ ہی والدین کو اپنی اولاد سے شفقت کا احساس ہے اور نہ ہی میاں بیوی کے مابین مہر و محبت کا حقیقی رابطہ ہے۔ آج کے صنعتی معاشرے میں بڑے بوڑھوں کے لیے جداگانہ آرام گاہیں، جن میں ضعیف اور کمزور والدین قیام پذیر ہوتے ہیں، نہایت ہی درد ناک مناظر پیش کرتی ہیں کیوں کہ ان قیام گاہوں میں ایسے لوگ اقامت گزیں ہوتے ہیں جو کسی کام کے نہیں رہتے اور خاندان والے انہیں وہیں چھوڑ آتے ہیں۔ وہ زن و مرد جو ایک طویل عرصہ معاشرے کی خدمت انجام دیتے رہتے ہیں اور اپنی اولاد کو معاشرے کی خدمت کے لیے وقف کر چکے ہوتے ہیں جب انہیں اپنی اولاد کی مہر و محبت کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی امداد کے محتاج ہوتے ہیں تو انہیں بُری طرح دھتکار دیا جاتا ہے اوروہ وہیں پر موت کے انتظار میں اپنی زندگی کے باقی دن پورے کرتے رہتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ہمیشہ دروازے پر لگی رہتی ہیں کہ شاید کوئی واقف کار یہاں پر آ جاتے اور ایسا اتفاق سال بھر میں شاید ایک یا دو مرتبہ ہی ہوتا ہے کہ کوئی دوست یا واقف شخص بھولے سے وہاں چلا جاتا ہے۔ سچ مچ جب انسان اس قسم کی زندگی کا تصور کرتا ہے تو اسی وقت جینا اس کے لیے دوبھر ہو جاتا ہے اور صرف مادی اور ایمان و مذہب سے عاری "مہذب" دُنیا کے راہ و رسم ایسے ہی ہوتے ہیں۔
۶۔ "ان اعمل صالحاً ترضاہ" کا مفہوم:
یہ جُملہ اس حقیقیت کو بیان کر رہا ہے کہ نیک اعمال ایسی چیز ہوتے ہیں جو خداوندِ عالم کی رضا اور خوشنودی کا موجب ہوتے اور "أحسن ماعَملُوا" (بہترین کام جو انجام دیئے ہیں) کی تعبیر قرآن مجید کی متعدد آیات میں آ چکی ہے اور یہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ خداوند عالم کا بےحساب فضل و کرم، بندوں سے اجر و ثواب کے موقع پر ان کے بہترین اعمال کو معیار قرار دیتا ہے اور سب اعمال اسی حساب سے قبول کرتا ہے۔
تفسیر والدین کے حقوق پائمال کرنے والے
گزشتہ آیات میں اُن مومن لوگوں کا تذکرہ تھا جو ایمان، عمل صالح، حق کی نعمتوں کے شکرانے اور والدین اور اولاد کے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے تقریبِ الہٰی کی راہوں پر گامزن ہُوئے ہیں اور اس کے خاص لطف و کرم سے فیض یاب ہوتے ہیں، لیکن زیر تفسیر آیات میں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے جو بالکل ان کے برعکس ہیں یعنی بےایمان، حق ناشناس اور ماں باپ کے نافرمان لوگ۔ ارشاد ہوتا ہے: اور جو شخص اپنے ماں باپ سے کہتا ہے: تم پر اُف! کیا تم مجھے وعید دیتے ہو کہ میں قیامت کے دن اُٹھایا جاؤں گا حالانکہ مُجھ سے پہلے بہت سے لوگ گزر چکے ہیں جو مر گئے، لیکن دوبارہ ہرگز نہیں اٹھائے گئے (وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِن قَبْلِي)۔ (تشریحی نوٹ: " وَالَّذِي قَالَ ۔۔۔" مبتداء ہے اور بہت سے مفسرین کے مطابق "أُوْلَئِكَ الَّذِينَ۔۔۔" اس کی خبر ہے جو بعد کی آیت میں آئی ہے۔ "مبتداء" کے مفرد اور "أُوْلَئِكَ" کے جمع ہونے میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہے، کیونکہ اس سے جنس مراد ہے، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اس کی خبر محذوف ہو، جس کی تقدیری صورت یوں ہو:" "وَفِی مقابلِ الّذین مضی وصفھم الّذی قال لِوالدیه۔" تو ایسی صورت میں بعد کی آیت مستقل ہے جس طرح کہ "أُوْلَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ ․․․ " مستقل ہے)۔ لیکن والدین ایسے سر پھرے بیٹے کے آگے سرتسلیم خم نہیں کرتے۔"، "اور وہ دونوں ہمیشہ فریاد کرتے ہیں اور خدا سے مدد طلب کرتے ہیں کہ اے بیٹا! تجھ پر افسوس ہے، ایمان لے آؤ کیونکہ خدا کا وعدہ ضرور سچا ہے: (وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ)۔ مگر وہ ہے کہ اسی طرح اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے اور اپنی سرکشی پر ڈٹا رہتا ہے، وہ تکبر اور بڑی بےپرواہی سے کہتا ہے، یہ تو بس اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔" (فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُالْأَوَّلِينَ)۔ یہ جو تم کہتے ہو کہ معاد و قیامت ہو گی اور حساب و کتاب ہو گا یہ سب خرافات ہیں اور گئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں، میں ان کے سامنے کبھی سر نہیں چھکاؤں گا۔ اس آیت میں اس گروہ کے بارے میں جو اوصاف معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: والدین کے حق میں بےاحترامی اور بےادبی، کیونکہ "اُف" ہر غلیظ اور آلودہ چیز کو کہتے ہیں اور توہین اور حقارت کے اظہار کے موقع پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب)۔ نیز بعض ارباب لغت کے نزدیک "اُف" کام معنی وہ گندگی اور میل کچیل ہے جو ناخن کے نیچے اکٹھی ہو جاتی ہے جو گندی بھی ہوتی ہے اور حقیر بھی۔ (تشریحی نوٹ: "اُف" کے بارے میں سُورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۲۳ کے ذیل میں ایک اور بحث بھی موجود ہے (دیکھئے گا تفسیر نمونہ جلد ۱۲)۔ دوسری یہ کہ وہ معاد اور روزِ قیامت پر ہی ایمان نہیں رکھتے، بلکہ اس کا مذاق بھی اڑاتے ہیں اور اسے افسانہ اور خرافانی باتیں سمجھتے ہیں۔ ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ ان کے پاس سننے والے کان نہیں ہیں، وہ حق کے سامنے سر نہیں جھکاتے بلکہ ان کی روح غرور، جہالت اور خود غرضی سے لتھڑی ہوئی ہے۔ یقیناً دِل سوز ماں باپ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اسے جہالت و نادانی کے گرداب سے نکال کر نجات کی راہوں پر لگا دیں تاکہ یہ فرزند دِل بند خدا کے درد ناک عذاب میں گرفتار نہ ہو، لیکن وہ ہے کہ مسلسل اپنے کُفر پر دڈٹا ہوا ہے اور اسی پر مُصر ہے آخرکار ناچار وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ جس طرح گزشتہ آیات میں صالح الاعمال موٴمنین کی جزا کا تذکرہ تھا، اسی طرح یہاں پر گستاخ اور عقل ک اندھے کافروں کا انجام مذکور ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، یہ لوگ جنّوں اور انسانوں کی دوسری کافر امتیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، ان ہی میں شامل ہیں، ان پر بھی عذاب کا وعدہ پایہٴ ثبوت کو پہنچ چکا ہے اور یہ بھی درد ناک عذاب میں گرفتار ہوں گے اور یہ بھی جہنمی ہیں۔" (َأُوْلَئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ )۔ (تشریحی نوٹ: "حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْل" کا جُملہ اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے، جو خدا نے کافروں اور گناہگاروں کی سزا کے بارے میں فرمائی ہے اور تقدیری طور پر یوں ہے: "حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْل بِأَنَّھُمْ أھْلَ النّار .... " اور "فی امم" حال واقع ہو رہا ہے)۔ کیونکہ وہ سب لوگ گھاٹا اٹھانے والے تھے (إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ)۔ اس سے بدتر گھاٹا اور کیا ہو گا کہ اپنا تمام سرمایہ حیات ضائع کر کے خدا کے غیظ و غضب کو خرید چکے ہیں۔ ان دونوں، بہشتی اور جہنمی گروہوں کے تقابل کی صُورت میں، ان آیات سے ہمیں مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں: O۔ بہشتی افراد اپنی ہدایت اور ارتقاء کے مراحل طے کرتے ہیں جبکہ اہل جہنّم اپنا تمام سرمایہ لٹا کر خسارہ اٹھاتے ہیں۔ وہ حق شناس اور شکر گزار ہیں حتی کہ اپنا والدین بھی، لیکن یہ حق ناشناس، گستاخ اور بےادب ہیں حتی کہ اپنے والدین کے بھی۔ O۔وہ بہشت میں "مقربین الہٰی" کے ساتھ ہیں اور یہ دوزخ میں بے ایمان لوگوں کے زمرے میں گویا: ؏ کندہم جنس باہم جنس پرواز O۔ وہ جب کسی لغزش کا شکار ہوتے ہیں تو فوراً توبہ کر کے حق کے آگے جُھک جاتے ہیں کہ لیکن یہ مغرور و سرکش اور خوُد غرض و متکبّر ہوتے ہیں۔ O۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم ٹولہ اپنی بے راہ روی کو گزشتہ اقوام کی کیفیّت کا آئینہ دار قرار دیتا ہے۔ لہٰذا دوزخ میں بھی انہی کے ساتھ محشور ہو گا۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں پہلے تو ان دونوں گروہوں کے مختلف درجات اور مراتب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ان لوگوں نے جیسے کام کیے ہوں گے انہی کے مطابق سب کے درجے ہوں گے (وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا)۔ (تشریحی نوٹ: "مِمَّا عَمِلُوا" میں "من"، "نشویه" ہے یا پھر تعلیل کے معنی میں ہے یعنی "من أَجَل مَا عَملُوا")۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ بہشتی یا جہنمی سب ایک ہی درجے پر فائز ہوں، بلکہ وہ بھی اپنے اعمال کے تفاوت، خلوص نیت کے تناسب اور معرفت کے میزان کے لحاظ سے مختلف مقام رکھتے ہیں اور صحیح معنوں میں عدالت یہیں پر حکم فرما ہے۔ "درجات"، "درجہ" کی جمع ہے جو عام طور پر اس زینے کو کہا جاتا ہے جس سے اُوپر چڑھا جاتا ہے اور "درکات"، "درک" (بروزن "مرگ") کی جمع ہے جو ان سیڑھیوں کو کہا جاتا ہے جن سے نیچے اترا جاتا ہے۔ لہذا بہشتیوں کے لیے "درجات" اور جہنمیوں کے لیے "درکات" کے کلمات استعمال ہُوئے ہیں۔ لیکن زیر تفسیر آیت میں دونوں کا یکجا تذکرہ ہوا ہے اور اہل بہشت کے مقام کی اہمیّت کے پیش نظر دونوں کے لیے "درجات" کا لفظ آیا ہے اور اصطلاح طور پر "غلبہ" کے باب سے ہے۔ (تشریحی نوٹ: "درک" (را کے سکون کے ساتھ) اور "درک" (را پر زیر کے ساتھ) انہتائی گہرائی کے معنی کے لیے آتے ہیں اور کبھی "درک" (زبر کے ساتھ) نقصان کے معنی میں اور"درک" (سکون کے ساتھ) چیز کے سمجھنے اور ادراک کرنے کے معنی میں بھی آتے ہیں (دَرک کسی چیز کی حقیقت اور گہرائی کی مناسبت سے)۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے "تاکہ خدا انہیں ان کے اعمال بے کم و کاست دے دے" (وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ)۔ یہ تعبیر "تجسّم اعمال" کے مسئلے کی طرف ایک اور اشارہ ہے کہ وہاں پر انسان کے اعمال خود اسی کے ساتھ ہوں گے۔ اس کے نیک اعمال اس کے لیے رحمت اور اطمینان کا موجب بنیں گے اور بُرے عمل بلا، إضطراب، رنج اور عذاب کا سبب۔ آخر میں تاکیدی طور پر فرمایا گیا ہے: اور ان پرکچھ ظلم نہیں کیا جائے گا (وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ)۔ کیونکہ وہ اپنے ہی اعمال کو پالیں گے تو پھر ظلم و ستم کا تصوّر کیسا؟ اس کے علاوہ ان کے "درجات" اور"درکات" بھی اچھی طرح مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کا چھوٹے سے چھوٹا نیک یا بدعمل بھی ان کی سرنوشت کے لیے موٴثر ہو گا۔ تو پھر ظلم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ آیت بنی اُمیہ کی طرف کیسے تحریف کی گئی؟
ایک روایت میں ہے کہ معاویہ نے اپنے مدینہ کے گورنر مروان کو خط لِکھّا کہ لوگوں سے اس کے بیٹے یزید کے لیے بیعت لے۔ عبدالرحمن بن ابی بکر بھی اسی مجلس میں بیٹھے ہُوئے تھے۔ انہوں نے کہا معاویہ یہ کام ہرقل اور کسریٰ (روم و ایران کے بادشاہوں) کے مانند انجام دینا چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے بیٹوں کو (خواہ وہ کتنا ہی نااہل اور بدکار ہوتے) اپنا جانشین مقرر کرتے تھے۔ مروان نے منبر سے چلّا کر کہا: خاموش رہو! تم تو وہی ہو جس کے بارے میں یہ آیت اُتری ہے۔ "وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا۔" حضرت عائشہ بھی وہیں پر موجود تھی۔ مروان کی طرف مُنہ کر کے بولیں: "تم جُھوٹ بکتے ہو، میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہُوئی ہے۔ اگر کہو تو تمہیں اس کے نام و نسب سے بھی آگاہ کر دوں! البتہ رسُولؐ اللہ نے تمہارے باپ پر اس وقت لعنت کی ہے جب تم ابھی اس کی پشت میں تھے، اس لیے تم رسُولؐ خدا کی لعنت کا نتیجہ ہوا۔" (بحوالہ: ملاحظہ ہو تفسیر رُوح الجنان ابو الفتوح رازی، جلد ۱۰، صفحہ ۱۵۹، نیز قرطبی نے بھی اس روایت کو کچھ فرق کے ساتھ اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے ملاحظہ ہو، جلد ۹، ص ۲۰۱۷)۔ جی ہاں! عبدالرحمن کا گناہ ایک تو یہ تھا کہ وہ امیرالمومنین علیہ السلام سے محبت کیا کرتے تھے، جو بنی امیہ کے لیے سخت ناگوار بات تھی۔ دوسرے وہ خلافت کو موروثی بنانے اور اسے ملوکیّت میں تبدیل کرنے کے سخت مخالف تھے اور یزید کے لیے بیعت طلبی کو قیصر و کسریٰ کی پالیسی کا نام دیتے تھے۔ اسی لیے اسلام کے قسم خوردہ دشمنوں یعنی بنی اُمیّہ کی طرف سے ان پر اس قسم کے شدید حملے کیے گئے اور ان کے بارے میں آیاتِ قرآنی کے معانی کی تحریف کی گئی۔ حضرت عائشہ نے مروان کو کیا خوب جواب دیا کہ "خدا نے تم پر اس وقت لعنت کی ہے جب تم ابھی پشت پدر میں تھے" اور یہ اشارہ ہے سورہٴ بنی اسرائیل کی ۶۰ ویں آیت کی طرف جس میں کہا گیا ہے۔ "وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي القُرْآنِ۔" (تشریحی نوٹ: اس آیت کی تفسیر کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۱۲ کی طرف رجوع فرمائیں، نیز یہ بھی توجہ رہے کہ مروانِ، حکم کا بیٹا، ابی العاص کا پوتا اور امیہ کا پڑپوتا تھا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر زہد اور آخرت کا ذخیرہ:
Tafsīr Nemūna · Vol. 7کفار و مجرمین کی سزا کے بارے میں یہ آیت بھی گزشتہ آیات کے مانند اسی سِلسلے کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے اور ان کے جسمانی اور روحانی عذاب کے چند گوشوں کو اُجاگر کر رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جس دن کافر لوگ جہنم کے سامنے لائے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنی دنیاوی زندگی میں مزے لوٹ چکے ہو اور اس سے بہرہ مند ہو چکے ہو، توآج تم کو ذلت بار عذاب سے سزا دی جائے گی اس لیے کہ تم زمین میں ناحق تکبّر کیا کرتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے۔ وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یوم" ظرف ہے اور ایک محذوف فعل سے متعلق ہے جو بعد کے جملے سے سمجھا جاتا ہے اور تقدیری طور پر یُوں ہے: " وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ․․․")۔ جی ہاں! تم لذتوں میں غرق تھے اور اس دُنیا کی مادی نعمتوں سے بہرہ برداری کے علاوہ تم اور کچھ نہیں جانتے تھے، اور مادر پدرآزادی کی بناء پر تم معاد کا انکار کرتے تھے تاکہ تمہارے ہاتھ بالکل کھلے رہیں اور دُنیاوی نعمتوں کے حصُول میں تم دوسروں پر ہر طرح کا ظلم روا رکھتے تھے، لہذا آج تم ان تمام ہو سرانیوں، خواہشات پرستیوں، ظلم و تکبر اور فسق و فجور کی سزا پاؤ۔
چند اہم نکات ۱۔ کفار کا جہنم کو پیش کیا جانا:
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیت کہتی ہے کہ قیامت کے دن کفّار جہنم کو پیش کیے جائیں گے اور اسی سے ملتی جُلتی سورہٴ موٴمن ۴۶ ویں آیت ہے جو فرعون کے ساتھیوں کے بارے میں کہتی ہے: " النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا۔" "ہر صبح و شام وہ جہنم کو پیش کیے جاتے ہیں۔" جب کہ قرآن پاک کی بعض دوسری آیات میں ہے کہ "جہنم" کفار کو پیش کی جائے گی، جیسا کہ سُورہٴ کہف کی آیت ۱۰۰ میں ہے: "وَعَرَضْنا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِلْکافِرینَ عَرْضاً" "اس دن ہم جہنم کو کافروں کےلیے پیش کریں گے۔" لہذا بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ پیشی دو طرح کی ہے ایک تو حساب و کتاب سے پہلے پیشی اس وقت جہنم کو کفار کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس طرح سے خوف و ہراس ان کے تمام وجود میں سما جائے (جو بجائے خود ایک رُوحانی عذاب ہے) اور دوسری حساب و کتاب اور انہیں جہنم کی طرف بھیجنے کے بعد کی پیشی تو اس وقت وہ خود عذابِ جہنم کو پیش کیے جائیں گے (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد۱۸، صفحہ ۲۲۳ انہی آیات کے ذیل میں)۔ بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عبارت میں ایک طرح کا "قلب" پایا جاتا ہے اور کفّار کو جہنم کے لیے پیش کرنے سے مراد وہی جہنم کو کفار کے لیے پیش کرنا ہے، کیونکہ آگ میں عقل و شعور تو پایا نہیں جاتا کہ اسے کفار کے لیے پیش کیا جائے اور پیشی کا اطلاق ایسی صورت میں ہوتا ہے جب مدّمقابل میں شعور پایا جاتا ہو۔ لیکن اس نظریے کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ قرآن کہ کچھ آیات میں جہنم کے لیے ایک طرح کے ادراک اور شعور کا تذکرہ ملتا ہے، یہاں تک کہ خدا کے اس سے باتیں کرنے کا ثبوت بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ خدا اس سے پوچھے گا کہ: "ھل إمتلات ؟ِ۔" "کیا تو بھر گئی ہے؟۔" تو وہ جواب دے گی۔" ھل مِن مزید"؟۔ "آیا اور بھی کچھ ہے؟" (ملاحظہ ہو سورہٴ ق / ۳۰)۔ حق یہ ہے کہ "پیش کرنے" کی حقیقت یہ ہے کہ دو چیزوں کے درمیان موجود رکاوٹوں کو اس حد تک دُور کیا جائے کہ ایک چیز دوسری چیز کے اختیار میں آ جائے، کفار اور دوزخ کے بارے میں بھی یہی صورتِ حال ہے کہ ان دونوں کے درمیان موجود رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی لہذا ایسی صورت میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انہیں آگ کے سامنے لایا جائے گا اور آگ کو ان کے سامنے لایا جائے گا۔ اور دونوں تعبیریں صحیح ہیں۔ اس صورت میں اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ "پیش کیے جانے" کو جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں لایا جائے جیسا کہ طبرسی نے مجمع البیان میں ذکر کیا ہے، بلکہ یہ پیشی بھی بذاتِ خود درد ناک اور ہولناک عذاب کی طرح ہے جو کہ جہنم میں داخل ہونے سے قبل اہل جہنم اس کے تمام حصّوں کو باہر سے بچشم خود دیکھ لیں گے اور اپنے منحوس انجام کا مشاہدہ کر لیں گے اور دِل ہی دل میں رنج اٹھائیں گے۔
۲۔ "اذھبتم طیّباتکم“ کا مفہوم:
یہ جملہ دنیاوی لذتوں کے استفادے کے معنی میں ہے اور "أذھبتم" (تم لے گئے) کی تعبیر اس لیے ہے کہ یہ لذتیں اور نعمتیں استعمال کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ یقینا اس دُنیا میں خدا کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانا کوئی بُری بات نہیں ہے۔ جو بات بُری ہے وہ یہ ہے کہ انسان اِن مادی لذتوں میں مگن ہو کر خدا اور قیامت کو فراموش کر دے یا گناہ آلُود اور بےمہار ہو کر ان لذّتوں سے بہرہ برداری کی جائے اور دوسروں کے حقوق غصب کیے جائیں۔ یہ سب کچُھ اس زمرے میں آ جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ تعبیر قرآن مجید میں صرف اسی آیت میں دکھائی دیتی ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کہ بھی انسان دنیاوی لذتوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے یا خدائی فرائض بجا آوری کے لیے توانائی حاصل کرنے کی حد تک ہی ان سے استفادہ کرتا ہے تو ایسی صُورت میں گویا وہ ان "طیبات" کو اپنی آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے۔ لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ چوپاؤں کے مانند بےمہار ہو کران سے استفادہ کرتا ہے اور سب کو اسی دُنیا ہی میں ختم کر کے آخرت کی راہ لیتا ہے اورآخرت کے لیے کچھ بھی ذخیرہ نہیں کرتا بلکہ اُلٹا گناہوں کا بوجھ اپنے لیے فراہم کرتا ہے تو اس صورت کو ملحوظ رکھتے ہُوئے قرآنی آیت کا اطلاق یوں ہو گا کہ "أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا۔" لغت کی بعض کتابوں میں منقول ہے کہ اس جُملے سے مراد یہ ہے: "أنفقتُمْ طيباتٍ مّا رَزَقتم فِى شَهوَاتكُم وَ فِى ملاذ الدّنیا، وَلَم تنفقوها فِى مَرَضَاتِ الله۔" "تمہیں جو پاکیزہ رزق عطا کیا گیا اسے تم نے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی راہوں میں خرچ کر ڈالا اور خدا کی خوشنودی کے لیے اسے خرچ نہیں کیا۔" (مجمع البحرین مادہ "ذھب")۔
۳۔ "طیّبات" کا وسیع مفہوم:
اس کا معنی وسیع ہے اور تمام دُنیاوی نعمتوں پر محیط ہے۔ہر چند کہ بعض مفسرین نے اسے صرف جوانی کی توانائیوں کے معنی میں تفسیر کیا ہے، لیکن حق یہ ہے کہ جوانی اس کا صرف ایک مصداق ہو سکتا ہے۔
۴۔ "عذاب الھون":
(حقارت و توہین آمیز عذاب) ردّعمل ہے ان کے زمین پر تکبر کرنے کا، کیونکہ خدائی سزا گناہ کی نوعیّت سے بالکل ہم آہنگ ہوتی ہے، جن لوگوں نے اللہ کی مخلوق یہاں تک کہ اس کے انبیاء کے سامنے غرور و تکبر کا مظاہرہ کیا اور کسی قانون کے سامنے نہ جھکے انہیں ایسا تحقیر آمیز اور رسواکن عذاب دیکھنا ہی چاہیے۔
۵۔ "اہل جہنم کے دو گناہوں کا تذکرہ:
آیت میں ان کے دو گناہوں کا ذکر ہے۔ ایک تو "زمین میں غرور" اور دوسرے "فسق" مممکن ہے کہ پہلا ان کے آیاتِ الہٰی، بعثت انبیاء اور قیامت پر ایمان نہ لانے کی طرف کی اشارہ ہو اور دوسرا مختلف گناہوں کی طرف تو گویا ایک اصول دین کے ترک کرنے اور دوسرا فروع دین کے پائمال کرنے کی بات ہے۔
۶۔ "غیر الحق" کی تعبیر:
یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ استکبار کی دو قسمیں ہیں ایک "حق" اور دوسری "ناحق" بلکہ اس قسم کی تعبیر عام طور پر تاکید کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس کی مثالیں عام ہیں۔
۷۔ عظیم پیشواؤں کا زہد:
حدیث اور تفسیر کے مختلف ذرائع میں اسلام کی عظیم ہستیوں کے بارے میں بہت سی روایات نقل کی گئی ہیں، جن کے ذریعے اسی آیت کے بارے میں استناد کیا گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت عمر" مشربه أمّ إبراهيم" (مدینہ کے نزدیک ایک مقام) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کی ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور بدن مبارک کا کچھ حصّہ زمین پر ہے اور کھجور کے پتوں کا ایک تکیہ سر کے نیچے ہے، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور بیٹھ گئے عرضِ کرنے لگے: "آپ اللہ کے رسول اور اس کی بہترین مخلوق ہیں، قیصر و کسریٰ تو طلائی تختوں، ابریشمی بستروں پر سوئیں اور آپ کی یہ حالت ہو؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "أولئك قوم أجلت طيباتهم، وَهِىَ وَشيكة الإنقطاع وَإِنَّمَا آخرت لَنَا طَيِّبَاتِنَا۔" "وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے طیبات اسی دنیا میں دے دیئے گئے ہیں جو جلد ختم ہو جائیں گے۔" جبکہ ہمارے طیبات کوآخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا گیا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۹، صفحہ ۸۸)۔ ایک اور روایت میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایک دن خاص قسم کا حلوہ آنجناب کی خدمت میں لایا گیا تو آپ علیہ السلام نے اسے نوش فرمانے سے انکار کر دیا، پوچھا گیا " آیا آپ اسے حرام جانتے ہیں؟" فرمایا نہیں۔ "وَلكنى أخشى إن تتوق إليه نَفسى فَاطلبه، ثمّ تلا ھٰذہ الایة: أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ فِي حَياتِكُمُ الدُّنْيا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِها۔" "مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ میرا نفس اس کا مشتاق ہو جائے اور میں ہمیشہ اس کی طلب میں لگ جاؤں، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ فِي حَياتِكُمُ الدُّنْيا ... (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد۴، صفحہ۱۷۵ اسی آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: "إنّ أمير المؤمنين (ع) اشتهى كبدا مشوية على خبز لينه فاقام حولا يشتهيها، ذكر ذلك للحسن (ع) وهو صائم يومًا مِنَ الأيام فصنعها له فلما أراد أن يفطر قربها إليه، فوقف سائل بالباب، فقال:يا بنىَّ! إحملها إليه، لا تقرأ صحيفتنا غدًا: أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ فِي حَياتِكُمُ الدُّنْيا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِها۔" "امیرالمومنین علیہ السلام کا بھُنی ہوئی کلیجی کو نرم روٹی کے ساتھ کھانے کو جی چاہا اور اس خواہش کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا، ایک دن امام حسن علیہ السلام سے اس خواہش کی تکمیل کا اظہار فرمایا اور اس دن حضرت امیر علیہ السلام روزے سے تھے، جب مذکورہ کھانا افطار کے وقت تیار ہو گیا تو سائل نے آ کر دروازے پر دستک دی، امیرالمومنین علیہ السلام نے حکم دیا یہ کھانا سائل کو دے دیا جائے مبادا کل بروز قیامت جب ہمارا نامہٴ اعمال پڑھا جائے تو ہم سے کہیں "أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ فِي حَياتِكُمُ الدُّنْيا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِها" (تم تو اپنی طیبات سے دُنیا میں بہرہ ور ہو چکے ہو اور ان سے لذّت اُٹھا چکے ہو)۔ (بحوالہ: سفينة البحار" جلد 2 ماده كبد)۔
تفسیر قوم عاد اور تباہ کُن آندھی
قرآن مجید کُلی حقائق کو بیان کرنے کے بعد ان کے قابلِ ذکر مصداق بیان کرتا ہے تاکہ وہ کلی حقائق سامنے آ جائیں۔ لہٰذا یہاں پر بھی سرکش مستکبرین اور ہوس پرست متکبرین کے احوال کی وضاحت قومِ عاد کی مثال سے لی گئی ہے جو ایک واضح نمونہ ہے، ارشاد ہوتا ہے: مکہ کے ان مشرکین کو قومِ عاد کے بھائی (ہود) کی سرگذشت یاد دلا (وَاذْكُرْ أَخَا عَادٍ )۔ "اخ" (بھائی) کی تعبیر اس عظیم پیغمبر کی اپنی قوم کے ساتھ نہایت ہی دل سوزی اور اس کے ساتھ نہایت ہی محبت کو بیان کر رہی ہے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ تعبیر بہت سے عظیم انبیاء کے بارے میں قرآن مجید میں استعمال ہوئی ہے، وہ اپنی قوم کے لیے دِل سوز اور مہربان بھائی تھے اور انہوں نے ان کے لیے کسِی ایثار سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ ممکن ہے یہ تعبیر ضمنی طور پر ان کی اپنی قوموں سے رشتہ داری کی طرف بھی اشارہ ہو۔ پھر فرمایا گیا ہے: جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین أحقاف میں ڈرایا، جب کہ ان سے پہلے ماضی قریب اور بعید میں بہت سے انبیاء گزر چکے تھے، جنہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا، جب کسان سے پہلے ماضی قریب اور بعید میں بہت سے انبیاء گزر چکے تھے، جنہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا (إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُ بِالْأحقاف وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ )۔ "أحقاف" کے متعلق ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ اس کا معنی وہ اُڑنے والی ریت ہے جو ہواؤں کے ذریعے جنگلوں اور بیابانوں میں مستطیل اور کج مج صُورت میں ڈھیروں کی صُورت میں جمع ہوتی رہتی ہے اور اس تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ قومِ عاد کا علاقہ ایک بہت بڑا ریگستان تھا۔ بعض لوگ اس کا محل وقوع جزیرہ نمائے عرب کے دل یعنی "نجد"، "احساء"، "حضر موت" اور"عمان" کے درمیان کا علاقہ قرار دیتے ہیں۔ (بحوالہ: اعلامِ قرآن،ص ۹۴)۔ لیکن یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے، کیونکہ دوسری قرآنی آیات (مثلاً سُورۀ شعراء) سے یہ معلُوم ہوتا ہے کہ قومِ عاد ایسی جگہ رہتی تھی، جہاں پانی کی فراوانی تھی اور خوبصُورت درخت موجود تھے اور جزیرہ نمائے عرب میں ایسی چیز بہت بعید ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے اسے جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں بتایا ہے جو یمن کے اطراف میں یا بحیرہ عرب کے ساحلوں پر تھی۔ (بحوالہ: "فی ظلال القرآن" انہی آیات کے ذیل میں)۔ بعض حضرات کا خیال یہ بھی ہے کہ "أحقاف" سرزمین عراق میں کلاہ اور بابل کے علاقوں میں سے ایک علاقہ ہے۔ (بحوالہ: مرحوم شعرانی نے تفسیر ابوالفتوح رازی کے حاشیہ پر نقل کیا ہے ملاحظہ ہو، جلد۱۰، صفحہ ۱۶۵)۔ "طبری" کہتے ہیں کہ شام میں "أحقاف" نامی ایک پہاڑ ہے (بحوالہ: ۔مرحوم شعرانی نے تفسیر ابوالفتوح رازی کے حاشیہ پر نقل کیا ہے ملاحظہ ہو، جلد۱۰، صفحہ ۱۶۵)۔ لیکن "أحقاف" کے لغوی معنی کی مناسبت اور اس چیز کے پیش نظر کہ ان کہ سرزمین چلنے والی ریت سے غیر محفوظ ہونے کے باوجُود پانی کی دولت سے مالا مال اور درختوں سے سر سبز تھی ان لوگوں کے قول کو زیادہ تقویت حاصل ہوتی ہے کہ یہ سرزمین جزیزہ نمائے عرب کے جنوب اور یمن کے نزدیک تھی۔ " وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ " (ڈرانے والے انبیاء جو ہُود علیہ السلام کے آگے پیچھے آ چکے تھے) یہ ان انبیاء کی طرف اشارہ ہے جو ان سے پہلے مبعوث ہو چکے تھے، کچھ تو بہت کم مُدّت کے فاصلے سے آئے تھے، جن کے بارے میں قرآن نے "مِن بَيْنِ يَدَيْهِ " کہا ہے اور کچُھ بہت زیادہ مدّت کے فاصلے سے کہ جنہیں "مِنْ خَلْفِهِ " سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن بعض حضرات نے جو یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس جُملے سے مراد وہ انبیاء ہیں جو ہُود سے پہلے گزر چکے تھے، یا ہود علیہ السلام کے بعد آئے تھے، بہت ہی بعید معلوم ہوتا ہے اور "قَد خَلت" سے بھی ہم آہنگ نہیں ہے جو زمانہ ماضی کا معنی دیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عظیم پیغمبر کی نبّوت کن امور پر بنتی تھی؟ قرآن کہتا ہے: (ہود نے اُن سے کہا) خدائے واحد کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو" (أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللهَ)۔ پھر اُنھیں متنبہ کرتے ہُوئے مزید کہا: میں تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ)۔ اگرچہ "یوم عظیم" کے الفاظ عام طور پر قیامت کے دن کے معنی میں آئے ہیں، لیکن قرآنی آیات میں کبھی ان وحشت ناک اور سخت ایام پر بھی اس اطلاق کیا گیا ہے جو امتوں پر گزر چکے ہیں اور یہاں پر بھی یہی معنی مراد ہیں، کیونکہ ہم انہی آیات میں آگے چل کر پڑھیں گے کہ آخرکار قومِ عاد ایک سخت اور وحشتناک روز خدائی عذاب میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہو گئی۔ لیکن اس ہٹ دھرم اور سرکش قوم نے خدا کی اس دعوت کے مقابلے کی ٹھان لی اور حضرت ہُود علیہ السلام سے اس قوم کے افراد بولے": کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں جُھوٹ اور فریب کے ذریعے ہمارے خداؤں سے پھیر دے (قالُوا اَجِئْتَنا لِتَاْفِکَنا عَنْ آلِهَتِنا) (تشریحی نوٹ: "لِتَاْفِکَنا"، "إفک" کے مادہ سے ہے جس کا معنی جُھوٹ اور حق سے انحراف ہے)۔ تُو اگر سچ کہتا ہے، تو جس عذاب کی ہمیں دھمکی دیتا ہے اسے لے آ (فَاْتِنا بِما تَعِدُنا إِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقینَ)۔ یہ دونوں جُملے اس سرکش قوم کی بے راہ روی اور ہٹ دھرمی کو بخوبی واضح کر رہے ہیں کیونکہ پہلے جُملے میں وہ کہہ رہے ہیں کہ تیری یہ دعوت ان معبودوں کے برخلاف ہے جن کے ہم خوگر ہو چکے ہیں اور جو ہم نے اپنے آباو اجداد سے ورثے میں پائے ہیں۔ لہذا یہ سب کچھ جُھوٹ اور فریب ہے۔ دوسرے جُملے میں وہ عذاب کا تقاضا کرتے ہیں، ایسا عذاب کہ اگر نازل ہو جائے تو پھر اس سے خلاصی کی راہیں مسدُور ہو جائیں، اس قسم کے عذاب کی کون عقل مند شخص تمنا کر سکتا ہے، ہر چند کہ اس پر یقین نہ بھی رکھتا ہو؟ لیکن ہُود علیہ السلام نے اس احمقانہ تقاضے کے جواب میں اُن سے کہا: "عِلم تو صرف خدا کے پاس ہے۔" (قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللهِ)۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کب اور کن حالات میں وہ تباہ کُن عذاب کو نازل کرے، اس سے نہ تو تمہارے تقاضوں کا تعلق ہے اور نہ ہی میرے ارادے اور اختیار کو اس میں کچُھ دخل ہے، صرف اتمام ِ حجّت کا مقصد پورا ہو جائے کیونکہ اس کی حکمت کا یہی تقاضا ہے۔ پھر فرماتے ہیں: "میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں جو احکام دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تم تک پہنچائے دیتا ہوں۔" (وَأُبَلِّغُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ)۔ میرا اصل فریضہ اور ذمہ داری یہی ہے اور اطاعتِ الہٰی کے لیے ارادہ کرنا تمہارا کام ہے اور عذاب کا ارادہ اور مشیّت خدا کا کام ہے۔ لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہے کہ تم ہمیشہ جہالت اور نادانی میں پڑی رہنے والی قوم ہو، (وَلکِنِّی اَراکُمْ قَوْماً تَجْهَلُونَ)۔ تمہاری بدبختی کا اصل سرچشمہ بھی یہی جہالت ہے اور جہالت بھی ایسی جس میں ہٹ دھرمی، تکبر اور غرور پایا جاتا ہے اور وہ تمیں خدا کے بھیجے ہُو بندوں کی دعوت کا مطالعہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی، ایسی جہالت جو تمہیں عذابِ الہٰی کے نزُول اور تمہاری نابودی پر اُکسا رہی ہے، اگر تمہیں کچُھ علم ہوتا اور ذرّہ بھر سوجھ بوجھ ہوتی تو کم از کم اتنا تو ضرور سوچ لیتے کہ تمام منفی احتمالات کے مقابلے میں کم از کم ایک مثبت احتمال بھی تو موجُود ہے کہ اگر متحقق ہو جائے تو تمہارا کچھ نہیں رہے گا۔ سرانجام ہُود علیہ السلام کی تمام نصیحتیں اور برادرانہ شفقت اور رہبری ان سنگدلوں پر کچُھ اثر نہ کر سکی اور وہ حق کو قبُول کر نے کے بجائے اپنے باطل عقیدے پر بڑی ہٹ دھرمی کے ساتھ ڈٹے رہے، حتٰی کہ نوح علیہ السلام کی بھی لوگ ان الفاظ کے ساتھ تکذیب کرتے تھے کہ "اگر سچ کہتے ہو تو جس عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ کیا ہوٴا؟" اب جب کہ کافی اتمام حجّت ہو چکی اور انہوں نے زندہ رہنے کی عدمِ اہلیّت کا ثبوت فراہم کر دیا تو حکمتِ الہٰی بھی اس بات پر آمادہ ہو گئی کہ ان پر "استیصالی عذاب" یعنی تباہ کن عذاب نازل کرے۔ انہوں نے اچانک دیکھا تو افق پر ایک ابر ظاہر ہوا اور بہت جلد پورے آسمان پر پھیل گیا۔ جب انہوں نے اسے بادل کی صورت میں دیکھا کہ ان کے دردں اور ندی نالوں کی طرف امڈا آ رہا ہے تو خوشی خوشی کہنے لگے یہ تو بارش برسانے والا بادل ہے (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا)۔ (تشریحی نوٹ:"عارض"، "عرض" کے مادہ سے ہے اور یہاں پر اس بادل کے معنی میں ہے جوآسمان پر پھیل جاتا ہے اور شاید بارش برسانے والے بادلوں کی ایک علامت ہے، جو اسی افق پر پھیل کر اوپر بڑھتا جاتا ہے "أودیة"، "وادی" کی جمع ہے، جس کا معنی درّہ اور پانی بہنے کی جگہ ہے)۔ مفسرین کہتے ہیں کہ ایک عرصے تک قوم عاد کے علاقے میں بارش نہیں برسی تھی، موسم بہت گرم اور خشک تھا، یہاں تک کہ دم گھٹنے لگ گیا تھا۔ جب قوم عاد کی نگاہ گھنگھور گھٹا پر پڑی جو دور کی افق سے ان کے آسمان کی جانب رواں دواں تھی تو وہ لوگ اسے دیکھ کر بہت مسرور ہو گئے اور بارش کے استقبال میں اسی جانب چل پڑے اور دورں اور پہاڑی نالوں کے راستوں کے کنار ے پہنچ گئے تاکہ بابرکت بارش کے برسنے کے منظر سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن بہت جلد انہیں بتا دیا گیا کہ یہ بارش برسانے والے بادل نہیں ہیں، "یہ تو وہی وحشت ناک عذاب ہے جس کے آنے کی تم جلدی مچا رہے تھے" (بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ)۔ "یہ وہ وحشت ناک آندھی ہے جو درد ناک عذاب کی حامل ہے" (رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ بظاہر یہ بات کہنے والا خود خداوند بزرگ و برتر ہے یا پھر حضرت ہُود علیہ السلام ہیں۔ جب ان کی خوشی کے نعرے سُنے تو اُن سے یہ کہا گیا۔ جی ہاں یہ تباہ کُن آندھی ہے "جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گی۔" (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا)۔ بعض مفسرین کے بقول "ہر چیز" سے مراد انسان، چوپائے اور ان کے اموال ہیں، کیونکہ بعد کے جُملے میں فرمایا گیا ہے: تو ایسے عالم میں ان کی صبح ہوئی کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا (فَأَصْبَحُوا لَا يُرَى إِلَّا مَسَاكِنُهُمْ)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے گھر تو صحیح سالم تھے لیکن وہ خود ہلاک ہو گئے اور ان کے اجسام اور اموال بھی تیز و تند آندھی کے ذریعے دُور دراز کے جنگلوں، بیابانوں یا پھر سمندر میں پھینک دیئے گئے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب وہ پہلی بار متوجہ ہُوئے کہ یہ سیاہ بادل تو گرد و غبار سے اٹی آندھی کے ہیں اور یہ وہ وقت تھا جب یہ بادل ان کے علاقے کے بالکل نزدیک پہنچ گئے اور ان کے جانوروں اور چروا ہوں کو جو ارد گرد کے بیابانوں میں تھے زمین سے اُٹھا اٹھا کر پٹخنے لگے اور خیموں کو اکھاڑ کر اس قدر اوپر لے جانے لگے کہ وہ ایک ٹڈی کے مانند نظرآ رہے تھے۔ انہوں نے جب یہ منظر دیکھا تو دوڑے دوڑے اپنے گھروں میں جا گھُسے اور دروازے بند کر لیے، لیکن ہوا نے ان کے دروازوں کو بھی اکھاڑ کر زمین پر دے مارا (یا پھر اوپر پھینک دیا) اور"أحقاف" یعنی اڑنے والی ریت کو ان کے جسموں پر ڈال دیا۔ سورہٴ حآقہ کی ساتوں آیت میں ہے کہ "یہ آندھی سات راتیں اورآٹھ دِن تک مسلسل چلتی رہی" وہ مسلسل ریت کے ٹیلوں کے نیچے سے چیخ و پکار کر رہے تھے، پھرآندھی نے ریت کو ان کے اوپر سے ہٹا دیا اور ان کے بدن ظاہر ہو گئے پھر ان اجسمام کو اپنے ساتھ لے جا کر سمندر میں پھینک دیا۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد۲۸، صفحہ ۲۸ انہی آیات کے ذیل میں اور تفسیر قرطبی جلد ۹، صفحہ ۶۰۲۶ میں بھی یہی معنی ذکر کیا گیا ہے)۔ آخر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ انجام اس گمراہ قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ "ہم گناہگار لوگوں کو یونہی سزا دیا کرتے ہیں۔" (كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ)۔ یہ ایک تنبیہ ہے کہ تمام مجرموں، گنا ہگاروں، کافروں، ہٹ دھرم لوگوں اور خود غرض افراد کے لیے اگر تم بھی اس راہ پر چلو گے تو تمہارا انجام بھی ان لوگوں سے قطعاً بہتر نہیں ہو گا۔ کبھی ان ہواؤں کو جو قرآن کے بقول "مبشرات بین یدی رحمته" (اس کی باران رحمت کے پیش قدم ہوتی ہیں) اور ان کا کام مردہ زمینوں کو زندہ کرنا ہوتا ہے، ہلاکت کا حکم مِلتا ہے۔ کبھی وہ زمین جو انسان کے آرام و سکون کا گہوارہ ہوتی ہے ایک زبردست جھٹکے سے قبرستان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کبھی وہ بارش جو تمام موجودات کا سرمایہ حیات ہوتی ہے، سیلاب میں بدل جاتی ہے اور ہر چیز غرق کر دیتی ہے۔ جی ہاں! انسان کی زندگی پر مامور چیزوں کو اس کی موت کا عامل بنا دیا جاتا ہے اور کِس قدر دردد ناک ہے ایسی موت جو زندگی کے عامل سے جنم لے، خاص کر جب قوم ہود جیسے افراد کے لیے اوّل تو فرحت اور سرور پیدا کرے پھر عذاب میں مبتلا کر دے تاکہ یہ عذاب زیادہ درد ناک ہو۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فرمایا گیا ہے، یہ ہوا، ہوا کی یہ لُطف سوجیں ہی تھیں جنہوں نے پروردگار کے حکم سے تمام چیزوں کو تباہ و برباد کر ڈالا۔ (تشریحی نوٹ: "ٓتدمیر"، "تدمیر" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہلاک اور نیست و نابود کرنا ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قوم عاد سے زیادہ طاقتور نہیں ہو:
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیات درحقیقت، گزشتہ آیات کا نتیجہ بیان کر رہی ہیں، جن میں قومِ عاد کی درد ناک سزا کی گفتگو کی گئی تھی۔ مشرکین مکہ کو مخاطب کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے قومِ عاد کو وہ طاقت دی تھی جو تم کو نہیں دی (وَلَقَدْ مَكَّنَّاهُمْ فِيمَا إِنْ مَّكَّنَّاكُمْ فِيهِ)۔ (تشریحی نوٹ: "إِنْ مَّكَّنَّاكُمْ فِيهِ" کے جملے میں " إِنْ" نافیه ہے۔ قرآنی آیات سے ہمارے پاس بہت سے دلائل ہیں جو متن میں بیان ہُوئے ہیں۔ لیکن بعض مفسرین نے اس " إِنْ" کو یا شرطیہ مانا ہے یا زائدہ جو فیصح معلوم نہیں ہوتا)۔ وہ جسمانی لحاظ سے بھی تم سے زیادہ طاقت ور تھے اور مال و دولت اور مادی وسائل کے لحاظ سے بھی۔ اگر جسمانی طاقت مال و دولت اور مادی وسائل ہی لوگوں کو عذاب الہٰی سے نجات دلا سکتے ہیں تو قوم عاد کے افراد، آندھیوں میں خس و خاشاک کے مانند فضا میں نہ اڑتے پھرتے کہ چند ٹوٹے پھوٹے گھروں کے سوا ان کی اور کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی تھی۔ یہ آیت درحقیقت، سُورہ فجر کی کی ان آیات کے مانند ہے جو اسی قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ: "أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ " "کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا؟ وہ بلند قامت قوم جن کی اونچی اونچی عمارتیں تھیں، وہ ایسی قوم تھی کہ شہروں میں جس کی مثل پیدا نہیں کی گئی۔ (فجر/ ۶ تا ۸)۔ یا سورہٴ ق کی ۳۶ ویں آیت کے مانند ہے، جس میں کہا گیا ہے: "وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا " 'اور کس قدر ایسی قومیں ہیں جنہیں ہم نے ان سے پہلے ہلاک کر ڈالا جو ان لوگوں سے طاقت کے لحاظ سے بھی زیادہ تھیں اور افرادی قوت کے لحاظ سے بھی۔" خلاصہٴ کلام یہ کہ جو لوگ تم سے طاقت میں کئی گناہ زیادہ تھے وہ خدا کی سزا کے طوفان کے سامنے نہ ٹھہر سکے، تم کِس باغ کی مولی ہو؟ پھر فرمایا گیا ہے: ہم نے ان کے لیے کان آنکھ اور دل بنائے (وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً)۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ "أَبصَار" (آنکھیں) اور "أفئدة" (دل اور عقول) جمع کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، جب کہ "سمع" مفرد کی صورت میں ہے ممکن ہے کہ یہ فرق اس لیے ہو کہ "سمع" مصدری معنی کا حامل ہے اور مصدرہمیشہ مفرد کی صُورت میں استعمال ہوتا ہے یا اسلیے کہ دیکھی جانے والی اور ادراک کی جانے والی چیزوں کے مقابلے میں مسموعات (سنی جانے والی چیزیں) ہم آہنگ ہوتی ہیں)۔ وہ حقائق کے اوراک، نگاہ اور پہچان کے لحاظ سے بھی قوی اور طاقت ور تھے۔ لیکن نزول عذاب کے وقت انہیں ان کی آنکھوں، کانوں اور عقلوں نے کچھ فائدہ نہ دیا، کیونکہ وہ خدائی آیات کا انکار کرتے تھے (فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُهُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُم مِّن شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللهِ)۔ آخرکار جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے انہیں ہرطرف سے گھیر لیا۔" (وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُون)۔ جی ہاں وہ مادی وسائل سے بھی لیس تھے اور حقائق کے ادراک کے ذرائع سے بھی۔ لیکن چونکہ خدائی آیات سے ہٹ دھرمی اور تکبر کے ساتھ پیش آتے تھے اور انبیاء کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے، لہٰذا نور حق ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور غرور و تکبر اور حق دشمنی اس بات کا سبب بن گئے کہ وہ آنکھ کان اور عقل جیسے ہدایت و معرفت کے آلات و وسائل سے فائدہ اُٹھا سکے اور نجات کے راستوں کو تلاش نہ کر سکے۔ آخرکار ایسے انجام سے دوچار ہُوئے، جس کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہو چکا ہے۔ جہاں پر اس قدر قدرت اور وسائل کے باوجود ان کا کچھ بس نہ چل سکا اور ان کے بےجان ڈھانچے آندھیوں کی موجودگی میں خس و خاشاک کے مانند بڑی رسوائی سے ادھر اُدھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے، تم تو ان سے کہیں کمزور اور ناتواں ہو۔ خدا کے لیے یہ بات مشکل نہیں ہے کہ تمہیں تمہارے اعمال کے جرم میں سخت سے سخت عذاب میں مبتلا کر دے اور تمہاری زندگی کے عوامل کو تمہاری موت اور تباہی کے لیے مامور کر دے، یہ خطاب مکّہ کے مشرکین کے لیے بھی ہے اور ہر دور کے مغرور، ظالم اور ہٹ دھرم لوگوں کے لیے بھی۔ یقینا، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے، ہم پہلے انسان نہیں ہیں، جنہوں نے رُوئے زمین پر قدم رکھا ہے۔ ہم سے پہلے بھی بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جن کے پاس وسائل بھی تھے اور طاقت بھی، کیا ہی اچھا ہو کہ ان کی تاریخ کو ہم آ ئینہ عبرت بنائیں اور اس میں اپنے مستقبل اور انجام کو دیکھیں۔ پھر بات کو زیادہ زور دے کر بیان کیا گیا ہے اور نصیحت آمیز انداز میں مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نہ صرف قومِ عاد بلکہ "ہم نے تمہارے ارد گرد کی سرکشی قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔" (وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَى)۔ جن قوموں کے علاقے تم سے زیادہ دُور نہیں، تقریباً جزیرہ نمائے عرب کے ارد گرد ہی وہ آ باد تھے، اگر قومِ عاد "أحقاف" میں اس جزیرہ نما کے جنوب میں رہتی تھی تو قومِ ثمود اس کے شمال میں "حجر" نامی سرزمین میں رہتی تھی، قومِ سبأ، جو درد ناک انجام سے دوچار ہوئی، یمن کی سرزمین میں رہتی تھی، قومِ شعیب تو تمہارے شام جانے کے راستے میں سرزمینِ مدین میں زندگی بسر کرتی تھی۔ اسی طرح قوم لوط بھی اسی علاقے میں رہائش پذیر تھی اور یہ سب کی سب قومیں گناہوں، نافرمانیوں اور کفُر کی وجہ سے مختلف عذابوں میں گرفتار ہوئیں۔ ان میں ہر قوم کا انجام عبرت کا آئینہ ہے اور ہر ایک ناطق گواہ کہ کیونکہ وہ بیدار کرنے والے اس قدر وسائل و ذرائع کے باوجود بھی بیدار نہ ہوئیں۔" اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اور ہم نے اپنی نشانیوں کو مختلف صورتوں میں ان سے بیان کیا تاکہ یہ لوگ باز آ جائیں (وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ)۔ کبھی تو ہم نے انہیں معجزے دکھائے، کبھی نعمت عطا کی، کبھی بلاؤں اور مصیبتوں میں گرفتار کیا، کبھی نیک لوگوں کی تعریف کی، کبھی بُرے لوگوں کی نکوہش کی اور کبھی دوسروں کوآ لینے والے ہولناک عذاب کے تذکرہ سے انہیں نصیحت کی لیکن تکبر، غرور، خود خواہی اور ہٹ دھرمی نے انہیں ہدایت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں انہیں سرزنش کرتے ہُوئے ان الفاظ کے ساتھ ان پر تنقید کی گئی ہے: تو خدا کے سوا جن کو ان لوگوں نے تقرب خدا کے لیے معبُود بنا رکھّا تھا انہوں نے ان سخت اور حسّاس لمحات میں ان کی کیوں مدد نہ کی؟ (فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللهِ قُرْبَانًا آلِهَةً)۔ (تشریحی نوٹ: "اتَّخَذُوا" کا پہلا مفعول مخدوف ہے اور دوسرا مفعول "آلِهَةً " ہے اور "قُرْبَانًا" حال ہے۔ اور پورا جملہ تقدیری صورت میں یوں ہے "إتَّخَذُوا آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّہ حال کونھم متقرباً بِھِم" اور یہ احتمال بھی ہے کہ "قُرْباناً" مفعول لہ ہے، البتہ آیت کی ترکیب کے سلسلے میں اور بھی کئی احتمال پائے جاتے ہیں جو زیادہ قابلِ توجہ نہیں ہیں)۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ برحق معبود ہوتے تو اپنے پیروکاروں کی ایسے سخت اور حساس لمحات میں مدد کرتے اور ہولناک عذاب کے چنگل سے انہیں چھٹکارا دلاتے یہی چیز ان کے عقیدہ کے بالا ہونے کی ایک محکم دلیل ہے جو ان بناوٹی معبودوں کو اپنے مصیبت کے دنوں کے لیے اپنی پناگاہ سمجھتے تھے۔ پھر فرمایا گیا ہے: نہ صرف ان کی امداد نہیں کی بلکہ ان سے گم بھی ہو گئے (بَلْ ضَلُّواعَنْهُمْ)۔ اس طرح کی بےحیثیت اور بےقیمت مخلوق جو نہ تو کسی کام کا مبداء ہے اور نہ ہی کسی قسم کا فائدہ پہنچا سکتی ہے اور ہر طرح کے حادثے اور سانحے کے وقت غائب اور گم ہو جاتی ہے وہ کیونکر عبادت کے لائق ہو سکتی ہے؟ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ تھا ان کے جھُوٹ اور افتراء پردازیوں کا نتیجہ (وَذلِکَ إِفْکُهُمْ وَما کانُوا یَفْتَرُون)۔ یہ ہلاکت اور بدبختی، یہ درد ناک عذاب اور مصیبت کے موقع پر معبودوں کا گم ہو جانا ان کے جھُوٹ اور افتراء پر دازیوں کا تو نتیجہ ہیں۔ (تشریحی نوٹ: بنابریں، آیت میں ایک محذوف ہے اور اس کی تقدیری صُورت یوں ہے " وَذلِکَ نتیجة إِفْکُهُمْ " اور یہ احتمال بھی ہے کہ آیت میں محذوف ماننے کی ضرورت ہی نہ ہو تو اس صورت میں اس کا معنی یوں ہو گا "یہ تھا ان کا جُھوٹ اور افتراء پردازیاں" لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 7tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 7tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 7tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ان آیات کی شان نزول میں مختلف روایات ذکر ہوئی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے: حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ سے طائف کے بازار عکاظ میں تشریف لے گئے، زید بن حارثہ بھی آنحضرتؐ کے ہمراہ تھے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے، لیکن کسی نے بھی آپ کی دعوت قبول نہ کی۔ ناچار مکّہ کی طرف واپس آئے، دورانِ سفر ایسی جگہ پہنچے جِسے "وادی ٴ جن" کہا جاتا تھا۔ رات کے دوران آ پ نے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی۔ وہاں سے کچھ جنّات کا گزر ہوا۔ جب تلاوت کلام اللہ کی آواز ان کے کانوں میں پہنچی تو اسے غور سے سننے لگے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے "خاموش رہو" جب آپ نے تلاوت مکمل کر لی تو وہ مسلمان ہو گئے اور مبلغ کی حیثیت سے اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے اور اسلام لانے کی دعوت دی، ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے اور مبلغین کے ہمراہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہُوئے، آپ نے انہیں اسلام کی تعلیمات یاد کروائیں۔ اسی موقعہ پر مندرجہ بالا آیات اور سُورہٴ جن نازل ہوئی۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نور الثقلین، جلد۵، صفحہ ۱۹، میں تفسیر علی بن ابراہیم سے نقل کیا گیا ہے، (کچھ تلخیص کے ساتھ)۔ کچھ اور لوگوں نے ایک اور شأن نزُول ابن عباس سے نقل کی ہے جو گزشتہ شانِ نزُول سے مِلتی جُلتی ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ اس کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور نماز کے دوران قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنّات کے ایک گروہ کا وہاں سے گزر ہوا، جو تحقیق اور جستجو کر رہے تھے اورآسمان سے خبروں کے منقطع ہو جانے نے انہیں پریشان کر رکھا تھا، جب انہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی تو کہنے لگے کہ ہم سے آسمانی خبروں کے انقطاع کا سبب بھی یہی چیز ہے، یہیں سے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور جا کر اسے اسلام کی دعوت دی۔ مرحوم طبرسی نے تفسیر مجمع البیان میں ایک تیسری شانِ نزُول بیان کی ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ روایت ہم نے خلاصہ کے ساتھ بیان کی ہے اور صحیح بخاری، صحیح مسلم، اور مسند امام احمد میں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ ("ظلال القرآن" جلد۷، صفحہ ۴۲۹)۔ جس کی داستان آنحضرتؐ کے سفر طائف سے مربوط ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد پیغمبر اکرمؐ کے لیے سخت مشکلات کا دور شروع ہو گیا اورآپ نے طائف کا سفر اختیار کیا شاید وہاں پر کوئی دوست مددگار مِل جائے لیکن طائف کے سرداروں نے آپ کی زبردست تکذیب کی اورآپؐ کواس قدر پتھر مارے کہ آپ کے پاؤں مبارک سے خون بہنے لگا۔ آپ تھک کر اور زخموں سے چُور ایک باغ کے پاس پہنچے اور وہاں ایک کھجور کے درخت کے سائے کے نیچے بیٹھ گئے۔ خون آپؐ کے پاؤں سے جاری تھا۔ یہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کا باغ تھا جو قریش کے دو دولتمند افراد تھے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو سخت پریشان ہو گئے کیونکہ آپؐ ان کی دشمنی سے پہلے ہی باخبر تھے۔ ان دونوں نے انگوروں کا ایک تھال بھر کر اپنے عیسائی غلام "عداس" کے ذریعے آپ کی خدمت میں بھیج دیا، آنحضرتؐ نے اس سے پوچھا: تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: نینوا کا۔ فرمایا: خدا کے صالح بندے یونس علیہ السلام کے شہر کے۔ عداس نے پوچھا: آپ یونس علیہ السلام کو کہاں سے پہچانتے ہیں؟ آنحضرتؐ نے فرمایا: میں خدا کا رسول ہوں اور خدا ہی نے مجھے بتایا ہے۔ یہ سُن کر عداس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقا نیّت کو تسلیم کر لیا۔ خدا کے حضور سجدہ کیا اور آپ کے قدموں کے بوسے لیے۔ جب وہ واپس لوٹ گیا تو عتبہ اور شیبہ نے اسے زبردست سرزنش کی کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے کہا: یہ توخدا کے صالح بندے ہیں، انہوں نے مجھے اس پردیس اور اجنبی ماحول میں ہمارے پیغمبر یُونس کے بارے میں بتایا ہے۔ وہ یہ سُن کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے: کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں وہ تمہارے دین عیسائیت کے بارے میں دھوکا دے، کیونکہ وہ تو ایک دھوکا باز انسان ہے (نعوذ باللہ)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ کی جانب واپس آ گئے، (اس سفر کا ماحصل صرف ایک موٴمن شخص تھا) راستے میں نصف شب کے قریب کھجور کے ایک درخت کے نزدیک پہنچے اور نماز پڑھنا شروع کر دی۔ وہیں سے "نصيبين" یا "یمن" کے جنات کے ایک ٹولے کا گزر ہوا، آپ نمازِ صبح پڑھ رہے تھے، انہوں نے نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی آواز پر کان لگائے اور ایمان لے آئے۔ (بحوالہ: ۔مجمع البیان جلد ۹، ص ۹۲، اس داستان کو ابن ہشام نے اپنی کتاب "السیرة النبویه" میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ (جلد۲، صفحہ ۶۳)۔
تفسیر "جِنَّات" ایمان لاتے ہیں:
اِن آیات میں، جیسا کہ شانِ نزول میں اشارہ ہو چکا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آسمانی کتاب پر جنات کے ایمان لانے کا ذِکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے تاکہ مشرکین مکہ کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جائے کہ جنات کا ایک بظاہر دور افتادہ ٹولہ اس پیغمبر پر جو انسان ہے اور تمہارے درمیان رہتا ہے، کس طرح ایمان لے آیا ہے اور تم ہو کہ اپنے کُفر پر ڈٹے ہُوئے ہو اور اس کی مخالفت پر ہمیشہ کمربستہ رہتے ہو۔ "جنّات نامی مخلوق اور ان کی خصوصیات کے بارے میں ان شاءاللہ سورہٴ جن کی تفسیر میں بحث ہو گی، یہاں پر صرف زیر تفسیرآیات کے بارے میں گفتگو ہو گی۔ "قومِ ہُود کی داستان درحقیقت، مشرکین مکّہ کے لیے ایک زبردست تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھی، اور قوم جن کے ایمان لانے کی داستان ایک اور تنبیہ تھی۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کر جب ہم نے جنّوں میں سے ایک گروہ کو تیری طرف متوجہ کیا کہ دِل لگا کر قرآن سنیں۔ (وَ إِذْ صَرَفْنا إِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآن)۔ "صَرَفْنا"، "صرف" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرنا ہے مُمکن ہے یہ تعبیر اس معنی میں کی طرف اشارہ ہو کہ جنّوں کا ٹولہ پہلے "إسراق سمع" (خبریں چرانے) کے ذریعے آسمانوں کی خبروں کو سُنا کرتا تھا، لیکن جب آنحضرت کا ظہور رسالت ہُوئے تو وہ اس سے روک دیئے گئے اور قرآن کی جانب متوجہ ہُوئے۔ "نفر" کے بارے میں راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ یہ لوگوں کے ایسے گروہ کو کہتے ہیں جو مل کر سفر کر سکتے ہوں۔ اور اربابِ لغت کے درمیان مشہور یہ ہے کہ "نفر" تین سے تک مشتمل جماعت کو کہتے ہیں اور بعض لوگوں کے نزدیک تین سے چالیس افراد پر مشتمل جماعت کو کہتے ہیں (ہر چند کہ فارسی زبان میں ایک فرد کو بھی "نفر" کہتے ہیں)۔ پھرفرمایا گیا ہے: جب وہ قرآن کے سامنے حاضر ہُوئے اور اس کی روح پرورآیات کو سُنا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے خاموش ہو کر سنتے رہو (فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا)۔ یہ اس وقت تھا جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصف شب میں یا نماز صبح کے دوران قرآنی آیات کی تلاوت کر رہے تھے۔ "أنصتوا"، "أنصات" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے خاموش ہو کر اور دل لگا کر پُوری توجہ سے سُننا۔ آخرالأمرجب نور ایمان ان کے دل میں چمک اُٹھا تو انہوں نے آیات قرآنی کی حقانیت کو اپنے اندر محسوس کر لیا، لہذا "جب قرآن پڑھنا تمام ہوا تو وہ مبلغین کے مانند اپنی قوم کی طرف واپس آ گئے اور اسے جا کر ڈرایا اور جو حقیقت ان پر نمایاں ہو گئی تھی اس سے قوم کوآگاہ کیا (فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ)۔ ایمان کے طلب گار افراد کا یہی طریقہ ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ ایمان کی تلاش میں رہتے ہیں، اور جن حقائق سے خود آگاہ ہوتے ہیں ان سے دوسروں کو بھی آگاہ کرتے ہیں اور ایمان کے منبع سے انہیں بھی مطلع کرتے ہیں۔ بعد کی آیت قوم کی طرف پلٹ جانے کے بعد ان جنّوں کی دعوت و تبلیغ کی کیفیّت بیان کر رہی ہے، ایسی دعوت جو جامع، جچی تلی، مختصر اور بامعنی ہے: انہوں نے کہا اے قوم! ہم ایک کتاب سُن کرآئے ہیں جو مُوسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے (قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسٰى)۔ اس کتاب کی کچھ مخصوص صفات ہیں پہلی صفت تو یہ ہے کہ اپنے سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس کے مضامین ان کے مضامین سے ہم آہنگ ہیں اور سابقہ کتابوں میں جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں وہ اس میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہیں (مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جُملے کی تفسیر ہم نے تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی ۴۱ ویں آیت کی تفسیر میں تفصیل سے بیان کیا ہے)۔ اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ سب کو حق کی طرف ہدایت کرتی ہے (يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ)۔ وہ یوں کہ جو شخص بھی اپنی عقل اور فطرت سے کام لے، اُسے اس میں حقانیت کی علامتیں بخوبی نظرآئیں گی۔ اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ "سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے" (وَإِلَى طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ)۔ حق کی طرف دعوت اور صراطِ مستقیم کی طرف دعوت میں بھی بظاہر فرق یہ ہے کہ پہلا (حق) اعتقادات کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا (صراطِ مستقیم) صحیح اور سیدھے عملی نظام کی طرف۔ "اُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسی “اور ” مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیْهِ“ کے جملے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جنّاتِ کا یہ گروہ گزشتہ آسمانی کتابوں خصوصاً حضرت مُوسیٰ کی کتاب پر ایمان رکھتا تھا اور حق کی تلاش میں تھا اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا تذکرہ نہیں ہے حالانکہ وہ مُوسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے بعد نازل ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ بقول ابن عباس جنّات عیسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے نزُول سے مطلقاً بےخبر تھے، کیونکہ جنّات توآسمانی خبروں سے بھی باخبر تھے وہ زمین کی خبروں سے کس طرح غافل رہ سکتے ہیں؟ بلکہ اس لیے ہے کیونکہ "تورات" بنیادی کتاب تھی، حتی کہ عیسائی حضرات بھی اپنے شرعی احکام اسی سے حاصل کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ انہوں نے پھر کہا "اے ہماری قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات مانو اور اس پر ایمان لے آؤ (یا قَوْمَنا اَجیبُوا داعِیَ اللہِ وَآمِنُوا بِهِ )۔ کہ وہ تمہیں عظیم اجر عطا فرمائے گا، تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا (يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ)۔ (تشریحی نوٹ: " يُجِرْكُم"، "ایجار" کے مادہ سے ہے، جس کے کئی معانی ہیں، فریاد کو پہنچنا، عذاب سے بچانا، پناہ دینا اور حفاظت کرنا)۔ "داعِیَ اللہِ" (خدا کا دعوت کرنے والا) سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، کہ جو انہیں "اللہ" کی طرف رہنمائی کرتے تھے اور چونکہ زیادہ تر خوف گناہوں اور قیامت کے دردناک عذاب سے ہوتا ہے، لہذا انہوں نے ان دونوں چیزوں سے بچاؤ کی بات کی ہے تاکہ قوم کی زیادہ توجہ اپنی طرف مبذول کروا سکیں۔ کئی مفسرین نے "مِن ذُنُوبِكُمْ" میں "من" کے کلمہ کو"زائدہ" سمجھا ہے، جو اس بات کی تاکید ہے کہ تمام گناہوں کی بخشش کا ایمان پر دار و مدار ہے۔ لیکن بعض اور مفسرین نے اسے من "تبعیضیه" اور ان گناہوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ وہ معاف کیے جائیں گے جو انہوں نے ایمان لانے سے پہلے انجام دیئے ہیں یا ان گناہوں کی طرف جن میں "حق اللہ" کا پہلو ہے نہ کہ "حق النّاس" کا۔ لیکن زیادہ مناسب معنی وہی من کے زائدہ ہونے والا ہے جو تاکید ہے اور آیت مجیدہ تمام گناہوں کے بارے میں میں ہے۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں جِنّ مبلغین کی آخری گفتگو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات نہیں مانے گا وہ ہرگز خدا کے عذاب سے زمین میں قرار نہیں کر سکتا۔ (وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ)۔ اور خدا کے علاوہ اس کا کوئی یار و مددگار اور سرپرست نہیں ہو گا (وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَولِيَاءَ)۔ اور لہٰذا "یہ لوگ کُھلی گمرا ہی میں ہیں" (أُوْلَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بدترین اور واضح ترین گمراہی کہ انسان حق اور پیغمبر خدا حتی کہ خود خدا کے مقابلے پر کمربستہ ہو جائے کہ جس کے بغیر پوری کائنات میں نہ تو کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ ہی اس کے مُلک سے فرار کر کے کہیں اور جا سکتا ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ لفظ "معجز" (اپنی تمام مشتقات سمیّت) ایسے مقامات پر سزا اور تعاقب سے عاجز کرنے کے معنی میں آتا ہے، بالفاظ دیگر سزا کے چنگل فرار کرنے کے معنی میں۔ "فِی الْأرض" (زمین میں) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمین کے کسی خطّے میں چلے جایئے، خدا ہی کی حکومت ہو گی اور کچھ بھی اس کے احاطہٴ قدرت سے باہر نہیں ہے اور اگر آسمان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے تو اس وجہ یہ ہے کہ جنّات ہوں یا انسان سب کا ٹھکانا بہرحال، زمین ہی ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ موثر تبلیغ:
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ جنّات، ان کے زندگی کے انداز اور ان سے متعلق دوسرے امور کے بارے میں تو ہم إن شاء اللہ سُورہ جن کی تفسیر میں تفصیل سے بحث کریں گے، لیکن زیر تفسیر آیات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ صاحبِ عقل و شعور مخلوق ہیں اور ان پر خدائی فرائض کی بجا آوری ضروری قرار دی گئی ہے۔ ان کے دو فرقے ہیں ایک مومن اور دوسرا کافر، اور وہ خدا کی دعوت سے کافی آشنا ہیں۔ زیر نظرآیات میں جو چیز زیادہ قابلِ توجہ ہے وہ ان کی قوم میں اسلامی تبلیغ کا طریقہ کار ہے جو انہوں نے اپنایا۔ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ خدمت میں حاضر ہونے، قرآنی آیات سننے اور ان کے مطالب سمجھنے کے بعد فوراً ہی اپنی قوم کی اصلاح کی ٹھان لی اور سیدھے اس کے پاس پہنچے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انہوں نے سب سے پہلے قرآن کی حقانیّت اور صداقت کی بات کی اور اسے تین دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیا۔ پھر اسے شوق دلایا، اس آسمانی کتاب پر ایمان کے زیر سایہ اسے آخرت کے عذاب سے نجات کی خوشخبری سُنائی، جس سے ایک طرف تو معاد کے مسئلے پر تاکید کرنا تھی اور دوسری طرف ناپائیدار دنیاوی اقدار کے مقابلے میں آخرت کے پائیدار اور اصل اقدار کی طرف متوجہ کرانا تھا۔ تیسرے مرحلے پر انہوں نے ترکِ ایمان کے خطرات سے بھی قوم کوآگاہ کیا اور استدلال اور دل سوزی کے مِلے جُلے انداز میں اسے متنبہ بھی کر دیا اور اس راستے سے انحراف کے انجام جو "ضلالِ مبین" یا کُھلی گمراہی ہے سے بھی اِسے خبردار کیا۔ تبلیغ کا یہ انداز ہر شخص اور جماعت کے لیے موثر ہے۔
۲۔ عظمتِ قرآن کی بہترین دلیل:
مندرجہ بالا آیات، اسی طرح سُورہ جن کی آیات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ جنّوں کا یہ گروہ قرآنی آیات سنتے ہی اس کا فریفتہ ہو گیا اور اس بات کی کوئی علامت نہیں مِلتی کہ انہوں نے پیغمبرؐ اسلام سے کسی اور مُعجزے کا تقاضا کیا ہو۔ انہوں نے صرف ان امور پر اکتفا کی کہ: ۱۔ قرآن مجید سابقہ آسمانی کتابوں کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہے۔ ۲۔ حق کی طرف بلاتا ہے۔ ۳۔ اس کی منصوبہ بندی سیدھی راہ پر چلنے کے لیے گئی ہے۔ ان تینوں چیزوں کے پیش ِنظر انہوں نے قرآن کی حقانیّت کا یقین کر لیا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآنی مضامین اور مطالب میں غور و فکر ہمیں دوسرے تمام دلائل سے بےنیاز کر دیتا ہے۔ ایسی کتاب جو ایک ایسی شخصیت کی طرف سے پیش کی گئی ہو جس نے دنیا میں کسی سے کوئی درس نہیں پڑھا، اس میں اس قدر عظیم مطالب، پاک معارف و عقاید، خالص توحید، محکم قوانین، طاقت ور دلائل، پختہ اور تعمیری لائحہ عمل، واضح اور اعلیٰ وعظ و نصیحتیں ہوں اور وہ بھی ایسے جاذب اور زیبا انداز میں تو یہ یقیناً اس آسمانی کتاب کی حقانیت و صداقت کی بذات خود بہترین دلیل ہے، کیونکہ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ (تشریحی نوٹ: اعجاز قرآن کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد اوّل کی سُورہ ٴ بقرہ کی ۲۳ ویں آیت کے تفسیر میں تفصیل سے گفتگو کی ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر أُولُوالْعَزْم پیغمبروں کی طرح صبر کریں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 7یہ آیات جو سُورہٴ أحقاف کی آخری آیتیں ہیں، "معاد" کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں، کیونکہ ایک تو گزشتہ آخری آیات میں جنّوں کے مبلّغین کی زبانی معاد کی بات ہوئی تھی اور دوسرے سورہٴ أحقاف کے ابتدائی حِصّوں میں توحید، عظمت قرآن مجید اور پیغمبر اسلامؐ کی نبّوت کے اثبات کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے اور اس سُورت کے آخری حِصّے میں معاد کے مسئلے کو پیش کیا جا رہا ہے، اس طرح سے تینوں اعتقادی اصولوں کی تکمیل ہو جاتی ہے، سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جس خدا نے سارے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی تھکا نہیں اور نہ ہی عاجز ہوا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر لے، یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے (أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ آسمانوں اور زمین کو رنگارنگ اور مختلف مخلوق سمیت خلق کرنا ہر چیز پر اس کی قدرت کی علامت ہے کیونکہ جو چیز بھی تصوّر میں آ جائے اسے خدا ہی نے اس دُنیا میں خلق فرمایا ہے۔ تو وہ پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ انسانوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے سے عاجز ہو؟ یہ امکان معاد پر ایک نہایت دندان شکن دلیل ہے۔ اصولی طور پر ہر چیز کے امکان کی دلیل اس کا خود اپنا وقوع پذیر ہونا ہے، ہم جو اس قدر جاندار چیزوں کو بےجان چیزوں سے معرض وجود میں آتا ہے دیکھ رہے ہیں، تو معاد کے مسئلے میں اس کی قدرت مطلقہ کے بارے کس طرح شک کر سکتے ہیں؟ یہ معاد کے متعدد دلائل میں سے ایک ہے جو خداوندِ عالم نے قرآن مجید کی مختلف آیات میں بیان فرمائے ہیں، منجملہ ان کے سورہٴ یٰس کی آیت ۸۱ میں بھی۔ (تشریحی نوٹ: اس موضوع کے بارے میں اور معاد کے بارے میں مختلف دلائل کے سِلسلے میں مزید تفصیل کے لیے سورہٴ یٰس کی آخری آیات کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیے (تفسیر نمونہ جلد ۱۸)۔ بعد کی آیت میں گناہگاروں اور معاد کے منکروں کے دردناک سزا کے منظر کو مجسم کر کے فرمایا گیا ہے: اس دن کا سوچ کہ جس دن کفّار آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے (وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ)۔ جی ہاں! کبھی تو دوزخ کو کافروں اور گناہگاروں کے سامنے لایا جائے گا اور کبھی گناہگاروں اور کافروں کو دوزخ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ہر ایک کا اپنا خاص مقصد ہو گا جن کے بارے میں چند آیات میں پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے۔ جب کفار کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہ جہنم کے جھلسا دینے والی کوہ پیکر اور وحشت ناک شعلوں کو دیکھیں گے تو ان سے کہا جائے گا: کیا یہ برحق نہیں (أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ)۔ آیا آج بھی قیامت، خدا کی عدالت اور اس کی سزا و جزا کا انکار کر سکتے ہو؟ اب بتاؤ کہ کیا یہ گزشتہ لوگوں کے خرافات پر مبنی قِصّے کہانیاں ہیں؟ انہیں اعتراف کے سوا کوئی اور صُورت نظر نہیں آئے گی لہٰذا: کہیں گے بالکل ہمارے پروردگار کی قسم (برحق ہے اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں، ہم خود گمراہ تھے کہ اسے ناحق سمجھتے تھے) (قَالُوا بَلَى وَرَبِّنَا)۔ تو اس وقت خداوند تعالیٰ یا اس کے فرشتے کہیں گے: تو لو اب انکار اور کُفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو(قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ)۔ تو اس طرح سے وہ تمام حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور اعتراف کریں گے، اعتراف اور اقرار بھی ایسا کہ جو انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور سوائے روحانی اور وجدانی تکلیف و حسرت و اندوہ کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں جو درحقیقت، سورہٴ أحقاف کی بھی آخری آیت ہے، اللہ تعالیٰ گزشتہ آیات میں معاد کے اثبات اور کفار کی سزا کے پیشِ نظر اپنے رسُول کو حکم دیتا ہے: "بنابریں! جس طرح أُولُوالْعَزْم پیغمبر صبر کرتے رہے تو بھی صبر کر (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ)۔ صرف آپ ہی کو اس قوم کی عداوت اور مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا، تمام أُولُوالْعَزْم پیغمبروں کو بھی یہی مشکلات درپیش تھیں اور انہوں نے استقامت اور صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا، عظیم پیغمبر نوح علیہ السلام نے ۱۵۰ سال تک تبلیغ دین کی لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا ان پر کوئی ایمان نہ لایا بلکہ ان کو مسلسل تکلیفیںس دیتے رہے اور ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ ابرا ہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، موسیٰ علیہ السلام کو جان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی، ان کا دل قوم کی نافرمانیوں اور خلاف ورزیوں کی وجہ سے خون ہو گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو زبردست تکلیفیں پہنچائی گئی، انہیں بھی جان سے مار دینے کے منصوبے بنائے گئے، لیکن خدا نے انہیں بچا لیا، غرض جب سے دُنیا قائم ہے یہی کیا کچھ ہوتا آ رہا ہے اور صبر و استقلا ل کی طاقت کے بغیر ان مشکلات پر قابُو نہیں پایا جا سکتا۔
أُولُوالْعَزْم پیغمبر کون تھے؟
أولُوا العَزْم پیغمبر کون تھے، اس بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں اور اس سلسلے میں تحقیق کرنے سے پہلے "عزم" کے معنی کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ " أولُوا العَزْم " کا معنی "صاحبانِ عزم۔" "عزم" محکم اور پختہ ارادے کو کہتے ہیں، راغب اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں: "عزم القلب علی امضاء ألأمر۔" عزْمُ الْقلْبِ عَلى إِمضَاءِ الْأَمْر "کسی کام کو کر گزرنے کے بارے میں پختہ ارادہ کر لینا۔" قرآن پاک میں "عزم" کبھی تو"صبر" کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسے: "وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ" "جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو یقینا یہ چیز عزمِ امور میں سے ہے۔" ( شوریٰ / ۴۳)۔ اور کبھی "ایفائے عہد" کے معنی میں، جیسے: "وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا۔" "ہم نے پہلے سے آدم کے ساتھ عہد کر لیا، لیکن وہ فراموش کر گئے اور اپنے عہد پر باقی نہ ہے" (طٰہٰ / ۱۱۵)۔ لیکن اس بات کے پیش نظر کہ جو انبیاء نئی شریعت اور جدید دین لے کرآئے تھے انہیں دوسروں سے زیادہ مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کا مقابلہ انہوں نے بڑے محکم عزم اور ارادے سے کیا لہذا ایسے انبیاء علیہم السلام کو"أُولُواالْعَزْم" کہا جاتا ہے اور زیر تفسیرآیت بھی بظاہر اسی چیز کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ضمنی طور پر یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی انہی رسولوں میں سے ہیں کیونکہ قرآن کہتا ہے: تو بھی اسی طرح صبر کر جس طرح أولُواالعَزْم رسُول صبر کرتے رہے۔" یہ جو بعض مفسرین نے "عزم" اور"عزیمت" کی "حکم اور شریعت" کے معنٰی سے تفسیر کی ہے تو یہ اس کے معنی کی مناسبت سے ہے، وگرنہ لغت میں "عزم" بمعنی "شریعت" نہیں آیا۔ بہرحال، اس معنی کے لحاظ سے "من الرّسل" میں "من"، "تبعیضیة" اور بزرگ انبیاء کے ایک خاص گروہ کی طرف اشارہ ہے جو صاحبانِ شریعت تھے، جیسا کہ سورہٴ احزاب کی ساتویں آیت میں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا" "اس وقت کو یاد کر جب ہم نے انبیاء سے پیمان لیا اور تجھ سے اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے بھی ہم نے ان سب سے محکم اور ُپختہ پیمان لیا۔ (احزاب / ۷)۔ یہاں پر تمام انبیاء کا جمع کی صُورت میں ذکر کرنے کے بعد ان پانچ عظیم پیغمبروں کا نام لیا گیا ہے جو ان کی خصوصیّت کی دلیل ہے۔ سُورہ شوریٰ کی تیرھویں آیت میں بھی انہی کا ذکر کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: "شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى۔" "اس نے تمہارے لیے اس دین کو مقرر کر دیا ہے جس کی نوح کو سفارش کی اور جس کی ہم نے تیری طرف وحی کی اور ابراہیم، مُوسیٰ کو بھی اس کی سفارش کی۔" شیعہ اور سُنّی کتب میں اس بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں جن میں سے ظاہر ہوتا ہے کہ أولُوا العَزْم پیغمبر یہی پانچ ہیں جیسا کہ حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام سے ایک روایت ہے: " مِنْهمْ خَمْسَةٌ: أَوَّلُهُم نُوحٌ، ثُمّ إبراهيم، ثم موسٰى، ثم عيسٰى، ثمُّ مُحمّد (ص) ۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۹، صفحہ ۹۴ (انہی آیات کے ذیل میں)۔ ایک اور روایت میں جناب امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے: " مِنْهمْ خَمْسَةُ أولُوا العَزْمِ مِنَ الْمُرْسليْن: نُوْح وإِبْرَاهيْم وموْسٰى وعيسٰى ومُحَمَّد (ص) ۔" روای نے پُوچھا: "لِمَ سَمّوْا أولُوا العَزْم ؟" "انہیں أولُوا العَزْم کیوں کہا جاتا ہے؟" تو امام نے فرمایا: "لِأَنَّھُمْ بَعَثوا الیٰ شَرقِھا وَغَربِھا وَجِنّھا وإِنسِھا۔" "کیونکہ وہ شرق و غرب اور جن و انس کی طرف مبعُوث ہُوئے" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد۱۱، صفحہ ۸۵ (حدیث ۶۱) اسی جلد کے صفحہ ۵۶ پر حدیث نمبر ۵۵ بھی صراحت کے ساتھ یہی کچھ کہتی ہے)۔ ایک اور حدیث میں بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "سادة النبیین والْمُرْسلیْن خمسةٌ وَھُم أولوا العزمِ من الرّسل وَعلیھم دارة الرحی نُوْح وإِبْرَاهيْم وموْسٰى وعيسٰى ومُحَمَّد ۔" انبیاء و مرسلین کے سردار پانچ ہیں اور وہی أولُوا العَزْم رسُول ہیں، نبوّت و رسالت کی چکّی ان کے گرد گھومتی ہے اور وہ ہیں حضرات نوح، ابراہیم، مُوسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیہم السلام۔ (بحوالہ: کافی جلد اوّل باب طبقات الانبیاء والرسل، حدیث نمبر۳)۔ تفسیر "درّ منثور" میں ابن عباس سے بھی یہی چیز منقول ہے کہ أولُوا العَزْم رسُول پانچ ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد۶، صفحہ ۴۵)۔ البتہ بعض مفسرین أولُوا العَزْم رسولوں سے وہ رسُول مراد لیتے ہیں جنہیں دشمنوں سے لڑنے کا حکم مِلا۔ بعض مفسرین نے ان کی تعداد تین سو تیرہ بتاتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد۶، صفحہ ۴۵)۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین تمام پیغمبروں کو أولُوا العَزْم (قوی ارادے کا مالک) سمجھتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد۶، صفحہ ۴۵)۔ اور اس قول کے مطابق "من الرّسل" میں "من" بیانیہ ہے تبعیضیہ نہیں ہے۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ صحیح ہے اور اسلامی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ ان سب باتوں کے بعد قرآن فرماتا ہے: اور ان کفّار کے بارے میں عذاب کی تعجیل نہ کر۔ (وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ)۔ کیونکہ قیامت جلد آنے والی ہے اور جس چیز کے بارے میں خود ان کو جلدی ہے وہ اسے بہت جلد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس دن انہیں سخت سزا دی جائے گی پھر انہیں اپنی غلطیوں کا پتہ چلے گا۔ دُنیا کی عُمر آخرت کے مقابلے میں اس قدر کوتاہ ہے کہ "جس دن وہ ان وعدوں کو دیکھیں گے جو ان سے کیے گئے تھے تو انہیں معلوم ہو گا کہ گویا دن کی صرف ایک گھڑی وہ اس دُنیا میں ٹھہرے ہیں (كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ)۔ آخرت کے مقابلے میں دنیاوی عمر کی کمی کا احساس یا تو اس لیے ہو گا کہ واقعاً یہ زندگی اس حیات جاوید کے مقابلے میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے، یا پھر اس لیے کہ یہ دنیا اس قدر تیزی سے گزر رہی ہے کہ گویا ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے یا اس لیے کہ انہوں نے اپنی پوری دنیا سے کماحقّہ فائدہ اٹھایا، لہٰذا اس کا ثمرہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے۔ اب حسرت ان کے دلوں پر چھائی ہو گی، لیکن اس کا فائدہ؟ کیونکہ واپسی کی تمام راہیں مسدور ہو چکی ہوں گی۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ: "کم ما بین الدّنیا والاٰخرۃ؟ "دُنیا اور آخرت کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟" توآپ نے فرمایا: "غمضة عین۔" "صرف پلک چھپکنے کا۔" پھر فرمایا خداوند تعالیٰ کا ارشاد ہے: "كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ۔" (بحوالہ: روضة الواعظین منقول از نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۵)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ "ساعة" کی تعبیر عام گھنٹے یا گھڑی کی مقدار کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ یہ زمانے کی مختصر اور کم ہونے کی طرف اشارہ ہے: پھر تمام لوگوں کو متنبہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: یہ ابلاغ ہے، سب لوگوں کے لیے (بَلَاغٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "بلاغ" مبتدائے محذوف کی خبر ہے، جس کی تقدیری صُورت یہ ہے "ھٰذا القراٰن بلاغ" یا "ھٰذا الوعظ والإنذار بلاغ")۔ ان سب لوگوں کے لیے جو پروردگار کی عبودیت کی را ہ سے ہٹ گئے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو دُنیا کی زور و گزر زندگی اور اس کی خواہشات میں مگن ہو چکے ہیں، المختصر اس ناپائیدار دُنیا میں رہنے والے تمام لوگوں کے لیے ابلاغ ہے۔ آخری جُملے میں بامعنی اور تہدید آمیز سوال کے طور پر فرمایا گیا ہے: تو کیا فاسق لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہو گا؟ (فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ)۔
آنحضرتؐ صبر و استقامت کا مجسم نمونہ تھے
خدا کے عظیم پیغمبروں خصوصاً پیغمبر اسلامؐ کی زندگی سخت مصائب، زبردست طوفانوں اور طاقت فرسا مشکلات کے مقابلے میں انتہائی صبر و استقامت کی آ ئینہ دار تھی۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے راہ حق میں اس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، راہ حق کے راہیوں کو اس سے سبق لینا چاہیے۔ ہم عام طور پر تاریخ ِ اسلام کے روشن نقطے سے اس کے ابتدائی تاریک ایّام کے دیکھنے کے عادی ہیں، اور مستقبل کے جھروکوں سے ماضی کو دیکھنے کا یہ انداز حقائق و واقعات کو اور طرح سے پیش کرتا ہے، لیکن ہمیں ان ایّام کو تصّور میں لانا چاہیے، جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تن تنہا تھے اور افق زندگی میں کامیابی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہٹ دھرم دشمن ان کی نابودی پر کمربستہ تھے، حتیٰ کہ ابولہب جیسے نزدیک ترین رشتہ دار بھی صف اوّل کے دشمنوں میں شامل تھے۔ آپ مسلسل قبائل عرب کے پاس جاتے تھے، انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے، لیکن کوئی بھی شخص مثبت جواب نہیں دیتا تھا۔ آپؐ پر اس قدر پتھر برساتے کے بدنِ مبارک سے خون بہنے لگ جاتا، لیکن آ پ اپنے مشن پر ڈٹے رہے۔ ان کا سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی بائیکاٹ اس حد تک سخت کر دیا گیا تھا کہ ہر طرف کی راہیں آپؑ پر اورآپ کے ساتھیوں پر مسدُور ہو گئی تھیں، کچھ تو بھُوک کی وجہ سے اور کچھ بیماری کی وجہ سے راہی ملک بقا ہو گئے۔ آپ کے ساتھیوں کو اس قدر ایذائیں پہنچائی گئیں اور شکنجوں میں جکڑا گیا کہ ان کے دل و جان پر اس کا اثر ہوا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسے سخت دن بھی گزرے ہیں کہ جن کے ذکر سے زبان و قلم دونوں عاجز ہیں، جب آپؑ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے طائف تشریف لے گئے تو اہل ِ طائف نے نہ صرف آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہا بلکہ اس قدر پتھر مارے کہ پاؤں مبارک سے خون جاری ہو گیا۔ بےسمجھ لوگوں کو اکسایا کہ آپ پر آوازے کسیں اور بدکلامی کریں، آپ کو مجبوراً ایک باغ میں پناہ لینا پڑی اور ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر اپنے خدا سے یوں راز و نیاز کرنے لگے۔ " اللّهُمّ إلَيْك أَشْكُو ضَعْفَ قُوّتِي ، وَقِلّةَ حِيلَتِي ، وَهَوَانِي عَلَى النّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرّاحِمِينَ! أَنْتَ رَبّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبّي ، إلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ إلَى بَعِيدٍ يَتَجَهّمُنِي ؟ أَمْ إلَى عَدُوّ مَلّكْتَهُ أَمْرِي؟ إنْ لَمْ يَكُنْ بِك عَلَيّ غَضَبٌ فَلَا أُبَالِي․․․" "خداوندا! میں اپنی کمزوری، ناتوانی، مجبوری کی اور لوگوں کی مجھ سے بےاحترامی کی تجھ سے شکایت کرتا ہوں، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تو مستضعفین کا پروردگار ہے، تو میرا پروردگار ہے، تو مجھے کس کے حوالے کرے گا؟ کیا دور دراز کے ان لوگوں کے جو مجھے غصّے سے بھرے درپیش آئے ہیں یا ان دشمنوں کے جو میرے امر کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے؟ پروردگارا! اگر تو مُجھ سے راضی ہو جائے تو میرے لیے یہی کافی ہے․․․" (بحوالہ: سیرت ابن ہشام، جلد۲، صفحہ ۶۱)۔ کبھی وہ لوگ آپؑ کو جادوگر کہتے تھے اور کبھی دیوانہ کہہ کر بلاتے تھے۔ کبھی آپؑ کے سر پر گرد و غبار اور کوڑا کرکٹ ڈالا جاتا اور کبھی آپؑ کو شہید کرنے پر ایکا کر لیتے اورآپ کے گھر کا تلواروں سے محاصرہ کر لیتے۔ لیکن ان تمام مصائب و مشکلات کے باوجود آپؑ نے صبر و شکیبائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اورآخر کار اس کا شیریں پھل بھی پا لیا، آپؑ کا دین نہ صرف جزیرہ نمائے عرب میں بلکہ شرق سے غرب تک پھیل گیا۔ اورآج ہر صبح و شام چار گوشہٴِ جہان سے اور دُنیا کے پانچوں براعظموں میں اذان سنائی دیتی ہے جوآپ کی فتح اور کامرانی کی آواز ہے، اور یہی ہے معنی "فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ" کا۔ اور یہ ہے شیاطین اور اہریمنون کے ساتھ بنرد آزمائی کا طریقہ، ان پر کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ کار اور خدا کے عظیم اہداف و مقاصد تک رسائی کا انداز۔ تو پھر آج آرام طلب لوگ صبر و شکیبائی اور رنج و غم اٹھائے بغیر کیونکر اپنے عظیم مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں؟ آج کے مُسلمان اس قدر دشمنوں کے مقابلے میں جو ان کی نابودی پر تلے ہُوئے ہیں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحیح اور اصلی مکتب سے ہدایت اور سبق حاصل کئے بغیر کیونکہ کامیاب ہو سکتے ہیں؟ مسلمان راہنما اور لیڈر خاص طور پر طرز عمل اپنانے کے پابند ہیں، جیسا کہ حضرت امیر علیہ السلام فرماتے ہیں: " إنَّ الصّبْر على ولاة ألأمر مفروض لقول الله عَزّوَجَلّ لنبِيّه: فَاصْبِرْ كَما صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ، وَايجابه مثل ذلك على اوليائه و اهل طاعته، بقوله: لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَة۔" "رہبروں اور زمام داروں پر صبر و استقامت فرض ہے کیونکہ خدا نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا ہے۔ "فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ: اور اسی چیز کو اپنے دوستوں اور اطاعت گزاروں پر بھی فرض قرار دیا ہے کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ رسُول اللہ کی ذات تمہارے لیے ایک بہت اچھا نمونہ ہے (تم سب کو ان کی پیروی کرنی چاہیے)۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد۵، صفحہ ۲۳ بحوالہ احتجاج طبرسی)۔ خداوندا! یہ عظیم نعمت، یہ آسمانی عطیہ اور مصائب و مشکلات کے مقابلے میں یہ صبر و شکیبائی اور استقامت ہمیں بھی عنایت فرما۔ پروردگارا! ہدایت کا یہ چراغ جسے تیرے أُولُواالْعَزْم رسولوں خصوصاً خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طاقت فرسا تکلیفیں اٹھا کر بشریت کے راستے میں روشن رکھا ہے، ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اسے روشن ہی رکھیں اور پوری لیاقت کے ساتھ اس کی حفاظت کرتے رہیں۔ بارالہٰا! ہم جانتے ہیں کہ حق کے تمام دشمن متفق اور متّحد ہو چکے ہیں اور کسی بھی جُرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کرتے تُو ان کی کوششوں سے زیادہ ہمیں صبر و شکیبائی کی توفیق عطا فرما تاکہ اِن بےحد و حساب مشکلات کے سامنے ہم ہرگز نہ جھکنے پائیں اور طوفانی موجوں سے کامیابی سے گزر جائیں اور یہ تیری امداد اور تیرے بےانتہا لطف و کرم کے بغیر قطعاً ناممکن ہے۔! آمین یا ربّ العالمین سورہ احقاف کی تفسیر ختم ہوئی۔