Fussilat
سُوره حم سجده (فُصّلت)
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۵۴ آیات ہیں
سُورہٴ حٰم سجدہ کے مندرجات
چونکہ یہ سورت مکی ہے، لہٰذا اس میں مکی سورتوں کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، یعنی معارفِ اسلامی کی تاکید، اعتقادی مباحث، جنّت کی خوشخبری اور جہنم سے ڈرانے کے مسائل۔لیکن اس کے باوجود اس میں کچھ ایسے مسائل بھی بیان ہوئے ہیں جو دوسری سورتوں میں بیان نہیں ہوئے اور جو اسی سورت کے ساتھ مختص ہیں۔ اس سورت کے مندرجات کو مندرجہ ذیل حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱۔ قرآن مجید کی طرف توجہ اور اس کے بارے میں تفصیل سے گفتگو، جو اس سورت کی مختلف آیات میں بیان ہوئی ہے۔ ان میں یہ باتیں بھی ہیں کہ قرآن کی حاکمیت ہر دور میں باقی ہے اور ہر زمانے میں اس کا منطقی تسلط بحال اور برقرار ہے، جیسا کہ اسی سورت کی ۴۱ ویں اور ۴۲ ویں آیات میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے: "یہ ناقابلِ شکست کتاب ہے اور باطل ہرگز اس پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔" یہ بات اس میں تحریف نہ ہونے کی بھی دلیل ہے۔ نیز اسی سورت میں اس آسمانی کتاب کے مقابل دشمن کی سخت محاذ آرائی کا ذکر بھی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کی مخالفت کی یہ حالت تھی کہ وہ لوگوں کو آیاتِ قرآنی سننے سے بھی روکا کرتے تھے۔ ۲۔تخلیقِ زمین و آسمان، خصوصاً گیس کی شکل کے مادہ (دخان) سے کائنات کی آفرینش کا آغاز اور کرۂ زمین، پہاڑوں، نباتات اور حیوانات کی پیدائش کے مراحل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ۳۔قومِ عاد و ثمود سمیت گذشتہ مغرور اور سرکش اقوام کے حالاتِ زندگی، ان کے دردناک انجام، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی داستان کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ۴۔ مشرکین اور کفار کو ڈرایا گیا ہے۔ خاص طور پر قیامت کے بارے میں لرزا دینے والی آیات انسان کے اعضاء حتیٰ کہ کھال کی گواہی کا ذکر ہے اور جب وہ عذابِ الٰہی کے سامنے پیش ہوں گے تو اللہ ان کو زبردست طور پر جھڑکے گا۔ ۵۔ معاد اور قیامت کے کچھ دلائل اور اس کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ ۶۔مندرجہ بالا عناوین کے ضمن میں جو وعظ و نصیحت کی گئی ہے وہ انسان کی روح کی تقویت کا سبب ہے۔ خاص کر راہِ حق میں استقامت، دشمن سے منطقی مقابلے کا طریقۂ کار اور دینِ الٰہی کی طرف راہنمائی کے اسلوب کار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ۷۔ سورت کو پروردگارِ عالم کی آفاقی اور انفسی آیات کے بارے میں دلچسپ لیکن مختصر گفتگو اور معاد کے مسئلے پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اس سورت کی تلاوت کی فضیلت
اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں یوں بیان ہوئی ہے: "مَن قَرَأَ 'حٰم السَّجدَۃ' أُعطِيَ بِكُلِّ حَرفٍ مِنْهَا عَشرُ حَسَنَاتٍ" (جو شخص سورۂ حٰم السجدہ کی تلاوت کرے، اسے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا کی جائیں گی۔) (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۹، ص ۲) امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے: "مَن قَرَأَ 'حٰم السَّجدَۃ' كَانَتْ لَهُ نُورًا يَومَ القِيَامَةِ مَدَّ بَصَرِهِ، وَسُرُورًا، وَعَاشَ فِي هَذِهِ الدُّنيَا مَغبُوطًا مَحمُودًا" (جو شخص سورہ حٰم السجدہ کی تلاوت کرے گا، قیامت کے دن یہ سورت اس کے سامنے نور بن کر آئے گی، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی وہاں تک نور ہی نور ہوگا اور اس کی مسرت اور خوشی کا سبب ہو گی۔ اور دنیا میں بھی وہ شخص ایسا اچھا مقام پیدا کرے گا جو دوسرون کےلئے باعث رشک ہو گا۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، سورہ حم سجدہ کے آغاز میں؛ جلد 9، ص 2) ایک اور حدیث میں جو "بہیقی" سے نقل ہوئی ہے، اس میں خلیل بن مرہ کہتے ہیں: "کوئی رات بھی ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہ 'تبارک' اور سورہ 'حٰم السجدہ' پڑھ کر نہ سوتے ہوں۔" (بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۴، صفحہ ۸۴) مسلم ہے کہ اس سورت کی بیدار کن آیات، جن میں روشنی عطا کرنے والی نصیحتیں بھی ہیں اور مطالب و معانی سے بھرپور معارف، جب تلاوت کے ذریعے انسانی روح میں جذب ہو جائیں اور اس کی زندگی میں اس کی رہنمائی کریں تو یقیناً بروزِ قیامت اس کے نور اور اس کی دنیا میں مؤثر کامیابی کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔ کیونکہ تلاوت، غور و فکر کا مقدمہ ہے، اور غور و فکر، عمل کا مقدمہ۔ اس سورت کو "سورہ فصلت" بھی کہتے ہیں اور وہ اس لئے کہ اس کی تیسری آیت میں لفظ آیا ہے، جبکہ "حٰم سجدہ" سے اس لئے موسوم ہے کہ "حٰم" سے اس کا آغاز ہوا ہے اور اس کی ۳۷ویں آیت میں سجدے کا حکم ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قرآن کی عظمت!
Tafsīr Nemūna · Vol. 6اسلامی روایات میں ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ مشرکین کے بتوں کی مذمت کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھا کرتے تھے تاکہ وہ توحید کی راہ پر آ جائیں لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ خدا کی آیات نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اشعار ہیں۔ بعض کہتے تھے کہ یہ "کہانت" ہے۔ ("کہانت" غیب کی ان باتوں کو کہتے تھے جن کا کچھ لوگ دعویٰ کرتے تھے کہ جنات کی مدد سے انہیں معلوم ہوتی ہیں) بعض کہتے تھے کہ یہ اس کے دلچسپ خطبے ہیں جن کا نام اس نے قرآن رکھ لیا ہے۔ ولید بن مغیرہ قریش کے مشہور افراد میں سے تھا اور عرب اپنے اختلافات اسی سے حل کرایا کرتے تھے اور اپنے مسائل کا حل اسی سے پوچھا کرتے تھے۔ ایک دن ابو جہل نے ولید سے پوچھا: اے ابو عبد شمس! (ولید کی کنیت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یہ جو کچھ کہتا ہے آیا جادو ہے، کہانت ہے یا خطبہ؟ ولید: پہلے مجھے اس کی باتیں سننے دو پھر بتاؤں گا کہ کیا ہے۔ چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت حجر اسماعیل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ولید نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: "محمد! اپنے کچھ اشعار تو مجھے سناؤ۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شعر نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے جسے وہ اپنے انبیاء اور رُسٗل پر نازل کرتا ہے۔ اس نے کہا: جو کچھ بھی ہے، پڑھو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ حٰم سجدہ کی تلاوت شروع کی، جب اس نے "بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" کو سُنا تو مذاق کرتے ہوئے کہا: کیا یہ وہی رحمان ہے جو یمامہ میں رہتا ہے؟ (رحمٰن نامی آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)؟ فرمایا: نہ، خدا کو پکار رہا ہوں جو "رحمٰن" اور "رحیم" ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تلاوت جاری رکھی۔ جب اسی سورت کی ۱۳ویں آیت "فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ" پر پہنچے تو ولید یہ سُن کر لرزہ براندام ہو گیا اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، فوراً اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا، پھر قریش کے پاس نہیں گیا۔ قریش، ابو جہل سے کہنے لگے: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ولید بن مغیرہ محمد کے دین کی طرف جھک گیا ہے کیونکہ اب تک وہ ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آیا۔ شاید محمد کی باتوں میں آ گیا ہے اور اسی کے گھر چلا گیا ہے۔ بہرحال، قریش سخت پریشان اور مغموم ہو گئے۔ دوسرے دن ابو جہل، ولید کے پاس گیا اور ان کے درمیان کچھ یوں گفتگو کا تبادلہ ہوا: ابو جہل: چچا جان! (ولید، ابو جہل کا چچا تھا) آپ نے تو ہمیں شرمسار اور ذلیل و رسوا کر دیا۔ ولید: بھتیجے! آخر کس وجہ سے؟ ۔۔۔: "آپ تو محمد کے دین پر فریفتہ ہو گئے۔" ۔۔۔: "میں اس کے دین پر فریفتہ نہیں ہوا بلکہ اپنے قبیلے اور بزرگوں کے اسی دین پر برقرار ہوں، البتہ اس سے کچھ ایسی سخت اور پیچیدہ باتیں سنی ہیں جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔" ۔۔۔: "کیا وہ شعر تھے؟" ۔۔۔: "قطعاً شعر نہیں تھے۔" ۔۔۔: "موزون خطبات تھے؟" ۔۔۔: "نہ! خطبہ ایسا کلام ہوتا ہے جو باہم پیوستہ اور یکساں ہوتا ہے، لیکن یہ ایسا کلام ہے جو اس سے جدا اور ایک دوسرے کے وزن پر بھی نہیں ہے لیکن اس کی اپنی ایک خاص چمک ہے۔" ۔۔۔: "پھر تو کہانت ہی ہو گی؟" ۔۔۔: "نہ، کہانت بھی نہیں ہے۔" ۔۔۔: "تو پھر کیا ہے؟" ۔۔۔: "مجھے کچھ مہلت دو تاکہ سوچ کر بتاؤں۔" دوسرے دن لوگوں نے اس سے پوچھا، : "ولید! تمہاری فکر نے کہاں تک رسائی کی ہے؟" : "ولید! پس کہہ دو کہ وہ سحر ہے کیونکہ دلوں کو اپنی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے۔" اسی موقع پر سورہ "مدثر" کی کچھ آیات (۱۱ تا ۳۰) کے بارے میں نازل ہوئیں۔ (تشریحی نوٹ: بحار الانوار جلد ۱۷، ص۲۱۱۔ یہ روایت کچھ فرق کے ساتھ بعض دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے جن میں سے تفسیر قرطبی (جلد، ص۵۷۸۲ اسی سورت کے آغاز) میں بھی درج کی گئی ہے)۔ اس روایت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کی آیات کس قدر پرکشش اور لرزا دینے والی ہیں۔ حتیٰ کہ عرب کے متعصب دور اندیش شخص پر ان کا اس قدر اثر ہوا۔ اب ہم آیات کی تفسیر کی طرف آتے ہیں۔ اس سورت کے آغاز میں ایک بار پھر ہم حروف مقطعات کی تلاوت کر رہے ہیں (حٰم)۔ قرآنی سورتوں کے آغاز میں یہ یہاں پر دوسری بار سامنے آ رہا ہے۔ حروف مقطعات کے بارے میں ہم بارہا تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں یہاں پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ یہاں پر صرف اتنا بتا دینا کافی ہے کہ بعض مفسرین اس "حٰم" کو سورت کا نام دیتے ہیں اور بعض کے نزدیک حرف "ح" ، "حمید" اور حرف "م" ، "مجید" کی طرف اشارہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عظیم ناموں میں سے ہیں۔ پھر قرآن پاک کی عظمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ وہ کتاب ہے جو خداوند رحمان و رحیم کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ (تَنْزیلٌ مِنَ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ)۔ اس خدا کی رحمت عامہ اور رحمت خاصہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر ان آیات کے نزول کا سبب بنیں، ایسی آیات جو دوست اور دشمن دونوں کے لیے رحمت کا باعث ہیں اور اولیاءِ خدا کے لیے خاص برکتیں اور رحمتیں اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ درحقیقت اس آسمانی کتاب کی واضح اور نمایاں صفت وہ رحمت ہی ہے جو آیات قرآنی کے اندر ایسے سموئی ہوئی ہے جس طرح پھول کی پتیوں میں عطر کے ذرات ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو اس کے راستے پر گامزن ہوں اور اس کی تعلیمات سے ہدایت حاصل کریں۔ قرآن کے بارے میں مندرجہ بالا اجمالی بیان کے بعد اب اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اور اس آسمانی کتاب کی پانچ صفات کا بیان ہے۔ یہ پانچ ایسی صفات ہیں جو قرآن مجید کے اصلی چہرے کی تصویر کشی کرتی ہیں اور اس کی ایک منہ بولتی تصویر ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: یہ ایسی کتاب ہے جس کی تمام آیات روشن ہیں اور جس کا ہر مطلب اپنے مقام پر بیان ہوا ہے اور انسان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں (کِتابٌ فُصِّلَتْ آیاتُہُ)۔ (تشریحی نوٹ: "کتاب" خبر کے بعد خبر ہے وہ یوں کہ "تنزیل" مبتداء محذوف کی خبر ہے اور کتاب اس کے بعد کی خبر ہے)۔ ایسی کتاب ہے جو فصیح بھی ہے اور منہ بولتی بھی (قُرْآناً عَرَبِیّاً)۔ ایسے لوگوں کے لیے جو صاحبانِ علم اور جُویائے حقیقت ہیں (لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "تقوم یعلمون" ممکن ہے کہ "فصلت" کے متعلق ہو یا پھر ہو سکتا ہے "تنزیل" کے متعلق ہو)۔ قرآن، جو کہ بشیر و نذیر ہے، اُمید بخش اور خوف آور ہے۔ نیک لوگوں کو خوش خبری دیتا ہے اور بدکاروں کو ڈراتا ہے (بَشیراً وَ نَذیراً)۔ لیکن ان میں سے اکثر نے روگردانی کر لی ہے، لہٰذا وہ کچھ بھی نہیں سنتے (فَأَعْرَضَ أَکْثَرُھُمْ فَھُمْ لا یَسْمَعُونَ)۔ اس طرح سے اس آسمانی کتاب کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ اس میں انسانی ضروریات کے مختلف مسائل کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی جس سطح کے فکر و فہم کا مالک ہوگا، اور اسے جس مرحلے پر روحانی احتیاج ہو گی، اپنی فکر کی اتنی مقدار اور اپنی ضرورت کی اسی حد تک بہرہ اندوز ہو گا۔ اس کی دوسری بڑی صفت یہ ہے کہ یہ کتاب ایک مکمل مجموعہ ہے کیونکہ "قرآن" کے مادہ سے ہے جس کا اصل معنی مختلف اجزائے سخن کو یکجا کرنا۔ اس کی تیسری صفت یہ ہے کہ اس کی خاص فصاحت اور بلاغت ہے کہ جس کے ذریعے حقائق کو صحیح صحیح، صراحت کے ساتھ بغیر کسی کم و کاست کے واضح طور پر نہایت ہی دلکش انداز اور جاذب پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کی چوتھی اور پانچویں صفت یہ ہے کہ خوشخبری دینے والی اور متنبہ کرنے والی ہونے کے باعث یہ کتاب گہرا تربیتی اثر رکھتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آیات نیک اور پاک لوگوں کی ترغیب اور انہیں شوق دلانے کے لیے اس قدر حوصلہ بڑھاتی ہیں کہ انسان جُھوم اٹھتا ہے اور کبھی مفسد اور مجرم لوگوں کو تنبیہ کرنے اور ڈرانے میں اس حد تک لرزا دیتی ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان دونوں تربیتی اصولوں کی انہی آیات میں ایک دوسرے کے دوش بدوش بیان کیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہٹ دھرم متعصب افراد کے پاس سننے والے کان نہیں ہیں۔ گویا وہ بہرے ہیں اور کچھ بھی نہیں سن پاتے۔ ان کے ظاہری کان صحیح سالم ہیں لیکن سننے کی صلاحیت اور حقائق کے ادراک کی توانائی کھو چکے ہیں۔ اور پھر یہ کہ ان دل کے اندھوں کا ردّعمل یہیں پر ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت اور تبلیغ سے لوگوں کو محروم کر دیں اور یہ ثابت کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کو سننے والا کان اس دھرتی میں کہیں نہیں ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس قسم کی کوششیں بےفائدہ ہیں۔ جیسا کہ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: انہوں نے کہا : تیری دعوت کے بارے میں ہمارے دل پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہے (وَقالُوا قُلُوبُنا في أَكِنَّةٍ مِمّا تَدعُونا إِلَيهِ وَفي آذانِنا وَقرٌ وَمِن بَينِنا وَبَينِكَ حِجابٌ)۔ جب صورتِ حال یہ ہے تو تجھے ہم سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، تُو اپنا کام کر ہم اپنے عقائد اور مذہب کے مطابق عمل کریں گے (فَاعْمَلْ إِنَّنا عَامِلُون)۔ بالکل ویسے ہی جیسے نادان اور بیوقوف مریض مسیحا نفس طبیب سے دور بھاگتا ہے، اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر صورت خود کو اس سے دور رکھے۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ گویا ہماری عقول و افکار پردوں میں لپٹی ہوئی ہیں، جن میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی۔ خیال رہے کہ "أكنّة" ، "كنان" کی جمع ہے جس کا معنی ہے پردہ، نہ صرف ایک درحقیقت جہل و تعصب، ہٹ دھرمی، عناد، اندھی تقلید اور اس نوع کے دوسرے بہت سے پردوں نے ان کے دلوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نہ صرف یہ کہ ہماری عقل کسی چیز کا ادراک نہیں کر سکتی، ہمارے کان بھی بہرے ہیں لہٰذا ہم تیری باتوں کو نہیں سن سکتے۔ یعنی اصل مرکز بھی بیکار ہو چکا ہے، اور اس کے وسائل اور ذرائع بھی کام نہیں کر پاتے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر یہ بھی سمجھ رکھ کہ گویا ہمارے اور تیرے درمیان بڑے ضخیم پردے حائل ہو چکے ہیں۔ اگر ہمارے کان ٹھیک بھی ہوں پھر بھی تیری آواز ہمارے کانوں تک نہیں پہنچ سکتی لہٰذا تُو اپنے آپ کو اس قدر کیوں پریشان کرتا ہے، فریاد کرتا ہے، ہمدردی کا اظہار کرتا ہے، دن رات تبلیغ میں مصروف رہتا ہے! چھوڑ ہمیں ہمارے حال پر کیونکہ یہاں تیری جنس کا کوئی خریدار نہیں۔ تُو اپنے دین پر، ہم اپنے دین پر۔ یہ بے شرمی، بےحیائی، ڈھٹائی اور بےوقوفی کی انتہا ہو گی کہ انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ حق سے اس قدر گریز پا ہو۔ در چشم ایں سیاه دلان صبح کاذب است در روشنی اگر ید بیضا کند کسی "اگر کوئی شخص یدِ بیضا سے بھی روشنی پیدا کرے، پھر بھی ان دل کے اندھوں کے سامنے یہ صبح کاذب ہی ہو گی۔" یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ صرف "وبیننا وبینک حجاب" (ہمارے اور تیرے درمیان حجاب ہے) نہیں کہا کرتے تھے بلکہ لفظ "مِن" کا بھی اضافہ بھی کرتے تھے: "وَمِن بَینِنا وَبَینِكَ حِجاب" تاکہ زیادہ سے زیادہ تاکید کا اظہار کر سکیں کیونکہ لفظ "من" کے اضافے سے مفہوم یوں ہو جائے گا "ہمارے اور تمہارے درمیان کے فاصلہ کو پردے نے بھر دیا ہے" اور ظاہر سی بات ہے کہ جس پردے نے اس درمیانی فاصلے کو بھر دیا ہو اسے بہت ضخیم ہونا چاہیے اور یہ فطری سی بات ہے کہ اس قدر ضخیم حجاب کی اوٹ میں بات کرنے کا ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہو گا۔ ممکن ہے "فَاعْمَلْ إِنَّنا عَامِلُون" کا جملہ رسولِ اکرمؐ کو مایوس کرنے کے لیے کفار کی طرف سے کہا گیا ہو کہ تم اپنے کام کو جاری رکھو اور ہم اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ یہ بھی امکان ہے کہ کفار کی طرف سے آنحضرتؐ کو یہ دھمکی دی گئی ہو کہ تم جو کچھ کر سکتے ہو کرو، ہم بھی تمہاری ذات اور تمہارے دین کے خلاف اپنی تمام توانائیاں صرف کریں گے اور ان کا یہ نظریہ ان کی ہٹ دھرمی، ضد اور تعصب کی انتہا کو بیان کرتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر مشرکین، کون ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 6حسبِ سابق یہ آیات بھی مشرکین اور کفار کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں اور درحقیقت ان کے کلام کا جواب ہیں جو اس سے پہلے آیات میں ذکر ہوا ہے۔ ان میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے سلسلے میں پیدا ہونے والے ہر طرح کے شک و شبہ کو دُور کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کہہ دے میں تو صرف تمہاری طرح کا انسان ہوں، اور یہ حقیقت مجھ پر ہمیشہ وحی ہوتی رہتی ہے کہ تمہارا معبود صرف اور صرف ایک اللہ ہے (قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ)۔ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ مَیں فرشتہ ہوں اور نہ ہی انسان کے علاوہ کسی اور نسل سے ہونے کا مدعی ہوں، نہ خدا ہوں نہ خدا کا بیٹا، بلکہ تمہاری طرف کا ایک انسان ہوں فرق صرف یہ ہے کہ فرمانِ توحید ہمیشہ مجھ پر وحی کی صورت میں آتا رہتا ہے۔ میں نے تمہیں اپنے دین کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، یہ جو تم کہتے ہو کہ تم میرا ڈٹ کر مقابلہ کرو گے، یا تم میری زبردست مخالفت کرو گے، تمہاری یہ دھمکیاں آخر کس لیے؟ یہ تو ایک روشن اور واضح راستہ ہے جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اس کے علاوہ میرا اور فرض بھی نہیں بنتا۔ آخری فیصلہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اب جبکہ صورت حال یہ ہے تو تم اپنی تمام تر توجہات اسی معبودِ یکتا کی طرف مرکوز کر دو اور شرک و گناہ سے توبہ و استغفار کرو (فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "فَاسْتَقیمُوا" ، "استقامت" کے مادہ سے ہے اور یہاں پر کسی چیز کے سامنے سیدھا کھڑا ہونے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے لفظ "الی" کے ساتھ متعدی ہوا ہے کیونکہ اس میں "استواء" کا معنی پایا جاتا ہے)۔ پھر انہیں خطرے سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: اور مشرکین کے لیے خرابی ہے (وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ)۔ بعد کی آیت مشرکین کا تعارف کرواتے ہوئے اس سلسلے میں ایک جملہ پیش کرتی ہے جو صرف اسی آیت میں منحصر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہی جو زکوٰة ادا نہیں کرتے اور آخرت کے منکر ہیں (الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ)۔ درحقیقت ان کفار و مشرکین کا تعارف دو چیزوں کے ساتھ کرایا جا رہا ہے: ایک ترکِ زکوٰة اور دوسرا انکارِ معاد۔ یہ آیت مفسرین کے درمیان ایک تفصیلی بحث کا سبب بن گئی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اس کی تفسیر میں کئی احتمالات کا ذکر کیا ہے۔ بحث کا اصل سبب یہ ہے کہ جب زکوٰة کا شمار دینِ اسلام کے فروع میں ہوتا ہے تو ترکِ زکوٰة کفر اور شرک کی دلیل کیونکر ہو سکتا ہے؟ لہٰذا بعض مفسرین نے آیت کے ظاہری معنی پر کاربند رہتے ہوئے کہا ہے کہ ترکِ زکوٰة اگرچہ اس کے وجوب کے انکار پر مبنی نہ ہو پھر بھی کفر کی علامت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ترکِ زکوٰة کفر ہے لیکن جب اس کا انکار کیا جائے کیونکہ زکوٰة کا شمار ضروریاتِ دین میں سے ہوتا ہے اور اس کا منکر کافر ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں پر زکوٰة طہارت اور پاکیزگی کے معنی میں ہے اور یہاں ترکِ زکوٰة سے مراد لوحِ دل سے شرک کی آلودگیوں کو ترک کرنا ہے جیسا کہ سورۂ کہف کی آیت ۸۱ میں بھی آیا ہے: "خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً" "ایسا بیٹا جو اس سے زیادہ پاکیزہ ہو۔" لیکن یہ بات اس لیے مشکل بن جاتی ہے کہ یہاں پر "لَا يُؤْتُونَ" (ادا نہیں کرتے، نہیں دیتے) کا کلمہ آیا ہے جو اس معنی سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ بنابریں، اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ یہاں پر زکوٰة کی ادائیگی مراد لی جائے۔ ایک اور مشکل یہ بھی درپیش ہے کہ زکوٰة ہجرت کے دوسرے سال مدینے میں شرعی حیثیت حاصل ہوئی اور یہ آیات مکی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض بزرگ مفسرین کے بقول یہ سورہ مکہ میں نازل ہونے والی سب سے پہلی سورت ہے۔ لہٰذا وہ اس مقام پر زکوٰة کا معنی "راہِ خدا میں ہر قسم کا انفاق" لینے پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے اس کی یہی تفسیر کی ہے۔ یا پھر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ وجوبِ زکوٰة کا اصل حکم تو مکہ میں نازل ہو چکا تھا، لیکن اس کی حدد حدود، نصاب اور مقدار کی تفصیل ہجرت کے دوسرے سال نازل ہوئی۔ بہرحال، جو چیز یہاں پر مفہومِ آیت کے زیادہ نزدیک معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زکوٰة سے مراد وہی عام انفاق ہے اور اسے ترک کرنا شرک کی علامتوں میں سے اس لیے شمار کیا گیا ہے کہ راہِ خدا میں مال کا خرچ کرنا، ایثار، فداکاری اور خدا کی ذات سے عشق و محبت کی ایک نشانی ہے۔ اس لیے کہ انسان کے نزدیک مال، دنیا کی محبوب ترین چیزوں میں سے ایک ہے اور راہِ خدا میں خرچ کرنا اور نہ کرنا ایمان اور شرک کی واضح علامت بن سکتی ہے۔ حتیٰ کہ کبھی بعض اوقات بعض لوگ تو اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھتے ہیں، اس کی مثالیں ہم نے اپنی زندگی میں کئی مقامات پر دیکھی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں "لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ" سے مراد راہِ خدا میں خرچ نہ کرنا ہے جو ان کے خدا پر ایمان نہ لانے کی علامت ہے اسی لیے اس کا ذکر معاد پر ایمان نہ لانے کے ساتھ کیا گیا ہے، یا پھر اس سے مراد زکوٰة کی عدم ادائیگی اس کے وجوب کے انکار کے ساتھ ہے۔ ایک اور نکتہ جو تفسیر کی وضاحت کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی احکام میں "زکوٰة" کا ایک خاص مقام ہے جس کی ادائیگی اسلامی حکومت کو تسلیم کرنے کی علامت ہوتی ہے اور عدم ادائیگی عموماً اسلامی حکومت کے خلاف قیام، طغیان اور سرکشی شمار ہوتی ہے۔ اور معلوم ہے کہ صحیح اسلامی حکومت کے خلاف قیام کفر کا موجب ہوتا ہے۔ اس بات کی شہادت اس واقعہ سے ملتی ہے جو تاریخِ اسلام میں "اصحابِ رِدہ" (وہ گروہ جو بعد وفاتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرتد ہو گئے) کے بارے میں آیا ہے۔ یہ لوگ بنی طی، بنی غطفان اور بنی اسد کے قبائل سے تھے جنہوں نے حکومتِ اسلامی کے کارندوں کو زکوٰة دینے سے انکار کر دیا اور حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ قرآن پر ثابت قدم مسلمانوں نے ان کے ساتھ جنگ کی اور ان کو کچل دیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت ابھی اسلامی حکومت تشکیل نہیں پائی تھی، لیکن پھر بھی مندرجہ بالا مطلب کی طرف ایک مجمل سا اشارہ ہو سکتا ہے۔ کتبِ تاریخ میں مذکور ہے کہ وفاتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اہلِ رِدہ نے کہا: اَمَّا الصَّلٰوةُ فَنُصَلِّی وَ اَمَّا الزَّكَاةُ فَلَا نُعْطِی أَمْوَالَنَا: "ہم نماز پڑھتے ہیں لیکن زکوٰة کے بارے میں ہم اجازت نہیں دیں گے کہ ہمارے مال کو غصب کیا جائے۔" نتیجہ کے طور پر مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ اس جماعت کے ساتھ جنگ کریں کیونکہ وہ اس امر کو ان کے ارتداد پر محمول کرتے تھے۔ (تشریحی نوٹ: "تفسیر ابو الفتوح" جلد ۱۰، ص ۹ زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں ایسے لوگوں کا تعارف کروایا جا رہا ہے جو ان بخیل اور بےایمان مشرکین کے برعکس صفات کے مالک ہیں اور ان کی جزا کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ: "جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمالِ صالحہ انجام دیے ان کے لیے دائمی اور منقطع نہ ہونے والا اجر ہے" (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ)۔ "مَمْنُون"، "مَنّ" کے مادہ سے ہے جس کا معنی یہاں پر قطع (کاٹنا) اور نقص (کمی) ہے۔ لہٰذا "غَيْرُ مَمْنُونٍ" کا معنی "غیر مقطوع" اور "غیر ناقص" ہے۔ اور بعض مفسرین نے "مَنُّون" (بروزنِ "زبون") کے لفظ کو بھی اسی مادہ سے سمجھا ہے، جس کا معنی موت ہے۔ اسی طرح "منت جتانے" کو بھی اسی مادہ سے لیا گیا ہے کیونکہ پہلا معنی زندگی کے مقطع ہو جانے اور انتہاء کا ہے، اور دوسرا معنی نعمت اور شکر کو قطع کر دینا۔ (تشریحی نوٹ: دیکھئے "مفرداتِ راغب" مادہ "من")۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں پر "غَيْرُ مَمْنُونٍ" سے مراد یہ ہے کہ مومنین پر اس اجر کی کوئی منت نہیں جتائی جائے گی۔ (لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے)۔
اسلام میں زکوٰة کی غیر معمولی اہمیت
مندرجہ بالا آیت میں اس اسلامی فریضے کی اہمیت کو ایک بار پھر لرزا دینے والی تعبیر کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے، زکوٰة چاہے واجب کے معنی میں لی جائے اور چاہے اس سے بھی وسیع تر معنی میں، اس کی اس قدر اہمیت ہونی چاہیے۔ کیونکہ زکوٰة عدالتِ اجتماعی برقرار کرنے، غربت کا مقابلہ کرنے، طبقاتی فاصلوں کو پاٹنے، اسلامی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے، دل و جان کو دنیا اور مال پرستی کی محبت سے پاک کرنے، غرض بارگاہِ الٰہی کا تقرب حاصل کرنے کا ایک اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔ بہت سی اسلامی روایات میں ایسے مطالب بیان کیے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰة کے ترک کر دینے سے انسان کفر کی سرحد تک جا پہنچتا ہے اور جس طرح مندرجہ بالا آیت میں بیان کیا گیا ہے اس سے ملتی جلتی تعبیرات ان اسلامی روایات میں ملتی ہیں۔ بطورِ نمونہ: ۱۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو جو وصیتیں فرمائی ہیں۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ: "یا علی کفر باللہ العظیم من ہٰذہ الامۃ عشرۃ، وعدّ منہم مانع الزکوٰة... ۔۔۔ثم قال یا علی! من منع قیراطاً من زکوٰة مالہ فلیس بمؤمن ولا مسلم ولا کرامۃ، یا علی! تارک الزکوٰة یسأل اللہ الرجعۃ الی الدنیا، و ذٰلک قولہ عزوجل حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون..." یا علی! (میری) اس امت کے دس قسم کے لوگ خدائے بزرگ و برتر کا کفر کر چکے ہیں اور ان دس قسم کے لوگوں میں سے مانع زکوٰة کو بھی شمار فرمایا،۔۔۔۔پھر فرمایا: اے علی! جو شخص اپنے مال کی زکوٰة سے ایک قیراط بھی ادا نہ کرے نہ تو وہ مؤمن ہے، نہ مسلمان اور نہ ہی خدا کے نزدیک اس کی کوئی قدر و قیمت ہے۔ یا علی! مالک زکوٰة مرتے وقت اس دنیا کی طرف لوٹ آنے کا خدا سے سوال کرتا ہے، (تاکہ اپنے اس عظیم گناہ کی تلافی کر سکے، لیکن یہ سوال مانا نہیں جاتا) اور یہی وہ چیز ہے جس کی طرف خداوند عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان میں سے کسی ایک کے پاس موت آجاتی ہے تو وہ کہتا ہے: خداوندا! مجھے واپس پلٹا، (لیکن جواب منفی پاتا ہے)۔ (تشریحی نوٹ: وسائل الشیعہ، جلد۶، ص ۱۸، ۱۹؛ باب ثبوت الکفر والارتداد و القتل بمنع الزکوٰة استحلالاً وجحوداً؛ صاحب وسائل الشیعہ کی طرح بہت سے فقہاء اور محدّثین نے مندرجہ بالا روایات کو انکار زکوٰة کے معنی میں لیا ہے)۔ ۲۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "ان اللہ عزوجل فرض للفقراء فی اموال الاغنیاء فریضۃ لایحمدون الا بادائھا وھی الزکوٰة، بھا حقنوا دماءھم و بھا سموا مسلمین"۔ اللہ نے امراء کے مالوں میں غرباء کے لیے فریضہ مقرر کیا ہے کہ جسے ادا کیے بغیر وہ لائقِ تعریف نہیں ہو سکتے اور وہ ہے زکوٰة کہ جس کے ذریعے وہ اپنے خون کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور مسلمان بھی کہلاتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: سابقہ تشریحی نوٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ ۳۔ آخر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک اور فرمان: "من منع قیراطاً من الزکوٰة فلیمت ان شاء یہودیاً او نصرانیاً"۔ جو شخص زکوٰة کا ایک قیراط ادا نہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرے۔ (تشریحی نوٹ: سابقہ تشریحی نوٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ اسلام میں زکوٰة کی اہمیت، اس کا فلسفہ، اسی طرح اسلام میں وجوبِ زکوٰة کی تاریخ اور اس سے متعلق دوسری خصوصیات کے بارے میں ہم نے تفسیرِ نمونہ کی چوتھی جلد (سورہ توبہ کی ساٹھویں آیت کے ذیل میں) تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دورانیے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6مندرجہ بالا آیات میں زمین و آسمان کی تخلیق اور موجوداتِ عالم کے آغازِ خلقت کے بارے میں خداوندِ عالم کی عظمت، علم اور قدرت کی آفاقی آیات اور نشانیوں کا ذکر ہے خداوندِ عالم اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دے رہا ہے کہ کفار و مشرکین کو مخاطب کر کے ان سے سوال کریں کہ آیا وہ اس خداوندِ بزرگ و برتر کا کیسے انکار کر سکتے ہیں جو اتنے وسیع و عریض جہانوں کا مبدأ ہستی ہے؟ تاکہ اس طرح سے ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر اور عقل اور ہوش و حواس کو بیدار کر کے انہیں خود ہی فیصلہ کرنے کی دعوت دی جائے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: "کہہ دے آیا تم اس ذات کا کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو روز میں پیدا کیا (قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ)۔ "اور کیا اس کے لیے نظیر اور مثل قرار دیتے ہو (وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا)۔ کتنی بڑی غلطی ہے اور کس قدر بےبنیاد گفتگو؟ وہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے (ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ)۔ آیا جو ذات اب ان جہانوں کو چلا رہی ہے، وہ اس زمین و آسمان کی خالق نہیں ہو سکتی؟ اگر وہ خالقِ کائنات اور مدبرِ عالم ہے تو پھر ان بتوں اور بناوٹی معبودوں کو اس کا ہم پلہ کیوں قرار دیتے ہو؟ عبادت کے لائق تو وہی ذات ہو سکتی ہے جس کے ہاتھ میں اس کائنات کی تخلیق، تدبیر، مالکیت اور حکومت ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں پہاڑوں کی تخلیق، زمین کے معدنیات اور اس کی برکتوں اور غذائی مواد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس نے زمین میں پہاڑ بنائے، اس میں برکتیں اور فائدے رکھے ہیں اور اس کے اندر مختلف غذائی مواد بھی رکھا ہے اور یہ سب کچھ چار دنوں میں تھا (وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ)۔ یہ غذائی مواد ضرورت مندوں اور مانگنے والوں کی ضرورت کے عین مطابق ہے (سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "سواء" اور اسی طرح "للسائلین" کا اعراب کیا بنتا ہے اور یہ کس کلمہ سے متعلق ہیں؟ اس بارے میں متعدد احتمالات ہیں۔ پہلا یہ کہ "سواء" لفظ "اقوات" کا حال ہے اور "للسائلین"، "سواء" کے متعلق ہے۔ اس صورت میں اس کا نتیجہ مندرجہ بالا تفسیر کی صورت میں نکلے گا۔ دوسرا یہ کہ "سواء"، "ایام" کی صفت واقع ہو رہا ہے یعنی یہ چار دورانیے ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ لیکن "للسائلین" یا تو "قدر" سے متعلق ہو گا یا پھر کسی محذوف کلمہ سے، جو تقدیراً یوں ہے: "کائنة للسائلین" یعنی یہ چاروں سوال کرنے والوں کے لیے جواب ہیں (لیکن پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے)۔ تو اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے تمام ضرورت مندوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر بغیر کم و کاست ان سب کے لیے وہی کچھ پیدا کر دیا جو ان کے لیے لازم تھا، جیسا کہ سورہ طٰہٰ کی پچاسویں آیت میں فرمایا گیا ہے: رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ہمارا پروردگار تو وہ ہے جس نے ہر مخلوق کو اس کی تخلیقی ضرورت کے عین مطابق سب کچھ عطا کر دیا پھر اسے اپنے راستے کی ہدایت کی۔ "سائلین" سے مراد یہاں پر ممکن ہے کہ انسان ہوں یا بطور عام انسان، حیوان اور نباتات ہوں، (اور اگر ذوی العقول کی جمع کی صورت میں مذکور ہوا ہے تو یہ "تغلیب" کے لیے ہے)۔ اس تفسیر کے مطابق نہ صرف انسانی ضروریات کو پورا کر دیا گیا ہے بلکہ زمین میں موجود تمام حیوانات اور نباتات کی ضروریات کو بھی پورا کیا گیا ہے اور زندگی کی بقا و دوام کے لیے جو چیز ضروری تھی اسے پیدا کیا گیا ہے۔
ایک اہم سوال اور اس کا جواب
مذکورہ بالا آیات میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی آفرینش دو دن میں پہاڑوں کی برکتوں اور غذاؤں کی آفرینش چار دن میں ہوئی ہے اور انہی آیات کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ آسمانوں کی تخلیق دو دن میں ہوئی ہے جو مجموعی طور پر آٹھ دن بنتے ہیں۔ جبکہ قرآن مجید کی دوسری بہت سی آیات میں زمین و آسمان کی پیدائش کو چھ دن یا بالفاظ دیگر چھ دورانیوں میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ملاحظہ ہوں سورہٴ اعراف کی آیت ۵۴، سورہٴ یونس کی آیت ۳، سورہٴ ہود کی آیت ۷، سورہٴ فرقان کی آیت ۵۹، سورہٴ سجدہ کی آیت ۴، سورہٴ ق کی آیت ۳۸ اور سورہٴ حدید کی آیت ۴)۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ مفسرین نے اس سوال کے دو طرح کے جواب دیے ہیں: پہلا جواب جو کہ مشہور ہے یہ ہے کہ: جہاں پر"اربعة ایام" (چار دن) کہا گیا ہے وہاں پر مراد چار دنوں کا تتمہ ہے اور وہ اس طرح کہ ان چار دنوں میں سے پہلے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا گیا اور دوسرے دو دنوں میں زمین کی دوسری خصوصیات کو اور اس کے ساتھ ہی دو دنوں میں آسمانوں کو کہ سب مل کر چھ دن (چھ دوراینے) بنتے ہیں۔ اس قسم کی تعبرات عربی اور فارسی زبانوں میں بہت موجود ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ یہاں سے مکہ تک دس دن کا سفر ہے اور مدینہ تک ۱۵ دن کا یعنی مکہ سے مدینہ کا سفر پانچ دن کا ہے اور یہاں سے مکہ کا دس دن کا۔ (تشریحی نوٹ: آیت کی اس تفسیر کے مطابق اس کی تقدیریوں ہو گی: و قدر فیھا اقواتھا فی تتمة اربعة ایام یا جس طرح کہ تفسیر کشاف میں آیا ہے: کل ذالک فی ار بعة ایام)۔ البتہ اگر متعدد آیات میں آفرینش کا چھ دن کا ذکر نہ ہوتا تو ایسی کوئی تفسیر بھی قابل قبول نہ ہوتی لیکن قرآن کی آیات دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں اور ایک دوسرے کا قرینہ بنتی ہیں لہذا مندرجہ بالا تفسیر بخوبی قابل قبول ہے۔ دوسرا جواب جسے بہت کم مفسرین نے انتخاب کیا ہے وہ یہ ہے کہ: "اربعة ایام" (چار دن ) کا تعلق خلقت کے آغاز سے نہیں ہے بلکہ سال کے چار موسموں (بہار، خزاں، سرما اور گرما) کی طرف اشارہ ہے جو انسانوں اور حیوانوں کے رزق کی پیدائش اور غذائی مواد کی پرورش کی طرف اشارہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس مضمون کی ایک حدیث تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی درج ہے)۔ لیکن اس تفسیر سے ایک تو ان آیات کے جملوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار نہیں رہتی، کیونکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے بار ے میں "یوم" آغازِ پیدائش کے دورانیہ کے معنی میں ہے۔ اور اس کے مطابق یوم کا استعمال زمین اور غذائی مواد کی خصوصیات کے بارے میں سال کے چاروں موسم ہیں، تو پھر بات مکرر (دوبارہ) ہو جائے گی۔ دوسرے یہ کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آفرینش کے چھ دنوں میں سے صرف دو دن زمین کی تخلیق کے اور دو دن آسمانوں کی تخلیق کے ہوئے ہیں گفتگو ہوئی ہے لیکن باقی دونوں کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں ہوئی جو آسمان اور زمین کے درمیان مخلوقات "و ما بینھما" کی پیدائش سے متعلق ہیں۔ بہرحال، پہلی تفسیر کئی لحاظ سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔ یہ بات بتانے کی شاید ضرورت نہ ہو کہ آیات، مذکورہ میں "ایام" سے مراد یہ عام دن ہرگز نہیں ہیں کیونکہ زمین و آسمان کی پیدائش سے پہلے اس معنی میں دن کا تو بالکل وجود ہی نہیں تھا، بلکہ اس سے مراد آفرینش کے مختلف دورانیے ہیں جن پر لاکھوں بلکہ کروڑوں سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس بات کی مکمل وضاحت ہم تفسیر نمونہ کی جلد ٤ (سورہٴ اعراف کی ۵۴ ویں آیت کے ذیل) میں کر چکے ہیں۔ اس مقام پر دو اور نکتے باقی رہ جاتے ہیں جن کی طرف توجہ ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ "بارک فیھا" سے کیا مراد ہے؟ بظاہر اس سے زمین کے اندرونی معادن اور وسائل اور بیرونی چیزوں، درختوں، نہروں اور پانی کے چشموں وغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ جو زمین کی تمام زندہ مخلوق کے لیے برکت اور استفادے کا ذریعہ ہیں۔ دوسرا یہ کہ "فی اربعة ایام" (چار دن میں) کی تعبیر آیت میں مذکور کس موضوع کی آفرینش اور تخلیق سے متعلق ہے؟ بعض مفسرین کے نزدیک یہ صرف "اقوات" (غذائی مواد) سے متعلق ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ آیت کی تینوں اقسام (پہاڑوں، زمین کے وسائل اور برکات اورغذائی مواد کی تخلیق) سے متعلق ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو آیات مذکورہ میں مذکور "ایام" میں ان میں سے بعض امور داخل نہیں ہوں گے اور آیات کے نظام سے بھی مطابقت نہیں ہو گی۔ زمین کی پیدائش اور اس کے ارتقائی مراحل سے متعلق گفتگو کے بعد آسمانوں کی تخلیق سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: پھر آسمان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا جبکہ وہ دھواں تھا، اس وقت زمین اور آسمان سے فرمایا وجود میں آؤ اور صورت اختیار کرو، خواہ ازروئے اطاعت یا پھر مجبوراً (ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا)۔ انہوں نے کہا ہم ازروئے اطاعت وجود میں آئیں گے (قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ)۔ اس وقت خدا نے انہیں سات آسمانوں کی صورت میں دو دنوں میں پیدا کیا اور مکمل کر دیا (فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ)۔ "اور ہر آسمان میں جو کچھ چاہا فرمان دیا" اور ان میں مختلف مخلوقات اور موجودات کو پیدا کیا اور انہیں نظم و ضبط عطا کیا (وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا)۔ "اور نچلے آسمان کو ستاروں کے چراغوں سے زینت بخشی اور شہابوں کے ذریعے ان کی حفاظت کی تاکہ شیطان باتیں نہ چرا سکیں (وَ زَیَّنَّا السَّماءَ الدُّنْیا بِمَصابیحَ وَ حِفْظاً)۔ جی ہاں! "یہ ہے خداوند قادر و علیم کی تقدیر" (ذلِکَ تَقْدیرُ الْعَزیزِ الْعَلیمِ)۔
چند اہم نکات ۱۔ "ثم" کی تعبیر:
یہ عام طور پر زمانے میں تاخیر کے لیے آتی بھی آجاتی ہے لیکن کبھی بیان میں تاخیر کے لئے بھی آ جاتی ہے۔ اگر پہلے معنی میں ہو تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ آسمانوں کی تخلیق، زمین، پہاڑ، معادن اور غذائی مواد کی تخلیق کے بعد عمل میں آئی۔ لیکن اگر دوسرے معنی میں ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آسمانوں کی تخلیق پہلے عمل میں آئی ہو اور زمین کی اس کے بعد۔ لیکن بوقتِ بیان پہلے زمین، غذائی مواد اور ان کے منابع کا ذکر کیا کہ جو انسانوں کی ضرورت اور توجہ کا مرکز ہے پھر تخلیقِ آسمان کی تفصیل بیان کی۔ دوسرا معنی جہاں سائنسی انکشافات سے زیادہ ہم آہنگ ہے وہاں قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی زیادہ موافقت رکھتا ہے، کیونکہ سورہٴ نازعات میں فرمایا گیا ہے: أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَاoرَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَاo وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَاo وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَاo أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَاo وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَاo مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ آیا تمہارا مرنے کے بعد زندہ کرنا زیادہ اہم ہے یا آسمان کی تخلیق؟ خدا نے اسے بنایا، پھیلایا اور منظم کیا۔ اس کی رات کو تاریک اور دن کو روشن کیا۔ اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس کے اندرونی پانیوں، نباتات، چراگاہوں کو اس سے نکالا۔ بعد ازاں پہاڑوں کو محکم بنایا تاکہ تمہارے اپنے لیے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے زندگی کے وسائل فراہم ہوں۔ (نازعات/ ۲۷ تا ۳۳)۔ ان آیات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ زمین کا بچھانا، چشموں کا ابلنا، درختوں اور دوسرے غذائی مواد کی پیدائش، غرض سب کچھ آسمانوں کی تخلیق کے بعد وجود میں آئی۔ جب کہ اگر "ثم" سے تاخیرِ زمانی مراد لیں تو پھر کہنا پڑے گا کہ یہ سب آسمان کی تخلیق سے پہلے موجود تھے اور چونکہ "بعد ذٰلک" کا کلمہ ان سب کو اس کے بعد شمار کرتا ہے۔ لہٰذا "ثم" سے تاخیرِ بیانی مراد لینا زیادہ واضح اور روشن ہے۔ (تشریحی نوٹ: ابن عباس سے منقول ہے کہ زمین کی پیدائش آسمان سے پہلے ہوئی ہے لیکن (دحو الارض) بعد میں ہوا اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ گویا ابن عباس نے آیت کے آخر کی طرف توجہ نہیں فرمائی جس میں پہاڑوں اور غذائی مواد کی بات ہو رہی ہے۔ غور کیجئے گا)۔
۲۔ "استویٰ" کا مفہوم:
یہ استواء کے مادہ سے ہے جو دراصل اعتدال یا دو چیزوں کے ایک دوسرے کے برابر ہونے کے معنی میں آتا ہے، لیکن جیسا کہ بعض اربابِ لغت اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ جب "علیٰ" کے ساتھ متعدی ہو تو "کسی چیز پر غلبہ پانے اور مسلط ہونے" کے معنی میں آتا ہے۔ جیسے: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى خدائے رحمن عرش پر مسلط ہو گیا۔ (طٰہٰ۔ ۵)۔ اور جب "الیٰ" کے ساتھ متعدی ہو تو "قصد و ارادہ" کے معنی میں آتا ہے۔ جیسے زیرِ تفسیر آیت میں ہے: ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ پھر آسمان کی تخلیق کا ارادہ کیا۔ (حٰم سجدہ۔ ۱۱)۔
۳۔ ھی دخان سے مراد:
اس کا معنی ہے کہ آسمان، اوائل میں دھوئیں کی صورت میں تھے۔ یہ بتاتا ہے کہ آسمانوں کی تخلیق کا آغاز گیسوں کے بڑے بڑے مجموعوں سے ہوا۔ اور یہ آغاز آفرینش کے بارے میں سائنس کی تازہ تحقیقات سے پورے طور پر ہم آہنگ ہے۔ اب بھی بہت سے آسمانی ستارے گیس اور دھوئیں کے بڑے بڑے مجموعوں کی صورت میں موجود ہیں۔
۴۔ "فقال لہا و للارض ائتیا طوعاً او کرھاً"
خدا نے آسمان اور زمین سے فرمایا وجود میں آؤ اور صورت اختیار کرو خواہ ازروئے اطاعت یا ازراہِ مجبوری۔ اس معنی میں نہیں ہے کہ بات کو لفظوں سے ادا کیا گیا ہو بلکہ خدا کا قول تخلیق کے لیے فرمانِ تکوینی اور اس کا ارادہ ہی ہے۔ اور "طوعاً او کرھاً" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان و زمین کے صورت اختیار کرنے کے بارے میں خدا کا قطعی ارادہ تھا اور انہیں ہر حالت میں ایک مطلوب صورت اختیار کرنا ہی تھی چاہے وہ یہ بات چاہتے یا نہ چاہتے۔
۵۔ "اتینا طائعین":
(ہم نے ازروئے اطاعت یہ صورت اختیار کی ہے)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان اور زمین کو تشکیل دینے والا مواد تکوینی اور تخلیقی لحاظ سے مکمل طور پر اس کے ارادے اور فرمان کے تابع تھا اس نے فوراً اپنی لازمی صورتیں اختیار کر لیں اور فرمانِ الٰہی کی ذرہ برابر بھی نافرمانی نہیں کی۔ بہرحال، ظاہر ہے کہ وہ "امر" اور یہ "تعمیلِ امر" تشریعی حیثیت کا حاصل نہیں تھا بلکہ ان کی صرف تکوینی صورت تھی۔
۶۔ "فقضاھن سبع سماوات فی یومین":
(انہیں سات آسمانوں کی صورت میں دو دنوں میں پیدا کیا)۔ یہ جملہ آسمانوں کی تخلیق کے سلسلے میں دو دورانیوں کی طرف اشارہ ہے جس کا ہر دورانیہ کروڑوں سال پر مشتمل ہے اور ہر دور اپنے لحاظ سے کئی اور ادوار میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ دونوں دورانیے تہ در تہ گیسوں سے مائع اور پگھلی ہوئی صورت میں تبدیل ہونے اور پگھلی ہوئی صورت سے ٹھوس صورت میں تبدیل ہونے کے دورانیے ہوں۔ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ لفظ "یوم" (کہ فارسی میں جس کا ہم معنی لفظ روز ہے) دوسری زبانوں میں "دوران" کے معنی میں بہت رائج اور مستعمل ہے۔ حتیٰ کہ ہماری روزمرہ کی گفتگو میں بھی بڑی حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ "زندگی میں انسان ایک دن ناکامی کا شکار ہوتا ہے تو دوسرے دن ساحلِ کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہے" یہ زندگی کے کامیابی اور ناکامی کے مختلف ادوار کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل تفسیرِ نمونہ کی چھٹی جلد (سورۂ اعراف کی ۵۴ ویں آیت کے ذیل میں) بیان ہو چکی ہے۔
۷۔ "سبع"
(سات) کا عدد ممکن ہے یہاں پر تکثیر کے معنی میں ہو۔ یعنی ہم نے بہت سے آسمان اور بےشمار کُرّات پیدا کیے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تعداد کا عدد ہو، یعنی آسمانوں کی صحیح تعداد صرف سات ہے اور یہ جو کواکب اور ستارے، ثوابت اور سیارے ہمیں نظر آتے ہیں آیت کے بعد کے حصے کی گواہی کے مطابق اسی آسمانِ اوّل کا جزو ہیں۔ اس طرح سے عام آفرینش سات عظیم مجموعوں سے تشکیل پایا ہے جن میں سے صرف ایک مجموعہ انسانی نگاہوں کے سامنے ہے اور انسان کے سائنسی، علمی اور تحقیقی وسائل اور ذرائع اسی آسمانِ اوّل سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ باقی چھ عالم کیسے ہیں؟ اور کن چیزوں سے تشکیل پائے ہیں؟ خدا کے سوا کسی کو اس بات کا علم نہیں ہے۔ یہی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس کی مزید تفصیل، تفسیرِ نمونہ کی پہلی جلد سورۂ بقرہ کی آیت ۲۹ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
۸۔ "وَ أوحىٰ في كُلِّ سَماءٍ أمرَها"
(ہر آسمان میں اس کے امر کی وحی کی اور اسے ضروری نظم و ضبط عطا کیا)۔ یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان کا مسئلہ صرف تخلیق پر ہی ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ان میں سے ہر ایک میں اللہ نے کچھ موجودات اور مخلوقات کو بھی پیدا کیا ہے اور ان میں خاص قسم کا نظم و ضبط مقرر فرمایا ہے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر خدا کی عظمت علم اور قدرت کی مستقل نشانی ہے۔
۹۔ "و زيَّنّا السماءَ الدُّنيا بمصابيح وحفظاً"
(اور ہم نے نچلے آسمان کو ستاروں کے چراغوں سے زینت بخشی اور شہاب پیدا کیے جو آسمان کو شیاطین سے محفوظ رکھتے ہیں)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام ستارے آسمانِ اوّل کی زینت میں اور لوگوں کی نظروں میں ایسے قمقموں کے مانند ہیں جو اس نیلگوں آسمان کے شامیانے سے لٹکائے گئے ہیں۔ یہ ستارے نہ صرف آسمان کی زینت ہیں جو اپنی خاص چمک دمک سے عاشقانِ اسرارِ آفرینش کے قلوب کو اپنی طرف جذب کر رہے ہیں اور زبانِ حال سے توحید کا نغمہ سُنا رہے ہیں بلکہ تاریک راتوں میں صحراؤں میں سفر کرنے والوں کے لیے چراغِ راہ بھی ہیں جو اپنی روشنی کے ذریعے ان کی راہنمائی کرتے ہیں اور راستے کی جہت اور سمت کا بھی تعین کرتے ہیں۔ "شہب" جو ستارے ہمیں تیز رفتاری کے ساتھ آسمان میں تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں درحقیقت ایسے تیر ہوتے ہیں جو شیطانوں کے سینوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس قدر چوڑے چکلے آسمان کی ان سے حفاظت کرتے ہیں۔ (اس موضوع کی مزید تفصیل کے لیے تفسیرِ نمونہ کی جلد ٦ سورۂ حجر کی آیت ۱۷ اور اس کی تکمیلی تشریح جلد ۱۰ سورۂ صافات کی آیت ۷ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں)۔
۱۰۔ "ذٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ"
(یہ خداوند قادر اور عالم کی تخلیق، صحیح تقدیر اور اندازہ ہے)۔ یہ درحقیقت مذکورہ نویں نکتے کی تکمیل ہے اور یہ "عشرہ کاملہ" تشکیل دے رہا ہے اور زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ "آغازِ آفرینش" سے لے کر صورت اختیار کرنے اور منظم ہونے تک سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے اور جچے تلے انداز میں پیدا کیا گیا ہے جو اس بےحد و حساب علم اور قدرت کے مالک مبداء کی جانب سے مرتب کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر ایک چیز کے بارے میں غور و فکر انسان کو اسی بزرگ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر عاد و ثمود کی طرح صاعقہ سے ڈرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں توحید اور معرفتِ الہٰی کے بارے میں مؤثر گفتگو ہو چکی ہے۔ اب ان آیات میں ان ہٹ دھرم اور ضدی مزاج مخالفین کو زبردست تنبیہ کی جا رہی ہے جو ان تمام واضح اور روشن دلائل اور آیات کو دیکھنے کے باوجود صاف انکار کر دیتے ہیں۔ ان آیات میں انہیں خبردار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اگر ان تمام واضح اور روشن دلائل کے باوجود وہ روگردانی کریں تو انہیں کہہ دے کہ میں تمہیں ایسی ہی بجلی سے ڈراتا ہوں جیسی بجلی عاد و ثمود پر پڑی تھی (فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ)۔ اس بات سے ڈرو کہ ہولناک آگ لگا دینے والی تباہ کن بجلیاں تم پر آسمان سے ٹوٹ پڑیں اور تمہاری شرمناک زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ (تشریحی نوٹ: "فان اعرضوا" میں "فاء تفریع" ہے جو اس زبردست انداز کو گزشتہ توحیدی آیات سے روگردانی کی فرع قرار دے رہی ہے)۔ ہم اسی سورت کے آغاز میں پڑھ چکے ہیں کہ قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی دعوت کے بارے میں تحقیقات کے لئے ولید بن مغیرہ (بروایتے عتبہ بن ربیعہ) جیسے مشرکین مکہ کے کچھ سردار آنحضرتؐ کی خدمت میں پہنچے اور کچھ سوال کئے تو آپؐ نے ان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اس سورہ کی کچھ ابتدائی آیات کی تلاوت کی جب زیر نظر آیات پر پہنچے اور انہیں قوم عاد و ثمود جیسی صاعقہ سے ڈرایا تو وہ اس حد تک لرز گئے اور وحشت و اضطراب کا شکار ہو گئے کہ ان میں بولنے کی طاقت رہی۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے دوستوں کے پاس آ کر اپنی اضطرابی اور ہیجانی کییفت بیان کی۔ راغب نے مفرادات میں لکھا ہے کہ "صاعقہ" اس ہیبت ناک آواز کو کہتے ہیں جو آسمانی فضا میں پیدا ہوتی ہے جس میں آگ، موت یا عذاب بھی ہوتا ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ کبھی اس لفظ کا اطلاق "موت" پر اور کبھی "آگ" پر بھی ہوتا ہے)۔ اور آج کے سائنسدانوں کی تحقیقات کے مطابق "صاعقہ" الیکٹرسٹی کے اس عظیم انگارے کو کہتے ہیں جو بادل کے مثبت اور زمین کے منفی پول کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور عام طور پر پہاڑوں کی مخروطی چوٹیوں، درختوں، بلند جگہوں، ہموار صحراؤں، بیابانوں، انسانوں اور حیوانوں پر گرتا ہے۔ اس بجلی کی حرارت اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ جس چیز پر بھی گرتی ہے اسے جلا کر بھسم کر دیتی ہے اور اس جگہ پر ایک ہیبت ناک آواز اور زبردست زلزلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم نے گزشتہ اقوام میں سے کچھ گروہوں کو اس کے ذریعے عذاب دیا اور پھر قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ موجودہ دور میں سائنس کی تمام تر ترقیوں کے باوجود آج تک کوئی ایسا ذریعہ ایجاد نہیں ہو سکا جس سے انسان اس عظیم بلا کر نازل ہونے سے پہلے روک دے۔ آج کا انسان اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دیگر تمام معذّب اقوام کو چھوڑ کر قوم عاد و ثمود کا ذکر کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کو ان کے حالات کا اچھی طرح سے علم تھا اور وہ ان کے آثار قدیمہ کی صورت میں موجود کھنڈرات کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر چکے تھے اور چونکہ یہ صحرا نشین اور خانہ بدوش لوگ تھے لہذا "صاعقہ" کے خطرات سے اچھی طرح باخبر تھے۔ مزید فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب اللہ کے رسول ان کے آگے، پیچھے غرض ہر طرف سے ان کے پاس آئے اور انہیں خدائے واحد کی طرف عوت دی (إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ)۔ " مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ " کی تبعیر ممکن ہے کہ اسی بات کی طرف اشارہ ہو جس کی طرف ہم پہلے ہی اشارہ کر چکے ہیں۔ یعنی خدا کے رسولوں نے ہدایت اور تبلیغ کے تمام وسائل سے استفادہ کیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ ان سیاہ دلوں کو کسی نہ کسی طرح اپنی بات منوا سکیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان پیغمبروں کی طرف اشارہ ہو کہ جو مخلتف ادوار میں ان قوموں کے پاس آتے اور توحید کی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ کے ان انبیاء کی عظیم کوششوں کا ان لوگوں نے کیا صلہ دیا اور انہیں کیا جواب دیا؟ خدا فرماتا ہے: "اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے نازل کر دیتا تاکہ ان کی دعوت ہم تک پہنچائیں" نہ کہ ہمارے جیسے انسان (قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً)۔ اب جب کہ صورت حال یہ ہے "تو ہم یقیناً ان چیزوں کو نہیں مانتے جنہیں لے کر تم نازل ہوئے ہو۔" اور انہیں بالکل خدا کی طرف سے نہیں سمجھتے (فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ)۔ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم تو اللہ کے رسول ہو لیکن ہم تمہاری رسالت کو نہیں مانتے بلکہ مراد یہ ہے کہ تم سرے سے رسول ہی نہیں ہو اور رسالت کے بےبنیاد دعویدار ہو اسی لئلے ہم تمہاری باتوں کو قطعاً نہیں مانتے (اسی لئے "مَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ" کا جملہ یا تو ٹھٹھا مذاق کی صورت میں ہے یا پھر یہ مقصود ہے کہ تم اپنے دعویٰ کے مطابق رسول ہو) یہ وہی بہانہ ہے جسے قرآن مجید کئی مرتبہ دعوت انبیاء کے منکرین کی زبانی نقل کر چکا ہے جنہیں یہ توقع تھی کہ خدا کے پیغمبر کو ہمیشہ فرشتہ ہونا چاہئے، گویا گشر اس مقام اور مرتبے کی بالکل لیاقت نہیں رکھتا۔ جیسا کہ سورہ فرقان کی آیت ۷ میں ہے: وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا انہوں نے کہا: یہ پیغمبر کھانا کیوں کھاتا ہے اور بازار میں کیوں چلتا پھرتا ہے؟ کم از کم اس پر فرشتہ کیوں نازل نہیں ہو تاکہ اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا؟ لیکن وہ اس بات سے بےخبر تھے کہ انسان کا ہادی اور راہنما انسان ہی کو ہونا چاہئے۔ تاکہ دوسرے انسانوں کے دیکھ درد، ضروریات زندگی، مشکلات اور زندگی کے مختلف مسائل سے آشنا ہو تاکہ وہ انسانوں کے لئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ قرار پائے چنانچہ سورہ انعام کی آیت ٩ میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے: وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَاهُ رَجُلاً اگر ہم اسے فرشتہ بناتے تب بھی یقیناً اسے انسانی صورت میں ہی روانہ کرتے۔ قرآن مجید اپنی روش کے مطابق قوم عاد و ثمود کے بارے میں اجمالی ذکر کے بعد تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے: قوم عاد نے بہرصورت زمین میں تکبر کیا (اور ہر تکبر ناحق ہوتا ہے) حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیا کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہو سکتا ہے؟ (فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً)۔ معلوم ہے کہ قوم عاد وہ تھی کہ جو جزیرۃ العرب کے جنوب میں حضر موت کے علاقے احقاف میں رہتی تھی۔ جسمانی طاقت، مالی اقتدار اور مادی تمدن کے لحاظ سے ان کی نظیر نہیں تھی۔ وہ خوبصورت محلات، محکم اور مضبوط قلعے بنایا کرتے تھے، پہاڑوں کی چوٹیوں اور بلند مقامات پر اپنے مکانات بنایا کرتے تھے تاکہ اس طرح سے وہ اپنے دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ اور جاہ و جلال کا مظاہرہ کر سکیں۔ وہ نہایت سخت دل اور جنگو لوگ تو تھے ہی مگر اس ظاہری شان و شوکت نے انہیں اور بھی مغرور کر دیا تھا لہذآ وہ اپنے آپ کو ایک ناقابل تسخیر قوم اور سب سے برتر و بالا ملت سمجھنے لگ گئے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خدا اور اس کے پیغمبر جناب ہود علیہ السلام کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا اور طغیان و سرکشی اور تکذیب و انکار پر کمر باندھ لی۔ لیکن قرآن مجید اس دعوے کے جواب میں کہتا ہے: وہ یہ نہیں جانتے کہ جس خدا نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ طاقت ور ہے (أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً)۔ وہ صرف انہی کا خالق نہیں بلکہ زمین و آسمان کا بھی خالق ہے دراصل ان دونوں طاقتوں کا آپس میں تقابل ہی نہیں ہو سکتا۔ کہاں ناچیز اور فانی قدرت اور کہاں بےانتہا پائیدار اور حق کی ذاتی طاقت؟ خاک کو خالقِ افلاک سے کیا نسبت؟ "ماللتراب و رب الارباب"۔ (تشریحی نوٹ: یہ تعبیر درحقیقت، "اللہ اکبر" کے مشابہ ہے۔ جس میں خدا کے تمام موجودات عالم سے بلند تر اور بالاتر ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ جب کہ یہ دونوں جملے آپس میں کسی بھی صورت میں تقابل کے قابل نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ خداوند عالم ہماری زبان میں ہم سے گویا ہے لہذا ایسی تعبیرات کو استعمال کیا ہے)۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: وہ اپنی بےبنیاد سوچ اور فکر کی وجہ سے ہمیشہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہتے تھے۔ (وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ)۔ جی ہاں! بےبضاعت اور کم ظرف انسان جب تھوڑی سی بھی طاقت اپنے اندر محسوس کرتا ہے تو سرکشی پر اتر آتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات اپنی جہالت کی بناء پر خدا کے ساتھ بھی محاذ آرائی پر اتر آتا ہے۔ لیکن خداوند عالم نہایت سادگی کے ساتھ ایک ہی اشارے سے ان کی زندگی کے اسباب کو ان کی موت کے اسباب میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جیسا کہ قوم عاد کے اسی ماجرا میں بعد کی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: آخرکار تند و تیز، گرجدار، ہولناک، سرد اور سخت ہوا کو نحس اور غبار آلور ایام میں ان پر بھیجا تاکہ ان کو رسوا کرنے والا عذاب اسی دنیاوی زندگی میں چکھائیں (فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِي أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)۔ یہ عجیب تیز و تند آندھی قرآن کے الفاظ میں انہیں زمین سے یوں اٹھاتی اور دوبارہ زمین پر دے مارتی جس طرح کجھور کے درخت کو تنے سے اکھاڑ کر پھر زمین پر مارا جائے۔ (تشریحی نوٹ: ملاحظہ ہو سورہ قمر کی آیات۲۰۰۱٩ اور سورہ الحاقہ کی آیت ٦ کے بعد کی آیات)۔ یہ تیز و تند آندھی ان پر سات راتیں اور آٹھ دن متواتر چلتی رہی اور اس نے اس مغرور، سرکش اور خود پرست قوم کی زندگی اجیرن کر دیا اور پھر اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا، اور پُرشکوہ محلات و قصور کے چند کھنڈروں اور خوشحال زندگی اور مال و دولت کے نشان کے علاوہ اور کچھ نہیں چھوڑا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ تو دنیاوی عذاب ہے لیکن "آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہو گا" (وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَخْزَى)۔ دنیا میں اس قدر عظیم اور دردناک عذاب تو اس عذاب کے مقابلے میں ایسے ہو گا جیسے آگ کے سمندر کے مقابلے میں ایک چنگاری۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ "کوئی بھی شخص ان کی مدد کو نہیں پہنچے گا، اور کہیں سے بھی ان کی مدد نہیں کی جائے گی" (وَهُمْ لَا يُنصَرُونَ)۔ جی ہاں وہ ساری زندگی اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ اپنے آپ کو بڑا بنا کر دنیا کے سامنے پیش کریں لیکن خداوند عالم نے بھی عذاب کے وقت انہیں اس دنیا میں رسوا کن اور ذلیل کرنے والی سزا سے دوچار کر دیا اور آخرت میں ان کے لئے زیردست عذاب مہیا کر رکھا ہے تاکہ ایسے مغرور اور سرکش افراد کو دنیا اور آخرت میں رسوا کرے۔ "صَرصَر" (بروزن "دَفتَر") دراصل "صَر" (بروزن شَر) کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے "اچھی طرح باندھ دینا۔" اسی لیے جس تھیلی میں رقم ڈال کر اس کے منہ کو اچھی طرح باندھ دیتے ہیں اسے "صُرّہ" (بروزن "طُرَّہ") کہتے ہیں بعد ازاں اس کا اطلاق زبردست سرد، چیخنے چلانے والی، مسموم اور قال ہواؤں پر ہونے لگا۔ شاید جس تند و تیز ہوا نے قوم عاد کو ہلاک کیا تھا ان تینوں صفات کی حامل تھی۔ "ایام نحسات" کا معنی منحوس اور بُرے دن ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد گرد و غبار سے بھرپور ایام ہیں جب کہ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں اس کا معنی ہے "بہت ہی سرد ایام" ان تینوں معانی کو ان آیات میں جمع کیا جا سکتا ہے۔ حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے ایک خطبے میں بیدار کن اخلاقی درس کے لئے اسی قوم عاد کی داستان کو پیش فرمایا ہے یہ خطبہ نہج البلاغہ میں موجود ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں: واتعظوا فیھا بالذین قالو: من اشد منا قوۃ؟ حملوا الی قبور ھم، فلایدعون رکباناً، وانزلوا الاجداث فلا یدعون فیفاًنا، و جعل لھم من الصفیح اجنان، ومن التراب اکفان؛ و من الرفات جیران اس دنیا میں ان لوگوں کے حال سے نصیحت حاصل کرو جو کہتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقت وار ہو سکتا ہے؟ لیکن انہی کو ان کی قبور کی طرف اس وقت لے جایا گیا، جب کہ ان کا اپنا کوئی بس نہیں چلتا تا اور وہ قبروں کے اندر داخل کر دیئے گئے، جب کہ وہ بن بلائے مہمان تھے اور پتھروں کے دل میں ان کے لئے قبریں تیار کی گئیں، مٹی کے کفن بنے اور گلی سڑی ہڈیاں ان کی ہمسایہ تھیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۱۱)۔
چند اہم نکات ۱۔ قوم عاد کیونکر تباہ ہوئی؟
اسی سورہ کی تیرہویں آیت کی رو سے قومِ عاد اور قومِ ثمود دونوں "صاعقہ" کے ذریعے نیست و نابود ہوئیں، جب کہ زیرِ تفسیر آیات کہتی ہیں کہ "صرصر" یعنی تیز و تند ہوا کے ذریعے تباہ و برباد ہوئیں۔ تو کیا ان دونوں میں باہم تضاد ہے؟ جواباً گذارش ہے کہ اربابِ لغت اور مفسرین نے "صاعقہ" کے دو معانی بیان کیے ہیں ایک عام اور دوسرا خاص۔ عام معنی کے لحاظ سے "صاعقہ" ہر اُس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور بقولِ صاحبِ مجمع البیان: "المهلکة من کل شيء۔" اور خاص معنی کے لحاظ سے آگ کے اُس عظیم انگارے کو کہتے ہیں جو آسمان سے گرتا ہے اور جو کچھ بھی اس کی زد میں آ جاتا ہے جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ اس کی تشریح انہی آیات کی تفسیر میں ہم کر چکے ہیں (یہ عظیم چنگاری بادل اور زمین کی الیکٹرِسٹی کے باہمی تبادلے سے پیدا ہوتی ہے)۔ اسی لیے اگر "صاعقہ" کا پہلا معنی مراد لیا جائے تو تیز ہوا کے معنی کے ساتھ اس کا تضاد نہیں ہو گا۔ راغب، مفردات میں کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک "صاعقہ" تین اقسام کی ہیں۔ ایک موت کے معنی میں، دوسری عذاب کے معنی میں اور تیسری آگ کے معنی میں۔ خاص کر "أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ" والی آیت میں عذاب کے معنی میں ہے۔ وہ آگے چل کر کہتے ہیں کہ یہ سب ایک ہی معنی میں جمع ہو جاتے ہیں کہ "صاعقہ" ایک زبردست مہیب آواز ہوتی ہے جو فضا میں اٹھتی ہے اور کبھی اس میں آگ ہوتی ہے، کبھی موت اور کبھی کوئی دوسرا عذاب، غرض "صاعقہ" ایک چیز ہے اور یہ اس کے اثرات۔ (تشریحی نوٹ: "مفردات راغب"، "مادہ صعقہ")۔ یہ احتمال بھی ہے کہ قوم عاد دگنے عذاب میں مبتلا ہوئی ہو پہلے تو ان کے شہروں پر ایک عرصے تک تیز و تند ہوا کے جھکڑ چلتے رہے ہوں، پھر حکم خدا کے مطابق تباہ کن آتشین بجلی ان پر گری ہو کہ جس نے انہیں جلا کر بھسم کر دیا ہو۔ لیکن قوم عاد کی سزا کے سلسلے میں قرآن مجید کی دوسری آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلا جواب زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ (بحوالہ: سورہ "ذرایات" کی آیت ۴۱، سورہٴ حاقہ کی آیت ۶ سورہٴ قمر کی آیات ۱۸ تا ۱۹)۔
۲۔ قوم عاد کے نحس ایام:
کچھ لوگوں کا نظریہ ہے کہ سال کے ایّام کی دو قسمیں ہیں ایک نحس اور دوسری نیک و سعد۔ انہوں نے مندرجہ بالا آیات سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ راتوں اور دنوں کے اندر کچھ پراسرار اور ناشناختہ تاثیر ہوتی ہے جس کے آثار ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس کے اسباب و علل ہمارے لیے مبہم ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے ان زیرِ بحث آیات میں "ایّامِ نحسات" سے گرد و غبار سے بھرپور ایّام مراد لیے ہیں۔ قومِ عاد اس قدر تیز و تند ہوا کا شکار ہو گئی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ جیسا کہ سورۂ احقاف کی آیت ۲۴ سے بھی استفادہ ہوتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "جب تیز ہواؤں نے ان کا رُخ کیا تو وہ اس قدر تاریک اور غبار سے اٹی ہوئی تھیں کہ انہوں نے گمان کیا کہ بارش بھرے بادل ان کی طرف آ رہے ہیں لیکن ان سے کہا گیا کہ یہ وہی عذاب ہے تم جس کی جلدی میں تھے۔ یہ تو ہوا کے تیز جھونکے اور جھکڑ ہیں جن میں دردناک عذاب چھپا ہوا ہے۔" ان شاء اللہ العزیز "سعد و نحس ایّام" کے بارے میں مفصل گفتگو سورۂ قمر کی انیسویں آیت کے ذیل میں آئے گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سرکش قوم ثمود کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں قوم عاد کے بارے میں ایک تفصیلی گفتگو تھی۔ زیرِ نظر دو آیات میں قوم ثمود کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: رہے ثمود تو ہم نے انہیں ہدایت کی (اپنے پیغمبر صالح کو واضح دلائل دے کر ان کی طرف بھیجا) مگر انہوں نے نابینائی اور گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی (وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى)۔ اسی لیے رسوا کن عذاب، صاعقہ، نے ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا (فَأَخَذَتْهُمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ)۔ قوم ثمود وہ لوگ تھے جو "دادی القریٰ" (مدینہ اور شام کے درمیانی علاقے) میں رہتے تھے۔ خداوندِ عالم نے انہیں آباد سرسبز و شاداب زمینیں اور نعمتوں سے معمور باغات عطا کیے ہوئے تھے۔ زرعی امور میں نت نئے تجربے اور زبردست طاقت خرچ کیا کرتے تھے، ان کی عمریں لمبی اور اعضاء طاقتور تھے۔ پختہ اور ترقی یافتہ عمارتیں تعمیر کرنے میں اس قدر ماہر تھے کہ خداوندِ عالم سورہ حجر کی ۸۲ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے: وہ پہاڑوں کے دل میں محفوظ مکان تعمیر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم پیغمبر قوی منطق اور بےحد محبت کے ساتھ معجزہ لے کر ان کے پاس آیا۔ لیکن اس مغرور اور خود پسند قوم نے نہ صرف اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا بلکہ اسے اور اس پر ایمان لانے والے تھوڑے سے لوگوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خداوندِ عالم نے ان مغرور اور سرکش لوگوں کو رسوا کن عذاب میں مبتلا کر دیا۔ سورہ اعراف کی آیت ۷۸ میں ہے: فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ وہ سخت زلزلے کی لپیٹ میں آ گئے اور صبح کے وقت ان کی بےجان لاشیں ان کے گھروں میں باقی رہ گئی تھیں۔ سورہ حاقہ کی آیت ۵ میں ہے: فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ قوم ثمود ایک تباہ کن عامل کے ذریعے نیست و نابود ہو گئی۔ سورہ ہود کی آیت ۶۷ میں ہے: وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ ثمود کی ظالم قوم آسمانی چیخ کے ذریعے نیست و نابود ہو گئی اور اپنے گھروں میں اوندھے منہ گر کر ہلاک ہو گئی۔ اور زیرِ تفسیر آیات میں عذاب کو "صاعقہ" سے تعبیر کیا گیا ہے، اور ممکن ہے بادی النظر میں یہ تصوّر ہو کہ ان تعبیرات میں تضاد پایا جاتا ہے، لیکن اگر تھوڑا سا غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ مندرجہ بالا چاروں تعبیریں (تشریحی نوٹ: رجفہ، طاعنیہ، صیحہ اورصاعقہ) ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ کیونکہ جس طرح ہم پہلے بیان کر چکے ہیں "صاعقہ" کا ایک معنی تو وحشتناک آواز ہے جسے آسمانی "صَیحہ" یعنی چیخ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے، اور بھسم کر دینے والی آگ بھی اسی کے ہمراہ ہوتی ہے اور یہ جس زمین پر گرتی ہے وہیں پر زلزلے کے شدید جھٹکے پیدا ہوتے ہیں اور یہ تباہی و بربادی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی بلاغت اس بات کا موجب ہے کہ وہ ایک ہی عذاب کے مختلف پہلوؤں کو مختلف آیات میں مختلف تعبیرات کے ساتھ پیش کرتا ہے تاکہ انسانی کے نفوس پر اس کا زیادہ سے زیادہ اثر ہو۔ دراصل وہ لوگ ایک ہی واقعے میں موت کے مختلف عوامل سے دوچار ہوئے جن میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ بھی ان کی نابودی اور ہلاکت کے لیے کافی تھا۔ "موت کا پیغام بن کر آنے والی چیخ" ہو یا "جان سے مار ڈالنے والا زلزلہ"، "بھسم کر دینے والی آگ" ہو یا "وحشتناک صاعقہ"، غرض سب کے سب عذاب اور ہلاکت کا ایک مؤثر عامل ہیں۔ لیکن چونکہ تھوڑے سے لوگ سہی کچھ افراد حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان تو ضرور لائے تھے لہٰذا ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہاں پر سوال کریں کہ اس مختصر سے گروہ کا اس وحشتناک عذاب کے موقع پر کیا بنا؟ آیا وہ بھی دوسروں کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئے؟ تو قرآن مجید بعد کی آیت میں ارشاد فرماتا ہے: جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہم نے انہیں نجات عطا فرمائی (وَنَجَّيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ)۔ ان لوگوں کو تو ان کے ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے نجات دی گئی اور اس سرکش گروہ کو ان کے کفر اور بداعمالیوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کر دیا گیا۔ ان میں سے ہر گروہ اس امت کے افراد کے لیے ایک نمونہ اور اسوہ بن سکتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کی موجودگی کے باوجود جناب صالح علیہ السلام پر صرف ایک سو دس افراد ایمان لے آئے اور خداوندِ عالم نے بھی بروقت ان ایماندار اور متقی لوگوں کو نجات عطا فرمائی۔
خدائی ہدایت کی قسمیں
ہم جانتے ہیں کہ ہدایت کی دو قسمیں ہیں، ایک "ہدایتِ تشریعی" ہے جس سے مراد "اراء الطریق" (یا راستے کا دکھا دینا) ہے اور دوسری "ہدایتِ تکوینی" ہے جو "ایصال الی المطلوب" یعنی منزلِ مقصود تک پہنچا دینا ہے۔ زیرِ نظر آیات میں ہدایت کی دونوں قسمیں جمع ہیں، پہلے فرمایا گیا ہے: ہم نے قومِ ثمود کو ہدایت کی۔ یہ ہدایت ہدایتِ تشریعی یا اراء الطریق ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے: انہوں نے ہدایت پر نابینائی (گمراہی) کو ترجیح دی۔ یہ ہدایت تکوینی یا ایصآ الی المطلوب ہے۔ اس لحاظ سے پہلے معنی کے لحاظ سے ہدایت تو حاصل ہو گئی جو انبیاءِ خدا کا مسلم الثبوت فریضہ ہے، لیکن دوسرے معنی کے لحاظ سے ہدایت عملی جامہ نہ پہن سکی جو انسان کے اپنے بس کی بات ہے اور اس مغرور اور سرکش قوم کی طرف سے رُک گئی، کیونکہ "فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى۔" اور یہ "انسان کے ارادہ اور اختیار کی آزادی" اور انسان کے مجبور نہ ہونے کے مسئلے پر بذاتِ خود ایک واضح اور روشن دلیل ہے۔ تعجب ہے کہ آیات کے اس قدر واضح اور روشن ہونے کے باوجود فخرالدین رازی جیسے بعض مفسرین نے مکتبِ جبر کو ترجیح دی ہے اور اپنے مسلک پر اصرار اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے آیت کی دلالت سے انکار کر دیا ہے اور ایسی ایسی باتیں کہی ہیں جو کسی محقق کی شان سے کوسوں دور ہیں۔ (تشریحی نوٹ: فخر رازی کی تفسیر کبیر کا انہی آیات کے سلسلے میں مطالعہ فرمائیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مغرور کفار اور ظالم مجرموں کی اخروی سزا
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں مغرور کفار اور ظالم مجرموں کی دنیوی سزا کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی۔ لیکن ان آیات میں ان کی آخرت کی سزا کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ قیامت کے مختلف مراحل میں دشمنانِ خدا کے مصائب کو کسی لرزا دینے والی آیات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: اور اُس دن کا سوچئے جب خدا کے دشمنوں کو اکٹھا کر کے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا (وَیَوْمَ یُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللّٰہِ إِلَی النَّارِ)۔ اور ان کی صفوں کو باہم پیوستہ رکھنے کے لیے "اگلی صفوں کو روکے رکھیں گے تاکہ بعد والی صفیں ان سے آ ملیں" اور سب اکٹھے جہنم میں بھیجے جائیں (فَهُمْ یُوزَعُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یوزعون"، "وزع" (بروزن "وضع") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے "روکنا"۔ جب اس تعبیر کو فوجوں یا دوسری صفوں کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کا مفہوم یہ گا کہ ان کے اگلے حصّے کو روک لیا جائے تاکہ آخری افراد بھی ان سے آ ملیں)۔ "جب وہ اس تک پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، آنکھیں، اور بدن کی جلد ان کے اعمال کی گواہی دے گی" (حَتّٰی إِذَا مَا جَاؤُهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "إِذَا مَا جَاؤُهَا" کے جملے میں "ما" زائدہ ہے اور تاکید کے لئے استعمال ہوا ہے)۔ کیسے عجیب گواہ ہوں گے یہ کہ جو خود انسان کے بدن کے اپنے اعضاء ہوں گے اور ان کی گواہی بھی کسی صورت میں مسترد نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ وہ ہر جگہ پر حاضر و ناظر رہے ہیں اور حکمِ خدا کے مطابق گفتگو کریں گے۔ اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کی گواہی اس طریقے سے ہو گی کہ خداوندِ عالم ان میں شعور اور قوتِ گویائی ایجاد فرمائے گا جس طرح درخت کو قوتِ گویائی عطا کر کے موسیٰ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں یا انسان کے عمر بھر کے گناہوں کے آثار جو سینۂ گیتی پر نقش ہو چکے ہیں اس "یوم البروز" اور اسرار کے آشکار ہونے کے دن ظاہر ہو جائیں گے۔ ہمارے روزمرہ کی گفتگو میں بھی کبھی اس قسم کے آثار کو گفتگو یا خبر سے تعبیر کرتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں: ؏ رنگِ رُخسار ترے دل کا پتہ دیتا ہے۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ سب تفسیریں قابلِ قبول ہیں اور کم و بیش مفسرین کی گفتگو میں یہ باتیں مل جاتی ہیں۔ البتہ اس میں بھی کوئی مانع نہیں کہ خداوندِ عالم ان میں ادراک اور شعور پیدا کر دے اور وہ علم و آگاہی کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے حضور گواہی دیں۔ بادی النظر میں بھی شاید آیت کا ظاہر اسی طرح ہو اور اللہ کی بارگاہ میں کائنات کے ذرے ذرے کی تسبیح، حمد اور سجدے کے بارے میں بھی بہت سے مفسرین کا یہی نظریہ ہے۔ لیکن آخری معنی بھی کچھ بعید معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ معلوم ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز فنا نہیں ہوتی اور ہمارے اعمال و گفتار کے آثار بھی ہمارے اعضاء و جوارح میں باقی رہ جاتے ہیں۔ اتفاق سے یہ "شہادتِ تکوینی" سب سے معتبر اور ناقابلِ تردید شہادت ہے۔ جس طرح چہرے کے رنگ کا زرد ہونا یا چہرے کا رنگ اڑ جانا خوف و ہراس کا معتبر گواہ ہوتا ہے اور چہرے کا سرخ ہو جانا غصّے یا شرم کا گواہ ہوتا ہے اور اس معنی میں نطق کا اطلاق مکمل طور پر قابلِ قبول ہے۔ لیکن یہ دوسرا احتمال کہ خداوندِ عالم بغیر ادراک و شعور کے ان میں قوتِ گویائی پیدا کرے گا جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے درخت سے بات کروائی یا ان میں کسی قسم کا تکوینی اثر ہو، یہ بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں نہ تو تکوینی گواہی کا مصداق ہو گا اور نہ ہی تشریعی گواہی کا۔ نہ تو ان میں عقل و شعور ہو گا اور نہ ہی کسی قسم کا آثارِ عمل، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حضور اس گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ "حَتّٰی إِذَا جَاءُوهَا" سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی اعضاء کی شہادت دوزخ کی عدالت میں ہو گی۔ تو کیا اس بات کا مقصد یہ ہے کہ گواہی دوزخ میں لی جائے گی جب کہ دوزخ تو بُرے کاموں کا انجام ہے یا یہ کہ ان کی عدالت دوزخ کے کنارے پر لگائی جائے گی اور یہ اعضاء وہیں پر گواہی دیں گے؟ دوسرا احتمال زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔ لفظ "جلود" (جلدیں) سے کیا مراد ہے؟ جو جمع کے صیغے کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد بدن کے مختلف حصوں کی جلد ہے۔ یعنی ہاتھ، پاؤں، چہرے وغیرہ کی جلد اور اگر بعض روایات میں اس سے "فروج" (شرمگاہیں) مراد لیا گیا ہے تو یہ درحقیقت، اس کے مصداق میں سے ہے، نہ کہ "جلود" صرف "فروج" میں منحصر ہے۔ یہاں پر تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے اور بھی تو اعضاء ہیں آخر آنکھوں، کانوں اور جلد ہی کو گواہ کے طور پر کیوں ذکر کیا گیا ہے؟ کیا گواہی صرف انہی اعضاء کے ساتھ خاص ہو گی یا دوسرے اعضاء بھی گواہی دیں گے؟ جہاں تک قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ان مذکورہ اعضاء کے علاوہ انسان کے کئی اور اعضاء بھی گواہی دیں گے۔ چنانچہ سورۂ یٰسین آیت ٦۵ میں ہے: "وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ" "ان کے ہاتھ ہمارے ساتھ باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔" سورۂ نور کی آیت ۲۴ میں "زبان" اور "ہاتھ پاؤں" کی باتوں کا تذکرہ ملتا ہے: "یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم" "جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں، ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے۔" اسی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے اعضاء بھی اپنی اپنی باری کے موقع پر گواہی دیں گے، لیکن چونکہ انسان کے بیشتر اعمال انسان کی آنکھ اور کان کے ذریعے انجام پاتے ہیں اور بدن کی جلد وغیرہ ایسے اعضاء ہیں جن کا اعمال کے ساتھ براہِ راست تعلق ہوتا ہے اور وہ درجہ اوّل کے گواہ ہیں۔ بہرحال وہ ایک بڑی رسوائی کا دن ہو گا، جس دن انسان کا تمام وجود بولنے لگے گا اور اس کے تمام راز فاش کر کے رکھ دے گا۔ اس سے تمام گناہگار عجیب و غریب وحشت کا شکار ہو جائیں گے۔ اس وقت اپنے بدن کی کھال کی طرف منہ کر کے کہیں گے: "تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ہے" (وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا) ہم نے سالہا سال تک تمہاری بھال کی، تمہیں سردی اور گرمی سے بچاتے رہے، تمہیں نہلاتے دھوتے تھے، ہم نے تمہاری خاطر تواضع میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، تم نے یہ کیا کیا؟ تو وہ جواب دے گی: جس خدا نے تمام موجودات کو بولنے کی طاقت عطا کی ہے اس نے ہمیں بھی بلوایا ہے۔ (قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ)۔ خداوندِ عالم نے اس دن اور اس عظیم عدالت میں راز فاش کرنے کا فریضہ ہمارے ذمے لگایا ہے اور اس کے فرمان کی اطاعت کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چارہ کار بھی نہیں۔ جی ہاں! جس خدا نے دوسری ناطق مخلوقات کو قوتِ گوہائی عطا کی ہے ہمارے اندر بھی یہ طاقت پیدا کر دی ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ تفسیر اس صورت میں ہو گی جب ہم آیت کا یہ معنی کریں "انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء ناطق" لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ "انطق کل شیء" مطلبق معنی میں ہو۔ یعنی جس خدا نے تمام موجودات کو بغیر کسی استثناء کے قوت گویائی عطا فرمائی اور وہ آج تمام راز فاش کر رہی ہیں اس نے ہمیں بھی بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ تم ہمارے بولنے پر تعجب نہ کرو بلکہ آج تو موجودات عالم کی ہر چیز بول رہی ہے)۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ وہ اپنی جلد سے یہ سوال کریں گے آنکھ اور کان جیسے دوسرے اعضاء سے نہیں ممکن ہے یہ اس لیے ہو کہ جلد کی گواہی دوسرے اعضاء سے زیادہ باعثِ تعجب، زیادہ وسیع اور عمومی ہو گی وہی جلد جو دوسرے تمام اعضاء سے پہلے عذابِ الٰہی کا مزہ چکھے گی وہی گواہی دینے پر اُتر آئے گی اور یقیناً یہ بات حیران کن اور تعجب انگیز ہے۔ وہ اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہیں گے: "وہ خدا تو وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور تم سب کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے۔" (وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)۔ اور پھر کہیں گے: اگر تم چھپ کر گناہ کرتے تھے تو اس لیے نہیں کہ تمہیں اپنے کانوں، آنکھوں اور جلد کی اپنے خلاف گواہی کا خطرہ تھا، تمہیں تو اس بات کا بالکل خیال بھی نہیں تھا کہ یہ کسی دن بولنے پر آ جائیں گے اور تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ (وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ)۔ بلکہ تمہارے مخفی کام اس لیے تھے کہ تم گمان کرتے تھے کہ تمہارے بہت سے کاموں کو جو تم انجام دیتے ہو، خدا نہیں جانتا (وَلَـكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّـهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ)۔ تم اس بات سے غافل تھے کہ خدا ہر جگہ پر تمہارے اعمال کا شاہد و ناظر ہے اور تمہارے اندرونی اور بیرونی رازوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ساتھ ہی اس کے محکمہ نگرانی کے کارندے بھی ہر جگہ تمہارے ساتھ ہیں، آیا تم سرے سے اپنی آنکھوں، کانوں، بلکہ جلدِ بدن کے بغیر کوئی کام انجام دے سکتے ہو؟ جی ہاں! تم اس قدر اُس کے قبضۂ قدرت میں جکڑے ہوئے ہو اور اس حد تک اُس کے نگرانوں کی نگرانی میں ہو کہ تمہارے مخفی اور آشکار گناہوں کے آلات و اعضاء تک تمہارے مخالف گواہ ہوں گے۔ بہت سے مفسرین نے اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں لکھا ہے کہ: "کفارِ قریش اور بنی ثقیف کے تین آدمی جن کی کھوپڑیاں چھوٹی اور پیٹ بڑے تھے خانہ کعبہ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: "کیا تم باور کر سکتے ہو کہ خدا ہماری باتوں کو سُن رہا ہے؟" دوسرے نے کہا: "ذرا آہستہ بولو! کیونکہ اگر آواز سے بولیں تو سن لیتا ہے، اور اگر آہستہ بولیں تو نہیں سنتا۔" تیسرے نے کہا: "میرے خیال میں اگر بلند آواز کو سُن سکتا ہے تو آہستہ کو بھی یقیناً سن لیتا ہے۔" اسی موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ (تشریحی نوٹ: اس حدیث کو کچھ فرق کے ساتھ بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے مثلاً تفسیر قرطبی، تفسیر مجمع البیان، تفسیر کبیر فخر رازی، تفسیر رُوح البیان اور تفسیر مراغی کے مفسرین نے۔ اسی طرح صحیح بخاری، مسلم اور ترمذی میں بھی یہ حدیث آئی ہے۔ ہم نے جو حدیث متن میں نقل کی ہے وہ تفسیر قرطبی کی عبارت کا ترجمہ ہے (دیکھئے تفسیر مذکور جلد ۸، ص۵٧۹۵)۔ بہرصورت، بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: "تمہارا یہ غلط گمان جو تم نے اپنے پروردگار کے بارے میں کیا تھا اور یہی چیز تمہاری تباہی کا سبب بنی اور انجامِ کار تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے" (وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ)۔ (۱۔ تشریحی نوٹ: "ذٰلِكُم" مبتداء ہے اور "وظَنُّكُم" اس کی خبر ہے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "ظَنُّكُم" ، "بدل" ہے اور "ذٰلِكُم" کی خبر ہے)۔ (۲۔ تشریحی نوٹ: "أَرْدَىٰ"، "رَدِیَ" (بروزنِ "رَأَیَ") کے مادہ سے ہے جس کا مطلب ہے ہلاکت اور تباہی ہے)۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اعضاء و جوارح کی یہ گفتگو خدا کا کلام ہے یا انسانی بدن کی جلد کی گفتگو کا سلسلہ؟ تو جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دوسرا مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اور آیت کے الفاظ بھی اسی معنی سے ہم آہنگ ہیں۔ ہر چند کہ اعضاء بدن بھی یہ گفتگو خداوندِ عالم کے فرمان اور اس کی تعلیم کے تحت ہی کریں گے اور دونوں کا نتیجہ تقریباً ایک ہی ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ خدا کے بارے میں نیک گمان اور بدگمانی:
مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کی ذات کے بارے میں بدگمانی اس حد تک خطرناک ہے کہ بعض اوقات انسان کی ہلاکت اور ابدی عذاب کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کا نمونہ کفار کے اُس ٹولے کی بدگمانی ہے جو سمجھتے تھے کہ خدا ان کے اعمال کو نہیں دیکھ رہا اور نہ ہی ان کی باتوں کو سُن رہا ہے۔ یہی بدگمانی ان کے نقصان اور تباہی کا باعث بن گئی۔ اس کے بالکل برعکس خداوندِ تبارک و تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حسنِ ظن دنیا اور آخرت میں نجات کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے: "ینبغی للمؤمن أن یخاف الله خوفًا كأنه یُشرِف علی النار و یرجوه رجاءً كأنه من أهل الجنة، إن الله تعالیٰ یقول: 'وذلكم ظنكم الذي ظننتم بربكم ... ثم قال إن الله عند ظن عبده، إن خیراً فخیر، وإن شراً فشر" مؤمن کے لیے سزاوار ہے کہ وہ خدا سے اس حد تک ڈرے کہ گویا وہ جہنم کے کنارے پر کھڑا ہے اور آتشِ جہنم کو دیکھ رہا ہے۔ اور اس حد تک اُس سے پُرامید ہو کہ گویا وہ اہلِ بہشت ہےجیسا کہ خدا ارشاد فرماتا ہے: "یہ وہ گمان ہے جو تم نے خدا کے بارے میں کیا تھا اور تمہاری ہلاکت کا سبب بن گیا۔۔۔" پھر امامؑ فرماتے ہیں: "خدا اپنے بندہ مؤمن کے گمان کے مطابق ہی ہے اگر وہ نیک گمان کرتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی نیک ہوتا ہے اور اگر بدگمانی ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی بُرا ہوتا ہے۔" (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ جب آخری شخص کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو وہ ناگہاں اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائے گا۔ خداوند عظیم و برتر حکم دے گا کہ اسے واپس لے آؤ، واپس لے آئیں گے خدا پوچھے گا: تو نے اِدھر اُدھر کیوں دیکھا اور کس فرمان کا انتظار کر رہا تھا؟ تو وہ عرض کرے گا: "پروردگار! مجھے تیرے بارے میں ایسا گمان نہیں تھا۔ خدا پوچھے گا: تو تمہارا کیا گمان تھا؟ عرض کرے گا: خدایا! میرا گمان یہ تھا کہ تُو میرے گناہوں کو معاف کر کے مجھے برین کی طرف بھیجے گا۔ خدا ارشاد فرمائے گا: یا ملائکتی! لا، وعزّتی وجلالی وآلائی وعلوی وارتفاع مکانی، ما ظنّ بی عبدی ھٰذا ساعۃً من خیرٍ قط، ولو ظنّ بی ساعۃً من خیرٍ ما ودعتُہٗ بالنار، أجیِزوا لہ کذبہ وأدخلُوہ الجنة... اے میرے فرشتو! مجھے اپنی عزت و جلال اور نعمتوں اور بلند و برتر مقام کی قسم میرے اس بندے نے میرے بارے میں کبھی نیک گمان نہیں کیا۔ اگر ایک ساعت بھی اس نے حسنِ ظن کیا ہوتا تو میں نے اسے قطعاً جہنم نہ بھیجا ہوتا۔ اگرچہ اس نے جھوٹ بولا ہے لیکن پھر بھی اس کے حسنِ ظن کے اظہار کو قبول کر لو اور اسے بہشت میں بھیج دو۔ پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ "کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو حسن ظن کرتا ہو مگر یہ کہ خدا اس کے گمان کے پاس ہوتا ہے اور یہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں خدا فرماتا ہے: (وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم)۔ (بحوالہ: تفسیر "علی بن ابراہیم" (منقول از نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۴۴)۔
۲۔ قیامت کی عدالت میں گواہوں کی قسمیں:
جب ہم کہتے ہیں کہ اگلے جہان میں سب لوگوں پر مقدمہ چلایا جائے گا تو ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں وہاں کی عدالت کا یہ تصور پیدا ہو جائے جو دنیاوی عدالتوں کا ہوتا ہے کہ وہاں بھی ہر شخص اپنے چھوٹے یا بڑے ریکارڈ اور یہاں کے گواہوں کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں قاضی کے سامنے لاکھڑا کیا جائے گا۔ سوال و جواب ہوں گے اور آخری فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہاں پر الفاظ کا عمیق تر مفہوم ہو گا کہ جس کا تصور ہم دنیا کے اسیروں کے لئے مشکل بلکہ قطعاً غیر ممکن ہے۔ لیکن جب بھی آیات قرآنی یا روایات معصومین علیہم السالم میں پائے جانے والے اشارات میں غور و فکر سے کام لیں تو ہمارے لئے بہت سے حقائق کا انکشاف ضرورت ہو جاتا ہے۔ وہاں کی زندگی کی عظمت اور گہرائی سے تھوڑا سا پردہ اٹھتا ہے اور اس سے معلوم ہو جاتا ہے قیامت کی عدالت کس قدر عظیم اور عجیب ہو گی۔ مثلاً جب "میزان عمل" کا لفظ بولا جاتا ہے تو ممکن ہے اس سے یہ تصوّر پیدا ہو کہ اس دن ہمارے اعمال ہلکے اور بھاری اجسام کی صورت اختیار کر لیں گے اور ترازو کے دو پلڑوں میں تولے جائیں گے لیکن جب معصومین علیہم السلام کی روایات میں پڑھتے ہیں کہ "حضرت علی علیہ السلام میزان اعمال ہیں" یعنی اعمال کی قیمت اور افراد کی شخصیّت عالم انسانیت کی اس عظیم شخصیت کے وجودی پیمانے پر پرکھی جائے گی اور جس قدر کوئی شخص ان کے مشابہ اور نزدیک ہو گا اسی قدر اس کا وزن زیادہ ہو گا اور جس قدر کوئی ان کے غیر مشابہ اور دور ہو گا اسی قدر اس کا وزن کم اور سبک ہو گا، تجب جا کر پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے دن میزان عمل سے کیا مراد ہے؟ گواہوں کے بارے میں بھی آیات قرآنی نے کچھ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اور کچھ ایسے گواہوں کا ذکر کیا ہے کہ دنیاوی عدالتوں میں ان کے متعلق ذرہ بھر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مگر قیامت کی عدالت میں ان کا اہم کردار ہو گا۔ کلی طور پر قرآنی آیات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ قیامت کی عدالت میں چھ قسم کے گواہ ہوں گے۔ (۱) پہلا گواہ جو سب سے برتر اور بالاتر ہے وہ خود خدا کی پاک ذات ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ تم جس حالت میں بھی رہو، قرآن کی جس آیات کو بھی پڑھو، کوئی بھی کام انجام دو ہم تمہارے گواہ ہیں جب کہ تم وہاں داخل ہو گے۔ (یونس۔ ٦۱) البتہ یہی گواہی ہر چیز کے لئے اور ہر شخص کے لئے کافی ہے لیکن خدا نے اپنے لطف اور کرم کے پیش نظر اور عدالت کے تقاضوں کے مدّنظر کئی اور گواہ بھی مقرر کئے ہیں۔ (۲) انبیاء اور اوصیاء، قرآن مجید کہتا ہے: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًا وہ دن کیسا ہو گا کہ جس میں ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے۔ (نساء۔ ۴۱) اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ حدیث اصول کافی میں ہے: نزلت فی امۃ محمد خاصۃ، فی کل قرن منھم امام منا، شاھد علیھم، و محمد شاھد علینا یہ آیت خصوصی طور پر امت محمدیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ہر قرن میں اس امت کے لئے ہم میں سے ایک امام ہو گا جو اس امت پر گواہ ہو گا اور محمدؐ ہم سب پر گواہ ہوں گے۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد۱، ص۱٩۰)۔ (۳) اعضائے بدن: جیسے زبان، ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور کان بھی گواہی دیں گے۔ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ اس دن ان کی زبانیں، ہاتھ اور پاؤں ان کے اعمال کے گواہ ہوں گے۔ (نور۔ ۲۴) زیر تفیسر آیات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ اور کان میں گواہوں کی فہرست میں ہیں۔ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی بدن کے تمام اعضاء اپنی اپنی نوبت کے مطابق انسان کے اعمال کے گواہ ہوں گے۔ (بحوالہ: لئالی الاخبار، ص۴٦۲)۔ (۴) بدن کی جلد، بھی گواہ ہو گی۔ چنانچہ زیر تفیسر آیات اس بات پر واضح طور پر دلالت کر رہی ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں یہ بات بھی بتا رہی ہے کہ گناہگاروں کو اس بات کی توقع نہیں ہو گی لیکن وہ ان کے خلاف گواہی دے گی تو گناہگار اس کو مخاطب کرکے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ تو وہ جواب دے گی جس خدا نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت عطا فرمائی ہے، اسی نے ہمیں بھی بولنے کی طاقت بخشتی۔ (حمٰ سجدہ۔ ۲۱) (۵) فرشتے، بھی انسانی اعمال کے گواہ ہوں گے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ اس دن ہر شخص عرصہ محشر میں پاؤں رکھے گا، جب کہ ایک فرشتہ اس کے ساتھ ہو گا جو اسے حساب و کتاب کی طرف کھینچ کر لے جائے گا اور ایک گواہ فرشتوں میں سے ہو گا، جو اس کے اعمال کی گواہی دے گا۔ (ق/۲۱) (٦) زمین، بھی انسان کے اعمال کی گواہی دے گی، جی ہاں! وہ زمین جو ہمیشہ ہمارے پاؤں کے نیچے ہے اور ہم اس کے ہمیشہ کے مہمان ہیں جو اپنی مختلف برکتوں کے ذریعے ہماری خاطر تو اضح کرتی ہے اور ہر وقت ہماری فکر میں ہے، اس دن تمام باتیں بتا دے گی۔ چنانچہ قرآن فرماتا ہے: يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا اس دن زمین اپنی تمام خبریں بتا دے گی۔ (زلزال۔ ۴)۔ (٧) زمانہ، بھی گواہوں میں شامل ہے، اگرچہ قرآنی آیات میں اس بات کی طرف اشارہ نہیں ہوا، لیکن معصومین علیہم السلام کی روایات اس چیز پر ضرور دلالت کرتی ہیں چنانچہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ما من یوم یمر علی ابن اٰدم الا قال لہ ذالک الیوم یا اٰبن اٰدم! انا یوم جدید، وانا علیک شھید، فقل فی خیراً و اعمل فی خیًرا، اشھدلک یوم القیامۃ کوئی دن بھی فررندآدم پر نہیں گزرتا جو یہ نہ کہتا ہو کہ اے فرزند آدم ! میں ایک نیا دن ہوں اور تجھ پر گواہ ہوں، مجھ میں اچھی باتیں کر اور اچھے عمل لا تاکہ میں بروز قیامت تیرے حق میں گواہی دوں۔( بحوالہ: سفینتہ البحار، جلد ۲، مادہٴ یوم)۔ تو کیا یہ عجیب بات نہیں ہو گی کہ عظیم عدالت کے لیے اتنے برحق گواہوں کے باجود ہم غفلت کا شکار ہوں اور ان سے بالکل بےخبر ہوں۔ زمان گواہٴ، مکان گواہ، فرشتے گواہ، ہمارے اپنے اعضاء گواہ، ابنیاء و اولیاء گواہ، اور ان سب سے بڑھ کر خود ذات کردگار ہمارے اعمال کی گواہ! لیکن ہم بالکل بےپرواہ!! آیا اتنے نگہبانوں کے وجود پر ایمان کافی نہیں ہے کہ انسان مکمل طور پر حق و عدالت اور تقویٰ و طہارت کی راہ پر چلے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بُرے ساتھی
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں "اعداء اللہ" (دُشمنانِ خدا) کے انجام کا ذکر تھا، اور مندرجہ بالا دونوں آیات میں دنیا اور آخرت میں ان کی دردناک سزا کا ذکر موجود ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: وہ صبر کریں یا نہ کریں آتشِ جہنم ان کا ٹھکانہ ہے اور اس سے ان کا چھٹکارا ناممکن ہے۔ (فَإِنْ یَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْویً لَہُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ آیت تقدیری طور پر یوں ہے: "فَإِنْ یَصْبِرُوا أَوْ لَا یَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًی لَهُمْ")۔ "مثوی"، "ثوی" (بروزنِ "ھوی") کے مادہ سے ہے جس کا معنی رہائش گاہ اور ٹھکانہ ہے۔ درحقیقت، یہ آیت سورہٴ طور کی آیت ۱٦ کے مشابہ ہے جس میں خدا فرماتا ہے: اصلوھا فاصبروا او لا تصبروا سواء علیکم۔ جہنم کی آگ میں داخل ہو جاؤ، صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسی طرح سورہٴ ابراہیم کی آیت ۲۱ میں ہے: سَوَاءٌ عَلَیْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِیصٍ۔ ہم صبر کریں یا نہ کریں ہمارے لیے ایک ہی بات ہے کہ نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ پھر اسی مطلب کی تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اگر وہ خدا سے معافی کی درخواست بھی کریں، قبول نہیں ہو گی اور انہیں معافی نہیں ملے گی (وَإِنْ یَسْتَعْتِبُوا فَمَا هُمْ مِنَ الْمُعْتَبِینَ)۔ "یستعتبون" دراصل "عتاب" کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی غصّے کا اظہار ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ گناہگار شخص خود کو صاحبِ حق کی سرزنش کے سامنے پیش کر کے سرِ تسلیم خم کر دے تاکہ اس طرح سے وہ اس پر راضی ہو جائے اور اس کی خطائیں معاف کر دے۔ لہٰذا یہ مادہ "استعتاب" استرضاء اور معافی مانگنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "مفردات راغب"، "لسان العرب"، مادہٴ عتب)۔ اس کے بعد ان کے دردناک دنیاوی عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے بداندیش اور بُری سیرت کے لوگوں کو ان کا ساتھی اور ہم نشین مقرر کیا ہے جو ہر چیز کو ان کی نگاہوں میں مزیّن کر چکے ہیں۔ انہوں نے برائیوں کو اچھائیوں کی صورت میں اور بدصورتی کو خوبصورتی کے رنگ میں پیش کیا ہے (وَقَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَیَّنُوا لَهُمْ مَا بَیْنَ أَیْدِیهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ)۔ "قیضنا"، "قیض" (بروزنِ "فیض") کے مادہ سے ہے جس کا اصل معنی انڈے کا چھلکا ہے، پھر اس کا استعمال ان لوگوں پر ہونے لگا جو کسی پر مکمل طور پر مسلط ہوتے ہیں جس طرح چھلکا انڈے پر مسلط ہوتا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے فاسد اور مفسد دوست انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوتے ہیں جو کہ ان کے افکار کو غارت کر دیتے ہیں اور ان پر اس حد تک تسلط قائم کیے ہوتے ہیں کہ وہ اچھے اور بُرے کے درمیان تمیز بھی نہیں کر سکتے۔ اچھائیاں ان کی نگاہوں میں برائیاں اور خوبصورتی، بدصورتی میں تبدیل ہو چکی ہوتی ہے اور یہ حالت انسان کے لیے کس قدر دردناک ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ گردابِ فساد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور پھر اس کا وہاں سے نکلنا محال ہو جاتا ہے کیونکہ نجات کے تمام رستے اس پر بند ہو جاتے ہیں۔ بسا اوقات "قیضنا" کا مادہ ایک چیز سے دوسری چیز میں تبدیل ہو جانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بنابریں، آیت میں تفسیر یوں ہو گی کہ ہم نیک دوست ان سے چھین کر ان کی جگہ انہیں بُرے دوست دے دیتے ہیں۔ یہ معنی نہایت واضح صورت میں سورہٴ زخرف کی ۳٦ ویں اور ۳۷ ویں آیات میں ہے: وَمَنْ یَعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهُ شَیْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِینٌ، وَإِنَّهُمْ لَیَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِیلِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ۔ جو لوگ ذکرِ خدا سے منہ موڑتے ہیں ہم بھی ان کے لیے شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور یہ شیاطین انہیں راہِ حق سے روکتے رہتے ہیں جب کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت یافتہ ہیں۔ سچ مچ جب ہم ظالموں، مفسدوں اور تباہ کاروں کے ٹولوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ان کی زندگی میں شیطان کی علامات بخوبی دکھائی دیتی ہیں گمراہ ساتھی انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوتے ہیں اور ان کی عقل و فکر پر مکمل طور پر چھائے ہوتے ہیں اور حقائق کو ان کی نگاہوں میں الٹ پھیر کر پیش کرتے ہیں۔ "مَا بَیْنَ أَیْدِیهِمْ وَمَا خَلْفَهُم" (جو کچھ ان کے سامنے اور ان کے پیچھے ہے) یہ جملہ ممکن ہے شیاطین کے ہر جانب سے احاطے کی طرف اشارہ ہو جو ہر برائی کو ان کے لیے بھلائی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "مَا بَیْنَ أَیْدِیهِم" سے مراد دنیاوی چکا چوند اور عیش و عشرت ہو اور "وَمَا خَلْفَهُم" سے مراد قیامت اور معاد کا انکار ہو۔ یہ تفسیر بھی ممکن ہے کہ "مَا بَیْنَ أَیْدِیهِمْ" سے ان کی دنیاوی کیفیت کی طرف اشارہ ہو اور "وَمَا خَلْفَهُم" ان کے مستقبل اور ان کی اولاد کے مستقبل کی طرف اشارہ ہو اور یہ لوگ بہت سے جرائم کا ارتکاب اپنے مستقبل کے لیے کرتے ہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے: اس افسوسناک صورت حال کے پیشِ نظر عذاب کے بارے میں خدا کا فرمان برحق ثابت ہوا اور وہ اپنے سے پہلے جن و انس کی اقوام کے انجام سے دوچار ہوئے۔ (وَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِی أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ)۔ (تشریحی نوٹ: "فِی أُمَمٍ" کا جملہ فعلِ محذوف سے متعلق ہے جس کی تقدیر یوں ہے: کَائِنِینَ فِی أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ... اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں پر "فِی"، "مَعَ" کے معنی میں ہو)۔ آیت کو ان الفاظ پر ختم کیا گیا ہے: یقیناً وہ نقصان اٹھانے والے تھے (إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِینَ)۔ اس قسم کی تعبیرات درحقیقت، ان تعبیرات کا نقطۂ مقابل ہیں جو بعد میں آنے والی آیات میں بااستقامت اور دھن کے پکے مؤمنین کے بارے میں بیان ہوتی ہیں کہ دنیا و آخرت میں جن کے دوست اور ساتھی خدا کے فرشتے ہیں اور انہیں خوشخبری دیتے ہیں کہ ان کے لیے کسی قسم کا رنج و غم نہیں ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شور مچاؤ تاکہ لوگ قرآن کی آواز نہ سُن سکیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں قومِ عاد و ثمود جیسی بعض اقوام، نیز بدسیرت دوستوں اور ہم نشینوں، جو حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کے سلسلے میں گفتگو ہو رہی تھی۔ زیرِ نظر آیات پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور کے مشرکین کی بداندیشی اور انحراف کا کچھ ذکر کیا جا رہا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تلاوتِ کلامِ پاک اور خداوندِ عالم کے شیریں، دلکش اور معنی خیز کلمات ادا کرتے ہوئے اپنی آواز بلند فرماتے تو مشرکینِ مکہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دور کرنے کے لیے کہتے شور مچاؤ، تالیاں پیٹو، سیٹیاں بجاؤ، اور اونچی اونچی آواز میں شعر پڑھو تاکہ آپ کی آواز کوئی نہ سُن سکے۔ (بحوالہ: تفسیر "مراغی"، جلد۲۴، ص ۱۲۵، اور تفسیر "روح المعانی" جلد ۲۴، ص ۱۰۶)۔ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اور کافروں نے کہا: اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی تلاوت کے وقت شور مچاؤ تاکہ تم غالب آ جاؤ (وَ قالَ الَّذینَ كَفَرُوا لا تَسْمَعُوا لِهذَا الْقُرْآنِ وَ الْغَوْا فیهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ)۔ حق و حقانیت کا مقابلہ کرنے کی یہ ایک خطرناک قدیم روش ہے جو آج بھی پہلے سے زیادہ وسیع اور خطرناک صورت میں جاری و ساری ہے تاکہ اس طرح لوگوں کے اذہان کو منحرف کیا جا سکے، حق و عدالت کے علمبرداروں کی آواز کو دبایا جا سکے اور ماحول کو اس حد تک شور و شرابے سے معمور کر دیا جائے کہ کوئی شخص ان کی آواز نہ سُن سکے اور اگر لفظ "الغوا" کی طرف مزید توجہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے جو ہر قسم کے فضول اور بےہودہ کلام کے لیے بولا جاتا ہے، اس سے اس کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کبھی ڈھول بجا کر، تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر، کبھی بےہودہ اور جھوٹی داستانیں بیان کر کے، اور کبھی عشق و محبت و خواہشاتِ نفسانی کے افسانے پیش کر کے اس کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اور اخلاق باختگی کے مراکز قائم کر کے، لچر اور بےہودہ فلمیں دکھا کر، سرگرم رکھنے والا بےمقصد بلکہ ہیجان انگیز اور گمراہ کن لٹریچر شائع کر کے، جھوٹی سیاست بازی اور اشتعال انگیزی قائم کر کے غرض ہر وہ چیز بھی لوگوں کے اذہان کو راہِ حق سے منحرف کر دے اسے اختیار کیا جاتا ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر کبھی کبھار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی قوم کے دانشور طبقے میں فضول بحثیں چھیڑ دی جاتی ہیں اور پھر ان کو اس حد تک بحث و مباحثے میں الجھا دیا جاتا ہے کہ ان سے بنیادی مسائل کے بارے میں ہر قسم کی سوچ بچار سلب ہو جاتی ہے۔ تو کیا مشرکین اپنے ان ذرائع اور بےہودہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے تھے اور قرآن پر غالب آ گئے تھے؟ نہیں! ہرگز نہیں! وہ خود بھی اور ان کی شیطنت بھی قرآن کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکیں اور حرفِ غلط کی طرح مٹ گئے اور روز بروز قرآن کا بول بالا ہوتا گیا اور قرآن آج نصف النہار کی مانند کائنات پر چمک رہا ہے۔ بعد کی آیت اس قبیل کے لوگوں کے لیے سخت عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: ہم یقینی طور پر کافروں کو __ اور ان کی اگلی صفوں میں موجود ان افراد کو جو لوگوں کو آیاتِ الٰہی سننے سے روکتے تھے ___ سخت عذاب (کامزہ) چکھائیں گے (فَلَنُذِیقَنَّ الَّذینَ كَفَرُوا عَذاباً شَدیداً)۔ ہو سکتا ہے انہیں یہ عذاب دنیا میں اسلام کی فاتح افواج کے ہاتھوں قتل یا قید ہونے کی صورت میں ملے یا آخرت میں ملے یا دونوں جہانوں میں ملے۔ "اور ہم انہیں ان کے بدترین اعمال کی سزا دیں گے" (وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ أَسْوَأَ الَّذی كَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ کفر و شرک، آیاتِ الٰہی کا انکار اور لوگوں کو حق بات سننے سے روک دینے سے بڑھ کر کوئی بدعمل ہو سکتا ہے؟ جب وہ اپنے تمام بُرے اعمال کی سزا بھگتیں گے تو پھر "أسوأ" (بدترین عمل) پر کیوں زور دیا گیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ اس سے سزا کے یقینی ہونے کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سننے سے لوگوں کو روکنے کی طرف اشارہ ہو۔ "کانُوا یَعْمَلُونَ" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زیادہ تر ان اعمال پر توجہ کی جاتی ہے جو بار بار انجام دئیے جاتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر یہ ان کی اچانک لغزش نہیں تھی بلکہ ان کا روزمرّہ کا معمول تھا۔ پھر مزید زور دے کر قرآن کہتا ہے: یہ خدا کے دشمنوں کی سزا ہے، جہنم کی بھسم کر دینے والی آگ (ذٰلِکَ جَزَاءُ أَعْدَاءِ اللّٰہِ النَّارُ)۔ (تشریحی نوٹ: ہو سکتا ہے کہ "النار"، "جزاء" کا بدل یا عطفِ بیان ہو یا پھر مبتدا محذوف کی خبر ہو۔ جو اصل میں اس طرح ہے "ھِیَ النَّار")۔ اور آگ کا یہ عذاب نہ تو عارضی ہو گا اور نہ ہی جلد ختم ہونے والا بلکہ: "ان کے لیے اس آگ میں ہمیشہ کا ٹھکانا ہو گا" (لَہُمْ فِیہَا دَارُ الْخُلْدِ)۔ جی ہاں! وہ اس آگ میں اس لیے دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے (جَزَاءً بِمَا کَانُوا بِآیَاتِنَا یَجْحَدُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: ہو سکتا ہے کہ "جزاء" فعلِ محذوف کا مفعول ہو جو "یُجزَونَ جَزاءً" ہے یا پھر "مفعول لہ" ہو)۔ وہ صرف آیاتِ خداوندی کا ہی انکار نہیں کیا کرتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی ان کے سننے سے روکتے تھے۔ "یَجْحَدُون"، "جَحد" کے مادہ سے ہے (جو بوزنِ "عَہد" ہے) اور مفرداتِ میں راغب کی تصریحات کے مطابق اس چیز کی نفی کے معنی میں ہے جس کا دل میں اثبات ہو یا اس کا اثبات ہو جس کی دل میں نفی ہو، بالفاظِ دیگر حقائق کا علم ہونے کے باوجود انکار کیا جائے اور یہ کفر کی بدترین قسم ہے۔ (اس کی مزید وضاحت تفسیرِ نمونہ کی آٹھویں، جلد سورۂ نمل کی آیت ۱۴ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں)۔ جب انسان کسی مصیبت میں گھِر جاتا ہے، خاص طور پر جب کسی خطرناک، سخت اور سنگین مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کے اصل محرکات اور اس کا باعث بننے والوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے تاکہ ان تک پہنچ کر انتقام لے۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ اگر اس کے بس میں ہو تو انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ اسی لیے زیرِ نظر آیت میں دوزخ میں کفار کی اسی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پروردگارا! جن و انس میں سے جن لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا ہےتو ہمیں دکھلا تاکہ ہم انہیں روند ڈالیں اور پامال کر دیں اور وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہو جائیں (وَ قَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا رَبَّنَا أَرِنَا الَّذَیْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنسِ نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا لِیَکُونَا مِنَ الْأَسْفَلِینَ)۔ وہ ایک عرصے تک ہمارے سروں پر سوار رہے، ہمیں بدبختی کی راہوں پر چلاتے رہے۔ اب ہماری یہی خواہش ہے کہ ہم انہیں روند ڈالیں اور پامال کر دیں تاکہ اپنے دل کا غصہ ٹھنڈا کریں، وہ لوگ ہمیں کہتے تھے کہ "محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتوں پر کان نہ دھرو، وہ جادوگر ہے، دیوانہ ہے اور ہذیان کہتا ہے۔" وہ ڈھول پیٹ پیٹ کر تالیاں بجا بجا کر غل غپاڑہ برپا کر کے ہمیں ان کی دلکش آواز سننے سے روکتے تھے تاکہ آپؐ کا دلربا آہنگ ہمارے دلوں میں اثر نہ کر جائے، رستم و اسفندیار کے قصے کہانیاں از خود بنا بنا کر ہمیں سناتے اور مشغول رکھتے تھے۔ ہمیں تو اب پتہ چلا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان پر تو آبِ حیات کے چشمے جاری تھے، انؐ کے دلنواز نغمے تو مسیحائی اعجاز کے حامل تھے اور مردوں کے لئے حیات بخش تھے، لیکن افسوس اب موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہاں پر جن و انس سے مراد شیطانوں کا گمراہ کن ٹولہ اور انسانوں کا شیطان صفت گروہ ہے نہ کہ دو معین افراد اور جہاں دو فاعل دو گروہ ہوں وہاں پر فاعل تثنیہ لانے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ قرآن کی آیت "فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ" میں آیا ہے۔ بعض مفسرین نے "لِیَکُونَا مِنَ الْأَسْفَلِینَ" کے جملہ کے بارے میں یہ کہا ہے: اس سے مراد یہ ہے کہ گمراہ کرنے والے جنات اور انسان جہنم کے بالکل ہی نچلے طبقوں میں جائیں گے۔ لیکن بظاہر صحیح معنی وہی ہے جو پہلے بتایا جا چکا ہے اور وہ زبردست غم اور غصّے کی وجہ سے یہ چاہیں گے کہ جس طرح وہ دنیا میں بلند مقامات کے مالک تھے، یہاں پر اپنے پیروکاروں کے پاؤں تلے روندے جائیں اور انہیں پست جگہ نصیب ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: با استقامت مؤمنین پر فرشتوں کا نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ہم جانتے ہیں کہ مطالب سمجھانے اور واضح کرنے کے لیے قرآن مجید کا طریقہ کار یہ ہے کہ دو متضاد چیزوں کو تقابل کے طور پر ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، تاکہ ان کا باہمی موازنہ کیا جائے اور ان کی اچھی طرح سے شناخت ہو جائے اور چونکہ گزشتہ آیات میں ضدی مزاج اور ہٹ دھرم منکرین کا تذکرہ تھا جو اپنے کفر پر ڈٹے ہوئے تھے اور خداوند عالم بھی انہیں دردناک عذاب اور مختلف سزاؤں کی وعید دے رہا تھا، لہٰذا ان آیات میں ان مومنین کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے جو اپنے ایمان میں پکے اور مستقل مزاج ہیں۔ اور خداوند عالم بھی انہیں سات قسم کی نعمتوں اور اجزاؤں سے نوازنے کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو غالباً گزشتہ سزاؤں کا نقطۂ مقابل ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اپنے اس کہے پر ڈٹ جاتے ہیں اور ان میں ذرہ بھر لغزش پیدا نہیں ہوتی اور جو اس کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے اس کا وہ اپنے گفتار و کردار کے ذریعے اظہار کرتے ہیں تو اللہ کے فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں کہ نہ تو ڈرو اور نہ ہی غم کرو (إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا)۔ کیا ہی جامع اور دلکش تعبیر ہے جس میں درحقیقت تمام نیکیاں اور اہم صفات اکٹھی ہیں۔ سب سے پہلے خدا کے ساتھ دل لگانا اور اس پر پختہ ایمان رکھنا، پھر تمام زندگی کو ایمان کے رنگ میں رنگ دینا اور اُسے اپنے تمام امور میں قرار دینا ہے۔ (تشریحی نوٹ: استقاموا" کا کلمہ "استقامت" کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی سیدھے راستے پر برقرار اور صحیح راہ پر ثابت قدم رہنا ہے۔ بعض صاحبانِ لغت نے اس کی "اعتدال" سے بھی تفسیر کی ہے اور بعید نہیں کہ دونوں معانی صحیح ہوں۔) دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو عشقِ الٰہی کا دم تو بھرتے ہیں لیکن میدانِ عمل میں ثابت قدم دکھائی نہیں دیتے۔ وہ ایسے سست اور ناتواں ہوتے ہیں جب انہیں خواہشاتِ نفسانی کے طوفانوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے تو ایمان کو بھی خیرباد کہہ دیتے ہیں اور میدانِ عمل میں بھی مشرک بن جاتے ہیں۔ اور جب مفادات کو خطرات میں گھرا دیکھتے ہیں تو برائے نام ایمان کو بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ حضرت علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں اس آیت کی تلاوت کرنے کے بعد اس کی واضح ترین اور پُرمعنی تفسیر فرماتے ہیں: وقد قلتم "ربنا اللہ" فاستقیموا علی کتابہ و علی منہاج امرہ و علی الطریقۃ الصالحۃ من عبادتہ، ثم لا تمرقوا منہا، و لا تبتدعوا فیہا، و لا تخالفوا عنہا۔ جب تم نے کہہ دیا ہے کہ "ہمارا رب اللہ ہے" تو اس پر ثابت قدم رہو۔ اس کی کتاب کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرو، جس راستے پر چلنے کا اس نے حکم دیا ہے اور جس طریقے سے اس نے عبادت کا حکم دیا ہے اس پر استقامت اور پامردی کے ساتھ چلتے رہو۔ اس کے دائرۂ فرمان سے کبھی باہر نہ نکلو، اس کے دین میں کبھی بدعت نہ کرو اور کسی بھی موقع پر اس کی مخالفت نہ کرو (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۶)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور کہا: قد قالہا الناس، ثم کفر اکثرہم، فمن قالہا حتی یموت فھو ممن استقام علیہا۔ کچھ لوگوں نے یہ بات کہی پھر ان میں سے اکثر کافر ہو گئے لیکن جو شخص یہ کہے اور اس پر مرتے دم تک ثابت قدم رہے تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے استقامت کا ثبوت دیا ہے (بحوالہ: مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں)۔ حضرت امام رضا علیہ السلام سے "استقامت" کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ھی واللہ ما انتم علیہ واللہ! استقامت ولایت ہی تو ہے جس پر تم قائم ہو (بحوالہ: مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں)۔ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آیت کا مفہوم ولایت ہی پر موقوف ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی امامت اور رہبری کو قبول کر لینا خطِ توحید اور صحیح و حقیقی اسلام کی بقا اور عمل کے تسلسل کا ضامن ہوتا ہے لہٰذا امام علیہ السلام نے "استقامت" کی اس معنی میں تفسیر کی ہے۔ مختصر یہ کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس کے ایمان اور عمل صالح میں ہی منحصر ہے اور وہ آیت کے اس جملے "قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا" میں منعکس ہے لہٰذا ایک روایت میں اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک شخص آپ علیہ السلام کی خدمتِ مبارک میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: اخبرنی بأمر أعتصم بہ۔ مجھے کوئی ایسا حکم دیجئے جسے میں مضبوطی سے تھامے رکھوں اور دنیا و آخرت میں نجات پا جاؤں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قل ربی اللہ ثم استقم۔ تم کہو میرا پروردگار اللہ ہے، اور پھر اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔ سائل نے پھر پوچھا: ارشاد فرمایئے کہ کون سی چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے جس سے مجھے پرہیز کرنا چاہیئے؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی زبان پکڑ کر فرمایا کہ یہ (بحوالہ: روح البیان، جلد ۸، ص ۲۵۴)۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو لوگ ان دو اصولوں پر قائم رہتے ہیں وہ خدا کے کن انعامات کے مستحق قرار پاتے ہیں؟ اس بارے میں قرآن مجید میں خدا کی سات عظیم عنایات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ایسی عنایات کہ اللہ کے فرشتے ان پر نازل ہو کر انہیں ان کی خوشخبری سناتے ہیں۔ پہلی اور دوسری خوشخبری کے بعد جو کہ "خوف" اور "حزن" کو دل میں راہ نہ دینا ہے۔ تیسرے مرحلے پر ارشاد ہوتا ہے: تمہیں اس بہشت کی خوشخبری ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ)۔ چوتھی خوشخبری یہ ہے کہ "ہم تمہارے دنیاوی زندگی میں بھی یار و مددگار ہیں اور آخرت میں بھی" ہم تمہیں کہیں بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے، نیکیوں میں تمہاری امداد کریں گے اور لغزشوں سے تمہیں بچائیں گے حتیٰ کہ تم بہشت میں پہنچ جاؤ گے (نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ)۔ پانچویں بشارت کے سلسلے میں کہتے ہیں: تمہارے لیے بہشت میں غیر مشروط طور پر وہ سب کچھ مہیا ہے جو کچھ تمہارا جی چاہے گا (وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ)۔ چھٹی خوشخبری یہ ہے کہ نہ صرف مادی نعمتیں تمہاری حسبِ منشاء تمہیں ملیں گی بلکہ "جو روحانی نعمتیں مانگو گے وہ بھی تمہیں ملیں گی" (وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ)۔ آخر میں ساتویں اور آخری نعمت کو خوشخبری انہیں یہ ملے گی کہ چونکہ تم جاودانی بہشت میں خدا کے مہمان ہو گے اور یہ سب نعمتیں تمہاری خاطر تواضع کے طور پر تمہیں عطا ہوں گی جس طرح کسی معزز مہمان کی کسی معزز میزبان کی طرف سے خاطر تواضع کی جاتی ہے لہٰذا "یہ سب غفور و رحیم اللہ کی طرف سے میزبانی کے طور پر ہو گا" (نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ)۔
چند اہم نکات: ۱۔ فرشتوں کانزول کب؟
ان آیات اور مختصر لیکن پر معنی تعبیرات میں نہایت باریک اور بہت سے نکات پوشیدہ ہیں۔ 1۔ فرشتوں کا نزول کب؟ آیا با استقامت مومنین پر فرشتوں کا نزول مرنے اور اس دنیا سے اُس جہاں کی طرف انتقال کے موقع پر ہوتا ہے، جیسا کہ کچھ مفسرین نے یہ اعمال ذکر کیا ہے یا مندرجہ ذیل تین مواقع پر فرشتے ان کے پاس آئیں گے: (1) موت کے وقت (۲) قبر میں تدفین کے وقت (۳) قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کے وقت۔ یا کیا یہ خوشخبریاں ان کے لیئے مستقل اور ہمیشہ کے لیے ہوتی ہیں کہ فرشتے روحانی طور پر ان حقائق کو ہمیشہ مومنین کے کانوں میں بیان کرتے رہتے ہیں ہر چند کہ بوقت مرگ یا قبر میں دفن کرتے وقت یا عرصہ محشر میں فرشتوں کی یہ صدا زیادہ واضح صورت میں سنی جا سکے گی؟ چونکہ آیت میں کسی قسم کی کوئی قید و شرط نہیں ہے، لہذا آخری معنی کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ خاص طور پر جب کہ فرشتے چوستی خوشخبری میں کہتے ہیں کہ: "ہم تمھارے دنیاوی زندگی میں بھی دوست ہیں اور آخرت میں بھی“ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس خوشخبری کو فرشتوں سے اس وقت سنتے ہیں جب وہ دنیا میں زندہ ہوتے ہیں لیکن یہ بشارت زبان اور الفاظ کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ مومنین اپنے دل کے کانوں کے ذریعے سنتے ہیں اور مشکلات و مصائب میں دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس کا احساس کرتے ہیں اور قلبی سکون محسوس کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ متعدد روایات میں اس آیت کی تفسیر موت کے وقت کے ساتھ کی گئی ہے لیکن بعض دوسری روایات میں وسیع معنی کے ساتھ بھی اس کی تغیر وارد ہوئی ہے جس میں دنیاوی زندگی بھی شامل ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلیجلد، 4، صفحات 546-547، روایات نمبر 38، 4، 45 اور4 46)۔ ان تمام روایات کو ملا کر یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ موت کی حالت کا خصوصی ذکر اس وسیع مفہوم کا ایک واضح مصداق ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جو بحی روایات تفسیر کے طور پر وارد ہوئی ہیں غالب طور پر واضح مصداقوں کی صورت میں ہیں۔ بہرحال، یہ خدا کے فرشتوں کی خوشخبریاں ہیں جو با استقامت مومنین کے قلب و روح میں جلوہ فگن ہوتی ہیں اور زندگی کے تیز و تند طوفانوں میں انہیں طاقت بخشتی ہیں اور لغزش کے مقامات پر انہیں ثابت قدم رکھتی ہیں۔
۲۔ خوف اور حزن میں فرق
اس موقع پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”خوف“ اور ”حزن“ کے درمیان کیا فرق ہے؟ چنانچہ بہت سے مفسرین کہتے ہیں کہ ”خوف“ اور ڈر آئندہ کے خطرناک امور و حوادث سے متعلق ہے اور ”حزن“ اور غم کا گزشتہ زمانے کے ناگوار حالات سے تعلق ہے۔ تو گویا اس طرح سے فرشتے انہیں یہ کہتے ہیں کہ نہ تو تم آئندہ کے حوادث سے ڈرو خواہ دنیا میں ہوں یا بوقتِ وفات اور بروزِ قیامت، اور نہ ہی اپنے گزشتہ گناہوں کا غم کرو اور نہ ہی اپنی اولاد کا جو دنیا میں چھوڑے جا رہے ہو۔ اسی لیے ممکن ہے کہ ”خوف“ کو ”حزن“ پر مقدم کیا گیا ہو کیونکہ مؤمن شخص کو زیادہ آئندہ کے امور سے ہوتا ہے، خاص کر محشر کی عدالت سے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”خوف“ اور ڈر ”عذاب“ سے ہوتا ہے اور ”حزن“ و غم ”ثواب“ کے ضائع ہو جانے سے۔ اور خدا کے فرشتے انہیں دونوں کے لیے پروردگار کے لطف و کرم کی اُمید دلاتے ہیں۔
۳۔ ” کنتم توعدون “ (تم وعدہ دیئے جاتے تھے )
کنتم توعدون “ (تم وعدہ دیے جاتے تھے) کی تعبیر ایک نہایت ہی جامع ہے جو بااستقامت مؤمنین کی نگاہوں میں بہشت کے تمام اوصاف کو مجتمع کر دیتی ہے۔ یعنی بہشت اپنے تمام اوصاف کے ساتھ تمہیں ملے گی۔ حور و قصور، روحانی اور نہایت ہی قیمتی نعمتوں سمیت تمہارے اوصاف کے ساتھ تمہیں ملے گی۔ ایسی نعمتیں کہ بقول قرآن کوئی شخص بھی اس سے قطعاً آگاہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے ذہن میں آئی ہیں ”فلا تعلم نفس ما أُخفی لہم من قرة أعین“۔ (السجدہ: ۱۷)
۴۔ فرشتے مومنین کے دوست
فرشتے اپنی چوتھی خوشخبری میں اپنے آپ کو مؤمنین کا دنیا اور آخرت میں دوست کے عنوان سے تعارف کراتے ہیں اور یہ درحقیقت گزشتہ آیات کا نقطۂ مقابل ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ بے ایمان کفار اپنے گمراہ کرنے والے اولیاء اور رہبروں سے نالاں ہوں گے اور دوزخ میں ان پلیدوں سے انتقام لینے کے خواہش مند ہوں گے۔
۵۔ پانچویں اور چھٹی خوشخبری کے درمیان فرق
فرشتے پانچویں خوشخبری میں انہیں کہتے ہیں کہ جو تمہارا جی چاہے گا وہاں پر تمہیں ملے گا۔ اور تمہارا چاہنا اور تمہیں مل جانا ایک ہی بات ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ”تشتهی انفسکم“ کی تعبیر عموماً مادی لذتوں کے لیے ہوتی ہے، جب کہ ”ما تدعون“ (جو کچھ مانگو گے) کا معنی روحانی لذتوں اور عنایتوں کا حصول ہے۔ غرض وہاں پر سب کچھ موجود ہو گا، خواہ مادی نعمتیں ہوں یا روحانی۔
۶۔بہشت الہٰی مہما ن خانہ
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ”نزل“ ایسے کھانوں کے معنی میں ہے جن کے ذریعہ مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے یہ اس چیز یا ان چیزوں کو کہتے ہیں جن سے مہمانوں کی پہلی خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ تفسیر خواہ کچھ بھی ہو، یہ لطیف اور دلکش تعبیر واضح کرتی ہے صاحبانِ استقامت مؤمنین سب کے سب اللہ کے مہمان ہوں گے اور بہشت ”اللہ کا مہمان خانہ“ ہے اور اس کی نعمتیں دوستانِ خدا کی خاطر تواضع کا ذریعہ ہیں۔
۷۔ مرنے کی آرزو
ان مفاہیم کی گہرائیوں اور فرشتوں کے ذریعے کیے جانے والے خدا کے ان وعدوں کی عظمت میں غور و فکر کرنے سے انسان کا جی چاہتا ہے کہ اس کی روح پرواز کر جائے اور اس کا تمام وجود ایمان اور استقامت میں جذب ہو جانے کے لیے بے چین ہوتا ہے۔ انہی تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ اسلام نے مٹھی بھر جاہل عربوں میں سے ایسے ایسے انسان تیار کیے جنہوں نے ہر قسم کی ایثار و قربانی اور فداکاری کی روش کی مثالیں قائم کر دیں اور آج بھی تمام مشکلات پر قابو پانے کے لیے ایسے لوگوں کا اسوہ اور مثالیں مدنظر ہوتی ہیں۔ البتہ یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ استقامت، عملِ صالح کی طرح ایمان کے درخت کا پھل ہے۔ کیونکہ جب ایمان کافی حد تک کسی میں راسخ ہو جاتا ہے تو پھر اسے استقامت کی دعوت دیتا ہے۔ جس طرح کہ راہِ حق میں استقامت اور پائیداری ایمان کی گہرائی میں اضافہ کرتی ہے، اسی طرح ایمان بھی استقامت کی تقویت کا باعث ہوتا ہے اور دونوں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی دوسری آیات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان اور استقامت انسان کی طرف روحانی برکتیں ہی نہیں لاتے، بلکہ اس دنیا میں مادی برکتوں کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں، جس طرح کہ سورۂ جن کی آیت ۱۶ میں ہے: "وَأَنْ لَوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا" اگر ایمان دار لوگ راہِ حق پر ثابت قدم رہیں تو ہم انہیں خوب سیراب کر دیں (بارشوں اور برکتوں سے معمور سال انہیں نصیب کریں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: برائی کو اچھائی کے ذریعے دور کیجئے.
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں ان افراد کی بات ہوئی تھی جو لوگوں کو قرآنی آیات سننے سے روکتے تھے، یعنی گمراہی اور ضلالت کی دعوت دینے والوں سے متعلق گفتگو تھی۔ لیکن ان آیات میں اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کا تذکرہ ہے جن کی گفتگو بہترین ہے، ارشاد ہوتا ہے: کس کی گفتگو اس شخص سے بہتر ہو سکتی ہے جو خدا کی طرف دعوت دے اور نیک اعمال بجا لائے اور کہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں اور مکمل طور اسلام کو قبول کر چکا ہوں (وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِمَّنْ دَعا اِلَی اللَّہِ وَ عَمِلَ صَالِحاً وَ قَالَ اِنَّنی مِنَ الْمُسْلِمِینَ )۔ اگرچہ آیت استفہام کی صورت میں ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کسی بھی شخص کی بات ان لوگوں سے بہتر نہیں ہو سکتی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور توحید کی دعوت دیتے ہیں۔ وہی مبلغین جو اپنے اعمال صالح کے ذریعے اپنی زبان تبلیغ کا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں اور اسلام پر اعتقاد رکھ کر اور حق کے سامنے سر جھکا کر اپنے نیک اعمال پر مہرِ توثیق ثبت کرتے ہیں۔ یہ آیت بڑی صراحت کے ساتھ ان لوگوں کو بہترین گفتگو کرنے والا بتا رہی ہے جن میں یہ تین صفات پائی جاتی ہوں: (الف) خدا کی طرف دعوت۔ (ب) عمل صالح کی ادائیگی۔ (ج) حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے لوگوں نے ایمان کے تین مشہور ارکان (زبان کے ساتھ اقرار، ارکان کے ساتھ عمل اور دل کے ساتھ ایمان) کے علاوہ چوتھے رکن کو بھی مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اور وہ ہے حق کی تبلیغ اور اس کی نشر و اشاعت کہ جس سے دینی بنیادوں پر دلیل قائم کی جاتی ہے اور خدا کے بندوں کے دلوں سے شک و شبہ کے آثار و نشانات کو مٹایا جاتا ہے۔ ان چار اوصاف کے حامل مبلغین کائنات کے بہترین مبلغ ہوتے ہیں۔ اگرچہ کچھ مفسرین نے ان اوصاف کو پیغمبرؐ اسلام کے ساتھ مختص سمجھا ہے یا بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت مؤذنین کے لیے مخصوص ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے جو ان سب منادیان توحید کے بارے میں ہے جن میں یہ صفات پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ کہ اس کا بہترین مصداق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے (خاص کہ آیت کے نزول کے زمانے کو پیش نظر رکھتے ہوئے) پھر ائمہ اطہار علیہم السلام اور ان کے بعد تمام علماء دانشور اور مجاہدین راہ حق میں اور وہ لوگ بھی ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور ہر طبقے کے مبلغین اسلام ہیں۔ اور یہ ایسے سب لوگوں کے لیے ایک عظیم خوشخبری اور بے مثال اعزاز ہے۔ کچھ مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں پیغمبرؐ اسلام کے مؤذن جناب بلال حبشی کی مدح و ستائش ہے تو یہ بھی اس لیے ہے کہ انہوں نے نہایت تاریک اور وحشتناک دور میں توحید کا نغمہ الاپا اور اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان وقف کر دی۔ اور راسخ ایمان، بے نظیر استقامت، اعمال صالح اور صحیح اسلامی خطوط پر عمل پیرا ہو کر ان اوصاف کی تکمیل کی۔ ”وقال اننی من المسلمین“ کی دو طرح سے تفسیر کی گئی ہے۔ پہلی کہ یہ یہاں پر”قال“، ”قول“ (بمعنی اعتقاد) کے مادہ سے مشتق ہے یعنی اس کا اسلام پر پختہ عقیدہ ہے۔ اور دوسری یہ کہ یہاں پر”قول“ بات کرنے کے معنی میں ہے یعنی وہ بڑے فخر سے اور علی الاعلان کہتا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے ہر چند کہ دونوں معانی کو آیت کے مفہوم میں جمع کرنے کا امکان بھی ہے۔ خدا کی طرف دعوت دینے اور خدا کی طرف بلانے والوں کے اوصاف کو بیان کرنے کے بعد اس دعوت کی روش کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: نیکی اور بد برابر نہیں ہیں (وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ ) ( تشریحی نوٹ:” ولا السیّئہ “ میں ” لا“ کو نفی کی تاکید کے لیے دوبارہ لایا گیا ہے۔) جبکہ مخالفین حق کے پاس بدگوئی، جھوٹ، مذاق، مسخرہ پن اور انواع و اقسام کے مظالم کے علاوہ اور کوئی ہتھیار نہیں ہے اور ان کے مقابلے میں تمہارا ہتھیار پاکیزگی، تقویٰ، قولِ برحق اور محبت و نرمی ہونا چاہیے۔ یقینا ضلالت اور گمراہی کے مکتب ان ہتھیاروں کے علاوہ کسی اور چیز کو اچھا نہیں سمجھتے اور حق کا مکتب صرف مذکورہ ذرائع کو ہی بروئے کار لاتا ہے۔ اگرچہ ”حسنة“ اور”سیّئة“ کا مفہوم وسیع ہے اور ہر قسم کی نیکیاں، خوبیاں، اچھائیاں اور برکتیں”حسنة“ کے مفہوم میں آتی ہیں اور اسی طرح ہر قسم کی لغزشیں، برائیاں گمراہیاں اور عذاب ”سیّئة“ کے مفہوم میں ہیں لیکن زیر نظر آیت میں ”حسنة“ اور ”سیّئة“ سے وہی مراد ہے جو تبلیغی طریقہ کار سے متعلق ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے ”حسنة“ کی اسلامی اور توحید سے اور "سیّئة“ کی کفر اور شرک سے تفسیر کی ہے جبکہ بعض نے ”حسنة“ سے اعمال صالحہ اور ”سیّئة“ کی اعمال قبیحہ مراد لی ہے، بعض نے کہا ہے کہ ”حسنة“ سے انسان کے صبر، حلم، اور عفو و بخشش جیسی بلند صفات اور ”سیّئة“ سے غیظ و غضب، جهل و نادانی، ترشروئی و بد مزاجی، بدلہ اور انتقام جیسی پست صفات مراد ہیں۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں فرمایا: الحسنة التقیة والسیّئة الاذاحة۔ حسنہ، تقیہ ہے اور سیّہٰ بات کو فاش کر دینا ہے۔ البتہ یہ حدیث ایسے موقع کے لیے ہے جب عقیدے کے اظہار کی وجہ سے تمام توانائیاں ضائع اور تمام بنے بنائے پروگرام نقش بر آب ہونے کا اندیشہ ہو اور مقاصد حاصل نہ ہو سکیں۔ ( تشریحی نوٹ:تفصیل مجمع البیان انہی آیات کے ذیل میں۔) پھر اس بات کی تکمیل کے طور پر فرمایا گیا ہے: بہتر طریقہ کار کے ذریعے برائی کا جواب دے اور اسے دور کر (ادْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ )۔ حق کے ذریعے باطل کو دفع کرو، حلم اور حسنِ خلق کے ذریعے جہالت اور بد مزاجی کا، اور عفو و درگزر سے ان کی سختیوں کا جواب دو۔ یاد رکھو کبھی بھی برائی سے اور بدی کا بدی سے جواب نہ دو۔ کیونکہ یہ منتقم مزاج لوگوں کا طریقہ کار ہوتا ہے جس سے گمراہ، سرکش اور ضدی مزاج افراد کی سختی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ آیت کے آخر میں اس منصوبے کے عمیق فلسفے کو ایک مختصر سے جملے میں بیان فرماتے ہوئے کہا گیا ہے: اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سخت سے سخت دشمن بھی سچے اور پکے دوست بن جائیں گے (فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَ بَیْنَہُ عَداوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ )۔ قرآن مجید نے اسی چیز کو سورۂ مومنین کی آیت ۹۶ میں ایک اور صورت میں بیان فرمایا ہے: ادفع بالتی ھی احسن السیّئة سب سے اہم، سب سے مشکل اور سب سے فائدہ مند طریقہ تبلیغ کا طریقہ کار ہے خاص کر جب یہ تبلیغ نادان اور ضدی مزاج دشمن کو کی جائے اور ماہرین نفسیات کی آخری تحقیقات بھی یہی کہتی ہیں۔ کیونکہ جو شخص برائی کرتا ہے اسے اس جیسے سلوک کا انتظار رہتا ہے خاص کر بدقماش لوگ چونکہ خود ایسے ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک برائی کا کئی برائیوں سے جواب دیتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ فریق مخالف نہ صرف برائی کا جواب برائی سے نہیں دے رہا بلکہ اچھائی بھی کر رہا ہے تو اس وقت ان کے اندر ایک طوفان موجزن ہو جاتا ہے اور ان کا ضمیر زبردست دباؤ تلے آ کر بیدار ہو جاتا ہے۔ ان کے اندر انقلاب برپا ہو جاتا ہے، وہ شرمسار ہو کر اپنے آپ کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالف کی عظمت کے تہ دل سے قائل ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر کینے اور عداوتیں دل سے کافور ہو جاتی ہیں اور محبت اور گرم جوشی ان کی جگہ لے لیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک غالب قانون ہے نہ کہ دائمی، کیونکہ ہر دور میں ایک اقلیت ایسی چلی آ رہی ہے جو اس طریقہ کار سے ناجائز فائدہ اٹھاتی ہے اور ایسے لوگوں کے منہ پر جب تک زور دار طمانچے رسید نہ کیے جائیں وہ انسان نہیں بنتے اور اپنی بری حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ البتہ ایسے لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت کم ہوتی ہے اور ان سے سختی کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔ لیکن یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایسے افراد ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں جبکہ اکثریت پر حکم فرما قانون ”برائی کو اچھائی سے دور کرنے“ کا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور معصوم پیشواؤں نے ہمیشہ قرآن مجید کی اس بلند مرتبہ روش سے استفادہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر فتح مکہ کے موقع پر صرف دشمنوں ہی کو نہیں بلکہ دوستوں کو بھی یہی توقع تھی کہ آج مسلمان اپنے مخالفوں سے سخت انتقام لیں گے۔ آج مشرک، کفر اور انفاق کی سرزمین اور بے رحم و سنگدل دشمنوں کے وطن میں خون کی ندیاں بہ جائیں گی۔ یہاں تک کہ سپاہ اسلام کے ایک علمبردار نے تو ابوسفیان کی طرف منہ کرکے یہ نعرہ لگانا شروع کر دیا تھا کہ "الیوم یوم الملحمة، الیوم تسبی الحرمة، الیوم اذل اللہ قریشاً"۔ آج انتقام لینے کا دن ہے، آج دشمن کے جان و مال کا احترام ختم ہو جانے کا دن ہے، آج قریش کی ذلت اور خواری کا دن ہے۔ لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اذھبوا فانتم الطلقاء" جاؤ! کہ تم آزاد ہو۔ کہہ کر سب کو معاف کر دیا۔ ابوسفیان کی طرف منہ کرکے انتقام پر مبنی تعریے کو اس نعرے میں تبدیل کر دیا: "الیوم یوم المرحمة، الیوم اعز اللہ قریشاً" آج رحمت کا دن ہے، آج قریش کی عزت کا دن ہے (بحوالہ: بحا رالا نوار جلد ۲۱ ،ص ۱۰۹۔) اسی طرز عمل نے مشرکین مکہ کے دل کی دنیا میں ایسا طوفان برپا کر دیا کہ قرآن کے بقول "یدخلون فی دین اللہ افواجاً" (نصر، ۲) وہ گروہ در گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے اور دل جان سے اسلام کو قبول کر لیا۔ لیکن تاریخ اسلام کے مطابق اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند لوگوں کا نام لے کر انہیں اس عام معافی سے مستثنیٰ کر دیا، کیونکہ وہ خطرناک مجرم اور ناقابلِ معافی افراد تھے۔ جنہیں معاف فرمایا گیا ان سے مخاطب ہو کر آپ نے ارشاد فرمایا: "میں تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا جنہوں نے ان پر ظلم کیا تھا۔ لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الراحمین" آج تم پر کسی قسم کی کوئی ملامت نہیں ہے، خدا تمہیں معاف کر دے گا، وہی ارحم الراحمین ہے (بحوالہ : بحارا لانوار جلد ۲۱ ،ص ۱۳۲۔) (یوسف، ۲۹)۔ "ولی" یہاں دوست کے معنی میں ہے اور "حمیم" دراصل گرم اور جلا دینے والے پانی کو کہتے ہیں۔ بدن کے پسینے کو "حمیم" اس کی گرمی کی وجہ سے کہا جاتا ہے اور "حمام" کو بھی اسی لیے حمام کہتے ہیں اور محبت سے معمور اور گرم جوش کو بھی "حمیم" کہا جاتا ہے اور آیت میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ خدا فرماتا ہے "کانہ ولی حمیم" (گویا وہ ایک گرم جوش اور پکا دوست ہے) یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ صحیح معنوں میں دوست نہ بھی ہو تو کم از کم بظاہر ایسا ضرور ہوگا۔ اور چونکہ مخالفین سے اس قسم کا رویہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور ایسے مقام تک پہنچنا گہری اخلاقی خود سازی کا مرہونِ منت ہوتا ہے، لہذا بعد کی آیت میں دشمنوں سے اس قسم کے رویے اور طریقہ کار کی اخلاقی بنیادوں کو قرآن مختصر اور بامعنی عبارت میں ارشاد فرماتا ہے: "اس خصلت کو صبر اور صاحبانِ استقامت لوگوں کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا" (وَ مَا یُلَقَّاھَا اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا) (تشریحی نوٹ: یلقاھا کی ضمیر خصلت یاوصیت کے معنی میں جوگزشتہ جملے سے ملتی ہے واپس لوٹتی ہے)۔ "اور اس عظیم خلق و خصلت کو کوئی نہیں پہنچ سکتا سوائے ان لوگوں کے جو ایمان، تقویٰ اور اخلاق کے عظیم حصے سے بہرہ مند ہیں" (وَ مَا یُلَقَّاھَا اِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیْم)۔ جی ہاں! انسان کو مدتوں خودسازی کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے غیظ و غضب اور غصے پر قابو پا سکے۔ ایمان اور تقویٰ کے پرتو میں اس کی روح کو اس قدر وسیع اور قوت ہونا چاہیے کہ آسانی کے ساتھ دشمن کی اذیتوں اور تکلیفوں سے متاثر نہ ہو پائے، اور اس کے انتقام کی آگ فوراً نہ بھڑک اٹھے، اس کام کے لیے باعزت روح اور بہت کشادہ سینے اور دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر کہیں جا کر انسان کمال اور انسانیت کے اس مرحلے تک پہنچتا ہے کہ برائیوں کا جواب نیکیوں سے دیتا ہے اور راہِ خدا اپنے مقدس مقاصد تک پہنچنے کے لیے عفو و درگزر کے مراحل سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اور "برائی کا جواب اچھائی" کے مقام پر جا پہنچتا ہے: اس مقام پر ایک بار پھر "صبر" کا مسئلہ درپیش ہے جو اعلیٰ اخلاق کے تمام ملکات کی بنیاد ہے ۔ ( تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے ”وما یلقّاھا الاّ ذوحظ عظیم“ کو ایسے شریف اور معاف کردینے والے لوگوں کی آخرت میں جزا سمجھا ہے۔ لیکن اگر اس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ آیت تواس عظیم عمل کی اخلاقی بنیادوں کو بیان ک ررہی ہے، تو مذ کورہ تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے۔) اور چونکہ اس عظیم مقصد تک پہنچنے کے لیے بہت سی رکاوٹیں درپیش ہوتی ہیں اور شیطانی وسوسے بھی مختلف صورتوں میں انسان کے آڑے آتے ہیں لہذا زیرِ تفسیر آیات میں سے آخری آیت میں نمونے کی حیثیت سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے: "جب بھی اس راہ میں تجھے شیطانی وسوسے درپیش ہوں تو متوجہ رہ اور ان کے سامنے ڈٹ جا، خود کو خدا کے سپرد کر دے اور اس کی مہربانی کے سائے میں پناہ لے کیونکہ وہ سننے والا اور صاحب علم ہے" (وَ اِما یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اِنَّهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ) (تشریحی نوٹ: ”نزغ“ مندرجہ بالا آیات میں ممکن ہے کہ مصدر کے طور پر یہی معنی رکھتا ہو؛ یہ بھی ممکن ہے کہ ”اسم فاعل“ کے معنی میں ہو۔) "نزغ" (بر وزن "نزد") کا معنی "کسی کام میں فساد کی غرض سے ہاتھ ڈالنا" ہے، اسی لیے شیطانی وسوسوں کو "نزغ" کہا جاتا ہے اور یہ دراصل اس لیے ہے کہ ایسے مواقع پر عام طور پر کچھ خیالات ذہن میں اٹھتے ہیں یا نام نہاد مصلحت اندیش لوگ اس قسم کی ہدایت دیتے ہیں کہ: "لوگوں کی ڈنڈے کے زور سے ہی اصلاح کی جا سکتی ہے"،"خون کے دھبے خون ہی سے دھوئے جا سکتے ہیں"؛ "تیز دانتوں والے بھیڑیوں پر رحم کرنا، بھیڑ بکریوں پر ظلم کرنے کے مترادف ہے" وغیرہ۔ اس طرح سے وہ "ایسے کو تیسا" کے فارمولے کو ہر جگہ پر عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں اور برائی کا جواب برائی سے دینا چاہتے ہیں۔ لیکن قرآن فرماتا ہے: کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ لوگ ایسے وسوسوں کا شکار ہو جائیں، سوائے خاص اور استثنائی مواقع کے سختی سے کام لینا شروع کر دیں اور اگر کہیں ایسے مشکل مواقع درپیش بھی ہوں تو فوراً خدا کی پناہ طلب کریں اور اسی پر اعتماد کریں کہ وہی سب کی باتوں کو سنتا اور تمام دنیا کی نیتوں سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ البتہ مندرجہ بالا آیت کا مفہوم بہت وسیع ہے اور وہ کہہ رہی ہے تمام شیطانی وسوسوں کے مقابلے میں خدا کی پناہ طلب کریں، لیکن جو کچھ اوپر بتایا گیا ہے اس کے مصداقوں میں سے یہ ایک روشن مصداق ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ خدا کی طرف بلانے والوں کامرحلہ وار پرو گرام
مندرجہ بالا چار آیات میں خدا کی طرف دعوت دینے کے سلسلے میں چار طرح کی گفتگو ہوئی ہے گویا اس دعوت کے پروگرام کے چار مرحلے بیان ہوئے ہیں۔ پہلا دعوت دینے والے افراد کے ایمان اور عمل صالح کے لحاظ سے خود سازی کا مرحلہ ہے۔ دوسرا "برائیوں کو نیکیوں سے دور کرنے" کا مرحلہ ہے۔ تیسرا اس طریقہ کار اور روش کو انجام دینے کے لیے اخلاقی مبادیات کے فراہم کرنے کا مرحلہ ہے۔ چوتھا راستے سے رکاوٹوں کے دور کرنے اور شیطانی وسوسوں کا مقابلہ کرنے کا مرحلہ ہے۔ حضرت پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ معصومین علیہم الصلوٰة والسلام اس پروگرام کا بہترین نمونہ عمل تھے، اور جہالت سے معمور اور تاریک ماحول میں اسلام کی جلد ترقی اور اس کے فوراً پنپنے کا اصل راز بھی اسی طرز عمل کو اپنانے میں مضمر ہے۔ آج ماہرین نفسیات نے دوسرے لوگوں پر اثر انداز ہونے کے سلسلے میں کتابیں اور سالے لکھے ہیں لیکن مندرجہ بالا آیات کے مقابلے میں کوئی بھی مضمون یا کتاب آنکھوں میں نہیں جچتی، کیونکہ جس طرزعمل کو اپنانے کی وہ ہدایت کرتے ہیں وہ زیادہ تر ظاہر داری، دوسروں کو بے وقوف بنانے بلکہ فریب کی پالیسی پر مبنی ہوتی ہے جب کہ قرآنی روش ان باتوں سے بالا تر ایمان، تقویٰ اور انسانی اصولوں پر مبنی ہے اور کیا ہی بہتر ہو کہ آج مسلمان اس قرآنی روش کا احیاء کریں۔ آج جب کہ اسلام کی زیادہ سے زیادہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے وہ اس طریقے سے اسے پوری کائنات میں پھیلا دیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہی چیز تفسیر علی بن ابراہیم میں حدیث کی صورت میں بیان ہوئی ہے: ادب اللہ نبیہ فقال، ولا تستوی الحسنة ولا السیّئة ادفع بالتی ھی احسن قال ادفع السیّئة من اساء الیک بحسنتک، حتی یکون الذی بینک وبینہ عدواة کانہ ولی حمیم۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کو آداب بتائے ہیں اور کہا ہے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتیں، لہٰذا برائی کو اچھائی کی روش کے ذریعے دور کر، یعنی جن لوگوں نے تجھ سے برائی کی ہے ان سے اچھائی کر تاکہ جن لوگوں نے تجھ سے دشمنی کی ہوئی ہے وہ تیرے پکے اور سچے دوست بن جائیں۔( بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ، جلد ۴ ،ص ۵۴۹۔)
۲۔ انسان اور و سوسوں کے طوفان
انسان کی سعادت اور رضائے خدا کے حصول کی راہ میں کچھ صعب العبور اور مشکل چوٹیاں بھی موجود ہیں جہاں پر شیطان گھات لگائے بیٹھا ہے کہ اگر انسان وہاں سے اکیلا عبور کرنا چاہے تو ہر گز نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اسے چاہیے کہ وہ خدا کے لطف و کرم کا سہارا لے اور خدا کی آس اور اس کی ذات پر توکل کو ساتھ لے کر ایسے خطرناک راستوں کو عبور کرے۔ طوفان جس قدر شدید ہوتے جائیں خدا کی ذات پر اس کا توکل اور اعتماد بڑھتا جائے اور خدا کے سایہ لطف و کرم میں زیادہ سے زیادہ پناہ لے۔ ایک روایت میں ہے کہ کسی شخص نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دوسرے شخص کی بدگوئی کی اور غصے کی آگ اس کے دل میں بھری ہوئی تھی۔ جب آںحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے سنا تو فرمایا: "انی لاعلم کلمة لو قالہا لذھب عنہ العضب، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم"۔ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر غصے والا انسان اسے زبان پر لائے تو اس کا غصہ کافور ہو جائے گا اور وہ ہے "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم"۔ اس شخص نے عرض کی: "اَمجنوناً ترانی" (آیا آپ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں اور کیا شیطان مجھ میں سما چکا ہے؟) تو آںحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن سے استناد کرتے ہوئے اس آیت کو تلاوت فرمایا: "و اما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ"۔ جب شیطانی وسوسے تمہیں گھیر لیں تو خدا کی پناہ حاصل کرو۔ ( بحوالہ: تفسیر روح المعانی ، جلد ۲۴ ،ص ۱۱۱)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طوفان غضب شیطانی وسوسوں سے اٹھتے ہیں جیسا کہ خواہشات نفسانی کے طوفان بھی وسوسوں کی پیداوار ہوتے ہیں۔ کتاب خصال صدوق میں ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے مسلمانوں کے دینی اور دنیوی فوائد کے چار سو باب تعلیم فرمائے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے: "اذا وسوس الشیطان الی احدکم فلیستعذ باللہ ولیقل اٰمنت باللہ مخلصاً لہ الدین"۔ جب بھی تم میں سے کسی کو شیطان وسوسوں میں ڈالنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ خدا کی پناہ طلب کرے اور کہے: "میں خدا پر ایمان لایا اور میں نے اپنے دین کو اس کے لیے خالص کیا"۔( بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ، جلد ۴ ،ص ۵۵۱۔)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: سجدہ صرف خدا کو کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6درحقیقت، ان آیات سے اس سورہ کے ایک نئے حصّے کا آغاز ہو رہا ہے جس میں توحید، معاد، نبوت اور قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور یہ حقیقت مشرکین کی بتوں کی طرف دعوت کے مقابلے میں ”دعوت الی اللہ“ کا ایک روشن مصداق ہے۔ بات توحید کے مسئلہ سے شروع کی گئی ہے اور آفاقی آیات کے ذریعے لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: رات، دن، سورج اور چاند، پروردگار کی نشانیوں میں سے ہیں (وَ مِنْ آیاتِہِ اللَّیْلُ وَ النَّہارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ) (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جن کی تلاوت یاسماعت کے وقت سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے۔) رات آرام و سکون کا ذریعہ اور دن کی روشنی اور چمک دمک تحرک اور فعالیت کا سبب ہوتی ہے۔ یہی دونوں مل کر منظم اور مرتب طریقے سے انسانی زندگی کے پہیے کو چلا رہے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتا یا کم از کم ایک دوسرے سے بہت زیادہ طویل ہوتا تو تمام ذی روح فنا ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ کرۂ زمین کے جس خطے پر پندرہ دن کے برابر راتیں ہوتی ہیں، وہ کسی بھی مخلوق کے لیے کسی صورت میں بھی قابل سکونت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کی سرد اور تاریک راتوں میں سب چیزیں جم جاتی ہیں اور گرم اور جھلس دینے والے دنوں میں ہر چیز جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔ اسی لیے انسان جیسی مخلوق کا وہاں پر زندہ رہنا محال ہے۔ لیکن یہ سورج ہمارے نظام شمسی میں تمام مادی برکات کا سرچشمہ ہے۔ روشنی، گرمی، حرکت، تحرک، بارش کا نازل ہونا، نباتات کا اگنا، پھلوں کا دلکش اور زیبا چراغ ہے اور اپنے مدّ و جزر کے ذریعے بے انتہا برکتیں وجود میں لاتا ہے۔ اسی لیے تو کچھ لوگوں نے آسمان کے ان دونوں روشن چراغوں کے سامنے سجدہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ درحقیقت، انہوں نے عالم اسباب میں مستلزم الاسباب کو دیکھے اور اس کی معرفت حاصل کیے بغیر اسباب کی پرستش شروع کر دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس کے ساتھ ہی کہہ رہا ہے: سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُسے سجدہ کرو جس نے ان کو خلق فرمایا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرنا چاہتے ہو۔ (لاتَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَ لالِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوا لِلّٰہِ الَّذی خَلَقَہُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ) (تشریحی نوٹ: یہاں پر” خلقھن“ میں جمع موٴ نث کی ضمیر لیل ونہار اورشمن وقمر کی طرف رہی ہے .صاحبان اد ب اور مفسرین کے بقول، جمع موٴنث عاقل کی ضمیر کبھی غیر جمع عاقل کی طرف بھی لوٹتی ہے۔ بعض کا نظر یہ ہے کہ یہ ضمیر ” آیات“ کی طرف لوٹ رہی ہے کہ وہ بھی جمع موٴنث غیر عاقل ہیں. اور بعض کا احتمال ہے کہ یہ ضمیر سورج اور چاند کی طرف لوٹ رہی ہے اوروہ بھی ان کی جنس کے لحاظ سے گو یا یہ تمام ستاروں کے لیے ہے جن کے بار ے میں وہ قائل تھے کہ عقل و شعور رکھتے ہیں۔) تم ان برکتوں کے منبع و مرکز اور سرچشمہ کو تلاش کیوں نہیں کرتے؟ اس کے مقدس آستان پر جبہ سائی کیوں نہیں کرتے؟ کیوں ایسی مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو خود قوانین آفرینش کی اسیر ہے؟ ان میں تو طلوع بھی ہے اور غروب بھی، عروج بھی ہے اور زوال بھی اور یہ ہمیشہ تبدیلیوں کا محور چلی آ رہی ہے۔ کسی ایسے کی تلاش کرنی چاہیے جو قوانین کا خالق بھی ہو اور ان پر حاکم بھی، جس میں غروب و زوال نہ ہو اور تغیر و تبدل جس کی ذات کبریائی تک نہ پہنچ سکتے ہوں۔ سورج اور چاند چونکہ عالم طبیعت کا حصہ ہیں اس طرح سے شرک اور بت پرستی کے ایک شعبے کی نفی کی جا رہی ہے اور انہیں سب کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان مخلوقات کے خالق کا سراغ لگاؤ، معلوم پر ہی نہ رک جاؤ بلکہ علت العلل کی تلاش کرو۔ درحقیقت، اس آیت میں سورج، چاند، رات اور دن پر جو یکساں نظام حاکم ہے، اس کے ذریعے خداوند عالم کی وحدنیت اور یگانگت پر استدلال کیا گیا ہے اور اس کی خالقیت اور حاکمیت کو اس کی عبادت کا لازمہ بتایا گیا ہے: ”إن کنتُم إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ“ کا جملہ درحقیقت، اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ اگر خدا کی عبادت کا قصد رکھتے ہو تو اس کے غیر کی عبادت چھوڑ دو اور کسی بھی چیز کو اس کی عبادت میں شریک قرار نہ دو۔ کیونکہ اس کی عبادت کبھی بھی دوسروں کی عبادت کے ساتھ نہیں ملائی جا سکتی۔ پھر قرآن فرماتا ہے کہ اگر یہ منطقی دلیل بھی ان کی افکار و عقول کے لیے مؤثر نہ ہو اور اس کے باوجود وہ بتوں اور مجازی معبودوں کی عبادت میں جتے رہیں اور معبودِ حقیقی کو فراموش کر دیں اور ”اگر عبادت خدا کے بارے میں تکبر کا اظہار کریں، تو ہرگز نہ گھبرا کیونکہ مقرب فرشتے اس کی بارگاہ میں شب و روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور کبھی اس کی عبادت سے نہ تنگ آتے ہیں اور نہ ہی تھکاوٹ کا اظہار کرتے ہیں“ (فَإِنِ اسْتَکْبَرُوا فَالَّذِینَ عِنْدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُونَ لَہُ بِاللَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ہُمْ لا یَسْأَمُونَ) ( تشریحی نوٹ: ” لایساٴمون“، ”سئامت “ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے مسلسل کام کرتے کرتے تھک جانا اور ضمنی طور پر ” فان استکبروا “ کا جملہ ،جملہ شرطیہ ہے جس کی جزا محذوف ہے اور تقدیری طور پر یوں ہے: ” فان استکبروا من عبادة اللہ و توحیدہ لا یضرہ شیئا ً“۔) اگر جاہل اور نادانوں کا ایک گروہ اس کی پاک ذات کو سجدہ نہیں کرتا تو کیا ہوا، یہ وسیع کائنات مقرب فرشتوں سے معمور ہے جو ہمیشہ رکوع، سجود، حمد اور تسبیح میں مصروف ہیں اور وہ پھر یہ کہ اس پاک ذات کو تو ان فرشتوں کی عبادت کی بھی ضرورت نہیں بلکہ انہیں اس کی عبادت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس عالم امکان میں جو بھی اعزاز و کمال ہے، سب اس کی عبودیت کے زیر سایہ ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت، آیات سجدہ میں سے ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پہلی آیت کے آغاز ”تعبدون“ سے واجب ہے یا دونوں آیات کے اختتام ”وہم لایسأمون“ پر؟ تو اس سلسلے میں فقہائے اہل سنت میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات جن میں شافعی اور مالک شامل ہیں، نے پہلے قول کو اور بعض، کہ جن میں ابو حنیفہ اور احمد بن حنبل شامل ہیں، نے دوسرے کو ترجیح دی ہے، لیکن علماء امامیہ کے مطابق ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کی روشنی میں سجدے کا مقام ”تعبدون“ ہے اور اسی جگہ پر قرآن کا سجدہ واجب ہے۔ لا إلہَ إلّا اللّٰہ حقّاً حقّاً، لا إلہَ إلّا اللّٰہ ایماناً و تصدیقاً، لا إلہَ إلّا اللّٰہ عبودیةً و رقّاً، سجدت لک یا ربّ تعبّداً و رقّاً، لا مستنکفاً و لا مستکبراً، بل أنا عبد ذلیل خائف مستجیر (بحوالہ: وسائل الشیعہ“ جلد ۴ ،ص ۸۸۴ ( باب ۴۶ ۔ ( ابواب قرائت القرآن سے دوسری حدیث )۔ ایک بار پھر قرآن توحید پر مشتمل آیات کی طرف لوٹتا ہے جو مسئلہ معاد کا پیش خیمہ ہے۔ اگر پہلی آیت میں سورج، چاند اور آسمانی آیات کے بارے میں گفتگو تھی تو یہاں پر ارضی اور زمینی نشانیوں کا تذکرہ ہے۔ ارشاد فرماتا ہے: اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو خاشع و خشک اور بے حرکت پاتے ہو تو جب ہم اس پر بارش کے حیات بخش قطرے بھیجتے ہیں تو وہ حرکت میں آ جاتی ہے اور نشوونما کرنا شروع کر دیتی ہے (وَ مِنْ آیاتِہِ أَنَّکَ تَرَی الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَاءَ اھْتَزَّتْ وَ رَبَتْ)۔ بے حس و حرکت، خشک اور مردہ زمین اور اس کے یہ تمام آثارِ حیات اور گوناگوں جلوے کہاں؟ کون سی قدرت ہے جو بارش کے چند قطرے برسا کر مردہ زمین میں اس قدر تحرک اور زندگی پیدا کر دیتی ہے؟ یہ سب کچھ اس خدا کے بے انتہا علم اور بے پایاں قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے وجودِ ذی جود کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ اس واضح ترین توحیدی مسئلے یعنی زندگی کے مسئلے، کے جس کے اسرار اب بھی بہت سے عظیم دانشوروں سے پوشیدہ ہیں، سے خوبصورت طریقے سے گریز کرتے ہوئے معاد کے مسئلے کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: بے شک جس ذات نے اس مردہ زمین کو زندہ کیا ہے وہی مردوں کو بھی قیامت کے دن زندہ کرے گی (إِنَّ الَّذِی أَحْیَاہَا لَمُحْیِ الْمَوْتَی)۔ جی ہاں، ”وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے“ (إِنَّهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر)۔ اس کی قدرت کے دلائل ہر جگہ ظاہر اور اس کی نشانیوں کو ہر سال اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو، پھر معاد میں کیوں شک و شبہ کا اظہار کرتے ہو اور اسے محال سمجھتے ہو؟ کس قدر نادانی، جہالت، غفلت اور بے خبری کا شکار ہو؟ ”خاشعة“، ”خشوع“ کے مادہ سے ہے اور دراصل اس انکساری کو کہتے ہیں جس میں ادب کے پہلو کو مدنظر رکھا جائے۔ خشک زمین کے بارے میں ایسی تعبیر کا استعمال دراصل ایک طرح کا کنایہ ہے۔ جی ہاں! جب زمین خشک اور پانی سے محروم ہوتی ہے تو ہر قسم کی نباتات اور پھولوں پھلوں سے عاری ہوتی ہے، بالکل ایسے جیسے ایک خاضع و خاشع انسان یا بے جان مردہ ہوتا ہے۔ لیکن جونہی اس پر بارش برسی، تو اس نے بھی نئی زندگی حاصل کرنا شروع کر دی اور اس میں تحرک اور نشوونما شروع ہو گئی۔ ”ربت“، ”ربو“ (بر وزنِ غلو) کے مادہ سے ہے جس کا معنی افزائش اور نشوونما ہے۔ اور ”ربا“ (سود) بھی اسی مادہ سے ہے کیونکہ ربا خوار (سود خوار) اپنا قرضہ اصل زر سے افزائش اور اضافے کے ساتھ واپس لیتا ہے۔ ”اھتزت“، ”ھز“ (بر وزنِ حظ) کے مادہ سے ہے جس کا معنی ”زبردست حرکت“ ہے۔ معاد جسمانی کے اثبات اور نباتات کے ذریعے اس پر استدلال کی تفصیل ہم نے تفسیرِ نمونہ کی اٹھارہویں جلد کے آخری اور سورۂ یٰسین کے اختتام پر درج کی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: آیات حق کی تحریف کرنے والے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں پروردگارِ عالم کی آیات اور نشانیوں کا ذکر تھا، اب ان آیات میں ان لوگوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے جو آیاتِ توحید کی تحریف کرتے ہیں اور لوگوں کو غافل و گمراہ کرتے ہیں۔ خدا فرماتا ہے: جو لوگ کہ ہماری آیات میں تحریف کرتے ہیں وہ ہم سے چھپ نہیں سکیں گے (إِنَّ الَّذینَ یُلْحِدُونَ فی آیاتِنا لایَخْفَوْنَ عَلَیْنَا)۔ ہو سکتا ہے وہ لوگوں کو مغالطے میں ڈال دیتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی ان بداعمالیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے خود کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لیتے ہوں لیکن ہم سے تو اپنا ایک تھوڑا سا عمل بھی نہیں چھپا سکتے ہیں۔ ”یلحدون“، ”الحاد“ کے مادہ سے ہے جو دراصل ”لحد“ (بر وزن ”عہد“) سے لیا گیا ہے اور ”لحد“ اس گڑھے کو کہتے ہیں جو قبر کے اندر ایک طرف مردے کو سلانے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ بعد ازاں ہر اس کام کو ”الحاد“ کہا جانے لگا جو میانہ روی سے نکل کر افراط اور تفریط کا شکار ہو جائے۔ ”شرک، بت پرستی، کفر اور بے دینی“ کو بھی اسی وجہ سے ”الحاد“ کہا جاتا ہے۔ ”آیاتِ الٰہی میں الحاد“ سے مراد توحید اور معاد کے دلائل میں وسوسے ڈالنا ہے جو پہلے کی آیات میں ”ومن آیاتہ“ کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔ یا پھر تمام آیات مراد ہیں خواہ وہ تکوینی ہوں یا تشریعی، جو کہ قرآنِ مجید اور آسمانی کتابوں میں نازل ہو چکی ہیں۔ یہ آیت موجودہ دور میں دنیا بھر کے اُن مادی اور الحادی مکاتب فکر کے بارے میں بھی ہے جو دنیا کے لوگوں کو توحید اور معاد سے منحرف کرتے رہتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ دین جہالت اور خوف کی پیداوار ہے، کبھی کہتے ہیں کہ اقتصادی عوامل نے دین کو جنم دیا ہے، اور کبھی کچھ۔ لوگ مادی عوامل کو دین کی پیدائش کا سبب بتاتے ہیں۔ قرآن مجید ان تمام چیزوں کو اسی سلسلہ گفتگو میں ایک واضح موازنے کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ”آیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو بروزِ قیامت ایمان کے زیرِ سایہ نہایت امن و اطمینان کے ساتھ عرصۂ محشر میں قدم رکھے گا؟“ (اَفَمَنْ یُلْقی فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَنْ یَاْتی آمِناً یَوْمَ الْقِیامَةِ)۔ جن لوگوں نے شک اور فساد کی آگ بھڑکا کر لوگوں کے ایمان کو جلا کر خاکستر کر دیا، اس دن انہیں خود کو بھی لقمۂ آتش بننا ہو گا، اور جن لوگوں نے ایمان کے زیرِ سایہ عالمِ بشریت کے لیے امن و امان مہیا کیا ہے، انہیں قیامت کے دن بھی انتہائی اطمینان اور سکون کا ماحول میسر ہونا چاہیے۔ تو کیا اس دن ہمارے اعمال جسمانی صورت اختیار نہیں کر لیں گے؟ اگرچہ بعض مفسرین نے آیت کے اس حصے کا مصداق ابوجہل اور ان کے مقابل جنابِ حمزہ اور حضرتِ عمار یاسر کو قرار دیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ صرف اس مصداق کی تطبیق ہی ہے، آیت کا مفہوم وسیع ہے جس میں وہ بھی اور دوسرے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ جہنمیوں کے بارے میں ”القاء“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں وہاں پر از خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہو گا، جب کہ بہشتیوں کے بارے میں ”یاتی“ (آنا) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے جو اُن کے احترام، ارادے کی آزادی اور امن و سکون کے انتخاب کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں دوزخ کے مقابلے میں بہشت کو ہونا چاہیے، جس میں اس عذاب سے امان ہو گی جو کہ دوزخ میں موجود ہو گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن سب سے اہم مسئلہ یہی امن اور اطمینان و سکون کا ہو گا۔ جب کسی کی ہدایت سے مایوس ہو کر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں جو تمہارا جی چاہے کرو، چنانچہ اسی آیت میں اس سلسلے میں انہیں بھی خطاب کر کے یہی کہا گیا ہے: جو تمہارا جی چاہے کرو (اعْمَلُوا ما شِئْتُمْ)۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ”خدا تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے“ (إِنَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیرٌ)۔ ظاہر ہے کہ یہ امر ان کی آزادیٔ عمل یا کسی کام کو ضروری طور پر انجام دینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ انہیں اس بارے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ ان کے کانوں میں کوئی بھی حق بات مؤثر واقع نہیں ہوتی۔ یہ ایسی بامعنی دھمکی ہے کہ جس میں سزا کا وعدہ بھی ساتھ ساتھ موجود ہے، کیونکہ حساب کا محفوظ رکھنا اور اعمال پر نگاہ رکھنا بھی اسی غرض کے لیے ہے۔ بعد کی آیت میں توحید اور معاد کے بجائے موضوعِ سخن قرآن اور نبوت کو بنایا گیا ہے اور ضدی مزاج اور متعصب کفار کو ایک بار پھر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور جب لوگ اس ذکر اور خدا کی یاد دلانے والی چیز (قرآن مجید) کے اپنے پاس آ جانے کے بعد کافر ہو گئے وہ ہم سے چھپ نہیں پائیں گے (إِنَّ الَّذینَ کَفَرُوا بِالذِّکْرِ لَمَّا جاءَھُمْ)۔ ”قرآن“ پر ”ذکر“ کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہ انسان کو ہر چیز سے پہلے بیدار کرتا اور اسے یاد دلاتا ہے اور جن حقائق کو انسان نے اجمالی طور پر خداداد فطرت کے ذریعے دریافت کیا ہے اس کی مکمل وضاحت اور مفصل تشریح کرتا ہے۔ اس قسم کی تعبیر قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی آ چکی ہے، جن میں سے ایک سورۂ حجر کی نویں آیت ہے، ارشاد ہوتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَہُ لَحافِظُون۔ ہم نے ہی اس ذکر اور یادآوری کو نازل کیا ہے اور ہم ہی یقینی طور پر اس کی حفاظت کریں گے۔ اس کے بعد قرآن مجید کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: یقیناً یہ ناقابلِ شکست کتاب ہے (وَ إِنَّہُ لَکِتابٌ عَزیز)۔ یہ ایسی کتاب ہے جس کی مثال لانا کسی کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی غالب آ سکتا ہے۔ یہ ایک بے نظیر کتاب ہے جس کی منطق پختہ اور واضح ہے، جس کے دلائل ٹھوس اور محکم ہیں، جس کی تعبیریں مربوط اور گہری ہیں، جس کی تعلیمات اصولی اور ثمرآور ہیں اور جس کے احکام و فرامین ہر دور میں انسان کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔ پھر اس کتاب کی ایک اور واضح صفت اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کسی قسم کا باطل نہ تو اس کتاب کے آگے سے آ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے (لا یَاْتیہِ الْباطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ لا مِنْ خَلْفِہِ). کیونکہ یہ ”خداوندِ حکیم و حمید“ کی طرف سے نازل کی گئی ہے (تَنْزیلٌ مِنْ حَکیمٍ حَمید)۔ وہ ایسا خدا ہے کہ جس کے تمام افعال حکمت پر مبنی ہیں اور نہایت ہی کمال و درستی کے حامل ہیں، اسی لیے وہ تمام حمد و ستائش کا مستحق ہے۔ ”لا یأتیہ الباطل ...“ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، جن میں سے زیادہ جامع یہ ہے کہ کسی قسم کا باطل، کسی لحاظ سے اور کسی طریقے سے قرآن کے پاس نہیں بھٹک سکتا۔ نہ تو اس کے مفاہیم میں کوئی تناقض گوئی ہے اور نہ سابقہ علوم اور کتب سے اس کے خلاف کوئی چیز ملتی ہے اور نہ ہی آئندہ کی علمی دریافتیں اس کے برخلاف ہوں گی۔ نہ تو کوئی شخص اس کے حقائق کو باطل کر سکتا ہے اور نہ ہی کبھی منسوخ کر سکتا ہے۔ اس کے معارف، قوانین، نصائح اور خبروں میں نہ اب کوئی تضاد ہے اور نہ ہی آئندہ ظاہر ہو گا۔ کوئی آیت بلکہ کوئی کلمہ نہ اس سے کم ہوا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس پر اضافہ کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، تحریف کرنے والوں کے ہاتھ اس کے بلند دامان تک نہ پہنچ سکے ہیں اور نہ ہی پہنچ پائیں گے۔ درحقیقت یہ آیت سورہ حجر کی آیت ۹ کی دوسری تعبیر ہے جس میں کہا گیا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہُ لَحافِظُونَ "ہم ہی نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے" (تشریحی نوت: اسی تفسیر کواجمالی طورپر زمخشر ی نے اپنی تفسیر کشاف میں اپنا یا ہے اور تفسیر المیزان میں بھی علامہ طبا طبائی کے اسی طرح کے الفاظ ہیں جبکہ بہت سے مفسرین نے ” باطل “ کے لفظ کومحدود کردیاہے اوراسے ” شیطان یاتحریف کرنے والا یاجھوٹ وغیرہ کے معنی میں لیا ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفرصادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں یوں بیان ہوا ہے: انہ لیس فی اخبارہ عما مضی باطل ولافی اخبارہ عما یکون فی المستقبل باطل نہ تو اس کی گزشتہ خبروں میں باطل ہے اور نہ ہی مستقبل کی خبروں میں باطل ہو گا (البیان انہی آیات کے ذیل میں)۔ تو واضح ہے کہ یہ سب اس آیت کے وسیع مفہوم کا مصداق ہیں۔خوب غور کیجئے گا۔) جو ہم کہہ چکے ہیں، اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ”من بین یدیہ ولا من خلفہ“ کا جملہ اس کے آفاقی ہونے کے لیے کنایہ ہے، یعنی کہیں سے بھی اور کسی طرف سے بھی بطلان اور خرابی اس کے پاس نہیں آئی اور نہ ہی آ سکتی ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے اسے ”زمانہ حال“ اور ”زمانہ استقبال“ کے لیے کنایہ سمجھا ہے، جو درحقیقت، اس کے پہلے وسیع مفہوم کا ایک مصداق ہے۔ لفظ ”باطل“ کے بارے میں راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ یہ "حق" کا نقطہٴ مقابل ہے۔ علماء نے کبھی اس کا ایک مصداق بیان کیا ہے، جیسے: شرک، شیطان، فنا ہونے والی موجودات، اور جادوگر اور شجاع اور پہلوان شخص کو اس لیے ”باطل“ کہتے ہیں کہ وہ اپنے مدمقابل کو باطل کر دیتا ہے، یا میدان سے باہر نکال دیتا ہے یا پھر قتل کر دیتا ہے۔ بہرحال، آیت کا ظاہر مطلق ہے اور "باطل" کے مفہوم کو اس کے خاص مصداق میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ آیت کا آخری حصہ ”تنزیل من حکیم حمید“ درحقیقت اس بات کی واضح اور روشن دلیل ہے کہ باطل کسی بھی شکل و صورت میں اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ باطل تو ان باتوں تک پہنچ پاتا ہے جو کسی انسان سے بیان ہوئی ہوں، جو کسی محدود علم اور معین کمال کے مالک سے بیان ہوئی ہوں۔ لیکن جس کا علم اور حکمت لامحدود ہوں، اور خود تمام کمالات کا جامع ہو، اور ایسے کمالات اسے حمد و ستائش کا مستحق بنا رہے ہوں، تو اس کی باتوں میں تناقص، تضاد اور اختلاف کہاں پایا جا سکتا ہے؟ نہ تو اس پر خط نسخ کھینچا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے باطل کیا جا سکتا ہے، نہ تحریف کا ہاتھ اس تک پہنچ سکتا ہے، اور نہ ہی گزشتہ علوم اور کتابوں کے حقائق کے ساتھ اس کا تضاد ہو سکتا ہے، اور نہ ہی موجودہ اور آئندہ زمانے میں علمی انکشافات کے ساتھ اس کا تضاد ہو سکتا ہے۔ بہرحال، یہ آیت ان واضح آیات میں سے ہے جو قرآن میں ہر قسم کی تحریف اور کمی و زیادتی کی نفی کرتی ہیں (قرآن مجید میں تحریف نہ ہونے کے بارے میں مزید تفصیل کے لیے تفسیرِ نمونہ کی جلد ۱۱، سورہٴ حجر کی آیت ۹ ”اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہُ لَحافِظُونَ“ کے ذیل میں بیان ہوئی ہے، اور اس کے مختلف دلائل بیان کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ہونے والے سوالوں کا جواب بھی دیا گیا ہے)۔
ایک سوال کا جواب
ممکن ہے یہاں پر یہ سوال کیا جائے کہ "باطل" کا معنی حق کا مخالف ہے جب کہ آپ نے بھی اور دوسرے مفسرین نے بھی اسے "مبطل" (باطل کرنے والا) کے معنی میں تفسیر کیا ہے۔ ایک ظریف نکتے کی طرف توجہ سے اس کا جواب حاصل کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید یہ نہیں کہتا کہ اس آسمانی کتاب کے بعد باطل وجود میں نہیں آئے گا بلکہ کہتا ہے کہ کوئی باطل اس کے پاس نہیں آئے گا (یاتیہ میں ضمیر کی طرف توجہ کریں) اور اس قول کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اس کے پاس آ کر اسے باطل نہیں کر سکتی۔ غور کیجئے گا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قرآن ہدایت اور شفاء ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6چونکہ کفار مکہ دین اسلام اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زبردست مقابلے کا آغاز کر چکے تھے اور گزشتہ آیات میں توحید کے دلائل تھے نیز ان کے الحاد و کفر اور آیاتِ الٰہی کی تکذیب کی خبر تھی۔ لہٰذا زیرِ تفسیر ان آیات سے پہلی آیت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلی کی خاطر اور ان دوسرے مسلمانوں کو استقامت اور پامردی کا درس دینے کے لیے نازل ہوئی ہے جنہیں دشمن کے زبردست دباؤ کا سامنا ہو۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: ناروا نسبتیں جو تیری طرف دی جاتی ہیں وہی تجھ سے پہلے پیغمبروں کی طرف دی جا چکی ہیں (ما یُقالُ لَکَ إِلَّا ما قَدْ قِیلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ)۔ اگر آپ کو ساحر کہتے ہیں تو آپ سے پہلے انبیاء کو بھی یہی کچھ کہتے تھے، اگر آپ کو جھوٹا کہتے ہیں تو وہ بھی اس تہمت سے محفوظ نہیں تھے۔ خلاصہ کلام یہ کہ نہ تو آپ کی طرف سے توحید اور دینِ حق کی طرف دعوت کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی ان کی طرف تہمت اور تکذیب۔ لہٰذا آپ استقامت سے اپنے فریضے کو انجام دیجئے اور ان کی باتوں کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اس جملے سے مراد یہ ہے کہ خدا کی طرف سے جو باتیں آپ کو بتائی جاتی ہیں وہی جو آپ سے پہلے انبیاء کو بتائی گئی تھیں ۔ ( تشریحی نوٹ: یہ تفسیر ، کتاب "مجمع البیان“ اور کتاب تفسیر کبیر فخر رازی میں ایک احتمال کے طور پر بیان ہوئی جب کہ خود انہوں نے بھی پہلی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔) لیکن بعد کے جملے اور آئندہ کی آیات کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔ پھر آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: بے شک تیرا پروردگار بخشش اور دردناک سزا کا مالک ہے (إِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَ ذُو عِقَابٍ أَلِیمٍ)۔ رحمت اور بخشش ان لوگوں کے لیے ہے جو قرآن کو تسلیم کرتے ہیں اور دردناک عذاب ان کے لیے ہے جو جھٹلاتے، تہمتیں لگاتے اور مخالفت پر کمربستہ ہو جاتے ہیں اور درحقیقت یہ جملہ مومنین کے لیے خوشخبری اور تشویق ہے اور کافروں کے لیے تنبیہ اور دھمکی ہے۔ ”مغفرت“ کو ”عقاب“ پر مقدم کرنے کی وجہ، دوسرے مقامات کی طرح ”غضب پر رحمت کی سبقت“ پر دلیل ہے۔ جیسا کہ دعا کا جملہ ہے ”یَا مَنْ سَبَقَتْ رَحْمَتُہُ غَضَبَہُ“ (بحوالہ: دع اجوشن کبیر فصل ۱۹ جملہ ۸)۔ بعد کی آیت میں ان متعصب اور ضدی مزاج لوگوں کے عجیب و غریب بہانوں کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ وہ کہتے تھے: قرآن عجمی زبان میں کیوں نازل نہیں ہوتا تاکہ ہم کچھ زیادہ اہمیت دیتے اور غیر عرب بھی اس سے زیادہ استفادہ کرتے؟ بظاہر ان کا مقصد یہ تھا کہ عوام الناس اس سے کچھ نہ سمجھ سکیں، اس طرح سے انہیں یہ کہنے کی بھی ضرورت نہ رہے کہ: لا تَسْمَعُوا لِھٰذَا الْقُرْآنِ وَ الْغَوْا فِیہِ (حم السجدہ: ۲۶)۔ یہ قرآن نہ سنو اور شور مچا کر اسے بے اثر بنا دو۔ (تشریحی نوٹ: فخر رازی کبیر میں ہے: نقلوا فی سبب نزول ھذہ الایة ان الکفار لاجل التعنت قالوا لو نزل القراٰن بلغة العجم۔ یعنی: اس آیت کی شانِ نزول کے بار ے میں اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ بہانہ جو کفار نے کہا کہ اگر یہ قرآن عجمی زبان میں نازل ہوتا تو بہتر ہوتا)۔ اسی موقع پر قرآن مجید ان کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے: اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو وہ یقینا یہی کہتے کہ اس کی آیات واضح نہیں ہیں؟ یہ اس قدر پیچیدہ کلام کیوں ہے؟ یہ تو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے (وَ لَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآنًا أَعْجَمِیًّا لَقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آیاتُہُ)۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ عجیب بات ہے کہ قرآن عجمی اور پیغمبر عربی“ (ءَ أَعْجَمِیٌّ وَ عَرَبِیٌّ) یا کہتے ”عجمی کتاب اور عربی لوگ!“ اب جبکہ یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہو چکی ہے اور سب لوگ اس کے مفاہیم اور مطالب کو اچھی طرح سمجھ بھی سکتے ہیں اور قرآن کی دعوت اور اس کے پیام کی گہرائی تک بھی پہنچ سکتے ہیں، پھر بھی وہ زور زور سے کہتے ہیں ”اس قرآن کو مت سنو اور شور شرابا برپا کر کے لوگوں کو اس کے سننے سے روک دو“۔ خلاصہ کلام یہ کہ وہ دل کے ایسے بیمار ہیں کہ جو بھی منصوبہ بنایا جاتا اور پروگرام مرتب کیا جاتا، اسی پر اعتراض کرتے اور طرح طرح کے بہانے بناتے۔ اگر عربی ہو تو سحر اور جادو کہتے اور اگر عجمی ہو تو اپنی سمجھ سے بالاتر قرار دیتے، اگر عربی اور عجمی زبانوں سے مل کر بنا ہوتا تو اسے غیر موزوں کہتے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے ”ءاعجمی و عربی“ کے جملہ کا اسی معنی میں ترجمہ کیا ہے یعنی عجمی اور عربی سے ملا کر اس کی تفسیر کی ہے۔) یاد رہے کہ ”أعجمی“، ”عجمہ“ (بر وزن ”لقمہ“) عدمِ فصاحت اور گفتگو میں ابہام کے معنی میں ہے۔ اور ”عجم“ غیر عرب کو کہتے ہیں کیونکہ عرب ان کی زبان کو اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ اور ”أعجم“ اس شخص کو کہتے ہیں جو مطالب کو صحیح معنوں میں ادا نہ کر سکے (خواہ وہ عرب ہو یا غیر عرب)۔ بنابریں، ”أعجمی“ کا لفظ ”أعجم“ ہے کہ جس کے ساتھ یاء نسبت ملی ہوئی ہے۔ پھر قرآن مجید پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: کہہ دے کہ یہ آسمانی کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت اور شفاء کا سبب ہے جو ایمان لا چکے ہیں (قُلْ ھُوَ لِلَّذِینَ آمَنُوا ہُدًی وَ شِفَاءٌ)۔ ”اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بہراپن ہے“ اور اسے وہ سمجھ نہیں پاتے (وَ الَّذِینَ لا یُؤْمِنُونَ فِی آذَانِہِمْ وَقْرٌ)۔ ”اور نابینا ہونے کی وجہ سے اسے نہیں دیکھتے“ (وَ ھُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی) ۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے مندرجہ بالا جملے کا یوں معنی کیا ہے کہ ”قرآن ایسے لوگوں کی عدم بصیرت کا سبب بن جاتا ہے“ جب کہ راغب نے مفردات میں اور ابن منظور نے لسان العرب میں”عمی علیہ“ کا معنی ”اشتبہ حتی صار بالاضافة الیہ کالاعمٰی“ یعنی اس پر بات اس قدر مشتبہ ہوجاتی ہے گویا و ہ اس سے اندھا ہے۔ بنابریں، صحیح معنی وہی ہے جو ہم نے متن میں بیان کیا ہے۔) ”یہ بالکل ان لوگوں کی طرح ہیں کہ جنہیں دور سے پکارا جاتا ہے“ (أُولٰئِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَکَانٍ بَعِیدٍ)۔ اور معلوم ہے کہ ایسے لوگ نہ تو سنتے ہیں اور نہ ہی دیکھتے ہیں۔ جی ہاں! راہ ڈھونڈنے اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے صرف نور ہی کافی نہیں ہوتا، چشمِ بینا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح تعلیم حاصل کرنے کے لیے صرف صاحب علم اور فصیح مبلغ کا وجود ہی کافی نہیں ہوتا، سننے والے کان بھی اشد ضروری ہیں۔ بارش کے قطروں کی لطافت اور اس کی حیات بخش تاثیر میں ذرہ برابر شک نہیں، لیکن: در باغ سبزہ روید و در شوره زار خس باغ میں سبزہ اگتا ہے مگر کلر اور شور والی زمین خس و خاشاک۔ جو لوگ حق کی جستجو میں قرآن کے پاس آئے، اس سے ہدایت اور شفا پا جاتے، ان کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا علاج قرآنی شفاخانہ سے ہو جاتا، پھر وہ رخت سفر باندھ کر اور قرآنی نور ہدایت کے پرتو میں کوئے دوست کی طرف بڑی تیزی سے چل پڑتے۔ لیکن ضدی مزاج اور ہٹ دھرم متعصب اور حق و حقیقت کے ازلی دشمن جنہوں نے پہلے ہی دن سے انبیاء کی مخالفت پر کمر باندھی ہوئی تھی، وہ اس سے کیا فائدہ حاصل کر سکتے تھے؟ وہ تو ایسے اندھوں اور بہروں کے مانند تھے جو ایک دور دراز خطے میں رہتے ہوں۔ اس وجہ سے گویا اُن کے بہرے پن اور اندھے پن میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا تھا۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جو شخص کوئی بات سمجھتا ہے اسے اہلِ لغت "أنت تسمع من قریب" کہتے ہیں یعنی تم نزدیک سے سنتے ہو اور جو نہیں سمجھتا اسے کہتے ہیں "أنت تنادی من بعید" یعنی تجھے دور سے بلایا جاتا ہے کہ اگر صرف ہمہمہ کو سنتے ہو تو اس کے مطالب کو نہیں سمجھ پاتے ہو (بحوالہ: تفسیر قرطبی اسی آیت کے ذیل میں۔) قرآن مجید انسانیت کے جانکاہ درد اور دُکھ کے لیے کس طرح شفا اور دوا ہے؟ اس سلسلے میں ہم تفسیرِ نمونہ کی بارہویں جلد، سورۂ بنی اسرائیل کی ۸۲ ویں آیت کی تفسیر میں تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔ بعد کی آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اوائلِ اسلام کے مومنین کی تسلی اور دلجمعی کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس سرپھری قوم کی ہٹ دھرمی، انکار اور حیلے بہانوں سے آپ گھبرائیں نہیں، یہ ان کا پرانا طریقۂ کار ہے: ”ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب عطا کی، اس میں اختلاف پیدا ہو گیا، کچھ نے اسے قبول کیا اور کچھ نے انکار کر دیا“ (وَ لَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیہِ)۔ اگر آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم ان ضدی اور ہٹ دھرم دشمنوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتے تو یہ صرف اس لیے ہے کہ تربیت کی مصلحتوں کا تقاضا یہی ہے کہ وہ آزاد ہوں اور جہاں تک ممکن ہو اتمامِ حجت ہو جائے۔ ”اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے اس بارے میں کوئی فرمان صادر نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا“ اور خدائی عذاب بہت جلد انہیں آ لیتا (وَ لَوْلَا کَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ)۔ یہ خدائی فرمان انسانی ہدایت کی مصلحت اور اتمامِ حجت کے طور پر تھا۔ یہ طریقۂ کار تو سابقہ امتوں میں بھی رہا ہے اور آپ کی امت میں بھی جاری ہے۔ لیکن ابھی تک انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا اور تیرے قرآن میں شک کرتے ہیں اور شک بھی ایسا جس میں بدگمانی شامل ہے (إِنَّہُمْ لَفِی شَکٍّ مِنْہُ مُرِیبٍ)۔ ”مریب“، "ریب" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایسا شک جس میں بدگمانی شامل ہوتی ہے۔ انہیں نہ صرف آپ کی باتوں میں شک ہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان میں مخالف قرائن بھی موجود ہیں جو بدگمانی کا سبب بنتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس احتمال کا ذکر کیا ہے کہ آخری جملہ یہودیوں اور موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے بارے میں ہے یعنی اس قوم کو تو اب بھی تورات میں شک و شبہ ہے، لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے، لہٰذا بظاہر وہی پہلی تفسیر بہتر ہے۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ یہ آیت بعینہ سورۃ ہودکی آیت ۱۱۰ کے مانند ہے جو گر چکی ہے۔) زیرِ بحث آخری آیت میں قرآن مجید نے انسانی اعمال کے بارے میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے: مومنین قرآن سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بے ایمان لوگ فیضِ الٰہی کے چشمے سے محروم ہیں اور یہ بات قرآن میں بار بار آئی ہے۔ یہی اس بحث کا تتمہ اور تکمیلی حصہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”جو شخص نیک اعمال بجا لائے ان کا فائدہ خود اس کے لیے ہے اور جو شخص برائی کرے وہ بھی اپنے آپ سے برائی کرے گا اور تمہارا پروردگار ہرگز بندوں پر ظلم نہیں کرتا“ (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہِ وَ مَنْ أَسَاءَ فَعَلَیْہَا وَ مَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیدِ)۔ بنابریں، اگر وہ اس کتاب پر اور اس عظیم دین پر ایمان نہ لائیں تو وہ نہ تو خدا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی آپ کو، کیونکہ اچھائی اور برائی اپنے کرنے والے کی طرف پلٹ جاتی ہے اور وہ لوگ خود ہی اپنے اعمال کا میٹھا یا کڑوا پھل کھائیں گے۔
چند اہم نکات: ۱۔ اختیار اور عدالت
”وَ ما رَبُّکَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیْد“ مسئلہ اختیار اور ارادے کی آزادی پر ایک روشن دلیل ہے۔ یہ جملہ اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ خداوندِ عالم نہ تو بغیر وجہ کے کسی کو سزا دیتا ہے اور نہ ہی کسی علت کے بغیر کسی کی سزا میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے سارے کام صرف اور صرف عدالت پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ ظلم و زیادتی کا اصل سبب کسی چیز کا نہ ہونا یا کم ہونا، یا پھر خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل ہوتا ہے اور اس کی ذاتِ اقدس ان تمام امور سے منزہ و مبرّا ہے۔ یہاں پر اور قرآن کے دوسرے مقامات پر ”ظَلَّام“ (بہت ظلم کرنے والا) مبالغے کا صیغہ اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو بغیر دلیل کے خدا سزا دے تو یہ بہت بڑے ظلم کا مصداق بن جاتا ہے کیونکہ اس سے قطعاً اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اس کی مخلوق بہت بڑی تعداد میں ہے اگر ہر شخص پر بھی ذرہ بھر ظلم کرے تو بھی ”ظَلَّام“ کا مصداق پیدا کر لے گا۔ (ان دونوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں)۔ بہرحال، قرآن مجید نے اپنی ان آیاتِ بینات کے ذریعے جبر کے عقیدے کی یکسر نفی کر دی ہے، جو برائی کا سبب، ہر قسم کی خرابی کی تصدیق اور ہر طرح کی ذمہ داری سے پیچھا چھڑانے کا ایک بہانہ ہے۔ ان الفاظ کے ذریعے قرآن مجید نے ہر شخص کو اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور ہر قسم کے عمل کا نتیجہ اس کے بجا لانے والے کو سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت امام رضا علیہ السلام سے آپ علیہ السلام کے کسی ساتھی نے دریافت کیا: ھل یجبر اللہ عبادہ علی المعاصی؟ آیا خدا بندوں کو گناہ پر مجبور کرتا ہے؟ تو امام عالی مقام نے فرمایا: لا، بل یخیّرھم و یمہّلہم حتٰی یتوبوا۔ نہیں، بلکہ انہیں چھوٹ دے دیتا ہے اور مہلت عطا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں۔ اس نے پھر پوچھا: ھل کلّف عبادہ ما لایطیقون؟ کیا بندوں کو اُن کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری دیتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: کیف یفعل ذٰلک و ھو یقول ”وَ ما رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیْد“؟ وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے جبکہ اس نے کہہ دیا ہے کہ تمہارا رب کسی پر بھی ظلم نہیں کرتا۔ امام علیہ السلام نے سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: میرے والد ماجد موسیٰ بن جعفر، اپنے والد جعفر بن محمد سے روایت کرتے ہیں: "من زعم أن اللہ یجبر عبادہ علی المعاصی أو یکلفہم ما لایطیقون، فلا تأکلوا ذبیحتہ، ولا تقبلوا شھادتہ، ولا تصلوا ورائہ، ولا تعطوہ من الزکوٰة شیئاً۔" جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ خدا بندوں کو گناہ پر مجبور کرتا ہے یا انہیں ان کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری دیتا ہے تو اس کے ہاتھ سے ذبح شدہ جانور کا گوشت نہ کھاؤ، اس کی گواہی قبول نہ کرو، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اسے زکوٰة میں سے کچھ نہ دو (یعنی اس پر اسلامی احکام جاری نہ کرو)۔ (بحوالہ: عیون اخبار الرضا؛ منقول از نور الثقلین، جلد ۴، ص ۵۵۵) مندرجہ بالا حدیث سے ضمنی طور پر اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ جبر کا عقیدہ ”تکلیف ما لایطاق“ یعنی طاقت سے زیادہ ذمہ داری کا بھی قائل ہے کیونکہ اگر انسان ایک طرف تو گناہ پر مجبور ہو اور دوسری طرف اس گناہ سے روکا جائے تو یہ بات یقیناً تکلیف ما لایطاق کا مصداق بنتی ہے۔
۲۔ گناہ اور سلب نعمت
امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: وایم اللہ! ما کان قوم قط فی غضّ نعمة من عیش فزال عنہم إلا بذنوب اجترحوھا، لأن اللہ لیس بظلام للعبید خدا کی قسم! کسی بھی قوم سے نعمتیں اس وقت تک نہیں چھینی گئیں جب تک انہوں نے گناہوں کا ارتکاب نہیں کیا، کیونکہ خدا تو اپنے بندوں پر قطعاً ظلم نہیں کرتا۔ پھر فرمایا: ولو أن الناس حین تنزل بہم النقِم، وتزول عنہم النّعم، فزعوا إلی ربھم بصدق من نیّاتھم، وولہ من قلوبھم، لردّ علیہم کل شارد، وأصلح لہم کل فاسد اگر لوگ بلاؤں کے نازل ہونے اور نعمتوں کے سلب ہونے کے موقع پر صدقِ دل کے ساتھ اپنے پروردگار کی بارگاہ کا رخ کریں اور خدا کی محبت سے لبریز دل کے ساتھ اس سے مشکل دور ہونے کی درخواست کریں، تو اللہ انہیں چھینی ہوئی نعمتیں پلٹا دے اور ان کے ہر قسم کے بگڑے امور کی اصلاح کر دے۔(بحوالہ: ۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۸) اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گناہوں کا، سلبِ نعمت کے ساتھ کس حد تک باہمی رابطہ ہے۔
۳۔ اس قدر بہانے کیوں بناتے ہیں؟
اس میں شک نہیں کہ عربی زبان دنیا کی زبانوں سے زیادہ بھرپور اور مستغنی زبان ہے، اور قرآن کی عظمت اس لیے نہیں کہ وہ عربی زبان میں ہے، بلکہ عربی میں اس لیے ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں مبعوث کیا ہے تاکہ پہلے مرحلے میں وہ قوم ایمان لے آئے اور پھر اس کا دین اسی کے ذریعے وسعت اختیار کر جائے۔ لیکن حیلہ گر اور بہانہ جُو افراد بچوں کے مانند ہر روز ایک نئی غیر منطقی بات پیش کیا کرتے تھے اور اپنی بچگانہ اور متضاد باتوں سے واضح کرتے تھے کہ انہیں حق کی تلاش نہیں ہے۔ کبھی تو وہ کہتے ہیں کہ آخر یہ قرآن عربی زبان ہی میں نازل کیوں ہوا ہے؟ کیا بہتر نہیں تھا کہ سب یا کچھ قرآن غیر عربی زبان میں بھی نازل ہوتا تاکہ اس سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے؟ (حالانکہ اس سے ان کا کچھ اور مقصد تھا، اور وہ یہ کہ عرب عوام اس کتاب کی انتہائی زیادہ متاثر کرنے والی جاذبیت سے محروم ہو جائیں)۔ اور اگر ان کی یہ خواہش پوری ہو جاتی تو پھر کہتے کہ یہ کیا تضاد ہے کہ پیغمبر تو عربی اور کتاب غیر عربی؟ ہر روز وہ ان حیلوں بہانوں سے دوسرے لوگوں کو راہِ حق سے روکا کرتے تھے۔ اصولی طور پر "بہانے بنانا" ہمیشہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ انسان کو تکلیف تو کچھ اور ہوتی ہے جس کو وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا اور بات کچھ اور کرتا ہے۔ ان لوگوں کو بھی تکلیف یہی تھی کہ عوام الناس تو اس قرآن کی طرف دیوانہ وار کھنچے چلے جا رہے ہیں اور ان کے مفادات پر زد پڑ رہی ہے، لہٰذا وہ نورِ اسلام کو بجھانے کے لیے ہر حربے سے کام لینے لگے تھے۔ چوبیسویں پارے کی تفسیر مکمل ہوئی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: سب راز اسی کے پاس ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آخری آیت میں یہ بات ہو رہی تھی کہ نیک اور بد اعمال کی بازگشت ان کے انجام دینے والوں کی طرف ہوتی ہے اور ضمنی طور پر روزِ قیامت کی جزا اور سزا کے بارے میں اشارہ تھا۔ اب یہاں پر مشرکین کی طرف سے کیے گئے اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ جس قیامت کے بارے میں تم کہتے ہو، وہ کب آئے گی؟ قرآن مجید ان آیات میں پہلے تو ان کے اس سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ قیامت کے زمانے سے آگاہی خدا ہی کے ساتھ خاص ہے اور ’’اس کا علم صرف خدا کی طرف لوٹ جاتا ہے‘‘ (إِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ)۔ اس سے نہ تو کوئی نبی مرسل آگاہ ہے اور نہ ہی ملکِ مقرّب، اور انہیں آگاہ ہونا بھی نہیں چاہیئے تاکہ سب لوگ ہر لمحے اس کے واقع ہونے کو ممکن سمجھیں اور اس انتظار کا ایک خاص اثر تمام مُکلّفین کے درمیان محفوظ رہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ صرف قیامِ قیامت کے زمانے کا علم ہی خدا کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اس کائنات اور موجوداتِ عالم کے ظاہری اور باطنی رازوں کا علم بھی اسی کے پاس ہے: ’’کوئی پھل اپنے چھلکے سے باہر نہیں نکلتا، کوئی عورت یا مادہ جانور حاملہ نہیں ہوتی اور وضع حمل نہیں کرتی مگر خدا کے علم اور اس کی آگاہی کے ساتھ‘‘ (وَ ما تَخْرُجُ مِنْ ثَمَراتٍ مِنْ اَکْمامِہا وَ ما تَحْمِلُ مِنْ اُنْثی وَ لا تَضَعُ إِلاَّ بِعِلْمِہ)۔ (تشریحی نوٹ: ”من ثمرات“، ”من انثی“ اور”من شہید“ میں ”من“ زائدہ اور تاکید کے لیے آیا ہے۔) نباتات، حیوانات کی دنیا اور عالمِ انسانیت میں جو نطفہ بھی منعقد ہوتا ہے اور ثمر آور ہو کر متولد ہوتا ہے، خداوندِ عالم کے فرمان اور اس کے علم و حکمت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ”اکمام“ (بر وزن ’کم‘) بر وزن ”جن“ کی جمع ہے جس کا معنی وہ چھلکا ہوتا ہے جو پھل کو چھپائے ہوئے ہوتا ہے، اور ”کُم“ (بر وزن ”قُم“) اس آستین کو کہتے ہیں جو ہاتھ کو چھپائے ہوتی ہے، اور ”کُمّہ“ (بر وزن ”قُبّہ“) اس ٹوپی کو کہتے ہیں جو سر کو ڈھانپے ہوتی ہے۔ ( بحوالہ: مفردات راغب) طبرسی ’’مجمع البیان‘‘ میں کہتے ہیں کہ جب انسان اپنے آپ کو لباس میں ڈھانپ لیتا ہے تو اس وقت کہتے ہیں ’’تکمم الرجل فی ثوبہ‘‘۔ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ ”اکمام“ اس چھلکے کو کہتے ہیں جو پھلوں کے اوپر ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے ”وعاء الثمرة“ (میوے کا برتن) سے بھی تفسیر کیا ہے۔(بحوالہ:تفسیرالمیزان اور تفسیر مراغی) ظاہر یہ ہے کہ یہ سب تفسیریں ایک ہی معنی کی طرف پلٹ جاتی ہیں، کیونکہ اس کائنات میں سب سے ظریف اور اہم ترین مسائل میں سے نطفے کا رحم میں انعقاد اور اس کا تولد ہے۔ قرآن پاک نے بھی خاص کر اسی چیز پر زور دیا ہے، خواہ یہ حیوانات میں ہو یا نباتات میں۔ جی ہاں! یہ خدا ہی ہے جو جانتا ہے کہ کون سا نطفہ، کس رحم میں کب منعقد ہو گا اور کب متولد ہو گا؟ کون سا پھل بارآور ہو گا اور کب اپنے چھلکے سے باہر سر نکالے گا؟ پھر فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہیں یا اس کا مذاق اُڑاتے ہیں: ’’جس دن کہ قیامت برپا ہوگی، انہیں خدا پکار کر کہے گا: کہاں ہیں وہ شریک جنہیں تم میرے لیے قرار دیتے تھے؟ تو وہ کہیں گے: خداوندا! ہم نے عرض کر دیا ہے کہ ہم اپنی باتوں پر کوئی گواہ نہیں رکھتے‘‘ (وَ یَوْمَ یُنادیہِمْ اَیْنَ شُرَکائی قالُوا آذَنَّاکَ ما مِنَّا مِنْ شَہیدٍ)۔ (تشریحی نوٹ: ”اذناک“،”ایذان“ کے مادہ سے ہے جس کامعنی اعلان ہے اور” ویوم ینادیھم “ کا جملہ ایک مخذوف سے متعلق ہے جو تقدیراً یوں ہے: اذکر یوم ینادیھم ... ہے۔) (تشریحی نوٹ: اس جملے کی تفسیر میں ایک اور احتمال کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے درمیان میں سے کوئی بھی آج تیر ے شریک کے وجود کی گواہی نہیں دیتا اور وہ سب اس چیز کا انکار کریں گے۔) ہم جو کچھ کہتے تھے وہ سب بےاساس اور بےبنیاد باتیں تھیں۔ ایسی باتیں تھیں جو جہالت، لاعلمی اور اندھی تقلید کا نتیجہ تھیں۔ آج ہمیں اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے کہ یہ سب باطل اور بے بنیاد دعوے تھے۔ اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ اس سے پہلے وہ جن معبودوں کو پکارا کرتے تھے، آج ان میں سے کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا: ’’سب مٹ گئے اور نیست و نابود ہو گئے ہیں‘‘ (وَ ضَلَّ عَنْہُمْ ما کانُوا یَدْعُونَ مِنْ قَبْلُ)۔ اصولی طور پر قیامت کا منظر ان کے لیے اس حد تک وحشتناک ہو گا کہ بتوں کی یادگاریں ان کی نگاہوں اور ذہنوں سے مٹ جائیں گی۔ وہی معبود کہ ایک دن وہ جن کے آستان پر اپنا سر جھکایا کرتے تھے، جن کے لیے قربانی کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ اگر ضرورت پڑ جاتی تو ان کی راہ میں اپنی جان تک کی بازی لگا دیا کرتے تھے اور اپنی مشکلات و مصائب کے دنوں کے لیے انہیں جائے پناہ اور حلّال مشکلات جانتے تھے — وہ سب کے سب سراب کے مانند نیست و نابود ہو جائیں گے۔ جی ہاں! ’’اس دن انہیں معلوم ہو گا کہ کوئی جائے پناہ اور راہِ فرار ان کے لیے موجود نہیں ہے‘‘ (وَ ظَنُّوا ما لَہُمْ مِنْ مَحیص)۔ ”محیص“، ’’حَیْص‘‘ (بر وزن ’’حَیف‘‘) کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے: لوٹنا، رُوگردانی کرنا اور کسی چیز سے علیحدہ ہو جانا۔ اور چونکہ ”محیص“ اسمِ مکان ہے، لہٰذا یہ کلمہ ’’جائے فرار‘‘ اور ’’جائے پناہ‘‘ کے معنی میں بھی آتا ہے۔(بحوالہ:تفسیرنمونہ جلد دہم صفحہ ۲۶۴ پر یہ کلمہ”محص “ کے مادہ کے طور پر ذکر ہوا ہے جس کی اصلاح ہونی چاہیے) ”ظنوا“،’’ظن‘‘ کے مادہ سے ہے، جس کا لغوی طور پر وسیع معنی ہے۔ کبھی یقین کے لیے اور کبھی گمان کے معنی میں آتا ہے، اور زیرِ نظر آیت میں یقین کے معنی میں ہے کیونکہ وہ اس دن یقین پیدا کر لیں گے کہ عذابِ الٰہی سے نہ تو کوئی فرار کا راستہ ہے اور نہ ہی کوئی راہِ نجات۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: یہ کم ظرف انسان
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں مشرکین اور ان کے انجام کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔ اسی مناسبت سے زیرِ نظر آیات میں ضعیف الایمان بلکہ بے ایمان لوگوں کی کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے، جو بڑی وضاحت کے ساتھ ان کوتاہ اندیش اور کم ظرف افراد کی صورتِ حال کو مجسم کر کے پیش کر رہی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: انسان کبھی بھی نیکیوں، مال و دولت اور زندگی کی نعمتیں مانگنے سے نہیں تھکتا (لَا يَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاءِ الْخَيْرِ)۔ اس کی حرص و ہوس کا تنور ہمیشہ گرم ہی رہتا ہے۔ اسے جتنا بھی مل جائے، پھر کہتا ہے: "ھَلْ مِن مَّزِيدٍ"۔ اسے جس قدر بھی دے دیا جائے، پھر بھی سیر ہونے کو نہیں آتا۔ لیکن اگر دنیا اس سے منہ موڑ لے، اس کی نعمتیں زائل ہو جائیں، سختی، تنگ دستی اور فقر و فاقہ اسے دامن گیر ہو جائے تو وہ بالکل مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے (وَإِن مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَؤُسٌ قَنُوطٌ)۔ یہاں پر انسان سے مراد وہ غیر تربیت یافتہ انسان ہیں جن کا دل معرفتِ الٰہی، خدا پر ایمان اور قیامت کی جواب دہی کے احساس کے نور سے منور نہیں ہوا۔ ایسے انسان مراد ہیں جو کائنات کے بارے میں غلط سوچ رکھتے ہیں اور اس مادی دنیا کے چکروں میں پھنس گئے ہیں۔ ان کے پاس ایسی بلند روح نہیں ہے جو اس مادی دنیا کے ماورا کو بھی دیکھ سکے اور اعلیٰ انسانی اقدار کو پرکھ سکے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب دنیا اپنی نعمتیں لے کر ان کے پاس آتی ہے تو وہ خوش و خرم، مسرور اور مغرور ہو جاتے ہیں۔ اور جب دنیا منہ موڑ کر ان سے رخصت ہو جائے تو سخت غمگین اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ نہ تو ان کے پاس کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو انہیں پناہ دے اور نہ ہی کوئی ایسا روشن چراغ اُن کے پاس ہوتا ہے جو ان کے دلوں کو نورِ امید سے منور کر سکے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ لفظ "دُعَاء" کبھی بلانے اور پکارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی کسی چیز کے طلب کرنے کے معنی میں۔ اور زیرِ نظر آیت میں یہ دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ "لَا يَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاءِ الْخَيْرِ" کا معنی یہ ہو گا کہ انسان نیکیوں اور اچھائیوں کے مانگنے سے کبھی نہ ملول ہوتا ہے اور نہ ہی تھکنے میں آتا ہے۔ آیا "یَئُوسٌ" اور "قَنُوطٌ" کا ایک ہی معنی ہے یعنی ناامید انسان؟ یا دو مختلف معانی ہیں؟ نیز ان کا آپس میں کیا فرق ہے؟ اس بارے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ دونوں کا ایک ہی معنی ہے (اور تاکید کے لیے ہے)۔(بحوالہ:تفسیر المیزان جلد ۷ ،ص ۴۲۶ ؛اسی آیت کے ذیل میں)۔ بعض کہتے ہیں کہ "یَئُوسٌ"، "یَأَسَ" کے مادہ سے ہے جس کا مطلب دل کی اندرونی ناامیدی ہے اور "قَنُوطٌ" کا مطلب اس ناامیدی کا چہرے اور عمل سے اظہار ہے۔(بحوالہ: تفسیر کبیر جلد ۲۷، ص137 اور تفسیر روح المعانی جلد۲۵ ،ص ۴)۔ مرحوم طبرسی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیرِ مجمع البیان میں ان دونوں کے درمیان موجود فرق کو یوں بیان کیا ہے کہ "یَأَسَ" خیر اور اچھائی سے ناامیدی ہے اور "قَنُوطٌ" رحمت سے ناامیدی ہے۔(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان جلد ۹، ص ۱۸) لیکن قرآنِ مجید میں "یَأَسَ" اور "قَنُوطٌ" کے استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں الفاظ تقریباً ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان میں ہے کہ جناب یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو رحمتِ الٰہی سے مایوس ہونے سے روکا ہے، جبکہ وہ یوسف کے بارے میں دلی طور پر مایوس ہو چکے تھے اور اس مایوسی کا اظہار بھی کر چکے تھے (سورۃ یوسف: آیت 87)۔ اور "قَنُوطٌ" کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرزند کی بشارت کے سلسلے میں ہے کہ انھوں نے اس پر تعجب ظاہر کیا لیکن فرشتوں نے کہا: "بَشَّرْنَاكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ الْقَانِطِينَ" (سورۃ الحجر: آیت 55)۔ بعد کی آیت میں علم اور ایمان سے دور انسان کی ناپسندیدہ حالت یعنی اس کے غرور اور خود پسندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب ہم کسی انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا لطف چکھاتے ہیں جبکہ اس سے پہلے تکلیف پہنچ چکی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ میری اپنی لیاقت اور استحقاق کی وجہ سے ہے (وَ لَئِنْ اَذَقْناہُ رَحْمَةً مِنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّاَ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ھذا لی)۔ یہ مغرور بے چارہ اس بات کو بھول چکا ہوتا ہے کہ اگر لطفِ خداوندی شامل حال نہ ہو تو اس نعمت کے بجائے مصائب میں گرفتار ہو جائے۔ اس کی کیفیت مغرور قارون کی سی ہے کہ جب خدا نے امتحان کی غرض سے اسے دولت سے مالامال کر دیا اور اسے کہا گیا کہ جب خدا نے تمہیں فراواں دولت عطا کی ہے تو تُو بھی لوگوں کے ساتھ نیکی کیا کر، تو اس نے کہا نہ نہ، یہ سب کچھ میرے علم اور ذاتی لیاقت کی وجہ سے ہے ”قالَ إِنَّما اُوتیتُہُ عَلی عِلْمٍ عِنْدی“۔ (قصص: ۷۸) اسی آیت میں ہے کہ آخرکار یہ غرور اسے آخرت کے انکار تک پہنچا دیتا ہے اور وہ کہتا ہے: ”مجھے یقین نہیں ہے کہ قیامت بھی قائم ہو گی“ (وَ ما اَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً)۔ ”بالفرض اگر قیامت ہو بھی تو جب میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جاؤں گا تو میرے لیے وہاں اچھی جزا اور بہت سی نعمتیں آمادہ ہیں“ جس خدا نے مجھے اس دنیا میں اس قدر عزت عطا فرمائی ہے آخرت میں تو یقیناً اس سے بہتر خاطر تواضع کرے گا (وَ لَئِنْ رُجِعْتُ إِلی رَبِّی إِنَّ لی عِنْدَہُ لَلْحُسْنی)۔ اسی طرح کا ایک مفہوم سورہٴ کہف میں بھی بیان ہوا جہاں پر ان دو دوستوں کی داستان بیان کی گئی ہے جن میں سے ایک دولت مند تھا اور کفر و غرور کی راہ اپنائے ہوئے تھا جبکہ دوسرا راہِ ایمان پر گامزن تھا، قرآن مجید اس دولت مند مغرور کی بات یوں بیان کرتا ہے: ۔۔۔ ما اَظُنُّ اَنْ تَبیدَ ھذِہِ اَبَداً، وَ ما اَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً وَ لَئِنْ رُدِدْتُ إِلی رَبِّی لَاَجِدَنَّ خَیْراً مِنْہا مُنْقَلَباً۔ میں ہرگز گمان نہیں کرتا کہ قیامت برپا ہوگی اور اگر قیامت آ بھی جائے تو بھی میں اپنے پروردگار کی طرف جاؤں گا اور اس سے بہتر اور اعلیٰ مقام و منزلت پاؤں گا (کہف: ۳۵-۳۶)۔ لیکن خداوند عالم ان مغرور اور سرکش افراد کو آیت کے آخر میں یوں تنبیہ کرتا ہے کہ: ”ہم بہت جلد کافروں کو ان کے ان اعمال سے آگاہ کریں گے جو وہ انجام دے چکے ہیں اور انہیں سخت عذاب چکھائیں گے“ (فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا بِما عَمِلُوا وَ لَنُذیقَنَّہُمْ مِنْ عَذابٍ غَلیظٍ) (تشریحی نوٹ: ”عذاب غلیظ“ کا معنی سخت اور متواتر عذاب ہے)۔ یہی چیز قرآن مجید کے ایک اور موقع پر بھی ایک اور تعبیر سے آئی ہے، جہاں فرمایا گیا ہے: وَ لَئِنْ اَذَقْناہُ نَعْماَ بَعْدَ ضَرَّاَ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ذَہَبَ السَّیِّئاتُ عَنِّی إِنَّہُ لَفَرِحٌ فَخُور۔ ہم جب بھی انسان کو مصیبت اور سختی کے بعد کسی نعمت کا لطف چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ مصائب اور مشکلات مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور ہو چکی ہیں اور پھر لوٹ کر نہیں آئیں گی، پھر وہ خوشی، غفلت، تکبر اور غرور میں بدمست ہو جاتا ہے۔ (ہود:۱۰) بعد کی آیت میں اس قسم کے انسانوں کی اس حالت کو بیان کیا جا رہا ہے جو مادی دنیا کے آنے اور چلے جانے کے موقع پر ان پر طاری ہوتی ہے یعنی نعمتوں کے حصول کے وقت فراموشی اور مصیبت کے وقت آہ و زاری۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: جب ہم انسان کو کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور حق سے دور ہو جاتا ہے (وَ إِذا اَنْعَمْنا عَلَی الْإِنْسانِ اَعْرَضَ وَ نَاٴی بِجانِبِہِ)۔ ”لیکن جونہی اسے تھوڑی سی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے دور ہونے کے لیے لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے“ (وَ إِذا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُو دُعاء ٍ عَریض)۔ ”نا“،”ناٴی“ (بر وزن ”رأی“) کے مادہ سے ہے جس کا معنی دور ہونا ہے اور جب اس کے بعد ”جنب“ (پہلو) کا لفظ آ جائے تو وہ تکبر اور غرور کے لیے کنایہ ہوتا ہے کیونکہ متکبر آدمی اپنا منہ موڑ کر بڑی بے پروائی کے ساتھ دور ہو جاتا ہے۔ ”عریض“ چوڑے کے معنی میں ہے جو کہ ”طویل“ لمبے کے مقابلہ میں ہے اور عرب ان دونوں تعبیروں کو کثرت اور زیادہ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی سے ملتی جلتی آیت سورہ یونس میں بھی موجود ہے: وَ إِذا مَسَّ الْإِنْسانَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنْبِہِ اَوْ قاعِداً اَوْ قائِماً فَلَمَّا کَشَفْنا عَنْہُ ضُرَّہُ مَرَّ کَاَنْ لَمْ یَدْعُنا إِلی ضُرٍّ مَسَّہُ کَذلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفینَ ما کانُوا یَعْمَلُونَ۔ جب کبھی انسان کو تھوڑی سی تکلیف ہوتی ہے تو ہمیں ہر حالت میں پکارتا ہے خواہ پہلو کے بل لیٹا ہو یا سویا ہو یا بیٹھا ہوا ہو یا کھڑا ہوا۔ لیکن جونہی اس سے یہ تکلیف دور کر دیتے ہیں تو ایسے گزر جاتا ہے گویا اس نے ہمیں مشکل کے حل کرنے کے لیے پکارا ہی نہیں۔ اسراف کرنے والوں کے اعمال کو اسی طرح زینت دی جا چکی ہے۔ (یونس:۱۲) جی ہاں! ایمان اور تقویٰ سے خالی انسان کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسی حالتوں سے دوچار رہتا ہے۔ جب اسے نعمتیں مل جائیں تو اس وقت وہ حریص مغرور اور بھول جانے والا بن جاتا ہے۔ اور جب نعمتیں منہ موڑ کر چلی جائیں تو مایوس اور نا اُمید ہو کر واویلا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایسے مردانِ حق اور مکتب انبیاء کے سچے پیروکار بھی ہیں جو اس قدر وسیع ظرف اور بلند حوصلوں کے مالک ہیں کہ نہ تو نعمتوں کا حصول انہیں آپے سے باہر کر دیتا ہے اور نہ ہی دنیا کے منہ پھیر لینے سے وہ حوصلہ ہار کر مایوس ہو جاتے ہیں۔ ”رجال لاتلھیہم تجارة ولا بیع عن ذکر اللہ“ (نور:۲۷) کے مصداق انہیں نہ تو نفع بخش تجارت یادِ خدا سے غافل کر سکتی ہے اور نہ ہی سود مند کاروبار۔ وہ زندگی کی تلخی اور شیرینی کے فلسفے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تلخیاں خطرے کی گھنٹی بن کر ہوشیار اور بیدار کر رہی ہیں اور شیرینیاں خدا کی آزمائش اور امتحان کا سبب ہیں۔ کبھی یہ تلخیاں بندوں کی غفلت کی سزا ہوتی ہیں اور نعمتیں ان کی شکر گزاری کا احساس پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ آیاتِ بالا میں ”اذقنا“ اور ”مسّہ“ کی تعبیرات آئی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی تھوڑی سی توجہ یا نعمتوں کے ذرا سے زوال سے ان کم ظرف لوگوں کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور فوراً ہی غرور، تکبر یا مایوسی اور نا اُمیدی کی راہوں پر چل پڑتے ہیں اور اس حد تک کوتاہ اندیش اور کوتاہ فکر ہیں کہ مشہور مثال کے مطابق ”ایک انگور سے کھٹے اور ایک میوے سے میٹھے ہو جاتے ہیں“۔ جی ہاں! خدا کی ذات پر ایمان کی ایک اہم ترین نشانی روح کی وسعت، افقِ فکر کی بلندی، سینے کی کشادگی، مشکلات و مصائب سے مقابلے کی تاب ہے اور نعمتوں کے موقع پر آپے سے باہر نہ ہو جانا ہے۔ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام دوستوں کو سبق دیتے وقت ایک دعا میں ارشاد فرماتے ہیں: نسئل اللہ سبحانہ ان یجعلنا و ایاکم ممن لاتبطرہ نعمة، ولا تقصر بہ عن طاعة ربہ غایة، ولا تحل بہ بعد الموت ندامة وکآبة ہمارا خدا سے یہی سوال ہے کہ وہ ہمیں اور تمہیں ایسے لوگوں میں سے قرار دے کہ نعمتیں جنہیں مست اور مغرور نہیں کرتیں اور کوئی بھی مقصد انہیں پروردگارِ عالم کی اطاعت سے باز نہیں رکھتا اور موت آنے پر انہیں کوئی ندامت اور پشیمانی لاحق نہیں ہوتی۔ ( بحوالہ: نہج البلاغہ: خطبہ ۶۴) زیر تفسیر آیات میں سے آخری آیت میں خود ان متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور ”دفع ضرر“ کے مشہور اصول کی روشن اور واضح انداز میں وضاحت اور تشریح کی گئی ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ”ان سے کہہ دے، مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن خداوندِ واحد و یکتا کی طرف سے ہو (حساب و کتاب، سزا و جزا اور جنت و جہنم بھی ہو) اور تم کافر ہو جاؤ تو اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو دور کی مخالفت اور گمراہی میں پڑا ہوا ہے“ (قُلْ اَ رَاَیْتُمْ إِنْ کانَ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہِ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فی شِقاقٍ بَعیدٍ) ( تشریحی نوٹ: ”ارءیتم“ کی عام طور پر ”اخبرونی“ کے معنی میں تفسیر کی جاتی ہے ( یعنی مجھے بتاؤ ) اوراس سلسلے میں ہم نے تفصیل سے تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد میں سورہٴ انعام کی آیت ۴۰ کے ذیل میں گفتگو کی ہے۔) البتہ یہ گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جن پر کوئی منطقی دلیل کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ درحقیقت یہ اندازِ گفتگو ان ہی ہٹ دھرم، متعصب اور مغرور لوگوں کے بارے میں اپنایا جاتا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ: اگر تم قرآن، توحید اور مرنے کے بعد کی دنیا کی حقانیت کو سو فیصدی تسلیم نہیں کرتے تو، اس کی نفی پر بھی یقینا تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ احتمال ابھی باقی ہے کہ قرآنی دعوت اور معاد کے مسئلے میں حقیقت و صداقت ہو، تو ایسی صورت میں ذرا سوچو کہ تمہارا کیسا ہی تاریک اور وحشت ناک انجام ہو گا اور اس مکتبِ الٰہی کا مقابلہ اور مخالفت کر کے اور گمراہی کی راہ اختیار کر کے تم کیسے خطرناک انجام سے دوچار ہو سکتے ہو۔ یہ وہی اندازِ گفتگو ہے جو ائمہ اطہار علیہم السلام متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں اپناتے تھے۔ چنانچہ کتاب کافی میں ایک روایت میں ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے زمانے کے مشہور مادہ پرست اور ملحد ابن ابی العوجاء کے ساتھ کافی بحث و مباحثہ کیا اور آخری مرتبہ جب وہ موسمِ حج میں آپ علیہ السلام کی ملاقات کے لیے آیا تو امام علیہ السلام کے ایک ساتھی نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن ابی العوجاء مسلمان ہو چکا ہے۔ امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا وہ اس سے کہیں زیادہ دل کا اندھا ہے۔ یعنی اگر مسلمان نہیں ہو گا۔ جونہی اس کی نگاہ امام علیہ السلام پر پڑی تو بولا: ”اے میرے سید و سردار“۔ امام نے ارشاد فرمایا: ما جاء بک الیٰ ھذا الموضع؟ یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ اس نے عرض کی: عادة الجسد و سنة البلد، ولننظر ما الناس فیہ من الجنون والحلق ورمی الحجارة اس لیے کہ ہمارے جسم عادی ہو چکے ہیں، علاقے کا رواج بھی ہے، پھر یہ بھی کہ لوگوں کی جنون آمیز حرکات، سر منڈانے اور پتھر مارنے کے واقعات کو بھی دیکھوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: انت بعد علی عتوک وضلالک، یا عبد الکریم اے عبد الکریم! (کریم کے بندے!) تم ابھی تک اپنی سرکشی اور گمراہی پر ڈٹے ہوئے ہو؟ (تشریحی نوٹ: عبد الکریم ” ابن ابی العوجاء “ کااصلی نام تھا اور چونکہ وہ خدا کا منکر تھا لہٰذا امام علیہ السلا م نے اسے اس نام سے پکارا تاکہ وہ شرمندہ ہو۔) وہ کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: لا جدال فی الحج حج میں جدال و مجادلہ نہیں ہوتا۔ یہ کہہ کر اپنی عبا اس کے ہاتھوں سے چھڑائی اور یہ جملہ ارشاد فرمایا: ان یکن الامر کما تقول ... ولیس کما نقول ... نجونا و نجوت، و ان یکن الامر کما نقول ... و ھو کما نقول ... نجونا و ھلکت اگر وہی ہے جیسے کہ تم کہتے ہو (کہ خدا اور قیامت کا وجود نہیں ہے) ... حالانکہ ایسا نہیں ہے ... تو تم بھی نجات پا گئے اور ہم بھی۔ لیکن اگر حقیقت وہی ہے جو ہم کہتے ہیں ... اور ہے بھی ایسا ہی ... تو ایسی صورت میں ہم بچ جائیں گے اور تم برباد ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ابن ابی العوجاء نے اپنے ساتھیوں کی طرف منہ کر کے کہا: وجدت فی قلبی حزازة فردونی، فردوہ فمات مجھے دل میں درد محسوس ہو رہا ہے لہٰذا مجھے واپس لے جاؤ، وہ اسے واپس لے گئے اور بہت جلد فوت ہو گیا۔ (بحوالہ: کافی جلد۱، ص ۶۱ کتاب التوحید باب حدوث العالم)۔
ایک نکته
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ، اور وہ یہ کہ مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے: "وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ" یعنی جب انسان کو برائی آ لیتی ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے۔ لیکن سورۂ بنی اسرائیل کی ۸۳ ویں آیت میں ہے: "وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا" جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔ اس قسم کا مفہوم انہی آیات میں بھی مذکور ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلسل اور لمبی چوڑی دعائیں پُرامید ہونے کی دلیل ہوتی ہیں، جبکہ دوسری آیات میں قرآن کہتا ہے کہ انسان ناامید ہو جاتا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کے جواب میں بعض مفسرین نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: ایک وہ جو مشکلات اور سختیوں کے وقت بالکل مایوس ہو جاتے ہیں، اور دوسرے وہ جو دعا پر اصرار اور آہ و زاری کرتے ہیں (بحوالہ: تفسیرروح البیان جلد ۸ ،ص ۲۸۰)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مایوسی سے مراد معمول کے ذرائع سے ناامید ہو جانا ہے، اور یہ خدا سے درخواست اور دعا کے منافی نہیں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان جلد ۱۷ ،ص ۴۲۸ لیکن مندرجہ بالا آیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو کہ ایسے لوگوں کی خدمت میں ہیں جبکہ ظاہری اسباب سے امیدیں منقطع کرکے خداکی طرف متوجہ ہونا عیب ہی نہیں بلکہ لائق تعریف بھی ہے، یہ تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔) ایک احتمال یہ بھی ہے کہ "ذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ" سے مراد خدا سے دعا اور درخواست نہیں بلکہ بڑی حد تک چیخ و پکار مراد ہے۔ ان کے نزدیک اس بات کی گواہ سورۂ حج کی ۱۹ اور ۲۰ ویں آیت ہے جس میں خدا فرماتا ہے: "إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا، إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا"۔ انسان حریص پیدا کیا گیا ہے، جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو زبردست چیخ و پکار شروع کر دیتا ہے۔ باوجودیکہ یہ دو حالتیں کم ظرف لوگوں کے لیے دو مختلف مرحلوں میں پیدا ہوتی ہیں، شروع شروع میں تو ہر پیغمبروں کے آستان پر سر جھکاتے اور دعائیں مانگتے ہیں، چیخ و پکار اور شور و غوغا بلند کرتے ہیں، لیکن زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ مایوسی ان کے تمام وجود پر حکم فرما ہو جاتی ہے اور وہ مایوس اور خاموش ہو جاتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: چھوڑے اور بڑ ے جہان میں حق کی نشانیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ سورہٴ حٰم سجدہ کی آخری دو آیات ہیں، جن میں دو اہم مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو درحقیقت اس پوری سورت کے جملہ مباحث کا خلاصہ ہیں۔پہلی آیت توحید (یا قرآن) کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اور دوسری معاد کے بارے میں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم بہت جلد انہیں کائنات کے اطراف و آفاق میں اور اسی طرح خود ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، تاکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ خدا حق ہے (سَنُرِیہِمْ آیاتِنا فِی الْآفَاقِ وَ فِی أَنفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَق)۔ سورج، چاند اور ستاروں کی تخلیق اور ان پر صحیح انداز میں حاکم نظام، حیوانات، نباتات، پہاڑوں، سمندروں، دریاؤں کی آفرینش اور ان کے بے شمار اور حیران کن عجائبات، اس کے بے شمار اسرار آمیز گوناگوں موجودات، کہ جن کی تخلیق سے ہر روز نئے نئے انکشافات ہوتے رہتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک خداوند متعال کی ذات اقدس کی حقانیت پر واضح دلیل ہے، آفاقی آیات کہلاتی ہیں۔ اور انسانی جسم کی تخلیق، انسانی دماغ کی حیرت انگیز ساخت، دل، رگوں اور ریشوں اور ہڈیوں کی منظم حرکت، نطفے کا انعقاد، رحم مادر میں جنین کی پرورش اور ان سب سے بڑھ کر روح انسانی کے حیرت انگیز اسرار و رموز، کہ جن میں سے ہر ایک پروردگار عالم اور خالق کائنات کی کتابِ معرفت کا ایک گوشہ ہے، انفسی آیات کہلاتی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ آیات اس سے پہلے پروردگار عالم کی طرف سے بڑی حد تک دکھائی جا چکی ہیں لیکن ”سَنُرِیہِمْ“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو کہ فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کر رہا ہے، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آیات کے دکھانے کا یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ اگر کوئی شخص لاکھوں سال تک زندہ رہے، پھر بھی ہر زمانے میں آیاتِ الٰہی کا نیا نمونہ دیکھے گا، کیونکہ اس کائنات کے اسرار ختم ہونے میں نہیں آتے۔ سائنس اور انسان شناسی کے تمام شعبے(خواہ وہ علم تشریح ہو یا... فزیالوجی... علم نفسیات ہو یا... علم الاشیاء جو نباتات، وغیرہ) اور وہ حیوانات، اشیاءِ فطرت اور ہیئت وغیرہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، درحقیقت کائنات کی یہ چیزیں توحید اور معرفتِ الٰہی کی کھلی کتاب ہیں کیونکہ یہ عام طور پر حیرت انگیز اسرار و رموز سے پردہ اٹھاتی ہیں، جو اس کائنات کے اصلی خالق کے علم و حکمت اور بے انتہا قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان علوم میں سے ایک علم بلکہ ان علوم کے بیسوں رشتوں میں سے ایک رشتہ کے لیے ایک دانشور کی تمام زندگی وقف ہو جاتی ہے۔ آخرکار وہ بھی تھک کر یہی کہتا ہے کہ افسوس! کہ میں اس سے کچھ بھی نہ جان سکا، جو کچھ معلوم کیا ہے اس نے مجھے مزید لاعلمی اور جہالت کی طرف راہنمائی کر دی ہے۔ آخر میں اس لطیف اور دلچسپ بیان کو ایک اور خوبصورت اور بامعنی جملہ کے ساتھ مکمل کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: آیا ان کے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ خدا ہر چیز پر شاہد اور گواہ ہے (أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ)۔ ( تشریحی نوٹ: آیت کے اس جملہ کی ترکیب جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے ” با“ زائدہ ہے اور ” ربک “ فاعل کی جگہ پر ہے اور” انہ علیٰ کل شیء شھید“ اس کا بدل ہے اور اس کا معنی یوں ہو گا: ”اولم یکفھم ان ربک علیٰ کل شیء شہید“۔) اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہو سکتی ہے کہ اس نے اپنی قدرت کے خطِ تکوین کے ذریعے تمام موجودات کی پیشانی پر، تمام درختوں کے پتوں پر، تمام پھولوں کی پنکھڑیوں پر، ذہن کے تمام اسرار آمیز طبقوں پر، آنکھ کے نفس و لطیف پردوں پر، آسمان کے صفحے پر اور زمین کے دل پر گویا ہر ہر چیز پر اپنی توحید کی نشانیاں لکھ کر اپنی تکوین کا شاہد بنا دیا ہے۔ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا، اس آیت کی دو معروف تفسیروں میں سے ایک ہے، کہ جس کے بنا پر آیت کی تمام گفتگو مسئلہ توحید اور آفاق و انفس میں آیاتِ حق کے ظہور کے بارے میں ہے۔ رہی دوسری تفسیر، تو وہ اعجازِ قرآن کے سلسلے میں ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خداوند عالم اس آیت میں فرماتا ہے ہم نے اپنے گوناگوں معجزات اور مختلف نشانیاں انہیں دکھائی ہیں، جو جزیرہ نمائے عرب کے مختلف حصوں میں بھی اور دنیا کے دوسرے مقامات پر بھی اور خود ان مشرکین کے بارے میں بھی ہیں تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ یہ قرآن برحق ہے۔ آفاقی نشانیوں سے مراد جنگ اور منطقی مناظروں کے مختلف میدانوں میں اسلام کی کامیابی، پھر دنیا جہان کے مختلف مقامات پر جہاں جہاں دین اسلام پہنچا اور لوگوں کے افکار و اذہان پر حکومت کرنے لگا، ان آیات کے نزول کے وقت جو لوگ مکہ میں بظاہر اس حد تک اقلیت میں تھے کہ کسی قوم کی بھرپور سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے پروردگار کے حکم سے ہجرت کی، لیکن مختصر سے عرصے میں ہر جگہ ان کے جھنڈے تلے آ گئی اور ان کے دین کی دنیا کے عظیم طبقات میں پذیرائی ہونے لگی۔ جبکہ ”آیاتِ انفسی“ سے مراد جنگ بدر میں مسلمانوں کی مشرکین مکہ پر کامیابی اور فتح مکہ کے دن اسلام کا غلبہ اور بہت سے لوگوں کے دلوں میں نورِ اسلام کا اثر و نفوذ ہے۔ ان آفاقی اور انفسی آیات نے بتایا ہے کہ قرآن مجید برحق ہے۔ جو خدا تمام چیزوں کا گواہ ہے، اس نے قرآن کی حقانیت پر بھی گواہی دی ہے۔ ان دونوں تفسیروں کے اپنے قرینے اور اپنی اپنی جہات ہیں، لیکن اسی آیت اور بعد کی آیت کے ذیل کی طرف توجہ کرنے سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کی یہ چار ترجیحات ہیں۔ پہلی یہ کہ آیات کی تعبیرات زیادہ تر توحید ی دلائل کے بار ے میں۔ دوسری یہ کہ آفاق اور انفس کی تعبیر توحید کی نشانیوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ تیسری یہ کہ ”اولم کیف بربک انہ علی شیء شہید“ مسئلہ توحید اور پر وردگار کی ذات پاک کی حقانیت کی تکو ینی شہاد ت کی طرف اشارہ ہے۔ چوتھی یہ کہ بعد کی آیت معاد کے بار ے میں گفتگو کر رہی ہے اور معلوم ہے کہ مبدا ٴ اور معاد ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ دوسری تفسیر کی بھی تین ترجیحات ہیں: پہلی یہ کہ ”انہ“ کی ضمیر مفر د غائب کے لیے ہے، جبکہ ”اٰیاتنا“ میں ضمیر متکلم مع الغیر کے لیے ہے اور مناسب یہی ہے کہ ہر ایک ضمیر ایک خاص مقصد کو بیان کرے۔ دوسری یہ کہ اس سے پہلے کی آیت خاص طور پر قرآن کے لیے ہے۔ تیسری یہ کہ ”سنریھم“ جو کہ فعل مضارع ہے اور اس مناسبت کا متقاضی ہے کہ مذ کورہ آیات بعد میں دکھائی جائیں گی۔ (البتہ ہم نے تین میں ان ترجیحات کاجواب دے دیا ہے۔ غور کیجئے گا ) اس آیت کی تفسیر میں اور بھی اقوال ہیں لیکن چونکہ زیادہ وزنی معلوم نہیں ہوئے، لہٰذا ہم انہیں ذکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس سورت کی آخری آیت اس مشرک، مفسد اور ظالم ٹولے کی بدبختی کا اصل سرچشمہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: آگاہ رہو کہ وہ پروردگار کی ملاقات اور قیامت کے دن کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہیں (أَلا إِنَّهُمْ فِی مِرْیَةٍ مِّن لِقَاءِ رَبِّهِمْ أَلا إِنَّهُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُحِیطٌ)۔ چونکہ حساب و کتاب اور سزا و جزا پر انہیں ایمان نہیں ہے، لہٰذا ہر جرم کا ارتکاب کر گزرتے ہیں اور ہر شرمناک انجام دے دیتے ہیں، ان کے دلوں پر غفلت اور غرور کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور پروردگار سے ملاقات کی فراموشی نے انہیں عظمتِ انسانیت کی بلندی سے پستی میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ”خدا ہر چیز پر محیط ہے“ (أَلا إِنَّهُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُحِیطٌ)۔ ان تمام اعمال، گفتار اور نیتیں خدا کی بارگاہِ علم میں مکمل طور پر عیاں ہیں اور یہ سب کچھ قیامت کی عظیم عدالت کے لیے اکٹھا ہو رہا ہے۔ ”مریہ“ (بر وزن ”جزیہ“ یا بر وزن ”قریہ“) کسی امر کے بارے میں فیصلہ کر لینے کے بعد اس میں ڈانواں ڈول ہونے کے معنی میں ہے۔ بعض اسے بڑے شک و شبہ کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ اس کلمہ کا اصل سرچشمہ ”مَرَیتُ الناقة“ یعنی اونٹنی کو دودھ پلانے کے بعد اس کے پستانوں کو اس امید کے ساتھ زور زور سے نچوڑنا کہ شاید بچا کھچا دودھ بھی نکل آئے۔ چونکہ یہ کام شک و شبہ کی بناء پر انجام پایا ہے، اسی لیے یہ کلمہ بھی ”شک و شبہ“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر ”مجادلہ“ کو ”مراء“ کہتے ہیں تو بھی اسی لیے کہ انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ فریقِ مخالف کے ذہن میں ہوتا ہے، اسے باہر نکال دے۔ دراصل آخری جملہ معاد کے بارے میں کفار کے بعض شکوک و شبہات کا جواب ہے، جن میں سے کچھ شبہات یہ بھی ہیں کہ یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ یہ منتشر اور پھر مخلوط مٹی جدا ہو جائے؟ کون سی طاقت ہر انسان کے اجزاء کو یکجا کر سکے گی؟ علاوہ بریں، پوری تاریخ کے تمام انسانوں کی نیتوں، اعمال اور گفتار سے کون آگاہ ہو سکتا ہے؟ قرآن مجید ان تمام سوالوں کے جواب میں کہتا ہے: جو تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس پر یہ تمام باتیں روشن ہیں۔ تمام چیزوں پر اس کے علمی احاطے کی دلیل، تمام چیزوں پر اس کی تدبیر ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مدبرِ عالم دنیا جہان کے حالات سے بے خبر ہو؟ بعض مفسرین نے اس آیت کو بھی مسئلہ توحید سے متعلق سمجھا ہے نہ کہ مسئلہ معاد سے، وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ پروردگارِ عالم کی توحید کے بارے میں اس قسم کے استدلالات متعصب اور ضدی مزاج کفار کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ وہ تو توحید کی روشن ترین دلیل یعنی خدا کی ہر جگہ پر موجودگی کے بھی منکر ہیں، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ توحید کے دلائل سے کیونکر بہرہ ور ہو سکتے ہیں؟ ( بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ۷، ص ۴۳۲) لیکن اگر دیکھا جائے تو قرآن مجید میں ”لقاء اللہ“ کی تعبیر عموماً قیامت کے لیے کنایہ ہوتی ہے لہٰذا یہ تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے۔
چند اہم نکات: ۱۔ برہان نظم اور برہان صدیقین
ہم جانتے ہیں کہ فلسفی حضرات توحید کے دلائل میں سے دو دلیلوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، سب سے پہلے برہانِ نظم کو پھر برہانِ صدیقین۔ برہانِ نظم: جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اس برہان کو کہتے ہیں جو اس کائنات اور اس کے مبدأ کے علم و قدرت کے اسرار و رموز کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ قرآن مجید اس روشن اور واضح دلیل کے ساتھ استدلالات سے پُر ہے اور ہر جگہ پر زمین و آسمان، عالمِ حیات اور مختلف موجودات میں حق کی نشانیوں کے مختلف نمونے پیش کرتا ہے، اسی سے اس کی ذات کی طرف راستے کھلتے ہیں۔ یہ دلیل تمام طبقات کے لیے قابلِ ادراک ہے اور ہر شخص اپنی سمجھ اور معلومات کے مطابق اس سے استفادہ کر سکتا ہے؛ بڑے بڑے علماء و دانشور اپنی سمجھ کے مطابق اور کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ لوگ اپنی سمجھ کے مطابق۔ برہانِ صدیقین: یہ وہ برہان ہے جس کے ذریعے ”ذات“ سے ”ذات“ تک پہنچتے ہیں، اور باری تعالیٰ کے واجب الوجود سے ہی اسی کی ذات کی حقیقت تک رسائی ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اس برہان میں ممکنات اور مخلوقاتِ عالم اس کے وجود کے اثبات کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ اسی کی پاک ذات ہی اسی کی ذات پر دلیل ہے اور ”یا من دل علی ذاته“ (بحوالہ: دعائے صباح منقول از علی علیہ السلام) یا ”شهد الله أنه لا إله إلا هو“ (خدا گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں) (بحوالہ: سور ہ آل عمران آیت . ۱۸۔) کا مصداق ہوتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ فلسفی نکتہ ہے اور اس کی مبادیات کا علم رکھنے والوں کے علاوہ کوئی بھی اس کی گہرائیوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہاں پر ہمارا مقصد اس کی تفصیل بیان کرنا نہیں ہے کیونکہ اس کی جگہ فلسفی کتابیں ہیں، بلکہ ہم تو یہاں پر صرف یہ حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بعض مفسرین نے آیت ”سَنُرِيهِمْ آياتِنا فِي الْآفاق“ کے آغاز کو برہانِ نظم اور علت و معلول کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور (أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ) کو برہانِ صدیقین کی طرف اشارہ سمجھا ہے، لیکن خود آیت کے اندر اس بات پر کوئی واضح قرینہ موجود نہیں۔
۲۔ خدا کے احاطہ کی حقیقت
یہ تصور ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ خداوندِ عالم چیزوں کا احاطہ ایسے کیے ہوئے ہے جیسے کرہٴ زمین کا ہوا نے احاطہ کیا ہوا ہے، کیونکہ اس قسم کا احاطہ اس کی محدودیت کی دلیل ہوتا ہے بلکہ خداوندِ عالم کا تمام چیزوں پر احاطہ نہایت ہی دقیق اور لطیف ہے اور وہ ہے تمام موجودات کا اپنی ذات میں اس کے وجودِ مقدس کے ساتھ وابستہ ہونا۔ دوسرے لفظوں میں، اس ساری کائنات میں سوائے ایک پاک ذات کے کسی بھی چیز کا وجود اصالت نہیں رکھتا اور قائم بالذات نہیں ہے اور دوسرے تمام ممکنہ موجودات کا وجود اس طرح اسی کی ذات کے سہارے قائم اور اسی سے وابستہ ہے کہ اگر ایک لمحے کے لیے یہ رابطہ ختم ہو جائے تو تمام کائنات تباہ و برباد ہو جائے۔ اور یہ احاطہ اس حقیقت کا نام ہے جسے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے الفاظ میں نہج البلاغہ کے خطبہ اوّل میں ذکر کیا گیا ہے۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں: مع کل شیء لا بمقارنة و غیر کل شیء لا بمزییلة خدا ہر چیز کے ساتھ ہے لیکن ان کے ہم پلہ نہیں، ہر چیز کا غیر ہے لیکن ان سے جدا نہیں۔ اور شاید یہ وہی چیز ہے جسے حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی مشہور، معنی خیز، مطالب سے لبریز دعائے عرفہ میں بیان فرمایا ہے: أیکون لغیرک من الظہور مالیس لک، حتی یکون ھو المظہر لک؟ متی غبت حتی تحتاج الی دلیل یدل علیک؟ ومتی بعدت حتی تکون الآثار ھی التی توصل الیک؟ عمیت عین لا تراک علیھا رقیبا! وخسرت صفقة عبد لم یجعل لہ من حبک نصیبا۔ پروردگار! کیا دوسری موجودات کے لیے کوئی ایسا ظہور ہے جو تیرے لیے نہ ہو کہ وہ تیری نشاندہی کریں؟ تو کب مخفی ہوا ہے کہ تجھے کسی دلیل کی ضرورت ہو کہ وہ تیرے وجود پر دلالت کرے؟ تو کب دور ہوا ہے کہ کائنات میں تیرے آثار ہمیں تیری طرف راہنمائی کریں؟ اندھی ہو جائے وہ آنکھ جو تجھے اپنا نگران سمجھ کر نہ دیکھے اور نقصان اٹھائے بندے کی وہ تجارت جس میں تیری محبت کا کوئی حصہ نہ ہو۔ (تشریحی نوٹ: دعائے عرفہ سے اقتباس۔ یہ مشہور دعا روزِ عرفہ کے اعمال میں دعاؤں کی مشہور کتابوں میں درج ہے۔) ایک شاعر کہتا ہے: کے رفتہ ای ز دل کہ تمنا کنم تو را کے گشتہ ای نہفتہ کہ پیدا کنم تو را با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من با صد ہزار دیدہ تماشا کنم تو را تو میرے دل سے گیا کب ہے کہ تیرے دیدار کی تمنا کروں اور تو کب مجھ سے غائب ہوا ہے کہ تجھے تلاش کروں؟ تو لاکھوں جلووں کے ساتھ ظہور پذیر ہے اور میں لاکھوں نگاہوں کے ساتھ تیرا دیدار کر رہا ہوں۔
۳۔ ” آفاقی“ اور”انفسی“ آ یات
ہم ہر چیز کا تو انکار کرسکتے ہیں لیکن اس کائنات میں خود اپنے اندر اور اپنے باہر ایک منظم اور حیرت انگیز نظام کا انکار ہرگز نہیں کر سکتے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ماہر اور اسپیشلسٹ شخص آنکھ، دماغ یا دل کی اسرار آمیز بناوٹ کے بارے میں تحقیقات کرتا ہے اور اس بارے میں لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے، پھر بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس موضوع کے سلسلے میں ابھی بہت کچھ تحقیق کرنا باقی ہے۔ پھر یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ آج کے محققین کے علوم تاریخی اعتبار سے لاکھوں دانشوروں اور سائنس دانوں کے مسلسل مطالعات کا نچوڑ اور نتیجہ ہیں۔ اس طرح سے ہم جہاں بھی اور جسے بھی دیکھیں، اس کے ماورا خداوندِ متعال کی بے انتہا قدرت اور علم کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اور جو انگوری بھی زمین سے اگتی ہے زبانِ حال کے ساتھ "وحدہ لاشریک لہ" کہہ کر سر اٹھاتی ہے، اور جس ذرّے کا بھی دل چیرتے ہیں اس کے درمیان سے ایک آفتاب پھوٹتا ہے۔ اسی پر اکتفا کرتے ہوئے بہتر یہی ہے کہ اس جہان کے اہم اور پیچیدہ موضوعات سے چشم پوشی کرکے سادہ اور اپنے آپ کے مسائل کا تجزیہ و تحلیل کریں۔ پھر بھی اس مبداٴ عظیم و برتر کے وجود پر روشن دلائل میں سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں پر دو مثالیں پیش کریں۔ ۱۔ یقیناً آپ جانتے ہیں کہ ہر انسان کے پاؤں کے تلوے میں ایک خاص قسم کا خلا یا گڑھا موجود ہے جو عام طور پر کوئی اہم چیز معلوم نہیں ہوتا، لیکن جب ہم یہ سنتے ہیں کہ فوج میں بھرتی کے خصوصی معائنے کے وقت جن افراد کے پاؤں میں اس قسم کا خلا نہیں ہوتا، انہیں بھرتی نہیں کیا جاتا یا امید میں بھیجنے کے بجائے انہیں دفتری کاموں میں کھپایا جاتا ہے، تو پھر پتہ چلتا ہے کہ جس چیز کو ہم عام اور سادہ سی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، اس کی وجودِ انسانی کے لیے کس قدر اہمیت ہے۔ اور وہ یہ کہ اس کے نہ ہونے کی وجہ سے انسان کھڑا ہو جائے تو بہت جلد تھک جاتا ہے۔ فنِ سپاہ گری کے اظہار کے موقع پر چلنے یا دوڑنے کی لازمی توانائی سے قاصر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کا سارا نظام جچا تلا اور کسی حساب کتاب کے تحت ہے حتیٰ کہ پاؤں کے تلوے کا خلا بھی۔ ۲۔ انسان کی آنکھوں اور منہ میں پانی کے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو نہایت ہی ظریف اور باریک سوراخوں سے تمام زندگی مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان میں نہ دیکھنے کی قدرت ہوتی نہ بولنے اور غذا کو چبانے اور نگلنے کی طاقت۔ بالفاظِ دیگر، ان دو بظاہر چھوٹی لیکن نہایت اہم چیزوں کے بغیر انسانی زندگی ناممکن تھی۔ اگر آنکھ کی سطح ہمیشہ مرطوب نہ ہو تو ڈھیلوں کی گردش تکلیف دہ بن جائے بلکہ ناممکن ہو جائے، اور جب پلکیں آپس میں ملیں تو اس سطح کو چھیل کر رکھ دیں بلکہ آنکھ کی حرکت ہی بالکل بند ہو کر رہ جائے۔ اگر زبان، گلا اور منہ مرطوب نہ ہوں تو بات کرنا ناممکن ہو جائے اور غذا کو نگلنا محال ہو جائے۔ آپ نے تجربہ کیا ہوگا کہ جب کسی کا منہ یا گلا خشک ہو جاتا ہے تو اس کے لیے بات کرنا تو بجائے خود، سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے، غذا کھانا یا اسے نگلنا تو دور کی بات رہی۔ آپ خود ہی اندازہ کیجئے کہ اگر یہ پانی اور تری مکمل طور پر منقطع ہو جائے تو انسان کا کیا بنے؟ ناک کے اندرونی حصے کو بھی مرطوب ہونا چاہیے تاکہ سانس کی ہمیشہ کی آمد و رفت آسانی سے جاری رہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جو پانی آنسوؤں کی نالیوں کے ذریعہ سے نکل کر ناک میں آجاتا ہے اور جسے فالتو یا اضافی پانی کہتے ہیں، اسی کے ذریعہ ناک ہمیشہ تر رہتا ہے۔ اور جس ظریف و باریک سوراخ سے یہ پانی بہتا رہتا ہے، اگر بالفرض ایک دن کے لیے آنکھ کا یہ پانی سیلاب کی صورت میں چہرے پر بہتا رہے تو انسان کا چہرہ بگڑ کر رہ جائے اور نہایت ہی بدنما بن جائے۔ اگر ان سوراخوں کی کشش کی وجہ سے آنسوؤں کے چشموں کا توازن بگڑ جائے، پھر بھی یہی صورت حال درپیش ہو۔ لعاب دہن کی نالیوں کی بھی یہی کیفیت ہے۔ اگر لعاب دہن کم ہو تو زبان، منہ اور گلا خشک ہو جائیں اور اگر زیادہ ہو جائے تو بات کرنا دشوار ہو جائے اور منہ سے پانی بہنے لگے۔ آنکھ کے پانی کی ترکیب کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کا ذائقہ نمکین ہوتا ہے اور اس سے آنکھ کی ظریف و لطیف صورت کی مکمل حفاظت ہوتی ہے۔ اور جب بھی آنکھ میں گرد و غبار یا کوئی اور چیز پڑ جاتی ہے تو وہ پانی خود کار صورت میں بہنا شروع کر دیتا ہے اور جب تک اسے باہر نہیں نکال دیتا تھمنے میں نہیں آتا۔ آنکھ کے پانی کے برخلاف لعاب دہن کی ترکیب ہی کچھ ایسی ہے کہ اس کا کوئی ذائقہ نہیں ہے تاکہ غذا کا ذائقہ اچھی طرح محسوس کیا جا سکے اور اس میں نمکیات کا وجود غذا کے ہاضمے کے لیے مؤثر عامل ہے۔ اگر ان دو چشموں کے فزیکل اور کیمیکل پہلوؤں پر غور کیا جائے اور ان کے جچے تلے اور حساب و کتاب کے تحت نظام کی ظرافت، منفعت اور برکت کے بارے میں سوچ بچار سے کام لیا جائے تو ہمیں یقین ہو جائے گا کہ کائنات کا یہ نظام اندھے اور بہرے "اتفاق" کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ اسی ایک انفسی آیت جو بظاہر ایک چھوٹی سی آیت ہے کا مطالعہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ ذاتِ خداوندِ متعال برحق ہے: "سَنُریہِمْ آیاتِنا فِی الْآفاقِ وَ فی اَنْفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّ الْحَق"۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام "توحید مفضل" نامی مشہور حدیث میں، جو پروردگارِ عالم کی آفاقی اور انفسی آیات سے لبریز ہے، اسی مطلب کی طرف ایک بامعنی اشارہ فرماتے ہیں: "ای مفضل! تامل الریق وما فیہ من المنفعة، فانّہ جعل یجری جریانا دائماً الی الفم، لیبل الحلق والھواة فلایجف، فانّ ھذہ المواضع لو جعلت کذالک کان فیہ ھلاک الانسان، ثم کان لا تستطیع ان یسیغ طعاماً اذا لم یکن فی الفم بلّة تنفذہ، تشہد بذالک المشاھدۃ۔" اے مفضل! لعاب دہن اور اس کے فوائد کے بارے میں ذرا غور کرو، یہ لعاب ہمیشہ منہ میں چلتا رہتا ہے تاکہ حلق اور چھوٹی سی زبان (جس کا غذا نگلنے میں اہم کردار ہے) کو ہمیشہ مرطوب رکھے اور اسے خشک نہ ہونے دے، کیونکہ اگر یہ اعضاء خشک ہو جائیں تو انسان ہلاک ہو جائے۔ اور اصولی طور پر اگر منہ میں رطوبت نہ ہو تو انسان غذا نہیں نگل سکتا۔ تجربہ اور مشاہدہ اسی بات کا گواہ ہے۔ (بحوالہ: بحار الانوار جلد ۳، صفحہ ۷۷۔) انسانی جسم کے علاوہ انسانی روح بھی عجائبات کا خزانہ ہے جس نے تمام علماء اور دانشوروں کو حیران اور ششدر کر رکھا ہے۔ اس کائنات میں اس قسم کی لاکھوں کروڑوں آیاتِ بیّنات موجود ہیں جو سب کی سب بیک زبان کہہ رہی ہیں: "انہ الحق"۔ یہیں پر ہم بھی سید الشہداء حضرت امام علیہ السلام کے ہم صدا ہو کر کہتے ہیں: "عمیت عین لا تراک" خداوندا! اندھی ہو جائے وہ آنکھ جو تجھے نہ دیکھے۔