Al-Hujurat
سورہ حجرات
یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوائی اس میں ١٨ آیات ہیں۔
سُورہ حجرات کے مطالب
اس سُورہ میں، جس میں اٹھارہ سے زیادہ آیات نہیں ہیں، پیغمبرؐ سے مربوط اور اسلامی معاشرے میں ایک دوسرے سے تعلق کے بارے میں بہت اہم مسائل بیان ہُوئے ہیں، اور چونکہ اس میں بہت سے اہم اخلاق مسائل کو عنوان بنایا گیا ہے لہذا اس سُورہ کو "سُورہ ٔ اخلاق و آداب" بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس سُورہ کے مختلف حصّوں کا مجموعی طور سے کچھ اس طرح خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصّہ آغاز سُورہ کی آیات ہیں، جو اسلام کے عظیم ترین پیشوا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے آداب اور ان اصولوں کو بیان کرتی ہیں، جن کا مسلمانوں کو آپ کے حضور میں کاربند ہونا چاہیے: دوسرا حصّہ اس سُورہ کا "اجتماعی اور معاشرتی اخلاق" کے اہم اصول کے ایک سلسلہ پر مشتمل ہے، جن کی پابندی سے اسلامی معاشرہ میں محبت دو صفا و امنیّت و اتحاد کی حفاظت ہوتی ہے اور ان کے برخلاف ان کو فراموش کر دینا بدینی، نفاق پر اگندگی اور بدامنی کا سبب بنتا ہے۔ تیسرا حِصّہ ایسے احکام ہیں، جو اختلافات اور آپس میں لڑ پڑنے کے خلاف مبارزہ کرنے کی کیفیت سے مربوط ہیں، جو بعض اوقات مسلمانوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ چوتھا حصّہ انسان کی بارگاہِ خدا میں قدر و قیمت اور مسئلہ تقویٰ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ پانچواں حِصّہ اس مسئلہ کی تاکید کرتا ہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اعتقاد قلبی کے عِلاوہ اس کے آثار انسانی اعمال اور اموال اور نفسوس کے ساتھ جہاد کرنے میں بھی آشکار ہونے چاہیئں۔ چھٹا حصّہ اس چیز سے بحث کرتا ہے کہ اسلام و ایمان، خدا کا، مومنین کے لیے ایک عظیم ہدیہ ہے، لہٰذا بجائے اس کے کہ اس کو قبول کر کے احسان جتلائیں، انہیں تو حد سے زیادہ ممنون و مشکور ہونا چاہیے کہ وہ اس ہدیہ کے مشمول ہُوئے۔ اور آخر میں: ساتواں حصّہ جو اس سُورہ کا آخری حصّہ ہے، تمام عالم ہستی کے پوشیدہ اسرار، اور انسانوں کے اعمال سے خدا کے علم و آگاہی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، جو حقیقت میں ان تمام حِصّوں کے اجراء کے ضامن کے طور پر آیا ہے، جو اس سورہ میں بیان ہُوئے۔ اس سُورہ کا نام سورہ "حجرات" اس سُورہ کی چوتھی آیت کی مناسبت سے ہے، جس میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اس کی تفسیر عنقریب بیان ہو گی۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلہ میں بس یہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ منقول ہو اہے: " مَن قرأ سُورةُ الحجرات أعطى مِن الأجر عشر حسناتٍ بعددِ من أطاع الله وَمن عصاه: "جو شخص سُورۂ حجرات کو پڑھے گا اُسے ان تمام افراد کی تعداد کے برابر، جنہوں نے خدا کی اطاعت کی ہے، یا نافرمانی کی ہے، دس نیکیاں دی جائیں گی۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے۔ " من قرأ سورة الحجرات فى كل ليلة، او فى كلّ يومٍ، كان من زوار محمّد (ص)" "جو شخص سُورۂ حجرات کو ہر رات یا ہر روز پڑھے گا وہ زائرین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے ہو گا۔" یہ بات واضح ہے کہ یہ تمام حسنات اطاعت کرنے والوں اور معصیّت کرنے والوں میں اس صُورت میں نموپذیر ہوں گے، جب انسان ان دونوں میں سے ہر ایک کے اعمال کو، جو اس سُورہ میں منعکس ہُوئے ہیں، وقت کے ساتھ نظر میں رکھے، ان میں غور و فکر کر کے اور اپنے راہ عمل کو اوّل پر منطبق اور دوسرے سے جدا کرے۔ علاوہ ازیں، پیغمبر گرامیؐ کی زیارت سے مشرف ہونا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ جو آداب اس سُورہ میں آنحضرتؐ کی شخصیت کے بارے میں آئے ہیں ان پر عمل کرے، کیونکہ تلاوت تو ہر مقام پر عمل کرنے کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7مفسرین نے پہلی آیت کے لیے تو بہت سی الگ شانِ نزول بیان کی ہیں اور بعد والی آیات کے لیے دوسری شانِ نزول۔ ان میں سے پہلی آیت کے لیے جو شان نزول بیان کی ہیں۔ یہ ہے کہ پیغمبرؐ "خیبر" کی طرف روانہ ہوتے وقت کسی کو "مدینہ" میں اپنی جگہ متعین کرنا چاہتے تھے، لیکن عمر نے کسی دوسرے آدمی کو متعین کرنے کی تجویز پیش کی اس پر اُوپر والی آیت نازل ہوئی اور یہ حکم دیا کہ تم خدا اور پیغمبر سے آگے نہ بڑھا کرو۔ ( بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١)۔ بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ: مسلمانوں کی ایک جماعت کے لوگ کبھی کبھی یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اس قسم کا معنیٰ ہمارے بارے میں نازل ہوتا تو بہتر تھا، اس پر اوپر والی آیت نازل ہو گئی، اور کہا کہ تم خدا اور اس کے پیغمبرؐ سے آگے نہ بڑھا کرو۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١)۔ بعض دوسروں نے یہ کہا ہے: یہ آیت بعض مسلمانوں کے اعمال کی طرف اشارہ ہے۔ جنہوں نے اپنی عبادت کے مراسم میں سے بعض کو وقت سے پہلے انجام دے دیا تھا تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور انہیں اس قسم کے کاموں سے منع کیا۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١)۔ باقی رہی دوسری آیت تو اس کے بارے میں یہ کہا ہے کہ قبیلہ بنی تمیم کا ایک گروہ اور ان کے اشراف مدینہ میں وارد ہُوئے اور جب مسجد نبوی میں داخل ہُوئے تو بلند آواز کے ساتھ، ان حجروں کے پیچھے سے، جو پیغمبرؐ کی رہائش گاہ تھے، پکار پکار کر کہا: یا محمد اخرج إلینا: "اے محمد! باہر آ"! اس چیخ پکار، اور غیر مودٔبانہ تعبیروں سے پیغمبر کو دُکھ ہوا، جس وقت آپ باہر آئے تو انہوں نے کہا: ہم اس لیے آئے ہیں تاکہ اپنا فخر تجھ پر ظاہر کریں، اجازت دے تاکہ، ہمارا "شاعر" اور "خطیب" بنی تمیم کے افتخارات بیاں کرے پیغمبرؐ نے اجازت دی۔ پہلے ان کا خطیب کھڑا ہوا، اور قبیلہ بنی تمیم کے خیالی فضائل کی بہت سی باتیں بیان کیں۔ پیغمبرؐ نے ثابت بن قیس سے فرمایا۔ (تشریحی نوٹ: ثابت ابن قیس جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و انصار کا مشترکہ خطیب تھا، جیسا کہ حسان حضرتؐ کا خطیب تھا۔ (اسد الغابہ جلد١، صفحہ ٢٢٩)۔ تم ان کا جواب دو، وہ کھڑے ہو گئے اور ان کے جواب میں ایک فصیح و بلیغ خطبہ پیش کیا، جس نے ان کے خُطبہ کے اثر کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد ان کا "شاعر" کھڑا ۂوا، اور اس نے قبیلہ کی مدح میں کُچھ اشعار کہے، جن کا مشہور مُسلمان شاعِر "حسان بن ثابت" نے کافی و شافی جواب دیا۔ اس وقت اس قبیلہ کے اشراف میں سے ایک نے جس کا نام "اقرع" تھا، کہا: اس شخص کا خطیب ہمارے خطیب سے زیادہ توانا ہے اور اس کا شاعر ہمارے شاعر سے زیادہ لائق ہے۔ اور ان کی آواز کی طرز بھی ہم سے برتر و بہتر ہے۔ اس موقع پر پیغمبرؐ نے ان کے دلوں کو مائل کرنے کے لیے حکم دیا تو اچھے اچھے ہدیے انہیں دیئے گئے، ان تمام باتوں کا ان پر بہت اثر ہُوا، اور انہوں نے پیغمبرؐ کی نبوّت کا اعتراف کر لیا۔ زیر بحث آیات پیغمبرؐ کے گھر کے پیچھے انہیں کی چیخ پکار کے بارے میں ہیں۔ ایک دوسری شان ِنزول بھی بیان کی گئی ہے جو پہلی آیت سے بھی مربوط ہے، اور بعد والی آیت سے بھی، اور وہ یہ ہے کہ: ہجرت کے نویں سال جو "عام الوفود" تھا۔ یعنی وہ سال جس میں قبائل کے قسم قسم کے وفود اسلام قبول کرنے یا عہد و پیمان کرنے کے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چنانچہ جس وقت بنی تمیم کے قبیلہ کے نمائندے پیغمبرؐ کی خدمت میں آئے تو ابوبکر نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تجویز پیش کی کہ "قعقاع" کو (جو ان کے اشراف میں سے ایک تھا) آپ کا امیر بنا دیا جائے اور عمر نے یہ تجویز پیش کی کہ "اقرع بن حابس" کو اسی قبیلہ کا ایک دوسرا آدمی امیر بنایا جائے۔ اس موقع پر ابوبکر نے عمر سے کہا، کیا تم میری مخالفت کرنا چاہتے ہو؟ عمر نے کہ، میرا ہرگز مخالفت کا ارادہ نہیں تھا، اس وقت دونوں نے پیغمبرؐ کے سامنے زور زور سے چیخنا چلانا شروع کر دیا، جس پر اوپر والی آیات نازل ہوئیں، یعنی نہ تو کاموں میں پیغمبرؐ سے آگے بڑھو اور نہ ہی پیغمبر کے گھر کے سامنے چیخ پکار کرو۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ٩، صفحہ ٦١٢١ و "تفسیر فی ظلال القرآن" جلد ٧ صفحہ ٥٢٤ و سیرة ابن ہشام، جلد ٤، صفحہ ٢٠٦ سے آگے (کچھ فرق کے ساتھ ) یہ داستان نقل ہوئی ہے ( یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی آ ئی ہے۔ صحیح بخاری جز ٦ صفحہ ١٧٢، سورۂ حجرات کی تفسیر میں)۔
تفسیر پیغمبرؐ کی بارگاہ کے آداب
جیسا کہ ہم نے سُورہ کے مضامین و مطالب کے بیان میں اشارہ کیا ہے اس سُورہ میں اہم اخلاقی مباحث اور انضباطی احکام کا ایک سلسلہ نازل ہوا ہے، جس نے اس کو "سُورہ اخلاق" کہلانے کے لائق بنا دیا ہے، اور زیر بحث آیات میں جو اس سُورہ کے آغاز میں بیان ہوئی ہیں، ان ہی احکام کے دو حصّوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ پہلا خدا و رسول پر کسی چیز میں سبقت نہ کرنا۔ دوسرا پیغمبر کی بارگاہ میں شور و غوغا اور چیخ و پکار نہ کرنا۔ اس کے بعد فرماتا ہے: اے ایمان لانے والوں! کسی چیز کو خدا و رسول سے مقدم نہ کرو، اور خدا کا تقویٰ اختیار کرو، کیونکہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ)۔ خدا اور پیغمبر کے سامنے کسِی چیز کو مقدم نہ کرنے سے مراد کاموں میں اُن سے سبقت نہ کرنا ہے، اور خدا و رسولؐ کے حکم کے مقابلہ میں عجلت اور تیزی اختیار نہ کرنا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے آیت کے مفہوم کو محدُود کرنا چاہا ہے کہ اس کو وقت سے پہلے عبادات کو انجام دینے، یا پیغمبرؐ کے گفتگو کرنے سے پہلے بات کرنے، اور اسی قسم کی دوسری چیزوں میں منحصر سمجھیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ آیت ایک وسیع اور کشادہ مفہوم رکھتی ہے اور ہر قسم کے پروگرام میں ہر قسم کی سبقت کرنا شامل ہے۔ (تشریحی نوٹ: "لَا تُقَدِّمُوا" فعل متعدی کی صورت میں ہے اور اس کا مفعول محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے " لَا تُقَدِّمُوا أمرا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ " کسی کام میں اور اس کے رسُول پر سبقت نہ کرو. بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ فعل یہاں فعل لازم کے معنی میں آ یا ہے اور اس کا مفہو م لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ... ہے اللہ کے سامنے ایک دوسرے پر تقدم نہ کرو۔ اگرچہ یہ دونوں تفاسیر اصول ادبی کے لحاظ سے مختلف ہیں۔لیکن معنی اور نتیجہ کے لحاظ سے ایک ہیں۔ بہرحال، مراد یہ ہے کہ کسی چیز میں اور خدا اور پیغمبرؐ پر سبقت نہ کرو)۔ "پیروکاروں کی پیشواؤں اور رہبروں کے سامنے نظم و ضبط کی ذمہ داری، خصوصاً ایک عظیم رہبر الہٰی کے ضمن میں اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کسی کام میں اور کسی بات اور پروگرام میں ان پر سبقت اور پیش قدمی، اور عجلت اور تیزی نہ کریں۔ البتہ یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ اگر وہ کوئی تجویز سامنے لاتے ہوں یا مشورہ دینا چاہتے ہوں تو وہ بھی رہبر الہٰی کے سامنے پیش نہ کریں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے آگے چل پڑنا، مصمم ارادہ کر لینا، اور کسی کام کو ان کی تصویب سے پہلے انجام دینا۔ یہاں تک کہ مسائل کے بارے میں بھی ضرورت سے زیادہ سوال و گفتگو نہیں کرنا چاہییٔے، بلکہ یہ بات رہبر پر چھوڑ دینی چایئے کہ وہ اپنے موقع و محل پر سائل کو پیش کرے، خصوصاً رہبر معصوم کی صُورت میں جو کسِی چیز سے غفلت نہیں کرتا، اور اگر کوئی اور شخص اس سے سوال کر رہا ہو تو دوسروں کی پیش قدمی اور سبقت کرتے ہُوئے جلدی کر کے سوال کا جواب بھی نہیں دینا چاہیۓ۔ حقیقت میں یہ تمام معانی آیت کے مفہوم میں شامل ہیں۔ بعد والی آیت دوسرے حکم کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتی ہے: "اے ایمان لانے والو! تم اپنی آواز کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو اور اس کے سامنے اونچی آواز کے ساتھ بات نہ کرو، اور داد و فریاد اور چیخ پکار نہ کرو، جیسا کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو، کہ تمہارے اعمال ختم اور نابود ہو جائیں درآنحالیکہ تمہیں خبر بھی نہ ہو۔" (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ)۔ پہلا جُملہ (لا تَرْفَعُوا أَصْواتَکُمْ...) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اپنی آواز کو پیغمبرؐ کی آواز سے اونچی نہ کرو، کیونکہ یہ ان کے حضور میں ایک قسم کی بےادبی ہے، پیغمبرؐ کا تو مقام ہی بلند ہے، یہ کام تو ماں باپ، اور استاد و معلم کے سامنے بھی ادب و احترام کے خلاف ہے۔ باقی رہا جُملہ (لا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ...) مُمکن ہے یہ اُسی پہلے جُملہ کے معنی کی ایک تاکید ہو، یا کسِی نئے مطلب کی طرف اشارہ ہو، اور وہ پیغمبرؐ کو "یا محمد" کے جُملہ کے ساتھ خطاب نہ کرنے اور اس کی بجائے "یا رسول اللہ" کہتا ہو۔" البتہ مفسرین کی ایک جماعت نے ان دونوں جُملوں کے درمیان فرق کے بارے میں اس طرح کہا ہے: پہلا جُملہ تو اس وقت کے بارے میں ہے جب لوگ پیغمبرؐ سے بات کر رہے ہوں، تو ان کی آواز پیغمبرؐ کی آواز سے اونچی نہیں ہونی چاہیے اور دوسرے جُملہ کا تعلق اس موقع سے ہے جب پیغمبرؐ خاموش ہوں، اور لوگ آپ کی بارگاہ میں باتیں کر رہے ہوں، تو اس حالت میں بھی ان کی آواز زیادہ بلند نہیں ہونی چاہیے۔ اس معنی اور سابقہ معنی کو جمع کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے، اور آیت کے شانِ نزول کے ساتھ بھی سازگار ہے۔ بہرحال، آیت کا ظاہر زیادہ تر یہی ہے، کہ وہ دو مختلف مطالب کو بیان کر رہی ہے۔ یہ بات ظاہر اور واضح ہے کہ اگر اس قسم کے اعمال مقامِ شان نبوّت کی توہین کے ارادہ سے ہوں تو موجب کُفر ہیں، اور اس کے بغیر ہوں تو ایذاء و گناہ ہیں۔ پہلی صورت میں تو اعمال کے حبط اور نابودی کی علّت واضح ہے، کیونکہ کُفر علت حبط نیک عمل کے ثواب کے ختم ہونے کا باعث ہے۔ اور دوسرے صورت میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے، کہ اس قسم کا بُرا عمل بہت سے اعمال کے ثواب کی نابودی کا سبب بن جائے، اور ہم پہلے بھی "حبط" کی بحث میں بیان کر چکے ہیں کہ بعض اعمال کے ثواب کا بعض گناہوں کی وجہ سے نابود ہو جانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔جیسا کہ اعمال صالح کی وجہ سے بعض گناہوں کے اشکانابود ہو جانا بھی قطعی و یقینی ہے، اور قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں اس معنی پر بہت سے دلائل موجود ہیں، اگرچہ یہ معنی ایک قانون کلی کی صورت میں تمام "حسنات و سیّئات" میں ثابت نہیں ہوا۔ لیکن بعض اہم "حسنات" اور "سیّئات" کے بارے میں بہت سی منقول دلیلیں موجود ہیں، اور عقلی طور پر بھی اس کے برخلاف کوئی دلیل نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: مسئلہ "حبط" کے بارے میں مزید تشریح جلد١، صفحہ ٥٠٦ (سورہ بقرہ کی آ یہ ٢١٧ کے ذیل میں مطالعہ فرمائیں)۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ جس وقت اوپر والی آیت نازل ہوئی، تو ثابت بن قیس نے (جو پیغمبرؐ کے خطیب تھے اور بلند آواز تھے) کہا: وہ میں تھا جو اپنی آواز کو پیغمبرؐ کی آواز سے بلند کیا کرتا تھا، اور آپؐ کے سامنے اونچی آواز سے خطاب کیا کرتا تھا، پس میرے اعمال نابود ہو گئے ہیں، اور میں اہل دوزخ میں سے ہوں۔ یہ مطلب پیغمبرؐ کے کانوں تک پہنچا تو آپؐ نے فرمایا: "ایسا نہیں ہے، وہ اہل بہشت میں سے ہے (کیونکہ وہ یہ کام مومنین کے لیے خطاب کرتے وقت یا مخالفین کے مقابلہ میں ایک اسلامی وظیفہ و ذمہ داری ادا کرنے کے لیے انجام دیا کرتا تھا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد٩ صفحہ ١٣٠ یہ حدیث مختصر سے فرق کے ساتھ بہت سے مفسرین و مدثین کے کلمات میں، منجملہ ان کے نور الثقلین، صحیح بخاری، تفسیرفی ظلال القرآن اور مراغی میں، آئی ہے)۔ جیسا کہ عباس بن عبدالمطلب نے بھی جنگ ِ "حنین" میں پیغمبرؐ کے حکم سے بلند آواز میں بھاگنے والوں کو واپس لوٹنے کی دعوت دی تھی۔ بعد والی آیت میں، اس موضوع پر مزید تاکید کے لیے، ان لوگوں کے اجر و ثواب کو، جو خدا کے اس دستور پر عمل کرتے ہیں، اور پیغمبؐرکے سامنے انضباط و ادب کی رعایت کرتے ہیں، اس طرح بیان کرتا ہے،: "وہ لوگ جو اپنی آواز پیغمبر کے سامنے دھیمی رکھتے ہیں، ایسے لوگ ہیں، جن کے دلوں کو خدا نے تقویٰ کے لیے خالص اور کشادہ کر دیا ہے اور ان کے لیے مغفرت اور عظیم اجر ہے۔" إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللهِ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "للتّقوٰی" میں "لام" درحقیقت، "لام غایت" ہے نہ کہ "لام علت" یعنی ان کے دلوں کو تقویٰ کو قبول کرنے کے لیے خالص اور آمادہ کرتا ہے، کیونکہ اگر دل خالص نہ ہو اور آلودگیوں سے پاک نہ ہو تو پھر حقیقی تقویٰ اس میں جاگزیں نہیں ہو سکتا)۔ "یغضون"، "غض" (بروزن حظ) کے مادہ سے نگاہ یا صدا کو کم کرنے اور کوتاہ کرنے کے معنی میں ہے، اور اس کے مقابلہ میں نگاہ کو خیرہ کرنا اور آواز کو بلند کرنا ہے۔ "إمتحن"، "إمتحان" کے مادہ سے، اصل میں سونے کو پگھلانے اور غیر خالص کو الگ کرنے کے معنی میں ہے اور بعض اوقات چمڑے کو پھیلانے کے معنی میں بھی آیا ہے، لیکن بعد میں آزمایٔش کے معنی میں استعمال ہونے لگا، جیسا کہ زیر بحث آیت میں ایسی آزمایٔش جس کا نتیجہ دل کا خلوص اور تقویٰ قبول کرنے کے لیے اس میں وسعت کا پیدا ہونا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں "نبی" کی تعبیر ہوئی ہے اور یہاں "رسول اللہ" کی تعبیر ہے، اور دونوں باتیں گویا اس نکتہ کی طرف اشارہ ہیں کہ پیغمبرؐ اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتا، وہ خدا کا بھیجا ہوا اور اس کا پیام لانے والا ہے، لہٰذا اس کے سامنے وہ سوء ادب خدا کے بارے میں سوء ادب ہے اور اس کے لیے ادب کی رعایت کرنا خدا کیلئے ادب کی رعایت کرنا ہے۔ ضمنی طورپر "مغفرة" کی تعبیر نکرہ کی صُورت میں تعظیم و اہمیّت کے لیے ہے، یعنی خدا انہیں کامل و عظیم مغفرت نصیب کرے گا۔ اور گناہ سے پاک ہونے کے بعد انہیں اجرِ عظیم عنایت فرمائے گا۔کیونکہ پہلے تو گناہ سے پاک ہونا پڑتا ہے اس کے بعد خدا کا عظیم اجر حاصل ہوتا ہے۔ بعد والی آیت مزید تاکید کے لیے، ایسے لوگوں کو نادانی اور بےعقلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جو اس حکم الہٰی کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: "جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے بلند آواز کے ساتھ پکارتے ہیں ان میں سے اکثر عقل و خرد سے کورے ہیں۔" (اِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ)۔ یہ کون سی عقلی و خرد ہے کہ انسان خدا کے عظیم ترین سفیر کے سامنے ادب و آداب کی رعایت نہ کرے، اور "بنی تمیم" کے بدووّں کی طرح، بلند اور غیر مؤدبانہ آواز پیغمبرؐ کے گھر کے پیچھے نکالے اور پکار پکار کر کہے: یا محمد! یا محمد! اخرج الینا، اور پروردگار کی اس مہر و عطوفت کے مرکز کو اس طرح سے ایذا اور آزار پہنچائے۔ اصولی طور پر انسان کی عقلی و خرد جتنی بلند ہوتی جاتی ہے اتنا ہی اس کے ادب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، کیونکہ وہ قدروں اور اقتدار کی ضد کو بہتر طور پر سمجھنے لگتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بےادبی ہمیشہ بےعقلی کی نشانی ہوتی ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں بےادبی حیوان کا کام ہے اور ادب انسان کا۔ "أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ" (ان میں سے اکثر سمجھتے نہیں ہیں) کی تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ "اکثر" بعض اوقات لغت میں عرب میں "کل اور سب"کے معنی میں بولا جاتا ہے، لیکن اعتیاط اور ادب کی رعایت کی بناء پر اس تعبیر کو استعمال کرتے ہیں، تاکہ اگر ایک شخص بھی مستثنیٰ ہوا ہو تو اس کا حق بھی ضایٔع نہ ہو، گویا خدا اس تعبیر کے ساتھ فرماتا ہے: میں جو تمہارا پروردگار ہوں، اور ہر چیز پر احاطہ علمی رکھتا ہوں، میں بات کرتے وقت آداب کی رعایت کرتا ہوں تو پھر تو کیوں رعایت نہیں کرتے؟ یایہ کہ واقعاً ان کے درمیان کچھ عقلمند آدمی بھی تھے جو عدم توجہ یا ہمیشہ کی عادت کی بناء پر صدا بلند کرتے تھے، قرآن اس طریقہ سے انہیں تنبیہ کر رہا ہے کہ وہ اپنی عقل و خرد کو کام میں لائیں اور ادب کو فراموش نہ کریں۔ "حجرات"، "حجرہ" کی جمع ہے یہاں ان متعدد کمروں کی طرف اشارہ ہے جو مسجد بنوی کے پہلو میں آپؐ کی ازواج کے لیے تیار کیئے گیئے تھے،اور اصل میں "حجر" (بروزن اجر) کے مادہ سے منع کے میں ہے۔ کیونکہ حجرہ دوسرے لوگوں کے لیے انسان کی زندگی کے حریم میں داخل ہونے سے مانع ہے، اور یہاں "وراء" کی تعبیر باہر کے معنی میں ہے چاہے جس طرف سے ہو، کیونکہ پیغمبر کے حجروں کے دروازے سے مسجدکی طرف کھلتے تھے، اور نادان و جلد باز لوگ بعض اوقات حجرہ کے دروازے کے سامنے آتے، اور یا محمد کہہ کر پکارتے ہیں، قرآن انہیں اس کام سے منع کر رہا ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں اس معنی کی تکمیل کے لیے مزید کہتا ہے: "اگر وہ صبر سے کام لیتے اور اتنا صبر کرتے کہ تم خود نکل کر اُن کے پاس آ جاتے تو ان کے لیے بہتر تھا" (وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكانَ خَيْراً لَهُم)۔ یہ ٹھیک ہے کہ عجلت اور جلد بازی سے بعض اوقات انسان اپنے مقصد تک جلد تر پہنچ جاتا ہے، لیکن ایسے مقام پر صبر و شکیبائی ہی مایہ رحمت و آمرزش اور اجرِ عظیم ہے، اور یقینا یہ اس پر برتری رکھتا ہے۔ اور چونکہ کچھ افراد لاشعوری طور پر پہلے اس قسم کے کام کے مرتکب ہو چکے تھے، اور وہ اس خدائی حکم کے نزول کے ساتھ طبعاً و فطرةً وحشت میں پڑ جاتے، لہٰذا قرآن انہیں یہ خوش خبری دیتا ہے، کہ اگر وہ توبہ کر لیں تو وہ بھی خدا کی رحمت میں شامل ہو جائیں گے۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرماتا ہے،: "اور خدا غفور و رحیم ہے" (وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔
چند نکات ١۔ ادب افضل ترین سرمایہ ہے
اسلام میں ہر شخص اور گروہ سے ملاقات میں احترام ادب سے پیش آنے کی، اور رعایت آداب کے مسئلہ کی بہت زیادہ اہمیت بیان ہوئی ہے، یہاں نمونہ کے طور پر چند احادیث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ١۔ علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ألأدب حللٌ مجددةٌ: "ادب کی رعایت زینت کے نئے فاخرہ لباس کی طرح ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ: حکمت ٥)۔ اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: " ألأدب یغنی عن الحسب": "ادب انسان کو اپنے آباؤ اجداد اور بڑوں پر فخر کرنے سے بےنیاز کر دیتا ہے۔" (بحوالہ" )۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: خمس من لم تكن فيه لم يكن فيه كثير مستمتع! قيل و ما هن يا ابن رسول الله؟ قال: الدّين والعقل والحياء وحسن الخلق وحسن الادب: "پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں ہوں تو وہ قابل ملاحظہ صفات و امتیازات کا حامل نہ ہو گا۔ عرض کیا گیا: اے فرزندِ رسول اللہ وہ کیا ہیں؟ فرمایا: دین و عقل و حیاء حسن خلق و حسن ادب: (بحوالہ: بحار الانوار، جلد٧٥ صفحہ ٦٨)۔ اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں اسی امام سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: " لا يطمعن ذُوالكبر فِى الثّناءِ الحَسَن، وَلَا الخبّ فى كثرةِ الصديق، ولا السيئ الأدب فى الشّرف:۔ "تکبر کرنے والوں کو لوگوں سے ذکرِ خیر کی ہرگز توقع نہیں رکھنی چاہیے ، اور نہ ہی دھوکہ باز اور مکار لوگوں کو دوستوں کی کثرت کی امید رکھنی چاہیے، اور نہ ہی بے ادب لوگوں کو عزت و آبرو اور شرف و بزرگی کی توقع کرنی چاہیے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد٧٥ صفحہ ٦٧)۔ اسی بناء پر جب ہم اسلام کے عظیم رہنماؤں کی زندگی میں غور کرتے ہیں تو ہم وہ دیکھتے ہیں کہ وہ ادب سے متعلق دقیق ترین نکات کی اپنے سے چھوٹے افراد تک کے لیے بھی رعایت کرتے تھے۔ اصولی طور پر دین آداب کا ایک مجموعہ ہے: خدا کے لیے ادب پیغمبرؐ کے سامنے ادب، آئمہ معصو مین علیہم السلام کے سامنے ادب استاد و معلم، ماں باپ اور عالم و دانش مند کے سامنے ادب۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا اپنے اس مقام عظمت کے باوجود، جب اپنے بندوں سے بات کرتا ہے تو آداب کی پورے طور پر رعایت کرتا ہے۔ جب صورت حال یہ ہو تو پھر خدا اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لوگوں کی ذمہ داری واضح اور روشن ہے۔ ایک حدیث میں منقول ہے: "جس وقت سُورۂ مؤمنون کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، اور انہیں آداب اسلامی کے دستور میں رکھا، جن میں سے ایک نماز میں خشوع کا مسئلہ تھا، تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پہلے نماز کے وقت آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتے تھے، پھر کبھی سر بھی اُٹھایا اور پھر آپؐ ہمیشہ زمین ہی کی طرف نظر رکھتے تھے،۔ (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان"، "تفسیر فخررازی" سُورہ مومنون کی آیہ ٢ کے ذیل میں)۔ پیغمبرؐ خدا کے بارے میں بھی یہ موضوع اس حد تک اہم ہے کہ قرآن اوپر والی آیات میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ پیغمبرؐ کی آواز سے آواز بلند کرنا، اور ان کے سامنے شور و غل مچانا حبط اعمال کا موجب اور ثواب کے ختم ہونے کا سبب ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ پیغمبرؐ کے سامنے صرف اس نُکتہ کی رعایت ہی کافی نہیں ہے، بلکہ دوسرے ایسے امور بھی جو سوء ادب کے لحاظ سے آواز بلند کرنے اور شور و غُل مچانے کے مانند ہیں وہ بھی آپ کی بارگاہ میں ممنوع ہیں، اور فقہی اصطلاح میں یہاں "القاء خصوصیّت" اور "تنقیح مناط" کرنی چاہییٔے، اور اس کے اشباہ و نظائر یعنی مِلتی جلتی باتوں کو بھی اس سے ملحق کرنا چاہتے۔ سورۂ نُور کی آیہ ٦٣ میں بھی یہ بیان ہوا ہے: لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا، مفسرین کی ایک جماعت نے اس کی یوں تفسیر کی ہے: "جس وقت تم پیغمبر کا پکارتے ہو تو ایسے ادب و حترام کے ساتھ اُسے پکارا کرو جو اس کے لائق ہے، نہ کہ اس طرح سے جیسے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔" قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن اوپر آیات میں پیغمبرؐ کے سامنے ادب کی رعایت کو دل کی پاکیزگی، تقویٰ کو قبول کرنے کی آمادگی کی نشانی، اور بخشش و آمرزش اور اجرِ عظیم کا سبب شمار کرتا ہے، جبکہ بےادب لوگوں کو بےعقل چوپایوں کے مانند بتاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مفسرین نے زیر بحث آیات کو وسعت دیتے ہُوئے یہ تک کہا ہے کہ یہ بات نچلے مراحل و امراتب مثلاً علماء، دانش مندوں اور فکری و اخلاقی رہبروں پر بھی عایٔد ہوتی ہے اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اُن کے سامنے بھی آداب کے رعایت کریں۔ البتہ ائمہ معصومینؑ کے سامنے تو یہ مسئلہ اور بھی زیادہ واضح ہے، یہاں تک کہ ان روایات میں جو اہل بیتؑ کے طریقے سے ہم تک پہنچی ہیں یہ بیان ہوا ہے: جب ایک صحابی جنابت کی حالت میں آپؐ کی خدمت میں آیا تو امامؑ نے بغیر تمہید کے فرمایا: " أَ مَا تعلمُ أنّه لاينبغى للجنب أن يّدخل بيوت الأنبياء:؟! "کیا تمہیں یہ علم نہیں ہے کہ کسی جنابت والے کے لیے انبیاء کے گھر میں داخل ہونا مناسب نہیں ہے۔"؟ ( بحوالہ: بحار الانوار، جلد٢٧ صفحہ ٢٥٥)۔ اور دوسری روایت میں "إنّ بیوتَ الأنبیاء وَأولادُ الأنبیاء لا یدخلھا الجنب" کی تعبیر ہوئی ہے جو ابنیاء کے گھروں کے لیے بھی ہے کہ اور اولاد انبیاء کے گھروں کے لیے بھی" مختصراً یہ ہے کہ چھوٹوں اور بڑوں کے سامنے ادب کی رعایت کا مسئلہ اسلامی احکام کے ایک اہم حصہ پر مشتمل ہے، اگر ہم ان سب پر بحث کرنا چاہیں تو تفسیر آیات کی حد سے باہر ہو جائیں گے، ہم یہاں اسی بحث کو امام سجاد علی ابن الحسین علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ، جو رسالہ حقوق میں اُستاد کے سامنے ادب کی رعایت کے بارے میں ہے، ختم کرتے ہیں،آپؑ نے فرمایا: "اس شخص کا حق جو تجھے تعلیم دیتا ہے، اور تربیت کرتا ہے یہ ہے کہ تو اس کا احترام کرے، اس کی مجلس کو محترم شمار کرے اس کی باتیں کامل طور سے کان دھر کے سُنے، اس کے رُو برو مؤدّب ہو کر بیٹھے، اپنی آواز کو اس کی آواز سے بلند نہ کرے، اور جب کوئی اس سے سوال کرے تو جواب دینے میں جلدی نہ کرے، اِس کے حُضور میں کسی سے باتیں نہ کرے اور اس کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرے، اگر اس کے پیٹھ پیچھے کوئی اسے بُرا بھلا کہے تو اس کا دفاع کرے، اور اس کے عیوب کو چھپائے اور اس کے فضائل کو آشکار کرے، اس کے دشمن کے پاس نہ بیٹھے اور اس کے دوستوں کو دشمن نہ رکھے، جس وقت تو ایسا کرے گا تو خدا کے فرشتے گواہی دیں گے کہ تواس کے پاس گیا ہے اور خدا کے لیے تو نے اُس سے علم حاصل کیا ہے نہ کہ مخلوقِ خدا کے لیے۔ (بحوالہ: "محجتہ البیضاء" جلد ٣ صفحہ٤٥٠ (باب آداب الصحبة المعاشرہ)۔
٢۔ پیغمبر(ص) کی قبر کے پاس آ واز بلند کرنا
علماء اور مفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ زیر بحث آیات جس طرح پیغمبرؐ کی زندگی میں ان کے پاس آواز بلند کرنے سے منع کرتی ہیں اسی طرح ان کی وفات کے بعد کے زمانہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ (بحوالہ: "رُوح المعانی" جلد ٢٦ صفحہ ١٢٥)۔ اگر ان کی مراد آیت کی عبارتوں کا شمول ہے تو ظاہر آیت رسولؐ اللہ کے زمانہ حیات کے ساتھ مخصوص ہے۔ کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ اپنی آواز کو آپؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور یہ اسی صُورت میں ہو گا۔ جب پیغمبرؐ حیاتِ جسمانی رکھتے ہوں اور یہ بات کر رہے ہوں۔ اور اگر اس سے مراد مناط و فلسفۂ حکم ہو، جو اس قسم کے موقع پر ظاہر و واضح ہے، اور اہل عرف نگارِ خصوصیت کرتے ہوں، تو پھر تعمیم مذکور بعید نظر نہیں آتی کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ یہاں ہدف و مقصد پیغمبرؐ کی ساخت قدس میں ادب و احترام کی رعایت ہے۔اس بناء پر جب پیغمبرؐ کی قبر کے پاس آواز بلند کرنا ایک قسم کی بےاحترامی اور ہتک حرمت ہو تو بلاشک و شبہ یہ بات جایٔز نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ اذان نماز کی صورت میں ہو، یا تلاوت قرآن یا خُطبہ اور اس کے مانند دوسرے بیانات ہوں تو اس قسم کے مواقع پر نہ تو پیغمبر کی زندگی میں یہ بات ممنوع ہے اور نہ ہی وفات کے بعد۔ اصول کافی میں ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے اُس واقعہ کے بارے میں منقول ہے، جو وفات امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر اس ممانعت کے سلسلہ میں، جو حضرت کے جوار پیغمبرؐ میں دفن ہونے کے بارے میں عائشہ نے کی تھی، اور اس پر ایک چیخ پکار بلند ہوئی تو امام حسین علیہ السلام نے "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ... کی آیت سے استدلال کیا اور رسولِؐ خدا سے یہ جُملہ نقل فرمایا: إن اللَّه حرم من المؤمنين أمواتا مَا حرم مِنهم أحياء خدا نے مومنین کے لیے جو کچھ حال حیات میں حرام کیا ہے وہ ان کی موت کے بعد بھی حرام کیا ہے، (بحوالہ: اصول کافی مطابق نقل نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ٨٠)۔ یہ حدیث آیت کے مفہوم کی عمومیت کی ایک اور گواہ ہے۔
٣۔ ہر چیز میں اور ہر جگہ انضباط اسلامی
مدیریت اور انتظام کا مسئلہ، نظم و ضبط کا پاس رکھے بغیر کبھی بھی درست نہیں ہے۔ اگر وہ لوگ جو کسی مدیر و رہبر کے ماتحت ہوں خود سرانا عمل کریں تو تمام کاموں کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ چاہے رہبر کتنا ہی لائق و شائشتہ کیوں نہ ہو۔ بہت سی شکستیں اور ناکامیاں اور جو بہت سے گروہوں، جمعیتوں یا لشکروں کو دامن گیر ہوئی ہیں وہ سب اسی راہ گزر سے ہوئی ہیں اور مُسلمانوں نے بھی اس دستور سے تخلف کا تلخ مزہ پیغمبرؐ کے زمانہ میں اور اس کے بعد بارہا چکھا ہے، جن میں سے سب سے زیادہ واضح جنگ، احد کی شکست ہے جو ایک تھوڑے سے جنگجو گروہ کی بےقاعدہ گی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ قرآن مجید نے اس حد سے زیادہ اہم مسئلہ کو، اوپر والی آیات میں مختصر سی عبارتوں میں جامع اور پرکشش صُورت میں پیش کیا ہے، اور کہتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ ۔ جیساکہ ہم بیان کر چکے ہیں، آیت کے مفہوم کی وسعت اس قدر زیادہ ہے کہ وہ ہر قسم کے “تقدّم” و “تأخّر” اور خود سرانہ گفتار و رفتار کو رہبری کے دستور سے خارج ہو، شامل ہے۔ ان حالات میں پیغمبرؐ کی زندگی کی تاریخ میں زیادہ مواقع ایسے نظر آتے ہیں، کہ کچھ لوگوں نے آپ علیہ السلام کے فرمان پر سبقت کی، یا پیچھے رہ گئے اور آپ کی اطاعت سے رُوگردانی کی، تو شدید ملامت و سرزنش کا محل قرار پائے، منجملہ ان کے یہ ہے کہ: ١۔ جس وقت پیغمبرؐ فتح مکہ کے لیے روانہ ہُوئے (تو اس وقت ہجرت کے آٹھویں سال کا) ماہ مبارک رمضان تھا اور بہت زیادہ جمعیّت آپؐ کے ہمراہ تھی، ایک گروہ سوار اور ایک پیادہ تھا، جس وقت آپ کراع الغمیم کی منزل پر پہنچے توآپؐ کے حکم سے پانی کا برتن لایا گیا، اور حضرت نے اپنا روزہ افطار کیا، آپؐ کے ہمراہیوں نے بھی افطار کیا، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک گروہ نے آپؐ سے سبقت کی اور افطار کرنے پر تیار نہ ہُوا اور اپنے روزے پر قائم رہے، تو پیغمبرؐ نے انہیں "عصاة" (یعنی گناہ گاروں کا گروہ) نام دیا۔ (تشریحی نوٹ: اس حدیث کو بہت سے مؤرخین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ منجملہ وسائل کی جلد ٧، صفحہ ١٢٥ (ابواب من یصحّ منه الصّوم) ( تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)۔ ٢۔ دوسرا نمونہ "حجة الوداع" کی داستان میں ہجرت کے دسویں سال میں واقع ہوا۔ پیغمبرؐ نے منادی کو یہ ندا کرنے کا حُکم دیا کہ جو شخص قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لایا وہ پہلے "عمرہ" بجا لائے اور احرام سے خارج ہو جائے، اس کے بعد مراسم حج بجا لائے، لیکن جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ لائے ہیں (اور ان کا حج، حج فراد ہے) وہ اپنے احرام پر برقرارر ہیں۔ اس کے بعد آپؐ نے مزید فرمایا، اگر میں قربانی کے اونٹ ہمراہ نہ لایا ہوتا، تو میں عمرہ کی تکمیل کرتا اور احرام سے خارج ہو جاتا، لیکن ایک گروہ نے اس حکم کو انجام دینے سے روگردانی کی اور یہ کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیغمبرؐ تو اپنے احرام پر باقی رہے اور ہم احرام سے خارج ہو جائیں؟ کیا یہ بُری بات نہیں ہے کہ ہم مراسم حج کی طرف عمرہ بجا لانے کے بعد جائیں، جبکہ غسل (جنابت) کے پانی کے قطرات ہم سے گر رہے ہوں۔ پیغمبرؐ اس تخلف اور بےانضباطی سے سخت رنجیدہ ہُوئے اور سختی کے ساتھ سرزنش کی۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ٢١، صفحہ ٣٨٦ تخلیص کے ساتھ)۔ ٣۔ پیغمبرؐ کی وفات کے قریب لشکر اسامہ سے تخلف کی داستان مشہور ہے کہ آنحضرت نے مسلمانوں کوحکم دیا کہ اسامہ بن زید کی کمان میں رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آمادہ ہوں اور مہاجرین و انصار کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اس لشکر کے ساتھ جائیں۔ شاید آپ کا منشاء یہ تھا کہ آپؐ کی رحلت کے وقت وہ مسائل جواہر خلافت میں واقع ہُوئے وہ نہ ہوں، یہاں تک کہ آپؐ لشکرِ اسامہ سے تخلف کرنے والوں پر لعنت فرمائی، لیکن اس کے باوجود ایک گروہ نے جانے سے روگردانی کی اور بہانہ یہ کیا کہ ہم پیغمبر کو ایسے حالات میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ (تشریحی نوٹ: اس ماجرے کو بہت سی کتب تواریخ اسلامی میں لکھا گیا ہے اور یہ تاریخِ اسلام کے اہم حوادث میں سے ہے، (مزید اطلاع کے لیے المراجعات کے مراجعہ ٩٠ کی طرف رجوع کریں)۔ ۴۔ پیغمبرؐ گرامی اسلام کی زندگی کے آخری لمحات میں قلم و دوات کی داستان بھی مشہور اور ہلا دینے والی ہے، بہتر یہ ہے کہ ہم صحیح مسلم کی اصل عبارت کی یہاں نقل کر دیں۔ " لمّا حَضَر رسول الله وفِى البيت رجالٌ فيهم عمربن الخطاب فقال النّبى (ص) هلم أكتب لكم كتابًا لا تضلّونَ بعده، فقال عمر إنّ رسول الله (ص) قد غلب عليه الوجع! وَعندكم القرآن، حسبنا كتاب الله! فاختلفَ أهلَ البَيت، فَاختَصمُوا، فَمِنهُم مَن يَقُولَ قرّبُوا يَكتُبُ لَكُم رَسُول الله (ص) كتابا لَن تَضِلّوا بَعدَه، وَمِنهُم مَن يّقول مَا قال عمر، فَلمّا اكثروا اللّغو وَالإختلاف عندَ رسولِ الله (ص) قال رسول الله قوموا!۔ "جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس وقت ایک گروہ آپ کے پاس گھر میں موجود تھا جن میں عمر بن الخطاب بھی تھا، پیغمبرؐ نے فرمایا کہ کاغذ لے آؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایسی چیز لکھ جاؤں جس کے بعد تم ہرگز ہر گمراہ نہ ہو گے، عمر نے کہا، بیماری نے پیغمبر پر غلبہ کیا ہے.... (العیاذاً باللہ ناموزوں باتیں کر رہے ہیں)۔ قرآن تمہارے پاس ہے اور یہی خدا کی کتاب ہمارے لیے کافی ہے۔ تو اس وقت گھر میں موجود لوگوں میں اختلاف پڑ گیا، بعض نے کہا کہ لے آؤ تاکہ پیغمبرؐ۔۔۔۔۔۔ اپنی تحریر لکھ دیں تاکہ تم ہرگز گمراہ نہ ہو، جبکہ بعض دوسرے عمر کی بات کا تکرار کر رہے تھے، جس وقت ناموزوں باتیں اور اختلاف بڑھ گئے، تو پیغمبرؐ نے فرمایا: اُٹھ جاؤ، اور مجھ سے دُور ہو جاؤ۔ (بحوالہ: صحیح مسلم، جلد٣، کتاب الوصیہ، حدیث ٢٢ (صفحہ ١٢٥٩)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بعینہ یہی حدیث مختصر سے تفاوت اور فرق کے ساتھ بخاری نے بھی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: صحیح بخاری، جلد ٦، باب مرض الہٰی و وفاة، صفحہ ١١)۔ یہ ماجرا تاریخِ اسلام کے اہم حوادث میں سے ہے، جس کے لیے بہت زیادہ تجزیہ اور تحلیل کی ضرورت ہے، اور یہاں اس کی تشریح کا موقع نہیں ہے، لیکن بہرحال، یہ واقعہ پیغمبرؐ کے حکم سے خلاف ورزی کے واضح ترین مواقع اور زیر بحث آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ: کی مخالفت کے روشن ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس اسلامی اور الہٰی نظم و ضبط کی رعایت کے لیے رہبر پر محکم ایمان رکھنے، اور اس کی زندگی کے تمام حالات میں اس کی رہبری کو قبول کرنے اور رہبری کو قبول کرنے اور رہبر کی اطاعت کرتے ہُوئے کامل طور پر سرتسلیم خم کرنے کی ضرورت ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7پہلی زیر بحث آیت کی تفسیر میں دو شانِ نزول بیان کی گئی ہیں۔ بعض نے تو جیسے طبرسی نے مجمع البیان میں دونوں کا ذکر کیا ہے، اور بعض نے جیسے "قرطبی" و "نور الثقلین" و "فی ضلال قرآن" صرف ایک ہی پر ایک اکتفا کیا ہے۔ پہلی شانِ نزول جسے اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے، یہ ہے کہ: آیہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جسے پیغمبرؐ نے قبیلئہ "بنی المصطلق" کی زکات جمع کرنے کے لیے بھیجا تھا، جس وقت اہل قبیلہ کو پتہ چلا کہ رسولؐ اللہ کا نمائندہ آ رہا ہے تو وہ بہت خوش ہُوئے اور اس کے استقبال کے لیے دوڑے، لیکن چونکہ ان کے اور ولید کے درمیان زمانۂ جاہلیت میں سخت دشمنی تھی، تو اس نے خیال کیا کہ وہ اُسے قتل کرنے کے ارادہ سے آ رہے ہیں۔ وہ (اپنے اس گمان کی تحقیق کیے بغیر ہی) پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پلٹ آیا اور عرض کیا، کہ انہوں نے زکات ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے، (اور ہم جانتے ہیں کہ زکات ادا کرنے سے انکار حکومتِ اسلامی کے خلاف ایک طرح کی بغاوت سمجھی جاتی تھی، تو اس بناء پر وہ اس بات کا مدعی تھا کہ وہ مرتد ہو گئے ہیں)۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر سخت غصّہ آیا اور اُن سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا تو اُوپر والی آیت نازل ہوئی، اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ جس وقت کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کر لیا کرو۔ (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان" جلد٩صفحہ ١٣٢)۔ بعض نے اس پر مزید کہا ہے کہ ولید کی طرف سے "قبیلہ بنی المصطلق" کے ارتداد کی خبر دینے کے بعد پیغمبرؐ نے "خالد بن ولید بن مغیرہ" کو قبیلہ "بنی المصطلق" کی طرف بھیجا اور یہ حکم دیا کہ جلد بازی میں کوئی کام نہ کر بیٹھنا۔ "خالد" راتوں رات قبیلہ کے قریب پہنچ گیا، اور اطلاع دینے والے مامورین کو تحقیق کے لیے بھیجا، انہوں نے آ کر خبر دی کہ بنی المصطلق مکمل طور پر اسلام کے وفادار ہیں، اور ان کی اذان و نماز کی صدا انہوں نے اپنے کانوں سے سُنی ہے، صبح کے وقت خالد خود ان کی طرف گیا اور خبر دینے والوں کی گفتار کی صداقت ملاحظہ کی وہ پیغمبرؐکی خدمت میں پلٹ آیا اور ماجرا بیان کیا تو اس وقت اوپر والی آیت نازل ہوئی، اور اس کے ساتھ ہی پیغمبرؐ نے فرمایا: التانى من الله، والعجلة من الشيطان: "تاخیر و تحقیق کرنا خدا کی طرف سے ہے اور جلد بازی سے کام لینا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر"قرطبی" ، جلد ٩، صفحہ ٦١٣١)۔ دوسری شان نزول جِسے صرف بعض مفسرین نے نقل کیا ہے، یہ ہے کہ یہ آیت "ماریہ" زوجہ پیغمبرؐ (والدہ ابراہیم) کے بارے میں نازل ہوئی ہے،کیونکہ کچھ لوگوں نے پیغمبرؐ کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ اس کا ایک چچا زاد بھائی ہے جو کبھی کبھی اس کے پاس آتا ہے (اور ان دونوں میں غیر مشروع تعلقات ہیں) پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کو بلایا۔ اور فرمایا: اے میرے بھائی! یہ تلوار لو، اگر تم اس کو ماریہ کے پاس دیکھو تو اُسے قتل کر دو۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے عرض کیا، اے خدا کے رسول کیا میں "گرم کئے ہُوئے سکہ (تشریحی نوٹ: "سکہ" عربی زبان میں اس وسیلہ اور آلہ کے معنی میں ہے جس کے ذریعہ، ہم دینار وغیرہ پر نقش کرتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے اُسے آگ میں گرم کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنا نقش مکمل طور پر درہم و دینار پر منتقل کر دے، اس تعبیر سے مراد یہ ہے کہ حکم کو بےچون و چرا اور کسی تحقیق کے بغیر! اجرا کیا جائے)۔ کی طرف مامور ہوں کہ آپ کے حکم کو عملی جامہ پہناؤ (یا جو کچھ حاضر شخص دیکھتا ہے وہ غائب نہیں دیکھتا) مزید تحقیق کر کے ذمہ داری کو پورا کروں۔ فرمایا: نہیں! بلکہ اس بنیاد پر کہ حاضر اس چیز کو دیکھتا ہے جسے غائب نہیں دیکھتا، عمل کرو۔ علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے تلوار کمر سے باندھی اور اس کی طرف آیا، میں نے دیکھا کہ وہ ماریہ کے باس ہے، اور میں نے تلوار کھینچی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا، اور ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گیا، اس کے بعد اس نے) اپنے آپ کو اس سے نیچے گرا دیا، اسی دوران اس کا پیراہن (کرتا) اُوپر اُٹھ گیا، تو معلوم ہوا، کہ وہ تو اصلاً جنسی عضو رکھتا ہی نہیں، میں پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ماجرے کی تفصیل بیان کی تو پیغمبرؐ نے فرمایا: خدا کا شُکر ہے کہ اس نے بدی، آلودگی اور اتہام کو ہمارے دامن سے دُور کر دیا ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد٩ صفحہ ١٣٣، تفسیر نور الثقلین میں بھی یہ شانِ نزول اس سے زیادہ تفصیلی صورت میں بیان ہوئی ہے (جلد٥، صفحہ٨١)۔
تفسیر فاسقوں کی خبروں پر اعتبار نہ کرو
گزشتہ آیات میں مسلمانوں اور ان کے پیشوا پیغمبرؐ کے مقابلہ میں وظائف اور ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو تھی، اور اس میں دو اہم احکام بیان ہُوئے تھے، ایک خدا اور پیغمبرؐ پر کسی کام میں سبقت نہ کرنا اور دوسرا پیغمبرؐ کی بارگاہ میں گفتگو کرنے اور آپؐ کو آواز دینے کے وقت ادب و احترام کا خیال رکھنا۔ زیر بحث آیات اس عظیم رہبر کے سامنے اُمّت کے وظائف اور ذمہ داریوں کو جاری رکھتے ہُوئے کہتی ہیں، کہ جس وقت تم اس کی خدمت میں خبریں لے کر آؤ تو ان کی بنیاد تحقیق پر ہونی چاہیے اور اگر کوئی فاسق آدمی کسی چیز کی خبر دے، تو بغیر تحقیق کے اُسے قبول نہ کریں، اور پیغمبرؐ پر اُسے قبول کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں۔ پہلے فرماتا ہے: "اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کر لیا کرو (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا)۔ اس کے بعد اس کی علّت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: کہیں ایسا نہ ہو کہ بغیر تحقیق عمل کرنے کی صورت میں کسی گروہ کو نادانی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، اور پھر اپنے کیے پر تمہیں پشیمان ہونا پڑے": (أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُواعَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ)۔ جیسا کہ پیغمبرؐ اگر ولید بن عقبہ کے کہنے پر عمل کر لیتے اور قبیلہ "بنی المصطلق" کے ساتھ ایک مرتد قوم کی حیثیت سے جنگ کرتے تو پھر دردناک فاجعہ اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا، بعد والی آیت کے لب و لہجہ سے یہ معلوم ہوتا ہے، کہ ایک گروہ اس جنگ کرنے پر اصرار کر رہا تھا، قرآن کہتا ہے: یہ تمہارے لیے شائستہ نہیں ہے یہ عین جہالت اور نادانی ہے اور اس کا انجام ندامت و پشیمانی ہو گا۔ عُلماء علم اصول کے ایک گروہ نے خبر واحد حجت پر اس آیت سے استدالال کیا ہے، کیونکہ آیت یہ کہتی ہے کہ فاسق کی خبر میں تحقیق و تلاش لازمی و ضروری ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ شخصِ عادل خبر دے تو اُسے بغیر تحقیق کے قبول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس استدلال پر بہت سے اعتراضات ہُوئے، جن میں سے دو زیادہ اہم ہیں: باقی کوئی خاص اہمیّت نہیں رکھتے۔ پہلا یہ کہ: اوپر والا استدلال وصف کے مفہوم کی حجیت کو قبول کرنے پر موقوف ہے جبکہ مشہور یہ ہے کہ وصف کا مفہوم حجت نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے گمان کیا ہے کہ یہاں مفہو م شرط کے قبیل میں سے ہے، اور مفہوم شرط حجت ہے، حالانکہ یہ مفہوم شرط کے ساتھ کوئی ارتباط نہیں رکھتا، علاوہ ازیں، یہاں جُملہ شرطیہ موضوع کو بیان کرنے کے لیے ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کے موقعوں پر "جُملہ شرطبیہ" بھی مفہوم نہیں رکھتا، (غور کیجئے گا)۔ دوسرا یہ کہ: جو علّت آیت کے ذیل میں بیان ہوئی ہے وہ اس قدر وسعت رکھتی ہے کہ عادل اور فاسق دونوں کی خبر کو شامل ہے کیونکہ ظنی خبر پر عمل، چاہے جو بھی ہو پشیمانی اور ندامت کا احتمال رکھتا ہے۔ لیکن یہ دونوں اعتراض قابلِ حل ہیں،کیونکہ مفہوم وصف اور ہر دوسری قید، ایسے موقعوں کے لیے جو اصطلاح کے مطابق، کسی مسئلہ کے قیود اور مقام احتراز کو بیان کرنے کے لیے ہوں، حجّت ہوتی ہے، اور اُپر والی آیت میں اس قید (قید فاسق) کا ذکر ظہور عرفی کے مطابق خبر عادل کی حجت کے بیان کے سوا اور کوئی قابلِ ملاحظہ فائدہ نہیں رکھتا۔ لیکن وہ علّت جو آیت کے ذیل میں بیان ہوئی ہے۔ ہر قسم کی ادلہ "ظنیہ" کو شامل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایسے مواقع کے لیے ہے کہ جہاں عمل جاہلانہ یا سفیھانہ ہو، کیونکہ آیت میں "جہالت" کے عنوان پر تکیہ ہوا ہے، اور ہم جانتے کہ زیادہ تر اولہ کہ جہاں عمل جاہلانہ یا سفیھانہ اور احمقانہ ہو، کیونکہ آیت میں "جہالت" کے عنوان پر تکیہ ہوا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ زیادہ تر اولہ جن پر تمام عقلاء عالم روز مرّہ کی زندگی میں تکیہ کرتے ہیں ظنی دلائل ہی ہیں (ظواہر الفاظ، قول شاہد، قول اہل خبره، قول ذوالید وغیرہ کے قبیل سے)۔ معلوم ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بات جاہلانہ اور سفیانہ شمار نہیں ہوتی، اور اگر وہ کبھی کبھار واقع کے مطابق نہ بھی ہو تو پھر بھی اس میں ندامت کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا، کیونکہ یہ ایک عمومی راستہ ہے۔ بہرحال، ہمارے نظریہ کے مطابق یہ آیت ان محکم آیات میں سے ہے، جو خبر واحد کی حجیت پر یہاں تک کہ موضوعات میں بھی دلالت کرتی ہے، اور اس سلسلہ میں بہت زیادہ مباحث ہیں، جن کی تشریح و تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کہ مثق کہ موثق اخبار پراعتماد کے ذ ریعہ ہی بشر کی زندگی کی تاریخ کی بنیاد قائم ہے، اس طرح سے کہ اگر حجیّت خبر عادل یا موثق کا مسئلہ انسانی معاشرے میں سے حذف ہو جائے تو بہت سے گزشتہ علمی مواریث، اور انسانی معاشروں سے مربوط اطلاعات، یہاں تک کہ بہت سے ایسے مسائل جن کے ہاتھ ہم آج اپنے معاشروں میں تعلق رکھتے ہیں، کلی طور پر حذف ہو جائیں گے، اور نہ صرف انسان پیچھے کی طرف پلٹ جائے گا، بلکہ اس کی موجودہ زندگی کی ترقی کی رفتار بھی رُک جائے گی، لہٰذا تمام عقلاء کا اس کی حجیّت پر اجماع ہے اور شارع مقدس نے بھی قولاً عملاً اس کی تصدیق فرمائی ہے۔ لیکن جتنا ثقہ خبر واحد کی حجیّت، زندگی کو سامان بخشتی ہے، اتنا ہی غیر موثق اخبار بر تکیہ کرنا، بہت خطرناک، اور معاشروں کے نظام کے بکھر جانے کا موجب ہے جو بہت سے مصائب کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے، لوگوں کے حقوق اور حیثیت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے، اور انسان کو بےراہ روی اور انحراف کی طرف کھینچ لے جاتا ہے، اور زیر بحث آیت میں قرآن کی عمدہ تعبیر کے مطابق، انجام کار ندامت کا سبب بنتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے، کہ جھوٹی خبریں گھڑنا، اور غیر موثقِ اخبار پر تکیہ قدیمی جبار اور استعماری نظاموں کے حربوں میں سے ایک ہے، جس کے ذریعہ وہ ایک جھوٹی فضا پیدا کر کے بےخبر اور نا آگاہ لوگوں کو، فریب اور غفلت میں رکھ کر، انہیں گمراہ کرتے ہیں اور ان کے سرمایہ کو لوٹ لے جاتے ہیں۔ اگر مُسلمان وقت کے ساتھ اس خدائی حکم پر جو اس آیت میں وارد ہوا ہے، عمل کریں، اور فاسقوں کی خبروں کو بغیر تحقیق و تفتیش کے قبول نہ کریں تو ان عظیم بلاؤں سے بچ جائیں گے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اہم مسئلہ خود خبر پر وثوق و اعتماد کا ہے، البتہ کبھی تو یہ وثوق خبر دینے والے کی ذات پر اعتماد کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، اور کبھی دوسرے خارجی قرائن کے ذریعہ، اسی لیے کچھ موقعوں پر باوجود اس کے کہ خبر دینے والا فاسق ہوتا ہے، ہم اس کی خبر پر اعتماد پیدا کر لیتے ہیں۔ اس بناء پر یہ وثوق و اعتماد جہاں کہیں سے حاصل ہو. چاہے بیان کرنے والے کی عدالت، تقویٰ، اور صداقت سے حاصل ہو یا قرائن خارجی سے، وہ ہمارے لیے معتبر ہے، اور عقلاء کی سیرت بھی، جو شریعت اسلامی کی تصدیق کرتی ہے، اسی بنیاد پر قائم ہے۔ اسی بناء پر ہم فقہ اسلامی میں دیکھتے ہیں کہ بہت سے اخبار جن کی سند ضعیف ہے، چونکہ وہ عمل مشہود قرار پا چکے ہیں، اور وہ مختلف قرائن کی بناد پر اس اس خبر کی صحت سے واقف ہُوئے ہیں۔ لہٰذا یہی معیار عمل قرار پایا ہے اور اسی کے مُطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض اوقات ایسے اخبار نقل ہُوئے ہیںجن کا بیان کرنے والا معتبر شخص ہے، لیکن خارجی قرائن ہمیں اس خبر کی نسبت بدگمان کر دیتے ہیں، یہ وہ منزل ہے کہ ہمارے لیے اس خبر کو چھوڑنے کے سوا اور کوئی چارئہ نہیں ہے، اگرچہ اس خبر کے بیان کرنے والا شخص عادل و معتبر ہے۔ اس بناء پر جگہ معیار خود(خبر) پراعتماد ہے، اگرچہ عام طور پر راوی کی عدالت و صداقت اس اعتماد کا ایک وسیلہ و ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن یہ کوئی قانون کلی نہیں ہے (غور کیجیے)۔ بعد والی آیت میں ایک اہم مطلب کی تاکید کے لیے جو گزشتہ آیت میں بیان ہوا تھا، مزید کہتا ہے: "تم یہ جان لو کہ رسول تمہارے درمیان میں ہے، اگر وہ بہت سے امور میں تمہاری اطاعت کرنے لگے، تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے" (وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ)۔ (تشریحی نوٹ: "لعنتّم"، "عنت" کے مادہ سے، ایسے کام میں پڑنے کے معنی میں ہے کہ انسان جس کے عواقب سے ڈرتا ہے، یا ایسا کام ہے جس میں مشقت ہو ، اور اسی بناء پر جب ٹوٹی ہڈی پر دباؤ پڑے، اور اس سے درد و تکلیف پیدا ہو، تو اُسے "عنت" کہا جاتا ہے)۔ یہ جُملہ۔ جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے۔ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے، کہ قبیلہ بنی المصطلق کے مرتد ہونے کے بارے میں ولید کی خبر دینے کے بعد، ظاہربین اور سادہ دل مُسلمانوں کا ایک گروہ، پیغمبرؐ پر یہ دباؤ ڈال رہا تھا، کہ وہ قبیلہ مذکور کے برخلاف جنگ کا اقدام کریں۔ قرآن کہتا ہے، یہ تمہاری خوش بختی ہے کہ خدا کا رسُولؐ تمہارے درمیان ہے۔ اور عالم وحی سے اس کا رابط برقرار ہے اور جس وقت انحرافی خط اور راستے تمہارے درمیان پیدا ہو جائیں تو وہ اس طریق سے تمہیں آگاہ کر دتیا ہے۔ لیکن وہ رہبر و رہنما ہے، تمہیں یہ امید اور توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ تمہاری اطاعت کرے اور تم سے حُکم احکام لے، وہ تمہارے لیے ہر شخص سے زیادہ مہربان ہے، اپنے افکار اس پر لادنے کے لیے اس پر دباؤ نہ ڈالو، کیونکہ یہ بات تمہارے ہی نقصان میں ہے۔ آیت کے آخر میں مؤمنین پر خدا کی ایک اور عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "لیکن خدا نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب قرار دے دیا ہے اور اُسے تمہارے دلوں میں زینت بخشتی ہے:( وَلَكِنَّ اللهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ)۔ "اور اس کے برعکس کفر و فسق و گناہ کو تمہارے لیے قابلِ نفرت قرار دے دیا ہے" (وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ)۔ درحقیقت، یہ تعبیرات قانونِ لطف وہ بھی لطف تکوینی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہیں۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ: جس وقت کوئی حکیم کسی کام کو انجام دینا چاہتا ہے تو وہ ہر لحاظ سے اس کے اسباب فراہم کرتا ہے یہ اصل انسانوں کی ہدایت میں بھی پُورے طور پر صادق آ تی ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ تمام انسان۔کسی جبر کے پروگرام کے تحت قرار پائے بغیر۔ اپنے میل اور رغبت اور قصد و ارادہ سے راہِ حق کو طے کریں، اس لیے ایک طرف سے تو رسُولوں کو بھیجتا ہے، اور ابنیاء کو کتبِ آسمانی کے ساتھ مبعوث فرماتا ہے اور دوسری طرف سے ایمان کو انسانوں کے لیے محبُوب قرار دیتا ہے.حق جوئی اور حق طلبی کے عشق کی آگ ان کے دل و جان کے اندر شعلہ ور کرتا ہے اور کفر و ظلم و نفاق و گناہ سے نفرت و بیزاری کا احساس ان کے دلوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ اور اس طرح ہر ایک انسان فطرتاً ایمان و پاکیزگی و تقویٰ کا خواہاں ہے اور کفر و گناہ سے بیزار ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات کامل طور سے ممکن ہے کہ بعد کے مرحلوں میں یہ صاف و شفاف پانی جو آسمانِ خلقت سے انسانوں کے وجود میں ڈالا گیا ہے،آلودہ ماحول میں رہنے کے باعث اپنی صفات کھو بیٹھے اور گناہ، کُفر اور عصیان کی نفرت انگیز بدبو حاصل کر لے۔ یہ فطری نعمت آسمانوں کو رسُولؐ خدا کی پیروی اور آپ پر تقدم اور سبقت نہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس نکتہ کی یاد آواری بھی لازم و ضروری ہے کہ اس آیت کا مضمون "مشورت" کے مسئلہ کے ساتھ ہرگز منافق نہیں ہے، کیونکہ "شوریٰ" کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنے نظریہ کو بیان کرے، لیکن آخری فیصلہ اور نظریہ خود پیغمبر اکرمؐ کا ہو گا، جیسا کہ شوریٰ والی آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں: شوریٰ ایک جداگانہ مطلب ہے اور اپنے فکر و عقیدہ کو لادنا دوسرا مطلب ہے۔ زیرِ بحث آیت تحمیل فکر کی نفی کرتی ہے نہ کہ مشورت کی۔ اس بارے میں کہ اُوپر والی آیت میں فسوق سے کیا مراد ہے؟ بعض نے اس کی تفسیر کذب اور جُھوٹ کے ساتھ کی ہے لیکن اس کے مفہوم لغوی کی طرف تو جہ کرتے ہُوئے، اور آیت میں کسی قید کے نہ ہونے کی بناء پر ہر قسم کے گناہ اور اطاعت سے خارج ہونے کو شامل ہے، اس بناء پر اس کے بعد عصیان کی تعبیر تاکید کے عنوان سے ہے جیسا کہ " زَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُم" (اے تمہارے دلوں میں زینت دی ہے) کا جُملہ " حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمان" (ایمان کو تمہارا محبوب قرار دیا ہے) کہ جُملہ پر ایک تاکید ہے۔ بعض "فسوق" کو گناہانِ کبیرہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ عصیان کو اس سے عام سمجھتے ہیں، لیکن اس فرق و اختلاف پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بہرحال، آیت کے آخر میں ایک کلی اور عمومی قاعدہ کے طور پر فرماتا ہے: "جن لوگوں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں (ایمان ان کی نظر میں محبُوب و مزین، اور کفر و فسق و عصیان ان کی نظر میں منفور ہے) وہ ہدایت یافتہ ہیں"۔ (أُولئِکَ هُمُ الرَّاشِدُون) یعنی اگر تم اس موہبت الہٰی (ایمان سے عشق اور کفر و گناہ سے نفرت) کو محفوظ رکھو، اور اس پاکیزگی اور صفائے فطرت کو آلودہ نہ کرو، تو بلاشک و شبہ رشد و ہدایت تمہارے انتظار میں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلے کہ تمام جملے تو مومنین سے خطاب کی صورت میں تھے، لیکن یہ جملہ انہیں غائب کی صورت میں یاد کرتا ہے، یہ تعبیر کا فرق ظاہراً اس بناء پر ہے تاکہ اس بات کی نشاندہی کرے کہ یہ حکم اصحابِ پیغمبرؐ کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک ہمہ وقتی اور عمومی حکم ہے کہ جو بھی کوئی جس زمانہ میں بھی اپنی فطرت کی صفائی اور پاکیزگی کو محفوظ رکھے گا وہ اہل نجات و ہدایت ہے۔ آخری زیر بحث آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ یہ ایمان کی محبوبیت اور کفر و عصیان سے نفرت، نوع بشر پر خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے، فرماتا ہے: "یہ خدا کی طرف سے ایک فضل ہے، اور وہ نعمت ہے جو اس نے تمہیں عطا کی ہے اور خدا دانا و حکیم ہے": (فَضْلاً مِنَ اللہِ وَنِعْمَةً وَاللہُ عَلیمٌ حَکیمٌ) (3)۔ (تشریحی نوٹ: "فضلاً و نعمة" یا تو "مفعول لاجله" ہے "حبّب إلیکم الإیمان ..." کے لیے، اور یا یہ "مفعول مطلق" ہے فعل مقدر کے لیے اور تقدیر میں اس طرح تھا، "أفضل فضلاً وأنعم نعمة")۔ اُس کے علم و حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ رشد و سعادت کے عوامل تم میں پیدا کرے ، اور اُسے انبیاء کی دعوت کے ساتھ ہم آہنگ اور مکمل کرے اور انجام کار تمہیں منزل تک پہنچا دے۔ ظاہر یہ ہے کہ "فضل" اور "نعمت" دونوں کا ایک ہی واقعیت کی طرف اشارہ ہے، اور وہ ہی نعمتیں ہیں جو خدا کی طرف سے بندوں کو عطا ہوتی ہیں، البتہ "فضل" کا تو اس محاظ سے اس پر اطلاق ہوتا ہے، چونکہ خدا اس کا محتاج نہیں ہے، اور نعمت اس لحاظ سے ہے کہ بندے اس کے محتاج ہیں، اس بناء پر (فضل اور نعمت) ایک سکّہ کے دو رخوں کی طرح ہے۔ بلاشک و شبہ بندوں کی احتیاج کے بارے میں خدا کا علم اور مخلوقات کی پرورش اور ارتقاء کے سلسلہ میں اس کی حکمت، اس بات کا تقاضا کرتے ہیں، کہ وہ انہیں یہ عظیم معنوی نعمتیں ، یعنی ایمان کو محبُوب رکھنا، اور کفر و عصیان سے نفرت کرنا، مرحمت فرمائے۔
چند نکات ١۔ خدا کی ہدایت اور ارادہ کی آ زادی
اوپر والی آیت، اسلام کے نکتہ نظر سے "جبر و اختیار" اور "ہدایت و اضلال" کے بارے میں ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں،کیونکہ یہ اس نکتہ کو بخوبی واضح کرتی ہیں کہ خدا کا کام رشد و ہدایت کے اسباب کا فراہم کرنا ہے۔ یک طرف تو "رسولؐ اللہ" کو لوگوں کے درمیان قرار دیتا ہے، اور قرآن جو ہدایت و نُور کا ایک پروگرام ہے نازل فرماتا ہے اور دوسری طرف سے "ایمان سے عشق" اور "کفر وعصان سے تنفر و بیزاری" زمین تیار کرنے کے انداز میں دل و جان کے اندر قرار دیتا ہے۔لیکن انجام کار آزادی ارادہ اختیار خود انہیں کے سپرد کرتے ہُوئے، ان کی ذمہ داریوں کو اس سلسلہ میں شریعت کے قانون ان پر نافذ کرتا ہے۔ اوپر والی آیات کے مطابق ایمان کے ساتھ عشق اور کفر سے نفرت، بغیر کسی استثناء کے، تمام انسانوں کے دل میں موجود اور اگر کچھ لوگوں میں یہ سلسلہ موجود نہیں ہے تو وہ غلط قسم کی تربیتوں اور خود انہیں کے اعمال کی وجہ سے ہے۔ خدا نے کسی بھی شخص کے دل میں عصیان کی محبت اور ایمان سے بغض خلق نہیں کیا ہے۔
٢۔ رہبری اور اطاعت
یہ آیات ایک بار پھر اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ خدائی رہبر کا وجود ایک جمعیت کی نشوونما اور رشد و ہدایت کے لازمی و ضروری ہے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ "مطاع" ہو نہ کہ اپنے پیروکاروں کا مطیع اس کے فرمان کو سر آنکھوں پر رکھیں، نہ یہ کہ اس پر اپنے محدُود مقاصد و افکار کے لیے دباؤ ڈالیں۔ یہ بات نہ صرف خدائی رہبروں کے بارے میں ثابت ہے، بلکہ مسئلہ "مدیریت" اور "فرماندہی" میں ہر جگہ یہی امر کارفرما ہونا چاہیے۔ یہ حکم رہبروں کے استبداد کے معنی میں نہیں ہے اور نہ ہی ترکِ شوریٰ کے لیے ہے، جیسا کہ اُوپر بھی اشارہ ہو چکا ہے۔
٣۔ ایمان "عشق" کی ایک نوع ہے نہ کہ صرف ادراک عقل
یہ آیات ضمنی طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہیں، کہ ایمان ایک قسم کا شدید خدائی اور معنوی علاقہ اور لگاؤ ہے، اگرچہ اس کی بنیادیں عقلی استدلالات سے قائم ہوتی ہیں، اسی لیے امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ لوگوں نے آنحضرتؐ سے سوال کیا: کیا "حبّ و بغض" بھی ایمان میں سے ہیں؟ آپؐ نے جواب میں فرمایا: "وَهَل الإيمان إلّا الحبّ وَالبغض؟! ثُمّ تَلاهذِهِ الآيَة: حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيانَ أُولئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ": "کیا ایمان حبّ و بعض کے علاوہ کوئی اور چیز ہے، پھر امام علیہ السلام نے زیر بحث آیت سے استدلال فرمایا جو یہ کہتی ہے کہ: خدا نے تمہارے لیے ایمان کو محبُوب قرار دے دیا ہے اور اُسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا ہے، اور کفر و فسق و عصیان کو تمہارے لیے قابلِ نفرت بنا دیا ہے، اور جو لوگ ایسے ہوں وہی ہدایت یافتہ ہیں۔" (بحوالہ: اصول کافی جلد٢، باب الحبّ فی اللہ والبغض فی اللہ حدیث ٥)۔ ایک دوسری حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اس طرح آیا ہے: "وَھل الدّین إلّا الحبّ؟!" "کیا دین محبت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے"؟! اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی آیات سے استدلال فرمایا: جن میں سے ایک زیربحث آیت تھی، اور آخر میں مزید فرمایا: "الدّین ھو الحبّ والحبّ ھو الدین": "دین محبت ہے اور محبت دین ہے": (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٨٣، ٨٤)۔ لیکن اس میں شک نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ اسے استدلال اور منطقی اصولوں سے بھی سیراب و بارور ہونا چاہیے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7ان آیات کے شانِ نزول میں آیا ہے کہ (مدینہ کے دو مشہور قبیلوں) قبیلۂ اوس و خزرج کے درمیان ایک اختلاف پیدا ہو گیا، اور اس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو گئے،اور لاٹھیوں اور جوتوں سے ایک دوسرے کو مارنے لگے، (تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور اس قسم کے حادثات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو راہ بتائی) (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد٩، صفحہ ١٣٢)۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ انصار میں دو افراد کے درمیان خصو مت و اختلاف پیدا ہو گیا تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں اپنا حق زبردستی تجھ سے لے لوں گا، کیونکہ میرے قبیلہ کی جمعیت اور تعداد زیادہ ہے اور دوسرے نے یہ کہا کہ فیصلہ کے لیے رسولؐ اللہ کے پاس چلتے ہیں، پہلے شخص نے اسے قبول نہ کیا اور اختلاف بڑھ گیا اور دونوں قبیلوں کے ایک گروہ نے ہاتھوں، جوتیوں اور شمشیر تک سے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا، تو اوپر والی آیات نازل ہوئیں۔ (اور اس قسم کے اختلاف میں مُسلمانوں کی ذمہ داری کو واضح کیا)( بحوالہ: "تفسیر قرطبی" ، جلد ٩، صفحہ ٦١٣٦)۔
تفسیر مُؤمنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں
قرآن یہاں ایک کلی اور عمومی قانون کے عنوان سے ہمیشہ اور ہر مقام کے لیے کہتا ہے: "جس وقت مؤمنین کے دو گروہ آپس میں نزاع کریں اور لڑپڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو" (وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا)(١)۔ یہ ٹھیک ہے کہ "اقتتلوا"، "قتال" کے مادہ سے جنگ کے معنی میں ہے، لیکن یہاں قرائن اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ ہر قسم کے نزاع اور جھگڑے کو شامل ہے، چاہے وہ جنگ اور لڑائی تک بھی نہ جا پپہنچے، بعض شانِ نزول جو آیت کے لیے نقل ہُوئے تھے وہ بھی اس معنی کی تائید کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر لڑائی جھگڑے اور نزاع کے لیے زمین ہموار ہو جائے، مثلاً لفظی تکرار اور کھینچا تانی جو خونین نزاعوں کا باعث بن جاتے ہیں، واقع ہوں تو وہاں بھی اصلاح کے لیے اقدام کرنا اس آیت کے مطابق ضروری ہے، کیونکہ القاء خصوصیت کے طریقے سے اس معنی کو اُوپر والی آیت سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال، تمام مسلمانوں کے لیے ایک حتمی وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑنے جھگڑنے، نزاع اور خونریزی سے روکیں اور خود کو اس سلسلے میں ذمہ دار سمجھیں، نہ کہ بعض بےخبر لوگوں کی طرح تماشائیوں کی صُورت میں، بےپرواہی کے ساتھ، اِن مناظر کے قریب سے گزر جائیں۔ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد مومنین کی یہ اوّلین ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد دوسری ذمہ داری کو اس طرح بیان کرتا ہے: "اور اگر ان دونوں میں سے ایک گروہ دوسرے پر تجاوز اور ظلم و ستم کرے، اور صلح کی تجویز کو تسلیم نہ کرے، تو پھر تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم باغی اور ظالم گروہ کے ساتھ جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ حکم خدا کی طرف پلٹ آئے اور سر تسلیم خم کرے، (فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ)۔ واضح ہے کہ اگر باغی اور ظالم گروہ کا خون اس دوران میں بہ جائے تو وہ خود اسی کی گردن پر ہے اور اصطلاح کے مطابق اس کا خون بدر اور رایئگاں کیا ہے۔ اگرچہ وہ مسلمان ہی ہوں کیونکہ نزاع دو مسلمان گروہوں کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔ اس طرح سے اسلام نے ظلم و ستم سے روکنے کو چاہے وہ ظالم کے ساتھ جنگ کرنے کی قیمت پر ختم ہو لازمی و ضروری سمجھا ہے اور عدالت کے اجراکی قیمت کو مسلمانوں کے خون سے بھی بالاتر جانا ہے، اور یہ بات اسی صورت میں ہے کہ جب مسئلہ صلح و صفائی کے طریقہ سے حل نہ ہو۔ اس کے بعد تیسرے حکم کو بیان کرتے ہُوئے کہتا ہے؟ "اگر ظالم لوگ خدا کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر لیں اور صلح کے اسباب فراہم ہو جائیں، تو ان دونوں کے درمیان عدالت کے اصول کے مطابق صلح کرا دو" (فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ)۔ یعنی صرف ظالم گروہ کی قدرت کو درہم برہم کرنے پر قناعت نہ کرو، بلکہ یہ جنگ صلح کے لیے زمین ہموار کرنے اور نزاع اور لڑائی کے عوامل کو جڑے کاٹنے کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہونی چاہیے، ورنہ تھوڑے سے یا زیادہ زمانہ گزرنے کے ساتھ، ظالم جب بھی اپنے اندر طاقت و قوت محسوس کرے گا تو لڑنے کے لیے دوبارہ کھڑا ہو جائے گا اور نئے سرے سے جھگڑا اور نزاع شروع کر دے گا۔ بعض مفسرین نے "بالعدل" کی تعبیر سے یہ استفادہ کیا ہے کہ اگر ان دونوں گروہوں کے درمیان کوئی حق پامال ہوا ہے، یا کوئی خون گرایا گیا ہے جو لڑائی جھگڑے اور نزاع کے پیدا ہونے کا سبب بنا ہے، تو اس کی بھی اصلاح ہونی چاہیے ورنہ، "اصلاح بالعدل" نہ ہو گی۔ (بحوالہ: "تفسیر المیزان" جلد ١٨ صفحہ ٣٤٣)۔ اور چونکہ گروہی میلانات بعض اوقات افراد کو فیصلہ کرتے وقت، "دو متخاصم گروہوں" میں سے ایک کی طرف مائل کر دیتے ہیں اور فیصلہ کرنے والوں کے بےطرفی اور غیر جانب داری کو توڑ دیتے ہیں، اس لیے قرآن چوتھے، اور آخری حکم میں مُسلمانوں کو تنبیہ کر رہا ہے کہ،: "عدل و انصاف سے کام لیں اور ہر قسم کی جانب داری کی نفی کریں، کیونکہ خدا عدالت کرنے والے لوگوں کو دوست رکھتا ہے" (وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "مقسطین"، "قسط" کے مادہ سے ہے۔اور وہ اصل میں عادلانہ حِصّہ کے معنی میں ہے، اور جس وقت ثلاثی مجرد کے فعل کی صورت میں استعمال ہوتا ہے، (قسط بروزن ضرب) تو ظلم کرنے اور دوسرے سے عادلانہ حصّہ لینے کے معنی میں ہوتا ہے، لیکن جب ثلاثی مزید کی صورت استعمال ہو اور "اقسط" کہا جائے تو عدالت اور ہر شخص کو اس کا عادلانہ حصّہ دینے کے معنی میں ہے اس بارے میں کیا عدل و قسط کا ایک ہی معنی ہے یا یہ آپس میں فرق رکھتے ہیں، ہم اس کی تشریح جلد ٦، (سورہ اعراف کی آیت ٢٩ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں)۔ بعد والی آیت میں اس امر کی تاکید اور اس کی علت بیان کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اس لیے تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو)ِ" إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ)۔ جس طرح تم اپنے دونسبی بھائیوں کے درمیان صلح کرانے میں سعی و کوشش کرتے ہو، اسی طرح دو متخاصم مؤمنین کے درمیان میں صلح کرانے کے لیے سنجیدگی اور دو ٹوک طریقہ سے وارد عمل ہوا کرو۔ کتنی پرکشش اور عمدہ تعبیر ہے کہ تمام مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ان کے درمیان جھگڑے اور نزاع کو دو بھائیوں کے درمیان نزاع کا نام دیا، جسے بہت جلد صلح و صفائی کو اپنی جگہ دینی چاہیے۔ اور چونکہ اکثر اوقات روابط اس قسم کے مسائل میں ضوابط کے جانشین بن جاتے ہیں، لہذا دوبارہ خبردار کرتے ہُوئے آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے،: "خدا کا تقویٰ اختیار کرو، تاکہ اس کی رحمت میں شامل ہو جاؤ" (وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ)۔ اور اس طرح سے مسلمانوں کی ایک دوسرے کے لیے ایک اہم ترین اجتماعی ذمہ داری اجتماعی عدالت کے تمام پہلوؤں کے ساتھ بوقت اجراء واضح ہو جائے۔
چند نکات ١۔ باغیوں سے جنگ کرنے کے شرائط
فقہ اسلامی میں کتاب جہاد میں اھل البغی سے قتال کے عنوان سے ایک بحث بیان ہوئی ہے، جن سے مراد وہ ستمگر ہیں، جو امام عادل اور مسلمانوں کے سچے پیشوا کے برخلاف قیام کریں، اور ان کے لیے بہت سے احکام ہیں، جو اس باب میں آئے ہیں۔ لیکن جو بحث اوپر والی آیت میں پیش ہوئی ہے وہ ایک دوسرا معنی رکھتی ہے۔ اور یہ ایسے جھگڑے اور نزاع ہیں، جو مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان رونما ہوتے ہیں جس میں نہ تو امام معصوم کے خلاف قیام ہے اور نہ ہی صالح اور صحیح حکومت اسلامی کے خلاف قیام ہے، اگرچہ بعض فقہا اور مفسرین نے اس آیت سے سابقہ مسئلہ میں بھی استفادہ کرنا چاہا ہے، لیکن "کنز العرفان" میں فاضِل مقداد کے قول کے مطابق یہ استدالال صحیح نہیں ہے۔" (بحوالہ: ۱۔" کنز العرفان فی فقہ القرآن"" کتاب الجہاد "" باب انواع آخر من الجہاد"" جلد ١،صفحہ ٣٨٦)۔ کیونکہ امام معصوم کے خلاف قیام موجب کفر ہے، جب کہ دو مومنین کے درمیان نزاع صرف فسق ہے نہ کہ کفر، لہٰذا قرآن مجید نے اوپر والی آیت سے، دوسرے قرائن کو ساتھ ملا کر وہ خاص اشارے جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے ابواب میں آئے ہیں، اُن سے ذیل کے "احکام" کا استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ الف: مسلمانوں کے متخاصم گروہوں کے دمیان صلح کرانا ایک واجب کفائی امر ہے۔ ب: اس کام کو سرانجام دینے کے لیے ابتداء میں نسبتاً سادہ مراحل سے شروع کرنا چاہیے، اور اصطلاح کے مطابق "الأسھل فالأ سھل" کے قاعدے کی رعایت کرنی چاہیے، لیکن اگر وہ مفید واقع نہ ہو تو پھر مسلحانہ مبارزہ اور جنگ وقتال بھی جائز بلکہ لازم و ضروری ہے۔ ج: باغیوں اور تجاوز کرنے والوں کے خون جو اس راہ میں گرائے جائیں، اور وہ جو اس دوران تلف ہوں وہ ہدر اور رائیگاں ہیں، کیونکہ یہ شرع کے حکم اور ایک واجب وظیفہ کے انجام دینے میں واقع ہُوئے ہیں اور اصولاً اس قسم کے موقعوں پر کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ د: گفتگو کے طریقے سے اصلاح کے مراحل میں حاکم شرع کی اجازت ضروری نہیں ہے، لیکن شدت عمل کے مرحلہ میں، خصوصاً جہاں معاملہ خونریزی پر منتہی ہو، وہاں حکومت اسلامی اور حاکم شرعی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے، مگر ایسے مواقع پر جہاں کسی طرح سے دسترس نہ ہو تو وہاں مومنین عدول اور آگاہ افراد آپس میں صلاح مشورہ کریں گے۔ ھ: اس صورت میں جب کہ باغی اور ظالم گروہ مصلح گروہ میں سے کسی کا خون گرائے گا یا کوئی مال تلف کرے گا، تو شریعت کے حکم کے مطابق وہ ضامن ہے اور قتل عمدکی صُورت میں حکم قصاص بھی جاری ہو گا، اس طرح ان مواقع پر جہاں مظلوم گروہ کے خون بہائے گئے ہیں یا مال تلف ہُوئے ہیں، وہاں بھی حکم "ضمان" و "قصاص" ثابت ہے اور یہ جو بعض کے کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ: صلح کے وقوع کے بعد باغی اور ظالم گروہ ان خونوں اور اموال کے مقابلہ میں جو ہدر گئے ہیں ذمہ دار نہیں ہیں، کیونکہ زیر بحث آیت میں اس کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے! درست نہیں ہے، کیونکہ آیت ان تمام مطالب کے بیان کے درپے نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے امور میں، ان تمام قواعد اور اصولوں کی طرف رجوع کرنا ہے، جو قصاص و اتلاف کے ابواب میں بیان ہُوئے ہیں۔ و: چونکہ اس جنگ و پیکار کا مقصد ظالم گروہ کو حق کے قبول پر آمادہ کرنا ہے، لہٰذا اس جگہ میں اسیران جنگ اور غنائم کا مسئلہ درپیش نہ ہو گا۔ کیونکہ دونوں گروہ مسلمان ہیں، لیکن جھگڑے کی آگ کو خاموش کرنے کے لیے وقتی طور پر قید کرنے میں کوئی امرمانع نہیں ہے، لیکن صلح کے بعد فوراً قیدیوں کو آزاد کرنا ہو گا۔ ز: بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے، کہ نزاع اور جھگڑے کے دونوں فریق، باغی اور ظالم ہوتے ہیں، انہوں نے دوسرے قبیلہ کے ایک گروہ کو قتل کیا اور ان کے مالوں کو تلف کیا ہے، اور اُنہوں نے بھی یہی کام پہلے قبیلہ کے بارے میں انجام دیا ہے، بغیر اس کے کہ دفاع کے لیے مقدار لازم پر قناعت کریں، چاہیے ایک ہی مقدار میں دونوں بغاوت و ستم کریں یا ایک زیادہ کرے اور دوسرا کم کرے۔ البتہ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں کوئی حکم صراحت کے ساتھ نہیں آیا، لیکن اس کا حکم القاء خصوصیّت کے طریق سے زیر بحث آیت سے معلوم کیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا وظیفہ اور ذمہ داری یہ ہے کہ دونوں کے درمیان مصالحت کرائیں اور اگر وہ صلح کے لیے تیار نہ ہوں، تو دونوں کے درمیان جنگ کریں، یہاں تک کہ وہ حکم الہٰی کی طرف لوٹ آئیں، اور وہ احکام جو باغی اور متجاوز کے بارے میں بیان ہُوئے ہیں، دونوں کے لیے جاری کیے جائیں۔ اس گفتگو کے آخر میں ہم پھر دوبارہ تاکید کرتے ہیں کہ ان باغیوں کا حکم، ان لوگوں کے حکم سے جو امام معصوم، یا اسلامی عادل حکومت کے خلاف قیام کریں، بالکل الگ ہے اور اس دوسرے گروہ کے لیے زیادہ سخت اور شدید احکام ہیں جو فقہ اسلامی کی کتاب الجہاد میں بیان ہُوئے ہیں۔
٢۔ اخوت اسلامی کی اہمیّت
"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ " کا جملہ جو اوپر والی آیت میں آیا ہے ایک اساسی اور بنیادی اسلامی شعار ہے۔ ایسا شعار جو بہت ہی مضبوط، عمیق، مؤثر اور پُر معنی شعار ہے۔ دوسرے مسلک کے لوگ جب اپنے ہم مسلک لوگوں کے ساتھ زیادہ تعلق اور لگاؤ کا اظہار کرتے ہیں۔ تو وہ انہیں "رفیق" کے عنوان سے یاد کرتے ہیں، لیکن دوسرے کے ساتھ نزدیک ترین تعلق کی صورت میں، اور اس تعلق کو بھی مساوات اور برابری کی بنیاد پر پیش کرتا ہے، اور وہ دو "بھائیوں" کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے۔ اس اہم اسلامی اصل کی بنا پر مسلمان چاہے، جس نسل سے ہوں، یا جس قبیلہ سے، چاہے کوئی سی زبان بولتے ہوں، اور کسی سن و سال کے ہوں، ایک دوسرے سے برادری کا عمیق احساس رکھتے ہیں، چاہے ان میں سے ایک دُنیا کے مشرق میں رہتا ہو اور دوسرا مغرب میں زندگی بسر کرتا ہو۔ مراسم "حجّ" میں جب مُسلمان، تمام نقاط جہاں اور اطراف عالم سے اس مرکز توحید میں جمع ہوتے ہیں، تو وہاں، یہ علاقہ اور لگاؤ، نزدیکی پیوند اور ہم بستگی پُورے طور پر محسُوس ہوتی ہے اور وہ اس اہم اسلامی قانون کے بعینہ پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام تمام مسلمانوں کو ایک خاندان سمجھتا ہے اور سب کو ایک دوسرے سے بہن بھائی کہہ کر خطاب کرتا ہے، نہ صرف الفاط میں اور نعرے کے طور پر، بلکہ عمل میں، اور آپس کی ذمہ داریوں میں سب بہن بھائی ہیں۔ اسلامی روایات میں بھی اس مسئلہ پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے، خاص طور پر اس کے عمل پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ ہم ذیل میں چند پُر معنی احادیث آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ١۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے۔ "اَلمُسلِمَ أخُو المُسلمُ، لَايظلمه، وَلَايخذله، وَلَايسلمه۔" "مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ ہرگز اس پر ظلم و ستم نہیں کرتا، اس کی مدد سے دستبردار نہیں ہوتا اور اس کو حوادث کے مقابلہ میں تنہا نہیں چھوڑتا۔ )بحوالہ: "لمحجتہ البیضائ" جلد ٣، صفحہ ٣٣٢ کتاب آداب الصحبة والماشرة باب ٢(۔ ٢۔ایک اور حدیث میں انہیں جناب سے نقل ہوا ہے۔ "مَثَلُ الأَخَوَین مثلُ الیدین یَغسلَ إحداھُما الآخر۔" "دو دینی بھائی دونوں ہاتھوں کے مانند ہیں، جن میں سے ہر ایک دوسرے کو دھوتا ہے۔" (ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمکاری رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے عیوب کو پاک صاف کرتے ہیں)۔ (بحوالہ: وہی مدرک، صفحہ ٣١٩)۔ ٣۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔ " المؤمن أخو المؤمن، كالجسد الواحد، إذا اشتكى شيئًا منه وجد اَلَم ذلك فِى سائرِ جسدِهِ، وَأرواحُهُما مِن رُوح وَاحِدَة" "مومن، مومن کا بھائی ہے، اور وہ سب ایک جسم کے اعضاء کے مانند ہیں، اگر ان میں سے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے اعضاء کو قرار نہیں آتا اور ان سب کے ارواح ایک ہی رُوح سے لیے گئے ہیں۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد ٢، صفحہ ١٣٣ (باب اخوة المؤمنین بعضهم لبعض حدیث ٣، ٤)۔ ٤۔ ایک دوسری حدیث میں اسی امام علیہ السلام سے منقول ہے۔ " المؤمن أخو المؤمن عينه وَدليله، لا يخونه، وَلَا يظلمه، وَلَا يغشه، وَلَايعده عدة فيخلفه" "مومن، مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی آنکھ کی مانند ہے اور اس کا رہنما ہے، وہ اس کے ساتھ کبھی خیانت نہیں کرتا اور اس پر ظلم و ستم روا نہیں رکھتا، اس سے پھرتا نہیں، اور جو وعدہ اس کے ساتھ کرتا ہے اس سے تخلف نہیں کرتا، (بحوالہ: اصول کافی، جلد٢، صفحہ ١٣٣ (باب اخوة المؤمنین بعضهم لبعض حدیث ٣، ٤)۔ حدیث کے معروف اسلامی مآخذوں اور منابع میں، مومن کے اپنے مسلمان بھائی پر حقوق اور مومنین کے ایک دوسرے پر حقوق کے انواع و اقسام، ایمانی بھائیوں کے دیدار مصافحہ، معانقہ اور انہیں یاد کرنے اور ان کے دل کو مسرور اور خوش کرنے، خصوصاً مومنین کی حاجات کو پورا کرنے اور ان امور کی انجام دہی میں سعی و کوشش کرنے، اور ان کے دل سے غم و اندوہ کو دُور کرنے اور انہیں کھانا کھلانے، کپڑے پہنانے اور ان کا اکرام و احترام کرنے کے ثواب کے بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں، جس کے اہم حصّوں کو اصولِ کافی کے مختلف ابواب میں اوپر والے عنوانات کے تحت مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ ٥۔ اس بحث کے آخر میں ہم ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پیغمبر اکرمؐ سے مؤمن کے اس کے مومن بھائی پر تیس حقوق کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو اس سلسلہ میں جامع ترین روایت ہے۔ قال رسول الله (ص): للمسلم على اخيه ثلاثون حقا، لا برائة له منها إلّا بِالأداء أوِالعَفو. يغفر زلته، وَيرحمُ عبرتَه، وَيستر عورته، وَيقيل عثرته، وَيقبل مَعذِرَتُهُ، وَيَرِدُ غيبته، وَيديم نصيحته، وَيحفظ خلته، وَيرعى ذمته، وَيعود مرضه وَيشهد ميته، وَيجيب دعوته، وَيقبل هديته، وَيكافأ صلته، وَيشكر نعمته وَيحسن نصرته، وَيحفظ حليلته، وَيقضى حاجته، وَيشفع مسألته، وَيسمت عطسته. ويرشد ضالته، ويرد سلامه، ويطيب كلامه، ويبر إنعامه، ويصدق اقسامه، ويوالى وليّه، ولا يعاديه، وَينصره ظالما وَمظلوما: فاما نصرته ظالما فيرده عن ظلمه، واما نصرته مظلوما فيعينه على اخذ حقه، ولا يسلمه ولا يخذله، ويحب له من الخير ما يحب لنفسه، وَيكره له من الشر ما يكره لنفسه۔ "پیغمبرؐ اسلام نے فرمایا: مُسلمان اپنے مسلمان بھائی پر تیس حق رکھتا ہے، جن سے وہ بری الذمہ نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ ان حقوق کو ادا نہ کر دے، یا اس کا مسلمان بھائی اس کو معاف کر دے۔ اس کی لغزشوں کو معاف کر دے، اس کی پریشانی میں اس پر مہربانی کرے، اس کے رازوں کو پوشیدہ رکھے اس کی غلطیوں کی تلافی کرے، اس کے عذر کو قبول کرے، بدگوئی کرنے والوں سے اس کا دفاع کرے، ہمیشہ اس کا خیر خواہ رہے، اس کی دوستی کی پاسداری کرے۔ اس کے عہد و پیمان کی رعایت کرے حالت بیماری میں اس کی عیادت کرے، اس کی موت کی حالت میں اس کے جنازہ میں حاضر ہو۔ اس کی دعوت کو قبول کرے، اس کے ہدیہ کو قبول کرے اس کے عطیہ کا بدلہ دے، اس کے احسان کا شکریہ ادا کرے اس کی مدد میں کوشش کرے اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کرے، اس کی حاجت پوری کرے۔اس کی درخواست کی شفاعت کرے، اور اس کی چھینک پر "یرحمک اللہ" کہے۔ اس کی گمشدہ چیزوں کی رہنمائی کرے، اس کے سلام کا جواب دے، اس کی گفتگو کو اچھا سمجھے، اس کے انعام کو خوب قرار دے، اس کی قسموں کی تصدیق کرے، اس کے دوست کو دوست رکھے، اور اس کے ساتھ دشمنی نہ کرے، اس کی مدد میں کوشش کرے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم کرنے سے روکے، اور مظلوم ہونے کی صورت میں اس کی مدد یہ ہے کہ اس کی اس کا حق حاصل کرنے میں مدد کرے۔ اسے حوادث زمانہ کے مقابلہ میں تنہا نہ چھوڑے، نیکیوں اور اچھائیوں میں سے جن چیزوں کو اپنے لیے پسند کرتا ہے اس کے لیے بھی پسند کرے اور برائیوں میں سے جن چیزوں کو اپنے لیے نہیں چاہتا اس کے لیے بھی نہ چاہیے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٧٤، صفحہ ٢٣٦)۔ بہرحال، مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق میں سے ایک مدد کرنا اور آپس میں اصلاح کرنا ہے، جس طرح سے کہ اوپر والی آیت اور روایت میں آیا ہے (اصلاح ذات البین کے سلسلہ میں ہم جلد ٤، سورۂ انفال کی آیت نمبر١ صفحہ ٣٨٥ میں ایک اور بحث کر چکے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7مفسرین نے ان آیات کے لیے مختلف شان ہائے نزول نقل کیے ہیں، منجملہ اُن کے یہ ہے کہ: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ: کا جملہ ثابت بن قیس "(پیغمبرؐ کے خطیب) کے بارے میں نازل ہوا ہے، جس کو کانوں سے کم سُنائی دیتا تھا اور جس وقت وہ مسجد میں آتے تھے تو پیغمبرؐ کے نزدیک اس کے لیے جگہ چھوڑ دیتے تھے تاکہ وہ آنحضرت کے ارشادات سُن سکے، ایک دن وہ مسجد میں وارد ہُوئے تو لوگ نماز سے فارغ ہو چکے تھے اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہُوئے تھے، وہ مجمع کو چیرتا ہوا کہتا ہے جا رہا تھاکہ جگہ دو جگہ دو،! یہاں تک کہ وہ ایک مسلمان کے پاس پہنچ گیا تو اس نے کہا کہ یہیں بیٹھ جا! تو وہ اس کے پیچھے بیٹھ گیا، لیکن بہت غصّے ہوا، جس وقت فضا روشن ہوئی ثابت نے اس مرد سے کہا: تو کون ہے؟ اس نے اپنا نام لیا اور کہا کہ میں فلاں شخص ہوں۔ ثابت نے کہا: کیا فلاں عورت کا بیٹا؟! اور اس کی ماں کا نام، اس بُرے لقب کے ساتھ، جو زمانہ جاہلیّت میں لیا کرتے تھے، لیا۔اس پر وہ شخص شرمندہ ہوا، اور اپنا سر نیچے کر لیا تو آیت نازل ہوئی اور مُسلمانوں کو اس قسم کے بُرے کاموں سے منع کیا۔ مفسرین نے کہا کہ: "وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ"جناب امّ سلمہ" کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جن کا بعض ازواج پیغمبرؐ نے مخدومہ کے مخصوص لباس کی وجہ سے جو انہوں نے پہن رکھا تھا، یا اُن کے چھوٹے قد کی وجہ سے مذاق اڑایا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اس عمل سے روکا۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ "وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً۔" کا جُملہ اصحابِ رسُولؐ اللہ میں سے دو افراد کے بارے میں ہے۔ جنہوں نے اپنے ساتھی، "سلمان" کی غیبت کی تھی، کیونکہ انہوں نے اُسے پیغمبرؐ کی خدمت میں بھیجا تھا تاکہ وہ انکے لیے کھانا لے آئیں۔ پیغمبرؐنے "سلمان" کو "اسامہ بن زید" کے پاس جو "بیت المال" کے مسؤل تھے، بھیج دیا "اسامہ" نے کہا: اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے تو ان دو افراد نے "اسامہ" کی غیبت کی اور کہا کہ اس نے بخل سے کام لیا ہے، اور "سلمان" کے بارے میں کہا: اگر اُسے چاہ سمیحہ (ایک پانی سے بھرے ہُوئے کنوئیں)کی طرف بھیجیں تو اس کا پانی بھی نیچے چلا جائے گا: اس کے بعد وہ خود چل پڑے تاکہ اسامہ کے پاس جا کر اپنے کام کے بارے میں جستجو کریں، تو پیغمبرؐنے فرمایا: مجھے تمہارے مُنہ سے گوشت کھانے کے آثار نظر آ رہے ہیں، انہوں نے عرض کیا: اے رسُولِ خداؐ ہم نے تو آج بالکل ہی گوشت نہیں کھایا ہے! آپؐ نے فرمایا: تم نے "سلمان" اور "اسامہ" کا گوشت کھایا تھا، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اور مسلمانوں کو غیبت کرنے سے منع کیا۔ (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان"، "جلد٩، صفحہ ١٣٥ "قرطبی" نے بھی اپنی تفسیر میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی شانِ نزول نقل کی ہے)۔
استہزاء، بدگمانی، غیبت، تجس، اور بُرے القاب سے یاد کرنا ممنوع ہے
چونکہ قرآن مجید اس سُورہ میں اسلامی معاشرے کو اخلاقی معیاروں کی بنیاد پر تعمیر کرنا چاہتا ہے، لہٰذا مختلف اسلامی گروہوں کے بارے میں نزاع و مخاصمت کی صورت میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بحث کرنے کے بعد، زیر بحث آیات میں ان کے اختلافات کی جڑوں کے ایک حصّہ کی تشریح کرتا ہے تاکہ ان کے منقطع ہونے سے اختلافات بھی ختم ہو جائیں اور لڑائی جھگڑے اور نزاع کا بھی خاتمہ ہو جائے۔ اوپر والی آیات میں سے ہر ایک میں اُن امور کے تین تین حصوں کو، جو جنگ اور اختلاف کی آگ کو روشن کرنے کے لیے چنگاری بن سکتے ہیں، صریح اور مُنہ بولتی تعبیروں کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! تمہارے مردوں میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کاٹھٹا اور مذاق نہ اڑائے" (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ)۔ "کیونکہ شاید وہ لوگ جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، ان سے بہتر ہوں" (عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ)۔ اسی طرح عورتوں میں سے بھی کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں" (وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ)۔ یہاں مخاطب مؤمنین ہیں چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں، قرآن سب کو خبردار کرتا ہے، کہ وہ اس بُرے عمل سے پرہیز کریں، کیونکہ استہزاء اور تمسخر کا سرچشمہ، خود کو برتر سمجھنے کا احساس اور کبرو غرور ہے، جو طول تاریخ میں بہت سی خونیں جنگوں کا عامل رہا ہے۔ اور یہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا زیادہ تر ظاہری اور مادی اقدار سے پیدا ہوتا ہے، مثلاً فلاں شخص اپنے آپ کو دوسرے سے زیادہ مالدار، زیادہ خوبصُورت یا زیادہ معروف قبیلہ میں شمار کرتا ہے۔اور بعض اوقات یہ خیال، کہ وہ علم و عبادت اور دوسرے معنویات میں فلاں جمعیّت سے برتر ہے، اس کی تمسخر اور استہزاء پر آمادہ کرتا ہے، اور حالیکہ خدا کے نزدیک قدر و قیمت کا معیار تقویٰ ہے، اور اس کا تعلق نیت اور دل کی پاکیزگی، تواضع، اخلاق اور ادب کے ساتھ ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ: میں خدا کے نزدیک فلاں شخص سے برتر ہوں، اس بناء پر دوسروں کی تحقیر اور اپنے آپ کو برتر سمجھنا، بدترین کاموں میں سے ایک ہے، اور قبیح ترین اخلاقی عیب ہے، جس کا ردعمل ہو سکتا ہے کہ انسانوں کی ساری زندگی میں آشکار ہو۔ اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں فرماتا ہے: اور ایک دوسرے کے عیب نہ نکالو اور طعن و تشنیع نہ کرو۔" (وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ)۔ "لا تَلْمِزُوا"، "لمز" بروزن (طنز) کے مادہ سے، عیب نکالنے اور طعن کرنے کے معنی میں ہے اور بعض نے "ھمز" اور "لمز" کے درمیان اس طرح فرق بیان کیا ہے کہ لمز تو لوگوں کے سامنے ان کے عیوب گنوانا ہے اور ھمز ان کے پیٹھ پیچھے ان کے عیوب کو بیان کرنا ہے، اور یہ بھی کہا ہے کہ لمز تو آنکھ اور اشارہ سے عیب جوئی کرنا ہے، جبکہ "ھمز" زبان سے "عیب جوئی" ہے (اس موضوع کے سلسلہ میں مزید تشریح ان شاء اللہ سُورۂ ھمزہ کی تفسیر میں آئے گی)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن اس آیت میں "أَنفسکم" کی تعبیر کے ساتھ مومنین کی وحدت اور ایک ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے اعلان کرتا ہے، کہ تمام مومنین نفس واحد کی طرح ہیں، اگر تم کسی دوسرے کی عیب جوئی کرو تو واقع میں تم نے خود اپنی ہی عیب جوئی کی ہے۔ اور آخر میں تیسرے مرحلہ میں مزید کہتا ہے: "اور ایک دوسرے کو بُرے اور ناپسندیدہ القاب کے ساتھ یاد نہ کرو" (وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ)۔ بہت سے پھٹ اور بےمہار لوگ گزشتہ زمانہ میں بھی اور آج بھی دوسروں کو بُرے القاب سے یاد کرنے پر مصر رہے ہیں اور ہیں، اور اس طریقہ سے ان کی تحقیر کرنے ان کی شخصیّت کی سرکوبی کرنے یا بعض اوقات ان سے انتقام لینے پر اصرار کرتے ہیں اور اگر کسی نے سابقہ زمانہ میں کوئی بُرا کام کر لیا تھا، اس کے بعد اس نے توبہ کرلی، اور وہ مکمل طور پر پاک ہو گیا، لیکن اس کے بعد بھی وہ اس کے لیے اسی لقب کو جو اس کی سابقہ وضع کو بیان کرنے والا ہے، برقرار رکھتے ہیں۔ اسلام صریح طور پر اس بُرے عمل سے منع کرتا ہے، اور ہر وہ نام اور لقب جو معمولی سے معمولی غیر مطلوب مفہوم رکھتا ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر و تذلیل کا سبب بنتا ہے اُسے ممنُوع قرار دیتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن "صفیہ" دختر "حی ابن اخطب" (وہی یہودی عورت جو فتح خیبر کے واقعہ کے بعد مسلمان ہو گئی اور پیغمبرؐ اسلام کی زوجیت میں آئی) ایک دن پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئی، درآنحالیکہ ان کے آنسو جاری تھے، پیغمبر نے ماجرا پوچھا تو اس نے کہا کہ عائشہ مجھے ملامت کرتی ہے اور کہتی ہے: اے یہودی کی لڑکی،! تو پیغمبر نے فرمایا: تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ میرا باپ ہارون ہے، اور میرا چچا مُوسیٰ ہے، اور میرا شوہر محمدؐ، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد٩، صفحہ ١٣٦)۔ اسی بناء پر آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: بہت بُری بات ہے یہ کہ تم کسی پر اس کے ایمان لانے کے بعد کفر کا نام رکھو (بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ)۔ بعض نے اس جُملہ کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی دیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ خدا مومنین کو اس بات سے منع کر رہا ہے کہ ایمان لانے کے بعد لوگوں کی عیب جوئی کی بناء پر اپنے لیے فسق کے نام کو قبول کر لیں۔ لیکن پہلی تفسیر، صدر آیہ، اور اس شان نزول کی طرف توجہ کرتے ہُوئے، جو بیان ہوئی ہے، زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے فرماتا ہے: اور وہ لوگ جو توبہ نہ کریں، اور ان اعمال سے دست بردار نہ ہوں، ظالم و ستمگر ہیں۔": (وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ)۔ اس سے بدتر ظلم اور کیا ہو گا کہ انسان اپنی نیش دار باتوں سے، اور تحقیر اور عیب جوئی سے کسِی صاحب ایمان کے دل کو آزار پہنچائے، جو عشق خدا کا مرکز ہے۔اور ان کی شخصیت اور آبرو کو، جو ان کی زندگی کا سرمایا ہے، ختم کر دے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ دونوں زیر بحث آیات میں سے ہر ایک میں، اسلامی، اجتماعی اخلاق کے مسائل کے سلسلہ میں، تین تین حکم پیش ہُوئے ہیں، پہلی آیت کے تین احکام ترتیب کے ساتھ تمسخر نہ کرنا، ترک عیب جوئی اور تنابز بالا لقاب تھے، اور دوسری آیت کے تین احکام بالترتیب، بدگمانی سے اجتناب، عیوب کا تجسس اور غیبت ہیں۔ اس آیت میں پہلے فرماتا ہے: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو، کیونکہ بعض گناہ گناہ ہیں" (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ)۔ "کَثیراً مِنَ الظَّنِّ" سے مراد بُرے گمان ہیں، جو اچھے گمانوں کی نسبت لوگوں میں زیادہ ہیں، لہٰذا اس کو کثیر کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے، ورنہ حسن ظن اور گمانِ نیک نہ صرف یہ کہ ممنوع نہیں ہے، بلکہ مستحسن ہے، جیسا کہ قرآن مجید سورۂ نور کی آیت ١٢ میں فرماتا ہے: (لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا)۔ "جس وقت تم نے اس نار و انسبت کو سنا تھا تو باایمان مردوں اور عورتوں نے اپنی نسبت (اور اس کے لیے جو خود انہیں کی طرح تھا) اچھا گمان کیوں نہ کیا؟! قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "نھی" کثیر گمانوں سے ہوئی ہے، لیکن مقام تعلیل میں کہتا ہے، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں ممکن ہے تعبیر کا یہ فرق اس وجہ سے ہو کہ بعض بُرے گمان واقع کے مطابق ہُوتے ہیں، اور بعض واقع کے مخالف، جو گمان واقع کے خلاف ہوتے ہیں وہ تو مسلم گناہ ہیں، لہٰذا ان کی "إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ۔" سے تعبیر ہوئی ہے، اس بناء پر اسی گناہ کا وجود اس بات کے لیے کافی ہے کہ سب پرہیز کرے۔ یہاں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے، کہ بُرا اور اچھا گمان عام طور پر اختیار ہی نہیں ہوتا، یعنی وہ ایک سلسلۂ مقدمات کے زیر اثر جو انسان کے اختیار سے خارج ہیں، ذہن میں منعکس ہوتا ہے، اس بناء پر اس سے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟! ١۔ اس نہی سے مراد ترتیب آثار سے نہی ہے، یعنی جس وقت کسِی مسلمان کے بارے میں تمہارے ذہن میں کوئی بُرا گمان پیدا ہو تو اس کے لیے عمل میں معمولی سے معمولی اعتناء بھی نہ کرو، اپنی طرز رفتار میں تبدیلی نہ کرو، اور دوسرے سے اپنے سلوک اور معاملات کو نہ بدلو، اس بناء پر جو چیز گناہ ہے وہ بُرے گمان کے مطابق عمل کرنا ہے۔ لہذا ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے۔ " ثلاثٌ فِى المؤمِن لايستحسنُ، وَله مِنهُنَّ مخرج، فمخرجه مِن سوءِ الظّن ان لايحققه۔" تین چیزیں ایسی ہیں جن کا وجود مؤمن میں پسندیدہ نہیں ہے، جبکہ اس کے لیے، ان سے فرار کی راہ موجود ہے، منجملہ ان کے ایک سوءظن ہے، جس سے راہ فرار یہ ہے کہ اس کو عمل میں لایا جائے۔ (بحوالہ: محجة البیضاء ، جلد٥، صفحہ ٢٦٩)۔ ٢۔ انسان مختلف مسائل میں غور و فکر کرنے سے، بہت سے مواقع پر بُرے گمان کو اپنے سے دور کر سکتا ہے، اور وہ اس طرح سے کہ ان کو صحت پر محمول کرنے کے راستوں میں غور کرے، اور ان سے صحیح احتمالات کو جو اس پر عمل کے بارے میں موجود ہیں اپنے ذہن میں مجسم کرے، اور آہستہ آہستہ بُرے گمان پر غلبہ حاصل کرے۔ اس بناء پر گمان کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہمیشہ انسان کے اختیار سے خارج ہو۔ لہٰذا روایات میں بطور حکم آیا ہے کہ اپنے بھائی کے اعمال کو جہاں تک ہو سکے بہترین صُورت پر محمُول کرو، جب تک کہ اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو جائے اور تیرے مسلمان بھائی سے جو سخت بات صادر ہو گئی ہے اس کے لیے ہرگز بدگمانی نہ کر جب تک تو اسکے لیے نیکی پر محمول کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ " قال أمير المؤمنين ع: ضَع أمر اخيك على أحسنه حتى ياتيك ما يقلبك منه. وَلَا تظنن بِكلمة خرجت مِن أخيك سوء وَأنت تجد لَها فِى الخير محملًا (بحوالہ: "اصولِ کافی" جلد ٢، باب التہمتہ وسوء والظن حدیث، ٣۔ اسی معنی کے مشابہ نہج البلاغہ میں بھی مختصر سے فرق کے ساتھ آیا ہے کلمات قصار کلمہ ٣٦٠)۔ بہرحال، یہ اسلامی دستور انسانوں کے اجتماعی روابط کے سلسلے میں ایک جامع ترین اور ایک انتہائی جچا تلا حکم ہے، جو معاشرے میں امن و امان کے مسئلہ کو کامل طور سے ضمانت دیتا ہے، جس کی تفصیل نکات کی بحث میں آئے گی۔ پھر بعد والے حکم میں "تجسس سے نہی" کے مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: اور ہرگز دوسروں کے کاموں میں تجسس نہ کرو" (وَ لا تَجَسَّسُوا)۔ "تجسّس" اور "تحسس" دونوں جستجو کرنے کے معنی میں ہیں، لیکن پہلا عام طور پر غیر مطلوب امور میں آتا ہے اور دوسرا عام طور پر امر خبر میں آتا ہے، جیسا کہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کو حکم دیتے ہیں، :(يَا بَنِيَّ اذْهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ) اے میرے بیٹو جاؤ اور (میرے گمشدہ) یوسف اس کے بھائی کے بارے میں جستجو کرو۔" (سورہ یوسف: ٨٧)۔ درحقیقت، بُرا گمان ایک عامل ہے جستجو کرنے کا، اور جستجو کرنا ایک عامل ہے لوگوں کو راز ہائے نہانی اور اسرار کے کشف کے لیے، اور اسلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ان کے خصوصی راز فاش ہوں۔ دوسرے لفظوں میں اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی خصوصی زندگی میں ہر لحاظ سے امن و امان میں رہیں، یہ بات واضح ہے کہ اگر یہ اجازت دے دی جائے کہ ہر آدمی دوسروں کے بارے میں جستجو کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے تو لوگوں کی حیثیت اور آبرو تباہ و برباد ہو جائے گی اور ایک جستجو وجود میں آ جائے گی، جس میں معاشرے کے تمام افراد معذّب ہوں گے۔ البتہ یہ دستور، حکو متِ اسلامی میں سازشوں سے مبارزہ کرنے کیے لیے اطلاعاتی اواروں (سی آئی ڈی) کے وجود کے ساتھ منافی نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی اسی معنی میں نہیں ہے، کہ یہ ادارے لوگوں کی خصوصی زندگی میں جستجو کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ انشاء اللہ اس بارے میں میں تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ اور آخر میں تیسرے اور آخری دستور میں، جو حقیقت میں پہلے دو پروگراموں کا معلُول اور نتیجہ ہے، فرماتا ہے: تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے" (وَ لا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً)۔ اور اس طرح سے بُرا گمان تو تجسس کا سرچشمہ بنتا ہے اور تجسس، افشائے عیوب اور اسرار پنہانی کا موجب ہوتا ہے اور ان امور سے آگاہی غیبت کا سبب بنتی ہے اور اسلام نے معلول اور علّت دونوں سے منع کیا ہے۔ اس کے بعد اس عمل کی قباحت اور بُرائی کو کامل طور سے مجسم کرنے کے لیے، اس کو ایک عمدہ مثال میں ڈھال کر کہتا ہے،: کیا تم میں سے کوئی بھی اس بات کو پسند کرتا ہے، کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ (أَ يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً)۔ "یقینا تم سب اس امر سے کراہت رکھتے ہو" (فَكَرِهْتُمُوهُ)۔ ہاں مسلمان بھائی کی آبرو اس کے بدن کے گوشت کی مانند ہے اور اس آبرو کو غیبت کے ذریعہ ختم کرنا، اور پوشیدہ بھیدوں کو افشاء کرنا، اس کے بدن کا گوشت کھانے کے مانند ہے۔ اور "مردہ" کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ غیبت لوگوں کے پیٹھ پیچھے کی جاتی ہے، جو مردوں کی طرح اپنے آپ سے دفاع پر قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ ایک ایسا ظلم ہے جو انتہائی بزدلانہ ہے، کہ جسے انسان اپنے بھائی کے بارے میں روا رکھ سکتا ہے۔ ہاں! یہ تشبیہ، غیبت کی حد سے زیادہ بُرائی، اور اس کے عظیم گناہ کو بیان کرنے والی ہے۔ اسلامی روایات میں بھی جیسا کہ بیان کیا جائے گا، مسئلہ غیبت کو حد سے زیادہ اہمیّت دی گئی ہے اور بہت کم ایسے گناہ ہیں، جس کی سزا، اسلام کی نظر میں، اس قدر سنگین ہو۔ اور چونکہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ان تینوں گناہوں میں سے بعض سے آلودہ ہوں، اور وہ ان آیات کے سُننے سے متنبہ اور بیدار ہو جائیں، اور تلافی کے لیے تیار ہوں، اس لیے آیت کے آخر میں ان کے لیے راستہ کھلا رکھتے ہُوئے فرماتا ہے: "تقویٰ الہٰی اختیار کرو، اور خدا سے ڈرو،کیونکہ خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے" (وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ)۔ سب سے پہلے تقویٰ اور خدا سے ڈرنے کی رُوح زندہ ہونی چاہیئے اور اس کے بعد گناہ سے توبہ کی جائے، تاکہ خدا کا لطف اور اس کی رحمت ان کے شامل حال ہو۔
چند نکات ١۔ معاشرے میں کامل اور ہر پہلو سے امن و امان
وہ چھ احکام جو اوپر والی دو آیات میں بیان کیے گئے ہیں۔ (تمسخر، غیبت جوئی، بُرے القاب، بدگمان، تجسس اور غیبت سے نہی) اگر کسی معاشرے میں ان پر کامل طور سے عمل ہو، تو معاشرے کے تمام افراد کی عزت و آبرو کا ہر لحاظ سے بیمہ ہو جاتا ہے، نہ تو کوئی شخص خود کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے دوسروں کو تفریح و تمسخر کا ذریعہ بنا سکتا ہے، اور نہ ہی وہ کسی کی عیب جوئی کے لیے زبان کھول سکتا ہے اور نہ بُرے القاب کے ساتھ لوگوں کی حرمت و شخصیت کو خراب کرتا ہے۔ نہ اُسے کسی کے بارے میں بُرا گمان کرنے کا حق ہے۔نہ وہ افراد بشر کی شخصی زندگی کے بارے میں جستجو میں لگتا ہے، اور نہ ہی ان کے پوشیدہ عیُوب دوسروں کے سامنے فاش کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کے پاس چار سرمائے ہیں۔اور ان سب کو اس قانون کے قلعوں کے اندر محفوظ رہنا چاہئیے اور وہ ہیں: جان، مال، اور عزت و آبرُو، اوپر والی آیات اور اسلامی روایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں، کہ لوگوں کی آبرُو اور حیثیت، ان کے مال و جان کی طرح ہے، بلکہ بعض پہلوؤں سے (اُن سے بھی) زیادہ اہم ہے،! اسلام یہ چاہتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں کامل طور امن و امان کی حکمرانی ہو۔ لوگ ایک دوسرے پر نہ صرف عمل میں اور ہاتھ کے ساتھ حملہ نہ کریں، بلکہ لوگوں کی زبان کے لحاظ سے اور اس سے بھی بڑھ کر فکر اور سُوچ کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے امن و امان میں ہوں اور ہر شخص یہ محسوس کرے کہ کوئی دوسرا شخص اپنے افکار میں بھی تہمت کے تیر اس کی طرف پھینکتا، اور یہ ایسی بلند ترین سطح کی امنیت ہے، جو ایک مذہبی اور مومن معاشرے کے سوا کہیں بھی امکان پذیر نہیں ہے۔ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں۔ " إِنّ الله حرم من المسلم دَمَهُ وَمَالَه وَعرضه، وإن يظن به السوء۔ "خدا نے مسلمانوں کا خُون، مال اور عزت و آبرو دوسروں پر حرام کر دی ہے، اور اسی طرح یہ بھی کہ اس کے بارے میں بُرا گمان کرے۔" (بحوالہ: "المحجة البیضاء" جلد ٥، صفحہ ٢٦٨)۔ بُرا گمان کرنا، نہ صرف طرف مقابل اور اس کی حیثیت پر صدمہ وارو کرتا ہے، بلکہ بُرا گمان کرنے والے کے لیے بھی ایک بہت بڑی بلا و مصیبت ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے، اور اجتماعی تعاون سے الگ تھلگ ہو جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اور یہ فعل ایک ایسی وحشتناک دُنیا اس کے لیے فراہم کرتا ہے، جو غریب و بےکسی اور تنہائی گوشہ نشینی سے پُر ہو، جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہوا ہے: "مَن لَم یحسن ظنّه إستوحش من کُلّ احدٍ" "جو شخص بُرا گمان رکھتا ہو وہ ہر شخص سے ڈرتا ہے، اور وحشت رکھتا ہے۔" (بحوالہ: "غُرر الحکم" صفحہ ٦٩٧)۔ دوسرے لفظوں میں وہ چیز جو انسان کی زندگی کو جانوروں سے جدا کرتی ہے، اور اسے رونق و حرکت اور تکامل و ارتقاء بخشتی ہے، وہ رُوح تعاون اور سب کا مل جُل کر کام کرنا ہی ہے۔ اور یہ اسی صُورت میں امکان پذیر ہے۔جبکہ لوگوں میں اعتماد اور خوش بینی ہو، در آنحالیکہ بُرا گمان اس اعتماد کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے، اور تعاون کے رشتوں کو توڑ دیتا ہے اور رُوح اجتماعی کو کمزور کر دیتا ہے۔ نہ صرف سُوء ظن بلکہ تجسس اور غیبت کا مسئلہ بھی اسی طرح کا ہے۔ بدبین افراد ہر چیز سے ڈرتے ہیں، اور ہر شخص سے وحشت رکھتے ہیں، اور ان کی رُوح پر ہمیشہ ایک جانکاہ پریشانی چھائی رہتی ہے، نہ تو وہ کوئی دوست اور مونس و غم خوار پیدا کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے اجتماعی کاموں کے لیے کوئی شریک و ہمکار بنا سکتے ہیں اور نہ پریشانی کے دنوں کے لیے کوئی یار و مددگار۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی الازم ہے کہ یہاں ظن سے مراد ایسے گمان ہیں جن کے لیے کوئی دلیل نہ ہو، اس بناء پر جہاں گمان کا انحصار کسی دلیل یعنی ظن معتبر پر ہو وہ اس گمان سے مستثنیٰ ہے، اُس گمان کی طرح، جو دو عادل گواہوں کی شہادت سے حاصل ہوتا ہے۔
٢۔ تجسس نہ کرو
ہم نے دیکھ لیا کہ قرآن نے اُوپر والی آیت میں تجسس کو پوری صراحت کے ساتھ منع کیا ہے، اور چونکہ اس کے لیے کسی قسم کی کوئی قید و شرط نہیں لگائی، لہٰذا یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے، کہ دوسروں کے کاموں میں جستجو کرنا، اور ان کے بھیدوں کو فاش کرنے کی کوشش کرنا، گناہ ہے، لیکن وہ قرائن جو آیت کے اندر اور باہر موجود ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں، کہ یہ حکم افراد کی شخصی اور خصوصی زندگی سے مربوط ہے، اور اجتماعی زندگی میں بھی اس حد تک، کہ اس سے معاشرے کی سرنوشت میں کوئی اثر نہ پڑتا ہو، یہی حکم صادق ہے۔ لیکن یہ بات واضح اور روشن ہے کہ جہاں اس کا دوسروں کی سرنوشت اور معاشرے کی حالت سے تعلق ہو، تو پھر مسئلہ کی دوسری شکل ہو جاتی ہے، لہٰذا پیغمبرؐنے کچھ اشخاص اطلاعات جمع کرنے کے لیے مقرر کیے ہُوئے تھے، جنہیں "عیون" کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے تاکہ وہ ایسی اطلاعات جو داخل اور خارج میں اسلامی معاشرے سے متعلق ہیں آپؐ کے لیے اکھٹی کریں۔ اسی بناء پر حکومت اسلامی میں مامورین اطلاعاتی رکھ سکتی ہے یا اطلاعات جمع کرنے کے لیے ایک وسیع ادارہ قائم کر سکتی ہے اور جہاں کہیں معاشرے کے برخلاف سازش کا خوف ہو، یا امن و امان کو خطرے میں ڈالنے یا حکومت اسلامی کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہو، وہاں تجسس کریں، یہاں تک کہ بعض افراد کی خصوصی و داخلی زندگی میں بھی جستجو کریں۔ لیکن یہ امر ہرگز اس اسلامی بنیادی قانون کی حرمت کو توڑنے کے لیے بہانہ نہیں بننا چاہیے، کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو اس بات کا مجاز قرار دے لیں کہ وہ مسئلہ سازش اور نقص امن کے بہانہ سے لوگوں کی خصوصی اور شخصی زندگی پر حملہ آور ہوں، اور ان کا اعمال نامہ کھولیں،ان کی ٹیلیفون پر باتیں سنیں اور وقت بے وقت ان کے گھروں کی تلاشی لیں۔ خلاصہ یہ کہ تجسس اور معاشرے کے امن و امان کی حفاظت کے لیے لازمی اطلاعات کے درمیان کی سرحد بہت ہی دقیق اور طریف ہے، اور امور اجتماعی کے ادارہ کے ذمہ داروں کی وقت کے ساتھ اس سرحد کی نگرانی کرنا چاہیے ، تاکہ انسانوں کے اسرار کی حرمت کی حفاظت بھی ہو، اور معاشرے اور حکومت اسلامی کا امن و امان بھی خطرے میں نہ پڑے۔
٣۔ غیبت بہت بڑا گناہ
ہم بیان کر چکے ہیں کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی حیثیت، آبرو اور شخصیت ہے، اور جو چیز اُسے خطرے میں ڈال دے، وہ ایسا ہے، جیسا کہ اس کی جان کو خطرے میں ڈال دیا، بلکہ بعض اوقات شخصیت کو قتل کرنا شخص کو قتل کرنے سے زیادہ اہم شمار ہوتا ہے، اور یہ وہ مقام ہے کہ جہاں اس کا گناہ قتلِ نفس کے گناہ سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے۔ غیبت کے حرام ہونے کے فلسفون میں سے ایک فلسفہ یہ ہے، کہ یہ عظیم سرمایہ برباد نہ ہو، اور اشخاص کی حرمت ضائع نہ ہو، اور ان کی حیثیت کو داغدار نہ کرے، یہ ایسی بات ہے کہ جسے اسلام نے بہت ہی زیادہ اہمیت دی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ "غیبت" بدنیتی پیدا کرتی ہے، اجتماعی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ اعتماد کے سرمایوں کو ختم کرتی ہے اور تعاون اور مِل جُل کر کام کرنے کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلام مسئلہ وحدت اور جامعہ اسلامی کے اتحاد، تنظیم اور استحکام کو حد سے زیادہ اہمیّت دیتا ہے، جو چیز اس وحدت کو مضبوط بناتی ہو، وہ اسلام سے تعلق اور لگاؤ رکھتی ہے، اور جو چیز اس کو کمزور کرے وہ اس کے لیے قابلِ نفرت ہے، اور غیبت ضعف پہنچانے اور کمزور کرنے کا ایک اہم عامل ہے۔ ان چیزوں سے قطع نظر غیبت کینہ و عداوت کا بیج دلوں میں بوتی ہے، اور بعض اوقات خونی جھگڑوں اور قتل و غارت کا سرچشمہ بنتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر اسلام میں غیبت بزرگ گناہان کبیرہ میں شمار ہوتی ہے تو یہ اس کے انفرادی اور اجتماعی بُرے آثار کی وجہ سے ہے۔ روایات اسلامی میں اس سلسلہ میں بہت ہی ہلا دینے والی تعبیریں دکھائی دیتی ہیں۔ جن کا ایک نمونہ ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں۔ پیغمبرؐ گرامی اسلام نے فرمایا: " إنّ الدّرهم يصيبه الرّجل مِنَ الرّبا أَعظم عندَ الله فِى الخَطِيئَةِ من ستّ و ثلاثين زنية، يزنيها الرّجل! وَأربِى الرّبا عرض الرّجل المُسلِم!" "وہ درہم جو انسان رباِ اور سُود کے ذریعہ حاصل کرے، اس کا گناہ خدا کے ہاں چھتیس زناؤں سے بڑھ کر ہے، اور ہر ربا سے بالاتر مُسلمان کی آبرُو ہے" (بحوالہ: "المحجة البیضاء" جلد ٥، صفحہ ٣٥٣)۔ یہ موازنہ اس بناء پر ہے، کہ "زنا" خواہ کتنا ہی بُرا ہو، وہ "حق اللہ" کا پہلو رکھتا ہے، لیکن سُود خوری، اور اس بدترغیبت یا کسی اور طریقہ سے آبروریزی کرنا "حق النّاس" کا پہلو رکھتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن پیغمبرؐ نے بلند آواز میں خُطبہ پڑھا اور بلند آواز میں فرمایا: " يَا مَعشِر مَن آمن بلسانِه وَلم يُؤمِن بقلبه! لَا تَغتابوا المُسلمينَ، وَلَا تَتّبِعوا عوراتهم، فَإنّه من تتّبع عورة أخيه تتّبع الله عورته، وَمن تتّبع الله عورته يفضحه فى جوف بيته!؟ "اے وہ گروہ جو زبان سے تو ایمان لائے ہو۔ لیکن دل سے ایمان نہیں لائے، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو، اور ان کے پوشیدہ عیبوں کی جستجو نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص اپنے دینی بھائی کے پوشیدہ امور کی جستجو و کرے خدا اس کے اسرار اور رازوں کو فاش کر دیتا ہے، اور اُسے خود اسی کے گھر کے اندر رسوا اور ذلیل کر دیتا ہے" (بحوالہ: سابقہ مدرک، صفحہ ٢٥٢)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ خدا نے موسیٰ کو وحی کی: " مَن مّات تائبًا من الغيبة فهو آخر من يدخل الجنّة، وَمَن مّاتَ مصرّا عليها فهو اوّل من يدخل النّار"! "جو شخص اس حالت میں مرے کہ اس نے غیبت سے توبہ کر لی ہو تو وہ آخری شخص ہو گا، جو جنّت میں داخل ہو گا، اور جو اس حالت میں مرے کہ غیبت پر اصرار رکھتا ہو، تو وہ پہلا شخص ہو گا، جو جہنم میں داخل ہو گا۔" (بحوالہ: سابقہ مدرک، صفحہ ٢٥٢)۔ ایک حدیث میں پیغمبرؐ گرامی اسلام سے بھی منقول ہے کہ: "الغیبة أسرع فی دین الرّجل المسلم من الأکلة فی جوفه" غیبت کی تاثیر مسلمان کے دین میں اس کے جسم میں جذام کے اثر سے بھی زیادہ تیز ہے۔" (تشریحی نوٹ: اصولِ کافی، جلد ٢، باب الغیبة حدیث نمبر١ (آکلہ بروزن قابلہ) ایک قسم کی بیماری ہے جو انسان کے بدن کا گوشت کھا جاتی ہے)۔ یہ تشبیہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیبت، جذام کی طرح جو بدن کے گوشت کو کھا جاتا ہے، سُرعت کے ساتھ انسان کے ایمان کو تباہ و برباد کر دیتی ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے غیبت اور اس طرح سے مسلمانوں کی عزت و آبرو کو تباہ کرنا، کیوں انسان کے ایمان کو اس طرح سے برباد کر دیتا ہے (غور کیجئے)۔ اس سلسلہ میں منابع اسلام میں بہت زیادہ روایات ہیں اور ہم ایک اور حدیث کو بیان کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: " من روى على مؤمن رواية يريد بها شينه، وَهدم مروته، ليسقطَ من أعين النّاس، أخرجه الله من وَلايَتِهِ إلى وَلَايَةِ الشّيطان، فلا يقبله الشيطان!" "جو شخص کسی مومن کی عیب جوئی اور آبروریزی کے لیے کوئی بات نقل کرے، تاکہ اس کو لوگوں کی نظروں سے گرا دے تو خدا کو اپنی ولایت سے نکال کر شیطان کی ولایت میں داخل کر دیتا ہے، لیکن شیطان بھی اس کو قبول نہیں کرتا" (بحوالہ: ۔ وسائل الشیعہ، جلد ٨ باب ١٥٧ حدیث ٢ صفحہ ٦٠٨)۔ یہ تمام تاکیدیں، اور ہلا دینے والی عبارتیں، اس فوق العادہ کی اہمیّت کی وجہ سے ہے، جو اسلام میں مومنین کی آبرو، اور ان کی اجتماعی حیثیت کی حفاظت کے لیے ہے، اور اس مخرب تاثیر کی وجہ سے بھی ہے جو غیبت سے، معاشرت کی وحدت آپس کے اعتماد اور دلی تعلقات میں پیدا ہوتی ہے اور اس سے بدتر بات یہ ہے کہ غیبت، اجتماعی سطح پر،کینہ و عداوت، اور دشمنی و نفاق کی آگ بھڑکانے، اور فحشاء و منکر کی اشاعت کا ایک عامل ہے، کیونکہ جس وقت لوگوں کے پوشیدہ عیُوب غیبت کے ذریعہ آشکار ہو جاتے ہیں تو گناہ کی عظمت و اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور اس میں آلودہ ہو جانا آسان ہو جاتا ہے۔
٤۔ غیبت کا مفہوم
"غیبت" جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے۔ یہ ہے، کہ کسی شخص کے پیٹھ پیچھے کوئی بات کہیں، البتہ وہ ایسی بات ہو جو اس کے کسی خاص عیب کو فاش کرے، چاہے وہ عیب جسمانی ہو یا اخلاقی، اس کے اعمال میں ہو یا گفتگو میں، یہاں تک کہ اُن امور میں جو اس سے متعلق ہیں، مثلاً لباس، گھر، بیوی اور اولاد وغیرہ۔ اس بناء پر اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے ظاہر و آشکار صفات کو بیان کرے تو وہ غیبت نہیں ہو گی، مگر یہ کہ اس کا مذمت اور عیب جوئی کا ارادہ ہو، تو اس صورت میں وہ حرام ہے، مثلاً یہ کہ مذمت کے طور پر کہے کہ فلاں شخص نابینا، یا کوتاہ قد، یا کالا، یا کوسہ، یعنی بے ڈاڑھی مونچھ کا۔ اس طرح سے پوشیدہ عیوب کا ذکر کرنا،چاہے کسی بھی نیت اور ارادہ سے ہو، غیبت اور حرام ہے، اور ظاہر عیوب کا ذکر، اگر مذمت کے ارادے سے ہو تو حرام ہے، چاہے ہم اس کو غیبت کے مفہوم میں داخل سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ یہ سب کچھ اس صورت میں ہے، جبکہ یہ صفات واقعاً اس شخص میں موجود ہیں۔ لیکن اگر ایسی اصلاً اس میں موجو ہی نہ ہو تو وہ "تہمت" کے عنوان میں داخل ہو گی، جس کا گناہ کئی گنا زیادہ شدید اور زیادہ سنگین ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ " الغيبة أن تقول فِى أخيك ما ستره الله عليه، وأما الأمر الظّاهر فيه، مثل الحدة وَالعجلة، فلا، وَالبُهتان أن تقولَ مَا ليسَ فِيهِ: "غیبت" یہ ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں وہ بات کہے، جسے خدا نے پنہاں رکھا ہے، لیکن وہ چیز ظاہر ہے، مثلاً سخت مزاجی اور جلد بازی تو وہ غیبت میں داخل نہیں ہے، لیکن بہتان یہ ہے کہ تو ایسی چیز کہے کہ جو اس میں موجود نہ ہو۔ (بحوالہ: "اصول کافی" جلد ٣، باب الغیبة و البهت حدیث)۔ اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ عام عذر جو بعض لوگ غیبت کے بارے میں پیش کرتے ہیں، سننے کے لائق نہیں ہے۔ مثلاً بعض اوقات غیبت کرنے والا یہ کہتا ہے کہ غیبت نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو اس کی صفت ہے، حالانکہ اگر وہ اس کی صفت نہ ہوتی تو پھر تو وہ تہمت ہوتی نہ کہ غیب۔ یا یہ کہ وہ یہ کہتا ہے کہ یہ تو ایسی بات ہے، جسے میں اس کے سامنے بھی کہتا ہوں، حالانکہ اس کو اس کے سامنے کہنا نہ صرف غیبت گے گناہ میں کوئی کمی نہیں کرتا، بلکہ اس کو ایذاء و تکلیف پہنچانے کی بناء پر اس سے بھی زیادہ سنگین گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
٥۔ غیبت کا علاج اور اس سے توبہ
غیبت بہت سے مذموم صفات کے مانند آہستہ آہستہ ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے، اور اس طرح سے کہ غیبت کرنے والا اپنے کام سے لذّت اٹھانے لگتا ہے اور اس سے کہ ہمیشہ کسی نہ کسی کی آبروریزی کرے، راضی اور خوش ہوتا ہے اور یہ ایک بہت ہی خطرناک اخلاقی مرحلہ ہے۔ یہی وہ موقع ہے، جب غیبت کرنے والے کو ہر چیز سے پہلے غیبت کے اندرونی محرکات کا علاج کرنا چاہیے، جو اس کی رُوح کی گہرائیوں میں ہیں اور گناہ پر ابھار رہے ہیں، ایسے محرکات جیسے کہ "بخل" و "حسد" و "کینہ پروری" و "عداوت" اور خود کو افضل و برتر سمجھنا ہیں۔ اسے چاہیے کہ خود سازی کے طریق سے اور ان بُرے صفات کے نتائج بد اور ان کے بُرے ثمرات کے بارے میں غور و فکر کرنے سے، اور اسی طرح ریاضت نفس کے طریقہ سے، ان آلود گیوں کو اپنے جان و دل سے دھو ڈالے، تاکہ اپنی زبان کو غیبت کی آلودگی سے باز رکھ سکے۔ اس کے بعد توبہ کے مقام میں آئے، اور چونکہ غیبت حق الناس کا پہلو رکھتی ہے اگر صاحبِ غیبت تک رسائی ہو اور اس سے کوئی نئی مشکل پیدا نہ ہوتی ہو، تو اس سے عذر خواہی کرے، چاہے وہ سربستہ شکل میں ہی ہو مثلا کہے میں بعض اوقات نادانی اور بےخبری میں آپ کی غیبت کر بیٹھا ہوں مجھے معاف کر دو، اور اس سے زیادہ تشریح نہ کرے، تاکہ کہیں تازہ فساد کا سبب نہ بن جائے۔ اور اگر طرفِ مقابل تک دسترس نہیں ہے، یا اُسے پہچانتا نہیں ہے، یا وہ فوت ہو گیا، تو اس کے لیے إستغفار کرے اور نیک عمل انجام دے، شاید اس کی برکت سے خداوند متعال اس کوبخش دے، اور طرفِ مقابل کو راضی کر لے۔
٦۔ استثنائی مواقع
غیبت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ قانون غیبت میں بھی، ہر دوسرے قانون کی طرح، کچھ باتیں مستثنیٰ ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے، کہ بعض اوقات مشورہ کے طور پر مثلاً بیوی یا شوہرکے انتخاب میں، یا کسب و کار وغیرہ میں شریک ہونے کے لیے کوئی شخص کسی سے سوال کرتا ہے، تو مشورت میں امانت کا جو اسلام کا ایک مسلمہ قانون ہے و تقاضا یہ ہے کہ اگر طرفِ مقابل میں اُسے کوئی عیب معلو م ہو، تو وہ اُسے تبا دے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک مُسلمان جال میں پھنس جائے ، اور اس قسم کی غیبت جو اس قسم کی نیّت سے انجام پائے حرام نہیں ہے۔ اسی طرح ایسے ہی دوسرے موقعوں پر، جہاں ایسےاہم مقاصد ہوں، جسے کاموں میں مشورہ کا مقصد ہوتا ہے، یا کسی حق کو ثابت کرنے کے لیے یا ظلم کے خلاف دادرسی کے لیے صورت پذیر ہو۔ البتہ جو شخص علی الاعلان اور آشکارا گناہ کرتا ہے اور اصطلاح کے مطابق "متجاھربه فسق" ہے وہ موضوع غیبت سے خارج ہے اور اگر کوئی اس کے گناہ کو اس کے پیٹھ پیچھے بیان کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیے کہ یہ حکم اُسی گناہ کے ساتھ مخصوص ہے، جس کے بارے میں وہ متجاہر ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ نہ صرف غیبت کرنا حرام ہے، بلکہ غیبت کا سننا بھی حرام ہے، اور غیبت کی مجلس میں حاضر ہونا بھی حرام کاموں میں سے ہے، بلکہ کچھ روایات کے مطابق تو مسلمانوں پر غیبت کا رد کرنا واجب ہے، یعنی غیبت کے مقابلہ میں دفاع کے لیے کھڑے ہوں، اور اس مسلمان بھائی کا، جس کی حیثیت و شخصیّت خطرے میں پڑ گئی ہے، دفاع کریں، اور کتنا زیبا اور خوبصورت ہو گا، وہ معاشرہ، جس میں یہ اخلاقی اصُول دقیقاً اجراء ہوں۔
تفسیر تقویٰ بہترین انسانی صفت
Tafsīr Nemūna · Vol. 7گزشتہ آیات میں رُوئے سُخن مومنین کی طرف تھا، اور خطاب "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا" کی صورت میں تھا، اور متعدد آیات کے ضمن میں، وہ باتیں، جو ایک مومن معاشرے کو خطرے سے دوچار کرتی ہیں، بیان کی ہیں، اور ان سے منع کیا ہے۔ جبکہ زیر بحث آیت میں، سارا انسانی معاشرہ مخاطب ہے اور وہ اہم ترین اصل اور بنیاد، جو نظم و ثبات کی ضامن ہے، بیان کرتا ہے۔ اور کاذب اور چھوٹی اقدار کے مقابلہ میں حقیقی انسانی اقدار کی میزان کو مشخص کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں شعوب و قبائل قرار دیا ہے۔ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہنچان سکو۔" (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا)۔ لوگوں کی ایک مرد اور ایک عورت سے خلقت سے مراد، وہی انسانوں کے انساب کی آدم و حوا کی طرف بازگشت ہے، اس بناء پر چونکہ وہ سب کے سب ایک ہی جڑ سے ہیں، لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ نسب و قبیلہ کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فخر کریں اور اگر خدا نے قبیلہ اور گروہ کے لیے کچھ خصوصیات خلق کی ہیں، تو وہ لوگوں کی اجتماعی زندگی کے نظم و ضبط کی حفاظت کے لیے ہے، کیونکہ یہ فرق اور تفاوت شناخت اور پہنچان کے لیے ہے اور افراد کی پہچان کے بغیر انسان معاشرے میں کوئی نظم و ضبط قائم نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر وہ سب کے سب یکساں اور ایک دوسرے کے مشابہ اور مانند ہوتے تو سارے انسانی معاشرے کوفتنہ و فساد گھیر لیتا۔ اس بارے میں "شعوب" (جمع "شعب" بروز صعب) لوگوں کے ایک عظیم گروہ کے معنی میں، اور "قبائل" جمع "قبیلہ" کے درمیان کیا فرق ہے؟ مفسرین نے مختلف احتمال دئیے ہیں۔ ایک جماعت نے تو یہ کہا ہے کہ "شعوب" کا دائرہ قبائل کے دائرے سے زیادہ وسیع ہے، جیسا کہ موجودہ زمانہ میں "شعب" کا ایک "ملت و قوم" پر اطلاق ہوتا ہے۔ بعض "شعوب" کو "طوائف عجم" کی طرف اشارہ، اور قبائل کو "طوائف عرب" کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ اور آخر میں بعض نے "شعوب" کو انسان کے جغرافیائی منطقوں کی طرف منسُوب ہونے کے لحاظ سے، اور "قبائل" کو نسل اور خون کی طرف منسُوب ہونے سے متعلق سمجھا ہے۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ بہرحال، قرآن مجید زمانہ جاہلیّت کے بزرگ ترین فخر و مباہات کے سبب، یعنی نسب و قبیلہ پر فخر کو ختم کرنے کے بعد واقعی اور حقیقی انسانی اقدار اور حقیقی انسانی اقدار کے معیار کو بیان کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: تم میں سے زیادہ مکرم و گرامی خدا کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے" (إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ)۔ اس طرح سے تمام ظاہری اور مادی امتیازات پر خطِ بطلان کھینچتے ہُوئے بڑائی کی واقعیت و حقیقت کو مسئلہ تقویٰ و پرہیزگاری اور خوفِ خدا میں قرار دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ خدا کے تقرب اور اس کی ساحت قدس سے نزدیکی کے لیے کوئی امتیاز سوائے تقویٰ کے مؤثر نہیں ہے۔ اور چونکہ تقویٰ ایک روحانی اور باطنی صفت ہے، جسے سب سے پہلے انسان کے دل و جان میں مستقر ہونا چاہیے اور ممکن ہے کہ اس کے مدعی تو بہت ہوں، مگر اس سے متصف بہت کم ہوں، لہٰذا آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے۔ "خدا علیم و خبیر ہے" (إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ)۔ وہ پرہیزگاروں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے، اور ان کے درجہ پر تقویٰ و خلوصِ نیّت اور ان کی پاکیزگی اور صفائی سے آگاہ ہے ان کو اپنے علم کے مطابق مکرم و محترم اور گرامی رکھتا ہے، اور اجر و پاداش دیتا ہے، جُھوٹے دعویداروں کو بھی پہچانتا ہے اور انہیں سزا اور عذاب دیتا ہے۔
نکتہ ١۔ سچی اور جُھوٹی قدریں
اس میں شک نہیں کہ ہر انسان فطرتاً اس چیز کا خواہاں ہے کہ وہ ایک صاحب قدر و افخار ہستی قرار پائے، لہٰذا اسی وجہ سے اقدار کو کسب کرنے کے لیے اپنے پُورے وجُود کے ساتھ کوشش کرتا ہے۔ لیکن اقدار کے معیار کو پہچان تہذیبوں اور تمدنوں کے اختلاف کی وجہ سے کامل طور سے مختلف ہے، اور بعض اوقات جھوٹی قدریں سچی قدروں کی جگہ لے لیتی ہیں۔ کوئی گروہ اپنی واقعی اور حقیقی قدر و قیمت کسی معروف و معتبر قبیلہ کے ساتھ انتساب میں سمجھتا ہے، لہٰذا اپنے قبیلہ اور طائفہ کے مقام کی شان کے لیے ہمیشہ ہاتھ پائوں مارتا رہتا ہے، تاکہ اس کو بڑا اور بزرگ بنانے کے طریقہ سے خود کو اس اور طائفہ کے مقام کی شان کے لیے ہمیشہ ہاتھ پاؤں مارتا رہتا ہے، تاکہ اس کو بڑا اور بزرگ بنالے کے طریقہ سے خود کو اس سے منسُوب کرنے کے ذریعہ بڑا کرے۔ خاص طور سے زمانہ جاہلیّت کی اقوام کے درمیان انساب و قبائل کے ذریعہ افتخار سب سے زیادہ رائج موہوم افتخار تھا، یہاں تک کہ ہر قبیلہ خود کو بر ترقبیلہ اور ہر نسل خود کو والا تر نسل سمجھتی تھی، افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس کی تلچھٹ اور بقایاجات بہت سے افراد و اقوام کی روح کی گہرائیوں میں موجود ہیں۔ ایک دوسرا گروہ مال و دولت کے مسئلہ اور کاخ و قصر و خدم و حشم اور ایسی چیزوں کا مالک ہونے کو قدر و قیمت کی نشانی سمجھتا ہے، اور ہمیشہ اسی کے لیے کوشش کرتا رہتا ہے، جبکہ ایک اور جماعت اور سیاسی بلند مقامات کو شخصیت کا معیار سمجھتی ہے۔ اور اس طرح سے ہر گروہ اپنے مخصوص راستے پر قدم اُٹھاتا ہے، اور کسی ایک خاص قدر و منزلت سے اپنا دل باندھتا ہے اور اسی کو معیار سمجھتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب امور، ایسے متزلزل اور ذات سے خارج اور مادی اور جلدی گزر جانے والے امور ہیں، اسلامی جیسا ایک آسمانی دین ہر گزان کی موافقت نہیں کر سکتا، لہٰذا ان سب پر خط بطلان کھینچتے ہُوئے، انسان کی واقعی اور حقیقی قدر و قیمت کو اس کی ذاتی صفات، خصوصاً تقویٰ و پرہیزگاری ایفائے عہد اور پاکیزگی میں شمار کرتا ہے، یہاں تک کہ علم دانش جیسے اہم موضوعات کے لیے بھی۔ اگر وہ ایمان و تقویٰ اور اخلاقی قدروں کی راہ میں کام نہ آئیں۔ کسی اہمیت کا قائل نہیں ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ قرآن ایک ایسے ماحول میں ظاہر ہوا، جہاں "قبیلہ" کی قدر و قیمت تمام قدروں سے زیادہ اہم شمار ہوتی تھی، لیکن یہ خود ساختہ بُت ٹوٹ پھُوٹ گیا اور انسانوں کو "خون" و "قبیلہ" و "رنگ" و "نژاد" (نسل) و "مال" و "مقام" اور مال و دولت کی قید سے آزاد کر دیا، اور اسے اپنے آپ کو پانے کے لیے اس کی جان و رُوح کے اندر اور اس کی بلند صفات میں رہبری کی۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اُن شان ہائے نزول میں، جو اس آیت کے لیے بیان کی گئی ہیں، ایسے نکات دکھائی دیتے ہیں جو اس دستور الہٰی کی گہرائی کی حکایت کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ: فتح مکّہ کے بعد پیغمبرؐ نے حکم دیا کہ اذان کہیں "بلال" نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان کہی تو عتاب بن اسید نے جو آزاد کیے گئے لوگوں میں سے تھا، کہا، میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میرا باپ دُنیا سے رخصت ہو گیا اور اس نے یہ دِن نہ دیکھا اور "حارث بن ہشام" نے بھی کہا:کیا رسولؐ اللہ کو اس کالے کوّے کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا؟ (تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور حقیقی اور واقعی قدر و قیمت کا معیار بیان ہوا)۔ (بحوالہ: "روح البیان" جلد ٩، صفحہ ٩٠۔ تفسیر قرطبی میں بھی یہی شان نزول بیان کی گئی ہے جلد ٩، صفحہ ٦١٦٠)۔ بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ آیہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب پیغمبرؐ نے یہ حکم دیا تھا کہ بعض موالی کو لوگ بیٹی کا رشتہ دیں (موالی آزاد شاہ غلاموں یا غیر عرب کو کہتے ہیں) تو ان لوگوں نے تعجب کیا اور کہا اے رسولؐ اللہ کیا آپ یہ حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیٹیاں موالی کو دیں؟ تو یہ آیت نازل ہوئی اور ان بےہودہ افکار پر خط بطلان کھینچا۔ (بحوالہ: سابقہ مدرک)۔ "يَا أيّهَا النّاس إنّ اللهَ قد أذهبَ عنكم عيبة الجاهلية، وَتعاظمها بِأبائها، فالنّاس رجلان: رجل بِرّ تقى كريم على الله، وَفاجر شقىّ هين على الله، والنّاس بنو آدم، وَخلق الله آدم مِن ترابٍ، قال الله تعالىٰ: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثى وَجَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ: اے لوگو! خدا نے جاہلیت کے ننگ و عیب اور آباؤ اجداد اور بزرگوں پر فخر و مباہات کرنے کو ختم کر دیا ہے، لوگوں کے صرف دو گروہ ہیں: نیکو کار صاحب تقویٰ اور خدا کے ہاں قدر و قیمت رکھنے والے، یا بدکار و شقی اور بارگاہ خداوندی میں پست و حقیر سب کے سب لوگ آدم کی اولاد ہیں، اور خدا نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے: ایسے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں اس لیے شعوب و قبائل قرار دیا ہے، تاکہ تمہاری پہچان ہو سکے، خدا کے نزدیک زیادہ مکرم و گرامی وہ ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار ہے اور خدا دانا اور آگاہ ہے" (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ٩، صفحہ ٦١ ٦١)۔ کتاب "آداب النفوس" طبرسی میں آ یا ہے کہ پیغمبرؐ نے ایام تشریق کے دوران (جو ذی الحجہ کے ١١، ١٢ اور١٣ کے دِن ہیں) سرزمین منی میں، جبکہ آپؐ ایک اونٹ پر سوار تھے، لوگوں کی طرف رُخ کر کے فرمایا: " يَا أيّهَا النّاس! ألَا إنَّ ربّکُم واحد وَإنّ أباكم واحد، إلّا لَا فَضلَ لِعَرَبِىّ على عجمىّ، وَلا لِعَجَمِىّ على عربىّ، وَلا سود على أحمر، ولا لأحمر على أسود، إلّا بالتقوى إلّا هَل بَلغت؟ قالوا نعم! قال ليبلغ الشاهد الغائب۔" اے لوگو!جان لو کہ تمہارا خدا ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے نہ تو عرب کو عجم پر کوئی برتری ہے، اور نہ ہی عجم کو عرب پر، نہ کسی کالے کو کسی گورے پر اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر، مگر تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ، کیا میں نے خدا کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے؟ سب نے کہا: ہاں! آپؐ نے فرمایا: یہ بات حاضرین غائبین تک پہنچا دیں۔ (تشریحی نوٹ: مدرک سابق صفحہ٦١، ٦٢ اس روایت میں "احمر" کی تعبیر سُرخ جلد کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ گندم گوں کے معنی میں ہے، کیونکہ زیادہ تو لوگ اس ماحول میں اسی قسم کے تھے، اتفاقاً لفظ "احمر" روایات میں خود گندم"" پر بھی اطلاق ہوا ہے)۔ ایک اور دوسری حدیث میں بھی مختصر اور پُر معنی جملوں میں آنحضرت سے یہ منقول ہوا ہے: "إنّ الله لا ينظر الىٰ أحسابكم، وَلا إلىٰ أنسابكم، وَلا الىٰ أجسامكم، وَلَا إلىٰ أموالكم، وَلكن ينظر الىٰ قلوبِكُم، فَمَن كان له قلب صالح تحنن الله عليه، وإنما أنتم بنو آدم وأحبكم إليه أتقاكم" خدا تمہارے گھرانے اور نسب کی وضع و کیفیّت کو نہیں دیکھتا، نہ تمہارے جسموں کی طرف نہ تمہارے مال و متال کی طرف، لیکن وہ تو تمہارے دلوں کی دیکھتا ہے، جو شخص صالح اور نیک دل رکھتا ہے تو خدا اس پر لطف و محبت کرتا ہے، تم سب آدم کی اولاد ہو اور تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محبُوب وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔ (تشریحی نوٹ: مدرک سابق صفحہ٦١، ٦٢ اس روایت میں "احمر" کی تعبیر سُرخ جلد کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ گندم گوں کے معنی میں ہے، کیونکہ زیادہ تو لوگ اس ماحول میں اسی قسم کے تھے، اتفاقاً لفظ "احمر" روایات میں خود گندم"" پر بھی اطلاق ہوا ہے)۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ان وسیع بکثرت اور پُر بار تعلیمات کے باوجود اب بھی مسلمانوں کے درمیان کچھ لوگ نسل و خون اور زبان کے مسئلہ پر تکیہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کی وحدت کو اخوت اسلامی اور وحدت دینی پر مقدم سمجھتے ہیں اور انہوں نے زمانہ جاہلیّت کی عصبیّت کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اور اگرچہ ان پر اس راستے میں سخت مصائب اٹھانے پڑے ہیں، لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ بیدار ہونا ہی نہیں چاہتے اور نہ اسلام کے حکم کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں اور خداوند عالم سب لوگوں کو جاہلیّت کے تعصبات کے شر سے محفوظ رکھے۔ اسلام نے "جاہلیّت کی عصبیت" جو جس شکل و صُورت میں ہو، مبارزہ کیا ہے تاکہ پُورے عالم کے مسلمانوں کو، چاہے وہ جس نسل و قوم و قبیلہ سے ہوں، ایک پرچم کے نیچے جمع کرے، نہ کہ قومیت و نسل کے پرچم تلے اور نہ ہی کسی دوسرے پرچم کے نیچے، کیونکہ وہ جس نسل و قوم و قبیلہ سے ہوں ایک پرچم کے نیچے جمع کرے، نہ کہ قومیت و نسل کے پرچم تلے اور نہ ہی کسی دوسرے پرچم کے نیچے، کیونکہ اسلام ہرگز اس قسم کے تنگ و محدود نظریات کو قبول نہیں کرتا اور ان سب کو موہوم اور بےبنیاد شمار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرؐ نے جاہلیّت کی عصبیت کے بارے میں فرمایا: "دعوها فانّها منتنه۔" "اسے چھوڑ دو۔ یہ بدبودار متعفن چیز ہے۔" ( بحوالہ: "صحیح مُسلم" (مطابق فی ظلال) جلد٧ صفحہ ٥٣٨)۔ لیکن اس متعفن اور بدبودار فکر کو بہت سے ایسے لوگ جو ظاہر اً اپنے کو مسلمان شمار کرتے ہیں، اور قرآن اور اخوتِ اسلامی کا دم بھرتے ہیں، اب تک گلے کیوں لگائے ہُوئے ہیں؟ کیا انہیں معلوم نہیں ہے! کتنا زیبا اور خوبصورت ہو گا وہ معاشرہ جو اسلامی قدروں کے معیار اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ أَتْقاکُمْ کی بنیاد پر تعمیر ہو گا، اور نسل، مال، دولت، جغرافیائی منطقوں اور طبقوں کی جھوٹی قدریں ختم ہو جائیں گی ہاں! تقوائے الہٰی، اندرونی مسئولیت کا احساس، خواہشات کے مقابلہ میں قیام، اور راستی، و دوستی، پاکی و حق و عدالت کا پابند ہونا، صرف یہی چیزیں انسانی قدروں کا معیار ہیں۔ نہ کہ ان کی غیر، اگرچہ موجودہ معاشروں کے پریشان حال بازار میں یہ اصل قدریں بھلا دی گئی ہیں اور جھوٹی قدروں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ زمانہ ٔجاہلیّت کی قدروں کے نظام میں، جو آباؤ اجداد، و دولت اور اولاد پر فخر کرنے کے محور پر چکر لگاتا تھا، ایک مٹھی بھر چور اور ڈاکو پرورش پاتے تھے، لیکن اس نظام کے بدل جانے سے اور اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ أَتْقاکُمْ کی بلند و بالا اصل کے احیاء سے، سلمان و ابوذر عمار یاسر و مقداد، جیسے انسان حاصل ہوئے۔ انسانی معاشروں کے انقلاب میں اہم چیز ان کی قدروں کے نظام کا انقلاب ہے، اور اس اصل اصیل اسلامی کا احیاء ہے۔ ہم اس گفتگو کو پیغمبرؐ گرامی اسلام کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ جس میں آپؐ نے فرمایا: كلُّكم بنو آدم، وَآدم خلق مِن ترابٍ، وَلينتهين قوم يفخرون بِآبَائِهِم أو ليكوننّ أهونَ على الله مِن الجعلان" "تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں، آباؤ اجداد کے ذریعے ایک دوسرے پر فخر کرنے سے پرہیز کرو، ورنہ تم خدا کے نزدیک ان حشرات اور کیڑے مکوڑوں سے، جو گندگی میں ڈوبے ہُوئے ہوتے ہیں، زیادہ حقیر اور پست ہو جاؤ گے۔ (بحوالہ: "فی ظلال" جلد٧ صفحہ ٥٣٨)۔
٢۔ تقویٰ کی حقیقت
جیسا کہ ہم دیکھے چکے ہیں، قرآن نے تقویٰ کو عظیم امتیاز قرار دیا ہے اور صرف اسی کو انسانوں کی قدر و منزلت کے ناپنے کا معیار سمجھا ہے۔ ایک دوسری جگہ تقویٰ کو بہترین زادراہ اور توشہ شمار کیا ہے اور کہتا ہے " وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى" (بقرہ ۔١٩٧)۔ ایک اور جگہ تقویٰ کے لباس کو انسان کے لیے بہترین شمار کرتا ہے: " وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ" (اعراف۔٢٦)۔ متعدد آیات میں، انبیاء کی دعوت کے ابتدائی اصولوں میں سے ایک کو تقویٰ کہا ہے اور آخر میں ایک اور جگہ اس موضوع کی اہمیت کو اس حد تک اور پرے کیا ہے کہ خدا کو "اصل تقویٰ" شمار کرتے ہُوئے کہتا ہے: هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ: (مدثر۔ ٥٦)۔ قرآن تقویٰ کو نور الہٰی سمجھتا ہے کہ جہاں وہ راسخ ہو جائے علم و دانش کی تخلیق کرتا ہے: "وَاتَّقُواْ اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ" (بقرہ۔ ٢٨٢)۔ اور نیکی و تقویٰ کو ایک دوسرے کو قرین شمار کرتا ہے: "وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى" (مائدہ ۔ ٨)۔ اور عدالت کو تقویٰ کاقرین کہتاہے: "إِعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى" ( مائدہ ۔ ٨)۔ اب دیکھنا یہ چاہیے کہ اس عظیم معنوی سرمایے اور اس عظیم ترین انسانی افتخار یعنی تقویٰ کی ان تمام امتیازات کے ساتھ حقیقت کیا ہے؟ قرآن نے کچھ ایسے اشارے بیان کیے ہیں جو تقویٰ کی حقیقت سے پردہ اُٹھاتے ہیں، متعدد آیات میں "تقویٰ" کی جگہ قلب کو شمار کیا ہے، ان میں ایک جگہ کہتا ہے: "أُوْلَئِكَ الَّذِينَ إِمْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى۔" وہ لوگ جو رسول خدا کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی رکھتے ہیں اور ادب کی رعایت کرتے ہیں، وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں کا تقویٰ کے قبول کرنے کے لیے خدا نے امتحان لے لیا ہے۔ (حجرات۔٣)۔ قرآن نے "تقویٰ" کو "فجور" کا مقابل قرار دیا ہے جیسا کہ سورۂ شمس کی آیہ ٨ میں بیان ہوا: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس کو فجور اور تقویٰ کی راہ دکھا دی۔ قرآن ہر اس عمل کو، جس نے رُوح اخلاص و ایمان یعنی نیک و پاکیزہ نیت سے سرچشمہ حاصل کیا ہو، تقویٰ کی بنیاد پر شمار کرتا ہے، جیسا کہ سورۂ توبہ کی آیت ١٠٨ میں مسجد قبا کے بارے جس کے مقابلہ میں مسجد ضرار بنائی گئی تھی۔ فرماتا ہے: " لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ": "وہ مسجد جو پہلے دن سے ہی تقویٰ کی بنیاد پر بنی ہے، زیادہ حق رکھتی ہے کہ تو اسی میں نماز پڑھے۔" ان آیات کے مجمُوعہ سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ "تقویٰ" وہی مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس ہے، جو دل میں ایمان کے راسخ ہو جانے کے بعد انسانی وجود پر حکومت کرتا ہے، اور اس کو "فسق و فجور" اور گناہ سے باز رکھتا ہے اور نیکی و پاکی و عدالت کی طرف دعوت دیتا ہے، انسان کے اعمال کو خالص اور اس کی فکر و نیت کو آلودگیوں سے صاف کرتا ہے۔ جب ہم اس لفظ کی لغوی اصل و بنیاد کی طرف لوٹتے ہیں، تو پھر بھی ہم اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں، کیونکہ "تقویٰ"، "وقایة" سے کسی چیز کی حفاظت و نگہداری میں کوشش کرنے کے معنی میں ہے اور اس قسم کے مواقع پر مراد، روح و جان کی ہر قسم کی آلودگی سے حفاظت، اور ایسے امور میں جن میں خدا کی رضا ہو اپنی قوتوں کو ایک مرکز پر لانا ہے۔ بعض بزرگوں نے تقویٰ کے لیے تین مراحل بیان کیے۔ ١۔ صحیح اعتقادات کی تحصیل کے ذریعہ عذاب جاودانی سے نفس کو محفوظ رکھنا۔ ٢۔ ہر قسم کے گناہ سے پرہیز کرنا چاہے وہ ترک واجب ہو یا فعل معصیّت۔ ٣۔ اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچانا جو انسان کے دل کو اپنی طرف مشغول رکھتی ہے، اور حق سے منحرف کرتی ہے، اور یہ خواص بلکہ خاص الخاص لوگوں کا تقویٰ ہے۔ (بحوالہ: بحارالاانوار، جلد ٧٠، صفحہ ١٣٦)۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے (نہج البلاغہ) میں تقویٰ کے سلسلہ میں کئی منہ بولتی اور زندہ تعبیریں بیان فرمائی ہیں۔ اور تقویٰ ان مسائل میں سے ہے جس میں حضرت کے بہت سے خطبوں، خطوط اور کلمات قصار میں تکیہ ہوا ہے۔ ایک جگہ تقویٰ کا گناہ اور آلودگی سے موازنہ کرتے ہُوئے اس طرح فرماتے ہیں۔ " أَلَا وإِنَّ الخَطايا خيل شمس حمل عليها أهلها، وَخلعت لجمها، فتقحمت بهم فى النّار! ألَا وَإِنّ التقوىٰ مطايا ذلل حمل عليها أهلها، واعطوا أزمتها، فأوردتهم الجنّة" "جان لو کہ گناہ سرکش سواریوں کے مانند ہیں، جن پر گنہگار سوار ہوتے ہیں اور جن کی لگامیں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ اور وہ ان کو تعرجہنم میں لے جا کر سر کے بل ٹپک دیتی ہیں لیکن تقویٰ ایسی آرام دہ اور سبک رفتار سواری ہے جن کے مالک ان پر سوار ہوتے ہیں، تو ان کی لگامیں ہاتھ میں لیے ہوتے ہیں، اور وہ انہیں بہشت کے وسط میں لے جا کر داخل کر دیتی ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ١٦)۔ اس لطیف تشبیہ کے مطابق، تقویٰ وہی اپنے آپ کو بچائے، نفس پر کنڑول کرنے، اور شہوات پر تسلط کی حالت ہے درحالیکہ تقویٰ کا نہ ہونا، سرکش شہوات کے مقابلے میں سر تسلیم خم ہونا، اور ان پر ہر قسم کے کنڑول کا ختم ہو جانا ہے۔ ایک اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: " إعلموا عباد اللہ إنّ التّقوى دار حصن عزيز، وَالفجور دار حصن ذليل، لا يمنع أهله، وَلا يحرز من لجا إليه، إلّا وَبالتّقوى تقطع حمة الخطايا" "اے بندگانِ خدا، جان لو کہ تقویٰ ایک مستحکم اور شکست ناپذیر قلعہ ہے، لیکن فسق و فجور اور گناہ ایک کمزور اور بےدفاع حصار ہے، جو اپنے اہل کو آفات و بلیات سے نجات نہیں دیتا، اور جو شخص اس کی پناہ لے گا وہ امان میں نہیں ہے۔ جان لو کہ انسان صرف تقویٰ کے ذریعہ ہی گناہ کی گزند سے بچ سکتا ہے" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ١٥٧)۔ ایک اور مقام پر مزید فرماتے ہیں: " فاعتصموا بتقوى الله فإنّ لها حبلا وثيقا عروته ومعقلا منيعا ذروته۔ "تقویٰ الہٰی کو مضبُوطی کے ساتھ تھام لو کیونکہ وہ ایک محکم رشتہ اور عروة الوثقی ہے، اور ایک قابلِ اطمینان پناہ گاہ ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٠)۔ ان تعبیرات کے مجموعہ سے تقویٰ کی حقیقت اور رُوح اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ یہ نکتہ بھی یاد آوری کے لائق ہے کہ تقویٰ ایمان کے درخت کا پھل ہے، اور اسی بناء پر اس عظیم سرمائے کو حاصل کرنے کے لیے ایمان کی بنیادوں کو محکم بنانا چاہیے۔ البتہ اطاعت پر عمل درآمد اور گناہ سے پرہیز، اور اخلاقی پروگراموں پر توجہ، تقویٰ کو نفس میں راسخ کرتی ہے اور اس کا نتیجہ انسان کی رُوح اور جان میں نور یقین اور ایمانِ شہودی کا پیدا ہونا ہے اور نور "تقویٰ" جتنا بڑھتا جاتا ہے، اتنا ہی نور "یقین" بھی زیادہ ہوتا جاتا ہے، لہٰذا ہم اسلامی روایات میں دیکھتے ہیں کہ تقویٰ کو ایمان سے ایک درجہ بلند، اور یقین سے ایک درجہ نیچے شمار کیا جاتا ہے۔ امام علی بن مُوسیٰ رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: " الإيمان فوق الإسلام بدرجةٍ، والتّقوى فوق الإيمان بدرجة، وَاليقين فوق التّقوى بدرجة، وَمَا قسم فِى النّاس شىءٌ أقلّ مِنَ اليَقِين" "ایمان اسلام سے ایک درجہ بلند ہے، اور تقویٰ ایمان سے ایک درجہ اُونچا ہے اور یقین تقویٰ سے ایک درجہ اونچا ہے اور لوگوں کے درمیان کوئی چیز "یقین" جتنی کم تقسیم نہیں ہوتی۔" (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٧٠، صفحہ ١٣٦)۔ ہم اس بحث کو ان معروف اشعار کے ساتھ، جو تقویٰ کی حقیقت کو ایک مثال کے ضمن میں واضح کرتے ہیں، ختم کرتے ہیں۔ خل الذنوب صغيرها وكبيرها فهو التقى واصنع كماش فوق أرض الشوك يحذر ما يرى لاتحقرن صغيرة إنّ الجبال من الحصى "تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو چھوڑ دے، بس تقویٰ یہی ہے۔" "اور اس شخص کی مانند ہو جا، جو کسی خار زار زمین سے گزر رہا ہے، اور اپنے لباس اور دامن کو اس طرح سمیٹتا ہے کہ کہیں اس میں کانٹا نہ چب جائے، اور ہمیشہ اپنے اطراف پر نظر رکھتا ہے۔ ہرگز کسی گناہ کو چھوٹا نہ سمجھنا، کیونکہ بڑے بڑے پہاڑ چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے مل کر ہی بنتے ہیں۔"
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7بہت سے مفسرین نے اس آیت کے لیے ایک شان نزُول بیان کی ہے، جس کا خلاصہ اس طرح ہے: قبیلۂ بنی اسد کا ایک گروہ، قحط اور خشک سالی کے ایک سال میں، مدینہ میں وارد ہوا، اور انہوں نے پیغمبرؐ سے کچھ مدد حاصل کرنے کے لیے زبان پر شہادتیں جاری کیں، اور پیغمبرؐ سے کہا کہ عرب کے دوسرے قبائل نے سواریوں پر سوار ہو کر آپؐ سے جنگ کی، لیکن ہم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آپؐ کے پاس آئے نہیں اور ہم نے آپؐ سے کوئی جنگ نہیں کی، دراصل وہ اس طریقہ سے یہ چاہتے ہیں تھے کہ پیغمبرؐ پر احسان جتلائیں، اس وقت اُوپر والی آیات نازل ہوئیں، (اور انہیں بتایا کہ ان کا اسلام ظاہری ہے اور ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں نہیں ہے، علاوہ ازیں، اگر وہ ایمان لائے بھی ہیں، تو اس سے پیغمبرؐ پر کوئی منّت اور احسان نہیں رکھنا چاہیے۔ بلکہ خدا نے ان پر احسان کیا ہے کہ انہیں ہدایت کی ہے) (بحوالہ: "تفسیر المیزان" و "رُوح المعانی" اور "فی ظلال" زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ لیکن اس شانِ نزُول کا وجُود، دوسرے تمام مواقع کی طرح، آیت کے مفہوم کی عمومیت سے ہرگز مانع نہیں ہے۔
تفسیر "اسلام" اور "ایمان" کا فرق
گزشتہ آیات میں انسانوں کی قدر و قیمت کے معیار یعنی تقویٰ کے بارے میں گفتگو تھی، اور چونکہ تقویٰ ایمان کے درخت کا پھل ہے، وہ بھی وہ ایمان جو دل و جان کی گہرائیوں میں نفوذ کرے، لہٰذا زیر بحث آیات میں ایمان کی حقیقت کو پیش کرتے ہُوئے اس طرح بیان ہوا۔ بادیہ نشین اعراب نے کہا: ہم ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دے: تم ایمان نہیں لائے ہو، بلکہ یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں، لیکن ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا ہے: (قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ)۔ اس آیت کے مطابق "اسلام" اور "ایمان" میں فرق یہ ہے کہ اسلام ایک ظاہری قانونی شکل رکھتا ہے۔ اور جو شخص زبان پر شہادتیں جاری کرتا ہے، مسلمانوں کی صف میں شامل ہو جاتا ہے، اور اس پر اسلام کے احکام جاری ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایمان ایک واقعی اور باطنی امر ہے، اور اس جگہ انسان کا دل ہے، نہ کہ اس کی زبان اور اس کا ظاہر۔ مُمکن ہے اسلام کے مختلف محرکات ہوں یہاں تک کہ مادی محرکات اور شخصی منافع، لیکن "ایمان" حتمی طور پر معنوی محرکات سے علم کا آگاہی سے غذا حاصل کرتا ہے، اور وہی ہے کہ جس کی شاخوں پر تقویٰ کا حیات بخش پھل ظاہر ہوتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جو پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک واضح اور ناطق عبارت میں منقول ہوئی ہے: "الإسلام علانیةٌ، وَالإیمانُ فِی القلبِ" "اسلام ایک آشکار اور ظاہری چیز ہے، لیکن ایمان کی جگہ دل ہے" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۹، صفحہ۱۳۸)۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ الإسلام يحقن به الدّم وَتؤدى به الأمَانة، وَتَستَحِلّ به الفروج، وَالثّواب على الإيمَانِ۔ (بحوالہ: " کافی" جلد ٢ "باب ان الاسلام یحقن بہ الدّم" حدیث ٢٧١)۔ نیز اسی دلیل کی بناء پر بعض روایات میں اسلام کا مفہو م اقرار لفظی میں منحصر سمجھا گیا ہے، جبکہ ایمان کا عمل کے ساتھ اقراء کی صُورت میں تعارف کرایا گیا ہے:(الإيمانُ إِقرارٌ وَعملٌ، وَالإسلامُ إقرارٌ بلاعملٍ) (بحوالہ: " کافی" جلد ٢ "باب ان الاسلام یحقن به الدّم" حدیث ٢٧١)۔ یہی معنی ایک دوسری تعبیر میں "اسلام و ایمان" کی بحث میں بیان ہوئے ہیں فضل بن یسار کہتا ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے سُنا ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا: "إنَّ ألإيمانَ يُشارك الإسلام، وَلا يُشاركه الإسلام، إنَّ ألإيمانَ مَا وَقَرَ فِى القلوبِ، وَالإسلامُ ما عليه المَناكِحَ وَالمواريث وَحقن الدّماء" "ایمان تو اسلام کے ساتھ شریک ہے، لیکن اسلام ایمان کے ساتھ شریک نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں ہر مومن مسلمان ہے، لیکن ہر مُسلمان مومن نہیں ہے، ایمان وہ ہے جو دل میں ساکن ہو، لیکن اسلام ایک ایسی چیز ہے جس کے مطابق نکاح، میراث اور خون کی حفاظت کے قوانین جاری ہوتے ہیں۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد٢ " باب ان الایمان بشرک الاسلام" حدیث ٣)۔ لیکن مفہو م کا یہ فرق اس صُورت میں ہے جب یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مقابلہ میں قرار پائیں، لیکن جب الگ الگ بیان کیے جائیں، تو ممکن ہے کہ اسلام اسی چیز پر بو لاجائے ، جس پر ایمان کا اطلاق ہوتا ہے، یعنی دونوں الفاظ ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے بعد زیر بحث آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے، اگر تم خدا اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے اعمال کا ثواب کامل طور پر عطا کرے گا اور تمہارے اعمال کی جزاء میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، (وَإِن تُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا)۔ "کیونکہ خدا غفور و رحیم ہے" (إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ)۔ "لایلتکم"، "لیت" (بروزن ریب)کے مادہ سے حق کو کم کرنے کے معنی میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس بناء پر مذکورہ فعل اجوف یائی ہے، اگر "ولت" (مثال واوی) کا مادہ بھی اسی معنی میں آتا ہے)۔ آخری جُملے حقیقت میں ایک مُسلم قرآنی اصل کی طرف اشارہ میں، کہ اعمال کے قبول ہونے کی شرط ایمان ہے، کہتا ہے، اگر تم خدا اور رسُول پر قلبی ایمان رکھتے ہو، جس کی نشانی خدا اور اس کے رسُول کے فرمان کی اطاعت ہے تو تمہارے اعمال کی قدر کی جائے گی، اور خدا تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی قبول کر لے گا، اور ان کا اجر دے گا، یہاں تک کہ اس ایمان کی برکت سے وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا، کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔ اور چونکہ اس امر باطنی یعنی ایمان کا حصول کوئی اسان کام نہیں ہے، لہٰذا بعد والی آیت میں اس کی نشانیاں پیش کرتا ہے، ایسی نشانیاں جو مومن کو، مسلم سے، اور سچّے کو چھوٹے سے، اور پیغمبرؐ کی دعوت کو عاشقانہ طور پر قبُول کرنے والوں کو، جان کی حفاظت یا مالِ دنیا کے حصول کی خاطر ایمان کا اظہار کرنے والوں سے، اچھی طرح سے جدا کر دیتی ہیں، فرماتا ہے: "واقعی مومنین وہ لوگ ہیں جو خدا اور اس کے رسُول پر ایمان لائے ہیں، اس کے بعد انہوں نے کبھی کوئی شک و شبہ نہیں کیا اور اپنے اموال اور نفسوس کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کیا ہے (إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ)۔ ہاں! ایمان کی سب سے پہلی نشانی، اسلام کی راہ میں شک و شبہ اور دو دلی نہ کرنا ہے، دوسری نشانی اموال کے ساتھ جہاد کرنا، اور تیسری نشانی جو سب سے زیادہ افضل ہے و برتر ہے، نفسوں (جانوں)کے ساتھ جہاد کرنا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ایمان دل میں راسخ نہ ہو، جبکہ انسان محبوب کی راہ میں مال و جان کے خرچ کرنے سے مضائقہ نہیں کرتا۔ لہٰذا آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے۔: "اسی قسم کے لوگ راست گو ہیں، اور ایمان کی روح ان کے وجود میں موجزن ہے، (أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ)۔ اس معیار کو، جسے قرآن نے سچّے مومنین اور اسلام کا اظہار کرنے والے جھُوٹوں کی شناخت کے لیے بیان کیا ہے، قبیلہ "بنی اسد" کے فقراء میں منحصر نہیں ہے، بلکہ یہ ہر زمانہ کے لیے واقعی مومنین کو جھُوٹے دعویداروں سے جدا کرنے کے لیے، اور ان لوگوں کے دعووں کی قدر و قیمت کی نشاندہی کرنے کے لیے، جو ہر جگہ اسلام کا دم بھرتے ہیں، اور اپنے آپ کو پیغمبرؐ کا طلب گار سمجھتے ہیں، لیکن ان کے عمل میں معمولی نشانی بھی ایمان و اسلام کی نظر نہیں آتی۔ ان کے مقابلہ میں ایسے لوگ ہیں جو نہ صرف کوئی دعویٰ نہیں رکھتے، بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو کم تر شمار کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ایثار و قربانی کے میدان میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم اس قرآنی معیار کو واقعی مومنین کی جانچ کے لیے استعمال کریں تو معلوم نہیں لاکھوں کروڑوں مدعیان اسلام کے انبوہ کے درمیان میں سے کس قدر واقعی مؤمن نکلیں، اور کس قدر ظاہری مسلمان؟!
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 7تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 7مفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ گزشتہ آیات کے نزول کے بعد بدو عربوں کا ایک گروہ پیغمبر کی خدمت میں آیا اور قسم کھا کر کہنے لگے کہ وہ ایمان کے دعوے میں سچے ہیں، اور ان کا ظاہر و باطن ایک ہے، اس پر پہلی زیر بحث آیت نازل ہوئی، اور انہیں آگاہ کیا کہ قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے اللہ اس کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے۔
تفسیر مُسلمان ہونے کا احسان مَت جتلاؤ
گزشتہ آیات میں سچّے مسلمانوں کی نشانیاں بیان ہوئی تھیں، اور جیسا کہ شانِ نزُول میں بیان ہوا ہے، اسلام کا دعویٰ رکھنے والی جماعت کا اصرار یہ تھا کہ ایمان کی حقیقت ان کے دل میں مستقر ہے۔ قرآن ان کے لیے بھی اور ان تمام افراد کے لیے بھی جو اُن ہی جیسے ہیں یہ اعلان کر رہا ہے، کہ اصرار کرنے اور قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، ایمان و کفر کے مسئلہ میں تمہارا اس خدا کے ساتھ واسط ہے جو ہر چیز سے باخبر ہے، خصوصاً اس آیت میں عتاب آمیز لہجہ میں کہتا ہے،: "ان سے کہہ دے: کیا تم خدا کو اپنے ایمان سے باخبر کرنا چاہتے ہو، وہ ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، جانتا ہے۔" (قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللہَ بِدینِکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ ما فِی السَّماواتِ وَما فِی الْأَرْضِ)۔ اور زیادہ سے زیادہ تاکید کے لیے مزید کہتا ہے، "خدا ہر چیز سے آگاہ ہے" (وَاللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلیمٍ)۔ اس کی ذات مقدس عین علم ہے، اور اس کا علم اس کا عین ذات ہے، اور اسی بناء پر اس کا علم ازلی و ابدی ہے۔ اس کی پاک ذات ہر جگہ حاضر و موجُود ہے، اور تمہاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے، وہ تو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، ان حالات میں تمہارے ادعا کی ضرورت نہیں ہے، وہ سچوں کو اور جُھوٹے دعویٰ کرنے والوں کو اچھی طرح جاتنا ہے اور ان کی دل و جان کی گہرائیوں سے واقف ہے، یہاں تک کہ ان کے ایمان کی شدت و ضعف کے درجات بھی، جو بعض اوقات خود اُن سے بھی پوشیدہ ہوتے ہیں، اس کے نزدیک واضح و روشن ہیں، ان حالات میں خدا کو اپنے ایمان سے باخبر کرنے پر اصرار کیوں کرتے ہو؟ اس کے بعد پھر دوبارہ بدو عربوں کی گفتگو کی طرف لوٹتا ہے جو اپنے اسلام لانے کو پیغمبر پر احسان جتانے کے لیے کہتے تھے: ہم تو آپ کے پاس تسلیم کے دروازے سے آئے ہیں، جبکہ بہت سے قبائل عرب جنگ کے دروازے سے آئے ہیں۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: "وہ تجھ پر احسان جتلاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے ہیں۔" (يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا)۔ "ان سے کہہ دے اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ رکھو" (قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُم)۔ "بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ تمہیں ایمان کے لیے ہدایت کی ہے اگر تم سچے ہو۔" (بَلِ اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَداكُمْ لِلْإِيمانِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِين). "منّت" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں "من"کے مادہ سے، ایک خاص وزن کے معنی میں ہے، جس سے چیزوں کو وزن کرتے ہیں، اس کے بعد ہر وزنی اور گراں قدر نعمت پر اس کا اطلاق ہونے لگا، منت کی دو قسمیں ہیں، اگر اس میں عملی پہلو ہو (گرانقدر نعمت کے عطا کرنے کے معنی میں) تو ممدوح ہے اور خدا کی منتیں اس قسم کی ہیں، لیکن اگر اس میں لفظی پہلو ہو، جیسا کہ بہت سے انسانوں کے احسان۔ تو یہ ایک قبیح اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلے جُملے میں کہتا ہے: وہ تجھ پر یہ احسان رکھتے ہیں، کہ انہوں نے اسلام کو قبول کیا ہے، اور یہ اس بات پر ایک دوسری تاکید ہے کہ وہ ایمان کے دعوے میں سچّے نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے ظاہری طور پر اسلام کو قبول کیا ہے۔ لیکن آیت کے ذیل میں کہتا ہے "اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو، تو یہ خدا کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف ہدایت کی۔ بہرحال، یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ عام طور پر کوتاہ فکر افراد یہ تصور کرتے ہیں، کہ ایمان کو قبول کرنے، اور عبادات و اطاعات انجام دینے سے انہوں نے قدس الہٰی میں، یا اس کے پیغمبرؐ یا اوصیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں کوئی خدمت کی ہے، اور اسی وجہ سے اجر و پاداش کی امید رکھتے ہیں۔ حالانکہ اگر کسی کے دل میں نورِ ایمان چمکنے لگے، اور یہ توفیق اسے نصیب ہو جائے، کہ وہ مومنین کے زمرہ میں شمار ہونے لگے، تو سمجھ لو عظیم ترین لطف الہٰی اس کے شامل حال ہوا ہے۔ "ایمان" ہر چیز سے پہلے عالم ہستی کے بارے میں انسان کو ایک نیا اور ادراک دیتا ہے، وہ خود خواہی اور غرور کے حجاب اور پردوں کو دُور کر دیتا ہے، انسان کی نظر کے افق کو وسیع کرتا ہے، اور اس کی نظر میں عالمِ خلقت کے بےنظیر شکوہ اور عظمت کو مجسم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کے عواطف پر نُور اور روشنی چھڑک کر ان کی پرورش کرتا ہے، اور انسان کی عظیم اور بلند و بالا اقدار کو اسم میں زندہ کرتا ہے، اور اس کی اعلیٰ صلاحیتوں کو اس میں بڑھاتا ہے، اسے علم و قدرت، امامت و شجاعت، ایثار و قربانی، عفو و درگزار اور اخلاص سے مالا مال کر دیتا ہے، اور ایک ضعیف انسانی موجود کو ایک قوی و پُر ثمر انسان بنا دیتا ہے۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر مدارج کمال تک اُسے اُوپر لے جاتا ہے، اور اُسے افتخار کی، انتہائی بلندی تک پہنچا دیتا ہے، اس کو عالم ہستی کے قوانین سے ہم آہنگ ، اور عالم ہستی کو اس کے لیے مسخر قرار دیتا ہے۔ تو اب کیا یہ وہ نعمت جو خدا نے انسان کو عطا کی ہے، یا یہ وہ منّت و احسان ہے، جو انسان خدا کے پیغمبرؐ پر جتلا رہا ہے؟ اسی طرح عبادات و اطاعت میں سے ہر ایک تکامل و ارتقاء کی طرف ایک قدم ہے: یہ قلب کو صفا بخشتا ہے، شہوات پر کنڑول کرتا ہے، رُوح کو تقویت دیتا ہے، اور اسلامی معاشرے کو وحدت اتحاد، قوت اور عظمت عطا کرتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک، ایک عظیم تربیتی کلاس ہے، اور ایک اصلاحی درس ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں انسان پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ ہر صبح شام نعمت ایمان کا شکر بجا لائے، اور ہر نماز اور ہر عبادت کے بعد سر سجدہ میں رکھے، اور خدا کی اس ساری توفیق پر شکر ادا کرے۔ اگر خدا پر ایمان اور اس کی اطاعت کے میں انسان کی نظر اور سوچ اس قسم کی ہوتو پھر نہ صرف یہ کہ وہ اپنے آپ کو طلبہ گار نہیں سمجھتا، بلکہ ہمیشہ خدا پر پیغمبرؐ کا "مدیون" (مقروض) اور خود کو احسانوں تلے دبا ہوا محسُوس کرتا ہے۔ عبادات کو عاشقانہ انجام دیتا ہے، اور اس کی اطاعت کی راہ میں نہ صرف پاؤں کے ساتھ بلکہ سر کے بل دوڑتا ہے، اور اگر خدا اس کے اس عمل کی کوئی جزاء دیتا ہے تو وہ اس کو بھی اس کا ایک دوسرا لطف و کرم سمجھتا ہے، ورنہ نیک کاموں کے انجام دینے کا فائدہ تو خود انسان ہی کی طرف لوٹتا ہے۔اور درحقیقت، اس توفیق کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف سے اس کے قرضوں کی میزان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس بناء پر اس کی ہدایت لطف ہے، اور اس کے پیغمبرؐ کی دعوت ایک لطف ہے، اور اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق ایک مزید لطف، اور اجر و ثواب ایک اور لطف بالائے لطف ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں، جو سُورہ حجرات کا اختتام ہے، دوبارہ اسی چیز کی جو گزشتہ آیت میں آئی ہے، تاکید کرتا ہے، اور فرماتا ہے: "خدا آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے، اور جو عمل بھی تم انجام دیتے ہو، انہیں دیکھتا ہے" (إنَّ اللہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَاللہُ بَصیر بِما تَعْمَلُون)۔ تم اس بات پر اصرار نہ کرو کہ تم حتمی اور یقینی طور پر مؤمن ہو، اور قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، وہ تمہارے دل کے زاویوں اور گوشوں کی خبر رکھتا ہے، اور جو کچھ اس میں گزرتا ہے، وہ اس سے مکمل طور پر آگاہ ہے، وہ زمین کی گہرائیوں اور اعماق کے اسرار اور آسمانوں کے غیوب سے آگاہ ہے، اس بناء پر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر سے بےخبر ہو؟ خداوند! تو نے ہم پر احسان کیا ہے، اور ہمارے دِل میں ایمان کا نور روشن کیا ہے، تجھے ہدایت کی عظیم نعمت کی قسم ہمیں اس راستہ پر ثابت قدم رکھ، اور تکامل و ارتقاء کی راہ میں ہماری رہبری فرما۔ خداوندا! تو ہمارے دِل کی گہرائیوں سے آگاہ ہے، ہماری نیتوں کو اچھی طرح جانتا ہے، ہمارے عیوب کو اپنے بندوں سے پوشیدہ رکھ، اور اپنے فضل و کرم سے ہماری اصلاح فرما۔ بارالہٰا! ہمیں توفیق اور ایسی قدرت عطا فرما کہ ہم ان عظیم اخلاقی قدروں کو جو تو نے اس پر عظمت سورہ میں بیان فرمائی ہیں، اپنے وجود کے اندر زندہ کریں، اور ان کے احترام کی پاسداری کریں۔ "آمین یَا ربّ العالمین"