Sūra 87 · 19v
Chapter 8719 verses

Al-A'la

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الأعلى
الاعلیٰ

سورہ اعلیٰ

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اس میں ۱۹ آیتیں ہیں۔

سورہ اعلیٰ کے مضامین اور ان کی فضیلت

اس سورہ کے درحقیقت دو حصّے ہیں۔ ایک حصہ تو وہ ہے جس میں روئے سخن خود پیغمبرؐ کی طرف ہے اور ان کے لئے تسبیح پروردگار اور ادائے قرضِ رسالت کے سلسلہ میں احکام جاری کئے گئے ہیں۔ اُس حصہ میں خدائے بزرگ و برتر کے سات اوصاف شمار کرائے گئے ہیں۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو خوف خدا رکھنے والے مومنین اور شقی القلب کفار کی بات کرتا ہے۔ اُس حصہ میں ان دونوں گروہوں کی سعادت و شقاوت کے عوامل و اسباب اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ سورہ کے آخر میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ مطالب صرف قرآن ہی میں نہیں آئے بلکہ وہ حقائق ہیں جن پر گزشتہ کتب و صحف اور صحفِ ابراہیم و موسیٰ میں بھی تاکید آئی ہے۔ اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ہم تک بہت سی روایات پہنچی ہیں- ایک حدیث ہمیں پیغمبر اسلامؐ کی ملتی ہے کہ آپ نے فرمایا: (من قرأھا اعطاہ اللہ عشر حسنات بعدد کل حرف انزل اللہ علیٰ ابراہیم و موسیٰ و محمد (صلوٰاة اللہ علیہم) "جو شخص سورہ اعلیٰ کی تلاوۃ کرے خدا ہر اس حرف کے بدلے جو اس نے ابراہیم و موسیٰ اور محمدؐ پر نازل کیا ہے دس نیکیاں اسے عطا فرمائے گا۔" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۳۳)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ (من قرأ سبح اسم ربک الاعلیٰ فی فرائضہ او نوانفلہ قیل لہ یوم القیامة ادخل الجنة من ایّ ابواب الجنة شیئت ان شاء اللہ) جو شخص اپنے فرائض یا نوافل میں سورہ اعلیٰ کی تلاوت کرے تو قیامت کے دن اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا۔ (ان شاء اللہ)۔ (بحولہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۳۳)۔ متعدد روایات میں آیا ہے کہ جس وقت پیغمبرؐ یا ائمہ ہدیٰ "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" پڑھتے تو اس کے بعد اس حکم پر عمل کرتے ہوئے فرماتے "سبحان ربی الاعلیٰ"۔ (بحولہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۳۳)۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے بیس سال راتوں کو آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی تو سوائے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى کے اور کوئی سورة آپ نماز میں نہیں پڑھتے تھے۔ آپ فرماتے تھے اگر تم جانتے کہ اس میں کیا برکتیں ہیں تو تم میں سے ہر شخص اسے دس مرتبہ پڑھتا۔ اور جو شخص اسے پڑھے گویا اس نے موسیٰ و ابراہیم کے صحف کی تلاوت کی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، ص۵۴۴ ۴)۔ خلاصہٴ کلام یہ کہ مجموعہ روایات جو اس سلسلہ میں دستیاب ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں حضرت علیؑ سے منقول ہے کہ یہ سورہ پیغمبر اکرمؐ کو محبوب سورہ تھا (کان رسول اللہ یحب ھٰذہ السورة سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى)۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۷۲)۔ یہ بات کہ یہ سورہ مکّی ہے یا مدنی، اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا جبکہ بعض کا نظریہ ہے کہ مدینہ میں نازل ہوا، علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اس سورہ کا پہلا حصہ مکی ہو اور دوسرا حصہ (ذیلی) مدنی۔ وہ اس لیے کہ ذیل میں گفتگو نماز اور زکوٰة کی ہے اور، اس تفسیر کے مطابق جو آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہے، نماز سے مراد نماز عید الفطر اور زکوٰة سے مراد فطرہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ماہ مبارک رمضان کے روزے، نماز عید اور زکوٰة فطرہ مدینہ میں نازل ہوئے ہیں۔ (بحوالہ: المیزان، جلد ۲۰، ص ۳۸۶)۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ نماز اور زکوٰة کا حکم اس سورہ کے آخری حصہ میں ایک عام حکم کے طور پر ہے، اگرچہ نمازِ عید الفطر اور زکوٰة فطرہ اس کے ایک واضح مصداق شمار ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ واضح مصداق کے ساتھ روایات اہل بیت بہت ہی فراواں ہے۔ اس وجہ سے ان مشہور علماء کا نظریہ جو کہتے ہیں کہ تمام سورہ مکی ہے، بعید نظر نہیں آتا ہے بالخصوص جب کہ آغاز سورہ کی آیات اور اختتام سورہ کی آیات مکمل طور پر، مقاطع حروف کے لحاظ سے ہم آہنگ ہیں۔ لہٰذا مشکل ہے کہ یہ کہا جا سکے کہ ایک حصہ مکہ میں نازل ہوا اور ایک مدینہ میں۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ مسلمانوں کا جو گروہ بھی مدینہ میں داخل ہوتا تو یہی سورہ مدینہ میں لوگوں کے سامنے پڑھتا۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر درالمنثور، جلد ۶، ص ۳۳۷۔ یہ مفصل حدیث ہے جس کے اجمالی مفہوم کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے)۔ پس یہ احتمال کہ اس کا صرف صدر حصہ مکہ میں اس کا ذیلی حصہ مدینہ میں نازل ہوا ہو، بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔

1
87:1
سَبِّحِ ٱسۡمَ رَبِّكَ ٱلۡأَعۡلَى
اپنے بلند پروردگار کے نام کی تسبیح کر ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
87:2
ٱلَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ
وہ اللہ جس نے پیدا کیا اور منظم کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
87:3
وَٱلَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ
اور وہ جس نے منظم کیا اور ہدایت فرمائی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
87:4
وَٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلۡمَرۡعَىٰ
اور وہ جس نے چراگاہ کو ظاہر کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
87:5
فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحۡوَىٰ
پھر اسے خشک و سیاہ قرار دیا۔

تفسیر خداوندِ عظیم کی تسبیح کر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

یہ سورہ حقیقت میں مکتب انبیاء کی دعوتِ فکر کا نچوڑ اور خلاصہ، یعنی پروردگارِ عالم کی تسبیح اقدس سے شروع ہوتا ہے۔ پروردگار عالمِ ابتداء میں روئے سخن پیغمبر اسلامؐ کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اپنے بلند مرتبہ پروردگار کے نام کو ہر عیب و نقص سے منزہ شمار کر۔" (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى)۔ مفسرین کی ایک جماعت کا نظریہ ہے کہ یہاں اسم سے مراد مسمیٰ ہے جبکہ ایک جماعت نے کہا ہے کہ مراد خود اسم پروردگار ہے، وہ نام جو مسمیٰ پر دلالت کرتا ہے ان دونوں تفسیروں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں۔ بہرحال، مراد یہ ہے کہ خدا کا نام بتوں کا ہم ردیف قرار نہ دیا جائے اور اس کی ذات پاک کو ہم ہر قسم کے عیب و نقص سے جسم و جسمانیات کے عوارض سے اور ہر قسم کی محدودیت و نقصان سے منزہ شمار کریں۔ بت پرستوں کی طرح نہیں جو خدا کا نام بتوں کے ساتھ لیتے تھے، یا وہ لوگ جو خدا کو جسم جسمانیات سے منزہ خیال نہیں کرتے۔ "اعلیٰ" کی تعبیر اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر اُس چیز سے، جس کا اہم تصور کر سکتے ہیں، ہر خیال و قیاس و گمان سے اور ہر قسم کے جلی و خفی شرک سے برتر و بالا ہے۔ "ربک" (تیرا پروردگار) کی تعبیر اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ پروردگار جس کی طرف تو لوگوں کو بلاتا ہے بت پرستوں کے پروردگار سے الگ ہے۔ رب و اعلیٰ کی دو صفتوں کے بعد ان کی وضاحت کے لئے پانچ اور صفات بیان کرتا ہے جو سب کی سب پروردگار کی اعلیٰ ربوبیت کی تشریح ہیں، فرماتا ہے: "وہ خدا جس نے پیدا کیا اور مرتب و منظم کیا" (الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى)۔ "سوّی" تسویہ کے مادہ سے نظام بخشنے اور مرتب کرنے سے جو آسمانی ستاروں پر حاکم ہے، یا جو زمینی مخلوقات پر حکم فرماتا ہے انسان کی جسم و جان کے لحاظ سے۔ اور جو مفسرین نے صرف انسان کے ہاتھ پاؤں اور آنکھوں کے خاص نظام یا انسان کے راست قامت ہونے کے ساتھ تفسیر کی ہے، درحقیقت وہ اس مفہوم کے ایک محدود و مصداق کا بیان ہے۔ بہرحال، عالم آفرینش کا نظام جو عظیم ترین آسمانی نظاموں پر حاوی ہے، پروردگار کی ربوبیت اور اس کے وجود کے اثبات کے لئے سادہ اور عام موضوعات کا مویّد ہے۔ مثلاً انسان کی انگلیوں کی پوروں کی لکیروں تک، جن کی جانب سورہ قیامت میں اشارہ ہوا ہے: (بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَه)۔ (قیامت، آیت ۴)۔ اس مختصر سی تعبیر میں مطالب کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ آفرینش اور خلقت کی تنظیم کے مسئلہ کے بعد حرکتِ کمالی اور اس کی راہ میں موجودات کی ہدایت کے لئے لائحہ عمل مقرر کرنے کے موضوع کو پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ جس نے تقدیر مقرر کی اور ہدایت فرمائی" (وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ)۔ تقدیر سے مراد اندازہ، اہداف و مقاصد اور روبہ عمل ہونے کے لائحہ عمل کی تعیین ہے جن کے لئے موجودات کو خلق کیا گیا ہے۔ ہدایت سے مراد ہی ہدایت تکوینی ہے جو محرکات اور قوانین کی شکل میں ہے اور جسے ہر موجود پر حاکم قرار دیا جاتا ہے (عام اس سے کہ وہ اندرونی محرک ہوں یا بیرونی)۔ مثلاً ایک طرف ماں کے پستان اور اس کے دودھ کو بچہ کی غذا کے لئے پیدا کیا ہے، ماں کو شدید محبت مادری سے نوازا ہے اور دوسری طرف بچہ میں محرک پیدا کیا ہے جو اسے ماں کے پستان کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ آمادگی دونوں طرف کی قوتِ جاذبہ تمام موجودات کی راہ مقاصد میں نظر آتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر موجود کی ساخت کے بارے میں تدبر و تفکر کرنا اور وہ راہِ عمل جسے وہ اپنی زندگی میں طے کرتا ہے، یہ دونوں باتیں اس حقیقت کا پتہ دیتی ہیں کہ نہایت باریک بینی پر مبنی ایک لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے طاقت جست ہدایت کے پیچھے ہے جو اس لائحہ عمل کے اجزاء میں مدد کرتا ہے، اور یہ پروردگار کی ربوبیت کی ایک نشانی ہے۔ البتہ انسان کے لئے ہدایت تکوینی کے پروگرام کے علاوہ ایک اور قسم کی ہدایت بھی موجود ہے جو وحی اور بعثت انبیاء کے ذریعہ صورت پذیر ہوئی ہے۔ اس کا نام ہدایت تشریعی ہے، قابل توجہ یہ امر ہے کہ انسان کی ہدایت تشریعی بھی اس کی ہدایت تکوینی کی تکمیل کرتی ہے۔ اس مفہوم کو سورہ طٰہٰ کی آیت ۵۰ میں بھی پیش کیا گیا ہے جہاں حضرت موسیٰ و فرعون کے اس سوال کے جواب میں، کہ تم دونوں کا پروردگار کون ہے؟ (فمن ربکما یا موسیٰ) فرماتے ہیں (قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى) "ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر موجود کو اس کی خلقت لازمہ عطا فرمایا اور پھر اس کی ہدایت کی۔" اس بات کا مفہوم موسیٰؑ بن عمران کے زمانے میں یا نزول قرآن کے زمانے میں اگرچہ مختصراً معلوم تھا لیکن موجودہ زمانہ میں، جبکہ انسانی علوم و دانش نے انواعِ موجودات کی شناخت کے سلسلہ میں خصوصاً پودوں اور جانداروں کے بارے میں بڑی پیش رفت کی ہے، اب بہت سی معلومات عام ہو چکی ہیں اور ہزارہا کتابیں اس تقدیر اور ہدایت کے سلسلہ میں معرض تحریر میں آ چکی ہیں۔ اس کے باوجود محققین کہتے ہیں کہ جو کچھ ابھی معلوم نہیں کیا جا سکا وہ کئی گنا زیادہ ہے۔ بعد والے مرحلہ میں گیاہ و نباتات یعنی چوپاؤں کی غذا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ جو چراگاہ کو وجود میں لایا اور اسے زمین کے اندر سے باہر نکالا ہے۔" (وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ)۔ "اخرج" کی تعبیر "اخراج" کے مادہ سے اس طرف اشارہ ہے۔ گویا یہ سب زمین کے اندر موجود تھے اور خدا نے انہیں باہر نکالا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حیوانات کی غذا انسانی غذا کی تمہید ہے اور اس کا فائدہ آخرکار انسان کو پہنچتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "اس کے بعد خدا نے اسے خشک اور سیاہ قرار دیا۔" (فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَى)۔ "غثاء" اصل میں خشک گھاس کے معنی میں ہے جو سیلاب کے نتیجہ میں نکلتی ہے۔ وہ جھاگ جو دیگ کے جوش کھانے سے پیدا ہوتا ہے، اسے بھی غثاء کہتے ہیں۔ یہ تعبیر ہر اس چیز کے لئے کنایہ ہے جو ضائع ہو جاتی ہے۔ زیرِ بحث آیت میں غثا کے معنی خشک گھاس اور فضول چیز کے ہیں۔ "احویٰ"، "حوہ" (بروزن قوہ) کے مادہ سے کبھی سبز رنگ اور کبھی سیاہ رنگ کے معنی دیتا ہے اور دونوں ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں، اس لئے سبز رنگ جب زیادہ ہو تو سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ یہ تعبیر اس بناء پر ہے کہ خشک گھاس جب اوپر تلے پڑی ہو تو آہستہ آہستہ سیاہ ہونے لگتی ہے، اس تعبیر کا انتخاب، باوجودیکہ خدائی نعمتوں کے بیان کے محل پر ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ مندرجہ ذیل تین علتوں میں سے اس کی ایک علت ہو۔ ۱۔ پہلی علت یہ کہ گھاس وغیرہ کی کیفیت دنیا کے فانی ہونے کو ظاہر کرتی ہے اور انسانوں کے لئے ہمیشہ درس عبرت کا کام دیتی ہے۔ وہ سبزہ جو فصل بہار میں تر و تازہ اور مسرت بخش تھا، چند ماہ گزرنے کے بعد خشک ہو کر سیاہ رنگ اختیار کر لیتا ہے اور اس پر مردنی چھا جاتی ہے گویا زبان حال سے دنیا کی ناپائیداری اور وقت کے تیزی سے گزرنی کی داستان سناتی ہے۔ ۲۔ دوسرے یہ کہ خشک گھاس جب اوپر نیچے رکھ دی جائے اور بوسیدہ ہو جائے تو ایک قسم کی کھاد بن جاتی ہے جو نئی گھاس کی پرورش کے لئے مفید ہوتی ہے اور زمین کی تقویت کا باعث بنتی ہے۔ ۳۔ تیسری علت یہ ہے کہ بعض مفسرین کے مطابق اس آیت میں گھاس اور درختوں سے پتھر کے کوئلوں کی تخلیق کی طرف اشارہ ہے، اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ پتھر کا کوئلہ جو کرہٴ زمین سے حاصل ہونے والی قوتوں میں سے ایک اہم ترین قوت ہے انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں اپنی صنعتوں اور کارخانوں میں اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا چکا ہے اور اب بھی اٹھاتا ہے۔ یہ کوئلہ گیاہ اور درختوں کا باقی ماندہ حصہ تھا جو کئی ملین سال سے خشک ہو کر زمین میں دفن ہو گیا اور امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ پتھر بن کر سیاہ رنگ اختیار کر چکا ہے۔ بعض ماہرین کا نظریہ ہے کہ وہ چراگاہیں موجودہ زمانے میں پتھر کے کوئلے کی شکل اختیار کر کے نکل آئی ہیں تقریباً ڈھائی ملین سال پہلے موجود تھیں اور پھر زمین میں دفن ہو گئیں۔ یہ چراگاہیں اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر موجودہ زمانے میں پتھر کے کوئلہ کا مصرف ہم اپنی نگاہ میں رکھیں تو وہ چار ہزار سال سے زیادہ دنیا کے لوگوں کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: آخری تفسیر کتاب۔ "قرآن برفراز اعصار" تالیف ع نوفل ترجمہ بہرام پور میں بیان ہوئی ہے)۔ آیت کی تفسیر خصوصیت کے ساتھ آخری معنی کے حوالہ سے بعید از قیاس نظر آتی ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ آیت کے جامع معانی ہوں، جس میں تینوں تفسیریں جمع ہوں۔ بہرحال، (غثاءً احویٰ) "خشک سیاہ رنگ کی گھاس" بہت سی منفعتیں رکھتی ہے۔ سردی کے زمانے میں جانوروں کی مناسب غذا بھی ہے، انسان کے لئے آگ کی فراہمی کا ذریعہ بھی اور زمینوں کے لئے مناسب کھاد بھی ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ سات صفتیں، جو مندرجہ بالا آیت میں آئی ہیں، بلند و بالا ربوبیت، خلقت، تسویہ، تقدیر، ہدایت اور گیاہ و نباتات کی تخلیق، یہ حقیقت میں پروردگار کی اعلیٰ ربوبیت کے مسئلہ کی نہایت احسن انداز میں تشریح ہے جس کا مطالعہ انسان کو خدا کے اعلیٰ مقامِ ربوبیت سے اچھی طرح آشنا کرتا ہے، اس کے دل میں ایمان کی روشنی پیدا کرتا ہے، خدا کی اہم ترین نعمتوں کو اجمالی طور پر بیان کرتا ہے اور انسان میں شکر گزاری کا احساس پیدا کرتا ہے۔

ایک نکتہ

مسئلہ تقدیر اور موجودات عالم کی عمومی ہدایت جو اوپر والی آیات میں پروردگار کی ربوبیت کے مظاہر میں شمار ہوئی ہے، ایسے مسائل میں سے ہے کہ جس قدر زمانہ گزرتا جائے انسانی علم و دانش میں پیش رفت ہو گی، اسی قدر اس میں زیادہ سے زیادہ حقائق آشکار ہوتے جائیں گے، علمی انکشافات ہمیں یہ امکان فراہم کرتے ہیں کہ ہم تمام ذراتِ عالم میں نئے تعجب انگیز اور زیادہ شوق آور چہرے دیکھیں۔ بعض مفسرین نے یہاں مشہور ماہر حیوانات کمریسی موریسن کی کتاب (رازِ آفرینشِ انسان) کی تحریروں سے استناد کرتے ہوئے مختلف جانداروں کے حوالے سے حیوانات کی ہدایت کے بارے میں اس عظیم راز کے نمونے پیش کئے ہیں جس سے ایک مختصر سا نمونہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔ ۱۔ مہاجر پرندے، جو کبھی ایک سال کے اندر سمندروں، جنگلوں اور بیابانوں کا ہزارہا میل کا راستہ طے کرتے ہیں، اپنے آشیانوں کو کبھی نہیں بھولتے، اور واپسی پر ٹھیک اپنے وطن پہنچ جاتے ہیں، اسی طرح شہد کی مکھیاں اپنے چھتے سے خواہ کتنی ہی دُور کیوں نہ ہو جائیں اور تیز ہوا انہیں کتنا منتشر کیوں نہ کر دے، پھر بھی وہ ٹھیک اپنے چھتے کی طرف واپس لوٹ آتی ہیں، جبکہ انسان اپنے وطن کی طرف لوٹنے کے لئے واضح نشانیوں، پتوں اور رہنماؤں کا محتاج ہوتا ہے۔ ۲۔ حشرات الارض خوردبینی آنکھیں رکھتے ہیں جن کی ساخت اور دیکھنے کی طاقت انسان کو ورطہٰ حیرت میں ڈال دیتی ہے، جبکہ باز جیسے پرندے دوربینی آنکھ رکھتے ہیں۔ ۳۔ انسان رات کے وقت اپنا راستہ معلوم کرنے کے لئے مجبور ہے کہ منبع نور سے فائدہ اٹھائے لیکن بہت سے پرندے انتہائی تاریکیٴ شب میں اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا یہ دیکھنا ایسی آنکھوں کے ذریعہ ہے جو ایسی شعاؤں کے مقابلہ میں جو سرخ رنگ سے کم ہیں، حساسیت رکھتی ہیں، اور اس طرح راڈار کی دستگاہ کی مانند ہیں جن میں سے بعض کے اندر یہ دستگاہ یادگار کے طور پر رکھی ہوتی ہے۔ ۴۔ کتے ایک اضافی قوت شامہ رکھنے کی وجہ سے ہر اس جانور کو جو ان کے سامنے آئے، سونگھ کر پہچان لیتے ہیں، جبکہ انسان، ان وسائل و ذرائع کے باوجود جو اسے میسر ہیں، اس قسم کی قوت سے محروم ہے۔ ۵۔ تمام جانور ان آوازوں کو سن لیتے ہیں جن کی شدتِ ارتعاس ہماری قوتِ سامعہ کی گرفت سے باہر ہے۔ ان کی قوت سماعت ہماری قوت سماعت سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ انسان اپنی اس کوتاہی کی تلافی علمی وسائل و آلات کے ذریعہ کر سکتا ہے اور مکھی کے پروں کی آواز جو اس سے کئی کلو میٹر دور ہو، اس طرح سن سکتا ہے کہ گویا یہ آواز اس کی کان کی لو کے نزدیک ہے۔ شاید انسان اور حیوان کی قوت و طاقت و سماعت کا یہ فرق، جو خدا نے دونوں میں رکھا ہے، اس بنا پر کہ انسان علم و عقل کے ذریعہ اپنی کوتاہیوں کی تلافی کر سکتا ہے جب کہ حیوان اس سے محروم ہیں۔ ۶۔ چھوٹی مچھلی کی ایک قسم ہے جو سالہا سال سمندر میں زندگی گزارتی ہے۔ اس کے بعد تخم ریزی کے لئے اُس نہر یا دریا کی طرف لوٹ جاتی ہے جس میں وہ پیدا ہوئی ہے۔ یہ مچھلی امواج کے برعکس بڑھتی ہے اور اپنے اصلی وطن کو، جو اس کی پرورش سے مناسبت رکھتا ہے کئی سال دور کے فاصلہ پر رہنے کے باوجود اسے تلاش کر لیتی ہے۔ ۷۔ پانی کے بعض جانوروں کی داستان اس سے زیادہ عجیب ہے۔ وہ اپنے راستے کو اس طریقہ کے برعکس طے کرتے ہیں۔

6
87:6
سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ
ہم عنقریب تیرے سامنے (قرآن کو) پڑھیں گے اور تو اسے کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
87:7
إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ وَمَا يَخۡفَىٰ
مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وہ آشکار اور پنہاں کو جانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
87:8
وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرَىٰ
اور ہم تمہیں ہر اچھے کام کے انجام دینے کے لئے آمادہ کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
87:9
فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ
پس جہاں تک سمجھانا مفید ہو، سمجھاتے رہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
87:10
سَيَذَّكَّرُ مَن يَخۡشَىٰ
اور عنقریب وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے ہیں متذکر ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
87:11
وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلۡأَشۡقَى
لیکن زیادہ بدبخت لوگ اس سے دوری اختیار کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
87:12
ٱلَّذِي يَصۡلَى ٱلنَّارَ ٱلۡكُبۡرَىٰ
وہی جو بہت بڑی آگ میں داخل ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
87:13
ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ
پھر اس آگ میں نہ مرے گا، نہ زندہ رہے گا۔

تفسیر ہم تجھے ہر اچھے کام کے لئے آمادہ کریں گے

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

گزشتہ آیتوں میں پروردگار کی ربوبیت اور توحید کے بارے میں گفتگو تھی۔ اس کے بعد زیر بحث آیات میں قرآن اور پیغمبر کی نبوت کی بات ہو رہی ہے۔ گزشتہ آیات میں عام موجودات کی ہدایت متعلق گفتگو تھی اور زیربحث آیات میں نوع انسانی کی ہدایت کی بات ہے۔ خلاصہ یہ کہ گزشتہ آیات میں پروردگار علی و اعلیٰ کی تسبیح کا ذکر آیا تھا اور ان آیات میں اس قرآن کی بات ہے جو اس تسبیح کو بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے: "ہم عنقریب تیرے لئے قرأت کریں گے اور تُو کبھی نہیں بھولے گا۔" (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَى)۔ اس بناء پر نزول وحی کے وقت عجلت سے کام نہ لے اور آیاتِ الہٰی کے بھول جانے کے بارے میں کبھی پریشان نہ ہو۔ وہ ذات جس نے یہ عظیم آیات انسانوں کی ہدایت کے لئے تجھ پر نازل کی ہیں، وہ ان کا محافظ و نگہبان بھی ہے۔ وہ ان آیات کا نقش تیرے مبارک سینے میں اس طرح ثبت کرے گا کہ نسیان کا گرد و غبار اسے کبھی مکدر نہیں کرے گا۔ یہ اس مفہوم کی نظیر ہے جو سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۱۴ میں آیا ہے (وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا) "قرآن پڑھنے کے سلسلہ میں اس سے پہلے کہ اس کی وحی تجھ پر تمام ہو ، جلدی نہ کر اور کہہ پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما۔" پھر سورہ قیامت کی آیت ۱۶۔ ۱۷۔ میں ہم پڑھتے ہیں: (لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِoإِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ) "اپنی زبان کو قرآن کے ساتھ حرکت نہ دے اس سے پہلے کہ وحی تجھ پر تمام ہو، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کو جمع کریں اور تیرے سامنے پڑھیں۔" اس کے بعد خدا کی قدرت کو ثابت کرنے اور یہ کہ جو کچھ خیر و برکت ہے وہ اسی کی طرف ہے، مزید کہتا ہے: "تُو آیاتِ الٰہی میں سے کسی چیز کو نہیں بھولے گا، مگر وہ جسے خدا چاہے۔ اس لئے کہ وہ آشکار و پنہاں کو جاننے والا ہے۔" (إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى)۔ اس تعبیر کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ پیغمبرؐ آیاتِ الہٰی میں سے کسی چیز کو بھول جائیں گے، یا ان کی گفتگو سے اطمینان سلب ہو جائے گا۔ مقصودِ کلام یہ ہے کہ آیاتِ الہٰی کو یاد رکھنے کی نعمت خدا کی طرف سے ہے، لہٰذا جس وقت وہ چاہے اسے پیغمبرؐ سے چھین سکتا ہے، یا دوسرے لفظوں میں ہدف و مقصد خدا کے علم ذاتی اور اس کے پیغمبرؐ کے علم وہبی کے درمیان جو فرق ہے اس کو بیان کرنا ہے۔ یہ آیت حقیقت میں اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ ہود کی آیت ۱۰۸ میں اہل بہشت کے جنت میں ہمیشہ رہنے کے بارے میں آئی ہے (وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ) "سعادت مند ہمیشہ جنت میں رہیں گے، جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں، مگر وہ جو تیرا پروردگار چاہے، یہ عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہو گی۔" یہ طے شدہ بات ہے کہ اہل جنت ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور آیت کا آخری حصہ گواہ ہے: (إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّكَ) کا جملہ خدا کے ارادہ و حاکمیت کی قدرت کی طرف اشارہ ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ ہر چیز اس کی مشیت سے ربط رکھتی ہے، اپنی ابتدا و خلقت میں بھی اور بقاء و استمرار میں بھی۔ منجملہ ان امور کے جو اس موضوع کے گواہ ہیں، یہ ہے کہ بعض مسائل کو یاد رکھنا اور بعض کو بھول جانا تمام انسانوں میں موجود ہے اور یہ کوئی امتیاز و خصوصیات نہیں ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کے لئے ایک نعمت کے طور پر بیان کرے۔ لہٰذا مراد تمام آیاتِ قرآن اور احکام و معارف اسلام کا حفظ اور یاد رکھنا ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس استثناء سے مراد وہ آیتیں ہیں جن کے معنی اور تلاوت دونوں منسوخ ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے۔ اصولی طور پر اس قسم کی آیات کا وجود ہی ثابت نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ استثناء قرأت سے متعلق ہے۔ اس لئے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم عنقریب تیرے لئے قرأت کریں گے اور اپنی آیات کو بیان کریں گے، مگر وہ آیات جن کے بارے میں تیرے پروردگار نے ارادہ کیا ہے اور اس کے علم مخزون میں پوشیدہ رہ جائیں۔ یہ تفسیر بھی آیات کے سیاق کی طرف توجہ کرتے ہوئے بعید نظر آتی ہے۔ (إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ) کا جملہ حقیقت میں اس مفہوم کی علت کا بیان ہے جو سنقرئک کے جملہ میں آیا ہے، جو اس طرف اشارہ ہے کہ وہ خدا جو تمام آشکار و پنہاں حقائق سے باخبر ہے، وہ تجھ پر نوعِ بشر کی احتیاجات میں سے باقی رہ جانے والی چیزیں وحی کے ذریعہ القا کرتا ہے اور اس سلسلہ میں کسی چیز کو نظر انداز نہیں کرے گا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ پیغمبرؐ وحی کے حصول میں عجلت نہ کریں اور بھول چوک کا خوف نہ رکھیں، اس لئے کہ وہ خدا، جو آشکار و پنہاں حقائق کا عالم ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ پیغمبر کو نسیان نہیں ہو گا۔ بہرحال، یہ پیغمبرِ اسلامؐ کا ایک معجزہ ہے کہ طولانی آیات کو جبرائیلؑ کے ایک ہی مرتبہ تلاوت کرنے سے یاد کر لیتے، ہمیشہ یاد رکھتے اور کوئی بات بھی نہیں بھولتے تھے۔ اس کے بعد پیغمبر کی دلداری کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "ہم تجھے ہر اچھے کام کے انجام دینے کی توفیق دیں گے۔" (وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَى)۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے کہا ہے کہ واقعی آیت کا مفہوم وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَى لک تھا، اور تاکید کے عنوان سے تقدیم و تاخیر ہوئی ہے اور نیسرک للیسریٰ ہو گیا ہے۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ نیسرک نوفقک کے معنی میں نہ ہو ورنہ تقدیم و تاخیر کی ضرورت نہیں ہے)۔ دوسرے لفظوں میں مقصودِ کلام یہ ہے کہ اس راستہ میں جو تجھے درپیش ہے، بہت سی سختیاں اور مشکلات ہیں، وحی کے اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی راہ میں بھی، تبلیغ رسالت میں بھی اور اچھے کام انجام دینے میں بھی۔ ہم ان تمام امور میں (وحی کے حصول، اس کی تبلیغ، نشر و اشاعت، تعلیم دینے اور اس پر عمل کرنے میں) تیری مدد کریں گے اور مشکلات کو تجھ پر آسان کر دیں گے۔ یہ جملہ، ہو سکتا ہے کہ دعوت فکرِ پیغمبرؐ کے نفس مضمون، پیغمبرؐ کی ذمہ داریوں اور خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے لائحہ عمل کی طرف بھی اشارہ ہو، یعنی اس کا مفہوم و مضمون آسان ہے، اس کی شریعت شریعتِ سہلہ ہے اور اس کی خدائی دین میں حوصلہ شکن تکلیفیں اور ذمہ داریاں نہیں ہیں۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیات کا ایک بہت ہی وسیع مفہوم ہے۔ اگرچہ بہت سے مفسرین نے اسے اس کی ایک ہی جہت میں محدود کر دیا ہے، اور واقعی کار خدا کی مدد، توفیق اور نصرت نہ ہوتی تو ان مشکلات پر پیغمبرؐ کا قابو پانا ممکن نہیں تھا، خود پیغمبرِ اسلامؐ کی زندگی بھی اس حقیقت کی تعلیم کا ایک نمونہ تھی۔ آپ کسی چیز میں بھی، قطع نظر اس سے کہ لباس، خوراک، سواری یا زندگی کے دوسرے وسائل میں سخت گیر نہیں تھے۔ ہر مناسب غذا کھا لیتے، ہر قسم کا لباس باعثِ عیب و نقص نہ ہوتا، زیب تن فرما لیتے، کبھی بستر پر آرام کرتے، کبھی عام فرش پر، حتیٰ کبھی بیابان کے ریت پر، نیز آپ ہر قسم کے تعلق اور تقید سے آزاد تھے۔ پیغمبرِ اسلامؐ پر وحی آسمانی کی موہبت و نعمت اور آپ کے لئے توفیق اور تسہیل امور کے وعدے کے بیان کرنے کے بعد آپ کی اہم ترین ذمہ داری کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پس تذکر کر اگر تذکر مفید ہو" (فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تذکر بہرحال، مفید ہے، وہ افراد جو اس سے کسی طرح بھی مستفید نہ ہوں، وہ بہت کم ہیں، علاوہ ازیں اور کچھ نہیں کم از کم منکرین پر اتمامِ حجت کا سبب تو ہے، جو بجائے خود ایک بہت بڑی منفعت ہے۔ (تشریحی نوٹ: اور یہ جو قرآن کہتا ہے "سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ" ان کے لئے برابر ہے چاہے تو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (بقرہ۔ ۶) یہ لوگوں کی صرف ایک اقلیت کے لئے ہے، ورنہ اکثریت بہرحال، اچھی باتوں کا اثر لیتی ہے۔ البتہ بعض لوگ بہت زیادہ اور اس کے برعکس بعض لوگ بہت کم اثر لیتے ہیں۔ لیکن بہرحال، سنجیدہ باتیں عام طور پر اثر کرتی ہیں۔ اس وجہ سے یہاں جملہ شرطیہ قید غالب کی قبیل سے ہے جو اثر نہیں رکھتی)۔ جبکہ بعض کا نظریہ ہے کہ آیت میں کچھ محذوف ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تذکر کر اور یاد دہانی کرا، چاہے مفید ہو یا نہ ہو (فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى اولم تنفع) یہ حقیقت میں اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ نحل کی آیت ۸۱ میں آئی ہے (وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ) خدا نے تمہارے لئے پیراہن قرار دیئے ہیں جو تمہیں گرمی (سردی) سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس آیت میں صرف گرمی کا ذکر ہوا ہے اور سردی قرینہِ تقابل سے معلوم ہوتی ہے لیکن بعض مفسرین کا اصرار ہے کہ جملہ شرطیہ یہاں مفہوم رکھتا ہے اور مراد یہ ہے کہ وہاں تذکر کر جہاں مفید ہو اور جہاں کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ "ان" یہاں شرطیہ نہ ہو بلکہ "قد" کے معنی میں تاکید و تحقیق کے لئے ہو، اور جملہ کا مفہوم یہ ہو کہ تذکر کر کیونکہ تذکر مفید و فائدہ بخش ہے۔ ان چاروں تفسیروں میں سے سب سے زیادہ مناسب پہلی تفسیر ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کا لائحہ عمل بھی اس پر گواہ ہے کہ وہ اپنی تبلیغات و تذکرات کے لئے کسی قسم کی قید و شرط کے قائل نہیں تھے۔ سب کو وعظ و نصیحت کرتے اور خوفِ خدا دلاتے تھے۔ بعد والی آیت میں تذکر، وعظ اور انذار کے مقابلہ میں لوگوں کے ردِعمل کو پیش کرتا ہے اور انہیں دو گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے فرماتا ہے: "عنقریب وہ لوگ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور مسئولیت و ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں، متذکر ہوں گے" (سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَى)۔ جی ہاں! جب تک روح میں خوفِ خدا اور خشیت الہٰی نہ ہو، یا دوسرے لفظوں میں حق طلبی اور حق جوئی کی روح انسان میں نہ ہو، جو تقویٰ کا ایک مرتبہ مواعظ الٰہیہ اور تذکراتِ انبییاء فائدہ نہیں پہنچاتے۔ اسی لئے سورہ بقرہ کے آغاز میں پروردگار قرآن کو پرہیزگاروں کے لئے سببِ ہدایت شمار کرتے ہوئے فرماتا ہے: (هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ) ایک بعد والی آیت میں ایک دوسرے گروہ کو پیش کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے:"لیکن زیادہ بدبخت افراد اس سے دُوری کرتے ہیں" (ویتجنبھا الاشقی)۔ (تشریحی نوٹ: یتجنبھا کی ضمیر ذکریٰ کی طرف لوٹتی ہے جو گزشتہ آیات میں آیا ہے۔ (غور کیجئے))۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں کہ آیت (سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَى) عبد اللہ ابن مکتوم، پاک دل و حق طلب نابینا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ (وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى) ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں ہے، کہ کفار و مشرکین کے سرغنہ تھے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر قرطبی، جلد ۱۰، ص ۷۱۱۰ دوسرا حصہ تفسیر کشاف و روح المعانی زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اشقیٰ سے مراد یہاں معاندین اور دشمنانِ حق ہیں، اس لئے کہ لوگوں کے تین گروہ ہیں: ایک عارف و آگاہ گروہ، دوسرا، متوقف اور شک کرنے والا گروہ اور تیسرا دشمنی کرنے والا گروہ۔ فطری و طبعی امر ہے کہ پہلا اور دوسرا گروہ تو فہمائش سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ صرف تیسرا گروہ ہے جو مثیت سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ ان کے بارے میں فہمائش کی تاثیر صرف وہی اتمامِ حجت ہے جس ذکر کیا گیا۔ اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام تیسرے گروہ کو بھی اپنی فہمائش سے مستفید فرماتے تھے، لیکن وہ لوگ دُوری اختیار کرتے اور روگرداں ہوتے تھے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں شقاوت و خشیت کا نقطہٴ مقابل قرار دیا گیا ہے جبکہ قاعدةً اسے سعادت کے مقابلہ میں قرار پانا چاہئیے تھا۔ یہ اس بنا پر ہے کہ انسان کی سعادت اور خوش بختی کا اصل سبب مسئولیت و ذمہ داری کا احساس اور خشیت ہی ہے۔ بعد والی آیت میں آخری گروہ کی سرنوشت اس طرح بیان فرماتا ہے: "وہ شقی جو دوزخ کی عظیم آگ میں داخل ہو گا اور وہاں قرار پائے گا" (الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَى)۔ پھر اس آگ میں ہمیشہ رہے گا، نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ (ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى)۔ یعنی نہ تو مرے گا تاکہ آسودہ ہو اور نہ اس حالت کو جس میں وہ زندگی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ وہ ہمیشہ زندگی اور موت کے درمیان ہاتھ پاؤں مارتا رہے گا، جو کیفیت ایسے افراد کے لئے بدترین بلا و مصیبت ہے۔ (النَّارَ الْكُبْرَى) سے کیا مراد ہے؟ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جہنم کا سب سے نچلا طبقہ اسفل السافلین ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ شقی ترین اور معاند ترین لوگ ہیں۔ لہٰذا ان پر نازل ہونے والا عذاب بھی سخت ترین اور ہولناک ترین ہونا چاہئیے۔ لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آگ کی لفظ کبریٰ کے ساتھ توصیف آتشِ صغریٰ کے مقابلہ میں ہے، یعنی اس دنیا کی آگ کے مقابلہ میں، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: (ان نارکم ھٰذہ جزء من سبعین جزء من نار جھنم و قد اطفئت سبعین مرة بالماء ثم التھبت ولولا ذالک ما استطاع ادمی ان یطیقھا)۔ "یہ تمہاری آگ جہنم کی آگ کی ستر اجزاء میں سے ایک ہے۔ وہ پانی سے ستر مرتبہ دھوئی گئی پھر بھی وہ بھڑک اٹھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر کوئی آدمی اس کے تحمل کی طاقت نہ رکھتا اور اس کے قریب نہ ٹھہر سکتا۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۸، ص ۲۸۸، حدیث ۲۱)۔ مشہور دعائے کمیل جو امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام ہے اس میں دنیا کی آگ اور آخرت کی آگ کے موازنہ میں ہم پڑھتے ہیں (علیٰ ان ذالک بلاء و مکروہ قلیل مکثہ، یسیر بقائہ، قصیر مدتہ) یہ ایسی بلا اور مکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے جس میں توقف کم ہے، اس کی بقا مختصر ہے اور اس کی مدت تھوڑی ہے۔

14
87:14
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ
یقیناً وہ رستگار ہو گا جو اپنا تزکیہ کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
87:15
وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ
اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرے اور نماز پڑھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
87:16
بَلۡ تُؤۡثِرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھتے ہو۔

تفسیر وہ دستور العمل جو تمام آسمانی کتب میں آیا ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

گزشتہ آیات میں کفار اور دشمنانِ حق کے بارے میں سخت سزا کا اشارہ ہوا ہے۔ زیر بحث آیات میں اہل ایمان کی نجات اور اس نجات کے اسباب و عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "یقیناً وہ شخص فلاح پائے گا جو اپنا تزکیہ کرے" (قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّى)۔ اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرے اور اس کے بعد نماز پڑھے (وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى)۔ اس طرح فلاح و دستگاری اور کامیابی و نجات کے عوامل ان تین چیزوں کو بتایا ہے۔ تزکیہ، نام خدا کا ذکر اور اس کے بعد نماز پڑھنا۔ تزکیہ سے مراد کیا ہے؟ اس سلسلہ میں علماء نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔ پہلی روح کو نجاستِ شرک سے پاک کرنا ہے، گزشتہ آیات کے قرینہ سے، نیز اس قرینہ سے بھی کہ اہم ترین تطہیر شرک سے تطہیر ہے۔ دوسری یہ کہ تزکیہ سے مراد دل کو اخلاقی رزائل سے پاک کرنا اور اعمال صالح بجا لانا ہے۔ قرآن مجید میں آیات فلاح کے نقطہ نظر سے دوسری آیات کے علاوہ سورہٴ مومنین کے آغاز کی آیتیں ہیں جو فلاح کو اعمال صالح کی روح قرار دیتی ہیں اور سورہٴ شمس آیہ ۹ کے حوالے سے جس میں تقویٰ اور فجور کے بیان کے بعد فرماتا ہے: (قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا) وہ فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو فسق و فجور اور دوسرے بُرے اعمال سے پاک کیا اور تقویٰ سے آراستہ کیا۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ تزکیٰ سے مراد زکوٰة فطرہ دینا ہے۔ عید فطر کے دن پہلے زکوٰة فطرہ ادا کی جائے، پھر نماز عید پڑھی جائے۔ جیسا کہ متعدد روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۵۶، حدیث ۱۹ تا ۲۱)۔ اور یہی معانی منابع اہل سنت میں امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہیں۔ (بحوالہ: رُوح المعانی، جلد ۳۰، ص ۱۱۰ اور تفسیر کشاف، جلد ۴، ص ۷۴۰)۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورہٴ اعلیٰ مکی ہے اور مکہ میں نہ زکوٰة فطرہ مقرر ہوئی تھی، نہ ماہِ رمضان کے روزے، نہ نمازِ عید ہی اور فطرہ کے مراسم۔ اس سوال کے جواب میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں ہے کہ اس سورہ کا پہلا حصہ مکہ میں نازل ہوا ہو اور ذیلی حصہ مدینہ میں۔ یہ احتمال بھی قوی طور پر موجود ہے کہ مندرجہ بالا تفسیر ایک واضح مصداق کے بیان کی قبیل سے ہو اور آیت کی تطبیق کسی واضح فرد پر ہو۔ بعض نے یہاں تزکیہ کو مالی صدقہ دینے کے معنی میں سمجھا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تزکیہ کے وسیع معانی ہیں۔ یہ روح سے شرک کی آلودگی کو دُور کرنے کے معنی میں بھی ہے، اخلاقِ رزیلہ سے خود کو پاک کرنے کے معنی میں بھی، ہر قسم کے مکر و ریا سے پاک کرنے کے معنی میں بھی اور راہِ خدا میں زکوٰة دے کر مال و جان کی تطہیر کے معنی میں بھی اس لئے کہ سورہ توبہ آیت ۱۰۳۔ (خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا) "ان کے مال میں سے صدقہ (زکوٰة) لے تاکہ انہیں اس کے ذریعہ پاک کرے اور ان کا تزکیہ کرے۔" کے مطابق زکوٰة کا دینا روح و جان کی پاکیزگی کا سبب ہے۔ اس بناء پر تمام تفسیریں آیت کے وسیع معنی کے اعتبار سے ممکن ہے کہ ٹھیک ہوں۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پہلے تزکیہ، اس کے بعد پروردگار کا ذکر اور پھر نماز کی بات ہوئی ہے۔ بعض مفسرین کے بقول مکلف کے تین عملی مراحل ہیں۔ پہلا دل سے فاسد عقیدہ کا ازالہ، اس کے بعد اللہ کی معرفت اور اس کے صفات و اسماء کا دل میں حضور، اور تیسرا مشغلہ ہے "اشتغال بخدمت" مندرجہ بالا آیت نے تین مختصر جملوں میں ان تینوں مرحلوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۳۱، ص ۱۴۷)۔ یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ نماز کا ذکر پروردگار کی فرع شمار کیا گیا ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ جب تک اس کی یاد میں محو نہ ہو اور نورِ ایمان دل میں سایہ فگن نہ ہو اس وقت تک بندہ نماز کے لئے کھڑا نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں وہ نماز قدر و قیمت رکھتی ہے جس کے ساتھ اس کا ذکر بھی ہو اور وہ اس کی یاد کو ساتھ لئے ہوئے ہو اور یہ جو بعض لوگوں نے ذکر پروردگار سے مراد صرف اللہ اکبر یا بسم اللہ الرحمن الرحیم کو لیا ہے، یہ درحقیقت اس کی بعض مصادیق کا بیان ہے۔ اس کے بعد اس فلاح و دستگاری کے دستور العمل سے انحراف کے اصلی عامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "بلکہ تم دنیاوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو اور اسے ترجیح دیتے ہو" (بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا) جبکہ آخرت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے (وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى)۔ یہ حقیقت میں وہی مفہوم ہے جو احادیث میں بھی آیا ہے (حب الدنیا راٴس کل خطئة) "دنیا کی محبت ہر گناہ کا سرچشمہ ہے۔" (تشریحی نوٹ: یہ حدیث مختلف عبارتوں کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام سے، بلکہ تمام انبیاء سے نقل ہوئی ہے اور یہ اس کی حد سے زیادہ اہمیت کی بناء پر ہے۔ نور الثقلین، جلد۵، ص ۵۵۶۔ ۵۵۷)۔ حالانکہ عقل کبھی اجازت نہیں دیتی کہ انسان سرائے باقی کو متاعِ فانی کے بدلے فروخت کرے اور ان مختصر سی لذتوں کو جو انواع و اقسام کے درد و رنج ساتھ لئے ہوئے ہیں ان تمام جاودانی اور ہر قسم کی تکالیف سے مبّرا نعمتوں پر مقدم سمجھے اور ان پر ترجیح دے۔ انجام کار سورہ کے آخر میں فرماتا ہے: "یہ احکام جو بتائے گئے ہیں اس کتابِ آسمانی ہی میں محدود نہیں ہیں بلکہ پہلی کتب اور صحف میں بھی آ چکے ہیں۔" (إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ) یعنی صحفِ و کتب ابراہیمؑ و موسیٰؑ میں۔ (صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى)۔ (تشریحی نوٹ: ہو سکتا ہے کہ صحف ابراہیم و موسیٰ صحف الاولیٰ کی وضاحت ہو، یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا بیان اور واضح مصداق ہو، پہلی صورت میں گزشتہ تمام انبیاء کی کتب پر حاوی ہو گا اور دوسری صورت میں صرف ابراہیم و موسیٰ کے صحیفے مراد ہوں گے)۔ یہ بات کہ ھٰذا کا مشار الیہ کیا ہے اس سلسلہ میں کئی نظریات موجود ہیں۔ ایک جماعت نے کہا ہے کہ تزکیہ، نماز اور حیاتِ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دینے کے آخری حکم کے سلسلہ میں اشارہ ہے، اس لئے کہ یہی انبیاء کی سب سے اہم اور بنیادی تعلیمات تھیں اور ان کا بیان تمام کتبِ آسمانی میں موجود ہے۔ بعض دوسرے مفسرین اس کو ساری سورة کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، اس لئے کہ سورة توحید سے شروع ہوتی ہے اور نبوت کا تذکرہ جاری رکھتے ہوئے عملی دستور العمل پر ختم ہو جاتی ہے۔ بہرحال، یہ تعبیر بتاتی ہے کہ اس سورہ کا اہم مضمون، بالخصوص آخری آیات عالم ادیان کے اصول اساسی میں سے ہے، تمام انبیاء کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے اور یہ خود اس سورة کی عظمت اور ان کی تعلیمات کی اہمیت کی نشانی ہے۔ "صحف" صحیفہ کی جمع ہے جو یہاں لوح، تختی اور صفحہ کے معنی میں ہے، جس پر کوئی چیز لکھتے ہیں مندرجہ بالا آیات بتاتی ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ بھی آسمانی کتابوں کے حامل تھے۔ ایک روایت حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ انبیاء کی تعداد کیا ہے، تو آپؐ نے فرمایا "ایک لاکھ چوبیس ہزار" مَیں نے عرض کیا "ان میں سے رسول کتنے تھے"؟ فرمایا "تین سو تیرہ اور باقی سب نبی تھے۔" مَیں نے عرض کیا "حضرت آدمؑ بنی تھے؟ "فرمایا "ہاں۔ خدا نے ان سے کلام کیا اور انہیں اپنے دستِ قدرت سے خلق فرمایا۔" اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے مزید فرمایا: "اے ابوذر! انبیاء میں سے چار افراد عرب تھے: ہود، صالح، شعیب، اور تیرا پیغمبر۔" مَیں نے کہا "اے اللہ کے رسول! خدا نے کتنی کتابیں نازل فرمائیں ہیں؟" فرمایا: ایک سو چار کتابیں۔" دس کتابیں آدمؑ پر، پچاس کتابیں شیثؑ پر اور تیس کتابیں اخنوخ پر، جو ادریسؑ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا۔ ابراہیمؑ پر دس کتابیں اور توریت، انجیل، زبور اور فرقان، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، داؤدؑ، اور پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوئیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۷۶)۔ (الصُّحُفِ الْأُولَى) کی تعبیر ابراہیمؑ و موسیٰؑ کی کتب کے بارے میں آخری صحف کے مقابل ہے جو حضرت عیسیٰؑ اور پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوئے۔

17
87:17
وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓ
جبکہ آخرت زیادہ پائیدار اور بہتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
87:18
إِنَّ هَٰذَا لَفِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ
یہ احکام پہلی آسمانی کتب میں آ چکے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
87:19
صُحُفِ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ
کتب ابراہیم و موسیٰ میں۔

ایک نکتہ حُبّ الدنیا راٴس کل خطیئة کی تحلیل

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

یقیناً مومن افراد کے لئے یہ قرآنی محاسبہ، جو مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے اور جو دنیا و آخرت کے موازنے کے سلسلہ میں ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے، مکمل طور پر واضح ہے۔ لیکن اس کے باوجود مومن اکثر اوقات اپنے علم و آگاہی کو اپنے قدموں تلے روندتا ہے اور گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں ایک ہی جملہ دیا جا سکتا ہے کہ یہ سب ان خواہشات کے نتیجے میں ہوتا ہے جن کا انسان کے وجود پر غلبہ ہوتا ہے اور خواہشات کے غلبہ کا سرچشمہ بھی حُبِ دنیا ہی ہے۔ حُبِ دنیا میں یہ سب چیزیں شامل ہیں:۔ حُبِ مال، حُبِ مقام، شہوتِ جنسی، تفوّق طلبی، تن پروری، جذبہٴ انتقام اور اسی قسم کے دیگر امور جو انسان کی روح میں کبھی کبھی اس قسم کا طوفان برپا کر دیتے ہیں کہ اس کی تمام معلومات کو برباد کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات اس کی حسِ تشخیص ہی کو ختم کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ جو بعض اسلامی رویات میں بارہا حُبِ دنیا کو تمام گناہوں کا سرچشمہ بتایا گیا ہے یہ ایک حقیقت واقعی ہے، جسے ہم نے خود اپنی زندگی اور دوسروں کی زندگی میں بارہا آزمایا ہے۔ اسی بناء پر گناہ کی جڑوں کو کاٹنے کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ ہم دنیا کی محبت اور اس کے عشق کو دل سے باہر نکال دیں۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم دنیا کو ایک وسیلہ، رہگزر، پل اور کھیتی سمجھیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ دنیا کے عاشق، جو دورا ہے پر کھڑے ہیں، یعنی متاع دنیا کے حصول اور رضائے خدا کے حصول کا دوراہہ، وہ کسی دوسری چیز کو ترجیح دیں۔ اگر ہم اپنے جرائم کے دفتر کو دیکھیں تو مندرجہ بالا آیت کی حقیقت ہمیں اس میں اچھی طرح نظر آئے گی، اگر ہم لڑائیوں میں، خونریزیوں اور قتل و غارت کے اسباب و علل کو موردِ توجہ قرار دیں تو ان سب میں حُبِ دنیا بنائے فساد کے طور پر ملے گی۔ باقی رہا کہ حُبِ دنیا کو کس طرح دل سے نکالا جا سکتا ہے جبکہ ہم سب ابنائے دنیا ہیں اور ماں سے بیٹے کی محبت ایک امر فطری ہے۔ یہ چیز فکری تعلیم و تربیت اور تہذیبِ نفس کی متقاضی ہے۔ من جملہ ان امور کے جو حُبِ دنیا کو دل سے نکالنے کے خواہشمند لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں، اہلِ دنیا کے انجامِ کار کا مطالعہ ہے۔ فراعنہ نے باوجود قوت اور مالی وسائل کے آخرکار کیا کیا؟ قارون ان خزانوں میں سے، جن کی چابیاں کئی طاقتور انسان مشکل سے اٹھا سکتے تھے، اپنے ساتھ کیا لے کر گیا؟ وہ طاقتیں جنہیں ہم اپنے زمانے میں دیکھتے ہیں ایک موج ہوا کے ذریعہ ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا جاتا ہے اور صرف ایک گردشِ لیل و نہار کے نتیجے میں ان کا تحت سلطنت الٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے قصرِ دولت و ثروت کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، یا زیر خاک پنہاں ہو جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ہمارے لئے بہترین معلم کا کام دے سکتی ہیں۔ اس وسیع و عریض گفتگو کو ہم امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک بہت ہی معنی خیز حدیث پر ختم کرتے ہیں۔ آنجنابؑ سے کچھ لوگوں نے پوچھا "خدا کے نزدیک سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ آپؑ نے فرمایا: (ما من عمل بعد معرفة اللہ عزّ وجلّ و معرفة رسولہ افضل من بغض الدنیا) "خدا اور اس کے رسول کی معرفت کے بعد بغض دنیا سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے۔" اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا: "محبتِ دنیا بہت سے شعبے ہیں اور گناہوں کے بھی بہت سے شعبے ہیں۔ سب سے پہلی چیز جس کی وجہ سے خدا کی نافرمانی ہوئی، وہ ابلیس کی نافرمانی تھی، جس وقت اس نے انکار کیا اور تکبر کر کے کافرین میں سے شمار ہو گیا۔ اس کے بعد حرص تھی جو آدمؑ و حوّا کے ترکِ اولیٰ کا سبب بنی، جس وقت کہ خداوند تعالی نے ان سے فرمایا جنت کی جس جگہ سے چاہو کھاؤ، لیکن اس ممنوع درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالم ہو جاؤ گے۔ لیکن وہ اس چیز کی طرف گئے جس کی انہیں ضرورت نہیں تھی، یہی چیز ان کی اولاد کے لئے قیامت تک باقی رہ گئی، اس لئے کہ زیادہ تر چیزیں جو انسان طلب کرتا ہے اس کی ضرورت سے تعلق نہیں رکھتیں۔ (عام طور ضرورتیں گناہ کا سبب نہیں ہیں۔ وہ چیزیں جو سبب گناہ ہے وہ ہوا و ہوس اور ضرورت سے زائد امور ہیں)۔ اس کے بعد حسد تھا جو آدمؑ کے بیٹے کا سببِ گناہ تھا اس نے اپنے بھائی سے حسد کیا اور اس کو قتل کر دیا۔ اس کے شعبوں میں سے عورتوں کی محبت، دنیا کی محبت حُبّ ریاست، حُبِ راحت و آرام، حُبِ گفتگو و کلام، حُبِ برتری اور حُبِ دولت و ثروت ہے۔ یہ سات صفات ہیں جو سب کی سب حُبِ دنیا میں جمع ہیں۔ اسی لئے انبیاء و مرسلین اور علمائے اعلام نے اس حقیقت سے آگاہی کے لئے کہا ہے کہ "حُبّ الدنیا راٴس کل خطیئة)۔ (تشریحی نوٹ: ایسا نظر آتا ہے کہ یہاں حُبِ دنیا میں باقی رہنے کی محبت ہے، جو سات شعبوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے اور عام طور پر طویل امیدوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اصولِ کافی، جلد ۲، باب "حُبّ الدنیا و الحرص علیہا حدیث ۸۔ اصولِ کافی کے اس باب میں اس سلسلہ میں ۱۷ روایت نقل ہوئی ہیں، جو بہت ہی اخلاقی اور تربیتی ہیں)۔ خداوندا! دنیا کی محبت، جو تمام گناہوں کا سرچشمہ ہے، اسے ہمارے دلوں سے نکال دے۔ پروردگارا! تو خود ہی تکامل و ارتقاء کے پر بیچ راستے میں ہمارا ہاتھ تھام کر منزلِ مقصود تک ہماری ہدایت فرما۔ بار الہٰا! تُو آشکار و پنہاں سب سے آگاہ ہے، ہمارے مخفی اور آشکار گناہ اپنے لطف و کرم سے بخش دے۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter
Al-A'la (87) — Tafseer e Namoona