Sūra 66 · 12v
Chapter 6612 verses

At-Tahrim

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
التحريم
التحریم

سوره تحریم

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ١٢ آ یات ہیں۔

سورۂ تحریم کے مضامین

اِس سورہ کے بُنیادی طور پر چار حِصّے ہیں: پہلا حصّہ: یہ پہلی آیت سے پانچویں آیت تک ہے جو پیغمبرؑ اور ان کی بعض بیویوں کے ایک واقعہ سے مربُوط ہے۔ آنحضرتؐ نے حلال غذاؤں میں سے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تو مذکورہ آیات نازل ہُوئیں اور پیغمبرؐ کی ان بیویوں کو ملامت ہُوئی کہ جس کی تفصیل انشاء اللہ شانِ نزول میں بیان ہو گی۔ دوسرا حصّہ: یہ آیت ٦ سے شروع ہو کر آیت ٨ تک جاتا ہے، اور تمام مومنین سے ایک کلّی خطاب ہے۔ یہ گھر والوں کی تعلیم و تربیّت کے مُعاملے نگران رہنے اور گناہوں سے توبہ کے ضروری ہونے کے بارے میں ہے۔ تیسرا حصّہ: یہ صرف ایک ہی آیت ہے جس میں پیغمبرؐ کو کفّار و منافقین سے جنگ اور جہاد کرنے کے بارے میں خطاب ہُوا ہے۔ چھوتھا حصّہ: یہ سُورہ ٔکا آخری حِصّہ ہے جو آیت ١٠ سے آیت ١٢ تک ہے۔ اس میں خدا نے گزشتہ بحث کو واضح کرنے کے لیے وہ صالح اور نیک خواتین (مریمؑ اور آسیہ زوجۂ فرعون) اور دو غیر صالح خواتین (زوجۂ نوحؑ اور زوجۂ لُوطؑ) کے حالات کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ اس میں درحقیقت تمام مسلمانوں کی بیویوں اور خصوصیّت سے پیغمبرؐ کی بیویوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ خود کو پہلے گروہ (مریمؑ و آسیہ زوجہ فرعون) سے ہم آہنگ کریں، دوُسرے گروہ کے ساتھ نہیں۔

تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں رسُولِ خدُاؐ سے اس طرح نقل ہوا ہے: "جو شخص سورہ تحریم کو پڑھے گا اعطاہ اللہ توبة نصوحاً: تو خدا اسے خالص توبہ کی توفیق عطا فرمائے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد١٠، صفحہ ٣١١)۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے آیا ہے: "جو شخص سورہ طلاق و تحریم کو واجب نماز میں پڑھے گا، خُدا اُسے قیامت میں خوف و ہراس سے پناہ دے گا۔ جہنم کی آگ سے رہائی بخشے گا، اور اُسے اس سورہ کی تلاوت اور اس پر مداومت کی بناء پر جنّت میں داخل کرے گا، کیونکہ یہ دونوں سورتیں پیغمبرؐ کے ساتھ مخصوص ہیں۔" (بحوالہ: "ثواب الاعمال" مطابق نقل "نور الثقلین"، جلد ٥، صفحہ ٣٦٧)۔

1
66:1
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَۖ تَبۡتَغِي مَرۡضَاتَ أَزۡوَٰجِكَۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو (تمام مخلوقات کے لئے) رحمان اور (مومنین کے ساتھ) رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
66:2
قَدۡ فَرَضَ ٱللَّهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ أَيۡمَٰنِكُمۡۚ وَٱللَّهُ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ
اللہ نے ( ایسے موقعوں کے لئے) تمہاری قسموں کے کھولنے کی راہ کو واضح کر دیا ہے اور اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
66:3
وَإِذۡ أَسَرَّ ٱلنَّبِيُّ إِلَىٰ بَعۡضِ أَزۡوَٰجِهِۦ حَدِيثٗا فَلَمَّا نَبَّأَتۡ بِهِۦ وَأَظۡهَرَهُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهُۥ وَأَعۡرَضَ عَنۢ بَعۡضٖۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتۡ مَنۡ أَنۢبَأَكَ هَٰذَاۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
اس وقت کو یاد کرو کہ جب پیغمبر نے اپنا ایک راز اپنی بیویوں میں سے بعض کو بتلایا، لیکن جب اس نے اس راز کو افشاء کر دیا تو اللہ نے پیغمبرکواس سے آگا ہ کردیا اور پیغمبر نے اس کا ایک حصہ تو اس(بیوی) سے بیان کیا اور ایک حصہ بیان نہ کیا۔ جب پیغمبر نے اپنی بیوی کو اس کی خبر دی تو اس نے کہا کہ آپ کو اس بات سے کس نے آگاہ کیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ علیم و خبیر اللہ نے مجھے اس بات سے آگاہ کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
66:4
إِن تَتُوبَآ إِلَى ٱللَّهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوبُكُمَاۖ وَإِن تَظَٰهَرَا عَلَيۡهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ مَوۡلَىٰهُ وَجِبۡرِيلُ وَصَٰلِحُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ
اگر تم دونوں اپنے فعل سے توبہ کر لو ( تو اس میں تمہارا نفع ہے) کیونکہ تمہارے دل حق سے پھر گئے ہیں، اور اگر تم دونوں نے اس(پیغمبر) کے بر خلاف اتفاق کر لیا تو (بھی تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گی) کیونکہ اللہ اس کا مدد گار ہے۔ اور اسی طرح جبرئیل اور صالح مومنین اور ان کے علاوہ تمام فرشتے اس کے پشتیبان ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
66:5
عَسَىٰ رَبُّهُۥٓ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبۡدِلَهُۥٓ أَزۡوَٰجًا خَيۡرٗا مِّنكُنَّ مُسۡلِمَٰتٖ مُّؤۡمِنَٰتٖ قَٰنِتَٰتٖ تَـٰٓئِبَٰتٍ عَٰبِدَٰتٖ سَـٰٓئِحَٰتٖ ثَيِّبَٰتٖ وَأَبۡكَارٗا
اگر وہ(پیغمبر) تمہیں طلاق دے دے تو قریب ہے کہ اس کا پروردگار تمہاری جگہ اس کے لئے تم سے ا چھی بیویاں قرار دے جومسلمان ، مومن ، متواضع ، توبہ کرنے والیاں، عبادت گذار اور ہجرت کرنے والیاں اوربیوہ اور باکرہ ہوں گی۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

اوپر والی آ یات کے شانِ نزول کے بارے میں شیعہ اور اہل سُنّت کی تفسیر، حدیث اور تاریخ کتابوں میں بہت سی روایات نقل ہُوئی ہیں۔ اُن میں سے جو ز یادہ مشہور اور زیادہ مُناسب نظر آتی ہیں وہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں: پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اوقات (اپنی ایک بیوی) زینب بنت حجش کے پاس جا تے تو زینت آپ کو بیٹھا لیتیں اور جو شہد اُن کے پاس موجود ہوتا وہ آ پ کی خدمت میں پیش کرتیں۔ یہ بات بی بی عائشہ کے کانوں تک پہنچی تو اُن پر بہت گراں گز ری ، وہ کہتی ہیں: میں نے حفصہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری بیوی) کے ساتھ یہ طے کیا کہ جب بھی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے قریب آ ئیں تو ہم فوراً یہ کہیں کیا آپ نے مغافیر کھائی (مغافیر ایک گوند تھی جو حجاز کے ایک درخت عُرفط (بر وزن ہرمز) سے نکلتی تھی اوراس کی بُو خوشگو ار نہیں تھی) پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کے پابند تھے کہ آپ کے دہن مُبارک یا لباس سے ہرگز کوئی نامُناسب بو نہ آ ئے بلکہ اس کے برعکس، آپ پابند ی کے ساتھ خوشبو لگاتے اور مُعطّر رہتے تھے۔ اِس طرح ایک دن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حفصہ کے پاس آ ئے تواس نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی بات کہی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے مغافیر نہیں کھائی بلکہ زینب بنت حجش کے یہاں سے شہد نوش کیا ہے اور میں قسم کھاتا ہوں کہ اب اس کے بعد وہ شہد نہیں پیوں گا.(ممکن ہے کہ شہد کی مکھّی کسِی نامناسب نبات یاشاید مغافیر پرہی بیٹھی ہو) لیکن تم یہ بات کسِی سے نہ کہنا (کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بات لوگوں کے کانوں تک پُہنچے تووہ کہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حلال غذا کواپنے اوپر حرام کیوں کر لیا ہے؟ یا وہ اس سلسلے میں یا اس سے مشابہ امور کے بارے میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل کی پیروی کرنے لگیں، یا یہ بات زینب کے کان تک پہنچ جائے وہ شکستہ دل ہو)۔ لیکن انجامِ کار یہ راز اس نے فاش کر دیا اور بعد میں معلوم ہو گیا کہ اصل میں یہ معاملہ توایک سازش تھی۔اس پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوبہت رنج ہوا تو اوپر والی آیات نازل ہُوئیں اور اس ماجرے کو اس طرح سے ختم کیا گیا کہ پھر پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں اس قسم کے امُور کا تکرار نہ ہُوا. (حاشیہ: اس اصل حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح کی جلد ٦، صفحہ ١٩٦ میں نقل کیا ہے اور جو وضاحتیں ہم نے قوسین میں لکھی ہیں وہ دوسری کتب سے معلوم ہُوئی ہیں۔) بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) اس ماجرے کے بعد ایک ماہ تک اپنی ازواج سے الگ رہے۔ یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ان کو طلاق دینے کے ارادہ کی خبر منتشر ہو گئی، اس طرح ازواج سخت پریشان اوروحشت زدہ ہو گئیں اور اپنے فعلِ پر پشیمان ہُوئیں۔

تفسیر پیغمبرؐ کی بعض ازواج کی شدید سرزنش

اِس میں شک نہیں کہ پیغمبر اسلامؐ جیسے عظیم انسان صرف اپنی ذات سے ہی تعلّق نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا تعلّق پورے اسلامی مُعاشرے اور عالمِ انسانیّت سے تھا۔ اس بناء پر اگر ان کے گھر کے اندر ان کے خلاف سازشیں ہوں، چاہے وہ کِتنی ہی چھوٹی اور معمولی کیوں نہ ہوں، تو اُن کے قریب سے آسانی کے ساتھ نہیں گزر جانا چاہیئے۔ یعنی پیغمبرؐ کی حیثیت، مقام اور مرتبہ کو نعوذ باللہ کسِی کے بھی ہاتھ میں کھلونا نہیں بننا چاہیئے۔ اگر اس قسم کا کوئی معاملہ پیش آئے تو قاطعیّت کے ساتھ اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ اوپر والی آیت حقیقت میں خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے اس قسم کے واقعہ کے مقابلے اور اپنے پیغمبرؐ کی حیثیت و مقام کی حفاظت کے لیے ایک قطعی اور دوٹوک فیصلہ ہے۔ سب سے پہلے خود پیغمبرؐ کی طرف رُوئے سخن کرتے ہُوئے کہتا ہے: " اے پیغمبرؐ! جو چیز خُدا نے تیرے لیے حلال کی ہے اُسے اپنی بیویوں کو خوش رکھنے کے لیے اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہو"؟ (یا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغی مَرْضاتَ أَزْواجِکَ)۔ معلوم ہے کہ یہ شرعی تحریم نہیں تھی بلکہ جیسا کہ بعد والی آیت سے معلوم ہوتا ہے، پیغمبرؐ کی طرف سے قسم کھائی گئی تھی، اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بعض مباح چیزوں کے ترک کرنے کی قسم کھانا کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس بناء پر "لم تحرم" (اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہو) کا جملہ عتاب اور سرزنش کے عنوان سے نہیں بلکہ ایک قسم کی ہمدردی اور شفقت کا اظہار ہے۔ ٹھیک اس طرح کہ جیسے ایک شخص جو اپنی معاش حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ زحمت اٹھاتا ہے لیکن خُود اس سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں لیتا، ہم اس سے کہتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو اتنی زحمت کیوں دیتے ہو، اور اس زحمت کے ثمرے سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھاتے۔ بعد آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "خدا غفور و رحیم ہے۔" (وَاللَّہُ غَفُور رَحیم)۔ یہ عفو و رحمت کی بات ان بیویوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اس واقعہ کے اسباب مُہیّا کیے ہیں۔ یعنی اگر واقعی وہ توبہ کر لیں تو وہ اس کی مشمُول ہوں گی۔ یا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہتر تھا پیغمبر اس کی قسم نہ کھاتے، کیونکہ یہ ایک ایسا کام تھا جو احتمالاً آنحضرتؐ کی بعض بیویوں کی جُرأت اور جسارت کا سبب بن جاتا۔ بعد والی آیت میں اضافہ کرتا ہے: "خدا نے (ایسے معوقعوں کے لیے) تمہاری قسمیں کے کھولنے کی راہ کو واضح کر دیا ہے۔" (قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّةَ أَیْمانِکُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: راغب 'مفردات' میں کہتا ہے: "جہاں کہیں 'فرض' ، 'علیٰ' کے ساتھ ہو وہاں "وجوب" کے معنی دیتا ہے اور جہاں لام کے ساتھ ہو، وہاں عدم ممنُوعیّت کے معنی میں ہے۔ اس بناء پر زیر بحث آیت میں "فرض" وجوب کے معنی میں نہیں بلکہ اجازت کے معنی میں ہے۔ "تحلة" (باب تفعیل کا مصدر ہے) حلال کرنے کے معنی میں ہے یا دوسرے لفظوں میں ایسا کام جو قسم کی گرہ کو کھول دے یعنی کفّارہ)۔ البتہ اگر قسم کسی ایسے امر کے لیے ہو جس میں کسی کام کا ترک کرنا برتری رکھتا ہو تو پھر قسم پر عمل کرنا چاہیے اِس کا توڑنا گناہ ہے اور اس کا کفّارہ ہے۔ لیکن اگر وہ قسم کسی ایسی چیز کے لیے ہو جس کا ترک کرنا مناسب نہ ہو (زیر بحث آیت کی مانند) تو پھر اس صورت میں اس کا توڑنا جائز ہے، لیکن اِس قسم کے احترام کی حفاظت کے لیے بہتر ہے کہ کفّارہ بھی دیا جائے۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ تفسیر نمُونہ، جلد ٥، سورہ مائدہ کی آیت ٨٩ کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے۔ قسم کا کفّارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ یا دس افراد کو لباس پہنانا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو ان میں سے کوئی کام نہ کر سکتا ہو وہ تین روزے رکھّے)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "خدا تمہارا مولا اور تمہارا محافظ و مددگار ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے: "(وَ اللَّہُ مَوْلاکُمْ وَ ہُوَ الْعَلیمُ الْحَکیمُ)۔ اِسی لیے اس نے اس قسم کی قسموں سے نجات کی راہ تمھارے لیے ہموار کر دی ہے اور اپنے علم و حکمت کے مطابق تمھارے لیے مشکل کشائی کی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرؐ نے اِس آیت کے نزول کے بعد ایک غلام آزاد کیا، اور جو کچھ اپنے اوپر قسم کی وجہ سے حرام کیا ہوا تھا، اُسے حلال کر لیا۔ بعد والی آیت میں اس واقعہ کے سلسلے میں مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس وقت کو یاد کرو جب پیغمبرؐ نے اپنا ایک راز اپنی بیویوں میں سے بعض کو بتلایا، لیکن اس نے راز داری نہ کی اور دوسری کو خبر دے دی۔ خدا نے پیغمبرؐ کو اس افشائے راز سے آگاہ کیا تو پھر پیغمبرؐ نے اس کا ایک حصہ تو اس سے بیان کیا اور ایک حصہ بیان نہ کیا۔" (وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ)۔ یہ راز کیا تھا جو پیغمبرؐ نے اپنی بیویوں میں سے بعض کو بتلایا تھا اور اس نے راز داری نہ کی۔ مذکورہ شانِ نزول کے مُطابق یہ راز دو مطالب پر مشتمِل تھا، ایک اپنی بیوی زینب بنتِ حجش کے پاس شہد کا پینا اور دوسرا آئندہ کے لیے اس کے پینے کو اپنے اوپر حرام کر لینا۔ اِس آیت میں بیوی سے مراد بی بی حفصہ تھی جو راز داری نہ کر سکی اور اس نے یہ بات سن کر بی بی عائشہ سے بیان کر دی۔ پیغمبرؐ چونکہ وحی کے ذریعے اس افشائے راز سے آگاہ ہو چکے تھے، لہٰذا آپ نے اس کا ایک حصّہ بی بی حفصہ سے بیان کیا اور اِس بناء پر کہ وہ زیادہ شرمندہ ہو دوسرا حصّہ بیان نہ کیا۔ (ممکن ہے پہلا حصّہ اصل شہد کا پینا ہو، اور دوسرا حصّہ اسے اپنے اوپر حرام کرنا ہو)۔ بہرحال؛ جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بی بی حفصہ کو اس افشائے راز کی خبر دی تو اس نے کہا: "آپ کو اس بات سے کِس نے آگاہ کیا۔" (فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَذَا)۔ آپ نے فرمایا: علیم و خبیر خُدا نے مجھے اِس بات سے آگاہ کیا ہے۔" (قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ)۔ اِس تمام آیت سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں میں سے بعض، نہ صرف انہیں اپنی باتوں سے دُکھ پہنچاتی تھیں، بلکہ راز داری کا مسئلہ جو ایک باوفا بیوی کی اہم ترین خوبیوں میں ہے، وہ بھی ان میں نہیں تھا۔ ان تمام باتوں کے باوجود، ان کے ساتھ پیغمبرؐ کا سلوک ایسا فراخدلانا تھا کہ آنحضرتؐ اس تمام راز کو جو اس نے فاش کیا تھا، اس کے سنہ پر کہنے کے لیے تیّار نہ ہُوئے اور صرف اس کے ایک حصّے کی طرف اشارہ کیا۔ اِسی لیے ایک حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے آیا ہے: ما استقصی کریم قط، لان اللہ یقول عرف بعضہ و اعرض عن بعض۔ "شریف اور بڑے آدمی اپنے احقاقِ حق کے لیے آخری مرحلے تک آگے نہیں جاتے کیونکہ خدا اس مقام پر پیغمبرؐ کے متعلق کہتا ہے، انہوں نے ایک حصّے کی خبر دی اور ایک حصّہ بیان نہ کیا۔" (بحوالہ: المیزان، جلد١٩، صفحہ ٣٩٢)۔ اس کے بعد ان دو بیویوں کی طرف، جو اوپر والی سازش میں شریک تھیں، رُوئے سُخن کرتے ہُوئے کہتا ہے: "اگر تم اپنے فعل سے توبہ کر لو اور پیغمبرؑ کو دُکھ دینے اور آزار پہُنچانے سے دستبردار ہو جاؤ تو یہ بات تمہارے فائدہ میں ہے، کیونکہ تمہارے دل اس عمل کی بناء پر حق سے مُنحرف اور گناہ سے آلودہ ہو چکے ہیں۔" (انْ تَتُوبا اِلَی اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُما)۔ ان دو بیویوں سے مراد بالاتفاق مفسّرین شیعہ و اہل سنّت بی بی حفصہ اور بی بی عائشہ ہیں جو بالتّرتیب عمر بن خطاب اور ابوبکر بن قحافہ کی بیٹیاں تھیں۔ "صفت" (صفو) کے مادّہ سے (عفو کے وزن پر) کسِی چیز کی طرف متمائل ہونے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں: صغت النجوم یعنی ستارے مغرب کی طرف متمائل ہُوئے اور اسی لیے اصفاء کسِی دوسرے کی بات کان دھر کے سننے کے معنی میں آیا ہے۔ زیرِ بحث آیت میں 'صغت قلوبکما' سے مراد ان کے دلوں کا حق سے گناہ کی طرف انحراف تھا۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مُطابق جو ہم نے اوپر بیان کی اور جسے بہُت سے مفسّرین نے اختیار کیا ہے، اس آیت میں کچھ محوزوف ہے، اور تقدیر میں اس طرح تھی: إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ کانت خیر لکما (یا اسی معنی کے مشابہ کوئی اور دوسری تقدیر) لیکن بعض نے یہ احتمال دیا ہے۔ کہ شاید آیت میں کوئی محذوف نہ ہو اور صغت قلوبکما کا جملہ شرط کی جزاء ہوں (اس قید کے ساتھ کا مفہوم حق کی طرف تمائل ہونا کہ باطل کی طرف) کا ذکر جمع کے صیغہ کے ساتھ نہ تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ اس بناء پر ہُوا ہے کہ دو تثنیوں کا ایک ساتھ ہونا فصاحت کے لحاظ سے نامناسبت اور ناپسندیدہ ہے۔ اِس لیے جمع کی صورت میں ذکر ہُوا اور اس کا معنی تثنیہ ہے)۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "اگر تم دونوں نے اس (پیغمبرؐ) کے برخلاف اتّفاق کر لیا تو بھی تم کچھ نہ کر سکو گی۔ کیونکہ خدا اس کا مولا و یاور و مددگار ہے، اسی طرح جبرئیل، صالح مومنین اور ان کے علاوہ تمام فرشتے اس کے پشتیبان ہیں۔" (وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ)۔ یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس ماجرے نے پیغمبرؐ کے پاک دِل اور عظیم رُوح میں کسِ حد تک منفی اثر چھوڑا تھا، یہاں تک کہ خود خدا کو ان کا دفاع کرنا پڑا، نیز باوُجود اس کے کہ اس قدرت ہر لحاظ سے کافی ہے۔ جبرئیل، صالح المومنین اور دُوسرے فرشتوں کی حمایت کا بھی اعلان کر رہا ہے۔ قابل توجّہ بات یہ ہے کہ صحیح بخاری، میں ابن عباس سے نقل ہُوا ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: میں نے عمر بن خطاب سے پوچھا: پیغمبرؐ کی وہ بیویاں کون تھیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف کر لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا وہ حفصہ اور عائشہ تھیں۔ اس کے بعد مزید کہا: خدا کی قسم! ہم جاہلیّت کے زمانے میں عورتوں کے کسِی چیز کے قائل نہیں تھے۔ یہاں تک کہ خُدا نے ان کے بارے میں آیات نازل کر دیں اور ان کے لیے کچھ حقوق مقرر کر دیئے (اور وہ جسور ہو گئیں)۔ (بحوالہ: صحیح بخاری جلد ٢، صفحہ ١٩٥ (سورہ تحریم کے ذیل میں))۔ تفسیر 'دُر منثور' میں بھی اِبن عباس سے ایک مفصّل حدیث میں ہے کہ عمر بن خطّاب کہتے ہیں: "اس ماجرے کے بعد مجھے معلُوم ہُوا کہ پیغمبرؐ نے سب بیویوں سے کنارہ کشی کر لی ہے اور 'مُشربۂ امِ ابراہیم' نامی مقام پر ٹھہرے ہُوئے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہُوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں! میں نے عرض کیا: اللہ اکبر! ہم جمعیت قریش ہمیشہ اپنی بیویوں پر مُسلّط رہتے تھے، لیکن جب سے ہم مدینہ میں آئے ہیں تو ہم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کی عورتیں ان پر مُسلّط ہیں اور ہماری عورتوں نے بھی اُن سے یہ چیز سیکھ لی ہے۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ میری بیوی مُجھ سے جھگڑ رہی ہے تو میں نے اس عمل کو عجیب اور بُرا سمجھا۔ اس نے کہا کہ تجھے تعجّب کیوں ہو رہا ہے؟ خدا کی قسم! پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیویاں بھی اُن کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہیں۔ یہاں تک بعض اوقات ان سے زیادتی کرتی ہیں۔ تب میں نے اپنی بیٹی حفصہ کو نصیحت کی کہ وہ ایسا نہ کرے اور میں نے اس سے کہا کہ اگر تیری ہمسائی (مراد بی بی عائشہ ہے) ایسا کرے، تو بھی تُو ایسا نہ کرنا، کیونکہ اس کے حالات تجھ سے مختلف ہیں۔" (بحوالہ: درّ المنثور، جلد ٦، صفحہ ٢٤٣ (تلخیص کے ساتھ))۔ "صالح المومنین" کے بارے میں بھی ایک بحث ہے جو انشاء اللہ نکات کے بیان میں آئے گی۔ آخری زیر بحث آیت میں خدا تمام ازواجِ پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہُوئے تہدید آمیز لب و لہجہ میں فرماتا ہے: اگر وہ تمہیں طلاق دے دے تو اُمید ہے کہ پروردگار تمہاری جگہ اس کے لیے تم سے اچھی بیویاں قرار دے، ایسی بیویاں جو مُسلمان، مومن، متواضع، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، خدا کی اطاعت شعار، غیر باکرہ اور باکرہ عورتیں ہوں گی۔" (عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا)۔ اِس طرح انہیں خبردار کرتا ہے کہ تم یہ خیال نہ کرنا کہ پیغمبرؐ تمہیں ہرگز طلاق نہیں دے گا، اور یہ بھی تصوّر نہ کرنا کہ اگر وہ تمہیں طلاق دے دے تو تمہاری جگہ آنے والی بیویاں تم سے بہتر نہیں ہوں گی، لہٰذا تم سازش جھگڑے اور آزاد و ازیّت سے باز آ جاؤ ورنہ پیغمبرؐ کی زوجیت کے اعزاز و افتخار سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاؤ گی اور تم سے بہتر اور با فضیلت عورتیں تمہاری جگہ لے لیں گی۔

چند نکات ١: اچھی بیوی کے اوصاف

یہاں قرآن نے ایک اچھّی بیوی کے لیے چھ صفات بیان کی ہیں تاکہ وہ سب مسلمانوں کے لیے بیوی کا انتخاب کرتے وقت نمُونہ بن سکیں۔ پہلی صفت "اسلام" ہے اور اس کے بعد "ایمان" ہے۔ یعنی ایسا اعتقاد جو انسان کے دل کی گہرائیوں میں نفوذ کر جائے۔ اس کے بعد "قنوت" یعنی تواضع، انکساری اور شوہر کی اطاعت ہے۔ اس کے بعد "توبہ" یعنی اگر اس سے کوئی غلط کام سرزد ہو جائے تو وہ عُذر خواہی کرے اور اپنی غلطی پر اصرار نہ کرے۔ اس کے بعد خدا کی عبادت اور ایسی عبادت جو اس کے روح و جان کو سنوار دے، اور اسے پاک و پاکیزہ بنا دے، اس کے بعد فرمانِ خدا کی اطاعت اور ہر قسم کے گناہ سے پرہیز کا ذکر ہُوا ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ بہُت سے مفسّرین نے سائحات، جمع، سائح، کی تفسیر صائم (روزہ دار) کے معنٰی میں کی ہے۔ لیکن جیسا کہ راغب نے مفرادت میں کہا، روزہ دو قسم کا ہوتا ہے حقیقی روزہ جو کھانے پینے اور تعلّق جنسی کو ترک کرنے کے معنی میں ہے۔ دوسرا "حکمی روزہ" جس کا معنی بدن کے اعضاء و جوارح کو گناہوں سے بچانا ہے یہاں اس کا دوسرا معنی مُراد ہے۔ (راغب کا یہ قول مقام کی مناسبت کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے بہُت ہی عمدہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جاننا چاہیے کہ مفسّرین نے سائح کی تفسیر اس شخص کے لیے بھی کی ہے جو خدا کی اطاعت کی راہ میں سیر کرتا ہے)۔ (تشریحی نوٹ: "سائع"، 'سیاحت' کے مادہ سے اصل میں ان جہانگر و سیاحوں کو کہتے ہیں جو بغیر توشہ و زادِ راہ کے چل پڑتے اور لوگوں کی مدد سے زندگی بسر کرتے تھے۔ چونکہ روزہ دار اپنے آپ کو کھانے سے روکتا ہے یہاں تک کہ افطار کا وقت آ جائے، اس لحاظ سے یہ بات سیاحت کرنے والوں کے مشابہ ہے لہٰذا اس لفظ کا اطلاق صائم، یعنی روزہ دار پر ہوا ہے)۔ یہ بات بھی قابلِ توجّہ ہے کہ قرآن نے عورت کے باکرہ اور غیر باکرہ ہونے پر تکیہ نہیں کیا اور اس کو کوئی اہمیّت نہیں دی ہے۔ کیونکہ مذکورہ معنوی اوصاف کے مُقابلہ میں اس مسئلہ کی کچھ زیادہ اہمیّت نہیں ہے)۔

٢: صالح المؤمنین سے کون مراد ہے؟

اس میں شک نہیں کہ "صالح المومنین" ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو تمام صالح با تقوٰی اور کامل الایمان مومنین کو شامل ہے۔ اگرچہ صالح یہاں مُفرد ہے جمع نہیں ہے، لیکن چونکہ جنس کا معنی رکھتا ہے، اس لیے اس سے عمومیّت کے معنی کا استفادہ ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے صالح کو یہاں جمع سمجھا ہے کہ اس بات کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے کہ "صالحوا "، " کی واؤ اضافت کے وقت حذف ہو جاتی ہے، لہٰذا قرآن کے رسم الحظ میں بھی نہیں آئی۔ لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے)۔ لیکن اس بارے میں کہ یہاں اس کا اتم واکمل مصداق کون ہے؟ متعدّد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد امیر المومنین علیؑ ہیں۔ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے: لقد عرف رسول اللہ (ص) علیاً (ع) اصحابہ مرتین: اما مرة فحیث قال: "من کنت مولاہ فعلی مولاہ "واما الثانیة فحیث نزلت ھذہ الاٰ یة: "فان اللہ ھو مولاہ و جبریل و صالح المؤمنین۔.." اخذ رسول اللہ (ص) بید علی (ع) فقال: ایھا الناس ھٰذا صالح المؤمنین! "حضرت رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام علیؑ کا اپنے اصحاب سے دو مرتبہ (صراحت کے ساتھ) تعارُف کرایا۔ ایک مرتبہ تو اس وقت جبکہ آپ نے (غدیر خم میں) فرمایا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ: "جس جس کا میں مولا ہوں اُس اُس کا علیؑ مولا ہے؛ دوسری مرتبہ اس وقت جبکہ آیت ان اللہ ھو مولاہ۔.. نازل ہُوئی، تب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم نے امام علیؑ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے لوگوں! یہ صالح المومنین ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد١٠، صفحہ ٣١٦)۔ اس معنی کو بہُت سے علماء اہل سنّت نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، ان میں علّامہ ثعلبی علّامہ گنجی، ابو حیان اندلسی اور سبط ابن جوزی وغیرہ شامل ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے "احقاق الحق" جلد٣، صفحہ ٣١١ کی طرف رجوع کریں)۔ بہُت سے مفسّرین اور منجملہ ان کے 'سیوطی' نے دُر المنثور' میں، قرطبی نے اپنی مشہور تفسیر میں اور اسی طرح، 'آلوسی' نے رُوح المعانی میں اسی آیت کی تفسیر میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔ "روح البیان" کا مولّف اس روایت کو مجاہد سے نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: "اس حدیث کی تائید مشہُور حدیث منزلت سے ہوتی ہے کہ جس میں پیغمبرؑ نے امام علیؑ سے فرمایا: 'انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ': کیونکہ قرآن میں صالحین کا عنوان انبیاء کے لیے آیا ہے۔ منجملہ ان کے سُورۂ انبیاء کی آیت ٧٢ میں وکلّا جعلنا صالحین اور سورہ ٔ یُوسف کی آیت ١٠١ میں الحقنی بالصّالحین ہے۔ (پہلی آیت میں 'صالح' کا عنوان انبیاء کی ایک جماعت کے لیے اور دوسری میں حضرت یوسف کے لیے آیا ہے۔ اور جب علیؑ بمنزلۂ ہارونؑ ہوں تو آپ بھی صالح مصداق ہوں گے۔ (غور کیجیے)۔ خلاصہ یہ کہ اِس سلسلے میں بہت زیادہ احادیث ہیں، مفسّر معروف محدّت بحرانی، تفسیر برہان میں اس سلسلہ کی ایک روایت ذکر کرنے کے بعد محمد بن عباس (تشریحی نوٹ: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن عباس وہی عبد اللہ ہے جو ابن الحجام کے نام سے مشہور ہے اور کتاب مانزل من القرآن من اہل بیت علیہما السلام کا مُؤلّف ہے۔ اس کتاب کے متعلّق علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس کی مثل کوئی کتاب ابھی تک تالیف نہیں ہوئی۔ (جامع الرواة، جلد ٢، صفحہ ١٣٤)) سے نقل کرتا ہے کہ اس نے اس بارے میں ٥٢ احادیث شیعہ اور اہل سُنّت کے طرق سے جمع کی ہیں۔ اس کے بعد وہ خود ان میں سے چند ایک احادیث نقل کرتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ٤، صفحہ ٣٥٣ حدیث ٢ کے ذیل میں)۔

٣: پیغمبر کی اپنی بعض بیویوں سے ناراضی

طولِ تاریخ میں ایسے بہُت سے بزرگ گزرے ہیں جن کی بیویاں ان کے شایانِ شان نہیں تھیں اور ان میں ضروری اوصاف نہ ہونے کی وجہ سے اُنھیں تکلیف اُٹھانا پڑتی تھی۔ ان میں سے کچھ نمونے بزرگ انبیاء کے بارے میں قرآنِ مجید میں بیان ہُوئے ہیں:۔ اوپر والی آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پیغمبرؐ اسلام کی حالت بھی اپنی بعض بیویوں کی طرف سے ایسی ہی تھی۔ ان رقابتوں کی وجہ سے جو وہ ایک دوسری سے رکھتی تھیں، بعض اوقات وہ آنحضرتؐ کی روح پاک کو مجروح کرتی تھیں، کبھی وہ آپ پر اعتراض کرتی تھیں یا آپ کے راز کو فاش کر دیا کرتی تھیں، یہاں تک کہ خدا نے انہیں سرزنش کی اور اپنے پیغمبرؐ کا دفاع کرتے ہوئے اس سلسلے میں تاکیدی فرمان دیا اور انہیں طلاق تک کی تہدید بھی کی۔ جیسا کہ ہم نے معلوم کر لیا ہے کہ اوپر والی آیات میں مذکور واقعہ کے بعد آپ تقریباً ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے ناراض رہے کہ شاید وہ اپنی اصلاح کر لیں۔ اصولی طور پر آنحضرتؐ کی تاریخ ِزندگی اِس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پیغمبرؐ کی بعض بیویاں نہ صرف مقامِ نبوّة کی ضروری اور لازمی معرفت نہیں رکھتی تھیں، بلکہ بعض اوقات آپ پر ایک عام آدمی کی طرح اعتراض کیا کرتی تھیں، یہاں تک کہ خدا نخواستہ آپ کی توہین بھی کرتی تھیں۔ اِس بناء پر اوپر والی آیات کی صراحت کو دیکھتے ہوئے بھی یہ اصرار کرنا کہ سب شائستہ اور کامل تھیں، بےدلیل نظر آتا ہے۔ تاریخِ اسلام نے پیغمبرؐ کے بعد ان کی بیویوں کے بارے میں، خصوصاً داستانِ جنگ جمل نے، اِس بات کی نشاندہی کی ہے کہ یہ بات نہ صرف آنحضرتؐ کے زمانے میں تھی کہ بلکہ آپ کے بعد آپ کے جانشینوں کے بارے میں بھی دُہرائی گئی ہے۔ لیکن یہاں ان تمام مسائل کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اصولی طور پر یہ اوپر والی آیات کی تعبیر جو یہ کہتی ہے: "اگر پیغمبرؐ تمہیں طلاق دے دے تو خدا اُسے تم سے بہتر بیویاں دے گا جو آیات میں مذکُور چھ صفات کی حامل ہوں گی، اس واقعیّت و حقیقت کو بیان کر رہی ہے کہ کم از کم آنحضرتؐ کی بعض بیویاں ان اوصاف کی حامل نہیں تھیں۔ پیغمبرؐ کی بیویوں کے بارے میں سورۂ احزاب کی آیات کی طرف رجوع کرنے سے بھی اوپر والے نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔

٤: افشائے راز

راز داری نہ صرف حقیقی مومنین کے صفات میں سے ہے بلکہ ہر بات ہر بار ہر با حیثیت انسان کو راز دار ہونا چاہیے، پھر یہ بات قریبی دوستوں اور زوجہ و شوہر میں بہُت زیادہ اہمیّت رکھتی ہے۔ اوپر والی آیات میں ہم نے دیکھ لیا ہے،کہ پیغمبرؐ کی بعض بیویوں کی راز داری ترک کرنے کی بناء پر خدا نے کیسی شدّت کے ساتھ ملامت اور سرزنش کی ہے۔ امام علیؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں: "جمع خیر الدنیا والٰاخرة فی کمتان السرو مصادقة الاخیار، و جمع الشرفی الاذاعة و مواخاة الاشرار: "دنیا اور آخرت کی تمام خیر و خوبی ان دو چیزوں میں چھپی ہُوئی ہے: راز کو پوشیدہ رکھنا اور نیک افراد سے دوستی، اور تمام شران دو چیزوں میں چھُپا ہُوا ہے: رازوں کا افشاء کرنا اور اشرار سے دوستی رکھنا۔

٥: حلال خدا کو اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہیے

وہ امور جو خدا کی طرف سے حلال یا حرام کر دیئے گئے ہیں وہ سب مصلحتوں کی بناء پر ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ انسان کسِی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام یا کسِی حرام چیز کو اپنے اوپر حلال کرے، یہاں تک کہ اگر اس سلسلے میں قسم بھی کھا لے، جیسا کہ اوپر والی آیات میں آیا ہے تو اس قسم کو توڑ سکتا ہے۔ ہاں! اگر کوئی ایسا مباح فعل جس کے ترک کی قسم کھائی ہے، کوئی مکروہ فعل ہو یا کسِی جہت سے اس کا ترک کرنا اولیٰ اور بہتر ہو تو اس صورت میں اُسے قسم کی پابندی کرنا چاہیے۔

6
66:6
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِيكُمۡ نَارٗا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلَـٰٓئِكَةٌ غِلَاظٞ شِدَادٞ لَّا يَعۡصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُونَ مَا يُؤۡمَرُونَ
اے ایمان لانے والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس (جہنم کی) آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔اس آگ پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بہت ہی سخت گیر اور تندو تیز ہیں۔ وہ کبھی بھی اللہ کی مخالفت نہیں کرتے اور اس کے احکام و فرامین پور ی پوری تعمیل کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
66:7
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَعۡتَذِرُواْ ٱلۡيَوۡمَۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اے کافرو! آج عذر خواہی نہ کرو، کیونکہ تمہیں تو صرف تمہارے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
66:8
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيُدۡخِلَكُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ يَوۡمَ لَا يُخۡزِي ٱللَّهُ ٱلنَّبِيَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥۖ نُورُهُمۡ يَسۡعَىٰ بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتۡمِمۡ لَنَا نُورَنَا وَٱغۡفِرۡ لَنَآۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
اے ایمان لانے والو! توبہ کرو۔ اللہ کے حضور خالص توبہ، امید ہے کہ تمہارا پروردگار اس کی وجہ سے تمہارے گناہ بخش دے گا، اور تمہیں جنت کے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں۔ اللہ اس دن پیغمبر کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو ذلیل و خوار نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب چل رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے، پروردگار ! ہمارے نور کو کامل کر دے اور ہمیں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

خدا پیغمبرؐ کی بعض بیویوں کو خبردار کرنے اور انہیں سرزنش کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں رُوئے سُخن تمام مومنین کی طرف کرتے ہُوئے بیوی، اولاد اور گھر والوں کی تعلیم و تربیّت کے بارے میں کچھ احکام دیتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ کہ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔" (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَکُمْ وَ أَہْلیکُمْ ناراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَ الْحِجارَةُ)۔ خود کو بچانا تو گناہوں کو ترک کرنے اور سرکش خواہشات کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرنے کے ساتھ ہے، اور گھر والوں کو بچانا تعلیم و تربیّت اور امر بالمعروف و نہی از منکر کرنا نیز گھر اور گھرانے کی فضا میں ایک پاک اور ہر قسم کی آلودگی سے مبّرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ یہ وہ طریقۂ کار ہے جو گھرانے کے سنگِ بنیاد، یعنی ازدواج کے مقدّمات سے اور اس کے بعد بچّے کی پیدائش کے پہلے لمحہ سے شرُوع ہونا چاہیے۔ ان تمام مراحل میں صحیح لائحہ عمل ترتیب دے کر پُورے انہماک سے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ دُوسرے لفظوں میں بیوی اور اولاد کا حق صرف ان کی ضروریاتِ زندگی، مکان اور کھانے پینے کی چیزوں کے فراہم کرنے سے پورا نہیں ہو جاتا۔ ان سے زیادہ اہم ان کی رُوح اور جان کی غذا کا مُہیّا کرنا اور صحیح اصولِ تعلیم و تربیّت کو عمل میں لانا ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ "قوا" (بچاؤ) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تم انہیں خود ان کی اپنی حالت پر چھوڑ دو گے تو وہ خواہ نخواہ جہنّم کی آگ کی طرف بڑھیں گے، صرف تمہیں ان کو جہنّم کی آگ میں گرنے سے بچا سکتے ہو۔ "وقود" (بر وزن کبود) جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں، آتشگیر یعنی ایسے مادہ کے معنی میں ہے، جو آگ پکڑنے کے قابل ہو۔ مثلاً ایندھن (آگ لگانے والے مثلاً دیا سلائی کے معنی میں نہیں ہے) کیونکہ عرب اُسے "زناد" (چقماق) کہتے ہیں۔ اِس لحاظ سے جہنّم کی آگ دنیاوی آگ کی مانند نہیں ہے۔ اس کے شعلے خود انسان کے وجُود کے ذریعے سے ہی بلند ہوتے ہیں، (اور پتھروں کے اندر سے بھی) نہ صرف گندھگ کے پتّھر سے جس کی طرف بعض مفسرین نے اشارہ کیا ہے، بلکہ ہر قسم کے پتھر سے، کیونکہ آیت کا لفظ مطلق ہے۔ موجودہ زمانے میں ہم جانتے ہیں کہ پتھر کا ہر ٹکڑا ایٹم کے اربوں ذرّات سے مُرکّب ہے اور اگر ان کے اندر موجود ذخیرہ آزاد ہو جائے تو ایسی آگ پیدا کر دے کہ انسان دنگ رہ جائے۔ بعض مفسّرین نے یہاں "حجارة" کی تفسیر بتوں کے ساتھ کی ہے جو پتھر سے بنائے جائے تھے اور مشرکین انہیں پوجا کرتے تھے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: اِس آگ پر ایسے فرشتے مقرر کیے گئے ہیں جو بہُت ہی سخت اور تند و تیز ہیں۔ وہ ہرگز خُدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔ وہ انہیں جو بھی حکم دیتا ہے، اس کی بے چوں و چرا تعمیل کرتے ہیں۔" (عَلَیْہا مَلائِکَة غِلاظ شِداد لا یَعْصُونَ اللَّہَ ما أَمَرَھُمْ وَ یَفْعَلُونَ ما یُؤْمَرُون)۔ اِس طرح نہ تو بھاگنے کی ہی کوئی راہ ہے اور نہ ہی گریہ و زاری، التماس و التجا اور جزع و فزع ہی موثر ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ہر مامور جس بھی کام پر مقرّر ہوتا ہے وہ اس کے لحاظ سے مُناسب جذبات رکھتا ہے۔ لہٰذا عذاب، پر مامور افراد کو طبعی طور پر سخت اور تند و تیز ہونا چاہیے۔کیونکہ جہنّم رحمت کا مرکز نہیں ہے بلکہ خدا کے غیظ و غضب کا مرکز ہے لیکن اس کے باوجود وہ مامورین ہرگز عدالت کی سرحد سے خارج نہیں ہوں گے اور حکمِ خدا کو بے کم و کاست جاری کریں گے۔ یہاں مفسّرین کی ایک جماعت نے ایک سوال پیش کیا ہے کہ اوپر والی آیت میں عدم عصیاں کی تعبیر قیامت میں عدم وجود تکلیف کے مسئلہ کے ساتھ کسِ طرح سازگار ہے؟ لیکن اس بات پر توجّہ رکھنی چاہیے کہ فرشتوں کی اطاعت اور ترکِ عصیاں ایک قسم کی تکوینی اطاعت ہے نہ کہ تشریعی اور اطاعتِ تکوینی موجود رہتی ہے۔ دُوسرے لفظوں میں وہ اس طرح بنائے گئے ہیں کہ خدائی فرامین کا انتہائی میل و رغبت اور خاص لگاؤ کے ساتھ عین اختیار کے اجراء کرتے ہیں۔ بعد والی آیت میں کُفّار کو مخاطب کر کے اس دن کی وضع و کیفیت بیان کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "اے کافروں آج عُذر و معذرت نہ کرو، کیونکہ تمہیں تو صرف تمہارے اعمال ہی کی جزا دی جائے گی۔" (یا أَیُّہَا الَّذینَ کَفَرُوا لاتَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ اِنَّما تُجْزَوْنَ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُون)۔ اِس آیت کا گزشتہ آیت کے بعد قرار پانا کہ جس میں مخاطب مومنین تھے، اس واقعیّت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تم اپنی بیوی اولاد اور گھر والوں کی حالت کا خیال نہ رکھو گے تو ممکن ہے تمہارا مُعاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ قیامت کے دن اس خطاب سے مُخاطب کیے جاؤ۔ انَّما تُجْزَوْنَ ما کُنْتُمْ تَعْمَلُون کی تعبیر دوبارہ اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ قیامت میں گنہگاروں کی جزاء خود انہیں کے اعمال ہیں جو ان کے سامنے ظاہر ہوں گے اور ان کے ساتھ ہوں گے۔گزشتہ آیت کی تعبیر کہ جہنم کی آگ خود انسان کے اندر سے شعلہ زن ہو گی وہ اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجّہ ہے کہ وہاں عذر و معذرت کا قبول نہ ہونا اس بناء پر ہے کہ عذر خواہی ایک قسم کی توبہ ہے اور توبہ صرف اس جہان میں ہی امکان پذیر ہے، نہ کہ دوسرے جہاں میں اور نہ ہی جہنّم میں ورُود کے بعد توبہ کی کوئی گنجائش ہے۔ بعد والی آیت حقیقت میں جہنّم کی آگ سے نجات کا راستہ بتاتی ہے، ارشاد ہوتا ہے: "اے ایمان لانے والو! اللہ کی طرف لوٹ آؤ اور توبہ کر لو، خالص توبہ (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللَّہِ تَوْبَةً نَصُوحاً)۔ ہاں! نجات کے لیے پہلا قدم گناہ سے توبہ ہے، ایسی توبہ جو ہر لحاظ سے خالص ہو، ایسی توبہ جس کا مُحرّک حکم خدا اور خوفِ گناہ ہو، نہ کہ گناہ کے اجتماعی اور دنیاوی آثار سے وحشت! ایسی توبہ جو انسان کو ہمیشہ کے لیے معصیّت اور نافرمانی سے دور کر دے اور پھر اس میں گناہ کی طرف بازگشت رونما نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ توبہ کی حقیقت وہی گناہ ہے ندامت و ٍپشیمانی ہے۔ اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لے، اگر وہ کوئی ایسا کام تھا جس کی تلافی ہو سکتی ہے تو اس کی تلافی کی کوشش کرے۔ استغفار کرنا بھی اسی معنی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اس طرح سے توبہ کے ارکان کا پانچ باتوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: ١: ترکِ گناہ ٢:ندامت ٣: آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ ٤: گزشتہ گناہوں کی تلافی ٥: استغفار 'نصوح' ، 'نصح' (بر وزن صلح) کے مادّہ سے اصل میں خالص خیر خواہی کے معنی میں ہے۔ اسی لیے خالص شہد کو ناصح کہا جاتا ہے۔ چونکہ حقیقی و واقعی خیر خواہی کو مضبوطی کے ساتھ توأم ہونا چاہیئے۔ لہذا نصح کا لفظ بعض اوقات اس معنی کے لیے بھی آتا ہے۔ اسی بناء پر محکم عمارت کو نصاح (بر وزن کتاب) اور دوزی کو 'ناصح' کہا جاتا ہے۔ اِس طرح یہ دونوں معنی یعنی 'خالص ہونا' اور 'محکم ہونا' ، 'توبہ' ، 'نصوح' میں جمع ہونے چاہئیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض کا خیال یہ ہے کہ "نصوح" ایک خاص شخص کا نام ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے ایک مفصّل داستان توبۂ نصوح کے عنوان سے نقل کی ہے لیکن اس بات کی طرف توجّہ رکھنی چاہیئے کہ نصُوح کسِی کا نام نہیں ہے بلکہ ایک وضعی معنی ہے، اگرچہ ممکن ہے کہ یہ مشہور واقعہ صحیح ہو)۔ اس بارے میں کہ توبۂ نصُوح کیا ہوتی ہے، مفسّرین نے بہت زیادہ تفاسیر بیان کی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض نے ان تفاسیر کی تعداد ٢٣ بتائی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ١٠، صفحہ ٦٧٦٦) لیکن وہ سب تفاسیر ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتی ہیں یا وہ توبہ کی مختلف قسمیں اور مختلف اوصاف و صفات ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے 'توبۂ نصوح' وہ ہوتی ہے جس میں چار اوصاف و شرائط ہوں۔ ١: قلبی پشیمانی ٢: زبانی استغفار ٣: ترکِ گناہ ٤: آئندہ کے لیے ترک گناہ کا پختہ ارادہ بعض نے کہا ہے کہ توبۂ نصُوح وہ ہوتی ہے جس میں تین اوصاف و شرائط ہوں: ١: اس بات کا خوف کہ شاید قبول نہ ہو۔ ٢: اس بات کی اُمید کہ قبول ہو جائے گی۔ ٣: خدا کی اطاعت پر قائم رہنا۔ یا توبۂ نصُوح یہ ہے کہ اپنے گناہ کو ہمیشہ اپنی نظر کے سامنے رکھے اور اِس سے شرمندہ ہوتا رہے۔ یا توبۂ نصُوح یہ ہے کہ جو چیزیں ظلم کے ساتھ لی ہیں وہ ان کے مالکوں کو واپس کر دے، مظلوموں سے حلیت طلب کرے اور خدا کی اطاعت کا پابند رہے۔ یا توبۂ نصوح وہ ہوتی ہے جس میں یہ تین شرطیں ہوں: ١: کم بولنا۔ ٢: کم کھانا۔ ٣: کم سونا۔ یا توبۂ نصوح وہ ہوتی ہے جو رونے والی آنکھ اور گناہ سے بیزار دل سے توائم ہو۔.. اور دیگر اسی قسم کے امُور جو سب ایک ہی واقعیّت کے شاخ و برگ ہیں اور یہ خاص و کامل توبہ ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ جب 'معاذ بن جبل' نے توبۂ نصُوح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: "ان یتوب التائب ثم لا یرجع فی ذنب کما لایعود اللبن الی الضرع۔" "توبہ نصُوح" یہ ہے کہ توبہ کرنے والا شخص پھر کسِی طرح بھی گناہ کی طرف نہ لوٹے، جیسا کہ دُودھ کبھی پستان کی طرف نہیں لوٹتا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣١٨)۔ یہ لطفِ تعبیر اس واقعیت کو بیان کرتی ہے کہ توبۂ نصُوح انسان میں اس طرح سے انقلاب برپا کر دیتی ہے کہ اس پر پہلی حالت کی طرف بازگشت کی راہ کلی طور پر بند کر دیتی ہے۔ جیسا کہ دودھ کی پستان کی طرف بازگشت قطعی طور پر ناممکن ہوتی ہے۔ یہ مطلب جو دوسری روایات میں بھی آیا ہے، حقیقت میں توبہ نصوع کے اعلیٰ ترین درجہ کو بیان کرتا ہے، ورنہ نچلے مراحل میں تو یہ ممکن ہے کہ گناہ کی طرف بازگشت ہو جائے اور توبہ کی تکرار کے بعد انجام کار دائمی ترک پر جا منتی ہو۔ اس کے بعد توبہ نصوح کے آثار کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "امید ہے کہ اس کام کی وجہ سے تمہارا پروردگار تمہارے گناہوں کو بخش دے اور ان کی پردہ پوشی کرے۔" (عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ)۔ "اور تمہیں اس جنّت کے باغات میں داخل کرے جِن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں۔" (وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ)۔ "یہ کلام اس دن ہو گا جس دن خدا پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ذلیل و خوار نہیں کرے گا۔" (يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ)۔ "یہ اس حال میں ہو گا کہ ان کا (ایمان اور عمل صالح کا ) نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب چل رہا ہو گا، وہ عرصۂ محشر کو روشن کر دے گا اور بہشت کی طرف ان کی راہ کھول دے گا۔" (نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ)۔ یہ وہ منزل ہے کہ جہاں وہ خدا کی بارگاہ کی طرف رُخ کر کے کہیں گے: "پروردگارا! ہمارے نور کو مکمل کر دے اور ہمیں بخش دے کیونکہ تو ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔" (يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)۔ حقیقت میں اس توبۂ نصُوح کے پانچ عظیم ثمر ہیں۔ پہلا: سیئات اور گناہوں کی بخشش۔ دوسرا : خدا کی نعمتوں والی جنت میں داخلہ۔ تیسرا : اس دن رُسوائی اور ذلّت کا نہ ہونا جس دن سب پردے ہٹ جائیں گے اور جھوٹے تباہ و رُسوا اور ذلیل ہو جائیں گے۔ ہاں! اس دن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مومنین آبُرومند ہوں گے۔ کیونکہ جو کچھ اُنہوں نے کہا تھا، وہ حقیقت بن جائے گا۔ چوتھا: اُن کے ایمان اور عمل کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب چلے گا اور جنّت کی طرف ان کی راہ کو روشن کر دے گا۔ (بعض مفسّرین نے اس نور کو جو ان کے آگے آگے پہلے چلے گا عمل کا نُور سمجھا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم ایک دوسری تفسیر بھی تفسیر نمُونہ کی جلد ٢٢ میں سورہ حدید کی آ یت ١٢ کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں)۔ پانچواں: ان کی توجّہ خدا کی طرف زیادہ ہو جائے گی۔ لہٰذا وہ بارگاہِ خدا کی طرف رُخ کر کے اس سے نور کی تکمیل اور اپنے گناہوں کی مکّمل بخشش کا تقاضا کریں گے۔

چند نکات ١: اھل خانہ کی تعلیم و تربیت

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حُکم ایک عام حکم ہے جو تمام مُسلمان ایک دُوسرے کے لیے رکھتے ہیں لیکن اوپر والی آیات اور ان روایات سے جو اسلامی مصادر میں اولاد وغیرہ کے حقوق کے بارے میں وارد ہُوئی ہیں، اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ انسان اپنی بیوی اور اولاد کے لیے بہت ہی بھاری ذمّہ داری رکھتا ہے۔ اس کی ذمّہ داری یہ ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے ان کی تعلیم و تربیّت میں کوشش کرے، انہیں گناہ سے باز رکھے اور نیکیوں کی طرف دعوت دے، نہ یہ کہ صرف ان کے جسم کے لیے غذا وغیرہ مہیّا کرنے پر قناعت کرے۔ حقیقت میں ایک عظیم مُعاشرہ چھوٹی چھوٹی اکائیوں سے مل کر بنتا ہے، جس کا نام خاندان (گھرانا)ہے۔ جب ان چھوٹی چھوٹی اکائیوں کی اصلاح ہو جائے، جن کی دیکھ بھال آسان ہے، تو پھر سارے معاشرے کی اصلاح ہو جاتی ہے اور یہ ذمہ داری پہلے درجہ میں ماں باپ کے کاندھوں پر ہے۔ خصوصاً ہمارے زمانہ میں جب کہ فساد کی تباہ کرنے والی موجیں گھروں کے باہر بہت ہی قوی اور خطرناک ہیں، انہیں بے اثر کرنے کے لیے گھرانے کی تعلیم و تربیّت کا زیادہ بنیادی اور زیادہ دقیق لائحۂ عمل مُرتّب کیا جانا چاہیے۔ نہ صرف قیامت کی آگ بلکہ دنیا کی آگ کا سرچشمہ بھی انسانوں کے وجُود کے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ پس ہر شخص کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے گھرانے کو اس آگ سے محفوظ رکھے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہُوئی تو اصحاب پیغمبرؐ میں سے ایک نے آپ سے سوال کیا: "ہم اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے کسِی طرح محفوظ رکھیں"؟ آنحضرتؐ نے فرمایا: "تأمرھم بما امراللہ، و تنھاھم عما نھاھم اللہ ان اطاعوک کنت قد و قیتھم، و ان عصوک کنت قد قضیت ما علیک۔" "انہیں امر بالمعروف اور نہی عن منکر کر، اگر تجھ سے انہوں نے قبول کر لیا تو پھر تو نے انہیں جہنّم کی آگ سے بچا لیا، اگر انہوں نے قبول نہ کیا تو تُو نے اپنا وظیفہ اور ذمّہ داری پوری کر دی۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٣٧٢)۔ ایک اور جامع اور عمدہ حدیث میں رسُولِ خداؐ سے آیا ہے: "الا کلکم راع، و کلکم مسئول عن رعیتہ، فالامیر علی الناس راع، و ھو مسئول عن رعیتہ، و الرجل راع علی اھل بیتہ و ھو مسئول عنھم فالمرئة راعیة علی اھل بیت بعلھا وولدہ و ھی مسئولة عنھُم، الا فکلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ۔" "یاد رکھو کہ تم سب کے سب نگہبان ہو، اور تم سب ہی جوابدِہ ہو ان لوگوں کے لیے جن کی نگہبانی پر تم مامور ہو۔ حکومت اسلامی کا رئیس و امیر تمام لوگوں کا نگہبان ہے۔ لہٰذا وہ ان سب کے لیے جوابدِہ ہے اور عورت بھی اپنے شوہر کے گھرانے اور اولاد کی نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جوابدِہ ہے۔جان لو کہ تم سب ہی نگہبان ہو، اور تم سب ہی جوابدِہ ہو، ان لوگوں کے لیے جن کی نگہبانی پر تم مامور ہو۔ (بحوالہ: "مجموعہ ورام" جلد اول، صفحہ ٦)۔ ہم اس وسیع بحث کو امیر المؤمنین علیؑ کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں، امامؑ نے اوپر والی آیت کی تفسیر میں فرمایا: "علموا انفسکم و اھلیکم الخیر و ادبوھم۔" اس سے مُراد یہ ہے کہ تم خود کو اور اپنے گھر والوں کو نیکی کی تعلیم دو، اور انہیں آداب سکھاؤ۔ (بحوالہ: دُر المنثور، جلد ٦، صفحہ ٢٤٤)۔

٢: توبہ رحمتِ خدا کا ایک دروازہ ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان سے، خصوصاً تربیّت اور سیر و سلوک الی اللہ کی ابتداء میں، بہت سی لغزشیں ہو جاتی ہیں۔ اب اگر اس کے سامنے توبہ اور بازگشت کے دروازے بند کر دیئے جائیں تو وہ مایوس ہو جائے گا اور ہمیشہ کے لیے سیدھے راستے سے بھٹک جائے گا اس لیے اسلام کے مکتبِ تربیّتی میں توبہ کو ایک تربیّتی اصل کے عنوان کے طور پر حد سے زیادہ اہمیّت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور وہ تمام گنہگاروں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنی اصلاح اور گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کے لیے اس دروازے سے وارد ہوں۔ امام علیؑ بن الحسینؑ بارگاہِ خداوندی میں تائبین کی مناجات میں اِس طرح سے عرض کرتے ہیں: "الھٰی انت الذی فتحت لعبادک باباً الیٰ عفوک سمیتہ التوبة، فقلت توبو الی اللہ توبة نصوحاً، فما عذر من اغفل دخول الباب بعد فتحہ۔" "اے میرے اللہ تو ہی تو ہے کہ جس نے اپنی عفو و بخشش کی طرف اپنے بندوں کے سامنے ایک دروازہ کھولا ہے کہ جس کا نام تو نے توبہ رکھا ہے۔ تو نے فرمایا ہے کہ خدا کی طرف لوٹو، اور توبہ کر لو، خالص توبہ، اب ان لوگوں کا عذر کیا ہے جو ان دروازہ کے کُھلنے کے بعد اس دروازے سے داخل ہونے سے غافل ہو جائیں۔ (بحوالہ: پندرہ مناجاتوں میں سے پہلی مناجات، بحار الانوار، جلد٩٤، صفحہ ١٤٢)۔ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے: "ان اللہ تعالیٰ اشد فرحاً بتوبة عبدہ من رجل اضل راحلتہ و زادہ فی لیلة ظلماء، فوجدھا۔" "خداوند تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ وہ شخص خوش ہوتا ہے جس نے ایک رات میں اپنی سواری اور زادِ راہ گُم کر دیا ہو، اور پھر اسے پا لیا ہو۔ (بحوالہ: اُصول کافی، جلد ٢، باب التوبہ، حدیث ٨)۔ عظمت اور بزرگواری رکھنے والی یہ سب تعبیریں زندگی کے اس اہم امر کی حیاتی تشویق کے لیے ہیں۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیئے کہ توبہ صرف لقلقۂ لسّانی اور زبان سے استغفر اللہ کہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ شرائط اور ارکان ہیں کہ جن کی طرف اوپر والی آیات میں توبۂ نصُوح کی تفسیر میں اشارہ ہُوا ہے۔ جب توبہ ان شرائط کے ساتھ انجام پاتی ہے تو وہ اس طرح اثر کرتی ہے۔کہ وہ انسان کی رُوح اور جان سے گناہ اور آثار گناہ کو کلّی طور پر محو کر دیتی ہے، اسی لیے ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے: "التائب من الذنب کمن لاذنب لہ، والمقیم علی الذنب و ھو مستغفر منہ کالمستھزء۔" "جو شخص گناہ سے توبہ کر لے وہ اس شخص کی مانند ہے جِس نے بالکل کوئی گناہ نہیں کیا، جو شخص اپنے گناہ پر برقرار رہے اور استغفار بھی کرتا رہے، تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو مذاق اُڑتا اور تمسخر کرتا ہو۔ (بحوالہ: اُصول کافی، جلد ٢، باب التوبہ، حدیث ١٠)۔ ہم توبہ کے بارے میں دُوسرے تفصیلی مباحث (دوسری جلد میں) سورۃ نساء کی آیت ١٧ کے ذیل میں اور (جلد ١١ میں) سورۃ زمر کی آیت ٥٣ کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں۔

9
66:9
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اے پیغمبر ! کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
66:10
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱمۡرَأَتَ نُوحٖ وَٱمۡرَأَتَ لُوطٖۖ كَانَتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَٰلِحَيۡنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗا وَقِيلَ ٱدۡخُلَا ٱلنَّارَ مَعَ ٱلدَّـٰخِلِينَ
اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے ایک مثال دی ہے۔ نوح کی بیوی کی مثال اور لوط کی بیوی کی مثال۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کے ماتحت تھیں۔ لیکن ان دونوں سے انہوں نے خیانت کی، اور ان دونوں (پیغمبروں ) کے ساتھ ان کا تعلق (عذاب الٰہی کے مقابلہ میں )انہیں کوئی نفع نہ دے سکا اور ان سے کہا گیا کہ تم بھی آگ میں داخل ہونے والے دوسرے لوگوں کے ساتھ ، آگ میں داخل ہو جاو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
66:11
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱمۡرَأَتَ فِرۡعَوۡنَ إِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ٱبۡنِ لِي عِندَكَ بَيۡتٗا فِي ٱلۡجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور اللہ نے مومنین کے لئے بھی ایک مثال بیان کی ہے وہ فرعون کی بیوی کی مثال ہے، جب اس نے کہا پروردگار! میرے لئے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے رہائی بخش دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
66:12
وَمَرۡيَمَ ٱبۡنَتَ عِمۡرَٰنَ ٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمَٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِۦ وَكَانَتۡ مِنَ ٱلۡقَٰنِتِينَ
اور اسی طرح سے مریم بنت عمران کی مثال بیان کی ہے جس نے اپنے دامن کو پاک رکھا اور ہم نے اپنی روح میں سے اس میں پھونکا، اس نے پروردگار کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اللہ کے حکم کی اطاعت کرنے والوں میں سے تھی۔

تفسیر مؤمن اور کافر عورتوں کے نمونے

Tafsīr Nemūna · Vol. 10

چونکہ منافقین پیغمبرؐ کے گھر کے اندر کے رازوں کے فاش ہونے اور آپ کی بیویوں کے درمیان جھگڑے اور اختلافات کے ظاہر ہونے پر جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا تھا، خوش تھے بلکہ انہیں اور ہوا دیتے تھے، شاید اسی مناسبت سے پہلی زیر بحث آیت میں ان کے بارے میں شدّتِ عمل کا حکم دیتے ہُوئے فرماتا ہے: "اے پیغمبرؐ کفّار اور منافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو، ان کا ٹھکانہ جہنّم ہے اور وہ بُرا ٹھکانہ ہے "(یا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنافِقینَ وَ اغْلُظْ عَلَیْہِمْ وَ مَأْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمَصیرُ)۔ یہ جہاد کفّار کے مُقابلے میں تو ممکن ہے کہ مسلّح یا غیر مسلّح ہو، لیکن منافقین کے مقابلہ میں شک نہیں کہ یہ مسلح جہاد نہیں ہے۔ کیونکہ کسِی بھی تاریخ میں یہ نقل ہوا ہے کہ پیغمبرؐ نے منافقین کے ساتھ مسلّح جنگ کی ہو۔ لہٰذا ایک حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "ان رسول اللہ لم یقاتل منافقاً قط انما کان یتألفھم۔" "رسولِ خداؐ نے ہرگز کسِی منافق سے جنگ نہیں کی، بلکہ آپ ہمیشہ ان کی تالیفِ قلوب کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔" اس بناء پر ان کے ساتھ جہاد کرنے نئے مُراد وہی، سرزنش، انداز، ڈرانا اور انہیں رُسوا کرنا ہے، یا بعض موارد میں ان کی تالیفِ قلوب کرنا ہے، کیونکہ جہاد ایک وسیع و عریض معنی رکھتا ہے۔ اور ہر قسم کی جدّ و جہد اور سعی و کوشش کو شامل ہے "وَ اغْلُظْ عَلَیْہِمْ" (ان پر سختی اور خشونت کرو) کی تعبیر بھی گفتگو میں سختی اور افشاگری تہدید، دھمکی اور اس قسم کی چیزوں میں سختی کی طرف اشارہ ہے۔ منافقین کے ساتھ یہ مخصوص وضع و کیفیّت اِس بناء پر تھی کہ وہ ظاہراً اسلام کا دم بھرتے اور مسلمانوں کے ساتھ مکمّل طور پر آمیزش رکھتے تھے، لہٰذا یہ ممکِن نہیں تھا کہ ان کے ساتھ ایک کافر جیسا سلوک کیا جائے۔ البتّہ یہ اس صورت میں تھا کہ وہ ہتھیاروں کی طرف ہاتھ نہ بڑھائیں، اگر وہ یہ کام کرتے تو یقیناً ان کے ساتھ مقابلہ بالمثل ہوتا، کیونکہ اس صورت میں وہ "محارب" کا عنوان اپنے لیے لے لیتے۔ اگرچہ یہ مسئلہ پیغمبر کے زمانہ میں واقع نہیں ہُوا، لیکن آنحضرتؐ کے بعد خصوصاً امیر المومنینؑ کے زمانہ میں رُونما ہوا اور آپ مسلّح جنگ کے لیے کھڑے ہُوتے۔ بعض نے کہا ہے کہ اوپر والی آیت میں "منافقین سے جہاد" کرنے سے مُراد ان کے بارے میں حُدود شرعی کا اجراء ہے، کیونکہ وہ لوگ جن پر حد جاری ہُوئی اکثر منافقین تھے۔ لیکن اس تفسیر اور اس دعوے کے لیے کہ اس زمانہ میں زیادہ تر حدُود شرعی ان ہی لوگوں پر جاری ہُوئی ہیں، ہمارے پاس کوئی دلیل موجُود نہیں ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت بعینہ اور بغیر کسی کمی و زیادتی کے سورۂ توبہ آیت ٧٣ میں بھی آئی ہے۔ اِس کے بعد دوبارہ پیغمبرؐ کی بیویوں کے ماجرے کی طرف لوٹتا ہے۔ اِس بناء پر کہ انہیں عملی اور زندہ سبق دے، دو بےتقویٰ عورتوں کی سرنوشت جو دو بزرگ پیغمبروں کے گھر میں تھیں، اور دو مومن و ایثار گر خواتین کی سرنوشت بیان کرتا ہے جن میں سے ایک تاریخ کے جابر ترین شخص کے گھر میں تھی۔ پہلے فرماتا ہے: "خدا نے کافروں کے لیے ایک مثال بیان کی ہے۔ نوحؑ کی بیوی کی مثال اور لوطؑ کی بیوی کی مثال۔" (ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً لِلَّذینَ کَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَ امْرَأَتَ لُوط)۔ (تشریحی نوٹ: ضرب کے یہاں دو مفعُول ہیں۔ "امرأة نوح" مفعُول اوّل ہے جو مُؤخّر ہو گیا ہے اور مثلاً دوسرا مفعول ہے یہ احتمال دیا گیا ہے کہ "ضرب" کا ایک ہی مفعول ہو اور وہ مثلاً ہے اور 'امرأة' 'نوح' اس کا بدل ہے (البیان فی غریب اعراب القرآن، جلد ٢، صفحہ ٤٤٩))۔ "وہ دونوں ہمارے دو صالح بندوں کے ماتحت تھیں لیکن انہوں نے اُن سے خیانت کی۔" (كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا)۔ "لیکن ان دو عظیم پیغمبروں میں سے ان کے ارتباط نے عذابِ الہٰی کے مقابلہ میں انہیں کوئی نفع نہیں دیا اُن سے کہا گیا کہ تم بھی آگ میں داخل ہونے والے لوگوں کے ساتھ آگ میں داخل ہو جاؤ۔" (فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ)۔ اِس طرح سے پیغمبرؐ اسلام کی ان دو بیویوں کو جنہوں نے افشاءِ راز کیا اور آنحضرتؑ کو تکلیف و آزار پہنچایا تھا خبردار کرتا ہے کہ وہ یہ گمان نہ کر بیٹھیں کہ صرف پیغمبر کی بیوی ہونا انہیں عذاب سے پچا لے گا، جس طرح نوحؑ اور لوطؑ کی بیوی کا رابط خیانت کی وجہ سے خاندانِ نبوت و وحی سے منقطع ہو گیا اور وہ دونوں عذاب الہٰی میں گرفتار ہو گئیں۔ ضمنی طور پر یہ تمام طبقات کے مومنین کو ایک تنبیہ ہے کہ وہ گناہ و عصیان کی صُورت میں اولیاء اللہ کے ساتھ اپنے رشتوں اور تعلقات کو عذابِ الہٰی سے مانع نہ سمجھ بیٹھیں۔ مفسّرین کے بعض کلمات میں آیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا نام "والھة" اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا نام "والعة" تھا۔ (بحوالہ: قرطبی، جلد، ١٠، صفحہ ٨٠ ٦٦) اور بعض نے اس کے برعکس لکھا ہے۔ یعنی نوح علیہ السلام کی بیوی کا نام 'والعة' اور لوط علیہ السلام کی بیوی کا نام 'واھلة' یا وُالۃ' کہا ہے۔ (بحوالہ: رُوح المعانی، جلد ٢٨، صفحہ ١٤٢ (بعض نے نوح علیہ السلام کی بیوی کا نام "واغلہ" یا "والغہ" بھی بیان کیا ہے))۔ بہرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظیم پیغمبروں کے ساتھ خیانت کی، البتہ ان کی خیانت جادۂ عفّت سے انحراف ہرگز نہیں تھا، کیونکہ کسِی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی ہرگز بےعفتی سے آلودہ نہیں ہوتی جیسا کہ پیغمبر اسلامؐ سے ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ آیا ہے: "ما بغت امراة النتی قط۔" "کسی بھی پیغمبر کی بیوی ہرگز منافی، عفت عمل سے آلودہ نہیں ہُوئی۔" (بحوالہ: دُر المنثور، جلد ٦، صفحہ ٢٤٥)۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ اس پیغمبر کے دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتی تھی اور آنحضرت کے گھر کے راز انہیں بتاتی تھی، اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی بھی ایسی ہی تھی۔ 'راغب' مفردات میں کہتا ہے کہ: "خیانت" اور "نفاق" حقیقت میں ایک چیزہیں، سوائے اس کے کہ 'خیانت' عہد و امانت کے مقابلہ میں ہوتی ہے، اور نفاق مسائلِ دینی میں۔ اس داستان کی پیغمبرؐ کے گھر کے افشائے راز کی داستان کے ساتھ مناسبت بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خیانت سے مراد یہی ہو۔ بہرحال اوپر والی آیت ان افراد کی جھوٹی اُمیدوں کو جو یہ گمان کرتے ہیں کہ پیغمبرؐ جیسے عظیم شخص سے تعلّق اور رشتہ داری ہی ان کی نجات کا سبب بن جائے گی (چاہے عمل کتنا ہی بُرا کیوں نہ ہو) منقطع کر دیتی ہے، تاکہ کوئی بھی شخص اس لحاظ سے اپنے لیے نجات کا قائل نہ ہو ، اِس لیے آیت کے آخر میں کہتا ہے: "ان سے کہا جائے گا تم بھی تمام دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہو جاؤ۔" یعنی تمہارے اور دُوسروں کے درمیان اِس لحاظ سے کوئی امتیاز نہیں ہے۔ اس کے بعد باایمان افراد کے لیے دو مثالیں بیان کرتے ہُوئے کہتا ہے: خدا نے مومنین کے لیے ایک مثال بیان کی ہے: یہ فرعون کی بیوی کی مثال ہے، جس وقت اس نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا: میرے پروردگار! میرے لیے اپنے نزدیک جنّت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے کاموں سے نجات دے اور مجھے اس ظالم قوم سے نجات عطا فرما": (وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ)۔ مشہور یہ ہے کہ فرعون کی بیوی کا نام آسیہ اور اس کے باپ کا نام مزاحم تھا۔ کہتے ہیں کہ جب اُس نے جادو گروں کے مقابہ میں موسٰی علیہ السلام کے معجزہ کو دیکھا تو اس کے دل کی گہرائیاں نورِ ایمان سے روشن ہو گئیں، وہ اسی وقت مُوسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئی۔ وہ ہمیشہ اپنے ایمان کی خبر ہُوئی تو اس نے اُسے بارہا سمجھایا اور منع کیا اور یہ اصرار کیا کہ موسٰی علیہ السلام کے دین سے دستبردار ہو جائے اور اس کے خدا کو چھوڑ دے، لیکن یہ بااستقامت خاتون فرعون کی خواہش کے سامنے ہرگز نہ جھکی۔ آخرکار فرعون نے حکم دیا کہ اس کہ ہاتھ پاؤں میخوں کے ساتھ باندھ کر اسے سُورج کی جلتی ہُوئی دھوپ میں ڈال دیا جائے اور ایک بہت بڑا پتھر اس کے سینہ پر رکھ دیں، جب وہ خاتون اپنی زندگی کے آخری لمحے گزار رہی تھی تو اس کی دُعا یہ تھی: "پروردگارا! میرے لیے جنّت میں اپنے جوارِ رحمت میں ایک گھر بنا دے۔ مجھے فرعون اور اس کے اعمال سے رہائی بخش اور مجھے اس ظالم قوم سے نجات دے۔" خدا نے بھی اس پاکباز اور فدا کار مومنہ خاتون کی دعا قبول کی اور اسے مریم علیہ السلام جیسی دنیا کی بہترین خاتون قرار دیا جیسا کہ وہ ان آیات میں مریم علیہ السلام کے ہم ردیف قرار پائی ہے۔ ایک روایت میں رسولِ خداؐ سے آیا ہے: "افضل نساء اھل الجنة خدیجة بنت خویلد و فاطمة بنت محمد (ص) و مریم بنت عمران، و اٰسیة بنت مزاحم امرأة فرعون!" "اہل جنّت میں افضل ترین اور برترین عورتیں چار ہیں، خویلد کی بیٹی، خدیجہ علیہ اسلام محمدؐ کی بیٹی فاطمہؑ اور عمران کی بیٹی 'مریمؑ' اور مزاحم کی بیٹی 'آسیہؑ' جو فرعون کی بیوی تھی۔" (بحوالہ: دُر المنثور، جلد ٦، صفحہ ٢٤٦)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فرعون کی بیوی اپنی اس بات سے فرعون کے عظیم قصر کی تحقیر کر رہی ہے، اور اُسے خُدا کے جوارِ رحمت میں گھر، کے مُقابلہ میں کوئی اہمیّت نہیں دیتی۔ اس گفتگو کے ذریعے ان لوگوں کو جو اُسے یہ نصیحت کرتے تھے کہ ان تمام نمایاں وسائل و امکانات کو جو ملکۂ مصر ہونے کی وجہ سے تیرے قبضہ و اِختیار میں ہیں موسیٰ علیہ السلام جیسے چروا ہے پر ایمان لا کر ہاتھ سے نہ دے۔ جواب دیتی ہے: اور "وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ" کے جُملہ کے ساتھ خُود فرعون سے اور اس کے مظالم اور جرائم سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتی ہے۔ اور "وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ" کے جملہ سے اس آلودہ ماحول سے اپنی علیحدگی، اور ان کے جرائم سے اپنی بیگان گی کا اظہار کرتی ہے۔ زندگی کے آخری لمحات میں اس با معرفت اور ایثار گر عورت کے یہ تینوں جملے کِس قدر جچے تلے اور حساب شدہ ہیں، ایسے جملے جو پوری دنیا کی سب عورتوں اور مردوں کے لیے نفع بخش اور باعث ہدایت ہو سکتے ہیں۔ ایسے جملے جو ان تمام افراد کے ہاتھوں سے، جو ماحول یا زوج کے دباؤ کو خدا کی اطاعت اور تقویٰ کو ترک کرنے کا ایک جو از شمار کرتے ہیں فضول بہانوں کو چھین لیتے ہیں۔ مسلّمہ طور پر فرعون کے درمیان سے بڑھ کر رزق برق اور جلال و جبروت موجود نہیں تھا۔ اسی طرح فرعون جیسے جابر و ظالم کے شکنجوں سے بڑھ کر فشار اور شکنجے موجود نہیں تھے۔ لیکن نہ تو وہ رزق برق اور نہ ہی وہ فشار اور شکنجے اس مومنہ عورت کے گھٹنے جھکا سکے۔ اس نے رضائے خدا میں اپنا سفر اسی طرح سے جاری رکھا۔ یہاں تک کہ اپنی عزیز جان اپنے حقیقی محبوب کی راہ میں فدا کر دی۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ وہ یہ استدعا کرتی ہے کہ اے خدا جنّت میں اور اپنے جوار میں اس کے لیے ایک گھر بنا دے جس کا جنت میں ہونا توجنبۂ جسمانی ہے اور خدا کے جوارِ رحمت میں ہونا جنبۂ روحانی ہے۔ اس نے ان دونوں کو ایک مختصر سی عبادت میں جمع کر دیا ہے۔ اس کے بعد دوسری باشخصیت خاتون کی طرف، جو صاحب ایمان لوگوں کے لیے نمونہ شمار ہوتی ہیں، اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "اور خدا نے مریم بنت عمران کی مثال بھی بیان کی ہے جس نے اپنے دامن کو پاک رکھا۔" (وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ 'فرج' کی تعبیر سے کیا مُراد ہے؟ ہم نے ایک تفصیلی بیان، تفسیر نمونہ کی جلد ١٣ میں صفحہ ٤٩٤ پر (سورہ انبیاء کی آ یت ٩١ کے ذیل میں پیش کیا ہے)۔ "اور ہم نے اپنی رُوح میں سے اس میں پھونکا۔" (فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا)۔ اور اس نے خدا کے حکم سے شوہر کے بغیر بچہ جنا جو پروردگار کا اولوالعزم پیغمبر بنا۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اس نے پروردگار کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور ان سب پر ایمان لائی۔" (وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ)۔ "اور وہ خُدا کے حکم کی اطاعت کرنے والوں میں سے تھی۔" (وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ)۔ وہ ایمان کے لحاظ سے اعلیٰ مرتبے پر تھی۔ تمام آسمانی کتابوں اور اوامر الہٰی پر ایمان رکھتی تھی اور عمل کے لحاظ سے ہمیشہ احکامِ الہٰی کی مطیع تھی۔ وہ خدا کی ایک ایسی کنیز تھی جو اپنی جان و دل ہتھیلی پر لیے ہُوئے آنکھ اس کے حکم پر اور کان اس کے فرمان پر لگائے رکھتی تھی۔ "کلمات" اور "کتب" میں فرق ممکِن ہے اس لحاظ سے ہو کہ کتب کی تعبیر سے تو ان تمام آسمانی کتابوں کی طرف اشارہ ہو جو پیغمبروں پر نازل ہُوئی ہیں اور کلمات کی تعبیر سے مراد وہ الہام ہوں جو کتاب آسمانی کی صورت میں نہیں آئے تھے۔ مریم علیہ السلام ان کلمات اور کتابوں پر ایسا ایمان رکھتی تھی کہ قرآن نے سورة مائدہ کی آ یت ٧٥، میں اُسے صدیقہ (بہت زیادہ تصدیق کرنے والی) کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ قرآن کی مختلف آیات میں اس با ایمان خاتون کی شخصیّت اور اس کے مقامِ والا کے سلسلہ میں بہت زیادہ مطالب نظر آتے ہیں۔ ان کا ایک اہم حصّہ تو اس سورہ میں ہے جو اسی کے نام سے موسُوم ہے۔ (ایک گروہ نے صدّیقہ کی توصیف زیادہ سچ بولنے والی کے ساتھ کی ہے)۔ بہرحال قرآن ان تعبیروں کے ساتھ مریم علیہ اسلام کے دامن کو ان ناروا باتوں سے، جو آ لودہ اور جنا یتکار یہودیوں کی ایک جماعت اس کے بارے میں کہتی تھی اور وہ لوگ اس کی شخصیت اور اس کی پاک دامنی کے خلاف جو بھی باتیں بناتے ہیں، ان سے اس کو پاک و پاکیزہ شمار کرتا ہے اور بدگوئی کرنے والوں کے مُنّہ پر ایک سخت طمانچہ رسید کرتا ہے۔ "فنفخنا فیہ من روحنا۔" (ہم نے اپنی رُوح میں سے اس میں پُھونکا) کی تعبیر سے، جیسا کہ ہم اُس سے پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں، ایک با عظمت اور بلند رُوح مُراد ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں خُدا کی طرف 'روح' کی اضافت ایک "اضافہ ٔتشریفیہ" ہے کہ جو کسِی چیز کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے آ تی ہے، مثلاً بیت اللہ کی تعبیر میں 'گھر' کی اضافت خدا کی نہ رُوح ہے نہ گھر اور نہ بیت۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسرین نے خدا کے ہاں باشخصیت اور والا مقام عورتوں کے بارے میں ایک حدیث نقل کی ہے جس میں بی بی عائشہ کو ان سب سے برتر، و افضل ترین شمار کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس حدیث کو سورہ تحریم کی تفسیر میں ذکر نہ کرتے، کیونکہ سورہ تحریم تو اس گھڑ ی ہوئی حدیث کے برخلاف پکار پکار کر پیغام دے رہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ اہل سنّت کے بہت سے مفسّرین اور مُوّرخین نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہےکہ وہ دو عورتیں جن کی اس سورہ کی آیات شدّت کے ساتھ مذمّت کر رہی ہیں اور جو خُدا اور اس کے رسُولؐ کے غیظ و غضب کا سبب بنی ہیں، وہ حفصہ و عائشہ تھیں، اور یہی بیان صراحت کے ساتھ صحیح بخاری میں بھی آیا ہے۔ (بحوالہ: صحیح بخاری، جلد ٦، صفحہ ١٩٥)۔ ہم ان تمام لوگوں سے جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر غور و خوض اور سوچ بچار کرتے ہیں، یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ پھر سے اس سورہ کی آیات کا مُطالعہ کریں اور اس کے بعد اس قسم کی حدیثوں کی قدر و قیمت کوو اضح اور روشن کریں۔ خُداوندا! ہمیں بےثبوت اور تعصّب آمیز حبّ و بغض سے محفوظ رکھ اور ایسا کر کہ ہم قرآن مجید کی آیات کے مقابلہ میں اپنے سارے وجُود کے ساتھ سرتسلیم خم کر دیں اور خاضع رہیں۔ پروردگارا! وہ دن نہ آئے کہ تیرا عظیم پیغمبرؐ ہمارے اعمال سے ناخوش اور ہماری زندگی کی روش سے ناراض ہو۔ بار الہٰا! ہمیں ایسی استقامت عطا فرما کہ سارے جہان میں زمانہ کے فرعونوں کے دباؤ اور شکنجے ہماری روح اور ایمان پر معمولی سے معمولی اثر بھی نہ کریں۔ آمین یا رب العالمین۔

end of chapter
At-Tahrim (66) — Tafseer e Namoona