Sūra 114 · 6v
Chapter 1146 verses

An-Nas

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الناس
الناس

سُورہ الناس

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۶ آیات ہیں۔

سورہ "الناس" کے مطالب اور اس کی فضیلت

انسان ہمیشہ انسانی وسوسوں کی زد میں ہے اور شیاطینِ جن و انس کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اس کے قلب و رُوح میں نفوذ کریں۔ انسان کا مقام علم میں جتنا بالا ہوتا جاتا ہے اور اس کی حیثیت اجتماع اور معاشرے میں جتنی بڑھتی جاتی ہے، شیاطین کے وسوسے اتنے ہی زیادہ شدید ہوتے چلے جاتے ہیں، تاکہ اس کو راہِ حق سے منحرف کر دیں، اور ایک دانشور عالم کے فساد و خرابی سے سارے جہان کو تباہ و برباد کر ڈالیں۔ یہ سُورہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو ایک نمونہ و اُسوہ کے طور پر، اور پیشوا و رہبر کی حیثیت سے یہ حکم دے رہی ہے کہ تمام وسوسے ڈالنے والوں کے شر سے خدا کی پناہ طلب فرمائیں۔ اِس سُورہ کے مطالب ایک لحاظ سے سورہ "فلق" سے مشابہ ہیں، اور دونوں میں ہی شرور و آفات سے خداوندِ بزرگ کی پناہ مانگنے کو بیان کیا گیا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ سُورہ فلق میں شرور کے مختلف انواع و اقسام بیان کیے گئے ہیں، لیکن اس سورہ میں صرف نظر نہ آنے والے وسوسہ گروں (وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ) پر تکیہ ہوا ہے۔ اس بارے میں بھی کہ یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوا ہے یا مدینہ میں، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ اسے "مکی" سمجھتا ہے، جب کہ دوسری جماعت اسے "مدنی" شمار کرتی ہے۔ لیکن اس کی آیات کا لب و لہجہ "مکی" سورتوں سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روایات کے مطابق یہ سورہ اور سورہ فلق اکٹھے نازل ہوئے ہیں، اور سورہ فلق ایک کثیر جماعت کے نظریہ کے مطابق مکی ہے، چنانچہ بہت ممکن ہے کہ یہ سورہ مکی ہی ہو۔ اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں، منجملہ ان میں ایک یہ ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سخت بیمار پڑ گئے تو (خدا کے دو عظیم فرشتے) جبرئیل و میکائیل آپ کے پاس آئے۔ جبرئیل تو پیغمبرؐ کے سر کی طرف بیٹھ گئے اور میکائیل پاؤں کی طرف۔ جبرئیل نے سورہ "فلق" کی تلاوت کی اور پیغمبر اکرمؐ کو اس کے ذریعے خدا کی پناہ میں دے دیا، اور میکائیل نے سورہ "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" کی تلاوت کی۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد۵، ص ۷۶۴۵ و "مجمع البیان" جلد ۱۰ ص ۵۶۹)۔ ایک روایت میں جو امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی اور ہم اس کی طرف پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں، یہ آیا ہے کہ: "جو شخص نماز وتر میں "معوذتین" (سورہ فلق و ناس) اور "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" کی تلاوت کرے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اے بندۂ خدا! تجھے بشارت ہو کہ خدا نے تیری نماز وتر کو قبول کر لیا ہے!" (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۷۶۴۵ و "مجمع البیان" جلد ۱۰ ص ۵۶۹)۔

1
114:1
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
کہہ دیجے میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 17

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
114:2
مَلِكِ ٱلنَّاسِ
لوگوں کے مالک و حاکم کی ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 17

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
114:3
إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ
لوگوں کے معبود کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 17

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
114:4
مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ
خناس کے وسوسوں کے شر سے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 17

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
114:5
ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ
جو انسانوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 17

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
114:6
مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ
چاہے وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

تفسیر لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

Tafsīr Nemūna · Vol. 17

اس سورہ میں، جو قرآن مجید کا آخری سورہ ہے، لوگوں کے لیے نمونہ اور پیشوا ہونے کے لحاظ سے خود پیغمبرؐ کی طرف رُوئے سخن کرتے ہوئے فرمایا ہے: "کہہ دیجئے، مَیں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔" (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ)۔ "لوگوں کے مالک و حاکم کی۔" (مَلِكِ النَّاسِ)۔ "لوگوں کے خدا و معبُود کی۔" (إِلَهِ النَّاسِ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہاں خدا کے عظیم اوصاف میں سے تین اوصاف (ربوبیت، ملکیت اور الوہیت) کا ذکر ہوا ہے، جو سب کی سب براہِ راست انسان کی تربیت اور وسوسے ڈالنے والوں کے چنگل سے نجات کے ساتھ ارتباط رکھتی ہیں۔ البتہ خدا سے پناہ مانگنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان صرف زبان سے یہ جملہ کہے، بلکہ فکر و نظر اور عقیدہ و عمل کے ساتھ بھی انسان خود کو پناہ میں قرار دے۔ شیطانی راستوں، شیطانی پروگراموں، شیطانی افکار و تبلیغات، شیطانی مجالس و محافل سے خُود کو دُور رکھے، اور رحمانی افکار و تبلیغات کے راستے کو اختیار کرے۔ ورنہ وہ انسان جو عملی طور پر ان وسوسوں کے طوفان میں ٹھہرا رہے گا، وہ صرف اس سُورہ کے پڑھنے اور ان الفاظ کے کہنے سے کہیں نہیں پہنچے گا۔ وہ "رَبِّ النَّاسِ" کہنے کے ساتھ پروردگار کی ربوبیت کا اعتراف کرتا ہے اور خود کو اس کی تربیت میں قرار دیتا ہے۔ "مَلِکِ النَّاسِ" کہنے سے خود کو اس کی ملکیت سمجھتا ہے اور اس کے فرمان کا بندہ ہو جاتا ہے۔ اور "إِلٰہِ النَّاسِ" کے کہنے سے اس کی عبادت کے راستے میں قدم رکھ دیتا ہے اور اس کے غیر کی عبادت سے پرہیز کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ جو شخص ان تینوں صفات پر ایمان رکھتا ہو اور خُود کو ان تینوں کے ساتھ ہم آہنگ کر لے، وہ وسوسہ ڈالنے والوں کے شر سے امان میں رہے گا۔ درحقیقت یہ تینوں اوصاف تین اہم تربیتی درس، پیش رفت کے تین پروگرام اور وسوسے ڈالنے والوں کے شر سے نجات کے تین ذریعے ہیں اور یہ سورہ انسان کا ان کے مقابلہ میں بیمہ کر دیتا ہے۔ اسی لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "وسوسے ڈالنے والے خناس کے شر سے" (مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ)۔ "وہی جو انسانوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔" (الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ)۔ "جنوں اور انسانوں میں سے وسوسے ڈالنے والے۔" (مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ)۔ "وسواس" کا لفظ "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق اصل میں ایسی آہستہ آواز ہے جو آلاتِ زینت کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہر آہستہ آواز پر بولا جانے لگا اور اس کے بعد ایسے ناپسندیدہ اور برے افکار و خیالات پر، جو انسان کے دل و جان میں پیدا ہوتے ہیں، اور ایسی آہستہ آواز کے مشابہ جو کان میں کہی جاتی ہے، اطلاق ہوا ہے۔ "وسواس" مصدری معنی رکھتا ہے، بعض اوقات "فاعل" (وسوسہ ڈالنے والا) کے معنی میں بھی آتا ہے، اور زیرِ بحث آیت میں یہی معنی ہے۔ "خناس"، "خنوس" (بر وزن خسوف) کے مادّہ سے، صیغۂ مبالغہ ہے، جو جمع ہونے اور پیچھے جانے کے معنی میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو شیاطین پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور چونکہ یہ کام پنہاں ہونے کے ساتھ توأم ہے، لہٰذا یہ لفظ "اختفاء" کے معنی میں بھی آیا ہے۔ اس بنا پر آیات کا مفہوم اس طرح ہو گا: "کہہ دیجئے میں شیطان صفت وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو خدا کے نام سے بھاگتا ہے اور پنہاں ہو جاتا ہے، خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔" اصولاً "شیاطین" اپنے پروگراموں کو چُھپ کر کرتے ہیں اور بعض اوقات انسان کے دل کے کان میں اس طرح سے پُھونک مارتے ہیں کہ انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ یہ فکر خُود اسی کی فکر ہے اور خُود اسی کے دل میں خُود بخود پیدا ہوئی ہے، یہی بات اس کے بہکنے اور گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔ شیاطین کا کام زینت دینا، باطل کو حق کے لعاب میں چُھپانا، جھوٹ کو سچ کے چھلکے میں لپیٹ کر گناہ کو عبادت کے لباس میں اور گمراہی کو ہدایت کے سرپوش میں پیش کرنا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ خُود بھی مخفی ہوتے ہیں اور ان کے پروگرام بھی پنہاں ہوتے ہیں، اور یہ راہِ حق کے ان تمام رہروؤں کے لیے ایک تنبیہ ہے جو یہ توقع نہیں رکھتے کہ شیاطین کو ان کے اصلی چہرے اور قیافہ میں دیکھیں، یا ان کے پروگراموں کو انحرافی شکل میں مشاہدہ کریں۔ سوچنے کی بات ہے، وسوسے ڈالنے والے خناس ہوتے ہیں اور ان کا کام چُھپانا، جُھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، ریاکاری کرنا، ظاہر سازی اور حق کو پوشیدہ کرنا ہے۔ اگر وہ اصلی چہرے میں ظاہر ہو جائیں، اگر وہ باطل کو حق کے ساتھ نہ ملائیں، اگر وہ صریح اور صاف بات کریں تو علی علیہ السلام کے قول کے مطابق لم یَخْفَ عَلَی الْمُرْتَادِیْنَ: خدا کی راہ پر چلنے والوں پر مطلب مخفی نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ کچھ حصہ تو "اس" سے لیتے ہیں، اور کچھ حصہ "اُس" سے، اور انہیں آپس میں ملا دیتے ہیں، تاکہ لوگوں پر مسلط ہو سکیں، جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: "فَھُنَالِکَ یَسْتَوْلِی الشَّیْطَانُ عَلٰی أَوْلِیَائِہِ" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۵۰)۔ "الَّذِی یُوَسْوِسُ فِی صُدُورِ النَّاسِ" کی تعبیر، اور لفظ "وسوسہ" کا انتخاب، اور لفظ "صدور" (سینے) بھی اسی معنی کی تاکید ہیں۔ یہ سب کچھ تو ایک طرف، دوسری طرف سے "مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ" کا جملہ خبردار کرتا ہے کہ "وسوسے" ڈالنے والے خناس، صرف ایک ہی گروہ، ایک ہی جماعت، ایک ہی طبقہ، اور ایک ہی لباس میں نہیں ہوتے، بلکہ یہ جن و انس میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر لباس اور ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان سب پر نظر رکھنی چاہیے اور ان سب کے شر سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ نامناسب دوست، منحرف ہم نشین، گمراہ اور ظالم پیشوا، جابر اور طاغوتی کارندے، فاسد مقررین اور لکھنے والے، ظاہر فریب الحادی و التقاطی مکاتب، اور اجتماعی طور پر وسوسے ڈالنے والوں کے وسائلِ ارتباط، سب کے سب "وسواس خناس" کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں، جن کے شر سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔

چند نکات

۱۔ ہم خدا کی پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ اِنسان کے لیے ہر لمحہ انحراف کا امکان موجود ہے اور اصولی طور پر جب خدا اپنے پیغمبر کو یہ حکم دے رہا ہے کہ "وسواس خناس" کے شر سے خدا کی پناہ مانگیں، تو یہ خناسوں اور وسوسہ ڈالنے والوں کے دام فریب میں گرفتار ہونے کے امکان کی دلیل ہے۔ باوجود اس کے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم لُطفِ الٰہی، غیبی امدادوں اور اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنے کی بناء پر ہر قسم کے انحراف سے محفوظ تھے، لیکن پھر بھی وہ آیات کو پڑھتے تھے اور ان کے ذریعے وسواس خناس کے شر سے پناہ مانگتے تھے۔ ان حالات میں دوسروں کا معاملہ واضح و روشن ہے۔ لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان مخرب وسوسہ ڈالنے والوں کے مقابلہ میں مومن بندوں اور راہِ حق کے رہروؤں کی مدد کے لیے آسمانی امدادیں آتی ہیں۔ ہاں! مومن تنہا نہیں ہے، فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں: "إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ " (حمٰ سجدہ۔۳۰)۔ لیکن بہرحال، مغرور ہرگز نہیں ہونا چاہئے، اور خود کو موعظ و پند و نصائح اور خدائی امدادوں سے بےنیاز نہیں سمجھنا چاہئے۔ بلکہ ہمیشہ اس سے پناہ مانگنی چاہئے اور ہمیشہ بیدار اور ہوشیار رہنا چاہئے۔ ۲۔ تین آیات میں "ناس" کا تکرار کیوں ہوا ہے؟ اس بارے میں کہ تین آیات میں "ناس" کا تکرار کیوں ہوا ہے؟ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ہر مقام پر الگ الگ معنی ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ خدا کی ان تین صفات کی عمومیت کی تاکید کے لیے ہے اور تینوں مقام پر ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ ۳۔ دل کے دو کان: ایک روایت میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: "ما من مؤمن إلّا و لقلبه في صدره أذنان: أذن ينفث فيها الملك و أذن ينفث فيها الوسواس الخناس، فيؤيد الله المؤمن بالملك، فهو قوله سبحانه: و أيدهم بروح منه" "ہر مومن کے دل میں دو کان ہوتے ہیں، ایک کان میں فرشتہ پھونک مارتا ہے اور دوسرے کان میں وسواس خناس پھونک مارتا ہے۔ پس خدا مومن کی فرشتہ کے ذریعے تائید فرماتا ہے۔ اور آیہ "و أیّده بروحٍ منه" کا مطلب یہی ہے۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۷۱)۔ ایک لرزہ خیز اور پُر معنی حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ: "جب آیہ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ: (وہ لوگ جو کبھی کوئی بُرا کام انجام دیتے ہیں، یا خُود اپنے اُوپر ظلم کرتے ہیں تو خُدا کو یاد کرتے ہیں، اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں) نازل ہوئی، تو ابلیس مکہ میں ایک پہاڑ کے اُوپر گیا اور اونچی آواز کے ساتھ فریاد کی اور اپنے لشکر کے سرداروں کو جمع کیا۔ اُنہوں نے کہا: اے آقا! کیا ماجرا ہے، آپ نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ اس نے کہا: یہ آیت نازل ہوئی ہے (اس آیت نے میری کمر میں لرزہ پیدا کر دیا ہے اور یہ آیت نجاتِ بشر کا باعث ہے) تم میں سے کون ہے جو اس کا مقابلہ کرے؟ بزرگ شیطانوں میں سے ایک نے کہا: میں ایسا کر سکتا ہوں، میرا منصُوبہ یہ ہے۔ ابلیس نے اس کے اس منصوبہ کو ناپسند کر دیا! تو دُوسرا کھڑا ہوا اور اس نے اپنا منصوبہ پیش کیا، لیکن یہ بھی قبول نہ کیا گیا۔ اس موقع پر "وسواس خناس" کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مَیں اس کام کو انجام دوں گا۔ ابلیس نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: میں انہیں وعدوں اور آرزوؤں میں سرگرم کر دوں گا، یہاں تک کہ وہ گناہ میں آلودہ ہو جائیں گے، جب وہ گناہ کر لیں گے تو میں انہیں توبہ کرنا بھلا دوں گا۔ ابلیس نے کہا: تُو اس کام سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ (تیرا منصوبہ بہت ماہرانہ اور عالی ہے) اور یہ کام قیامت تک اس کو سپرد کر دیا۔ (بحوالہ: "المیزان" جلد ۲۰، ص ۵۵۷)۔ خداوندا! ہمیں ان سب وسوسہ ڈالنے والوں کے شر سے اور خناس کے تمام وسوسوں سے محفوظ فرما۔ پروردگار! دامِ فریب سخت ہے، اور دشمن بیدار اور اس کے منصوبے مخفی اور پنہاں ہیں اور تیرے لطف کے بغیر نجات ممکن نہیں ہے۔ بارالٰہا! ہم نہیں جانتے کہ اس عظیم نعمت کا شکر تیری بارگاہ میں کس طرح پیش کریں کہ تُو نے ہم پر احسان کیا ہے اور ہمیں یہ عظیم افتخار اور توفیق عطا فرمائی ہے کہ ہم نے اس وقت تقریباً پندرہ سال کے بعد اس تفسیر کو مکمل کر دیا ہے۔ خدایا! تو جانتا ہے کہ اس لمحہ ایک ایسی ناقابلِ توصیف خوشی اور شکر کے ساتھ ملی ہوئی شادمانی ہمارے سارے وجود میں موجزن ہے، ایسا احساس جس کی کسی بیان کے ساتھ تشریح اور اس کے شکر کی ہم میں توانائی نہیں ہے، ہم تیری بارگاہ میں ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرتے ہیں۔ آفرید گارا! ممکن ہے ہم سے ان آیات کی تفسیر میں کچھ لغزشیں ہو گئی ہوں، تو وہ سب ہمیں بخش دے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ تیرے بندے بھی ہمیں بخش دیں گے۔ اور آخری جملہ میں ہم یہ عرض کرتے ہیں: اے خدائے رحیم و مہربان! اپنے کرم سے یہ ناچیز خدمت ہم سب سے قبول فرما لے اور اسے ہماری معاد اور روز جزا کا ذخیرہ قرار دے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین۔

end of chapter