Sūra 08 · 75v
Chapter 0875 verses

Al-Anfal

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الأنفال
الانفال

سورہٴ انفال

یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۷۵ آیات ہیں

سورہٴ انفال کے مختلف اور اہم مباحث

سورہٴ انفال کی آیات میں نہایت اہم مباحث موجود ہیں: ۱۔ پہلے اسلام کے اہم مالی مسائل کے کچھ حصّوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انفال اور غنائم بھی ان میں شامل ہیں کہ جن سے بیت المال کا ایک بڑا حصّہ تشکیل پاتا ہے۔ ۲۔ دوسرے مباحث میں حقیقی موٴمنین کی صفات اور امتیازات کا ذکر ہے۔ جنگ بدر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو کہ دشمنوں کے ساتھ مسلمانوں کا پہلا مسلح ٹکراؤ تھا۔ اس جنگ کے عجیب و غریب اور حیرت انگیز حوادث کا ذکر کیا گیا ہے۔ ۳۔ سورہ کا ایک اہم حصّہ مسلمانوں پر دشمن کے پیہم حملوں کے مقابلے میں احکامِ جہاد پر مشتمل ہے۔ اس میں مسلمانوں کی اس سلسلے میں ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں۔ ۴۔ اس میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے حالات اور ہجرت کی تاریخی رات کا واقعہ بیان ہوا ہے جسے "لیلة المبیت" کہتے ہیں۔ ۵۔ اسلام سے پہلے مشرکین کی کیفیت اور ان کی خرافات کا بھی تذکرہ ہے ۶۔ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی کمزوری اور ناتوانی کی کیفیت اور اس کے اسلام کے زیر سایہ ان کی تقویت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے۔ ۷۔ خمس کا حکم اور اس کی تقسیم کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ ۸۔ بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور میں ہر مقام پر جہاد کے لئے جنگی، سیاسی اور اجتماعی تیاری ضروری ہے۔ ۹۔ ظاہری افرادی کمی ہے باوجود معنوی اور روحانی طاقت کے حوالے سے دشمن پر مسلمانوں کی برتری کا ذکر بھی اس میں موجود ہے۔ ۱۰۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں احکام اور ان سے سلوک کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے۔ ۱۱۔ ہجرت کرنے والوں اور ہجرت نہ کرنے والوں کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ ۱۲۔ منافقوں سے مبارزہ و مقابلہ بھی اس میں موجود ہے اور ان کی پہچان کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ ۱۳۔ آخر میں اخلاقی، اجتماعی اور دیگر اصلاحی حوالے سے متعدد مسائل بیان کئے گئے ہیں۔ ان تمام امور کے پیشِ نظر مقامِ تعجب نہیں اگر کچھ روایات میں اس سورہ کی تلاوت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مثلاً امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: من قرء الانفال و برائة فی کلّ شھر لم یدخلہ نفاق ابداً و کان من شیعة اٴمیرالمومنین (ع) حقاً و یاٴکل یوم القیامة من موائد الجنة معھم حتی یفرغ الناس من الحساب- جو شخص ہر ماہ سورہٴ انفال اور برائت کی تلاوت کرے گا اس کے وجود میں ہرگز روحِ نفاق داخل نہیں ہو گی اور وہ حقیقی طور پر امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا پیرو ہو گا اور قیامت کے دن ان کے ساتھ بیٹھ کر جنت کے کھانوں میں سے کھائے گا یہاں تک کہ لوگ اپنے حساب سے فارغ ہو جائیں گے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان مذکورہ آیت کے ذیل میں) جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے، قرآن کی سورتوں کے فضائل اور عظیم ثواب کہ جن کا تلاوت کرنے والوں کے لئے وعدہ کیا گیا ہے فقط الفاظ پڑھنے سے ہاتھ نہیں آئیں گے بلکہ پڑھنا تو مقدمہ ہے غور و فکر کرنے کا اور غور و فکر وسیلہ ہے سمجھنے کا اور سمجھنا تمہید ہے عمل کرنے کی اور چونکہ سورہٴ انفال اور سورہٴ برائت میں منافقین اور سچّے مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں تو جو افراد دونوں سورتوں کو پڑھیں اور اپنی زندگی میں ان کی ہدایت پر عمل پیرا ہوں ان کے وجود میں کبھی بھی روحِ نفاق داخل نہیں ہو سکتی، اسی طرح چونکہ ان دونوں سورتوں میں سچّے مجاہدین کی صفات بیان کی گئی ہیں اور سرورِ مجاہدین حضرت علی علیہ السلام کی فداکاریوں کا کچھ ذکر ہے تو جو افراد ان دونوں سورتوں کے مفاہیم کا ادراک کر لیں اور انھیں اپنے اوپر نافذ کر لیں یقیناً وہ امیرالمومنین علیہ السلام کے سچّے شیعوں میں سے ہو جائیں گے۔

1
8:1
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡأَنفَالِۖ قُلِ ٱلۡأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَصۡلِحُواْ ذَاتَ بَيۡنِكُمۡۖ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
تم سے انفال (غنائم اور ہر وہ مال جس کا مالک مشخص نہ ہو) کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو: انفال اللہ اور رسول سے مخصوص ہے پس اللہ (کے حکم کی مخالفت) سے ڈرو۔ اور جو بھائی آپس میں لڑے ہوئے ہوں ان میں صلح کراؤ اور خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو اگر ایمان رکھتے ہو۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ابن عباس سے منقول ہے کہ رسول اللہؐ نے جنگ بدر کے روز مجاہدین اسلام کی تشویق کے لئے کچھ انعامات مقرر کیے اور مثلاً فرمایا کہ جو فلاں دشمن کو قید کر کے میرے پاس لائے گا اسے یہ انعام دوں گا۔ ان میں پہلے ہی روح ایمان و جہاد موجود تھی اوپر سے یہ تشویق بھی، نتیجہ یہ ہوا کہ جو ان سپاہی بڑے افتخار سے مقابلے کے لئے آگے بڑھے اور اپنے مقصد کی طرف لپکے۔ بوڑھے سن رسیدہ افراد جھنڈوں تلے موجود رہے۔ جب جنگ ختم ہوئی تو نوجوان اپنے پر افتخار انعامات کے لئے بارگاہ پیغمبرؐ کی طرف بڑھے۔ بوڑھے ان سے کہنے لگے کہ اس میں ہمارا بھی حصّہ ہے کیونکہ ہم تمھارے لئے پناہ اور سہارے کا کام کر رہے تھے اور تمھارے لئے جوش و خروش کا باعث تھے۔ اگر تمہارا معاملہ سخت ہو جاتا تو تمھیں پیچھے ہٹنا پڑتا تو یقیناً تم ہماری طرف آتے۔ اس موقع پر دو انصاریوں میں تو تکار بھی ہو گئی اور انہوں نے جنگی غنائم کے بارے میں بحث کی۔ اس اثناء میں زیر نظر آیت نازل ہوئی جس میں صراحت کے ساتھ بتلایا گیا کہ غنائم کا تعلق پیغمبرؐ سے ہے وہ جیسے چاہیں انھیں تقسیم فرمائیں۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے بھی مساوی طور پر سب سپاہیوں میں غنائم تقسیم کر دیے اور برادران دینی میں صلح و مصالحت کا حکم دیا۔ تفسیر جیسا کہ ہم شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ اوپر والی آیت جنگ "بدر" کے بعد نازل ہوئی اور جنگی مال غنیمت کے سلسلہ میں بات کر رہی ہے اور ایک قانون کلی کے طور پر ایک وسیع اسلامی حکم کو بیان کر رہی ہے۔ خدا تعالیٰ پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے "تجھ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں"۔ "یَسْاَلُونَکَ عَنْ الْاَنْفَالِ"۔ "کہہ دے کہ انفال خدا اور پیغمبر کے ساتھ مخصوص ہیں"۔ "قُلْ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ"۔ اس بناء پر "تقویٰ اختیار کرو اور اپنے درمیان اصلاح کرو اور وہ بھائی کہ جن کا باہمی جھگڑا ہو گیا ہے ان میں صلح و آتشی کراؤ"۔ " فَاتَّقُوا اللهَ وَاَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ"۔ "اور خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو"۔ " وَاَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَہُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ"۔ یعنی ایمان صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ ایمان کی جلوہ گاہ زندگی کے تمام مسائل میں فرمان خدا و پیغمبر کی بے قید و بند اطاعت کرنا ہے نہ صرف جنگی غنائم میں بلکہ ہر چیز میں ان کے فرمان پر کان دھرنا اور ان کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔

انفال کیا ہے؟

"انفال" اصل میں "نفل" (بروزن "نفع") کے مادہ سے ہے اور اس کا فعل ہے زیادتی اور اضافہ۔ مستحب نمازوں کو بھی "نافلة" اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ واجبات پر اضافہ ہیں۔ "نوہ" کو بھی "نافلة" اسی لئے کہتے ہیں چونکہ وہ اولاد میں اضافہ ہوتا ہے۔ "نوفل" ایسے شخص کو کہتے ہیں جو زیادہ بخشش کرتا ہو۔ جنگی غنائم کو انفال کہا جاتا ہے یا تو یہ اس بناء پر ہے کہ یہ اموال کا ایک اضافی سلسلہ ہے جو مالک کے بغیر رہ جاتا ہے اور جنگ کرنے والوں کے ہاتھ آتا ہے جب کہ اس کا کوئی متعیّن مالک نہیں ہوتا اور یا یہ اس لحاظ سے ہے کہ فوجی دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے جنگ کرتے ہیں نہ کہ مال غنیمت کے لئے۔ اس بناء پر غنیمت ایک اضافی چیز ہے جو اُن کے ہاتھ آ جاتی ہے۔

چند قابل توجہ نکات

١۔ مندرجہ بالا آیت اگرچہ جنگی غنائم کے بارے میں ہے لیکن اس کا مفہوم کلی اور عمومی ہے اور یہ حکم تمام اضافی اموال، جن کا مالک مخصوص نہ ہو، کے بارے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہلِ بیت(علیه السلام) سے منقول روایات میں انفال کا ایک وسیع مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ معتبر روایات میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "انھا ما آخذ من دار الحرب من غیر قتال کالّذی انجلی عنھا اھلھا وھو المسمیٰ فیئاً ومیراث من لاوارث لہ، وقطائع الملوک إذا لم تکن مغضوبة والآجام، وبطون الا ودیعة، والمات، فإنّھا لِلّٰہ ولِرسولہ وبعدہ لمن قام مقامہ، یصرفہہ حیث یشاء من صالحہ ومصالح عیالہ" انفال ان اموال کو کہتے ہیں جو دارالحرب سے جنگ کے بغیر حاصل ہوں، اسی طرح وہ زمین جس کے رہنے والے اسے چھوڑ کر ہجرت کر گئے ہوں، اسے "فیء" کا نام دیا گیا ہے اور اس شخص کی میراث جس کا کوئی وارث نہ ہو اور وہ سرزمین اور مال جو بادشاہ اِسے یا اُسے بخش دیتے ہیں جب کہ ان کے مالک کی پہچان نہ ہو اور جنگل اور پہاڑوں کے درمیان کے تنگ راستے اور غیر آباد زمینیں یہ سب خدا اور پیغمبر کا مال ہیں اور پیغمبر کے بعد اس کا ہے جو ان کا قائم مقام ہو اور وہ اسے ہر اس راہ میں کہ جس میں وہ اپنی اور ان لوگوں کی کہ جن کی وہ کفالت کرتا ہے مصلحت دیکھے صرف کرے گا۔(بحوالہ: کنز العرفان، جلد اول، ص ۲۵۴). اگرچہ تمام جنگی غنائم کا مندرجہ بالا حدیث میں ذکر نہیں آیا لیکن ایک اور حدیث جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے اُس میں ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ان غنآئم بدر کانت للنّبی خاصّة فقسمھا بینھم تفضلاً منہ- جنگ بدر کا مالِ غنیمت پی سے مخصوص تھا لیکن آپ نے بخشش کے طور پر لشکرِ اسلام میں تقسیم کر دیا۔ (سابقہ حوالہ:) جو کچھ بیان کیا جا چکا ہے اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انفال کے مفہوم میں نہ صرف غنائم جنگی شامل ہیں بلکہ ہر وہ مال انفال ہے جس کا کوئی مخصوص مالک نہ ہو اور ایسے تمام اموال خدا، پیغمبر اور ان کے قائم مقام سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں اور تمام مسلمانوں کے مفاد میں صرف ہوتے ہیں۔ البتہ جنگی غنائم اور جو منقولہ اموال جنگ میں لشکرِ اسلام کے ہاتھ آئیں ان کے بارے میں قانون اسلام جس کی ہم اس سورہ میں کریں گے یہ ہے کہ پانچ حصّوں میں چار غازیوں کو دے دیئے جائیں گے اور یہ ان کی تشویق اور زحمات کی کچھ تلافی کے لئے ہے، ایک حصّہ خمس کے طور پر رکھ دیا جائے گا، اس خمس کے مصارف کے بارے میں آیت ۴۱ کے ذیل میں اشارہ کیا جائے گا، اسی طرح سے غنائم بھی انفال کے عمومی مفہوم میں شامل ہیں اور دراصل حکومت اسلامی کی ملکیت ہیں اور پانچ میں سے چار حصّے جو غازیوں کو بخشے گئے ہیں وہ عطیہ اور تفضّل کے طور پر ہے (غور کیجئے گا)۔ ۲۔ ہو سکتا ہے کہ یہ خیال پیدا ہو کہ زیر نظر آیت کہ جس کے مفہوم میں جنگی غنائم بھی شامل ہیں اسی سورہ کی آیت ۴۱ کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غنائم کا صرف پانچواں حصّہ (یعنی خمس) خدا، پیغمبر اوردیگر مصارف کے لئے ہے کیونکہ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ باقی چار حصّے جنگی سپاہیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن سطور بالا میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جنگی غنائم دراصل سب خدا اور رسول سے متعلق ہیں اور یہ ایک قسم کی بخشش اور تفضّل ہے کہ ان کے چار حصّے جنگی سپاہیوں کو دے دیئے گئے ہیں، بہ الفاظ دیگر حکومتِ اسلامی منقولہ غنائم میں سے اپنے حق کے چار حصّے مجاہدین پر صرف کرتی ہے۔ اس مفہوم کے پیش نظر دونوں آیات میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ خمس والی آیت جیسا کہ بعض مفسّرین کا خیال ہے آیہٴ انفال کی ناسخ نہیں ہے بلکہ دونوں اپنی قوّت سے باقی ہیں۔ ۳۔ جیسا کہ ہم شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ بعض مسلمانوں کے درمیان جنگی غنائم کے بارے میں جھگڑا ہو گیا تھا۔ اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے اوّل تو غنیمت کے مسئلے کی جڑ ہی کاٹ دی گئی اور مالِ غنیمت کو مکمل طور پر پیغمبر کے اختیار اور ملکیت میں قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان اور ان افراد کے درمیان جن میں جھگڑا ہوا تھا، دوسروں کوصلح و مصالحت کروانے کا حکم دیا گیا۔ اصولی طور پر "اصلاح ذات البین" افہام و تفہیم، دشمنیوں اور کدورتوں کا خاتمہ اور نفرت کو محبت اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا اسلام کا ایک اہم ترین پروگرام ہے۔ "ذات" کا معنی کسی چیز کی خلقت، بنیاد اور اساس "بین" حالت ارتباط کو اور دو شخصوں یا چیزوں کے درمیان پیوند قائم کرنے اور انھیں آپس میں ملانے کو کہتے ہیں، اس بنا پر کا "اصلاح ذات البین" مطلب ہے ارتباط کی بنیاد کی اصلاح، پیوند اور جوڑ کی تقویت اور پختگی اور درمیان میں سے تفرقہ و نفاق کے عوامل و اسباب کا خاتمہ۔ تعلیماتِ اسلامی میں اس بات کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اسے بلند ترین عبادات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی وصیوں میں جبکہ آپ (علیه السلام) بسترِ شہادت پر تھے، اپنے فرزندانِ گرامی سے فرمایا: إنّی سمعت جدکما رسول اللّٰہ (ص) یقول: اصلاح ذات البین افضل من عامة الصلوٰة والصیام- میں نے تمھارے نانا رسول اللهؐ کو یہ کہتے ہوئے سنا: لوگوں کے درمیان اصلاحِ رابطہ مختلف قسم کی مستحب نمازوں اور روزوں سے برتر و افضل ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ) کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: صدقة یحبّھا اللّٰہ اصلاح بین الناس إذا تفاسدوا وتقارب بینھم إذا تباعدو- (بحوالہ: اصولِ کافی، باب اصلاح ذات البین، حدیث۱و۲-) وہ عطیہ اور بخشش جسے خدا دوست رکھتا ہے وہ لوگوں کے درمیان صلح و مصالحت کروانا ہے جب وہ فساد کی طرف مائل ہوں اور انھیں ایک دوسرے کے قریب کرنا ہے جب کہ وہ ایک دوسرے سے دُور ہوں۔ نیز اسی کتاب میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے اپنے صحابی "مفضل" سے فرمایا: إذا راٴیت بین إثنین من شیعتنا منازعة فافتدھا من مالی- جب ہمارے شیعوں میں سے دو افراد میں جھگڑا دیکھو (جو مالی امور سے متعلق ہو) تو میرے مال میں سے تاوان اور فدیہ ادا کرو (اور ان کی صلح کروا دو۔ (بحوالہ: اصولِ کافی، باب اصلاح ذات البین، حدیث۱و۲) اسی بنا پر ایک اور روایت میں ہے کہ مفضل نے ایک دن شیعوں میں سے دو آدمیوں کو میراث کے معاملے میں جھگڑتے ہوئے دیکھا تو انھیں اپنے گھر بلایا، ان میں چار سو درہم کا اختلاف تھا، وہ مفضل نے انھیں دے دیئے اور ان کا جھگڑا ختم کروا دیا۔ اس کے بعد ان سے کہا کہ تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ میرا مال نہیں تھا، بلکہ امام(علیه السلام) نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ ایسے موقع پر مالِ امام سے استفادہ کرتے ہوئے اصحاب کے درمیان صلح و مصالحت کروا دوں۔ (سابقہ حوالہ-) اجتماعی معاملات میں اس قدر تاکیدیں کیوں کی گئی ہیں، تھوڑا سا غور و فکر کیا جائے تو اس کا سبب واضح ہو جاتا ہے۔ کسی قوم کی عظمت، طاقت قدرت اور سربلندی باہمی افہام و تفہیم اور ایک دوسرے سے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات کی اصلاح نہ ہو تو عداوت و دوشمنی کی جڑ آہستہ آہستہ دلوں میں اتر جاتی ہے اور ایک متحد قوم کو پراگندہ کر کے رکھ دیتی ہے۔ آسیب زدہ، ضعیف و ناتواں اور زبوں حال گروہ ہر حادثے اور ہر دشمن کے مقابلے میں سخت خطرے سے دوچار ہو گا بلکہ اسی جمعیت میں تو نماز، روزہ جیسے اصول مسائل یا خود وجوِد قرآن بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اسی بناء پر اصلاح ذات البین کے بعض مراحل شرعاً واجب ہیں حتّیٰ کہ انھیں انجام دینے کے لئے بیت المال کے وسائل سے استفادہ کرنا جائز ہے اور بعض دوسرے مراحل جو مسلمانوں کی سرنوشت کے حوالے سے زیادہ اہم نہیں مستحبّ موٴکد ہیں۔

2
8:2
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَإِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
مومن صرف وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جائے تو ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ صرف اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
8:3
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
8:4
أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقّٗاۚ لَّهُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
حقیقی مومن وہ ہیں کہ جن کیلئے ان کے پروردگار کے پاس بے حد درجات ہیں اور ان کیلئے مغفرت و بخشش ہے اور بے نقص اور بے عیب روزی ہے۔

تفسیر مومنین کی پانچ خصوصیات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیت میں مسلمانوں کے درمیان غنائم پر ہونے والی بحث کی مناست سے تقویٰ اور ایمان کی بات کی گئی تھی۔ اس کی گفتگو کی تکمیل کے لئے زیر نظر آیات میں سچّے اور حقیقی مومنین کی اور پرمعنی عبارتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے مومنین کی پانچ امتیازی صفات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جن میں سے تین روحانی اور معنوی پہلو رکھتی ہیں اور دو علمی پہلو رکھتی ہیں۔ پہلے حصّے میں: احساسِ ذمہ داری، ایمان کا تکامل اور ارتقا اور توکل __شامل ہیں۔ دوسرے حصّے میں: خدا سے ارتباط اور خلقِ خدا سے تعلق اور ربط شامل ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: مومنین صرف وہ لوگ ہیں کہ جب بھی خدا کا نام لیا جائے تو ان کے دل احساسِ مسئولیت سے اس کی بارگاہ میں دھڑکنے لگتے ہیں (إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُھُمْ)۔ "وجل" خوف اور ڈر کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو انسان کو دو میں سے کسی ایک وجہ سے لاحق ہوتی ہے اور وہ یہ کہ انسان میں ذمہ داریوں کے ادراک کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اُس نے خدا کی طرف سے عائد کردہ لازمی فرائض کو ادا نہیں کیا اور یا یہ کہ انسان کی توجہ خدا کے لامتناہی وجود اور پرہیبت و عظمت مقام کی طرف ہو جاتی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ کبھی انسان کسی بزرگ شخصیت کو گزرتے دیکھ کر جو واقعاً ہر لحاظ سے باعظمت ہو اس کے مقام سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ اور اپنے دل میں اس قدر خوف اور وحشت محسوس کرتا ہے کہ بات کرتے ہوئے اس کی زبان میں لکنت پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات وہ اپنی بات بھول جاتا ہے اگرچہ وہ بزرگ شخص اس سے اور دیگر سب سے انتہائی محبّت اور لگاوٴ رکھتا ہو اور ڈرنے والے سے کوئی غلطی بھی سرزد نہ ہوئی ہو اور اس قسم کا عمل عظمت کے ادراک کا عکس العمل ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے: لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْآنَ عَلیٰ جَبَلٍ لَرَاَیْتَہُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْیَةِ اللهِ یہ قرآن اگر ہم پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ خوفِ خدا سے پھٹ جاتا۔ (حشر/۲۱) نیز یہ بھی ارشاد ہے: إِنَّمَا یَخْشَی اللهَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاءُ خدا سے صرف علماء اور عظمت الٰہی سے آگاہ لوگ ہی ڈرتے ہیں۔ (فاطر/۲۸) لہٰذا آگاہی و علم اور خوف کے درمیان ہمیشہ کا تعلق ہے اس بناء پر یہ اشتباہ ہو گا اگر ہم خوف کا سرچشمہ صرف ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کو سمجھیں۔ اس کے بعد ان کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے: وہ راہِ تکامل میں مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں اور ایک لحظ بھی آرام نہیں کرتے "اور جب ان کے سامنے آیاتِ خدا پڑھی جائیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے" (وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ آیاتُہُ زَادَتْھُمْ إِیمَانًا)۔ رشد و نمو اور تکامل و ارتقاء تمام زندہ موجودات کی خاصیت ہے جس میں نمو اور تکامل نہ ہو تو وہ مردہ ہے یا موت کے کنارے پہنچ چکا ہے۔ سچّے اور زندہ مومنین یہ ایمان رکھتے ہیں کہ جن کی ہستی کا نوبہار پودا آیاتِ خدا کی آبیاری سے سدا شاداب رہتا ہے تازہ یہ تازہ پھل و پھول پیدا کرتا ہے، وہ زندہ نُما مُردوں کی طرح ایک ہی جگہ اور حالت کا شکار نہیں رہتے اور اُکتا دینے والی ایک ہی موت کی سی کیفیت میں نہیں رہتے۔ ہر نیا دن آتا ہے تو ان کی فکر، ایمان اور صفات بھی تازہ ہوتی ہیں۔ ان کی تیسری نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ صرف اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اسی پر توکل کرتے ہیں (وَعَلیٰ رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ)۔ ان کا افقِ فکر اس قدر بلند ہے کہ وہ کمزور اور ناتواں مخلوق پر بھروسہ کرنے سے انکار کر دیتے ہیں چاہے وہ مخلوق ظاہر میں کتنی ہی عظمت رکھتی ہو اور پانی سرچشمہ سے لیتے ہیں اور وہ جو کچھ چاہتے ہیں اور طلب کرتے ہیں عالم ہستی کے بے کراں سمندر ذاتِ پاک پروردگار سے چاہتے ہیں۔ ان کی روحِ عظیم ہے اور ان کی سطح فکر بلند ہے اور ان کا سہارا صرف خدا ہے۔ اشتباہ نہ ہو کہ توکّل کا مفہوم جیسا کہ بعض تحریف کرنے والوں نے خیال کیا ہے کہ یہ نہیں کہ عالمِ اسباب سے آنکھیں بند کرلی جائیں، ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جایا جائے اور گوشہ نشین ہو جایا جائے بلکہ اس کا مفہوم ہے خود سازی، بلند نظری اور ایرا غیرا سے عدم وابستگی اور محتاط نظری۔ جہانِ طبیعت اور عالم ہستی کے اسباب سے استفادہ کرنا عین توکّل برخدا ہے۔ چونکہ ان اسباب کی تاثیر منشائے ایزدی اور ارادہٴ الٰہی کے مطابق ہی ہے۔ سچّے مومنین کی ان تین قسم کی روحانی صفات کو بیان کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہ احساس مسئولیت اور عظمت پروردگار کے احساس کے تحت اور اسی طرح بڑھتے ہوئے ایمان اور توکّل کی بدولت وہ عملاً دو محکم رشتوں کے حامل ہیں۔ ایک ان کا خدا سے مستحکم رابطہ اور دوسرا بندگانِ خدا کے لئے خرچ کرتے ہیں (الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنفِقُونَ)۔ "نماز پڑھنے" کی بجائے "قیام نماز" کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ نہ صرف نماز پڑھتے ہیں بلکہ وہ اس طرح سے عمل کرتے ہیں کہ پروردگار سے یہ رابطہ اسی طرح ہر جگہ قائم رہتا ہے۔ "مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ" (اور ہم نے جو انھیں روزی دی ہے) یہ تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو تمام ترمادی و معنوی سرمائے پر محیط ہے وہ نہ صرف اپنے اموال سے بلکہ اپنے علم و دانش سے، اپنے ہوش و فکر، اپنے مقام و حیثیت سے اور اپنے اثر و رسوخ بھی اور ان تمام نعمات سے جو اُن کے اختیار میں ہیں بندگانِ خدا کی خدمت کرتے ہیں۔ محل بحث آخری آیت میں اس طرح سچّے مومنین کے بلند مقام و مرتبہ اور فراواں اجر و ثواب کو بیا ن کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: حقیقی مومنین صرف وہی ہیں (اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا)۔ اس کے بعد ان کے لئے تین اہم جزائیں بیان کی گئی ہیں: ۱۔ وہ اپنے پروردگار کے ہاں اہم درجات کے حامل ہیں (لَھُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ)۔ وہ درجات کہ جن کی مقدار معیّن نہیں اور یہی ابہام ان کے غیر معمولی اور بے حد و حساب ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ (درجۃ اور درجات کے بارے میں وضاحت کےلیے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد کی طرف رجوع کریں۔) ۲۔ علاوہ ازیں اس کی مغفرت، رحمت اور بخشش ان کے شامل حال ہو گی(وَمَغْفِرَةٌ)۔ ۳۔ اور رزقِ کریم ان کے انتظار میں (وَرِزْقٌ کَرِیمٌ)۔ یعنی بے حد و حساب، بے عیب عظیم اور دائمی نعمات ان کی انتظار میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمان جو اسلام کا دم بھرتے ہیں اور اپنے آپ کو اسلام اور قرآن کا طلبگار سمجھتے ہیں بعض اوقات نادانی کی وجہ سے اپنی پسماندگی کا ذمہ اسلام اور قرآن پر ڈال دیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم صرف انہی چند آیات کو کہ جن میں سچّے مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں اپنی زندگی میں اپنالیں یہ ضعف و کمزوری، زبوں حالی اور اِدھر اُدھر سے وابستگی کو ایمان و توکّل کے زیر سایہ ترک کر دیں، ہر نئے دن میں ایمان اور علم کے نئے مرحلے کی طرف قدم بڑھائیں، ایمان کے سائے میں اپنے معاشرے کی پیش رفت کے لئے صرف کر دیں، تو کیا پھر بھی ہماری یہی حالت ہو گی جو آج ہے؟ اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ایمان کے کئی مرحلے اور درجے ہیں بعض مراحل میں ہو سکتا ہے کہ ایمان اس قدر کمزور ہو کہ عملاً دکھائی نہ دے اور بہت سی آلودگیاں بھی انسان کے ساتھ ہوں لیکن ایک حقیقی راسخ اور محکم ایمان کے نہایت پست مرحلے اور درجے پر ہے۔

5
8:5
كَمَآ أَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيۡتِكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ
(بدر کے مال غنیمت سے متعلق تم میں سے بعض کی ناگواری) اسی طرح ہے کہ جیسے خدا نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ باہر (میدان بدر کی طرف) نکالا جب کہ مومنین کا ایک گروہ اسے پسند نہیں کرتا تھا (لیکن اس کا انجام ایک واضح کامیابی تھا)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
8:6
يُجَٰدِلُونَكَ فِي ٱلۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلۡمَوۡتِ وَهُمۡ يَنظُرُونَ
اگرچہ وہ جانتے تھے کہ یہ فرمان خدا ہے پھر بھی وہ تجھ سے مجادلہ کرتے تھے (اور خوف و ہراس نے انہیں یوں گھیر رکھا تھا) گویا انہیں موت کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور (گویا وہ موت کو) اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں۔

جنگ بدر کے غنائم کی تقسیم

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس سورہ کی پہلی آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ نئے مسلمانوں میں کچھ لوگ جنگ بدر کے غنائم کی تقسیم کی کیقیت سے ناراض تھے یہاں تک کہ زیر بحث آیات میں بھی خداوند عالم انھیں کہتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ کوئی چیز تمھیں اچھی نہ لگے چاہے تمھاری مصلحت اسی میں ہو جیسا کہ خود جنگ بدر تم میں سے بعض کو ناپسند تھی کہ جس کے مالِ غنیمت کے بارے میں اب تم گفتگو کر رہے ہو لیکن تم نے دیکھا کہ آخرکار وہ مسلمانوں کے لئے درخشاں نتائج کی حامل ہوئی لہٰذا احکام الٰہی کو اپنی کوتاہ نظر سے نہ دیکھو بلکہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کرو اور ان کے اصلی نتائج سے فائدہ اٹھاؤ۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: غنائمِ بدر پر کچھ افراد کی یہ ناگواری ایسے ہی ہے جیسے خدا نے تجھے تیرے گھر اور مقام مدینہ سے حق کے ساتھ باہر نکالا جبکہ کچھ مومنین اس سے کراہت کر رہے تھے اور اسے ناپسند کرتے تھے (کَمَا اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِھُونَ)۔ "بِالْحَقِّ" اس طرف اشارہ ہے کہ خروج کا یہ حکم الٰہی اور پیغامِ آسمانی کے مطابق دیا گیا تھا کہ جس کا نتیجہ اسلامی معاشرے کے حق میں تھا۔ یہ ظاہر بین اور کم حوصلہ لوگ بدر کی طرف جاتے ہوئے راستے میں اس فرمانِ حق کے بارے میں مسلسل تجھ سے مجادلہ اور گفتگو کرتے رہے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ یہ حکم خدا ہے پھر بھی اعتراض سے باز نہیں آتے تھے (یُجَادِلُونَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ)۔ اور انھیں خوف و ہراس نے یوں گھیر رکھا تھا جیسے انھیں موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہو اور گویا وہ اپنی موت اور نابودی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں (کَاَنَّمَا یُسَاقُونَ إِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنظُرُونَ)۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ وہ کس قدر غلط فہمی کا شکار تھے اور بلاوجہ خوف و ہراس میں گرفتار تھے اور جنگ بدر مسلمانوں کے لئے کیسی درخشاں کامیابی لے کر آئی تو یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود انھوں نے جنگ بدر کے بعد مالِ غنیمت کے سلسلے میں زبان اعتراض کیوں دراز کی ہے۔ ضمنی طور پر "فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ" کی تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ اوّل تو یہ جھگڑا اور گفتگو منافقت اور بے ایمانی کی وجہ سے نہ تھی بلکہ ایمان کی کمزوری اور اسلامی مسائل کے بارے میں کافی دانش وبینش نہ ہونے کی وجہ سے تھی۔ دوسری بات یہ کہ صرف چند افراد ہی ایسی فکر رکھتے تھے اور مسلمانوں کی اکثریت جو سچّے مجاہدوں پر مشتمل تھی فرمانِ پیغمبر اور ان کے اوامر کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے تھی۔

7
8:7
وَإِذۡ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحۡدَى ٱلطَّآئِفَتَيۡنِ أَنَّهَا لَكُمۡ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيۡرَ ذَاتِ ٱلشَّوۡكَةِ تَكُونُ لَكُمۡ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور وہ وقت (یاد کرو) جب خدا نے تم سے وعدہ کیا کہ دو گروہوں (قریش کے تجارتی، قافلے اور ان کا لشکر) میں سے ایک تمہارے قبضے میں دے گا اور تم (جنگ کے خوف سے) چاہتے تھے کہ قافلہ تمہارے قبضے میں آ جائے (نہ لشکر قریش)۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ اپنے کلمات سے حق کو تقویت دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے لہٰذا لشکر قریش سے تمہاری مڈبھیڑ کروا دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
8:8
لِيُحِقَّ ٱلۡحَقَّ وَيُبۡطِلَ ٱلۡبَٰطِلَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
لیکن اللہ چاہتا ہے کہ اپنے کلمات سے حق کو تقویت دے اور کافروں کی جڑ کو کاٹ دیتاکہ حق ثابت ہو جائے اور باطل ختم ہو جائے اگرچہ مجرم اسے ناپسند کرتے ہوں۔

اسلام اور کفر کا پہلا مسلح تصادم___ جنگ بدر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں جنگِ بدر کی طرف اشارہ ہو چکا ہے لہٰذا قرآن مجید بحث کو جنگ بدر کے واقعہ کی طرف کھینچ لایا ہے۔ زیر بحث آیات اور آئندہ کی کچھ آیات اس سلسلے کے بعض نہایت حسّاس پہلووٴں کی وضاحت کی گئی ہے جن میں سے ہر کوئی اپنے اندر تعلیم و تربیت کی ایک دنیا لئے ہوئے ہے، یہ اس لئے ہے تاکہ مسلمان ان حقائق کو کہ جن کا کچھ تجربہ وہ کر چکے ہیں ہمیشہ کے لئے دلنشین کر لیں اور ہمیشہ ان سے سبق حاصل کرتے رہیں۔ زیرِ نظر آیات اور آئندہ کی آیات کی توضیح و تفسیر سے پہلے اس اسلامی جہاد کا مختصر خاکہ پیش کر دینا ضروری ہے کہ جو سخت ترین اور خون آشام دشمنوں کی پہلی مسلح جنگ تھی۔۔۔ یہ اس لئے ہے تاکہ ان آیات میں جو باریک نکتے اور اشارات آئے ہیں وہ مکمل طور پر واضح ہو سکیں۔ موٴرّخین، محدّثین اور مفسّرین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے: جنگ بدر کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ مکہ والوں کا ایک اہم تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا تھا، اس قافلے کو مدینہ کی طرف گزرنا تھا۔ اہلِ مکہ کا سردار ابوسفیان قافلہ کا سالار تھا۔ اس کے پاس پچاس ہزار دینار کا مال تجارت تھا۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ و سلّم نے اپنے اصحاب کو اس عظیم فاقلے کی طرف تیزی سے کوچ کا حکم دیا کہ جس کے پاس دشمن کا ایک بڑا سرمایہ تھا تاکہ اس سرمائے کو ضبط کر کے دشمن کی اقتصادی قوت کو سخت ضرب لگائی جائے تاکہ اس کا نقصان دشمن کی فوج کو پہنچے۔ پیغمبرؐ اور ان کے اصحاب ایسا کرنے کا حق رکھتے تھے کیونک مسلمان مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر کے آئے تو اہل مکّہ نے ان کے بہت سے اموال پر قبضہ کر لیا تھا جس سے مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا لہٰذا وہ حق رکھتے تھے کہ اس نقصان کی تلافی کریں۔ اس سے قطع نظر بھی اہل مکہ نے گذشتہ تیرہ برس میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ و سلّم اور مسلمانوں سے جو سلوک روا رکھا اس سے بات ثابت ہو چکی تھی وہ مسلمانوں کو ضرب لگانے اور نقصان پہنچانے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں گنوائیں گے یہاں تک کہ وہ خود پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلّم کو قتل کرنے پر تُل گئے تھے۔ ایسا دشمن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلّم کے ہجرت مدینہ کی وجہ سے بےکار نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ واضح تھا کہ وہ قاطع ترین ضرب لگانے کے لئے اپنی قوت مجتمع کرتا۔ پس عقل و منطق کا تقاضا تھا کہ پیش بندی کے طور پر ان کے تجارتی قافلے کو گھیر کر اس کے اتنے بڑے سرمائے کو ضبط کر لیا جاتا تاکہ اُس پر ضرب پڑے اور اپنی فوجی اور اقتصادی بنیاد مضبوط کی جاتی۔ ایسے اقدامات آج بھی اور گذشتہ ادوار میں بھی عام دنیا میں فوجی طریق کار کا حصّہ رہے ہیں۔ جو لوگ ان پہلووٴں کو نظر انداز کر کے قافلے کی طرف پیغمبر کی پیش قدمی کو ایک طر ح کی غارت گری کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں یا تو وہ حالات سے آگاہ نہیں اور اسلام کے تاریخی کے بنیادی سے بےخبر ہیں اور یا ان کے کچھ مخصوص مقاصد ہیں جن کے تحت وہ واقعات و حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ بہرحال ایک طرف ابوسفیان کو مدینہ میں اس کے دوستوں کے ذریعے اس امر کی اطلاع مل گئی اور دوسری طرف اُس نے اہلِ مکہ کو صورت حال کی اطلاع کے لئے ایک تیز رفتار قاصد روانہ کر دیا کیونکہ شام کی طرف جاتے ہوئے بھی اسے اس تجارتی قافلے کی راہ میں رکاوٹ کا اندیشہ تھا۔ قاصد ابوسفیان کی نصیحت کے مطابق اس حالت میں مکہ میں داخل ہوا کہ اس نے اپنے اونٹ کی ناک کو چیر دیا تھا تھا اس کے کان کاٹ دیئے تھے، خون ہیجان انگیز طریقے سے اونٹ سے بہہ رہا تھا، قاصد نے اپنی قمیص کو دونوں طرف سے پھاڑ دیا تھا اور اونٹ کی پشت کی طرف منہ کر کے بیٹھا ہوا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ مکہ میں داخل ہوتے ہی اس نے چیخنا چلّانا شروع کر دیا: اے کامیاب و کامران لوگو! اپنے قافلے کی خبر لو، اپنے کارواں کی مدد کرو، جلدی کروـــ لیکن مجھے امید نہیں کہ تم وقت پر پہنچ سکو، محمد اور تمھارے دین سے نکل جانے والے افراد قافلے پر حملے کے لئے نکل چکے ہیں۔ اس موقع پر پیغمبرؐ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا ایک عجیب و غریب خواب بھی مکہ میں زبان زد عام تھا اور لوگوں کے ہیجان میں اضافہ کر رہا تھا۔ خواب کا ماجرا یہ تھا کہ عاتکہ نے تین روز قبل خواب میں دیکھا کہ: ایک شخص پکار رہا ہے کہ لوگو! اپنی قتل گاہ کی طرف جلدی چلو۔ اس کے بعد وہ منادی کوہ ابوقبیس کی چوٹی پر چڑھ گیا۔ اس نے پتھر کی ایک بڑی چٹان کو حرکت دی تو وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی اور اس کا ایک ایک ٹکڑا قریش کے ایک ایک گھر میں جا پڑا اور مکہ کے درّے سے خون کا سیلاب جاری ہو گیا۔ عاتکہ وحشت زدہ ہو کر خواب سے بیدار ہوئی اور اپنے بھائی عبّاس کو سنایا۔ اس طرح خواب لوگوں تک پہنچا تو وہ وحشت و پریشانی میں ڈوب گئے۔ ابوجہل نے خواب سنا تو بولا: یہ عورت دوسرا پیغمبر ہے اولاد عبدالمطلب میں ظاہر ہوا ہے۔ لات و عزیٰ کی قسم ہم تین دن مہلت دیتے ہیں اگر اتنے عرصے میں اس خواب کی تعبیر ظاہر نہ ہوئی تو ہم آپس میں ایک تحریر لکھ کر اس پر دستخط کریں گے کہ بنی ہاشم قبائل عرب میں سے سب سے زیادہ جھوٹے ہیں۔ تیسرا دن ہوا تو ابوسفیان کا قاصد آ پہنچا۔ اُس کی پکار نے تمام اہل مکہ کو ہلا کے رکھ دیا اور چونکہ تمام اہلِ مکہ کا اس قافلے میں حصّہ تھا سب فوراً جمع ہو گئے۔ ابوجہل کی کمان میں ایک لشکر تیار ہوا۔ اس میں ۹۵۰ جنگجو تھے جن میں سے بعض ان کے بڑے اور مشہور سردار بہادر تھے۔ ۷۰۰ اونٹ تھے اور ۱۰۰ گھوڑے تھے۔ لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ و سلّم ۳۱۳ افراد کے ساتھ جن میں تقریباً تمام مجاہدین اسلام تھے سرزمین بدر کے پاس پہنچ گئے تھے۔ یہ مقام مکہ اور مدینہ کے راستے میں ہے۔ یہاں آپ کو قریش کے لشکر کی روانگی کی خبر ملی۔ اس وقت آپؐ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ کیا ابوسفیان کے قافلے کا تعاقب کیا جائے اور قافلے کے مال پر قبضہ کیا جائے یا لشکر کے مقابلے کے لئے تیار ہوا جائے۔ ایک گروہ نے دشمن کے لشکر کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دی جبکہ دوسرے گروہ نے اس تجویز کو ناپسند کیا اور قافلے کے تعاقب کو ترجیح دی۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ہم مدینہ سے مکہ کی فوج کا مقابلہ کرنے کے ارادے سے نہیں نکلے تھے اور ہم نے لشکر کے مقابلے کے لئے جنگی تیاری نہیں کی تھی جبکہ وہ ہماری طرف پوری تیاری سے آ رہا ہے۔ اس اختلاف رائے اور تردّد میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب انھیں معلوم ہوا کہ دشمن کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے تقریباً تین گُنا ہے اور ان کا ساز و سامان بھی مسلمانوں سے کئی گُنا زیادہ ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ و سلّم نے پہلے گروہ کے نظریے کو پسند فرمایا اور حکم دیا کہ دشمن کی فوج پر حملے کی تیاری کی جائے۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو دشمن کو یقین نہ آیا کہ مسلمان اس قدر ساز و سامان کے ساتھ میدان میں آئے ہوں گے۔ ان کا خیال تھا کہ سپاہ اسلام کا اہم حصّہ کسی مقام پر چھپا ہوا ہے تاکہ وہ غفلت میں کسی وقت ان پر حملہ کر دے لہٰذا انھوں نے ایک شخص کو تحقیقات کے لئے بھیجا۔ انھیں جلدی معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کی جمعیت یہی ہے جسے وہ دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف جیسا کہ ہم نے کہا ہے مسلمانوں کا ایک گروہ وحشت و خوف غرق میں تھا۔ اس کا اصرار تھا کہ اتنی بڑی فوج کہ جس سے مسلمانوں کا کوئی موازنہ نہیں، خلاف مصلحت ہے لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ و سلّم نے خدا کے وعدے سے انھیں جوش دلایا اور انھیں جنگ پر اُبھارا۔ آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ دو گروہوں میں سے ایک پر تمھیں کامیابی حاصل ہو گی قریش کے قافلے پر یا لشکرِ قریش پر اور خدا کے وعدہ کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ خدا کی قسم ابوجہل اور کئی سردارانِ قریش کے مقامِ قتل کو گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ اس کے بعد آپؐ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ بدر (تشریحی نوٹ: "بدر" دراصل قبیلہ جہینیہ کے ایک شخص کا نام تھا جس نے اس مقام پر کنواں کھودا تھا اس کے بعد وہ زمین سرزمین بدر اور کنواں چاہِ بدر کے نام سے مشہور ہو گیا۔) کے کنویں کے قریب پڑاوٴ ڈالیں۔ اس ہنگامے میں ابوسفیان اپنا قافلہ خطرے کے علاقے سے نکال لے گیا۔ اصل راستے سے ہٹ کر دریائے احمر کے ساحل کی طرف سے وہ تیزی سے مکہ پہنچ گیا۔ اس کے ایک مقاصد کے ذریعے لشکر کو پیغام بھیجا: خدا نے تمھارا قافلہ بچآ لیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان حالات میں محمدؐ کا مقابلہ کرنا ضروری نہیں کیونکہ اس کے اتنے دشمن ہیں جو اس کا حساب چکا لیں گے۔ لشکر کے کمانڈر ابوجہل نے اس تجویز کو قبول نہ کیا۔ اُس نے اپنے بڑے بتوں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی کہ نہ صرف ان کا مقابلہ کریں گے بلکہ مدینہ کے اندر تک ان کا تعاقب کریں گے یا انھیں قید کر لیں گے اور مکہ میں لے آئیں گے تاکہ اس کامیابی کا شہرہ تمام قبائلِ عرب کے کانوں تک پہنچ جائے۔ آخر کار لشکر قریش بھی مقام بدر تک آ پہنچا۔ انہوں نے اپنے غلام پانی لانے کے لئے کنویں کی طرف بھیجے۔ اصحابِ پیغمبر نے انہیں پکڑ لیا اور ان سے حالات معلوم کرنے کے لئے انہیں خدمتِ پیغمبر میں لے آئے۔ حضرتؐ نے ان سے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا! ہم قریش کے غلام ہیں۔ لشکر کی تعداد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں اس کا پتہ نہیں۔ فرمایا: ہر روز کتنے اونٹ کھانے کے لئے نحر کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نو سے دس تک۔ فرمایا: ان کی تعداد ٩سو سے لے کر ایک ہزار تک ہے (ایک اونٹ ایک سو فوجی جوانوں کی خوراک ہے)۔ ماحول پُر ہیبت اور وحشت ناک تھا۔ لشکرِ قریش کے پاس فراواں جنگی ساز و سامان تھا۔ یہاں تک کہ حوصلہ بڑھانے کے لئے وہ گانے بجانے والی عورتوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔ وہ اپے سامنے ایسے حریف کو دیکھ رہے تھے کہ انھیں یقین نہیں آتا تھا کہ ان حالات میں وہ میدان جنگ میں قدم رکھے گا۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلّم دیکھ رہے تھے کہ ممکن ہے آپ کے اصحاب خوف و وحشت کی وجہ سے آرام سے سو نہ سکیں اور پھر کل دن کو تھکے ہوئے جسم اور روح کے ساتھ دشمن کے مقابل ہوں لہٰذا خدا کے وعدے کے مطابق اُن سے فرمایا: تمھاری تعداد کم ہو تو غم نہ کرو۔ آسمانی فرشتوں کی ایک عظیم جماعت تمھاری مدد کے لئے آئے گی۔ آپؐ نے انھیں خدائی وعدے کے مطابق اگلے روز فتح کی پوری تسلی دے کر مطمئن کر دیا اور وہ رات آرام سے سو گئے۔ دوسری مشکل جس سے مجاہدین کو پریشانی تھی وہ میدانِ بدر کی کیفیت تھی۔ ان کی طرف زمین نرم تھی اور اس میں پاوٴں دھنس جاتے تھے۔ رات یہ ہوا کہ خوب بارش ہوئی۔ اس کے پانی سے مجاہدین نے وضو کیا، غسل کیا اور تازہ دم ہو گئے۔ ان کے نیچے کی زمین بھی اس سے سخت ہو گئی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ دشمن کی طرف اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ وہ پریشان ہو گئے۔ دشمن کے لشکر گاہ سے مسلمان جاسوسوں کی طرف ایک نئی خبر موصول ہوئی اور جلد ہی مسلمانوں میں پھیل گئی۔ خبر یہ تھی کہ فوج قریش اپنے تمام وسائل کے باوجود خوفزدہ ہے۔ گویا وحشت کا ایک لشکر خدا نے ان کے دلوں کی سرزمین پر اُتار دیا تھا۔ اگلے روز چھوٹا سا اسلامی لشکر بڑے ولولے کے ساتھ دشمن کے سامنے صف آراء ہوا۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلّم نے پہلے انھیں صلح کی تجویز پیش کی تاکہ عذر اور بہانہ باقی نہ رہے، آپؐ نے ایک نمائندے کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ میں نہیں چاہتا کہ تم وہ پہلا گروہ بن جاوٴ کہ جس پر ہم حملہ آور ہوں۔ بعض سردارانِ قریش چاہتے تھے کہ یہ صلح ہاتھ جو ان کی طرف بڑھایا گیا ہے اسے تھام لیں اور صلح کر لیں لیکن پھر ابوجہل مانع ہوا۔ آخرکار جنگ شروع ہوئی۔ اس زمانے کے طریقے کے مطابق پہلے ایک کے مقابلے میں ایک نکلا۔ اِدھر لشکرِ اسلام میں رسول الله کے چچا حمزہ اور حضرت علی(علیه السلام) جو جوان ترین افراد تھے میدان میں نکلے۔ مجاہدین اسلام میں چند اور بہادر بھی اس جنگ میں شریک ہوئے۔ ان جوانوں نے اپنے حریفوں کے پیکر پر سخت ضربیں لگائیں اور کاری وار کیے اور ان کے قدم اکھیڑ دیئے۔ دشمن کا جذبہ اور کمزور پڑ گیا۔ یہ دیکھا تو ابوجہل نے عمومی حملے کا حکم دے دیا۔ ابوجہل پہلے ہی حکم دے چکا تھا کہ اصحابِ پیغمبر میں سے جو اہل مدینہ میں سے ہیں انھی قتل کر دو، مہاجرین مکہ کو اسیر کر لو۔ مقصد یہ تھا کہ پراپیگنڈا کے لئے انھیں مکہ لے جائیں۔ یہ لمحات بڑے حسّاس تھے۔ رسول الله نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جمعیت کی کثرت پر نظر نہ کریں اور صرف اپنے مدمقابل پر نگاہ رکھیں۔ دانتوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر پیسیں، باتیں کم کریں، خدا سے مدد طلب کریں، حکمِ پیغمبر سے کہیں رتی بھر سرتابی نہ کریں اور مکمل کامیابی کی اُمید رکھیں۔ رسول الله نے دستِ دعا آسمان کی طرف بلند کئے اور عرض کیا: یا رب ان تھلک ھذہ العصابۃ، لہ تعبد۔ پروردگارا اگر یہ گروہ مارا گیا تو کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں ہو گا۔ دشمن کے لشکر کی سمت میں سخت ہوا چل رہی تھی اور مسلمان ہوا کی طرف پشت کرکے ان پر حملے کررہے تھے۔ ان کی استقامت، پامردی اور دلاوری نے قریش کا ناطہ بند کر دیا۔ ابوجہل سمیت دشمن کے ستر آدمی قتل ہو گئے ہیں ان کی لاشیں خاک و خون میں غلطان پڑی تھیں۔ ستر افراد ہی مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہو گئے۔ مسلمانوں کے بہت کم افراد شہید ہوئے۔ اس طرح مسلمانوں کی پہلی مسلح جنگ طاقتور دشمن کے خلاف غیر متوقع کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر الثقلین، ج٢، ص۱۲۱ تا ص١۲٦ اور تفسیر مجمع البیان، ج۴، ص۵۲۱تا۵۲۳ (اختصار تلخیص کے ساتھ کہیں کہیں وضاحت بھی کی گئی ہے)۔۱۔ تفسیر نور الثقلین

جنگ بدر میں خدائی وعدے کی طرف اشارہ

جنگ بدر کی کچھ کیفیت بیان ہو چکی ہے۔ اب ہم زیرِ نظر آیت کی تفسیر کی جانب لوٹتے ہیں۔ پہلی آیت میں جنگ بدر میں اجمالی طور پر کامیابی کے خدائی وعدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے تم سے وعدہ کیا کہ دو گروہوں میں سے ایک (قریش کا تجارتی قافلہ یا لشکرِ قریش) تمھارے قبضے میں دے گا (وَإِذْ یَعِدُکُمْ اللهُ إِحْدیٰ الطَّائِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ)۔ لیکن تم جنگ کی مصیبت، اس سے تلف ہونے والے جان و مال اور اس سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کی وجہ سے چاہتے تھے کہ قافلہ تمھارے قبضے میں آ جائے نہ کہ لشکرِ قریش (وَتَوَدُّونَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ تَکُونُ لَکُمْ)۔ روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلّم نے ان سے فرمایا: احدی الطائفتین لکم امّا العیر وامّا النفیر- "عیر" کا معنی ہے "قافلہ" اور "نفیر" کا معنی ہے "لشکر"۔ لیکن جیسا کہ آپ آیت میں ملاحظہ کر رہے ہیں کہ "لشکر" کے لئے "ذات الشوکة" اور "قافلہ" "غیر ذات الشوکة" آیا ہے۔ یہ تعبیر ایک لطیف نکتے کی حامل ہے کیونکہ "شوکة" کہ جو قدرت و شدّت کے معنی میں ہے دراصل "شوک" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے "کاٹنا" بعد ازاں یہ لفظ فوجیوں کے نیزوں کی انیوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہونے لگا اور پھر ہر قسم کے ہتھیاروں کو "شوکة" کہا جانے لگا۔ لہٰذا "ذات الشوکة" مسلح فوج کے معنی میں ہے اور "غیر ذات الشوکة" غیر مسلح قافلے کے مفہوم میں ہے۔ اب اگر اس میں کچھ مسلح بھی تھے تو مسلم ہے کہ وہ زیادہ نہ تھے۔ مفہوم یہ ہوا کہ: تم میں سے ایک گروہ آرام طلبی کے لئے یا مادّی مفاد کے لئے چاہتا تھا کہ مالِ تجارت کی طرف جایا جائے نہ کہ مسلح فوج کا سامنا کیا جائے حالانکہ اختتامِ جنگ نے ثابت کر دیا کہ ان کی حقیقی مصلحت اس میں تھی کہ وہ دشمن کی فوجی طاقت کو درہم و برہم کر دیں تاکہ آئندہ کی کامیابیوں کی راہ ہموار ہو جائے لہٰذا اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: خدا چاہتا ہے کہ اس طرح سے اپنے کلمات سے حق کو ثابت کرے اور دینِ اسلام کو تقویت دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے (وَیُرِیدُ اللهُ اَنْ یُحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ)۔(تشریحی نوٹ: "دابر" کسی چیز کے عقب اور پچھلے حصے کو کہتے ہیں۔ اس بناء پر قطع دابر ریشہ کنی اور جڑ کاٹنے کے معنی میں ہے۔) لہٰذا یہ تم مسلمانوں کے لئے بہت بڑا درسِ عبرت تھا کہ مختلف حوادث میں ہمیشہ دور اندیشی سے کام لو، مستقبل کی تعمیر کرو، کوتاہ اندیش نہ بنو اور صرف آج کی فکر میں نہ رہو اگرچہ دور اندیشی اور انجامِ کار پر نظر رکھنے میں ایک وسیع اور ہمہ گیر کامیابی ہے جبکہ دوسری کامیابی ایک سطحی اور وقتی کامیابی ہے۔ یہ صرف اس زمانے کے مسلمانوں کے لئے درس عبرت نہیں ہے بلکہ آج کے مسلمانوں کو بھی اس آسمانی تعلیم سے الہام لینا چاہیے۔ مشکلات، پریشانیوں اور طاقت فرسا مصیبتوں کی وجہ سے اصولی پروگرام سے چشم پوشی کر کے غیر اصولی، معمولی اور کم وقت طلب کاموں کے پیچھے ہرگز نہیں جانا چاہیے۔ اگلی آیت میں زیادہ واضح طور پر اس مطلب سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس پروگرام کا (مسلمانوں کی میدان بدر میں فوجِ دشمن سے مڈبھیڑ کا) اصلی ہدف اور مقصد یہ تھا کہ حق یعنی توحید، اسلام، عدالت اور انسانی آزادی خرافات قید و بند اور مظالم کے چنگل سے آزاد ہو جائے اور باطل یعنی شرک، کفر، بےایمانی، ظلم اور فساد ختم ہو جائے اگرچہ مجرم مشرکین اور مشرک مجرمین اسے پسند نہ کریں (لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُونَ)۔ کیا یہ آیت گذشتہ آیت کے مفہوم کی تاکید کرتی ہے جیسا کہ پہلی نظر میں دکھائی دیتا ہے یا اس کوئی نیا مفہوم ہے اس سلسلے میں بعض مفسّرین نے مثلاً فخر الدین رازی نے "تفسیر کبیر" میں اور صاحب المنار نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ لفظ "حق" گذشتہ آیت میں جنگ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے لیکن یہی لفظ دوسری آیت میں اسلام اور قرآن کی اس کامیابی کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر میں فوجی کامیابی کے نتیجہ میں حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح سے فوجی کامیابی ان خاص حالات میں ہدف، مقصد اور مکتب کی کامیابی کی تمہید تھی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پہلی آیت خدا کے (تشریعی) ارادے کی طرف اشارہ ہو (جو پیغمبر کے فرمان کی صورت میں ظاہر ہوا تھا) اور دوسری آیت میں اس حکم اور فرمان کے نتیجے کی طرف اشارہ ہو (غور کیجئے گا)

9
8:9
إِذۡ تَسۡتَغِيثُونَ رَبَّكُمۡ فَٱسۡتَجَابَ لَكُمۡ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلۡفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ مُرۡدِفِينَ
وہ وقت (یاد کرو جب پریشانی کے عالم میں میدان بدر میں ) اپنے رب سے تم مدد چاہ رہے تھے اور اس نے تمہاری خواہش کو پورا کر دیا (اور کہا) کہ میں تمہاری ایک ہزار ایسے فرشتوں سے مدد کروں گا جو ایک دوسرے کے پیچھے آ رہے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
8:10
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ وَلِتَطۡمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمۡۚ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
لیکن خدا نے یہ صرف تمہاری خوشی اور تمہارے اطمینان قلب کیلئے کیا ورنہ بغیر خدا کی جانب (رجوع) کے کامیابی نہیں ہے یقیناً اللہ تو انا اور حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
8:11
إِذۡ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةٗ مِّنۡهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيۡكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذۡهِبَ عَنكُمۡ رِجۡزَ ٱلشَّيۡطَٰنِ وَلِيَرۡبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمۡ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلۡأَقۡدَامَ
وہ وقت (یاد کرو) جب اونگھ نے جو کہ آرام اور سکون کا سبب تھی خدا کی طرف سے تمہیں گھیر لیا اور آسمان کی طرف سے تم پر پانی نازل کیا تاکہ اس سے وہ تمہیں پاک کرے، اور شیطانی پلیدی تم سے دور کرے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور تمہیں ثابت قدم بنا دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
8:12
إِذۡ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمۡ فَثَبِّتُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ سَأُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ فَٱضۡرِبُواْ فَوۡقَ ٱلۡأَعۡنَاقِ وَٱضۡرِبُواْ مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٖ
وہ وقت (یاد کر) جب تیرے پروردگار نے فرشتوں کو وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں ثابت قدم رکھو‘ میں جلد ہی کافروں کے دل میں خوف اور وحشت ڈال دوں گا۔پس تم دشمنوں کے (سروں ) گردنوں پر ضربیں لگاؤ اور ان کے ہاتھ پاؤں بے کار کر دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
8:13
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ شَآقُّواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَمَن يُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
یہ اس بناء پر ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے پیغمبر سے دشمنی کی ہے اور جو بھی اللہ اور اس کے پیغمبر سے دشمنی کرے گا (وہ سخت سزا پائے گا) تحقیق اللہ شدید العقاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
8:14
ذَٰلِكُمۡ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ
یہ (دنیاوی سزا) چکھو اور کافروں کیلئے تو (جہنم کی) آگ کی سزا (دوسرے جہان میں ) ہو گی۔

بدر کے تربیتی درس

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات جنگ بدر کے حسّاس مواقع کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اس خطرناک موقع پر خدا نے مسلمانوں کو جن طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا ان میں ان کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ ان میں اطاعت اور شکر گزاری کا جذبہ ابھارا جائے اور ان کے سامنے آئندہ کی کامیابیوں کا راستہ کھول دیا جائے۔ پہلے فرشتوں کی مدد کا ذکر ہے، ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب دشمن کی کثرتِ تعداد اور ان کے زیادہ جنگی ساز و سامان سے وحشت و اضطراب کے باعث تم نے خدا کی پناہ لی اور دستِ حاجت اس کی طرف دراز کیا اور اس سے مدد کی درخواست کی (إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ)۔ کچھ روایات میں آیا ہے کہ خدا سے استغاثہ اور مدد طلب کرنے میں رسول اللهؐ بھی مسلمانوں کے ساتھ ہم آواز تھے آپؐ نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر رکھے تھے اور کہہ رہے تھے: اللّٰھمّ انجز لی ماوعدتنی اللّٰھمّ ان تھلک ھٰذہ العصابة لاتعبد فی الارض- خدایا! مجھ سے جو تو نے وعدہ کیا تھا اُسے پورا کر دے۔ پروردگار! اگر مومنین کا یہ گروہ مارا گیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ آپؐ نے اس اتسغاثہ اور دعا کو اتنا طول دیا کہ عبا آپ کے دوش مبارک سے گر گئی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔) اس وقت خدا نے تمھاری دعا اور درخواست کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمھاری نصرت کروں گا جو ایک دوسرے کے پیچھے آ رہے ہوں گے (فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّی مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَةِ مُرْدِفِینَ)۔ "مردفین" کا مادہ "ارداف" ہے، اس کا معنی ہے ایک دوسرے کے پیچھے ہونا۔ اس بناء پر اس لفظ کا مفہوم یہ ہو گا کہ فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے۔ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ ایک ہزار کا دستہ تھا اور دیگر دستے اس کے پیچھے تھے۔ اس طرح سے سورہٴ آل عمران کی آیہ ۱۲۴ بھی اس مفہوم پر منطبق ہو جاتی ہے جس میں ہے کہ پیغمبرؐ نے مومنین سے کہا: کیا یہ کافی نہیں ہے کہ خدا نے تمھاری تین ہزار فرشتوں کے ساتھ مدد کی۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ جنگ بدر میں فرشتوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور "مردفین‘‘ اس ایک ہزار کی صفت ہے۔ سورہٴ آل عمران کی آیت مسلمانوں سے ایک خدائی وعدہ تھا کہ اگر ضرورت پڑھی تو خدا مزید تمھاری مدد کے لئے بھیجتے گا۔ اس کے بعد کہ کہیں یہ خیال پیدا ہو کہ کامیابی فرشتوں یا اِن جیسوں کے ہاتھ میں ہے، فرمایا گیا ہے: خدا نے ایسا صرف بشارت کے طور پر اور تمھارے اطمینانِ قلب کے لئے کیا (وَمَا جَعَلَہُ اللهُ إِلاَّ بُشْریٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِہِ قُلُوبُکُمْ)۔ ورنہ کامیابی تو صرف خدا کی طرف سے ہے اور ان ظاہری اور باطنی اسباب کے اوپر اس کا ارادہ مشیت ہے (وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللهِ)۔ کیونکہ ایسا خدا قادر و قوی ہے کہ کوئی بھی اس کے ارادہ اور مشیّت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا اور ایسا حکیم و دانا ہے کہ اس کی مدد اصل افراد کے علاوہ کو نہیں پہنچتی (إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔

کیا فرشتوں نے جنگ گی تھی؟

مفسّرین کے درمیان اس سلسلے میں بہت اختلاف ہے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ فرشتے یاقاعدہ معرکہ جنگ میں شریک ہوئے اور انھوں نے ایسے ہتھیاروں سے دشمن کے لشکر پر حملہ کیا جو انہی سے مخصوص تھے۔ انھوں نے ان میں سے کچھ افراد کو ڈھیر کر دیا۔ اس سلسلے میں ان مفسّرین نے کچھ زیادہ روایات بھی نقل کی ہیں۔ کچھ قرائن ایسے بھی ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ دوسرے گروہ کا نظریہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے جو کہتے ہیں کہ فرشتے صرف مومنین کی دلجوئی اور روحانی تقویت کے لئے نازل ہوئے تھے۔ کیونکہ: ۱۔ ہم مندرجہ بالا آیت میں پڑھ چکے ہیں کہ فرمایا گیا ہے: یہ سب کچھ تمھارے اطمینانِ قلب کے لئے تھا تاکہ اس پشت پناہی کے احساس سے بہتر طور پر جنگ کر سکو، نہ یہ کہ فرشتوں نے جنگ کے لئے قدم بڑھایا۔ ۲۔ اگر فرشتوں نے بہادرانہ جنگ سے دشمن کے سپاہیوں کو چت کر دیا تو مجاہدین بدر کی کونسی فضیلت باقی رہ جاتی ہے جو روایات میں بڑے زور و شور سے بیان کی گئی ہے۔ ۳۔ بدر میں دشمن کے مقتولین کی تعداد ستر(۷۰) افراد ہے۔ اس میں سے ایک بڑا حصّہ حضرت علی علیہ السلام کی تلوار سے قتل ہوا اور باقی دیگر مجاہدینِ اسلام کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ان مجاہدین میں سے بیشتر کے نام تاریخ میں مذکور ہیں اس بناء پر فرشتوں کے لئے کونسے باقی رہ جاتے ہیں اور انھوں نے کتنے افراد قتل کئے۔ اس کے بعد خداتعالیٰ مومنین کو اپنی دوسری نعمت باد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب تمھیں اونگھ نے گھیر لیا جو خدا کی طرف سے تمھارے جسم و روح کے لئے باعثِ سکون تھی (إِذْ یُغَشِّیکُمْ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِنْہُ)۔ "یغشی" "غشیان" کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے ڈھاپنا اور احاطہ کرنا۔ گویا نیند ایک پردے کی طرح ان پر ڈال دی گئی اور اس نے انھیں ڈھانپ لیا۔ "نعاس" نیند کی ابتدا (اونگھ) یا تھوڑی اور ہلکی سی آرام بخش نیند کو کہا جاتا ہے اور شاید اس طرف اشارہ ہے کہ عین استراحت کے باوجود اس طرح گہری نیند تم پر مسلط نہیں ہوئی کہ دشمن موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تم پر شبخون مارے۔ اس طرح مسلمانوں نے اس پُر اضطراب رات میں اس عظیم نعمت سے فائدہ اٹھایا جس نے اگلے روز میدان جنگ میں ان کی بڑی مدد کی۔ تیسری نعمت جو اس میدان میں تمھیں عطا کی گئی یہ تھی کہ آسمان سے تم پر پانی برسا (وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً)۔ تاکہ اس کے ذریعے تمھیں پاک کرے اور شیطانی نجاست تم سے دور کرے (لِیُطَھِّرَکُمْ بِہِ وَیُذْھِبَ عَنکُمْ رِجْزَ الشَّیْطَانِ)۔ یہ نجاست ہو سکتا ہے شیطانی وسوسے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس شب بعض کے مجنب ہو جانے کی وجہ سے جسمانی ناپاکی ہو یا ممکن ہے دونوں قسموں کی نجاست ہو۔ بہرحال اس حیات بخش پانی نے جو بدر کے اطراف کے گھڑوں میں جمع ہو گیا تھا۔ دشمن نے کنویں اپنے قبضے لے رکھے تھے اور مسلمانوں کو طہارت اور پینے کے لئے پانی کی سخت ضرورت تھی۔ اس حالت میں بارش کے اس پانی نے ان سب نجاستوں کو دھو ڈالا اور انھیں بہا لے گیا۔ علاوہ ازیں خدا چاہتا تھا کہ اس نعمت کے ذریعے تمھارے دلوں کو محکم کر دے (وَلِیَرْبِطَ عَلیٰ قُلُوبِکُمْ)۔ نیز چاہتا تھا کہ یہ ریتلی زمین جس میں تمھارے پاوٴں دھنس جاتے تھے اور پھسل جاتے تھے بارش کے برسنے کی وجہ سے مضبوط ہو جائے تاکہ تمھارے قدم مضبوط ہو جائیں (وَیُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ثابت قدمی سے مراد روح کی تقویت اور جوش و ولولہ میں اضافہ ہو یا ہو سکتا ہے دونوں چیزیں مراد ہوں۔ مجاہدینِ بدر پر پروردگار کی نعمتوں میں سے ایک نعمت وہ خوف و ہراس تھا جو دشمنوں کے دلوں میں ڈال دیا گیا تھا جس نے ان کے حوصلوں کو متزلزل کر رکھا تھا، اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی کہ میں تمھارے ساتھ ہوں اور تم اہلِ ایمان کو تقویت دو اور انھیں ثابت قدم رکھو (إِذْ یُوحِی رَبُّکَ إِلَی الْمَلَائِکَةِ اَنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِینَ آمَنُوا)۔ اور عنقریب میں کافروں کے دلوں میں خوف اور وحشت ڈال دوں گا۔ (سَاُلْقِی فِی قُلُوبِ الَّذِینَ کَفَرُوا الرُّعْبَ)۔ واقعاً یہ عجیب و غریب بات تھی کہ تواریخ کے مطابق مسلمانوں کے چھوٹے سے لشکر کے مقابلے قریش کی طاقتور فوج نفسیاتی طور پر اس قدر شکست خوردہ ہو چکی تھی کہ ان میں سے ایک گروہ مسلمانوں سے جنگ کرنے سے ڈرتا تھا، بعض اوقات وہ دل میں سوچتے کہ یہ عام انسان نہیں ہیں، بعض کہتے کہ یہ موت کو اپنے اونٹوں پر لاد کر مدینہ سے تمھارے لئے سوغات لائے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ دشمن کے دل میں یہ خوف ڈالنا کہ جو کامیابی کے عوامل میں سے ایک موٴثر عامل ہے، بلاوجہ نہ تھا۔ مسلمانوں کی وہ پامردی، ان کی نماز جماعت، ان کے حرارت بخش شعار اور سچّے مومنین کا اظہارِ وفاداری، سب کچھ اپنی تاثیر مرتب کر رہا تھا۔ سعد بن معاذ انصار کے نمائندہ کے طور پر خدمتِ پیغمبرؐ میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے الله کے رسول! ہم آپ پر ایمان لائے اور ہم نے آپ کی نبوت کی گواہی دی ہے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں خدا کی طرف سے ہے، آپ جو بھی حکم دینا چاہیں دیجئے اور ہمارے مال میں جو کچھ آپ چاہیں لے لیں، خدا کی قسم اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ اس دریا (دریائے احمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو وہاں سے قریب تھا) کود پڑو تو ہم کود پڑیں گے، ہماری یہ آرزو ہے کہ خدا ہمیں توفیق دے کہ ایسی خدمت کریں جو آپ کی آنکھ کی روشنی کا باعث ہو۔ جی ہاں، ایسی گفتگو جو دوست اور دشمن میں پھیل جاتی تھی، اس استقامت کے علاوہ جو وہ پہلے ہی مکہ میں مسلمان مردوں اور عورتوں میں دیکھ چکے تھے۔ سب باتیں اکھٹی ہو گئیں اور اس سے دشمن وحشت زدہ ہو گیا۔ دشمن کی طرف سخت آندھی چل رہی تھی، اُن پر موسلا دھار بارش برس رہی تھی، عاتکہ کے وحشت ناک خواب کا بھی مکہ میں چرچا ہو چکا تھا، یہ اور دوسرے عوامل مل کر انھیں خوفزدہ کئے ہوئے تھے، اس کے بعد الله تعالیٰ نے میدانِ بدر میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلّم کے ذریعے مسلمانوں کو جو پیغام دیا تھا وہ انھیں یاد دلایا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ: مشرکین سے جنگ کرتے وقت غیر موٴثر ضربوں سے پرہیز کرو اور انھیں ضائع نہ کرو بلکہ دشمن پر کاری ضربیں لگاوٴ "گردن سے اُوپر ان کے مغز اور سر پر ضرب لگاوٴ" (فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ)۔ "اور ان کے ہاتھ پاوٴں بیکار کر دو" (وَاضْرِبُوا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ)۔ "بَنَانٍ" "بَنَانة" کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ہاتھ پاؤں کی انگلی کی پور۔ خود انگلی کو بھی "بَنَانة" کہتے ہیں۔ زیر بحث آیات میں ہو سکتا ہے ہاتھ پاؤں کے لئے کنایہ کے طور پر یہ لفظ آیا ہو اور یا پھر اپنے اصلی معنی میں ہو، کیونکہ اگر ہاتھ کی انگلیاں کٹ جائیں اور بے کار ہو جائیں تو انسان ہتھیار اٹھانے کے قابل نہیں رہتا اور اگر پاؤں کی انگلیاں کٹ جائیں تو چلنے کی طاقت نہیں رہتی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اگر حملہ آور دشمن پیادہ ہو تو اس کے سر کو نشانہ بناوٴ اور اگر سوار ہو تو اس کے ہاتھ پاوٴں کو۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ بعض اس جملے کو ملائکہ سے خطاب سمجھتے ہیں لیکن قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ اس میں مخاطب مسلمان ہی ہیں اور اگر فرشتے بھی مخاطب ہوں تو ہو سکتا ہے کہ دماغ اور ہاتھ پاوٴں پر ضرب لگانے سے مراد یہ ہو کہ ان پر ایسا خوف طاری کرو کہ کام کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پاوٴں ہل جائیں اور سر نیچے جھک جائیں (البتہ یہ تفسیر ظاہر عبارت کے خلاف ہے اور ملائکہ کے جنگ نہ کرنے کے بارے میں قرائن بیان کئے جا چکے ہیں اسی کو ثابت سمجھنا چاہیے)۔ ان تمام باتوں کے بعد اس بنا پر کوئی ان سخت فرامین اور سرکوبی کرنے والے ان لازمی و قطعی احکام کو آئین جوانمردی اور رحم و انصاف کے خلاف تصور نہ کرے فرمایا گیا ہے: وہ اس چیز کے مسحتق ہیں کیونکہ وہ خدا اور اس کے پیغمبر کے سامنے عداوت، دشمنی، نافرانی اور سرکشی پر اُتر آئے ہیں (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَاقُّوا اللهَ وَرَسُولَہُ)۔ "شَاقُّوا" "شقاق" کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے شگاف اور جدائی اور چونکہ مخالف دشمن اور معصیت کار اپنی صف جدا کر لیتا ہے لہٰذا اس عمل کو "شقاق" کہتے ہیں اور جو شخص بھی خدا اور پیغمبر کی مخالفت کے دروازے سے داخل ہو گا وہ دنیا و آخرت میں دردناک سزا میں گرفتار ہو گا کیونکہ (جس طرح اس کی رحمت وسیع اور لامتناہی ہے) اس کی سزا بھی شدید اور دردناک ہے (وَمَنْ یُشَاقِقْ اللهَ وَرَسُولَہُ فَإِنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔ اس کے بعد اس امر کی تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے: اس دنیا کی سزا کا مزہ چکھو، میدان جنگ میں کاری ضربوں، قتل، قید اور شکست کی سزا بھگتو اور دوسرے جہاں کی سزا کے منتظر رہو (کیونکہ جہنم کی) آگ کا عذاب کافروں کے انتظار میں ہے (ذَلِکُمْ فَذُوقُوہُ وَاَنَّ لِلْکَافِرِینَ عَذَابَ النَّارِ)۔

15
8:15
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ زَحۡفٗا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلۡأَدۡبَارَ
اے ایمان والو ! جب میدان جنگ میں کافروں کا سامنا کرو تو ان سے پشت نہ پھیرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
8:16
وَمَن يُوَلِّهِمۡ يَوۡمَئِذٖ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفٗا لِّقِتَالٍ أَوۡ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٖ فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اور جو شخص اس وقت ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر یہ کہ اس کا مقصد میدان سے لوٹ کر نیا حملہ کرنا ہو یا (مجاہدین کے) گروہ سے ملنا ہوتو (ایسا شخص) غضب پروردگار میں گرفتار ہو گا اور اس کی قرار گاہ جہنم ہے اور وہ کیسی بری جگہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
8:17
فَلَمۡ تَقۡتُلُوهُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمۡۚ وَمَا رَمَيۡتَ إِذۡ رَمَيۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ وَلِيُبۡلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡهُ بَلَآءً حَسَنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
یہ تم نہ تھے جنہوں نے انہیں قتل کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا ہے اور (اے پیغمبر!) یہ تو نہ تھا جس نے (ان کے چہروں پر) مٹی پھینکی بلکہ خدا نے پھینکی تھی اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ مومنین کو اس طرح اچھی طرح آزما لے۔ یقیناً اللہ سننے والااور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
8:18
ذَٰلِكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيۡدِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
مومنین اور کافرین کی سر نوشت یہی ہے جو تم نے دیکھ لی اور خدا کفار کی سازشوں کو کمزور کرنے والا ہے۔

جہاد سے فرار ممنوع ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ گذشتہ آیات کی تفسیر میں اشارہ ہو چکا ہے کہ جنگ بدر کی کامیابی اور خدا کی اور بہت سی نعمتیں جو اس نے مسلمانوں پر اس واقعہ میں کی تھی تاکہ وہ گذشتہ اور آئندہ کے حوالے سے ان سے سبق حاصل کریں۔ لہٰذا زیرِ نظر آیات میں روئے سخن مومنین کی طرف کرتے ہوئے ان سے ایک عمومی جنگی اصول اور حکم نصیحت اور تاکید کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے وہ لوگو! جو ایمان لا چکے ہو جب بھی میدان جنگ میں کافروں سے تمھارا آمنا سامنا ہو تو انھیں پشت نہ دکھاوٴ اور راہِ فرار اختیار نہ کرو (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا لَقِیتُمْ الَّذِینَ کَفَرُوا زَحْفًا فَلَاتُوَلُّوھُمَ الْاَدْبَارَ)۔ ”لَقِیتُمْ“، ”لَقِاء“ کے مادہ سے اجتماع اور روبرو ہونے کے معنی میں ہے لیکن اکثر مواقع پر میدانِ جنگ میں آمنا سامنا ہونے کے معنی میں آیا ہے۔ ”زحف“ اصل میں کسی چیز کی طرف حرکت کرنے کے معنی میں ہے اس طرح سے کہ پاوٴں زمین کی طرف کھنچے چلے جائیں جیسے بچہ ٹھیک طرح سے چلنے پھرنے سے پہلے چلنے کی کوشش کرتا ہے یا جیسے اونٹ جب تھک جاتا ہے تو اپنے پاوٴں زمین پر کھینچتا ہے۔ بعدازاں کثیر تعداد والے لشکر کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہونے لگا کیونکہ دُور سے یوں لگتا ہے جیسے زمین پر لڑکھڑاتا ہوا آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں لف ”زحف“ اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ دشمن کی تعداد سازوسامان کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر ہو اور تم اقلیّت میں ہو پھر بھی تمہیں میدانِ جنگ سے فرار نہیں کرنا چاہیے۔ جیسے میدانِ بدر سے دشمنوں کی تعداد تم سے کئی گُنا زیادہ تھی اور تم نے ثابت قدمی دکھائی اور بالآخر کامیاب ہو گئے۔ اصولی طور پر جنگ سے بھاگنا اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار ہوتا ہے۔ قرآن کی بعض آیات پر توجہ کی جائے تو زیادہ سے زیادہ ان میں یہ بات اس امر سے مشروط ہے کہ دشمن کا لشکر زیادہ سے زیادہ دوگنا ہو، اس کے بارے میں اسی سورہ کی آیت ۶۵ و۶۶ کے ذیل میں انشاء الله بحث کی جائے گی۔ اسی بنا پر اگلی آیت میں بعض مواقع کے استثناء کے ساتھ میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیرنے والوں کے بارے میں کہا گیا ہے: جو لوگ دشمن سے جنگ کرتے وقت ان سے پشت پھیر لیں مگر یہ کہ یہ کنارہ کشی جنگی چال کے لئے ہو یا مسلمان گروہ سے مل کر نئے حملے کے لئے ہو، تو ایسے لوگ الله کے غضب میں گرفتار ہوں گے (وَمَنْ یُوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا إِلیٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنْ اللهِ)۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ فرار کے معاملے میں اس آیت میں دو استثنائی صورتیں بیان کی گئی ہیں جو ظاہری طور پر فرار ہیں لیکن دراصل مقابلے اور جہاد کی صورتیں ہیں۔ پہلی صورت کو ”مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ“ کہا گیا ہے۔ ”متحرف“، ”تحرف“ کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے درمیان سے اطراف کی طرف ہٹنا، اس سے مراد یہ ہے کہ سپاہی ایک جنگی تکنیک کے طور پر دشمن کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوں اور ایک طرف ہٹ جائیں تاکہ اُسے اپنے پیچھے کھینچ لائیں اور اسے غفلت میں ڈال کر اس کے پیکر پر اچانک ضرب لگائیں اور یا جنگ اور بھاگنے کی تکنیک سے دشمن کو تھکا دیں کیونکہ جنگ میں کبھی حملہ کیا جاتا ہے اور کبھی نئے حملے کے لئے پیچھے ہٹ آنا پڑتا ہے۔ عرب کے بقول: ”الحرب کرّوفرّ___ یعنی جنگ جھپٹنے اور پلٹنے کا نام ہے“۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سپاہی میدان میں اپنے کو اکیلا پائے اور دیگر فوجی سپاہیوں سے ملنے کے لئے پیچھے ہٹ آئے اور ان سے مل جانے کے بعد حملہ شروع کرے۔ بہرحال، میدان سے بھاگنے کی حرمت کی خشک صورت میں تفسیر نہیں کی جانی چاہئے کہ جس سے جنگی حکمتِ عملی اور تدابیر ہی ختم ہو جائیں کیونکہ جنگی تدایر بہت سی کامیابیوں کا سرچشمہ ہوتی ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جنگ سے بھاگ جانے والے نہ صرف غضب الٰہی کا شکار ہوں گے بلکہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسی بُری جگہ ہے (وَمَاْوَاہُ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ)۔ ”باء“، ”بواء“ کے مادہ سے مراجعت اور جگہ لینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کے اصلی معنی ہیں کسی مقام یا مکان کو صاف وشفّاف اور ہموار کرنا۔ چونکہ انسان جب کوئی مکان لیتا ہے تو اپنی جگہ صاف اور ہموار کرتا ہے لہٰذا یہ لفظ اس مفہوم میں آیا ہے اور اسی طرح چونکہ انسان رہائش گاہ کی طرف پلٹ کر آتا ہے لہٰذا بازگشت اور لوٹ آنے کے معنی میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ پروردگار کا مسلسل اور دائمی غضب ان کے شاملِ حال رہے گا۔ گویا انہوں نے غضب الٰہی میں گھر بنا لیا ہے۔ ”ماویٰ“ اصل میں ”پناہگاہ“ کے معنی میں ہے اور یہ جو مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ جہاد سے بھاگنے والوں کا ”ماویٰ“ جہنم ہے تو یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے بھاگ کر اپنے لئے کوئی پناہگاہ ڈھونڈتے ہیں تاکہ ہلاکت سے محفوظ رہیں۔ لیکن (ان کی خواہش کے) برعکس، ان کی پناہگاہ جہنم ہو گی، نہ صرف دوسرے جہان میں بلکہ وہ اس جہان میں بھی ذلّت، بدبختی، شکست اور محرومیت کی جلانے والی جہنم کی پناہگاہ میں ہوں گے۔ اسی لئے کتاب ”عیون الاخبار“ میں ہے کہ امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کے ایک صحابی نے بہت سے احکام فلسفے کے بارے میں پوچھا۔ اس سلسلے میں آپ(علیه السلام) نے تحریر فرمایا: جہاد سے فرار کو خدا نے اس لئے حرام قرار دیا ہے کیونکہ یہ دین کی کمزوری اور تنزّلی کا سبب اور انبیاء، آئمہ اور عادل پیشواوٴں کے پروگرام کی تحقیر وتذلیل کا باعث ہوتا ہے۔ نیز اس کے سبب مسلمان دشمن پر کامیابی حاصل نہیں کر پاتے اور دشمن کو توحیدِ پروردگار، اجرائے عدالت اور ترک ظلم وفساد کی دعوت کی مخالفت پر سزا نہیں دے سکتے اور اس کے سبب دشمن مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ جسور اور بے باک ہو جائیں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کے ہاتھوں قتل ہوں گے اور قید ہوں گے اور آخر کار الله کا دین صفحہٴ ہستی سے مٹ جائے گا۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۱۳۸)۔ حضرت علی علیہ السلام کو جو بہت سے امتیازات حاصل تھے اور آپ(علیه السلام) کبھی کبھار دوسروں کی تشویق کے لئے جن کی طرف اشارہ کرتے تھے ان میں سے ایک میدانِ جنگ سے فرار نہ کرنا بھی تھا۔ آپ(علیه السلام) فرماتے ہیں: انّی لم افرّ من الزحف قطّ ولم یبرزنی اٴحد الّا سقیت الارض من دمہ- (حالانکہ میں نے پوری زندگی میں بہت سی جنگو ں میں شرکت کی ہے لیکن) میں نے دشمن کی فوج کے سامنے کبھی فرار نہیں کیا اور کوئی شخص میدانِ جنگ میں میرے سامنے نہیں آیا مگر یہ کہ میں نے اس کے خون سے زمین کو سیراب کر دیا۔(بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۱۳۹)۔ تعجب کی بات ہے کہ بعض اہل سنّت مفسّرین اس بات پر مصر ہیں کہ زیر بحث آیت کا حکم جنگ بدر سے مخصوص تھا اور یہ تہدید وسرزنش جو جہاد سے فرار کرنے والوں کے بارے میں ہے صرف بدر کے مجاہدین سے مربوط ہے۔ حالانکہ نہ صرف آیت کے لئے اختصاص کی کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ آیت کا مفہوم تمام جنگ کرنے والوں اور تمام مجاہدین کے لئے عمومی ہے۔ نیز آیات وروایات کے قرائن بھی اسی امر کی تائید کرتے ہیں (البتہ اس اسلامی حکم کی کچھ شرائط ہیں جن کا تذکرہ اسی سورہ کی آئندہ آیات میں آئے گا)۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ مسلمان جنگ بدر کی کامیابی پر مغرور نہ ہوں اور صرف اپنی جسمانی قوت وطاقت پر بھروسہ نہ کرنے لگ جائیں بلکہ ہمیشہ اپنے قلب وروح کو یادِ الٰہی اور نصرتِ خدا سے گرم اور روشن رکھیں، ارشاد فرمایا گیا ہے: میدان بدر یہ تم نے دشمن کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انھیں قتل کیا ہے (فَلَمْ تَقْتُلُوھُمْ وَلَکِنَّ اللهَ قَتَلَھُمْ)۔ اور ائے پیغمبر! ان کے چہروں پر تونے مٹی اور ریت نہیں پھینکی، بلکہ خدا نے پھینکی ہے (وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللهَ رَمیٰ)۔ اسلامی روایات میں ہے اور مفسّرین نے بیان کیا ہے کہ روزِ بدر رسول الله نے حضرت علی(علیه السلام) سے فرمایا: زمین سے مٹی اور سنگریزوں کی ایک مٹھی بھر کے مجھے دے دو۔ حضرت علی(علیه السلام) نے ایسا ہی کیا اور رسولِ خدا نے اسے مشرکین کی طرف پھینک دیا اور فرمایا: ”شاہت الوجوہ“ تمھارے منھ قبیح اور سیاہ ہو جائیں۔ لکھا ہے کہ معجزانہ طور پر وہ گردو غبار اور سنگریزے دشمنوں کی آنکھوں میں جاپڑے اور وہ سب وحشت زدہ ہو گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ظاہراً یہ سب کام رسول الله نے اور مجاہدینِ بدر نے انجام دیئے لیکن یہ جو کہا گیا ہے کہ تم نے یہ کام نہیں کیا، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ: اوّل تو وہ جسمانی ، روحانی اور ایمانی طاقت کہ جو اس سارے معاملے کا سرچشمہ تھی، تمہیں خدا کی طرف سے بخشی گئی تھی اور تم نے اس راستے میں خدا کی بخشی ہوئی طاقت سے قدم اٹھایا۔ دوم یہ کہ میدان بدر میں پر اعجاز حوادث ظاہر ہوئے کہ جن کی طرف پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے۔ یہی مجاہدین اسلام کی روحانی تقویت اور دشمنوں کی نفسیانی شکست کا سبب بنے۔ یہ غیر معمولی امور اور اثرات خدا کی طرف سے ہی تھے۔ درحقیقت، یہ آیت اس نظریے کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ: ”لا جبر ولا تفویض بل امرٌبین الامرین“ یعنی: نہ جبر ہے اور نہ تفویض اور مکمل سپردگی بلکہ معاملہ ان دونوں کے درمیان ہے۔ جیسے دشمنوں کو قتل کرنے کی نسبت مسلمانوں کی طرف دی گئی اور مٹی پھینکنے کی نسبت پیغمبر کی طرف دی گئی ہے اور ساتھ ہی ان سے یہ نسبت سلب بھی کر لی گئی ہے (غور کیجئے گا)۔ اس میں شک نہیں کہ اسی عبارتوں میں کوئی تناقض نہیں بلکہ مقصدیہ ہے کہ یہ کام بھی ہے اور خدا کا کام بھی __ تمہارا اس وجہ سے کہ تمھارے ارادے سے انجام پایا ہے اور خدا کا اس لئے کہ قوت اور مدد اس کی طرف سے ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ یہ آیت نظریہ جبر کی دلیل ہے ان کا جواب خود نفس آیت میں پنہاں ہے۔ ”وحدت وجود“ کے نظریے کے قائل جو افراد اس آیت کو اپنے نظریے کی دستاویز کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان کا جواب بھی خود آیت میں لطیف انداز میں موجود ہے۔ کیونکہ اگر خدا اور مخلوق ایک ہی ہیں تو پھر ایک شکل میں فعل کی نسبت ان کے لئے ثابت اور دوسری صورت میں نہیں کی جا سکتی۔ یہ نفی و اثبات خود خالق و مخلوق کے تعدد کی دلیل ہے اور اگر اپنی فکر کو پہلے سے کیے گئے نادرست اور تعصب آمیز فیصلوں سے خالی کر لیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ اس آیت کا کسی بھی انحرافی اور ٹیڑھے مکتب اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ مکتب واسطہ اور ”امربین الامرین“ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ بھی ایک ترتیبی مقصد کے لئے؛ یعنی آثار غرور ختم کرنے کے لئے جو عموماً کامیابیوں کے بعد انسانوں کے دامن گیر ہو جاتے ہیں۔ آیت کے آخر میں ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میدان بدر مسلمانوں کے لئے ایک آزمائش کا میدان تھا اور خدا چاہتا تھا کہ مومنین کو اپنی طرف سے اس کامیابی کے ذریعے آزمائے (وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْہُ بَلَاءً حَسَنًا)۔ ”بلآء“ در اصل آزمائش کرنے کے معنی میں ہے البتہ آزمائش کبھی نعمتوں کے ذریعے ہوتی ہے جسے ”بلآء حسن“ کہتے ہیں اور کبھی مصیبتوں اور سختیوں کے ذریعے ہوتی ہے جسے ”بلاء سیٴ“ کہتے ہیں؛ جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے: وَبَلَوْنَاھُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ ”انھیں ہم نے نعمتوں اور مصیبتوں کے ذریعے آزمایا“ ۔(اعراف۔ ۱۶۸) خدا چاہتا تھا کہ طاقتور دشمن سے پہلے مسلح تصادم میں مسلمانوں کو کامیابی کا لطف عطا کرے تاکہ وہ آئندہ کے لئے پر امید اور پر حوصلہ ہو سکیں۔ آزمائش کی صورت میں یہ الہٰی نعمت سب کے لئے تھی اور انھیں اس کامیابی سے کبھی منفی نتیجہ نہیں لینا چاہیے اور غرور و تکبر میں گرفتار نہیں ہونا چاہیے کہ کہیں وہ دشمن کو معمولی سمجھنے لگیں اور خودسازی اور تیاری کا عمل چھوڑ دیں اور لطفِ پروردگار پر بھروسہ کرنے میں غفلت کرنے لگیں۔ لہٰذا آیت کو اس جملے پر تمام کیا گیا ہے: خدا سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی (إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔ یعنی خدا نے پیغمبر اور مومنین کی صدائے استغاثہ سنی اور وہ ان کی صدقِ نیت و اخلاص نیت اور پامردی و استقامت کے مطابق ہی ان سے سلوک کرے گا۔ مخلص اور مجاہد مومن آخر کار کامیاب ہوں گے اور دکھاوا کرنے والے ریاکار اور صرف باتیں کرنے والے بے عمل شکست کھا جائیں گے۔ بعد والی آیت میں اس امر کی تاکید اور اظہار عمومیت کے لئے فرمایا گیا ہے: مومنین اور کافرین کا انجام وہی تھا جو تم نے سن لیا ہے (ذَلِکُمْ)۔(تشریحی نوٹ: یہ جملہ در حقیقت یہ ہے: ذٰلکم الذی سمعتم ہوحال الموٴمنین و الکافرین)۔ اس کے بعد علت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اللہ کفار کی سازشوں کو مومنین کے مقابلے میں کمزور کردیتا ہے تاکہ انھیں اور ان کے پروگراموں کو کوئی نقصان اور زد نہ پہنچا سکیں (وَاَنَّ اللهَ مُوھِنُ کَیْدِ الْکَافِرِینَ)۔

19
8:19
إِن تَسۡتَفۡتِحُواْ فَقَدۡ جَآءَكُمُ ٱلۡفَتۡحُۖ وَإِن تَنتَهُواْ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَعُودُواْ نَعُدۡ وَلَن تُغۡنِيَ عَنكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَوۡ كَثُرَتۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اگر تم فتح و کامرانی چاہتے ہو تو وہ تمہاری طرف آئی ہے اور اگر مخالفت سے اجتناب کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر لوٹ آؤ تو ہم بھی پلٹ آئیں گے اور تمہاری جمعیت چاہے کتنی زیادہ کیوں نہ ہو وہ تمہیں (خدائی مدد سے)بے نیاز نہیں کر سکتی اور خدا مومنین کے ساتھ ہے۔

شرک سے ہاتھ اٹھا لو، یہی تمہارے مفاد میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس سلسلے میں کہ مندرجہ بالا آیت میں رُوئے سخن کن افراد کی طرف ہے، مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ اس میں مشرکین مخاطب ہیں کیونکہ وہ میدانِ بدر کی طرف آنے سے پہلے خانہٴ کعبہ کے پاس گئے انھیں زعم تھا کہ وہ حق پر ہیں، اس لئے وہ غرور میں مبتلا تھے، خانہٴ کعبہ کے پردے کو پکڑ کر کہنے لگے: "اللّٰہمّ انصر علی الجندین واھدی الفئتین واکرم الحزبین" خدایا! ان دو لشکروں میں سے جو برتر، ہدایت یافتہ تر اور معززتر ہے اُسے کامیابی عطا کرنا۔ (بحوالہ: تفسیر صافی، آیہٴ زیر بحث کے ضمن میں اور تفسیر کبیر از فخرالدین رازی، ج۵، ص۱۴۲-) نیز منقول ہے کہ ابوجہل نے اپنی دعا میں کہا: خدا وندا! ہمارا دین پُرانا اور قدیمی ہے لیکن محمدؐ کا دین تازہ اور خام ہے ان دونوں میں سے جو بھی تیرے نزدیک محبوب تر ہے اس کے پیروکاروں کو کامیابی عطا کر۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر، اسی آیت کے ذیل میں-) لہٰذا۔ جنگ بندر کے اختتام پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اُن سے کہا گیا: اگر تم فتح و کامرانی اور دینِ حق کے خواہاں ہو تو محمدؐ کا دین کامیاب ہو اور اس کی حقانیت تم پر واضح اور آشکار ہو گئی (إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَکُمْ الْفَتْحُ)۔ اور اگر دینِ شرک سے اور فرمانِ خدا کی مخالفت سے ہاتھ اٹھا لو تو یہ بات تمھارے فائدے میں ہے (وَإِنْ تَنتَھُوا فَھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ)۔ اور اگر تم مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے لوٹ آوٴ گے تو ہم بھی تمھاری طرف پلٹ آئیں گے اور مسلمانوں کو کامیاب کریں گے اور تمھیں مغلوب کر دیں گے (وَإِنْ تَعُودُوا نَعُدْ)۔ اور اپنی تعداد کی زیادتی پر ہرگز غرور نہ کرو کیونکہ "تمھاری جمعیت کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو تمھیں بےنیاز نہیں کر سکتی (وَلَنْ تُغْنِیَ عَنکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَلَوْ کَثُرَتْ)۔ اور خدا مومنین کے ساتھ ہے (وَاَنَّ اللهَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ)۔ لیکن اس تفسیر کو ایک بات دُور کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ قبل اور بعد کی تمام آیات کا روئے سخن مومنین کی طرف ہے اور آیات کے درمیان معنوی تعلق ہے، لہٰذا ان کے درمیان صرف ایک آیت روئے سخن کفار کی طرف یہ بات بعید نظر آتی ہے لہٰذا بعض مفسّرین نے اس میں مومنین کو مخاطب سمجھا ہے، اس لحاظ سے بہترین تفسیر یہ بنتی ہے کہ بعض نئے اور ضعیف الایمان مسلمانوں کے درمیان جنگی اموالِ غنیمت کی تقسیم کے بارے میں جھگڑا ہو گیا تو یہ آیت نازل ہوئیں اور انھیں سرزنش کی اور اموالِ غنیمت پورے کے پورے پیغمبرؐ کے اختیار اور ملکیت میں دے دیئے، آپ نے بھی مساوی طور پرانھیں تمام مسلمانوں میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد مومنین کی تربیت کے لئے انھیں جنگ بدر کے واقعات یاد دلائے گئے ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے انھیں ایک طاقتور دشمن کے مقابلے میں کامیابی عطا کی۔ یہ آیت بھی اسی مطلب کا تکرار کر رہی ہے کہ اگر تم مسلمانوں نے خدا سے فتح و کامیابی کا تقاضا کیا تو خدا نے تمھاری دعا کو قبول کر لیا اور تم کامیاب ہو گئے۔ اور اگر پیغمبر کے سامنے اعتراض کرنے اور باتیں بنانے سے بچو تو یہ تمھارے فائدے میں ہے اور اگر تم اپنی اسی اعتراض آمیز روش کی طرف پلٹ گئے تو ہم بھی پلٹ جائیں گے اور تمھیں دشمن کے جنگل میں تنہا چھوڑ دیں گے اور تمھاری جمعیت چاہے کتنی زیادہ کیوں نہ ہو خدائی مدد کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکے گی اور خدا تعالیٰ سچّے اور اپنے فرمان کے مطایع مومنین اور اپنے پیغمبر کے ساتھ رہے۔ چونکہ خصوصاً آئندہ چند آیات بھی مسلمانوں کو ان کی چند مخالفتوں کی وجہ سے ملامت کر رہی ہیں اور گذشتہ آیات میں بھی ہم نے ایسا ہی دیکھا ہے نیز آیات میں ربط بھی واضح ہے لہٰذا دوسری تفسیر زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔

20
8:20
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَأَنتُمۡ تَسۡمَعُونَ
اے ایمان لانے والوں ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور رو گردانی نہ کرو جبکہ تم اس کی باتیں سنتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
8:21
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو کہتے تھے ہم نے سنا ہے لیکن در حقیقت وہ سنتے نہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
8:22
۞إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلۡبُكۡمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡقِلُونَ
زمین پر چلنے والوں میں سے خدا کے نزدیک بد ترین وہ گونگے اور بہرے افراد ہیں جو عقل و فکر نہیں رکھتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
8:23
وَلَوۡ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمۡ خَيۡرٗا لَّأَسۡمَعَهُمۡۖ وَلَوۡ أَسۡمَعَهُمۡ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ
اور اگر خدا ان میں کوئی بھلائی جانتا (تو حق بات) ان کے کانوں تک پہنچاتا لیکن (ان کی موجودہ حالت میں ) اگر حق ان کے کانوں تک پہنچتا ہے تو وہ مخالفت کرتے ہیں اور روگرداں ہوتے ہیں۔

سننے والے بہرے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات گذشتہ مباحث کے تسلسل میں آئی ہیں اور یہ مسلمانوں کو جنگ، صلح اور دیگر تمام امور میں پیغمبرِ خدا کی مکمل اطاعت کی دعوت کے سلسلے میں ہیں۔ آیات کہ لب ولہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس سلسلے میں بعض مومنین نے اپنے فرض میں کوتاہی کی تھی۔ لہٰذا پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرو (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَہُ)۔ دوبارہ تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اور اس کے حکم کی اطاعت سے کبھی روگردانی نہ کرو جب تک تم اس کی باتیں اور اوامر ونواہی سنتے ہو (وَلَاتَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُونَ)۔ اس میں شک نہیں کہ حکم خدا کی اطاعت سب پر لازم ہے چاہے کوئی مومن ہو یا کافر لیکن چونکہ پیغمبر کے مخاطب اور ان کے تربیتی پروگراموں میں شرکت کرنے والے مومنین تھے لہٰذا یہاں رُوئے سخن ان کی طرف ہے۔ اسی سلسلے کی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ان لوگوں کی مانند نہ ہوجاوٴ جو کہتے تھے کہ ہم نے سنا لیکن درحقیقت وہ نہیں سنتے تھے (وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ قَالُوا سَمِعْنَا وَھُمْ لَایَسْمَعُونَ)۔ یہ بہت عمدہ اور جاذب نظر تعبیر ہے جو قرآن نے ایسے لوگوں کے بارے میں استعمال کی ہے جو جانتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے، سنتے ہیں مگر اثر نہیں لیتے اور ظاہراً مومنین کی صف میں شامل ہیں لیکن مطیعِ فرمان نہیں ہیں، فرمایا گیا ہے کہ وہ سننے والے کان رکھتے ہیں، الفاظ اور باتیں سنتے ہیں اور ان کے معانی بھی سمجھتے ہیں لیکن چونکہ ان کے مطابق عمل نہیں کرتے تو گویا بالکل بہرے ہیں۔ چونکہ یہ سب کچھ تو عمل کے لئے تمہید ہے اور جب عمل نہیں تو تمہید بے فائدہ ہے۔ اس سلسلے میں کہ یہ کون لوگ تھے جن کی یہ صفت قرآن بیان کر رہا ہے اور مسلمانوں کو ہوش میں رہنا چاہیے کہ وہ ان جیسے نہ بن جائیں بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ منافق ہیں جو مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے اسے مشرکینِ عرب کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ لیکن کوئی مانع نہیں کہ آیت کے مفہوم میں ان تینوں گروہوں کے وہ افراد شامل ہوں جو عمل کے بغیر باتیں کرنے والے ہوں۔ گفتار عمل کے بغیر اور سننا تاثیر کے بغیر انسانی معاشروں کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور بہت سی بدبختیوں کا سرچشمہ ہے۔ لہٰذا دوبارہ اگلی آیت میں بھی یہ سلسلہٴ کلام جاری ہے اور ایک دوسرے خوبصورت انداز میں فرمایا گیا ہے: زمین پر چلنے والوں میں سے خدا کے نزدیک بدبترین وہ ہیں جو نہ سننے والے کان رکھتے ہیں نہ بولنے والی زبان اور نہ ہی عقل وادراک۔ وہ بہرے، گونگے اور بے عقل ہیں (إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِینَ لَایَعْقِلُونَ)۔(تشریحی نوٹ: ”صم“، ”اٴصم“ کی جمع ہے؛ اس کے معنی ہیں ”بہرے“ اور ”بکم“، ”اٴبکم“ کی جمع ہے؛ اس کے معنی ”گونگے“-) قرآن چونکہ ایک کتابِ عمل ہے کوئی رسمی کتاب نہیں لہٰذا وہ ہر جگہ نتائج کا سہارا لیتی ہے اور اصولی طور پر ہر بے خاصیت موجود کو معدوم سمجھتی ہے، ہر بے حرکت وبے اثر زندہ کو مردہ قرار دیتی ہے اور انسان کا ہر عضو جو اس کی ہدایت وسعادت کے راستے میں کارآمد نہ ہو، اسے نہ ہونے کے برابر شمار کرتی ہے۔ اس آیت میں بھی ان اشخاص کو ظاہراً صحیح وسالم کان رکھتے ہیں لیکن ان کان آیات خدا، کلامِ حق اور سعادت بخش پروگراموں کو سننے پر آمادہ نہیں، انھیں بہرہ قرار دیتی ہے اور اسی طرح جو لوگ صحیح وسالم زبان رکھتے ہیں لیکن مہرِ سکوت ان کی زبان پر لگی ہوئی ہے؛ نہ حق کا دفاع کرتے ہیں، نہ ظلم وفساد کا مقابلہ کرتے ہیں، نہ جاہل کو ارشاد کرتے ہیں، نہ امر بالمعروف کرتے ہیں، نہ نہی عن المنکر کرتے ہیں اور نہ ہی راہِ حق کی طرف دعوت دیتے ہیں، بلکہ اس عظیم خدائی نعت کو صاحبان زَر و زور کی چاپلوسی یا تحریفِ حق اور تقویتِ باطل میں استعمال کرتے ہیں، ایسے افراد کو گونگا شمار کرتی ہے اور وہ جو ہوش وعقل کی نعمت سے بہرہ مند تو ہوتے ہیں لیکن صحیح غور وفکر نہیں کرتے انھیں دیوانوں میں شمار کرتی ہے۔ اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: خدا تمہیں حق کی دعوت دینے میں کوئی مضائقہ نہیں جانتا، اگر وہ مائل ہوتے اور خدا اس لحاظ سے ان میں خیر وبھلائی دیکھتا تو جیسے بھی ہوتا ان تک حق بات پہنچاتا (وَلَوْ عَلِمَ اللهُ فِیھِمْ خَیْرًا لَاَسْمَعَھُمْ)۔ کچھ روایات میں آیا ہے کہ ہٹ دھرم بت پرستوں کی ایک جماعت پیغمبر خداﷺ کے پاس آئی، یہ لوگ کہنے لگے: ہمارے جد بزرگ قصی بن کلاب کو زندہ کر دو اور وہ تمھاری نبوت کی گواہی دے تو ہم سب تسلیم کر لیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ یہی بات حقیقت کے طور پر کہتے تو خدا یہ کام معجز نمائی کے طور پر انجام دے دیتا لیکن یہ جھوٹ بولتے ہیں اور ان کا ہدف قبولِ حق سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے اور اگر اس حالت میں خدا ان کی درخواست قبول کر لے اور حق بات اس سے زیادہ ان کے کانوں تک پہنچائے یا ان کے جد قصی بن کلاب کو زندہ کر دے اور یہ اس کی گواہی سُن لیں پھر بھی یہ روگردانی کریں گے اور اعراض کئے رہیں گے (وَلَوْ اَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوا وَھُمْ مُعْرِضُونَ)۔ یہ جملے ایسے لوگوں کے بارے میں ہیں جنھوں نے بارہا حق کی باتیں سنی ہیں اور قرآن کی روح پرور آیات اُن کے کانوں تک پہنچی ہیں اور انہوں نے ا ن کے مضامین ومفاہیم کو سمجھا ہے مگر پھر بھی تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے ان کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے اعمال کی وجہ سے ہدایت کا صلاحیت گنوا بیٹھے ہیں اور اب خدا اور اس کے پیغمبر کو ان سے کوئی سرورکار نہیں۔ یہ آیت ایسے جبری مذہب کے پیروکاروں کے لئے دندان شکن جواب ہے۔ یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ تمام سعادتوں کا سرچشمہ خود انسان ہے اور خدا کو بھی لوگوں کی اہلیت کے لحاظ سے ہی ان سے سلوک کرتا ہے۔

دو اہم نکات

١۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض اوقات بعض نکتہ چین اس آیت سے اپنے لئے ایک پریشان کن مطلب اخذ کرتے ہیں، وہ یہ منطق پیدا کرتے ہیں کہ اس آیت میں قرآن کہتا ہے: "اگر خدا ان میں کوئی اچھائی دیکھے تو ان تک حق پہنچا دے" اور "اگر ان حق ان تک پہنچا دے تو وہ روگردانی کرتے ہیں"۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ "اگر خدا ان میں کوئی خیر دیکھے تو وہ روگردانی کریں گے"۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کیونکہ گفتگو کے پہلے حصّے میں جو یہ آیا ہے کہ "حق کو ان کے کانوں تک پہنچائے گا" اس کے بارے میں انھیں اشتباہ ہوا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس سلسلے میں آمادگی رکھتے ہوں تو حق کو ان کے کانوں تک پہنچائے گا، لیکن گفتگو کے دوسرے حصّے میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اسباب فراہم نہ ہونے کی صورت میں یہ کام کرے تو وہ روگردانی کریں گے۔ لہٰذا یہ جملہ مندرجہ بالا آیت میں دو مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے اور اس سے مذکورہ منطقی قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ (تشریحی نوٹ: منطقی اصلاح کے مطابق مذکورہ قیاس میں "حد و سط" موجود نہیں ہے کیونکہ پہلے جملے میں "لاَسْمَعَھُمْ حالکونھم یعلم فیھم خیراً" ہے اور دوسرے جملے میں "لاسمعھم حالکونھم لایعلم فیھم خیرا" ہے لہٰذا مندرجہ بالا دو جملوں میں حدِ و سط موجود نہیں ہے کہ اس سے قیاس کی تشکیل کی جا سکے اور یہ دونوں جملے ایک دوسرے مختلف اور الگ الگ ہیں (غور کیجئے گا)۔) (غور کیجئے گا)۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ کوئی کہے کہ: اگر میں جانتا کہ فلاں شخص میری دعوت کو قبول کرلے گا تو میں اسے دعوت دیتا لیکن اس وقت حالات ایسے ہیں کہ اگر میں اسے دعوت دوں تو وہ قبول نہیں کرے گا لہٰذا میں اسے دعوت نہیں دوں گا۔ ۲۔ حق بات سننے کے مختلف مراحل: بعض اوقات انسان صرف الفاظ اور عبارات کو سنتا ہے لیکن ان کے مفہوم پر غور فکر نیہں کرتا، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس قدر سننے پر تیار نہیں ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَاتَسْمَعُوا لِھٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ کفار کہتے ہیں کہ اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو اور شور مچاوٴ شاید تم کامیاب ہو جاوٴ تاکہ کوئی شخص حق بات نہ سُن سکے۔ (حٰم سجدہ/۲۶) کبھی انسان گفتگو اور الفاظ سننے کو تو تیار ہوتا ہے لیکن پھر بھی عمل کا ارادہ اور عزم نہیں کرتا، جیسے منافقین ہیں کہ جن کی طرف سورہٴ محمد آیت۱۶ میں فرمایا گیا ہے: وَمِنْھُمْ مَنْ یَسْتَمِعُ إِلَیْکَ حَتَّی إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوا لِلَّذِینَ اُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ان میں سے بعض ایسے منافق ہیں جو تمھاری باتیں کان دھر کے سنتے ہیں لیکن جب وہ تیرے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو انکار یا استہزاء کے طور پر آگاہ اور باخبر لوگوں سے کہتے ہیں یہ کیا بات تھی جو محمد کہہ رہا تھا۔ بعض اوقات ان کی کیفیت کچھ ایسی ہو جاتی ہے کہ اگر وہ کسی بات کو توجہ سے سنیں بھی تو حق بات کا ادراک نہیں کر پاتے ان سے نیک و بد کی تمیز کی حس ہی سلب ہو جاتی ہے اور یہ خطرناک ترین مرحلہ ہے۔ قرآن ان تینوں گروہوں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ درحقیقت بہرے ہیں کیونکہ حقیقی سننے والا تو وہ ہے جو توجہ سے سنتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے، سوچتا بھی ہے اور از رُوئے اخلاص عمل کا بھی مصمم ارادہ رکھتا ہے۔ آج بھی کتنے لوگ ہیں جو آیاتِ قرآن سنتے وقت (بغیر تشبیہ کے، جیسے موسیقی کی آوازیں سن رہے ہوں) احساس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی زبان سے شور و ہیجان کی کیفیت کے مظہر جملے نکلتے ہیں لیکن ان کی ساری ہمت بس یہی ہوتی ہے اور عمل میں کورے ہوتے ہیں اور یہ کیفیت مقصدِ قرآن سے میل نہیں کھاتی۔

24
8:24
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱسۡتَجِيبُواْ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيكُمۡۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
اے ایمان والو ! خدا اور پیغمبر کی دعوت قبول کرو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف پکارے جو تمہاری زندگی کا سبب ہی اور جان لو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور یہ کہ تم سب (قیامت میں ) اس کے پاس محشور ہو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
8:25
وَٱتَّقُواْ فِتۡنَةٗ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمۡ خَآصَّةٗۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
اور اس فتنے سے ڈرو جو صرف تمہارے ظالموں کو نہیں پہنچے گا بلکہ سب کو گھیر لے گا کیونکہ دوسروں نے خاموشی اختیار کی تھی اور جان لو کہ خدا شدید العقاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
8:26
وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ أَنتُمۡ قَلِيلٞ مُّسۡتَضۡعَفُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمۡ وَأَيَّدَكُم بِنَصۡرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
اور وہ وقت یاد کرو جب تم روئے زمین پر ایک مختصر چھوٹا اور کمزور گروہ تھے یہاں تک کہ تم ڈرتے تھے کہ کہیں (مشرک) لوگ تمہیں اچک نہ لیں لیکن ان سے تمہیں پناہ دی تمہاری مدد کی اور تمہیں پاکیزہ رزق سے بہرہ مند کیا تاکہ اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔

دعوت، زندگی کی طرف

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں مسلمانوں کو علم، عمل، اطاعت اور تسلیم کی طرف دعوت دی گئی تھی، ان آیات میں اسی ہدف کو ایک اور انداز سے حاصل کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والو! خدا اور اُس کے پیغمبر کی دعوت کو قبول کرو، جب وہ تمھیں ایسی چیز کی طرف دعوت دیتا ہے جو تمھیں زندہ کرتی ہے (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ)۔ مندرجہ بالا آیت صراحت سے کہتی ہے کہ دعوتِ اسلام دراصل زندگی اور حیات کی طرف دعوت ہے، حیاتِ روحانی، حیاتِ مادّی، حیاتِ ثقافتی، حیاتِ اقتصادی، حیاتِ سیاسی، حقیقی مفہوم کے ساتھ حیاتِ اخلاقی اور حیاتِ اجتماعی غرض اسلام کی دعوت ہر لحاظ سے اور ہر پہلو سے حیات ہے۔ یہ مختصر ترین اور جامع ترین تعبیر ہے جو اسلام اور دینِ حق کے بارے میں آئی ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ اسلام کا ہدف اور مقصد کیا ہے اور وہ ہمیں کیا دے سکتا ہے تو ایک ہی مختصر سے جملے میں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ہدف اور مقصد تمام جہاتِ زندگی میں حیات عطا کرنا ہے اور یہی اسلام ہمیں عطا کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طلوع اسلام سے قبل اور دعوتِ قرآن سے پہلے مردہ تھے کہ قرآن انھیں دعوتِ حیات دیتا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جی ہاں، وہ اس حیات سے محروم تھے کہ جو حیات قرآن عطا کرتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ حیات کے کئی پہلو اور مراحل ہیں کہ قرآن جن سب کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ "زندگی" کا مفہوم بعض اوقات سبزہ زار کی حیات کے معنی میں آیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اعْلَمُوا اَنَّ اللهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا جان لو کہ خدا زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔ (حدید/۱۷) کبھی حیاتِ حیوانی کے معنی میں آیا ہے، مثلاً: إِنَّ الَّذِی اَحْیَاھَا لَمُحْیِی الْمَوْتیٰ وہ خدا کہ جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا، مُردوں کو بھی زندہ کرے گا۔ (حم سجدہ/۳۹) کبھی زندگی___ فکری، عقلی اور انسانی حیات کا معنی لئے ہوئے ہوتی ہے، مثلاً: اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنَاہ--- وہ شخص جو مردہ اور گمراہ تھا، پس پھر ہم نے اس کی ہدایت کی، کیا وہ گمراہوں کی طرح ہے۔ (انعام/۱۲۲) کبھی دوسرے جہان کی حیاتِ جاوداں کے مفہوم میں ہے، مثلاً: یَالَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی اے کاش! آج (روز قیامت) کی زندگی کے لئے میں نے کوئی چیز آگے بھیجی ہوتی۔ (فجر/۲۴) اور کبھی زندگی لامحدود اور لامتناہی علم و توانائی کے معنی میں ہوتی ہے، جیسا کہ خدا کے بارے میں ہے- ھُوَ الْحَیِّ الَّذِی لَایَمُوت وہ ایسا زندہ ہے کہ جس کے لئے موت نہیں ہے۔ موت کی اقسام کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ زمانہٴ جاہلیت کے لوگ اگرچہ مادّی اور حیوانی زندگی کے حامل تھے لیکن وہ انسانی، معنوی اور عقلی زندگی سے محروم تھے، قرآن آیا اور اس نے انھیں حیات اور زندگی کی دعوت دی۔ یہاں سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ جو لوگ دین و مذہب کو ایک خشک، بےروح، حدودِ زندگی سے ماوراء اور فکری و اجتماعی پروگراموں سے الگ سمجھتے ہیں وہ کس قدر اشتباہ اور غلطی ہیں۔ ایک سچّا دین وہی ہو سکتا ہے جو زندگی کے تمام شعبوں پہلوں میں حرکت پیدا کرے، روح پھونکے، فکر عطا کرے اور احساس ذمہ داری پیدا کرے، ہمیشگی، اتحاد، ارتقا اور تکامل ایجاد کرے اور تمام معانی کے لحاظ سے حیات آفریں ہو۔ ضمناً یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ جو لوگ اس آیت کی تفسیر صرف جہاد یا ایمان یا قرآن یا بہشت کے ساتھ کرتے ہیں اور ان امور کو حیات کے تنہا عامل کے طور پر پیش کرتے درحقیقت مفہوم آیت کومحدود کر دیتے ہیں کیونکہ آیت کے مفہوم میں تو یہ سب امور شامل ہیں اور ان سے بڑھ کر ہر چیز، ہر فکر، ہر پروگرام اور ہر حکم جو حیاتِ انسانی کی کوئی صورت پیدا کرے آیت کے مفہوم میں شامل ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: جان لو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور یہ کہ تم سب قیامت میں اس کے پاس جمع کئے جاوٴگے (وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہِ وَاَنَّہُ إِلَیْہِ تُحْشَرُونَ)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں، اس میں شک نہیں کہ دل سے مراد روح اور عقل ہے لیکن یہ کہ خدا کس طرح انسان اور اس کی روح وعقل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اس بارے میں بہت سے احتمالات ذکر کئے گئے ہیں۔ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ یہ بندوں سے خدا کے نہایت قربت کی طرف اشارہ ہے گویا وہ خود انسان کی جان اور اس کے اندر موجود ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَنَحْنُ اَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں۔ (ق/۱۶) کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ اشارہ ہے کہ قلوب اور افکار کی گردش خدا کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ ہم دعا میں کہتے ہیں: "یامقلّب القلوب والاٴبصار" اے وہ کہ قلوب اور افکار کی گردش جس کے ہاتھ میں ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر لطفِ خدا نہ ہوتا تو انسان ہرگز حق کی حقانیت اور باطل کے بطلان پر آگاہ نہ ہو پاتا۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک لوگوں کو موقع میسّر ہے اطاعتِ الٰہی اور نیک کاموں کی انجام دہی کے لئے کوشش کرتے رہیں کیونکہ خدا انسان اور اس کے درمیان موت کے ذریعے رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن ایک عمومی حوالے سے ان تمام تفاسیر کو ایک ہی جامع تفسیر میں جمع کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور تمام موجودات پر محیط ہے وہ ان موجودات میں سے نہیں لیکن ان سے جدا بھی نہیں۔ موت و حیات، علم و قدرت، امن و سکون اور توفیق و سعادت سب اس کے ہاتھ ہیں اور اس کے قبضہٴ قدرت میں ہیں، لہٰذا انسان نہ کوئی چیز اس سے چھپا سکتا ہے، نہ کوئی کام اس کی توفیق کے کر سکتا ہے اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ انسان اس کے علاوہ کسی کی طرف رخ کرے اور اُس کے غیر سے درخواست کرے کیونکہ وہی تمام چیزوں کا مالک ہے اور انسان کے تمام وجود پر محیط ہے۔ اس جملے کا گذشتہ جملے سے ربط اس لحاظ سے ہے کہ اگر پیغمبر زندگی اور حیات کی طرف دعوت دیتا ہے تو ایسی ہستی کا فرستادہ ہے کہ موت و حیات اور ہدایت و عقل سب جس کے قبضہٴ قدرت میں ہیں لہٰذا اس امر کی تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ تم نہ صرف آج اس کی قدرت کے احاطہ میں موجود ہو بلکہ جہان میں بھی اسی کی طرف جاو ٴگے یہاں اور وہاں سب اس کے سامنے موجود ہو۔

صرف ظالم ہی انجام بد سے دوچار نہیں ہوں گے

اس کے بعد خدا اور پیغمبر کی حیات بخش دعوت قبول نہ کرنے کے بُرے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: اس فتنے سے بچو کہ جو تم میں سے صرف ظالموں ہی کو نہیں آلے گا بلکہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا (وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَاتُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّةً)۔ لفظ "فتنہ" قرآن مجید میں مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے۔ کبھی آزمائش و امتحان کے معنی میں اور کبھی بلا، مصیبت اور عذاب کے معنی میں۔ اصل میں اس لفظ کا معنی ہے سونے کو کٹھالی میں داخل کرنا تاکہ اس کا کھوٹا کھرا پن واضح ہو جائے، بعد ازاں یہ لفظ ایسی آزمائشوں میں استعمال ہونے لگا جو انسان کی صفاتِ باطنی کو ظاہر کر دیتی ہیں اور اسی طرح ان سزاؤں کے بارے میں استعمال ہونے لگا جو روحِ انسانی کی سفائی یا اس کے گناہ کی تخفیف کا باعث ہوں۔ زیر بحث آیت میں یہ لفظ اجتماعی مصائب آلام کے مفہوم میں ہے کہ جو سب کو دامنگیر ہوں، اصلاح کی زبان میں جس میں خشک و تر سب جل جائیں۔ درحقیقت اجتماعی حوادث کی خاصیت یہی ہے کہ جب معاشرہ اشاعتِ حق اور رسالت کے بارے میں اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرے اور اس کوتاہی کے نتیجے میں قانون شکنیاں، ہرج مرج اور بےامنی وغیرہ پیدا ہو جائیں تو نیک و بد سب اس کی آگ میں جلتے ہیں۔ یہ دراصل خدا وند عالم کی طرف سے تمام اسلامی معاشروں کے لئے خطرے کا الارم ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ افرادِ معاشرہ نہ صرف اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ اپنے فرائض ادا کریں بلکہ ان کی ذمہ داری ہے وہ دوسروں کو بھی ان کے فرائض کی انجام دہی پر اُبھاریں کیونکہ اختلاف، انتشار اور عدم اتفاق اجتماعی پروگراموں کی شکست کا باعث ہوتے ہیں اور یہ دھواں سب کی آنکھوں میں پڑے گا۔ میں نہیں کہتا کہ چونکہ میں نے اپنی ذمہ داری نبھالی ہے لہٰذا دوسروں کی فرض ناشناسی کے بُرے آثار سے بچ جاوٴں گا کیونکہ اجتماعی معاملات کو شخصی اور انفرادی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے دشمن کی طاقتور حملہ آور فوج کی تعدا ایک لاکھ ہو۔ اس کا حملہ روکنے کے لئے اگر پچاس ہزار افراد اپنی ذمہ داری نبھائیں تو مسلّم ہے کہ کافی نہیں ہوں گے اور شکست کے بُرے نتائج سے ذمہ دار اور غیر ذمہ دار سبھی دوچار ہوں گے اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ اجتماعی اور معاشرتی مسائل کی یہی صورت ہے۔ یہ حقیقت ایک اور طریقے سے بھی واضح کی جا سکتی ہے کہ اور وہ یہ کہ معاشرے کے نیک لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ بُروں کے مقابلے میں خاموش ہو کر نہ بیٹھ جائیں اگر انھوں نے سکوت اختیار کیا تو خدا کے ہاں وہ بھی بُروں کے انجام میں شریک قرار پائیں گے۔ جیسا کہ ایک مشہور حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا: "انّ اللّٰہ عزّوجلّ لایعذّب العامّة بعمل الخاصّة حتّیٰ یروا المنکر بین ظھرانیھم وھم قادون علیٰ اٴن ینکروہ فاِذا فعلوا عذّب اللّٰہ الخاصّة والعامّة- خدا وند عزوجل عام لوگوں کے عمل کی سزا کسی خاص گروہ کو نہیں دے گا مگر اس صورت میں کہ جب منکرات اور خدا کی نافرمانیاں ان کے درمیان ہو رہی ہوں اور وہ لوگ ان کے انکار اور ممانعت کی قدرت رکھتے ہوئے سکوت اور خاموشی اختیار کریں، اس صورت میں خدا تعالیٰ اس خاص گروہ کو اور معاشرے کے تمام لوگوں کو سزا دے گا۔ (بحوالہ: تفسیر المنار، ج۹، ص۶۳۸-) جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے یہ حکم خدا کی دنیاوی اور اُخروی دونوں سزاوٴں پر صادق آتا ہے اور اسی طرح ایک گروہ یا سب کے اعمال نتائج اور آثار کے سلسلے میں بھی صادق آتا ہے(تشریحی نوٹ: مفسّرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ "لا تصیبن" نفی کا صیغہ ہے یا نہی کا۔ بعض نے نہی کا قرار دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ فتنوں سے بچو کیونکہ یہ صرف ظالموں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیں گے اور بعض دیگر نے اسے نفی کا صیغہ سمجھا ہے لیکن چونکہ عربی ادب کے علماء کے نظریے کے مطابق نون تاکید سوائے نہی کے اور جواب قسم کے نہیں آتی لہٰذا جواب قسم قرار دیتے ہیں گویا آیت میں قسم مقدر ہے۔) آیت کے آخر میں تہدید آمیز لہجے میں کہا گیا ہے: جان لو کہ خدا کا عذاب و عقاب سخت ہے (وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کا لطف و رحمت انھیں غافل کر دے اور خدائی عذاب و سزا کی شدت کو فراموش کر دیں اور فتنے انھیں دامنگیر ہو جائیں جیسے اسلامی معاشرے کو دامنگیر ہوئے ہیں اور ان خدائی سنتوں کو بھول جانے کی وجہ سے وہ پیچھے کی طرف اُلٹے پاوٴں چلے گئے ہوں۔ اگر ہم اپنے دَور کے اسلامی معاشروں پر ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ دشمن کے مقابلے میں وہ پے درپے شکست کہ شکار ہو رہے ہیں۔ استعمار، یہودیت اور صیہونیت ان کے خلاف کامیابی سے مصروف عمل ہے۔ مادہ پرستی اور اخلاقی مفاسد کا دور دورہ ہے۔ گھر گھر میں انتشار ہے۔ جوان نسل بداعمالیوں اور برائیوں کا شکار ہے۔ انحطاط، پستی اور علمی پسماندگی کے مفاسد دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال آیت کی حقیقت اور اس کے مفہوم کی تصویر کشی کر رہی ہے کہ کس طرح ان فتنوں نے چھوٹے بڑے، نیک و بد اور عالم و جاہل کو گھیر رکھا ہے اور یہ اسی طرح جاری و ساری رہیں گے یہاں تک کہ مسلمانوں میں اجتماعی رُوح بیدار ہو جائے اور ہر کوئی معاشرے میں اپنی اجتماعی ذمہ داری کو قبول کرلے اور اسلام کی طرف سے عائد دو فرائض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قطعی، حتمی اور تخلف ناپذیر صورت اختیار کر لیں۔ قرآن مسلمانوں کا ہاتھ پکڑ کر انھیں ایک مرتبہ پھر ان کی گذشتہ تاریخ کی طرف پلٹاتا ہے اور انھیں سمجھاتا ہے کہ تم کس درجے میں تھے اور اس وقت کس مقام پر کھڑے ہو تاکہ جو درس انھیں گذشتہ آیات میں دیا گیا ہے اس کا اچھی طرح ادراک کر لیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب تم ایک چھوٹا سا ناتواں گروہ تھے اور دشمنوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ تمھیں ضعف و ناتوانی کی طرف کھینچ لے جائیں (وَاذْکُرُوا إِذْ اَنْتُمْ قَلِیلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِی الْاَرْضِ)۔ "اس طرح کہ تم ڈرتے تھے کہ کہیں مشرکین اور مخالفین تمھیں اُچک نہ لیں" (تَخَافُونَ اَنْ یَتَخَطَّفَکُمْ النَّاسُ)۔ یہ ایک لطیف تعبیر ہے جو اُس دور کے مسلمانوں کی انتہائی کمزوری اور افرادی قوت کی کمی کو واضح کرتی ہے جیسے کوئی چھوٹا سا جسم ہوا میں معلّق ہو کہ دشمن جسے آسانی سے اُچک سکتا ہے، یہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جب کہ ان کا دشمن وہاں بہت طاقتور تھا یا پھر ہجرت کے بعد کے دور کی طرف ایران اور روم کی عظیم طاقتوں کے مقابلے میں ان کی حالت کی طرف اشارہ ہے۔ "لیکن خدا نے تمھیں پناہ دی" (فَآوَاکُمْ )۔ "اور اپنی مدد سے تمھیں تقویت دی" (وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہِ)۔ "اور تمھیں پاکیزہ رزق سے بہرہ مند کیا" (وَرَزَقَکُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ)۔ "شاید اس کی نعمت کا شکر بجا لاوٴ" (لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ)۔

27
8:27
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَخُونُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓاْ أَمَٰنَٰتِكُمۡ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
ایمان والو ! خدا اور رسول سے خیانت نہ کرو (نیز) اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو جب کہ تم جانتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
8:28
وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
اور جان لو کہ تمہارے اموال اور اولاد آزمائش کا ذریعہ ہیں اور خدا کے ہاں (ان کیلئے) اجر عظیم ہے (جو امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں )۔

بنی قریظہ کا محاصرہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مندرجہ بالا آیت کے نزول کے بارے میں کئی ایک روایات ہیں۔ ان میں سے ایک روایت امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ: پیغمبر خدا نے حکم دیا کہ بنی قریظہ (جو مدینہ کے یہودیوں میں سے تھے) کا محاصرہ کر لیا جائے، یہ محاصرہ اکیس راتوں تک جاری رہا، لہٰذا وہ صلح کی تجویز پیش کرنے پر مجبور ہو گئے جیسے ان کے بھائی بنی نضیر (جو مدینے کا یہودیوں کا ایک اور گروہ تھا) کے لوگوں نے بھی کیا تھا۔ صلح کی تجویز میں انھوں نے پیش کش کی کہ وہ مدینے سے کوچ کر کے شام کی طرف چلے جائیں۔ رسولِ خدا نے یہ تجویز قبول نہ فرمائی (شاید اس لئے کہ ان کی پیش کش کی صداقت مشکوک تھی) اور فرمایا کہ صرف سعد بن معاذ کا فیصلہ قبول کیا جائے۔ انھوں نے تقاضا کیا کہ رسول الله ابولبابہ (آپ کے مدنی صحابی) کو ان کے پاس بھیجا جائے۔ ابولبابہ کا ان سے دوستی کا پرانا رشتہ تھا اور اس کے گھر والے، بیٹے اور مال و منال ان کے پاس تھے۔ یہ تجویز رسول الله نے قبول فرمالی اور ابولبابہ کو ان کے پاس بھیج دیا۔ انھوں نے ابولبابہ سے مشورہ کیا کہ کیا اس میں مصلحت ہے کہ وہ سعد بن معاذ کی قضاوت قبول کر لیں۔ ابولبابہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی اگر قبول کرو گے تو مارے جاوٴ گے لہٰذا اس تجویز کو قبول نہ کرو۔ وحی خدا کے قاصد جبرئیل نے اس امر کی اطلاع پیغمبر کو دے دی۔ ابولبابہ کہتا ہے: ابھی میں نے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا تھا کہ متوجہ ہوا کہ میں نے خدا اور پیغمبر سے خیانت کی ہے۔ اس موقع پر یہ آیات اس کے متعلق نازل ہوئیں۔ اس وقت ابولبابہ سخت پریشان ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنے آپ کو ایک طناب کے ذریعے مسجدِ نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا: خدا کی قسم نہ کھاوٴں گا نہ پانی پیوں گا یہاں تک کہ مر جاوٴں گا یا یہ کہ خدا میری توبہ قبول کر لے۔ سات شب و روز گزر گئے نہ اُس نے کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بےہوش ہو کر زمین پر گر پڑا تو خدا نے اس کی توبہ قبول کر لی۔ یہ خبر مومنین کے ذریعے اسے ملی لیکن اس نے قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو ستون سے نہیں کھولوں گا جب تک پیغمبر خدا آ کر خود نہ کھولیں۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم آئے اور انھوں نے اسے کھولا۔ ابولبابہ نے کہا: میں اپنی توبہ کی تکمیل کے لئے اس گھر کو چھوڑتا ہوں جس میں مَیں اس گناہ کا مرتکب ہوا تھا اور اپنے تمام مال سے صرفِ نظر کرتا ہوں۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: صرف اتنا کافی ہے کہ اپنے مال کا تیسرا حصّہ صدقہ کر دے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۱۴۳-) کتب اہلِ سنّت میں بھی یہی مضمون اس آیت کی شان نزول کے متعلق موجود ہے۔ گذشتہ آیات چونکہ جنگ بدر سے مربوط تھیں لہٰذا بعض نے اس بات کو بعید سمجھا ہے کہ یہ آیت یہودیوں اور بنی قریظہ سے متعلق ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ان روایات سے مراد یہ ہے کہ ابولبابہ کا واقعہ آیت کا ایک مصداق قرار پا سکتا ہے نہ یہ کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی ہے۔ ایسا ہی انھوں نے گذشتہ آیات کی شایان نزول سے متعلق بھی کہا ہے۔ مثلاً بعض کتب میں کچھ صحابہ سے منقول ہے کہ فلاں آیت عثمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عثمان کا قتل وفات پیغمبر سے سالہا سال بعد ہوا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ آیت تو بنی قریظہ کے واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہو لیکن چونکہ بدر کی آیات سے مناسبت رکھتی تھی لہٰذا پیغمبرِ خدا کے حکم سے ان کے ساتھ رکھ دی گئی ہو۔

خیانت اور اس کا سرچشمہ

پہلی آیت میں خدا وند عالم نے روٴے سخن مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے کہا ہے: اے ایمان والو! خدا اور پیغمبر سے خیانت نہ کرو (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ)۔ خدا اور رسول سے خیانت یہ ہے کہ مسلمانوں کے فوجی راز دوسروں تک پہنچا دیئے جائیں یا دشمنوں کو اپنے ساتھ مقابلے اور جنگ میں تقویت پہنچائی جائے یا واجبات، محرّمات اور خدائی احکام کو بالکل پس پشت ڈال دیا جائے۔ لہٰذا ابن عباس سے منقول ہے کہ جو شخص اسلامی احکام اور پروگراموں میں سے کسی چیز کو ترک کر دے وہ اسی قدر خدا اور پیغمبر سے خیانت کا مرتکب ہوا ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اپنی امانتوں میں سے خیانت نہ کرو (وَتَخُونُوا اَمَانَاتِکُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: " تَخُونُوا" یہاں دراصل "لاتحنونوا" ہے جملے کے سابقہ حصے کے قرینہ سے "لا" مخدوف ہو گیا ہے۔۔) "خیانت" کا مطلب ہے اس حق کی ادائیگی نہ کرنا جس کی ادائیگی کا انسان نے ذمہ لیا ہو۔ یہ دراصل "امانت" کی ضد ہے۔ "امانت" اگرچہ مالی امانتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن منطق قرآن میں اس کا وسیع مفہوم ہے کہ زندگی کے جو تمام اجتماعی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر محیط ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے: "المجالس بالامانة" جو باتیں خصوصی نشستوں اور مجالس میں ہوں وہ امانت ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے: "اذا حدث الرجل بحدیث ثمّ التفت فھو امانة" جب کوئی شخص کسی سے بات کر رہا ہو، پھر وہ اِدھر اُدھر دیکھے (کہ کہیں کوئی اسے سُن تو نہیں رہا) تو یہ بات امانت ہے۔ لہٰذا اسلام کی آب و خاک مسلمانوں کے ہاتھ خدائی امانت ہے، ان کی اولاد بھی امانت ہے اور سب سے بالاتر قرآن مجید اور اس کی تعلیمات پروردگار کی عظیم امانت ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ خدا کی امانت اُس کا دین ہے، رسول کی امانت ان کی سنّت اور مومنین کی امانت ان کا مال و اسرار ہیں لیکن مندرجہ بالا آیت میں امانت میں تمام مفاہیم شامل ہیں۔ بہرحال امانت میں خیانت سب سے زیادہ قابلِ نفرت عمل اور قبیح ترین گناہ ہے۔ جو شخص امانت میں خیانت کرتا ہے درحقیقت وہ منافق ہے جیسا کہ حدیث میں منقول ہے: "آیة المنافق ثلاث: اذا حدث کذب، واذا وعد اخلف، واذا ائتمن خانَ واذا صام وصلی وزعم انّہ مسلم" منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔ ایسا شخص منافق ہے چاہے روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ اصولی طور پر امانت میں خیانت نہ کرنا انسانی فرائض اور حقوق میں سے ہے یعنی اگرچہ صاحبِ امانت مسلمان نہ ہو تب بھی اس کی امانت میں خیانت نہیں کی جا سکتی۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ہو سکتا ہے تم غلطی سے اور بےخبری میں کسی چیز میں خیانت کر بیٹھو لیکن جان بوجھ کر کبھی ایسا نہ کرنا (وَاَنْتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ البتہ جو اعمال ابولبابہ کے کام جیسے ہیں انھیں اشتباہ یا بےخبری نہیں کہا جا سکتا بلکہ مال، اولاد اور ذاتی مفاد سے عشق بعض اوقات حساس مواقع پر انسان کی آنکھ اور کان بند کر دیتے ہیں اور وہ خدا اور پیغمبر سے خیانت کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ درحقیقت جان بوجھ خیانت کرنا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ انسان فوراً اولبابہ کی طرح بیدار ہو کر گذشتہ گناہ کی تلافی کرے۔ اگلی آیت میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں کہیں مادّی امور اور جلد گزر جانے والے شخصی مفادات انسان کی آنکھ اور کان پر پردہ نہ ڈال دیں اور وہ ایسی خیانتوں کا مرتکب نہ ہو جائے جو اس کے معاشرے کی زندگی اور سرنوشت کو خطرے میں ڈال دے۔ ارشاد ہوتا ہے: جان لو کہ تمھارے اموال اور اولاد آزمائش اور امتحان کا ذریعہ ہیں (وَاعْلَمُوا اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَةٌ)۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے ایسے مواقع پر "فتنة" کا معنی ہے "آزمائش کا ذریعہ" اور درحقیقت ایمان و کفر اور انسانی قدر و قیمت کے اندازے کے لئے یہ دو چیزیں اہم ترین میزان ہیں۔ مال و اسباب حاصل کرنا، انھیں خرچ کرنا، ان کی حفاظت کرنا اور ان سے لگاوٴ کی کیفیت یہ سب امتحانِ بشر کے میدان ہیں۔ بہت سے ایسے اشخاص ہیں جو عام عبادات اور دین و مذہب کے ظاہری امور کے لحاظ سے بلکہ بعض اوقات مستحبات کے انجام دہی میں بہت سخت اور پکے ہیں لیکن جب کوئی مالی معاملہ بیچ میں آ جائے تو سب چیزیں ایک طرف ہو جاتی ہیں اور قوانین الٰہی، مسائل انسانی اور حق و عدالت سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اولاد کے بارے میں بھی یہی صورت ہے کہ جو انسان کے دل کا میوہ ہے اور بچّے انسان کی شاخِ حیات کے پھول ہیں، بہت سے افراد جو بظاہر امور دینی اور مسائلِ انسانی و اخلاقی کے پابند ہیں انھیں ہم دیکھتے ہیں کہ جب ان کی اولاد کا معاملہ ہوتا ہے تو گویا ان کے افکار ونظریات پر پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ ان تمام مسائل کو بھول جاتے ہیں۔ اُولاد کی محبت کے ہاتھوں حرام کو حلال اور حلال کو حرام شمار کرتے ہیں۔ۺ اولاد کی آئندہ کی خیالی زندگی کے لئے ہر کام پر تیار ہو جاتے ہیں اور ہر حق کو پاوٴں تلے روند دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ امتحان کے ان دونوں میدانوں میں اپنے آپ کو خدا کے سپرد کریں اور ہوش و حواس کو قائم رکھیں بہت سے لوگوں کے پاؤں ان دونوں میدانوں میں پھسل گئے ہیں اوروہ گر پڑے ہیں۔ انھوں نے اپنے لئے ابدی نفرین اور دائمی پھٹکار حاصل کی ہے۔ اگر ہم سے بھی کوئی لغزش سرزد ہو جائے تو ابولبابہ کی طرح ہیں ہمیں اس کی تلافی کرنا چاہیے یہاں تک کہ وہ مال جو ایسی لغزش کا سبب بنے اسے اس راہ میں قربان کر دینا چاہیے۔ آیت کے آخر میں ان لوگوں کو جو اِن دونوں میدانوں سے کامیابی کے نکل آئیں انھیں بشارت دی گئی ہے کہ پروردگار کے پاس اجر عظیم اور بہت بڑی جزا ہے (وَاَنَّ اللهَ عِنْدَہُ اَجْرٌ عَظِیمٌ)۔ اولاد کی محبت کتنی ہی عظیم دکھائی دے اور مال و دولت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو پھر بھی الله کا اجر اور جزا ان سے برتر، عالی تر اور بزرگ تر ہے۔ یہاں کچھ سوالات سامنے آتے ہیں مثلاً یہ کہ اپنے علمی احاطے کے باوجود خدا تعالیٰ لوگوں کو آزمائش کیوں کرتا ہے اور یہ کہ خدا کی آزمائش سب کے لئے کیوں ہے یہاں تک کہ انبیاء و مرسلین کے لئے بھی ہے، نیز یہ کہ خدائی آزمائش کے مواقع کون کون سے ہیں اور ان میں کامیابی کا طریقہ کیا ہے۔ ان سب سوالات کے جوابات تفسیر نمونہ جلد اول (ص۳٧۳ تا ص ۳٧٨ اردو ترجمہ) میں دیئے جا چکے ہیں۔

29
8:29
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَتَّقُواْ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّكُمۡ فُرۡقَانٗا وَيُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
اے ایمان لانے والو ! اگر خدا کے حکم کی مخالفت سے ڈرو تو وہ تمہارے لئے حق اور باطل کو الگ الگ کر دے گا اور تمہیں ایسی روشن ضمیری عطا کرے گا جس کے ذریعے تم حق اور باطل میں تمیز کر سکو اور تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گا اور تمہیں بخش دے گا اور وہ عظیم فضل و بخشش کا مالک ہے۔

ایمان اور روشن ضمیری

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں ایسے حیات بخش احکام بیان ہوئے جو مادی اور روحانی سعادت کے ضامن ہیں لیکن ان پر تقویٰ اور پرہیزگاری کے بغیر عمل نہیں ہو سکتا لہٰذا اس آیت میں انسانی کردار میں تقویٰ اور اس کے آثار کی اہمیت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس آیت میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے چار نتائج بیان کیے گئے ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان لانے والو! اگر تقویٰ اختیار کرو اور حکم خدا کی مخالفت سے پرہیز کرو تو وہ تمھیں ایک خاص نورانیت اور روشن ضمیری بخشے گا جس سے تم حق اور باطل کے درمیان اچھی طرح سے امتیاز کر سکو گے۔ (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقَانًا)۔ "فرقان" "فرق" کے مادّہ سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہاں ایک ایسی چیز کے معنی میں جو حق کو باطل سے اچھی طرح جدا کرے۔ یہ مختصر اور پُر معنی لفظ انسان کے لئے ایک اہم ترین حیات ساز مسئلہ بیان کرتا ہے اور وہ یہ کہ جس راستے میں جس انسان کامیابیوں کی طرف جاتا ہے ہمیشہ پھسلنے کے مقامات آتے ہیں اور بےراہ رویاں موجود ہوتی ہیں اور اگر انھیں اچھی طرح نہ دیکھے اور نہ پہچانے اور ان سے پرہیز نہ کرے تو اس طرح کرے گا کہ اس کانام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ اس راستے میں اہم ترین مسئلہ حق و باطل، نیک و بد، دوست و دشمن، مفید و نقصان دہ عوامل اور سعادت و بدبختی کی شناخت ہے اگر واقعاً انسان ان حقائق کو اچھی طرح پہنچان لے تو اس کے مقصد تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ مشکل یہ ہے کہ ایسے بہت سے مواقع پر انسان اشتباہ میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ باطل کو حق، دشمن کو دوست اور بےراہ روی کو شاہراہ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر تیز نظر، قوی ادراک اور بہت زیادہ نورانیت اور روشن بینی درکار ہے۔ زیر نظر آیت کہتی ہے کہ یہ نگاہ اور ادراک تقویٰ کے درخت کا ثمر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس طرح تقویٰ اختیار کرنے سے اور گناہ و سرکشی سے پرہیز کرنے سے انسان میں ایسی نظر اور ادراک پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بات شاید بعض لوگوں کے لئے مبہم اور غیر واضح ہو لیکن اگر کچھ دقّت نظر سے کام لیا جائے تو ان دونوں باتوں کے درمیان موجود رشتہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے تو انسانی قوت عاقلہ حقائق کے ادراک کے لئے کافی حد تک آمادہ ہے لیکن حریص، طمع، شہوت، خود پرستی، حسد اور مال، بیوی، اولاد جاہ و حشمت اور مقام و منصب سے عشق کے پردے سیاہ دھوئیں کی طرح عقل کی آنکھوں پر پڑ جاتے ہیں، یا گاڑھے گردو و غبار کی طرح اردگرد کی فضا کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے تاریک ماحول میں انسان حق و باطل کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا لیکن اگر تقویٰ کے پانی سے اس غبار کو دھو ڈالا جائے اور درمیان سے یہ سیاہ اور تاریک دھواں خم ہو جائے تو حق کے چہرے کو دیکھنا آسان ہو جائے۔ بقول شاعر: جمالِ یار ندارد حجاب و پردہ ولی غبار رہ بنشان تا نظر توانی کرد ترجمہ: یعنی حسنِ یار تو حجاب اور میں نہیں ہے لیکن راستے کی گرد و خاک بٹھاو تاکہ نظارہ کر سکو۔ ایک اور شاعر نے کہا ہے: حقیقت سرائی است آراستہ ہوی و ہوس گرد برخاستہ نبینی کہ ہر جا کہ برخاست گرد نبیند نظر گرچہ بیناست مرد! ترجمہ: حقیقت سرائی آراستہ ہے اور ہوا و ہوس بلند شدہ گرد و خاک ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ جہاں گرد و خاک اُڑ رہی ہو وہاں اگرچہ انسان بینا ہی کیوں نہ ہو، اسے کچھ نظر نہیں آتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ ہر کمال جہاں بھی ہے وہ کمالِ حق کا پر تُو ہے اور انسان جس قدر خدا کے زیادہ نزدیک ہوتا ہے اس کمال مطلق کا زیادہ طاقتور پر تُو اس کے وجود پر پڑتا ہے۔ اس حساب سے تمام علوم و فنون کا سرچشمہ اس کا علم ہے اور جب بھی انسان تقویٰ کے ذریعے اور گناہ اور ہو و ہوس سے پرہیز کر کے اس سے زیادہ نزدیک ہو اور اپنے وجود کے قطرے کو اس کے وجود ہستی کے بےکنار سمندر سے ملا دے تو اس کے علم و دانش سے بہت کچھ پا لے گا۔ دوسرے لفظوں میں انسان کا دل آئینے کی طرح ہے اور پروردگار کا وجود ہستی آفتاب عالمتاب کی طرح ہے۔ اب اگر اس آئینے کو ہوا و ہوس کا زنگ تاریک کر دے تواس میں نور کا انعکاس نہیں ہو گا لیکن اگر اسے تقویٰ و پرہیزگاری کے پانی سے صِقل کر دیا جائے اور زنگ اتار دیا جائے تو اس آفتاب پرفروغ کا خیرہ کرنے والا نور اس میں منعکس ہو گا اور وہ ہر طرف کو روشن کر دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پوری تاریخ میں پرہزگار مردوں اور عورتوں کے حالات میں روشن ضمیری اور روشن بینی کے ایسے واقعات دیکھتے ہیں جو علم ودانش کے عام طریق سے ہرگز قابلِ ادراک نہیں ہیں۔ وہ بہت سے ایسے حادثات کی بنیاد کو اچھی طرح سے پہچانتے تھے جنھیں اجتماعی مصائب وآلام اور شور وغوغا میں نہیں پہچانا جآ سکتا اوروہ دشمنانِ حق کے قابلِ نفرت چہروں کو ہزاروں پُرفریب پردوں کے پیچھے دیکھ لیتے تھے انسانوں کی شناخت، معرفت، ادراک اور بصیرت پر تقویٰ کا عجیب اثر بہت سی روایات میں بیان ہوا ہے اور دیگر آیات میں بھی اس کی تاثیر بیان کی گئی ہے۔ سورہٴ بقرہ آیت۲۸۲ میں ہے: وَاتَّقُوا اللهَ وَیُعَلِّمُکُمْ اللهُ تقویٰ اختیار کرو اور الله تمھیں تعلیم دے گا۔ ایک مشہور حدیث میں ہے: "الموٴمن ینظر بنور الله" صاحب ایمان انسان الله کے نور سے دیکھتا ہے۔ نہج الباغہ کے کلمات قصار میں ہے: "اکثر مصارع العقول تحت بروق المطامع" زیادہ تر عقلوں کو لالچ کی چمک دمک پچھاڑ دیتی ہے اور حرص و طمع عقل کی آنکھ کو بیکار کر دیتی ہے اور پھر لوگ گرنے اور پھسلنے کی جگہ کو نہیں دیکھ پاتے۔ تیسری بات یہ ہے عقلی تجزیہ و تحلیل کے لحاظ سے بھی تقویٰ اور ادراک کے درمیان تعلق قابلِ فہم ہے۔ مثلاً وہ معاشرے جو ہوا و ہوس کے محور پر گردش کرتے ہیں اور ان کے نشر و اشاعت کے ادارے اسی ہوا و ہوس کی ترویج کے لئے کردار ادا کرتے ہیں، اخبارات برائیوں اور خرابیوں کو رواج دیتے ہیں،, ریڈیو سے آلودگی اور انحرافات کی آواز بلند ہوتی ہے اور ٹیلیویژن بھی ہوا و ہوس کی خدمت کرتے ہیں، واضح ہے کہ ایسے معاشرے میں ق وباطل میں اچھائی اور برائی میں تمیز اکثر لوگوں کےلئے بہت ہی مشکل ہے۔ لہٰذا تقویٰ کا فقدان عدمِ تشخیص یا غلط تشخیص کا سرچشمہ ہے۔ یا مثلاً وہ گھرانہ جو تقویٰ سے مرحوم ہے اور اس کے بچّے گندے ماحول میں پرورش پا رہے ہیں اور بچپن ہی سے برائی اور بے لگام آزادی کے خوگر ہو چکے ہیں آئندہ جب بڑے ہوں گے تو اچھائی اور برائی میں تمیز ان کے لئے مشکل ہو جائے گی۔ اصولی طور پر اگر یہ صلاحتیں اور قُویٰ بی کار ہو جائیں اور یہ سرمایہ راہِ گناہ میں رائیگاں ہو جائے تو لوگ شعور و ادراک کے لحاظ سے پست ہو جائیں اور پست افکار کے حامل ، چاہے وہ صنعتی اور مادی لحاظ سے ترقی کر جائیں۔ لہٰذا ہم اچھی طرح دیکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو تقویٰ کے خلاف ہے ایک طرح کی بےخبری، عدم آگاہی یا غلط تشخیص کا سرچشمہ ہے۔ لہٰذا آج کی اس مشینی دنیا میں ایسے معاشرے موجود جو علم و صنعت کے لحاظ سے بہت آگے پہنچ گئے ہیں لیکن اپنی روز مرّہ کی زندگی میں ایسی وحشتناک بے سروسامانی اور تضادات کا شکار ہیں جو انسان کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ سب امور قرآن کی اس بات کی عظمت کو واضح کر دیتے ہیں۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ تقویٰ صرف عملی تقویٰ میں منحصر نہیں ہے بلکہ فکری اور عقلی تقویٰ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے تو حقیقت زیادہ واضح ہو جاتی ہے، بےلگام فکری آزادی کے مقابلے میں فکری تقویٰ کا معنی یہ ہے کہ ہم اپنے مطالعات میں صحیح مدارک اور حقیقی مطالب تلاش کریں، کافی تحقیق اور ضروری غور و خوض کے بغیر کسی مسئلے کے بارے میں نظریے اور عقیدے کا اظہار نہ کریں، جو لوگ فکری تقویٰ کوبروئے کار لاتے ہیں بیشک وہ بڑی آسانی سے بےلگام لوگوں کی نسبت صحیح نتائج پہنچ جاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو انتخابِ مدارک اور طرزِ استدلال میں بےاصول ہیں ان سے بے حساب غلطیاں اور اشتباہات ہوتے ہیں۔ باقی رہی وہ اہم بات جس کی طرف یقیناً سنجیدگی سے توجہ کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ اسلام کے دیگر اصلاحی اور انسان ساز پروگراموں کی طرح "تقویٰ" بھی ہم مسلمانوں کے ہاتھوں تحریف و تغیّر کا شکار ہے، بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صاحبِ تقویٰ انسان وہ ہے جو اپنا بدن اور لباس زیادہ دھوتا ہے، تمام لوگوں اور تمام چیزوں کو نجس یا مشکوک سمجھے، اجتماعی اور معاشرتی مسائل سے کنارہ کش ہو، کسی سیاہ و سفید کو ہاتھ نہ لگائیں اور ہر معاملے میں خاموش رہے۔ پرہیزگاری اور تقویٰ کی ایسی غلط تفسیریں درحقیقت اسلامی معاشروں کے انحطاط کے عوامل میں سے ہیں، اس قسم کا تقویٰ آگاہی پیدا کرتا ہے نہ روشن ضمیری اور نہ حق و باطل کے درمیان تمیز عطا کرتا ہے۔ اب جبکہ پرہیزگاروں کی پہلی جزا کی وضاحت ہو چکی ہے ہم آیت کے اگلے حصّہ کی تفسیر اور باقی چار جزاوٴں کو بیان کرتے ہیں۔ قرآن کہتا: ہے حق و باطل میں امیتاز کے علاوہ پرہیزگاری کا نتیجہ یہ بھی ہے کہ "خدا تمھارے گناہ چھپائے گا اور ان کے آثار تمھارے وجود سے ختم کر دے گا (وَیُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ)۔ علاوہ ازیں اپنی بخشش بھی تمھارے شامل حال کرے گا (وَیَغْفِرْ لَکُمْ)۔ اور یہ بہت سی جزائیں اور عنایات تمھارے انتظار میں ہیں جنھیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کیونکہ خدا بہت زیادہ فضل و بخشش رکھتا ہے (وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ)۔ یہ چار اثرات تقویٰ و پرہیزگاری کے درخت کا ثمر ہیں، تقویٰ اور ان آثار میں بعض کے درمیان فطری اور طبیعی ربط اس سے مانع نہیں کہ ہم ان سب کی نسبت خدا کی طرف دے دیں کیونکہ ہم اس تفسیر میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہر موجود کا ہر اثر خدا کی مشیّت اور ارادے سے ہے لہٰذا اس اثر کی نسبت خدا کی طرف دی بھی جا سکتی ہے اور اس موجود کی طرف بھی۔ یہ کہ "تکفیر سیئات" اور "غفران" میں کیا فرق ہے، اس سلسلے میں مفسّرین کا نظریہ ہے کہ پہلا دنیا میں پردہ پوشی کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا آخرت کی سزا سے نجات حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے، لیکن ایک اور احتمال بھی کہ "تکفیر سیئات" گناہوں کے نفسیاتی اور اجتماعی آثار کی طرف اشارہ جو تقویٰ کے ذریعے ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن "غفران" خدا کی بخشش اور سزا سے نجات کی طرف اشارہ ہے۔

30
8:30
وَإِذۡ يَمۡكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثۡبِتُوكَ أَوۡ يَقۡتُلُوكَ أَوۡ يُخۡرِجُوكَۚ وَيَمۡكُرُونَ وَيَمۡكُرُ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ
وہ وقت (یاد کرو) جب کافر سازش کر رہے تھے کہ تجھے قید کر لیں یا قتل کر دیں اور یا (مکہ سے) نکال دیں وہ سوچ بچار کر رہے تھے (اور لائحہ عمل بنا رہے تھے) اور خدا بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تو بہترین چارہ جو (اور مدبر) ہے۔

شان نزول: رسولخدا ص کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے موجبات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مفسّرین اور محدثین مندرجہ بالا آیت کو ان حوادث کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جن کے نتیجے میں رسول اللهؐ کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑھی، ان حوادث کی مختلف تعبیرات بیان ہوئی ہیں جو سب کی سب ایک ہی حقیقت تک جا پہنچتی ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے معجزانہ طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو ایک ایک عظیم اور حتمی خطرے کے چنگل سے نجات دی، درّالمنثور میں اس سلسلے میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ مختلف قبائل سے قریش اور اشراف مکّہ کا ایک گروہ جمع ہوا تاکہ وہ دارالندوة (تشریحی نوٹ: اشرافِ مکہ کی مشاورتی میٹنگیں اس مقام پر منعقد ہوا کرتی تھیں۔) میں میٹنگ کریں اور انھیں رسول الله کی طرف سے درپیش خطرے پر غور و فکر کریں۔ (کہتے ہیں) اثنائے راہ میں انھیں ایک خوش ظاہر بوڑھا شخص ملا جو دراصل شیطان تھا (یا کوئی انسان جو شیطانی روح و فکر کا حامل تھا)۔ انھوں نے اُس سے پوچھا تم کون ہو؟ کہنے لگا: اہلِ نجد کا بڑا بوڑھا ہوں مجھے تمھارے ارادے کی اطلاع ملی تو میں نے چاہا کہ تمھاری میٹنگ میں شرکت کروں اور اپنا نظریہ اور خیرخواہی کی رائے پیش کرنے میں دریغ نہ کروں۔ کہنے لگے: بہت اچھا اندر آ جائیے۔ اس طرح وہ بھی دارالندوة میں داخل ہو گیا۔ حاضرین میں سے ایک نے ان کی طرف رُخ کیا اور (پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا: اس شخص کے بارے میں کوئی سوچ بچار کرو، کیونکہ بخدا ڈر ہے کہ وہ تم پر کامیاب ہو جائے گا (اور تمھارے دین اور تمھاری عظمت کو خاک میں ملا دے گا)۔ ایک نے تجویز پیش کی: اسے قید کر دو یہاں تک کہ زندان میں مَر جائے۔ بوڑھے نجدی نے اس تجویز پر اعتراض کیا اور کہا: اس میں خطرہ یہ ہے کہ اس کے طرفدار ٹوٹ پڑیں گے اور کسی مناسب وقت اسے قید خانے سے چھڑا کر اس سرزمین سے باہر لے جائیں گے لہٰذا کوئی زیادہ بنیادی بات کرو۔ ایک اور نے کہا: اسے اپنے شہر سے نکال دو تاکہ تمھیں اس سے چھٹکارا مل جائے کیونکہ وہ تمھارے درمیان سے چلا جائے گا تو پھر جو کچھ بھی کرتا پھرے تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچآ سکتا اور پھر وہ دوسروں سے ہی سروکار رکھے گا۔ بوڑھے نجدی نے کہا: والله یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے، کہا تم اُس کی شریں بیانی، لسانی طاقتِ اور لوگوں کے دلوں میں اس کا نفوذ کر جانا نہیں دیکھتے؟ اگر ایسا کرو گے تو وہ تمام دنیائے عرب کے پاس جائے گا اور وہ اس کے گرد جمع ہو جائیں گے اور وہ پھر وہ ایک انبوہِ کثیر کے ساتھ تمھاری طرف پلٹے گا اور تمھیں تمھارے شہروں سے نکال باہر کرے گا اور بڑوں کو قتل کر دے گا۔ مجمع نے کہا: بخدا! یہ سچ کہہ رہا ہے کوئی اور تجویز پیش سوچو۔ ابوجہل ابھی تک خاموش بیٹھا تھا، اُس نے گفتگو شروع کی اور کہا: میرا ایک نظریہ ہے اور اُس کے علاوہ میں کسی رائے کو صحیح نہیں سمجھتا۔ حاضرین کہنے لگے: وہ کیا ہے؟ کہنے لگا: ہم ہر قبیلے سے ایک بہادر شمشیر زن کا انتخاب کریں اور ان میں سے ہر ایک ہاتھ میں ایک کاٹ دینے والی تلوار دے دیں اور پھر وہ سب مل کر موقع پاتے ہی اُس پر حملہ کریں۔ جب وہ اس صورت میں قتل ہو گا تو اس کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ بنی ہاشم تمام قبائل سے لڑ سکیں گے لہٰذا مجبوراً اس صورت میں خون بہا پر راضی ہو جائیں گے اور یوں ہم بھی اس کے آزار سے نجات پا جالیں گے۔ بوڑھے نجدی نے (خوش ہو کر) کہا: بخدا! صحیح رائے یہی ہے جو اس جواں مرد نے پیش کی ہے میرا بھی اس کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں۔ اس طرح یہتجویز پراتفاق رائے سے پاس ہو گئی اور وہ یہی مصمم ارادہ لے کر وہاں سے اٹھ گئے۔ جبرئیل نازل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو حکم ملا کہ وہ رات کو اپنے بستر پر نہ سوئیں، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم رات کو غار ثور(تشریحی نوٹ: مکہ کے قریب ایک غار کا نام ہے۔) کی طرف روانہ ہو گئے اور حکم دے گئے کہ علی(علیه السلام) آپ کے بستر پر سو جائیں (تاکہ جو لوگ دروازے کی دراز سے بستر پیغمبر پر نظر رکھے ہوئے ہیں انھیں بستر پر سویا ہوا سمجھیں اور آپؐ کو خطرے کے علاقہ سے دور نکل جانے کی مہلت جائے)۔ جب صبح ہوئی تو گھر میں گھس آئے۔ انھوں نے جستجو کی تو حضرت علی(علیه السلام) کو بستر پیغمبر پر دیکھا) اس طرح سے خدا نے ان کی سازش کو نقش بر آب کر دیا۔ وہ پکارے: محمد کہاں ہے؟ آپ نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔ وہ آپؐ کے پاوٴں کے نشانوں پر چل پڑے یہاں تک کہ پہاڑ (اور اس کی غار) کے پاس پہنچ گئے لیکن (انھوں نے تعجب سے دیکھا کہ مکڑی نے غار کے سامنے جالا تن رکھا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر وہ اس غار میں ہوتا تو غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا۔ اس طرح وہ واپس چلے گئے) پیغمبر تین دن تک غار کے اندر رہے (اور جب دشمن مکہ کے تمام بیابانوں میں آپ کو تلاش کر چکے اور تھک ہا کر مایوس پلٹ گئے تو آپ مدینہ کی طرف چل پڑے(بحوالہ: المنار و مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں بحوالہ درّالمنثور-)

ہجرت کی ابتداء

بعض کا نظریہ ہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیت کی پانچ آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں چونکہ یہ ہجرت پیغمبر کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن آیت کا طرزِ بیان گواہی دیتا ہے کہ یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے چونکہ اس میں گذشتہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگرچہ واقعہٴ ہجرت کی طرف اشارہ کر رہی ہے لیکن مسلّماً مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مسلمانوں پر پروردگار کے ایک احسانِ عظیم اور نعمت عظمیٰ کو بیان کیا گیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب مشرکین مکہ نے سازش کی کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر دیں اور یا جلاوطن کر دیں (وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ اَوْ یَقْتُلُوکَ اَوْ یُخْرِجُوکَ)۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے لفظ ”مکر“ عربی زبان میں تدبیر، چارہ جوئی اور منصوبہ بندی کے معنی میں ہے نہ کہ اس مشہور معنی میں جو آج کل فارسی زبان میں مروّج ہے۔ اسی طرح لفظ ”حیلہ“ بھی لغت میں چارہ جوئی اور تدبیر کے معنی میں ہے لیکن فارسی زبان میں آج کل یہ لفظ خطرناک سازش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔(تشریحی نوٹ: اردو زبان میں بھی یہ لفظ آج کل اسی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مترجم) ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: وہ منصوبہ بندی، چارہ جوئی اور تدبیر کرتے ہیں اور خدا بھی چارہ جوئی اور تدبیر کرتا ہے اور وہ بہترین منصوبہ ساز اور مدبّر ہے (وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اللهُ وَاللهُ خَیْرُ الْمَاکِرِینَ)۔ اگر ہم ہجرت کے واقعہ پر صحیح غور وفکر کریں تو اس نکتے پر پہنچیں گے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو ختم کرنے کے لئے اپنی پوری فکری اور جسمانی صلاحیتیں صرف کر چکے تھے؛ یہاں تک کے جب رسول خدا ان کے چنگل سے نکل گئے تو انہوں نے آپ کی گرفتاری کے لئے ایک سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا تھا جو کہ اس دور میں ایک بہت بڑا سرمایا تھا۔بہت سے لوگوں نے مذہبی تعصب یا اتنا بڑا انعام حاصل کرنے کے لئے اطراف مکہّ کے کوہ بیابان چھان ڈالے تھے۔یہاں تک کہ غار کے دھانے تک بھی آپہنچے لیکن خداوند تعالیٰ نے ایک نہایت معمولی اور چھوٹے سے (مکڑی کی جالے)کے ذریعے ان کی سبب سازشیں نقش بر آب کر دیں۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ واقعہ ہجرت تاریخ اسلام بلکہ تاریخ انسانیت کی ایک نئے مرحلہ کا آغاز تھا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ خدا نے عنکبوت کی چند تاروں کے ذریعے تاریخ انسانیت کی راہ کو بدل کے رکھ دیا۔ یہ بات واقعہ ہجرت میں منحصر نہیں، بلکہ تاریخ انبیاء نشاندہی کرتی ہے کہ خداوند تعالیٰ متکبر ین کی سر کوب کے لئے ہمیشہ معمولی سے ذرائع کو کام میں لاتا ہے۔کبھی آندھی کے ذریعے ،کبھی ابابیل جیسے چھوٹے پرندوں کے ذریعے اور کبھی ایسی ہی دیگر چھوٹی چھوٹی چیزوں ذریعے ---- تاکہ خدا کی بےپایان قدرت کے سامنے انسان کی کمزوری اور ناتوانی واضح ہو جائے اورسرکشی کی فکر سے باز رکھے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قید، جلاوطنی اور قتل کی سارشیں صرف متکرین کی طرف پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے خلاف ہی نہیں بلکہ جابر اور سرکش لوگ ہمیشہ مصلحین کی زبان روکنے کے لئے اور معاشرے کے ستم رسیدہ دکھی عوام میں ان کا اثر و نفوذ ختم کرنے کے لئے ان تین میں سے کسی نہ کسی حربے کا سہارا لیتے رہے تھے۔لیکن جیسے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین مکہ کے اقوام کا نتیجہ برعکس نکلا اور وہ اسلام کے لئے ترقی اور نئی تحریک کامقدمہ اور تمہید بن گیا ایسے ظالمانہ اقدامات کا عام طور پر الٹا ہی نتیجہ نکلتا رہا۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات جاذب نظر ہے کے تفسیر نمونہ کی تالیف کی رفتار پہلے بہت کم تھی لیکن اب جبکہ موجودہ اور ان سے پہلے اور بعد والی آیات کی تفسیر مہ آباد کی جلاوطنی کے دوران کے دوران (معدوم شاہ ایران کی حکومت میں) لکھی جارہی ہے کام کی رفتار تیز ہوگئی ہے اور بالآخر ساتویں جلد مہ آباد اور انارک کی دو جلاوطنیوں کے دور میں اختتام پذیر ہوئی ہے(موٴلف)۔ (الحمد لله میں بھی ترجمہ پر اس وقت موفق ہوا ہوں جب کہ بہت سی قومیں میرے خلاف صف آراء ہیں جن میں شیخی جو مرزائیوں کی طرح اسلام کے دشمن ہیں پیش پیش ہیں(مترجم)۔

31
8:31
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا قَالُواْ قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هَٰذَآ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور جب ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا (کوئی اہم چیز نہیں )۔ اگر ہم بھی چاہیں تو ویسی باتیں کہہ سکتے ہیں یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے افسانے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
8:32
وَإِذۡ قَالُواْ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلۡحَقَّ مِنۡ عِندِكَ فَأَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةٗ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئۡتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٖ
اور(وہ وقت یاد کیجئے) جب انہوں نے کہا پروردگار ا! اگر یہ حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسایا ہمارے لئے درد ناک عذاب بھیج دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
8:33
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِيهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ
لیکن جب تک تم (اے پیغمبر) ان کے درمیان ہو خدا ان پر غذاب نہیں بھیجے گا نیز جب تک وہ استغفار کرتے رہیں خدا انہیں عذاب نہیں کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
8:34
وَمَا لَهُمۡ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمۡ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَمَا كَانُوٓاْ أَوۡلِيَآءَهُۥٓۚ إِنۡ أَوۡلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور خدا نہیں کیوں عذاب نہ کرے حالانکہ وہ مسجد الحرام (کے پاس سے موحدین کو عبادت) سے روکتے ہیں جب کہ وہ اس کے سرپرست نہیں ہیں اس کے سرپرست تو صرف پرہیز گار ہیں لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
8:35
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِندَ ٱلۡبَيۡتِ إِلَّا مُكَآءٗ وَتَصۡدِيَةٗۚ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
ان کی نماز(اللہ کے) گھر کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی پس اپنے کفران کی بناء پر عذاب خدا چکھو۔

بیہودہ باتیں کرنے والے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیت میں بیہودہ مشرکین کی عملی منطق کا ایک نمونہ بیان کیا گیا ہے۔ اب زیر نظر آیات میں ان کی فکری منطق کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ نہ وہ سلامت فکری رکھتے ہیں نہ درست روی؛ بلکہ ان کے تمام پروگرام بے بنیاد اور احمقانہ ہیں۔ پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: جب ہماری آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا ہے (لیکن کوئی اہم بات نہیں ہے) ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں (وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْھِمْ آیَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَا)۔ ان میں کوئی خاص بات نہیں؛ بس گذشتہ لوگوں کے افسانے ہیں(إِنْ ھٰذَا إِلاَّ اَسَاطِیرُ الْاَوَّلِینَ)۔ یہ باتیں وہ اس حالت میں کر رہے ہیں کہ جب قرآن کے مقابلے کی بارہا فکر کر چکے ہیں اور اس سے عاجز رہ گئے ہیں۔ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان میں قرآن کے مقابلے کی طاقت اور سکت نہیں ہے لیکن تعصب اور کینہ پروری کی وجہ سے یا ان لوگوں کو غفلت میں رکھنے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ آیات کوئی اہم نہیں ہیں، ایسی آیات توہم بھی لاسکتے ہیں لیکن لاکبھی نہیں سکتے۔ یہ ان کی غلط منطق تھی۔ تاریخ کے جابر لوگوں کی طرح خالی اور بےبنیاد دعووں کے ذریعے ان کی کوشش تھی کہ ان کے اقتدار کے محل چند تک قائم رہیں ہیں۔ اگلی آیت میں ان کی ایک اور عجیب مطنق بیان کی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے: وہ وقت (یاد کرو) جب (وہ دستِ دعا بلند کرتے تھے اور) کہتے تھے خداوندا! اگر یہ (دین اور قران) حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو آسمان سے ہمارے سروں پر پتھر برسا (وَإِذْ قَالُوا اللهُمَّ إِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ)۔ یا ہمیں کسی دردناک عذاب میں مبتلا کر دے(اَوْ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیمٍ)۔ یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ شدید تعصب اور ہٹ دھرمی کی بناء پر ان کا خیال تھا کہ دین اسلام سو فیصد بے بنیاد ہے ورنہ جس شخص کواس کی حقانیت کا احتمال بھی ہو وہ خود پر اس طرح کی پھٹکار نہیں بھیجتا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید مشرکین کے سرکردہ افراد لوگوں کوغفلت میں رکھنے کے لئے کبھی کبھی ایسی باتیں کرتے تھے تاکہ سادہ لوح افراد سمجھیں کہ محمد کا دین بالکل باطل ہے؛ حالانکہ دل سے وہ ایسا نہیں کہتے تھے۔ گویا مشرکین چاہتے تھے کہ یہ کہیں کہ تم گذشتہ انبیاء کے بارے میں کہتے ہو کہ خدا ان کے دشمنوں کو بعض اوقات پتھروں کی بارش برسا کر سزا دیتا تھا (جیسے حضرت لوط(علیه السلام) کی قوم کے ساتھ ہوا) تم اگر سچ کہتے ہو تو ایسا کر دکھاوٴ۔ مجمع البیان میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: رسول الله، غدیر خم میں جب حضرت علی علیہ السلام کو خلافت کے لئے معیّن اور منصوب کر چکے اور فرمایا: ”من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ“ جس کسی کا میں مولا ہوں پس اس کا علی بھی مولا ہیں۔ آپ کا یہ فرمان ہر طرف پھیل گیا۔ ( منافقین میں سے ایک شخص)نعمان بن حارث فہری (تھا، وہ ) پیغمبر اسلام کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: ہم سے آپ نے کہا کہ ہم توحید کو قبول کریں اور بتوں کی نفی کی شہادت دیں اور آپ کی رسالت کی گواہی دیں اور آپ نے ہمیں جہاں، حج، روزہ اور زکات کا حکم دیا، ہم نے ان سب کو قبول کر لیا۔ لیکن آپ نے اس پر بس نہ کی اور اس لڑکے (حضرت علی بن ابی طالب) کو خلیفہ بنا کر آپ نے کہا ہے کہ”من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ“۔ یہ بات آپ کی طرف سے ہے یا خدا کی طرف سے حکم ہے؟ پیغمبر خدا نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہ خدا کی طرف سے حکم ہے۔ یہ سُن کر نعمان یہ کہتے ہوئے پلٹا: ”اللّٰھمّ ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارة من السماء“ خداوندا! اگر یہ بات تیری طرف سے ہے تو آسمان ہم پر پتھروں کی بارس برسا۔ تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ اس پر ایک پتھر گرا کہ جس سے وہ مر گیا۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۵۱)۔ یہ حدیث اس بات کے منافی نہیں کہ یہ آیت واقعہ غدیر سے پہلے نازل ہوئی ہو کیونکہ اس آیت کی شان نزول نعمان کا واقعہ نہیں تھا بلکہ نعمان نے اپنے اوپر پھٹکار کے لئے وہ آیت استعمال کی جو پہلے نازل ہو چکی تھی۔ جیسے ہم قرآن سے استفادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ربّنا آتنا فی الدنیا حسنة وفی الآخرة حسنة (انشاء الله العظیم مندرجہ بالا حدیث کی مزید تشریح اور کتب اہل سنّت سے اس سلسلے میں بہت سے مدارک کا ذکر سورہٴ معارج کی ابتداء میں ”سَئَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ“ کے ذیل میں آئے گا(۔ گذشتہ آیات کے سلسلے میں مخالفین نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر دو اعتراضات کئے۔ ان میں سے ایک کا بطلان تو واضح تھا۔ لہٰذا قرآن نےاس کا جواب نہیں دیا اور وہ یہ تھا کہ انہوں نے کہا: اگر ہم چاہیں تو قرآن کی مثل لا سکتے ہیں، کہ یہ دعویٰ کھوکھلا اور جھوٹا تھا اور اگر ان میں سکت ہوتی تو لائے ہوتے۔ لہٰذا اس بات کے جواب کی ضرورت نہ تھی۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ آیات حق ہیں اور خدا کی طرف ہیں تو پھر وہ ہمیں سزا دے اور ہم پر کوئی عذاب نہیں کرے گا جب تک تو ان میں موجود ہے (وَمَا کَانَ اللهُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیھِمْ)۔درحقیقت، تیرا پربرکت وجود۔کہ تو رحمۃ للعالمین ہے۔ اس سے مانع ہے کہ ان گنہ گاروں پر عذاب نازل ہو اور یہ گذشتہ اقوام کی طرح نابود ہو جائیں کہ جو مختلف ذرائع سے اجتماعی یا انفرادی طور پر نابود ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:اسی طرح اگر وہ استغفار کریں (اور اس سے عفو و بخشش کا تقاضا کریں) تو خدا انھیں سزا نہیں دے گا (وَمَا کَانَ اللهُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُون)۔ اس جملے کی تفسیر میں مفسریں نے کئی ایک احتمالات پیش کیے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض مشرکین قبل کی آیت میں مذکور جملہ کہنے کے بعد اپنے کہے پر پشیمان ہوئے اور عرض کیا: غفرانک ربنا خدایا !ہمیں اس گفتگو پر بخش دے۔ اسی سبب سے---حتی کہ پیغمبر خدا کے مکہ سے خروج کے بعد بھی وہ بلا و فنا میں گرفتار نہیں ہوئے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ مکہ میں باقی رہ جانے والے مومنین کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہجرت پیغمبر پیغمبر کے بعد مکہ پر عذاب نازل نہ ہوا۔ یہ احتمال بھی ہے یہ جملہ ایک شرطیہ جملے کامفہوم رکھتا ہو؛ یعنی اگر وہ اپنے کردار پرپشیماں ہوں اور درگاہِ خداوندی کا رخ کریں اور استغفار کریں تو ان سے عذاب اور سزا برطرف ہو جائے گا۔ ان تمام امور کے باوجود آیت کی تفسیر میں یہ تمام احتمالات مجموعی طور پر بعید نہیں ہیں۔ یعنی ممکن ہے آیت ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ کر رہی ہو۔ بہرحال، آیت کا مفہوم زمانہٴ پیغمبرکے ساتھ مخصوص ہے بلکہ تمام لوگوں کے لئے یہ ایک کلی قانون ہو۔ اسی لئے شیعہ کتب میں حضرت علی علیہ السلام سے اور سنّی کتب میں ان کے شاگرد ابن عباس سے ایک مشہور حدیث میں ہے: کان فی الارض امانان من عذاب الله وقد رفع احدھما فدونکم الآخر فتمسکوا بہ وقرء ہذہ الآیة- روئے زمین میں عذابِ الٰہی سے مامون رہنے کے دو ذریعے تھے کہ جن میں سے ایک (وجودِ پیغمبر) اٹھا لیا گیا ہے، اب دوسرے (استغفار) سے تمسک رکھو، پھر آپ نے یہ آیت کی تلاوت کی۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار)۔ مندرجہ بالا آیت اور اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سخت بلاوٴں اور مصیبت سے امان حاصل کرنے کے لئے لوگوں کے پاس وجودِ پیغمبر ایک موٴثر ذریعہ ہے اور اس کے بعد استغفار، توبہ اور درگاہِ حق کی طرف رُخ کرنا دوسرا عامل ہے۔ اب دوسرا عامل بھی اٹھ جائے تو دردناک عذاب اور سزائیں طبیعی حوادث کی صورت میں ہوتی ہیں، یا گھروں کو تباہ وویران کر دینے والی جنگوں کی شکل میں یا کسی اور صورت میں۔ جیسا کہ ہم اب تک ان کی مختلف قسمیں دیکھ چکے ہیں یا سُن چکے ہیں۔ دعائے کمیل جو حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے، میں ہے: اللّٰھمّ اغفر لی الذنوب الّتی تنزل البلاء- خدایا! ہمارے وہ گناہ بخش دے جو نزولِ بلا کا سبب بنتے ہیں۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ اگر استغفار نہ ہو تو بہت گناہ ایسے ہیں جونزولِ بلا کا سرچشمہ بن جائیں۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ استغفار سے مراد یہ نہیں کہ یہ کہا جائے: خدایا! ہمیں بخش دے: اللّٰھمّ اغفر لی ایسے جملوں کا تکرار استغفار کی روح ہے کہ انسان کی طرف سے لوٹ آئے اور اپنے گذشتہ گناہوں کی تلافی کے لئے آمادگی کا اظہار کرے۔ اگلی آیت میں قرآن کہتا ہے: یہ عذابِ الٰہی کا استحقاق رکھتے ہیں تو پھر، ”خدا انھیں کیوں عذاب نہ کرے حالانکہ وہ مومنین کےلئے مسجد الحرام میں جانے سے رکاوٹ بنتے ہیں (وَمَا لَھُمْ اَلاَّ یُعَذِّبَھُمْ اللهُ وَھُمْ یَصُدُّونَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ)۔ اس زمانے کی طرف اشارہ ہے کہ جب مسلمان مکہ میں تھے اور مشرکین انھیں حق نہیں دیتے کہ وہ آزادانہ خانہٴ خدا کے پاس نماز جماعت قائم کر سکیں اور مسلمانوں کی طرح طرح کی مزاحمتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یا پھر یہ ان رکاوٹوں کی طرف اشارہ ہے جو ان کی طرف سے مومنین کو حج وعمرہ کے مراسم کی ادائیگی میں حائل تھیں۔ تعجب کی بات ہے کہ برائیوں میں آلودہ مشرکین اپنے آپ کو اس عظیم مرکزِ عبادت کا سرپرست سمجھتے تھے لیکن قرآن مزید کہتا ہے: یہ کبھی بھی اس مقدس مرکز کے سرپرست نہیں تھے (وَمَا کَانُوا اَوْلِیَائَہُ)۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو خانہٴ خدا کا متولی اور صاحبِ اختیار فرض کرتے تھے ”صرف وہی لوگ اس کی سرپرستی کا حق رکھتے ہیں جو موحّد اور پرہیزگار ہیں“ (إِنْ اَوْلِیَاؤُہُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ)۔ لیکن ان میں سے اکثر واقعیت اور حقیقت سے بے خبر ہیں (وَلَکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُونَ)۔ اگرچہ یہ مسجدالحرام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے لیکن درحقیقت تمام مراکز دینی، دینی مساجد اور مذہب اداروں پر محیط ہے۔ ان کے متولی اور سرپرست پاکیزہ ترین، پرہیزگار اور نہایت فعّال افراد ہونے چاہئیں تاکہ وہ انھیں تعلیم وتربیت اور بیداری وآگاہی کے پاک اور زندہ مراکز بنائیں، نہ کہ ایسے مٹھی بھر جانبدار، خود فروش اور آلود ہ افراد ہوں جو انھیں تجارتی اڈّہ اور افکار کی خرابی اور حق سے بے گانگی کے مرکز میں تبدیل کر دیں۔ ہمارا نظریہ ہے کہ اگر مسلمان مساجد اور مذہبی مراکز کے بارے میں اسی اسلامی حکم پر عمل کرتے تو آج مسلم معاشروں کی کوئی اور ہی شکل ہوتی۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ مدعی تھے کہ ان کی بھی نماز وعبادت ہے۔ وہ خانہٴ خدا کے گرد سیٹیاں اور تالیاں بجانے کا احمقانہ کام کرتے تھے اور اسے نماز کا نام دیتے تھے۔ لہٰذا قرآن مزید کہتا ہے: ان کی نماز خانہٴ خدا کعبہ کے گرد سیٹیاں اور تالیاں کے سوا اور کچھ نہ تھی (وَمَا کَانَ صَلَاتُھُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ إِلاَّ مُکَاءً وَتَصْدِیَةً)۔ تاریخ میں ہے کہ زمانہٴ جاہلیت میں کچھ ایسے عربی بدو تھے جو طواف کے وقت مادر زاد ننگے ہو جاتے تھے اور سیٹیاں بجاتے، تالیاں پیٹنے اور اسے عبادت کا نام دیتے تھے۔ نیز منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم حجر اسود کے پاس شمال کی طرف منھ کر کے کھڑے ہوتے (تاکہ آپ کا رُخ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی طرف ہو جائے) اور نماز ادا فرماتے تو بنی سہم کے دو شخص آنحضرت کے دائی بائیں کھڑے ہو جاتے۔ ایک چیختا چنگھاڑتا اور دوسرا تالیاں پیٹتا تاکہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی نماز خراب ہو جائے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اب جبکہ تمھارے تمام کام یہاں تک کہ تمھاری نماز وعبادت ایسی احمقانہ، بُری اور شرمناک ہے تو تم سزا کے مستحق ہو ”پس اپنے اس کفر کی وجہ سے عذاب الٰہی کو چکھو“ (فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ)۔ جس وقت انسان عربوں کی زمانہٴ جاہلیت کی تاریخ کی ورق گردانی کرتا ہے اور اس کے ان حصّوں کا مطالعہ کرتا ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے تو بڑے تعجب سے دیکھتا ہے کہ ہمارے زمانے میں جو اصطلاحاً فضا اور ایٹم کا بھی زمانہ ہے، کئی ایسے لوگ ہیں جو زمانہٴ جاہلیت کے اعمال دُہراتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو عبادت کرنے والوں کی صف میں خیال کرتے ہیں۔ قرانی آیات اور بعض اوقات وہ اشعار جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور حضرت علی علیہ السلام کی مدح میں ہیں کو موسیقی کی دُھنوں میں ملا کر رقص کی طرح اپنا سر، گردن اور ہاتھ ہلاتے ہیں۔ پھر اسے ان مقدسات کی خدمت میں خراج عقیدت قرار دیتے ہیں۔ یہ اعمال کبھی وجد وسماع کے نام پر، کبھی ذکر وحال کے نام پر اور کبھی دوسرے ناموں پر خانقاہوں اور دیگر مقامات پر انجام پاتے ہیں، حالانکہ اسلام ان باتوں سے بیزار ہے اور یہ اعمال زمانہ جاہلیت کے اعمال ہی کا نمونہ ہیں۔ یہاں پر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ زیر بحث آیت میں ان سے سزا اور عذاب کی (دوشرائط کے ساتھ) نفی کی گئی ہے جب کہ چوتھی آیت میں ان کے لئے عذاب کا ذکر ہے تو کیا یہ دونوں آیات آپس میں تضاد نہیں رکھتی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تیسری آیت میں دنیاوی سزاوٴں کی طرف اشارہ ہے اور چوتھی آیت میں ممکن ہے دوسرے جہان کی سزا کی طرف اشارہ ہو اور یا اس طرف اشارہ ہو کہ یہ گروہ اس دنیا میں سزا کا استحقاق رکھتا ہے اور اس کا سبب ان کے لئے فراہم ہے اور اگر پیغمبر ان کے درمیان سے اٹھ جائیں اور یہ توبہ بھی نہ کریں تو وہ عذاب انھیں دامنگیر ہو گا۔

36
8:36
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةٗ ثُمَّ يُغۡلَبُونَۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحۡشَرُونَ
جو کافر ہو گئے ہیں وہ اپنے اموال لوگوں کو راہ خدا سے روکنے کیلئے خرچ کرتے ہیں۔ وہ ان اموال کو جنہیں حاصل کرنے کیلئے زحمت اٹھاتے ہیں اس راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن یہ ان کے لئے حسرت و اندوہ کا سبب ہو گا اور پھر وہ شکست کھا جائیں گے اور (دوسرے جہاں میں یہ) کافر سب کے سب جہنم کی طرف جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
8:37
لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجۡعَلَ ٱلۡخَبِيثَ بَعۡضَهُۥ عَلَىٰ بَعۡضٖ فَيَرۡكُمَهُۥ جَمِيعٗا فَيَجۡعَلَهُۥ فِي جَهَنَّمَۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
(یہ سب کچھ) اس لئے ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر متراکم کر دے اور دوزخ میں ایک ہی جگہ قرار دے اور یہ لوگ خسارے میں ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر علی بن ابراہیم اور بہت سی دوسری تفاسیر میں ہے کہ مندرجہ بالا آیت جنگ بدر کے لئے مکہ کے لوگوں کی مالی امداد کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب مشرکین مکہ ابوسفیان کے قاصد کے ذریعے واقعہ سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے بہت سا مال واسباب اکٹھا کیا تاکہ اپنے جنگی سپاہیوں کی مدد کریں لیکن آخر کار وہ شکست کھا گئے اور مارے گئے اور جہنم کی آگ کی طرف چلے گئے اور اس راہ میں انہوں نے جو کچھ صرف کیا تھا ان کی حسرت واندوہ کا سبب بنا۔ پہلی آیت میں ان کی باقی امداد کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اسلام کے خلاف مقابلوں میں کی تھی اور اس مسئلے کو ایک عمومی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کی جنگ بدر میں دو ہزار کرائے کے سپاہیوں کی مدد کے بارے میں نازل ہوئی لیکن چونکہ یہ آیات جنگ بدر سے مربوط آیات کے ساتھ آئیں ہیں اس لئے شانِ نزول زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

تفسیر

آیت کی شانِ نزول میں جو کچھ بھی ہو اس کا مفہوم جامع ہے اور یہ دشمنانِ حق وعدالت کی ان تمام مالی امدادوں کے بارے میں ہے جو وہ اپنے بُرے مقاصد کی پیش رفت کے لئے کرتے تھے، پہلے کہا گیا ہے: کافر اور دشمنِ حق اپنا مال خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ حق سے روکیں (إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یُنْفِقُونَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ)۔ لیکن اموال کا یہ صرف کرنا ان کی کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا۔ ”عنقریب وہ یہ اموال خرچ کریں گے لیکن انجام کار وہ ان کی حسرت واندوہ کا سبب ہوگا“ (فَسَیُنفِقُونَھَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْھِمْ حَسْرَةً)۔ اور پھر وہ اہلِ حق کے ہاتھوں مغلوب ہوںگے(ثُمَّ یُغْلَبُونَ)۔ یہ لوگ نہ صرف اس جہان میں حسرت وشکست میں گرفتار ہوں گے بلکہ دوسرے جہان میں یہ کافر اکھٹے ہو کر جہنم میں جائیں گے (وَالَّذِینَ کَفَرُوا إِلیٰ جَھَنَّمَ یُحْشَرُون)۔

چند اہم نکات

۱۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شکست کھانے سے پہلی بھی اپنے کام کی بے ہودگی کی طرف متوجہ ہو گئے تھے اور چونکہ انہوں نے جواموال خرچ کئے ہیں ان کہ انھیں کافی و وافی نتیجہ میسّر نہیں آیا، لہٰذا رنج واندوہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور یہ ان کی ایک دنیاوی سزا ہے۔ ان کی دوسری سزا ان کے منصوبوں کی شکست ہے کیونکہ کرائے کے فوجی اور مال ودولت کے عشق میں جنگ لڑنے والے مقدس ہدف کی خاطر لڑنے والے صاحبانِ ایمان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے۔ دورِ حاضر کے حوادث نے بھی بارہا یہ بات ثابت کی ہے کہ طاقتور حکومتیں جو اپنے فوجیوں کو دولت اور ثروت کا لالچ دے کر اور جنسی خواہشات کی تشویق کے ذریعے چھوٹی سی قوموں کے مقابلے میں جو ایمان کی بناء پر جنگ کرتی ہیں، لاتی ہیں، ذلّت ورسوائی سے مغلوب ہو جاتی ہیں۔ ان دو دنیاوی سزاؤں کے علاوہ انھیں ایک تیسری سزا کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ یہ سزا دوسرے جہان میں ہو گی اور وہ غضب الٰہی کے جہنم میں گرفتار ہوں گے۔ ۲۔ جو کچھ مندرجہ بالا آیت میں آیا ہے، ہماری آج کی دنیا میں بھی اس کے بہت سے نمونے ہیں۔ شیطانی سامراجی قوتیں، ظلم وفساد کے طرف دار اور بے پردہ وباطل مذاہب کے حامی اپنے اہداف کی پیش رفت اور انسانوں کو راِہ حق سے روکنے کی خاطر مختلف صورتوں میں بہت زیادہ سرمایہ صرف کرتے ہیں۔ کبھی کرائے کے فوجیوں کی صورت میں ، کبھی ظاہراً انسانی امداد کی شکل میں ہسپتالوں اور اسکولوں کی تعمیر کی صورت میں، کبھی ثقافتی امداد کے حوالے سے، لیکن اصلی مقصد سب کا ایک ہے اور وہ ہے استعمار اور ظلم وستم کی وسعت اور اگر سچّے مومن مجاہدین جنگ بدر کی طرح منظم اور پُرعزم طور پر صف بندی کر لیں تو وہ ان تمام سازشوں کو نقش بر آب کر سکتے ہیں اور ان سرمایوں کی حسرت سے ان کے دلوں کو بھر سکتے ہیں اور آخرکار انھیں دوزخ میں بھیج سکتے ہیں۔ ۳۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ یہ دعوتِ پیغمبرﷺ کی صداقت کی نشانی ہے کیونکہ اس میں آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اِس میں دشمنانِ اسلام کی شکست کی خبر ہے جبکہ انہوں نے کامیابی کے لئے بہت مال ودولت صرف کیا تھا۔ لیکن اگرہم آیت کو آئندہ کے واقعات سے مربوط غیبی خبر نہ بھی سمجھیں، تب بھی کم از کم حق وباطل کے بارے میں قرآن نے ایک دقیق اور حساب شدہ مفہوم پیش کیا ہے جو قرآن اور تعلیماتِ اسلام کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔ گذشتہ آیت میں دشمنانِ حق کے مالی مصارف کے تین بُرے نتائج واضح کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: یہ حسرت، شکست اور بدبختی اس بناپر ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ناپاک کو پاک سے اس جہان میں اور دوسرے جہان میں الگ الگ کر دے (لِیَمِیزَ اللهُ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ)۔ یہ ایک سنّت الٰہی ہے کہ ہمیشہ پاک اور نجس، مخلص اور ریاکار اور جھوٹے مجاہد، خدائی کام اور شیطانی کام، انسانی پروگرام اور ضد انسانیت پروگرام واضح ہوئے بغیر نہیں رہتے، آخر پہچانے جاتے ہیں اور جلوہٴ حق نمایاں ہوکے رہتا ہے۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ حق کے طرفدار جنگ بدر کے مسلمانوں کی طرح کافی آگاہی اور جذبہٴ فداکاری سے سرشار ہوں۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: خدا پاک چیزوں کو ایک دوسرے کا ضمیمہ قرار دیتا ہے اور سب کو ڈھیر بنا دیتا ہے اور جہنم میں قرار دیتا ہے (وَیَجْعَلَ الْخَبِیثَ بَعْضَہُ عَلیٰ بَعْضٍ فَیَرْکُمَہُ جَمِیعًا فَیَجْعَلَہُ فِی جَھَنَّمَ)۔ خبیث اور ناپاک جس گروہ سے ہوں اور جس شکل اور لباس میں ہوں اخرکار ایک ہی شکل میں ڈھل جائیں گے اور ان سب کا انجام زیاں کاری ہی ہو گا جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ خسارے میں ہیں اور زیاں کار ہیں(اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْخَاسِرُونَ)۔

تفسیر

ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی روش ہے کہ وہ بشارت اور انذار کو اکٹھا کر دیتا ہے یعنی جیسے دشمنانِ حق کو سخت اور دردناک عذاب کی تہدید کرتا ہے اسی طرح لوٹ آنے کا راستہ بھی ان کے لئے کُھلا رکھتا ہے۔ محل بحث آیات میں سے پہلی آیت بھی قرآن کے اسی طریقے کے مطابق ہے۔ اس میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے کہ: جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر وہ مخالفت، ہٹ دھرمی اور سرکشی سے باز رہیں اور دینِ حق کی طرف پلٹ آئیں تو ان کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے (قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ یَنتَھُوا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام قبول کر لینے سے گذشتہ دور میں جو کچھ بھی ہوا ہو، اُسے بخش دیا جاتا ہے اور یہ بات اسلامی روایات میں ایک عمومی قانون کے طور پر بیان کی گئی ہے جیسے کہا گیا ہے: ”اَلاِسْلَام یَجُبُّ مَا قَبْلَہُ“- اسلام اپنے ماقبل کو چھپا دیتا ہے۔ اسی طرح اہلِ سنّت کے طرق سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے: ”انّ السلام یھدم ما کان قبلہ، وانّ الھجرة تھدم ما کان قبلھا وانّ الحج یھدم ما کان قبلہ“- اسلام سے پہلے جو کچھ ہوا اسلام اُسے ختم کر دیتا ہے اور ہجرت اپنے ما قبل کو مٹا دیتی ہے اور اسی طرح خانہٴ خدا کا حج بھی اپنے سے ما قبل کو محو کر دیتا ہے۔(بحوالہ: صحیح مسلم، طبق نقل المنار، ج۹، ص۶۶۵)۔ مراد یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کے غلط اعمال وافعال یہاں تک کہ فرائض و واجبات کا ترک کرنا اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے اور اس قانون کا عطف اور ربط گذشتہ سے نہیں ہے۔ اسی لئے کتبِ فقہِ اسلامی میں ہے کہ مسلمان ہونے والے شخص کے لئے گذشتہ عبادات کی قضا تک ضروری نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : لیکن اگر وہ اپنی غلط روش سے باز نہ آئیں ”اور اگر وہ سابقہ اعمال کی پلٹ جائیں تو جو خدائی سنّت گذشتہ لوگوں کے لئے رہی ہے ان کے لئے بھی انجام پائے گی“ (وَإِنْ یَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِینَ)۔ اور اس سنّت سے مراد وہی انجام ہے جس سے دشمنانِ حق انبیاء کے مقابلے میں اور خود مشرکینِ مکّہ تک جنگ بدر میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مقابلے میں دوچار ہوئے ہیں۔ سورہٴ غافر کی آیت ۵۱ میں ہے: إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الْاَشْھَادُ ہم اپنے رسولوں کی اور مومنین کی دنیاوی زندگی اور روزِ قیامت کہ جس میں گواہ کھڑے ہوں گے، مدد کریں گے۔ اسی طرح سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۷۷ میں ہے: سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا وَلَاتَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیلًا یہ ہماری سنت گذشتہ پیغمبروں کے بارے میں ہے اور یہ سنت کبھی تبدیل نہیں ہو گی۔ گذشتہ آیت میں چونکہ دشمنوں کو حق کی طرف پلٹ آنے کی دعوت دی جا چکی ہے اور ممکن تھا کہ یہ دعوت مسلمانوں میں یہ فکر پیدا کر دیتی کہ اب جہاد کا دور ختم ہو گیا ہے اور انعطاف اور نرمی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، لہٰذا اس اشتباہ کو دور کرنے کے لئے مزید فرمایا گیا ہے: ان سخت ترین دشمنوں کے ساتھ جنگ کرو اور اس جنگ کو جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے اور سارے کا سارا دین الله کے لئے ہوجائے (وَقَاتِلُوھُمْ حَتَّی لَاتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّٰہِ)۔ جیسا کہ ہم سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ لفظ ”فتنہ“ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں ہر قسم کے دباؤ ڈالنے والے اعمال شامل ہیں، اس لئے کبھی یہ لفظ قرآن میں شرک وبت پرستی کے معنی میں استعمال ہوتاہے جو کہ معاشرے کے لئے بہت سی رکاوٹیں اور دباؤ پیدا کرتی ہے، اسی طرح ایسے دباوٴ کے مفہوم میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جو دعوتِ اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اور حق طلب لوگوں کی آواز دبانے کے لئے ہو، یہاں تک کہ مومنین کو کفر کی طرف پلٹانے کے لئے ڈالے جانے والے دباؤ پر بھی ”فتنہ“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں بعض مفسّرین نے ”فتنہ“ کو شرک کے معنی میں لیا ہے۔ بعض نے دشمنوں کی مسلمانوں سے فکری و اجتماعی آزادی سلب کرنے کی کوششوں کے معنی میں لیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے۔ اس سے مراد شرک بھی ہے اور (”وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّٰہِ“ کے قرینہ سے)دشمنوں کی طرف سے مسلمانوں پر وارد ہونے والے ہر قسم کا دباؤ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔

38
8:38
قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَنتَهُواْ يُغۡفَرۡ لَهُم مَّا قَدۡ سَلَفَ وَإِن يَعُودُواْ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ ٱلۡأَوَّلِينَ
وہ لوگ کافر ہو گئے ہیں انہیں کہہ دو کہ اگر وہ مخالفت سے باز آ جائیں (اور ایمان لے آئیں ) تو ان کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اگر وہ سابقہ اعمال کی طرف پلٹ جائیں تو گذشتہ لوگوں والی خدا کی سنت ان کے بارے میں جاری ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
8:39
وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
اور ان کے ساتھ جنگ کرو تاکہ (شرک اور سلب آزادی کا) فتنہ ختم ہو جائے اور دین (اور عبادت) سب کا سب اللہ کے ساتھ مخصوص ہو جائے پس اگر وہ (ان غلط اعمال سے)اجتناب کریں تو اللہ انہیں قبول کرے گا جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں خدا اسے دیکھنے والاہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
8:40
وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَىٰكُمۡۚ نِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ
اور اگر وہ رو گردانی کریں تو جان لو کہ وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ خدا تمہارا سر پرست ہے وہ بہترین سر پرست اور مدد گار ہے۔

مقصدِ جہاد اور ایک بشارت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مندرجہ بالا آیت مقدس اسلامی جہاد کے مقاصد میں سے دو کی طرف اشارہ کر رہی ہے: ۱۔بت پرستی کی بساط الٹنا اور بت کدوں کا خاتمہ:۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جیسے ہم مقاصدِ جہاد کی بحث میں کہہ چکے ہیں کہ دینی آزادی ان اشخاص کے لئے مخصوص ہے جو کسی آسمانی دین کی پیروی کریں اور ان کے لئے عقیدہ اور نظریہ بدلنے کے لئے دباؤ صحیح نہیں ہے لیکن بت پرستی نہ دین ہے نہ مکتب ومذہب، بلکہ بیہودگی، انحراف اور کجروی ہے۔ حکومت اسلامی کو چاہیے کہ پہلے تو تبلیغ کے ذریعے اور اگر ممکن ہو تو طاقت کے بل پر ہر جگہ سے بت پرستی ختم کرے اور بت خانوں کو برباد کر دے۔ ۲۔ اظہارِ رائے، تبلیغ اور نشر واشاعت کی آزادی:۔۔۔۔۔۔ اس کے لئے بھی کہ اسلام اجازت دیتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے عمل سے مسلمانوں سے عمل کی آزادی اور نشر واشاعت، تبلیغ اور دعوتِ اسلام کی آزادی میں حائل ہوں تو مسلمانوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ جہادِ آزادی کا راستہ اپنائیں اور منطقی تبلیغ کی آزادی حاصل کریں (مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ۲۴ تا ۲۹ اُردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں)۔ اہلِ سنّت کی تفاسیر (مثلاً روح البیان) میں اور اہلِ تشیع کی مختلف تفاسیر میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: لم یجیء تاٴویل ھٰذہ الآیة ولو قام قائمنا بعد سیری من یدرکہ ما یکون من تاٴویل ھٰذہ الآیة ولیبلغن دین محمد ما بلغ اللیل حتّیٰ لا یکون مشرک علی ظھر الارض- اس آیت کی اصل تاویل اور تفسیر ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی اور جب ہمار قائم قیام کرے گا تو جو لوگ ان کا زمانہ پائیں گے وہ اس آیت کی تاویل کو دیکھیں گے، خدا کی قسم اس وقت دین محمد ان تمام جگہوں پر پہنچ جائے گا جن پر سکون بخش رات اپنا پردہ ڈالتی ہے، یہاں تک کہ روئے زمین پر کوئی مشرک اور بت پرست باقی نہیں رہے گا۔ تفسیر المنار کے موٴلف نے حضرت مہدی(علیه السلام) کے قیام کے بارے میں اپنے مخصوص تعصّب کی بناپر اس حدیث کا انکار کیا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی تفسیر کی تصریحات میں وہابی مکتب و مذہب کی طرف خصوصی میلان کا اظہار کرتا ہے حالانکہ سخت قسم کے وہابی بھی صراحت کے ساتھ حضرت مہدی(علیه السلام) کے ظہور کو ایک مسلّم امر سمجھتے ہیں اور اس سلسلے کی روایات کو متواتر قرار دیتے ہیں کہ جن کے اسناد و مدارک سورہ توبہ کی آٰیت ۲۳ کے ذیل میں(اسی جلد میں) پیش کئے جائیں گے۔ مفسر مذکور کے اشتباہ کےاصل نقطہ اور اس کے جواب کی طرف بھی ہم اشارہ کریں گے، کتاب ”مصلح بزرگ جہانی“ میں بھی ہم نے تفصیل سے ان مطالب کا ذکر کیا ہے، نیز اگر ظہور مہدی(علیه السلام) سے مربوط کچھ روایات غلط ہیں یا خرافات پر مشتمل ہیں تو اس کی وجہ سے ان سب صحیح اور متواتر روایات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آیت کے ذیل میں دوبارہ ان کی شدّت عمل کے مقابلے میں دوستی اور محبت کا ہاتھ بڑھایا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے: اگر وہ اپنی راہ و روش سے دستبردار ہوجائیں تو وہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے آگاہ ہے اور وہ ان سے اپنے خاص لطف و عنایت کا برتاؤ کرے گا (فَإِنْ انتَھَوْا فَإِنَّ اللهَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ)۔ اور اگر وہ اپنی روگردانی جاری رکھیں اور دعوتِ حق کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو جان لو کہ کامیابی تمھارے لئے ہے اور شکست ان کے انتظار میں ہے کیونکہ خدا تمھارا مولیٰ اور سرپرست ہے (وَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ مَوْلَاکُمْ)۔ اور وہ بہترین مولیٰ ورہبر اور بہترین ساور ومددگار ہے (نِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیرُ)۔

41
8:41
۞وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا غَنِمۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمۡ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا يَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
اور جان لو کہ جس قسم کی غنیمت تمہیں ملے تو خدا‘ رسول‘ ذی القربی‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کیلئے اس کا پانچواں حصہ(خمس) ہے اگر تم خدا پر اور جو کچھ ہم نے اپنے بندہ پر حق کی باطل سے جدائی کے دن اور صاحب ایمان اور بے ایمان دو گروہوں کی مڈبھیڑ کے دن (جنگ بدر کے روز) نازل کیا ایمان لے آؤ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

ایک اہم اسلامی حکم،خمس

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

سورت کی ابتداء میں ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ مسلمانوں نے چنگ بدر کے بعد جنگی غنائم کے سلسلے میں جھگڑا کیا تھا۔ خدا نے مادہٴ اختلاف کی ریشہ کنی کے لئے غنائم کو مکمل طور پر پیغمبرﷺ کے اختیار میں دے دیا تاکہ وہ جیسے مصلحت سمجھیں، انھیں صرف کریں اور پیغمبر اکرمﷺ نے جنگ میں حصّہ لینے والے غاریوں کے درمیان انھیں مساوی طور پر تقسیم کر دیا۔ زیر نظر آیت در حقیقت اسی مسئلہء غنائم کی طرف بازگشت ہے۔ یہ ان آیات کی مناسبت سے ہے جو اس سے قبل جہاد کے بارے میں آئی ہیں اور چونکہ عام طور پر جہاد کا غنائم کے مسئلے سے تعلق ہوتا ہے لہٰذا حکمِ غنائم کا بیان یہاں مناسبت رکھتا ہے (بلکہ جیسا کہ ہم بتائیں گے قرآن یہاں اس حکم کو جنگی غنائم سے بھی بالاتر لے گیا ہے اور ہر طرح کی آمدن کی طرف اشارہ کرتا ہے)۔ آیت کے شروع میں فرمایا گیا ہے: جان لو کہ جیسی غنیمت بھی تمہیں نصیب ہو، اس کا پانچواں حصّہ خدا، رسول، ذی القربیٰ (آئمہ اہل بیت) اور (خاندان رسولﷺ میں سے) یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے (وَاعْلَمُوا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبیٰ وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ)۔ تاکید کے طور پر مزید فرمایا گیا ہے: اگر تم خدا پر اور وہ جو ہم نے اپنے بندے پر (جنگ بدر کے دن) حق کے باطل سے جدا ہونے کے دن، جب مومن و کافر ایک دوسرے کے مد مقابل ہوئے تھے، نازل کیا، ایمان لائے ہو تو اس حکم پر عمل کرو اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو (إِنْ کُنتُمْ آمَنْتُمْ بِاللهِ وَمَا اَنزَلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ)۔ یہاں اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس آیت میں روئے سخن مومنین کی طرف ہے کیونکہ جہاد اسلامی کے غنائم کے بارے میں بحث ہو رہی ہے اور یہ بات واضح ہے کہ مجاہد اسلام، مومن ہوتا ہے۔ اس کے باوجود فرمایا گیا: ”اگر تم خدا اور رسولﷺ پر ایمان لائے ہو“۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ اظہار ایمان، ایمان کی علامت نہیں بلکہ میدانِ جہاد میں شرکت بھی ہو سکتا ہے، ایمان کامل کی نشانی نہ ہو اور یہ عمل کچھ اور مقاصد کے لئے انجام پا رہا ہو۔ مومن کامل وہ شخص ہے جو تمام احکام کے سامنے اور بالخصوص مالی احکام کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہو اور خدائی احکام میں تبعیض کا قائل نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک حکم مان لے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔ آیت کے آخر میں خدا کی غیر محدود قدرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ)۔ یعنی باوجودیکہ میدان بدر میں تم ہر لحاظ سے اقلیت میں تھے اور دشمن ظاہراً ہر لحاظ سے برتری رکھتا تھا، قادر و توانا خدا نے انھیں شکست دی اور تمھاری مدد کی، یہاں تک کہ تم کامیاب ہو گئے۔

چند اہم نکات ۱۔ حق کی باطل سے جدائی کا دن

اس آیت میں یوم بدر کو حق کی باطل سے جدائی کا دن (یوم الفرقان) اور کفر کے طرفداروں کی ایمان کے طرفداروں سے مڈبھیڑ کا دن قرار دیا گیا ہے اور اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بدر کا تاریخی دن ایک ایسا دن تھا جس میں پیغمبر اسلامﷺ کی حقانیت کی نشانیاں ظاہر ہوئیں کیونکہ آپ نے پہلے سے مسلمانوں سے کامیابی کا وعدہ کر رکھا تھا جب کہ ظاہراً اس کی کوئی نشانی موجود نہ تھی۔ ایسے میں کامیابی کے ایسے مختلف غیر متوقع عوامل اکٹھے ہو گئے کہ جنہیں اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس بناء پر ان آیات کی صداقت کہ جو رسول اللہﷺ پر ایسے دن نازل ہوئیں ان کی دلیل خود انہی میں پوشیدہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جنگِ بدر کا دن(یوم التقی الجمعان) در حقیقت مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خدائی نعمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ ابتداء میں ایک گروہ اس جنگ سے احتراز کرتا تھا لیکن یہی جنگ اور اس میں کامیابی انھیں کئی سال آگے لے گئی اور مسلمانوں کا نام اور شہرت، اس کے سبب تمام جزیرہٴ عرب میں پھیل گئی اور اس نے تمام اہلِ عرب کو نئے دین اور اس کی حیرت انگیز قدرت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ضمناً یہ دن کہ جو امت اسلامی کے لئے بھی ”و انفسنا“ یعنی نفسا نفسی کا دن تھا، اسلام کے سچے مومن، جھوٹے دعویداروں سے ممتاز ہو گئے۔ لہٰذا یہ دن ہر لحاظ سے حق کی باطل سے جدائی کا دن تھا۔

۲۔ ایک وضاحت

اس سورہ کی ابتداء میں ہم کہہ چکے ہیں کہ سورہ انفال کی آیت اور اس آیت میں کوئی تضاد نہیں ہے اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم ایک کو دوسری کا ناسخ سمجھیں کیونکہ آیہ انفال کا تقاضا یہ ہے کہ جنگی غنائم بھی پیغمبر سے متعلق ہیں لیکن رسول اللہﷺ پانچ میں سے چار حصّے جنگجو غازیوں کو بخش دیتے ہیں اور پانچواں حصّہ ان مصارف کے لئے جو آیت میں معین ہوئے ہیں، رکھ لیتے ہیں۔ مزید توضیح کے لئے اسی سورہ کی پہلی آیت کے ذیل میں کی گئی بحث کی طرف رجوع کیجئے۔

۳۔ ذی القربیٰ سے کیا مراد ہے؟

اس آیت میں ”ذی القربیٰ“ سے مراد نہ تو سب لوگوں کے رشتہ دار ہیں اور نہ ہی رسول اللہﷺ کے سب رشتہ دار بلکہ آئمہ اہلِ بیت(ع) مراد ہیں۔ اس امر کی دلیل وہ متواتر روایات ہیں جو اہل بیت پیغمبرﷺ کے طرق سے نقل ہوئی ہیں۔) وسائل الشیعہ جلد ۶ بحث خمس کی طرف رجوع کیجئے(۔کتب اہل سنت میں بھی اس طرف اشارے موجود ہیں۔ اس بناء پر وہ لوگ کہ جو خمس کے ایک حصّے کو پیغمبر اسلامﷺ کے تمام رشتہ داروں سے متعلق قرار دیتے ہیں، انھیں اس سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ یہ کیسا امتیاز ہے جو اسلام نے پیغمبرﷺ کے رشتہ داروں سے متعلق روا رکھا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام نسل، قوم اور قبیلہ سے بالاتر ہے۔ لیکن اگر اسے آئمہ اہل بیت(علیه السلام) سے مخصوص سمجھیں تو اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہ رسول اللہﷺ کے جانشین اور اسلامی حکومت کے رہبر و رہنما تھے اور ہیں تو خمس کا ایک حصّہ ان سے مختص کیے جانے کی علت واضح ہو جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں خدا کا حصّہ ، پیغمبرﷺ کا حصّہ اور ذی القربیٰ کا حصّہ، تینوں حصّے حکومت اسلامی کے قائد و رہبر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ اپنی سادہ زندگی کا اس سے انتظام کرتا ہے۔ باقی مختلف مخارج کہ جو رہبریء امت کا لازمہ ہیں، کے لئے صرف کرتا ہے۔ یعنی حقیقت میں یہ حصّہ معاشرے اور عوام کی ضرورت کے لیے ہے۔ بعض مفسرین اہل سنت ”ذی القربیٰ“ پیغمبر اکرمﷺ کے تمام رشتہ داروں کو سمجھتے ہیں۔ مثلاً المنار کا مؤلف بھی اسی بات کا قائل ہوا ہے۔ لہٰذا وہ مذکورہ اعتراض کے جواب میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پیغمبر خداﷺ کی اسلامی حکومت کے لئے تشریفات اور تکلفات کا قائل ہوا ہے اور رسول اللہﷺ کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم و قبیلہ کو مال کے ذریعے اپنے گرد جمع رکھا۔ واضح ہے کہ اس قسم کی منطق کسی طرح بھی ایک عالمی، اسلامی، انسانی اور قوم و قبیلہ کے امتیازات سے پاک حکومت سے مناسبت نہیں رکھتی (اس سلسلے میں کچھ مزید توضیح بھی ہے جو آئندہ کی بحثوں میں آئے گی)۔

۴۔ یتامی و مساکین اور ابن سبیل کون؟

یتامیٰ و مساکین و ابن السبیل“ سے یہاں کیا مراد ہے: کیا اس سے مراد صرف بنی ہاشم اور سادات کے یتیم، مسکین اور مسافر ہیں؟ اگر چہ ظاہر آیت تو مطلق ہے اور اس میں کوئی قید دکھائی نہیں دیتی۔ اس سلسلے میں ہم جو اسے منحصر قرار دیتے ہیں تو اس کی دلیل وہ بہت سی روایات ہیں جو طرق اہل بیت(ع) سے وارد ہوئی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں بہت سے احکام بطور مطلق آئے ہیں لیکن ان کی ”شرائط و قیود“ ”سنت“ کے وسیلے سے بیان ہوئی ہیں اور یہ بات زیر بحث آیت میں ہی منحصر نہیں جو تعجب کیا جائے۔ علاوہ ازیں، اگر ہم دیکھیں کہ بنی ہاشم کے حاجت مندوں کے لئے زکوٰة مسلمہ طور پر حرام ہے، تو چاہیے کہ کسی دوسرے ذریعے سے ان کی احتیاجات پوری کی جائیں۔ یہی امر اس کا قرینہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں بنی ہاشم کے حاجت مندوں کے لئے مخصوص حکم ہے۔ لہٰذا احادیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب خدا تعالیٰ نے ہم پر زکوٰة حرام فرمائی تو ہمارے لئے خمس مقرر فرمایا یہی وجہ ہے کہ زکوٰة ہم پر حرام ہے اور خمس حلال ہے۔(وسائل الشیعہ جلد ۶ خمس کی بحث کے ذیل میں اور مجمع البیان زیر نظر آیت کے ذیل میں اہل سنت کے طرق سے، نیز اس سلسلے میں منقول روایات کی طرف ہم جلد اشارہ کریں گے)۔

۵۔ آیا غنائم سے مراد صرف جنگی غنیمت ہے؟

دوسرا اہم موضوع جس پر اس آیت کے حوالے سے تحقیق کی جانی چاہیے اور در حقیقت جس میں ایک اچھی بحث متمر کز ہے، یہ ہے کہ لفظ غنیمت جو زیر نظر آیت میں آیا ہے، کیا فقط جنگی مال غنیمت کے بارے میں ہے یا اس کے مفہوم میں ہر طرح کی آمدنی شامل ہے۔ پہلی صورت میں آیت فقط جنگی غنائم کے خمس کے بارے میں بیان کررہی ہے اور دیگر امور میں خمس کے بارے میں ہمیں صحیح و معتبر سنت اور روایات سے استفادہ کرنا چاہیے اور اس بات میں کوئی امر مانع نہیں کہ قرآن نے جہاد کے مسائل کے ذیل میں خمس کے ایک حصّے کی طرف اشارہ کیا ہے اور دوسرے حصّے کے بارے میں سنت سے وضاحت کی جائے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہر روز کی پنجگانہ نماز کا صریحاً ذکر ہے اور اسی طرح واجب نمازوں میں سے طواف کی نمازوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن نماز آیات جس پر شیعہ سنی تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا۔ اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ نماز آیات کا چونکہ قرآن میں ذکر نہیں اور اس کا تذکرہ فقط سنت پیغمبرﷺ میں آیا ہے لہٰذا اس پر عمل نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح قرآن میں بعض غسلوں کی طرف اشارہ ہوا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیا ان سے صرف نظر کر لیا جائے؟ یہ ایسی منطق ہے جسے کوئی مسلمان قبول نہیں کرتا۔ لہٰذا اس امر میں کوئی اشکال نہیں کہ قرآن خمس کے مواقع میں سے صرف ایک کی طرف اشارہ کرے اور باقی کو سنت پر چھوڑ دے۔ فقہ اسلام میں ایسی مثالیں بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں دیکھنا چاہیے کہ لفظ غنیمت، لغت میں اور عرف میں کیا معنی دیتا ہے۔ کیا واقعاً یہ لفظ جنگی غنائم میں منحصر ہے یا ہر قسم کی آمدنی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ جو کچھ لغت کی کتب سے معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ اس لفظ کی اصل جنگ کے حوالے سے نہیں اور نہ یہ اس چیز ہی کو کہتے ہیں جو دشمن سے ہاتھ لگے بلکہ ہر قسم کی درآمد اور وصولی کو کہتے ہیں ۔ بطور شاہد ہم چند ایک ایسی مشہور لغت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو علماء اور ادباء عرب کی موردِ استناد ہیں۔ ”لسان العرب“ کی جلد ۱۲ میں ہے: والغنم الفوز بالشیٴ من غیر مشقة ----و الغنم، الغنیمة و الغنم الفیٴ ----- وفی الحدیث الرہن لمن رھنہ لہ غنمہ و علیہ غرمہ، غنمہ زیادتہ و نمآئہ و فاضل قیمتہ----وغنم الشیٴ فاز بہ--- ”غنم“ یعنی مشقت اور زحمت کے بغیر کسی چیز پر دسترس حاصل کرنا۔ نیز”غنم“ ”غنیمت“ اور ”مغنم“ فییٴ کے معنی میں ہیں (فییٴ بھی لغت میں ایسی چیزوں کے معنی میں ہے جو زحمت اور اور تکلیف اٹھائے بغیر انسان تک پہنچ جائیں) اور حدیث میں آیا ہے کہ ”رھن“ اس کے لئے ہے جس نے اسے اپنے پاس رہن رکھا ہے، غنیمت اور اس کے منافع اس کے لئے ہیں اوراس کا نقصان بھی اسی کے لئے ہوگا۔ نیز ”غنم“زیادتی،نمو اور قیمت میں اضافہ کے معنی ہے اور فلاں چیز کو غنیمت کے طور پر لیا، یعنی اس تک دسترس حاصل کی۔ ”تاج العروس“ جلد ۹ میں ہے: ”والغنم الفوز بالشیء بلا مشقة“ غنیمت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس پر انسان بغیر مشقت کے دسترس حاصل کرے۔ کتاب ”قاموس“ میں اسی مذکورہ معنی میں ذکر ہوا ہے۔ مفردات راغب میں میں ہے: ”غنیمت“ ”غنم“ کی اصل سے گوسفند کے معنی سے لیا گیا ہے۔ راغب مزید کہتا ہے: ”ثم استعملوا فی کل مظفور بہ من جھة العدی وغیرہ“ بعد ازاں یہ لفظ ہر اُس چیز کے لئے استعمال ہونے لگا جو دشمن سے یا غیر دشمن سے حاصل کی جائے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے ”غنیمت“ کے معانی میں سے ایک معنی ”جنگی غنائم“ بیان کیا ہے، وہ بھی اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اس کا اصلی معنی ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو انسان بغیر مشقت کے حاصل کرے۔ عام استعمال میں بھی”غنیمت “ ”غرامت “کے مقابلے میں ذکر ہوتا ہے۔تو جس طرح غرامت کا معنی وسیع ہے اور ہر قسم کے تاوان اور ادائیگی پر محیط ہے اسی طرح غنیمت بھی وسیع معنی رکھتا ہے اور ہر ایسی در آمد اور وصولی پر محیط ہے جو قابل ملاحظہ ہو ۔نہج البلاغہ میں بہت سے مواقع پر یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔خطبہ ۷۶میں ہے: اغتنم المھل مہلتوں اور مواقع کو غنیمت سمجھو۔ خطبہ ۱۲۰میں ہے: من اخذھا لحق و غنم جو شخص دین خدا پر عمل کرے گا، وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے اور فائدے اٹھائے گا ۔ خطبہ ۵۳میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام مالک اشتر سے فرماتے ہیں: ولا تکونن علیھم سُبُعاً ضاریا تغتنم اٴکلہم مصر کے لوگوں کے لئے درندے کی طرح نہ ہو جانا کہ انھیں کھا جانا اپنے لئے غنیمت اور در آمد سمجھنے لگو۔ خطبہ ۴۵ میں عثمان بن خلیف سے فرماتے ہیں : فو الله ما کنزت من دنیاکم تبراً ولا اٴدخرت من غنائمھا و فرا خدا کی قسم میں نے تمھارے سونے سے ذخیرہ اکٹھا نہیں کیا اور اس کے غنائم اور در آمدات سے زیادہ مال جمع نہیں کیا۔ نیز کلمات قصار کے جملہ ۳۳۱میں آپ فرماتے ہیں : ان الله جعل الطاعة غنیمة الا کیاس خدا نے اطاعت کو عقلمندوں کے لئے غنیمت اور فائدہ قرار دیا۔ خطبہ ۴۱ میں ہے: و اغتنم من استقر ضک فی حال غناک اگر کوئی شخص تیری تونگری کی حالت تجھ سے قرض چاہے تو اسے غنیمت سمجھو۔ اس قسم کی دیگر تعبیریں بہت زیادہ ہیں جو سب کی سب نشاندہی کرتی ہیں کہ لفظ غنیمت جنگی غنائم میں منحصر نہیں ہے۔ باقی رہے مفسرین --------تو بہت سے مفسرین کہ جنہوں نے اس آیت کے بارے میں بحث کی ہے، صراحت کے ساتھ اعتراف کیا ہے کہ ”غنیمت“اصل میں ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور اس میں جنگی غنائم اور ان کے علاوہ غنائم اور کلی طور پر ہر وہ چیز شامل ہے جسے انسان زیادہ مشقت کے بغیر حاصل کر لے۔ یہاں تک کہ جنہوں نے فقہاء اہل سنت کے فتویٰ کی بناء پر آیت کو جنگی غنائم کے ساتھ مخصوص کیا ہے، وہ پھر بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اس کے اصلی معنی میں یہ قید موجود نہیں ہے بلکہ انہوں نے ایک اور دلیل کی وجہ سے یہ قید لگائی ہے۔ اہلِ سنت کے مشہور مفسر قرطبی اپنی تفسیر میں آیت کے ذیل میں یوں رقم طراز ہے: جان لو کہ (علمائے اہل سنت) کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت (و اعلموآ انما غنمتم) میں غنیمت سے مراد وہ اموال ہیں کہ جو جنگ میں قہر و غلبہ کی وجہ سے لوگوں کو ملیں لیکن توجہ رہے کہ یہ قید، جیسا کہ ہم نے کہا ہے، اس کے لغوی معنی میں موجود نہیں ہے لیکن عرف شرع میں یہ قید آئی ہے۔)بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد ۴ ص ۲۸۴۰(۔ فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں تصریح کرتے ہیں: الغنم الفوز بالشیٴ غنیمت یہ ہے کہ انسان کسی چیز کے حصول پر کامیاب ہو جائے۔ لغت کے لحاظ سے اس معنی کے ذکر کے بعد کہتے ہیں: غنیمت کا شرعی معنی (فقہاء اہل سنت کے نظریے کے مطابق) وہی جنگی غنائم ہیں۔)بحوالہ: تفسیر فخر الدین رازی جلد ۱۵، صفحہ ۱۶۴(۔ نیز تفسیر المنار میں غنیمت کا ایک وسیع معنی ذکر کیا گیا ہے اور اسے جنگی غنائم سے مخصوص نہیں کیا گیا اگرچہ صاحبِ تفسیر کا عقیدہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کے وسیع معنی کو قید شرعی کی وجہ سے جنگی غنائم ہی میں محدود سمجھنا چاہیے۔)بحوالہ: تفسیر المنار جلد ۱۰ ص 3۔7(۔ مشہور سنی مفسر آلوسی کی تفسیر ”روح المعانی“ میں بھی ہے کہ: ”غنم“ اصل میں ہر قسم کے فائدے اور منفعت کے معنی میں ہے۔)بحوالہ: تفسیر روح المعانی جلد ۱۰ ص ۲(۔ تفسیر مجمع البیان میں پہلے تو غنیمت کو جنگی غنائم کے ساتھ تفسیر کیا گیا ہے لیکن آیت کی تشریح کے موقع پر لکھا ہے: قال اصحابنآ ان الخمس واجب فی کل فائدة تحصل للانسان من المکاسب و ارباح التجارات، و فی الکنوز و المعادن و الغوص و غیر ذٰلک مما ھو مذکور فی الکتب ویمکن ان یستدل علٰی ذٰلک بھٰذھ الاٰیة فان فی عرف اللغة یطلق علی جمیع ذٰلک اسم الغنم و الغنیمة۔)بحوالہ: تفسیر مجمع البیان جلد ۴ ص ۵۴۴۔۵۴۳(۔ علماء شیعہ کا یہ نظریہ یہ ہے کہ خمس ہر اس فائدے پر واجب ہے جو انسان حاصل کرتا ہے۔ چاہے وہ کسب تجارت کے طریق سے ہو یا خزانہ اور معدنیات سے یا دریا میں غوطہ کے ذریعے سے اور دیگر وہ امور جو کتبِ فقہ میں مذکورہ ہیں اور اس آیت سے بھی اس دعویٰ پر استدلال پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ عرفِ لغت میں ان تمام چیزوں کو غنیمت کہا جاتا ہے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ ایک خود غرض شخص جو عوام کے افکار میں سم پاشی کے لئے خاص طور پر مامور ہے، اس نے خمس کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں اس نے تفسیر مجمع البیان کی عبارت میں رسوا کنندہ تحریف کی ہے۔ اس کی عبارت کے پہلے حصّے کو جس میں غنیمت کی تفسیر کے لئے جنگی غنائم کا ذکر کیا گیا ہے، بیان کر دیا گیا ہے لیکن اس توضیح کو جو اس کے لغوی معنی کی عمومیت کے لئے اور آیت کے معنی کے حوالے سے آخر میں کی گئی ہے، اسے بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے اور اس عظیم اسلامی مفسر کی طرف ایک جھوٹے مطلب کی نسبت دی گئی ہے۔ گویا اس کے خیال میں تفسیر مجمع البیان صرف اسی کے پاس ہے اور کوئی دوسرا اس کا مطالعہ نہیں کرے گا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس خیانت کا وہ صرف اسی موقع پر مرتکب نہیں ہوا بلکہ دوسرے مواقع پر بھی جو کچھ اس کے فائدے میں تھا، اسے لے لیا ہے اور جو اس کے نقصان میں تھا، اسے نظر انداز کر دیا ہے۔ تفسیر المیزان میں بھی علمائے لغت کے کلمات کے حوالے سے تصریح کی گئی ہے کہ ”غنیمت“ ہر قسم کے فائدہ کو کہتے ہیں کہ جو تجارت یا کسب و کار یا جنگ کے ذریعے انسان کے ہاتھ لگے اور زیر نظر آیت کا محل نزول اگر چہ جنگی غنائم ہے تاہم ہم جانتے ہیں کہ محل نزول آیت کے مفہوم کی عمومیت کو مخصوص نہیں کر سکتا۔)بحوالہ: المیزان جلد ۹ صفحہ ۸۹(۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے، اس تمام سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ: آیت غنیمت ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور ہر قسم کی آمدنی، فائدے اور منفعت پر محیط ہے کیونکہ اس لفظ کا لغوی معنی عام ہے اور اسے کسی خاص معنی میں محدود کرنے کے لئے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ وہ واحد چیز جس کا بعض اہل سنت مفسرین نے سہارا لیا ہے، یہ ہے کہ قبل و بعد کی آیات جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور یہ امر اس بات کا قرینہ ہے کہ آیتِ غنیمت میں بھی جنگی غنائم کی طرف اشارہ ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ آیتوں کی شانِ نزول اور سیاق وسباق آیت کی عمومیت کو محدود نہیں کرتے۔ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ آیت کا مفہوم عمومی ہو جبکہ اس کا محلِ نزول جنگی غنائم ہوں کہ جو اس کُلّی حکم کا ایک جزوی مصداق ہیں۔ مثلاً سورہٴ حشر کی آیت۷ میں ہے: مَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوا جو کچھ پیغمبرﷺ تمھارے لئے لائے، اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔ فرامین پیغمبرﷺ کی پیروی کے لازمی ہونے کے بارے میں یہ آیت ایک عمومی حکم بیان کر رہی ہے حالانکہ اس کا محلِ نزول ایسے اموال ہیں کہ جو دشمنوں سے بغیر جنگ کے مسلمانوں کے ہاتھ لگیں (اور اصطلاح میں اسے ”فییٴ“کہتے ہیں)۔ نیز سورہٴ بقرہ کی آیت۱۳۳ میں یہ قانون ایک عمومی صورت میں بیان ہوا ہے: لاتُکَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَھَا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دی جا سکتی۔ حالانکہ اس آیت کا محلِ نزول دودھ پلانے والی عورتوں کی اجرت ہے اور نومولود کے باپ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق انھیں اجرت دے۔ تو کیا ایسے خاص موقع پر آیت کا نازل ہونا اس قانون (جس کی طاقت نہ ہو، وہ ذمہ داری نہیں ہے) کی عمومیت کو ختم کر دیتا ہے؟ خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت جہاد کی آیات کے ضمن میں آئی ہے لیکن کہتی ہے کہ ہر فائدہ جو تمہیں کسی بھی مقام سے حاصل ہو کہ جس میں ایک جنگی مال غنیمت ہے، اس کا خمس ادا کرو۔ خصوصاً لفظ ”ما“ جو موصولہ ہے اور لفظ ”شیء“ جو دونوں عام ہیں اور کوئی قید و شرط نہیں رکھتے، اس امر کی تائید کرتے ہیں۔

۶۔ آدھا خمس بنی ہاشم کےلیے ترجیح نہیں؟

بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کا یہ مالیاتی حکم بیس فیصد اموال پر مشتمل ہے اس سے آدھا یعنی دس فیصد سادات اور اولادِ پیغمبرﷺ کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ ایک قسم کا نسلی اور خاندانی امتیاز ہے اور اس میں یوں رشتہ داری کو ترجیح دی گئی نظر آتی ہے اور یہ بات اسلام کی عدالتِ اجتماعی اور اس کے عالمی ہونے کی روح کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ ایسی سوچ رکھتے ہیں، انہوں نے اس اسلامی حکم کی شرائط اور خصوصیات کا مطالعہ نہیں کیا کیونکہ اس اعتراض کا مکمل جواب خود انہی شرائط میں پوشیدہ ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ آدھا خمس جو سادات اور بنی ہاشم سے مربوط ہے، وہ ان میں سے صرف حاجتمندوں کو دیا جانا چاہیے اور وہ بھی ایک سال کی ضروریات کے مطابق اور اس سے زیادہ نہیں۔ اس بناء پر صرف وہی افراد اس سے استفادہ کر سکتے ہیں جو بالکل کام نہیں کر سکتے اور بیمار ہیں یا یتیم چھوٹے بچّے ہیں اور یا وہ ہیں جو کسی وجہ سے زندگی کے مخارج کے لحاظ سے تنگی اور سختی سے دوچار ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ جو کام کرنے کی قدرت رکھتے ہیں (بالفعل یا بالقوہ) اور ان کی ایسی آمدن ہے جو ان کے کاروبارِ زندگی کو چلا سکے تو وہ خمس کے اس حصّے سے ہر گز استفادہ نہیں کر سکتے اور یہ بات جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ سادات خمس لے سکتے ہیں، چاہے ان کے گھر کا پرنالا سونے کا ہو، در اصل یہ ایک جاہلانہ عوامی بات سے زیادہ قیمت نہیں رکھتی اور اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سادات اور بنی ہاشم کے فقراء و مساکین حق نہیں رکھتے کہ زکوٰة میں سے کوئی چیز صرف کریں اور اس کی بجائے صرف خمس کے اسی حصّہ سے صرف کر سکتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: بنی ہاشم کا زکوٰة سے محروم ہونا ایک ایسی مسلم چیز ہے جو حدیث اور فقہ کی بہت سی کتب میں موجود ہے۔ کیا یہ بات باور کی جا سکتی ہے کہ اسلام نے بنو ہاشم کے علاوہ محتاجوں، یتیموں اور محروموں کے لئے تو فکر کی ہو لیکن بنی ہاشم کے محتاجوں کو ان کا کوئی انتظام کیے بغیر چھوڑ دیا ہو۔) تیسری بات یہ ہے کہ اگر سہم سادات، جو کہ خمس کا آدھا حصّہ ہے، موجود سادات کی ضروریات سے زیادہ ہو تو اسے بیت المال میں داخل کرنا ہو گا اور اسے دوسرے مخارج میں صرف کیا جائے گا۔ جیسا کہ اگر سہمِ سادات ان کی کفایت نہ کرے تو بیت المال یا سہم زکوٰة میں سے ان کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ مندرجہ بالا تینوں پہلوؤں کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ حقیقت میں مادی لحاظ سے سادات اور غیر سادات میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔ غیر سادات محتاج اپنے سال بھر کے مخارج زکوٰة سے لے سکتے ہیں لیکن وہ خمس سے محروم ہیں اور سادات میں سے جو محتاج ہیں، وہ صرف خمس سے استفادہ کر سکتے ہیں لیکن زکوٰة سے استفادہ کا حق نہیں رکھتے۔ درحقیقت یہاں دو صندوق موجود ہیں۔ خمس کا صندوق اور زکوٰة کا صندوق۔ ان دو گروہوں میں سے ہر ایک کا حق ہے کہ ان دو میں سے صرف ایک سے استفادہ کرے۔ وہ بھی مساوی مقدار میں یعنی ایک سال کی ضرورت کے برابر (غور کیجیے گا)۔ لیکن جن لوگوں نے ان شرائط اور خصوصیات میں غور نہیں کیا، وہ خیال کرتے ہیں کہ سادات کے لئے بیت المال سے زیادہ حصّہ مقرر کیا گیا ہے یا وہ مخصوص امتیاز سے نوازے گئے ہیں۔ صرف ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر ان دو کے درمیان نتیجہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے تو پھر ایسے مختلف پروگرام کا کیا مقصد ہے؟ ایک مطلب پر توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب بھی معلوم ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ خمس اور زکوٰة میں ایک اہم فرق ہے اور وہ یہ کہ زکوٰة ایسے مالیات میں سے ہے جو دراصل عام اسلامی معاشرے کے اموال کا جزء شمار ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے مصارف بھی عموماً اسی حصّہ میں ہوتے ہیں لیکن خمس ایسے مالیات میں سے ہے جو حکومتِ اسلامی سے مربوط ہیں یعنی اسلامی حکومت چلانے والوں کے مخارج و مصارف اس سے پورے ہوتے ہیں۔ اس بناء پر سادات کا عمومی اموال (زکوٰة) سے دور ہونا درحقیقت اس لئے ہے کہ اس حصہ سے پیغمبرﷺ کے رشتہ داروں کو دور رکھا جائے تاکہ مخالفین کے ہاتھ یہ بہانہ نہ آئے کہ پیغمبرﷺ نے اپنے رشتہ داروں کو عمومی اموال پر مسلط کر دیا ہے۔ لیکن دوسری طرف محتاج سادات کا بھی کسی طرح گزارہ ہونا چاہیے تو اس کا اسلامی قوانین میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ اسلامی حکومت کے فنڈ سے ان کی ضروریات پوری کردی جائیں نہ کہ عام لوگوں کے فنڈ سے۔ حقیقت میں خمس نہ صرف یہ کہ سادات کے لئے ایک امتیاز نہیں ہے بلکہ انھیں عام لوگوں کے مفاد سے ایک طرف رکھنے کے لئے اور کسی قسم کے بُرے گمان کے پیدا ہونے سے بچنے کے لئے بھی ایک اقدام ہے۔ (تشریحی نوٹ: ۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں عبارت آئی ہے: "کرامة لہم عن اوساخ الناس" تو اس کا مقصد یہ تھا کہ سادات زکوٰة سے، جو ایک طرح سے لوگوں کے مال کی میل کچیل ہے، الگ رہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف تو سادات کو اس ممنوعیت اور محرومیت پر قانع کیا جائے اور دوسری طرف سے لوگوں کو سمجھایا جائے کہ جتنا ہو سکے، بیت المال پر بوجھ نہ بنیں اور زکوٰة ایسے لوگوں کے لئے چھوڑ دیں جو شدید ضرورت رکھتے ہیں۔) یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس امر کی طرف شیعہ اور سنی کتب میں اشارہ ہوا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: بنی ہاشم کا ایک گروہ وہ پیغمبرﷺ کی خدمت میں پہنچا اور تقاضا کیا کہ انھیں چوپایوں کی زکوٰة جمع کرنے پر مامور کریں اور کہا کہ یہ حصّہ جو خدا نے زکوٰة جمع کرنے والوں کے لئے معین کیا ہے، ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ پیغمبر خداﷺ نے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب: زکوٰة نہ میرے لئے حلال ہے اور نہ تمھارے لئے، لیکن میں تم سے اس محرومیت کے بدلے شفاعت کا وعدہ کرتا ہوں۔ تم اس پر جو خدا اور رسولﷺ نے تمھارے لئے معین کیا ہے، راضی رہو(اور زکوٰة سے سروکار نہ رکھو)۔ وہ کہنے لگے: ہم راضی ہیں۔)بحوالہ: وسائل جلد ۶ ص ۱۸۶(- اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بنی ہاشم اس چیز کو اپنے لئے ایک قسم کی محرومیت سمجھتے تھے اور پیغمبر اسلامﷺ نے انھیں اس کے بدلے شفاعت کا وعدہ دیا۔ صحیح مسلم، جو اہل سنت کی نہایت مشہور کتاب ہے، اس میں سے ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے: عباس اور ربیعہ بن حارث پیغمبرﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے تقاضا کیا کہ ان کے بیٹے یعنی عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس کو جو دو نوجوان تھے، زکوٰة کی جمع آوری پر مامور کیا جائے تاکہ دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی زکوٰة سے حصّہ لے سکیں اور اپنی اپنی شادی کے مصارف اس طرح سے فراہم کر سکیں۔ پیغمبرﷺ نے انھیں اس سے روکا اور حکم دیا کہ کسی اور طریقے سے ان کی شادیوں کے اسباب فراہم کیے جائیں۔ محل خمس سے ان کی بیویوں کا حق مہر دیا جائے۔)بحوالہ: صحیح مسلم جلد ۲ ص ۷۵۲(- اس حدیث سے بھی کہ جس کی تشریح بڑی طویل ہے، کہ رسول اللہﷺ اصرار کرتے تھے کہ اپنے رشتہ داروں کو زکوٰة (کہ جو عام لوگوں کا مال تھا) لینے سے دور رکھیں۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے، اس سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خمس نہ صرف سادات کے لئے کوئی امتیاز اور خصوصیت شمار نہیں ہوتا بلکہ عمومی مصالح کی حفاظت کے لئے ایک طرح کی محرومی ہے۔

۷۔ خدا کے حصے سے کیا مراد ہے؟

”لِلّٰہ“ کہہ کر خدا کا حصّہ بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح سے اصل سے اصل مسئلہ خمس کی زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے۔ نیز پیغمبر اکرمﷺ اور اسلامی حکومت کے رہبر و راہنما کی ولایت و حاکمیت کی تاکید و تثبیت کی گئی ہے۔ یعنی جیسے خدا تعالیٰ نے اپنے لئے ایک حصّہ مقرر کیا ہے اور خود کو اس میں تصرف کا زیادہ حق دار قرار دیا ہے اسی طرح اس نے پیغمبرﷺ اور امام کو بھی ولایت اور سرپرستی کا حق دیا ہے ورنہ خدا کا حصہ تو پیغمبرﷺ ہی کے اختیار میں ہو گا اور جن مصارف میں پیغمبرﷺ یا امام مصلحت سمجھیں گے، صرف ہو گا اور خدا کو تو کسی حصّے کی ضرورت نہیں ہے۔

42
8:42
إِذۡ أَنتُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلۡقُصۡوَىٰ وَٱلرَّكۡبُ أَسۡفَلَ مِنكُمۡۚ وَلَوۡ تَوَاعَدتُّمۡ لَٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡمِيعَٰدِ وَلَٰكِن لِّيَقۡضِيَ ٱللَّهُ أَمۡرٗا كَانَ مَفۡعُولٗا لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٖ وَيَحۡيَىٰ مَنۡ حَيَّ عَنۢ بَيِّنَةٖۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ
اس وقت تم نچلی طرف تھے اور وہ اوپر کی طرف تھے(اس طرح سے دشمن تم پر برتری رکھتا تھا) اور (قریش کا) قافلہ تم سے نچلی طرف تھا اور ان پر دسترس ممکن نہ تھی اور ظاہراً کیفیت ایسی تھی کہ اگر تم ایک دوسرے سے وعدہ کرتے (کہ میدان جنگ میں حاضر ہوں گے) تو بالآخر اپنے وعدے میں اختلاف کرتے لیکن (یہ تمام مقدمات) اس لئے تھے کہ اللہ اس کام کو کہ جسے انجام پانا چاہئے عملی صورت بخشے تاکہ وہ جو ہلاک (اور گمراہ) ہوتے ہیں اتمام حجت کے طور پر ہوں اور جو زندہ رہتے ہیں (اور ہدایت حاصل کرتے ہیں ) واضح دلیل کے طور پر ہوں اور خدا سننے والا جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
8:43
إِذۡ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلٗاۖ وَلَوۡ أَرَىٰكَهُمۡ كَثِيرٗا لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
اس وقت اللہ نے عالم خواب میں تمہیں ان کی تعداد کم کرکے دکھائی اور اگر زیادہ کرکے دکھاتا تو مسلماً تم سست ہو جاتے اور (ان سے جنگ شروع کے سلسلے) میں تم میں اختلاف پڑ جاتا لیکن اللہ نے (تمہیں ان سب سے) محفوظ رکھا جو کچھ سینوں کے اندر ہے اللہ اس سے دانا اور آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
8:44
وَإِذۡ يُرِيكُمُوهُمۡ إِذِ ٱلۡتَقَيۡتُمۡ فِيٓ أَعۡيُنِكُمۡ قَلِيلٗا وَيُقَلِّلُكُمۡ فِيٓ أَعۡيُنِهِمۡ لِيَقۡضِيَ ٱللَّهُ أَمۡرٗا كَانَ مَفۡعُولٗاۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
اور اس وقت کہ جب تم (میدان جنگ میں ) ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے تو انہیں تمہاری نظر میں کم کر کے دکھاتا تھا اور تمہیں (بھی) ان کی نظر میں کم کر کے دکھاتا تھا تاکہ اللہ اس کو عملی صورت بخشے جسے انجام پانا چاہئے۔ اور تمام کاموں کی باز گشت اللہ ہی کی طرف ہے

وہ کام جو ہونا چاہیے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس بات کی مناسبت سے جو ”یوم الفرقان“ (جنگ بدر کے دن) کے متعلق گذشتہ آیت میں آئی ہے اور جو کامیابیاں اس خطرناک صورت حال میں مسلمانوں کو نصیب ہوئی تھیں، قرآن دوبارہ اِن آیات میں اس جنگ کے بعض پہلو مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے تاکہ وہ نعمتِ فتح کی اہمیت سے زیادہ آگاہ ہو سکیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اس روز تم نچلی طرف اور مدینہ کے قریب تھے اور وہ اوپر کی طرف اور زیادہ دور تھے (إِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَھُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَی)۔ ”عدوة “مادہ ”عدو“ (بروزن ”سرو“) سے ہے۔ اس کا معنی ہے”تجاوز کرنا“۔ تاہم ہر چیز کے حاشیے اور اطراف کو بھی”عدو“ کہتے ہیں کیونکہ یہ حد وسط سے ایک طرف کو متجاوز ہوتا ہے۔ محل بحث آیت میں یہ لفظ طرف اور جانب ہی کے معنی میں آیا ہے۔ لفظ ”دنیا“ مادہ ”دنو“ (بروزن ”علو“) سے ہے۔ یہ ”زیادہ نیچے“ اور ”زیادہ نزدیک“ کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بر خلاف ”اقصی“ اور ”قصوٰی“ دور تر کے معنی میں ہے۔ اس میدان میں مسلمان شمال کی جانب تھے۔ یہ طرف مدینہ سے زیادہ قریب تھی۔ دشمن جنوب کی طرف تھا۔ یہ جگہ زیادہ دور تھی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ جگہ جسے مسلمانوں نے مجبوری کی حالت میں دشمن سے جنگ کرنے کے لئے منتخب کیا تھا بہت نشیب میں تھی اور دشمن کی جگہ بلند تر تھی۔ یہ صورتِ حال دشمن کے لئے ایک برتری کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: (قریش اور ابوسفیان کا) وہ قافلہ جس کے تم تعاقب میں تھے، وہ زیادہ نشیب میں تھے (وَالرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْ)۔ کیونکہ جیسے ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ابوسفیان کو جب مسلمانوں کی روانگی کا علم ہوا تو اس نے قافلے کا راستہ بدل لیا اور وہ اپنا راستہ چھوڑ کر دریائے احمر کے کنارے کنارے تیز رفتاری سے چلتے ہوئے مکہ کے نزدیک ہو گیا اور اگر مسلمان قافلے کے راستے سے ہٹ نہ جاتے تو ممکن تھا کہ اس کا تعاقب کرتے اور دشمن کے لشکر سے جنگ کرنے سے رہ جاتے جو کہ آخر کار عظیم فتح و کامرانی کا سبب بنی۔ ان تمام چیزوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اگر ہم مسلمانوں کی تعداد اور دشمن کے مقابلے میں ان کے جنگی سازو سامان کو دیکھیں تو وہ ہر لحاظ سے کمتر اور ضعیف تر تھا جب کہ مسلمان ٹھہرے ہوئے بھی نشیب کی طرف تھے اور دشمن بلندی کی طرف تھا۔ لہٰذا قرآن مزید کہتا ہے: حالات ایسے تھے کہ اگر پہلے سے تمہیں معلوم ہوتا اور تم چاہتے کہ اس سلسلے میں ایک دوسرے سے وعدہ اور قول و قرار کرتے تو حتماً اس عہد و میعاد میں اختلاف میں گرفتار ہوتے (وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیعَادِ)کیونکہ تم میں سے بہت سے ظاہری کیفیت اور دشمن کے مقابلے میں اپنی کمزور و حیثیت کے زیر اثر آجاتے اور اس قسم کی جنگ کی اصولاً مخالفت کرتے۔ لیکن خدا تمہیں ایک انجام پانے والے عمل کی طرف لے گیا تاکہ جس کام کو ہونا چاہیے وہ انجام پائے۔(وَلَکِنْ لِیَقْضِیَ اللهُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا)۔ یہ اس لئے تھا کہ اس غیر متوقع معجزہ نما کامیابی کے ذریعے حق اور باطل میں تمیز ہوسکے”اور وہ جو گمراہ ہوں اتمام حجت کے ساتھ ہوں اور وہ جو راہ حق قبول کریں، آگاہی اور واضح دلیل کے ساتھ کریں“(لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَیَحْیَی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ )۔ یہاں ”حیات“ اور ”“ہلاکت سے مراد وہی ”ہدایت “اور ”گمراہی“ ہے کیونکہ بدر کے دن نے، کہ جس کا دوسرا نام ”یوم الفرقان“ ہے، واضح طور پر نصرت الٰہی سے سب کو مسلمانوں کی قوت دکھائی اور ثابت کیا کہ یہ گروہ خدا سے راہ و رسم رکھتا ہے اور حق اِس کے ساتھ ہے۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے: خدا سننے اور جاننے والا ہے (وَإِنَّ اللهَ لَسَمِیعٌ عَلِیمٌ )۔ یعنی اس نے تمہاری فریاد سنی،تمہاری نیتوں کو جانا اور اسی بناء پر اس نے تمہاری مدد کی یہاں تک کہ تم دشمن پر کامیاب ہو گئے۔ تمام قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک گروہ کم از کم ایسا تھا کہ اگر اسے دشمن کی طاقت اور اس کی فوج کی کیفیت معلوم ہوتی تو وہ اس جنگ کے لئے تیار نہ ہوتا اگر چہ مخلص مومنین کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جس کا ہر طرح کے حوادث میں رسول اللہﷺ کے ارادے کے سامنے سر تسلیم خم تھا۔ اس بناء پر خدا نے کچھ ایسے واقعات پیش کیے کہ دونوں گروہ خواہ یا نا خواہ دشمن کے مقابلے میں نکل آئیں اور اس حیات بخش جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔ ان واقعات میں سے ایک یہ تھا کہ رسول اللہﷺ نے پہلے سے خواب میں اس جنگ کا منظر دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ دشمن کی ایک قلیل سی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں آئی ہے۔ یہ در اصل کامیابی کی ایک بشارت تھی۔ آپ نے بعینہ یہ خواب مسلمانوں کے سامنے بیان کر دیا۔ یہ بات مسلمانوں کے میدان بدر کی طرف پیش روی کے لئے ان کے جذبے اور عزم کی تقویت کا باعث بنی۔ البتہ پیغمبر اکرمﷺ نے یہ خواب صحیح دیکھا تھا کیونکہ دشمن کی قوت اور تعداد اگر چہ ظاہراً بہت زیادہ تھی لیکن باطناً کم، ضعیف اور ناتوان تھی اور ہم جانتے ہیں کہ خواب عام طور پر اشارے اور تعبیر کا پہلو رکھتے ہیں اور ایک صحیح خواب میں کسی مسئلے کا باطنی چہرہ آشکار ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے یہ خواب مسلمانوں سے بیان کیا لیکن آخر یہ سوال تو شاید ذہنوں کی گہرائیوں میں باقی رہا ہو گا کہ پیغمبرﷺ نے خواب میں ان کا ظاہری چہرہ کیوں نہیں دیکھا اور اسے مسلمانوں سے کیوں بیان نہیں کیا۔ زیر نظر دوسری آیت میں اس نعمت کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے جو خدائے تعالیٰ نے اس طریقے سے مسلمانوں کو عنایت کی تھی۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت خدانے خواب میں دشمن کی تعداد تمہیں کم کرکے دکھائی اور اگر انھیں زیادہ کرکے دکھاتا تو یقینا تم لوگ سستی دکھاتے ( إِذْ یُرِیکَھُمْ اللهُ فِی مَنَامِکَ قَلِیلًا وَلَوْ اَرَاکَھُمْ کَثِیرًا لَفَشِلْتُمْ)۔ نہ صرف یہ کہ تم سست ہو جاتے بلکہ ”تمہارا معاملہ اختلاف تک جا پہنچتا اور ایک گروہ میدان کی طرف جانے کا موافق ہوتا اور دوسرا مخالف ہوتا“ (وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ)۔ لیکن خدا نے تمہیں اس سستی ، اختلاف کلمہ، نزاع اور جھگڑے سے اس خواب کے ذریعے نجات دی اور محفوظ رکھا کہ جس میں ان کے باطنی رخ کی نشاندہی کی گئی تھی نہ کہ ظاہری صورت کی (وَلَکِنَّ اللهَ سَلَّمَ)۔ کیونکہ خدا تم سب کی روحانی حالت اور تمھارے باطن سے آگاہ تھا اور جو کچھ سینوں کے اندر ہے، وہ اس سے باخبر ہے (إِنَّہُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ)۔ بعد والی آیت میں جنگ بدر کے ایک اور مرحلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یہ مرحلہ پہلے سے مختلف تھا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب رسول اللہﷺ کے حرارت بخش بیانات کے زیر اثر، خدا کے وعدوں کی طرف توجہ کے باعث اور مختلف واقعات کے مشاہدہ سے مثلاً تشنگی دور کرنے کے لئے بر محل باران کا نزول، میدان جنگ کی ریتلی اور سنگریزوں والی زمین کا سخت ہو جانا۔ ان سب امور نے مل کر مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اور انھیں ایک حقیقی کامیابی کے لئے پر امید کر دیا۔ ان جوش اور دلولے کا یہ عالم تھا کہ دشمن کا لشکر کثیر بھی انھیں چھوٹا معلوم ہو رہا تھا۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے: اس وقت خدانے آغازِ جنگ میں انھیں تمہاری نگاہ میں کم کر دیا ( وَإِذْ یُرِیکُمُوھُمْ إِذْ الْتَقَیْتُمْ فِی اَعْیُنِکُمْ قَلِیلًا)۔ لیکن دشمن چونکہ مسلمانوں کے اس مقام اور جذبے سے آگاہ نہیں تھا اس لئے وہ ان کی ظاہری تعداد ہی کو دیکھتا تھا۔ اسے مسلمان ناچیز دکھائی دیتے تھے یہاں تک کہ اس سے بھی کم معلوم ہوتے تھے، جتنے وہ تھے۔ اسی لئے ارشاد ہوتا ہے: اور تمہیں ان کی نگاہ میں کم دکھاتا تھا (وَیُقَلِّلُکُمْ فِی اَعْیُنِھِمْ ) یہاں تک کہ ابوجہل کے بارے میں ہے کہ وہ کہتا تھا: انمآ اصحاب محمد اکلة جزور محمدﷺ کے ساتھی تو صرف ایک اونٹ کی خوراک ہیں۔ یہ ان کی نہایت کم تعداد کی طرف اشارہ ہے یا اس طرف اشارہ ہے کہ صبح سے لے کر شام تک ان کا کام تمام کر دیں گے۔ کیونکہ جنگ بدر سے متعلقہ روایات میں آیا ہے کہ قریش کا لشکر ہر دن دس اونٹ نحر کرتا تھا اور یہ ایک ہزار کے لشکر کی ایک دن کی خوراک تھی۔ بہرحال، یہ دونوں امور مسلمانوں کی کامیابی کے لئے بہت مؤثر تھے کہ ایک طرف سے دشمن ان کی نگاہ میں کم معلوم ہوتے تھے تاکہ اقدامِ جنگ میں انھیں کوئی خوف اور وہم نہ ہو اور دوسری طرف سے مسلمانوں کی تعداد دشمن کو کم دکھائی دیتی تھی تاکہ وہ اس جنگ سے صرفِ نظر نہ کرلیں جس کا انجام ان کی شکست تھی علاوہ ازیں اس سلسلے میں زیادہ طاقت بھی حاصل نہ کریں اور اس گمان میں کہ لشکرِ اسلام کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جنگ کے لئے مزید سپلائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ لہٰذا قرآن مندرجہ بالا جملوں کے بعد کہتا ہے: یہ سب کچھ اس بناء پر تھا کہ خدا اس امر کو انجام دے جسے ہر حالت میں متحقق ہونا چاہیے (لِیَقْضِیَ اللهُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا)۔ نہ صرف یہ جنگ اس کے مطابق انجام پائی کہ جو خدا چاہتا تھا بلکہ ”اس جہاں میں تمام کام اور تمام چیزیں اس کے حکم اور ارادے کی طرف بازگشت رکھتی ہیں اور اس کا ارادہ تمام چیزوں میں نفوذ رکھتا ہے“ (وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاُمُورُ)۔ سورہ آل عمران کی آیہ ۱۳ جو جنگ بدر کے تیسرے مرحلے کی طرف اشارہ ہے، میں ہے کہ دشمن آغاز جنگ اور سپاہ اسلام کی کاری ضربیں کہ جو بجلی کی طرح ان کے سروں پر پڑتی تھیں، دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ وہ اس وقت یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے لشکر اسلام میں اضافہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ انھیں لگتا تھا جیسے دوگنا ہو گیا ہے۔ اس طرح ان کی ہمت متزلزل ہو گئی جو ان کی شکست کا ایک باعث بنی۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ تو ان مندرجہ بالا آیات میں کوئی تضاد ہے اور نہ ہی ان کے اور آل عمران کی تیرہویں آیت کے درمیان کوئی تضاد ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک آیت جنگ کے ایک ایک مرحلے کی طرف اشارہ ہے۔ پہلا مرحلہ __ میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے کا ہے۔ خواب میں رسول اللہﷺ کو ان کی تعداد کم دکھائی گئی۔ دوسرا مرحلہ__سرزمین بدر میں پہنچنے کے وقت کا ہے۔ مسلمان دشمن کے لشکر کی زیادہ تعداد سے آگاہ ہوئے۔ اس سے بعض افراد خوف اور پریشانی میں مبتلا ہوئے۔ تیسرا مرحلہ__جنگ شروع ہونے کے وقت کا ہے۔ پروردگار کے لطف و کرم سے امید افزاء حالات پیدا ہو گئے اور دشمن کی تعداد انھیں کم معلوم ہونے لگی۔ (غور کیجئے گا)

45
8:45
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمۡ فِئَةٗ فَٱثۡبُتُواْ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
اے ایمان لانے والو ! جب (میدان جنگ میں ) کسی گروہ کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو زیادہ یاد کرو تاکہ تم لوگ فلاح پا جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
8:46
وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُواْ فَتَفۡشَلُواْ وَتَذۡهَبَ رِيحُكُمۡۖ وَٱصۡبِرُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
اور (فرمان)خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں تنازعہ (اور جھگڑا) نہ کرو تاکہ (کمزور اور) سست نہ ہو جاؤ اور تمہاری طاقت (اور شوکت و ہیبت) ختم نہ ہو جائے اور صبر و استقامت کا مظاہر کرو اور کہ خدا صبرو استقامت کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
8:47
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرٗا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے گھروں (اور علاقہ) سے ہوا پرستی غرور اور لوگوں کے سامنے خود نمائی کیلئے (میدان بدر کی طرف) نکلے ہیں اور (وہ لوگوں ) کو راہ خدا سے روکتے تھے اور جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ اس پر احاطہ (اور آگاہی) رکھتا ہے۔

جہاد کے بارے میں چھ اور احکام

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مفسّرین نے لکھا ہے کہ ابوسفیان جب بڑی چال بازی سے قریش کے تجارتی قافلے کو مسلمان کے علاقے سے صحیح سالم لے کر نکل گیا تو اس نے کسی کو لشکر قریش کی طرف بھیجا جو میدانِ بدر کی طرف عازم تھا اور کہلایا کہ اب تمہیں جنگ کرنے کی ضرورت نہیں رہی، لہٰذا واپس آجاؤ۔ لیکن ابوجہل خاص غرور تکبر اور تعصب رکھتا تھا۔اس نے قسم کھائی کہ ہم ہرگز نہیں پلٹیں گے جب تک سرزمین بدر میں نہ جائیں۔ (بدر اس واقعہ سے پہلے اجتماع عرب کا ایک مرکز تھا۔ ہر سال یہاں ایک تجارتی بازار لگتا تھا)۔ اس نے کہا کہ ہم تین دن تک وہاں رہیں گے، اونٹ ذبح کریں گے،خوب کھائیں گے، شراب پئیں گے اور گانے بجانے والے گائیں گے، بجائیں گے تاکہ ہماری آواز تمام دنیائے عرب کے کانوں تک پہنچے اور ہماری طاقت ثابت ہو جائے۔ لیکن آخر کار انھیں شکست ہوئی۔ شراب نوشی کی بجائے انہوں نے موت کے گھونٹ پیئے اور گانے والوں کی بجائے نوحہ کرنے والی عورتیں ان کے غم میں بیٹھیں۔ مندرجہ بالا آیات بھی اسی امر کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور مسلمانوں کو ایسے کاموں سے منع کرتی ہیں اور گذشتہ احکام کے بعد ان آیات میں جہاد کے بارے میں مزید احکام جاری کیے گئے ہیں۔ زیر نظر آیات میں کل چھ اہم احکام مسلمانوں کو دئیے گئے ہیں: ۱۔ پہلے قرآن کہتا ہے: اے ایمان لانے والو! جب دشمنوں کے کسی گروہ کو میدان جنگ میں اپنے سامنے دیکھو تو ثابت قدم رہو ( یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا لَقِیتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا)۔ یعنی ایمان کی ایک واضح نشانی ہر معاملے میں خصوصاً دشمنانِ حق سے برسرپیکار ہونے کی صورت میں ثابت قدمی ہے۔ ۲۔ خدا کو بہت زیادہ یاد کرو تاکہ رستگار اور کامیاب ہو جاؤ (وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِیرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ)۔ اس میں شک نہیں کہ یاد خدا سے مراد صرف لفظی ذکر نہیں ہے بلکہ روح کے اندر خدا کا مشاہدہ ہے اور اس کے بے انتہا علم و قدرت اور وسیع رحمت کو یاد رکھنا ہے۔ خدا کی طرف ایسی توجہ، مجاہد سپاہی کی ہمت اور جذبے کو تقویت دیتی ہے اور اس کے سائے میں وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ میدانِ جہاد میں اکیلا نہیں ہے۔ اس کی ایک طاقتور پناہ گاہ اور سہارا ہے کہ جس کے مقابلے میں کوئی طاقت کھڑی نہیں ہو سکتی اور اگر وہ مارا بھی گیا تو اسے شہادت جیسی عظیم سعادت حاصل ہو گی اور وہ جوارِ رحمت حق میں رستگار ہو گا اور فلاح پائے گا۔ خلاصہ یہ کہ یاد خدا، اسے طاقت، اطمینان اور پامردی عطا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں خدا کی یاد اور اس کا عشق اس کے دل سے بیوی، اولاد، مال اور مقام سے لگاؤ کو نکال دیتا ہے اور خدا کی طرف توجہ ان چیزوں کو دل سے باہر نکال دیتی ہے جو مقابلے اور جہاد کے معاملے میں سستی اور کمزوری کا باعث بنتی ہیں۔ چنانچہ امام سجاد زین العابدین علیہ السلام کے صحیفہ کی مشہور دعا جو اسلام کی سرحدوں کے مسلمان محافظین اور مدافعین کے بارے میں ہے، میں آپ خدا کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں: وانسھم عند لقآئھم العدو ذکر دنیاھم الخداعة و امح عن قلوبھم خطرات المال الفتون و اجعل الجنة نصب اعینھم پروردگارا! (اپنی یاد کے سائے میں) فریب دینے والی دنیا کی یادان محافظ سپاہیوں کے دل سے نکال دے اور رزق برق اموال کی طرف سے ان کے دل پھیر دے اور بہشت کو ان کی نگاہِ فکر کے سامنے کر دے۔)بحوالہ: صحیفہ سجادیہ(۔ ۳۔ جنگ سے متعلق دوسرا اہم ترین مسئلہ رہبری ہے۔ پیشوا اور رہبر کے حکم کی اطاعت کا ہے۔ یہی وہ اہم معاملہ ہے کہ اگر اس پر عمل نہ کیا جاتا تو جنگ بدر کا انجام مسلمانوں کی مکمل شکست کی صورت میں سامنے آتا۔ اسی لئے دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:خدا اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت (وَاَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَہُ)۔ ۴۔ اور پراگندگی، نزاع اور اختلاف سے پرہیز کرو (وَلَاتَنَازَعُوا)۔ کیونکہ دشمن کے سامنے مجاہدین کے ما بین کشمکش،نزاع اور اختلاف کا پہلا اثر جنگ میں سستی، ناتوانی اور کمزوری ہے (فَتَفْشَلُوا)۔ اور اس کمزوری کے نتیجے میں تمہاری طاقت، قوت، ہیبت اور عظمت ختم ہو جائے گی (وَتَذْھَبَ رِیحُکُمْ)۔ ”ریح“ کا معنی ہے ”ہَوا“۔ اور یہ جو کہتے ہیں کہ اگر ایک دوسرے سے جھگڑو گے تو سست اور کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ یہ اس معنی کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ قوت و عظمت اور امور تمہاری مراد اور مقصود کے موافق جاری نہیں رہیں گے چونکہ موافق ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے کشتیاں منزلِ مقصود کی طرف چلتی رہتی ہیں اور اس زمانے میں جب کہ کشتی کو چلانے کے لئے واحد محرک ہوا ہی تھی۔ اس لحاظ سے یہ مطلب بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ علاوہ ازیں ہوا کا چلنا جھنڈوں کے ساتھ جھنڈے قائم رہنے کی نشانی ہے جو کہ قدرت و حکومت کی رمز ہے اور مندرجہ بالا تعبیر اس معنی کے لئے کنایہ ہے۔ ۵۔ اس کے بعد قرآن دشمن کے مقابلے میں اور سخت حوادث کے مقابلے میں استقامت اور صبر کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے: صبر و استقامت اختیار کرو کہ خدا صبرو استقامت کا مظاہر کرنے والوں کے ساتھ ہے (وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ)۔ پہلے حکم میں ثباتِ قدم کا ذکر ہے اور پانچویں حکم میں صبر و استقامت کا۔ ان میں اس لحاظ سے فرق ہے کہ ثباتِ قدم زیادہ تر جسمانی اور ظاہری پہلو رکھتا ہے جب کہ استقامت اور صبر زیادہ تر نفسیاتی اور باطنی پہلو رکھتا ہے۔ ۶۔ آخری آیت میں مسلمانوں کو احمقانہ کاموں، متکبرانہ افعال اور مہمل شورو شین کی پیروی سے روکا گیا ہے۔ نیز ابوجہل، اس کے طرزِ کار اور اس کے یارو انصار کے انجامِ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان افراد کی طرح نہ ہو جانا جو اپنے علاقے سے غرور، ہوا پرستی اور خود نمائی کے لئے نکلے تھے ( وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ)۔ وہی کہ جن کا ہدف اور مقصد لوگوں کو راہِ خدا سے روکنا تھا (وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ)۔ ان کا ہدف بھی ناپاک تھا اور اس تک پہنچنے کے اسباب بھی ناپاک تھے اور ہم نے دیکھا کہ آخر کار اتنی قوت اور جنگی سازو سامان کے باوجود انھیں شکست ہوئی۔ عیش و عشرت اور طرب و سرور کی بجائے ان میں سے کچھ خاک و خون میں غلطاں ہوئے اور کچھ ان کے غم میں اشکبار ہوئے۔ اور جو کام یہ لوگ انجام دیتے ہیں، خدا ان پر محیط ہے اور ان کے اعمال سے باخبر ہے (وَاللهُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیطٌ)۔

48
8:48
وَإِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلۡيَوۡمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّي جَارٞ لَّكُمۡۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلۡفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّنكُمۡ إِنِّيٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوۡنَ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
اور وہ وقت (یاد کرو) جب شیطان نے ان (مشرکین) کے اعمال کو ان کی نظر میں مزین کیا اور کہا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر کامیاب نہیں ہو گا اور میں تمہارا ہمسایہ (اور تمہیں پناہ دینے والا) ہوں لیکن جب اس نے دو گروہوں (مجاہدین اور ان کے حامی فرشتوں ) کو دیکھا تو پیچھے کی طرف پلٹا اور کہا کہ میں تم (دوستوں اور پیرو کاروں ) سے بیزار ہوں میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ شدید العقاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
8:49
إِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَـٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمۡۗ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
جس وقت منافقین اور وہ کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگے (مسلمانوں کے) اس گروہ کو ان کے دین نے مغرور کیا (اور دھوکا دیا) ہے اور جو شخص اللہ پر توکل کرے (کامیاب ہو گا کہ) اللہ عزیز و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
8:50
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ
اور اگر تو کفار (کی عبرت انگیز کیفیت) کو دیکھے کہ جب (موت کے) فرشتے ان کی روح نکال رہے ہوتے ہیں اور ان کے چہرے اور پشت پر مار ہے ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) چکھو جلانے والے عذاب کو تو ان کی حالت پر تجھے افسوس ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
8:51
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّـٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ
یہ ان کا موں کے بدلے میں ہے کہ جو آگے بھیج چکے ہو اور خد اپنے بندوں پر کبھی ظلم و ستم روا نہیں رکھتا۔

مشرک، منافق اور شیطانی وسوسے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں گذشتہ آیات کی مناسبت سے جنگ بدر کے ایک اور منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے یا پھر یہ آیات گذشتہ آخری آیت کی مناسب سے ہیں کہ جس میں جنگ بدر میں مشرکین کے شیطانی عمل کے بارے میں گفتگو تھی۔ جیسے مردان حق کو راہ حق میں پروردگار اور اس کے فرشتوں کی تائید حاصل ہوتی ہے، اسی طرح باطل کی طرف میلان رکھنے والے اور بداندیش لوگ شیطانی وسوسوں اور گمراہ کن طاغوتی سائبان کے نیچے رہتے ہیں۔ بعض گذشتہ آیات میں مجاہدین بدر کے لئے فرشتوں کی حمایت کی کیفیت اور اس کی تفسیر بیان کی جا چکی ہے۔ یہاں زیر بحث پہلی آیت میں مشرکین کے لئے شیطان کی بد انجام حمایت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اور اس دن شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے آراستہ کیا اور زینت دی تاکہ وہ اپنی کارکردگی پر خوش، پُرجوش اور پُراُمید ہوں (وَإِذْ زَیَّنَ لَھُمْ الشَّیْطَانُ اَعْمَالَھُمْ)۔ شیطان کی طرف سے زینت دینا اور آراستہ کرنا اس طرح سے ہے کہ وہ انسان کو شہوات، ہوسناکیوں اور قبیح و ناپسندیدہ صفات کی تحریک دیتا ہے اور اس طریق سے انسان کے عمل کو اس کی نظر میں اچھا بنا کر پیش کرتا ہے کہ وہ شدت سے اس کی طرف کھنچ جاتا ہے اور ہر لحاظ سے اسے ایک عاقلانہ، منطقی اور پسندیدہ عمل خیال کرتا ہے ”اور انھیں اس طرح سمجھاتا ہے کہ تمہاری اتنی افرادی قوت اور جنگی وسائل کی وجہ سے لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور تم نا قابلِ شکست فوج ہو“ (وَقَالَ لَاغَالِبَ لَکُمْ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ)۔ ”علاوہ ازیں میں تمہارا ہمسایہ ہوں اور تمھارے پاس رہتا ہوں“ اور ایک وفادار اور ہمدرد ہمسائے کی طرح ضرورت کے وقت کسی قسم کی حمایت سے دریغ نہیں کروں گا ( وَإِنِّی جَارٌ لَکُمْ)۔ اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ لفظ ”جار“ سے مراد ہمسایہ نہیں ہے، بلکہ ایسا شخص مراد ہے جو امان اور پناہ دیتا ہے کیونکہ عربوں کی یہ عادت تھی کہ طاقتور افراد اور قبائل بوقتِ ضرورت اپنے دوستوں کو اپنی پناہ میں لے لیتے تھے اور اس موقع پر اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس کا دفاع کرتے تھے۔ شیطان نے اپنے مشرک دوستوں کو امان نامہ دیا۔ لیکن جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکڑائے اور فرشتے لشکر توحید کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور اس نے مسلمانوں کی قوت ایمان اور پامردی کا مشاہدہ کیا تو الٹے پاؤں لوٹ گیا اور اس نے پکار کر کہا کہ میں تم سے (یعنی مشرکین سے) بیزار ہوں (فَلَمَّا تَرَائَتْ الْفِئَتَانِ نَکَصَ عَلیٰ عَقِبَیْہِ وَقَالَ إِنِّی بَرِیءٌ مِنْکُمْ)۔اس نے اپنے وحشت زدہ فرار کی دو دلیلیں پیش کیں پہلی یہ کہ اس نے کہا: میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے (إِنِّی اَریٰ مَا لَاتَرَوْنَ)۔ میں مسلمانوں کے ان پر جلال با ایمان چہروں پر کامیابی کے واضح آثار دیکھ رہا ہوں، ان میں الٰہی حمایت، غیبی امداد اور فرشتوں کی کمک کے آثار مشاہدہ کر رہا ہوں اور اصولی طور پر جہاں پروردگار کی خاص مدد اور غیبی قوتوں کی کمک کارِ فرما ہو میں وہاں سے فرار ہی اختیار کروں گا۔ دو سری دلیل پیش کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ”میں اس منظر میں پروردگار کی دردناک سزا سے ڈرتا ہوں‘ اور اسے اپنے نزدیک دیکھتا ہوں (إِنِّی اَخَافُ اللهَ)۔ خدا کی سزا کوئی معمولی سی بات نہیں کہ جس کا سامنا کیا جا سکے بلکہ ”اللہ کی سزا شدید اور سخت ہے“ (وَاللهُ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔

شیطان وسوسے ڈالتا ہے یا بہروپ اختیار کرتا ہے؟

اس سلسلے میں جنگ بدر کے موقع پر شیطان نے مشرکین کے دل میں کیسے نفوذ کیا اور اس نے یہ گفتگو کیونکر کی، متقدمین اور موجودہ مفسّرین میں اختلاف ہے اور تقریباً دو نظریے موجود ہیں: ۱۔ بعض کا عقیدہ ہے کہ یہ کام باطنی وسوسوں کی صورت میں انجام پایا۔ شیطان نے اپنے وسوسوں سے اور مشرکین کی شیطانی، منفی اور قبیح صفات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے اعمال ان کی نظر میں پسندیدہ بنا دئیے اور انھیں یہ اعتماد دلایا کہ تمھارے پاس ایسی قوت ہے جسے شکست نہیں ہو سکتی اور یوں ایک طرح کی باطنی پناہ گاہ اور سہارا ان کے لئے پیدا کر دیا۔ دوسری طرف مسلمانوں کو شدید جہاد اور پر اعجاز واقعات کے سبب کامیابی حاصل ہوئی اور جہاد اور انہی معجزانہ واقعات سے مشرکین کے دلوں سے ان وسوسوں کے آثار ختم ہو گئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ شکست ان کے سامنے کھڑی ہے اور ان کے لئے کوئی سہارا اور امان نہیں بلکہ نہایت سخت عذاب اور سزا ان کے انتظار میں ہے۔ ۲۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ شیطان انسانی شکل میں مجسّم ہوا اور ان کے سامنے ظاہر ہوا۔ ایک روایت جو بہت سی کتب میں نقل ہوئی ہے، میں ہے: قریش نے جب میدانِ بدر کی طرف جانے کا پختہ ارادہ کر لیا تو وہ بنی کنانہ کے حملے سے ڈرتے تھے کیونکہ ان کے ساتھ ان کا پہلے ہی سے جھگڑا تھا۔ اس موقع پر ابلیس سراقہ بن مالک کی شکل میں ان کے پاس آیا۔ سراقہ بنی کنانہ کا ایک جانا پہنچانا آدمی تھا۔ اس نے انھیں اطمینان دلایا کہ میں تم سے موافق ہوں اور تمھارے ساتھ ہم آہنگ، اور کوئی شخص تم پر غالب نہیں ہو گا اور اس نے میدانِ بدر میں شرکت کی۔ لیکن جب اس نے ملائکہ کو نازل ہوتے دیکھا تو پیچھے ہٹ آیا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ فوج بھی جو مسلمانوں سے سخت ضربیں کھا چکی تھی ابلیس کی حالت دیکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ جب وہ مکہ میں پلٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ سراقہ بن مالک قریش کے فرار کا سبب بنا ہے۔ جب یہ بات سراقہ تک پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ مجھے اس بات کی قطعاً کوئی خبر نہیں ہے۔ جب انہوں نے میدانِ بدر میں اس کی مختلف نشانیاں اور کیفیتیں یاد دلانا چاہئیں تو اس نے سب کا انکار کیا اور قسم کھائی کہ ایسی حتماً کوئی بات نہیں ہوئی اور اس نے کہا کہ میں مکہ سے باہر گیا ہی نہیں۔ اس طرح سے معلوم ہوا کہ وہ شخص سراقہ بن مالک نہیں تھا۔)بحوالہ: تفسیر محمع البیان، نور الثقلین اور دیگر تفاسیر، مذکورہ آیت کے ذیل میں(۔ پہلی تفسیر کے طرفداروں کی دلیل یہ ہے کہ ابلیس انسانی شکل میں ظاہر نہیں ہو سکتا جب کہ دوسری تفسیر کے طرفدار کہتے ہیں کہ اس کے محال ہونے پر کوئی دلیل میّسر نہیں ہے خصوصاً جب کہ اس کی نظیر یہ ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ کے ہجرت کے موقع پر ایک بوڑھا نجدی لوگوں کے بھیس میں دارالندوہ میں آیا تھا۔ علاوہ ازیں ظاہری تعبیرات اور باتیں جو مندرجہ بالا آیت میں آئی ہیں، ابلیس کے مجسم ہونے کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہیں۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت نشاندہی کرتی ہے کہ خاص طور پر جب کوئی گروہ حق و باطل کی راہ پر گامزن ہو تو خدائی قوتوں اور امداد کا یا شیطانی قوتوں اور امداد کا ایک سلسلہ فعالیت کرتا ہے اور یہ قوتیں اور امداد مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ راہ خدا پر چلنے والوں کو یہ امر ہمیشہ نظر میں رکھنا چاہیے۔ بعد والی آیت میں معرکہ بدر میں شریک مشرکوں اور بت پرستوں کی فوج کے طرفداروں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس وقت منافقین اور وہ کہ جن کے دل میں بیماری تھی کہتے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہو گئے ہیں اور اس تھوڑی سی تعداد اور معمولی اسلحہ کے ساتھ انہوں نے کامیابی کے گمان میں یاراہ خدا میں شہادت اور حیات جاوید کے خیال میں اس خطرناک مہم میں قدم رکھا ہے کہ جس کا انجام موت ہے (إِذْ یَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ غَرَّ ھٰؤُلَاءِ دِینُھُمْ)۔ لیکن وہ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے اور الطاف الٰہی اور اس کی غیبی امداد سے آگاہی نہ رکھنے کے سبب اس حقیقت سے باخبر نہیں ہیں کہ ”جو شخص خدا پر توکل کرے اور اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کرنے کے بعد خود کو اس کے سپرد کر دے تو خدا اس کی مدد کرے گا کیونکہ خدا وہ قادرو قوی ہے کہ کوئی شخص اس کے مقابلے میں کھڑا ہونے کا یار انھیں رکھتا اور وہ ایسا حکیم ہے کہ جس سے ممکن نہیں کہ وہ اپنے دوستوں اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو تمہا چھوڑدے“ (وَمَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔ اس سلسلے میں کہ ”منافقین“ اور ”الذین فی قلو بہم مرض“ سے کون سے افراد مراد ہیں، مفّسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن بعید نہیں کہ دونوں عبارتیں منافقین مدینہ کی طرف اشارہ ہوں کیونکہ قرآن مجید منافقین کے بارے میں جن کی تفصیلی حالت سورہ بقرہ کی ابتدا میں آئی ہے کہتا ہے: فِی قُلُوبِہِم مَرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّٰہ مرضاً ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ خدا بھی ان کی بیماری میں اضافہ کرتا ہے۔ (بقرہ۔۱۰) یا پھر یہ وہ منافق ہیں جو مدینہ میں آ کر مسلمانون کی صفوں میں شامل ہو گئے تھے اور اسلام و ایمان کا اظہار کرتے تھے مگر باطنی طور پر وہ مسلمانوں کے ساتھ نہیں تھے۔ یا پھر یہ وہ منافق ہیں جو مکہ میں ظاہراً ایمان لائے تھے لیکن انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے روگردانی کی تھی اور میدان بدر میں مشرکوں کی صفوں سے وابستہ تھے اور جب انہوں نے لشکر کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کی کم تعداد دیکھی تو انھیں تعجب ہوا اور وہ کہنے لگے کہ ان مسلمانوں نے اپنے دین و آئین سے دھوکا کھایا ہے اور جبھی اس میدان میں قدم رکھا ہے۔ بہرحال، خدا ان منافقین کی باطنی کیفیت کی خبر دیتا ہے اور ان کے ہم فکر لوگوں کی غلطی واضح کرتا ہے۔ اگلی آیت کفار کی موت اور ان کی بدبخت زندگی کے اختتام کی منظر کشی کرتی ہے۔ پہلے روئے سخن پیغمبر اکرمﷺ کی طرف کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اگر تم کفار کی عبرت انگیز کیفیت کو دیکھتے کہ جب موت کے فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے تھے اور انھیں کہتے تھے کہ جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو، تو ان کے رقت آمیز انجام سے آگاہ ہوتے (وَلَوْ تَریٰ إِذْ یَتَوَفَّی الَّذِینَ کَفَرُوا الْمَلَائِکَةُ یَضْرِبُونَ وُجُوہَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ)۔ اگرچہ ”ترٰی“ فعل مضارع ہے لیکن ”لو“ کے ہونے کی وجہ سے ماضی کا معنی دتا ہے۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت کفار کی گذشتہ کیفیت اور ان کی دردناک موت کی طرف اشارہ ہے۔اس لئے بعض مفّسرین اسے میدان بدر میں فرشتوں کے ہاتھوں ان کی موت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں کچھ ایسی روایات بھی نقل کرتے ہیں جن کی تائید نہیں ہوئی۔ لیکن جیسا کہ ہم بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے میدان بدر کی جنگ میں براہِ راست دخل نہیں دیا لہٰذا مذکورہ آیت میں موت کے فرشتوں اور قبضِ روح کے وقت اور اس دردناک سزا کی طرف اشارہ ہے جو دشمنان حق اور بے ایمان گنہ گاروں کو اس وقت ہوگی ۔”عذاب الحریق “ روزِ قیامت کی سزا کی طرف اشارہ ہے کیونکہ قرآن کی دوسری آیات میں مثلاً سورہ حج کی آیہ ۹ اور ۲۲ اور بروج کی آیہ ۱۰ میں بھی یہی معنی آیا ہے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: ان سے کہا جائے گا کہ یہ دردناک سزا جو اس وقت چکھ رہے ہو ان امور کی وجہ سے تمھارے ہاتھوں نے اس سے پہلے فراہم کیے ہیں اور اس جہان میں بھیجے ہیں (ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیکُمْ)۔ ”ہاتھ“ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ انسان عام طور پر اپنے اعمال ہاتھ کی مدد سے انجام دیتا ہے ورنہ مندرجہ بالا آیت تمام جسمانی اور روحانی اعمال پر محیط ہے۔ آیت کے آخر میں مزید ارشاد ہوتا ہے: ”خدا کبھی بھی اپنے بندوں پر ظلم و ستم روا نہیں رکھتا“ اور اس جہان میں یا اس جہان میں جو بھی سزا یا عذاب انھیں دامن گیر ہو گا وہ خود انہی کی طرف سے ہے (وَاَنَّ اللهَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ)۔ لفظ ”ظلام“ مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت ظلم کرنے والا“۔ اس جگہ اور دوسری جگہوں پر اس لفظ کے استعمال کی وجہ اور اسی طرح ظلم سے متعلق دیگر مباحث ہم نے تفسیر نمونہ جلد سوم صفحہ ۱۴۶ (اردو ترجمہ) پر ذکر کیے ہیں۔

52
8:52
كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيّٞ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
مشرکین کے اس گروہ کی حالت فرعون کے رشتہ داروں اور ان سے پہلے والوں کی سی ہے انہوں نے آ یات الٰہی کا انکار کیا خدا نے بھی انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے سزا دی اللہ قوی ہے اور اس کی سزا سخت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
8:53
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرٗا نِّعۡمَةً أَنۡعَمَهَا عَلَىٰ قَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
یہ اس بناء پر ہے کہ خدا جو نعمت بھی کسی گروہ کو دیتا ہے اسے متغیر نہیں کرتا مگر یہ گروہ خود اپنے آپ کو متغیر کریں اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
8:54
كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَغۡرَقۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَۚ وَكُلّٞ كَانُواْ ظَٰلِمِينَ
اور یہ بالکل فرعونیوں اور ان سے قبل کے لوگوں کی طرح ہیں کہ جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیت کو جھٹلایا اور ہم نے بھی ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کیا اور فرعونیوں کو غرق کیا اور یہ سب ظالم اور ستم گر گروہ تھے۔

متغیّر نہ ہونے والی ایک سنت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں دنیا کی اقوام و ملل کے بارے میں خدا تعالیٰ کی ایک دائمی سنت کی طرف اشارہ ہوا ہے تاکہ کہیں یہ خیال نہ ہو کہ جو کچھ میدان بدر مشرکین کے بُرےانجام کے بارے میں بیان ہوا ہے، ایک استثنائی اور اختصاصی حکم تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے اعمال گذشتہ زمانے میں جس سے سرزد ہوئے یا آئندہ جس سے سرزد ہوں گے ایسے ہی نتائج کے حامل ہوئے اور ایسے ہی نتائج کے حامل ہوں گے۔ پہلے قرآن کہتا ہے: مشرکین کے حالات کی کیفیت فرعون کے خاندان اور ان سے پہلے کے لوگوں جیسی ہے (کَدَاْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ)۔ وہی کہ جنھوں نے آیاتِ خدا کا انکار کیا اور خدا نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پکڑا (کَفَرُوا بِآیَاتِ اللهِ فَاَخَذَھُمْ اللهُ بِذُنُوبِھِمْ)۔ کیونکہ خدا قوی اور صاحبِ قدرت ہے اور اس کا عذاب بھی شدید اور سخت ہے (إِنَّ اللهَ قَوِیٌّ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔ اس بناء پر صرف قریش اور مکہ کے مشرکین اور بت پرست ہی نہ تھے جوآیات الٰہی کے انکار، حق کے مقابلے میں ہٹ دھرمی اور انسانیت کے سچّے رہبروں سے الجھنے کی وجہ سے اپنے گناہوں کے عذاب میں گرفتار ہوئے بلکہ یہ ایک دائمی قانون ہے جو فرعونیوں جیسی طاقتور قوموں اور بہت کمزور قوموں پر بھی محیط ہے۔ اس کے بعد اس مسئلے کی بنیاد کا ذکر کرکے اسے زیادہ واضح کیا گیا ہے۔ ارشادہوتا ہے: یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ خدا کسی قوم وملت پر جو نعمت اور عنایت کرتا ہے اسے کبھی دگرگوں نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ جمعیت اور قوم خوددگرگوں اور متغیر ہو جائے (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اَنْعَمَھَا عَلیٰ قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِھِمْ)۔ بالفاظ دیگر خدا کا بے کنار فیض وکرم عمومی اور سب کے لئے ہوتا ہے لیکن وہ لوگوں کی قیادت اور اہلیت کا مناسبت سے ان تک پہنچتا ہے، ابتداء میں خدا اپنی مادی اور روحانی نعمتیں اقوامِ عالم کے شاملِ حال کر دیتا ہے اب اگر وہ خدائی نعمتوں کو اپنے تکامل اور ارتقاء کا ذریعہ بنائیں اور راہِ حق میں ان سے مدد حاصل کریں اور ان سے صحیح استفادہ کی صورت میں ان کے لئے شکر ادا کریں تو وہ اپنی نعمتوں کوپائیدار کرتا ہے بلکہ اس میں اضافہ کرتا ہے لیکن یہ عنایات اور نعمات اگر طغیان وسرکشی، ظلم وبیداد گری، ترجیح وتبعیض، ناشکری وغرور اور آلودگی وگناہ کا سبب بنیں تو اس صورت میں وہ یہ نعمتیں واپس لے لیتا ہے یا انھیں بلا ومصیبت میں بدل دیتا ہے۔ لہٰذا جو بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں دراصل ہماری وجہ سے ہوتی ہیں۔ نعمات الٰہی تو زوال پذیر نہیں ہیں۔ اس ہدف کے بعد قرآن دوبارہ فرعونیوں اور ان سے پہلے کی طاقتور اقوام کے ایک گروہ کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: نعمتوں کے سلب ہونے اور سخت قسم کے عذابوں کے چنگل میں گرفتار ہونے سے متعلق بت پرستوں کی کیفیت فرعونیوں اور ان سے پہلے کی قوموں جیسی ہے (کَدَاْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ)۔ ”انہوں نے بھی پروردگار کی آیات کی تکذیب کی“ اور انھیں پاوٴں تلے روندا جبکہ یہ آیات ان کی ہدایت، تقویت اور سعادت کے لئے نازل ہوئی تھیں (کَذَّبُوا بِآیَاتِ رَبِّھِمْ)۔ ”ہم نے بھی ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں ہلاک کر دیا “ (فَاَھْلَکْنَاھُمْ بِذُنُوبِھِمْ)۔ ”اور فرعونیوں کو ہم نے دریا کی موجوں میں غرق کر دیا“ (وَاَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ)۔ ”اور یہ قومیں اور ان کے افراد ظالم وستمگر تھے، اپنے لئے بھی ظالم تھے اور دوسروں کے لئے بھی (وَکُلٌّ کَانُوا ظَالِمِینَ)۔

ایک سوال اور اس کا جواب

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اتنے مختصر سے فاصلے میں ”کداب اٰل فرعون ----“ کامختصر سے طرق کے ساتھ تکرار کیوں ہوا ہے؟ اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ حساس اور زندہ میں تکرار اور تاکید ایک اصولِ بلاغت ہے جو فصحاء اور بلغاء کی گفتگو میں ہمیشہ دکھائی دیتا ہے لیکن مندرجہ بالا آیات میں ایک اہم فرق بھی موجود ہے جو عبارت کو صورتِ تکرار سے خارج کر دیتا ہے اور وہ یہ کہ پہلی آیت آیات حق کے انکار کے بدلے میں خدائی سزاؤں کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کے بعد ان کی اس حالت کو فرعونیوں اور ان سے پہلے کی قوموں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جب کہ دوسری آیت میں خداوند تعالیٰ کی نعمتوں اور عنایتوں کے متغیّر ہونے یعنی کامیابیوں، قدرتوں اور دیگر افتخارات و اعزازات کے خاتمے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے بعد ان کی حالت کو فرعونیوں اور گذشتہ اقوام سے تشبیہ دی گئی ہے۔ درحقیقت، ایک مقام پر گفتگو نعمتوں کے سلب ہونے اور اس سے پیدا ہونے والی سزا کے بارے میں ہے اور دوسرے مقام پر نعمتوں کے متغیّر اور دگرگوں ہونے سے متعلق بحث ہے۔

دو اہم نکات ۱۔ قوموں کی زندگی اور موت کے عوامل

ان آیات میں دو اہم نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے جو ہر لحاظ سے توجہ طلب ہیں: ۱۔ قوموں کی زندگی اور موت کے عوامل: تاریخ میں طرح طرح کی قوموں اور ملتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ کوئی قوم ترقی کے مراحل تیزی سے طے کر گئی کوئی قوم پستی کے سب سے نچلے مرحلے تک پہنچ گئی۔ کوئی گروہ جو ایک دن پراگندہ، درماندہ اور شکست خوردہ تھا، دوسرے دن طاقتور اور سربلند تھا اور کوئی گروہ اس کے برعکس، کبھی فخر و مباہات کے اعلیٰ ترین مرحلے پر تھا لیکن ذلت و خواری کے گڑھے میں جا گرا۔ بہت سے ایسے اشخاص ہیں جو تاریخ کے مختلف مناظر کے سامنے سے بڑی آسانی سے گزر گئے ہیں اور اس میں انہوں نے ذرّہ بھر غور و فکر نہیں کیا۔ بہت سے لوگ قوموں کی موت و حیات کے اصلی عوامل اور علل کا مطالعہ کرنے کی بجائے کم اہمیت عوامل جن کا کوئی بنیادی کردار نہیں ہوتا یا موہوم، بے ہودہ اور خیالی عوامل ہی کے در پے ہوجاتے ہیں اور سب کچھ انہی کے ذمہ ڈال دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی بدبختی کا تمام تر ذمہ دار غیروں کی بُری سیاست کو ٹھہراتے ہیں اور کچھ لوگ ان تمام حوادث کو افلاک کی موافق یا مخالف گردش کی نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ایک گروہ قضاؤ قدر کے تحریف شدہ مفہوم سے وابستہ ہے اور قسمت و تقدیر اور اتفاقات کو ہی تمام تلخ و شیریں حوادث کی وجہ قرار دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ لوگ حقیقی علل کے ادراک سے گھبراتے اور پریشان ہوتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیات میں قرآن درد اور دوا، کامیابی اور شکست کے عوامل کے اصلی نقطہ پر انگشت رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اصل عامل کی تلاش کے لئے آسمانوں اور زمینوں کو چھان مارنا ضروری نہیں اور نہ اس کے لئے موہوم اور خیالی عوامل کے پیچھے جانے کی ضرورت ہے بلکہ اتنا ہی کافی ہے اپنے ہی وجود، فکر، ہمت، اخلاق اور اجتماعی نظام کی جستجو کی جائے اور اس پر نظر کی جائے۔ جو کچھ ہے اسی جگہ ہے۔ جن اقوام و ملل نے اپنی فکر و نظر کو استعمال کیا، ایک دوسرے کی طرف اتحاد،اتفاق اور برادری کا ہاتھ بڑھایا اور ان کی سعی و کوشش پہیم تھی اور ان کا عزم و ارادہ قوی تھا، ضرورت کے وقت انہوں نے جانبازی اور فداکاری سے کام لیا اور قربانی پیش کی وہ قطعاً اور یقیناً کامیاب وکامران ہوئیں دوسری طرف جب سعی وکوشش کی جگہ رکود وجمود اور سستی وکاہلی نے لے لی، آگاہی کے بجائے وہ بے خبری میں جاپڑے ،عزم وارادہ کے بجائے وہ تردد وبے دلی کا شکار ہو گئے، ان میں بزدلی نے بہادری کی، نفاق نے اتحاد کی، تن پروی نے فداکاری کی اور ریاکاری نے خلوص وایمان کی جگہ لے لی تو ان میں سقوط، شکست اور بدحالی کا دُور شروع ہوگیا، درحقیقت ”ذٰلِکَ بِاَنَّ اللهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اَنْعَمَھَا عَلیٰ قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِھِمْ“ میں انسانوں کی زندگی کا بلند ترین قانون بیان کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مکتبِ قرآن معاشروں کی زندگی کے لئے اصیل ترین اور روشن ترین مکتب ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں کو جو ایٹم اور خلاء کی دنیا میں داخل ہو کر انسان کو بھول چکے ہیں اور اقتصادی مسائل اور سازو سامان کی تولید کو گردشِ تاریخ کا سبب سمجھتے ہیں جو کہ خود انسان کی پیداوار ہیں، انھیں بتادیاگیا ہے کہ تم سخت اشتباہ میں ہو، تم نے معلول کو لے لیا ہے اور اصلی علت کو جو خود انسان اور انسانی تغیرات ہیں، انھیں فراموش کر دیا ہے۔ تم شاخوں سے چمٹے ہوئے ہو بلکہ ایک ہی شاخ سے اور جڑکو تم نے فراموش کر دیا ہے۔ دُور نہ جائیں، تاریخ اسلام یا زیادہ صحیح لفظوں میں مسلمانوں کی تاریخ، ابتداء میں روشن کامیابیوں اور اس کے بعد تلخ اور دردناک شکستوں کی شاہد ہے۔ پہلی صدیوں میں اسلام بڑی تیزی سے دنیا میں پیشرفت کرتا رہا اور ہر جگہ علم وآزادی کا نور نچھاور کرتا رہا اور اقوامِ عالم کے سروں پر علم و دانش کا سایہ کرتا رہا۔ اس دور میں اسلام قوت آفرین، قدرت بخش، ہلا دینے والا اور آباد کرنے والا تھا، ان سے آنکھوں کو خیرہ کردینے والے تمدن کو وجود بخشا، جس کی مثال گذشتہ تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن چند صدیوں سے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اس کا جوش وخروش ٹھنڈا پڑ گیا، تفرقہ وانتشار، پراگندگی، کنارہ کشی، گوشہ نشینی، ضعف وناتوانی اور اس کے نتیجے میں پسماندگی اور شکست نے ان تمام کامیابیوں اور ترقیوں کی جگہ لے لی ، اب حالت یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان بنیادی ضرورتوں کے لئے دوسرے کے دستِ نگر ہیں اور مجبور ہیں کہ علم ودانش کے حصول کے لئے اپنی اولاد کو دیار غیر بھیجیں جبکہ ایک وقت وہ تھا کہ مسلمانوں کی یونیورسٹیاں بلند ترین سمجھی جاتی تھیں اور دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیوں کی حیثیت سے اپنے اور بیگانے تمام طالب علموں کے لئے مرکز تھیں۔ معاملہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ اب نہ صرف یہ کہ مسلمان علم وصنعت اور ٹیکنالوجی برآمد نہیں کرتے بلکہ ابتدائی غذائی مواد بھی باہر کے ممالک سے درآمد کرتے ہیں۔ آج مسلمانوں کی سرزمین جو ایک دن مسلمانوں کی عظمت کا مرکز تھی، یہاں تک کہ دوسو سال تک صلیبی فوجیں جس کے لئے لڑتی رہیں اور انہوں نے کئی ملین مقتول اور زخمی دئیے لیکن اسلام کے غازیوں کے ہاتھ سے اسے نہ لے سکیں۔ آج کے مسلمان بڑے آرام سے چھ دن میں ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں جبکہ اب اس کی ایک بالشت بھی دشمن سے واپس لینے کے لئے مہینوں اور سالوں تک لڑائی ہو گی اور اس جنگ کا خبر نہیں کیا انجام ہو گا۔ کیا خدا کا یہ وعدہ نہیں کہ: وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ مومنین کی مدد کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ (روم/۴۷) کیا اس وعدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے؟ اور کیا قرآن نہیں کہتا کہ: وَلِلّٰہِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُؤْمِنِینَ عزت وسربلندی الله، اس کے رسولﷺ اور مومنین کے لئے ہے۔ (منافقون/۸) کیا یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ اسی طرح قرآن کہتا ہے: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ گذشتہ کتب میں ہم نے لکھ دیا ہے کہ زمین ہمارے صالح بندوں کا ورثہ ہے۔ (انبیاء/۱۰۵) کیا یہ حکم تبدیل ہو گیا ہے؟ کیا (معاذ الله) خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے عاجز ہے یا وہ اپنے وعدوں کو بھول چکا ہے یا انھیں تبدیل کر دیا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ عظمت، سربلندی اور افتخار کیوں ختم ہو گیا ہے؟ قرآن مجید مندرجہ بالا مختصر سی آیت میں ان تمام سوالوں ان تمام سوالات کا اور ایسے سینکڑوں سوالات کا ایک ہی جواب دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانک دیکھو اور اپنے معاشرے میں نگاہ دوڑاوٴ تو تم دیکھ لوگے کہ تغیرات اور تبدیلیاں خود تمھاری طرف سے شروع ہوتی ہیں ، خدا کا لطف ، کرم اور رحمت تو سب کے لئے وسیع ہے، خود تمہی اہلیت اور صلاحیت کھوبیٹھے ہو اور ایسے غم انگیز دنوں تک آپہنچے ہو۔ یہ آیت صرف گذشتہ زمانے کی بات نہیں کرتی کہ ہم کہیں کہ گذشتہ زمانہ تمام تلخیوں اور شیرنیوں کے ساتھ گزر گیا ہے اور اب پلٹ کر نہیں آئے گا اوراس کے متعلق بات کرنا فضول ہے، بلکہ آج اور آئندہ کے زمانے کی بات کرتی ہے کہ اگر خدا کی طرف پھر لوٹ آوٴ اور ایمان کے ستون محکم کرلو، اپنے افکار کو بیدار کر لو، اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو یاد رکھو، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لو، اپنے پاوٴں پر کھڑے ہوجاوٴ اور اپنی آواز بلند کرو، جوش وجذبے سے کام لو، قربانی دو، جہاد کرو اور تمام امور میں سعی وکوشش سے کام لو۔ پھر چشمے بہنے لگیں گے، تیرہ وتاریک دن کٹ جائیں گے، افقِ درخشاں اور روشن سرنوشت تمھاری سامنے آشکار ہو جائے گی اور اعلیٰ ترین سطح پر عظمت رفتہ پھر سے لوٹ آئے گی۔ آئیے اپنے آپ کو بدلیں۔ علماء اور دانشور بات کریں اور لکھیں، مجاہد جہاد کریں، تاجر اور مزدور محنت کریں، جوان زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور پاک وپاکیزہ بن جائیں اور پوری محنت سے علم وآگاہی حاصل کریں تاکہ معاشرے کی رگوں میں تازہ خون دوڑنے لگے اور وہ قدرت وطاقت پیدا کریں کہ وہ سخت دشمن جو آج ایک بالشت زمین منت والتماس سے واپس نہیں کرتا تمام زمنین ہاتھ جوڑ کر واپس کر دے۔ لیکن یہ ایسے حقائق ہیں جن کا کہنا تو آسان ہے مگر انھیں جاننا اور باور کرنا مشکل ہے اور ان پر عمل کرنا تو بہت زیادہ مشکل ہے۔ پھر بھی نورِ امید کے سائے میں پیش رفت کرنا چاہیے۔ اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مسئلہ رہبری ورہنمائی قوموں اور ملتوں کی زندگی میں بہت ہی موٴثر نقش رکھتا ہے اور اسے ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بیدار قومیں ہمیشہ لائق رہبروں اور رہنماوٴں کواپنی رہبری کے لئے قبول کرتی ہیں اور نالائق، باتونی اور ظالم لیڈر، قوموں کے آہنی ارادے کے سامنے ہمیشہ سرنگوں ہو جاتے ہیں۔ اسے بھی ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہے کہ ظاہری عوامل واسباب کے ماوراء غیبی مدد اور الطاف الٰہی کا ایک سلسلہ ہے جو باایمان، پُرچوش اور پُرخلوص بندوں کے انتظار میں ہے اور وہ سب کچھ کئے بغیر شرط اور قید کے نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اور اہلیت ضروری ہے۔ دو روایات پیش کرکے ہم یہ بحث تمام کرتے ہیں۔ پہلی یہ کہ امام صادق علیہ السلام منقول ہے: ”ما اٴنعم اللّٰہ علیٰ عبد بنعمتہ فسلبھا ایّاہ حتّیٰ بذنب ذنباً یستحق بذٰلک السلب“ خدا کوئی نعمت جو کسی بندے کو دیتا ہے اس سے واپس نہیں لیتا مگر یہ کہ وہ ایسا گناہ کرے جس کی وجہ سے اس نعمت کے سلب ہونے کا مستحق ہو جائے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۳ بحوالہٴ اصولِ کافی)- دوسری حدیث بھی امام صادق علیہ السلام ہی سے منقول ہے: خدا نے ایک پیغمبر کو مامور کیا کہ وہ اپنی قوم سے یہ بات کہہ دے کہ جو جماعت اور گروہ میری اطاعت کے سائے میں خوشی اور آسائش ہیں ہو وہ لوگ اس حالت کو جو میری رضا کا باعث ہے جب بھی تغیر کریں گے میں بھی جس حالت کو وہ پسند کرتے ہیں اس کے بجائے انھیں اس حالت میں بدل دوں گا جسے وہ ناپسند کرتے ہیں، اور جو گروہ معصیت وگناہ کی وجہ سے تکلیف وناراحتی میں گرفتار ہو اس کے بعد اپنی اس حالت کی طرف لے جاوٴں گا جسے وہ دوست رکھتے ہیں اور ان کی حالت بدل دوں گا۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۳ بحوالہٴ اصولِ کافی)۔

۲۔ تقدیر، تاریخ یا کوئی اور جبر نہیں ہے

ایک اور بات جو مندرجہ بالا آیات سے وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی پہلے سے معین شدہ کوئی خاص تقدیر نہیں اور نہ ہی انسان جبرِ تاریخ، جبرِ زمان اور جبرِ ماحول کے زیر اثر ہے بلکہ تاریخ ساز اور انسان کے لئے حیات ساز عامل، تغیرات ہیں جو اس کی روش، اخلاق اور فکر روح میں اس کے اپنے ارادے سے پیدا ہو جاتے ہیں، اس بناپر پر جو لوگ جبری قضاء وقدر کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام واقعات پروردگار کے جبری ارادے اور مشیت سے ظہور پذیر ہوتے ہیں، ایسے لوگ مندرجہ بالا آیت سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مادی جبر کے قائل کہ جو انسان کو ناقابلِ تغیر غرائز اور اصل وراثت کے ہاتھوں کھلونا سمجھتے ہیں ، یا جبر ماحول کے قائل کہ جو انسان کو اقتصادی اور تولیدی حالات کا پابند سمجھتے ہیں، مکتبِ اسلام کی نظر میں ان کا عقیدہ بے قیمت اور غلط ہے۔ انسان آزاد ہے اور اپنی سرنوشت اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے۔ آیات مذکورہ بالا کی طرف توجہ کرتے ہوئے انسان اپنی سرنوشت اور تاریخ کی زمام اپنے ہاتھ میں رکھتا اور اپنے لئے افتخار، اعزاز اور کامیابی پیدا کرتا ہے اور وہ خود ہی اپنے آپ کو شکست اور ذلت میں گرفتار کرتا ہے۔ اس کی باگ ڈور اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، جب تک خود انسان کی کیفیت میں تغیر پیدا نہ ہوا اور وہ خودسازی سے کام نہ لے اس کی سرنوشت میں تغیّر پیدا نہیں ہو سکتا۔ ۵۵

55
8:55
إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والے بد ترین جانور ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کر رکھی ہے اور ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
8:56
ٱلَّذِينَ عَٰهَدتَّ مِنۡهُمۡ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهۡدَهُمۡ فِي كُلِّ مَرَّةٖ وَهُمۡ لَا يَتَّقُونَ
وہ لوگ کہ جن سے تم نے پیمان لیا پھر وہ ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑتے ہیں اور (پیمان شکنی اور خیانت سے) پرہیز نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
8:57
فَإِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِهِم مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ
اگر انہیں میدان جنگ میں پا لو تو ان پر اس طرح سے حملہ کرو کہ وہ گروہ جو ان کے پیچھے ہیں منتشر ہوجائیں (اور بکھر جائیں ) شاید وہ متذکر ہوں (اور عبرت حاصل کریں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
8:58
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوۡمٍ خِيَانَةٗ فَٱنۢبِذۡ إِلَيۡهِمۡ عَلَىٰ سَوَآءٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡخَآئِنِينَ
اور جس وقت (نشانیاں ظاہر ہونے پر) تجھے کسی گروہ کی خیانت کا خوف ہو (کہ وہ اپنے عہد کو توڑ کر اچانک حملہ کر دے گا) تو انہیں عادلانہ طور پر بتلا دو (کہ ان کا پیمان لغو ہو گیا ہے) کیونکہ خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
8:59
وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَبَقُوٓاْۚ إِنَّهُمۡ لَا يُعۡجِزُونَ
اور وہ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے یہ تصور نہ کریں کہ وہ ان اعمال کے ہوتے ہوئے کامیاب ہو جائیں گے وہ ہمیں کبھی عاجز نہیں کر سکتے۔

شدّتِ عمل، پیمان شکنوں کے مقابلے میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات دشمنانِ اسلام کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی پوری پُر حوادث تاریخ میں مسلمانوں پر سخت ضربیں لگائیں اور بالآخر اس دردناک انجام کا سامنا کیا۔ یہ گروہ، وہی مدینہ کے یہودی تھے جنھوں نے بارہا رسول اللهﷺ کے ساتھ عہدوپیمان باندھا اور پھر بزدلانہ طور پر اسے توڑ دیا۔ یہ آیات ایک مستحکم طریقہ بیان کر رہی ہیں جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو اس پیمان شکن گروہ کے بارے میں اختیار کرنا چاہیے۔ ایسا طریقہ کہ جو دوسروں کے لئے باعثِ عبرت ہو اور اس گروہ کے خطرے کو بھی دور کرے۔ پہلے قرآن اس جہاں کے زندہ موجودات میں سے بے وقعت ترین اور گھٹیا ترین وجود کا تعارف کرواتے ہوئے کہتا ہے: زمین پر چلنے والے بدترین لوگ خدا کے نزدیک وہ ہیں جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اور اسی طرح اس پر چلتے رہتے ہیں اور کسی طرح ایمان نہیں لاتے (إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الَّذِینَ کَفَرُوا فَھُمْ لَایُؤْمِنُونَ)۔ ”اَلَّذِینَ کَفَرُوا“ کی تعبیر شاید اس طرف اشارہ ہے کہ مدینہ کے بہت سے یہودی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ظہور سے پہلے اپنی کتب کی روشنی میں آپ سے لگاوٴ اور ایمان کا اظہار کرتے تھے بلکہ آپ کے مبلغ اور لوگوں کو آپ کے ظہور کے لئے تیار کرتے تھے لیکن آپ کے ظہور کے بعد چونکہ انھیں اپنے مادی مفادات خطرے میں نظر آئے تو کفر کی طرف جھک گئے اور اس راہ میں انہوں نے ایسی شدّت کا مظاہرہ کیا کہ ان کے ایمان کی کوئی امید باقی نہ رہی جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ”فَھُمْ لَایُؤْمِنُونَ“۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: یہ وہی لوگ تھے جن سے تم نے عہد وپیمان باندھا تاکہ کم از کم غیر جانبداری ہی کا لحاظ رکھیں اور مسلمانوں کو آزار وتکلیف پہنچانے کے درپے نہ ہوں اور دشمنانِ اسلام کی مدد نہ کریں لیکن انہوں نے ہر مرتبہ اپنا پیمان توڑ دیا (اَلَّذِینَ عَاھَدْتَ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنقُضُونَ عَھْدَھُمْ فِی کُلِّ مَرَّةٍ)۔ (تشریحی نوٹ: ”من“، ”عاہدت منھم“ میں یا تبعیض کے معنی میں یعنی جزیرہ نمائے عرب کے یہودیوں کے ایک گروہ یا مدینہ کے یہودیوں کے سرداروں سے تم نے پیمان باندھا تھا یا اصلاح کے مطابق ”صلہ“ کے لئے ہے اس کا معنی ”عاہدتھم“ (تونے ان سے عہد یا) ہوگا یہ بھی احتمال ہے کہ یہ جملہ ”اخذ العھد منھم“ (تو نے ان سے عہد لیا) کے معنی ہو۔) نہ انھیں خدا سے کوئی شرم وحیا آتی تھی اور نہ وہ اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرتے تھے اور نہ ہی وہ انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے کوئی پرواہ کرتے تھے (وَھُمْ لَایَتَّقُونَ)۔ ”ینقضون“ ”یتقون“فعل مضارع کا صیغہ ہیں اور استمرار پر دلالت کرتے ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے کئے ہوئے عہد وپیمان توڑے تھے۔ اگلی آیت میں اس پیمان شکن، بے ایمان اور ہٹ دھرم گروہ سے طرزِ سلوک کے بارے میں قرآن کہتا ہے: اگر انھیں میدانِ جنگ میں پاوٴ اور وہ مسلح ہوکر تمھارے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں تو ان کی ایسے سرکوبی کرو کہ جو گروہ ان کے پیچھے ہوں وہ عبرت حاصل کریں اور منتشر ہو جائیں اور اپنے آپ کو پیش نہ کریں (فَإِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِھِمْ مَنْ خَلْفَھُمْ)۔ ”تَثْقَفَنَّھُمْ“، ”ثقف“ (بروزن ”سقف“ کے مادہ سے ہے۔ اس کا مطلب ہے ”کسی چیز کو دقّت سے اور تیزی سے سمجھنا“۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی تنقید اور اعتراضات سے تیزی سے اور دقتِ نظر سے آگاہی حاصل کرو اور اس سے پہلے کہ تم پر وہ بے خبری میں کوئی جنگ ٹھونس دیں، بجلی کی طرح ان پر جا پڑو۔ ”شرد“، ”تشرید“ کے مادہ سے ”حالتِ اضطراب میں منتشر کرنے“ کے معنی میں ہے۔ یعنی ان پر اس طرح سے حملہ کرو کہ دشمنوں اور پیمان شکنوں کے دیگر گروہ منتشر ہو جائیں اور حملہ کرنے کی نہ سوچیں، یہ حکم اس بنا پر ہے کہ دوسرے دشمن بلکہ آئندہ کے دشمن عبرت حاصل کریں اور جنگ کی طرف بڑھنے سے اجتناب کریں اور اسی طرح جو لوگ مسلمانوں سے عہد وپیمان رکھتے ہیں یا آئندہ کوئی پیمان باندھیں تو عہد وپیمان توڑنے سے اجتناب کریں اور شاید سب کے سب سمجھ سکیں اور متذکر ہوں(لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُونَ)۔ ” اور اگر وہ تیرے سامنے میدان میں نہ آئیں لیکن ان سے ایسے آثار وقرائن ظاہر ہوں کہ وہ پیمان شکنی کے درپے ہیں اور اس بات کا خوف ہو کہ وہ خیانت کریں گے اور بغیر اطلاع کے ایک طرفہ طور پر پیمان توڑ دیں گے تو تم پیش قدمی کرو اور انھیں بتا دو کہ ان کا پیمان لغو ہو چکا ہے۔ (وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْبِذْ إِلَیْھِمْ عَلیٰ سَوَاءٍ) ایسا نہ ہو کہ ان کا پیمان لغو ہونے کی اطلاع دئیے بغیر ان پر حملہ کردو کیونکہ خدا خیانت کرنے والوں اور ان لوگوں کو جو اپنے پیمان میں خیانت کرتے کی راہ اختیار کریں، دوست نہیں رکھتا (إِنَّ اللهَ لَایُحِبُّ الْخَائِنِینَ)۔ اگرچہ مندرجہ بالا آیت میں رسول الله ﷺکو اجازت دی گئی ہے کہ دشمن کی طرف سے خیانت اور ایمان شکنی کے خوف کے موقع پر ان کے پیمان کو لغو قرار دیں لیکن واضح ہےکہ یہ خوف بغیر دلیل کے نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس سلسلے میں یہ بات حتمی ہے کہ جب وہ کچھ ایسے اعمال کے مرتکب ہوں جو نشاندہی کریں کہ وہ پیمان شکنی،دشمن سے مل کر سازش کرنے اور غفلت کی حالت میں حملہ کرنے کی فکر میں ہیں تو پھر اتنے قرائن اور علامات مہیّا ہوجانے پر اس بات کی اجازت ہے کہ پیغمبرﷺ ان کے پیمان کے لغو ہو جانے کا اعلان کریں۔ ”فَانْبِذْ إِلَیْھِمْ“ ”اِنْبَاذْ “ کے مادہ سے پھینکنے یا اعلان کرنے اور بتانے کے معنی میں ہے، یعنی ان کا پیمان ان کی طرف پھینک دو اور لغو قرار دے دو اور اس کے لغو ہونے کی انھیں اطلاع دے دو۔ ”علیٰ سواء “ کی تعبیر یا تو اس معنی میں ہے کہ جس طرح انہوں نے اپنے پیمان کو لغو کر دیا ہے تم بھی اپنی طرف سے لغو قرار دے دو۔ یہ ایک عادلانہ اور مساویانہ حکم ہے یا یہ اس معنی میں ہے کہ ایک واضح، غیر مخفی اور ہر قسم کے مکر وفریب سے پاک طریقے سے اعلان کر دو۔ بہرحال، زیرِ نظر آیت جہاں مسلمانوں کو تنبیہ کر رہی ہے کہ وہ کوشش کریں کہ پیمان شکن ان پر حملہ آور نہ ہو جائیں، وہاں انھیں معاہدوں کی حفاظت کرنے یا عہدو پیمان لغو کرنے کے سلسلے میں انسانی اصولوں کو ملحوظ رکھنے کے بارے میں بھی کہہ رہی ہے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں روئے سخن پیمان شکن گروہ کی طرف کرتے ہوئے انھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ ”کہیں ایسا نہ ہو کہ کفر اختیار کرنے والے لوگ یہ تصور کریں کہ وہ اپنے خیانت آمیز اعمال کے ذریعے کامیاب ہو گئے ہیں اور ہماری قدرت اور سزا وعذاب کے قلمرو سے نکل گئے ہیں“ (وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَبَقُوا)۔ وہ ہمیں ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اور ہمارے احاطہٴ قدرت سے نہیں نکل سکتے(إِنَّھُمْ لَایُعْجِزُونَ)۔

60
8:60
وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن قُوَّةٖ وَمِن رِّبَاطِ ٱلۡخَيۡلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمۡ لَا تَعۡلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعۡلَمُهُمۡۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ
ان دشمنوں کے مقابلے کیلئے جتنی قوت ممکن ہو سکے مہیا اور تیار رکھو اسی طرح (میدان جنگ کیلئے) طاقتور اور تجربہ کار گھوڑے (بھی تیار رکھو) تاکہ اس سے خدا کے اور اپنے دشمن کو ڈرا سکو اور (اسی طرح) ان کے علاوہ دوسرے (دشمن) گروہ کو کہ جنہیں تم نہیں پہچانتے اور اللہ انہیں پہچانتا ہے اور جو کچھ تم راہ خدا میں (اسلامی دفاع کی مضبوط کیلئے) خرچ کرو گے تمہیں لوٹا دیا جائے گا اور تم پر ظلم و ستم نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

تفسیر

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
8:61
۞وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلۡمِ فَٱجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی باب صلح کی طرف سے داخل ہو اور خدا پر توکل کرو کہ وہ سننے اور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

تفسیر

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
8:62
وَإِن يُرِيدُوٓاْ أَن يَخۡدَعُوكَ فَإِنَّ حَسۡبَكَ ٱللَّهُۚ هُوَ ٱلَّذِيٓ أَيَّدَكَ بِنَصۡرِهِۦ وَبِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور اگر وہ تمہیں دھوکا دینا چاہیں تو خدا تمہارے لئے کافی ہے اور وہ وہی ہے کہ جس نے تجھے اپنی اور مومنین کی مدد سے تقویت پہنچائی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

تفسیر

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
8:63
وَأَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوبِهِمۡۚ لَوۡ أَنفَقۡتَ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مَّآ أَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوبِهِمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
اور (اللہ نے) ان کے دلوں میں باہم الفت پیدا کر دی اور اگر وہ دلوں میں الفت پیدا کرنے کیلئے روئے زمین کی تمام چیزوں کو صرف کر دیتے تو ایسا نہ کر سکتے لیکن خدا نے ان کے درمیان الفت پیدا کر دی وہ توانا اور رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

تفسیر

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
8:64
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ حَسۡبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اے نبی ! خدا اور وہ مومنین تیری پیروی کرتے ہیں جو تیری حمایت کیلئے کافی ہے۔

جنگی طاقت میں اضافہ اور اس کا مقصد

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اسلامی جہاد کے سلسلے میں گذشتہ احکام کی مناسبت سے زیرِ نظر پہلی آیت میں مسلمانوں کی توجہ زندگی کے ایک ایسے بنیادی قانون کی طرف دلائی گئی ہے جو ہر زمانے میں اور ہر وقت نظر میں رہنا چاہیے اور وہ ہے دشمن کے مقابلے میں کافی دفاعی تیاری کا لزوم۔ پہلے قرآن کہتا ہے: اور دشمن کے مقابلے میں جس قدر ممکن ہو سکے قوت تیار رکھو (وَاَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ)۔ یعنی اس انتظار میں نہ رہو کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے گا اس وقت اس کے مقابلے میں تیاری کروگے بلکہ پہلی ہی دشمن کے احتمالی حملے کے مقابلے میں کافی تیاری ہونا چاہیے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور اسی طرح طاقتور اور آزمودہ کار گھوڑے میدانِ جہاد کے لئے فراہم رکھو (وَمِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ)۔ ”رباط“ کا معنی ہے ”باندھنا اور پیوند لگانا“ زیادہ تر یہ لفظ کسی جگہ سے کسی جانور کے حفاظت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، بعد ازاں اسی مناسبت سے حفاظت اور نگرانی کرنے کے عمومی معنی استعمال ہونے لگا۔ ”مرابطہ“ سرحدوں کی حفاظت کرنے کو کہتے ہیں، اسی طرح ہر چیز کی حفاظت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور جانوروں کے باندھنے اور حفاظت کرنے کی جگہ ”رباط“ کہتے ہیں، اسی طرح سرائے کو عرب ”رباط“ کہتے ہیں۔

چند قابلِ توجہ نکات ۱۔ دشمن کے مقابلے میں "قوت" تیار کرنے کا معنی کیا ہے؟

ایک مختصر سے جملے کے ذریعے زیرِ نظر آیت میں اسلامی جہاد، مسلمانوں کی بقاء اور ان کی عظمت وافتخار کی حفاظت کے لئے ایک بنیادی اصول بنایا گیا ہے، آیت کی تعبیر اس قدر وسیع ہے کہ ہر زمان ومکان پر پوری طرح سے منطبق ہوتی ہے۔ ”قوة“ کس قدر چھوتا اور پرمعنی لفظ ہے، یہ نہ صرف ہر زمانے کے جنگی وسائل اور جدید اسلحہ پر محیط ہے بلکہ ان تمام توانائیوں اور طاقتوں کا مفہوم بھی لئے ہوئے جو کسی شکل میں دشمن پر کامیابی کے لئے موٴثر ہیں، چاہے وہ مادی قوتیں ہوں یا معنوی۔ جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ دشمن پر کامیابی اور اپنی بقا کی حفاظت، جنگی ہتھیاروں کی تعداد سے وابستہ ہے، وہ انتہائی غلطی پر ہیں کیونکہ ہم نے اپنے زمانے کے انہی میدانوں میں ایسی قوموں کو دیکھا ہے جو تھوڑی سی تعداد اور کم اسلحہ سے زیادہ طاقتور اور زیادہ اسلحہ کی مالک قوموں کے مقابلے میں کامیاب ہوئی ہیں، مثلاً الجزائر کی مسلمان قوم فرانس کی طاقتور حکومت کے مقابلے میں۔، لہٰذا ہر زمانے کے نہایت بہترین ہتھیاروں سے ایک قطعی اسلامی فریضے کے طور پر فائدہ اٹھانے کے علاوہ مجاہدین کی ہمت مردانہ اور قوتِ ایمان کو بھی بروئے کار لایا جانا چاہیے جو کہ اہم ترین قوت وطاقت ہے۔ اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی قوتیں بھی ”قوة“ کے مفہوم میں داخل ہیں اور دشمن پر کامیابی کے حصول کے لئے بہت موٴثر ہیں۔ ان میں بھی غفلت نہیں برتنا چاہیے۔ یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ اسلامی روایات میں لفظ ”قوة“ کی کئی تفاسیر کی گئی ہیں کہ جو اس لفظ کے مفہوم کی وسعت کی ترجمان ہیں۔ مثلاً بعض روایات میں ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺنے فرمایا: قوت سے مراد تیر ہے۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۲، ص ۱۶۴-۱۶۵)۔ دوسری روایت میں جو تفسیر علی بن ابراہیم آئی ہے اس میں ہے کہ: ”قوة“ سے مراد ہر قسم کا اسلحہ ہے۔ ایک اور روایت جو تفسیر عیاشی میں آئی ہے میں ہے: ”قوة“ سے مراد تلوار اور ڈھال ہے۔ ایک اور روایت جو ”من لایحضرہ “ میں آئی ہے، میں ہے: منہ الخضاب السواد آیت میں ”قوة“ کا ایک مصداق سفید بالوں کو سیاہ خضاب کرنا بھی ہے۔ )بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۲، ص ۱۶۴ اور ۱۶۵)۔ یعنی اسلام نے سن رسیدہ مجاہد کے بالوں کے خضاب تک کو نظر انداز نہیں کیا تاکہ دشمن اس سے مرعوب ہو، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ زیرِ نظر آیت میں ”قوة“ کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔ اس بناپر وہ لوگ جنھوں نے صرف کچھ روایات دیکھی ہیں اور انہوں نے لفظ ”قوة“ کو صرف ایک مصداق میں محدود سمجھا ہے، وہ عجیب اشتباہ میں گرفتار ہوئے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ مسلمان ایسے صریح اور واضح فرمان کے باوجود گویا ہر چیز ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں۔ انھیں دشمنوں کے مقابلے میں نہ تو معنوی اور روحانی قوتیں فراہم کرنے سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اقتصادی ، سیاسی، ثقافتی اور فوجی قوتیں مہیا کرنے سے دلچسپی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس عظیم غفلت اور ایسے صریح حکم کو پس پشت ڈالنے کے باوجود ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اپنی پسماندگی کا گناہ اسلام کی گردن پر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام میں پیش رفت اور کامیابی کا دین ہے تو پھر مسلمان کیوں پس ماندہ اور غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ہمارا نظریہ ہے کہ اس عظیم اسلامی حکم ”وَاَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ“ کی ہر جگہ ایک عمومی اور عوامی شعار کی حیثیت سے تبلیغ ہو اور چھوٹے بڑے، عالم وجاہل، موٴلف ومقرر، فوجی اور افسر، کسان اور تاجر یعنی تمام مسلمان اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو ان کی پسماندگی کی تلافی کے لئے کافی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ اور اسلام کے عظیم راہنماوں کی عملی سیرت بھی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ دشمن کے مقابلے سے کبھی غفلت نہ برتتے تھے۔ وہ افراد اور ہتھیار مہیا کرنے، سپاہیوں کی ہمت بڑھانے، لشکر کیلئے جگہ منتخب کرنے، دشمن پر حملے کیلئے مناسب وقت کا انتخاب کرنے اور ہر قسم کی جنگی تیکنیک کو اپنانے میں کسی چھوٹے یا بڑے پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے تھے۔ مشہور ہے کہ جنگ حنین کے دنوں میں لوگوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو خبر دی کہ یمن میں نیا مشینی ہتھیار تیار ہوا ہے۔ آپ نے فوراً کسی کو یمن کی طرف بھیجا تاکہ وہ اسے لشکرِ اسلام کے لئے مہیّا کرے۔ جنگ اُحد کے واقعات میں ہے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے جب بت پرستوں کا یہ نعرہ سنا کہ: ”اعل ھبل، اعل ھبل“ یعنی ہبل کی جے، ہبل کی جے۔ تو اس کے مقابلے کے میں مسلمانوں کو اس کی سرکوبی کرنے والا اور زیادہ موٴثر نعرہ سکھایا اور ان سے یہ نعرہ بلند کرنے کو کہا: ’‘اللّٰہ اعلیٰ واجل“ خدا ہر چیز سے برتر اور بالاتر ہے۔ اور جب بت پرستوں نے یہ نعرہ لگایا کہ: ”ان لنا العزّیٰ ولا عزی لکم“ ہمارے لئے عزّیٰ بت ہے تمھارے لئے عزّیٰ نہیں ہے۔ تو اس کے مقابلے میں آپ نے مسلمانوں کو اس نعرے کی تعلیم دی: ”اللّٰہ مولانا ولا مولاکم“ خدا ہمارا ولی وسہارا ہے اور تمھارا کوئی سہارا نہیں۔ یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ رسول اللهﷺ اور مسلمانوں دشمن کے مقابلے میں ایک زور دار نعرے کی تاثیر تک سے غافل نہ تھے اور اپنے لئے بہترین نعرے کا انتخاب کرتے تھے۔ اسلام کا ایک اہم فقہی حکم تیراندازی اور گھڑ دوڑ کے مقابلے کے بارے میں ہے، یہاں تک کہ اس سلسلے میں مالی فتح وشکست تجویز کی گئی ہے اور اس مقابلے کی دعوت دی گئی ہے۔ دشمن کے مقابلے میں تیار رہنے سے متعلق اسلام کی گہری نظریہ کا یہ ایک نمونہ ہے۔ (ہمارے ہاں جو ریس وغیرہ مروّج ہے اس کا اسلامی سبق ورمایہ سے دُور کا بھی تعلق نہیں کیونکہ وہاں تو اصل مقابلہ دشمن کے مقابلے میں جنگی مشق کے طور پر ہوتا ہے وہاں پہلے سے دونوں طرف سے یا ایک طرف سے انعام مقرر کیا جاتا ہے کہ جو جیت جائے گا صرف اتنا انعام ملے گا جبکہ مغرب کی شیطانی تہذیب سے آئی ہوئی اس ریس میں تولوگ آپس میں جواء رکھتے ہیں۔ (مترجم))

۲۔ اسلام کے دائمہ ہونے کی ایک دلیل

ایک اور اہم نکتہ مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے جو کہ دین اسلام کے عالمی ، دائمی اور جاودانی ہونے پر ایک دلیل ہے، اس دین کے مفاہیم، معانی اور مضامین اس طرح پھیلے ہوئے اور وسیع ہیں کہ اتنا طویل زمانہ گزرنے کے باوجود ان میں کہنگی اور فرسودگی کا نشان نظر نہیں آتا۔ ”وَاَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ“ کا جملہ ہزار سال پہلے بھی ایک زندہ مفہوم رکھتا تھا اور آج بھی اسی طرح ہے اور دس ہزار سال آئندہ کیلئے بھی اسی طرح زندہ باقی رہے گا کیونکہ جو ہتھیار اور طاقت آئندہ پیدا ہو گی وہ ”قوة“ کے جامع لفظ میں پوشیدہ ہے، ”ما استطعتم“ عام ہے اور ”قوة“ جو کہ نکرہ کی شکل میں آیا ہےاس کی عمومیت کو تقویت دیتا ہے اور ہر قسم کی قوت وطاقت پر محیط ہے۔

۳۔ قوت کے بعد گھوڑوں کا ذکر کیوں؟

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لفظ ”قوة“ کے ذکر کے بعد کہ جو اس قسم کا وسیع مفہوم رکھتا ہے، تجربہ کار جنگی گھوڑوں کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک جملے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ مندرجہ بالا آیت نے جہاں تما م زمانوں کے لئے ایک وسیع حکم بیان کیا ہے، وہاں ایک خاص حکم رسول اللهﷺ کے زمانہ اور نزولِ قرآن کے وقت کا بھی بیان کر دیا ہے۔ در حقیقت ایک کُلی اور عمومی مفہوم کوایک واضح عملی مثال سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ گھوڑا آج کے میدانِ جنگ میں ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ہوتے ہوئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا لیکن اُس زمانے میں بہادر وشجاع جنگو سپاہیوں کے لئے یہ ایک چست اور تیز رفتار ذریعہ شمار ہوتا تھا۔

دو قابل توجہ نکات

۱۔ دوسرے دشمن کون سے تھے؟ مفسرین نے دوسرے گروہ سے متعلق کئی احتمالات ذکر کئے ہیں، بعض نے اسے مدینہ کے یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو اپنی دشمنی کو چھپائے رکھتے تھے۔ بعض دوسرے مفسّرین نے مسلمانوں کے آئندہ دشمنوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جیسا کہ رومی اور ساسانی سلطنتیں تھیں کہ جن سے جنگ کے متعلق ان دنوں مسلمانوں کو احتمال نہ تھا لیکن جو کچھ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ اس سے مراد منافق ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں ناشناختہ طور پر موجود تھے اور سپاہِ اسلام کی مکمل تیاری کی صورت میں وہ بھی پریشان ہوجاتے تھے اور اپنے ہاتھ پاوٴں سمیٹنے لگتے تھے، اس امر کی شاہد سورہٴ توبہ کی آیت ۱۰۱ ہے جس میں ہے: وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لَاتَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ بعض اہلِ مدینہ نفاق اور دورخی پالیسی میں جسور اور سرکش ہیں کہ جنھیں تم نہیں جانتے لیکن ہم انھیں جانتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے اسلام کے تمام چھپے ہوئے دشمن مراد ہوں چاہے وہ منافقین ہوں یا غیر منافقین۔ ۲۔ دورِ حاضر کے لئے ایک حکم: آیت آج کے مسلمانوں کے لئے بھی اپنے اندر ایک حکم لئے ہوئے ہے اور وہ یہ کہ نہ صرف اپنے ظاہری دشمنوں کو بھی نظر میں رکھو اور اپنی تیاری کو انہی سے جنگ تک محدودر کھو، بلکہ احتمالی اور بالقوۃ دشمنوں کو بھی نظر میں رکھو اور جس قدر طاقت وقوت لازمی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ فراہم کر لو۔ اگر مسلمان فی الحقیقت اس نکتہ کو نظر میں رکھتے تو کبھی طاقتور دشمنوں کے غافلانہ حملوں کا شکار نہ ہوتے۔ آیت کے آخر میں ایک اور اہم موضوع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ قوت وطاقت، سازوسامان، اسلحہ اور مختلف قسم کے ضروری دفاعی وسائل کے لئے سرمائے کی ضرورت ہے، لہٰذا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام افراد کے تعاون وہمکاری سے یہ مالی سرمایہ اکھٹا کریں، فرمایا گیا ہے: جان لو کہ جو کچھ تم راہ خدا میں خرچ کرتے ہو تمہیں پلٹا دیا جائے گا (وَمَا تُنفِقُوا مِنْ شَیْءٍ فِی سَبِیلِ اللهِ یُوَفَّ إِلَیْکُمْ)۔اور وہ سارے کا سارا تمہیں پہنچے گا اور تم پر کسی قسم کا ظلم نہیں گا (وَاَنْتُمْ لَاتُظْلَمُونَ)۔ یہ جزا تمہیں اس جہان کی زندگی میں بھی اسلام کی کامیابی اور شوکت وعظمت کی صورت میں ملے گی کیونکہ ایک کمزور قوم کا مالی سرمایہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا اور وہ اپنے امن وامان، راحت وآرام اور استقلال واستحکام کو بھی ہاتھ سے دے بیٹھے گی، اس بناپر وہ سرمایہ جو اس راہ میں صرف ہو گا، وہ ایک اور راستے سے بالاتر سطح پر خرچ کرنے والوں کی طرف پلٹ آئے گا، نیز دوسرے جہاں میں رحمتِ پروردگار کے جوار میں عظیم ترین ثواب وجزا تمھارے انتظار میں ہو گی۔ لہٰذا اس صورت میں نہ صرف یہ کہ تم پر ظلم وستم نہیں ہو گا بلکہ تمہیں بہت زیادہ فائدہ اور نفع بھی حاصل ہو گا۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ مندرجہ بالا جملے میں لفظ ”شیء“ استعمال ہوا ہے جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، یعنی ہر قسم کی چیز چاہے وہ جان ہو یا مال، قوتِ فکر ہو یا قدرِ منطق یا کوئی بھی دوسرا سرمایہ مسلمانوں کی دفاعی اور فوجی بنیاد کی تقویت کے لئے دشمن کے مقابلے میں خرچ کیا جائے تو وہ خدا سے پوشیدہ نہیں رہے گا اور خدا اسے محفوظ رکھے گا اور بوقتِ ضرورت تمہیں دے گا۔ ”واٴنتم لاتظلمون“ کے جملہ کی تفسیر میں بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ اس کا عطف ”ترھبون“ پر ہے یعنی اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی توانائی فراہم کولو تو وہ تم پر حملہ کرنے سے گھبرائیں گے اور تم پر ظلم کرنے کی قدرت ان میں نہیں ہو گی لہٰذا تم پر ظلم وستم نہیں ہو گا۔

جہادِ اسلامی کا مقصد اور اس کے ارکان

دوسرا نکتہ جو زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے اور بہت سے سوالات اور معترضین اور بے خبر لوگوں کے اعتراضات کا جواب ہو سکتا ہے وہ اسلامی جہاد کی صورت، ہدف اور پروگرام ہے، آیت واضح طور پر کہتی ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے کہ انسانوں کو قتل کر دو اور نہ ہدف یہ ہے کہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالو بلکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، اصل ہدف یہ ہے دشمن ڈریں اور وہ تم پر زیادتی نہ کریں، زبردستی کوئی بات نہ منوائیں، نیز تمھاری ساری کوشش کا نتیجہ خدا اور حق وعدالت کے دشمنوں کے شر کو کم کرنا ہو۔ کیا مخالفین جہاد اسلامی کے بارے میں قرآن کی اس صراحت کو نہیں سنتے کہ جو اِس آیت میں موجود ہے۔ یہ لوگ پے درپے اسلامی قانون پر حملہ کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کا دین ہے ، کبھی کہتے ہیں کہ اسلام اپنے عقیدے اور نظریے کو ٹھونسنے کے لئے ہتھیاروں کو ذریعہ بناتا ہے اور کبھی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی تاریخ کو کشور کشائی کرنے والوں سے تشبیہ دیتے ہیں، ہمارے نظریے کے مطابق ایسے سب اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ وہ قرآن کی طرف پلٹیں اور اس پروگرام کے اصلی ہدف پر غور وفکر کریں تاکہ ان پر تمام چیزیں واضح ہو جائیں۔

صلح کےلیے آمادگی

گذشتہ آیت میں اگرچہ اسلامی جہاد کے مقصد کو کافی حد تک نمایاں کرتی ہے تاکہ بعد والی آیت کہ جو دشمن سے صلح کے بارے میں بحث کرتی ہے اس حقیقت کو واضح کر رہی ہے ، فرمایا گیا ہے: اگر وہ صلح کی طرف میلان ظاہر کریں تو تم بھی ان کا ہاتھ جھٹک نہ دو اور آما دگی ظاہر کرو (وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا)۔ مندرجہ جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اگر وہ صلح کی طرف پَر پھیلائیں تو تم بھی اس کی طرف پَر پھیلاوٴ کیونکہ ”جَنَحُوا“ ”جنوح“کے مادہ سے مائل ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے اور پرندوں کے پروں کو بھی ”جناح“ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا ہر پر وبال ایک طرف مائل ہو تا ہے۔اس احتمال کے پیش نظر آیت کی تفسیر کے لئے اصل لغت سے بھی استفادہ ہو سکتا ہے اور اس لفظ کے ثانوی مفہوم سے بھی۔ چونکہ عام طور پر پیمانِ صلح پر دستخط کرتے وقت لوگ تردد میں گرفتار ہو جاتے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرمﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ صلح کی تجویز قبول کرنے میں شک وتردد کو اپنے میں راہ نہ دو۔ اگر اس کی شرائط منطقی، عاقلانہ اور عادلانہ ہوں تو انھیں قبول کر لو ”اور خدا پر توکل کرو کیونکہ خدا تمھاری گفتگو بھی سنتا ہے اور تمھاری نیتوں سے بھی آگاہ ہے (وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إِنَّہُ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ)۔ لیکن اس کے باوجود رسول اللهﷺ اور مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے صلح کی تجاویز میں مکر وفریب بروئے کار لایا گیا ہو اور صلح کو دشمن اچانک حملے کے لئے مقدمہ کے طور پر استعمال کریں یا ان کا مقصد جنگ میں تاخیر کرنے سے ، زیادہ قوت فراہم کرنا ہو تاہم اس امر سے پریشان نہ ہو کیونکہ خدا تمھارے کام کی کفایت کرے گا اور وہ ہر حالت میں تمھارا پشتیبان ہے (وَإِنْ یُرِیدُوا اَنْ یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللهُ)۔ تمھاری سابقہ زندگی بھی اس حقیقت پر گواہ ہے کیونکہ ”وہی ہے جس نے اپنی مدد سے اور پاک دل مومنین کی مدد سے تمھاری تقویت کی تھی (ھُوَ الَّذِی اَیَّدَکَ بِنَصْرِہِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ)۔ انہوں نے بارہا تمھارے لئے عظیم خطرے پیدا کئے اور ایسی خطرناک سازشیں کیں کہ عام طریقے سے انھیں ناکام بنانا ممکن نہیں تھا لیکن اس نے ان تمام مواقع پر تمھاری حفاظت کی۔ علاوہ ازیں، یہ مخلص مومنین کہ جو تمھارے گردو پیش تھے، کسی قسم کی فداکاری سے دریغ نہیں کرتے، پہلے یہ بکھرے ہوئے اور ایک دوسرے کے دشمن تھے خدا نے ان پر نورِ ہدایت کا چھڑکاوٴ کیا ”اور ان کے دلوں کے اندر الفت پیدا کی (وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِھِمْ)۔ سالہا سال سے مدینہ میں اوس اور خزرج قبائل میں خونریزی جاری تھی اور ان کے سینےبغض وعداوت سے بھرےہوئے تھے۔ حالت یہ تھی کہ کسی شخص کو یہ یقین نہ تھا کہ وہ کسی روز ایک دوسرے کی طرف دوستی اور محبت کا ہاتھ بڑھائیں گے اور ایک ہی صف میں شامل ہوں گے لیکن قادر و متعال خدا نے اسلام کے پرتو اور نزولِ قرآن کے سائے میں یہ کام انجام دیا، اوس وخزرج کہ جو انصار میں سے تھے، انہی کے درمیان ایسی کشمکش نہ تھی بلکہ رسول اللهﷺ کے مہاجر اصحاب جو مکہ سے آئے تھے، وہ بھی اسلام سے پہلے ایک دوسرے سے الفت اور دوستی نہیں رکھتے تھے اور اکثر ان کے سینے ایک دوسرے کے لئے کینے سے بھرے رہتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے ان سب کینوں کو دھوڈالا اور اس طرح ختم کر دیا کہ بدر کے تین سو تیرہ مجاہدین کہ جن میں تقریباً اسی مہاجرین اور باقی انصار تھے، اگرچہ ایک چھوٹا سا گروہ تھے لیکن وہ ایک جسم کی مانند ہو گئے اور ایک طاقتور اور متحد لشکر بن گئے کہ جس نے اپنے نہایت قوی دشمن کو شکست سے دوچار کر دیا۔ اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس الفت اور دلوں کے رشتے قائم کرنا معمول کے مادی طریقوں سے ممکن نہ تھا ”اگر وہ تمام کچھ جو روئے زمین میں ہے تم خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں الفت ومحبّت پیدا نہ کر سکتے (لَوْ اَنفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیعًا مَا اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِھِمْ)۔ لیکن یہ خدا ہی تھا جس نے ان کے درمیان ایمان کی وجہ سے اور ایمان کے ذریعے الفت پیدا کر دی (وَلَکِنَّ اللهَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ)۔ وہ لوگ جو ہٹ دھرم اور کینہ پرور افراد خصوصاً جاہل قوموں اور زمانہ جاہلیت کے سے لوگوں کی روحانی اور جذباتی کیفیت سے آشنا ہیں، جانتے ہیں کہ ایسے کینوں اور عداوتوں کو نہ تو مال ودولت سے دھویا جا سکتا ہے اور نہ جاہ ومقام سے، انھیں خاموش کرنے اور دبانے کی ایک راہ ہے اور وہ ہے انتقام، وہی انتقام جو لہردار آواز کی صورت میں دُہرایا جائے گا اور ہر مرتبہ اس کا قبیح چہرہ زیادہ ہولناک ہو گا اور اس کا دامن زیادہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔ واحد چیز جو ان راسخ اور جڑ پکڑ لینے والے کینوں کو ختم کر سکتی ہے وہ افکار، خیالات اور نفوس میں پیدا ہونے والا ایک انقلاب ہے۔ ایسا انقلاب جو شخصیتوں کو تبدیل کر دے، طرزِ افکار بدل دے اور جس سے لوگ اپنی سطح سے بہت بالا ہوجائیں اس طرح سے گذشتہ اعمال ان کی نظر میں پست، حقیر اور احمقانہ ہوجائیں اور اس کے بعد وہ اپنے وجود گی گہرائیوں کے نہاں خانے سے کینہ، قساوت، انتقام جوئی، قبائلی تعصبّات وغیرہ کی سیاہ غلاظت کو نکال باہر پھینکیں اور یہ ایسا کام ہے جو روپے پیسے اور دولت وثروت سے نہیں ہو سکتا بلکہ صرف حقیقی ایمان وتوحید کے ذریعے ہی سے ایسا ممکن ہے۔ اور آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: خدا عزیز وحکیم ہے (إِنَّہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔ اس کی عزت کا تقاضا ہے کہ کوئی اس کے سامنے ٹھہرنے کی تاب نہیں رکھتا اور اس کی حکمت سبب بنتی ہے کہ اس کے تمام کام حساب وکتاب کے تابع ہوں، اسی لئے حساب شدہ پروگرام نے پراگندہ دلوں کو متحد کر دیا اور انھیں پیغمبرﷺ سے منسلک کر دیا تاکہ آپ ان کے ذریعے اسلام کا نورِ ہدایت پوری دنیا میں پھیلا دیں۔

دو توجہ طلب نکات

۱۔ آیت کا مفہوم عمومی ہے: بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کو صرف اوس وخزرج کے اختلافات کے خاتمے کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو انصار میں سے تھے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مہاجرین وانصار ایک ہی صف میں رسول الله ﷺکی نصرت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے۔ شاید انہوں نے سمجھا ہے کہ صرف اوس وخزرج کے درمیان قبائلی اختلاف تھا، حالانکہ اختلافات ہزار گنا تھے اور اجتماعی شگاف موجود تھے، امیر اور غریب کے درمیان اختلاف اور اِس قبیلے اور اُس قبیلے کے چھوٹے بڑے سردار کے درمیان اختلاف، یہ شگاف اسلام کے سائے میں پُر ہوئے اور ان کے آثار محو ہوئے۔ اس طرح سے قرآن ایک دوسری جگہ کہتا ہے: وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا خدا کی اس عظیم نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت ومحبت پیدا کی اور اس کی نعمت کے سائے میں تم ایک دوسرے کے بھائی ہو گئے۔ (آل عمران/۱۰۳) ۲۔ یہ قانون دائمی ہے: یہ قانون صرف پہلے کے مسلمانوں کے ساتھ مربوط نہیں تھا۔ آج بھی جب کہ اسلام اسی کروڑ مسلمانوں پر سایہ فگن ہے اور وہ مختلف نسلوں اور قوموں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں، کوئی حلقہ اتصال انھیں متحد نہیں کر سکتا سوائے ایمان وتوحید کے حلقے کے۔ مال وثروت، مادی تشویق، سیمینار، کانفرنسیں تنہا کوئی کام نہیں کر سکتیں، وہ شعلہ دل میں بھڑکنا چاہیے جو پہلے مسلمانوں کے دل میں تھا، نصرت وکامیابی بھی صرف اسی اسلامی اخوت کی راہ سے ممکن ہے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں رسول اللهﷺ کی پاک ہمّت اور جذبے کی تقویت کے لئے ان کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ”اے پیغمبر! خدا اور یہ مومنین کہ جنھوں نے تمھاری پیروی کی ہے، تمھاری حمایت کے لئے کافی ہیں“ اور ان کی مدد سے تم اپنے مقصد کو پالوگے (یَااَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللهُ وَمَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ)۔ بعض مفسّرین نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودی قبائل نے رسول اللهﷺ سے کہا کہ ہم آپ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو اور آپ کی پیروی کرنے کو تیار ہیں (اور ہم آپ کی مدد بھی کریں گے)۔ اس آیت نے آپ کو متنبہ کیا کہ ان پر اعتماد اور بھروسہ نہ کیجئے بلکہ صرف خدا اور مومنین کا اپنا سہارا قرار دیجئے۔ (بحوالہ: تفسیر تبیان، ج۵، ص۱۵۲)۔ حافظ ابو نعیم جو مشہور علماء اہل سنّت میں سے ہیں کتاب ”فضائل الصحابہ“ میں اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ہوئی اور لفظ مومنین سے مراد حضرت علی(علیه السلام) ہیں۔(بحوالہ: الغدیر، ج۲، ص۵۱)۔ ہم نے بارہا کہاہے کہ ایسی تفاسیر اور شانِ نزول آیت کو منحصر اور محدود نہیں کرتیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حضرت علی(علیه السلام) جیسی شخصیت کہ جو صف اوّل مومنین میں ہیں، مسلمانوں کے درمیان پیغمبر خداﷺ کا پہلا سہارا ہیں۔ اگرچہ دوسرے مومنین بھی رسول اللهﷺکے یارو مددگار ہیں۔

65
8:65
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ حَرِّضِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَى ٱلۡقِتَالِۚ إِن يَكُن مِّنكُمۡ عِشۡرُونَ صَٰبِرُونَ يَغۡلِبُواْ مِاْئَتَيۡنِۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّاْئَةٞ يَغۡلِبُوٓاْ أَلۡفٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَفۡقَهُونَ
اے پیغمبر ! مومنین کو (دشمن سے) جنگ کرنے کی تحریک کیجئے اگر تم میں سے صبر واستقامت کرنے والے بیس افراد ہوں تو وہ دو سو افراد پر غالب آ جائیں گے اور اگر سو افراد ہوں تو کافروں میں سے ایک ہزار افراد پرکامیابی حاصل کریں گے کیونکہ وہ ایسی قوم ہیں جو سمجھتے نہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
8:66
ٱلۡـَٰٔنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمۡ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمۡ ضَعۡفٗاۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّاْئَةٞ صَابِرَةٞ يَغۡلِبُواْ مِاْئَتَيۡنِۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمۡ أَلۡفٞ يَغۡلِبُوٓاْ أَلۡفَيۡنِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
اب اس وقت خدا نے تمہیں تخفیف دی ہے اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری ہے اس بناء پر جب تم میں سے سو افراد صابر (بااستقامت) ہوں تو دو سو افراد پر کامیاب ہوں گے اور اگر ایک ہزار ہوں تو حکم خدا سے دو ہزار پر غالب آئیں گے اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

جنگی طاقت میں اضاے کا اصل مقصد

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس حکم کے بعد قرآن اس موضوع کے منطقی اور انسانی ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے کہ اصل دنیا کو یا اپنی قوم کو طرح طرح کے تباہ کن اور ویران گر ہتھیاروں سے تباہ وبرباد کر دو اور آبادیوں اور زمینوں کو ویران کردو۔ مقصد یہ نہیں کہ دوسروں کی زمینوں اور مال واسباب کو لوٹو اور یہ بھی مقصد نہیں کہ دنیا میں غلامی اور استعمار کے اصول رائج کر دو بلکہ مقصد یہ ہے کہ ”ان وسائل کے ذریعے خدا کے اور اپنے دشمن کو ڈراوٴ“ (تُرْھِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ)۔ کیونکہ زیادہ تر دشمن ایسے ہیں کہ جن کے کان منطقی حرف اور انسانی اصول نہیں سنتے وہ قوت وطاقت کی زبان کے سوا دوسری کوئی زبان نہیں سمجھتے۔ اگر مسلمان کمزور ہوں تو تمام تر بوجھ انہی پر ڈالے جائیں گے لیکن اور وہ کافی مقدار میں قوت وطاقت حاصل کر لیں تو پھر حق وعدالت اور استقلال وآزادی کے دشمن پریشان ہو جائیں گے اور اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے۔ اس وقت جب کہ میں اس آیت کی تفسیر لکھ رہا ہوں، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کے اہم حصّے اسرائیل فوجوں کے زیرِ تسلط آ چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں جو بزدلانہ حملہ ہوا ہے اس سے ہزارہا خاندان دربدر ہو گئے ہیں، سینکڑوں قتل ہوئے، آبادیاں وحشتناک ویرانوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اس سے اس غم انگیز داستان میں نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے عام لوگوں کے افکار نے اس پورے عمل کی مذمت کی ہے یہاں تک کہ اسرائیل کے دوست نے بھی دوسروں ہی کی آواز میں آواز ملائی ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے اسرائیل کو یہ سب زمینیں خالی کرنے کا حکم دیا ہے لیکن چند ملین پر مشتمل اس قوم کے کان ان میں سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ اُن کے پاس طاقت وقوت ہے، اسلحہ ہے، بڑے پیمانے پر جنگی تیاری ہے اور طاقتور حامی ہیں، اس جارحیت کے لئے انہوں نے سالہا سال سے تیاری کی ہوئی ہے، وہ واحد منطق جس کے ذریعے انھیں جواب دیا جاسکتا ہے، یہی ہے۔ ”وَاَعِدُّوا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ -----تُرْھِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ “ یوں لگتا ہے جیسے یہ آیت ہمارے زمانے میں اور ہماری آج کی کیفیت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ اس طرح طاقتور بنو کہ دشمن وحشت اور حیرت میں پڑ جائے اور غصب شدہ زمینوں کو واپس کر دے اور اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جائے۔ یہ جاذبِ توجہ ہے کہ لفظ ”عَدُوَّ اللهِ “ کو ”عَدُوَّ کُم“سے ملاکر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاد اسلامی دفاع میں شخصی اغراض کو کوئی دخل نہیں بلکہ مقصد اسلام کے مکتبِ انسانی کی حفاظت ہے، وہ کہ جن کی تم سے دشمنی خدا سے دشمنی کی شکل میں ہے یعنی جو حق وعدالت، ایمان وتوحید، انسانی پروگراموں سے دشمنی رکھتے ہوں وہ تمھارے حملوں اور تمھاری دفاعی تیاریوں کا ہدف ہوں۔ درحقیقت، یہ تعبیر ”فی سبیل الله “یا ”جھاد فی سبیل الله“ کی تعبیر سے مشابہ ہے جو نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی جہاد اور دفاع نہ تو گذشتہ سلاطین کی کشور کشائی کی مانند ہے اور نہ آج کی سامراجی اور استعماری طاقتوں کی توسیع طلبی کی طرح بلکہ سب کچھ خدا کے لئے، خدا کی راہ میں اور حق وعدالت کے احیاء کے راستے میں ہے۔ پھر مزید فرمایا گیا ہے: ان دشمنوں کے علاوہ جنھیں تم پہچانتے ہو تمھارے اور دشمن بھی ہیں جنھیں تم نہیں پہچانتے اور وہ تمھاری زیادہ جنگی تیاری سے ڈر جائیں گے اور اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے (وَآخَرِینَ مِنْ دُونِھِمْ لَاتَعْلَمُونَھُمْ)۔

برابر کی قوت کے انتظار میں نہ رہو

ان دو آیات میں بھی اسلامی جہاد کے متعلق اور فوجی احکام کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ پہلی آیت میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے کہ: اے پیغمبرﷺ! مسلمانوں کو دشمن سے جہاد کرنے کی ترغیب دیجئے اور تحریک کیجئے (یَااَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الْقِتَالِ)۔ فوجی سپاہی جس قدر بھی تیار ہوں، پھر بھی جنگ شروع ہونے سے پہلے ان کی روحانی تقویت درکار ہوتی ہے۔ یعنی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ چیز ساری دنیا کی آگاہ اور تربیت یافتہ فوجوں میں بھی ہوتی ہے کہ کمانڈر اور فوج کے افسر میدانِ جنگ کی طرف جانے سے پہلے یا میدانِ جنگ میں حملہ شروع کرنے سے پہلے مناسب مطالب کے ذکر سے ان کے جنگی جذبے کو ابھارتے ہیں اور شکست کے خطرے سے ڈراتے ہیں۔ البتہ مادی اور ان جیسے مکاتب فکر میں تشویق وترغیب کا دامن محدو ہوتا ہے لیکن آسمانی مکاتب ومذاہب میں بہت ہی زیادہ وسیع ہے، فرمان الٰہی کی طرف توجہ، خدا پر ایمان کی تاثیر اور شہدائے راہِ حق کے مقام کی یاد اور فضیلت وبے احساب ثواب جو ان کے انتظار میں ہے نیز معنوی افتخار واعزاز اور احسانات وعنایات جو میدان جنگ میں دشمن پر کامیابی میں موجود ہیں، غازیوں میں بہادری استقامت اور پامردی کی روح پھونکنے کا بہترین ذریعہ ہیں، اسلامی جنگوں میں بعض اوقات قرآن مجید کی چند آیات کی تلاوت مجاہدینِ اسلام کو اس طرح سے آمادہ کردیتی تھیں کہ وہ برق آسا ہوجاتے اور عشق وجنون اور جذبے کی کامل تصویر بن جاتے۔ بہرحال، آیت کا یہ حصّہ جہاد کی زیادہ سے زیادہ تبلیغ اور مجاہدین کے جذبہ کی تقویت کی اہمیت کو ایک اسلامی حکم کے طور پر واضح کرتا ہے۔ اس کے بعد آیت ایک دوسرا حکم دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر تم میں سے بیس افراد صاحبِ استقامت ہوں تو وہ دو سو افراد پر غلبہ حاصل کر لیں گے اور اگر تم میں سے سو افراد ہوں تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے (إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ یَغْلِبُوا اَلْفًا مِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا)۔ آیت اگرچہ ایک شخص کے دس افراد پر غالب آنے کے متعلق خبر کی صورت میں ہے لیکن بعد والی آیت کہتی ہے: ”الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنکُمْ “ اب سے تم پر اس ذمہ داری میں تخفیف کر دی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد فرض اور حکم کا تعین ہے نہ کہ صرف ایک عام سی خبر ہے۔ لہٰذا مسلمان اس بات کے منتظر نہ رہیں کہ فوج کی تعداد دشمن کی فوج کے مساوی ہوجائے بلکہ یہاں تک کہ ان کی تعداد اگر دشمن کا دسواں حصّہ ہو تو بھی جہاد ان پر فرض ہے۔ اس کے بعد اس حکم کی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ اس بناء پر ہے کہ تمھارے بے ایمان دشمن ایسے ہیں جو سمجھتے ہی نہیں (بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَایَفْقَھُونَ)۔ یہ تاویل ابتداء میں عجیب وغریب نظر آتی ہے کہ علم وآگاہی اور کامیابی کے درمیان یا عدم آگہی اور شکست کے درمیان کیا ربط ہے؟ لیکن فی الحقیقت ان دونوں کے درمیان بہت ہی نزدیکی اور مستحکم رابطہ ہے کیونکہ مومنین اپنے راستے کو اچھی طرح پہچانتے ہیں، اپنی خلقت کے ہدف کا ادراک رکھتے ہیں اور اس جہان میں جہاد کے مثبت نتائج اور دوسرے جہان میں جو زیادہ ثواب مجاہدین کے انتظار میں ہے، اس سے باخبر ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کس لئے لڑرہے ہیں اور کس لئے برسرِپیکار ہیں اور کس مقدس مقصد کے لئے فداکاری کر رہے ہیں اور اگر اس راہ میں قربان اور شہید ہوجائیں تو ان کا حساب کتاب کس کے ہاتھ میں ہے؟ یہ واضح راستہ اور یہ آگاہی انھیں صبرو استقامت اور پامردی سکھاتی ہے، لیکن بے ایمان اور بت پرست ٹھیک طور پر نہیں جانتے کہ وہ کس لئے جنگ کررہے ہیں اور کس کے لئے لڑرہے ہیں اور اگر اس راہ میں مارے جائیں تو ان کے خون کی تلافی کون کرے گا؟ صرف ایک عادت اور اندھی تقلید یا خشک اور بے منطق تعصب کی وجہ سے اس مکتب کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ راستے کی یہ تاریکی، ہدف سے ناآگاہی اور جنگ کے انجام اور نتیجے سے بے خبری اُن کے اعصاب کو کمزور کردیتی ہے، ان کے توانائی اور استقامت کو لے جاتی ہے اور ان کا کمزورسا وجود رہ جاتا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا سنگین حکم کے بعد خداتعالیٰ کئی درجے تخفیف دیتا ہے اور کہتا ہے: اسی وقت خدا نے تمہیں تخفیف دی اور اس نے جانا کہ تمھارے درمیان کمزور اور سُست افراد موجود ہیں (الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا)۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ ان حالات میں اگر تم میں سے سو صبر واستقامت والے مجاہد ہوں تو وہ دو سو افراد پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار آدمی ہوں تو دو ہزار پر حکمِ خدا سے کامیاب ہوں گے (فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ اَلْفٌ یَغْلِبُوا اَلْفَیْنِ بِإِذْنِ اللهِ)۔ لیکن یہ بات کسی حالت میں فراموش نہ کریں کہ ”خدا صابرین کے ساتھ ہے (وَاللهُ مَعَ الصَّابِرِینَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ کیا پہلی آیت منسوخ ہوچکی ہے؟ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ پہلی آیت مسلمانوں کو حکم دے رہی ہے کہ اگر دشمن کا لشکر دس گنا بھی زیادہ ہو تو ان کے مقابلے منھ نہ پھیریں جب کہ دوسری آیت میں یہ نسبت گھٹا کر دو گنا کر دی گئی ہے۔ یہ ظاہری اختلاف کے سبب بنا کہ مفسّرین نے پہلی آیت کے حکم کو دوسری آیت کے حکم سے منسوخ سمجھا یا پہلی کو مستحب حکم اور دوسری کو واجب حکم قرار دیا یعنی اگر دشمنوں کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دو گنی ہو تو مسلمان پر فرض ہے کہ میدانِ جنگ سے پیچھے نہ ہٹیں اور اگر دشمن اس سے زیادہ ہوں یہاں تک کہ دس گنا ہوں تو پھر جہاد سے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں اور بچ سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ پھر بھی جہاد سے دستبردار نہ ہوں۔ لیکن بعض مفسّرین کا نظریہ ہے کہ ظاہری اختلاف جو آیات کے درمیان نظر آرہا ہے، نسخ کی دلیل ہے نہ استحباب کی بلکہ ان دو احکام میں سے ہر ایک کا مقام الگ الگ ہے۔ جب مسلمان ضعیف وکمزور ہوں اور ان میں نئے، ناتجربہ کار اور غیر آزمودہ افراد ہوں کہ جن کی ابھی صحیح تربیت اور اصلاح نہیں ہوئی تو پھر مقیاس کا معیار دو گنا ہے لیکن اگر تربیت یافتہ، تجربہ کار اور قوی ایمان والے افراد مجاہدین بدر کے سے موجود ہوں تو پھر یہ نسبت دس گنا تک جا پہنچتی ہے۔ اس بناء پر یہ دونوں حکم جو دو الگ آیات میں مذکورہ ہیں، دو مختلف گروہوں سے متعلق ہیں اور ان کا مختلف حالات سے تعلق ہے، اس لئے یہاں نسخ والی کوئی بات نہیں اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں نسخ کی تعبیر موجود ہے تو ہمیں توجہ رکھنا چاہیے کہ لفظ ”نسخ“ روایات کی زبان میں ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں ”تخصیص“ بھی شامل ہے۔ ۲۔ قوتوں کے موازنہ کی داستان: مندرجہ بالا آیات بہرحال اس مسلّم حکم کی حامل ہیں کہ مسلمان کبھی دشمن سے ظاہری قوتوں کی برابری کے انتظار میں نہ رہیں بلکہ کبھی اپنے سے دو گنا اور کبھی دس گناہ دشمن کے مقابلے میں بھی اٹھ کھڑے ہوں اور تعداد کی کمی کے بہانے دشمن کے مقابلے سے فرار اختیار نہ کریں۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ بہت سی اسلامی جنگوں میں قوتوں کا توازن دشمن کے مفاد میں نظر آتا ہے۔ مسلمان عموماً کم تعداد میں ہوتے تھے۔ جنگیں جو رسول اللهﷺکے زمانے میں ہوئیں مثلاً بدر، اور احزاب وغیرہ کی جنگیں بلکہ جنگِ موتہ میں تو مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی اور دشمن کے لشکر کی جو کم از کم تعداد لکھی گئی، وہ ڈیڑھ لاکھ تھی۔ یہ صورت صرف رسول اللهﷺ کے دور ہی نہ تھی بلکہ وہ جنگیں جوآپ کے بعد پیش آئیں، یہ فرق حیرت انگیز صورت میں موجود تھا۔ مثلاً ساسانی فوج سے جنگ کے موقع پر اسلام کی آزادی بخش لشکر کی تعداد پچاس ہزار تھی جبکہ خسروپرویز کے لشکر کی تعداد پانچ لاکھ تھی ۔ جنگ یرموک جوکہ لشکرِ اسلام کی رومی فوج کے خلاف بہت بڑی جنگ تھی، کے بارے میں موٴرخین نے نقل کیا ہے کہ ہرقل کا لشکر تقریباً دولاکھ افراد پر مشتمل تھا لسکن مسلمان فوج کی تعداد چوبیس ہزار سے زیادہ نہ تھی اور زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ لکھا ہے کہ دشمن کے جو لوگ اس جنگ میں ہلاک ہوئے، وہ ستر ہزار افراد سے زیادہ تھے۔ اس میں شک نہیں کہ ظاہری موازنہ اور قوتوں کی برتری کامیابی کے عوامل میں سے ایک ہے لیکن پھر کونسی چیز سبب بنتی تھی کہ اتنا عظیم فرق جو صاف نظر آتا تھا، اس کے باوجود مسلمان کامیاب رہتے؟ اس اہم سوال کا جواب قرآن نے ان آیات میں تین تعبیروں میں دیا ہے۔ ایک جگہ فرمایا گیا ہے ”عشرون صابرون“ یعنی بیس صاحبِ استقامت اور صبر کرنے والے اور ”مائة صابرة“ایک سو با استقامت یعنی استقامت اور پامردی جو شجر ایمان کا ثمر ہے، اس بات کا سبب بنتی ہے کہ ایک آدمی دس افراد کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے، ڈٹا رہے اور کامیابی حاصل کرے۔ دوسری جگہ قرآن کہتا ہے: ”بانّھم لایفقھون“ یعنی اپنے ہدف سے ا ن کی عدم آگہی اور تمھارا اپنے مقدس مقصد سے باخبر ہونا تعداد کی کمی کو تلافی کر دیتا ہے۔ ایک اور جگہ پر ہے: ”اذن اللّٰہ“ یعنی خدائی امداد ، غیبی اور معنوی نصرتیں اور الله کا لطف ورحمت ان صاحبِ ایمان اور بااستقامت لوگوں کے شامل حال ہیں۔ آج بھی مسلمان طاقتور دشمنوں کے مقابلے میں کھڑے ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت سے جنگی میدانوں میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں سے کہیں زیادہ ہے لیکن پھر بھی کامیابی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور آج کے مسلمانوں کی حالت پہلے زمانے کے مسلمانوں سے یکسر برعکس ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ اس بناپر ہے کہ مسلمانوں میں آج کافی آگاہی اور علم نہیں ہے۔ فساد اور مادی زرق برق کے عوامل کے مقابلے میں وہ صبر و استقامت کی روح گنوا بیٹھے ہیں۔ گناہ آلودہ ہونے کی وجہ سے خدائی حمایت بھی ان سے سلب ہو چکی ہے۔ نتیجتاً وہ اس انجام کو پہنچ گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی لوٹ آنے کا راستہ کھلا ہے اور ہمیں توقع اور انتظار ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ مندرجہ بالا آیات کا مفہوم ایک دفعہ پھر مسلمانوں میں زندہ ہو اور وہ اپنی موجودہ ذلّت بار کیفیت سے نکل آئیں۔ ۳۔ دو آیتوں میں مثال کا فرق: یہ بات توجہ طلب ہے کہ پہلی آیت کہ جس میں گفتگو ایک اور دس کی نسبت کے بارے میں ہے مثال کے لئے ”عشرون“ یعنی بیس اور ”ماٴتین“ یعنی دو سو کے الفظ استعمال ہوئے ہیں لیکن دوسری آیت میں جہاں دوگنا کی نسبت بیان ہوئی ہے، مثال کے لئے ایک سو افراد دو سو کے مقابلے میں اور ایک ہزار کا دستہ دو ہزار کے مقابلے میں کہا گیا ہے۔ مثال کا یہ فرق گویا اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ قوی ارادے والے اہلِ ایمان بیس افراد کا بھی ایک لشکر بنا سکتے ہیں لیکن کمزور افراد اتنی کم تعداد کا لشکر مہیّا نہیں کر سکتے بلکہ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ افراد سے لشکر بنانے کی ضرورت پڑے گی۔

67
8:67
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسۡرَىٰ حَتَّىٰ يُثۡخِنَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنۡيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
کوئی پیغمبر یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ (دشمنوں کے افراد کو) قیدی بنائے تاکہ ان پر کامیابی حاصل کرے (اور زمین پر مستحکم قدم جمالے) تم لوگ تونا پائیدار دنیا کی متاع چاہتے ہو لیکن خدا تمہارے لئے آخرت چاہتا ہے اور خدا قادر و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
8:68
لَّوۡلَا كِتَٰبٞ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمۡ فِيمَآ أَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
اگر پہلے سے خدا کا حکم نہ ہوتا (کہ تبلیغ کے بغیر کسی امت کو سزا نہ دے) تو (اسیر بنانے کا) جو کام تم نے کیا اس پر تمہیں بہت بڑی سزا دیتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
8:69
فَكُلُواْ مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلَٰلٗا طَيِّبٗاۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اب جو کچھ مال غنیمت تم لے چکے ہو اس میں سے حلال و پاکیزہ کھا لو اور خدا (کی معصیت) سے ڈرو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
8:70
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّمَن فِيٓ أَيۡدِيكُم مِّنَ ٱلۡأَسۡرَىٰٓ إِن يَعۡلَمِ ٱللَّهُ فِي قُلُوبِكُمۡ خَيۡرٗا يُؤۡتِكُمۡ خَيۡرٗا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اے نبی ! تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں کوئی اچھائی دیکھے گا (اور تمہاری نیتیں نیک اور پاکیزہ ہوں ) تو جو کچھ تم سے لیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
8:71
وَإِن يُرِيدُواْ خِيَانَتَكَ فَقَدۡ خَانُواْ ٱللَّهَ مِن قَبۡلُ فَأَمۡكَنَ مِنۡهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہیں (تو یہ کوئی نئی بات نہیں ) انہوں نے اس سے پہلے (بھی) خدا سے خیانت کی ہے اور خدا نے تمہیں ان پر کامیابی دی اور خداد اناو حکیم ہے۔

جنگی قیدی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گزشتہ آیات میں جہاد اور دشمن سے جنگ کرنے کے متعلق احکام کے اہم حصّے بیان ہوئے ہیں۔ اب زیرِ بحث آیات میں جنگی قیدیوں کے بارے میں کچھ احکام ذکر کر کے اس جاری بحث کی تکمیل کی گئی ہے، کیونکہ جنگوں میں عموماً قیدیوں اور اسیروں کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ جنگی قیدیوں سے انسانی حوالوں سے سلوک اور اسی طرح مقاصدِ جہاد بہت اہم موضوعات ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے، اس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: کوئی نبی یہ حق نہیں رکھتا کہ اس کے پاس جنگی قیدی ہوں تاکہ وہ زمین میں اپنے پاوٴں خوب مستحکم کر سکے اور دشمن کے پیکر پر کاری اور اطمینان بخش ضربیں لگا سکے (مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُونَ لَہُ اَسْریٰ حَتَّی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ)۔ ”یثخن“ ”ثخن“ (بروزن ”شکن“) کے مادہ سے ضخامت، سختی اور سنگینی کے معنی میں آیا ہے۔ بعد ازاں اسی مناسبت سے کامیابی، واضح غلبہ، قوت، قدرت اور شدّت کے مفہوم میں بولا جانے لگا۔ بعض مفسّرین نے ”حَتَّی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ“ کو دشمن کو قتل کرنے میں مبالغہ اور شدّت کے معنی میں لیا ہے اور کہا ہے کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ جنگی قیدی بنانے کا عمل، دشمن کے بہت سے افراد قتل کرنے کے بعد ہو لیکن ”فِی الْاَرْضِ“ (زمین میں) کو نظر میں رکھتے ہوئے اور اس لفظ کی اصل کا لحاظ رکھتے ہوئے کہ جو شدت وسختی کے معنی میں ہے، واضح ہو جاتا ہے کہ اس جملے کا حقیقی معنی یہ نہیں ہے بلکہ اس سے اصل مراد دشمن پر مکمل فوقیت حاصل کرنا، قوت وقدرت کا مظاہرہ کرنا اور اپنے تسلط کو مستحکم بنانا ہے، لیکن چونکہ بعض اوقات دشمن کی سرکوبی اور اُسے قتل وغارت کرنا مسلمانوں کے مقام کے استحکام کا سبب بنتا ہے لہٰذا اس جملے کا ایک مصداق خاص حالات میں دشمن کو قتل کرنا بھی ہو سکتا ہے نہ یہ کہ یہی اس جملے کا اصلی مفہوم ہے۔ بہرحال محلِ بحث آیت مسلمانوں کو ایک حساس جنگی نکتے کی طرف متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ مسلمان کبھی بھی دشمنوں کی مکمل شکست کے بغیر انھیں قیدی بنانے کی فکر میں نہ پڑیں کیونکہ جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے بعض نئے مسلمان میدانِ بدر میں اس کوشش میں تھے کہ جتنا ممکن ہو دشمنوں کو قید کیا جائے کیونکہ اس زمانے کی جنگوں کے رواج کے مطابق جنگ ختم ہونے پر ایک اہم رقم ”فدیہ“ یا ”خدا“ کے نام پر لے کر انہیں آزاد کر دیا جاتا تھا۔ ہو سکتا ہے یہ کام بعض مواقع پر اچھا شمار ہو لیکن دشمن کی شکست کے بارے میں مکمل اطمینان کرلینے سے پہلے یہ کام خطرناک ہے کیونکہ قیدیوں کو پکڑنے اور ان کے ہاتھ باندھنے میں مشغول ہونا اور انھیں کسی مناسب جگہ کی طرف منتقل کرنا بہت سے مواقع پر مجاہدین کو جنگ کے اصل مقصد سے باز رکھتا ہے اور بسا اوقات توزخم خوردہ دشمن کے لئے راہ ہموار کرتا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں شدت پیدا کرے اور مجاہدین کو شکست دے دے جیسا کہ جنگ اُحد کے واقعہ میں غنائم کی جمع آوری نے مسلمانوں کے ایک گروہ کو اپنی طرف مشغول رکھا اور دشمن نے موقع غنیمت پاکر ان پر کاری اور آخری ضرب لگائی۔ لہٰذا قیدی بنانا صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ جب دشمن پر کامیابی کے حصول کے بارے میں کامل اطمینان ہو ورنہ قاطع، تباہ کن اور پے درپے حملوں سے حملہ آور دشمن کی طاقت کو بیکار کیا جائے۔ لیکن اطمینان حاصل ہوجانے کے بعد انسانی ہدف ضروری قرار دیتا ہے کہ قتل کرنے سے ہاتھ اٹھا لیا جائے اور انھیں قید کرلینے پر اکتفا کیا جائے۔ یہ دونوں اہم فوجی اور انسانی نکات زیر نظر آیت کی مختصر سی عبارت میں بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد قرآن اس گروہ کو، جس نے اس حکم کے خلاف عمل کیا، موردِ ملامت قرار دیتے ہوئے کہتا ہے: تم صرف مادی امور کی فکر میں ہو اور دنیا کی ناپائیدار متاع چاہتے ہو حالانکہ خدا تمھارے لئے عالمِ جاوداں اور دائمی سعادت چاہتا ہے (تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللهُ یُرِیدُ الْآخِرَةَ)۔ ”عرض“ کا معنی ہے ”ناپائیدار امور“ اور چونکہ اس دنیا کے مادی سرمائے پائیدار نہیں ہیں لہٰذا انھیں ”عَرَضَ الدُّنْیَا“ کہا جاتا ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، جنگی قیدیوں کے مادی پہلووٴں کی طرف توجہ اور اصلی اہداف ومقاصد سے غفلت، یعنی دشمن پر کامیابی حاصل کرنا، نہ صرف سعادت اور اُخروی جزا پر ضرب لگاتی ہے بلکہ اس جہان کی زندگی، سربلندی، عزت اور آرام کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ حقیقت میں یہ اصلی مقاصد اس جہان کے پائیدار امور میں شمار ہوتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں وقتی اور جلدی گزر جانے والے منافع کے لئے آئندہ کے لئے دائمی منافع کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ حکم اصل میں عزت وکامیابی اور حکمت وتدبیر کاحامل ہے چونکہ یہ خدا کی طرف سے صادر ہوتا ہے۔اور خدا عزیز وحکیم ہے (وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔ اگلی آیت میں دوبارہ ان لوگوں کو سرزنش کرتے ہوئے، کہ جو وقتی اور مادی مفادات کے لئے اہم اجتماعی مصالح کو خطرے میں ڈالتے ہیں، فرمایا گیا ہے: اگر خدا کا فرمان سابق نہ ہوتا تو تمہیں ان قیدیوں کو قیدی بنانے پر بہت بڑی سزا اور عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ( لَوْلَاکِتَابٌ مِنْ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ)۔ ”لَوْلَاکِتَابٌ مِنْ اللهِ سَبَقَ“ کے بارے میں مفسّرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن جو چیزی پوری آیت کی تفسیر کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے،وہ یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہوتا کہ خدا نے پہلے سے مقرر کیا ہوا ہے کہ جب تک کوئی حکم وہ پیغمبر کے ذریعے اپنے بندوں سے بیان نہ کر دے، انہیں سزا نہیں دے گا، تمہیں اس بناء پر، کہ تم مادی منافع کے حصول کے لئے قیدی بنانے کے پیچھے لگ گئے اور لشکرِ اسلام کی حیثیت اور اس کی مکمل کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا، سخت سزا دیتا لیکن جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات میں تصریح ہوئی ہے کہ پروردگار کی سنت یہ ہے کہ وہ پہلے احکام بیان کرتا ہے پھر ان احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دیتا ہے مثلاً: وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل/۱۵)

چند قابلِ توجہ نکات ۱۔ ایک وضاحت

جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں مندرجہ بالا آیات کا ظہور جنگی قیدی بنانے کے بارے میں ہے نہ کہ جنگ کے بعد ”فدیہ“ لینے کے مسئلہ سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ اسی طرح سے بہت سے اعتراضات جو اس آیت کی تفسیر سمجھنے کے سلسلے میں کچھ مفسّرین کی نظر میں پیدا ہوئےہیں خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ نیز ملامت اور سرزنش بھی ان لوگوں کی گئی ہے جو مکمل کامیابی سے پہلے مادی اغراض کی وجہ سے قیدی بنانے میں مشغول ہو گئے تھے اور اس کا رسول اللهﷺ کی ذات اور مقاصدِ جہاد کی تکمیل میں مصروف مومنین سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا ایسی یحثیں کہ آیا پیغمبر اس موقع پر گناہ کے مرتکب ہوئے تھے اور وہ گناہ آپ کے مقامِ عصمت سے کیسے مناسبت رکھتا ہے، سب بے محل ہیں۔ اسی طرح وہ احادیث جو آیت کی تفسیر کے سلسلے میں اہلِ سنت کی بعض کتب(بحوالہ: تفسیر المنار، ج۱۰، ص۹۰؛ تفسیر المعانی، ج۱۰، ص۱۳۲ ؛اور تفسیر رازی، ج۱۵، ص۱۹۸) میں آئی ہیں جن میں ہے کہ آیت کا ربط رسول اللهﷺ اور مسلمانوں کی طرف سے خدا کی اجازت سے پہلے جنگ بدر کے بعد جنگی قیدیوں سے فدیہ لینے سے ہے، بے بنیاد ہیں، ان روایات میں ہے کہ وہ واحد شخص جو فدیہ لینے کے مخالف تھا اور جنگی قیدیوں کے قتل کا حامی تھا عمر یا سعد بن معاذ تھا اورپیغمبرﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ اگر خدا کی طرف سے عذاب نازل ہوتا تو کوئی شخص عمر یا سعد بن معاذ کے سوا اس سے نجات نہ پاتا، ایسی روایات کا آیت کی تفسیر سے قطعاً کوئی تعلق نہیں خصوصاً جبکہ ان روایات کا من گھڑت ہونا بالکل واضح ہے کیونکہ ان میں عمر یا سعد بن معاذ کا پیغمبر اکرمﷺ کےمقام سے بھی بالاتر قرار دیا گیا ہے۔

۲۔ جنگی قیدیوں سے فدیہ لینے کا مسئلہ

مندرجہ بالا آیت جنگی قیدیوں سے جب کہ اسلامی معاشرے کی مصلحت ضروری قرار دے، فدیہ لینے کے خلاف نہیں ہے بلکہ کہتی ہے کہ مجاہدین کو اس مقصد کے لئے قیدی بنانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھانا چاہیے۔ اس بناپر یہ آیت سورہٴ محمدﷺ کی آیت ۴ سے ہر لحاظ سے موافقت رکھتی ہیں جہاں فرمایا گیا ہے: اِذا لَقِیتُمْ الَّذِینَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّی إِذَا اَثْخَنتُمُوھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً جس وقت کافروں (اور ان دشمنوں سے جو تمھارے لئے زندہ رہنے کے حق قائل نہیں ہیں) سے میدان جنگ میں آمنا سامنا ہو تو ان کی گردنوں پرضربیں لگاوٴ، یہاں تک کہ غلبہ حاصل کر لو۔ پھر اس وقت انھیں قتل نہ کرو۔ انہیں باندھ لو، قیدی بنا لو۔ اس کے بعد انھیں فدیہ لے کر یا بغیر فدیہ لئے آزاد کر دو۔ لیکن یہاں ایک نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر جنگی قیدیوں میں خطرناک قسم کے افراد موجود ہوں کہ جن کی آزادی دوبارہ جنگ کی آگ بھڑک اٹھنے اور مسلمانوں کی کامیابی کے خطرے میں پڑ جانے کا سبب ہو تو پھر مسلمان حق رکھتے ہیں کہ ایسے افراد کو ختم کر دیں، اس امر کی دلیل خود آیت میں ”یثخن“ اور ”اَثْخَنتُمُوھُمْ “ میں چھپی ہوئی ہے۔ اسی بنا پر چند ایک روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ جنگ بدر کے قیدیوں میں سے دو افراد عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کر دیا جائے اور ان سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہ کیا جائے۔(بحوالہ: تفسیرنور الثقلین، ج۲، ص۱۳۵)۔

۳۔ نظریہ جبر کی نفی

مندرجہ بالا آیات میں دوبارہ انسان کے ارادے کی آزادی کے مسئلہ اور نظریۂ جبر کی نفی پر تاکید نظر آتی ہے کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ خدا تمہارے لئے ہمیشہ کا گھر چاہتا ہے حالانکہ تم میں سے ایک گروہ وقتی مادی مفادات کی قید میں پھنسا ہوا ہے۔ بعد والی آیت میں جنگی قیدیوں سے متعلق ایک اور مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے فدیہ لینے کا مسئلہ۔ جیسا کہ بعض روایات میں جو زیرِ بحث آیات کی شان نزول کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ان میں ہے کہ جنگ بدر کے خاتمے پر جب جنگی قیدی بنالئے گئے اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے یہ حکم دیا کہ قیدیوں میں سے دو خطرناک افراد عقبہ اور نضر کو قتل کر دیا جائے تو اس پر انصار گھبرا گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حکم تمام قیدیوں کے متعلق جاری ہو جائے (اور وہ فدیہ لینے سے محروم ہو جائیں) لہٰذا انہوں نے رسول اللهﷺ کی خدمت میں عرض کیا: ہم نے ستر آدمیوں کو قتل کیا ہے اور ستر ہی کو قیدی بنایا ہے اور یہ آپ کے قبیلے میں سے آپ ہی کے قیدی ہیں۔ یہ ہمیں بخش دیجئے تاکہ ہم ان کی آزادی کے بدلے فدیہ لے سکیں۔ (رسول اللهﷺ اس کے لئے وحی آسمانی کے منتظر تھے) اس موقع پر زیر بحث آیات نازل ہوئیں اور قیدیوں کی آزادی کے بدلے میں فدیہ لینے کی اجازت دی گئی۔( بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۲، ۱۳۶ بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ رسول اللهﷺ کا داماد ابوالعاص (ظاہری طور پرجناب خدیجہ(ص) کی بہن کی بیٹی جو رسول اللهﷺ کی لے پالک تھیں، کا شوہر) بھی ان قدیوں میں تھا، رسول کی بیٹی (لے پالک بیٹی مراد ہے۔ (مترجم)) یعنی زینب جو ابوالعاص کی بیوی تھیں، نے جو گلوبند جناب خدیجہ(س) نے ان کی شادی کے وقت انھیں دیا تھا، فدیہ کے طور پر رسول اللهﷺ کے پاس بھیجا، جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ آلہ وسلّم کی نگاہ گلوبند پر پڑی تو جناب خدیجہ(ص) جیسی فداکار اور مجاہدہ خاتون کی یادیں ان کی آنکھوں کےسامنے مجسم ہو گئیں، آپ نے فرمایا: خدا کی رحمت ہو خدیجہ پر، یہ وہ گلوبند ہے جو اس نے میری بیٹی زینب کو جہیز میں دیا تھا(اور بعض دوسری روایات کے مطابق جناب خدیجہ(ص)کے احترام میں آپ نے گلوبند قبول کرنے سے احتراز کیا اور حقوقِ مسلمین کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس معاملے میں ان کی موافقت حاصل کی۔( تشریحی نوٹ: جیسا کہ کامل بن اثیر جلد۲،ص۱۳۴ پر ہے۔ ”فلما راٴھا رسول الله (ص) رق لھا رقة شدیدة وقال ان راٴیتم ان تطلقوا لھا اٴسیرھا، وتردوا علیھا الذی لھا فافعلوا، فاطلقوا لھا اسیرھا وردّوا القلادة)۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم نے ابوالعاص کو اس شرط پر آزاد کر دیا کہ وہ زینب کو (جو اسلام سے پہلے ابوالعاص کی زوجیت میں تھیں) مدینہ میں پیغمبرﷺ کے پاس بھیج دے۔ اس نے بھی اس شرط کو قبول کر لیا اور بعد میں اسے پورا بھی کیا۔( بحوالہ: تفسیر المیزان، ج۹، ص۱۴۱) بہرحال مندرجہ بالا آیت مسلمانوں کے یہ اجازت دیتی ہے وہ اس جنگی غنیمت (یعنی وہ رقم جو وہ قیدیوں سے رہائی کے بدلے لیتے تھے) سے استفادہ کریں اور ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ تم نے غنیمت میں لیا ہے اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھالو اور اس سے فائدہ اٹھاوٴ (فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا) ۔ ممکن ہے اس جملے کا یہ ایک وسیع معنی ہو اور یہ فدیے کے علاوہ دیگر غنائم کے بارے میں بھی ہو۔ اس کے بعد انھیں حکم دیا گیا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور فرمانِ خدا کی مخالفت سے پر ہیز کرو (وَاتَّقُوا اللهَ)۔ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایسے غنائم کا مباح ہونا اس بات کا سبب نہیں بننا چاہیے کہ مجاہدین کا ہدف جہاد کے میدان میں ہدف، مالِ غنیمت جمع کرنا یا فدیہ حاصل کرنا ہو جائے اور اگر پہلے ان کے دل میں ایسے پست خیالات تھے تو انھیں دل سے نکال دیں۔ نیز اس سلسلے میں جو کچھ ہو چکا ہے، اس کے عفو بخشش کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا غفور ورحیم ہے (إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔

کیا فدیہ لینا ایک منطقی اور عادلانہ کام ہے؟

یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیدیوں کو آزاد کرنے کے بدلے فدیہ لینا اصولِ عدالت سے کس طرح مطابقت رکھتا ہے اور کیا ایسا کام انسان فروشی کے مترادف نہیں؟ لیکن تھوڑے سے غور وفکر سے واضح ہو جاتا ہے کہ فدیہ حقیقت میں ایک قسم کا تاوانِ جنگ ہے کیونکہ ہر جنگ میں بہت سا اقتصادی سرمایہ اور انسانی قوتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ حق کے لئے جنگ کرنے والے لوگ یہ حق بھی رکھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد دشمن سے اپنے جنگی خسارے کی تلافی کروائیں اور اس کا ایک طریقہ یہ فدیہ لینا بھی ہے۔ نیز اس طرف توجہ کی جائے کہ ان دنوں مالدار قیدیوں کے لئے فدیہ کی رقم چار ہزار درہم اور باقیوں کے لئے ایک ہزار درہم مقرر ہوئی تھی، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح سے قریش سے جو کل مال حاصل کیا گیا وہ کوئی اتنا زیادہ نہیں تھا کہ ان کا مالی اور جانی نقصانات کی تلافی کر سکتا جو اسلامی لشکر کو اٹھانا پڑا تھا۔ علاوہ ازیں جب مسلمان قریش کے دباوٴ سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کر آئے تھے تو ان کا بہت سا مال مکہ میں دشمنوں کے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا، اس لحاظ سے بھی مسلمانوں کو حق پہنچتا تھا کہ وہ ان اموال کی تلافی کریں۔ اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ فدیہ لینا کوئی لازمی بھی نہیں اور اسلامی امت اگر مصلحت سمجھے تو جنگی قیدیوں کا تبادلہ کر سکتی ہے یا کوئی چیز لئے بغیر ہی آزاد کر سکتی ہے جیسا کہ سورہٴ محمد کی آیت ۴ میں اس طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس کی تفسیر انشاء الله آئے گی۔ ایک اور اہم مسئلہ جنگی قیدیوں کے حوالے سے، ان کی اصلاح، تربیت اور ہدایت ہے، ہو سکتا ہے یہ امر مادی مکاتب میں پیش نہ آتا ہو لیکن وہ جہاد کہ جو انسانوں کی آزادی، اصلاح اور حق وعدالت کے رواج دینے کے لئے ہو حتمی طور پر اسے اہمیت دیتا ہے۔ اسی لئے زیر نظر چوتھی آیت میں رسول اللهﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ قیدیوں کو دل خوش کن بیان کے ذریعے ایمان اور اصلاحِ احوال کی دعوت دیں اور انھیں شوق دلائیں۔ ارشاد ہوتا ہے: اے پیغمبرﷺ! ان قیدیوں کو جو تمھارے ہاتھ میں ہیں، کہہ دو! اگر خدا تمھارے دلوں میں خیر ونیکی جان لے تو تمہیں اس سے بہتر عطا کرے جو تم سے لیا ہے (یَااَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی اَیْدِیکُمْ مِنَ الْاَسْریٰ إِنْ یَعْلَمْ اللهُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا یُؤْتِکُمْ خَیْرًا مِمَّا اُخِذَ مِنْکُمْ)۔ ”إِنْ یَعْلَمْ اللهُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا“ میں ”خَیْرًا“ سے مراد وہی ایمان اور اسلام قبول کرنا ہے اور بعد میں آنے والے لفظ ”خَیْرًا“ سے مراد مادی اور معنوی جزا اور احسان کے علاوہ اس نے تمھارے لئے ایک اور لطف وکرم کیا ہے اور گناہ کہ جن کے تم اسلام قبول کرنے سے پہلے گذشتہ زمانے میں مرتکب ہوئے تھے انھیں بخش دے گا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے (وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ اور چونکہ یہ ممکن تھا کہ قیدی اس پروگرام سے غلط فائدہ اٹھائیں اور خیانت اور انتقام کے ارادہ سے اظہارِ اسلام کرتے ہوئے مسلمانوں کی صفوں میں گھس آئیں لہٰذا اگلی آیت میں قرآن انہیں بھی خطرے سے خبردار کرتا ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ کرتا ہے اور کہتا ہے: اگر وہ چاہیں کہ تجھ سے خیانت کریں تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی خدا سے خیانت کی ہے ( وَإِنْ یُرِیدُوا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ)۔ اس سے بالاتر خیانت کیا ہو گی کہ انہوں نے ندائے فطرت کو سنا اَن سنا کر دیا، حکم عقل کو پسِ پشت ڈال دیا، خدا کے لئے شریک و شبیہ کے قائل ہوئے اور بت پرستی کے بے ہودہ مذہب کو انہوں نے توحید پرستی کا جانشین قرار دے لیا لیکن انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ”خدا نے تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ان پر فتح وکامیابی بخشی“ (فَاَمْکَنَ مِنْھُمْ)۔آئندہ بھی اگر وہ خیانت کی راہ پر چلے تو کامیاب نہیں ہوں گے پھر بھی وہ شکست ہی سے دوچار ہوں گے، خدا ان کی نیّتوں سے آگاہ ہے اور جو احکام اس نے قیدیوں کے بارے میں دئیے ہیں، وہ حکمت کے مطابق ہیں کیونکہ ”خدا علیم وحکیم ہے“ (وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔ شیعہ اور سنی تفاسیر میں مندرجہ بالا آیات کے ذیل میں منقول ہے۔ انصار کے کچھ آدمیوں نے رسول اللهﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کے چچا عباس، جو قیدیوں میں سے تھے، سے آپ کے احترام میں فدیہ نہ لیا جائے لیکن پیغمبرﷺ نے فرمایا: ”واللّٰہ لاتذرون منہ درھماً“ خدا کی قسم ا س کے ایک درہم سے بھی صرفِ نظر نہ کرو (یعنی اگر یہ فدیہ لینا خدائی قانون ہے تو اسے سب پر یہاں تک کہ میرے چچا پر بھی جاری ہونا چاہیے، اس کے اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے)۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم، عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی طرف سے اور اپنے بھتیجے (عقیل بن ابی طالب) کی طرف سے آپ کو فدیہ ادا کرنا چاہیے۔ عباس (جو مال سے بڑا لگاوٴ رکھتے تھے) کہنے لگے: اے محمدﷺ! کیا تم چاہتے ہو کہ مجھے ایسا فقیر اور محتاج کر دو کہ میں اہل قریش کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاوٴں؟ رسول اللهﷺ نے فرمایا: اس مال میں سے فدیہ ادا کریں جو آپ نے اپنی بیوی امّ الفضل کے پاس رکھا تھا اور اس سے کہا تھا کہ اگر میں میدانِ جنگ میں مارا جاوٴں تو اس مال کو اپنے اور اپنی اولاد کے مصارف کے لئے سمجھنا۔ عباس یہ بات سن کر متعجب ہوئے اور کہنے لگے: آپ کویہ بات کس نے بتائی؟ (حالانکہ یہ تو بالکل محرمانہ تھی) رسول اللهﷺ نے فرمایا: جبریل نے ، خدا کی طرف سے۔ عباس بولے: اس کی قسم، جس کی محمدﷺ قسم کھاتا ہے کہ میرے اور میری بیوی کے علاوہ اس راز سے کوئی آگاہ نہ تھا۔ اس کے بعد وہ پکار اٹھے: ”اٴشھد اٴنّک رسول اللّٰہ“ (یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ الله کے رسول ہیں)۔ اور یوں وہ مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد بدر کے تمام قیدی مکہ لوٹ گئے لیکن عباس، عقیل اور نوفل مدینہ میں ہی رہ گئے کیونکہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، مندرجہ بالا آیات میں ان کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔( زیر بحث آیت کے ذیل میں تفسیر نور الثقلین، روضة الکافی، تفسیر قرطبی اور تفسیر المنار کی طرف رجوع کیجئے)۔ عباس کے اسلام لانے کے بارے میں بعض تواریخ میں ہے کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد وہ مکہ کی طرف پلٹ گئے اور خط کے ذریعے رسول اللهﷺ کو سازش سے باخبر رکھتے تھے، پھر آٹھ ہجری سے پہلے فتح مکہ کے سال مدینہ کی طرف ہجرت کر آئے۔ کتاب قرب الاسناد میں امام محمد باقر علیہ السلام کے واسطے سے ان کے والد امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے: ایک روز رسول اللهﷺ کے پاس بڑی مقدار میں مال لایا گیا۔ آپ نے عباس کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا: اپنی عبا پھیلا دو اور اس مال میں کچھ لے لو۔ عباس نے ایسا ہی کیا۔ پھر رسول اللهﷺ نے فرمایا: یہ اسی میں سے ہے جس کے بارے میں الله فرماتا ہے۔ پھر آپ نے آیہ یَااَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی اَیْدِیکُمْ--- کی تلاوت فرمائی۔(تفسیر نور الثقلین، ج۲،ص۱۶۸)۔ یہ گویا اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ جو مال تم سے لیا گیا تھا اُس کی تلافی کے بارے میں اس طرح خدا کا وعدہ اب پورا ہو گیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللهﷺ اس کوشش میں تھے کہ جو قیدی مسلمان ہو گئے ہیں، انھیں احسن طریقے سے تشویق (حوصلہ افزائی)کی جائے اور جو مال انہوں نے دئیے ہیں، ان کی بہتر طور پر تلافی کی جائے۔

72
8:72
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَواْ وَّنَصَرُوٓاْ أُوْلَـٰٓئِكَ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يُهَاجِرُواْ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَيۡءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُواْۚ وَإِنِ ٱسۡتَنصَرُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ فَعَلَيۡكُمُ ٱلنَّصۡرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوۡمِۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٞۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور وہ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی (وہ لوگ) ایک دوسرے کے اولیاء (دوست‘ جوابدہ اور دفاع کرنے والے) ہیں اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تم ان کے بارے میں کسی قسم کی ولایت (تعہد اور جوابدہی) نہیں رکھتے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اور (صرف اس صورت میں کہ) جب وہ تم سے (اپنے) دین (کی حفاظت) کیلئے مدد طلب کریں (تو پھر) تم پر لازم ہے کہ ان کی مدد کرو مگر ایسے گروہ کی خلاف نہیں کہ جس کے ساتھ تمہارا (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہو اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو خدااسے دیکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
8:73
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍۚ إِلَّا تَفۡعَلُوهُ تَكُن فِتۡنَةٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَفَسَادٞ كَبِيرٞ
اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ایک دوسرے کے اولیاء (دوست اور پشت پناہ) ہیں اگر تم (اس حکم کو) انجام نہ دو تو زمین میں عظیم فتنہ فساد برپا ہو جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
8:74
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَواْ وَّنَصَرُوٓاْ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقّٗاۚ لَّهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور راہ خدا میں جہاد کیا اور وہ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی حقیقی مومن ہیں ان کیلئے بخشش (اور خدا کی رحمت) اور مناسب رزق ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
8:75
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ مَعَكُمۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مِنكُمۡۚ وَأُوْلُواْ ٱلۡأَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلَىٰ بِبَعۡضٖ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ
اور وہ جو بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ شامل ہو کر جہاد کیا وہ تم میں سے ہیں اورر شتہ دار ایک دوسرے کے ساتھ (غیروں کی نسبت) خدا کے مقرر کردہ احکام میں زیادہ حق دار ہیں خدا تمام چیزوں کو جانتا ہے۔

چا ر مختلف گروہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات سورہٴ انفال کا آخری حصّہ ہیں۔ ان میں مہاجرین وانصار اور مسلمان کے دوسرے گروہوں کے مقام ومرتبے کا ذکر ہے۔ نیز جہاد اور مجاہدین کے بارے میں جاری بحث کی بھی ان آیات میں تکمیل ہوتی ہے۔ ان آیات میں مختلف رشتوں کے حوالے سے اسلامی معاشرے کا نظام بیان کیا گیا ہے کیونکہ جنگ اور صلح کا پروگرام، دوسرے عمومی پروگراموں کی طرح صحیح اجتماعی اور معاشرتی رشتوں کو ملحوظ رکھے بغیر نہیں بن سکتے۔ ان آیات میں پانچ گروہوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ان میں سے چار مسلمان ہیں اور ایک گروہ غیر مسلموں کا ہے۔ مسلمانوں کے چار گروہ یہ ہیں: ۱ ۔ مہاجرین اوّلین- ۲۔ انصار، اہل مدینہ میں سے یار وانصار- ۳۔ وہ جو ایمان تو لے آئے لیکن انہوں نے ہجرت نہ کی- ۴۔ وہ جو بعد میں ایمان لائے اور مہاجرین سے آ ملے- زیر بحث پہلی آیت میں کہا گیا ہے : وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مال وجان سے راہِ خدا میں جہاد کیا اور وہ لوگ کہ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہ ایک دوسرے کے اولیاء ، ہم پیمان اور ایک دوسرے کا دفاع اور محافظت کرنے والے ہیں ۔ (إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَھَاجَرُوا وَجَاھَدُوا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنفُسِھِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ آوَوا وَنَصَرُوا اُوْلٰئِکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاءُ بَعْضٍ)۔ آیت کے اس حصّے میں پہلے اور دوسرے گروہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ یعنی وہ مومنین جو مکہ میں ایمان لائے اور اس کے بعد انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہ مومنین جو مدینہ میں رسول اللهﷺ پر ایمان لائے اور آپؐ کی اور مہاجرین کی مدد اور حمایت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کا ایک دوسرے کے اولیاء، حامی اور متعہد کے طور پر تعارف کرایا گیا ہے۔ یہ بات جالبِ توجّہ ہے کہ پہلے گروہ کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ پہلی ایمان، دوسری ہجرت، تیسری مالی واقتصادی جہاد (مکہ میں موجود اپنے مال سے صرف نظر کرتے ہوئے یا جنگ بدر میں اپنے مال کی پرواہ نہ کرنے کی صورت میں) اور چوتھی اپنے خون اور جان کے ساتھ راہِ خدا میں جہاد کرنا۔ انصار کے دو وصف بیان ہوئے ہیں: پہلا ”ایواء“ (پناہ دینا) اور دوسرا مدد کرنا۔ نیز ”بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاءُ بَعْضٍ“ کے جملے کے ذریعے سب کوایک دوسرے کے بارے میں جوابدہ قرار دیا گیا ہے۔ حقیقت میں یہ دونوں گروہ اسلامی معاشرے کے تانے بانے کے بنیادی اجزاء کی حیثیت رکھتے تھے، ایک تانے کی اور دوسرا بانے کی حیثیت کا حامل تھا۔ ان میں کوئی بھی دوسرے سے بے نیاز نہ تھا۔ اس کے بعد تیسرے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: وہ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی اور تمھارے نئے معاشرے سے وابستہ نہیں ہوئے ان کے بارے میں تم کوئی ذمہ داری، جوابدہی اور ولایت نہیں رکھتے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں(وَالَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یُھَاجَرُوا مَا لَکُمْ مِنْ وَلَایَتِھِمْ مِنْ شَیْءٍ حَتَّی یُھَاجِرُوا)۔ البتہ اگلے حصّے میں اس گروہ کی حمایت اور مسئولیت سے متعلق ایک استثنائی حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جس وقت یہ لوگ (غیر مہاجر مومنین) تم سے اپنے دین وآئین کی حفاظت کے لئے مدد طلب کریں (یعنی دشمنوں کے شدید دباوٴ میں گھرے ہوں) تو تم پر لازم ہے کہ ان کی مدد کے لئے فوراً جاوٴ (وَإِنْ اسْتَنصَرُوکُمْ فِی الدِّینِ فَعَلَیْکُمْ النَّصْرُ)۔ مگر اس وقت کہ جب ان کے مخالف وہ لوگ ہوں کہ تمہارے اور ان کے درمیان لڑائی نہ کرنے کا عہدوپیمان موجود نہ ہو (إِلاَّ عَلیٰ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِیثَاقٌ)۔ دوسرے لفظوں میں ان کا دفاع اس صورت میں لازم ہے جب وہ مشترک دشمن کے مقابل ہوں، اور اگر وہ ایسے کفار کے مقابل ہوں جنھوں نے تم سے معاہدہ کررکھا ہے تو پھر معاہدے کا احترام اس بدحال گروہ کے دفاع کی نسبت زیادہ ضروری ہے۔ آیت کے آخر میں ان ذمہ داریوں کی حدود کوملحوظ نظر رکھنے اوران فرامین کی انجام دہی میں دقتِ نظر سے کام لینے کے لئے کہا گیا ہے: جو کچھ تم انجام دیتے ہو، خدا اس کے متعلق بصیر وبینا ہے (وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ)۔ وہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھتا ہے اور تمھاری تمام تر سعی وکاوش اور احساسِ ذمہ داری سے آگاہ ہے، اسی طرح اس عظیم ذمہ داری کے بارے میں بے اعتنائی، سستی ، تساہل اور عدم احساس سے بھی باخبر ہے۔ دوسری طرف آیت میں اسلامی معاشرے کے مدمقابل، یعنی کفر اور اسلام کے معاشرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ جو کافر ہو گئے ہیں ان میں سے بعض دوسرے بعض کے اولیاء اور سرپرست ہیں (وَالَّذِینَ کَفَرُوا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاءُ بَعْضٍ)۔ یعنی ان کا تعلق اور پیوند خود انہی کے ساتھ ہے اور تمہیں کوئی حق نہیں کہ ان سے کوئی تعلق قائم کرو اور ان کی حمایت کرو یا انھیں اپنی حمایت کی دعوت دو۔ نہ انھیں پناہ دو اور نہ ان سے پناہ لو۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی معاشرے کے تاروپود ا ور تانے بانے میں انھیں دخیل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی تم ان کے معاشرے کے تاروپود میں دخل دو۔ اس کے بعد مسلمانوں کو تنبیہ کی کی گئی ہے کہ اگر تم نے اس اسلامی حکم کو نظر انداز کر دیا تو زمین میں اور تمھارے معاشرے کے گردو پیش میں عظیم فتنہ وفساد بپا ہو گا (إِلاَّ تَفْعَلُوہُ تَکُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیرٌ)۔ اس سے بڑھ کر فتنہ وفساد کیا ہو گا کہ تمھاری کامیابی کے نقوش محو ہو جائیں گے اور تمہارے معاشرے میں دشمنوں کی سازشیں کارگر ہوں گی اور دینِ حق وعدالت کی راہ کو دُور کر دینے کے لئے ان منحوس اور بدبخت منصوبے موٴثر ہونے لگیں گے۔ اگلی آیت میں دوبارہ مہاجرین وانصار کے مقام کی اہمیت اور اسلامی معاشرے کے اہداف کی پیش رفت میں ان کا کردار کے احترام کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور راہِ خدا میں جہاد کیا ہے اور وہ کہ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی ہے وہی حقیقی اور سچّے مومن ہیں (وَالَّذِینَ آمَنُوا وَھَاجَرُوا وَجَاھَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ آوَوا وَنَصَرُوا اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا)۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک اسلام کے سخت، دشوار اور غربت کے دنوں میں دینِ خدا اور رسول اللهﷺ کی مدد کے لئے کسی نہ کسی صورت میں آگے بڑھا ہے اور ”انھیں اس عظیم فداکاری کی وجہ سے بخشش اور شائستہ رزق نصیب ہو گا“ (لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ)۔ وہ خدا کی بارگاہ میں اور دوسرے جہان میں بھی عظیم نعمات سے بہرہ ور ہوں گے اور اِس جہان میں بھی نفع ، عظمت، سربلندی، کامیابی، امن وامان اور اطمینان کا شائستہ حصّہ حاصل کریں گے۔ آخری آیت میں مسلمانوں کے چوتھے گروہ یعنی ”بعد کے مہاجرین“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ جو اس کے بعد ایمان لے آئیں، ہجرت کریں اور تمھارے ساتھ شریکِ جہاد ہوں، وہ بھی تم میں سے ہیں (وَالَّذِینَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَھَاجَرُوا وَجَاھَدُوا مَعَکُمْ فَاُوْلٰئِکَ مِنْکُمْ)۔ یعنی اسلامی معاشرے کے دائرہ کا تنگ یا کسی گروہ پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے دروازے آئندہ کے تمام مومنین، مہاجرین اور مجاہدین کے لئے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ پہلے کے مہاجرین اگرچہ ایک خاص مقام ومرتبہ رکھتے ہیں لیکن یہ برتری اس معنی میں نہیں کہ آئندہ کے مومنین اور مہاجرین، جو اسلام کے نفوذ اور پیش رفت کے وقت اس کی طرف جھکے اور اس سے آملے ہیں وہ اسلامی معاشرے کی بُن وبافت کا جزو نہیں ہیں۔ آیت کے آخر میں رشتہ داروں اور عزیزوں کی ایک دوسرے کےلئے ولایت واولویت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: رشتہ دار (بھی) ایک دوسرے کے لئے اور ان احکام میں جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے مقرر کئے ہیں، اولویت رکھتے ہیں: وَاُوْلُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللهِ ۔ درحقیقت، گذشتہ آیت میں مسلمانوں کی ایک دوسرے کے بارے میں عمومی ولایت اور اولویت کے متعلق گفتگو تھی اور اس آخری آیت میں خداتعالیٰ تاکید کرتا ہے کہ یہ ولایت واولویت رشتہ داروں کے لئے قوی اور زیادہ جامع صورت میں ہے کیونکہ مسلمان رشتہ دار ایمان وہجرت کی میراث کے علاوہ رشتہ داری کی ولایت بھی رکھتے ہیں اسی بناپر وہ ایک دوسرے کی میراث لیتے ہیں جب کہ رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے، شریکِ میراث نہیں ہوتے۔ لہٰذا آخری آیت صرف میراث کا حکم بیان نہیں کرتی بلکہ ایک وسیع معنی کی حامل ہے کہ جس کا ایک جزء میراث بھی ہے، اگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی روایات اور تمام فقہی کتب میں احکامِ ارث کے لئے اس آیت اور سورہٴ احزاب کی اس سے ملتی جلتی آیت سے استدلال ہوا ہے تو یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ یہ آیت مسئلہ ارث میں منحصر ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ آیت ایک عمومی قانون بیان کر رہی ہو جس کا ایک اہم حصّہ میراث بھی ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللهﷺ کی جانشینی کے مسئلہ میں کہ جو مالی میراث کے مفہوم میں داخل نہیں ہے، بعض اسلامی روایات میں سے اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔ نیز غسل میت وغیرہ کے مسائل میں بھی رشتہ داروں کی اولویت کے لئے اسی آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔ جو کچھ سطورِ بالا میں کیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جو بعض مفسّرین نے اصرار کیا ہے کہ یہ آیت صرف میراث کے بارے میں ہے، بے وجہ اور بے دلیل ہے۔ اگر ہم اس آیت کی تفسیر کرنا چاہیں تو اس کا صرف یہی طریقہ ہے کہ اسے گذشتہ آیت میں مہاجرین وانصار کے مابین بیان شدہ ”ولایت مطلقہ“ سے ایک استثناء سمجھیں اور کہیں کہ آخری آیت کہتی ہے کہ مسلمانوں کی عمومی ولایت میں ایک دوسرے کی میراث لینا شامل نہیں ہے۔ باقی رہا یہ احتمال کہ گذشتہ آیات میراث کے بارے میں بھی ہیں اور اس کے بعد آخری آیت نے اس حکم کو نسخ کر دیا ہے، یہ بہت بعید نظر آتا ہے کیونکہ ان آیات کا مفہوم کے اعتبار سے اور معنوی لحاظ سے آپس میں ارتباط یہاں تک کہ لفظی مشابہت بھی بہت نشاندہی کرتی ہے کہ یہ سب کی سب ایک ساتھ نازل ہوئی ہیں اور اس لحاظ سے یہ ناسخ ومنسوخ نہیں ہو سکتیں۔ بہرحال، آیات کے مفہوم کے ساتھ زیادہ مطابقت وہی تفسیر رکھتی ہے جو ہم نے ابتداء میں ذکر کی ہے۔ آیت کے آخری جملہ میں، جو کہ سورہٴ انفال کا آخری جملہ ہے، فرمایا گیا ہے: خدا ہر چیز کوجانتا ہے (إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ)۔ انفال ، جنگی غنائم، نظامِ جہاد، صلح، جنگی قیدی اور ہجرت وغیرہ سے مربوط تمام احکام جو اس سورہ میں نازل ہوئے ہیں، سب دقیق منصوبہ بندی اور حساب وکتاب کے ماتحت ہیں جوکہ انسانی معاشرے، بشری تقاضوں اور ہر پہلو سے ان مصالح سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ہجرت اور جہاد

تاریخ اسلام کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقتور دشمن کے مقابلے میں اسلام کی کامیابی کے لئے ہجرت اور جہاد، دو بنیادی عوامل تھے۔ ہجرت نہ ہوتی تو اسلام مکہ کے گھُٹے ہوئے ماحول میں ختم ہو کر رہ جاتا اور جہاد نہ ہوتا تو اسلام کو کبھی رشد اور نشو ونما حاصل نہ ہوتی۔ ہجرت نے اسلام کو مخصوص علاقائی صورت سے نکال سے عالمی دین کی شکل دی اور جہاد نے مسلمانوں کو یہ بات سکھائی کہ اگر انہوں نے طاقت کا سہارا نہ لیا تو وہ دشمن جو منطق، حرفِ حسابی اور سنجیدہ بات کے پابند نہیں ہیں، ان کے لئے کسی قسم کے حق کے قائل نہیں ہوں گے۔ آج بھی اسلام کو سرحدوں کی بندش سے نجات دلانے اور ان مختلف رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے،کہ جنھیں ہر طرف دشمنوں نے کھڑا کر رکھا ہے، ہجرت اور جہاد کو زندہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہجرت، مسلمانوں کی آواز کو پوری دنیا کے کانوں تک پہنچائے گی اور آمادہ دلوں، اصلاحی قوتوں اور حق وعدالت کی پیاسی قوموں کو ان کی طرف مائل کردے گی۔ جبکہ جہاد انھیں حرکت اور حیات بخشے گا اور ہٹ دھرم دشمنوں کو، کہ جن کے کانوں کو طاقت کی آواز کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا، اپنے راستے سے ہٹا دے گا۔

اسلام اور ہجرتیں

مکہ کے مسلمانوں کی حبشہ کی طرف ہجرت نے ایک تو جزیرہ عرب سے باہر اسلام کا بیج چھڑکا اور ساتھ ہی ساتھ جو پہلے معدودِ چند مسلمان تھے اور دشمن کے سخت دباوٴ میں تھے، ان کے لئے اس نے ایک مورچے کا کام بھی دیا۔ پھر رسول اللهﷺ اور پہلے مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ مہاجرین، جنھیں بعض اوقات مہاجرینِ بدر بھی کہتے ہیں، تاریخ اسلام میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ بظاہر تو یہ ایک بالکل تاریک مستقبل کی طرف چل پڑے تھے اور درحقیقت انہوں نے خدا کے لئے تمام مادی سرمائے سے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ مہاجرین، کہ جنھیں مہاجرینِ اوّلین سے تعبیر کیا جاتا ہے، انہوں نے درحقیقت اسلام کے پُرشکوہ محل کی بنیاد کی پہلی اینٹ رکھی۔ قرآن ان کے لئے ایک مخصوص عظمت کا قائل ہے کیونکہ وہ تمام مسلمانوں کی نسبت زیادہ با ایثار سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اور ہجرت صلح حدیبیہ کے بعد نسبتاً امن وامان کے ماحول میں ہوئی۔ کچھ مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔بعض اوقات ان تمام مسلمانوں کی ہجرت کو جنہوں واقعہ بدر سے لے کر فتح مکہ کے دوران مدینہ کہ طرف ہجرت کی، ایک ہی ہجرت شمار کیا جاتا ہے اور اسے ”ہجرت ثانیہ“ کا نام دیا جاتا ہے۔ فتح مکہ کے بعد پہلے کی سی ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا یعنی مکہ سے مدینہ کی طرف آنا ختم ہو گیا۔ اب مکہ ایک اسلامی شہر میں تبدیل ہو چکا تھا اور رسول اللهﷺ سے یہ جو حدیث نقل ہوئی ہے کہ: ”لاھجرة بعد الفتح“ یعنی ، فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ یہ اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن اس گفتگو کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ اسلام نے ہجرت کی آئندہ کے لئے بالکل نفی کر دی ہے جیسا کہ بعض نے خیال کر رکھا ہے، بلکہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی نفی کی گئی ہے ورنہ جب بھی مسلمانوں کے لئے پہلے مسلمانوں کے سے حالات پیدا ہوں ان کے لئے قانونِ ہجرت اپنی قوت کے ساتھ باقی ہے اور جب تک اسلام کا پوری دنیا پر قبضہ نہیں ہو جاتا، یہ قانون برقرار رہے گا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کے مسلمان اس اہم اسلامی بنیاد کو بھلا دینے کی وجہ سے زیادہ تر اپنے محیط میں بند ہیں جبکہ مسیحی مبلغ، گمراہ فرقوں کے نمائندے اور سامراجب مذاہب کے مبلغ مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی طرف ہجرت کرتے ہیں یہاں تک کہ یہ لوگ وحشی اور آدم خور قبائل میں جاتے ہیں بلکہ قطبِ شمالی اور قطبِ جنوبی کے علاقوں میں جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ حکم تو مسلمانوں کے لئے تھا اور اس پر عمل دوسرے کر رہے ہیں۔ زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے شہروں کے اطراف میں بہت سے ایسے دیہات ہیں جو بعض اوقات چند میلوں کے فاصلے پر ہونے کے باوجود اسلامی مسائل سے بے خبر ہیں اور بعض تو ایسے ہیں کہ انہوں نے کبھی اسلامی مبلغ کی صورت تک نہیں دیکھی۔ اسی لئے ان کا ماحول فساد کے جراثیم اور جعلی وسامراجب مذاہب کے لئے آمادہ اور تیار ہے، نہ جانے آج کے مسلمانوں نے جو مہاجرینِ اوّلین کے وراث ہیں خدا کے سامنے اس کیفیت کے لئے کیا جواب سوچ رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں اگرچہ اس سلسلے میں کچھ حرکت نظر آنے لگی ہے لیکن یہ ہرگز کافی ووافی نہیں ہے۔ بہرحال، تاریخ اور مسلمانوں کی سرنوشت میں ہجرت کا موضوع اور اس کے نقوش اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں کہ اس اختصار سے اس کے تمام پہلووٴں کا مطالعہ اور تحقیق ہو سکے۔ (تفسیر نمونہ جلد چہارم سورہٴ نساء آیت نمبر ۱۰۰ پر بھی اس سلسلے میں ہم کچھ باتیں کر آئے ہیں، آئندہ بھی انشاء الله متعلقہ آیات کے ذیل میں پھر گفتگو کریں گے)

صحابہ کے بارے میں مبالغہ

قرآن مہاجرینِ اوّلین کے بارے میں جس احترام اور اہمیت کا قائل ہے اس سے ہمارے کچھ اہلِ سنّت بھائیوں نے یہ مطلب نکالنا چاہا ہے کہ وہ حضرات، آخر عمر تک کسی غلطی اور خلافِ شریعت امر کے مرتکب نہیں ہوئے۔ لہٰذا ان کے خیال میں بلاچون وچرا سب کو بلا استثناء محترم سمجھنا چاہیے۔ پھر قرآن نے بیعت رضوان وغیرہ کے واقعہ میں ان کی جو تعریف وستائش کی ہے، اس کی وجہ سے وہ اس احترام میں صحابہ کو شامل سمجھتے ہیں اور عملی طور پر وہ صحابہ کو ان کے اعمال وکردار کو مدّنظر رکھے بغیر، استثنائی انسان شمار کرتے ہیں اور اس طرح انہوں نے ان کے کردار پر کسی قسم کی تنقید اور بحث وتمحیص کے خوداپنے ہی حق کوسلب کر لیا ہے۔ ان میں سے المنار کے موٴلف مشہور مفسّر نے زیر بحث آیات کے ذیل میں شیعوں پر سخت حملہ کیا ہے کہ وہ بعض مہاجرین اوّلین پر کیوں انگلی رکھتے ہیں اور ان پر کیوں تنقید کرتے ہیں، ان کے خیال میں شیعہ اس طرف متوجہ نہیں ہیں کہ صحابہ کے بارے میں ایسا نظریہ رکھنا روحِ اسلام اور تاریخ اسلام سے بہت متضاد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ، خصوصاً مہاجرینِ اوّلین بڑی عزت واحترام کے حامل ہیں لیکن یہ احترام اس وقت تک ہے جب تک وہ صحیح راستے پر گامزن رہے اور انہوں نے فداکاری کی۔ لیکن جس روز سے صحابہ کا ایک گروہ اسلام کے حقیقی راستے سے ہٹ گیا، مسلّماً ان کے بارے میں قرآن کا دوسرا فیصلہ ہو گا۔ مثلاً ہم طلحہ اور زبیر کو کیسے بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں جنھوں نے بیعت توڑی، ایسے امام کی مخالفت کی جو اس کے علاوہ کہ رسول الله ﷺکے ارشادات کے مطابق پیشوا تھا بلکہ تمام مسلمانوں حتّیٰ کہ خود ان کی طرف سے منتخب ہوا تھا۔ ہم کیسے ان کے دامن سے ان ستر ہزار مسلمانوں کا خون دھو سکتے ہیں جو جنگ جمل میں مارے گئے؟ جو شخص کسی ایک بےگناہ کا خون بہادے، وہ بھی دربارِ الٰہی میں کوئی عذر پیش نہیں کر سکے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہو چہ جائیکہ اتنی کثیر تعداد کا خون۔ کیا اصولی طور پر جنگ جمل کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو اور دوسری طرف طلحہ وزبیر اور دوسرے صحابہ ، جو ان کے ساتھ تھے، طرفین کو بیک وقت حق پر قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا کوئی منطق اور عقل اس واضح تضاد کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ تقدّس صحابہ کے نام پر آنکھیں بند کر لیں اور انھیں ہر قانون سے بالاتر سمجھ لیں؟ رسول اللهﷺ کے بعد تمام تر تاریخِ اسلام فراموش کر دیں اور اسلامی ضابطہ ”انّ اکرمکم عند اللّٰہ اتقاکم“ (الله کے نزدیک زیادہ محترم وہ ہے جو زیادہ متقی ہے) کو پامال کر دیں؟ یہ کیسا غیر منطقی فیصلہ ہے؟ اصولی طور پر اس امر میں کیا مانع اور رکاوٹ ہے کہ ایک شخص یا چند اشخاص ایک دن بہشتیوں کی صف میں کھڑے ہوں اور حق کے طرفدار ہوں اور دوسرے دن دوزخیوں اور حق دشمنوں کی صف میں شامل ہو جائیں؟ کیا سب لوگ معصوم ہیں؟ کیا ہم نے ایسی تبدیلیاں اور اختلافاتِ نظر لوگوں کے حالات میں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھے؟ کیا ”واقعہ ردّہ“ رسول الله کے زمانے میں رونما نہیں ہوا جبکہ اصحاب پیغمبر میں سے کچھ لوگ مرتد ہو گئے تھے؟ کیا یہ واقعہ شیعہ سنی کتب میں منقول نہیں ہے؟ کیا یہ مرتد ہونے والے صحابہ کی صف میں شامل نہیں تھے؟ زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے اس تضاد اور عجیب کشمکش سے بچنے کے لئے بعض نے ”اجتہاد“ کو دستاویز بنا رکھا ہے، وہ کہتے ہیں طلحہ، زبیر، معاویہ، ان کے ساتھی اور ان جیسے افراد مجتہد تھے، ان سے اشتباہ اور غلطی تو ہوئی ہے لیکن ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا بلکہ ان اعمال کے بدلے میں وہ خدا سے اجر وثواب پائیں گے۔ واقعاً کیسی رسوا کنند منطق ہے، کیا جانشینِ پیغمبرﷺ کے خلاف قیام کرنا، عہدوپیمان توڑنا اور ہزاروں بے گناہوں کا خون بہانا وہ بھی جاہ طلبی اور مال ومقام کے حصول کے لئے ایسا پیچیدہ اور نامعلوم معاملہ ہے کہ جس کی قباحت اور برائی سے کوئی شخص با خبر نہیں؟ کیا اتنے بے گناہوں کا خون بہانے پر بھی خدا کے ہاں سے اجر وثواب ملے گا؟ اگر اس طرح سے ہم چاہیں کہ کچھ صحابہ کو جو ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، بری الذمہ قرار دیں تو یقیناً دنیا میں کوئی گنہگار باقی نہیں رہے گا اور اس منطق کے ذریعے ہم تمام قاتل اور ظالم افراد کو بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں۔ صحابہ کے ایسے بے سوچے سمجھے دفاع سے حقیقت اسلام پر حرف آتا ہے۔ لہٰذا اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ سب کے لئے، خصوصاً اصحابِ پیغمبرﷺ کے لئے ہم عزت واحترام کے قائل تو ہوں مگر اس دن تک جب تک وہ حق وعدالت اور اسلامی مشن سے منحرف نہ ہوں۔

میراث، اسلامی نظام قانون میں

جیسا کہ سورہٴ نساء کی تفسیر میں ہم اشارہ کر چکے ہیں، زمانہٴ جاہلیت میں عربوں کے ہاں میراث کے تین طریقے تھے۔ ایک نسب کا طریقہ (ان کے ہاں نسب صرف اولادِ ذکورہ کے لئے تھا۔ چھوٹے بچے اور عورتیں میراث سے محروم رہتے تھے)۔ دوسرا ان کے ہاں متبنیٰ (لے پالک) کا طریقہ تھا۔ تیسرا طریق عہدو پیمان کا تھا جسے ”ولاء“ کہا جاتا تھا۔( ولاء کے طریقے سے میراث کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد سوم صفحہ۲۶۶ پر تفصیل سے بحث کی جا چکی ہے)۔ ابتدائے اسلام میں جبکہ ابھی میراث کا قانون نازل نہیں ہوا تھا، اسی طریقے پر عمل ہوتا تھا لیکن جلد ہی اس کی جگہ ”اخوتِ اسلامی‘’‘ نے لے لی اور صرف مہاجرین وانصار جنھوں نے ایک دوسرے سے پیمانِ اخوت باندھ رکھا تھا، ایک دوسرے کی میراث لیتے تھے، ایک عرصے کے بعد جب اسلام میں زیادہ وسعت پیدا ہو گئی تومیراث نسبی اور سببی رشتہ داروں کی طرف منتقل ہو گئی اور میراث کے بارے میں اخوتِ اسلامی کا حکم منسوخ ہو گیا اور میراث کا آخری اور اصلی قانون نازل ہوا کہ جس کی طرف مندرجہ بالا آیات اور سورہٴ احزاب کی آیہ۶ میں ارشاد ہوا ہے۔ سورہٴ احزاب کی آیت ۶ میں ہے: وَاُوْلُو الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللهِ یہ سب چیزیں تاریخی لحاظ سے مسلم ہیں لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں لفظ ”وَاُوْلُوا الْاَرْحَام“ جو محل بحث آیات میں آیا ہے، مسئلہ میراث ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع معنی کے لئے ہے کہ میراث جس کا ایک جزء ہے۔( میراث کے بارے میں بھی تفسیر نمونہ جلد سوم صفحہ۲۰۹ سے ۲۲۳ تک تفصیلی بحث کی جاچکی ہے)۔

فتنہ اور فسادِ کبیر سے کیا مراد ہے؟

ان دو الفاظ کے بارے میں کہ جو زیر بحث آیات میں آئے ہیں، مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن جو چیز مفہومِ آیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے، یہ ہے کہ ”فتنہ“ سے مراد اختلاف وانتشار اور مسلمانوں کے عقائد کی بنیادوں کا دشمنوں کے وسوسوں کے زیرِ اثر متزلزل ہونا ہے اور ”فساد“ کے مفہوم میں ہر طرح کی بے سروسامانی اور معاشرے کے مختلف نظاموں کی خرابی شامل ہے۔ خصوصاً بے گناہوں کے خون بہہ جانے اور بدامنی وغیرہ فساد کے مفہوم میں شامل ہے۔ درحقیقت قرآن مجید مسلمانوں کو تنبیہ کر رہا ہے کہ اگر وہ آپس میں ارتباط وتعاون اور برادری کے رشتے کو محکم اور مضبوط نہیں بنائیں گے اور دشمنوں سے تعلق اور ہمکاری ترک نہیں کریں گے تو دن بدن ان کی صفوں میں اختلاف وانتشار زیادہ ہو گا، دشمنوں کا نفوذ اسلامی معاشرے میں زیادہ ہو گا اور ان کے تباہ کن وسوسوں سے ایمان کی بنیادیں کمزور اور متزلزل ہو جائیں گی اور اس طرح سے انھیں ایک عظیم فتنہ آ لے گا۔ اسی طرح محکم ومضبوط معاشرتی ارتباط اور رشتے نہ ہونے کے باعث اور ان کی صفوںمیں دشمنوں کی رخنہ اندازی کے سبب طرح طرح کے مفاسد، بدامنی، خون ریزی، مال واولاد کی تباہی اور معاشرے کی بے سروسامانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور فسادِ کبیر تمام جگہوں پر چھا جائے گا۔

end of chapter